Friday, 29 September 2017

خلع کی اجازت کب ہے؟

خلع کی اجازت کب ہے ؟
سوال
۔۔۔۔۔۔۔
ایک شخص شادی کے بارہ سال بعد اچانک چھت سے گرجانے کی وجہ سے لقوہ زدہ ہوگیا ہے. کمر سے نیچے تک جان نہیں ہے. پاخانہ پیشاب بذریعہ پائپ کروایا جاتا ہے. ۸ اور ۵ سال کی دوبیٹیاں بھی ہیں. اس حادثہ کے بعد وہ بیوی سے جنسی تعلقات بنانے سے معذور ہوگیا نیز بیوی بچوں کی کفالت پر بھی قادر نہیں ہے ... اب بیوی اس سے خلع چاہتی ہے. کیا وہ ایسی حالت میں شوہر سے خلع لے سکتی ہے جب کہ اس کا شوہر اپاہج ہوگیا ہو اور بیوی کی جنسی خواہش کی تکمیل نہ ہورہی ہو اور نان و نفقہ بھی ادا نہ کیا جا رہا ہو.
براہ مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں.
ایس اے ساگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
نکاح زندگی بھر ساتھ نبھانے کا مقدس رشتہ ہے۔بلاوجہ اس بندھن کو توڑنا نہ صرف خداودند قدوس کی نظر میں مبغوض ہے بلکہ ایسا کرنے والے پر زبان رسالت سے سخت وعید سنائی گئی ہے۔ایک حدیث میں کہا گیا ہے جو عورت بلا وجہ اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پہ جنت کی خوشبو بھی حرام ہے
1187 أَنْبَأَنَا بِذَلِكَ بُنْدَارٌ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ (سنن الترمذي  ۔باب المختلعات)
لیکن جس طرح دینی واخلاقی ومعاشرتی حق تلفی کے وقت طلاق مباح ہے، ٹھیک اسی طرح اگر جنسی جذبات وخواہشات کی تکمیل میں شوہر کی طرف سے رکاوٹیں آرہی ہوں اور عورت ناقابل تحمل مشقتوں کی شکار ہوگئی ہو تو آخری چارہ کار کے طور پر عورت اپنے شوہر سے اپنا مہر دین معاف کرکے یا کچھ لے دے کے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرسکتی یعنی خلع لے سکتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ شوہر بھی اس پہ راضی ہو۔کیونکہ خلع دیگر عقود کی طرح ایک عقد ومعاملہ ہے جس میں فریقین کی رضامندی سے یہ معاملہ منعقد ہوسکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ جس طرح زوجین میں نباہ نہ ہونے کی صورت میں خلع کی اجازت ہے، اسی طرح اخلاقی، معاشی اور صنفی حقوق کے متاثر ہونے کے وقت بھی اس کی اجازت ہے۔ قرآن کریم نے "حدود" کے لفظ کے ذریعہ بہت بلیغ  وجامع اسلوب میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں بیوی جسمانی اعتبار سے مجبور شوہر سے اس کی رضامندی سے خلع لے سکتی ہے۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ طلاق ہی کی طرح محض لذت اندوزی کے طور پہ خلع کا مطالبہ کرنا بھی ناجائز اور بدبختانہ عمل ہے اور ایسا کرنے والی خاتون اللہ کی نظر میں ملعونہ ہے اور جنت کی خوشبو سونگھنے تک سے محروم رہے گی۔
1186 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ ذَوَّادِ بْنِ عُلْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ (سنن الترمذي) ۔
4971 حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .صحيح البخاري .باب الخلع.
فی الملخص والإیضاح: الخلع عقد یفتقر إلی الإیجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیہا العوض۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۵/۵ رقم: ۷۰۷۱)
والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق بعوض۔ (المبسوط للسرخسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶/۱۷۳)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے /سیدپور۔
بہار ٨\١\١٤٣٩هجری

Wednesday, 27 September 2017

آٹھ سالہ بچہ کی پرورش کا حق؟

آٹھ سالہ بچہ کی پرورش کا حق ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک آٹھ سالہ بچے کے والد کا انتقال ہوگیا ہے. والد کے گھر والے بچے کو اپنی پرورش میں لینا چاہتے ہیں اور ماں اپنی پرورش میں براہ کرم واضح فرمائیں کے پرورش کا حق کسے حاصل ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
سات سال تک لڑکے کی، اور بالغ ہونے تک لڑکیوں کی پرورش کا حق ماں کو ملتا ہے۔تعلیم وتربیت کے اخراجات باپ یا پھر دادا کے ذمہ ہیں۔
اس کے بعد لڑکے لڑکی اپنی خوشی سے جس رشتہ دار کے پاس رہنا چاہیں، رہ سکتے ہیں۔
ہاں اگر ماں نے بچوں کے غیر محرم کے ساتھ نکاح کرلیا ہو تو اب مذکورہ مدت سے قبل ہی ماں کا حق پرورش ختم ہوجائے گا۔

قال العلامۃ المرغینانی: اذا وقعت الفرقۃ بین الزوجین فالام احق بالولد… فقال علیہ السلام انت احق بہ مالم تتزوجی۔ (ہدایہ ۲:۴۳۸ باب حضانۃ الولد ومن احق بہ)
{۳} (فتاویٰ عالمگیریہ ۱:۵۴۲ الباب السادس عشر فی الحضانۃ)
وفی الدرالمختار (۵۶۲/۳) باب الحضانۃ: ( ثم ) أي بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقهاأوتزوجت بأجنبي (أم الأم)وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور۔۔۔ (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين ۔
’’ الأم و الجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض ‘‘ (الھدایۃ : ۲/۴۳۵)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

بیوی کی میت کو غسل

سوال: محترم حضرت مفتی صاحب!
ایک مسئلہ میں دینی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا جب بیوی فوت ہوجائے تو اس کا خاوند اسے غسل دے سکتا ہے یا نہیں ؟
سائل: عبدالنافع، دمام سعودی عرب
جواب: اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت کی ساری خوشیاں نصیب فرمائے۔ آج کل یہ سوال بہت گردش کر رہا ہے اور بہت سے احباب نے اس بارے شرعی آگاہی کا اظہار کیا ہے۔ خاوند اور بیوی جب تک زندہ رہتے ہیں ان کے لیے ایک دوسرے کے بدن کو چھونا جائز ہوتا ہے لیکن جب ان میں سے کسی ایک کی وفات ہو جائے تو دوسرے کے لیے اس کے بدن کو چھونا اور غسل دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیل یہ ہے:
1: اگر خاوند فوت ہو جائے تو بیوی اسے غسل دے سکتی ہے۔
2: اگر بیوی فوت ہو جائے تو خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا۔
پہلےجزء کی دلیل:
اس موقف کی دلیل جو اصول کے درجے میں ہے وہ یہ ہے کہ جب بیوی فوت ہو جاتی ہے تو خاوند سے اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور نکاح کے اثرات بھی نہیں ہوتے (نکاح کا اثر وفات کے بعد عدت کا لازم ہونا ہے اور بیوی کے فوت ہونے کی صورت میں خاوند پر عدت لازم نہیں آتی) اب خاوند کی حیثیت بیوی کے لیے ایک اجنبی کی سی ہے۔ جس طرح اجنبی آدمی اس عورت کو نہ چھو سکتا ہے اور نہ ہی غسل دے سکتا ہے اسی طرح یہ خاوند بھی نہ اس عورت کو چھو سکتا ہے اور نہ ہی غسل دے سکتا ہے۔
بیوی کے فوت ہونے پر نکاح ٹوٹ جانے کی دلیل یہ ہے کہ بیوی جب تک نکاح میں ہے اس کی بہن سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر بیوی فوت ہو جائے تو وفات کے فوراً بعد اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے۔ چنانچہ امام عبد الرزاق الصنعانی رحمہ اللہ (ت211ھ) امام سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ امام سفیان ثوری فرماتےہیں:
ونقول نحن لا يغسل الرجل امرأته لأنها لو شاء تزوج أختها حين ماتت ونقول تغسل المرأة زوجها لأنها في عدة منه.
(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 حدیث نمبر6145)
ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد (نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ) یہ جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے اور ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے (جو کہ نکاح کے آثار کا نتیجہ ہے)
دوسرے جزء کی دلیل:
اگر خاوند فوت ہو جائے تو بیوی پر نکاح کے اثرات عدت گزرنے تک باقی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد عدت کے اندر ہوتے ہوئے عورت دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی۔ جب نکاح کے اثرات عورت کے حق میں باقی ہیں تو اس کے لیے خاوند کو ہاتھ لگانا اور غسل دینا صحیح ہو گا۔ چنانچہ تین روایتیں پیشِ خدمت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول کے پیشِ نظر بیوی اپنے میت خاوند کو غسل دے سکتی ہے:
روایت نمبر1:
عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ "لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ".(سنن ابن ماجہ : حدیث: 1464)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔
روایت نمبر2، 3:
علامہ ابن عبد البر (م463ھ) لکھتے ہیں:وغسلت أسماء بنت عميس زوجها أبا بكر بمحضر جلة من الصحابة وكذلك غسلت أبا موسى امرأته.
(التمہید لابن عبد البر: ج1 ص380)
ترجمہ: حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بڑے بڑے صحابہ کی موجوودگی میں غسل دیا تھا، اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی نے غسل دیا تھا۔
ایک اہم تنبیہہ:
بعض لوگ دو روایتیں پیش کر کے یہ کہتے ہیں کہ خاوند بھی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ ذیل میں ہم دونوں روایات پیش کر کے ان کا صحیح معنی و مفہوم پیش کرتے ہیں۔
روایت نمبر1:
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ فَقَالَ بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ ثُمَّ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ۔
(سنن ابن ماجۃ: حدیث نمبر1465)
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے واپس آئے، تو مجھے درد ِ سر میں مبتلا پایا، میں شدت درد سے کہہ رہی تھی: ”ہائے میرا سر!!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عائشہ ! میں کہتا ہوں: میرا سر!! [مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ناساز تھی، اور یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے انتہائی آخری ایام میں ہوا تھا، اور اس کے فوراً بعد آپ کو مرض الموت لاحق ہوگیا تھا۔] پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوجاؤ تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، میں ہی تمہیں غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور جنازہ پڑھ کر دفن کروں گا۔
صحیح مفہوم:
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ آپ کی بیویاں رہی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ت279ھ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت لائے ہیں:
عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة.
(جامع الترمذی: حدیث نمبر3880)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔
دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے باوجود آپ کا ان سے نکاح باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا۔
مفتی اعظم ہند مفتی عزیز الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ (ت1347ھ) فرماتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانا (کہ میں تمہیں غسل دوں گا) آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔“
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ج5 ص178)
روایت نمبر2:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بعد از انتقال خود غسل دیا تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر6905 وغیرہ)
صحیح مفہوم:
اولاً۔۔۔ اس سلسلے میں تین روایتیں مروی ہیں:
اول : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا۔
(معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج5 ص232)
دوم: یہ کہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905)
سوم : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ: ”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔
(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ)
جب روایات اس سلسلے میں متعارض ہیں تو اس واقعے پر کسی شرعی مسئلے کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔
ثانیاً..... بعض محققین نے یہ تسلیم کرنے کی صورت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ہے، اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے سے مراد غسل کے سامان کا انتظام کرنا تھا، اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن ہی نے دیا تھا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے:
فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهِ۔
(رد المحتار: ج6 ص243)
ترجمہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل حضرت ام ایمن نے دیا تھا، لہذا جس روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے غسل دینے میں ام ایمن کا تعاون کیا تھا مثلاً سامان غسل کا انتظام وغیرہ انہوں نے کیا تھا۔
ثالثاً.... اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے کی روایت کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا و حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی اور اس خصوصیت پر دلیل یہ روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو غسل دیا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر اشکال کیا، اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا:
أَمَا عَلِمْت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ فَاطِمَةَ زَوْجَتُك فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
(رد المحتار: ج6 ص243)
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا: (اے علی!) فاطمہ دنیا میں بھی تمہاری بیوی ہے اور آخرت میں بھی تمہاری بیوی ہے۔
یہ بعینہ ویسی دلیل ہے جیسی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماقبل میں گزری ہے جس میں نکاح کا باقی رہنا ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کا یہ ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اپنی بیوی کو غسل دینا یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام رواج اس وقت یہ نہیں تھا۔ مشہور فقیہ و محقق علامہ ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
فَادِّعَاؤُهُ الْخُصُوصِيَّةَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَذْهَبَ عِنْدَهُمْ عَدَمُ الْجَوَازِ ـ.
(رد المحتار: ج6 ص243)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنی خصوصیت کا دعویٰ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت صحابہ کے ہاں بیوی کو غسل دینا ناجائز شمار ہوتا تھا۔ (اسی لیے تو حضرت ابن مسعود نے اشکال کیا اور حضرت علی نے جواباً اپنی خصوصیت کا ذکر فرمایا) معلوم ہوا کہ اس دور میں خاوند اپنی بیویوں کو غسل نہیں دیتے تھے۔
مشہور عالم علامہ ابن عبد البر (ت463ھ) بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لأن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها.
(التمہید: ج1 ص380)
ترجمہ: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔
ثابت ہوا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ) بشرط ثبوت (خصوصیت تھی، عام رواج ہرگز نہیں تھا۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم
الجواب الصحیح کتبہ
(مولانا) محمد الیاس گھمن
(مفتی) شبیر احمد حنفی
دارالافتاء
فقہ حنفی
وفات کے بعد خاوندکا اپنی بیوی کو غسل دینا؟
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن کی زیر نگرانی مرکز اھل السنۃ والجماعۃ کے”آن لائن دارالافتاء“ سے پوچھے گئے سوالات و جوابات کا سلسلہ
نوٹ: سائل کو جواب میل کرنے کے بعد افادہ عام کے لیےادارے کی آفیشل ویب سائٹ www.ahnafmedia.com/darulifta پر اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔
ای میل ایڈریس : mufti@ahnafmedia.com

Tuesday, 26 September 2017

تعزیہ کا شرعی حکم

تعزیہ کی حقیقت، تاریخ ایجاد
اور اس کا شرعی حکم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید قوی ہے کہ آپ بخیر وعافیت ہونگے.
حضرت، حقیقت تعزیہ کیا ہے اور تعزیہ سازی کا آغاز کب اور کس نے کیا؟ اس سلسلے میں مدلل ومفصل جواب عنايت فرمائیں، عین نوازش ہوگی.
مجتبی عزیزی سبیلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلاء کی تربت، ضریح وروضے کی شبیہ، چاندی، لکڑی، کاغذ، بانس وغیرہ سے بناکر تعظیما سڑکوں پہ پھرانا یا امام باڑہوں پہ کھڑا کردینے کو تعزیہ سازی اور تعزیہ داری کہتے ہیں۔
تعزیہ سازی روافض وشیعہ کی ایجاد کردہ بدعات وخرافات ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کہیں اس کا نام ونشان تک نہ تھا۔ اس عمل بد کی سب سے پہلی ایجاد اس طرح ہوئی کہ
سنہ۳۵۲ھ 923 عیسوی کے شروع ہونے پر بغداد کےابن بویہ نے حکم دیا کہ ۱۰/محرم الحرام کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں، بیع وشرا بالکل موقوف رہے، شہرودیہات کے تمام لوگ ماتمی لباس پہنیں اور علانیہ نوحہ کریں، عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کوسیاہ کئے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑے ہوئے، سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی ہوئی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی نکلیں، شیعوں نے اس حکم کو بہ خوشی تعمیل کی؛ مگراہلِ سنت دم بخود اور خاموش رہے؛ کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی، آئندہ سال سنہ۳۵۳ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں میں فساد برپا ہوا، بہت بڑی خوں ریزی ہوئی، اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیرعمل لانا شروع کردیا اور آج تک اسی کا رواج ہندوستان (ہند، پاک) میں ہم دیکھ رہے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (ہند، پاک) میں بعض سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔(تاریخ اسلام مولانا شاہ اکبر نجیب آبادی 466/2)
اگر شہدائے کربلا کے روضے کی شبیہ (تعزیہ ) میں خدائی طاقت کے ظہور یا روح حسین کے حلول کے عقیدہ سے اس کی تعظیم کی جائے تو یہ شرک اعتقادی ہے۔ بت کی تعظیم کے مانند ہے۔ایسا عقیدہ رکھنے والا ایمان سے خارج ہوجائے گا۔ ایمان و نکاح کی تجدید لازم ہے۔
اور اگر یہ عقیدہ نہ ہو صرف تعظیم واحترام مقصود ہو اور روضہ حسین کی تشبیہ سازی مقصود ہو تو روافض وشیعہ کے تشبہ کی وجہ سے یہ بھی ناجائز وحرام ہے اور شرک عملی یعنی فسق ہے۔
وأما اتخاذہ ماتما لأجل قتل الحسین بن علي کما یفعلہ الروافض فہو من عمل الذین ضل سعیہم فی الحیوۃ الدنیا وہم یحسبون أنہم یحسنون صنعًا۔ (مجالس الأبرار ۲۵۳ بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۵؍۴۸۵ میرٹھ۔ فتاوی رشیدیہ، قدیم/ ۱۳۸، فتاوی رحیمیہ، قدیم ۲/۲۷۳،جدید زکریا۲/۷۰)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
٥\١\١٤٣٩هجری

حرام لقمہ کی نحوست چالیس روز تک

حرام لقمہ کی نحوست چالیس روز تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔
حرام کا لقمہ کھانے سے چالیس دن عبادت قبول نہیں ہوتی۔
کیا یہ بات درست ھے باحوالہ جواب عنایت فرمائیں، شکریہ.
تقی الدین جھاڑکھنڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
جی ہاں اس مضمون کی حدیث موجود ہے کہ جس کے پیٹ میں حرام کا ایک لقمہ بھی ہوگا چالیس دن تک اس کی فرض ونفل کسی بھی نماز پہ انعام  واجر خداوندی مرتب نہیں ہوگا۔
ہاں اگر نماز فرائض وشرائط کی رعایت کے ساتھ ادا کی گئی ہو ہو تو ذمہ سے ساقط ضرور ہوجائے گی۔۔۔۔
تُلِيَتْ هذه الآيةُ عندَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم {يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا} [البقرة: 168] فقام سَعْدُ بنُ أبي وقَّاصٍ فقال يا رسولَ اللهِ ادعُ اللهَ أنْ يجعَلَني مُستَجابَ الدَّعوةِ فقال له النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يا سَعْدُ أطِبْ مَطعَمَكَ تكُنْ مُستجابَ الدَّعوةِ والَّذي نَفْسُ مُحمَّدٍ بيدِه إنَّ العبدَ لَيقذِفُ اللُّقمةَ الحرامَ في جوفِه ما يُتقبَّلُ منه عمَلُ أربعينَ يومًا وأيُّما عبدٍ نبَت لحمُه مِن السُّحتِ والرِّبا فالنَّارُ أَوْلى به .
الراوي: عبدالله بن عباس المحدث: الطبراني - المصدر: المعجم الأوسط - الصفحة أو الرقم: 6/310
خلاصة حكم المحدث: لا يروى هذا الحديث عن بن جريج إلا بهذا الإسناد تفرد به الاحتياطي
ورواہ المنذری فی الترغيب والترهيب عن ابن عباس  - الصفحة : 3/17
[لا يتطرق إليه احتمال التحسين]

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Monday, 25 September 2017

أزواج علي وأولاده

أزواج علي وأولاده
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

هو علي بن أبي طالب عبد مناف بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف.
تزوج أولا فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم .ولم يتزوج عليها امرأة حتى توفيت عندها.
وكان لها منه من الولد: الحسن والحسين ومحسن في رواية توفي صغيرا  وزينب الكبرى وام كلثوم الكبرى.
بعد وفات فاطمة تزوج أم البنين بنت حزام أبي المجل بن خالد.
فولدت له العباس. وجعفر. وعبد الله. وعثمان  قتلوا مع الحسين بكربلاء .لابقية لهم غير العباس.
ثم تزوج ليلى ابنة مسعود بن خالد. فولدت له عبيد الله وابابكر. قتلا مع الحسين فيما حدث  هشام بن محمد.
ثم تزوج أسماء ابنة عميس الخثعمية .فولدت له يحي ومحمدا الأصغر. ..فيما حدث هشام بن محمد. ......ولاعقب لهما..
وقال الواقدي إن أسماء ولدت لعلي يحي وعونا ابني علي .وقال بعضهم محمد  الأصغر لام ولد.....وقتل محمد الأصغر مع الحسين.
ولسيدنا علي أم ولد تسمى الصهباء حبيب بنت ربيعة بن بجير من السبي الذين أصابهم خالد إبن الوليد حين أغار علی بني تغلب. فولدت منه عمر بن علي ورقية ابنة علي.
ثم تزوج امامة بنت أبي العاص بن الربيع .وأمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم. فولدت له محمدا الأوسط.
وله من خولة ابنة جعفر بن قيس محمد بن علي الأكبر .
وتزوج أم سعد بنت عروة بن مسعود فولدت له أم الحسن ورملة الكبرى .
وكان له بنات من امهات شتى.لم يسم لنا أسماء امهاتهن. منهن أم هاني. وميمونة. وزينب الصغرى.ورملة الصغرى.وأم كلثوم الصغرى.وفاطمة.وأمامة. وخديجة.  وأم الكرام. وأم سلمة. وأم جعفر. وجمانة. ونفيسة. كلهن بنات علي من أمهات أولاد شتى.
وتزوج محياة ابنة امرئ القيس بن عدي.فولدت له جارية. توفيت صغيرة.
فجميع ولد علي لصلبه أربعة عشر ذكرا وسبع عشرة امرأة.
وحدث إبن سعد عن الواقدي كان النسل من ولد علي لخمسة: الحسن والحسين .ومحمد بن الحنفية. والعباس بن الكلابية. وعمر بن التغلبية.

للاستزادة راجع تاريخ الطبري 155/5. الكامل لابن الأثير 262/3. طبقات إبن سعد 27/3

والله أعلم بالصواب
شكيل منصور القاسمي
تحريرا ٤\محرم الحرام سنة ١٤٣٩هجرية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ازواج واولاد

عبد مناف بن عبد المطلب معروف بابی طالب کے لڑکے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح فرمائے ہیں۔ مختلف ازواج اور امہات ولد سے آپ کی درجنوں اولاد ہوئیں۔ سب سے پہلا نکاح حضرت فاطمہ الزہراء جگر گوشہ رسول سے ہوا۔ ان  کے رہتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی بھی خاتوں سے نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت فاطمہ کے بطن سے حضرت حسن، حسین اور ایک روایت کے مطابق محسن، زینب کبری اور ام کلثوم کبری پیدا ہوئیں۔
ان کی وفات کے بعد آپ کا نکاح ام البنین بنت حزام سے ہوا؛ جن سے عباس، جعفر، عبد اللہ اور عثمان پیدا ہوئے۔ سب حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں شہید ہوگئے۔ عباس کے علاوہ پسماندہ کوئی نہ رہا۔
پھر لیلی بنت مسعود سے نکاح ہوا۔ جن سے عبید اللہ اور ابوبکر تولد ہوئے۔ بقول ہشام بن محمد دونوں حضرت حسین کے ساتھ ہی شہید ہوگئے۔ اور ان کی اولاد کا سلسلہ بھی آگے نہ چل سکا۔
پھر اسماء بنت عمیس خثعمیہ سے نکاح ہوا، ان سے یحی اور محمد اصغر پیدا ہوئے۔ علامہ ہشام کے بقول ان کا بھی کوئی پسماندہ نہ رہا۔ جبکہ علامہ واقدی کا خیال یہ ہے کہ اسماء سے یحی اور عون (نہ کہ محمد) پیدا ہوئے۔ محمد اصغر اسماء سے نہیں بلکہ ام ولد کے بطن سے تولد ہوئے۔ واقدی کے بیان کے مطابق محمد اصغر حضرت حسین کے ساتھ ہی شہید ہوگئے۔
حضرت علی کی ایک ام ولد (جس باندی سے مالک کا لڑکا پیدا ہوجائے اسے ام ولد کہتے ہیں۔ آقا کی موت کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے) تھی جن کا نام حبیب بنت ربیعہ صہباء تھا۔ بنی تغلب پہ فوج کشی کے نتیجہ میں قید ہوکے بطور باندی خالد بن ولید کے حصہ میں آئی تھی۔ ان سے عمر بن علی، رقیہ بنت علی پیدا ہوئی۔
پھر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نکاح ابو العاص بن الربیع کی بیٹی امامہ سے ہوا۔ اور یہ امامہ جگر گوشہ رسول، سیدہ زینب بنت رسول اللہ کی دختر یعنی حضور کی نواسی تھیں۔ ان سے محمد اوسط پیدا ہوئے۔
حضرت علی کے ایک لڑکے کا نام محمد بن علی اکبر بھی تھا،
جو محمد بن الحنفیہ سے مشہور تھے۔ ان کی ماں کا نام خولہ بنت جعفر تھا۔
پھر حضرت علی کا نکاح ام سعید بنت عروہ بن مسعود سے ہوا۔ جن سے ام الحسن اور رملہ کبری پیدا ہوئیں۔
مختلف امہات ولد سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مختلف بیٹیاں پیدا ہوئی ہیں۔ جن کی ماؤں کا نام صحیح طور پہ تاریخی روایات میں ثابت و محفوظ نہیں۔ ان میں؛ ام ہانی۔ میمونہ۔ زینب صغری۔ رملہ صغری ۔ام کلثوم صغری۔ فاطمہ۔ امامہ۔ خدیجہ۔ ام الکبری۔ ام سلمہ۔ ام جعفر۔جمانہ اور نفیسہ رضی اللہ عنہن تھیں۔
امرا القیس کی بیٹی محیاة سے بھی آپ کا نکاح ہوا تھا۔ جن سے ایک بچی پیدا ہوئی جس کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔
اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تمام صلبی اولاد میں چودہ بیٹے اور سترہ بیٹیاں (واقدی اورطبری کے مطابق) تھیں۔
پانچ بیٹوں سے آپ کی نسل چلی۔ حسن اور حسین فرزندان فاطمہ الزہراء ۔محمد بن الحنفیہ۔ عباس بن الکلابیہ اور عمر بن التغلبیہ سے۔ (تاریخ طبری 155/5۔طبقات بن سعد 27/3۔ الکامل فی التاریخ ابن الاثیر 262/3 )

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
٤\محرم ١٤٣٩ هجری

Sunday, 24 September 2017

مفتی شکیل منصور القاسمی؛ ایک نظر میں

مفتی شکیل منصور القاسمی 
دراز قد، میانہ قامت، گندمی رنگ، کشادہ پیشانی، کتابی چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور أشداء على الكفار اور رحماء بينهم کی تفسیر طبیعت و مزاج سے عبارت۔ ایسی پرکشش شخصیت کا تصور کیجئے اور اسے ذکاوت، شجاعت، غایت درجہ تواضع وانکساری، بلند حوصلہ، آہنی عزم وارادے علمی و ادبی شیدائیگی و وارفتگی، دینی و دعوتی کاموں کے ارتقاء کے لئے بے قراری و بے تابی، اکابرین و اسلاف کی والہانہ عقیدت و محبت اور ملت اسلامیہ کو درپیش دشواریوں کے حل کے لئے امنڈتے جذبات اور موجیں مارتے تخیلات سے مرقع حسین و جمیل سانچے میں ڈھال دیجئے اور اس پر جلی حرفوں میں کندہ کیجئے تو چشم تصور میں نظر آئیں گے؛ 
مفتی شکیل منصور القاسمی
شوال کا مہینہ اختتام پر ہے، دارالعلوم دیوبند میں جدید داخلوں کی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، درسگاہوں کی رونق رمضان المبارک کی تعطیل کلاں کے بعد لوٹ آئی ہے، طب کی تعلیم کے لئے تعمیر کردہ عمارت طبی تعلیمی سلسلہ موقوف ہونے کے بعد عربی کے ابتدائی درجات کے لئے عارضی طور پر استعمال میں لائی جارہی ہے۔ اس کے مرکزی ہال میں عربی چہارم اولی کی درسگاہ ہے۔ دیگر درسگاہوں کی طرح اس درسگاہ میں بھی حسب روایت پرانے طلبہ کے ساتھ چند نئے چہروں کا اضافہ ہوتا ہے۔ قدیم طلبہ میں سے ذہین اور امتحان سالانہ میں معیاری نمبر لانے والے طلبہ اساتذہ کی نشست سے قریب تپائی پر جگہ لینے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتے ہیں، انھیں قدیم طلبہ کے درمیان کچھ نئے طلبہ بھی گھسے چلے جارہے ہیں، شاید انھیں اپنے 'جدید' یونے کا احساس نہیں ہے یا پھر وہ قدیم طلبہ سے ذرا سا بھی متاثر اور مرعوب نہیں ہیں نیز انھوں نے اپنی صلاحیتوں پر کامل اعتماد اور بھروسہ کررکھا ہے، انھیں نووارد طالبعلموں کے زمرے میں ایک طالب علم ہے جو اپنی درسی کتابوں کے ساتھ عربی زبان و ادب کا شاہکار رسالہ ماہنامہ 'الداعی' کا نیا شمارہ ساتھ میں لیکر درسگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور اساتذہ کے درسگاہ سے جانے کے بعد وہ 'الداعی' کے مطالعے میں محو ہوجاتا ہے، میں حیرت اور حسرت سے اس طالب علم کو دیکھتا کہ یہ کون جدید طالب علم اس قدر ادبی ذوق کا حامل ہے جو عربی ادب کا معیاری ماہنامہ 'الداعی' کا ابھی سے مطالعہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ میں ہنوز اس کے نام اور سکونت سے نا آشنا تھا۔ پھر میں نے حاضری کے وقت غور کیا۔ استاذ محترم نے جب یہ پکارا؛ شکیل احمد بیگوسرائے، تو اسی طالب علم  نے "لبیک" کہہ کر جواب دیا۔ اب میں سمجھ گیا کہ یہ طالب علم ہمارے صوبہ بہار کے ضلع بیگو سرائے کا رہنے والا ہے۔ اس کا نام شکیل احمد ہے۔ بیگوسرائے سے قریب سات کلو میٹر جنوب میں واقع سادات کی مشہور ومردم خیز بستی سیدپور آپ کی جائے ولادت وسکونت ہے۔ آپ کے والد صاحب کا نام الحاج محمد منصور ہے۔ مدرسہ حسینیہ چلمل بیگوسرائے میں 1988 عیسوی میں قاری عبد العزیز صاحب کمئی کے پاس تکمیل حفظ کی سعادت حاصل کی۔حضرت مولانا عبد الماجد سیوانی، حضرت مولانا عبد العظیم مظاہری اور حضرت مولانا محمد صابر نظامی القاسمی سے عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرکے چہارم عربی میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور تخصصات تک یہیں کسب فیض کرتے رہے۔
رسم و راہ:
عربی زبان و ادب کے ساتھ طبعی دلچسپی کی وجہ سے کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ ان  کےسامنے سے ماہنامہ 'الداعی' لے لیا جاتا اور اس کے عنوانات پر سر سری نظر ڈال کر کچھ سمجھ کر اور کچھ بے سمجھے ہی انھیں واپس لوٹا دیا جاتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا آہستہ آہستہ ہمارے تعلقات مستحکم ہونے کے ساتھ ہماری ایک جمعیت تیار ہوگئی۔ اس جمعیت سے وابستہ افراد میں سے تھے ہردلعزیز رفیق مرحوم شمشیر عالم بھاگلپوری (اللہ پاک مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے)، ہم سب کے منظور نظر مجتبی حسن قاسمی مدھوبنی، استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم اسلامیہ ماٹلی والا بھروچ، گجرات، خلیق اور خوش مزاج، نور محمد ہزاری باغی امام وخطيب گوا، ہنس مکھ اور بے فکر طبیعت کا حامل عمر فرید چشتی دربھنگوی، مہتمم مدرسہ نبی کریم دہلی۔ نستعلیق شخصیت کا حامل عارف باللہ مظفر پوری استاذ حدیث عائشہ نسواں حیدرآباد، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کے سب ہم درس، ہم ذوق، ہم فکر اور ہم جذبہ تھے، ماحول اور حالات کی چمک دمک سےدور رہ کر علمی تشنگی کو قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے فرو کرنے کا انھوں نے عہد کر رکھا تھا۔ خورد ونوش کے اوقات ہوں یا سیر و تفریح کے حسین لمحات ہر دم و ہر آن علمی مباحث ورد زبان ہوتا، کبھی درسی کتب پر حضرات اساتذہ کرام کی تشریحات کو موضوع نقد وتبصرہ بنایا جاتا، تو کبھی کسی درسی کتاب کی کسی عبارت کی توضیح و تحقیق پر احباب اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے، کبھی مروجہ نصابی فنون کے ائمہ کی زندگی اور اس کے نشیب و فراز پر احباب اپنے مطالعوں کی روشنی میں لب کشائی فرماتے، تو کبھی مخالفین اسلام اور اعداء اسلام کی اسلام دشمنی پر غور و خوض کیا جاتا اور ان کی سازشوں کے سلسلے میں قیاس آرائیاں ہوتیں، کبھی ملت اسلامیہ کی زبوں حالی پر رنج وغم کا اظہار ہوتا تو کبھی قائدین کی قیادت کو انصاف کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی جاتی۔ غرض کہ مادرعلمی کی علمی فضا میں ان علم دوست اور علمی ذوق کے حاملین احباب کے ملن سے ان کا ایک ایسا خاص علمی ماحول تیار ہوگیا تھا۔ جس میں لاپروائی، کوتاہ اندیشی، طالبعمانہ معصوم شرارت کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ سعادت کی بات یہ تھی کہ شکیل منصور صاحب، اب ہم احباب کے لئے 'بھائی شکیل' بن چکے تھے، جو ان مشکبار علمی ماحول کی قیادت نہایت ہی سلیقہ مندی سے انجام دے رہے تھے اور فقیر شمشیرحیدر ارریاوی ان حضرات کی خدمت اپنی سعادت مندی سمجھ کر انجام دینے میں مصروف تھا۔ علم و ادب کے دلدادہ ذہین و فطین طلبہ پر مشتمل یہ جماعت گہوارہ علم وہنر دارالعلوم دیوبند کی روح پرور فضاء میں اپنا علمی سفر 'شکیل منصور' کی قابل رشک رفاقت میں پورے انہماک کے ساتھ طے کرتی رہی، اور ہر روز ایک نئی علمی بلندی سر کرتی رہی، ان کی آپسی محبت، یکجہتی، بھائی چارگی اور ایثار بے نظیر تھی، ان  کے آپس کے تعلقات اور معاشرت سے دوسرے لوگوں کو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا کہ ان سب کا تعلق الگ الگ علاقوں سے ہے یا ان کا خاندان اور کنبہ مختلف ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا دل دوسرے کے تعلق سے خلوص میں ڈوبا ہوا تھا، رب کائنات نےحسن ظن، نیک خواہشات، پاکیزہ جذبات اور اعلی افکار کو ان رفقاء کے رگوں میں دوڑنے والے خون میں ایسا تحلیل کردیا تھا کہ بد ظنی، حسد، بغض، اور کینہ جیسے اخلاق رزیلہ کا ان کے پاس سے گزرنا بھی مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ساتھ ایک پلیٹ میں کھانے پینے، ایک ہی درسگاہ میں پڑھنے لکھنے، ایک ہی جگہ بیٹھ کر مطالعہ کرنے سے لیکر ایک ساتھ سیر و تفریح کے باوجود کبھی کسی طرح کا کوئی اختلاف رو نما ہوا اور نہ ہی اس جیسا کبھی ماحول بنا، درحقیقت اتنی خوبصورت ٹولی کو تشکیل دینے کا سہرا اگر کسی کے سر باندھا جائے تو بلا شبہ اس ٹولی کے سبھی رفقاء کے دلوں سے یہی صدا بلند ہوگی 'بھائی شکیل منصور' جن کے سر پر مستند  فتوی نویسی کا تاج بہت ہی خوبصورت اور موزوں لگتا ہے۔
درسگاہ حدیث:
دارالعلوم دیوبند دنیائے اسلام کا ایک عظیم اور قابل فخر قصر جمیل ہے، جہاں سے 'قال اللہ' اور 'قال الرسول' کے بلند ہونے والے  خوبصورت، دلربا، وجد آفریں اور قابل رشک زمزمے  پوری دنیا میں سنے جاتے ہیں۔ اس کے خاک سے اٹھنے والے دیوانے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے سوگند کھاکر اقصائے عالم میں پھیل جاتے ہیں۔ اور دین حنیف کو اسلام مخالف ہر تیز و تند جھونکوں سے بچانے کے لئے ہمہ آن مستعد نظر آتے ہیں۔ اس عظیم الشان ادارہ کی درسگاہ حدیث اپنا مخصوص نہج درس، خاص تہذیبی و تربیتی ماحول، تعظیمی و تکریمی انداز اور کلام نبوی کے ساتھ طلبہ و اساتذہ کے قلوب میں موجزن عاشقانہ جذبات کے اعتبار سے یقینا دنیائے اسلام کی  فقید المثال درسگاہ حدیث ہے۔ یہی وجہ کہ اس درسگاہ سے تربیت یافتہ حضرات کی خدمات سے متاثر ہوکر ایک عرب عالم بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔
واللہ لولا علماء الہند لضاع علم الحدیث۔
غایت سعادت کی بات ہے کہ بارگاہ خداوندی سے بھائی شکیل منصور حسنی کے لئے اس کی پوری ٹولی کے ساتھ اس قابل رشک درسگاہ سے فیض یاب ہونے کا فیصلہ صادر ہوتا ہے اور وہ اپنی قسمت پر نازاں وفرحاں دار العلوم دیوبند کی دار الحدیث نامی اس عظیم الشان پر شکوہ درسگاہ میں فروکش ہوتے ہیں،  
لیکن خدارا، یہ ماجرا کیا ہے، درسگاہ آج، ابھی، اسی وقت کھلی ہے ۔۔ پھر ۔۔۔ یہ کتابیں ۔۔۔ اور اگلی تپائیاں۔۔۔۔ کیسے، کہاں سے پر ہوگئیں ۔۔۔ کیا اساتذہ کے مواجہت کاملہ کے ساتھ اسباق پڑھنے کی عادت اس بات کی اجازت دے گی کہ پیچھے بیٹھ کر سبق سن لئے جانے پر اکتفا کرلیا جائے ۔۔۔۔وہ بھی وہ کتابیں اور وہ علوم جسے پانے کے لئے اب تک اتنے برسوں سے کدوکاوش کی گئی ۔۔۔ اسے یونہی جہاں تہاں، جیسے تیسے بیٹھ کر پڑھ اور سن لیا جائے؟ تعجب، تحیر،تفکر  سے معاملہ اچھال مارکر تدبر کے راستے دفتر تعلیمات کے دروازے پر دستک دیتا ہے، مجلس تعلیمی میں بھائی شکیل تفصیلی درخواست پیش کرتا ہے۔ اور دارالحدیث کی تشویشناک نظام نشست سے ناظم مجلس تعلیمی شیخ ارشد مدنی کو واقف کرواتا ہے اور پھر علی الصباح وہاں سے  شکیل منصور حسنی کو ان کی  ٹولی سمیت امتحان سالانہ میں حاصل کردہ نمبروں کے مطابق اگلی تپائی پر بیٹھنے کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
ذلک فضل اللہ  علی من یشاء
درحقیقت یہ شکیل منصور حسنی اور ان کے احباب کے لئے ان کی علمی تڑپ اور حدیٹ نبوی (علی صاحبہا الصلاة والسلام) کے ساتھ سچا عشق کا نتیجہ تھا جو،
"انا عند ظن عبدي بی"
کے لفظی غلاف سے نکل کر مشاہداتی دنیا میں رونق پزیر ہو گیا۔ ان کی کوشش سے دارالحدیث میں بیٹھنے کا یہ منصفانہ نظام قائم ہوا.
"اچھی چیز کی تعریف کی جانی چاہئے۔ امسال کئی برسوں بعد اچھے طلبہ دارالحدیث میں پہنچے."
یہ جملہ ہے اس پیکر حسن و جمال کا جن کے چہرے سے
"نضر اللہ امرأ سمع مقالتي فوعاها ثم أداها كما سمع"
کی شادابی ہر کوئی بھانپ سکتا تھا (مراد حضرت شیخ نصیر احمد خان صاحب قدس سرہ) کیوں نہیں جبکہ اس درسگاہ حدیث میں شکیل منصور حسنی اور ان کے ہونہار، ذہین اور اعلی افکار و خیالات کے حامل رفقائے جانثار  یعنی مجتبی حسن مدھوبنی، عارف باللہ مظفر پوری، عمر فرید چشتی، شمشیر عالم بھاگلپوری، عبد الرحمن کٹکی امجد کشنگنجی، تنویر عالم دیناج پوری نور محمد ہزاری باغی کے علاوہ طلبہ واستاذہ کا نور نظر عفان منصور پوری ارتقاء الحسن کاندھلوی، عرفان احمد سدھارتھ نگری، اشرف عباس دربھنگوی، کلیم احمد کٹکی ، امان اللہ مہاراشٹری حامد ظہیر بنگلہ دیشی (وہ بنگلہ دیشی جس کی دوسری پوزیشن آئی تھی نام یاد نہیں آرہا ہے) جیسے مثالی طلبہ ایک ساتھ مجتمع ہوگئے تھے.
دورہ حدیث شریف:
دورحدیث شریف میں درس کا نظام الأوقات اس طرح سے تھا
پہلی گھنٹی۔
(1)    مسلم شریف ۔حضرت مولانا قمر الدین۔
(2)    مسلم شریف ثانی۔ حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی ۔
دوسری گھنٹی۔
ترمذی ثانی۔ حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب
تیسری گھنٹی۔
ترمذی اول ۔حضرت مفتی سعید صاحب 
چوتھی گھنٹی۔
بخاری شریف اول۔ حضرت شیخ نصیر احمد خان صاحب۔
پانچویں ۔۔۔ 
(1) شمائل ترمذی    ۔۔حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی۔
(2) ابن ماجہ شریف۔ حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری۔
چھٹی گھنٹی۔
(1) ابو داؤد شریف ثانی حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی۔
(2) ابوداؤد اول حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی
بعد نماز مغرب۔
ترمذی شریف اول۔ حضرت مفتی سعید صاحب
بعد نماز عشاء۔ بخاری شریف ثانی حضرت مولانا عبدالحق صاحب اعظمی۔
بروز جمعہ.
(1) موطا امام مالک  حضرت قاری محمد عثمان صاحب۔
(2) موطا امام محمد۔ حضرت مفتی محمد  امین صاحب۔
ہر استاذ کی اپنی ایک شان اور اپنا مخصوص و منفرد انداز تھا۔ کسی کے درس میں فقہی انداز غالب ہوتا تو کسی  کے یہاں درایت حدیث پر زور دیا جاتا۔ کسی کا درس  اسماء الرجال پر محققانہ نقد وتبصرہ کا مظہر ہوتا تو کسی کے یہاں عشق نبوی کا دلکش نظارہ دیکھنے کو ملتا، کہیں جلال تو کہیں جمال، کسی کی سادگی پر مرنے کو جی چاہتا، تو کسی کا رعب ودبدبہ سے استقامت اور عزم  کا درس ملتا، غرض کہ ایک سے ایک  اصحاب فضل و کمال اور ارباب علم و تحقیق کا حسین سنگم جہاں سے تشنگان علوم اپنے اپنے ظرف کے مطابق نہایت ہی ذوق و شوق کےساتھ اسرار و حکم جمع کرنے میں مصروف نظر آتے۔ انھیں تشنگان علوم میں ایک بہت ہی نمایاں اور ممتاز طالب تھے برادرم  شکیل منصور  حسنی۔ جنھوں نے اپنی پوری ٹولی کے ساتھ  دورہ حدیث کے سال وقت کے تھنوں سے ایک ایک قطرہ نچوڑلینے کا عہد کرلیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ درسگاہ سے نکلنے کے بعد اپنے رفقاء بطور خاص مجتبی حسن اور شمشیرحیدر  کے ساتھ کبھی  بخاری شریف کی کسی حدیث پر حافظ ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری، علامہ بدر الدین عینی  کی عمدة القاری، علامی قسطلانی کی ارشاد الساری، قطب دوراں علامہ رشید احمد گنگوھی کی امالی درس المسمی بلامع الدراری، علامہ کشمیری کی فیض الباری شیخ الحدیث علامہ زکریا کاندھلوی کی الابواب و التراجم، اور حضرت شیخ الہند کا  دریا بکوزہ کا مصداق  رسالہ تراجم أبواب  کی روشنی میں مذاکرہ ہو رہا ہوتا تو کبھی جامع ترمذی کو حل کرنے کے لئے تحفة الاحوذی، معارف السنن، العرفالشذی، الکوکب الدری اور حضرت شیخ الہند کا حاشیہ انیقہ کا ذکر چل رہا ہوتا، اسی طرح ابوداؤد شریف کے لئے عون المعبود، بذل المجہود، وغیرہ جیسی مستند و معتبر شروح حدیث سے براہ راست استفادے کا کیا ہی دلآویز مناظر ہوتا۔
یہاں پر تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ بات کہنے کو جی چاہتا ہے کہ برادرم شکیل منصور کی صحبت میں ہم لوگوں نے جس طرح حدیث شریف کی معتبر اور مستند عربی شروحات سے براہ راست استفادہ ناقدانہ طریقے پر کیا ہے، ماضی قریب میں شاید و باید ہی اس کی نظیر مل سکتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے اندر غیر معمولی طور پرخود اعتمادی اور کسی بڑی سے بڑی شخصیت سے عدم مرعوبیت کی صفت مکمل طور راسخ ہوگئی تھی۔           
کتابوں کی دنیا میں:
شکیل منصور حسنی اور ان کے رفقاء کو کتب بینی سے ایسی ہی نسبت تھی جیسے پروانے کو شمع سے، در حقیقت
"خیر جلیس فی الزمان کتاب"
کا وہ صحیح معنوں میں زندہ نمونہ تھے، طالبعمانہ بساط کے مطابق حدیث شریف سے متعلق عربی کتابوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ انھوں نےجمع کرلیا تھا، جن کتابوں تک رسائی ان کے دسترس سے باہر تھی۔ ان سے استفادہ کے لئے دارالعلوم دیوبند کے پرشکوہ کتبخانہ سے رجوع کیا جاتا، لیکن چونکہ کتب خانہ کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات وہی تھے جو درس کے اوقات ہوا کرتے تھے، جس کی وجہ استفادے کی کوئی شکل نہیں بن پارہی تھی۔ اس لئے رفقاء سے مشورہ کرکے یہ طے پایا کہ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب سے رجوع کیا جائے ممکن ہے، ان سے مل کر کوئی مناسب حل نکل آئے۔ چنانچہ ایک درخواست تیار کی گئی اور اس کو  لیکر شکیل منصور حسنی کی قیادت میں حضرت استاذ محترم کے آستانے پر حاضری دی گئی۔ درخواست میں دو باتوں کی گزارش کی گئی تھی۔
(1) رات میں کم ازکم ایک بجے تک کتب خانہ کھولے جانے کا نظم ہو۔ (تاکہ دورہ حدیث شریف کے جو طلبہ گیارہ کبھی ساڑھے گیارہ بجے تک حضرت شیخ ثانی سے بخاری شریف جلد ثانی کا سبق پڑھ کر مطالعہ کرنا چاہیں بآسانی مطالعہ کرسکیں).
(2) مسلم شرئف جلد ثانی کے لئے کسی حنفی محدث کی کوئی شرح کتب خانہ میں ابتک نہیں آئی  ہے۔ لہذا تکملہ "فتح الملہم" کتب خانہ میں منگوادی جائے تاکہ باذوق طلبہ اس سے اپنی تشنگی بجھاسکے۔ حضرت مفتی صاحب زیدمجدہ نے درخواست پڑھ کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور ارشاد فرمایا۔ مولانا عبدالخالق مدراسی سے ملو، ہم بھی ان سے کہہ دیں گے۔ چنانچہ ہم لوگ واپس آگئے اور مغرب بعد مسجد رشید میں حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کے پاس شکیل منصور الحسنی کی معیت میں حاضر ہوگئے اور حضرت والا دامت برکاتہم کی خدمت عالیہ میں اپنے مطالبات پیش کردیئے۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے ہماری گزارش کی تحسین فرمائی اور دوسرے ہی دن سے حسب درخواست رات کے ایک بجےتک کتب خانہ کھلنے کا نظم فرمادیا، اور ایک سیٹ 'تکملہ فتح الملہم' بھی کتب خانہ میں فراہم کردیا گیا (ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ "فتح الملہم" کا وہ  سیٹ حضرت کا ذاتی ہے جسے حضرت نے ہماری درخواست پر فوری طور پر کتب خانے میں دے دیا) پھر  چند ہی دنوں کے بعد "فتح الملہم" کے متعدد نسخے کتب خانے میں آگئے۔ کتب خانہ میں مطالعے کے دوران بھی ہمارے درمیاں مسائل پر تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہتا، کسی کو زیرمطالعہ کتاب میں کوئی نئی بات، نیا قول، انوکھی توضیح یا کوئی لطیف نکتہ ملتا وہ دیگر رفقاء کو اس سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا، اس درمیان کبھی ہم میں سے کسی کی آواز ذرا بھی بلند  ہوتی فورا ہی کتب خانہ کا ملازم ہماری طرف آنکھ پھاڑ کر دیکھتا لیکن بیچارہ زبان کم ہی کھول پاتا بلکہ بسا اوقات یہ آنکھ پھاڑنا بھی انھیں مہنگا پڑتا، بیچارے کو ان طلبہ کی طرف سے بہت ہی دلچسپ اور خوبصورت انتقاموں کا شکار بننا پڑتا۔ یہاں بھی شکیل منصور حسنی کی طرف سے انتقامی کارروائی کچھ زیادہ ہی دلچسپ ہوتی لیکن وہ بیچارہ ملازم کبھی سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوپایا کہ آخر کس کافر ادا کا عشوہ خوں ریز ہے یہ؟
سالانہ امتحان میں کارکردگی:
اس مثالی طالبعمانہ شان، بے نظیر مطالعاتی ذوق اور تحسین آفریں رفاقت کے ساتھ ہی وقت برق رفتاری سے محو سفر تھا۔ ہماری تمنائیں تھیں کہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے اور دراز ہوتا رہے۔ لیکن اس دار فانی میں کب اور کہاں کسی  کی تمنا کمال تکمیل سے ہمکنار ہوپائی۔ لیجئے امتحان سالانہ نے دستک دینی شروع کردی ہے۔ درسگاہوں میں تکرار اور مطالعے کی چہل پہل ہے، اور گزشتہ برسوں کے پرچے تلاش کرکے جمع کئے جارہے  ہیں۔ اور اسے اجتماعی و انفرادی طور پر حل کیا جارہا ہے، لیکن شکیل منصور حسنی اور ان کے رفقاء کے معمولات حسب دستور جاری ہیں، اس میں نہ کوئی تبدیلی ہے اور نہ ہی کسی چیز کا اضافہ، ان کا اپنا پرانا نظام اور دستور ہے اسی کے مطابق مطالعہ اور مذاکرہ کا سلسلہ جاری ہے، انھیں گزشتہ پرچوں کے حل کرنے سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی ممکنہ مواضع امتحان سے کوئی خاص مطلب بس ایک طرف سے کتابیں حل کرنے کی فکر دامنگیر ہے۔ امتحان شروع ہوگیا ہے، ہر امتحان کے بعد رب کریم کی شکر گزاری ہو رہی ہے کہ سوالات بآسانی حل ہوگئے۔ امتحان بھی تو بہت انوکھے طرز پر دیا جارہا جارہا تھا، ہر روز سوال کے مطابق عربی زبان میں تین تین مقالے لکھے جارہے تھے، بخاری شریف کے امتحان میں تو شکیل منصور حسنی نے کمال ہی کردیا 40 ۔ 35 صفحات پرمشتمل "الافادات النصیریة في الإجابة عن أسئلة البخارى السنوية" نامی ایک بہت ہی دلکش رسالہ تصنیف کرڈالا اور پورے دورہ حدیث شریف میں اس سال دو یا تین طالب علموں نے ہی بخاری شرہف میں مکمل پچاس نمبر حاصل کئے، ان میں سے ایک شکیل منصور حسنی تھا۔   
سالانہ امتحان کے نتائج: 
اللہ اللہ کرکے سالانہ امتحان اختتام پذیر ہوا، والدین اور عزیزو  اقارب کی یاد آنے لگی، ان کی ملاقات کا شوق ستانے لگا، طبیعت وطن جانے کے لئے مچلنے لگی، اسی کے ساتھ رفقاء کی جدائی کا غم ڈسنے لگا، بیتابی دل بڑھنے لگی اور مادرعلمی کے آغوش میں بیتے ہوئے حسین ایام، اور خلوص و وفا کے پیکر احباب کی الفتیں، محبتیں اور عنایتیں ایک ایک کرکے دلوں کو گرمانے لگیں، بہت ہی صبر آزما تھے وہ لمحات جب احباب ایک دوسرے کو آشکبار آنکھوں سے الوداع کہہ رہے تھے، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو حسرت کے ساتھ کہہ رہے ہوں؛ نہیں بے گانگی اچھی رفیق راہ منزل سے، یعنی؛
او جانے والے ہمیں بھول مت جانا۔
خیر دل پر ہاتھ رکھ کر الفراق کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، اور مادرعلمی کے در و دیوار پر حسرت بھری نگاہ ڈال کر قدم آگے بڑھانا پڑا۔ احباب اپنے اپنے وطن پہنچ گئے، رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہوا۔ امتحان کا نتیجہ جاننے کے لئے طبیعت بے قرار ہورہی تھی. ناگہاں ڈاکیہ نے ایک روز ایک پوسٹ کارڈ لا تھمایا جو شکیل منصور حسنی کی طرف سے آیا تھا جس میں امتحان کے نتیجے کی اطلاع دی گئی۔ پڑھا بار بار پڑھا، پہلی اور دوسری پوزیشن بنگلہ دیش ایکسپورٹ ہونے کے بعد تیسری رہ گئی تھی جسے شکیل منصورحسنی نے بہت ہی مضبوطی سے تھام لیا، دیگر رفقاء کے نمبر بھی اچھے اور بہت اچھے تھے۔ رب کا شکر بجالایا کہ ہم کم ازکم ایک سال پھر ایک درسگاہ میں پڑھ سکیں گے۔
الحمدللہ حمدا کثیرا
بزم سجادکی  صدارت:
دارالعلوم دیوبند میں بہار، جھاڑ کھنڈ، اڑیسہ اور نیپال کے طلبہ کی ایک مشترکہ انجمن ہے جو سر زمین بہار کے عظیم مفکر، ہندوستان میں امارت شریعہ کے قیام کا خاکہ تیار کرنے والے بے لوث قائد ابو المحاسن حضرت مولانا سجاد حسین بہاری علیہ الرحمہ کے اسم گرامی سے معنون و منسوب ہوکر بزم سجاد سے مشہور و معروف ہے، جس کا قیام سن.1939ء میں حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ کے مقدس ہاتھوں "انجمن اصلاح البیان" کےنام سے عمل میں آیا تھا لیکن نہ جانے کیوں اور کیسے اسے "بزم سجاد/ سجاد لائبریری" کے نام سے شہرت ہوگئی۔ بزم سجاد دارالعلوم دیوبند کی فعال ترین انجمنوں میں سے ہے، اس کے گھنیری چھاؤں میں چہکنے والے عنادل کی گونچ وعظ وتذکیر کی دنیا میں بڑی وقعت واہمیت رکھتی ہے، اس کے آغوش تربیت میں قلم  وقرطاس سے وابستہ ہونے والوں کے قلمی نقوش کو دنیائے تصنیف و تالیف میں سحر آفریں سمجھا جاتا ہے۔ اس بزم کی سر پرستی کے لئے بارگاہ ایزدی سے ایسے پاکیزہ اور اصحاب فضائل ومحاسن أشخاص کا انتخاب ہوا۔ جنھوں نے اپنے تدبر و بصیرت سے ہر پرآشوب دور اور مشکل گھڑی میں ملت اسلامیہ کی کامیاب رہنمائی کی اور تاریک اور سخت طوفانی حوادث میں پھنسی ملت کی کشتی کو اپنے تدبرو بصیرت سے بال بال بچایا۔ میری مراد سرپرست اول شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، سرپرست ثانی فخربہار حضرت مولانا محمد حسین صاحب بہاری اور سرپرست ثالث آفتاب فقہ حضرت مولانا و مفتی ظفیر الدین صاحب مفتاحی قدس اللہ اسرارہم ہیں۔ اس بزم کی صدارت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے متعلقہ خطے کے طلبہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے، جسے ہر ضلع کے نمائندہ طلبہ طے کرتے ہیں اور انتخاب صرف ایک سال کے لئے ہوتا۔ ہمارے افتاء کا سال تھا مولوی شکیل منصور حسنی اپنی پوری ٹولی کے ساتھ سجاد لائبریری کے انتخابی پروگرام میں نئے جذبوں اور بلند حوصلوں کے ساتھ  شریک ہوئے، جسمیں صدارت کے لئے مولوی شکیل منصور حسنی کے نام کی متفقہ طور پر تصویب کی گئی۔
انشاء پردازی اور مضمون نگاری:
ضلعی انجمنوں اور پھر ہفت روزہ 'الہلال' میں مضمون نگاری نے تمام احباب کو اردو کے روز ناموں کے پڑھنے اور اس میں لکھنے کا اچھا ذوق پیدا کردیا تھا۔ روز نامہ 'راشٹریہ سہارا' میں گاہے بگاہے ناچیز کے مضامین چھپنے لگے تھے۔ بلکہ بعض مضامین کو 'راشٹریہ سہارا' سے نقل کرکے دیگر اخبارات چھاپ دیا کرتے تھے۔ ایک روز کی بات ہے دیوبند کے کمل دیوبندی کا ایک مراسلہ شائع ہوا، جس میں انھوں نے طلبہ مدارس کی مبلغ علم پرطنز کیا تھا اور طلبہ پر اچھی خاصی تنقید کردی تھی، میں نے وہ مراسلہ مولوی شکیل منصور حسنی کو دکھایا، بس پھر کیا تھا۔ احباب کی رگ حمیت بھڑ ک اٹھی اور مولوی شکیل منصور حسنی کا جذبہ حیدری مشتعل ہوگیا اور آپ  نے قلم اٹھایا، اور جناب کمل دیوبندی کی ایسی خبرلی کہ انھیں چھٹی کا دودھ یاد دلادیا بہت ہی جامع، پر مغز، دلکش اور وقیع مضمون تھا، جس کا مراسلہ نگار نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا، ہم نے بھڑکے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی غلطی کردی وہ مضمون روزنامہ 'راشٹریہ سہارا' کے نصف صفحہ میں شائع ہوا. غالبا صحافت میں موصوف کا یہ پہلاقدم تھا۔ لیکن مضمون سے قارئین کو یہ تصور کرنا مشکل ہورہا تھا کہ مضمون نگار کوچہ صحافت میں ابھی نو وارد ہے بلکہ قارئین کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کوئی کہنہ مشق صحافی اپنے  قلم کے نوک سے ہی مخالف کو اپنی اوقات  یاددلا رہا ہے۔ یا یہ کہ میدان قلم و قرطاس کا کوئی بے باک شہسوار اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوکر مدمقابل کو قلم کی نوک سے ہی موت کی نیند سلانا چاہتا ہے۔ طلبہ اور قلمی دنیا کہ منصف مزاج افراد میں اس مضمون کی کافی پذیرائی ہوئی۔ دراصل اس مضمون میں بہت ہی مدلل طریقے سے یہ بات ثابت کی گئی تھی کہ طلبہ مدارس اپنی تمام تر سادگی و انکساری کے باوجود بلند حوصلے، پختہ عزائم، صالح افکار، پاکیزہ خیالات اور انقلاب آفریں شعورسے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ وہ قوم و ملت کی فلاح و بہبود اور دین حنیف کے تحفظ کے لئے نتیجہ خیز قربانی کے گر سے بخوبی آشنا ہوتے ہیں۔ کیونکہ طلبہ مدارس کی یہ شان ہےکہ، ع؛
تاریخ کا جب بھی رخ بدلا بدلا ہے ہمیں دیوانوں نے
یہ تو مولوی شکیل منصور حسنی کی اردو مضمون نگاری کا تذکرہ چل نکلا۔ مولوی شکیل منصور حسنی کو اردو سے بھی کہیں زیادہ عربی زبان و ادب سے دلچسپی تھی بزم سجاد کی جانب سے آویزاں ہونے والا ماہنامہ "النہضہ" میں وہ لکھتے تھے اور بہت ہی عمدہ لکھتے تھے۔ اس طرح سے عربی کے بہت سے مضامین ان کے پاس جمع ہوگئے تھے. احباب کے مشورے سے بعضے مضامین کو قدرے حذف و ترمیم کے بعد کتابی شکل دے دی گئی اور اسے "نخبةالخطب" کے نام سے ثاقب بک ڈپو دیوبند نے شائع کردیا۔موصوف کی طالبعلمانہ زندگی کی یہ پہلی تصنیف تھی جو منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوئی، جس پر احباب نے انھیں جم کر خراج تحسین پیش کیا۔
دارالعلوم سبیل السلام میں تقرری:
مادرعلمی دارالعلوم دیوبند سے تکمیل افتاء میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنی تمام تر راحتوں کو تج دینے کی "سپت" لینے کے بعد بعد مولوی شکیل منصور حسنی۔ اب مفتی شکیل منصور قاسمی بن چکے تھے۔ انھیں مختلف ارباب مدارس کی جانب سے خدمت تدریس انجام دینے کے لئے پیش کش ہونے لگی تھی۔ کہاں جایا جائے ۔۔۔ کس مدرسے سے وابستہ ہوکر معلمیت کا عظیم الشان اور باوقار فریضہ انجام دیا جائے ۔۔۔کس مدرسے کا ماحول اور وہاں کے اساتذہ کا مزاج و مذاق طبیعت کو راس آئے گی ۔۔۔ کس علاقے کو ترجیح دیاجائے ۔۔۔ مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی انھیں خیالات میں الجھے ہوئے تھے ۔۔۔ ان سے اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا ۔۔۔۔ تخیلات و تصورات کا ایک طویل سلسلہ تھا ۔۔۔ جو دراز ہی ہوتا جارہا تھا ۔۔۔ بالآخر
"جف القلم بماھو کائن"
نے اپنا اثر ظاہر کیا اور استاذ محترم، محدث عصر، قائد ملت حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم العالیہ کا مبارک ایما۔ عظیم مفکر، ملت اسلامیہ کے سچے ہمدرد، سلطان القلم اور صاحب بصیرت عالم دین حضرت مولانا رضوان القاسمی بانی و روح رواں دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد (رحمةالله عليه) کی پاکیزہ چاہت، دارالعلوم وقف دیوبند کے مایہ ناز استاذ حدیث اور بہت ہی دلکش شخصیت حضرت مولانا محمد اسلام صاحب کا مضبوط توسط اور استاذ محترم آفتاب فقہ حضرت مولانا ومفتی ظفیرالدین صاحب، مفتی دارالعلوم دیوبند کی حسین کوشش سے مفتی شکیل منصورصاحب قاسمی ۔۔۔۔ دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد کے "کلیةالشرعيه" کے استاذ مقرر ہوگئے۔ دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد کا روح پرور علمی ماحول نےمفتی شکیل منصور قاسمی کی فطری صلاحیتوں اور دینی جذبوں کے نکھرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا، یہاں رہ کرحضرت مولانا محمد رضوان القاسمی علیہ الرحمہ کے تعلیمی، تدریسی، تربیتی، تحقیقی اور دعوتی تجربات سے انھوں نے جی کھول کر فائدہ اٹھایا۔ حضرت مولانا رضوان القاسمی رحمة اللہ عليہ اپنے علمی و تحقیقی کاموں میں ان پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ یوں زندگی علمی وادبی ماحول میں اپنی منزل طے کرتی رہی۔ اور تقریبا پانچ بہاروں نے ان حسین اور دلکش مناظر سے لطف اٹھایا، مزید یقینا مفید ثابت ہوتا لیکن حضرت حق جل شانہ کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔ مفکر قوم و ملت "سبیل السلام" کے بانی اور شیخ الکل حضرت مولانا رضوان القاسمی کے استقبال کے لئے ان کے ہم نام جنت کے داروغہ نے پوری تیاری کرلی تھی اور حق سبحانہ تعالی کے حکم سے حضرت عزرائیل علیہ السلام پورے طور پر سچ دھج کر "کل نفس ذائقةالموت" کا دعوت نامہ لیکر حاضر ہوگئے اور مولانا خوشی خوشی ہزاروں معتقدوں کو بلکتے اور تڑپتے چھوڑ کر چل دیدیئے۔ مولانا کی وفات کے بعد "سبیل السلام" کی وہ رونق باقی نہیں رہ گئی۔ مدرسہ کا تعلیمی وتربیتی ماحول سے لیکر نظم ونسق تک مولانا کے فراق پر مضمحل نظر آنے لگا۔ پرانے اساتذہ کرام جن کے دم سے دارالعلوم سبیل السلام مدارس کے مابین اپنا خاص معیار قائم کئے ہوئے تھا، مدرسہ میں پیدا شدہ بحرانی کیفیت سے نالاں ہوکر اسے الوداع کہنے پر مجبور ہوئے۔مفتی شکیل منصورصاحب قاسمی بھی اپنے خاص محسن کے فراق کے بعد خود کو "دارالعلوم سبیل السلام" کی چہاردیواری میں بجھے بجھے محسوس کرنے لگے اور ناچار الفراق کا جام لیکر وہاں سےاپنا رخت سفر باندھ لیا۔
جامعہ نظامیہ حیدرآباد سے فضیلت:
مشہور ہے کہ اس کوچھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ جو لوگ حصول علم کی لذت سے آشنا ہیں، ان کے لئے علم کے سمندر میں غواصی سے بڑھ کر کسی چیز میں لطف نہیں ہے۔ ان کی سب سے بڑی چاہت یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علمی بلندی کو سر کرلیں، اسی کی طرف نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب اس فرمان عالیشان  کہ "منہومان لایشبعان طالب العلم  و طالب الدنیا"۔ میں بھی اشارہ ملتا ہے کسی عربی شاعر نے شیدایان علم کے لئے کتنی خوبصورت بات کہی ہے۔
تعلم فإن العلم زين لأهله = و فضل و عنوان لكل المحامد
و كن مستفيدا كل يوم زيادة = من العلم و اسبح في بحار الفوائد۔۔۔
اور کسی دوسرے شاعر کا یہ کلام بھی کیا ہی خوب ہے۔۔
احرص على كل علم تبلغ الكملا =لا تقف عند علم واحد كسلا
فالنحل ناحق من كل فاكهة = إياك بالحق هذا الشمع و العسلا
الشمع فيه ضياء في ضياءته = و الشهد فيه شفاء يشفي العللا
مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی مادرعلمی دارالعلوم دیوبند سے فضیلت و افتاء کی سند نہایت اعلی نمبروں سے حاصل کرنے کے باوجود بھی کسی علمی مواقع کو ضائع ہونے نہیں دیا۔ چنانچہ "دارالعلوم سبیل السلام" کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہونے کے ساتھ ہی حیدرآباد کی قدیم اورمعروف علمی درسگاہ جامعہ نظامیہ سے مربوط ہوگئے اور وہاں سے فضیلت کی تکمیل کی اور اعلی نمبروں سے کامیابی حاصل کرکے  شیخ الجامعہ جناب خلیل احمد صاحب اور شیخ ازہری کے ہاتھوں سند فضیلت اور خلعت سے سرفراز ہوئے۔
اسلامیان ہند کی پہلی پناہ گاہ، کیرلا میں:
محترم مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد سے بہت ہی حسین، خوشگوار اور بعضے نشیب و فراز پر مشتمل یادوں کا پٹارا لئے ہوئے شیخ زماں قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا سید ارشدمدنی دامت برکاتہم العالیہ کے حکم پر جنوبی پند کی ریاست کیرلا جاپہنچے۔ اور ریاست کیرلا کا ضلع کایم کلم میں واقع مشہور دینی مدرسہ حسینہ کے مسند حدیث شریف پر رونق افروز ہوگئے اور ایک سال تک وہاں رہ کر "قال اللہ وقال الرسول" کا وجد آفریں نغمہ گنگناتے رہے۔ پھر وہاں سے کالی کٹ کے جوار میں واقع کیرلا کا مشہور ضلع کنور کا نامی گرامی ادارہ مجمع عین المعارف للدراسات الاسلامیہ میں مولانا انس صاحب  کاشفی کے اصرار پر شیخ الحدیث مقرر ہوگئے اور وہاں ایک سال تک عربی زبان میں کامیاب تدریسی خدمت انجام دیا۔ لیکن بچند وجوہ وہاں کے ماحول اور طرز معاشرت سے مانوس نہ ہوسکے اور ایک ہی سال بعد اپنے وطن لوٹ آئے۔ الحمدللہ، اب محترم مفتی صاحب مدرسے کے تدریسی زندگی اور اس کے رموز سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے، تعلیمی تدریسی اور تربیتی میدان کے رمزشناس میں آپ کا شمار ہونے لگا تھا۔ افراد سازی کے فن میں کافی مہارت حاصل کرچکے تھے۔
فتاوی نویسی کی اہمیت وفضیلت:
روز مرہ کے مسائل سے متعلق سوال کرنے والے کو دلیل شرعی کی روشنی میں حکم خداوندی کے مطابق خبر دینے کو فتوی کہا جاتا ہے۔ فتوی دینا بہت ہی عظیم اور اہمیت و فضیلت کا حامل عمل ہے۔ اس کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی نسبت خالق عز وجل نے خود اپنی جانب کی ہے۔ ارشاد پاک ہے۔
يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة.  (النساء 176)
سید الکونین حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عہد میں بنفس نفیس اس عظیم فریضے کو وحی خداوندی کی روشنی میں انجام دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد آپ کے خلفاء اور صاحب تفقہ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پاکیزہ اور مقدس فریضہ کو کتاب اللہ اور اسوہ نبوی کی روشنی بطریق احسن انجام دیا اور یہ سلسلہ وارثین انبیاء کے توسط سے ہنوز قائم ہے اور ان شآء اللہ تاصبح قیامت جاری رہے گا۔ عصر حاضر میں ایک طرف جدید تکنیک اور سائنسی ارتقاء کی وجہ سے آئے دن نت نئے مسائل سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب دین سے بیزاری اور شریعت سے بے گانگی کا رجحان بھی بہت تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ اور اسلام دشمن عناصر کی جانب سے شریعت حقہ میں تشکیک و ارتیاب کی طرح طرح کی کوششیں ہورہی ہیں، ایسے نازک حالات میں دین حنیف کی صحیح ترجمانی اور باطل پرستوں کی ریشہ دوانی سے اسے محفوظ رکھنے کے لئے ضرورت ہے کہ مسند افتاء و قضاء پر ایسے افراد جلوہ فگن ہوں جو علم شریعت کے رمز آشنا ہونے کے ساتھ صلاح و تقوی کے اعلی مقام پر فائز ہوں، ان کے اندرملت اسلامیہ کی سچی ہمدردی کا جذبہ موجزن ہو، امت کی فلاح و بہبود کا تخیل رگوں میں حرکت کرنے والے خون کی مانند ان کے اندرگردش کررہا ہو، عصر حاضر کے تقاضوں اور مخالفین اسلام کے افکار و نظریات پر ان کی گیہری نگاہ ہو، فقہی جزئیات کے ساتھ ساتھ  نصوص پر بھی انھیں خاصی بصیرت حاصل ہو نیز ملی مسائل کی گتھیوں کو سلجھانے والے اور ملت کے غم میں پگھلنے والے علمی دنیا کے یکتائے روزگار افراد کی صحبت سے انھیں استفادے کا موقع میسر ہوا ہو۔ بحمداللہ مفتی شکیل منصور قاسمی کی شخصیت نے اپنے اندر ان اوصاف کو جمع کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اللہم زد فزد
فتاوى نویسی کی خدمات:
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد محترم مفتی شکیل منصور قاسمی صاحب کی شخصیت کے نکھرنے، ان کی علمی صلاحیتوں کے پروان چڑھنے، اور ان کے دینی جذبے اور قومی و ملی حمیت کے موجزن ہونے کے اسباب مبدء فیاض کی جانب سے فراہم ہوتے رہے اور ان کی شخصیت کندن بنتی رہی۔ انھیں اسباب غیبی اور امر تکوینی میں سے جامع العلوم، اسلامی تعلیمات کے رمز شناس شخصیات اور میدان فقہ و فتاوی کے ماہرین افراد اور مردم ساز نفوس قدسیہ کی پاکیزہ صحبت کا میسر ہونا بھی ہے ۔جس کی وجہ سے مدلل اور مستند فتاوی نویسی کے حوالے سے وہ اپنے معاصرین کے مابین ایک ممتاز مقام پر فائز نظر آتے ہیں۔ اور ہم جیسوں کو تو بسا اوقات، ان کے فتاوے کو پڑھ کر رشک ہونے لگتا ہے۔ اور دل سے یہ دعائیں نکلتی ہیں کہ خدایا۔ ان کا یہ پاکیزہ اور گوہر بار خامہ یونہی سینہ قرطاس پر علم و تحقیق کی مشک باری کرتا رہے اور ہم ان سے اپنے ذہن و دماغ کو معطر کرتے رہیں۔ مفتی صاحب کی فتوی نویسی کی کچھ الگ ہی شان ہے۔ سائل کے جواب دیتے وقت وہ مسئلہ کے تمام پہلو کو سامنے رکھتے ہیں، ہر ہر پہلو سے متعلق فقہائے عظام کے اقوال و آراء مع مستدلات سامنے لے آتے ہیں، پھر راجح اور مفتی بہ قول نقل کرکے اس کے ماخذ یعنی نصوص کو بھی ذکر کردیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے مفتی صاحب کا تحریر کردہ فتوی سائل کے لئے بہمہ وجوہ اطمینان بخش ثابت ہوتا۔ تحریر کی زبان شستہ اور سلیس ہوتی ہے تاکہ ہر کوئی بسہولت سمجھ سکے۔ جوابات کو پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ جواب تحریر کرنے سے قبل وہ جواب سے متعلق مصادر کا بالاستعاب مطالعہ کرکے قلم اٹھاتے ہیں اور  مکمل طور پر شرح صدر کے بعد ہی جواب تحریر کرتے ہیں۔ نیز عقائد سے متعلق جواب تحریر کرتے وقت اہل سنت و الجماعت کی ترجمان جماعت علمائے دیوبند کے نظریات و عقائد کا پورا پورا پاس و لحاظ رکھتے ہیں۔ اس میں کسی طرح سے ذرہ برابر لچک گوارا نہیں کرتے۔ اہل سنت و الجماعت کے نظریات و عقائد کے ساتھ کمال تمسک کے باوجود دوسری جماعت و نظریات کے سر براہ حضرات کے لئے سوقیانہ اور سطحی قسم کے القاب و کلمات کے استعمال سے بہت حد تک گریز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جواب عام طور پر تفصیلی تحریر فرماتے ہیں تاکہ سائل کو کسی طرح کی تشنگی باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی نے نو مولود کے نام رکھنے سے متعلق سوال کیا۔ مفتی صاحب جواب لکھنے لگے تو جو جواب تیار ہوا، وہ نام رکھے جانے کے تعلق سے ایک عمدہ، مدلل اور تشفی بخش ایک مضمون کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ لیجئے، اس مضمون سے آپ  بھی اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرلیجئے:
"نام سے انسان کی صرف شناخت ہی نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس سے ”ذی نام“ کے رخ، رجحان، وجدان، ذہن، فکر، مزاج اور طبیعت کی غمازی اور عکاسی بھی ہوتی ہے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے،
”کل اناء یترشح بما فیہ“
(جس برتن میں جو چیز ہوتی ہے اس سے وہی چیز ٹپکتی ہے)
نام اور شخصیت کے مابین وہی ہم آہنگی، گہرا تعلق اور دائمی وابستگی ہے جو جسم اور روح کے درمیان پائی جاتی ہے۔ ”اگر ایک طرف نام سے ذات کی غمازی ہوتی ہے تو دوسری جانب شخصیت اور ظاہری شکل وصورت سے بھی نام کا اندازہ لگ جاتا ہے۔ (جیساکہ ہم نیچے تحریر کریں گے) اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح جسم کے اچھے اور برے اعمال و حرکات سے روحِ انسانی میں ”ملکیت یا بہیمیت“ پیدا ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح نام کے حسن وعمدگی سے روح میں لطافت و بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ انسانی افکار واعمال کی تعمیر ہوتی ہے اور جذبہٴ عمل کو تقویت ملتی ہے۔ اورنام کے قبح سے روح میں کثافت، انسانی اعمال میں آلودگی اور پراگندگی پیداہوتی ہے۔ حق سبحانہ وتعالیٰ نے ”عبدالعزّی“ کی کنیت ”ابولہب“ رکھی، عاقبت، انجام اور آخرت کے لحاظ سے یہ نام (کنیت) کتنی مسلّمہ حقیقت کی ترجمانی کررہا ہے!
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ”ابوالحکم بن ہشام“ کی کنیت ”ابوجہل“ رکھی، تو اس کی شخصیت پہ یہ کنیت کتنی صادق ثسبت ہوئی، اور اس کے افکار واعمال پر اس لفظ کے کتنے گہرے اور ان مٹ نقوش چھائے رہے! اور اہل علم کے علم میں یقینا یہ ہوگا کہ حق وباطل کی سب سے پہلی فیصلہ کن لڑائی ”غزوہ بدر“ میں مشرکینِ عرب کو نہتے مسلمانوں سے جو شرمناک اور بدترین شکست ہوئی، اس کی منجملہ وجوہ کے ایک اہم اور حقیقی وجہ یہ بھی تھی کہ اُن کی طرف سے جو سب سے پہلے مقابلہ کے لئے میدانِ کارزار میں اترے، ان میں ”ولید“ شیبہ“ اور ”عتبہ“ نامی تین آدمی تھے۔ ولید کے معنی میں کس قدر ضعف و عجز کا پہلو ہے؟ (پیدائش کے وقت بیحد ناتواں اور کمزور بچہ کو کہتے ہیں) اور ”شیبہ“ تو بڑھاپے کی اس حد کو کہتے ہی ہیں جب انسان کے تمام اعضاء ڈھیلے پڑجائیں اور قویٰ معطل ہوجائیں! اور ”عتبہ“ میں جو عتاب وعذاب اور قہر وغضبِ خداوندی کا ”جہانِ معانی“ نہاں ہے، وہ ”جہاں“ میں کسی سے قابل بیان نہیں! غور کیجئے! جن ”برتنوں“ سے ضعف و کمزوری، عجز وناتوانی اور قہر عتاب ”جھلکتے“ ہوں؟ کیا ان سے قوت وجوانمردی، دلیری وبہادری اور فتح ونصرت ”چھلک“ سکتے ہیں؟ ادھر مسلمانوں کی طرف سے جو حضرات ان کے مقابلہ کے لیے آئے تھے ان میں ایک نام ”علی“ کا تھا، جو سراپا ”علو“ سے عبارت تھا، دوسرا نام ”عبیدہ“ کا تھا، جن سے ”عبدیت وبندگی“ ٹپکتی تھی (اللہ کے نزدیک یہ سب سے پیاری صفت ہے، اسی لئے جو نام ”عبد“ سے شروع ہو، وہ اللہ کے یہاں بہت پسندیدہ شمار ہوتا ہے) اور تیسرا نام ”حمزہ“ کا تھا جو اپنے ”جلو“ میں شیر کی صلابت رکھے ہوئے تھا، تو علی کے ”علو“، عبیدہ کی ”عبودیت“ اور حمزہ کی ”قوت صلابت“ نے ان کی شخصیتوں کو ایسا متأثر کیا اور نام کی عمدگی سے ان کے کام پہ ایسا اثر مرتب کیا کہ بے سروسامانی کے عالم میں ایک مسلح اور ہتھیار بند فوج کو صرف چند گھنٹوں میں گاجر مولی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
تاریخِ اسلام کے اس تابناک واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ ”نام“ سے ”کام“ کتنا متأثر ہوتا ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، انسان، حیوان، شہر، آبادی اور مکان غرض کہ ہر چیز میں اچھے ناموں کو پسند فرماتے تھے۔ اور برے ناموں کو سن کر آپ کے دل پر تکدر کی چوٹ لگتی تھی، اور ان تمام چیزوں کے پیچھے یہی غرض مقصود ہوتی تھی کہ اچھے نام پر اچھے
نتائج مرتب ہوں گے، اور برے ناموں پر بُرے۔ چنانچہ روایتوں میں آ یا ہے کہ:
(۱) رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنی دودھاری اونٹنی کے دودھ نکالنے کے لئے چند لوگوں کو بلایا، ایک ”مرّہ“ (کرواہٹ) نامی آدمی اس کے لئے کھڑا ہوا، لیکن چوں کہ اس کے نام سے کسی "شیریں" نتیجہ کا حصول مشکل تھا، اس لئے آپ نے نام سے نتیجہ کا استنباط فرماتے ہوئے اس کو بٹھادیا، دوسرا شخص کھڑا ہوا، اس کا نام بھی حرب (جنگ وجدال) تھا، اس نام سے بھی کسی مثبت
نتیجہ کی امید فضول تھی، اس لیے آپ نے اس کو بھی کہا بیٹھ جاؤ۔ تیسرا شخص کھڑا ہوا، جس کا نام تھا "یعیش“ (زندگی) چوں کہ اس نام سے زندگی اورحیات جیسے امید افزاء معانی سمجھ میں آرہے تھے، اس لئے آپ نے اس کو دوہنے کی اجازت دی۔
(۲) ایک غزوہ سے واپسی پر آپ دو پہاڑوں کے درمیان سے گذررہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں پہاڑوں کے نام دریافت کئے پتہ چلا کہ ایک کا نام ”فاضح“ اور دوسرے کا نام ”مخز“ (ذلیل و رسوا کرنے والا) ہے۔ چوں کہ ان دونوں ہم معنی ناموں سے نامسعود نتیجہ کی عکاسی ہورہی تھی، اس لئے آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ راستہ فوراً بدل دیا۔
(۳) صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں سہیل بن عمرو آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے محض ان کے نام سے استدلال کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ ”ان شآء اللہ مشرکین مکہ کے ساتھ جاری ہماری مصالحتی کوشش بھی ”سہل“ رہے گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا“  (زادالمعاد۲/۴) نام سے کام اور انجام کس قدر متأثر ہوتا ہے! اس کی مزید وضاحت کے لئے موطا امام مالک رحمة الله عليه کی یہ روایت انتہائی ”چشم کشا“ اور
”بصیرت افروز“ ہے۔ حضرت عمر رضى الله تعالى عنه نے ایک شخص کا نام پوچھا، 
اس نے کہا: جمرة (چنگاری)،
باپ کا نام پوچھا تو کہا:
شہاب (بھڑکتی ہوئی آگ)
کہا کہ کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو؟
تو کہا ”حُرقة“ (جلن، سوزش) سے،
کہا گھر کہاں ہے؟
تو کہا: حرة النار (آتشیں محلہ)،
پھر پوچھا کہ، تمہاری رہائش کہاں ہے؟
کہا: ذات لطی (آگ سے دہکتی ہوئی جگہ) جب اس شخص کے تمام ہی ناموں میں ”آتشیں مادہ“ ہی کارفرما تھا، تو حضرت عمر رضى الله تعالى عنه نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھارا گھر 'آتش زنی' سے نہیں بچ سکتا ہے“۔
چنانچہ نام کا اثر ظاہر ہوا، اور وہ شخص جب گھر لوٹا تو دیکھا کہ واقعتا اس کا گھر جل چکا تھا۔ جس طرح نام سے شخصیت بنتی ہے اسی طرح شخصیت سے بھی نام کی ترجمانی ہوتی ہے. دونوں کے درمیان اتنا مستحکم رشتہ ہے کہ ذات وشخصیت سے بھی نام کا پتہ چل جاتا ہے۔ چنانچہ ایاس بن معاویہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ محض شکل وصورت اور عادات واطوار دیکھ کر یہ بتادیتے تھے کہ اس شخص کا نام کیا ہے؟ اور عجیب بات یہ کہ اس میں کبھی غلطی بھی نہیں ہوتی تھی۔ الغرض شخصیت سازی، اور اخلاق واعمال کی تعمیر میں ”نام“ اہم اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لئے معلم اعظم صلى الله عليه وسلم اور امت کو اسرار حیات سمجھانے والے نبی صلى الله عليه وسلم نے اچھے اور پسندیدہ نام رکھنے کی تعلیم فرمائی اور ہمیں اس طرح ”راز حیات“ سمجھاگئے ”تم قیامت میں اپنے اور باپوں کے نام سے پکارے جاؤگے اس لیے تم اپنا نام اچھا رکھا کرو“ یعنی نگاہِ نبوت میں یہ طبعی حقیقت جلوہ گر تھی کہ نام کا اثر کام پر ضروری ہے، تو جب نام اچھا ہوگا تو امتی کے اعمال بھی اچھے ہوں گے اور جب اعمال اور کام سنور جائیں گے تو روزِ قیامت اچھے اوصاف والقاب سے انھیں پکارا جائے گا۔ تحسین اسماء کے سلسلہ میں آپ صلى الله عليه وسلم کی یہ تعلیم محض سرسری نوعیت کی نہیں تھی، اور نہ ہی صرف وعظ وتلقین کی رسمی حدوں تک محدود تھی! بلکہ آپ نے امت کو اپنے متعدد عملی نمونے بھی دئیے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اپنے بہتیرے صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نامناسب نام از خود بدلے ہیں۔ مثلاً حضرت عاصیہ کا نام بدل کر آپ نے جمیلہ رکھا۔ اور حضرت برّہ کا نام بدل کر جویریہ رکھا، حضر اصرم کا نام بدل کر زرعہ، ابوالحکم کا نام بدلکر ابوشریح رکھا۔ اسی طرح آپ نے حضرت عاص، عزیز، عقلہ، شیطان، غراب، حکم، حباب اور شہاب وغیرہ کے نام بھی تبدیل فرمائے تھے۔ اگر انبیاء کرام بنی آدم کے سردار ہیں، ان کے اخلاق سب سے اعلیٰ وافضل ہیں، ان کے اعمال سب سے پاکیزہ، معتبر اور مقبول ہیں تواس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ان کے نام بھی افضل و برتر ہوتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جہاں اپنے ارشاد؛
”تسموا باسماء سلأنبیاء“
(ابوداؤد حدیث نمبر ۴۹۵۰، تم پیغمبروں کے نام پہ اپنا نام رکھو) کے ذریعہ اس کی تعلیم و ترغیب دی ہے تو دوسری طرف اپنے جگرگوشہ اور سب سے چھوٹے فرزند کا نام ”ابراہیم“ رکھ کر امت کے لئے اس مسئلہ کی شرعی نقطئہ نظر بھی اپنے عمل سے واضح فرمادی۔ اسی لیے مشہور اور جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب کی رائے تو یہ ہے کہ پیغمبروں کے نام پہ نام رکھنا سب سے پسندیدہ نام ہے۔ ہر چند کہ جمہور علماء ان سے متفق نہیں ہیں اور ان کی رائے یہی ہے کہ سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے۔ تاہم علماء امت کا اجماعی مسئلہ ہے کہ پیغمبروں کے نام رکھنا نہ صرف جائز بلکہ ”عملِ رسول“ کی وجہ سے افضل اور بہتر بھی ہے، جیساکہ حدیث مذکور میں بصراحت اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ سعید بن مسیب رضى الله تعالى عنه کے اس تفرد کی وجہ میرے خیال سے شاید یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم  نے ان کے دادا ”حزن“ (سخت و سنگلاخ زمین) کا نام بدل کر ”سہل“ (نرم وہموار زمین) رکھا تھا، لیکن انھوں نے اس تبدیلی کو قبول نہیں فرمایا۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میرے پورے خاندان کے لوگوں میں ہمیشہ دادا کے اس نام کا اثر (قساوت قلبی) باقی رہا۔
 "
بسا اوقات جواب علی اسلوب الحکیم قبیل سے ہوتا ہے جس میں سائل کی تحریر سے سائل کے جو احوال مفہوم ہیں۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے اصل جواب سے پہلے۔ الدین النصيحة۔ اور سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے ترغیب و ترہیب اور تذکیر و انذار کے جملے بھی تحریر کرتے چلے جاتے ہیں ۔بطور نمونہ درج ذیل سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں ۔
"سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین درج ذیل مسئلہ میں؛
۔۔1۔۔۔۔ ”الف“ کے تین بیٹے '١' ۔ 'ب' ۔٢۔۔ 'ش'۔۔۔۔٣۔۔ 'ص' ہیں۔ الف نےاپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے متعلق ایک اقرارنامہ تحریر کیا جس پر کچھ گواہان کے ساتھ سبھی فریقوں کے دستخط ہیں، اس اقرارنامہ میں ایک خاص پوائنٹ یہ ہےکہ تمام لوگ اس کو ماننےپر پابندہوں گے۔ کچھ عرصہ بعد باپ [الف] نےاپنے ایک بیٹے 'ص' کے ساتھ مل کر اقرارنامہ کی ایک شق [دفعہ] کی خلاف ورزی کردی جس پر 'ب' اور 'ش' نے اعتراض بھی کیا، اس کے بعد کوئی دوسرا اقرار نامہ تیارنہیں ہوا۔
سوال یہ دریافت کرنا ہے کہ خلاف ورزی کے بعد بھی تمام فریقین اقرارنامہ کو ماننے پر پابند ہوں گے یا یہ کالعدم ماناجاۓگا۔
۔۔۔2۔۔ اقرارنامہ اور ہبہ نامہ میں کیا فرق ہے؟ المستفتی ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔
شاہ گنج جون پور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
وعدہ اور اقرار کرکے اسے پورا کرنا دراصل سچ کی ایک قسم ہے وعدہ اور اقرار کی خلاف ورزی کرنا عملی جھوٹ ہے۔
اس لئے اسلام نے وعدہ خلافی کو ناجائز اور منافق کی علامت قرار دیا ہے؛
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لاََتُمَارِا خَاکَ وَلاََ تُمَازِحْہٗ وَلاََ تَعَدْہُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَہٗ۔
(رواہ الترمذی و قال ہذا حدیث غریب) (شمائل ترمذی)
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کر، اور اس سے مذاق نہ کر، اور اس سے کوئی ایسا وعدہ نہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح ص ۴۱۷، از ترمذی)
جب انسان کسی سے کوئی وعدہ کرے تو وعدہ کرنے سے پہلے اپنے حالات اور اوقات کے اعتبار سے خوب غور کرے کہ یہ وعدہ مجھ سے پورا ہوسکے گا یا نہیں اور اپنی بات کو نباہ سکوں گا یا نہیں، اگر وعدہ پورا کرسکتا ہو تو وعدہ کرے ورنہ معذرت کردے، جھوٹا وعدہ کرنا حرام ہے، جب وعدہ کرلے تو حتی الوسع پوری طرح انجام دینے کی کوشش کرے، بہت سے لوگ ٹالنے کے لیے یا دفع الوقتی کے خیال سے وعدہ کرلیتے ہیں، پھر اس کوپورا نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹا وعدہ سخت گناہ ہے اور وعدہ کرنے کے بعد خلاف ورزی بہت سخت گناہ ہے۔ حضرت انسؓ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ہو اوریہ نہ فرمایا ہو کہ:
لاََاِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہٗ وَلاََدِیْنَ لِمَنْ لاََعَھْدَ لَہٗ۔
(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ۱۵)
’’یعنی اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا کرنے والا نہیں ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں، چاہے روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور اپنے بارے میں یہ سمجھے کہ میں مسلمان ہوں (اس کے بعدآپ نے وہ تینوں نشانیاں ذکر فرمائیں:
(۱) جب بات کرے توجھوٹ بولے۔
(۲) جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے۔
(۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (مشکوٰۃ از بخاری و مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، خالص منافق ہوگا، اورجس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک اس کو چھوڑ نہ دے:
(۱) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
(۳) عہد کرے تو دھوکہ دے۔
(۴) جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری و مسلم)
اقرار نامہ تحریری وعدہ ہے۔
اگر اس تحریری وعدہ (اقرار نامہ ) میں اس طرح کی شرط نہ ہو کہ کسی فریق کی خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ منسوخ سمجھا جائے گا تو الف یا با کی خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ معطل نہیں ہوگا، ہاں اگر اس طرح کی کوئی شق موجود ہو تو پھر خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ منسوخ سمجھا جائے گا؛
لما قال العلامۃ المرغینانیؒ: واذا اقر الحرا لعاقل البالغ بحقٍ لزمہ اقرارہ مجہولاً کان ما اقر بہ او معلوماً۔ (الھدایۃ:ج؍۳،ص؍۲۳۱، کتاب الاقرار)
وقال العلامۃ سلیم رستم باز اللبنانی ؒ: المرأ مؤاخذ باقرارہ۔ (شرح مجلۃ الاحکام، المادۃ:۷۹، ص؍۵۳، المقالۃ الاولٰیٰ)
ومثلہٗ فی جامع الفصولین: ج؍۲،ص؍۴۴، الفصل الثالث والعشرون۔
بالغ، صحیح الحواس اور رضاء ورغبت سے کئے گئے وعدہ کو اقرار کہتے ہیں۔ اگر یہ تحریر میں محفوظ ہوجائے تو اقرارنامہ کہا جائے گا۔
بلا کسی بدل کے کسی کو کچھ (زمین وغیرہ) دے کے قبضہ دلادے تو اسے "ھبہ" کہتے ہیں۔
اگر تحریر میں محفوظ کردیا جائے تو اسے "ہبہ نامہ" کہتے ہیں۔
حین حیات جب کوئی اپنی جائداد وغیرہ فارغ کرکے کسی کے نام کردے اور موہوب لہ کا اس پہ قبضہ ہوجائے تو اب واہب کی ملکیت سے وہ جائداد نکل جاتی ہے۔ اس کے انتقال کی صورت میں اس کے وارثین اس ہبہ شدہ جائداد میں حصہ دار نہیں ہونگے ۔
الهبة تنعقد بالإيجاب والقبول .وتتم بالقبض الكامل. لانها من التبرعات .والتبرع لايتم إلا بالقبض .
شرح المجلہ 462/1 ۔رقم المادہ 837 ۔الباب الاول۔"

مفتی صاحب کا ماننا یہ ہے کہ تقلید علمی ضرورت کے ساتھ شرعی ضرورت بھی ہے۔لیکن تغیر پذیر حالات میں نئے پیش آمدہ مسائل وضروریات کے لئے تخریج و تحقیق، ترجیح وتنقیح، استنباط و استخراج کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ شارع کی نصوص اور فقہاء کے اجتہادات کے درمیان فرق ہونا چاہئے۔ آج کے عہد جمود میں اخذ واستنباط اور اجتہادی مسائل میں توسع کا مزاج ختم ہوتا جارہا ہے۔اجتہادی دروازہ کی بندش کے ساتھ تفقہ بھی مفقود ہوتا جارہا ہے، جو قابل افسوس ہے۔۔
الحمد للہ  مفتی صاحب  کی فقہی تحاریر سے غور وتدبر جھلکتا نہیں، "چھلکتا" ہے۔
مفتی صاحب کی مختلف الجہات شخصیت قابل صد رشک ہے۔ اللہ نے زبان وادب کے صاف ستھرا ذوق  ودیعت کرنے کے ساتھ تحقیقی وتخلیقی صلاحیتوں سے بھی مالا مال فرمایا ہے۔ حدیث اور فقہ وفتاوی پہ بصیرت مندانہ نظر رکھتے ہیں۔ ہند، پاک میں یوں تو جدید مسائل کے حل کی کوشش میں باکمال او ذہین ترین  بیشمار ہستیوں نے  اپنی ذہانتیں صرف کی ہیں۔ اور اس بابت انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ لیکن نوجوان فضلاء دیوبند میں مفتی شکیل منصور القاسمی کا تعصب وجذباتیت سے  پاک متوازن ومعتدل فقہی وتحقیقی ذوق قابل قدر ولائق فخر ورشک ہے۔ فقہی مسائل پہ روایتی اور خشک طرز سے ہٹ کے راست ذخیرہ احادیث سے استدلال کرتے ہوئے خوب سے خوب تر لکھتے ہیں۔ مسئلہ کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑتے۔ درجنوں  قیمتی رسائل ومقالات لکھ چکے ہیں۔ فتاوی کی تعداد تو ہزروں سے متجاوز ہے۔ ترتیب فتاوی کا کام بھی چل رہا ہے۔ ان شآء اللہ بہت جلد ان کی فتاوی بھی منظر عام پر آجائے گی۔ اللہ ان کے گہر بار قلم سے علماء اور عوام سب کو مستفید فرمائے۔ اور وہ دین و شریعت کی اشاعت وحفاظت میں پورے دم خم کے ساتھ سرگرم سفر رہیں۔ تعب وتھکن سے آشنا ہوئے بغیر منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہیں۔
والسلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
ابو اسامہ شمشیر حیدر قاسمی
ارریاوی غفر اللہ لہ الباری
٣  محرم الحرام ١٤٣٩ هجری

Saturday, 23 September 2017

اقرارنامہ کیخلاف ورزی

اقرارنامہ کیخلاف ورزی
ہبہ نامہ کسے کہتے ہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین درج ذیل مسئلہ میں ۔۔1۔۔۔۔ ”الف“ کے تین بیٹے ۔١۔ ”ب“۔۔٢۔۔ ”ش“ ۔۔۔۔٣۔۔ ”ص“ ہیں۔ الف نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے متعلق ایک اقرارنامہ تحریر کیا جس پر کچھ گواہان کے ساتھ سبھی فریقوں کے دستخط ہیں، اس اقرارنامہ میں ایک خاص نکتہ یہ ہےکہ تمام لوگ اس کو ماننے پر پابند ہوں گے۔ کچھ عرصہ بعد باپ [الف] نے اپنے ایک بیٹے”ص“ کے ساتھ مل کر اقرارنامہ کی ایک شق [دفعہ] کی خلاف ورزی کردی جس پر ۔ب۔ اور ۔ش۔ نے اعتراض بھی کیا اس کے بعد کوئی دوسرا اقرار نامہ تیار نہیں ہوا۔ سوال یہ دریافت کرنا ہے کہ خلاف ورزی کے بعد بھی تمام فریقین اقرارنامہ کو ماننے پر پابند ہوں گے یا یہ کالعدم ماناجاۓ گا۔ ۔۔۔2۔۔ اقرارنامہ اور ہبہ نامہ میں کیا فرق ہے؟
المستفتی ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔
شاہ گنج جون پور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
وعدہ اور اقرار کرکے اسے پورا کرنا در اصل سچ کی ایک قسم ہے،
وعدہ اور اقرار کی خلاف ورزی کرنا عملی جھوٹ ہے۔
اس لئے اسلام نے وعدہ خلافی کو ناجائز اور منافق کی علامت قرار دیا ہے؛
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لاََتُمَارِا خَاکَ وَلاََ تُمَازِحْہٗ وَلاََ تَعَدْہُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَہٗ۔
(رواہ الترمذی و قال ہذا حدیث غریب) (شمائل ترمذی)
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کر، اور اس سے مذاق نہ کر، اور اس سے کوئی ایسا وعدہ نہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح ص ۴۱۷، از ترمذی)

جب انسان کسی سے کوئی وعدہ کرے تو وعدہ کرنے سے پہلے اپنے حالات اور اوقات کے اعتبار سے خوب غور کرے کہ یہ وعدہ مجھ سے پورا ہوسکے گا یا نہیں اور اپنی بات کو نباہ سکوں گا یا نہیں، اگر وعدہ پورا کرسکتا ہو تو وعدہ کرے ورنہ معذرت کردے، جھوٹا وعدہ کرنا حرام ہے، جب وعدہ کرلے تو حتی الوسع پوری طرح انجام دینے کی کوشش کرے، بہت سے لوگ ٹالنے کے لئے یا دفع الوقتی کے خیال سے وعدہ کرلیتے ہیں، پھر اس کو پورا نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹا وعدہ سخت گناہ ہے اور
وعدہ کرنے کے بعد خلاف ورزی بہت سخت گناہ ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ فرمایا ہو کہ:
لاََاِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہٗ وَلاََدِیْنَ لِمَنْ لاََعَھْدَ لَہٗ۔
(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ۱۵)
’’یعنی اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا کرنے والا نہیں ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں، چاہے روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور اپنے بارے میں یہ سمجھے کہ میں مسلمان ہوں (اس کے بعدآپ نے وہ تینوں نشانیاں ذکر فرمائیں:
(۱) جب بات کرے توجھوٹ بولے۔
(۲) جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے۔
(۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (مشکوٰۃ از بخاری و مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، خالص منافق ہوگا، اورجس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک اس کو چھوڑ نہ دے:
(۱) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
(۳)عہد کرے تو دھوکہ دے۔
(۴) جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری و مسلم)

اقرار نامہ تحریری وعدہ ہے۔
اگر اس تحریری وعدہ (اقرار نامہ ) میں اس طرح کی شرط نہ ہو کہ کسی فریق کی خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ منسوخ سمجھا جائے گا تو الف یا با کی خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ معطل نہیں ہوگا ۔ہاں اگر اس طرح کی کوئی شق موجود ہو تو پھر خلاف ورزی کرنے سے اقرار نامہ منسوخ سمجھا جائے گا۔

لما قال العلامۃ المرغینانیؒ: واذا اقر الحرا لعاقل البالغ بحقٍ لزمہ اقرارہ مجہولاً کان ما اقر بہ او معلوماً۔ (الھدایۃ:ج؍۳،ص؍۲۳۱، کتاب الاقرار)
وقال العلامۃ سلیم رستم باز اللبنانی ؒ: المرأ مؤاخذ باقرارہ۔ (شرح مجلۃ الاحکام، المادۃ:۷۹، ص؍۵۳، المقالۃ الاولٰیٰ)
ومثلہٗ فی جامع الفصولین:ج؍۲،ص؍۴۴، الفصل الثالث والعشرون۔

بالغ، صحیح الحواس اور رضاء ورغبت سے کئے گئے وعدہ کو اقرار کہتے ہیں۔ اگر یہ تحریر میں محفوظ ہوجائے تو اقرارنامہ کہا جائے گا۔
بلا کسی بدل کے کسی کو کچھ (زمین وغیرہ ) دے کے قبضہ دلادے تو اسے "ھبہ" کہتے ہیں۔
اگر تحریر میں محفوظ کردیا جائے تو اسے "ہبہ نامہ " کہتے ہیں۔
حین حیات جب کوئی اپنی جائداد وغیرہ فارغ کرکے کسی کے نام کردے اور موہوب لہ کا اس پہ قبضہ ہوجائے تو اب واہب کی ملکیت سے وہ جائداد نکل جاتی ہے۔ اس کے انتقال کی صورت میں اس کے وارثین اس ہبہ شدہ جائداد میں حصہ دار نہیں ہونگے ۔
الهبة تنعقد بالإيجاب والقبول .وتتم بالقبض الكامل. لانها من التبرعات .والتبرع لايتم إلا بالقبض .
شرح المجلہ 462/1 ۔رقم المادہ 837 ۔الباب الاول۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

http://video.genfb.com/787040674795372