Monday, 28 September 2020

تراویح میں عورت کا اپنے محرم کے لئے سامع بننا

 تراویح میں عورت کا اپنے محرم کے لئے سامع بننا

سوال: عورت اپنے محرم کے پیچھے (تراویح کی نماز میں) سامع بن سکتی ہے؟

جواب: اگر مرد گھر میں تراویح  کی امامت کرے اور اس کے پیچھے  اس کی محرم خواتین اقتدا کریں اور امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے تو یہ نماز شرعاً درست ہے، اور اگر اس نماز میں دوسرے  کوئی نامحرم مرد شامل نہ ہو اور عورت  غلطی آنے پر اپنے محرم امام کولقمہ  دے دے اور امام لقمہ لے لے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ عورت کو لقمہ دینے سے اس صورت میں بھی اجتناب کرنا چاہیے، غلطی آنے پر بائیں ہاتھ کی  پشت پر دائیں ہاتھ سے مارکر امام کو متوجہ کردینا چاہیے، اور امام غلطی کی اصلاح نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ رکوع کرلے۔

’’فتاوی شامی‘‘ میں ہے:

"تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره، بحر".  (1/ 566، باب الامامۃ، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية: أنه الأشبه. وفي النهر: وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء»، فلايحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهراً؛ لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان، بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل: إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجهاً، ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام  من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبوالعباس القرطبي في كتابه في السماع: ولايظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا: صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولانجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة". (1/ 406)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  (ص: 199):

"قوله: "لأنه عورة" ضعيف، والمعتمد أنه فتنة فلاتفسد برفع صوتها صلاتها".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 285):

"وفي شرح المنية: الأشبه أن صوتها ليس بعورة، وإنما يؤدي إلى الفتنة كما علل به صاحب الهداية وغيره في مسألة التلبية، ولعلهن إنما منعن من رفع الصوت بالتسبيح في الصلاة لهذا المعنى، ولايلزم من حرمة رفع صوتها بحضرة الأجانب أن يكون عورةً".

غمز عيون البصائر – (3 / 383):

"وصوتها عورة في قول. في شرح المنية: الأشبه أن صوتها ليس بعورة وإنما يؤدي إلى الفتنة. وفي النوازل: نغمة المرأة عورة، وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى، ولذا قال عليه الصلاة والسلام: التسبيح للرجال والتصفيق للنساء، فلايجوز أن يسمعها الرجل، كذا في الفتح".  

فقط واللہ اعلم

گھر میں مرد امام کی خواتین کو تراویح پڑھانے سے متعلق مزید صورتوں کی تفصیل کے لئے درج ذیل فتوی کا ملاحظہ فرمائیں:

گھر میں تراویح میں محرم اور نامحرم کے ساتھ جماعت کرنا

فتوی نمبر: 144008200439 - دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 

-----------------

(۱۹۴۵) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا أَنْسَانِیَ الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِیْ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّقِ النِّسَائُ)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۸)

سیدنا جابر بن عبداللہ  رضی ‌اللہ ‌عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں غلطی آنے پر بائیں ہاتھ کی  پشت پر دائیں ہاتھ سے مارکر امام کو متوجہ کردینا چاہئے۔ 

:: (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_13.html



(رجعنا من الجہادالاصغر الی الجہادالاکبر) کیا یہ صحیح ہے؟

سوال: مشہور ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:

(رجعنا من الجہادالاصغر الی الجہادالاکبر)

کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب:

O اولا: سوال میں ذکر کردہ حدیث کےالفاظ، یہ  روایت بالمعنی ہے، اصل الفاظ اس طرح نہیں ہیں۔

O ثانیا: اس باب میں روایات دو طرح کی ہیں: مرفوعہ، مقطوعہ:

مرفوعہ: یعنی الفاظ کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی 

مقطوعہ: یعنی مذکورہ الفاظ کسی تابعی کی طرف خود انہیں  کے الفاظ مانتے ہوئے نسبت کی گئی۔

O ثالثا: مرفوعہ روایت کے راوی صرف حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مذکور ہیں۔

O رابعا: سوال میں جو الفاظ مذکور ہیں، وہ مقطوعہ روایت کے  قریب ہیں، بعینہ پھر بھی نہیں ہیں۔ جبکہ مرفوعہ روایت کے الفاظ بالکل الگ ہیں۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:

۞ مرفوعہ روایت ۞

عن جابر قال: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 

"قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ" . قِيلَ: وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ".

تنبیہ: روایت کے الفاظ اسی طرح ہیں، (جہاد) کا لفظ بلا الف لام کے ہیں، اور(الاصغر۔ الاکبر) صفت ہے، جس کا موصوف محذوف ہے، والتقدیر: (جہاد العدوّ الاصغر۔ جہاد العدوّ الاکبر)۔

التخريج:

یہ حدیث دو اسانید سے کتب حدیث وتاریخ میں وارد ہے، دونوں میں مدار سند (لیث بن ابی سُلیم ) ہیں، پھر ان سے روایت کرنے والے دو راوی ہیں:

۱۔ یحیی بن یعلیٰ بن حرملہ، ابو المحیاۃ  التیمی۔

۲۔ یحیی بن العلاء الرازی البجلی۔

 O پہلے راوی (یحیی بن یعلی ابوالمحیاہ) کےطریق سے یہ روایت مندرجہ ذیل کتابوں میں منقول ہے:

1- "الفوائد المُنتقاة" من مرويات أبي بكر الشافعي، لأبي حفصٍ البصري (الجزء 13 رقم الحديث: 62):

نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَ: نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، قَالَ: نا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ " . قِيلَ : وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ".

2- کتاب "الزهد الكبير" للبيهقي - فصل في ترك الدنيا ومخالفة النفس والهوى (حديث: 373):

أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، حدثنا أحمد بن عُبيد، حدثنا تَمْتَام ، حدثنا عيسى بن إبراهيم ، حدثنا يحيى بن يعلى، عن ليث، عن عطاء، عن جابر قال: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ" . قِيلَ: وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ" .

قال البيهقي: هذا إسناد فيه ضعف اهـ.

O دوسرے راوی (یحیی بن العلاء الرازی البجلی) کےطریق سے مندرجہ ذیل کتابوں میں یہ روایت وارد ہے :

3-  "تاريخ بغداد" للخطيب (ت بشار 15/ 685)

(4590) - أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ حَمْزَةَ فِي سَنَةِ خَمْسِينَ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِبُخَارَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْخَيَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ هَاشِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ، وَقَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ".

4-  "ذم الهوى" لابن الجوزي (ص: 39) بسَنَد الخطيب:

أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ – هو الخطيبُ - قَالَ: أَنْبَأَنَا وَاصِلُ بْنُ حَمْزَةَ الصُّوفِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَهْلٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى عَنِ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ ...الحديث.

۞ مقطوعہ روایت ۞

"قَد جِئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر؟"

یہ حضرت (ابراہیم بن ابی عبلہ) رحمہ اللہ کا قول ہے، جو اُن سے بسند صحیح ثابت ہے ،اور یہ شام کے علاقہ کے رہنے والے مشہور تابعی ہیں، ان کی طرف منسوب روایت مندرجہ ذیل کتابوں میں ہے:

1- النَّسَائِيّ فِي كتاب "الكُنى":- (كما ذكر المِزِّي في "تهذيب الكمال" 2/ 144):

قال النسائي : أخبرني صفوان بن عمرو،أَخْبرنِي أَبُو مَسْعُود مُحَمَّد بن زِيَاد الْمَقْدِسِي، سَمِعت إِبْرَاهِيم بن أبي عَبْلة يَقُول لِأُنَاسٍ جَاءُوا من الْغَزْو : قد جئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر ؟ قَالُوا: يَا أَبَا إِسْمَاعِيل وَمَا الْجِهَاد الْأَكْبَر ؟ قَالَ :جِهَادُ الْقلب . انْتَهَى

2- تاريخ دمشق لابن عساكر (6/438) من طريق النسائي:

قرأت على أبي الفضل بن ناصر، عن أبي الفضل جعفر بن يحيى التميمي، أنا أبونصر الوائلي، نا الخَصيب بن عبد الله بن محمد، أخبرني أبو موسى عبد الكريم بن أحمد بن شعيب، أخبرني أبي أبوعبدالرحمن – هو النسائي - أخبرني صفوان بن عمرو، نا محمد بن زياد أبو مسعود من أهل بيت المقدس ، قال : سمعت إبراهيم بن أبي عَبلة وهو يقول لمن جاء من الغزو ...الحديث

مقطوعہ روایت صحیح السند ہے، صفوان بن عمروثقہ لاباس بہ (تاریخ الاسلام6/98)۔محمد بن زیادالمقدسی،قال أبو حاتم: صالح (الجرح والتعدیل 7/258)۔ وابن ابی عبلہ تابعی ثقہ (سیراعلام النبلاء 6/323)۔

* مرفوعہ روایت کی حیثیت *

* پہلا طریق بروایتِ یحیی بن یعلی:

اس میں صرف ایک راوی ضعیف ہے، اور وہ ہے (لیث بن ابی سُلیم)، جس کے بارے میں نقاد حدیث کے اقوال مختلف ہیں ، لیکن اکثراُن کے ضعفِ حفظ کے  قائل ہیں، مگر کسی نے ان پر وضع حدیث کی تہمت نہیں لگائی ہے، بلکہ مسلم نے (صحیح برقم 2066 ) میں بطورِمتابعت ان کی روایت کی تخریج کی ہے، اور بعض علماء ان کی مرویات کی تحسین کے بھی قائل ہیں ، جیساکہ ذہبی نے (سیرالاعلام 6/184 ) میں کہا: بَعْضُ الأَئِمَّةِ يُحَسِّنُ لِلَّيْثِ، وَلاَ يَبلُغُ حَدِيْثُه مَرتَبَةَ الحَسَنِ، بَلْ عِدَادُه فِي مَرتَبَةِ الضَّعِيْفِ المُقَارَبِ، فَيُرْوَى فِي الشَّوَاهِدِ وَالاعْتِبَارِ، وَفِي الرَّغَائِبِ وَالفَضَائِلِ، أَمَّا فِي الوَاجِبَاتِ، فَلاَ ۔

یعنی بعض ائمۂ حدیث لیث کی روایت کو حسن بتاتے ہیں ، لیکن اس کی روایت اس مرتبہ کی نہیں ہے، بلکہ ایسی ضعیف ہےجو حسن کے قریب ہوتی ہے، لہذا شواہد میں ، فضائل اور ترغیبات میں اس سے استدلال کی گنجائش ہے، ہاں واجبات اور احکام میں نہیں۔

لیکن زیرِبحث روایت میں (لیث بن ابی سلیم ) پر اسانید دائر ہیں ،یعنی روایت میں ان کا تفرد ہے، اور  کسی راوی نے ان کی متابعت بھی نہیں کی، اگرچہ بعض روایات متنِ حدیث کے لئےشواہد بن سکتے ہیں، جن سے حدیث کے مفہوم کی صحت معلوم ہوتی ہے، لیکن کوئی بات مفہوم کے اعتبار سےچاہے صحیح ہو، تب بھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کے لئے معتبر سند کا ہونا ضروری ہے۔

* سندِحدیث کے بقیہ رجال ِسند سب معتبر موثوق بہم ہیں:

علي بن احمد بن عبدان: شيخ البيهقي، ثقة (تاریخ بغداد13/232) وأخطأ من زعم أنه ضعيف۔

 احمد بن عُبيدالصفار: كَانَ ثِقَةً ثَبْتاً (سیراعلام النبلاء13/439) ۔

 محمد بن غالب تمتام: كَانَ ثقة حافظًا (تاریخ الاسلام6/819) ۔

عيسى بن ابراهيم البرکی: صدوق، لا بأس به (تہذیب الکمال 22/581 ) ۔وقول الحافظ فی التقریب :صدوق ربما وھم، تسامح منہ ، قلد فیہ صاحب الکمال،کما وضحہ فی (تحریر التقریب 3/136)۔

يحيى بن يعلی ابو المحیاۃ: وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ  (تاریخ الاسلام 4/775)۔

عطاءبن ابی رباح: تابعي ثقة مشهور۔

* دوسرا طریق بروایتِ یحیی بن العلاء:

 اس میں (لیث کے علاوہ) کئی رجالِ سند میں کلام ہے:

۱۔ خلف بن محمد الخيام البخاري: ضعيف جداً رَوى متونا لا تُعرف (لسان المیزان 3/372) ۔

۲۔ عیسی بن موسی (لعلہ غُنجار)  : يروي عَنِ المجاهيل والكذابين أشياء كثيرة حتى غَلب على حديثه المناكيرُ لكثرة روايته عَنِ الضعفاء والمتروكين (تہذیب الکمال23/39) ۔

۳۔ الحسن بن ھاشم : مجهول۔

۴۔ یحیی بن العلاء الرازی : متَّهم بالکذب والوضع (میزان الاعتدال4/397)۔

تو یہ روایت واہی، ضعیف جدا ہے۔

 *رجالِ سند کے متعلق چند اشکالات مع جوابات *

O پہلا اشکال: سندمیں یحیی بن یعلی ہے (جیساکہ بیہقی کی سند میں ہے) کہ یحیی بن العلاء (جیساکہ خطیب کی سند میں) ہے؟

* البانی نے الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460) میں یہ اشکال کیا ہے، قال:

ويحيى بن أبي العلاء لعله يحيى بن العلاء الكذاب، ولكن يغلب على الظن أنه يحيى بن يعلى المذكور في سند أبي بكر الشافعي والبيهقي، تحرف اسمُ أبيه على ناسخ " التاريخ "، فإنه المذكور في الرواة عن ليث. ويؤيده أن السيوطي أورد الحديث في " الدرر " (ص 170) من رواية الخطيب متعقّبا به على الحافظ ابن حجر جَزْمَه بأن الحديث من قول إبراهيم بن أبي عبلة، فلوكان في سند الخطيبِ الوضاعُ المذكورُ؛ لما تعقّب به السيوطي إن شاء الله تعالى.

البانی کا کہنا ہے کہ: خطیب کی سند میں یحیی بن العلاء جو ہے، شاید (تاریخ بغداد) کے ناسخ سے اس کے نام کی کتابت میں تسامح ہوا ہوگا، اور صحیح (یحیی بن یعلی ) ہوگا، جیساکہ بیہقی اور ابوبکر شافعی کی سند میں ہے۔

البانی نے اپنی بات کی تایید میں دو دلیلیں پیش کیں:

ایک یہ کہ: لیث بن ابی سلیم سے روایت کرنے والوں میں یحیی بن یعلی کا نام مذکور ہے (تہذیب الکمال) میں ،نہ کہ ابن العلاء۔

دوسری دلیل: سیوطی نے (الدررالمنتثرہ) میں حافظ ابن حجر کےوثوق سے یہ کہناکہ :یہ حدیث ابراہیم بن ابی عبلہ ہی کا قول ہے، اُن پر استدراک کرتے ہوئے خطیب کی مرفوع روایت پیش کی ہے، اگر سیوطی کے نزدیک خطیب کی سند میں (ابن العلاءکذاب) ہوتا، تو ابن حجر پراستدراک درست نہیں ہوتا۔

مگر البانی کی دونوں دلیلیں درست نہیں ہیں، لیث سے روایت کرنے والوں میں (تہذیب الکمال) میں اگرچہ (یحیی بن العلاء) مذکور نہیں ہے، لیکن اس کی لیث سے روایت (معجم طبرانی کبیر8/ 121حدیث نمبر7555) میں ہے۔

دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ: سیوطی تصحیح کے باب میں متساہل ہیں ، اور مناوی نے (الفتح السماوی(2/ 514) میں سیوطی سے نقل کیا ہے: لَا أعرفهُ مَرْفُوعا (یعنی خطیب والی روایت کا اعتبارنہیں)۔

* ایک دوسرے باحث (شیخ محمد زیاد التکلہ) نے اپنی کتاب "الدرة اليتيمة في تخريج أحاديث التحفة الكريمة في بيان كثير من الأحاديث الموضوعة والسقيمة ص 65" میں البانی کے برعکس اشکال پیش کیا ہے، فرماتے ہیں:

ويحيى بن العلاء رُمي بالوضع، فأخشى أن تكون الرواية الأولى تصحَّفت عن الثانية، فانقلب اسمُ الراوي من يحيى بن العلاء الكذاب، إلى يحيى بن يعلى، إذ لو كان المتنُ محفوظا عن ليثٍ لكان رُوي وعُرف، واشتَهَر الكلامُ عليه مبكّرا، وما حَكم عليه بعضُ الحفاظ بأنه لا أصلَ له.

یہ اشکال بھی معتبر نہیں ہے، چونکہ یحیی بن یعلی کی لیث بن ابی سلیم سےروایت معروف ومشہور ہے، سنن ترمذی (2800) میں لیث سے ایک روایت وارد ہے، قال الترمذی: (وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ يَعْلَى) اسی طرح ابن ابی شیبہ ،مسند بزار ،معجم طبرانی میں بھی دوسری روایات ہیں۔

ایک اور بات ہے کہ: بیہقی کی سند میں (یحیی بن یعلی) سے ماقبل  جتنے رواۃ ہیں، سب ائمہ حفاظ ہیں، ان سے راوی کے نام میں وہم واقع ہونا بعید ہے، جبکہ خطیب بغدادی کی سند میں کمزور ہیں، تو وہاں وہم وغلط واقع ہونا ممکن ہے۔ یعنی شیخ محمد زیاد کے مقابلہ میں البانی کا اشکال معقول ہوسکتا ہے۔

O دوسرا اشکال:  یحیی بن یعلی کون ہے، اسلمی یا تیمی؟

* قال الالبانی في الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460 ): ويحيى بن يعلى؛ الظاهر أنه الأسلمي، وهو ضعيف أيضا۔

یہ بھی البانی کی مجرد تخمین ہے، ظاہر یہی ہے کہ اسلمی نہیں ہے ، اور اسلمی کی روایت لیث سے معروف بھی نہیں ہے ۔خطیب بغدادی نے (المتفق والمفترق 3/2069) میں دونوں کے درمیاں تفریق کرتے ہوئے یحیی تیمی کے شیوخ میں (لیث بن ابی سلیم) کا نام ذکر کیا، اور پھر ایک روایت لیث ہی کے واسطے سے پیش کی ، جبکہ اسلمی کے مشایخ میں (لیث) کا ذکر نہیں کیا۔

* حافظ ابن حجر کے کلام  میں بھی اشکال ہے، حیث قال فی (تخريج أحاديث الكشاف ص 114): هُوَ من رِوَايَة عِيسَى بن إِبْرَاهِيم عَن يَحْيَى بن يعْلى عَن لَيْث بن أبي سليم، وَالثَّلَاثَةُ ضعفاء.

حافظ ابن حجر نے تینوں کو ضعیف بتایا ہے، شاید حافظ نے بھی یحیی بن یعلی کو اسلمی سمجھا، جس کا جواب گذرچکا۔ اور عیسی بن ابراہیم کو قرشی ھاشمی قرار دیا، جو ضعیف ہے (میزان الاعتدال 3/308)۔ جبکہ یہاں عیسی بن ابراہیم برکی ہے، جیساکہ ابوبکر شافعی کے فوائد کی سند میں مصرح بہ ہے، مزید بر آں ان کے شاگرد یہاں (محمد غالب تمتام) عیسی برکی ہی سے روایت کرتے ہیں (تہذیب الکمال 22/581)۔

O تیسرا اشکال: یحیی بن العلاء ہے، یا ابن ابی العلاء؟

یحیی بن ابی العلاء ( تاریخ بغداد) کے قدیم نسخے میں ہے (13/498) ۔  بشار عواد کے محقق نسخے میں (15/685) یحیی بن العلاء علی الصواب ہے، اسی طرح ابن الجوزی کی(ذم الہوی ص39) میں بطریق الخطیب: ابن العلاء ہی ہے، کما مر۔

* مرفوعہ روایت کے بارے میں نقاد ِحدیث کا موقف *

ایک ضروری بات اس سلسلہ میں عرض کروں گا کہ: اس طرح کی احادیث جو مرفوع موقوف مروی ہوں، اور اسانید کے مراتب بھی مختلف ہوں (صحیح ،ضعیف، موضوع) تو نقادِ حدیث کے اقوال واحکام نقل کرنے میں احتیاط ضروری ہے ، اصل کلام دیکھے بغیر نقل کرنے میں حدیث پر حکم لگانے میں غلطی ہونے کے امکانات ہیں ۔

زیرِبحث حدیث کے بارے میں بھی بعض باحثین نے متقدمین ومتاخرین کے حوالے سے متناقض اقوال نقل کئے :(فیہ ضعف،ضعیف، غریب، منکر، لا اعرفہ مرفوعا، لا اصل لہ )جن کے نقل کرنے کے بعد حدیث کا مرتبہ معلوم کرنا دشوار ہے۔

لہذا صحیح یہ ہے کہ ہر ناقد کا اصل کلام دیکھا جائے کہ وہ کونسی روایت ، کونسی سند پر کلام کر رہا ہے۔ اسی نکتہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے ذیل میں نقادِ حدیث کی آراء کو پیش کرنے کی سعی کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

* اولا: بیہقی کی سند بخصوصہ:

1- قال البيهقي في الزهد الكبير(حديث: 373): هذا إسناد فيه ضعف.

۲- قال ابن حجر العسقلاني في (تخريج أحاديث الكشاف ص 114 ) وكما في الفتح السماوي (2/ 851): هُوَ من رِوَايَة عِيسَى بن إِبْرَاهِيم عَن يَحْيَى بن يعْلى عَن لَيْث بن أبي سليم، وَالثَّلَاثَة ضعفاء.

۳- قال الألباني في الضعيفة (5/ 478 برقم 2460): قلت: وهذا سند ضعيف، ليث هو ابن أبي سليم، وهو ضعيف لاختلاطه، ويحيى بن يعلى؛ الظاهر أنه الأسلمي، وهو ضعيف أيضا، وبقية رجاله ثقات.

قلت: عيسى بن إبراهيم هو البِركي، وقد قال فيه الحافظ في "التقريب": "صدوق ربما وهم"، فإطلاقه الضعفَ عليه - كما سبق - ليس بجيد.

ويحيى بن أبي العلاء لعله يحيى بن العلاء الكذاب، ولكن يغلب على الظن أنه يحيى بن يعلى المذكور في سند أبي بكر الشافعي والبيهقي، تحرف اسم أبيه على ناسخ " التاريخ "، فإنه المذكور في الرواة عن ليث. ويؤيده أن السيوطي أورد الحديث في " الدرر " (ص 170) من رواية الخطيب متعقبا به على الحافظ ابن حجر جزمه بأن الحديث من قول إبراهيم بن أبي عبلة، فلوكان في سند الخطيب الوضاع المذكور؛ لما تعقب به السيوطي إن شاء الله تعالى.انتهى باختصار

* ثانیا: خطیب بغدادی کی سند بخصوصہ:

1- قال خلدون الأحدب في (تخریج زوائد تاريخ بغداد 9/310) : إسناده تالف ۔

1- قال محمد بن عمرو بن عبد اللطيف في (تبييض الصحيفة۔ القسم الاول: ص 76ـ 78) عن رواية الخطيب: إسناده واه جدا ۔

 *  ثالثا: حدیث مرفوع کے بارے میں مطلق اقوال:

(رجعنا من الجہاد الاصغر)

کے الفاظ کے بارے میں نقاد حدیث کا موقف

* ابوالمظفر السمعانی فی التفسير (3/458): وَفِي بعض الغرائب من الْأَخْبَار: أَن النَّبِي لما رَجَعَ من غَزْوَة تَبُوك قَالَ: " رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر"۔

* الزيلعی فی تخريج أحاديث الكشاف (2/ 395): عَن النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ أَنه رَجَعَ من بعض غَزَوَاته فَقَالَ (رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر) قلت: غَرِيب جدا ۔

* ابن تيميہ فی الفرقان بين اولياء الرحمن واولياء الشيطان (ص: 56) وفی " مجموع الفتاوی" (11/ 197): "لا أصل له، ولم يروه أحد من أهل المعرفة بأقوال النبي صلى الله عليه وسلم وأفعاله"۔

* ابن حجر العسقلانی فی تسديد القوس كما في الدرر المنتثرة فی الأحاديث المشتهرة (ص: 125):

245 - (حديث) "رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ، قَالُوا وَمَا الْجِهَادُ الأَكْبَرُ؟ قَالَ جِهَادُ الْقَلْب" قال الحافظ بن حجر في تسديد القوس: هو مشهور عَلَى الألسنة، وهو من كلام إبراهيم بن أبي عبلة في الكنى للنسائي ،انتهى.

* السيوطی كما فی الفتح السماوی  (2/ 514) :

393 - قَوْله: وَعَلِيهِ قَوْله عَلَيْهِ السَّلَام: رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر.

قَالَ السُّيُوطِيّ لَا أعرفهُ مَرْفُوعا، وَأَقُول(المناوي): هَذَا عَجِيب مِنْهُ مَعَ سَعَة نظره، فقد أخرجه الديلمي فِي مُسْند الفردوس والخطيب الْبَغْدَادِيّ فِي تَارِيخه من حَدِيث جَابر مَرْفُوعا بِلَفْظ: (قدمتم من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر: جِهَاد النَّفس وهواها)۔

* الألبانی فی الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460 ): "رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر". منكر۔

* محمد بن عمرو بن عبداللطيف فی (تبييض الصحيفہ باصول الاحاديث الضعيفہ ص 76 رقم الحديث 25 ): ضعيف بغير هذا اللفظ ، ولكن هكذا اشتهر على الألسنة ، ولم أقف عليه به مرفوعا أو موقوفا .

(قدمتم من الجہادالاصغر)

کے الفاظ کے بارے میں نقاد حدیث کا موقف

* ابن رجب فی  جامع العلوم والحكم تحقیق ماهر الفحل (2/ 583) :

وقال إبراهيم بن أبي عبلة  لقوم جاءوا من الغزو: قد جئتُم من الجهاد الأصغر، فما فعلتم في الجهاد الأكبر؟ قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: جهادُ القلب. ويُروى هذا مرفوعاً من حديث جابر بإسناد ضعيف، ولفظه: ((قدمتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر)) قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: ((مجاهدةُ العبدِ لهواه)) .

* ابن حجر المكی فی الفتح المبين بشرح الاربعين (ص : 379) : وجاء في حديثٍ ضعيفٍ: "قدمتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر" قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: "مجاهدة العبد لهواه" .

O  تحسین حدیث کے قائلین:

۱۔شیخ احمد بن صدیق غماری نے اس حدیث کی تخریج وتحسین پر ایک رسالہ تحریر کیا ہے بعنوان (تحسين الخبر الوارد فی الجهاد الاكبر)۔ وقال فی (المداوی لعلل الجامع الصغير وشرحی المناوی (4/ 622) : والحديث له شواهد كثيرة يمكن جمعها في جزء مفرد، ولنا عزم على ذلك إن شاء اللَّه تعالى، وأعان عليه.

۲۔  ملتقی اہل الحدیث پر ایک اور باحث کی رائے، قال:

إن الحديث حسنُ الإسناد ، فيه ضعفٌ يمكن تجاوزُه والغضّ عنه، وعلى الأخص إذا كان له شواهدُ يرتقي بها معناه جاءت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجاهدة النفس ومخالفة الهوى، وهي كثيرة لا تحصى، نذكر منها:

حديث فَضالة بن عبيد قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ...

وفي رواية الطبراني والحاكم من حديث فضالة أيضاً: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في حجة الوداع : ثم ألا أخبركم بالمؤمن ؟ من أمِنه الناسُ على أموالهم وأنفسهم، والمسلمُ من سلم المسلمون من لسانه ويده ، والمجاهِد من جاهد نفسَه في طاعة الله.

وعن حَنان بن خارجة قال: قلت لعبد الله بن عمرو بن العاص: كيف تقول بالجهاد والغزو؟ قال: ابدأ بنفسك فجاهدها ، وابدأ بنفسك فاغزُها، فإنك ان قُتلت فارا بعثك الله فارا ، وان قُتلت مرائيا بعثك الله مرائيا ، وان قُتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا. رواه ابن أبي الدنيا في (مُحاسبة النفس /97/) انتهى كلامه ۔

خلاصۃ الحکم علی حدیث 

(رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر) 

* یہ حدیث مذکورہ الفاظ سے وارد نہیں ہے، نہ مرفوعا، نہ موقوفا ومقطوعا۔

مرفوع کے الفاظ ہیں: (قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ)

مقطوع کے الفاظ ہیں: (قَد جِئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر؟)

تو ثابت ہوا کہ (رجعنا من الجہاد ...الخ) روایت بالمعنی ہے، اس میں اکثر بیان کرنے والے پوری روایت بیان نہیں کرتے۔    

كتبه محمد طلحة بلال أحمد منيار، عفا عنه الرحيم الغفار

(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_52.html





مسلمان اور تبلیغِ دین سے دوری

مسلمان اور تبلیغِ دین سے دوری

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

معلوم نہیں مسلمانوں کے باشعور طبقہ کو بھی اس بات کا احساس ہے یا نہیں کہ سرزمین ہند میں ان کے خیموں کی طنابیں آہستہ آہستہ اکھڑتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا خیمہ جسے قلعہ کہنا چاہئے دینی مدارس تھے. اب ان کے بند ہونے کی خبریں آرہی ہیں، یہ اسلامی قلعے آہستہ آہستہ زمیں بوس ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک بڑا خیمہ مسلم پرسنل لابورڈ تھا، کئی سال سے نہ اس کا سالانہ جلسہ ہوا ہے نہ کوئی نیا انتخاب نہ اس کی کارگذاری نہ کوئی نقل وحرکت نہ کوئی بیان نہ کوئی اعلان، کچھ اپنی غلط اندیشی کچھ حکومت کی دشمنی کی وجہ سے چاروں خانے چت۔ حالات کا دباو اتنا سخت ہے کہ نہ کہیں فکر امروز ہے نہ اندیشہ فردا کا سراغ ہے۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی اصلاحی اور تربیتی جماعت تھی، اب نظام الدین میں اس کا دروازہ مقفل اورسارا کام معطل ہوچکا ہے، وہاں سے اب نہ کوئی جماعت جاتی ہے نہ وہاں آتی ہے، جو جماعتیں آئی تھیں ان پر عدالتوں میں مقدمات درج ہیں، حکومت نے جو چارج شیٹ داخل کی ہے اور تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد سے حکومت نے جو منقمانہ سوالات کئے ہیں ویسے سوالات آج تک کسی تنظیم سے نہیں کئے گئے ان سوالات کا جواب آسان نہیں یعنی اب برسوں تک جماعت کے ذمہ دار کو الجھا کر رکھنا ہے اور تبلیغی سرگرمیوں کولا محدود مدت تک بندر کھنا ہے، نظام الدین کی تبلیغی جماعت کی جو متوازی تبلیغی تنظیم ہے جسے شوری گروپ کہا جاتا ہے اس نے بھی خود کوحالات کی وجہ سے تقریبا لاک ڈاون کرلیا ہے۔ دار المصنفین بہت اہم علمی اور تصنیفی ادارہ ہے اس کا سفینہ گرداب میں ہے، ندوہ اور دیوبند کے بارے میں نہ جانے کب کیا خبر آجائے ،مسلمانوں کے سارے ادارے موت اور زیست کی کشمکش سے دوچار ہیں،خوف کا یہ عالم ہے کہ محض استمالت کے لئے اورمحض اظہار وفاداری کے لئے ایک شہر میں عیدین کے امام کے ایک مدرسہ میں مسٹر مودی کے خم ابرو کودیکھ کراور نگاہ خشمگیں سے ڈرکر اور خاطرداری اور خوشنودی کے لئے تھالیاں بجائی گئیں اور دیپک جلائے گئے اور حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کے لئے جلسہ کا انعقاد ہوا، اب امت کا سفینہ موج حوادث کی زد میں ہے، خزاں نے مسلمانوںکے ایک ایک چمن پر چھاپہ مارا ہے، خوف ہے کہ مسلمانوں کی دینی تعلیمی ادارے یادگا رونق محفل بن کر رہ جائیں گے جن کا ذکرآئندہ تاریخ کی کتابوں میں ہوگا اور مسلمانوں کی تہذیبی آثار کو دیکھ کر غم وحسرت کے ساتھ، دیدہ گریاں کے سا تھ کوئی شخص اقبال کا یہ شعر پڑھے گا

آگ بجھی ہوی ادھر ٹوٹی ہوئی طناب ادھر

نہ جانے اس مقام سے گذرے ہیںکتنے کارواں

ایسا لگتا ہے مسلمانوں میں نہ کوئی مفکر ہے نہ دانشور، نہ کوئی منصوبہ سازقائد، نہ حالات کا تجزیہ نگار مبصر، اور نہ قرآن وحدیث اور تاریخ کی روشنی میں رہنمائی کرنے والا کوئی عالم دین۔ البتہ اب بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنی قامت کی درازی ثابت کرنے کے لئے اپنے نام کے ساتھ القاب کا طرہ پرپیچ وخم لگاتے ہیں، صورت حال یہ ہے کہ دہلی میں سڑکوں کا نام تک بدلا جارہا ہے شہروں کے نام جن سے اسلامیت کی خو اور بو آتی تھی منسوخ کئے جارہے ہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ اورمسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا تاریخی اور اسلامی کردار بھی اب اس دھوپ کی طرح ہے جو آفتاب کے ساتھ جاتی ہے۔ بابری مسجد جس پر اب دیدہ خونابہ بار کے آنسو کبھی نہیں رکیں گے تاریخ کے اوراق کے حوالہ ہے، چار مینار کے شہر میں ایک مینار نما شخصیت ہے مگر وہ کب تک اور اس کی درازیاں کب تک ۔درسگاہ جہاد وشہادت کا ایک تناور درخت تھا جو آخری دم تک تیزوتند ہواوںکا مقابلہ کرتا رہا آخر کار وہ بھی پیوند زمیں ہوگیا، اس کا بیٹا ناصر بن نصیرصید زبوں ہے، اسیر زنداں ہے، جو باپ کے جنازہ میں بھی شریک نہیں ہوسکا۔ عہد حاضر کے سب سے بڑے محدث بلکہ امیر المومنین فی الحدیث مولانا محمد یونس جونپوریؒ کہا کرتے تھے: ’’اس وقت ہندوستان میں مسلمان مکی دور سے زیادہ سخت حالات سے گذر رہے ہیں وہاں مکہ والوں کے پاس حکومت نہیں تھی فوج نہیں تھی، بس قبائل تھے جواپنے بل بوتے پر مخالفت کرتے تھے، یہاں پوری حکومت ہے فوج ہے، سازشیں ہیں منصوبے ہیں، اس لئے بہت احتیاط سے رہنے کی ضرورت ہے.‘‘ (شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری مرتبہ محمود حسن حسنی ندوی ص ۳۰۵) موجودہ ہندوستان کے بارے میں اقبال کا شعر صادق آتا ہے

دیو استبداد ہے جمہوری قبا میں پایہ کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

واقعہ ہے کہ یہاں گجرات اور دیگر فسادات میں مسلمانوں پر جو گذری وہ مکی زندگی کے مصائب سے زیادہ ہے ۔وہ ہندوستان جس کے چپہ چپہ پر مسلمانوں کی تہذیب وتمدن کی نشانیاں ہیں اس کو ہندو استھان بنا یا جارہا ہے جب مسلمانوں کی عزت اور عظمت کی تمام نشانیاں اس ملک میں مٹادی جائیں گی اور صرف کھنڈرات باقی رہ جائیں گے اور اسپین کی تاریخ دہرائی جائے گی تومستقبل کے سیاحوں کے لئے جو گائیڈ ہوگا وہ تاریخ کا حوالہ دے کر کہے گا

چمن میں تخت پر جس دم شہ گل کا تجمل تھا

ہزاروں بلبلیں تھیں باغ میں اک شور تھا غل تھا

کھلی جب آنکھ نرگس کی نہ تھا جز خار کچھ باقی

سناتا باغباں رورو یہاں غنچہ یہاں گل تھا

مستقبل کی منصوبہ بندی ضروری ہے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو سمجھیں، اگر ہم اپنی غلطیوں کونہیں جانیں گے توصحیح منصوبہ بندی نہیں کرسکیں گے۔ ہمارے قائدین نے غلطی کو نہیں سمجھا۔ غلطی کو چند لفظوں میں بیان کریں تو ہم کہیں گے کہ اسلام جو ایک دعوتی مشن تھا. اس کی گاڑی پٹری سے اترگئی ہے یہاں کوئی شخص پوچھ سکتا ہے گذشتہ صدیوں میں آخرجو اسلامی خدمات انجام دی گئیں وہ آخرکیا تھیں، ان کا تعلق دعوتی مشن سے کیا نہیں تھا۔ ذیل کی چند سطروں میں علماء دین کی ان خدمات کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہماری تاریخ کا جلی عنوان ہیں۔

بلاشبہ ہندوستان مسلمانوں کی دعوتی تجدیدی اور اصلاحی کوششوں کا مرکز رہا ہے ہندوستان کی اسلامی تایخ کے ابتدائی دور میں کاروان اہل دل نے اسلام کی اشاعت کا کام کیا اور ہزاروں اورلاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوے مسلم سلاطین کی سرپرستی میں یہ ملک مسلمانوں کے لئے گلشن بے خار بن گیا۔ یہ داستان فصل گل راقم سطور نے اپنی کتاب ’’دعوت اسلام، اقوام عالم اور برادران وطن کے درمیان‘‘ میں بڑی خوش دلی اور فرحت وانبساط کے ساتھ بیان کی ہے۔ ہندوستان میں مشائخ روحانی اور علماء ربانی کے ذریعہ اور ان سے پہلے مسلمان تاجروں کے ذریعہ یہ کام انجام پایا۔ ایک عرصہ کے بعد علماء دین نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے قدیم مذاہب اور تہذیبوں کے خیالات وعادات بھی مسلمانوں پر اثر انداز ہورہے ہیں اس لئے دعوتی اور تبلیغی کام کا رخ حفاظت دین اور تطہیرعقائد، ردبدعات واصلاح رسوم کی طرف مڑگیا۔ یعنی اب دفاعی نوعیت کے کام کی طرف مسلمان علماء متوجہ ہوگئے۔دعوتی کام یا اقدامی نوعیت کا کام پس پشت چلا گیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک بحیثت مجموعی مسلم علماء اور قائدین کے کام کا رخ یہی رہا ہے، بعد میں سیاسی تحریکیں بھی مسلمانوں میں اٹھیں لیکن برادران وطن کے درمیان دعوتی فکر کا زمانہ واپس ہی نہیں آیا۔ صورت بایں جا رسید کہ دیوی دیوتاوں کی کثرت اور ان کی عبادت اور شرک کے طوفان کو دیکھ کر بھی اہل دین میں وہ بے چینی پیدا نہیں ہوئی جو ہونی چا ہئے اور جو پیغمبروں کو ہوتی تھی اور جس کا ذکر بار بارقرآن میں آیا ہے کہ کیا آپ ان (مشرکوں) کے ایمان نہ لانے سے خود کو ہلاک کرڈالیں گے۔ انسان فورا عملی اقدام نہ کرسکے یہ بات قابل معافی ہے لیکن شرک کی گرم بازاری کو دیکھ کر دل کی بیچینی کا نہ ہونااور صرف مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام پر مطمئن ہوجانا ایمان کے کمزورہوجانے کی علامت ہے، دل کی بیچینی اگر ہوگی تو انسان سوچے گا اور کام کا منصوبہ بنائے گا لیکن شرک کے طوفان اور کفر کے سیلاب کو دیکھ کوئی پریشانی دل کونہ ہو یہ ایمان کی صحت مندی کی علامت نہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا ابتدائی دور دعوت وتبلیغ کا دور رہا ہے اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ کے سارے ابواب یا تو سیاست وحکومت کے ابواب ہیں یا علماء کی جانب سے حفاظت دین کے ابواب ہیں، حفاظت دین کے ابواب میں علم حدیث کی ترویج واشاعت اور ان کی تدریس کا کام بھی ہے اور طریقت کو شریعت پر ترجیح دینے کے فلسفہ اور وحدۃ الوجود اور وصول الی اللہ کے غیراسلامی طریقوں کے خلاف جہاد بھی ہے جس کی نمائندگی امام ربانی اور مجدد الف ثانی کرتے ہیں حفاظت دین کے ابواب میں قرآن وحدیث کی تعلیمات کی اشاعت اور قرآن وسنت سے براہ راست واقفیت کی تحریک بھی ہے اوراس باب کا معروف نام اور جلی عنوان حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کا خانوادہ ہے جنہوں نے قرآن مجید کے ترجمے کئے ،صحاح ستہ کے درس کو رواج دیا ۔حفاظت دین کے ابواب میں مشرکانہ عقائد وتہذیب اور بدعات ورسوم کے مقابلہ کی تحریک بھی ہے جس کی نمائندگی سید احمد شہید اور حضرت اسماعیل شہید کرتے ہیں۔ حفاظت دین کے ابواب میں مدارس دینیۃ کا قیام اور علوم دینیہ کی اشاعت کا کام بھی ہے جس کا دور داراالعلوم دیوبند سے شروع ہوتا ہے جس کے بانی مولانا قاسم نانوتوی تھے۔ حفاظت دین کے ابواب میں مسلمان عوام وخواص تک اور شہر ودیہات تک دین کی بنیادی باتیںپہونچانے کی تحریک بھی ہے جس کے قائد مولانا الیاس کاندھلوی تھے، حفاظت دین کے ابواب میں مسلمانوں میں روحانیت پیدا کرنے اور عشق الہی کی چنگاری کو شعلہ بنادینے کا کام بھی ہے جو خانقاہوں نے انجام دیا آخر زمانہ میں یہ کام سیدالطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھانوی کے ذریعہ انجام پایا ء حفاظت دین کے ابواب میں مغربی تہذیب، کمیونزم اور الحاد کے مقابلہ اور مسلمانوں کو احساس کمتری سے بچانے کی تحریک بھی ہے جس کی قیادت علامہ اقبال اور مولانا ابوالاعلی مودودی نے کی۔ حفاظت دین کے ابواب میں اردوزبان میں اعلی درجہ کے اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا کام بھی ہے جس کی سربراہی علامہ شبلی اور ان کے شاگردوں نے کی ہے حفاظت دین کے ابواب میں سائنس اور مذہب کی کشمکش میں مذہب کی طاقتور حمایت کا کام بھی ہے یہ کام ڈاکٹر رفیع الدین، مولانا عبدالباری ندوی اور وحیدالدین خان نے بہتر طور پر انجام دیا مسلمانوں کی حفاظت کے ابواب میں مسلمانوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کا کام بھی ہے جسے سرسید احمد خاں اور ان کے رفقاء نے انجام دیا۔ یہ سب ہندوستان کی تاریخ میں ہمارے کاموں کا مختصرطائرانہ منظرنامہ ہے۔ یہ سارے کام مسلمانوں میں دین کی اشاعت کے کام بھی تھے اور دفاعی نوعیت کے کام بھی انہیں کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اس پوری تاریخ میں برادران وطن تک دین توحیدکی اشاعت کے کام کا خلا ہے بہت مختصر طور بات کہی جائے تو اس طرح کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ بحیثیت مجموعی مشرکین کو دعوت الی اللہ دینے کے بجائے پشتینی مسلمانوںکو رجوع الی اللہ کی دعوت دینے کی تاریخ ہے یا مسلمانوںکو فکری اور نظریاتی حملوں سے بچانے کی تاریخ ہے۔ ابتداء میں مسلمان تاجروں خاص طور پر چشتی سلسلہ کے بزرگان دین نے دعوت دین کا جو شاداب درخت لگایا تھا جو برگ وبار لایا تھا وہ بعد میں خزاں رسیدہ بن گیا اور مسلمانوں کو آج جن حالات سے سابقہ پڑ رہا ہے وہ دعوت کے اسی بنیادی کام کے چھوٹ جانے کی وجہ سے پید ہوے ہیں دعوت کے بنیادی کام سے مراد وہ کام ہے جو پیغمبروں کی کوششوں کا محور رہا ہے ۔ یہ کام بے توجہی کا شکار کیوں ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان علماء کے سامنے نمونہ حجاز کی سرزمین تھی اور خلافت کی مرکزی حکومت تھی وہاں دعوت کا یہ کام نہیں ہوتا تھا وہاں یہ کام اس لئے نہیں ہوتا تھا کہ وہاں غیر مسلم تھے ہی نہیں جو غیر مسلم چھوٹی سی اقلیت میں تھے وہ ذمی کی حیثیت سے رہتے تھے لیکن جہاں مسلمان ایسی سرزمین میں رہتے ہوں جہاں غالب اکثریت غیر مسلموں کی ہو وہاں نمونہ قرن اول کی مکی زندگی ہے اس زندگی کو مسلمانوں نے نمونہ اسپین سسلی ہندوستان کہیں نہیں بنایا اور کہیں دعوت کا کام نہیں کیا۔ حالات کے رخ کو اگر اپنے فائدہ اور غلبہ کی طرف موڑنا ہے اور پیغمبروں کے اسوہ پر عمل کرنا ہے اور آخری پیغمبر صلى الله عليہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنانا ہے توہمیں دعوت کا نیا محاذ اس ملک میں قائم کرنا ہوگا۔ کہ یہی انبیاء کا اصل محاذ ہے، اس ضروری اور بنیادی کام کی طرف جو تمام انبیاء کرام کا اور پیغمبر آخر الزمان صلى الله عليہ وسلم کا اصل کام رہا ہے سب سے زیادہ توجہ اس دور میں (لٹریچر کی اشاعت کی حد تک) جماعت اسلامی نے کی ہے کہ اس نے ہندوستان کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع کئے اور اسلامی لٹریچر تیار کیا۔غیر مسلموں میں کام کے اس خلا کی طرف علماء کو متوجہ کرنا مشکل اس لئے ہے کہ علماء حقیقت پسندی سے زیادہ عقیدت مندی کا مزاج رکھتے ہیں ہر مسئلہ میں وہ اس طرح سوچتے ہیں کہ واقعی یہ کام ضروری ہے تو ہمارے بزرگوں نے کیوں نہیں کیا۔ ہندوستان کے علماء میں اس کام کی ضرورت کا سب سے زیادہ احساس مولانا ابوالحسن علی ندوی کو تھا کہ سیرت کا مطالعہ ان کی زندگی کا اورھنا بچھونا تھا انہیں برادران وطن کے درمیان کام کے خلا کاشدت کے ساتھ احساس تھا اور یہ احساس ہر اس شخص کو ہونا چاہئے جس نے انبیاء کرام کا اورسیرت نبوی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہو، انبیاء اکرام پر ان کی کتاب النبوۃ والانبیاء فی ضوء القرآن ہے اورسیرت نبوی پر ان کی ایک نہیں متعدد کتابیں عربی اور اردو دونوں زبانوں میں ہیں، اللہ تعالی نے انہیں حکمت نبوی کا خوشہ چیں بھی بنایا تھا انہیں محسوس ہوا کہ قرن اول میں صحابہ کرام اور مشرکین مکہ کے درمیان روابط اور تعلقات موجو دتھے رشتہ داریاں بھی تھیں اور لسان قوم بھی ایک ہی تھی، سب ایک دوسرے کے شناسا تھے، اس لئے دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن ہندوستان میں تعلقات کا یہ سارا پلیٹ فارم جس پر دعوت کی بنیاد رکھنی تھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے اس لئے پہلے اہل وطن کو مانوس کرنے اور اسلام اور مسلمانوں سے ان کی اجنبیت دور کرنے کی ضرورت ہے اس لئے سوچ سمجھ کر انہوں نے پیام انسانیت کے نام سے تحریک شروع کی اور پورے ہندوستان میں شہر بشہر جلسے کئے اور برادران وطن کو خطاب کیا، مولانا عبد الکریم پاریکھ ان کے رفیق اور معاون خاص تھے ۔تصنیف وتالیف کے علاوہ دینی تحریکات کی رہنمائی مولانا کا میدان تھا،مولانا علی میاں کی سرگرمیاں عرب وعجم تک پھیلی ہوئی تھیں، ان سب کے ساتھ ہندوستان برادران وطن سے مسلسل خطاب۔ اس قد وقامت کی کوئی شخصیت برصغیر میں ماضی میں اور حال میں معاصرین میں اور متقدمین میں نہیں ملتی ہے۔

ہجرت حبشہ کے زمانہ میں حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے دربار میں دین اسلام کا جو تعارف کروایا تھا اسے غور پڑھئے انہوں نے کہا تھا:

’’اے بادشاہ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے بتوں کو پوجتے تھے مردا رکھاتے تھے بدکاریاں کرتے تھے ہمسایوں کو ستاتے تھے

بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا زبردست زیر دستوں کوکھا جاتے تھے اس اثناء میں ایک شخص ہم میں پیدا ہوا س نے ہم کو سکھایا کہ ہم

پتھروں کو پوجنا چھوڑدیں سچ بولیں خونریزی سے باز آئیں یتیموں کا مال نہ کھائیں ہمسایوں کو آرام دیں ۰۰۰‘‘

یہ ہے دعوت اسلام کی تصویر اور مکی زندگی میں مسلمانوں کے کاموں کی جھلک۔کوئی شخص انصاف سے بتائے کہ کیا ہماری تصویر ہندوستان میں اس تصویر کے مطابق ہے یا ماضی میں اس کے مطابق رہی ہے اور اگر نہیں ہے تو ہم یہ حکم لگانے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام کی گاڑی پٹری سے اترگئی ہے اور صدیوں سے اتر گئی ہے۔ آج بتوں کو پوجنے سے روکنا کتنا مشکل ہوگیا ہے اس لئے کہ جب روکنا اور لوگوں کو سمجھانا آسان تھا اور ہماری حکومت تھی اس وقت ہم نے یہ کام نہیں کیا.

مسلمانوں کی اس ملک میں بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں موجود ہیں بہت سے دارالعلوم اور تعلیمی ادارے موجود ہیں اگر ان کی تعداد کئی گنی ہوجائے اور ان کے کاموں کا دائرہ کئی گنا وسیع ہوجائے جب بھی صورت حال میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہوگی جب تک کہ اس غلطی درست نہیں کیا جائے جو ہم کئی سو سال سے کرتے آرہے ہیں بحیثت ہم نے دفاعی نوعیت کے کام انجام دئے ہیں ہم نے مسلمانوں کی اصلاح کی تحریکیں اٹھائی ہیں ان کی افادیت اپنی جگہ پر بیسکن یہ وہ مکمل دعوتی کام نہیں ہے جو انبیاء نے انجام دیا۔ برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے مانوس کرنے کا کام اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کام جو دعوت اسلام کا پہلا زینہ ہے فورا شروع کرنے کی ضرورت ہے یہ کام صرف کسی ایک ادارہ اور تنظیم کے کرنے کا نہیں ہے اورنہ اس کی کوئی ایک متعین شکل ہے اس کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں ’’ہر گلے را رنگ وبوئے دیگرست‘‘ جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین سے استدعا ہے کہ وہ اپنے کو عقل کل سمجھنا چھوڑ دیں اور ان کے معتقدوں نے انہیں جس فلک چہارم کی زرکار کرسی پر جلوس افروز کردیا اس سے نیچے اتریں اور ہم جیسے فقیر راہ نشیں اور غم امروز و فردا سے رنجور وحزیں شخص کی بات بھی سن لیا کریں۔ اس وقت برادران وطن کے سماج میں فجاسوا خلال الدیار کے انداز میں ہر دروازہ پر دستک دینے کی ضرورت ہے ہر شخص کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہر مسلم نظیم کو اس بات کو حرز جان بنانے کی ضرورت ہے کہ سب کے ساتھ الفت ومحبت سے پیش آنا بلا تفریق مذہب سب کے ساتھ انصاف کرنا اور مخلوق خدا کی نفع رسانی کے لئے سرگردان ہونا اس کی بڑی فضیلت ہے اور اللہ کے نزدیک یہ محبوب عمل ہے۔ مولانا علی میاں نے اگرپیام انسانیت کے نام سے تحریک شروع کی تھی تو خدمت خلق کے عنوان سے دوسری جگہ دوسری تحریک شروع ہوسکتی ہے ۔ مقصد ایک ہے برادران وطن کے دلوںکو جیتنا اور ان کو اسلام اور مسلمانوں سے مانوس کرنا اور روابط کے استحکام کے بعد دین توحید کوان کے دلوں تک پہنچانا ۔ یہ کام مسلم دور حکومت میں آسان تھا اور اب ہندو احیائی تحریکوں کے عروج کے زمانہ میں مشکل ہوگیا ہے ظاہر ہے اس کام کا اجر بھی اب زیادہ ہوگیا ہے لیکن اب بھی تعلقات اور مراسم استوار کئے بغیر یہ کام نہیں انجام پاسکتا ہے، کوششوں کا اتنا فائدہ تو ضرور حاصل ہوگا کہ نفرتیں کم ہوں گی اور اگر روابط مضبوط ہوجائیں گے تو جانے کتنے کیمیاگرداعی ہوںگے جن کی کوششیں رنگ لائیں گی اور جو کسی یار مہرباں کے بارے میں کہیں گے

لائے اس بت کو التجاء کرکے

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

ضروری ہے کہ یہ دعوتی شعور عام ہو اور مسلمانوں کا ہر مدرسہ چھوٹا ہو یا بڑا ’’لسا ن قوم‘‘ میں مہارت والے علماء تیار کرنے کی کوشش کرے اور غیر مسلموں سے مکالمہ کی اور ان کے درمیان لسان قوم میں تقریروں کی مشق طلبہ کو کرائے۔ برادران وطن کی تہذیب اور مذہب کے مطالعہ کو کورس میں داخل کرے ۔اور صرف

ایسے ہی مدارس کو اہل شعور کا اور بالغ نظر علماء کا مدرسہ سمجھا جائے ۔صحاح ستہ پڑھانے والے علماء اور شیوخ الحدیث کو بھی یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اصل حدیثی خصوصیت جو امت کو ملنی چاہئے وہ پیغمبرانہ دعوتی کردار ہے جو آنحضرت صلى الله عليہ وسلم کی مکی اور مدنی زندگی میںنظر آتا ہے۔لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ۔ جماعت تبلیغ کے بزرگوں کویہ بات دین اسلام کی روشنی میں کہنے کی تھی کہ تبلیغ کے چھ اصول اگرچہ کہ صحیح ہیں لیکن منزل من اللہ نہیں ہیں کہ ان میں معمولی تبدیلی بھی نہ ہوسکے۔ غیرمسلموں کو براہ راست دعوت نہ سہی اگر اکرام مسلم کے اصول کے ساتھ برادران وطن کے ساتھ خدمت خلق اور خدمت انسانیت کی ایک شق کا کا اضافہ کرلیا جاتا تو آج تبلیغی جماعت کی بدولت لاکھوں غیرمسلم مسلمانوں کے قدراں ہوچکے ہوتے اور آج جو افسوسناک معاملہ تبلیغی جماعت کے ساتھ پیش آیا وہ پیش نہ آتا۔ لیکن ہندوستان کے مسلم قائدین نے گویا طے کر رکھا ہے کہ اپنی کسی غلطی کوتسلیم نہیں کریں گے۔ اور غلطی پر غلطی کرتے چلے جائیں گے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

http://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_92.html?m=1



آخر اتنا واویلا کیوں؟

آخر اتنا واویلا کیوں؟
———————
سعودی عرب کے رابطہ عالم اسلامی کے ماتحت عالمی مقابلہ سیرت نگاری منعقدہ ربيع الأول سنہ 1396هـ‏ / بمقام پاکستان، میں الرحیق المختوم نامی عربی مقالے کو اوّل نمبر مِلا نہیں؛ بلکہ دلوایا گیا“ تھا۔
ملکی یا بین الاقوامی ایوارڈ وامتیازات اپنے نام کروانے میں اہلیت سے زیادہ تعلقات، سفارشات و شخصی روابط کی کرشمہ سازی ہوتی ہے، عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ قابل اور فائق شخصیات و قلمکار بیٹھی رہ جاتی ہیں اور دوسرے لوگ امتیازات لے اُڑتے ہیں۔
واقفان حال بتاتے ہیں کہ اس مسابقے میں موصول قریب ایک سو ستر 170 مقالہ جات میں سے الرحیق المختوم کو اوّل پوزیشن دلوانے میں سعودی مقتدر حلقوں تک رسائی بلکہ اثر ورسوخ رکھنے والے اس سلفی برادری کا ناقابل انکار رول رہا ہے جس کی مہربانیوں سے ترجمہ شیخ الہند کی طباعت واشاعت پہ قدغن لگائی گئی۔
کسی مقالے کا اوّل پوزیشن کا حصول اس فن میں دستیاب کتابوں میں بھی سب سے لائق وفائق ہوجانے کو مستلزم  نہیں ہے۔ 
ویسے اس امر میں کوئی شک وشبہ یقیناً نہیں ہے کہ عمدہ والبیلی ترتیب، شستہ زبانی، سہل نگاری اور سیرت رسول کو جدید رنگ وآہنگ میں پوری سلیقہ مندی اور کمال ہنرمندی کے ساتھ ایجاز مُخِل اور تطویل مُمِل“ کے بغیر پیش کردینا الرحیق المختوم کی امتیازی خصوصیات ہیں. 
اس پہلو سے یہ کتاب شاہکار ہے اور مصنف کتاب لائق تحسین وقابل داد ہیں 
طرزنگارش اور اسلوب وبیاں کی جدت وحلاوت ہی کا اثر ہے کہ کتاب کو علمی حلقوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی، کتاب ہر مکتب فکر میں شوق کے ہاتھوں لی گئی اور قدر کی نگاہوں سے پڑھی گئی۔
دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے، بعد میں مؤلف نے اصل کتاب کی تلخیص بھی فرمادی تھی۔
ان تمام خصوصیات کے علی الرغم کتاب کی اصل حیثیت صرف تفصیلی مقالہ و بحث ہی کی ہے؛ اسی لئے سیر ومغازی کی تفصیلی وتحقیقی مباحث کا استیعاب اس میں کیا گیا ہے، نہ ہی کوئی ایسی نادر تحقیقات اس میں پیش کی گئی ہیں جو سیرت کی دیگر کتابوں میں دستیاب نہ ہوں۔
اس کے بالمقابل سیرت کی جن کتابوں کی نشاندہی فتوی میں کی گئی ہے وہ اپنے موضوع پہ تفصیلی بھی ہیں اور وقیع وتحقیقی بھی، ان کتابوں میں سیرت نبوی کا کوئی گوشہ تشنہ محسوس نہیں ہوتا 
جبکہ الرحیق المختوم میں جابجا اس کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
ہر گل را بوئے دیگر است 
ہر کتاب کی اپنی خصوصیت ہوتی ہے 
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں اگر کسی مخصوص پس منظر اور سیاق وسباق میں رحیق مختوم کے حوالے سے سطحی ہونے کا تبصرہ کیا گیا ہے تو وہ مطلق نہیں؛ بلکہ ایک مخصوص پس منظر میں ہے 
اور وہ بھی مفتی صاحب کی اپنی رائے ہے، ہر صاحب نظر عالم دین ومفتی کو دلائل کی روشنی میں اپنی علمی رائے قائم کرنے کا حق حاصل ہے، ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کے حق اظہار پہ قدغن لگائیں اور اس کے قلم و زبان سے جبریہ اپنی پسند کی باتیں اگلوائیں۔
میرا خیال ہے عوامی فتوی کے پیش نظر اس دعوی سطحیت کی مثال ودلیل پیش نہ کی گئی ہے، مسافران علم وتحقیق کو پوری اجازت ہے دارالافتاء کے ویب سائیٹ پہ جاکر اس دعوی کی دلیل طلب کریں 
اس سے قبل اس پہ واویلا کرنا، آسمان سر پہ اٹھالینا اور محرر مفتی صاحب کے حوالے سے غیرعلمی وغیرشائستہ ریمارکس دینا یا میڈیا ٹرائل کرنا بالکل ہی غیرمناسب طرزعمل ہے 
انہوں نے اسے نسبۃً سطحی وغیرمعیاری کہا ہے تو یقینا ان کے پاس اس کی بنیاد بھی ہوگی، ان سے رابطہ واستفسار سے قبل کچھ کہنا قرین انصاف نہیں۔ 
ہمارے جو فضلاء صرف سطحی کہے جانے پہ بیجا تپے ہوئے ہیں انہوں نے آخر کیوں غور نہیں کیا؟ کہ ان کرم فرمائوں کی جانب سے ہماری کتاب فیض الباری“ آثار السنن“ اعلاء السنن وغیرہ پہ کیا کچھ نہیں کہا گیا؟
سیر“ اور سوا سیر“ والا یہ دہرا معیار کیوں؟ 
کمپوزنگ کی غلطیوں کو بنیاد بناکر صاحب فتوی پہ تنقیص آمیز جملے کسنا بھی انتہائی تکلیف دہ ہے، کمپوز کرنے والے عام ملازم ہوتے ہیں، کوئی کہنہ مشق و صاحب نظر فقیہ نہیں، کتابت کی ایسی خامیاں باعث استعجاب نہیں ہوتیں!
فقط۔ ابواسامہ الحسنی ۱۰ صفر ۱۴۴۲ ہجری
-------------
ہم میں سے تقریباً سبھی یا بیشتر الرحیق المختوم کو معیاری کتاب محض اس وجہ سے سمجھتے ہیں کہ اس پر سعودی حکومت کی طرف سے معیاریت کا ٹھپہ ہے اور حکومت نے ایوارڈ دیا تھا. جو تھوڑے لوگ اس کتاب کو پڑھے ہوئے ہیں وہ بھی یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کن بنیادوں اور نمایاں اوصاف کی وجہ سے ایوارڈ دیا گیا ہے. آئندہ جب بھی یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں بنیادوں اور نمایاں اوصاف کی وجہ سے ایوارڈ ملا تو انہی اوصاف تک کتاب کی معیاریت کو محدود رکھنا انصاف کی بات ہوگی. لہذا ابھی جب سبھی مذکورہ بالا چیزوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کتاب کی اصل حقیقت سے ناواقف ٹھہرے تو اپنی ناواقفیت کی بنیاد پر کتاب کی معیاریت کا دفاع کیسے درست اور معقول ہوسکتا ہے بالخصوص جبکہ مستزاد یہ معلوم ہو کہ ایوارڈ دینے والی حکومت معیاری ترجمہِ قرآن کو غیر معیاری وسطحی قرار دے چکی ہے اور غیر معیاری ترجمے کو معیاری قرار دے چکی ہے اور اس کا ہم مشاہدہ بھی کرچکے ہیں؟
لہذا ہمیں افراط وتفریط سے بچتے ہوئے بنظرِ انصاف کام لینا چاہیے اور محض ایوارڈ کی بنیاد پر اور معیاریت کی بنیادوں کو نہ جاننے کے باوجود اس کتاب کا دفاع نہیں کرنا چاہئے. اور جن مفتی صاحب نے اپنے علم کی بنیاد پر اسے سطحی قرار دیا ہے اور سیرۃ النبی وسیرۃ المصطفی کو recommend کیا ہے ان سے اس کی وجہ معلوم کرنی چاہیے. وجہ معلوم کیئے بغیر جذباتی ہوکر تنقید اور طنز کے تیر چلانا معقول اور مقبول بات نہیں ہوسکتی ہے. سنجیدگی کے ساتھ وجہ کی دریافت پر مشتمل ایک استفتاء دارالعلوم کو بھیجا جاسکتا ہے اور جواب کا انتظار کیا جاسکتا ہے.
(مفتی) عبیداللہ قاسمی 
(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_39.html

Saturday, 26 September 2020

چھ اذکار جو غم، پریشانی، دکھ، تکلیف، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ایک بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں

چھ اذکار جو غم، پریشانی، دکھ، تکلیف، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ایک بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں:

شيخ عبدالرحمن بن سعدي رحمه الله تعالى کہتے ہیں: میں کتاب و سنت کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن اذکار کے پڑھنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور وصیت کی گئی ہے وہ چھ اذکار ہیں:

↙ چھ اذکار جو میں بیان کرنے جارہا ہوں یہ غم، پریشانی، دکھ، تکلیف، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ایک بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں ..!!

1⃣ پہلا ذکر: (رسول الله صلى الله عليہ وسلم پر درود بھیجنا).

دن میں اس کا زیادہ اہتمام کرتے رہیں حتٰی کہ دن کے اختتام پر آپ بہت زیادہ دورد پڑھنے والے ہوں. (سنن نسائی: کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: نبی صلى الله عليہ وسلم پر سلام پڑھنے کی فضیلت) حکم: حسن: 1284 .سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جب کہ آپ صلى الله عليہ وسلم کے چہرۂ انور پر سرور جھلک رہا تھا۔ ہم نے کہا: ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ’’اے محمد! تحقیق آپ کا رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ جو شخص بھی آپ پر درود پڑھے گا، میں اس پر دس دفعہ رحمت کروں گا؟ اور جو بھی آپ پر سلام کہے گا، میں اس پر دس بار سلام نازل کروں گا۔‘‘)

2⃣ دوسرا ذکر: کثرت سے استغفار کرنا ..

اپنے فارغ اوقات میں اللہ کی توفیق سے (أستغفر الله) کا ورد کرتے رہیں (سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم آئے ہم بیٹھے ہوئے تھے. آپ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: میں نے جب بھی صبح کی، اللہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی۔ السلسلۃ الصحیحۃ رقم: 1600 المعجم الاوسط للطبرانی رقم: 3879)

3⃣ تیسرا ذکر: "يا ذا الجلال والإكرام" پڑھنا.

کثرت سے یہ پڑھنا چاہئے یہ ذکر بولی بسری سنت بنتا جارہا ہے. حالانکہ آپ صلى الله عليہ وسلم نے اس کی وصیت اور اس کے متعلق نصیحت فرمائی ہے. رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "ألظّوا بـيا ذا الجلال والإكرام". الراوي: أنس من مالك. صححه الالباني من صحيح الترمذي. رقم الحديث: 3525: جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: قول اے زندہ قائم رکھنے والے...اور لازم پکڑو تم یا ذوالجلال والاکرام کو) حکم: صحیح. 3525 . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: ''يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ'' کولازم پکڑو (یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہاکرو''۔) ألظّوا: مطلب .. کثرت سے پڑھو .. اسے لازم پکڑو .. رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے جو اس ذکر کے پڑھنے کا کہا ہے اس میں ایک عظیم راز پوشیدہ ہے. يا ذا الجلال کے معنی ہیں: بہت زیادہ بڑے جلال، کامل بزرگی والی ہستی. والإكرام کے معنی ہیں: اور اپنے اولیا کے لیے اکرام وتکریم کی مالک ہستی .. اور اگر آپ غوروفکر فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ آپ نے اس بلند و برتر ہستی کی تعریف بھی کی ہے اور اس سے مانگ بھی رہے ہیں!! سوچئے اگر دن میں آپ یہ سینکڑوں دفعہ پڑھتے ہیں .. يا ذا الجلال .. ضرور اللہ تعالٰی اس سے راضی ہوگا اور سینکڑوں دفعہ پڑھیں: والإكرام. وہ آپ کی حاجات جانتا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا!

4⃣ چوتھا ذکر: "لاحول ولا قوة إلا بالله".

اس کلمہ کی نبی کریم صلى الله عليہ وسلم نے اپنے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تاکید فرمائی ہے اور اسے جنت کا خزانہ قرار دیا ہے. اگر آپ اس ذکر پر مداومت فرمائیں: "لاحول ولا قوة إلا بالله" آپ اللہ تعالٰی کا لطف و کرم اور اس کی عنایت و فضل محسوس کریں گے. (قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کردیا، وہ کہتے ہیں:میں صلاۃ پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا: ''کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتایئے، آپ نے فرمایا:'' وہ ''لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ'' ہے۔ سنن ترمذی :3581 )

5⃣ پانچواں ذکر: لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين. 

یہ اللہ کے نبی سیدنا يونس عليه السلام کی دعا ہے: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين". یہ ذکر غم و فکر کو بھگانے اور خوشیاں اور مسرت سمیٹنے کا سبب ہے .

( سیدناسعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: "ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: ''لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ'' ۱؎ کیوں کہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعاکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ سنن ترمذی: 3505 )

6⃣ چھٹا ذکر: "سبحان الله، الحمدلله، لااله الاالله، الله اكبر".

(سنن ابن ماجہ: کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اللہ کی تسبیحات پڑھنے کا ثواب) حکم: صحیح: 3809. حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اللہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو، یعنی تسبیح [سُبۡحَانَ اللہِ] تہلیل [َلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ] اور تمہید [اَلۡحَمۡدُ لِلہ] کے الفاظ کہتے ہو، وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں۔ ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔ وہ اپنے کہنے والے کا (اللہ کے دربار میں) ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللہ کے دربار میں) تمہارا ذکر ہوتا رہے ۔)

⭕ ان اذکار سے سبق، فائدہ اور ثمرات سمیٹنے کے لیے انہیں تدبر، تکرار، کثرت اور عاجزی کے ساتھ پڑھئے .. جس قدر اللہ کا ذکر کریں گے اسی حساب سے اللہ تعالٰی کی محبت کا حصول ممکن ہوگا. جس قدر دعا میں عاجزی اور انکساری ہوگی اسی لحاظ سے وہ اللہ تعالٰی کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے گی اور کثرت سے دعا اور معوذات اور اذکار کا ورد شیاطین کو بھگانے اور جسم سے حسد کے زہر کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے .. الشيخ عبدالرحمن السعدي رحمه الله تعالى. علم العقائد والتوحيد والأخلاق والأحكام/ 47

نوٹ: موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اور نمبر کی مناسب سے میں نے ہر نمبر کے تحت بریکٹ میں حدیث درج کردی ہے- مترجم: اللهم إني أشتاق لرؤياك و لكني مازلت أعصاك، فـنقني و طهرني قبل أن ألقاك. اللهم اغفر لأبي واجعل قبره روضة من رياض الجنة

----------------------------------------

1⃣

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ فَضْلِ التَّسْلِيمِ عَلَى النِّيِّﷺ)

سنن نسائی: کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: نبی ﷺ پر سلام پڑھنے کی فضیلت)

1284 . أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ ابْنِ عَلِيٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرَى فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا إِنَّا لَنَرَى الْبُشْرَى فِي وَجْهِكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي الْمَلَكُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا

حکم: حسن

1284 .سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جب کہ آپ کے چہرۂ انور پر سرور جھلک رہا تھا۔ ہم نے کہا: ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ’’اے محمد! تحقیق آپ کا رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ جو شخص بھی آپ پر درود پڑھے گا، میں اس پر دس دفعہ رحمت کروں گا؟ اور جو بھی آپ پر سلام کہے گا، میں اس پر دس بار سلام نازل کروں گا۔‘‘

الراوي: أبوطلحة زيد بن سهل الأنصاري | المحدث: الألباني | المصدر: السلسلة الصحيحة

الصفحة أو الرقم: 829 | خلاصة حكم المحدث: صحيح،

الراوي: زيد بن سهل الأنصاري | المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : تخريج مشكاة المصابيح

الصفحة أو الرقم: 1/417 | خلاصة حكم المحدث : [حسن كما قال في المقدمة]،

الراوي : أبو طلحة زيد بن سهل الأنصاري | المحدث : عبد الحق الإشبيلي | المصدر : الأحكام الصغرى

الصفحة أو الرقم: 893 | خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة أنه صحيح الإسناد]

2⃣

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ : نا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: نا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " مَا أَصْبَحْتُ غَدَاةً قَطُّ إِلا اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ فِيهَا مِائَةَ مَرَّةٍ " . لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ إِلا الْمُغِيرَةُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ .

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہم بیٹھے ہوئے تھے

آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے جب بھی صبح کی، اللہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی۔

حسنه السيوطى وصححه الالباني وقال محقق الدعاء للطبراني:اسناده صحيح

الراوي: أبوموسى الأشعري عبدالله بن قيس | المحدث: الألباني | المصدر: السلسلة الصحيحة

الصفحة أو الرقم: 1600 | خلاصة حكم المحدث : صحيح،

الراوي : أبو موسى الأشعري عبدالله بن قيس | المحدث : البوصيري | المصدر :إتحاف الخيرة المهرة

الصفحة أو الرقم: 7/422 | خلاصة حكم المحدث : سنده صحيح

3⃣

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ قَولِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ...وأَلِظُّوا بِـيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ)

جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: قول اے زندہ قائم رکھنے والے...اور لازم پکڑو تم یا ذوالجلال والاکرام کو)

3525 . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ فَقَالَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ

حکم : صحیح

3525 . انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ' يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ' کولازم پکڑو (یعنی :اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہاکرو'۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے،۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً )روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے ' عن حميد عن أنس ' دیا،جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔

الراوي: ربيعة بن عامر المحدث: الوادعي - المصدر: الصحيح المسند - الصفحة أو الرقم: 341

خلاصة حكم المحدث: صحيح،

الراوي: ربيعة بن عامر المحدث: ابن باز - المصدر: النكت على التقريب - الصفحة أو الرقم: 83

خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد،

الراوي: أنس بن مالك وربيعة بن عامر المحدث: السيوطي - المصدر: الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 1579

خلاصة حكم المحدث: حسن

4⃣

صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ (بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا عَلاَ عَقَبَةً)

صحیح بخاری: کتاب: دعاؤں کے بیان میں (باب: کسی بلند ٹیلے پر چڑھتے وقت کی دعا کا بیان)

6384 . حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، وَلَكِنْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا» ثُمَّ أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، قُلْ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ أَوْ قَالَ: «أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ؟ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»

حکم: صحیح

6384 . سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلندجگہ پرچڑھتے تو تکبیر کہتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے اوپر رحم کرو، تم کسی بہرے غائب خداکو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا ، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہاتھا۔ ” لاحول ولا قوۃ الا با اللہ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبد اللہ بن قیس کہو ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا با اللہ ۔

5⃣

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ)

جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: یونسؑ کی دعا)

3505 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنْ الظَّالِمِينَ فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَرَّةً عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ وَرَوَى بَعْضُهُمْ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ فَقَالُوا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ وَكَانَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ رُبَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ

حکم: صحیح

3505 . سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: 'لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ' ۱؎ کیوں کہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔

الراوي : سعد بن أبي وقاص | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الترمذي

الصفحة أو الرقم: 3505 | خلاصة حكم المحدث : صحيح | شرح الحديث،

الراوي : سعد بن أبي وقاص | المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : الفتوحات الربانية

الصفحة أو الرقم: 4/11 | خلاصة حكم المحدث : حسن

6⃣

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ)

سنن ابن ماجہ: کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اللہ کی تسبیحات پڑھنے کاثواب)

3809 . حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الطَّحَّانِ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ أَخِيهِ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ التَّسْبِيحَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّحْمِيدَ يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ

حکم : صحیح

3809 . سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اللہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو ، یعنی تسبیح[سُبۡحَانَ اللہِ]تہلیل [َلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ] اور تمہید [اَلۡحَمۡدُ لِلہ]کے الفاظ کہتے ہو ، وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں ۔ ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ۔ وہ اپنے کہنے والے کا (اللہ کے دربار میں) ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللہ کے دربار میں)تمہارا ذکر ہوتا رہے ۔

أخرجه ابن ماجة (3809) وصححه صاحب الزوائد والألباني في تعليقه على السنن، وأحمد في المسند (18362) و (18388) وصحح إسناده محققو ط الرسالة، والحاكم في المستدرك (1841) وقال: هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، و(1855) وقال: هذا حديث على شرط مسلم.

وهو أيضًا في مصنف ابن أبي شيبة (6/ 54) (29415) و(7/ 168) (35037)، وكذا في مسند البزار (3236) وفي الدعاء للطبراني (1693) وفي حلية الأولياء (4/ 269) وعند البيهقي في الأسماء والصفات (275) وفي الدعوات (132).

والله أعلم

اللهم إني أشتاق لرؤياك و لكني مازلت أعصاك ، فـنقني و طهرني قبل أن ألقاك

اللهم اغفر لأبي واجعل قبره روضة من رياض الجنة (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_26.html



Thursday, 24 September 2020

طلاق: عورت ہی کیوں پریشان اور رسوا ہوتی ہے؟

طلاق: عورت ہی کیوں پریشان اور رسوا ہوتی ہے؟

علماء کے ایک بڑے واٹس ایپ گروپ میں یہ سوال کیا گیا کہ جب احکامِ شرعیہ میں معقولیت کا عنصر بھی ضرور ہوتا ہے تو طلاق کے نتیجے میں ہر حال میں آخر عورت ہی کیوں پریشان اور رسوا ہوتی ہے؟ شوہر کیوں نہیں؟ احقر کی طرف سے جواب 👇
طلاق محض چند حروف کے مجموعے کے تلفظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت ہے. اور وہ حقیقت یہ ہے کہ شوہر اس کے تلفظ کے ذریعے علیحدگی اور نکاح کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہے. علیحدگی/ نکاح کو ختم کرنے/ طلاق دینے کا یہ اختیار اللہ تعالی نے صرف شوہر کو دیا ہے. وجہ اس کی یہ ہے کہ نکاح کے نتیجے میں لذتِ نکاح اور ذہنی آسودگی میں دونوں شریک ہیں مگر اس کے باوجود چونکہ بیوی کے تمام مالی اخراجات، مکان، نان ونفقہ وغیرہ کی اضافی ذمہ داریاں شوہر پر رکھی گئیں ہیں اور اگر بچے ہوتے ہیں تو ان سب کی مالی ذمہ داریاں مکان وغیرہ بھی یکطرفہ طور پر شوہر پر ڈالی گئی ہیں لہذا اس اضافی بار اور ذمہ داری کی وجہ سے طلاق دینے اور علیحدگی کا اختیار صرف شوہر کو دیا گیا ہے، بیوی کو نہیں جو بلاشبہہ ایک معقول بات ہے. اب جب علیحدگی اور طلاق دینے کا اختیار صرف شوہر کو ہے تو ضرورت محسوس ہونے پر جب وہ طلاق دے گا تو ظاہر ہے پڑے گی بیوی پر ہی یعنی شوہر کے گھر اور تمام ذمہ داریوں سے علیحدہ بیوی کو ہی ہونا پڑے گا کیونکہ بیوی کو اپنے گھر میں تمام مالی ذمہ داریوں اور بارِ گراں کے ساتھ شوہر نے ہی رکھا تھا. 
اب اس پر یہ اعتراض کہ اس طلاق اور علیحدگی سے بیوی کی رسوائی ہوئی غیرمعقول بات ہے کیونکہ: 
اولاً: نکاح کے وقت بیوی کو سب کچھ معلوم تھا کہ شوہر پر مجھے گھر، کھانا کپڑا دینے کی ذمہ داریاں ہیں اور اس کے پاس مجھے کسی بھی وقت علیحدہ کرنے اور طلاق دینے کا اختیار ہے مگر اس کے باوجود وہ اس پر راضی رہی اور نکاح کو قبول کیا. اب اگر بعد میں وہی ہوا جس پر وہ پہلے سے راضی تھی تو اس کو شوہر کی طرف سے بیوی کی رسوائی کہنا غیرمعقول بات ہوگی. اگر دو بزنس پارٹنر ہوں جن میں سے ایک کو زیادہ یا ساری مالی ذمہ داریوں کی اضافی حیثیت کی وجہ سے باہمی رضامندی سے یکطرفہ طور پر معاہدہ contract ختم کرنے کا اختیار طے ہوجائے اور پھر وہ کسی وقت معاہدہ ختم کردے تو اسے دنیا کا کوئی بھی شخص غلط کرنے والا اور اپنے پارٹنر کو رسوا کرنے والا ہرگز نہیں کہہ سکتا ہے، خود وہ بھی نہیں کہہ سکتا ہے جو اس کا پارٹنر رہا ہے. طلاق یعنی نکاح کو ختم کرنے کے معاملے میں شوہر اور بیوی کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے لہذا طلاق دینے کی وجہ سے شوہر کو بیوی کو رسوا کرنے والا نہیں کہا جاسکتا ہے. ایسا کہنا انتہائی غیر معقول بات ہوگی.
ثانیاً: چونکہ نکاح میں شوہر لازمی طور پر اپنی بیوی کو ایک خطیر رقمِ مہر پیش کرتا ہے لہذا اگر وہ نکاح کے بعد نکاح کو بذریعہِ طلاق ختم کردیتا ہے تو وہ اپنا ہی بڑا نقصان کرتا ہے. خطیر رقمِ مہر اور مالی ذمہ داریاں اسے نکاح کو ختم کرنے سے روکنے کا ظاہری سبب بنتی ہیں. لہذا اس سے یہ تصور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ بلاوجہ طلاق دے کر اپنا بھاری نقصان کرلے.
ثالثاً: طلاق اگر معقول وجہ سے شوہر دیتا ہے تو ظاہر ہے اسے قصوروار ٹھہرانا غلط ہے اور اس صورت میں قصوروار بیوی ہوگی اور قابلِ مذمت بھی وہی، اور اگر طلاق کی وجہ سے اس کی رسوائی ہوئی تو وہ ہونی ہی چاہئے. لیکن شوہر اگر غیر معقول اور بلاوجہ طلاق دیتا ہے تو اس میں یقیناً شوہر سخت قابلِ ملامت ومذمت ہے، بیوی ہرگز قابلِ مذمت نہیں. معاشرے اور سماج کو اس صورت میں رسوا اور ذلیل شوہر کو ہی کرنا اور سمجھنا چاہیے اور ایسی طلاق میں بیوی کی رسوائی اور ذلت سمجھنا الٹی بات ہوگی. لیکن اگر معاشرہ بھی الٹا ہو اور رسوا بہر حال بیوی کو ہی کرے تو ایسا معاشرہ ہی قصوروار ہے اور قابلِ اصلاح ہے. عورت کی رسوائی کی ذمہ داری حکمِ شرعی پر ہرگز نہیں ہوئی. 
رابعاً: اسلام صرف ہندوستان کے لئے نازل نہیں ہوا اور نہ صرف موجودہ زمانے کے لئے نازل ہوا ہے بلکہ دنیا کے تمام اقوام کے لئے اور قیامت تک کے لئے نازل ہوا ہے. لہذا اگر کسی علاقے میں اور کسی زمانے میں معاشرہ غیر اسلامی ہوجائے اور اس کی وجہ سے بعضوں کو احکامِ اسلام کی وجہ سے کچھ پریشانی ہو تو اس کی ذمہ داری اسلام پر ہرگز نہیں ڈالی جاسکتی ہے. ہندوستان میں ہمارا معاشرہ بالخصوص نکاح وطلاق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے ہٹا ہوا ہے لہذا اس کی وجہ سے بہت ساری پریشانیاں محسوس ہوتی ہیں. مسلمانوں نے یہاں اسلامی ہدایت کے برعکس نکاح کو مشکل بنادیا ہے اور بالخصوص عورتوں کے لئے اور الٹا مالی اخراجات جہیز وغیرہ کی شکل میں عورتوں پر ڈالدیا ہے. لہذا اس غیر اسلامی معاشرے کی وجہ سے اسلامی احکام میں اگر کوئی پریشانی محسوس ہوتی ہے تو اس کا قصوروار غیر اسلامی معاشرہ ہوا جس کا ذمہ دار اسلام نہیں ہے. اسلام کے احکام تو پوری دنیا کے لئے uniform اور یکساں ہیں اور ہمیشہ کے لئے ہیں. 
خامسا: اصولی طور پر تو شوہر جب چاہے بیوی کو طلاق دے سکتا ہے خواہ وجہ معقول ہو یا غیرمعقول کیونکہ اس پر بڑی اضافی ذمہ داریاں ہیں. مگر اسلام نے بلاوجہ طلاق دینے کی سخت حوصلہ شکنی کی ہے، اسے سخت معصیت اور گناہ قرار دیا ہے اور آخرت میں اس کے لئے سخت سزا متعین کی ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ شوہر نے اگر طلاق معقول وجہ سے دی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور اس طلاق کے نتیجے میں اگر معاشرے میں بیوی کی رسوائی ہوئی تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہے. اور اگر شوہر نے غیر معقول اور غیرشرعی وجہ سے طلاق دی ہے تو شوہر گنہگار، اور معاشرے کے ذریعے قابلِ مذمت وملامت اور قابلِ رسوائی ہے. ایسی صورت میں معاشرے کو بیوی کو رسوا وذلیل سمجھنے کی بجائے شوہر کو رسوا وذلیل کرنا اور سمجھنا چاہیے. اگر معاشرہ ایسا نہیں کرتا ہے اور الٹا کرتا ہے تو ایسا معاشرہ قابلِ اصلاح ہے. علماء اور قوم کے باشعور لوگوں کو اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہی اس کا حل ہے.
بقلم مفتی عبیداللہ قاسمی (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_24.html


Wednesday, 23 September 2020

حلالہ ‏کے ‏عقلی ‏دلائل

حلالہ کے عقلی دلائل 
ایک مسلمان کے لئے اتنا کافی ہونا چاہئے کہ یہ حکمِ الہی ہے اور بس. احکامِ شرعیہ کے عقلی دلائل کی ضرورت غیرمسلموں کو پڑتی ہے یا انتہائی کمزور ایمان والوں کو. ہمارے لئے تو سارے عقلی دلائل پر یہ عقلی دلیل بھاری ہونی چاہئے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو حکیم، احکم الحاکمین ہے اور رحمن ورحیم ہے. حلالہ کا حکمِ شرعی قرآن مجید میں صراحۃً مذکور ہے ... فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. ہمارے لئے اتنا کافی ہے. تاہم ضرورت کے موقعوں کے لئے درج ذیل یا ان جیسے عقلی دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں:
یہ کہنا کہ جب تین طلاق شوہر دے تو اس کی سزا شوہر کی بجائے مطلقہ ثلاثہ کو حلالہ کی شکل میں کیوں ملتی ہے درست نہیں ہے کیونکہ:
اولاً: اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ تین طلاق شوہر نے دی ہے لہذا حلالہ مطلقہ کا نہیں ہونا چاہئے شوہر کا ہونا چاہئے تو ظاہر ہے کہ اس کی شکل اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی تھی کہ شوہر کا نکاح جب تک کسی اور عورت سے نہ ہوجائے اور ہمبستری نہ ہوجائے وہ مطلقہ ثلاثہ کے لئے حلال نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ اس کے لئے سزا نہ ہوتی بلکہ اور نعمت ہوجاتی اور یہ صورت طلاقِ ثلاثہ کے لئے مانع کی بجائے اور حوصلہ افزا بن جاتی. لہذا شوہر کے حلالے کا تصور درست نہیں ہوسکتا تھا.
ثانیاً: یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لئے حلالہ ضروری ہے کیونکہ وہ کہیں بھی نکاح کرسکتی ہے سوائے اس مرد سے جس نے طلاقِ مغلظہ دے کر اسے ذلیل کیا اور اپنے گھر سے ہمیشہ کے لئے نکالا ہے جبکہ اگر اسے مکمل علیحدگی ہی مقصود تھی تو ایک طلاق سے بھی ممکن تھی. اب اگر اس کی انتہائی تذلیل وتوہین کے باوجود بیوی اسی شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو ظاہر ہے حلالہ جو اس کے لئے ایک procedure ہے اس سے اس کا راضی ہونا بھی ظاہر اور عیاں ہے. اور جب وہ خود جان بوجھ کر حلالے کے لئے تیار ہے جبکہ اس کے پاس غیر حلالہ کے سینکڑوں آپشن موجود ہیں تو عورت کو حلالہ کے بارے میں بالکل بے اختیار ولاچار کہنا غیر معقول بات ہوئی.
ثالثاً: اگرچہ حلالہ میں صرف عورت کو ذہنی اذیت ہوتی نظر آرہی ہے مگر باشعور، باغیرت اور عقلِ سلیم والوں پر یہ مخفی نہیں ہے کہ یہ ذہنی اذیت اور کرب طلاق دینے والے شوہر کو (جو دوبارہ زوجیت میں لینے کا خواہشمند ہے) عورت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے. اس سخت ذہنی اذیت اور سزا کی وجہ سے آئندہ پھر ایسی حرکت کرنے میں اس کی روح کانپ اٹھے گی. اور یہی اس کے لئے اور دوسروں کے لئے مانع اور deterrent ہوگا. یعنی حاصل یہ نکلا کہ حلالے سے اذیت مرد وعورت دونوں کو ہوئی. جو اذیت عورت کو ہوئی وہ حلالے کے آپشن کو اپنی مرضی سے اختیار کرنے کی وجہ سے ہوئی اور عورت کے مقابلے میں ذہنی اذیت اور کرب مرد کو کئی گنا زیادہ ہوا.
رابعاً: یہ بات مشاہدے کی ہے کہ تین طلاق دینے والا شوہر عموماً بہت غصے میں اور مجبور ہوکر ہی تین طلاق دیتا ہے اور اس غصے کا سبب عموماً بیوی کی کوئی نامناسب حرکت ہوتی ہے لہذا تین طلاق دینے میں یکطرفہ طور پر صد فیصد قصور شوہر پر نہیں ڈالا جاسکتا ہے بلکہ عورت کا بھی اس نوبت تک پہنچانے میں کردار ہوتا ہے. لہذا اگر شوہرِ اول سے نکاح کرنا ہو تو حلالے کا سبب دونوں مل کر بنے ہیں لہذا دونوں کے لئے حلالے کی سزا معقول بات ہوئی. البتہ تھوڑے معاملات ایسے ضرور ہوتے ہیں جس میں بیوی بالکل بے قصور ہوتی ہے.
خامساً: عورت کو نکاحِ ثانی جو حلالہ ہے، میں نکاح کا حظ بھی حاصل ہوتا ہے، مہر بھی موصول ہوتی ہے، اور اگر طلاق دینے سے پہلے شوہرِ ثانی وفات پاجائے تو مہر کے علاوہ اس کی پروپرٹی گھر جائیداد بینک بیلنس ہر چیز میں وہ چوتھائی یا کم از کم آٹھویں حصے کا فوراً مالک بھی بن جاتی ہے. ان سب بڑے فوائد کے ساتھ اب وہ شوہرِ اول سے نکاح بھی کرسکتی ہے. مگر شوہرِ اول کو ان میں سے کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا. جو کچھ اسے ملا وہ صرف بیوی کے حلالے کی اذیت اور کرب. اب ظاہر ہے کہ یہ سزا یہاں صرف شوہر کو ملی.
خلاصہ یہ ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لئے حلالہ ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے پاس حلالہ کے بغیر نکاح کا آپشن موجود ہے جس میں تین طلاق دینے والے شوہر کے سوا دوسرے مردوں سے وہ نکاح کرسکتی ہے. اگر وہ شوہرِ اول سے ہی وایا حلالہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اسے مکمل اختیار وآزادی ہے اور وہ حلالے کو خود اختیار کرنے والی ہوئی. نیز، حلالہ میں اگرچہ ذہنی اذیت عورت اور شوہرِ اول دونوں کو ہے ( اور بعض صورتوں میں بظاہر بھی عورت کو اس کے مقابلے میں بہت سارے منافع حاصل ہوکر باعثِ تخفیفِ اذیت ہوجاتے ہیں) مگر درحقیقت عورت کے مقابلے میں تین طلاق دینے والے شوہرِ اول کو اذیت اور کرب کی کئی گنا زیادہ کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے جو اس کے لئے سزا بھی ہے اور آئندہ اس کے لئے اور دوسروں کے لئے تین طلاق جیسی ملعون چیز سے مانع اور deterrent بھی ہے. (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_66.html