Sunday, 22 November 2020

غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارکباد دینا؟

غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارکباد دینا؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ بعافیت ہوں گے۔ دیوالی وہولی وغیرہ غیرمسلموں کے تہوار کے موقع پر مبارکباد دینا جائز نہیں ہے، عام کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ بھارت کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کے لیے ایک طرف نفرت وشدت میں ہر دن اضافہ ہے اور شدت پسندی کا الزام بھی،دوسری طرف مسلمانوں اور غیروں کے درمیان سماجی، سیاسی اور تجارتی رابطے آپس میں بہت گہرے بھی ہیں اور بوقت ضرورت یہی را‌بطے باہمی فتنہ وفساد کی آگ کو بجھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسی بنیاد پر عید ملن دیوالی ملن وغیرہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور دونوں طرف کے سرکردہ حضرات شرکت بھی کرتے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ آپ عید ملن پارٹی میں ان کو بلائیں گے تو آپ کو بھی ان  کی ہولی ملن پارٹی میں شامل ہونا پڑے گا، مسلم و غیرمسلم تنظیموں کے ذریعے یہ عمل ملک بھر میں جاری ہے، دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی، سماجی اور تجارتی حضرات اس موقع پر مبارکباد بھی دیتے اور قبول کرتے ہیں، مقصد یہاں بھی نفرتوں کا خاتمہ اور مضرت کا دفعیہ ہے، مشرکانہ عمل میں شرکت یا اس پر رضامندی نہیں ہے، مثلاً دیوالی مبارک ہو، ہیپی دیوالی وغیرہ، بسا اوقات ان مواقع پر سرکاری افسران وعہدے داران کی طرف سے فون آتے ہیں اور وہ اپنی طرف سے پہل کرتے ہوئے دیوالی مبارک کہتے ہیں تو پھر جواب بھی دینا ہوتا ہے۔ ان حالات میں "الا ان تتقوا منھم تقاۃ" کے پیش نظر مسلم سماج کے مخصوص وسرکردہ حضرات کے لئے غیرمسلموں کو مبارکباد پیش کرنے کی اور ان کا جواب دینے کی کوئی گنجائش ہے نہیں، براہ کرم بھارت کی موجودہ صورت حال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے مدلل جواب سے نوازیں گے، شکریہ جزاکم اللہ خیرا
سوال کنندہ۔ ذکاوت حسین قاسمی، مقیم دہلی
الجواب وباللہ التوفیق:
مذہب، مسلک، رنگ، نسل زبان وتہذیب کی تفریق کے بغیر تمام ہی انسانوں کے ساتھ محبت، مودت، نرمی، احسان، حسن خلق، حسن معاشرت، مہربانی، شرافت، اخلاق وانسانیت کے ساتھ پیش آنا، دکھ درد میں کام آنا اسلام کی تعلیم وہدایت ہے اور اس کا امتیاز بھی۔ اسلام کے اس اعلی ترین اخلاقی ورواداری کے اصول و تعلیم کی تصریح قرآن کریم میں اس طرح ہے:
(وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا)  [البقرة: 83۔۔۔ لوگوں سے بھلی باتیں کیا کرو]
(إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَان) [النحل: 90 ۔۔ یقیناً اللہ برابری اور احسان کا حکم کرتا ہے]
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة :8)
”جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں جلاوطن کیا اللہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے تعلق محبت رکھنے سے روکتا ہے، جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگیں لڑیں اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور ان جلاوطن کرنے والوں کی مدد کی، جو لوگ ایسے کافروں سے تعلق محبت قائم کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں“۔ ان نصوص  قرآنیہ سے واضح ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ اگر غیرمسلموں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسرپیکار ومحارب ہے تو تمام غیرمسلموں کو بلاتمیز ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کردیا جائے! ایسا کرنا حکمت وانصاف کے خلاف ہوگا۔ دیگر تمام مذاہب والوں کے ساتھ حسن سلوک اور تعاون وعدم تعاون کا اسلامی اصول یہی ہے کہ ’’ان سے مودت وموالات کا تعلق قائم کرنا "ان کے مذہبی  ودینی امور میں اشتراک وتعاون" تعلیمات اسلام کے خلاف ہے“۔ اسے ہمارا مذہب ناجائز وحرام کہتا ہے:
"يَا أيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ". (الممتحنة: 1).
(’’من کثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم کان شریکا في عمله‘‘۔ (كنزالعمال: الرقم: 24730، نصب الرایۃ للزیلعي: 102/5. کتاب الجنایات، باب ما یوجب القصاص وما لا یوجبہ، الحدیث التاسع)
ہاں! ان کے ساتھ "مشترک سماجی، اجتماعی وملکی مسائل ومعاملات" ۔۔ جن میں شرعی نقطۂ نظر سے اشتراک وتعاون میں کوئی ممانعت نہ ہو ۔۔ ان میں ساتھ دینا چاہیے۔ یہ انسانیت کی خدمت ہے اور اسلام کی خاموش دعوت بھی۔ معاشرتی حسن سلوک اور اعلی انسانی اخلاق واقدار کا نمونہ پیش کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ہدایا قبول کئے اور غیرمسلم بیمار شخص کی تیمار داری اور مزاج پرسی کی ہے۔ اسلام مستقل دین ،کامل واکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے، ہر مسلمان کو اپنے مذہب کے عقائد واعمال اور احکام و تعلیمات کی صداقت وحقانیت پر دل ودماغ سے مطمئن ہونا اور اعضاء وجوارح سے اس کا عملی ثبوت پیش کرنا ضروری ہے. کسی دوسری قوم کی عادات و اطوار اور تہذیب و تمدن سے استفادہ وخوشہ چینی (شرکیہ و کفریہ طور طریق کو پسند کرنے) کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے. کفر پسندی یا اس پہ رضا واقرار یا اس کی حمایت ونصرت بندہ مومن کو دین سے خارج کردیتا ہے. اپنے مذہبی حدود وشعار پہ انشراح واستقامت کے ساتھ دیگر اہل مذاہب ہم وطنوں و ہم پیشہ افراد و اشخاص کے ساتھ معاشرتی حسن سلوک و احسان کے تحت اپنی خوشی کے مواقع پہ انہیں بلانا یا شریک طعام کرنا یا خود ان کی خوشی میں ان کی دعوت قبول کرنے کی گنجائش ہے:
ولا بأس بضيافة الذمي، وإن لم يكن بينهما إلا معرفة، كذا في "الملتقط" … ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريبًا كان أو بعيدًا محاربًا كان أو ذميًّا] الفتاوى الهندية" (5/ 347، ط. دار الفكر)
کفار و مشرکین کی شادی: 
مسرت اور دیگر معاشرتی خوشیوں کے مواقع پر حدود شرع کی رعایت کے ساتھ اظہار مسرت کرنا، انہیں تحفے تحائف دینا، نیک خواہشات کا اظہار کرنا ،صحت وعافیت کی دعاء اور مبارکباد دینا ان کے مذہبی معاملات میں اشتراک و تعاون یا مودت و موالات نہیں؛ بلکہ حسن سلوک، خوش خلقی اور بر و احسان کے  قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز ومباح ہے. ان کے مذہبی تہواروں کے موقع سے ان کی خوشی ومسرت پہ دعا دینا ، مذہبی ہم آہنگی و رواداری کے جذبے سے نیک خواہشات کا اظہار کرنا اور مبارکباد دینا جائز ہے یا نہیں. اس بابت شروع سے علماء کرام کے دو مختلف نقطہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ علماء کے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ غیرمسلمین کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارک دینا مشرکانہ عقائد و شعائر کی تعظیم و توثیق کے مشابہ ہونے کے باعث ناجائز ہے۔ جبکہ علماء کے دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ ان کے مذہبی تہواروں کے موقعوں  پر کفریہ وشرکیہ امور کی ادنی تعظیم وتوقیر کے بغیر، دل میں کفر سے نفرت و کراہیت رکھے ہوئے صرف ان کی خوشی ومسرت پہ اچھے جذبات ونیک خواہشات کا اظہار کرنا، انہیں خوشی وشادمانی اور فرحت ومسرت اور آسودگیِ حال کی دعائیں دینا (مبارکباد دینا) حسن سلوک، بِرّ واحسان، مواسات ومدارات کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز ہے. کفریہ وشرکیہ تہواروں کو "مبارک" کہنا علیحدہ ہے جس کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ شعائر کفار کی تائید وتحسین کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ان تہواروں کے مواقع پہ حاصل "ان کی خوشیوں" پہ مبارکباد دینا، نیک خواہشات کا اظہار کرنا اور ہدایتِ حق یا دنیوی منافع کی دعائیں کرنا امرآخر ہے۔ مختلف مذاہب وکلچر والے ملک کی مخلوط آبادی میں بین مذہبی معاشرتی تنائو کی فضا قائم کرنا مفید و دانشمندانہ عمل نہیں۔ ہم وطن، پڑوسی، ہم پیشہ برادران وطن سے کٹ کے رہنا اور انکی خوشیوں پہ منہ چڑھائے رہنا اسلام کے حسن سلوک اور بر واحسان کے اصول سے ہم آہنگ نہیں ہے. مذہبی تہواروں کے موقعوں پر خوشی ومسرت پہ دعائیہ جملوں کا تبادلہ کرنا ان کے کفریہ وشرکیہ عقائد کی نہ تائید ہے، نہ کفر پسندی ہے اور نہ اعمال کفر پہ رضا ورغبت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کے لئے مال واولاد کی کثرت، درازیِ عمر اور صحت وعافیت کی یوں دعاء فرمائی ہے: 
«أَكْثَرَ اللَّهُ مَالَكَ، وَوَلَدَكَ، وَأَصَحَّ جِسْمَكَ، وَأَطَالَ عُمُرَكَ» (مصنف  ابن ابی  شیبہ 105/6)
یہودی کے لئے درازی عمر کی دعاء اگر اس کے کفریہ اعمال کی تائید نہیں ہے تو کفار و مشرکین کی مذہبی خوشیوں پہ ان کے لئے اس نوع کی دعائیں کفریہ وشرکیہ اعمال کی تائید و توثیق کیسے ہوجائے گی؟ یہاں کفر وشرک کی تحسین وتبریک ہرگز نہیں ہے بلکہ صرف ان کی خوشیوں ومسرتوں پہ نیک خواہشات کا اظہار مقصود ہے، جس کا اعتقاد ومذہبی معاملات، مودت وموالات یا اس پہ رضا سے نہیں؛ بلکہ سماجی ومعاشرتی امور اور مدارات سے تعلق ہے. عیدین کے مواقع پہ جب وہ ہمیں مبارکباد دیتے ہیں تو ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلامی شعائر و تہوار پہ رضا ورغبت کے بعد یا اسلامی عقائد کی تائید و توثیق کے بعد وہ ایسا کرتے ہیں بلکہ صرف سماجی ومعاشرتی حیثیت سے ہی ہمیں مبارکباد دیتے ہیں۔ ان کی مذہبی خوشیوں کے مواقع پر مسلمانوں کی طرف سے مبارکباد بھی اسی سماجی، مکافاتی، معاملاتی ومداراتی حیثیت میں دی جاتی ہے، یعنی کہ عقائد سے اس امر کا تعلق نہیں ہے 
کہ اس کی وجہ سے ملت بیزاری یا کفر کا  خدشہ ہو؛ بلکہ اس کی حیثیت دعاء کی ہے، کفار و مشرکین کے لئے مغفرت ورحمت کے علاوہ دعائیں کرنا، مبارکباد کا پیغام دینا بعض اجلاء صحابہ سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ فرعون بحالت کفر مرا، لیکن وہ اگر مجھے برکت کی دعاء کرتا تو میں بھی اسے بدلے میں مبارکباد دیتا:
عن ابنِ عباسٍ قال لو قال لي فرعونُ: بارك اللهُ فيك، قلت: وفيك، وفرعونُ قد مات۔ (صحيح الأدب المفرد: 848)
اس سے پتہ چلا کہ کافر کو بدلے میں مبارکباد دینا مدارات و معاملات سے تعلق رکھتا ہے. مذہب کے اعتقادی وعباداتی مسائل سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ صاحب فیض القدیر علامہ مناوی اور علامہ نووی رحمہ اللہ جیسے محدثین کرام کا خیال یہ ہے کہ کفار و مشرکین کے لئے دنیوی منافع (صحت، عافیت، خوش حالی، فارغ البالی، مال ودولت کی کثرت اور درازی عمر وغیرہ) کی دعائیں کی جاسکتی ہیں. (فيض القدير (1/ 345)، الأذكار/ النووي/ ص 317) 
"سلام" خالص اسلامی تحیہ اور دعا ہے. مسلمان سے ملاقات اور جدائی کے وقت "السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ" کے ساتھ سلام کرنا اور اسی لفظ کے ساتھ جواب دینا مسنون ہے۔ جمہور فقہاء، شراح حدیث اور حنفیہ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا مسلک  یہ ہے کہ کفار ومشرکین کو ابتدا بالسلام ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی ضرورت سے سلام کرنا پڑے تو جائز تو ہے لیکن اسے: 
"السلام علی من اتبع الھدی" 
کہے۔ ہاں اگر وہ سلام کرلیں تو اس کے جواب میں صرف "وعلیکم" یا "وعلیک یا علیکم" بغیر واو کے کہا جائے۔ جواب میں "وعلیکم السلام ورحمة اللہ" کہنا جائز نہیں ہے ۔ جبکہ صحابہ و تابعین کی ایک دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی ضرورت سے کسی کافر کو ابتداءاً سلام کرلیا جائے، یا اس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہہ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، یہ رائے حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوامامہ، حضرت حسن بصری اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے، ان حضرات کے پیش نظر یہ روایات ہیں:
(1) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَتَبَ إلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: السَّلَامُ عَلَيْك. 
(2) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إبْرَاهِيمَ قَالَ: إذَا كَتَبْت إلَى الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ فِي الْحَاجَةِ فَابْدَأْ بِالسَّلَامِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: اُكْتُبْ "السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى" . 
( 3 ) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ عَنْ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِالسَّلَامِ فَقَالَ: نَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَلَا نَبْدَؤُهُمْ، فَقُلْت: وَكَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَرَى بَأْسًا أَنْ نَبْدَأَهُمْ، قُلْت: لِمَ؟ قَالَ: لِقَوْلِ اللَّهِ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ. 
(4) حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَمُرُّ بِمُسْلِمٍ وَلَا يَهُودِيٍّ وَلَا نَصْرَانِيٍّ إلَّا بَدَأَهُ بِالسَّلَامِ .
(مصنف ابن أبي شيبة: 3548 (65) فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يُبْدَءُونَ بِالسَّلَامِ)
قابل غور ہے کہ جب حالات، ضرورت، حکمت ومصلحت کے پیش نظر غیر مسلمین کو صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کے نزدیک ابتداء بالسلام کرنا جوکہ خالص اسلامی دعاء ہے جائز ہے. تو تالیف قلب اور مذہبی منافرت کے خاتمہ جیسی اہم ترین ضرورت کے پیش نظر مواقع مسرت کی (مذہبی شعار کی نہیں) انہیں مبارکباد دینے، نیک خواہشات کے اظہار کرنے اور دنیوی برکات کی دعائیں دینے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے. اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ زمان ومکان اور احوال واشخاص کے فرق سے شرعی احکام میں بھی فرق آتا ہے، اگر کسی زمانے میں مخصوص حالات وعرف کے پیش نظر کسی عالم وفقیہ نے اسے ممنوع لکھا ہے تو ہر زمانے اور ہر ملک کے لئے اسے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ پھر غیرمسلمین کو تہنیت ومبارکباد دینے کا مسئلہ منصوص نہیں؛ بلکہ مجتہد فیہ ہے، دونوں میں فرق ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ممانعت پہ کتاب وسنت یا آثار صحابہ و تابعین یا ائمہ اربعہ مجتہدین سے اس بابت کوئی صریح دلیل منقول نہیں، اسی لئے حرمت تہنیت کو اتفاقی کہنا بھی علماء محققین کے ہاں محل نظر ہے۔ ممانعت کے قائلین مختلف نصوص سے دلالۃً واشارۃً اس کی ممانعت مستنبط کرتے ہیں، اگر تہنیت کا معاملہ اتنا ہی حساس واعتقادی ہوتا تو صحابہ و تابعین یا ائمہ مجتہدین سے اس بابت ضرور ممانعت منقول ہوتی۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مذہبی جنون پرستی اور مسلم اقلیت کے خلاف مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ کشیدگی، اشتعال انگیزی، فتنہ پروری، غنڈہ گردی سے ملک کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے. ایسے میں اقلیتی طبقے کے سماجی ومذہبی شخصیات پر خصوصا اور ہر مبتلی بہ فرد مسلم پر عموماً ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے عقائدی حدود کی حفاظت اور تہذیبی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اکثریتی طبقہ سے میل جول، انسانی ہمدردی، اور رواداری کے سلسلے کو مزید مضبوط ومستحکم کریں، ان کے دکھ درد اور غمی وخوشی کے مواقع پہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے شریک ہوں، اعتدال وتوازن ہر چیز میں مطلوب اور افراط وتفریط ہر شئے میں معیوب ہے۔ بے ضرورت مبارکباد کی ارزانی و فراوانی کردینا بھی بے غیرتی کی بات ہوگی، حسب ضرورت اور قدر ضرورت دفع مضرت“ جیسی مصلحت ومقصد شرعی کے پیش نظر جہاں کاروباری یا رہائشی ارتباط ہو. مذہبی تہواروں کی خوشی ومسرت پہ  نیک خواہشات کے عدم اظہار پہ  ذہنی تحفظات اور بدگمانیاں مزید گہرے ہونے کا جہاں گمان غالب ہو تو وہاں اہل تعلق غیرمسلموں سے”آپ خوش رہیں آباد رہیں.“ آپ کو حقیقی خوشی نصیب ہو“، آپ تندرست وتوانا رہیں.“ یا اس خوشی کے موقع پہ میری طرف سے مبارکباد قبول فرمائیں“ جیسے جملوں سے مبارکباد دینے یا نیک خواہشات کے اظہار میں کوئی شرعی حرج نہیں، یہ صرف دعاء ہے جو انسانی ہمدری و رواداری کے قبیل سے ہے، اسے کفر پسندی  یا مشرکانہ شعائر کی تعظیم، توثیق وتائید سے دور کا بھی واسطہ نہیں، جہاں ضرورت نہ ہو وہاں اس سے احتیاط و پرہیز یقیناً بہتر ہے، خیال رہے کہ مشرکانہ و ہندوانہ تہواروں کو راست "مبارک" کہنے کی گنجائش میرے نزدیک نہیں ہے، صرف اس موقع کی حاصل خوشی پہ مبارکباد یا دعائیں دینے کی گنجائش ہے بشرطیکہ  کسی منکر شرعی کا ارتکاب نہ ہوا ہو!
واللہ اعلم بالصواب 
مركز البحوث الإسلامية العالمي
جمعہ 4 ربیع الثانی 1442ھ 20 نومبر 2020ء
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_22.html


Saturday, 7 November 2020

لاٹری کی ایک شکل کا حکم

لاٹری کی ایک شکل کا حکم

-------------------------------
--------------------------------

السلام علیکم 

ایک مسئلہ سمجھنا تھا. وہ یہ کہ دوکان والے کچھ پرچی رکھتے ہیں جسے کھولا جاتا ہے اس کے اندر کچھ نمبر لکھا رہتا ہے. دوسرے کاغذ پر کچھ سامان چپکا رہتا ہے مثلا ٹارچ گھڑی وغیرہ. اگر پرچی اور گھڑی کے سامنے کا نمبرایک رہا تو اسے مل جائے گی. اور کبھی کچھ نہیں نکلتا اسے ٹاٹا بولتے ہیں. ایسا سامان بیچنا کیسا ہے؟

———————
الجواب وباللہ التوفیق:

یہ قمار (جوا) کی شکل ہے. احتمالی انعام کے لالچ میں جانے کتنے لوگ قیمۃً یہ پرچی خریدیں گے 

کتنوں کو کچھ نہیں ملے گا. اور اس کی خریدی گئی پرچی بیکار جائے گی. قمار و میسِر (اردو میں: جوا) اسی کو کہتے ہیں کہ کسی غیریقینی واقعے کی بنیاد پر کوئی رقم اس طرح داؤ پر لگائی جائے کہ یا تو رقم لگانے والااپنی لگائی ہوئی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اُسے اتنی ہی یا اس سے زیادہ ر قم کسی معاوضہ کے بغیر مل جائے۔ قمار شیطانی عمل اور ناجائز وحرام ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة :90)

واللہ اعلم بالصواب

شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_68.html



صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرکے وظائف پڑھنے کی تخصیص کیوں؟

صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرکے وظائف پڑھنے کی تخصیص کیوں؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال 
——
حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی جانب متوجہ ہوکر بیٹھتے تھے، اس روایت میں کسی خاص نماز کی تخصیص تو ہے نہیں پھر ہمارے یہاں امام صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرتا ہے باقی نمازوں میں نہیں۔
ایسا کیوں؟
ابوحنظلہ عبدالاحد قاسمی 
سہارنپور 
———————
الجواب وباللہ التوفیق:
سلام پھیرنے کے بعد امام کا مستقبل قبلہ بیٹھے رہنا اجماعی و اتفاقی طور پہ مکروہ بلکہ بدعت ہے.
اس کی مختلف علتیں بیان کی گئی ہے، نئے آنے والے نمازی کو امام کے نماز میں مشغول سمجھنے کے اشتباہ سے بچانا بھی من جملہ حکمتوں کے اہم حکمت ہے.
بعد سلام "اللهم أنت السلام ومنك السلام إلخ" یا تین مرتبہ استغفار یا اس جیسی دیگر ماثور مختصر دعاء پڑھ کے امام کو استقبال قبلہ سے ہٹ جانا مستحب ہے، مزید نماز کی سابقہ ہیئت کی طرح قبلہ رو بیٹھے رہنا امام کے لئے مکروہ ہے (کوئی دعاء پڑھنا مخصوص نہیں ہے، انت السلام ومنک السلام کے دورانیے کے بقدر کوئی بھی ماثور دعاء پڑھ کے امام جگہ، رخ وہیئت تبدیل کردے)
اس استحباب پر بھی علماء کا اجماع قائم ہے، ہر نماز کا یہی حکم ہے. 
بعد سلام امام کا قبلہ سے رخ پھیر دینے کی تین کیفیات احادیث میں وارد ہوئی ہیں: 
۱: امام اپنا دایاں جانب مقتدی کی طرف جبکہ یسار قبلہ کی طرف کرے.
۲: امام اپنا یمین محراب و قبلہ کی طرف جبکہ یسار مقتدی کی طرف کرے. 
۳: مقتدی کے سیدھ میں استدبار قبلہ کرکے بیٹھ جائے بشرطیکہ امام کے سامنے کوئی مسبوق نماز نہ پڑھ رہا ہو.
ان تینوں طرح بیٹھنے میں ہمارے ہاں امام کو اختیار ہے. 
البتہ اوّل الذکر دو ہیئتوں میں بیٹھنا عینی کی نقل کے مطابق صاحب مذہب امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے افضلیت کی روایت مروی ہے.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نماز کے سلام پھیرنے کے بعد “انصراف “ اور "انفتال" جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں. 
شارح بخاری علامہ قسطلانی وغیرہ "انصراف" کو اٹھ کر چلے جانے اور گھر میں بقیہ نوافل ادا کرنے پہ محمول کیا ہے، جبکہ انفتال کو استقبال ماموم پہ محمول کیا ہے. 
بعض روایتوں میں صراحت ہے کہ فجر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد سلام مختصر ذکر ماثور و تکبیر کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کرتے. 
مسائل کی تعلیم کرتے. 
کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اس کی تعبیر مرحمت فرماتے. 
ابن حجر کے بقول تعلیم مسائل کے مقصد سے امام استقبال ماموم کرسکتا ہے ورنہ انصراف و انفتال پہ عمل کرے. 
ہر نماز کے سلام کے بعد مختصر ماثور دعاء پڑھ کے تبدیلی ہیئت (انصراف، انفتال، اقبال الناس بوجہ) تمام علماء کے ہاں مستحب ہے. 
احناف بھی تبدیلی ہیئت کے استحباب کے قائل ہیں. 
البتہ دیگر مختلف روایات وآثار صحابہ کی وجہ سے احناف فرض کے سلام اور سنن رواتب کے درمیان طویل اوراد وظائف میں اشتغال کے ذریعہ فصل کو مکروہ گردانتے ہیں.
اس لئے مختصر دعاء (اللھم انت السلام جیسی دعاء) پڑھ کر اٹھ جانے، رفع یدین کے ساتھ دعاء انفرادی کرلینے گھر چلے جانے یا سنن رواتب میں مشغول ہوجانے کو بہتر سمجھتے ہیں. 
فجر وعصر کے بعد چونکہ سنن رواتب نہیں ہیں؛ اس لئے فرض کے بعد طویل اوراد ووظائف میں اشتغال سے تاخیر سنن رواتب کی کراہت کا ارتکاب نہیں ہوگا 
اس لئے ان دو نمازوں میں فرض کے سلام کے بعد تبدیلی ہیئت کے ساتھ وظائف میں مشغول ہونے کی اجازت ہے. 
لیکن فرض کے بعد سنن رواتب والی نماز میں تبدیلی ہیئت کے بعد سنن رواتب میں مشغول ہوجانا  چاہئے۔
نماز کے فورا بعد (دبرالصلوۃ وعقیب الصلوۃ) پڑھی جانے والی ادعیہ سنن رواتب کے بعد پڑھے، سنن رواتب مکملات وتوابع مکتوبات ہیں اس لئے اس کے بعد اوراد پڑھنے پر بھی دبریت وعقبیت کا تحقق ہوجائے گا یعنی تب بھی فرائض کے بعد پڑھنا ہی کہا جائے گا؛ کیونکہ یہ بھی کسی حدیث میں نہیں ہے کہ سنت راتبہ سے پہلے فرض کی جگہ میں ہی بیٹھے بیٹھے عقیب الصلوۃ والی دعائیں پڑھی جائیں!
ابن حجر ہیتمی نے صراحت کی ہے کہ سنن رواتب کے بعد اوراد ووظائف عقبیہ پڑھی جاسکتی ہیں. ثواب میں کوئی کمی نہیںم کمال میں فرق آسکتا ہے.
اگر کوئی فرض کے سنن رواتب گھر جاکر پڑھنا چاہے تو راستہ چلتے اوراد عقبیہ پڑھ سکتا ہے. 
حنفیہ کے یہاں جن نمازوں کے بعد سنن رواتب ہیں ان کے سلام کے بعد طویل وظائف میں مشغول ہونا مکروہ ہے۔
محقق ابن الہمام، حلبی، شمس الائمہ حلوانی وغیرہم کراہت تنزیہی کے قائل ہیں، جبکہ صاحب اختیار کراہت  تحریمی کے قائل ہیں. 
عادت بنائے بغیر کبھی کبھار اشتغال بالاوراد بین الفریضہ والسنہ ہوجائے تو مضائقہ نہیں:
ائمہ ثلاثہ کے یہاں امام مقتدی منفرد ہر ایک کے لئے اشتغال بالاوراد بین الفریضہ والسنہ مستحب ہے، دبر الصلوۃ وعقیب الصلوۃ کے ظاہر سے وہ استدلال کرتے ہیں 
احناف کے چند دلائل یہ ہیں:
عن عائشة رضي الله عنها قالت:
(كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) رواه مسلم (592)
وروا عبدالرزاق في "المصنف" (2/246) عن ابن جريج قال: حدثت عن أنس بن مالك قال: (صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم، وكان ساعة يسلم يقوم، ثم صليت وراء أبي بكر فكان إذا سلم وثب، فكأنما يقوم عن رضفة)
ورواه الطبراني في "المعجم الكبير" (1/252)، والبيهقي في "السنن الكبرى" (2/182) كلاهما من طريق عبدالله بن فروخ، عن ابن جريج، عن عطاء، عن أنس بن مالك.
يقول العلامۃ ابن عابدين رحمه الله:
"أما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها; لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها، فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة. 
وقول عائشة: (بمقدار) لا يفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريبا، فلا ينافي ما في الصحيحين من أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد)" انتهى من "رد المحتار" (1/531)
"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثاً ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثاً وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك.
(قوله: إلا بقدر اللهم إلخ) لما رواه مسلم والترمذي عن عائشة قالت «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لايقعد إلا بمقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة.
وقول عائشة بمقدار لايفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريباً، فلاينافي ما في الصحيحين من «أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولاينفع ذا الجد منك الجد» وتمامه في شرح المنية، وكذا في الفتح من باب الوتر والنوافل (قوله: واختاره الكمال) فيه أن الذي اختاره الكمال هو الأول، وهو قول البقالي. ورد ما في شرح الشهيد من أن القيام إلى السنة متصلا بالفرض مسنون، ثم قال: وعندي أن قول الحلواني لا بأس لا يعارض القولين لأن المشهور في هذه العبارة كون خلافه أولى، فكان معناها أن الأولى أن لايقرأ قبل السنة، ولو فعل لا بأس، فأفاد عدم سقوط السنة بذلك، حتى إذا صلى بعد الأوراد تقع سنة لا على وجه السنة، ولذا قالوا: لو تكلم بعد الفرض لاتسقط لكن ثوابها أقل، فلا أقل من كون قراءة الأوراد لا تسقطها اهـ.
وتبعه على ذلك تلميذه في الحلية، وقال: فتحمل الكراهة في قول البقالي على التنزيهية لعدم دليل التحريمية، حتى لو صلاها بعد الأوراد تقع سنة مؤداة، لكن لا في وقتها المسنون، ثم قال: وأفاد شيخنا أن الكلام فيما إذا صلى السنة في محل الفرض لاتفاق كلمة المشايخ على أن الأفضل في السنن حتى سنة المغرب المنزل أي فلا يكره الفصل بمسافة الطريق (قوله قال الحلبي إلخ) هو عين ما قاله الكمال في كلام الحلواني من عدم المعارضة ط (قوله: ارتفع الخلاف) لأنه إذا كانت الزيادة مكروهة تنزيهاً كانت خلاف الأولى الذي هو معنى لا بأس (قوله: وفي حفظي إلخ) توفيق آخر بين القولين، المذكورين، وذلك بأن المراد في قول الحلواني لا بأس بالفصل بالأوراد: أي القليلة التي بمقدار "اللهم أنت السلام إلخ" لما علمت من أنه ليس المراد خصوص ذلك، بل هو أو ما قاربه في المقدار بلا زيادة كثيرة فتأمل. وعليه فالكراهة على الزيادة تنزيهية لما علمت من عدم دليل التحريمية فافهم وسيأتي في باب الوتر والنوافل ما لو تكلم بين السنة والفرض أو أكل أو شرب، وأنه لا يسن عندنا الفصل بين سنة الفجر وفرضه بالضجعة التي يفعلها الشافعية (قوله: والمعوذات) فيه تغليب، فإن المراد الإخلاص والمعوذتان ط (قوله: ثلاثاً وثلاثين) تنازع فيه كل من الأفعال الثلاثة قبل"
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 530)
ملک العلماء علامہ كاساني رحمه الله لکھتے ہیں:
"إن كانت صلاة لا تصلى بعدها سنة، كالفجر والعصر: فإن شاء الإمام قام، وإن شاء قعد في مكانه يشتغل بالدعاء; لأنه لا تطوع بعد هاتين الصلاتين، فلا بأس بالقعود، إلا أنه يكره المكث على هيئته مستقبل القبلة، لما روي عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا فرغ من الصلاة لا يمكث في مكانه إلا مقدار أن يقول: (اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام); ولأن مكثه يوهم الداخل أنه في الصلاة فيقتدي به فيفسد اقتداؤه، فكان المكث تعريضا لفساد اقتداء غيره به فلا يمكث، ولكنه يستقبل القوم بوجهه إن شاء" انتهى من "بدائع الصنائع" (1/159)
علامہ عینی نے عمدہ القاری 599/4, حضرت شیخ نے اوجز 500/7 میں اور فیض الباری وغیرہ میں اس بابت تشفی بخش بحث کی گئی ہے؛ فليراجع ثمةً.
واللہ اعلم بالصواب 
مركز البحوث الإسلامية العالمي 
ہفتہ 20 ربیع الاول 1442ہجری  
7 نومبر / 2020
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_7.html



Thursday, 5 November 2020

اسلاف کے صبر کے تابندہ نقوش

 اسلاف کے صبر کے تابندہ نقوش

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین و اکابر رحمہم اللہ کی زندگیاں مجسم صبر تھیں، ہر نوع کی آزمائشوں پر ان کا شیوہ صبرتھا، وہ فقر و احتیاج کی آزمائش ہو یا بھوک و پیاس کا عالم ہو، بیماری ہو یا اپنوں کے فراق کا صدمہ، اولاد کی موت کا حادثہ ہو یا شریک حیات کی وفات کا سانحہ، والدین کا فراق ہو یا بھائیوں اور بہنوں کا، ہر موڑ پر ان کی تاریخ صبر وتحمل اور رضا بالقضا سے معمور ہے۔ ذیل میں اس کے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔

(۱) فقر واحتیاج کی مشقت:

فقروافلاس بہت بڑی آزمائش ہے، اور اس میں لوگوں کو بیحد مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ اہل اسلام کے صبر اور رضا بالقضا کے امتحان کا ذریعہ ہے، اللہ نے اپنی حکمت بالغہ کے ذریعہ بعض بندوں کو مالدار بنایا ہے اور بعض کو محتاج و فقیر، قرآن میں اسی حقیقت کا ذکر آیا ہے ﴿واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق﴾ (النحل:۷۱) اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطاء کر رکھی ہے، آیت سے واضح ہوا کہ مال و دولت میں عدمِ مساوات فطری ہے اور اس میں مختلف درجات کا ہونا اللہ کی حکمت بالغہ اور مصالح انسانیہ کا مقتضی ہے، فرمایا گیا ﴿اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ﴾ (العنکبوت:۶۲) اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔

اب جو بندہ فقر و افلاس پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر قانع اور راضی رہتا ہے وہ امتحانِ صبر میں کامیاب اور جنت کی نعمتوں کا مستحق ٹھہرتا ہے، حدیث نبوی میں اسی کی صراحت ہے کہ ﴿یدخل فقراء المسلمین الجنة قبل الأغنیاء بنصف یوم وہو خمسمأة عام﴾ (ترمذی) فقراء مسلمین مالداروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے، مزید فرمایا ﴿اطّلعت فی الجنة فرأیت أکثر اہلہا الفقراء﴾ (بخاری ومسلم) میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں زیادہ تعداد فقراء کی پائی۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرکے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ﴿ہل تدرون أول من یدخل الجنة من خلق اللّٰہ عزوجل؟﴾ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے کون جائے گا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا ﴿اللہ و رسولہ أعلم﴾ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿الفقراء المہاجرون الذین تسد بہم الثغور، وتتقی بہم المکارہ ویموت احدہم وحاجتہ فی صدرہ لا یستطیع لہا قضاءً﴾ (مسند احمد) جنت میں سب سے پہلے وہ فقراءِ مہاجرین جائیں گے جن کے ذریعے سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے، (دشمن کی طرف سے آنے والی) ناپسندیدہ چیزوں (حملوں) سے بچاؤ ہوتا ہے، اور ان میں جب کوئی مرتا ہے تو اپنی ضرورت سینے میں دبائے مرجاتا ہے، اس ضرورت کی تکمیل کی اس میں استطاعت نہیں ہوتی۔

ایک حدیث میں آیا ہے ﴿ان حوضی ما بین عدن الی عمان أکوابہ عدد النجوم ماوٴہ أشد بیاضاً من الثلج وأحلیٰ من العسل، واکثر الناس ورودًا علیہ فقراء المہاجرین﴾ میرا حوض کوثر عدن سے لے کر عمان تک (کی مسافت کے بقدر لمباچوڑا) ہوگا، اس کے پیالے ستاروں کی طرح (بیشمار) ہوں گے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، اور اس سے سب سے زیادہ سیراب و متمتع ہونے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﴿صِفْہم لنا﴾ ان فقراء کے اوصاف ہم سے بیان کیجئے! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿شعث الروٴوس، دُنس الثیاب، الذین لاینکحون المنعمات، ولا تُفتح لہم السُدد، الذین یعطون ما علیہم، ولا یعطون مالہم﴾ وہ پراگندہ بال، معمولی گندے لباس والے ہیں جو مالدار اور ناز و نعم میں پروردہ خواتین سے نکاح نہیں کرتے، اور جن کے لئے (فقر کی وجہ سے) دروازے نہیں کھولے جاتے، جو اپنے اوپر واجب حق ادا کرتے ہیں مگر ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

مزید فرمایا گیا ﴿ان فقراء المسلمین یُزفون کما یزف الحمام، فیقال لہم: قِفوا للحساب، فیقولون: واللہ ما ترکنا شیئًا نحاسب بہ، فیقول اللّٰہ عز وجل: صدق عبادی، فیدخلون الجنة قبل الناس بسبعین عامًا﴾ (طبرانی) فقراء مسلمین اس طرح تیز رفتاری سے آئیں گے جیسے کبوتر پر پھیلائے تیزی سے آتا ہے، ان سے کہا جائے گا: حساب کے لئے ٹھہرو، وہ کہیں گے بخدا ہم نے تو کچھ نہیں چھوڑا جس کاحساب دیں، اللہ فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ اور لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

ارشاد نبوی ہے ﴿من قلّ مالہ، وکثر عیالہ، وحسنت صلاتہ، ولم یغتب المسلمین، جاء یوم القیامة وہو معی کہاتین﴾ (مسند ابویعلی) جس کا مال کم ہو، بچے زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ وہ میرے ساتھ ہوگا (میرے قریب ہوگا)۔

فقرو احتیاج کے موقع پر صبر کی روش اپنانا بہت مشکل کام ہے اور بقول شاعر۔

آنچہ شیراں  ر ا  کند  ر و بہ مز ا ج

احتیاج است احتیاج است احتیاج

جو چیز شیر (جیسے بہادر) کو گیدڑ (جیسا بزدل) بنادیتی ہے وہ فقرواحتیاج ہے، اس لئے فقر کی حالت میں جو بندہ صبر و ثبات کی راہ پر گامزن رہتا ہے وہی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، انبیاء واولیاء، صدیقین و شہداء وصالحین سب کو اس امتحانِ فقر سے گذرنا پڑا، اور سب صابرانہ کامیاب گذرے۔

اہل اسلام کے لئے سب سے بڑا نمونہ اور مشعل راہ سید الاولین والآخرین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے، فقر وفاقہ کی آزمائش پر صبر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری لمحہٴ زندگی تک فقر کا سامنا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ لگاتار دو ماہ گذر جاتے تھے اور آپ کے گھر میں چولھا گرم نہیں ہوتا تھا اور کھجور و پانی پر گذارہ ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)

عہدنبوت کا بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! میں مصیبت زدہ ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے کھانا منگواتے ہیں مگر تمام ازواج مطہرات کے ہاں سے جواب آتا ہے کہ پانی کے سوا کچھ نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو متوجہ کرتے ہیں، حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اس مہمان کو لے جاتے ہیں اور بچوں کے لئے تیار کھانا بچوں کو بہلاسلاکر اپنے مہمان کو کھلاتے اور ایثار کا ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ ایک اسلامی موٴرخ نے اس واقعہ کا نقشہ اپنے ساحرانہ اسلوب میں اس طرح کھینچا ہے۔ ”مغرب کی نماز ہوچکی ہے، کچھ نمازی رخصت ہوگئے ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد میں تشریف فرما ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوتا ہے، پراگندہ مُو، خستہ حال، چہرے پر زندگی کی سختیوں کے نقوش، عرض کرتا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں مفلس اور مصیبت زدہ ہوں وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا ہے مگر شاید زبان ساتھ نہیں دیتی، مسجد میں پھیلی ہوئی خاموشی گمبھیر ہوجاتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چند لمحے اس کے سراپا کا جائزہ لیتے ہیں، پھر ایک شخص سے فرماتے ہیں: ”ہمارے ہاں جاؤں اور اس مہمان کے لئے کھانا لے آؤ“۔ وہ خالی ہاتھ واپس آجاتا ہے اور زوجہٴ محترمہ کا پیغام دیتا ہے: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا، میرے پاس اس وقت پانی کے سوا کچھ نہیں۔“ مسافر پیغام سن کر دم بخود رہ جاتا ہے، وہ جس بابرکت ہستی کے پاس اپنے افلاس کا رونا لے کر آتا ہے خود ان کے گھر کا یہ حال ہے! حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پیغام سن کر دوسری زوجہٴ مطرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتے ہیں، مگر وہاں سے بھی یہی جواب ملتا ہے، ایک ایک کرکے سب ازواجِ مطہرات سے پوچھواتے ہیں، لیکن سب کاجواب یہی ہے: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔

نووارد کی حالت دیدنی ہے وہ افلاس اور فاقہ کشی سے بھاگ کر اس پاک ہستی کے دامن میں پناہ لینے آیا تھا جو تنگ دستوں اور محتاجوں کا ملجا و ماویٰ ہے، تاج دارِ دوعالم ہے، جس کے اشارے پر دنیا بھر کے خزانے قدموں پر ڈھیر ہوسکتے ہیں، ایسی عظیم اور مقدس ہستی کے ہاں بھی بس اللہ کا نام ہے! اسے اپنے گھر کا خیال آجاتا ہے، وہاں اتنی احتیاج تو نہ تھی، جب اس نے گھر چھوڑا تھا اس وقت بھی اس کے ہاں تین دن کی خوراک موجود تھی، پھر ایک بکری بھی اس کے پاس تھی جس کا دودھ زیادہ نہ سہی، بچے کے لئے تو کافی ہورہتا تھا، وہ تو اس خیال سے حاضر ہوا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے دامن احتیاج پھیلائے گا، وہ جن کا جودوکرم ہو اسے بھی زیادہ بے پایاں ہے ان کے فیضِ کرم سے کٹھن زندگی آسان ہوجائے گی، لیکن یہاں تو عالم ہی اور ہے، اسے اپنے وجود پر شرم آنے لگتی ہے اور ندامت کے قطروں سے اس کی پیشانی بھیگ جاتی ہے، اچانک اسے آقائے دوسرا کی آواز سنائی دیتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں: ”آج کی رات اس شخص کی میزبانی کون کرے گا؟“ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اٹھ کر عرض کرتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا گھر حاضر ہے.“ پھر اس شخص کو ساتھ لے کر گھر آتے ہیں بیوی امّ سلیم سے پوچھتے ہیں: ”کھانے کو کچھ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مہمان ساتھ آئے ہیں.“ نیک بخت کہتی ہیں ”میرے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا کچھ بھی نہیں“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”بچوں کو سلادو اور کھانا دسترخوان پر چن کر چراغ گل کردو ہم مہمان کے ساتھ بیٹھے یونہی دکھاوے کو منھ چلاتے رہیں گے اور وہ پیٹ بھرکر کھالے گا۔“ (اسلامی زندگی کی کہکشاں /۶۰-۶۳، از آباد شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ)

ام سلیم رضی اللہ عنہا ایسا ہی کرتی ہیں، اندھیرے میں مہمان یہی سمجھتا ہے کہ میزبان بھی اس کے ساتھ کھانا کھارہے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاکر سارا گھر فاقے سے پڑا رہتا ہے، صبح ہوتی ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، حضور انہیں دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں تم دونوں میاں بیوی رات مہمان کے ساتھ جس سلوک سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم آیت تلاوت فرماتے ہیں جواس موقع پر نازل ہوئی ﴿ویوٴثرون علی أنفسہم ولو کان بہم خصاصة﴾ اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج کیوں نہ ہوں. (الحشر:۹) اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے ایثار کی داستان رہتی دنیا تک کلام الٰہی میں ثبت ہوجاتی ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی حد سے زیادہ زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی تھی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دن خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر آپ لیٹے ہوئے ہیں اور اس کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے، اور چٹائی کی بُناوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشانات ڈال دئیے ہیں، اور سرہانے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال کوٹ کے بھری ہوئی ہے، یہ حالت دیکھ کر حضرت عمر کی آنکھیں بھر آئیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کا سبب پوچھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ﴿یا نبی اللہ! ومالی لا أبکی، وہذا الحصیر قد اثر فی جنبک، وذلک قیصر وکسریٰ فی الثمار والأنہار، وأنت نبی اللہ وصفوتہ﴾ اے اللہ کے رسول! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی آپ کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشان ڈال رہی ہے، اُدھر قیصرو کسریٰ دنیا کے ناز و نعم میں ہیں، آپ تو اللہ کے نبی اور برگزیدہ ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ﴿اولئک قوم عجلت لہم طیباتہم فی الحیاة الدنیا، أما ترضی أن تکون لہم الدنیا ولنا الآخرة﴾ یہ سب تو وہ لوگ ہیں جن کو ان کی لذتیں اسی دنیا میں دے دی گئی ہیں، (اور آخرت میں ان کا کچھ نہیں ہے) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کیلئے دنیا کا عیش ہواور ہمارے لئے آخرت کا عیش۔ (بخاری و مسلم و مسند احمد)

ایک بار ایک صحابی نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ﴿واللہ انی لأحبک﴾ خدا کی قسم مجھے آپ سے گہری محبت ہے اور یہی بات تین بار دہرائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان کنت تحبنی فأعد للفقر تجفافًا فان الفقر أسرع الی من یحبنی من السیل الی منتہاہ﴾ اگر مجھ سے سچی محبت ہے تو فقر وفاقہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ، مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فقر سیلاب کی رفتار سے زیادہ تیزی سے آتا ہے۔ (ترمذی)

قرآن میں آپ کو حکم دیا گیا ﴿واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغداة والعشی یریدون وجہہ، ولا تعد عیناک عنہم ترید زینة الحیاة الدنیا﴾ (الکہف:۲۸) آپ اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجئے جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے لئے ان سے نگاہیں نہ پھیرئیے۔

اس حکم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق فقراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہت افزوں ہوگیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خنداں ملتے اور سلام میں پہل کرتے اور فرماتے ﴿الحمد للہ الذی جعل فی أمتی من أمرنی ربی أن أبد أہم بالسلام﴾ تمام تعریف اللہ کی ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا کہ میں اُن سے سلام میں پہل کروں، اور ان فقراء سے فرمایا ﴿ابشروا یا صعالیک المہاجرین بالنور التام یوم القیامة، تدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس بنصف یوم، وذلک خمس مأة عام﴾ (ابوداؤد) اے فقراء مہاجرین! قیامت کے دن مکمل روشنی کی بشارت قبول کرو، تم مالداروں سے آدھے دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤگے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فقراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کچھ تلخ کلامی ہوگئی ہے. اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر ﴿لعلک أغضبتہم، لئن کنت أغضبتہم لقد أغضبت ربک﴾ شاید تم نے ان کو ناراض کردیا ہے، اگر تم نے ان کو ناراض کردیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ہے، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور معذرت کی۔

روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ۳۰/ صاع جو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی (بخاری) آپ کی دعاؤں میں یہ دعاء بہت مشہور ہے ﴿اللّٰہم أحینی مسکینا وأمتنی مسکینًا واحشرنی فی زمرة المساکین﴾ (ترمذی) اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھا، اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما۔

ان روایات سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیرانہ زندگی گذاری اور فقر میں صبر کا عملی نمونہ قائم فرمادیا، ایک دن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلے اور فرمایا ﴿یا أبا ذر أعلمت أن بین یدی الساعة عقبة کوٴودًا لا یصعدہا الا المخففون﴾ اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ قیامت میں ایک گھاٹی بڑی دشوار گذار ہوگی جس پر وہی چڑھ سکیں گے جو ہلکے ہوں گے، ایک آدمی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلکا ہوں یا بھاری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ایک دن کی خوراک ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کل کی خوراک ہے؟ اس نے کہا ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پرسوں کی ہے؟ اس نے کہا نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس تین دن کا کھانا ہوتا تب تم بھاری ہوتے، اور وہ گھاٹی عبور نہ کرپاتے۔ (طبرانی) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مال کی کثرت کو مالداری سمجھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿انما الغنی غنیٰ القلب والفقر فقر القلب﴾ اصل مالداری دل کی مالداری ہے اور اصل فقر دل کا فقر ہے۔ (نسائی)

اطاعت رسول کے جذبہٴ بے پناہ کے نتیجے میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فقر وفاقہ کی زاہدانہ زندگی کو ترجیح دیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تاریخ میں اس کے بے شمار نمونے موجود ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بار اپنی تلوار لے کر بازار آئے اور فرمایا کہ مجھ سے یہ تلوار کون خریدے گا؟ اگر میرے پاس چار درہم ہوتے جس سے میں تہہ بند خرید سکتا تو میں یہ تلوار فروخت نہ کرتا۔ (حیاة الصحابہ: ۲/۳۱۰)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ جاؤ ایک غلام مانگ لاؤ، تاکہ وہ گھر کا کام کردیا کرے اور تمہیں اتنی مشقت نہ اٹھانی پڑے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خدمت نبوی میں آئیں مگر شرم و حیاء سے کچھ کہہ نہ سکیں، واپس چلی گئیں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آئیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ چکی پیستے پیستے فاطمہ کے ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، آپ ایک خادم عنایت کردیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غلام تم کو نہیں دے سکتا، میں انہیں فروخت کرکے ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا، یہ سن کر حضرت علی و فاطمہ واپس چلے آئے، تھوڑی دیر بعد حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے، حضرت علی و فاطمہ دونوں لیٹے ہوئے تھے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ﴿ألا أخبر کما بخیر ما سألتمانی﴾ کیا میں تم کو اس چیز سے بہتر نہ بتاؤں جو تم نے مجھ سے مانگی تھی، دونوں نے عرض کیا کیوں نہیں ضرور بتائیے! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو مجھے جبریل نے سکھائے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللّٰہ، دس بار الحمد للّٰہ، اور دس بار اللّٰہ اکبر کہہ لیا کرو، اور بستر پر لیٹتے وقت ۳۳/ بار سبحان اللّٰہ، ۳۳/ بار الحمد للّٰہ، اور ۳۴/ بار اللّٰہ اکبر کہہ لیا کرو، حضرت علی کا بیان ہے ﴿فواللّٰہ ما ترکتہن منذ علمنیہن﴾ خدا کی قسم جب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھلائے آج تک میں نے انہیں نہ چھوڑا، پوچھا گیا کہ: ”کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟“ فرمایا کہ: ”نہیں اس رات بھی نہیں چھوڑا“۔ (الاصابة: ۴/۳۷۹)

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، اور ان کے گھر کا جائزہ لینے لگا، پھر بولا: اے ابوذر! میں آپ کے گھر میں کوئی سامان نہیں دیکھ رہا ہوں، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بولے کہ ہمارا اصل گھر دوسرا ہے (جنت) جہاں ہم سارا اچھا سامان (عمل صالح) بھیج رہے ہیں، وہ شخص بولا کہ جب تک یہاں ہیں کچھ سامان یہاں بھی ہونا چاہئے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس گھر کا مالک (اللہ) ہم کو یہاں رہنے نہیں دے گا (موت دے گا) اس لئے یہاں کچھ سامان رکھنا بے سود ہے۔ (مختصر منہاج القاصدین: ابن قدامہ المقدسی / ۳۶۸)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہدخلافت میں شام تشریف لے جاتے ہیں، شہر حمص کے دورے پر پہنچتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ یہاں سب سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اس کا نام لکھا جائے، تمام حاضرین جواب دیتے ہیں، سعید بن عام بن جذیم، حضرت عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ کون سعید؟ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے گورنر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑا تعجب ہوتا ہے، پوچھتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کیا ہوتی ہے؟ جواب ملتا ہے کہ سب فقراء میں تقسیم کردیتے ہیں، کچھ باقی نہیں رکھتے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں، وہ حضرت سعید کی خدمت میں ایک ہزار دینار بھجواتے ہیں، قاصد جاتا ہے اور کہتاہے کہ امیرالموٴمنین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ضروریات کیلئے یہ ہدیہ بھیجا ہے، حضرت سعید زور سے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہیں، ان کی بیوی اندر سے باہر آتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کیا بات ہے؟ کیا امیرالموٴمنین کا انتقال ہوگیا؟ حضرت سعید کہتے ہیں نہیں: اس سے بڑی مصیبت آئی ہے، اہلیہ پوچھتی ہیں: کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ جواب ملتا ہے: نہیں اس سے بڑا حادثہ ہوا ہے، اہلیہ پوچھتی ہیں کہ کچھ تو بتائیے کیا بات ہے؟ حضرت سعید فرماتے ہیں ﴿الدنیا: أتتنی الفتنة، دخلت علیّ﴾ دنیا کا فتنہ میرے پاس آگیا ہے، پھر وہ سب دینار مستحقین پر صرف کردیتے ہیں۔(کتاب الزہد للامام احمد: ۱۸۵)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہٴ خلافت میں جمعہ کی نماز میں کچھ تاخیر سے آئے، حاضرین کو اس سے ناگواری ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس بس ایک قمیص ہے، اسے دُھل دیا تھا، اس کے سوکھنے میں دیر ہوگئی۔

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار حضرت رابعہ عدویہ سے ملاقات کے لئے گئے، حضرت رابعہ بدحالی اور فقر کا شکار تھیں، حضرت سفیان نے انہیں اپنے کسی مالدار پڑوسی سے مدد طلبی کے لئے کہا، اس پر حضرت رابعہ نے جواب دیا ﴿یا سفیان وما تریٰ من سوء حالی؟﴾ اے سفیان! تم میری بدحالی کیا دیکھتے ہو؟ ﴿ألست علی الاسلام﴾ کیا تم اسلام پر یقین نہیں رکھتے؟ ﴿فہو العز الذی لا ذلّ معہ، والغنیٰ الذی لا فقر معہ، والأنس الذی لاوحشة معہ﴾ اسلام سراپا عزت ہے، اس کے ساتھ ذلت نہیں، وہ غنی ہے جس کے ساتھ فقر نہیں، وہ انس ہے جس کے ساتھ وحشت نہیں، ﴿واللّٰہ انی لأستحی أن اسأل الدنیا من یملکہا فکیف أسألہا من لا یملکہا؟﴾ بخدا میں تو اس اللہ سے دنیا مانگنے سے شرماتی ہوں جو دنیا کا مالک ہے، تو میں کیسے اس سے دنیا مانگ سکتی ہوں جو دنیا کا مالک نہیں ہے، یہ سن کر حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ بول اٹھے کہ ﴿ما سمعت مثل ہذا الکلام﴾ میں نے اس جیسا (عمدہ و موٴثر) کلام نہیں سنا۔

امام دارالہجرة امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ کو طلب علم کی راہ میں اپنے گھر کی شہتیریں تک فروخت کرنی پڑیں، اتنی مشقتوں کے بعد ان کو علم ملا، پھر جب وہ مسند مشیخت حدیث پر متمکن ہوئے تو دنیا ان پر ٹوٹ پڑی، وہ فرمایا کرتے تھے ﴿لاینال ہذا الأمر حتی یذاق فیہ طعم الفقر﴾ دین کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ساتھ فقر کا ذائقہ نہ چکھا جائے۔

(۲) بھوک اور پیاس کی مشقت:

خردونوش انسانی زندگی کے بقاء و قیام کا اہم ترین ذریعہ ہے، اگر آدمی خوردونوش سے محروم رہے تواس میں ضعف آجاتا ہے اور وہ موت کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے، اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی ملتی ہے ﴿اللّٰہم انی أعوذبک من الجوع فانہ بئس الضجیع﴾ خدایا میں بھوک سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ بدترین ساتھی ہے۔ (کنزالعمال: ۲/۳۶۸۹)

انبیاء و رسل علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء و اتقیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے بھوک پیاس کی مشقت پر صبر کیا، قناعت، رضا بالقضا اور صبر نے ان کی زندگیوں کو آراستہ کردیا تھا، غزوئہ خندق کے موقع پر سخت بھوک اور فاقہ مستی کا عالم تھا، ہر صحابی مضطرب تھا، ایک صحابی بے قرار ہوکر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں سخت بھوکا ہوں، اور اپنے پیٹ پر بندھا ہوا پتھر دکھا دیا، حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا شکم مبارک کھولا تو اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے تاکہ بھوک کی شدت کو محسوس نہ ہونے دیں۔

ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلافِ معمول بیٹھ کر نماز ادا کررہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا نہیں: بھوک کی شدت ہے جس کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا ہے، اس لئے بیٹھ کر نماز ادا کررہا ہوں۔

مکی زندگی میں جب اہل کفر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور قبیلہ بنو ہاشم کا مقاطعہ کیا اور آپ کو شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا، تین سالہ مقاطعہ کی اس طویل مدت میں آپ کو اور تمام لوگوں کو بھوک اور پیاس کی مشقت پر سینکڑوں بار صبر کرنا پڑا، درخت کے پتوں پر گذارا کرنا پڑا، یہاں تک کہ منھ زخمی ہوگئے، آپ کی سیرت طیبہ میں ایسے واقعات بے شمار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری رات بھوک کے عالم میں گذاری، بھوک مٹانے کے لئے کچھ نہ تھا، صبح کو گھر میں آتے اور کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔

صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں بھی اسی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں، انھوں نے پورے صبر اور عزیمت و حوصلہ مندی کے ساتھ بھوک و پیاس کی مشقت کا مقابلہ کیا، کبھی بھوک کی شدت ان کو بے چین بناتی تھی، کبھی پیاس کی شدت بے ہوش کردیتی تھی، اہل صفہ اس صبر کے لحاظ سے سب میں ممتاز ہیں، جس کا اندازہ صرف اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سات سات آدمی ایک ہی کھجور کو باری باری چوستے تھے تاکہ بھوک کی شدت میں کمی آئے، اس کے سوا کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تھا۔

شیخ عبدالقادر جیلانی کی فاقہ کشی:

شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا: میں نہر کے کنارے سے خرنوب اشوک،گری پڑی سبزی اور خس کے پتے لے کر آتا اور ان کو کھاکر گذارہ کرتا، بغداد میں اس قدر ہوش ربا گرانی تھی کہ مجھے کئی دن بغیر کھائے ہوجاتے تھے، اور میں اس تلاش میں رہتا تھا کہ کہیں کوئی پھینکی ہوئی چیز مل جائے تو اسے اٹھاکر بھوک مٹالوں، ایک روز، بھوک کی شدت میں اس امید پر دریا کے کنارے چلاگیا کہ شاید مجھے خس یا سبزی وغیرہ کے پتے پڑے ہوئے مل جائیں گے، تو اسے کھالوں گا، مگر میں جہاں بھی پہنچا معلوم ہوا، مجھ سے پہلے کوئی دوسرا اٹھاکر لے گیا، کہیں کچھ ملا بھی تو وہاں دوسرے غریبوں اور ضرورت مندوں کو اس پر چھینا جھپٹی کرتے ہوئے دیکھا، اور میں ان کی محبت میں اسے چھوڑکر چلا آیا۔

میں وہاں سے چلتا ہوا اندرونِ شہر آیا، خیال تھا کہ کوئی پھینکی ہوئی چیز مل جائے گی لیکن یہاں بھی اندازہ ہوا کہ کوئی مجھ سے پہلے اٹھاکر لے گیا ․․․․ میں بغداد کے ”عطر بازار“ میں واقع مسجد یاسین کے پاس پہنچا تو بہت ہی نڈھال ہوچکا تھا اور قوتِ برداشت جواب دے چکی تھی، میں مسجد میں داخل ہوگیا، اور ایک کونے میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگا۔

کھانا لئے ایک عجمی نوجوان کی آمد:

اتنے ہی میں ایک عجمی نوجوان صاف ستھری روٹیاں اور بھنا ہوا گوشت لے کر آیا اور بیٹھ کر انہیں کھانا شروع کردیا وہ جب لقمہ لیکر ہاتھ اوپر کرتا تو بھوک کی شدت کی وجہ سے بے اختیار میرا منھ کھل جاتا، کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے آپ کو ملامت کی، اور دل میں کہا: یہ کیاحرکت ہے؟ یا تو خدا کھانے پینے کا کوئی انتظام کرے گا، اوراگر موت کا فیصلہ لکھ چکا ہے تو پھر وہ پورا ہوکر رہے گا!!

کھانے کے لئے اصرار:

اچانک عجمی کی نظر میرے اوپر پڑی، اور اس نے مجھے دیکھ کر کہا: بھائی، آؤ کھانا کھالو، میں نے منع کردیا، اس نے قسم دی تو میرے نفس نے لپک کر کہا کہ اس کی بات مان لو، لیکن میں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پھر انکار کردیا، اس نے پھر قسم دی، اور آخر میں راضی ہوگیا اور رُک رُک کر تھوڑا تھوڑا کھانے لگا، وہ مجھ سے پوچھنے لگا، تم کیا کرتے ہو؟ کہاں کے ہو؟ اور کیا نام ہے؟ میں نے کہا: میں جیلان سے پڑھنے کے لئے آیا ہوں، اس نے کہا: ”میں بھی جیلان کا ہوں.“ کیا تم ابوعبداللہ صومعی درویش کے نواسے، عبدالقادر نامی، جیلانی نوجوان کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: میں وہی تو ہوں!۔ (صبر و استقامت، ص: ۱۰۷، ترجمہ: عبدالستار قاسمی)

محمد بن نصر مَرْوزی کا پیاس کے مارے بُرا حال:

حافظِ حدیث، خطیب بغدادی، تاریخ بغداد میں اور حافظ ذہبی ”تذکرة الحفاظ“ میں امام محمد بن نصر مروزی (پیدائش ۲۰۲ھ وفات ۲۹۴ھ) کا تذکرہ کرتے ہوئے ابوعمرو عثمان بن جعفر بن لبان کی روایت سے محمد بن نصرمروزی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ:

”میں مصر سے اپنی ایک باندی کو لے کر چلا، اور مکہ مکرمہ جانے کے لئے ایک جہاز پر سوار ہوا، اچانک راستہ میں اُسے حادثہ پیش آیا اور ڈوب گیا، اور اسی کے ساتھ میری دو ہزار کتابیں بھی بہہ گئیں، کسی طرح میں اور میری باندی ایک جزیرے میں پہنچ گئے، دیکھا تو وہاں دور دور تک کوئی نظر نہ آتا تھا. مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی، مگر پانی کا کہیں نام و نشان نہ تھا، جب میں نڈھال ہوگیا تو باندی کی ران پر سررکھ کر لیٹ گیا اور موت کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔

غیبی امداد:

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ایک کوزہ میں پانی لے کر آیا، اوراس نے کہا پیو! میں نے لے کر خود پیا اور باندی کو پلایا، اس کے بعد وہ چلاگیا، مجھے پتہ نہیں کہ وہ کہاں سے آیا اور کہاں کو گیا۔ (تاریخ بغداد: ج: ۳، ص: ۳۱۷، تذکرة الحفاظ، ج: ۲، ص: ۶۵۲)

مجبوری سب کچھ کرواتی ہے:

بکربن حمدان مروزی کی روایت ہے کہ انھوں نے ابنِ خروش کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”مجھے طلب حدیث میں پانچ مرتبہ اپنا پیشاب پینے کی نوبت آئی ہے۔“

اس کی وجہ دراصل یہ تھی کہ وہ حدیث حاصل کرنے کے شوق میں بیابانوں اور بے آب و گیاہ میدانوں میں رات دن پیدل چلا کرتے تھے اور راستے میں سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ (العبر فی خبر من غبر، ج:۲، ص: ۷۰، میزان الاعتدال، ج:۲، ص: ۶۰۰)

(۳) بیماری اور مرض کی مشقت:

مرض اور بیماری کی آزمائشوں سے عام طور پر کوئی محفوظ نہیں رہتا، اسلام نے حالت مرض میں صبر کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن میں حضرت ایوب کا صبر نمونہ کے طور پر بیان ہوا ہے، ان کے اندر حالت مرض میں صبر کی بے پناہ طاقت اللہ نے بھردی تھی، اسی لئے صبر ایوب ضرب المثل بن گیا، بقول شاعر۔

و فی  أ یو ب قُد و تنا

اذا ما استفحل الکرب

لنا فی صبر ہ و ز ر

یزول بنورہ الخطب

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر پریشانی زیادہ ہونے کے وقت ہمارے لئے نمونہ ہے، جس میں ہمارے لئے پناہ گاہ ہے، جس کے نور سے پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے لخت جگر حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق پر بیحد صدمہ پہنچا جس سے ان کی صحت متاثر ہوئی اور روتے روتے بینائی ختم ہوگئی، مگر انھوں نے صبر سے کام لیا، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے لقمہ بنایا، پھر ایک کنارے پر اگل دیا، اس وقت وہ بیحد کمزور اور نحیف و ناتواں ہوگئے تھے، مگر وہ صبر سے کام لیتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کی طاقت انہیں لوٹادی۔

خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمام لوگوں کیلئے صبر کے میدان میں بھی بہت اعلیٰ اور عمدہ نمونہ اور مشعل راہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بارے میں فرمایا ﴿انی أوعک کما یوعک رجلان منکم﴾ (بشرالصابرین: ۵۹) مجھے اتنا بخار آتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کوآتا ہے، بارہا ایسا ہوا کہ آپ مبتلائے بخار ہوئے، شدت بخار کی وجہ سے آپ تڑپتے اور کروٹیں بدلتے رہے مگر آپ مرضی بقضا رہے اور کلمہٴ خیر کے سوا زبان سے کچھ نہ نکلا، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ بخار میں تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے، میں نے چادر کے اوپر ہاتھ رکھا اور کہا ﴿ما أشد حماک یا رسول اللّٰہ؟﴾ اے اللہ کے رسول! آپ کو کتنا سخت بخار ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿انا کذلک یشدد علینا البلاء، ویضاعف لنا الأجر﴾ ہم پر اسی طرح سخت آزمائش آتی ہے اور دوہرا اجر ملتا ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! ﴿من أشد الناس بلاءً؟﴾ سب سے سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ فرمایا: ﴿الأنبیاء﴾ انبیاء کی، پوچھا پھر کس کی؟ فرمایا ﴿العلماء﴾ اہل علم کی، پوچھا پھر کس کی؟ فرمایا ﴿الصالحون﴾ نیک بندوں کی، پھر فرمایا کہ ﴿وکان أحدہم یُبتلیٰ بالقمل حتی یقتلہ﴾ پچھلے لوگوں میں کسی پر جویں مسلط کردی جاتی تھیں جو اسے مار ڈالتی تھیں، یہ آزمائش ہوتی تھی، ﴿وکان أحدہم یُبتلی بالفقر حتی ما یجد الا العباء ة یلبسہا﴾ اور کسی کو فقر میں مبتلا کیا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے ایک عبا کے سوا کوئی لباس نہ میسر آتا تھا ﴿ولأحدہم کان أشد فرحاً بالبلاء من أحدکم بالعطاء﴾ ان کو آزمائش پر اتنی زیادہ مسرت ہوتی تھی جتنی تم کو نعمتوں اور عطیات پر ہوتی ہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ ابن ماجہ: ۵۹)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک بار رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم میں کہیں درد ہونے لگا، آپ بے چین ہوگئے، کروٹ بدلنے لگے، حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی ایسا کرتا تو آپ اس پر ناراض ہوجاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان الموٴمنین لیشدد علیہم، وانہ لیس من موٴمن تصیبہ نکبة شوکة ولا وجع الا کفر اللّٰہ عنہ بہا خطیئة ورفع لہ بہا درجة﴾ بلا شبہ اہل ایمان پر سختی کی جاتی ہے، اور جس مسلمان کو کوئی چوٹ لگتی ہے، کانٹا چبھتا ہے، درد ہوتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے، تواللہ اسے اس کی خطاؤں کا کفارہ بنادیتا ہے اور اس کے درجے بلند کردیتا ہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ بیہقی)

حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو حالت مرض میں صبر کی تاکید فرماتے تھے اور بیماری کو گناہوں سے پاکی کا ذریعہ اور ترقیٴ درجات کا زینہ بتاتے تھے، روایات میں آتا ہے کہ ایک کالی عورت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور میرا بدن کھل جاتا ہے، آپ میرے لئے اللہ سے دعا کردیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان شئت صبرت ولک الجنة، وان شئت دعوت اللّٰہ أن یعافیک﴾ اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تم کو جنت ملے، اور چاہو تو میں اللہ سے دعاء کردوں کہ تم کو عافیت عطاء فرمائے، اس عورت نے کہا کہ میں صبر کروں گی، مگر آپ اتنی دعا کردیجئے کہ میرا بدن نہ کھلے، تو آپ نے دعاء فرمادی۔ (وبشرالصابرین بحوالہ مسند احمد: ۶۱۔)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے آئے، فرمایا کہ یہ مرض تو ٹھیک ہوجائے گا مگر میری وفات کے بعد جب تم اندھے ہوجاؤگے اور لمبی عمر پاؤگے تو کیا کروگے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ﴿اذاً اصبر و احتسب﴾ تب تو میں بہ نیت ثواب صبر کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿اذاً تدخل الجنة بغیر حساب﴾ تب تم جنت میں بے حساب داخل ہوگے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہوگئی، مگر وہ تازندگی صابر رہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ مسند ابی یعلیٰ: ۶۱)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں لوگ ان کی عیادت کیلئے آئے، اور طبیب بلانے کا مشورہ دیا، اس پر انھوں نے فرمایا کہ طبیب مجھے دیکھ چکا ہے اور اس کا کہنا ہے ﴿انی فعال لما أرید﴾ میں وہی کرتا ہوں جو چاہتا ہوں۔ (وبشر الصابرین بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ، ص: ۶۱)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، ان کے ساتھیوں نے کہا کہ اے ابوالدرداء! تمہیں کیا تکلیف ہے؟ فرمایا: گناہوں کی تکلیف ہے، پوچھا گیا کہ کیا خواہش ہے؟ فرمایا: جنت کی خواہش ہے، عرض کیاگیا کہ کیا کسی طبیب کو بلایا جائے؟ فرمایا کہ طبیب (اللہ) ہی نے تو مجھے لٹایا (اور بیمار کیا) ہے۔ (وبشر الصابرین بحوالہ طبقات ابن سعد: ۶۲)

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مرض طاعون میں مبتلا ہوگئے مگر اس پر صابر رہے اور فرمایا کہ اس مرض کے بدلے سرخ اونٹ مجھے پسند نہیں ہیں۔ (وبشر الصابرین بحوالہ کنزالعمال)

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پیر کا کچھ حصہ سڑگیا جس کا نکالنا ضروری ہوگیا، ڈاکٹر نے پیر کاٹنے سے پہلے بے ہوش کرنا چاہا، مگر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ نہ ہوئے، کچھ لوگ ان کو پکڑنے اور تھامنے آئے تاکہ آپریشن کے وقت وہ حرکت نہ کریں مگر آپ نے منع کردیا، اور ہوش و حواس کے عالم میں پیر کٹوادیا، ان کی زبان پر تسبیح و ذکر کا ورد جاری تھا، آپریشن ختم ہونے کے بعد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ﴿لقد لقینا من سفرنا ہذا نصباً﴾ اس سفر میں بڑی مشقت اور تعب کا سامنا کرنا پڑا، پھر کٹا ہوا پیر اپنے ہاتھ میں لے کر اسے مخاطب کیا کہ: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں تمہارے ذریعہ کسی حرام کی طرف کبھی نہیں چلا“ (وبشر الصابرین بحوالہ کنزالعمال) اسی طرح کے واقعات امام احمد بن حنبل اور دیگر اکابر رحمہم اللہ کے بھی ہیں۔

ام ابراہیم نامی خاتون بڑی نیک، عبادت گذار اور خداترس تھیں، ایک بار اونٹ نے ان کو پٹخ دیا جس کی وجہ سے ان کا پیر ٹوٹ گیا، کچھ لوگ عیادت کیلئے آئے تو انھوں نے فرمایا ﴿لولا مصائب الدنیا وردنا الآخرة مفالیس﴾ اگر دنیا کے مصائب نہ ہوتے تو ہم آخرت میں خالی ہاتھ اور مفلس آتے۔ (صفوة الصفوة: ۴/۳۸)

(۴) موت کی مشقت پر صبر:

انسان کو لاحق ہونے والے مصائب میں سب سے سخت اور دردناک مصیبت موت ہے، خود قرآن میں موت کو مصیبت کہا گیا ہے (سورہ مائدہَ ۱۰۶) اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے. (آل عمران: ۱۸۵، الانبیاء: ۳۵، العنکبوت: ۵۷) اور یہ موت و حیات کی تخلیق انسان کے حسن عمل کی آزمائش کیلئے ہے ﴿الذی خلق الموت والحیاة لیبلوکم أیکم أحسن عملاً﴾ (الملکَ۲) جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں کس کا عمل اچھا ہے، جو اس زندگی کو غنیمت سمجھ کر طاعات کا خوگر بن جاتا ہے وہ کامیاب و بامراد ہے، اور جو اسے غنیمت نہیں سمجھتا اور نیکی نہیں کرتا وہ خائب و خاسر ہے۔

قرآن میں صراحت آئی ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، وہ اپنے وقت مقرر پر آکر رہتی ہے، اس میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے، وہ ہر جگہ آسکتی ہے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، قرآن کہتا ہے ﴿ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم﴾ (الجمعةَ ۸) جس موت سے تم فرار اختیار کررہے ہو وہ تم کو پیش آکر رہے گی، عرب شاعر ابوالعتاہیہ کہتا ہے۔

لا تأمن الموت فی طرفٍ ولا نفس ولو تستّرتَ بالابواب والحرس

واعلم بأن سہام الموت قاصدَة                

لکل مدرعٍ منّا مترسٍ (وبشرالصابرین: ۶۶)

تم ایک لمحے کے لئے بھی موت سے بے خوف نہ رہو، تم چاہے جتنا چھپ جاؤ، حفاظتی انتظام کرلو، پہرے کا بندوبست کرو، بچاؤ کا سامان کرو موت کا تیر تم تک پہنچ کررہے گا۔

اسی لئے قرآن میں حکم ہے ﴿ولتنظر نفس ما قدّمت لغد﴾ (الحشرَ۱۸) جب موت آنی ہے تو ہر شخص کو یہ فکر ہونی چاہئے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیج رکھا ہے، حدیث نبوی ہے ﴿الکیّس من دان نفسہ و عمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسہ ہواہا وتمنّٰی علی اللّٰہ الأمانی﴾ (وبشرالصابرین: بحوالہ ترمذی و مسند احمد و ابن ماجہ) عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے کام کرے، اور عاجز و بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنی خواہش کے تابع کردے اور اللہ سے امیدیں باندھے رکھے، ایک حدیث میں وارد ہوا ہے ﴿اغتنم خمسا قبل خمس: حیاتَک قبل موتک، وصحتک قبل سقمک، وفراغک قبل شغلک، وشبابک قبل ہرمک، وغناک قبل فقرک﴾ (وبشر الصابرین: بحوالہ بیہقی) تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو مرض سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو فقر سے پہلے غنیمت سمجھو۔

حضرت عمر فاروق کا فرمان ہے ﴿حاسبوا أنفسکم قبل أن تحاسبوا، وزِنوا أعمالکم قبل أن توزن علیکم، فالیوم عملٌ ولا حساب، وغدًا حساب ولا عمل﴾ (مختصر منہاج القاصدین: ۳۷۲) اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے، اپنے اعمال تولو قبل اس کے کہ (قیامت میں) ان کاوزن کیا جائے، کیونکہ آج (دنیا) عمل کا وقت ہے نہ کہ حساب کا، اور کل (قیامت کا دن) حساب کا وقت ہے نہ کہ عمل کا۔

اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ موت کے وقت آدمی صبر اور رضا بالقضا اور اللہ کے سامنے خود سپردگی کا مظاہرہ کرے، یہی ایمان صادق کی دلیل اور اخروی کامیابیوں کے حصول کا ذریعہ ہے، حدیث قدسی ہے، اللہ فرماتا ہے ﴿ما لعبدي الموٴمن عندی جزاء اذا قبضت صفیہ من أہل الدنیا ثم احتسبہ الا الجنة﴾ جس بندہ مومن کے کسی عزیز کی میں روح قبض کرلوں اور وہ اس پر بہ نیت ثواب صبر کرے تواس کے لئے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں ہے۔

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خصوصاً اشرف الانبیاء محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصیبتِ موت کا بارہا سامنا ہوا، ولادت سے قبل ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، چھ سال کی عمر میں ماں کا وصال ہوگیا، آٹھ سال کی عمر میں شفیق دادا داغِ مفارقت دے گئے، پھر نبوت کے بعد مہربان چچا ابوطالب اور مخلص بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی چل بسے، اور وہ سال آپ کے لئے غم و اندوہ کا سال ہوگیا، اولاد کی وفات کا صدمہ بھی آپ نے سہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر ان کے سوا تمام صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی وفات آپ کے سامنے ہوئی، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کی وفات آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی، شفیق چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے غزوہ احد میں بے دردی سے شہید اور ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے، احد کے بعد مدینہ کی عورتیں اپنے مقتول و شہید اعزہ کا ماتم کررہی تھیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ﴿لكن حمزة لا بواكى له﴾ حمزہ پر رونے والیاں نہیں تھیں، آپ کے سامنے آپ کے بہت سے جاں نثار اصحاب نے وفات پائی، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا، حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی میں اپنا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر رکھ کر آخری ہچکی لی۔

معرکہٴ احد کے شہداء میں حضرت انس بن نضر، سعد بن ربیع اور عمرو بن جموح رضی اللہ عنہم سرفہرست رہے، غزوہ موتہ کے وفا شعار قائدین حضرت زید بن حارثہ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہم بھی نعمت شہادت سے سرفراز ہوئے، مگر موت و شہادت کے ان اور ان جیسے بے شمار حوادث کے موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے تربیت و فیض یافتہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صبر و تحمل اور استقامت و ثبات کا بے نظیر ریکارڈ قائم کیا، اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے سامنے نمونہٴ عمل رکھ دیا۔

اولاد کی موت پر صبر:

حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ﴿اذا مات ولد العبد قال اللّٰہ تعالیٰ لملائکتہ: قبضتم ولد عبدی، فیقولون: نعم، فیقول: قبضتم ثمرة فوٴداہ؟ فیقولون: نعم، فیقول: فماذا قال عبدی: فیقولون: حمدک واسترجع فیقول اللّٰہ تعالیٰ: ابنوا لعبدی بیتًا فی الجنة وسموہ بیت الحمد﴾ جب کسی کا بچہ وفات پاجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ کیا تم نے میرے بندے کے بچہ کی روح قبض کرلی؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں، اللہ فرماتا ہے کہ کیا تم نے اس کے دل کے ٹکڑے کو چھین لیا؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں، اللہ پوچھتا ہے کہ میرے بندے نے اس پر کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے آپ کی حمد بیان کی اور "انا للّٰہ وانا الیہ راجعون" کہا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد (تعریف کا گھر) رکھو۔ (ترمذی)

حضرت عتبہ بن عبداللہ، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ﴿ما من مسلم یموت لہ ثلاثة من الولد لم یبلغوا الحنث الا تلقّوہ من أبواب الجنة الثمانیة من أیہا شاء دخل﴾(مسند احمد وابن ماجہ) جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجاتے ہیں (اور وہ صبر کرتا ہے) تو یہ بچے اسے جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوجائیگا۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ما منکنّ امرأة تقدّم بین یدیہا ثلاثةً من ولدہا الا کانوا لہا حجاباً من النار، قالت امرأة: واثنین؟ قال: واثنین﴾ (مسند احمد) جس عورت کے تین بچے وفات پاجائیں وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ اور پردہ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دو بچے وفات پاجائیں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دو بچے وفات پاجائیں تو بھی یہی بات ہے کہ وہ جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔

کسی صحابی کے کم سن بچے کے انتقال کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن صحابی سے فرمایا ﴿ألا یسرّک أن لا تأتی بابا من أبواب الجنة الا وجدتہ عندہ یسعیٰ یفتح لک﴾ (مسند احمد ونسائی) کیا یہ تمہارے لئے مسرت کی بات نہیں ہے کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ اس بچے کو وہاں دوڑتے ہوئے اور اپنے لئے جنت کے دروازے کھلواتے ہوئے پاؤ۔

حضرت خنساء رضی اللہ عنہا مشہور شاعرہ ہیں، جنگ قادسیہ میں ان کے چاروں بیٹوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جب یہ خبر ان کو ملی تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے شرف کی بات ہے، اور مجھے اللہ سے خیر کی امید ہے۔

شوہر کی موت پر صبر:

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے وصال پر ان کی وفا شعار بیوی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بے پناہ غم لاحق ہوا، انھوں نے صبر سے کام لیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی یہ دعا پڑھی کہ ﴿اللہم آجرنی فی مصیبتی وأخلف لی خیرا منہا﴾ اے اللہ مجھے اس مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ پھر انہیں اللہ نے ابوسلمہ سے اچھا بدل عطاء فرمایا اور وہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں۔

بیوی کی موت پر صبر:

اس کا سب سے عمدہ نمونہ خود حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر صبر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خواتین میں سب سے پہلے مشرف باسلام ہوئیں، اور ہر طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاون کیا، اور تسلی دیتی رہیں، ان کی وفات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد غم ہوا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا، دیگر ازواج مطہرات کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر فرماتے تھے اور ان کی خوبیوں کو بیان کرتے تھے۔

ابراہیم بن ادہم کا صبر:

ایک بار سلطان ابراہیم با ادہم رحمۃ اللہ علیہ حج کے لئے آئے ہوئے تھے، قربانی کے دن حجامت بنوانے کی ضرورت ہوئی، اور ایک حجام سے بات ہوئی، لیکن جس وقت اس نے بال کاٹنے شروع کئے اسی وقت ایک مالدار آدمی جو اس کو ایک دینار اجرت دینے پر تیار تھا آگیا اور اس نے اس سے کہا کہ میری حجامت بنادو، پیسہ کی لالچ میں وہ ابراہیم ابن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوگیا اور جب اس سے فارغ ہوا تو پھر ان کی طرف آیا، ابھی تھوڑے ہی بال کاٹے تھے کہ ایک اور صاحب دینار آگیا اور وہ حجام ان کو چھوڑ کر پھر اس کے بال کاٹنے میں مشغول ہوگیا، غرض پانچ یاچھ مرتبہ یہ قصہ پیش آیا، آخر کسی نہ کسی طرح جب سلطان ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے بال کاٹ کرفارغ ہوا تو انھوں نے مزدوری دوگنی دی، وہ یہ دیکھ کر بہت شرمندہ اور حیران ہوا کہ میں نے تو ان کو اتنا پریشان اور ذلیل کیا اور یہ الٹی مجھے دوگنی مزدوری دے رہے ہیں، اس نے پوچھا: اے درویش! آپ مجھے دوچند اُجرت کیوں دے رہے ہیں؟ میں نے طمعِ دنیاوی اور اہل دنیا کے خوف سے آپ کی حق تلفی کی تھی، مجھے تو آپ سے کچھ بھی ملنے کی امید نہ تھی، اگر دینا ہی ہے تو جتنا سب دیتے ہیں وہ آپ بھی دے دیں، دو چند دینے کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا، اُجرت تو حق محنت کی ہے اور زیادتی اس بات کی کہ جب تم مجھے چھوڑکر کسی مالدار کی حجامت بنانے کے لئے جاتے تھے تو میرے نفس میں شدید غصہ اور اشتعال پیدا ہوتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ تم کو کچھ کہہ دیں، لیکن میں نے اپنے نفس کو شکست دینے کے لئے صبر سے کام لیا اور صابرین کا درجہ بہت بڑا ہے اور یہ سب مجھے تمہاری بدولت حاصل ہوا، اس لئے درحقیقت تم میرے دوست ہو، اور اجرت میں اضافہ کی یہی وجہ ہے۔ (اخلاق سلف سوم، ص: ۲۰۰، مرتبہ حضرت مولانا محمد قمرالزماں صاحب مدظلہ)

اسلاف کے صبر و تحمل اور استقامت کے یہ چند نمونے ہیں جو ہر مدعیٴ اسلام کی رہنمائی کا سامان ہیں۔

ازقلم: مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی (2)  (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_5.html



Wednesday, 4 November 2020

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے
● سوال:
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
حافظ ابن حجر العسقلانی نے ایک کتے کا ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو کاٹ کھایا.
ایک دن نصاریٰ کے بڑے پادریوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں ایک عیسائی مبلّغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکی، قریب ہی ایک شکاری کتا بندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکے سے رسی نکال کر اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹ لیا. لوگوں نے آگے بڑھ کر اس کتے کو قابو کیا اور پیچھے ہٹایا۔ تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا ہے، اس صلیبی نے کہا: بالکل نہیں، بلکہ یہ خوددار کتا ہے. جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں تو اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھا رہا ہوں اسلئے اس نے مجھ پر حملہ کردیا، یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر گالی بکی، اس بار کتے نے رسی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پر چھلانگ لگا کر اس کی منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہوگیا، اس کو دیکھ کر چالیس ہزار (40,000) منگولوں نے اسلام قبول کیا۔ (الدرر الکامنة: 3/203)
اور امام الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ "معجم الشیوخ" (صفحہ: 387) میں نقل کیا ہے، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ: اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کو کاٹا اور اس کی گردن کو دبوچا جس سے وہ ہلاک ہوگیا...
      کیا یہ واقعہ درست ہے؟
      ▪ الجواب باسمه تعالی
سوال میں مذکور واقعہ چھٹی ہجری میں پیش آیا ہے اور اس واقعے کو ابن حجر اور ذہبی رحمهما اللہ  نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کو درست قرار دیا ہے.
ابن حجر فرماتے ہیں کہ عیسائیوں نے اپنے داعی مغل قبیلوں میں پھیلا دیئے تھے تاکہ لوگوں کو عیسائی بناسکیں، ایک مرتبہ ہلاکو خان نے اپنی عیسائی بیوی ظفر خاتون کے کہنے پر ان عیسائیوں کو دعوت کی اجازت دے رکھی تھی .... إلی آخرہ
□ قال الإمام ابن حجر العسقلاني في كتابه "الدرر الكامنة": كان النصارى ينشرون دعاتهم بين قبائل المغول طمعا في تنصيرهم وقد مهد لهم الطاغية هولاكو سبيل الدعوة بسبب زوجته الصليبية ظفر خاتون، وذات مرة توجه جماعة من كبار النصارى لحضور حفل مغولي كبير عقد بسبب تنصر أحد أمراء المغول، فأخذ واحد من دعاة النصارى في شتم النبي صلى الله عليه وسلم، وكان هناك كلب صيد مربوط، فلما بدأ هذا الصليبي الحاقد في سبّ النبي صلى الله عليه وسلم زمجر الكلب وهاج ثم وثب على الصليبي وخمشه بشدة، فخلصوه منه بعد جهد...
فقال بعض الحاضرين: هذا بكلامك في حق محمد عليه الصلاة والسلام، فقال الصليبي: كلا! بل هذا الكلب عزيز النفس رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه، ثم عاد لسب النبي وأقذع في السب، عندها قطع الكلب رباطه ووثب على عنق الصليبي وقلع زوره في الحال فمات الصليبي من فوره، فعندها أسلم نحو أربعين ألفا من المغول. (الدرر الكامنة، جزء: 3، صفحة 202)
امام ذہبی نے بھی اسی واقعے کو نقل کیا ہے.
□ قال الحافظ الذهبي في
"معجم الشيوخ" (ص: 387، ط: دار الكتب العلمية):
حدثنا الزين علي بن مرزوق بحضرة شيخنا تقي الدين المنصاتي: سمعت الشيخ جمال الدين إبراهيم بن محمد الطيبي بن السواملي يقول في ملإ من الناس: حضرت عند سونجق (خزندار هولاكو وأبغا) وكان ممن تنصر من المغل، وذلك في دولة أبغا في أولها، وكنا في مخيمه وعنده جماعة من أمراء المغل وجماعة من كبراء النصارى في يوم ثلج، فقال نصراني كبير لعين: أي شيء كان محمد (يعني نبينا صلى الله عليه وسلم)؟ كان داعيا وقام في ناس عرب جياع، فبقي يعطيهم المال ويزهد فيه فيربطهم. وأخذ يبالغ في تنقص الرسول صلى الله عليه وسلم، وهناك كلب صيد عزيز على سونجق في سلسلة ذهب، فنهض الكلب وقلع السلسلة ووثب على ذاك النصراني فخمشه وأدماه، فقاموا إليه وكفوه عنه وسلسلوه، فقال بعض الحاضرين: هذا لكلامك في محمد صلى الله عليه وسلم. فقال: أتظنون أن هذا من أجل كلامي في محمد؟ لا! لكن هذا الكلب عزيز النفس؛ رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه فوثب. ثم أخذ أيضا يتنقص النبي صلى الله عليه وسلم ويزيد في ذلك. فوثب إليه الكلب ثانيا وقطع السلسلة وافترسه (والله العظيم) وأنا أنظر! ثم عض على زردمته فاقتلعها فمات الملعون، وأسلم بسبب هذه الواقعة العظيمة من المغل نحو من أربعين ألفا، واشتهرت الواقعة.
                 ▪ خلاصہ کلام
سوال میں مذکور واقعہ چونکہ ان دونوں محدثین کے قریبی زمانے میں پیش آیا تھا لہذا ان دونوں حضرات کا اس واقعے کو اپنی سند سے نقل کرنا ہی اس کی صحت کی دلیل ہے. چونکہ مغل قوم سے اللہ تعالی نے اسلام کی خدمت کا کام لینا تھا تو اس طرح کے معجزات کا پیش آنا اس قوم کے اسلام میں دخول کا پیش خیمہ ثابت ہوا.
    《واللہ اعلم بالصواب》
0333-8129000
٣ نومبر ٢٠١٨ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html