Monday, 30 April 2018

قرآنی دعاء وغیرہ میں بھی اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے؟

قرآنی دعاء وغیرہ میں بھی اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے؟
حضرت ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے. قرآن میں ہے:
فاذا قرانا القرآن فستعذ بااللہ
تو معلوم کرنا ہے کہ قرآنی دعاء وغیرہ میں بھی اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے؟ یہ بھی اس آیت کے ماتحت داخل ہے؟ کیا مع حوالہ جلد از جلد جواب فرمائیے

مزدوروں کے حقوق کا اسلامی منشور (1791)

مزدوروں کے حقوق کا اسلامی منشور
(1791)
جسمانی محنت ومزدوری انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ اور متاع گراں مایہ ہے۔۔
1886 عیسوی  کے "مئی ڈے" سے ہزاروں سال قبل جبکہ محنت کش طبقہ کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک روا رکھا جاتا، ان سے کام لے کر اور محنت ومزدوری کرواکے ان کے حقوق غصب وہضم کرلئے جاتے تھے۔ ایسے وقت میں اسلام   نے محنت کش اور مزدور طبقہ کو سماج میں باعزت حیثیت عطا کرنے کے ساتھ ان کے سماجی حقوق کے تحفظ کا ایک جامع منشور پیش کیا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔۔۔۔ان کے اموال ومزدوری کو ناحق ہضم کرجانے کو ناجائز قرادیا:
 وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تُفسِدوا فِي الأَرضِ بَعدَ إِصلاحِها ذلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿85٥﴾   (سورة الأعراف)
یعنی لوگوں کے حقوق کھاکر ظلم نہ کرو اور ان میں کمی نہ کرو۔ (ولا نفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے بھیجنے اور انصاف کا حکم دینے سے جو اصلاح ہوئی اس کے بعد فساد نہ کرو اور جس نبی کو کسی قوم کی طرف بھیجا گیا تو وہ اس قوم کی اصلاح ہے (ذلکم خیر لکم ان کنتم مئومنین) یعنی جس کا تم کو حکم دیا یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
2۔۔۔انہیں سماج میں باعزت مقام بخشا۔ برداشت سے زیادہ کام کروانے سے منع کیا۔ ان کے کام میں ہاتھ بٹانے کا حکم دیا:
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُ
صحيح البخاري. كتاب الإيمان30
اور حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا غلام تمہارے بھائی ہیں اور دین وخلقت کے اعتبار سے تمہاری ہی طرح ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری آزمائش کے لئے ما تحت بنایا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ جس شخص کے بھائی کو اس کا ماتحت بنائے یعنی جو شخص کسی غلام کا مالک بنے تو اس کو چاہئے کہ وہ جو خود کھائے وہی اس کو بھی کھلائے اور جو خود پہنے وہی اس کو بھی پہنائے نیز اس سے کوئی ایسا کام نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور اگر کوئی ایسا کام اس سے لئے جائے جو اس کی طاقت سے باہر ہو تو اس کام میں خود بھی اس کی مدد کرے. ( بخاری ومسلم)
3۔۔۔۔مزدوری طے کئے بغیر انہیں مزدور رکھ لینے سے منع کیا:
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرُهُ وَعَنْ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ مسند أحمد  رقم الحديث 11255
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت واضح نہ کر دی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
4۔۔۔پسینہ خشک ہونے سے قبل مزدوری ادا کرنے کا حکم دیا:
[ص: 817]
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ .سنن ابن ماجة.كتاب الرهون. باب أجر الأجراء
رقم الحديث 2443.

عباس بن ولید، وہب بن سعید بن عطیہ، عبدالرحمن بن زید بن اسلم، حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول 
صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل دے دو۔
5۔۔۔حیثیت کے باوجود قرض خواہوں اور مزدوروں کی مزدوری ادا نہ کرنے کو ظلم قرار دیا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ
صحيح البخاري. كتاب الحوالة
رقم الحديث 2166
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا کہ مالدار کا ادائے قرض میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی شخص کا قرض مالدار کے حوالہ کردیا جائے تو اسے قبول کرلینا چاہئے۔
6۔۔۔ مزدور کے حقوق ہضم کرلینے والوں کو قیامت میں سزا ملے گی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم خود مزدور کی طرف سے روز قیامت جھگڑیں گے: 
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ
صحيح البخاري. كتاب البيوع
رقم الحديث 2114.
بَاب إِثْمِ مَنْ بَاعَ حُرًّا

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم 
صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے میں قیامت کے دن جھگڑوں گا، ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام اور میری سوگند کے ذریعے کوئی عہد کیا اور پھر اس کو توڑ ڈالا دوسرا وہ شخص ہے جس نے ایک آزاد شخص کو فروخت کیا اور اس کا مول کھایا اور تیسرا شخص وہ ہے جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر لگایا اور اس سے کام لیا (یعنی جس کام کے لئے لگایا تھا وہ پورا کام اس سے کروایا) لیکن اس کو اس کی مزدوری نہیں دی) (بخاری)
یہ اسلام کی طرف سے مزدوروں کے دیئے حقوق ہیں۔کاش! اقوام عالم ان حقوق کی محافظ بن جائے تو "مزدور دن" منانے کی ضرورت ہی نہ بچے گی۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی
١٤شعبان ١٤٣٩ہجری
مطابق یکم مئی 2018 عیسوی

روزوں کا فدیہ رمضان سے پہلے دینے کا حکم

(۱۰۷) روزوں کا فدیہ رمضان سے پہلے دینے کا حکم
سؤال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے کافی عرصے سے شوگر ہے، مجھے ڈاکٹر نے ہر تھوڑی دیر بعد پانی پینے کا کہا ہے ہر رمضان میں مجھے کافی پریشانی ہوتی ہے، میں فدیہ نکالتا ہوں، اس سال سوچ رہا ہوں کہ اپنا فدیہ رمضان سے پہلے ہی کسی غریب کو دیدوں، اور یہ بھی خیال آرہا ہے کہ کیوں نہ دو تین سالوں کا یک بارگی دیدوں تاکہ اس غریب کا کچھ بھلا ہوجائے۔ تو کیا اس طرح رمضان سے پہلے میرا روزوں کا فدیہ دینا درست ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا طریقہ اپنائوں، ذرا وضاحت سے بتادیں۔


الجواب بعون الملک الوھاب
 نجم الفتاوی جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع
اگر کسی شخص کوایسامرض لاحق ہوجائے جس سے صحت یابی کی کوئی امید نہ ہواورکسی ماہرڈاکٹرنے بھی اس مرض کی تشخیص کردی ہواوروہ شخص روزہ رکھنے سے بالکل لاچاربھی ہو تواسے ہرروزہ کے بدلہ فدیہ ادا کرنا پڑیگا (فدیہ کی مقدار صدقہ فطرکی طرح ہے)۔ لہٰذاصورت مسئولہ میں اگریہ شخص جسکوشوگرکا مرض لاحق ہے، مذکورہ بالاصفات کا حامل ہے تو اس کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی ورنہ نہیں۔ ایسے شخص کیلئے جسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہورمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اس سال کے روزوں کا فدیہ دینا یا رمضان ہی میں یا رمضان سے پہلے آئندہ دو تین سالوں کے روزوں کا فدیہ جائز نہیں۔ البتہ یہ صورت اختیار کرلی جائے کہ اول رمضان میں اس سال کے تمام روزوں کا فدیہ یکبارگی دے دیں۔
لمافی الھندیۃ (۲۰۷/۱): فالشیخ الفانی الذی لایقدر علی الصیام یفطر ویطعم لکل یوم مسکیناً کما یطعم فی الکفارۃ… ثم ان شاء اعطیٰ الفدیۃ فی اول رمضان بمرۃ وان شاء اخرھا۔
وفی الدرالمختار(۴۲۷/۲): (وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر ویفدی وجوباً) ولو فی اوّل الشھر … ھذا اذا کان الصوم اصلاً بنفسہ وخوطب باداء ہ۔
وفی الشامیۃ تحتہ: ومثلہ مافی القھستانی عن الکرمانی المریض اذا تحقق الیأس من الصحۃ فعلیہ الفدیۃ لکل یوم من المرض
وفی الدرالمختار (۲۹۳/۲): (ولو عجل ذونصاب) زکوتہ (لسنین او لنصب صح) لوجود السبب… واختلف فیہ قبل النبات وخروج الثمرۃ والاظھر الجواز
وفی الشامیۃ تحتہ:افاد ان التعجیل قبل الزرع او قبل الغرس لایجوز اتفاقاً لانہ قبل وجود السبب کمالو عجل زکاۃ المال قبل ملک النصاب۔
نجم الفتاوی
....
رمضان سے پہلے صدقۂ فطرا دا کرنا:

(سوال ۲۴۹) صدقۂ فطر کی ادائیگی کا وقت کیا ہے؟ عام طور پر کتابوں میں لکھا ہے کہ عید الفطر سے پہلے رمضان میں ادا کرے تو بھی جائز ہے، سید الملت حضرت مولانا مفتی سید محمد میاں صاحب رحمہ اﷲ نے اپنے رسالہ ’دینی تعلیم کا رسالہ‘ نمبر ۱۱ کے ص ۸۱ پر اس کے متعلق حسب ذیل عبارت تحر یر فرمائی ہے:
’’اگر کوئی شخص عید سے پہلے رمضان شریف میں صدقۂ فطرادا کردے تو یہ بھی جائز ہے لیکن اگر رمضان سے بھی پہلے مثلاً شعبان میں یارجب میں ادا کرے تو جائز نہیں ۔‘‘ 
اور حاشیہ میں ہے: 
’’جیسے زکوٰۃ کے بارے میں گذر چکا ہے کہ مالک نصاب ہونے کے بعد سال پورا ہونے سے پہلے کوئی شخص اس سال کی زکوٰۃ ادا کرے تو وہ جائز ہے، لیکن ابھی نصاب کا مالک نہیں ہوا تھا کہ زکوٰۃ ادا کر دی تو وہ زکوٰۃ نہیں مانی جائے گی بلکہ اس کی طرف سے نفلی خیرات ہوگی۔
مگر علم الفقہ جلد چہارم میں اس کے بالکل برعکس عبارت ہے، وہ تحریر فرماتے ہیں:
(۹) صدقۂ فطر کا قبل رمضان کے آنے کے ادا کر دینا بھی جائز ہے اور دوسرے شہر میں بھی بوجہ مذکورہ بالا بھیجنا درست ہے۔ (علم الفقہ ج۴ ص ۶۶)
نیز ’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘ میں دیکھا تو اس میں اس کی تائید ہوتی ہے، عبارت حسب ذیل ہے: 
ویصح اداء ھا مقدما ومؤخراً لا ن وقت ادائھا العمر فلو اخر جھا فی ای وقت شاء کان مؤدیاً لا قاضیاً کما فی سائر الواجبات الموسعۃ (الفقہ علی المذاہب الا ربعۃ ص ۶۲۷ جلد اول )۔ 
اسی طرح عالمگیری سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، اگر یوم عید الفطر سے پہلے صدقۂ فطر دے دیں تو جائز ہے اور مدت کے مقدار کی کچھ تفصیل نہیں ہے، یہی صحیح ہے (عالمگیری ج۱ ص۳۰۰) آپ مفتی بہ قول تحریر فرمائیں کہ تشویش دور ہو۔ 
فقط بینوا توجروا۔السائل۔(مولانا) موسیٰ کرما ڈی۔ انگلینڈ۔

(الجواب) اختلافی مسئلہ ہے، رمضان سے پہلے کا بھی قول ہے، اس پر عمل کرنا خلاف احتیاط ہے، ماہ رمضان میں بھی ادا کرنے میں اختلاف ہے مگر قوی یہ ہے کہ درست ہے اور صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔ بحر الرائق میں ہے: 
وصح اداؤھا لو قدم او اخر) ای صح اداؤھا اذا قدمہ علیٰ یوم الفطر او اخرہ۔الی قولہ ۔ فصار کتقدیم الزکوٰۃ علی الحول بعد ملک النصاب بمعنی انہ لا فارق لاانہ قیاس فاندفع ابہ مافی فتح القدیر من ان حکم الا صل علیٰ خلاف القیاس لکنہ وجد فیہ دلیل وھو حدیث البخاری وکانوا یعطون قبل الفطر بیوم اوبیو مین واطلق فی التقدیم فشمل مااذا دخل رمضان وقبلہ وصححہ المصنف فی الکا فی وفی الہدایۃ والتبیین وشروح الھدایۃ وفی فتاویٰ قاضی خاں ۔ وقال خلف بن ایوب یجوز التعجیل اذا دخل رمضان وھکذا ذکرہ الا مام محمد بن الفضل وھو الصحیح وفی فتاویٰ الظھیریۃ والصحیح انہ یجوز تعجیلھا اذا دخل شھر رمضان وھو اختیار الشیخ الا مام أ بی بکر محمد بن الفضل وعلیہ الفتویٰ الخ۔ فقد إ ختلف التصحیح کما تریٰ لکن تأ ید التقییدبد خول رمضان بان الفتویٰ علیہ فلیکن العمل علیہ الخ (البحرالرائق ج۲ ص ۲۵۵ باب صدقۃ الفطر) فقط ۔واﷲ اعلم بالصواب ۔۱۸ رمضان المبارک ۱۳۹۷؁ھ۔
فتاویٰ رحیمیہ

فضیل جعفری؛ اردو نے ایک مستند ادیب شاعر اور صحافی کھودیا

ایس اے ساگر
اردو کے نامور صحافی روز نامہ انقلاب، ہفت روزہ بلٹز کے سابق ایڈیٹر، نقاد، شاعر، فضیل جعفری نہیں رہے، گزشتہ شام شمال مغربی ممبئی کے کاندیولی علاقہ میں اپنی رہائش گاہ پر 81 سال کی عمر میں آپ دنیا فانی سے کوچ کرگئے. حضرت مولانا محمود دریابادی صاحب کے بقول: نام سے شیعہ ہونے کا گمان ہوتا ہے مگر صحیح العقیدہ تھے، میرا رابطہ رہتا تھا، کئی برس قبل بھی ایک مرتبہ تین طلاق کا تنازع اٹھا تھا، اس وقت وہ انقلاب کے ایڈیٹر تھے تب مجھ سے فون پر طلاق ثلاثہ کی مکمل تفصیلات انھوں نے معلوم کی تھی، دراصل ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ بیک وقت تین طلاقیں صرف احناف کے یہاں نافذ ہوتی ہیں مگر جب میں نے ان بتایا کہ اس میں ائمہ اربعہ متفق ہیں تو انھیں بہت تعجب ہوا تھاـ
اردو کے صاحب طرز ادیب ومستند شاعر ہونے کے اور درجنوں صحافیوں کے مربّی  ہونے کے باوجود اپنے چھوٹوں سے سیکھنے کا حوصلہ بھی ان میں تھا،
ایک مرتبہ دواخانے تشریف لائے کچھ گفتگو کے بعد چلتے چلتے اچانک سوال کیا کہ اردو میں 'کاروباری مندی' کے لئے کون سا لفظ ہے؟
میں نے کہا: قرآن میں 'کساد' آیا ہے. اسی سے کساد بازاری اردو میں استعمال کیا جاتا ہے، فورا جیب سے کاغذ نکالا اور اس کو نوٹ کرلیاـ
میں نے ذاکر نائیک کے خلاف یزید پر ایک مضمون لکھا تھا وہ ان کی نظر سے گذرا ہوگا، مبارکباد دینے کے لئے تشریف لائے بہت حوصلہ افزائی فرمائی، اس مضمون میں صواعق محرقہ سے کئی حوالے دئے گئے تھے، پوچھا: صواعق محرقہ کس کی کتاب ہے؟
میں کہا ابن حجر مکی، 
فورا کاغذ پر اس کو بھی نوٹ کرلیاـ
جن دنوں حضرت ہردوئی بغرض علاج ممبئی میں مقیم تھے، فضیل صاحب نے مجھے فون کیا کہ: سنا ہے مولانا تھانوی صاحب کے خلیفہ ممبئی میں ہیں؟ ان سے ملاقات کی کیا شکل ہوگی؟ 
میں نے حضرت کی قیام گاہ پر حاضر ہوکر وقت لیا پھر وقت مقررہ پر میرے ساتھ فضیل صاحب حضرت کی خدمت میں عقیدت کے ساتھ حاضر ہوئے، حضرت نے دعائیں دیں، ایک رسالہ بھی عطا فرمایا..... وہ رسالہ قسط وار انقلاب میں شائع ہواـ"
موصولہ اطلاع کے مطابق فضیل جعفری نے پیر کو بوقت مغرب آخری سانس لی اور بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ دومہینے سے کافی علیل رہے۔ وہ کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ مرحوم نے تنقید نگاری کے لئے ہند، پاک میں شہرت حاصل کی تھی لیکن روزنامہ انقلاب سے دو مرتبہ مدیر رہے، پہلے 1990 تا 1995 اور پھر سابق مدیر ہارون رشید کے انتقال کے بعد انہیں دوبارہ 2000 میں انقلاب کے مدیر کے عہدہ پر فائز کیا گیا لیکن نامساعد حالات اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے فضیل جعفری نے 2003 کے آخرمیں عین عیدالفطر کے دن اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ انقلاب میں دوبارہ مدیر بننے سے قبل تقریباً ڈیڑھ سال مرحوم مشہور زمانہ اردو بلٹز کے مدیر اعلیٰ رہے اور اس سے پہلے خواجہ احمد عباس کے انتقال کے بعد بلٹز کا فضیل جعفری کا تعلق اترپردیش کے مردم خیز الہ آباد کے قصبہ کریلی سے تھا، 22 جولائی 1936 کو پیدا ہوئے اور تعلیم مکمل کرکے ممبئی کا رُخ کیا تھا اور بالآخر یہیں اپنے خالق حقیقی سے جاملے. پسماندگان میں اہلیہ عطیہ جعفری ،صاحبزادے ارشد جعفری اور دوبٹیاں ہیں۔ اللہ مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائےـ

نیاز کا کھانے کا کیا حکم ہے؟

سوال: السلام علیکم
نیاز کا کھانے کا کیا حکم ہے؟ حوالہ کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی👇

معدہ کے افعال اور  اس کی بیماریاں  اسباب، علامات اور علاج

معدہ کے افعال اور  اس کی بیماریاں 
اسباب، علامات اور علاج
انسان کے جسم میں یقین کا مرکز دل ہے جبکہ صحت کا مرکز معدہ ہوتا ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اپنی غلطی، غفلت اور مسائل کی وجہ سے ان اعضاء اور جسم کی ضروریات کے مطابق ان کا خیال نہیں رکھتا تو پریشانیاں اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ صحت کا مرکز ہونے کی وجہ سے معدہ انسانی جسم کا ایک اہم حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں توانائی، حرکت اور نشو و نما کی بنیادیں اسی میں ہوتی ہیں۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے، اسے کھا کر چبانا، ہضم کرنا اور پھر سے جسم انسانی کا حصہ بنانا یہ سب کام معدہ اور اس کے معاون اعضا ہی کرتے ہیں۔ نشاستے، لحمیات، حیاتین اور معدنیات انسان کی خوارک کا حصہ ہیں، ان اجزاء کا ایک فیصد استعمال ہوتا ہے اور باقی ناقابلِ ہضم اجزاء معدہ جسم سے خارج کرتا ہے۔ خوراک ہضم کرنے میں لعاب کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر لعاب ٹھیک نہ ہو تو نظامِ انہضام میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ معدہ کی تکالیف میں عمومی طور پر ورمِ معدہ، نظامِ ہضم کی خرابیاں، بھوک نہ لگنا، پیٹ میں ریاح ، گیس، تبخیر، انتڑیوں کا سکڑ جانا اور السر یعنی معدہ کے زخم وغیرہ شامل ہیں۔ معدہ کا ورم جب حادّ ہو جائے تو معدہ کا داخلی حصہ اور دیواریں سرخ اور سوجی ہوئی حالت میں تبدیل ہوجاتی ہیں، اس سے معدہ کا درد، قے، متلی، سینہ کی جلن سمیت کئی پریشان کن علامات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ معدہ کی ان بیماریوں کی وجہ سے انسان کا پورا جسم متاثر ہوتا ہے اور مزید کئی بیماریوں کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ سر کا درد، آدھے سر کا درد، نظر کی کمزوری، جگر کا تازہ خون کی پیدائش روک دینا، ہڈیوں کا درد، گردوں میں خرابیاں، وزن میں کمی، مردوں میں احتلام و جریان، خواتین میں لیکوریا اور ماہواری کی خرابیاں، نیند میں خرابی اور ذہنی انتشار و تناؤ… یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ معدہ سے لازمی تعلق ہے۔
معدہ کی بیماریوں کے اسباب
معدہ کی بیماریوں میں معدہ کا ورم اور السر نمایاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فاسٹ فوڈ، غیر مسلم ممالک میں خنزیر جیسے جانور کا حرام گوشت، زیادہ تیل اور گرم کھانا، بازاری اچاری کھانے، سگریٹ نوشی، شراب و الکوحل، بروقت نہ کھانا، جنسی عمل میں زیادتی، سوئے تغذیہ یعنی غذائی کمی یا لازمی غذائی اجزاء کا جذب نہ ہونا، عفونت جراثیمی، جیسے کہ ایچ پائلوری انفکشن، آنتوں کی عفونت، نمونیا، مسمومیت غذائی، اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط استعمال، دافع درد انگریزی ادویات؛ بشمول ڈکلوفینک سوڈئیم، ڈکلوفینک پوٹاشئیم، آئیبو پروفین، انڈو میتھاسون، فینائل بیٹازون، کوٹیزون، اسپرین اور کیمو تھراپی کے لئے استعمال ہونے والی ادویات۔ ڈاکٹر صاحبان دافع درد ادویات کے ساتھ احتیاطاً رینیٹیڈین، زینیٹیڈین اور اومپرازول استعمال کرواتے ہیں اس کا مقصد مریض کو ان ادویات کہ ممکنہ خطرات سے بچانا ہوتا ہے جو کہ معدہ کی تکایف کی صورت میں ہوتا ہے۔جنسی ہارمون اور کورٹی سون کا استعمال السر پیدا کرسکتا ہے۔
شراب نوشی‘ تمباکونوشی اور تفکرات کے علاوہ صدمات بھی السر پیدا کرتے ہیں۔ جیسے کہ خطرناک نوعیت کے حادثات‘ آپریشن‘ جل جانے اور دل کے دورہ کے بعد اکثر لوگوں کو السر ہوجاتا ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ صدمات چوٹ اور دہشت کے دوران جسم میں ایک ہنگامی مرکب ہسٹامین پیدا ہوتا ہے یہ وہی عنصر ہے جو جلد پر حساسیت کا باعث ہوتا ہے۔ یقین کیا جارہا ہے کہ اس کی موجودگی یا زیادتی معدہ میں السر کا باعث ہوتی ہے۔ اسی مفروضہ پر عمل کرتے ہوئے السر کی جدید دواؤں میں سے سیمیٹیڈٰن بنیادی طور پر ہسٹامین کو بیکار کرتی ہے اور یہی اس کی افادیت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ایسی خوراک جس میں ریشہ نہ ہو۔ جیسے کہ خوب گلا ہوا گوشت۔ چھنے ہوئے سفید آٹے کی روٹی السر کی غذائی اسباب ہیں۔
اکثر اوقات السر خاندانی بیماری کے طور پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ آپس میں خونی رشتہ رکھنے والے متعدد افراد اس میں بیک وقت مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ ان میں تکلیف وراثت میں منتقل ہوتی ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بودوباش کا اسلوب‘ کھانا پینا یا عادات ایک جیسی تھیں۔ اس لئے ان کو السر ہونے کے امکانات دوسروں سے زیادہ رہے 50 فیصدی مریضوں کو السر معدہ کے اوپر والے منہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسباب جو معدہ میں زخم پیدا کرتے ہیں وہ بیک وقت ایک سے زیادہ السر بھی بنا سکتے ہیں لیکن 90 فیصدی مریضوں میں صرف ایک ہی السر ہوتا ہے۔ جبکہ 10-15فیصدی میں ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔
اس پر حکماء اور معالجین متفق ہیں کہ السر کے متعدد اقسام جلد یا بدیر کینسر میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے پر یہ پھٹ جاتا ہے، عموماً مریض کو اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب قے کے ساتھ خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے پھٹنے میں شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور دافع درد ادویات کا اہم کردار ہوتا ہے۔
السر کی تمام پیچیدگیاں خطرناک ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی علامت یا پیچیدگی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ السر کا مریض زندگی سے مایوس، پریشان و بے چین اور اعصابی تناؤ کا شکار رہتا ہے۔
اس مختصر مضمون میں معدہ کے امراض کے اسباب و علاج مکمل لکھنا ممکن نہیں، آگہی اور علاج میں معاونت مقصود ہے۔ جس کسی کو بھی یہ تکلیف محسوس ہو اسے چاہیئے کہ فی الفور کسی مستند طبیب سے رجوع کرے۔ آپ کے آس پاس میں بہت سارے نیم حکیم آپ کو ملیں گے، تعویذ اور دم والوں کی بھی بھرمار ہو گی مگر یاد رکھیں علاج کروانے کی ترغیب ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے دی ہے۔ اس علاج میں کچھ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروانے پڑتے ہیں۔ اس لئیے کسی منجھے ہوئے حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
امراض معدہ کا آسان علاج
یہاں کچھ علامات کے ساتھ آسان علاج پیش ہیں تاہم گذارش ہے کہ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اس وقت تک استعمال نہ کرے جب تک کسی اچھے طبیب سے مشاورت نہ کر لیں۔
نسخہ نمبر1
اگر سر میں درد رہتا ہے، پاخانہ وقتِ مقررہ یا معمول میں نہیں ہے، نیند کی زیادتی ہے تو کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی اطریفل زمانی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ کھائیں۔ رات سونے سے قبل چار عدد انجیر نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ صبح نہار منہ زیادہ سے زیادہ تازہ پانی پئیں۔
نسخہ نمبر 2
اگر سر میں درد، جسم میں تھکاوٹ کمزوری، قبض اور پاخانہ درد وجلن کے ساتھ ہو یعنی بواسیر کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں یا پاخانہ میں خون خارج ہوتا ہو تو جوارش جالینوس ایک چھوٹا چمچ رات کے کھانے کے بعد پانی کے ساتھ، جوارش کمونی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ۔ چار عدد انجیر دوپہر کے کھانے کے بعد نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ مدت علاج دو مہینے۔
نسخہ نمبر 3
معدہ کی تکالیف کی وجہ سے نظر اور دماغ کمزور ہو گیا ہو، قبض کا احساس ہو اور کھانا ہضم نہ ہوتا ہو، سر میں درد، چکر ، آدھے سر کا درد ہو تو ایسی علامات میں شربتِ فولاد دو چمچ صبح شام، اطریفل اسطخودوس رات میں ایک چھوٹا چمچ، مربہ ہریڑ چار عدد نیم گرم دودھ کے ساتھ رات میں۔ مدت علاج دو ماہ جاری ہے
نسخہ نمبر4
اگر سینہ میں جلن، تبخیر، قے اور معدہ میں درد کا احساس ہو تو یہ علامات بنیادی طور پر السر کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اس کی تشخیص براہِ راست مشاورت اور چیک اپ کے بغیر نا ممکن ہے۔ اس لئیے اپنے طبیب سے ضرور ملیں۔ کچھ مفید تراکیب و علاج یہ ہیں کہ ایسے مریض کو ہلدی کے زیرو سائز کیپسول بنا کر دیں، دو کیپسول صبح شام پانی کے ساتھ۔ زیادہ سے زیادہ مائع خوراک بشکل دودھ، جوس اور صاف پانی دیں۔ میٹھا اور ترش چیزوں سے پرہیز۔
پرہیز
معدہ کی بیماریوں میں مبتلا تمام مرد و عورتیں ہر قسم کی ترش کھٹی ، گھی، مرچ مسالہ، گوشت اور بازاری خوارک سے بچیں۔ فاسٹ فوڈ کو خود کے لئیے حرام سمجھیں۔ سگریٹ نوشی کسی زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ شادی شدہ خواتین و حضرات جنسی عمل میں اعتدال برتیں۔
خوراک
نہار منہ صاف تازہ پانی، ٹھنڈا دودھ، جوس، پھل، ہرے پتے والی سبزی، ریشہ دار غذائیں، انجیر اور ہریڑ کا استعمال کریں۔
صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں
جس طرح تندرست انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھوک پر غذا کھائے اسی طرح مریض کے لئے تو اشد ضروری ہے کہ وہ بغیر شدید بھوک کوئی غذا نہ کھائیں۔ کیونکہ بھوک کی طلب نہ ہونا اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ یا تو جسم میں پہلے ہی غذا موجود ہے یا پھر طلب غذا کے عضو میں خرابی ہے اس لئے لازم ہے کہ بغیر بھوک غذا نہ کھائی جائے، کیونکہ بغیر شدید بھوک کھائی ہوئی غذا خمیر بن جاتی ہے جو ایک قسم کا زہر ہوتا ہے جس سے انسان بیمار ہوجاتا ہے۔
۔ شدید بھوک سے معدہ و انتڑیوں میں پڑا ہو خمیر جل جاتا ہے جس سے ہر قسم کے امراض جسم و خون سے بھاگ جاتے ہیں۔
شدید بھوک اگر تین دن بھی نہ لگے تو کسی قسم کی غذا نہ کھائیں البتہ چائے قہوہ یا کوئی پھل کھاسکتے ہیں۔
۔ شدید بھوک سے دوران خون تیز ہوکر پورے جسم سے ہر قسم کے فضلات خارج ہوجاتے ہیں۔
۔ شدید بھوک پر کھائی ہوئی غذا ہضم ہو کر خون بن جاتی ہے اس کے برعکس بغیر بھوک کھائی ہوئی غذا خمیر بن کر امراض میں اضافہ کردیتی ہے۔
۔ شدید بھوک بعض امراض سے نجات حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہے۔
۔ ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق اغذیہ ادویہ استعمال کرنی چاہیے، اگر مزاج کے مخالف استعمال کی گئیں تو نتیجہ امراض کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
بغیر ضرورت کھائی ہوئی غذا ضعف پیدا کرتی ہے۔
دنیا میں کوئی غذا یا دوا ایسی نہیں ہے جو انسان کو بلاضرورت اور بلاوجہ طاقت بخشے مثلاً دودھ ایک مقوی غذا سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کے جسم میں بلغم و رطوبات اور ریشہ کی زیادتی ہو ان کے لئے سخت مضر ہے۔ گویا جن لوگوں کے دماغ اور اعصاب میں تحریک و تیزی اور سوزش ہو وہ اگر دودھ کو طاقت کے لئے استعمال کریں گے تو ان کا مرض روز بروز بڑھتا جائے گا اور وہ طاقتور ہونے کی بجائے کمزور ہوتے جائیں گے۔
اسی طرح دوسری مقوی اور مشہور غذا گوشت ہے ہر مزاج کے لوگ اس سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک فاضل حکیم جانتا ہے کہ گوشت کا ایک خاص مزاج ہے۔ اگر کسی انسان کا وہ مزاج نہ ہو تو اسکے لئے مفید ہونے کی بجائے نقصان دہ ہوتا ہے۔ مثلاً جن لوگوں کا بلڈپریشر ہائی ہو ان کو اگر بھنا ہوا گوشت کھلادیا جائے تو شدید نقصان دے گا۔ اسی طرح جن لوگوں کے جگر و گردوں میں سوزش ہو انکو بھی گوشت طاقت دینے کی بجائے سخت نقصان دے گا۔
اسی طرح مقوی اور مشہور غذا گھی ہے۔ جو اس قدر ضروری ہے کہ تقریباً ہر قسم کی غذا تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو ضعف جگر ہو تو اگر گھی کا استعمال کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں بلکہ تمام جسم پھول جائے گا، سانس کی تنگی پیدا ہوجائے گی، ایسا انسان بہت جلد مرجائے گا۔
دنیا میں کوئی ایسی دوا مفرد یا مرکب نہیں ہے جس کو بلاوجہ اور بغیر ضرورت استعمال کریں اور وہ طاقت پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ فن علاج کو پیدا ہوئے ہزاروں سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسی غذا یا دوا تحقیق نہیں ہوئی جو بلا ضرورت خون پیدا کرے، یا طاقت دے۔
آج کل مارکیٹ میں طب اور ایلوپیتھی کی ہزاروں ادویات ، مقوی، سپیشل ٹانک اور جنزل ٹانک کے ناموں سے فروخت ہورہی ہیں یہ ادویات نہ صرف ہمارے ملک کے کروڑوں روپے برباد کرہی ہیں بلکہ بہت ہی خطرناک امراض پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔
ان ادویات کے بے جا استعمال سے تپ دق، سل، ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر، فالج، عصبی امراض وغیرہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ہر سال ہزاروں افراد ان میں گرفتار ہوکر مرجاتے ہیں۔
لیکن افسوس ہے کہ ملک کے کسی بھی طریقہ علاج کے معلاج نے ان مقوی پیٹنٹ ادویات کو فوری طور پر بند کرنے کا مشورہ نہیں دیا تاکہ ملک کی دولت اور قوم کی صحت برباد نہ ہو۔
معدہ کے علاج میں طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
بد ہضمی :۔
بد ہضمی ایک عام سی بیماری ہے۔ پیٹ میں بوجھ، کھٹے ڈکار، منہ میں کھٹا پانی آتے رہنا۔ پیٹ میں ہوا رہنا۔ یہ تمام کیفیات معدہ کی خرابی کی آئینہ دار ہیں۔ غذا ٹھیک سے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے جسم میں کمزوری، سستی وغیرہ واقع ہو جاتی ہے۔
بدہضمی اکثر مرغن غذاؤں، مسلسل بسیار خوری، آرام طلب زندگی، پرانی قبض، کھانے کے غیر متعین اوقات یا کھانے کے بعد جلد سو جانے کی وجہ سے آنتوں میں غذا معمول سے زیادہ ٹھہرتی ہے جس کی وجہ سے بدہضمی کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ پیدل چلنے سے آنتوں میں موجود خوارک بھی آگے کو چلتی ہے۔ جو لوگ گھر سے سواری پر کام پر جاتے ہیں حتٰی کہ تھوڑے سے فاصلہ پر بھی سواری کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کو بدہضمی اپنی اس کوشش سے حاصل ہوتی ہے۔
مسیح الملک اجمل خان دہلوی نے ثیقل غذاؤں، ٹھنڈی اور بادی غذاؤں نیز کھانے کے درمیان زیادہ پانی پینے اور پیٹ بھر کر کھانا کھانے کو بدہضمی کا باعث قرار دیا ہے۔ مسند اور دوسری کتابوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کسی خالی برتن کو بھرنا اتنا برا نہیں ہے جتنا کہ آدمی کا خالی شکم کو بھرنا۔ انسان کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی توانائی کو باقی رکھیں۔ اگر پیٹ بھرنے کا ہی خیال ہے تو ایک تہائی کھانا، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی سانس کے لئے خالی رکھے۔
مذکورہ بالا حدیث خوراک کی متوازن مقدار کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ معدہ میں پانی، غذا اور رطوبتوں کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بنتی ہے اور یہ معدہ کے اوپر والے حصے میں آ جاتی ہے۔ اگر معدہ کے اس حصے کو بھی خوارک سے بھر دیا جائے تو گیس کے لئے جگہ نہ ہوگی۔ یہ عمل معدہ میں بہت سی بیماریوں کا باعث اور سانس میں دشواری پیدا کرتا ہے۔ بدہضمی بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ ذہنی بوجھ یا ثقیل غذاؤں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا علاج تو ادویات سے کیا جا سکتا ہے لیکن پتہ یا اپینڈکس کی سوزش کا دواؤں سے علاج خطرناک ہے۔
علاج نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
بدہضمی کا بنیادی علاج شہد ہے۔ حالت خواہ کچھ بھی ہو، شہد پینے سے آرام آتا ہے۔ معدہ اور آنتوں کی جلن رفع ہوتی ہے۔ شہد اگر گرم پانی میں پیا جائے تو اکثر اوقات نیند آ جاتی ہے جس کے بعد علامات کا بیشتر حصہ ختم ہو جاتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق شہد قدرے ملین، محلل ریاح اور دافع تعفن ہے۔
کھانے کے بعد پیٹ میں بوجھ زیادہ ہو تو 4۔ 3 دانے خشک انجیر چبا لینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ پیٹ میں اگر السر نہ ہو تو انجیر کو کچھ عرصہ لگا تار کھانا مفید رہتا ہے۔ یہ فائدہ پتہ کی سوزش میں بھی جاری رہتا ہے۔ معدہ میں کینسر یا زخم کی صورت میں زیتون کا تیل ایک شافی علاج ہے۔ اکثر مریضوں میں جو کا دلیہ شہد ملاکر دینا مفید رہتا ہے کیونکہ جو کی لیس جلن کو سکون دیتی ہے۔ یہ قبض کشاء اور جسمانی کمزوری کا بھی علاج ہے۔ بدہضمی اور تبخیر کے سلسلہ میں یہ دوائیںانتہائی مفید ہیں۔
قسبط البحری 40 گرام
کلونجی 50 گرام
سوئے 10 گرام
تمام کو سفوف کرکے کھانے کے بعد پون چھوٹا چمچ پانی کے ہمراہ استعمال کریں۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)
(2) سوزش معدہ
سوزش معدہ کا مرض آج بالکل عام ہے۔ اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو ہدایت فرمائی، وہ یہ ہے کہ کھانا گرم گرم نہ کھایا جائے کیونکہ جب گرم کھانا پیٹ کے اندر جاتا ہے تو معدہ کی جھلیوں میں اپنے درجہ حرارت کی وجہ سے خون کا ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب ایسا بار بار ہوتا ہے تو معدہ میں سوزش کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
معدہ کی جھلیاں متورم ہو جاتی ہیں۔ ان میں سرخی آ جاتی ہے۔ اس کے رد عمل کے طور پر نازک خلئے گھسنے یا گلنے لگتے ہیں جن کی وجہ سے اندرونی طور جریان خون وہ جاتا ہے یہ معمولی بھی ہو سکتا ہے اور شدید بھی۔
گردوں کے فیل ہونے کے نتیجے میں جب خون میں یوریا کی مقدار بڑھ جاتی ہے یا خون میں پیپ پیدا کرنے والے جراثیم کی وجہ سے زہر باد پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات معدہ پر سوزش کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ نیز سوزش اور جلن پیدا کرنے والی دواؤں مثلاً اسپرین، شراب اور جوڑوں کے درد کی دواؤں از قسم Phenyl Butazone کھانے سے پیدا ہوتیہے۔
علاج :تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے معدہ کو بیماری کا گھر قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے معدہ کی جھلیوں کی حفاظت کے سلسلہ میں متعدد اہم ہدایات عطا فرمائی ہیں جن میں صبح کو ناشتہ جلدی کرنے کا حکم بھی ہے۔ رات بھر کے فاقہ کے بعد معدہ صبح کو خالی ہوتا ہے۔ اس وقت اگر چائے یا کافی یا لیموں کا عرق وغیرہ پیا جائے تو معدہ کی تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں وہاں پر سوزش اور السر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے علی الصبح خود ہمیشہ شہد پیا جو تیزابیت کو کم کرتا ہے اور معدہ کی جھلیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
نہار منہ شہد، ناشتہ میں جو کا دلیا شہد ڈال کر، جس وقت پیٹ خالی ہو اس وقت زیتون کا تیل پلانے سے معدہ میں سوزش کا کوئی بھی عنصر باقی نہیں رہتا۔
اسہال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ میرے بھائی کو اسہال ہو رہے ہیں۔ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شہد پلاؤ۔ وہ پھر آیا اور عرض گزار ہوا کہ دستوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسے پھر شہد ہی کی ہدایت کی گئی اور اس طرح وہ تین مرتبہ اضافہ کی شکایت لے کر اور شہد پینے کی ہدایت لے کر چلا گیا۔ پھر وہ چوتھی مرتبہ آیا تو پھر یہی ارشاد فرمایا کہ اسے شہد پلاؤ۔ اس نے عرض کیا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے مگر ہر بار اس کے دست بڑھ گئے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اللہ عزوجل کا فرمان سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اس شخص نے پھر شہد پلایا تو اس کا بھائی صحت مند ہوگیا۔ (بخاری۔ مسلم۔ مشکوٰۃ)
علم الادویہ اور اپنے افعال کے لحاظ سے شہد ملین بھی ہے اور زخموں کو مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لئے شہد کو بار بار دینے سے پہلے تو پیٹ میں جمع جراثیم کی Toxins خارج ہو جائیں اور پھر اس نے جراثیم کو ہلاک کیا اور اس طرح مریض کے شفایاب ہونے میں اگرچہ ابتدائی طور پر کچھ وقت لگا لیکن اس وقت کا ہر حصہ مریض کی صحت کی بحالی کے لئے ضروری تھا۔ شہد جراثیم کو مارتا اور مقوی بھی ہے۔
پہلے کے اطباء اسہال کے علاج کی ابتداء کسٹرائیل سے کرتے تھے تاکہ زیریں نکل جائیں۔ اسہال کے علاج میں اہم ترین مسئلہ اور ضرورت سبب کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کے جسم سے نکل چکے نمکیات اور پانی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ شہد وہ عظیم اور منفرد دوائی ہے جو کمزوری کو دور کرتی ہے۔ پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرتی ہے اور جراثیم کو ہلاک کرکے آنتوں اور زخموں کو مندمل کرتی ہے۔
علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس مریض کو بار بار شہد پلانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک خاص مقدار شہد کی پلائی جائے کیونکہ جب تک کسی بھی دوائی کی مطلوبہ مقدار استعمال نہ کی جائے۔ اس وقت تک خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب خوراک پوری ہوئی، مریض کو صحت ہو گئی۔ بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ ضرورت ہی اس امر کی تھی کہ مریض کو مسہل دیا جائے تاکہ پیٹ سے فاسد مواد نکل جائے کیونکہ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ اگر پیٹ میں فاسد مواد موجود ہو تو دست بند کرنے سے مریض کو نقصان ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کہ اللہ عزوجل سچا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اس سے ثابت ہوا پیارے نبی کریم کے ہر فرمان  میں حکمت دانائی کے موتی ہیں.

                 

کاروباری پریشانیوں سے بچنے کے لئے بینک سے قرض لینا؟۔۔۔۔۔(1790)

کاروباری پریشانیوں سے بچنے کے لئے بینک سے قرض لینا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1790)
مفتیان کرام کی توجہ!
سوال: ایک شخص ایک چھوٹی موٹی  فیکٹری ڈالنا چاہتا ہے لیکن ہندوستان کے نئے نظام کی وجہ سے وہ مشین کو نقد رقم سے نہیں لے سکتا ہے اسے یا تو بینک سے لون لے کر ہی لینا ہوگا۔ اگر نقد لیا تو گورنمنٹ سوال طلب کرتی ہے جس کا سبھی کو معلوم ہے کہ حلال کا پیسہ ہونے کے باوجود بھی جواب نہیں دیا جاسکتا ہے ۔۔  ایسی صورت میں کام کرنے طریقہ کار کیا اختیار کرے ۔۔۔۔
شفیع اللہ اعظمی قاسمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
صرف بینک کو دکھانے کے لئے تاکہ انکم ٹیکس یا دیگر مختلف الجہات ظالمانہ الجہنوں اور رکاوٹوں سے بچا جاسکے۔۔ بینک سے کچھ قرض لے لیں۔
باقی آپ اپنی جائز وحلال  رقم سے اپنا مجوزہ کاروبار چلائیں۔ کاروبار میں بینک کی سودی رقم (قرض) صرف نہ کریں۔ تاکہ آپ کی کاروباری خیر و برکت  سود کی نحوست سے متاثر وپراگندہ نہ ہو۔ 
اسے صرف انکم ٹیکس یا دیگر سرکاری اداروں کو دکھانے کی حد تک ہی محدود رکھیں۔
مستفاد:الرشوة ما یعطی لإبطال حق أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطی لیتوصل بہ إلی حق أو لیدفع بہ عن نفسہ ظلماً فلا بأس بہ،……،قال التوربشتي:وروي أن ابن مسعودأخذ في شییٴ بأرض الحبشة،فأعطی دینارین فخلی سبیلہ (مرقاة المفاتیح، ۷: ۲۹۵، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، وفیہ - فی المجتبی - أیضاً:دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوة، یعنی:في حق الدافع اھ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۶۰۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
(دیکھئے: فتاوی نظامیہ اوندرویہ ۱: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: تھانوی آفسیٹ پرنٹرس ، دیوبند، مسائل سود، مرتبہ حضرت الاستاذ مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی دامت برکاتہم العالیہ ص ۲۴۴، ۲۴۵، مطبوعہ: حراء بک ڈپو، دیوبند)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
١٣شعبان ١٤٣٩ہجری

حیات شہداء کی حقیقت مٹی کی طبعی تاثیر سے ان کے جسم کی سلامتی؟....... (1789)

حیات شہداء کی حقیقت
مٹی کی طبعی تاثیر سے ان کے جسم کی سلامتی؟
۔۔۔۔۔ (1789)
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے حق میں موت عام ظاہری زندگی ہی کی  طرح ہوتی ہے۔ انہیں بعد موت ظاہری حقیقی زندگی عطا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے خاص حکم سے تمام انبیاء ورسل علیہم الصلوۃ والسلام کے اجسام ان کی وفات کے بعد قبروں میں جوں کے توں محفوظ رہتے ہیں، زمین ان پر اپنا عام طبعی عمل نہیں کرسکتی، ان کے اجسام متغیر نہیں ہوتے۔ اللہ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے جسموں کو کھائے یا ان میں کچھ فساد وبگاڑ پیدا کرے۔ جس طرح دنیا میں خاص تدبیروں اور دواؤں سے موت کے بعد بھی اجسام کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت اور خاص حکم سے پیغمبروں کی وفات کے بعد ان کے جسموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قبروں میں محفوظ کردیا ہے اور وہاں ان کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل رہے گی (جو اس عام کے قوانین کے مطابق ہو گی) اس لئے درود کے پہنچنے اور پیش کئے جانے کا سلسلہ ان پر جاری رہتا ہے طرح جاری رہے گا۔
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ قُبِضَ ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ » قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ يَقُولُونَ بَلِيتَ قَالَ : « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ » (سنن ابی داؤد /1531، 1047 ۔سنن نسائی 91/3۔ سنن ابن ماجہ :1085،1636۔ ابن خزیمہ 1733،1734۔ابن حبان 910)
ترجمہ: حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
جمعہ کا دن افضل ترین دنوں میں سے ہے، اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اسی میں قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور اسی میں موت اور فنا کی بیہوشی اور بے حسی ساری مخلوقات پر طاری ہو گی۔ لہذا تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے اور پیش ہوتا رہے گا.“
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! ( آپ کے وفات فرما جانے کے بعد) ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہوگا؟ آپ کا جسد اطہر تو قبر میں ریزہ ریزہ ہوچکا ہوگا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (یعنی موت کے بعد بھی ان کے اجسام قبروں میں بالکل صحیح سالم رہتے ہیں، زمین ان میں کوئی تغیر پیدا نہیں کرسکتی)۔ (سنن ابی داؤد /1531، 1047 ۔سنن نسائی 91/3۔ سنن ابن ماجہ :1085،1636۔ ابن خزیمہ 1733،1734۔ابن حبان 910 )
مِن أفضلِ أيَّامِكم يومُ الجمعةِ، فيهِ خُلقَ آدمُ وفيهِ قبضَ وفيهِ النَّفخةُ وفيهِ الصَّعقةُ فأكثِروا عليَّ مِن الصَّلاةِ فيهِ فإنَّ صلاتَكم معروضةٌ عليَّ ، قالوا : يا رسولَ اللَّهِ وَكيفَ تُعرضُ علَيكَ صلاتُنا وقد أرِمتَ ؟ يعني وقد بليتَ قال: إنَّ اللَّهَ حرَّمَ علَى الأرضِ أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ
الراوي:أوس بن أبي أوس وقيل أوس بن أوس والد عمرو المحدث:الدارقطني المصدر:تفسير القرآن الجزء أو الصفحة:6/463 حكم المحدث: [صحيح]
إنَّ مِن أفضلِ أيَّامِكُمُ الجمعةَ، فيهِ خُلِقَ آدمُ، وفيهِ قُبِضَ، وفيهِ نَفخةُ الصُّورِ، وفيهِ الصَّعقةُ، فأَكْثروا عليَّ منَ الصَّلاةِ فيهِ، فإنَّ صَلاتَكُم معروضةٌ عليَّ. قالوا: وَكَيفَ تُعرَضُ صلاتُنا عليكَ وقد أرِمتَ، فقالَ: إنَّ اللَّهَ تعالى حرَّمَ علَى الأرضِ أن تأكُلَ أَجسادَ الأنبياءِ
الراوي:أوس بن أبي أوس المحدث:الحاكم المصدر:المستدرك الجزء أو الصفحة:5/776 حكم المحدث:صحيح على شرط الشيخين
إنَّ من أفضلِ أيامِكم يومَ الجمعةِ فيه خلِقَ آدمُ، وفيه قبِضَ ، وفيه النفخةُ وفيه الصعقةُ ، فأكثروا عليَّ من الصلاةِ فيه فإنَّ صلاتَكم معروضةٌ عليَّ قالوا : وكيف تعرَضُ صلاتُنا عليك وقد أرِمْتَ ؟ يقولونَ بليتَ فقال : إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ حرَّم على الأرضِ أجسادَ الأنبياءِ
الراوي:أوس بن أبي أوس وقيل أوس بن أوس والد عمرو المحدث:ابن العربي المصدر:التذكرة للقرطبي الجزء أو الصفحة:164 حكم المحدث:حديث حسن
من أفضلِ أيامِكم يومُ الجمُعةِ ، فيه خُلِقَ آدمُ وفيه قُبضَ وفيه النَّفخةُ وفيه الصَّعقةُ فأكثِروا عليَّ من الصلاةِ فيه فإنَّ صلاتَكم معروضةٌ عليَّ ، قالوا : يا رسولَ اللهِ وكيف تُعرضُ عليك صلاتُنا وقد أَرَمْتَ ؟ يعني وقد بَلِيتَ قال : إنَ اللهَ حرَّمَ على الأرضِ أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ
الراوي:أوس بن أبي أوس وقيل أوس بن أوس والد عمرو المحدث:ابن خزيمة المصدر:تفسير القرآن الجزء أو الصفحة:6/463 حكم المحدث: [صحيح]
من أفضَلِ أيامِكم يومُ الجمُعةِ فيه خُلِقَ آدمُ وفيه قُبِضَ وفيه النَّفخةُ وفيه الصَّعقةُ فأكثِروا عليَّ من الصَّلاةِ فيه فإنَّ صلاتَكم مَعروضةٌ عليَّ قالوا يا رسولَ اللَّهِ وكيفَ تُعرَضُ عليك صلاتُنا وقد أرمتَ يعني وقد بليتَ قال إنَ اللَّهَ حرَّمَ على الأرضِ أن تأكُلَ أجسادَ الأنبياءِ
الراوي:أوس بن أبي أوس وقيل أوس بن أوس والد عمرو المحدث:ابن حبان المصدر:تفسير القرآن الجزء أو الصفحة:6/463 حكم المحدث:[صحيح]

عام مسلمان کا جسم مرنے کے بعد مٹی کی طبعی اثرات سے محفوظ نہیں رہتا۔ یعنی سڑگل کر ختم ہوجاتا ہے، کیڑے لگ جاتے ہیں۔ قبر خود روزانہ پکارتی ہے کہ میں تنہائی، اجنبیت ، مٹی اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:
(دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلَّاهُ ، فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ – يعني : يضحكون - قَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى ، فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ : أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ ، وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ ، وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ .
فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ . قَالَ : فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ ، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ .
وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوْ الْكَافِرُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا ، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ . قَالَ : فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِهِ فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ . قَالَ : وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا ، لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا ، فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ .
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ)
رواه الترمذي في سننه (2460) والبيهقى فى شعب الإيمان (1/498) من طريق القاسم بن الحكم العرني عن عبيد الله بن الوليد الوصافي عن عطية عن أبي سعيد الخدري به.
وقال الترمذي: حديث غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه.
وهذا سند ضعيف جدا ، فيه عبيد الله بن الوليد الوصافي، جاء في ترجمته في "تهذيب التهذيب" (7/55): عن أحمد بن حنبل: ليس بمحكم الحديث ، يكتب حديثه للمعرفة .
و قال يحيى بن معين وأبو زرعة وأبو حاتم : ضعيف الحديث . وقال النسائى : متروك الحديث . وقال ابن عدي : ضعيف جدا ، يتبين ضعفه على حديثه . وقال ابن حبان : يروي عن الثقات ما لا يشبه الأثبات ، حتى يسبق إلى القلب أنه المُتَعَمِّد لها ، فاستحق الترك .
وقال الحاكم: روى عن محارب أحاديث موضوعة. وقال أبو نعيم الأصبهانى : يحدث عن محارب بالمناكير ، لا شيء " انتهى .
لذلك قال الحافظ العراقي عن هذا الحديث ـ "تخريج الإحياء" (1/400) ـ : " فيه عبيد الله بن الوليد الصافي ضعيف " ، وضعفه السخاوي في "المقاصد الحسنة" (359) والشوكاني في "الفوائد المجموعة" (269)
وقال الشيخ الألباني في "السلسلة الضعيفة" (10/749) : " عطية ضعيف مدلس والوصافي ضعيف جدا " انتهى .
وقال في "ضعيف الترمذي" : "ضعيف جدا، ولكن جملة (هاذم اللذات) صحيحة " انتهى)
لیکن عام مسلمانوں کی برزخی زندگی کے برعکس شہید حقیقی کی زندگی بالکل ہی ممتاز ہوتی ہے۔ برزخی طور پہ شہیدوں کومردہ تو کہسکتے ہیں لیکن عام مردوں پہ انہیں قیاس کرنا بنص قرآنی ممنوع ہے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
003:169

اور تو نہ سمجھ ان لوگوں کو جو مارے گئے اللہ کی راہ میں مردے بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے ہیں۔
قرآن کریم کی اسی آیت نے یہ بتلایا ہے کہ شہداء کو اللہ کی طرف سے جنت کا رزق ملتا ہے اور رزق زندہ آدمی کو ملا کرتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا سے منتقل ہوتے ہی شہید کے لئے رزق جنت جاری ہوجاتا ہے اور ایک خاص قسم کی زندگی اسی وقت سے اس کو مل جاتی ہے، جو عام مردوں سے ممتاز حیثیت کی ہے (قرطبی) اب رہا کہ وہ امتیاز کیا ہے؟ اور وہ زندگی کیسی ہے؟ اس کی حقیت سوائے خالق کائنات کے نہ کوئی جان سکتا ہے نہ جاننے کی ضرورت ہے، البتہ بسا اوقات ان کی حیات خاص کا اثر اس دنیا میں بھی ان کے ابدان پر ظاہر ہوتا ہے کہ زمین ان کو نہیں کھاتی وہ صحیح سالم باقی رہتے ہیں (قرطبی) جس کے بہت سے واقعات دور نبوی سے آج تک مشاہدہ کئے جارہے ہیں۔ 
1. شہداء کی پہلی فضیلت اس آیت میں ان کی ممتاز دائمی حیات ہے، 
2. دوسری یہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملتا ہے، 
3. تیسری فضیلت فرحین بما اتھم اللہ میں یہ بیان کی گئی کہ وہ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے، ان نعمتوں میں جو ان کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں۔
4. چوتھی فضیلت یہ ہے ویستبشرون بالذین لم یلحقوابھم، یعنی وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آ کر یہی نعمتیں اور درجات عالیہ ملیں گے۔
اور سدی نے بیان فرمایا کہ شہید کا جو کوئی عزیز دوست مرنے والا ہوتا ہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آ رہا ہے وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے:
جب جنگ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد حضرت عبداللہ نے رات کو بلاکر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے (اپنے عزیزوں اور وارثوں میں) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے، میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کردینا اور اپنی (نو) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔
چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا، لیکن میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں، چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لاَ أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ، غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ، وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا، «فَأَصْبَحْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الآخَرِ، فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ»۔(بخاری:1351)
حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کے کسی رشتہ دار نے خواب میں دیکھا تو انھوں نے فرمایا:
تم لوگوں نے مجھے ایسی جگہ دفن کردیا ہے جہاں پانی مجھے تکلیف پہنچاتا ہے میری جگہ یہاں سے تبدیل کرو ، رشتے داروں نے قبر کھو دی تو ان کا جسم نرم و نازک چمڑے کی طرح تھا اور داڑھی کے چند بالوں کے علاوہ جسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: رَأَى بَعْضُ أَهْلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَآهُ فِي النَّوْمِ فَقَالَ:«إِنَّكُمْ قَدْ دَفَنْتُمُونِي فِي مَكَانٍ قَدْ أَتَانِي فِيهِ الْمَاءُ فَحَوِّلُونِي مِنْهُ فَحَوَّلُوهُ، فَأَخْرَجُوهُ كَأَنَّهُ سِلْقَةٌ لَمْ يَتَغَيَّرْ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَعَرَاتٌ مِنْ لِحْيَتِهِ»۔(مصنّف عبد الرزاق:6657)
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہر کظامہ جاری کرنے کا اردہ فرمایا تو یہ اعلان کروایا کہ جس کا کوئی شہید ہوتو وہ پہنچ جائے.
پھر ان شہداء کے اجسام نکالے گئے تو وہ بالکل تر و تازہ تھے یہاں تک کہ کھودنے کے دوران ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگ گئی تو خون جاری ہوگیا۔
لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُجْرِيَ الْكِظَامَةَ قَالَ:مَنْ كَانَ لَهُ قَتِيلٌ فَلْيَأْتِ قَتِيلَهُ يَعْنِي قَتْلَى أُحُدٍ قَالَ:فَأَخْرَجَهُمْ رِطَابًا يَتَثَنَّوْنَ قَالَ:فَأَصَابَتِ الْمِسْحَاةُ رِجْلَ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَانْفَطَرَتْ دَمًا،فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ:لَا يُنْكِرْ بَعْدَ هَذَا مُنْكِرٌ أَبَدًا۔(مصنّف عبد الرزاق:6656)
ان دونوں حدیثوں سے واضح ہے کہ شہداء کے ساتھ خاص اعزاز وامتیاز ان کے اجسام طبعیہ کی سلامتی کی طرف بھی متعدی ہوتا ہے اور بطریق لزوم ودوام نہیں! بلکہ بعض اوقات ان کے اجسام بھی زمینی اثرات؛ سڑنے گلنے سے محفوظ رہتے ہیں۔
لیکن یہ امتیاز صرف اس شہید حقیقی کو حاصل ہے جس کی شہادت عند اللہ مقبول بھی ہوگئی ہو۔ ورنہ فساد نیت اور دیگر خرابیوں کی وجہ سے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مار
ے جانے والے کو  بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اللہم احفظنا منہ۔
پھر رہی یہ بات کہ کس کی شہادت مقبول ہوئی اور کس کی مردود؟ تو اس کا صحیح علم اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں۔
بعض حدیث وآثار سے بھی  پتہ چلتا ہے کہ شہید حقیقی کا جسم بھی سڑنے گلنے اور کیڑے لگنے سے محفوظ رہتا ہے ۔یعنی مٹی اس کے جسم پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
اس ذیل کی بعض حدیث اسنادی حیثیت سے اگرچہ ضعیف ہے لیکن تعدد طرق سے حسن کے درجے کو پہنچ سکتی ہے۔
المؤذِّنُ كالشَّهيدِ المتشحَّطِ في دمِهِ وإذا ماتَ لم يدوَّدْ في قبرِهِ
الراوي:ابن عمرو المحدث:ابن الجوزي المصدر:العلل المتناهية الجزء أو الصفحة:1/389 حكم المحدث:لا يصح
المؤذِّنُ المُحتسِبُ كالشَّهيدِ المتشحَّطِ حتَّى يفرغَ من أذانِهِ ويشْهدُ لَهُ كلُّ رَطِبٍ ويابسٍ فإذا ماتَ لم يدَوَّدْ من قبرِهِ
الراوي:ابن عمر المحدث:ابن الجوزي المصدر:العلل المتناهية الجزء أو الصفحة:1/390 حكم المحدث:لا يصح
المؤذِّنُ المُحتسِبُ كالشَّهيدِ المُتشَحِّطِ في دمِهِ ؛ إذا ماتَ لم يدوِّدْ في قبرِهِ
الراوي:عبدالله بن عمر المحدث:المنذري المصدر:الترغيب والترهيب الجزء أو الصفحة:1/147 حكم المحدث:[إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما]
المؤذِّنُ كالشهيدِ المُتَشَحِّطُ في دَمِهِ وإذَا مَاتَ لم يُدَوِّدْ
الراوي:عبدالله بن عمر المحدث:الذهبي المصدر:تلخيص العلل المتناهية الجزء أو الصفحة:133 حكم المحدث:باطل [وروي من قول ابن عمر بسند فيه متهم وبسند فيه متروك]
المؤذّنُ المحتسبُ كالمتشحطُ في دمهِ , فإذا ماتَ لم يُدَوَدْ في قبرهِ
الراوي:عبدالله بن عمر المحدث:ابن حجر العسقلاني المصدر:لسان الميزان الجزء أو الصفحة:1/280 حكم المحدث:[فيه إبراهيم بن رستم ، ذكر من جرحه]
المؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كالشهيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دمِهِ إذا ماتَ لَمْ يُدَوِّدْ في قبْرِهِ.
الراوي:ابن عمرو المحدث:السيوطي المصدر:الجامع الصغير الجزء أو الصفحة:9115 حكم المحدث:ضعيف
المؤذِّنُ المُحتسِبُ كالشَّهيدِ المُتشَحِّطُ في دَمِه ، إذا ماتَ لَم يُدوَّدْ في قبرِهِ
الراوي:عبدالله بن عمرو المحدث:الألباني المصدر:ضعيف الترغيب الجزء أو الصفحة:164 حكم المحدث:ضعيف
المؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كالشهيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دمِهِ إذا ماتَ لَمْ يُدَوِّدْ في قبْرِهِ
الراوي:عبدالله بن عمرو المحدث:الألباني المصدر:ضعيف الجامع الجزء أو الصفحة:5900 حكم المحدث:ضعيف
المؤذِّنُ المحتسبُ كالشَّهيدِ يتشَّحطُ في دمِه حتَّى يفرغَ من أذانِه، و يشهدُ له كلُّ رطبٍ و يابسٍ و إذا مات لم يُدَوِّدْ في قبرِه
الراوي:عبدالله بن عمر المحدث:الألباني المصدر:السلسلة الضعيفة الجزء أو الصفحة:853 حكم المحدث:ضعيف جداً
روایات کی اس مجموعی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہید کی حیات برزخی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی حیات سے ادون ہے لیکن عام مومنین وموتی کی زندگی سے اقوی وشدید الحس ہے۔شہید کے جسم کو بھی مٹی یا تو کھاتی نہیں، یا بدیر کھاتی ہے۔
واضح رہے کہ ان حدیثوں میں شہید کے جسم کو مٹی نہ کھانے کی بات آئی ہے۔ اگر مٹی کے علاوہ دوسرے عناصر مثلا پانی کی نمی وغیرہ کے اثرات  سے شہید کے اجسام گل جائیں تو یہ امر آخر ہے ایسا بسا ممکن ہے۔
پانی وغیرہ کی تاثیر کی وجہ سے جسم شہید کی سلامتی کی کوئی بات کسی بھی حدیث میں نہیں آئی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
١٣شعبان ١٤٣٩ہجری

Sunday, 29 April 2018

شب براءت؛ مدلل فضائل و احکام

شب براءت؛ 
مدلل فضائل و احکام
        
کچھ عرصہ بعد رمضان المبارک کی آمد ہوگی، چشمِ تصور میں ایک بار پھر آنکھیں ان مناظر سے ٹھنڈی ہونے کو بے تاب ہیں کہ پانچوں نمازوں کے وقت موٴذن کی پکار پر لبیک کہنے والے جوق درجوق خانہ خدا کی طرف لپکے چلے آتے ہیں، جہاں ایک طرف ہر نماز سے پہلے اور نماز کے بعد مساجد میں خلق خدا کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن حکیم کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتی نظر آتی ہے، تو دوسری طرف بہت سے افراد نوافل کی ادائیگی میں مشغول نظر آتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ذکر واذکار سے اپنے سینوں کو منور کرنے والے اور اپنے ربِّ عزَّوجلَّ کے حضور الحاح وزاری کے ساتھ سسکتے ہوئے مناجات میں مشغول افراد کی تعداد بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔
شعبان المعظم میں سرکار ِدو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول:
          اس برکتوں والے ماہِ مبارک کے آنے سے قبل ”شعبان المعظم“ میں ہی سرکارِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استقبال کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں اضافہ ہو جاتا، نہ صرف خود بلکہ اس فکر میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بھی شریک فرماتے تھے۔
          آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رمضان المبارک “ کے ساتھ اُنس پیدا کرنے کے لیے ”شعبان المعظم“ کی پندرہویں رات اور اس دن کے روزے کی ترغیب دی ہے اور اس بارے میں صرف زبانی ترغیب پر ہی اکتفاء نہیں فرمایا؛ بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم عملی طور پر خود اس میدان میں سب سے آگے نظر آتے ہیں؛ چنانچہ اس ماہ کے شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات میں غیر معمولی تبدیلی نظر آتی جس کا اندازہ ام الموٴمنین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس ارشاد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، آپ فرماتی ہیں:
(ما رأیتہ في شھرٍ أکثر صیاماً منہ في شعبان)
کہ: ”میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں کثرت سے (نفلی) روزے رکھتے نہیں دیکھا.“
(صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۲۷۷۷)،
حضور پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کے ”شعبان المعظم“ میں بکثرت روزہ رکھنے کی وجہ سے اس مہینے میں روزہ رکھنے کو علامہ نووی رحمہ اللہ نے مسنون قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:
”ومن المسنون صوم شعبان.“
(المجموع شرح المہذب:۶/۳۸۶)۔
          مذکورہ حدیث ِعائشہ رضی اللہ عنھا اور دیگر بہت سی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علیہ الصلاة السلام کا یہ عمل اور امت کو ترغیب دینا استقبال رمضان کے لئے ہوتا تھا، جس کی طرف حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”اب خاص اس روزہ کی حکمت بھی سمجھئے، میرے نزدیک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان سے پہلے نصف شعبان کا روزہ رمضان کے نمونہ کے لیے مسنون فرمایا ہے؛ تاکہ رمضان سے وحشت وہیبت نہ ہو کہ نہ معلوم روزہ کیسا ہوگا؟ اور کیا حال ہوگا؟ اس لیے آپ نے پندرہ شعبان کا روزہ مقرر فرمادیا کہ اس دن کا روزہ رکھ کر دیکھ لو؛ چونکہ یہ ایک ہی روزہ ہے اس لیے اس کی ہمت آسانی سے ہوجاتی ہے، جب وہ پورا ہوگیا تو معلوم ہوجاتا ہے کہ بس رمضان کے روزے بھی ایسے ہی ہوں گے اور اس تاریخ میں رات کی عبادت بھی تراویح کا نمونہ ہے، اس سے تراویح کے لئے حوصلہ بڑھتا ہے کہ جب زیادہ رات تک جاگنا کچھ بھی معلوم نہ ہوا تو تراویح کے لئے ایک گھنٹہ زیادہ جاگنا کیا معلوم ہوگا! بس یہ تو اعانت بالمثل علی المثل ہوئی۔
(وعظ ”الیسر مع العسر“ بعنوان نظامِ شریعت:۶/۵۲۴، مکتبہ اشرف المعارف ملتان)“۔
          اب ایک نظر اس ماہ ِ مبارک کی پندرہویں شب پر بھی ڈال لی جائے جس کے بارے میں بھی بہت کچھ احادیث میں مذکور ہے، جو آگے بالتفصیل آرہی ہیں، زمانہٴ ماضی اور موجودہ زمانے کو دیکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس رات کے بارے میں لوگ اِفراط وتفریط کا شکار نظر آتے ہیں، اس لیے اس رات کے فضائل، اس رات کے فضائل سے محروم ہونے والے افراد اور اس رات کوہونے والی مروج بدعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے، سب سے پہلے اس رات کے بارے میں جناب ِرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک فرمودات ذکر کیے جائیں گے اس کے بعد جمہور اسلاف وفقہائے امت، اہلسنّت والجماعت کے نظریات واقوال ذکر کیے جائیں گے؛ تاکہ اس رات کے بارے میں شریعت کا صحیح موقف سامنے آجائے۔
شب ِبراءت کے بارے میں بنی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین:
          (۱) عن”أبي بکر الصّدیق“رضي اللہ عنہ عن”النبي“ صلى الله عليه وسلم قال:(ینزل اللہ إلی السماء الدنیا النصف من شعبان، فیغفر لکل شيء إلا رجل مشرک أو رجل في قلبہ شحناء)․
(شعب الإیمان للبیہقي، رقم الحدیث ”۳۵۴۶“:۵/۳۵۷، مکتبة الرشد)
          ترجمہ: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ:
”آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل پندرہویں شعبان کی رات میں آسمان ِ دنیا کی طرف (اپنی شان کے مطابق) نزول ِاجلال فرماتے ہیں اور اس رات ہر کسی کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے، یا ایسے شخص کے جس کے دل میں بغض ہو“۔
          (۲) فقال”رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم“:(أتدرین أي لیلةھذہ؟) قلت: ”اللہ ورسولہ أعلم“ قال: (ھذہ لیلة النصف من شعبان،إن اللہ عزوجل یطلع علی عبادہ في لیلة النصف من شعبان، فیغفر للمستغفرین ویرحم المسترحمین ویوٴخر أھل الحقد کما ھم)․
(شعب الإیمان للبیہقي، رقم الحدیث ”۳۵۵۴“:۵/۳۶۱، مکتبة الرشد)․
     
          ترجمہ: ”آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اے عائشہ )جانتی بھی ہو یہ کونسی رات ہے؟
میں نے عرض کیا کہ: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں،
فرمایا: یہ شعبان کی پندرہویں شب ہے، اللہ عزوجل اس رات اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں، اور بخشش چاہنے والوں کی مغفرت فرماتے ہیں، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں، اور دلوں میں کسی مسلمان کی طرف سے بغض رکھنے والوں کو ان کی حالت پر ہی چھوڑ دیتے ہیں“۔
          (۳) عن”أبي موسیٰ الأشعري“رضي اللہ عنہ،عن”رسول اللہ“ صلى الله عليه وسلم قال: (إن اللہ لیطلع في لیلة النصف من شعبان، فیغفر لجمیع خلقہ إلا لمشرک أو مشاحن)․ (سن ابن ماجة، رقم الحدیث ”۱۳۹۰“ مکتبہ أبي المعاطي)․ 
          ترجمہ: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ:
”آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں رات رحمت کی نظر فرما کر تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتے ہیں، سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے اور دلوں میں کسی مسلمان کی طرف سے بغض رکھنے والوں کے“۔
          (۴) عن”عبد اللہ ابن عمرو“رضي اللہ عنہ، أن”رسول اللہ“ صلى الله عليه وسلم قال:(یطلع اللہ عزوجل إلی خلقہ لیلة النصف من شعبان، فیغفر لعبادہ إلا لاثنین: مشاحنٌ وقاتلُ نفسٍ)․(مسند أحمد بن حنبل،رقم الحدیث”۶۶۴۲“:۲/۱۷۶،عالم الکتب)․
          ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ” رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں رات اللہ عزوجل اپنی مخلوق کی طرف رحمت کی نظر فرماتے ہیں ، سوائے دو شخصوں کے باقی سب کی مغفرت فرما دیتے ہیں،ایک کینہ ور، دوسرے کسی کو ناحق قتل کرنے والا“۔
          (۵) عن”عثمان بن أبي العاص“رضي اللہ عنہ، عن ”النبي“ صلى الله عليه وسلم قال:(إذا کان لیلة النصف من الشعبان، نادیٰ منادٍ ھل من مستغفر؟ فأغفر لہ، ھل من سائل؟ فأعطیہ، فلا یسأل أحد شیئاً إلا أعطي إلا زانیة بفرجھا أو مشرک)․(شعب الإیمان للبیہقي،رقم الحدیث”۳۵۵۵“:۵/۳۶۲،مکتبة الرشد)․
          ترجمہ: حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو(اللہ تعالی کی طرف سے )ایک پکارنے والا پکارتا ہے ، ہے کوئی مغفرت کا طالب ؟!کہ میں اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی مانگنے والا؟! کہ میں اس کو عطا کروں،اس وقت جو (سچے دل کے ساتھ) مانگتا ہے اس کو (اس کی شا ن کے مطابق )ملتا ہے،سوائے بدکار عورت اور مشرک کے (کہ یہ اپنی بد اعمالیوں کے سبب اللہ کی عطا سے محروم رہتے ہیں)۔
          (۶) عن ”عائشة“رضي اللہ عنھا عن”النبي“ صلى الله عليه وسلم قال:(ھل تدرین ما فيھذہ اللیلة یعني لیلة النصف من شعبان؟)، قالت:”ما فیھا یا رسول اللہ؟“قال:(فیھا یکتب کل مولود بني آدم في ھذہ السنة، وفیھا أن یکتب کل ھالک من بني آدم في ھذہ السنة، وفیھا ترفع أعمالھم، وفیھا تنزل أرزاقھم)․(الدعوات الکبیر للبیہقي، رقم الحدیث”۵۳۰“:۱۰ / ۱۴۶،غراس للنشر والتوزیغ،الکویت)        
          ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ” آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں رات میں کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے دریافت فرمایا کہ: یا رسول اللہ! کیا ہوتا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں، وہ سب لکھ دئیے جاتے ہیں ،اور جتنے اس سال مرنے والے ہیں وہ سب بھی اس رات لکھ دیے جاتے ہیں، اور اس رات میں سب بندوں کے (سارے سال کے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی (مقررہ وقت)پر اترتی ہے“۔
          (۷) عن ”عطاء بن یسار“قال:(إذا کان لیلة النصف من شعبان نسخ الملک من یموت من شعبان إلی شعبان وإن الرجل لیظلم ویتجر وینکح النسوان وقد نسخ إسمہ من الأحیاء إلی الأموات ما من لیلة بعد لیلة القدر أفضل منھا، ینزل اللہ إلی السماء الدنیا، فیغفر لکل أحد إلا لمشرک أومشاحن أو قاطع رحم)․(کنز العمال:۴۴۳۱)
          ترجمہ: ”حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو موت کا فرشتہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک مرنے والوں کا نام (اپنی فہرست سے) مٹا دیتا ہے اور کوئی شخص ظلم، تجارت اور کوئی عورتوں سے نکاح کر رہا ہوتا ہے اس حال میں کہ اس کا نام زندوں سے مردوں کی طرف منتقل ہوچکا ہوتا ہے، شب قدر کے بعد کوئی رات اس رات سے افضل نہیں، اللہ تعالی (اپنی شان کے مطابق )آسمانِ دنیا پر نزول فرما کر ہر ایک کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے مشرک، کینہ ور اور قطع رحمی کرنے والے کے “۔
          (۸) أتاني جبرئیل علیہ السلام فقال:(ھذہ اللیلة لیلة النصف من شعبان، واللّٰہِ فیھا عتقاءُ من النار بعدد شعورغنم کلب لا ینظر اللّٰہ فیھا إلی مشرک ولا مشاحن ولا إلی قاطع رحم ولا إلی مسبل ولا إلی عاق لوالدیہ ولا إلی مدمن خمر) (شعب الإیمان للبیہقي،رقم الحدیث”۳۵۵۶“:۵/۳۶۳،مکتبة الرشد)
          ترجمہ: ”(حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ) جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے، اللہ تعالی اس رات میں بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے، جن کی تعداد” قبیلہٴ کلب“ کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے؛ مگر اس رات میں اللہ تعالی مشرک، اور کینہ ور ،اور رشتے ناطے توڑنے والے(یعنی قطع تعلقی کرنے والے) اور ازار (یعنی پاجامہ ،شلوار وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، (لوگوں ) اور ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی لوگوں کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرماتے“۔
          (۹) عن ”عثمان بن محمد “قال:قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم (تقطع الآجال من شعبان إلی شعبان حتیٰ أن الرجل لینکح ویولد لہ وقد خرج اسمہ في الموتیٰ)․ (شعب الإیمان للبیہقي، رقم الحدیث”۳۵۵۸“:۵/۳۶۵، مکتبة الرشد)   
          ترجمہ: ”حضرت عثمان بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمین پر بسنے والوں کی ) عمریں ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک طے کی جاتی ہیں ،یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں؛ حالانکہ اس کا نام مردوں کی فہرست میں داخل ہوچکا ہوتا ہے“۔
          (۱۰) عن”أبي الدرداء“ رضي اللہ عنہ قال:(من قام لیلتي العیدین للہ محتسباً لم یمت قلبہ حین تموت القلوب)، قال ”الشافعي“رحمہ اللہ:(وبلغنا أنہ کان یقال إن الدعاء یستجاب في خمس لیال: في لیلة الجمعة، ولیلة الأضحیٰ، ولیلة الفطر، وأول لیلة من رجب، ولیلة النصف من شعبان)․(شعب الإیمان للبیہقي، رقم الحدیث”۳۴۳۸“:۵/۲۸۷، مکتبة الرشد)
          ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جس شخص نے ثواب کی امید سے عیدین کی راتوں میں قیام کیا (یعنی عبادت کے ذریعے ان کو زندہ کیا) تو اس کا دل اس (وحشت والے) دن زندہ رہے گا، جس دن لوگوں کے دل (قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے)مردہ ہو جائیں گے،”امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ پانچ راتوں میں دعاوٴں کو قبول کیا جاتا ہے، جمعہ کی رات ،عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، رجب کی پہلی رات، اور شعبان کی پندرہویں رات“۔
          مذکورہ ارشادات کے علاوہ اور بہت سی روایات میں اس رات کے فضائل وارد ہوئے ہیں اس وقت ان سب کا جمع کرنا مقصود نہیں، بس ایک خاص جہت سے ایک نمونہ سامنے لانا مقصود ہے۔ وہ خاص پہلو یہ ہے کہ مذکورہ تمام احادیث میں جہاں عظیم الشان فضائل مذکور ہیں، وہاں بہت سے ایسے (بد قسمت) افراد کا تذکرہ ہے ،جو اس مبارک رات میں بھی رب عزوجل کی رحمتوں اور بخششوں سے محروم رہتے ہیں، ذیل میں ان گناہوں کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے؛ تاکہ تھوڑا سا غور کر لیا جائے کہ کہیں ہم بھی ان رذائل میں تو مبتلا نہیں! اللہ نہ کرے کہ ہمارے اندر ان میں سے کچھ ہو، اور اگر کچھ ہو تو اس سے بروقت چھٹکارا حاصل کر سکیں:
”شب براء ت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم افراد“:
(۱) مسلمانوں سے کینہ، بغض رکھنے والا۔
(۲) شرک کرنے والا۔
(۳) ناحق قتل کرنے والا۔
(۴) زنا کرنے والی عورت۔
(۵) قطع تعلقی کرنے والا۔
(۶) ازار(شلوار،تہبند وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔
(۷) والدین کا نافرمان۔
(۸) شراب پینے والا۔
(۱) کینہ، بغض:
          کسی شخص پر غصہ پیدا ہو اور یہ شخص کسی وجہ سے اس پر غصہ نہ نکال سکے تو اس کی وجہ سے دل میں جو گرانی پیدا ہوتی ہے، اس کو ”کینہ “کہتے ہیں،اسی کا دوسرا نام ”بغض “بھی ہے،کینہ و بغض محض ایک گناہ یا عیب نہیں؛ بلکہ یہ اور بہت سارے گناہوں کا مجموعہ ہے،امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غصہ سے کینہ اور کینہ سے ”آٹھ“گناہ پیدا ہوتے ہیں،
(۱) حسد،
(۲) شماتت،
(۳) سلام کا جواب نہ دینا،
(۴) حقارت کی نگاہ سے دیکھنا،
(۵) غیبت، جھو ٹ اور فحش گوئی کے ساتھ زبان دراز کرنا،
(۶) اس کے ساتھ مسخرا پن کرنا،
(۷) موقع پاتے ہی اس کو ستانا،
(۸) اس کے حقوق ادا نہ کرنا۔ (کیمیائے سعادت،ص:۳۳۲) اس کے علاوہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ”کینہ ور کی بخشش نہیں کی جاتی“ (مشکاة المصابیح،ص؛۴۲۷) اس جیسی اور بہت سی احادیث سے کینہ کی برائی اور مذمت سامنے آتی ہے؛ اس لیے غور کر کے اپنے آپ کو اس برائی سے بچانا از حد ضروری ہے، اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی کسی پرغصہ آئے فوراً اس کو معاف کردیا جائے، ہر گز اس کے خلاف کسی بات کو دل میں نہ رہنے دیا جائے، اور اس سے میل جول اور سلام و کلام شروع کردیا جائے۔
(۲) شرک:
          اللہ تعالی کی ذات یا صفات ِمختصہ میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک کہلاتا ہے،شرک توحید کی ضد ہے،موجودہ دور میں شرک کی جتنی صورتیں مروج ہیں، ان سب سے بچنا ضروری ہے، مثلاً: غیر اللہ کو مختار کل ،نفع ونقصان کا مالک ، زندہ کرنے اورمارنے پر قادر، بیمار کرنے اور شفاء دینے پر قادر، روزی میں وسعت اور تنگی پیدا کرنے پر قادرسمجھنا،انبیاء کرام واولیاء عظام کے تقرب کے حصول کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز اور منت ماننا،ان کی قبروں پر سجدہ کرنا،ان کو عالم الغیب اورحاضرو ناظرسمجھنا سب شرک کی اقسام ہیں، پھر شرک کی دو قسمیں ہیں:شرک اکبر اور شرک اصغر،شرک اکبر کی تفصیل تو گذر چکی،شرک اصغر میں ریاکاری،بدشگونی اور غیر اللہ کے نام کی قسمیں کھاناوغیرہ شامل ہے،شرک کا انجام دوزخ بتایا گیا ہے، ﴿إن اللہ لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء، ومن یشرک باللہ فقدضلّ ضلالاً بعیداً﴾ (النساء:۱۱۶) ترجمہ:”اللہ تعالی اس کو تو بے شک نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے،لیکن اس کے علاوہ جس کسی کو بھی چاہے گا بخش دے گا،اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، وہ یقینا بڑی دور کی گمراہی میں پڑ گیا“۔
(۳) ناحق قتل:
          بغیر کسی شرعی عذر کے کسی کو ناحق قتل کرنا چاہے، وہ کافر ہی کیوں نہ ہوسخت گنا ہ ہے،اور کسی ایمان والے کو قتل کرنا تو اس سے بھی بدترین ہے ایسے شخص کے بارے میں قرآن پاک میں بہت سخت وعید آئی ہے،ارشاد باری تعالی ہے ﴿ومن یقتل موٴمناً متعمداً فجزاوٴہ جھنم خالداً فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ وأعد لہ عذاباًعظیماً﴾ (النساء:۹۳)․اس آیت میں اللہ تعالی نے قاتل کو ہمیشہ جہنم کی،اپنے غضب، اپنی لعنت اور سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، موجودہ دور میں انسانی جان کی قیمت چند ٹکوں کے برابر بھی نہیں سمجھی جاتی، ذرا ذرا سی بات پر اور دنیاوی چند سکوں کی خاطر کسی کے سہاگ کو اجاڑ دینا، معصوم بچوں کو یتیم کردینا، بوڑھے ماں باپ کی آخری عمر کے سہاروں کو چھین لینا، اور تجارتی وکاروباری مراکز کو خاکستر کردینا، ایک کھیل سا بن گیا ہے، اور قیامت کی علامات میں سے یہ علامت بھی سامنے آچکی ہے کہ نہ مرنے والے کو پتہ ہے کہ کس نے مارا اور کیوں مارا اور نہ ہی مارنے والے کو۔
(۴) زنا:
          کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ زنا بھی ہے،جو عورت یا مرد اس بد ترین گناہ میں مبتلا ہو، اس کے لیے احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ،اور اگر اس عمل ِبد کو پیشے کے طور پر کیا جائے ”جیسے موجودہ دور میں اس کا رواج عام ہو چکا ہے.“ تو یہ دوہرا گناہ ہے اور ایسی کمائی بھی حرام ہے۔ ”شب ِمعراج میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایسی عورتوں پر ہوا جو اپنے پستانوں سے (بندھی ہوئی) اور پیروں کے بل لٹکی ہوئی تھی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل امین علیہ السلام سے سوال کیا کہ یہ کون ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ زناکار عورتیں اور اپنی اولاد کو قتل کرنے والی عورتیں ہیں“․
(۵) قطع رحمی:
          اپنے اعزہ واقرباء اور اپنے متعلقین کے حقوق ِضروریہ ادا نہ کرنا قطع رحمی ہے، مثلاً: سلام کا جواب نہ دینا،بیماری کے وقت عیادت نہ کرنا،چھینک کا جواب نہ دینا، فوت ہو جانے پر بلاعذر اس کی نمازِجنازہ نہ پڑھناوغیرہ، یہ سب درجہ بدرجہ قطع رحمی میں شامل ہیں،ایک موقع پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا (قانوناً، بغیر سزا کے) جنت میں نہیں جائے گا.“ (بخاری ومسلم )
(۶) ازار”شلوار، پاجامہ“ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا:
          مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے شلوار، تہبند،پاجامہ، پینٹ ، کرتا یاچوغہ وغیرہ لٹکاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے،ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ:”ٹخنوں سے نیچے جو تہبند(پاجامہ وغیرہ) ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے“۔ (مشکاة المصابیح: ۱/۲۷۳، قدیمی) تکبر کی نیت ہو یا نہ ہو ہر حال میں یہ گناہ ہے، اگر تکبر کی نیت ہو تو دوہرا گناہ ہے اور اگر نیت نہ بھی ہو تو اس فعل کا گناہ ہے۔
(۷) والدین کی نافرمانی:
          والدین کی نافرمانی بہت سخت گناہ ہے، کئی احادیث میں والدین کی نافرمانی پر سخت وعیدیں آ ئی ہیں،ایک حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان، اور شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہو گا.“ (نسائی،دارمی)۔ قرآن پاک میں تو والدین کے سامنے ”اُف“ تک کہنے سے منع کیا گیا ہے، آج کل والدین کی نافرمانی، ان کے آگے بولنا، ان کے حقوق ادا نہ کرناعام ہو گیا ہے، اس سے اجتناب ازحد ضروری ہے، وگرنہ دنیاو آخرت کا وبال اس کا مقدر بنے گا۔
(۸) شراب نوشی:
          شراب نوشی کی ایک وعید پیچھے گذر چکی ، یہ صرف ایک گناہ کبیرہ ہی نہیں؛ بلکہ یہ بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے، اس کو ام الخبائث کہا گیا ہے، ایک حدیث پاک میں ہے کہ:”میری امت میں کچھ لوگ شراب پئیں گے،اور شراب کو دوسرا نام دیں گے، اوران کے سامنے ناچنے اور گانے والی عورتیں ہوں گی ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ زمین میں دھنسا دیں گے یا ان کو بندر اور خنزیر بنا دیں گے“۔لہذا شراب یا دیگر نشہ پیدا کرنے والی سب چیزیں مثلا: وہسکی ، ہیروئن، بھنگ، وغیرہ سب حرام ہیں۔ آج موجودہ دور میں اس حدیث کے مناظر پوری طرح ہمارے سامنے ہیں، اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
          شب براءت کے فضائل والی احادیث میں مذکور تمام محروم رہ جانے والوں کا کچھ کچھ تذکرہ ہو گیاان سب گناہوں سے جتنا جلد ہوسکے اور کم از کم شعبان کی پندرہویں رات سے پہلے پہلے توبہ کرکے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اکابرین امت کے اقوال:
          علامہ ابن الحاج مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ”اس رات کے بڑے فضائل ہیں اور بڑی خیر والی رات ہے، اورہمارے اسلاف اس کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور اس رات کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرتے تھے.“ (المدخل لابن الحاج:۱/۲۹۹)
          علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگردابن رجب حنبلی فرماتے ہیں کہ: ”شام کے مشہور تابعی خالد بن لقمان رحمہ اللہ وغیرہ اس رات کی بڑی تعظیم کرتے، اوراس رات میں خوب عبادت کرتے“۔ (لطائف المعارف:۱۴۴)
          علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”شعبان کی پندرہویں رات کو بیداررہنا مستحب ہے.“ (البحر الرائق:۲/۵۲)
          علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”شعبان کی پندرہویں رات کو عبادت کرنا مستحب ہے.“ (الدر مع الرد:۲/۲۴،۲۵)
          علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ”بیشک یہ رات شب براءت ہے اور اس رات کی فضیلت کے سلسلے میں روایات صحیح ہیں.“ (العرف الشذی، ص:۱۵۶)
          شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ”اس رات بیداررہنا مستحب ہے اور فضائل میں اس جیسی احادیث پر عمل کیا جاتا ہے، یہی امام اوزاعی کا قول ہے“۔ (ما ثبت بالسنة،ص:۳۶۰)
          حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”شب براء ت کی اتنی اصل ہے کہ پندرہویں رات اور پندرہواں دن اس مہینے کا بزرگی اوربرکت والا ہے“۔ (بہشتی زیور،چھٹا حصہ،ص:۶۰)
          کفایت المفتی میں ہے کہ: ”شعبان کی پندرہویں شب ایک افضل رات ہے.“ (۱/۲۲۵،۲۲۶)
          فتاوی محمودیہ میں ہے کہ: ”شب قدر وشب براءت کے لیے شریعت نے عبادت، نوافل، تلاوت، ذکر، تسبیح، دعاء و استغفار کی ترغیب دی ہے “۔(۳/۲۶۳،جامعہ فاروقیہ کراچی)
          مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ فرماتے ہیں کہ: ”واقعہ یہ ہے کہ شب براءت کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، جن میں اس رات کی فضیلت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے،ان میں بعض احادیث سند کے اعتبار سے بے شک کچھ کمزور ہیں؛لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبارسے کمزور ہو، لیکن اس کی تائید میں بہت سی احادیث ہو جائیں تو اس کی کمزوری دور ہو جاتی ہے.“ (اصلاحی خطبات: ۴/۲۶۳ تا۲۶۵، ملخصاً)
شب براءت کی رسومات اور بدعات:
          اس رات میں حد سے زیادہ عبادت کرنا،مسجدوں میں اجتماعی شب بیداری کرنا، مخصوص قسم کے مختلف طریقوں سے نوافل پڑھنا، جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، نوافل وتسبیح تراویح کی جماعت کروانا،اسپیکر پر نعت خوانی وغیرہ کرنا،ہوٹلوں اور بازاروں میں گھومنا،حلوہ پکانے کو ضروری سمجھنا،خاص اس رات میں ایصال ثواب کو ضروری سمجھنا، قبرستان میں چراغ جلانا،اس رات سے ایک دن پہلے عرفہ کے نام سے ایک رسم، اس رات میں گھروں میں روحوں کے آنے کا عقیدہ، فوت شدہ شخص کے گھر جانے کو ضروری سمجھنا،کپڑوں کا لین دین، بیری کے پتوں سے غسل کرنا،گھروں میں چراغاں کرنا،گھروں اور مساجد کو سجانا، اور ان سب سے بڑھ کر اس رات میں آتش بازی کرنا، مذکورہ تمام امور شریعت کے خلاف ہیں، ان کا کوئی ثبوت نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورسلف صالحین سے نہیں ملتا؛ اس لیے ان تما م بدعات ورسومات کا ترک اور معاشرے سے ان کو مٹانے کی کوشش کرنا ہر ہر مسلمان پر بقدرِ وسعت فرض ہے۔
شب براءت میں کرنے کے کام:
          آخر میں اس مبارک رات میں کرنے والے کیا کیا کام ہیں ؟ ان کا ذکر کیا جاتا ہے؛ تاکہ افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اس رات کے فضائل کو سمیٹا جاسکے:
          ۱-       نماز عشاء اور نماز فجر کو باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرنا۔
          ۲-       اس رات میں عبادت کی توفیق ہو یا نہ ہو ،گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کرنا،بالخصوص ان گناہوں سے جو اس رات کے فضائل سے محرومی کا سبب بنتے ہیں۔
          ۳-       اس رات میں توبہ واستغفار کا خاص اہتمام کرنااور ہر قسم کی رسومات اور بدعات سے اجتناب کرنا۔
          ۴-       اپنے لیے اور پوری امت کے لیے ہر قسم کی خیرکے حصول کی دعاء کرنا۔
          ۵-       بقدر وسعت ذکر اذکار ،نوافل اور تلاوت قرآن پاک کا اہتمام کرنا۔
          ۶-       اگر بآسانی ممکن ہو تو پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا۔
          واضح رہے کہ مذکورہ تمام اعمال شب براء ت کا لازمی حصہ نہیں؛ بلکہ ان کا ذکر محض اس لیے ہے کہ ان میں مشغولی کی وجہ سے اس رات کی منکرات سے بچا جاسکے۔

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم

سوال: ⁠⁠⁠حضرت مفتی صاحب !کیا خودکشی کرنے والے پر جنازہ ادا کرنا جائز ہے اور ایصال ثواب و دعا مغفرت کرنا صحیح ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھی جائے، اور اسی پر فتوی ہے – نیز اس کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کرنا بھی جائز ہے- تاہم مقتدر شخصیات اور اہل علم اس کے جنازے میں شرکت نہ کریں.

من قتل نفسہ ولو عمدا یغسل ویصلی علیہ بہ یفتی

الدر المختار: (3-108)

واللہ اعلم بالصواب.

اہلیہ محمود الحسن

دارالافتاء صفہ آن لائن کورسز.

5 جمادی الاولی 1438 ھ. 3-2-2017ء

http://www.suffahpk.com/khud-kushi-karny-waly-ki-namaz-janaza-ka-hukum/
.....
http://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/22043

Friday, 27 April 2018

ایمان اور نکاح کی تجدید کا طریقہ کیا ہے؟

 ایمان اور نکاح کی تجدید کا طریقہ کیا ہے؟

سوال: میں نے سنا تھا کہ اپنے نکاح کی تصدیق یا تجدید کرتے رہنا چاہئے، اس کا مطلب کیا ہے؟ اور اگر ایسا کرنا ہے تو طریقہ بھی بتادیں۔
جواب: فقہاء کرام نے لکھاہے کہ: دین سے ناواقف لوگ اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا ایمان اور نکاح خطرے میں پڑجاتا ہے اور بعض اوقات ختم ہوجاتاہے؛ اس لئے ایسے لوگوں کو احتیاطاً وقتاً فوقتاً تجدید نکاح کرتے رہناچاہئے۔
تجدیدِ نکاح کاطریقہ یہ ہے کہ: دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیا جائے،  مثلاً: بیوی کہے کہ: میں اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیتی ہوں اور شوہر کہے کہ میں قبول کرتا ہوں۔
فقط واللہ اعلم
http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%AA%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92/2017-03-20
.......
سوال # 26963
تجدید نکاح کی صورت کیا ہے؟ اس کا مکمل طریقہ کیا ہے؟ نیز کن صورتوں میں تجدید کی ضرورت پڑتی ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔

Published on: Oct 27, 2010
جواب # 26963
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1582=1582-11/1431
تجدید نکاح کا کوئی الگ طریقہ نہیں ہے، آدمی جس طرح پہلی مرتبہ نکاح کرتا ہے بایں طور کہ نکاح کا ایجاب وقبول کم ازکم دوشرعی گواہوں کی موجودگی میں انجام پاتا ہے، بعینہ یہی صورت تجدید نکاح کی ہوتی ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب میاں بیوی میں سے کوئی کسی موجب کفر بات کا ارتکاب کربیٹھے اور دائرہٴ اسلام سے خارج ہوجائے، پھر تجدید ایمان کے بعد دونوں ساتھ رہنا چاہیں یا شوہر بیوی کو طلاق بائن دیدے اور پھر زوجین ایک ساتھ زندگی گزارنے پر رضامند ہوجائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/26963
........
نکاح چاہے ابتداء ً ہو یا اس کی تجدید ہو دونوں صورتوں میں مہر مقرر کرنے، وکیل بنانے اور ایجاب وقبول کے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے کا حکم یکساں ہے۔ شریعت مطہرہ میں نکاح کا ایک ہی طریقہ کار ہے البتہ اگر تجدید نکاح فقط برائے تجدید ہو کسی غرض (مثلا عورت کا بائنہ یا مرتدہ ہوجانے کی وجہ) سے نہ ہو تو دوبارہ مہرا مقرر کرنا ضروری نہیں، پچھلا مہر ہی کافی ہے۔
لما فی القرآن الکریم(النساء:۳): فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا ۔
وفی الھندیۃ (۲۷۰/۱): الباب الثاني فيما ينعقد به النكاح وما لا ينعقد به: ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع كذا في النهر الفائق۔
وفی الشامیۃ (۴۲/۱): والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين ، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير ۔
وفی الفقہ الاسلامی (۶۵۸۱/۹): خلاصة شروط الزواج في كل مذهب على حدة :الحنفية: للزو اج شروط في الصيغة وفي العاقدين وفي الشهود:أما شروط الصيغة : (وهي الإيجاب والقبول) فهي:
(۱) - أن تكون بألفاظ مخصوصة: وهي إما صريحة وإما كناية۔۔۔(۲)أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد۔(۳) ألا يخالف القبول الإيجاب۔(۴)أن تكون الصيغة مسموعة للعاقدين۔(۵) ألا يكون اللفظ مؤقتاً بوقت كشهر، وهونكاح المتعة۔۔۔۔ وأما الشهادة: فهي شرط لصحة الزواج، وتكون بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين، ولو كانا محرمين بالنسك۔ 

نجم الفتاوی

...........
س… کوئی شخص کفر کے الفاظ بولتا ہے، مثلاً: “روزہ وہ رکھے جو بھوکا ہو”، یا “روزہ وہ رکھے جس کے گھر میں گندم نہ ہو”، “نماز میں اٹھک بیٹھک کون کرے؟” یا اسی طرح کے اور کوئی کلمہ کفر بولے تو کیا اس کا ایمان ختم ہوجاتا ہے؟ اس کی نماز روزہ اور حج، صدقات اور زکوٰة ختم ہوجاتے ہیں، اور اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ اس کو اب کیا کرنا چاہئے؟ کیا نکاح دوبارہ پڑھائے؟ اور توبہ کس طرح کرے؟ اگر وہ توبہ نہیں کرتا ہے اور عورت کے ساتھ مباشرت کرتا ہے جبکہ بیوی کے ساتھ نکاح تو جاتا رہا، کیا وہ زنا کا مرتکب ہوتا ہے؟ اب وہ کس طرح پھر سے مسلمان ہوگا؟ براہ کرم تفصیل سے جواب دیں، نامعلوم کتنے شخص اس میں مبتلا ہیں؟
ج… دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا کفر ہے، اس سے ایمان ساقط ہوجاتا ہے، ایسے شخص کو اپنے کلماتِ کفریہ سے توبہ کرکے اور کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہئے، نکاح بھی دوبارہ کیا جائے، اگر بغیر توبہ یا بغیر تجدید نکاح کے بیوی کے پاس جائے گا تو بدکاری کا گناہ دونوں کے ذمہ ہوگا۔
 Aap ke Masail aur Unka Hal (آپ کے مسائل اور ان کا حل) - Maulana Yusuf Ludhianvi Shaheed
http://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/18896