Thursday, 2 July 2020

شاہ ولی اللہ دہلوی سے منسوب صلوۃ الحاجہ کا حکم

شاہ ولی اللہ دہلوی سے منسوب صلوۃ الحاجہ کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
مولانا مکی صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ صاحب کے حوالہ سے قبولیت کے قریب بلکہ مقبول ایک نماز چار رکعات صلوة الحاجت والی جس میں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین دوسری رکعت سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ ربی انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سو مرتبہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل (بغیر ضم سورة کے) پڑھنی ہے  پھر نماز کے بعد سجدہ میں سو مرتبہ ربی انی مغلوب فانتصر پڑھنا ہے نماز کے اول آخر میں ایک ایک تسبیح دورود شریف کی پڑھنا ہے بتلائی ہے 
اس کی کیا حیثیت ہے؟
الجواب وباللہ التوفق:
صلوۃ الحاجہ اصل میں دعاء وتضرع ہے 
اس کی مشروعیت واستحباب پہ ائمہ متبوعین کا اتفاق ہے 
اس نماز کی کیفیت اور طریقوں کے بارے میں متعدد و متعارض روایات وارد ہوئی ہیں 
اسی لئے اس کی رکعتوں کی تعداد و ادائی کے طریقوں کے بارے میں ائمہ کے اقوال مختلف ہیں 
ائمہ ثلاثہ کے یہاں دو رکعت پڑھنا مستحب ہے، احناف کا ایک قول بھی یہی ہے، شرح منیہ میں اسے نقل کیا ہے 
جبکہ ہمارے یہاں مشہور وظاہر مذہب چار رکعتیں ہیں 
امام غزالی وغیرہ نے بارہ رکعتوں کا قول اختیار کیا ہے 
شامی نے تجنیس کے حوالے سے بعد عشاء چار رکعتیں نقل کی ہیں 
صلوة الحاجة أربع ركعات بعد العشاء . (ردالمحتار ج٢ ص ٤٧٣)
اس باب میں اختلاف روایات کے باعث کیفیت و تعداد رکعات میں بھی اختلاف ہوا ہے 
اس نماز میں نہ کوئی قرات مخصوص ہے نہ ہی دعاء 
چونکہ اس نماز کی اصلیت دعاء اور طلب ضرورت ہے 
جس کو جس طریقے اور کیفیت میں ضرورتیں پوری ہوئیں انہوں نے اسی طریقے پہ عمل کیا اور دوسروں کو ترغیب بھی دی 
یعنی کہ اس کا مدار تجربے ،افادیت اور نافعیت پر ہے ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ کے حوالے سے یا شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے ملفوظات کے حوالے سے صلوۃ الحاجت کی جو چار رکعت مخصوص نماز  نقل کی جاتی ہے وہ ان اکابر کے دیرینہ تجربات سے تعلق رکھتی  ہے 
انہوں نے اس ہیئت و کیفیت کے ساتھ نماز کی ادائی کو حل مشکلات ومہمات کے لئے انتہائی مجرب قرار دیا ہے 
اس کیفیت کو انہوں نے منصوص شرعی کی حیثیت سے پیش نہیں کیا ہے 
لہذا بزرگوں اور اکابر کی ان تجرباتی ہدایات پر  عمل کرنا فائدے سے خالی نہیں، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، ہاں! اس ہیئت و کیفیت کو منصوص شرعی نہ سمجھا جائے 
واللہ اعلم 


کمیشن ایجنٹ کا دونوں فریق سے اجرت لینے کا حکم

کمیشن ایجنٹ کا دونوں فریق سے اجرت لینے کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
ایک ہوتا ہے مالک ایک کمیشن ایجینٹ ایک خریدنے والا کمیشن ایجینٹ اور مالک کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ ایک کسٹمر لے آو گے اور وہ چیز فروخت ہونے پر اس میں سے کچھ پیسے آپکو دیا جاۓ گا کیا یہ رقم شریعت کی نظر میں حلال ہے؟  کمیشن ایجینٹ اگر دونوں سے مانگ کر لے مالک سے بھی اور خریدنے والے سے بھی تو کیا حکم ہے؟ اور اگر چیز خریدنے والا خوشی سے کمیشن ایجینٹ کو کچھ دے دے تو کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفق:
دونوں سے اپنے معتدبہ کام، سعی اور دوڑ دھوپ پہ طے شدہ اجرت لے سکتا ہے 
اگر کسی کی طرف سے خود سودا کرررہا ہے تو اس کا وکیل ہوگا صرف اسی سے طے شدہ کمیشن یا اجرت لے سکتا ہے دوسرے فریق سے نہیں 
أما الدلال فإن باع العین بنفسه بإذن ربھا فأجرته علی البائع وإن سعی بینھما وباع المالك بنفسه یعتبر العرف (شامی صفحہ 46/4)
بائع و مشتری کے درمیان واسطہ کار ، مڈل اور ثالث کے عمل اور اس کی کمیشن کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام شرعا مباح ہو 
اجرت پہلے طے کرلی جائے 
عاقدین سے سودے یا قیمت کے حوالے سے کسی بھی قسم کا کوئی جھوٹ نہ بولا جائے 
واللہ اعلم

Tuesday, 30 June 2020

بات امانت ہے

مام شافعی رحمہ اللہ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ؟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: 

1. ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﻨﺎ، 

2. ﺭﺍﺯ ﻓﺎﺵ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﻭﺭ 

3. ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ۔

(الانتقاء ج ١ ص١٠٠)

ایک مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دوسرے کا راز فاش نہ کرے، کسی کی پوشیدہ بات جاننے کی کوشش بھی نہ کرے اور ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی کرے کیونکہ رازطاقت کا ایسا سرچشمہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا‘ اور راز ایسی فوج جسے شکست نہیں دی جاسکتی۔ بعض راز کسی ایک شخص‘ بعض ایک خاندان اور بعض پورے معاشرے سے متعلق ہوتے ہیں۔ انفرادی، خاندانی اور معاشرتی راز فاش ہونے سے دوسروں کو مذکورہ تینوں طبقوں سے استہزا اور نقصان پہچانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی طرح کسی ریاست کے اہم راز اس کے دشمن کے ہاتھوں میں چلے جانے سے ملک کے سنبھلنے کا امکان باقی نہیں رہتا اوراس ریاست کو شکست کی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں راز کو امانت قرار دیا گیا رسول کائنات رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 

’’جب آدمی کوئی بات کرے اور چلا جائے تو یہ امانت ہے.‘‘ 

(جامع ترمذی: 1959) 

اس بات کی مزید وضاحت عمل صحابہ رضی اﷲ عنہم سے ہوتی ہے ۔حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: 

’’رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا، جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا تمھیں دیر کیوں ہوئی؟

میں نے کہا مجھے آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پو چھا آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ کام کیا تھا؟ 

میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ 

میری والدہ نے کہا تم آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشا نہ کرنا۔

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے (نے اُس وقت اپنے شاگر د حضرت ثابت بنانی رحمۃ اﷲ علیہ سے) فرمایا: ’’ﷲ کی قسم! اے ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتا تا‘‘(صحیح مسلم: 2482) راز داری کے حوالے سے چند اہم امور پیش خدمت ہیں جن سے رازداری کی اہمیت وافادیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ 

1: اپنے راز کی خو د حفاظت کرنا:ہم اپنے اسرار کی حفاظت خودکریں تو بہت سی پریشانیوں سے بچے رہیں گے ۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ الکریم کافرمان ہے: 

’’سِرُّ کَ اَسِیْرُکَ فَاِنْ تَکَلَّمْتَ بِہٖ صِرْتَ اَسِیْرَ ہُ‘‘

راز اس وقت تک آپ کا غلام ہے جب تک آپ نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا ہے لیکن جب اسے بیان کردیا تو اب آپ اس کے غلام ہوگئے۔ (ادب الدنیا والدین :ماوردی)

اسی طرح جب ﷲ کی طرف سے کوئی خاص فضل وکرم ہو جس کے بیان کرنے سے بغض وحسد کا اندیشہ ہو تو اس کا ذکر لوگوں میں خصوصیت کے ساتھ نہیں بلکہ عمومی انداز میں کریں تاکہ اس نعمت کے حاسد کو پتہ نہ چلے جیساکہ ارشاد باری ہے: ’’یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں‘‘ (یوسف: 5)

اس آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام سے خواب کی نعمت وبشارت کو اپنے بھائیوں سے چھپانے کا ذکر ہے اورفرمان نبوی ہے: ’’لوگوں سے چھپاکر اپنے مقاصد کی کامیابی پرمدد طلب کرو کیوں کہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے.‘‘ (تفسیر ابن کثیر) 

2: دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا:اگر کسی کے پاس کسی دوسرے کا راز ہے تو اسے لوگوں میں بیان نہ کرے خواہ وہ راز اس کے گھر، اس کی ذاتی برائی، عیب اور نقص سے متعلق ہو۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اﷲ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘ (ابن ماجہ:207) ابن حجر عسقلانی نے کہا :’’پردہ پوشی سے مراد ہے کسی نے کسی کی کوئی برائی دیکھی تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے ‘‘ 3:کسی کی جاسوسی نہ کرنا:حدیث میں جاسوسی کرنے اورچھپ کر دوسروں کی باتیں سننے سے منع کیا گیا ہے ۔ ارشاد گرامی ہے :’’جس شخص نے کسی قوم کی باتوں پر کان لگایا حالانکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں یا وہ اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا‘‘(صحیح بخاری:7042) 4:لوگوں کے راز فاش کرنے کی سزا:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑکر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ۔‘‘( سنن ترمذی:1959) راز ایک امانت ہے اس کا ظاہر کرنا گویا چغلی کرنا ہے اورچغل خوروں کی سزاجہنم ہے ۔ زوجیت کے متعلق راز فاش کرنے والا خواہ شوہر ہو یا کوئی دوسرا چغل خور قیامت میں اﷲ کے نزدیک سب سے برا انسان ہوگا۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :’’قیامت کے دن، اﷲ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ(آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے.‘‘ (صحیح مسلم: 1437) 

5: راز کی حفاطت کا طریقہ:خاموشی اختیار کرناکیوں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :’’ جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پالی‘‘( جامع ترمذی:2501) سیدنا عمربن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کاقول ہے : ’’دل رازوں کا برتن ہے ، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے پس ہر آدمی اپنے راز کی کنجی کی حفاظت کرے اپنی زبان کی حفاظت کرے ‘‘۔(ادب الدنیا والدین) 6: راز فاش کرنے والے کا حکم:راز جب امانت ہے تواس کا ظاہر کرنا خیانت اور گناہ کبیرہ اور توبہ لازم ہے ۔ کچھ ا مور ایسے ہیں جن کو بیان کرنے کا حکم دیا گیاہے مثلاً ایسا شخص جوعلانیہ برائی کرنے والا ہواور افراد ، معاشرہ وسماج کے لئے خطرہ کا باعث ہویعنی اس کی شرانگیزی کسی شخص کو یاپورے سماج کو نقصان پہنچا رہی ہوتواس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے میں حرج نہیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہا جا سکے ۔فرمان رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہے : ’’میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے کھلم کھلا بغاوت کرنے والے کے ، ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا)کام کرے اور اس کے باوجود کہ اﷲ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اﷲ کے پردے کو کھولنے لگا‘‘ (صحیح بخاری:6069) اسی طرح کسی کے حق میں گواہی طلب کی جائے تو جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے بیان کرے ، یہاں پر چھپانا جائز نہیں ہے ۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے : ’’اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی کو چھپاتاہے تواس کا دل گناہ گار ہے ‘‘ (البقرۃ:283)اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے اور دوسروں کے راز کی حفاظت اورعیوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے !آمین بجاہ النبی الامین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ۔

محفل میں بیٹھ کر موبائل فون میں مشغولیت

محفل
میں بیٹھ کر
موبائل میں مشغولیت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا اور فرمایا: اس انگوٹھی نے آج سے میری توجہ تمھاری طرف بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اتار دی. مجلس کے آداب میں سے ہے کہ انسان شرکاء مجلس اور مہمانوں کو چھوڑکر کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو، آج کل لوگ محفل میں شرکاء کو چھوڑکر دیر تک موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مشغول رہتے ہیں. ایسا کرنا خلاف ادب ہے.
 اخبرنا محمد بن علي بن حرب، قال: حدثنا عثمان بن عمر، قال: حدثنا مالك بن مغول، عن سليمان الشيباني، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما فلبسه، قال: "شغلني هذا عنكم منذ اليوم إليه نظرة، وإليكم نظرة"، ثم القاه. 31595 - 5291. تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5515)، مسند احمد (1/322) (صحیح الإسناد)» قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد. سنن نسائي. كتاب الزاينة (من المجتبى). 81. بَابُ: طَرْحِ الْخَاتَمِ وَتَرْكِ لُبْسِهِ. 81.
مجلس کے دیگر آداب حسب ذیل ہیں:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾ سورہ المجادلۃ آیت نمبر 11
کے ترجمہ "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں دوسروں کے لئے گنجائش پیدا کرو، تو گنجائش پیدا کردیا کرو، (٧) اللہ تمہارے لئے وسعت پیدا کرے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ، تو اٹھ جاؤ، تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔" کے ضمن میں
آسان ترجمۂ قرآن کے تحت مفتی محمد تقی عثمان 7 کے ضمن میں اس آیت کا پس منظر بیان فرماتے ہیں کہ: "ایک مرتبہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد نبوی کے ساتھ اس چبوترے پر تشریف فرما تھے جسے صفہ کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ ایسے بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آئے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، اور ان کا درجہ اونچا سمجھا جاتا تھا۔ ان کو مجلس میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی تو وہ کھڑے رہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ ذرا سمٹ سمٹ کر آنے والوں کے لئے جگہ پیدا کریں، اس کے باوجود ان کے لئے جگہ کافی نہ ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ اٹھ جائیں، اور آنے والوں کے لئے جگہ خالی کردیں۔ اس پر کچھ منافقین نے برا منایا کہ لوگوں کو مجلس سے اٹھایا جارہا ہے۔ عام طور سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معمول نہیں تھا، لیکن شاید کچھ منافقین نے آنے والوں کو جگہ دینے میں تردد کیا ہو، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اٹھادیا ہو۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں ایک تو مجلس کا عام حکم بیان فرمایا گیا کہ آنے والوں کے لئے گنجائش پیدا کرنی چاہئے، اور دوسرے یہ حکم بھی واضح کردیا گیا کہ اگر مجلس کا سربراہ کسی وقت محسوس کرے کہ آنے والوں کے لئے جگہ خالی کرنی چاہئے تو وہ مجلس میں پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ اٹھ کر نئے آنے والوں کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ البتہ کوئی نیا آنے والا خود کسی کو اٹھنے پر مجبور نہیں کرسکتا، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہی تعلیم مذکور ہے۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ مجلس سے کسی کو اٹھاکر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے بلکہ آنے والے کے لئے ہٹ جائے اور جگہ کشادہ کردے۔ (بخاری وغیرہ)
لہذا مجلسوں میں ہر مرد وعروت کو ان چند آداب کا لحاظ رکھنا چاہئے۔
۱) کسی کو اس کی جگہ سے اٹھاکر خود وہاں نہ بیٹھو۔ (ابوداؤد)
۲) کوئی مجلس سے اٹھ کر کسی کام کو گیا اور یہ معلوم ہے کہ وہ ابھی واپس آئے گا تو ایسی صورت میں اس جگہ کسی کو بیٹھنا نہیں چاہئے وہ جگہ اسی کا حق ہے۔ (ابوداؤد ج ۲؍ ص ۳۱۶)
۳) اگر دو شخص مجلس میں پاس پاس بیٹھ کر باتیں کررہے ہوں تو ان دونوں کے بیچ میں جاکر نہیں بیٹھ جانا چاہئے۔ ہاں البتہ وہ دونوں اپنی خوشی سے تمہیں اپنے درمیان میں بٹھائیں تو بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ابوداؤد ج ۲؍ ص ۳۱۷)
۴) جو تم سے ملاقات کے لئے آئے تو تم خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لئے ذرا اپنی جگہ سے سرک جاؤ جس سے وہ یہ جانے کہ میری قدر وعزت کی۔
۵) مجلس میں سردار بن کر مت بیٹھو بلکہ جہاں بھی جگہ ملے بیٹھ جاؤ۔ گھمنڈ اور غرور اللہ تعالیٰ کو بے حد ناپسند ہے اور تواضع و انکساری اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔
۶) مجلس میں چھینک آئے تو اپنے منھ پر اپنا ہاتھ یا کوئی کپڑا رکھ لو اور پست آواز سے چھینکو اور بلند آواز سے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ کہو اور حاضرین مجلس جواب میں ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘‘ کہیں۔
۷) جماہی کو جہاں تک ہوسکے روکو، اگر پھر بھی نہ رکے تو ہاتھ یا کپڑے سے منھ ڈھانک لو۔
۸) بہت زور سے قہقہہ لگاکر مت ہنسو کہ اس طرح ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔
۹) مجلسوں میں لوگوں کے سامنے تیوری چڑھاکر اور ماتھے پر بل ڈال کر ناک بھوں چڑھاکر نہ بیٹھو کہ یہ مغرور لوگوں اور متکبروں کا طریقہ ہے بلکہ نہایت عاجزانہ انداز سے مسکینوں کی طرح بیٹھو کوئی بات موقع کی ہو تو لوگوں سے بول چال بھی لو۔ لیکن ہرگز ہرگز کسی کی بات نہ کاٹو، نہ کسی کی دل آزاری کرو، نہ کوئی گناہ کی بات کہو۔
۱۰) مجلس میں خبردار خبردار کسی کی طرف پاؤں نہ پھیلاؤ کہ یہ بالکل ہی خلاف ادب ہے۔
مجلس سے اٹھتے وقت کی دعا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجلس سے اٹھ کر تین مرتبہ یہ دعاء پڑھ لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دے گا اور جو شخص مجلس خیر اور مجلس ذکر میں اس دعاء کو پڑھے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس خیر پر مہر کردے گا ۔
(ابوداؤد ج ۲؍ ص ۳۱۹)
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَااِلٰہَ اِلّاَ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔
ترجمہ:۔ اے اللہ! ہم تیری تعریف کے ساتھ تیر ی پاکی بیان کرتے ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔
موبائل فون کے استعمال کے آداب:
موبائل فون عصر حاضر کی اہم سائنسی ایجاد ہے یہ ہرگھر اور ہر فرد کی ضرورت بن گیا ہے، اس کے صحیح استعمال کرنے پر جہاں فوائد بے شمار ہیں تو غلط ہاتھوں میں استعمال کے نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ اس کے فوائد میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱: خوشی اور غمی کی ہر خبر سے آگاہی فورا۔
۲: اپنوں اور بیگانوں سے ہر وقت رابطہ۔
۳: اندرون اور بیرون ملک اپنے عزیز واقارب سے ہر وقت آدمی ملاقات۔
۴: لین دین کے معاملات اور تجارت و دکانداری میں سہولت اللہ کی اس نعمت کا غلط استعمال نہ کریں، اسے ضرورت سمجھیں، فیشن نہیں، اس کے ذریعے دوسروں کو دھوکہ نہ دیں، سادہ لوح انسانوں کو تنگ نہ کریں، نفس پرستی کی تکمیل کے لئے استعمال نہ کریں۔
فون کرنے اور سننے کے آداب:
۱: فون کرنے کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کریں۔
۲: سب سے پہلے سلام کریں۔
۳: بات کرنے کی اجازت طلب کریں۔
۴: پہلے اپنا تعارف کروائیں۔
۵: تین بار کال کریں تینوں بار رسیو نہ کرنے پر کال نہ کریں اور کچھ دیر بعد کریں۔
۶: کال اٹنڈ نہ کرنے پر برا بھلا نہ کہیں۔
۷: ضروری، بامقصد اور مختصر گفتگو کریں۔
۸: سونے اور نماز کے اوقات میں کال کرنے سے گریز کریں۔
۹: رونگ نمبر ملنے پر احسن انداز میں معذرت کریں۔
۱۰: گھروں میں بچے اور بچیاں موبائل فون کال اٹنڈ کرنے سے گریز کریں۔
۱۱: خواتین غیرمحروں کو کال کرنے سے بچیں، سخت حاجت ہر کال کریں اور سنیں مگر آواز لوچ دار نہ ہو کہ بیمار دل دہل جائے۔
۱۲: موبائل یا میموری کارڈ میں موسیقی اور فحاشی پر مبنی ویڈوز، گانے، فلمیـں اور موویز فیڈ کرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات پر مبنی آڈیو، ویڈوز اور اسلامی لٹریچر رکھیں۔
۱۳: موسیقی والی رنگ ٹونز نہ لگائیں کیونکہ موسیقی اسلام میں حرام ہے۔
۱۴: مساجد میں موبائل Silent لگائیں یا Off/ Flight Mode کرلیں۔
۱۵: جھوٹ بولنے سے بچیں بالخصوص فون پر غلط بیانی سے کام نہ لیں۔
۱۶: وعدہ اور پروگرام بناتے وقت ان شآءاللہ کہیں۔
ایس ایم ایس اور کرنے کے آداب:
سستے داموں دوسروں تک اپنا مختصر تحریری پیغام یعنی ایس ایم ایس کے ذریعے جلد پہنچایا جاسکتا ہے، ویسے بھی بہت سی باتیں ایسی ہوتیں ہیں جنہیں کہا نہیں جاسکتا مگر انہیں لکھ کر بتایا جاسکتا ہے اور وہ لوگوں جو خدادار صلاحیت قوت گویائی یا سماعت سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنی ہر بات دوسروں کو اس ایس ایم ایس کے ذریعے باآسانی پہنچا اور سناسکتے ہیں مگر میسج کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھیں۔ مثلا
۱: عشقیہ ایس ایم ایس نہ کریں۔
۲: ایک ہی ایس ایم ایس باربار نہ کریں۔
۳: فحش اور بے ہودہ ایس ایم ایس سے بچیں۔
۴: خالی اور پریشان کن ایس ایم ایس نہ کریں۔
۵: موقع کی مناسبت سے ایس ایم ایس کریں۔
۶: ضروری، مختصر اور بامقصد ایس ایم ایس لکھ کر Send کریں۔
۷: ایس ایم ایس میں اگر مزاح ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن ایسا مذاق نہیں ہونا چاہئے کہ جس سے کسی مسلمان کی ہتھک عزت ہو۔
۸: دوسروں تک کتاب وسنت کی تعلیم پہنچائیں‘ انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کا سلسلہ موقوف ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کے سبب اب یہ ذمہ داری ہرمسلمان پر ہے.
از: ایس اے ساگر



Saturday, 27 June 2020

جماع اور حفظ ِ صحت

جماع اور حفظ ِ صحت
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ جنسی مباشرت مردوں میں مادۂ منویہ یا سپرم کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتی ہے جس کی وجہ سے بیضے کی بارآوری نسبتاً زیادہ آسانی سے ہوجاتی ہے۔ اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب ایک مطالعے کے دوران ایسے مردوں کو روزانہ مادۂ منویہ خارج کرنے کو کہا گیا جنہیں باپ بننے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک ہفتے کے اس عمل کے بعد دیکھنے میں آیا کہ ان افراد کے نطفۂ کے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ڈی این اے کا نقصان کم تھا۔ ٹیلیٹی (بچے پیدا کرنے کی صلاحیت) سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی محقق کا کہنا تھا کہ بچوں کے خواہشمند جوڑوں کے لیے ان کا عمومی مشورہ یہ ہی ہے کہ وہ ہر دوسرے یا تیسرے روز جنسی صحبت کریں۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلوی شہر سِڈنی کے ڈاکٹر ڈیوِڈ گرِیننگ کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں حصہ لینے والے دس میں سے آٹھ مردوں کے نطفے میں ڈی این کا کا نقصان بارہ فی صد کم نظر آیا۔ اگرچہ اس عمل کے ایک ہفتے کے بعد نطفے یا تخم کی مجموعی تعداد اٹھارہ کروڑ سے کم ہو کر صرف سات کروڑ رہ گئی تھی مگر یہ تعداد بھی بارآوری کے لیے کافی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ نئے بننے والے نطفے یا سپرم زیادہ متحرک اور فعال تھے۔ اس سے یہ نظریہ سامنے آیا کہ سپرم جتنے زیادہ وقت کے لیے خصیوں میں رہیں گے ان میں ڈی این اے کے نقصان کا احتمال بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور خصیے کی گرمی ان میں سستی پیدا کر دے گی۔ تاہم ڈاکٹر گرِیننگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روزانہ جنسی مباشرت کو زیادہ عرصے مثلاً دو ہفتوں تک جاری رکھا جائے تو ہوسکتا ہے کہ مادۂ منویہ میں تخم کی تعداد بارآوری کے لیے درکار حد سے کم ہوجائے۔ البتہ اس عمل کا اس وقت جاری رکھنا زیادہ مفید ہے جب عورت کا حیض ختم کے بعد (بالعموم بارہ سے سولہ روز) انڈہ یا بیضہ بن کر رحم کی جانب محوِ سفر ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر گریننگ کا کہنا ہے کہ دریا کو بہتے رہنا چاہئے۔ حکیم و سائنسدان دوست محمد صابر ملتانؔی  
یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ شباب و جنسی قوت کا گہرا تعلق ہے بلکہ جنسی قوت کی زیادتی کا نام ہی دراصل شباب ہے جیساکہ ہم ابتدا میں لکھ چکے ہیں اگر جنسی قوت کا استعمال افراط و تفریط سے کیا جائے گا تو یقیناً اس کا اثر صحت اور شباب پر پڑے گا۔ ہم جنسی قوت کے ساتھ افراط و تفریط یعنی (کثرت جماع اور قلت جماع) دونوں صورتوں کا ذکرکیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح کثرت جماع جنسی قوت اور شباب کو تباہ کردیتا ہے اسی طرح قلت جماع بھی جنسی قوت اور شباب کے نقصان کا باعث ہے۔ دونوں میں اعتدال لازمی ہے۔
قلت جماع بھی نقصان جنسی قوت اور شباب ہے:
اس حقیقت سےتو دنیا شباب آگاہ ہےکہ کثرت جماع یقیناً جنسی قوت اور شباب میں غیرمعمولی نقصان پہنچتا ہے لیکن بہت ہی کم لوگوں کو علم ہوگا کہ قلت جماع یا بالکل جماع نہ کرنا بھی جنسی قوت اور شباب کو برباد کردیتا ہے. تجربہ شاہد ہے کہ جب انسانی قوی مکمل ہوجائیں اور اس میں جنسی قوت کا جذبہ جوش پر ہو، جنسی مادہ جو قابل اخراج ہو اس کو خارج نہ کیا جائے تو وہی مادہ اپنے اعضاء ہی کو برباد کرنے لگتا ہے یا وہ احتلام و سرعت انزال اور جریان کی صورت میں، عورتوں میں سیلان الرحم کی شکل میں خود بخود اخراج پانا شروع کردیتا ہے۔ جو لازماً امراض میں شریک ہیں جن سے صحت اور شباب برباد ہوجاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شباب اور جنسی قوت سے بھرپور نوجوان کا اجماع سے دور رہنا، کثرت جماع سے بھی زیادہ نقصان رساں ہے کیونکہ کثرت جماع سے تو صرف مادہ منویہ کا نقصان ہوتا ہے لیکن قلت جماع سے جنسی اعضاء جن سے جنسی جذبہ پیدا ہوتا ہے اور شباب قائم رہتا ہے تباہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کی خرابی کے علاوہ بوقت جماع جو لذت اور خوشی پیداہوتی ہے اس سے ایک خاص قسم کی بجلی و قوت اور حرارت پیدا ہوتی ہے جو محافظ شباب اور طویل عمری کا باعث ہے۔
اسلام اور کثرت ازواج:
اس قیام شباب اور طویل عمری کے لئے ہی اسلام میں کثرت ازواج کا مسئلہ رائج ہے اور اس کاحکم ہے کہ اگر ضرورت ہوتو ایک شخص بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔ حضورانور حضرت نبی کریم ﷺ کے فرمان کے بموجب جوشخص نکاح نہیں کرتا وہ آپ ﷺ کی امت میں سے نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام کی اس نعمت کو اچھا خیال نہیں کرتے وہ جماع اور شباب کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔
یوروپ کے حکماء کثرت ازواج کے مسئلہ کو تسلیم کرچکے ہیں:
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جماع کی ضرورت ہو تو ایک عورت سے بھی پوری کی جاسکتی ہے پھر کثرت ازواج کو کیوں اہمیت دی جائے؟ یہ اعتراض انہی عوام کی طرف سے ہے جو اعضائے انسانی کے افعال و جنسی قوت کا پیدا ہونا اور شباب کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ جاننا چاہیے کہ جماع میں جہاں حرکت جماع لذت و مسرت اور انبساط کے ساتھ بجلی و جنسی قوت اور شباب میں زیادتی کرتا ہے وہاں پر عورت کا حسن و شباب اور اس کی حرارت غریزی بھی ان کیفیات و جذبات اور ارواح میں زیادتی کا باعث ہوتا ہے یہ حقیقت ہے ہر عورت کا حسن و شباب اور حرارت غریزی زیادہ سے زیادہ تیس (30) سال تک قائم رہتی ہے اوراگر کوئی عورت بہت ہی کوشش کرے تو چالیس تک، مگر ایسی عورت ہزار میں شاید ایک ہوتی ہے جس کو اپنے حسن و شباب اور حرارت غریزی کے قیام کے متعلق پوری طرح کا علم ہو۔ اس لئے تیس سال کے بعد ہی ان کا حسن و شباب اور حرارت غریزی رخصت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لئے مرد کو ان امور کی طلب کے لئے ہمیشہ ایک حسن و شباب سے بھرپور حور صفت بیوی کی ضرورت ہے تاکہ اس کا مادہ منویہ زیادہ سے زیادہ بنے اور پوری طرح پر اخراج پائے جس سے اس کی جنسی قوت و شباب قائم رہتا ہے اور اس کی عمر میں طوالت پیدا ہوتی ہے۔
قیام شباب اور طوالت کے متعلق یوروپ میں بھی سائنسدانوں اور حکماء نے تجربات کئے ہیں۔ انہوں نے تجربہ کے طور پر دو ایسے شخصوں کو منتخب کیا ہے کہ ان میں سے ایک کی محض ایک بیوی تھی اور ایک شوقین مزاج ہر سال کے بعد ایک نوخیز عورت سے شادی کرلیا کرتا تھا۔ اول الذکر پر آخرالذکر کی نسبت بہت جلد بڑھاپا چھا گیا۔ اس تجربہ پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کی دو وجوہات تو وہ ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں۔
(1)۔ حرکت جماع سے جنسی قوت بھڑکتی ہے۔
(2)۔ حرکت جماع سے جنسی اعضاء کی ورزش سے ان کے افعال جاری رہتے ہیں جن سے ان میں قوت پیدا ہوتی رہتی ہے۔
(3)۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلیں کہ نوجوان عورت میں بہ نسبت عمررسیدہ مرد کے حرارت غریزی زیادہ ہوتی ہے اور یہی حرارت مقناطیسی ذریعہ سے جب کہ دو جسم آپس میں متصل ہوں ایک سے دوسرے میں بطور کشش منتقل ہوتی رہتی ہے اس طرح وہ شخص ہر سال اپنے جسم میں ایک نئی حرارت اور قوت حاصل کرتا رہتا ہے۔ 
مردانہ قوت کے پوشیدہ راز 
مردانہ طاقت جو زندگی کا جوہر خاص اور لذتوں کا سرچشمہ ہے۔ لہذا ایسی غذاوں کا اہتمام رکھنا چاہیے جن سے مردانہ طاقت ہمیشہ قائم رہے۔ یہاں ہم آپ دوستوں کو طب نبوی ﷺ و احادیث سے کچھ ایسی ہی غذائوں کے بارے میں بتائین گے جس کے استعمال سے مردانہ طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
1- کھجور کھجور کھانے سے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے جو بچہ پیدا ہو اس کیلئے تازہ کھجور سے بہتر کوئی غذا نہیں اگر تازہ کھجور نہ مل سکے توخشک ہی سہی اگر کھجور سے بہتر کوئی اور چیز ہوتی تو اللہ تعالی حضرت مریم علیہ السلام کو ولادت حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت وہی چیز کھلاتا. سورہ مریم میں ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت مریم علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ کھجور کا تنا پکڑ کر اپنی طرف ہلاو تم پر تازہ پکی کھجوریں گر پڑیں گی۔اس سے معلوم ہوا کہ زچہ کیلئے کھجور سے بہتر کوئی غذا نہیں۔ کھجور مزاج میں گرمی اور قوت پیدا کرتی ہے. ابونعیم نے کتاب الطب میں لکھا ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کو مکھن کیساتھ بہت عزیز رکھتے تھے۔ علما نے لکھا ہے کہ اس کو کھانے سے قوت باہ زیادہ ہوتی ہے۔ بدن بڑھتا ہے آواز صاف ہوتی ہے.
نمبر 2. دودھ ابونعیم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے کہ پینے کی چیزوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دودھ بہت عزیز تھا. یہ قوت باہ پیدا کرتا ہے معدہ میں جلد ہضم ہوجاتا ہے بدن کی خشکی کو دورکرتا ہے منی پیدا کرتا ہے چہرہ کا رنگ سرخ کرتا ہے دماغ کو قوی کرتا ہے
 نمبر3. شہد ابونعیم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک شہد بہت پیارا اور عزیز تھا۔ حضور ﷺ کو شہد اس لیے زیادہ محبوب تھا اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس میں شفا ہے شہد کے بے شمار فائدے ہیں نہار منہ چاٹنے سے بلغم دور کرتا ہے معدہ صاف کرتا ہے معدہ کو اعتدال پر لاتا ہے دماغ کو قوت دیتا ہے قوت باہ میں تحریک پیدا کرتا ہے مثانہ کیلئے مفید ہے مثانہ اور گردے کی پتھری کو خارج کرتا ہے پیشاب کے بند ہونے کو کھولتا ہے فالج لقوہ کیلئے فائدہ مند ہے. ریاح خارج کرتا ہے بھوک زیادہ لگاتا ہے مکھن اور شہد ملا کر کھایا جائے تو جوڑوں کیلئے مفید ہے اور جسم کو موٹا کرتا ہے.
 نمبر 4۔ فلفل درازفلفل دراز جس کو چھوٹی پیپل بھی کہتے ہیں مقوی دماغ مقوی معدہ اور محرک باہ ہے۔ بلغم کو دور کرتی ہے نگاہ کو تیز کرتی ہے دودھ میں جوش دیکر پینا بیحد مفید ہے. دارچینی لونگ کالی مرچ مردانہ طاقت بڑھانے کی غذائیں طب نبوی و احادیث کی روشنی میں بڑی زبردست مقوی و متحرک باہ ہیں. خصوصا بوڑھے شخص کیلئے فائدہ مند ہیں. اعصاب اور جوڑوں کے درد کیلئے مفید ہیں۔
نمبر5. زعفران زعفران زبردست مقوی باہ ہے دل و دماغ اور بصارت کیلئے بھی بے حد مفید ہے. دوسری ادویات میں شامل کرنے سے ان کے اثرات کو تیز اور سریع الاثرات بناتا ہے مقوی معدہ مقوی قلب و جگر ہے۔
نمبر6۔ ہریسہ ہریسہ جسم میں زبردست قوت پیدا کرتا ہے اور مقوی باہ ہے. ہریسہ میں کٹے ہوئے گیہوں گوشت گھی اور مصالحہ ڈال کر پکایا جاتا ہے. بعض حکما کے نزدیک ہریسہ میں چالیس مردوں کے برابر قوت ہے.بڑے بڑے حکما مردانہ کمزوری کے مریضوں کو صرف ہریسہ کھانے کی تلقین کرتے تھے۔
نمبر7۔ پشت کا گوشت ابونعیم بن عبداللہ جعفر سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پشت کا گوشت تمام گوشت سے بہتر ہے. علما نے لکھا ہے کہ حکمت کی رو سے اس گوشت میں قوت باہ زیادہ ہوتی ہے۔
 نمبر8۔ خوشبو خوشبو کا روح انسانی سے خصوصی تعلق ہے. اس کا اثردل و دماغ پر فورا بجلی کی مانند ہوتا ہے خوشبو اور باہ میں گہرا تعلق ہے.سفرالساد میں لکھا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی خوشبو پیش کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رد نہ فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر کوئی شخص خوشبو دے تو اس کو رد نہ کرے
نمبر 9۔ چار چیزوں امام غزالی رحم اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں قوت باہ کو بڑھاتی ہیں. 
1. چڑیوں کا کھانا. 
2. اطریفل کھانا.
 3. مغز پستہ کھانا. 
4. ترہ تیزک کھانا. (احیا العلوم)
نمبر 10۔ انڈہ مردانہ بعض حکما کے نزدیک انڈے بھی قوت باہ کو بڑھانے کا موثر ذریعہ ہیں خاص طور پر جن کو جراثیم کی کمی کی وجہ سے بے اولادی جیسے مرض کا سامنا ہے اگر وہ دیسی انڈے کا استعمال جاری رکھیں تو اس مرض سے چھٹکارا مل جاتا ہے.
نمبر 11 حسیس بعض روایات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے منقول ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسیس بہت پسند تھا. حسیس تین چیزوں سے مل کر بنتا ہے. کھجور مکھن اور جما ہوا دہی. اس غذا سے بدن قوی ہوتا ہے اور قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
نمبر12۔ بالوں کا دورکرنا: حضرت ہزیل بن الحکیم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بدن سے بالوں کا جلد دور کرنا قوت باہ کو بڑھاتا ہے. (طب نبوی) اس سے اطبا کے نزدیک زیرناف (ناف کے نیچے) بال مراد ہیں۔
 نمبر 13۔ لہسن امام جلال الدین سیوطی رحم اللہ علیہ نے جمع الجوافع میں دیلمی سے روایت نقل کی ہے اور دیلمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! لہسن کھایا کرو کیونکہ اس میں بیماریوں سے شفا ہے. لہسن میں بہت فوائد ہیں. یہ ورم کو تحلیل کرتا ہے حیض کو کھولتا ہے پیشاب کو جاری کرتا ہے معدہ سے ریاح نکالتا ہے مرطوب مزاج والوں میں قوت باہ پیدا کرتا ہے منی کو زیادہ کرتا ہے اور گرم مزاج والوں میں منی کو خشک کرتا ہے معدہ اور جوڑوں کے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے
نمبر 14۔ زیتون روغن زیتون کا کھانا اور مالش کرنا تل اور کھجور ملاکر استعمال کرنا قوت باہ کو بڑھاتے ہیں اور متحرک باہ ہیں۔
جلق  اسباب وعلاج: 
نامردی اور ضعف باہ کے اسباب میں سب سے زیاده وجہ ہے اس عادت خبیثہ میں ہرعمر کے لوگ مبتلا ہے. تقریباً 90 سے 95 فی صد لوگ اپنی جنسی زندگی کو اس طریقہ سے شروع کرتے ہیں. جلق عام طور پر اس کو سمجھا جاتا ہے ھاتھ کی حرکات سے ماده حیات کا اخراج کیا جائے لیکن ھر اُس طریقہ کو جلق تصور کیا جائے گا. جو صنف مقابل کی مباشرت کے سوا ماده حیات کو خارج کیا جائے. اس عادت خبیثہ میں مردوعورت دونوں شامل ہے وه طریقہ انزال بھی جلق میں شامل ہے جس میں ھاتھ یا کسی چیز کی حرکات سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ محض خیال کو کسی خوبصورت شکل کسی فحش تصویر یا تصور جماع وغیره قائم کرکے منی کو خارج کیا جاتاہے. جلق کی ہر قسم ضرررساں ہے. کیونکہ اس میں اعصاب اور مراکز جماع میں ذکاوت حس پیدا ہوجاتی ہے اور بنده نامردی اور ضعف باہ میں مبتلا ہوجاتا ہے.  علامات:          
جلق کے مضر اثرات نفسیاتی اور روحانی دونوں قسم کے ہوتے ہیں مردوعورت میں یکساں پائے جاتے ہیں البتہ مردوں میں زیاده شدید قسم کے ہوتے ہیں . اس کی علامات یہ ہو سکتی ہے کمزوری، کمی خون سستی کاہلی دماغ اور قوت ارادی کا کمزور ہوجانا ، چہرے کا رنگ زرد اور مٹیلا ہوجانا چہرے پر بکثرت کیلوں اور مہاسوں کا نکلنا، آنکھوں کے گرد سیاہ رنگ کے حلقوں کا پڑجانا ، کام کرنے کو دل نہ کرنا . احتلام ،جریان ضعف باه نامردی اور عورتوں سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے . عضوتناسل باریک اورچھوٹا ہوجاتا ہے مسلسل رگڑ سے اس میں پھلینے اور پڑھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے. دوران خون اچھی طرح نہیں ہوتا. لاغری کی وجہ سے وریدیں ابھر آتی ہے . حس یا تو اس قدر کمزور ہوجاتی ہے کہ قوی محرکات کی ضرورت ہوتی ہے یا اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ تھوڑے سے انتشار سے انزال ہوجاتا ہے. انگشت زنی سے عورتوں میں بھی قریب قریب مذکورہ علامتیں پیدا ہوجاتی ہے ان کے اندام نہانی کامنہ غیر معمولی طور پر کھلا اور ڈھیلا ہو جاتا ہے . جماع سے نفرت اور بے حسی پیدا ہوجاتی ہے . مردوں سے متنفر رہتی ہیں     
علاج:               
اس عادت خبیثہ سے نجات کے لیے شادی بہترین علاج ہے- اگر شادی نہ کرواسکے تو شہوت کو کم کرنے کے لیے روزے رکھے. فحش رسائل اور ویڈیو سے اجتناب کریں. مصروفیت اختیار کریں . خون کے جوش کو کم کرنے والی غذا وادویہ استعمال کریں طاقت پیدا کرنے والی ادویات استعمال نہ کریں اور یہ نسخہ جات مفید ثابت ہو سکتے ہیں . تخم کاہو، بزرابنج، تخم خیار، تخم کاسنی، کشنیز خشک، گل نیلوفر ہر ایک تولہ سفوف تیار کریں آدھا چمچ استعمال کریں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ اسپغول مسلم ملا کر استعمال کریں .   
قرص کا فور تخم کاہو 70 گرام، تخم خرفہ 65 گرام . طباشر 36 گرام، رب اسوس 36 گرام کشتہ مرجان 12 گرام باریک سفوف تیار کریں صبح وشام چنے برابر استعمال کریں - عضو کے نقصان کے ازالہ کے لیے  روغن جونک کا استعمال کریں روغن جونک کے استعمال سے لمبائی اور موٹائی ٹھیک ہوجائے گی۔   
نوٹ: مذکورہ بالا نسخہ جات اپنے معالج کی نگرانی میں ہی استعمال کریں۔
(جمع و تدوین: ایس اے ساگر)




میرے گھر سے نکل جا! طلاق طلاق! کہنے کا حکم

میرے گھر سے نکل جا! طلاق طلاق! کہنے کا حکم
-------------------------------
--------------------------------
ایک عورت نے مسئلہ پوچھا ہے کہ اس کے شوہر نے غصہ میں یہ الفاظ کہے:
"نکل میرے گھر سے ابھی نکل تیرا میرا کوئی تعلق نہیں ہے طلاق طلاق"
کیا طلاق واقع ہوگئی؟
الجواب وباللہ التوفق:
میرے گھر سے نکل جا کہنے سے اگر شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو تو اس سے ایک طلاق بائنہ پڑگئی. 
طلاق کی نیت نہ کی ہو تو اس لفظ سے طلاق نہ پڑے گی. 
اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاق اس سے واقع ہوئی پھر بعد میں دو مرتبہ طلاق طلاق کہنے سے کل تین طلاقیں پڑگئیں. 
بیوی سے حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی، رشتہ ازدواجی بالکلیہ ختم ہوگیا۔
اگر پہلے لفظ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو تو لفظ طلاق کے دوبار تکرار سے دو طلاق رجعی واقع ہوگی. عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے  بلا تجدید نکاح شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا:
(الصريح يلحق الصريح) أي إذا قال: أنت طالق أنت طالق أو قال: أنت طالق وطالق تطلق ثنتين وهو ظاهر. (و) الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال: أنت طالق يقع الطلاق
(درر الحكام شرح غرر الأحكام 4 / 246)

Friday, 26 June 2020

حالت قیام مرد وعورت کے ہاتھ باندھنے میں فرق کیوں ہے اور کہاں سے ہے؟

حالت قیام مرد وعورت کے ہاتھ باندھنے میں فرق کیوں ہے اور کہاں سے ہے؟ 
-------------------------------
--------------------------------
تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑدیئے جائیں؟ اس بارے میں ائمہ مجتہدین کی آراء مختلف ہیں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور اور جمہور تلامذہ کا مذہب یہ ہے کہ فرائض میں ہاتھ چھوڑدیئے جائیں، نوافل میں طول قیام کے باعث ہاتھ باندھ کر سہارا لینے میں مضائقہ نہیں، یہ ابن قاسم اور لیث بن سعد کی روایت ہے، جمہور موالک کا یہی مشہور وراجح  قول ہے، مدونہ میں ہے: 
(وَقَالَ مَالِكٌ: فِي وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لَا أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي الْفَرِيضَةِ وَكَانَ يَكْرَهُهُ، وَلَكِنْ فِي النَّوَافِلِ إذَا طَالَ الْقِيَامُ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ يُعِينُ بِهِ نَفْسَهُ")
(امام) مالک نے نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں کہا: "مجھے فرض نماز میں اس کا ثبوت معلوم نہیں." وہ اسے مکروہ سمجھتے تھے، اگر نوافل میں قیام لمبا ہوتو ہاتھ باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس طرح وہ اپنے آپ کو مدد دے سکتا ہے۔ (المدونة 76/1)
جبکہ ان کے مدنی تلامذہ ابن نافع، عبدالمالک اور مطرف کی روایت یہ ہے کہ فرض اور نفل دونوں نمازوں میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر باندھنے کی گنجائش ہے.  
وروی ابن نافع وعبدالمالک ومطرف عن مالک أنہ قال: توضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ فی الفریضة والنافلة، قال: لا باس بذلك ، قال ابو عمر: وھو قول المدنیین من اصحابه"
ابن نافع، عبدالمالک اور مطرف نے (امام) مالک سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: "فرض اور نفل (دونوں نمازوں) میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا چاہئے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ابوعمر (ابن عبدالبر) نے کہا: اور ان (امام مالک) کے مدنی شاگردوں کا یہی قول ہے۔" (الاستذکار: ۲۹۱/۲). موطا امام مالک میں اگرچہ اس روایت کے مطابق باب باندھا گیا ہے:
(15- باب وضع اليدين إحداهما على الأخرى في الصلاة) حدثني يحيى عن مالك، عن عبد الكريم بن أبي المخارق البصري أنه قال: (من كلام النبوة إذا لم تستح فاصنع ما شئت، و وضع اليدين إحداهما على الأخرى في الصلاة، يضع اليمنى على اليسرى، و تعجيل الفطر، و تأخيرالسحور۔ 158/1)
اس باب میں امام مالک سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ والی حدیث لائے ہیں:
"کان الناس یؤمرون أن یضع الرجل الیدالیمنیٰ علی ذراعه  الیسریٰ فی الصلوٰۃ"
لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھے۔
(159/1 ح 377 والتمہید 96/21، والاستذکار: 347 والزرقانی: 377)
لیکن جمہور مالکیہ کا مشہور وظاہر مذہب ہاتھ چھوڑنا ہی ہے، کیونکہ مدونہ میں ابن قاسم کی روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے ارسال اور وضع الیدین کی کراہت کی صراحت مذکور ہے، مدونہ مذہب مالکی کی مشہور کتاب ہے، اس روایت کو جمہور علماء مالکیہ نے اختیار کیا ہے، یہ روایت مشہور بھی ہے اور راجح بھی! موطا مالک میں صاحب مذہب سے قبض یدین کے تئیں کوئی صریحی قول یا موقف منقول نہیں، قبض وارسال کی روایت نقل کرنا امر آخر ہے، اور اپنا موقف ومذہب نقل کرنا امر آخر! جبکہ مدونہ میں صاف لفظوں میں اس بابت ان کا موقف بھی مروی ہے،  لہذا مدونہ کی روایت مقدم بھی ہوئی اور راجح بھی۔ امام ابن القیم جوزیہ رحمہ اللہ امام مالک سے مروی  قبض یدین والی روایات کی تردید امام مالک سے ابن قاسم کی اس روایت کے ذریعے  کی ہے: 
[فهذه الآثار قد رُدَّتْ برواية ابن القاسم عن مالك قال: "تركه أحب إلى" ولا أعلم شيئا قد ردت به سواه]
ہاتھ باندھنے کی یہ روایات مسترد ہوگئیں ابن قاسم کی اس روایت سے جس میں امام مالک فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کا چھوڑنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ابن قاسم کی اس روایت کی تردید میرے علم کی حد تک کسی جگہ نہیں کی گئی ہے، اعلام الموقعین 292/4، ط: دار ابن الجوزی) دیکھئے: المدونة 169/1، أحكام القرآن لإبن العربي 1990/4، الإشراف 266/1، مسألة 682)
 ہاتھ باندھنے کی شرعی حیثیت: 
حالت قیام میں وضع یدین کے قائل ائمہ کے یہاں یہ نماز کی من جملہ سنتوں میں سے ایک ہے، ناف کے نیچے یا اوپر ہاتھ باندھنا فرض واجب نہیں؛ بلکہ مسنون ومستحب عمل ہے، اگر  کسی وجہ سے یہ متروک ہوجائے تو صحت نماز پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا: 
عن عليٍّ رضي اللهُ عنهُ أنه قال: من السُّنَّةِ في الصلاةِ وَضْعُ الأَكُفِّ على الأَكُفِّ تحتَ السُّرَّةِ. (المجموع: 3/313،  عمدة القاري: 5/408، السنن الكبرى للبيهقي: 2/31) وأخرجه ابن أبي شيبة في «مصنفه»، كتاب الصلاة، باب وضع اليمين على الشمال (3945)؛ والدارقطني (1/ 286)؛ وأبوداؤد، كتاب الصلاة، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة (756)؛ وضعَّفه الإمام أحمد، والنووي في «المجموع» (3/ 313)؛ والزيلعي في «نصب الراية» (1/ 314)، وابن حَجَر في «الفتح» (2/ 186) 
 علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں: 
"أما وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة : فمن سنتها في قول كثير من أهل العلم, يروى ذلك عن علي وأبي هريرة والنخعي وأبي مجلز وسعيد بن جبير والثوري والشافعي وأصحاب الرأي , وحكاه ابن المنذر عن مالك" انتهى ."المغني" (1/281) 
ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ 
امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ ہاتھ سینہ کے نیچے اور ناف کے اوپر باندھے جائیں. ان کے پیش نظر بنیادی طور پر حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت  ہے جس میں وہ  فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت حاضر ہوا جب آپ مسجد کے لئے تشریف لے جارہے تھے، تو آپ محراب میں داخل ہوئے، اور تکبیر تحریمہ کے لئے ہاتھ اٹھایا، اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینہ کے اوپر رکھا:
وفيه: ثم وضَعَ يَمينَهُ على يُسراهُ على صَدرِهِ. [في حَديثِ: أنَّهُ رَأى النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يَرفَعُ يَدَيْهِ مع التَّكبيرةِ، ويَضَعُ يَمينَهُ على يَسارِهِ في الصَّلاةِ]  أخرجه مسلم (401)، وأبوداؤد (727)، والنسائي (889)، وأحمد (18870) مطولاً بنحوه، والبيهقي (2429) واللفظ له. 
روایت میں اگرچہ ہاتھ کا سینے کے اوپر باندھنے کی صراحت ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ مسلک نہیں ہے، وہ اسے تحت الصدر یعنی سینہ کے نیچے پر محمول فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ، سفیان ثوری، اسحاق بن راہویہ، اور اسحاق مروزی شافعی رحمہم اللہ وغیرہم کا مذہب یہ ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا مستحب ہے۔ یہ حضرات بھی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی کی ایک صحیح، مرفوع اور متصل السند روایت سے استدلال کرتے ہیں جو مصنف ابن ابی شیبہ میں ثقہ، معتبر اور غیرمتکلم فیہ راویوں سے مروی ہے: 
حدثنا وکیع عن موسیٰ بن عمیر عن علقمة  بن وائل بن حجر عن أبیه قال: رأیت النبي صلی اللہ علیه وسلم وضع یمینه علی شماله في الصلاۃ تحت السّرۃ (رجاله  کلّهم ثقاتُ إثبات) (مصنف ابن أبي شیبة، رقم: 3959)
(حضرت وائل ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اندر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھا) 
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا اس مسئلے میں  دو ٹوک کوئی ایک قول نہیں ہے، ان سے اس بابت تین قسم کی روایات مروی ہیں، ایک میں ناف کے نیچے، (موافق احناف)  دوسری میں سینہ کے نیچے (موافق شوافع) جبکہ تیسری میں نمازی کو اس بابت اختیار دیتے ہیں کہ وہ جہاں چاہے ہاتھ رکھے۔ أبوالمظفر قاضى يحى بن محمد بن هبيرة الشيبانى حنبلی متوفى ٥٦٠ هجري تحریر فرماتے ہیں: 
واختلفوا في محل وضع اليمين على الشمال، فقال أبو حنيفة: يضعهما تحت السرة.وقال مالك والشافعي: يضعهما تحت صدره وفوق سرته. وعن أحمد ثلاث روايات أشهرها كمذهب أبي حنيفة وهي التي اختارها الخرقي، والثانية كمذهب مالك والشافعي. والثالثة التخيير بينهما وأنهما في الفضيلة سواء. (اختلاف الأئمة العلماء ج 1 ص 107)
(ثُمَّ يَضَعُ كَفَّ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى كُوعِ الْيُسْرَى ... وَيَجْعَلُهُمَا تَحْتَ سُرَّتِهِ، هَذَا الْمَذْهَبُ, وَعَلَيْهِ جَمَاهِيرُ الْأَصْحَابِ, وَعَنْهُ – أي: الإمام أحمد - يَجْعَلُهُمَا تَحْتَ صَدْرِهِ, وَعَنْهُ يُخَيَّرُ الانصاف ج 2 ص 41)
الشرح الممتع على زاد المستقنع میں: "يقبض كُوعَ يسراه تحت سرته" کے تحت مذکور ہے: 
"وهذه الصفة ـ أعني: وَضْع اليدين تحت السُّرَّة ـ هي المشروعة على المشهور مِن المذهب, وفيها حديث علي - رضي الله عنه - أنه قال: «مِن السُّنَّةِ وَضْعُ اليدِ اليُمنى على اليُسرى تحت السُّرَّةِ», وذهب بعضُ العلماء: إلى أنه يضعها فوق السُّرة، ونصَّ الإِمام أحمد على ذلك, وذهب آخرون مِن أهل العِلم: إلى أنه يضعهما على الصَّدرِ، وهذا هو أقرب الأقوال، والوارد في ذلك فيه مقال، لكن حديث سهل بن سعد الذي في البخاري ظاهرُه يؤيِّد أنَّ الوَضْعَ يكون على الصَّدرِ، وأمثل الأحاديث الواردة على ما فيها من مقال حديث وائل بن حُجْر أن النبيَّ صلّى الله عليه وسلّم: «كان يضعُهما على صدرِه» .انتهى.(الشرح الممتع على زاد المستقنع لابن عثیمین ج 3 ص 36) 
فقہ حنبلی میں ابن مفلح کی مشہور کتاب "المبدع شرح المقنع" میں ہے: 
(وَيَجْعَلُهُمَا تَحْتَ سُرَّتِهِ) فِي أَشْهَرَ الرِّوَايَاتِ، وَصَحَّحَهَا ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَغَيْرُهُ؛ لِقَوْلِ عَلِيٍّ: مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الشِّمَالِ تَحْتَ السُّرَّةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَذُكِرَ فِي "التَّحْقِيقِ" أَنَّهُ لَا يَصِحُّ ... وَعَنْهُ: تَحْتَ صَدْرِهِ، وَفَوْقَ سُرَّتِهِ، وَعَنْهُ: يُخَيَّرُ، اخْتَارَهُ فِي "الْإِرْشَادِ" لِأَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا مَأْثُورٌ، وَظَاهِرُهُ يُكْرَهُ وَضْعُهُمَا عَلَى صَدْرِهِ، نُصَّ عَلَيْهِ مَعَ أَنَّهُ رَوَاهُ. المبدع شرح المقنع: ج 1 ص 431) 
امام نووی رحمہ اللہ اس مسئلے میں مذاہب ائمہ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
يجعلهما تحت صدره فوق سرته، هذا مذهبنا المشهور، وبه قال الجمهور، وقال أبوحنيفة وسفيان الثوري وإسحاق بن راهويه وأبوإسحاق المروزي من أصحابنا: يجعلهما تحت سرته، وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه روايتان كالمذهبين، وعن أحمد روايتان كالمذهبين، ورواية ثالثة أنه مخير بينهما ولا ترجيح، وبهذا قال الأوزاعي وابن المنذر، وعن مالك رحمه الله روايتان إحداهما يضعهما تحت صدره، والثانية يرسلهما ولا يضع إحداهما على الأخرى، وهذه رواية جمهور أصحابه وهي الأشهر عندهم، وهي مذهب الليث بن سعد، وعن مالك رحمه الله أيضاً استحباب الوضع في النفل، والإرسال في الفرض، وهو الذي رجحه البصريون من أصحابه، وحجة الجمهور في استحباب وضع اليمين على الشمال حديث وائل المذكور هنا، وحديث أبي حازم عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعيه في الصلاة. قال أبو حازم: ولا أعلمه إلا ينمي ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم. رواه البخاري. ودليل وضعهما فوق السرة حديث وائل بن حجر قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره. رواه ابن خزيمة في صحيحه. وأما حديث علي رضي الله عنه أنه قال: من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة ضعيف متفق على تضعيفه. رواه الدارقطني والبيهقي من رواية أبي شيبة عبد الرحمن بن إسحاق الواسطي. وهو ضعيف بالاتفاق، قال العلماء: والحكمة في وضع إحداهما على الأخرى أنه أقرب إلى الخشوع ومنعهما من العبث. انتهى. صحیح مسلم بشرح النووی، کتاب الصلوة، باب 16، باب التشھد فی الصلوة، حدیث نمبر 55، (402) 
ان تفصیلات سے واضح ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں بنیادی طور پر تین مذاہب ہیں:  
1: امام مالک اپنے مشہور قول کے مطابق ارسال وسدل کے قائل ہیں۔
2:  احناف ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں۔
3:  شوافع ناف کے اوپر اور سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں، حنابلہ دونوں فریق کے ساتھ ہیں، کوئی ایک حتمی مذہب ان کا نہیں ہے۔
مرد کا سینہ پہ ہاتھ باندھنا خرق اجماع ہے: 
سینہ پہ ہاتھ باندھنا ائمہ اربعہ متبوعین میں سے کسی کا بھی مذہب نہیں، یعنی مردوں کے لئے  سینہ کے اوپر ہاتھ باندھنا خلاف اجماع ہے، علامہ خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: 
(فانحصر مذاهب المسلمين في ثلاثة: أحدها: الوضع تحت السرة. وثانيها: فوق السرة تحت الصدر. وثالثها: الإرسال. بل انحصر الوضع في هيئتين: تحت الصدر، وتحت السرة. ولم يوجد مذهب من مذاهب المسلمين أن يكون الوضع على الصدر، فقول الوضع على الصدر قول خارج عن مذاهب المسلمين، وخارق لإجماعهم المركَّب. (بذل المجهود فی حل ابی داؤد: 4 ص 222، حدیث نمبر 757، ط دارالکتب العلمیہ)
عورت ومرد کے مابین بالکلیہ مساوات نہیں ہے: 
عورت اور مرد کے مابین صنفی اعتبار سے بین فرق ہے، خلقی اعتبار سے خواتین میں بدیہی ضعف ہے، عقل ودرک، فکری بلوغت وپختگی اور جسمانی ساخت وقوت کے لحاظ سے بھی وہ ضعیف ہے۔ عورت سراپا پردہ پر ہے: 
1173: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «المَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ».سنن الترمذی 1173) 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے۔‘‘ ننگے سر، کہنیاں اور ٹخنے کھولکر عورت کی نماز جائز نہ ہونا، مسجد کی بجائے گھر میں ان کی نماز کا  افضل ہونا، ان کی اذان اقامت اور امامت کا مکروہ ہونا، بعض اعذار ومصالح کے پیش نظر اندرون خانہ عورتوں کی  امامت کے وقت مردوں کے امام کی طرح صف کے  آگے نہ بڑھنا، ایام حیض میں ان سے نماز کا معاف ہونا، قرأت اور آمین بالجہر کی اجازت نہ ملنا، جماعت میں شرکت ان کے لئے ضروری نہ ہونا اور ان پہ جمعہ وعیدین واجب نہ ہونا بتاتا ہے کہ ستر وپردے کی رعایت کی وجہ سے وہ بیشتر مسائل دین میں مردوں سے الگ ہیں۔ دونوں میں تمام احکام نماز میں مساوات کا مطالبہ کرنا اور بعض احکام میں دونوں کے مابین فرق کو بے اصل کہنا بجائے خود بے اصل ہے۔ اسی وجہ سے اندرون نماز بھی رکوع، سجود  اور جلسے کی ہیئتوں میں عورت مرد سے مختلف ہے، متعدد احادیث، آثار واقوال ائمہ سے دونوں میں ہیئتوں اور کیفیتوں کا اختلاف وفرق ثابت اور مسلم ہے۔ تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے 
احکام نماز میں عورت ومرد کے مابین اصولی فرق امام بیہقی کی نظر میں: 
امور دین میں جس حکم کا تعلق بھی ستر وپردہ پوشی سے ہو وہ عورتوں کے لئے ثابت ہے، اوپر ذکر کردہ نظائر اس کا بین ثبوت ہے. اسی وجہ سے چوتھی  صدی ہجری کے حدیث وفقہ کے یکتائے روزگار، عظیم محدث وناقد حدیث، امام حاکم، ابواسحاق اسفرائینی اور عبداللہ بن یوسف اصبہانی جیسے ائمہ حدیث کے بلند مرتبہ شاگرد، ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی خراسانی 384ھ ۔۔۔ 458 ھ نے اپنی مشہور کتاب "السنن الکبری" (جو اپنی جامعیت، ہمہ گیری احاطہ استیعاب کے لحاظ سے  تحقیق ونقد حدیث کے طرق  میں باریکیوں و رموز سے آگاہی کے متمنی ارباب علم ونظر ومسافران علم وتحقیق کے لئے سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے) میں باضابطہ باب قائم کرکے ان تمام روایات کا احاطہ کیا ہے جو عورتوں کے لئے ستر وپردہ پوشی کے مقصد سے ہیئتوں اور کیفیتوں میں مردوں سے ممتاز کرتی ہیں. باب کا عنوان ہے: 
وَجُمَّاعُ مَا يُفَارِقُ الْمَرْأَةَ فِيهِ الرَّجُلُ مِنْ أَحْكَامِ الصَّلَاةِ رَاجِعٌ إِلَى السِّتْرِ، وَهُوَ أَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِكُلِّ مَا كَانَ أَسْتَرَ لَهَا وَالْأَبْوَابُ الَّتِي تَلِي هَذِهِ تَكْشِفُ عَنْ مَعْنَاهُ وَتُفَصِّلُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ۔ (السنن الكبرى للبيهقي ج ٢ ص ٣١٤، شاملہ ۔۔۔ مرد اور عورت کی نماز میں باہمی فرق کے تمام تر مسائل کی بنیاد ستر اور پردہ ہے، چنانچہ عورت کو نماز میں اسی طریقے کا حکم دیا گیا ہے جو عورت کے لئے زیادہ ستر اور پردے کا باعث ہو) 
اس میں "أَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِكُلِّ مَا كَانَ أَسْتَرَ لَهَا" خصوصیت کے ساتھ قابل غور ہے، یہی وہ بنیادی اصول ہے جس پہ مرد وعورت احکام نماز میں ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں۔
عورت اور مرد کے درمیان ہیئتوں میں فرق کی چند روایات انہوں نے ذکر کی ہیں جو درج ذیل ہیں: 
335 باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود قال إبراهيم النخعي كانت المرأة تؤمر إذا سجدت أن تلزق بطنها بفخذيها كيلا ترتفع عجيزتها ولا تجافي كما يجافي الرجل). 3014- أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبوبكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد قال ثنا سعيد بن منصور ثنا أبوالأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث قال قال علي رضي الله عنه: إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها وقد روي فيه حديثان ضعيفان لا يحتج بأمثالهما أحدهما حديث عطاء بن العجلان عن أبي نضرة العبدي عن أبي سعيد الخدري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال خير صفوف الرجال الأول وخير صفوف النساء الصف الأخر وكان يأمر الرجال أن يتجافوا في سجودهم ويأمر النساء ينخفضن في سجودهن وكان يأمر الرجال أن يفرشوا اليسرى وينصبوا اليمني في التشهد ويأمر النساء أن يتربعن وقال يا معشر النساء لا ترفعن أبصاركن في صلاتكن تنظرن إلى عورات الرجال أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي أنبأ محمد بن شعيب أخبرني عبدالرحمن بن سليم عن عطاء بن عجلان أنه حدثهم فذكره واللفظ الأول واللفظ الآخر من هذا الحديث مشهوران عن النبي صلى الله عليه و سلم وما بينهما منكر والله أعلم والآخر حديث أبي مطيع الحكم بن عبد الله البلخي عن عمر بن ذر عن مجاهد عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى وإذا سجدت الصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها وإن الله تعالى ينظر إليها ويقول يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها. 3015 - أخبرنا أبو سعد الصوفي أنبأ أبو أحمد بن عدي ثنا عبيد بن محمد السرخسي ثنا محمد بن القاسم البلخي ثنا أبو مطيع ثنا عمر بن ذر: فذكره قال أبوأحمد أبومطيع بين الضعف في أحاديثه وعامة ما يرويه لا يتابع عليه قال الشيخ رحمه الله وقد ضعفه يحيى بن معين وغيره وكذلك عطاء بن عجلان ضعيف وروي فيه حديث منقطع وهو أحسن من الموصولين قبله. 3016 - أخبرناه أبوبكر محمد بن محمد أنبأ أبوالحسين الفسوي ثنا أبوعلي اللؤلؤي ثنا أبوداود ثنا سليمان بن داود أنبأ بن وهب أنبأ حيوة بن شريح عن سالم بن غيلان عن يزيد بن أبي حبيب: أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على امرأتين تصليان فقال إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل۔ [سنن البيهقي الكبرى 223/2]
اسی طرح زمانہ خیرالقرون 126 ہجری میں پیدا ہونے والے، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، عبدالرحمن بن عمرواوزاعی، فضیل بن عیاض، مالک بن انس، معمر بن راشد اور جعفر بن سلیمان جیسے ائمہ حدیث کے شاگرد، امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی، یحی بن معین اور محمد بن یحی ذہلی جیسے ائمہ حدیث کے استاذ اور صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن الجارود، صحیح ابن حبان، صحیح ابی عوانہ اور مستدرک حاکم وغیرہ کے رجال میں سے ایک اہم رجل امام عبدالرزاق بن ہمام بن نافع حمیری یمانی صنعانی ہیں، آپ اپنی مایہ ناز کتاب مصنف عبدالرزاق میں اندرون نماز عورتوں کے لئے مخصوص احکام کی روایات ذکر کی ہیں، ایک نظر ان پر بھی ڈالتے چلیں: 
 امام عبدالرزاق بن ہمام صنعانی کی نظر میں مرد وعورت کے مابین ہیئتوں میں فرق: 
قلت لعطاء أتشير المرأة بيديها کالرجال بالتکبير؟ قال لا ترفع بذلك يديها کالرجال وأشار أفخفض يديه جدا وجمعهما إليه وقال إن للمرأة هية ليست للرجل. مصنف عبدالرزاق، 3: 137، الرقم: 5066
’’میں نے عطا سے پوچھا کہ عورت تکبیر کہتے وقت مردوں کی طرح ہاتھوں سے اشارہ کرے گی؟ انہوں نے کہا عورت تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کی طرح ہاتھ نہیں اٹھائے گی، اشارہ سے بتایا عطاء نے اپنے ہاتھ بہت نیچے کئے اور اپنے ساتھ ملائے اور فرمایا عورت کی صورت مرد جیسی نہیں۔‘‘ حضرت عطا کہتے ہیں: 
تجمع المراة يديها فی قيامهاما استطاعت
’’عورت کھڑے ہوتے وقت نماز میں جہاں تک ہوسکے ہاتھ جسم سے ملاکر رکھے۔‘‘ مصنف عبدالرزاق، 3: 137، الرقم: 5067. حسن بصری اور قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: 
إذا سجدت المرأة فأنها تنفم ما استطاعت ولا تتجافی لکی لا ترفع عجيزتها. عبدالرزاق، المصنف، 3 : 137، الرقم: 5068
جب عورت سجدہ کرے تو جتنا ہوسکے سمٹ جائے اعضاء کو جدا نہ کرے مبادا جسم کا پچھلا حصّہ بلند ہوجائے۔
کانت تؤمر المرأة ان تضع زراعيها بطنها علی فخذيها إذا سجدت ولا تتجا فی کما يتجا فی الرجل. لکی لا ترفع عجيز تها. مصنف عبدالرزاق، 3 : 138، الرقم : 5071
’’عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنے بازو اور پیٹ رانوں پر رکھے اور مرد کی طرح کھلا نہ رکھے تاکہ اس کا پچھلا حصہ بلند نہ ہو۔‘‘
عن علی قال إذا سجدت المرأة فلتحتفر ولتلصق فخذ يها ببطنها. مصنف عبدالرزاق، 3: 138، الرقم : 5072
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے جب عورت سجدہ کرے تو سمٹ جائے اور اپنے ران اپنے پیٹ سے ملائے۔‘‘
عن نافع قال کانت صفية بنت أبی عبيد إذا جلست فی مثنی أوأربع تربعت.
مصنف عبدالرزاق، 3: 138، الرقم: 5074. صفیہ بنت ابوعبید جب دو یا چار رکعت والی نماز میں بیٹھتیں مربع ہوکر بیٹھیتں۔
عن قتاده قال جلوس المرأة بين السجدتين متورکة علی شقها الأيسر وجلوسها تشهد متربعة. مصنف عبدالرزاق، 3: 139، الرقم: 5075
’’عورت دو سجدوں کے درمیان بائیں طرف سرینوں کے بل بیٹھے اور تشہد کے لئے مربع صورت میں۔‘‘ ان روایات وآثار سے واضح ہے کہ عورت اور مرد کی ہیئات نماز میں فرق ہے، دونوں کا حکم یکساں نہیں ہے، عورت کے لئے ستر مقدم ہے، جس ہیئت میں عورت کی پردہ پوشی زیادہ ہو وہ ہیئت اس کے لئے مطلوب ومستحب ہوگی ۔ یہ بنیادی نکتہ اور اصولی فرق امام بیہقی کے ترجمہ  میں اوپر ذکر ہوچکا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی دونوں کے مابین فرق کے قائل ہیں. فرماتے ہیں: 
’’و قد أدّب اللّٰہ تعالیٰ النسائَ بالاستتار، و أدَّبَھُنَّ بذلک رسولُ اللّٰہ ﷺ، وأحبَّ للمرأۃ في السجود أن تَضُمَّ بعضَھا إلی بعض، و تلصق بطنَھا بِفَخِذَیْھا، و تسجُدَ کأسْترِ ما یَکُوْنَ لھا، و ھکذا أحَبَّ لھا في الرکوع، و الجلوس، و جمیع الصلوۃ أنْ تَکُوْنَ فیھا کأسْتَرِ ما یَکُوْنُ لھا، وأحبَّ أن تکفت جلبابھا، وتجافیہ راکعۃً وساجدۃً علیھا لئلایصفھا ثیابھا‘‘
(اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پوشیدہ اور مستور رہنے کی تعلیم دی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو اس کی تعلیم دی ہے اور عورت کے لئے اس بات کو پسند فرمایا، کہ وہ سجدے میں اپنے بعض حصے کو بعض سے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملاکر رکھے اور اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے، نیز اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے رکوع اور جلسے اور پوری نماز میں اس بات کو پسند فرمایا ہے، کہ وہ اس اندازسے نماز پڑھے کہ زیادہ سے زیادہ مستور وپوشیدہ رہے اور یہ بھی پسند فرمایاکہ وہ اپنی چادر کو سمیٹ لے اور چادر کو رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے اپنے اوپر ڈھیلا رکھے؛ تاکہ اس کے کپڑے (چست ہونے کی وجہ سے) اس کی تصویر نہ کھینچیں۔ حاصل کلام یہ کہ ان احادیث اور آثار سے بہ طور قدر ِمشترک یہ بات ثابت ہوتی ہے، کہ مرد وعورت کی نمازمیں فرق ہے اور یہ فرق اس بات پر مبنی ہے کہ عورت زیادہ سے زیادہ مستور وپوشیدہ رہے۔ (کتاب الأم للإمام شافعي:۱/۱۱۵) مستفاد دلیل نماز بہ جواب حدیث نماز ص 175) 
عورت قیام میں ہاتھ کہاں رکھے گی؟ اس کا سینے پر ہاتھ باندھنا کس حدیث سے ثابت ہے؟ 
احناف کے یہاں مردوں کے لئے ناف کے نیچے جبکہ عورتوں کے لئے سینہ پر ہاتھ باندھنا درج ذیل دلائل کی وجہ سے مسنون ہے: 
1: حضرت عطا کا صحیح قول مصنف عبدالرزاق کے حوالے اوپر آچکا ہے. "تجمع المراة يديها فی قيامها ما استطاعت" ’’عورت کھڑے ہوتے وقت نماز میں جہاں تک ہوسکے ہاتھ جسم سے ملاکر رکھے۔‘‘
مصنف عبدالرزاق، 3: 137، الرقم : 5067، جامع احکام النساء ج 1ص 372، جملة أخرى من الآثار) 
یہ روایت صاف بتارہی ہے کہ قیام کی حالت میں عورت اپنے ہاتھوں کو جتنا سمیٹ سکتی ہے سمیٹے گی، سینہ پہ ہاتھ رکھنے میں پردہ کی رعایت زیادہ ہے جو اس کے لئے مطلوب ومستحب ہے؛ لہذا اسی لئے عورت کے حق میں سینہ پہ ہاتھ رکھنا مستحب ہے۔
2: سنن بیہقی، مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں عورت ومرد کی ہیئتوں کا جو فرق بیان کیا گیا ہے اس کے "اقتضاء واشارة النص" سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے سینہ پر ہاتھ باندھنا مسنون ومستحب ہے کہ اس میں اس کے ستر کا زیادہ لحاظ ہے. 
3: روى أبو وائل عن أبي هريرة قال: من السنة أن يضع الرجل يده اليمنى تحت السرة في الصلوة (أخرجه أبوداؤد باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلوة ١٩٤/١، والدار قطني باب في أخذ الشمال باليمين في الصلوة ٢٨٤/١)
اس روایت میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کا مسنون ہونا بہ صراحت مردوں کے لئے کہا گیا ہے. مرد کی صراحت اشارہ ہے کہ یہ حکم عورت کے لئے نہیں ہے، عورت کے لئے وہ ہیئت اختیار کی جائے گی جو اس کے لئے زیادہ  ستر اور پردے  کا باعث ہو، اور وہ سینے پہ ہاتھ رکھنا ہے جو عطا کے حوالے سے گزرچکا۔
4: اسی لئے فقہ حنفی کی تمام متون میں اس بات کی صراحت ہے کہ عورت کے لئے سینہ پہ ہاتھ رکھنا مسنون ہے اور وہ اس حوالے سے مرد سے مختلف ہے۔ متون حنفیہ میں عورت کے سینہ پر ہاتھ رکھنے کی صراحت. علامہ کاسانی لکھتے ہیں:  
وأما محل الوضع فما تحت السرة في حق الرجل والصدر في حق المرأة، وقال الشافعي: محله الصدر في حقهما جميعا واحتج بقوله تعالى {فصل لربك وانحر} (بدائع الصناع  2/281)
علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں: 
واستدل مشايخنا بما روى عن النبي - ﷺ - أنه قال: (ثلاث من سنن المرسلين وذكر من جملتها وضع اليمين على الشمال تحت السرة لكن المخرجين لم يعرفوا فيه مرفوعا وموقوفا تحت السرة ويمكن أن يقال في توجيه المذهب أن الثابت من السنة وضع اليمين على الشمال ولم يثبت حديث يوجب تعيين المحل الذي يكون فيه الوضع من البدن إلا حديث وائل المذكور وهو مع كونه واقعة حال لاعموم لها يحتمل أن يكون لبيان الجواز فيحال في ذلك كما في فتح القدير على المعهود من وضعهما حال قصد التعظيم في القيام والمعهود في الشاهد منه أن يكون ذلك تحت السرة فقلنا به في هذه الحالة في حق الرجل بخلاف المرأة فإنها تضع على صدرها لأنه أستر لها فيكون في حقها أولى  (البحرالرائق 561/1 زکریا)
اللباب في شرح الكتاب ج1 ص 62 میں ہے:  
وتضع المرأة الكف على الكف تحت الثدى 
علامہ قہستانی جامع الرموز شرح النقایہ میں لکھتے ہیں: 
وإذا كبر يضع يمينه على شماله تحت سرته لانه من سنن الرسل وفي الاكتفاء إشعار بان المرأة في ذالك كالرجل لكن في المضمرات وغيرها انها تضع على صدرها ولا يبعد أن يشار بتذكير الضمير الى مخالفه الحكم (جامع الرموز شرح مختصرالوقاية المسمى بالنقاية ص 83،  لشمس الدين الخراساني القهستاني  ط كلكته سنة 1858، 1272هجري) 
علامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی کبیر وصغیر میں لکھتے ہیں: 
وأما المرأة فانها تضعهما ثدييها بالاتفاق لانه استر لها (غنية المتملي شرح منية المصلي المشتهر بحلبي كبير ص 301) وفي حلبي صغير ص 148: ويضعهما الرجل تحت السرة وعند الشافعي على الصدر وهو رواية عن مالك واحمد والمرأة تضعهما تحت ثديها بالاتفاق لانه استر لها (حلبي صغير ص 148) وتضع یمینها علی شمالها تحت ثدییها (البحرالرائق 561/1 زکریا) ویسن وضع المرأۃ یدیها علی صدرها من غیر تحلیق؛ لأنه  أستر لها(مراقي الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوي 259) ولهذا تضع المرأۃ یدیها علی صدرها۔ (البنایۃ شرح ہدایۃ 610/1) ثم یعتمد بیمینه علی رسغ یسارہ تحت أسرته، وعند الشافعي تحت الصدر کما في وضع المرأۃ عندنا۔ (مجمع الأنهر 470/1  زکریا) والمرأۃ تضعها علی ثدییها (الفتاویٰ الهندیۃ 73/1) قوله تحت السرۃ، وفي النهر الفائق إلا المرأۃ والخنثی المشکل ففوق الصدر۔ (النهرالفائق شرح کنز الدقائق للشیخ سراج الدین عمر بن نجیم المصري ۱؍۲۰۷، فتاوی رحیمیہ 222/7)
5: ہاتھ باندھنے میں عورت ومرد کی تفریق کی دلیل اتفاق ائمہ بھی ہے: 
امام مالک کا مشہور مذہب تو ارسال کا ہے، وہ درمیان سے نکل گئے، حنابلہ کے مذہب میں تین روایتیں ہیں، ایک امام شافعی کے موافق دوسری تخییر کی، تیسری احناف کے موافق، موافق احناف روایت  کو چھوڑ دیں تو ان کا مذہب بھی موافق شوافع وضع علی الصدر کا ہوا، عورت کے لئے باعث پردہ ہونے کی وجہ سے وضع علی الصدر کے قائل ہم بھی ہوئے، شوافع بھی اور حنابلہ بھی، امام مالک کی روایت موافق شافعی وضع علی الصدر کا بھی ہے، دیکھیئے اختلاف ائمہ پہ ابن ہبیرہ کی دستاویزی کتاب: أبوالمظفر قاضى يحى بن محمد بن هبيرة الشيبانى حنبلی متوفى ٥٦٠ هجري تحریر فرماتے ہیں: 
واختلفوا في محل وضع اليمين على الشمال، فقال أبو حنيفة: يضعهما تحت السرة. وقال مالك والشافعي: يضعهما تحت صدره وفوق سرته. وعن أحمد ثلاث روايات أشهرها كمذهب أبي حنيفة وهي التي اختارها الخرقي، والثانية كمذهب مالك والشافعي. والثالثة التخيير بينهما وأنهما في الفضيلة سواء. (اختلاف الأئمة العلماء ج 1 ص 107)
اس اعتبار سے امام مالک بھی عورت والے مسئلے میں ہم سب کے ساتھ ہوگئے، اور یوں عورت کے لئے وضع علی الصدر پہ ائمہ اربع کا اجماع واتفاق ہوگیا، اجماع مستقل دلیل وحجت شرع ہے، لہذا اس دلیل سے بھی عورت کا سینہ پہ ہاتھ رکھنا ثابت ہورہا ہے. عبدالرحمن جزیری صاحب نے الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج 1 ص 227 میں حنابلہ کا جو یہ مذہب نقل کیا ہے:
"الحنابلة قالوا: السنة للرجل والمرأة أن يضع باطن يده اليمنى على ظهر يده اليسرى ويجعلها تحت سرته." 
وہ بلا دلیل ومصدر  ہونے کے باعث ناقابل اعتبار واستدلال ہے، یہ کتاب فقہ حنبلی کی کتاب نہیں ہے کہ اس سے ان کے مذہب پہ استدلال کیا جاسکے، مذہب حنابلہ کی مستند ومعتبر کتابوں کے حوالے سے مسلک حنابلہ اوپر کی سطروں میں تفصیل کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے، لہذا عورت کا سینے پہ ہاتھ باندھنا ائمہ اربعہ متبوعین کے درمیان اتفاقی مسئلہ ہوا، اسی لئے ہمارے فقہاء لکھتے ہیں: 
"وَ الْمَرْاَة تَضَعُ [یَدَیْها]عَلٰی صَدْرِها بِالْاِتِّفَاقِ". (مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق: ص 153)
 عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی، اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔
"وَالْمَرْاَةُ تَضَعُ [یَدَیْها]عَلٰی صَدْرِها اِتِّفَاقًا؛ لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِها عَلَی السَّتْرِ". (فتح باب العنایة: ج 1 ص 243 سنن الصلاة)
عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی، اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیوں کہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے (ستر) پر ہے۔
"وَاَمَّا فِي حَقِّ النِّسَاءِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی أَنَّ السُّنَّةَ لَهُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِأَنَّهَا أَسْتَرُ لَهَا". (السعایة ج 2 ص 156)
رہا عورتوں کے حق میں [ہاتھ باندھنے کا معاملہ] تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لئے سنت سینہ پر ہاتھ باندھنا ہے؛ کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔ ان تفصیلات سے واضح ہے کہ عورت کا سینے پہ ہاتھ باندھنا اتفاق واجماع ائمہ سے ثابت ہے. اور عورت ومرد کے مابین نماز کی ہیئت اور ہاتھ باندھنے کی کیفیت میں فرق و امتیاز، روایات، آثار، اقوال ائمہ واجماع ائمہ اربعہ سے ثابت ہے، اس فرق کو بے اصل کہنا خود بے اصل اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب