Saturday, 29 December 2018

عشاء کی نماز میں فرائض سے قبل سے قبل چار رکعت ادا کرنا کیسا ہے؟

عشاء کی نماز میں فرائض سے قبل سے قبل چار رکعت ادا کرنا کیسا ہے؟
—————————

الجواب وباللہ التوفیق:
عشاء سے قبل چار رکعت ہمارے نزدیک سنت نہیں، بلکہ افضل ومستحب ہے
سنیت کے ثبوت کے لئے صریح دلیل چاہئے، چار رکعت کے ثبوت پہ بتصریح حلبی کوئی حدیث نہیں ہے، اس لئے ہمارے نزدیک یہ سنت نہیں بلکہ افضل ومستحب ہے
وأما الأربع قبلہا فلم یذکر في خصوصہا حدیث، لکن یستدل لہ بعموم ما رواہ الجماعۃ من حدیث عبد اللّٰہ بن مغفل أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال: بین کل أذانین صلاۃ بین کل أذانین صلاۃ، ثم قال في الثالثۃ: لمن شاء، فہٰذا مـع عدم المـانع من التنفل قبلہا یفید الاستحباب، لکن کونہا أربعاً لیمشي علی قول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ؛ لأنہا الأفضل عندہ، فیحمل علیہا لفظ الصلاۃ حملاً للمطلق علی الکامل ذاتاً ووصفاً۔ (حلبي کبیر ۳۸۵،)
استحباب کی دلیل ذیل کی ایک عمومی روایت ہے:
بينَ كلِّ أذانينِ صلاةٌ ؛ بَينَ كلِّ أذانينِ صلاةٌ. بينَ كلِّ أذانينِ صلاةٌ ، لمن شاءَ .
الراوي: عبدالله بن مغفل المحدث: الألباني - المصدر: صحيح النسائي - الصفحة أو الرقم: 680
خلاصة حكم المحدث: صحيح
التخريج: أخرجه البخاري (627)، ومسلم (838)، وأبو داود (1283)، والترمذي (185)، والنسائي (681) واللفظ له، وابن ماجه (1162)، وأحمد

سنن بيهقي میں ہے
(4752) عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" وصححه الألباني في "الصحيحة " (2132) .
اس عام روایت کے ذیل میں عشاء سے قبل کی چار رکعتیں بھی داخل ہیں۔
(فتاویٰ محمودیہ:۷/۲۰۷، مکتبہ شیخ الاسلام،دیوبند۔ امداد الفتاویٰ، جدید مبوب:۱/۴۶۹، زکریا بکڈپو،دیوبند۔فتاویٰ رحیمیہ:۶/۲۲۰، مکتبہ دارالاشاعت، کراچی)
وأما التطوع قبل العشاء فإن تطوع قبلہا بأربع رکعات فحسن۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الصلاۃ، الفصل الحادي عشر في مسائل التطوع، مکتبۃ زکریا دیوبند ۲/۳۰۰، رقم:۲۴۸۸)
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

<https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_45.html>

پہلی رکعت میں سورہ اخلاص اور دوسری میں سورہ فلق پڑھنا کیسا ہے؟

پہلی رکعت میں سورہ اخلاص اور دوسری میں سورہ فلق پڑھنا کیسا ہے؟
سوال: پہلی رکعت میں سورہ اخلاص اور دوسری میں سورہ فلق پڑھنا کیسا ہے؟؟
بندے نے جواب دیا کہ مکروہ ہے
اور ہندیہ کی عبارت بندے نے بھیجی
_________
وفي بعض شروح الجامع الصغير لا خلاف أن إطالة الركعة الثانية على الأولى مكروهة إن كانت بثلاث آيات أو أكثر وإن كانت بأقل من ذلك لا يكره كذا في الخلاصة قال المرغيناني التطويل يعتبر بالآي إن كانت متقاربة وإن كانت الآيات متفاوتة من حيث الطول والقصر يعتبر بالكلمات والحروف. كذا في
التبيين
____
لیکن سائل کو اطمینان نہیں کیونکہ اس کو کسی نے یہ بھیجا ہے در مختار سے
واطالۃ الثانیۃ علی الا ولیٰ یکرہ تنزیھا اجماعا ان بثلاث ایات الخ و ان باقل لا یکرہ
پھر میں نے یہ بھیجا
_____
سوال # 162849
سنت موکدہ یا غیر موکدہ 4 رکعت والی نماز میں چاروں قل پڑھ سکتے ہیں؟ جیسے پہلی رکعت میں سورہ الکافرون، دوسری رکعت میں سورہ الاخلاص، تیسری رکعت میں سورہ الفلق اور چوتھی رکعت میں سورہ الناس کیونکہ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ پہلے بڑی سورہ پڑھنی چاہئے پھر چھوٹی سورہ اور اگر ایسا ہے تو اس کو آگے پیچھے پڑھ سکتے ہیں جیسے سورہ الکافرون اور سورہ الناس میں 6 آیتیں ہیں تو پہلی 2 رکعت میں سورہ الکافرون اور سورہ الناس پھر تیسری رکعت میں سورہ الفلق میں 5 آیتیں ہیں تو سورہ الفلق اور چوتھی رکعت میں 4 آیتوں والی سورہ اخلاص کیونکہ میں یہ بھی کہیں پڑھا تھا کہ اس طرح سے الٹا بھی نہیں پڑھنا چاہیے ۔ براہ مہربانی اس کا صحیح حل بتائیں نوازش ہوگی۔
Published on: Jul 2, 2018
جواب # 162849
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1059-935/D=10/1439
خلاف ترتیب پڑھنا مثلاً پہلی رکعت میں سورہٴ فلق اور دوسری رکعت میں سورہٴ اخلاص یہ تو مکروہ ہے۔
(سنت غیر موٴکدہ) نفل میں پہلی رکعت میں سورہٴ کافرون دوسری میں اخلاص تیسری میں فلق اور چوتھی میں الناس پڑھ سکتے ہیں کیونکہ دو رکعت (ایک شفعہ) مستقل نماز ہوتی ہے لہٰذاخلاص کے بعد فلق ہونے میں حرج نہیں وأما اطالة الثالثة علی الثانیة والأولی فلا تکرہ لما أنہ شفع آخر (الدر مع الرد ج۲ص۲۶۵) اور سنت موٴکدہ اور فرض میں ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے وإطالة الثانیة علی الأولی یکرہ تنزیہا (الدر مع الرد ۲/۲۶۳)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
لیکن سائل کو مزید اطمینان چاہئے
اس لئے آپ مدلل فرمادیں

—————————

الجواب وباللہ التوفیق:
دو رکعت والی نماز خواہ فرض ہو یا نفل، اس کی دوسری رکعت کو پہلی رکعت کی بنسبت قصار مفصل کی سورتوں میں تین آیت یا اس سے زائد طویل کردینا مکروہ تنزیہی ہے
شامی نے حلبی کے حوالے سے
ثنائی فرض ونفل نمازوں کا یہی حکم لکھا ہے، رباعی میں اس کی گنجائش ہے
والأصح کراہة إطالة الثانیة علی الأولی في النفل أیضًا (شامي: ۲/۲۶۵، زکریا)

واللہ اعلم 
شکیل منصور القاسمی


Wednesday, 26 December 2018

قنوت کتنی ہیں؟ قنوت نازلہ کیا ہے؟ کیوں پڑھی جاتی ہے؟ طریقہ کیا ہے؟ کب تک پڑھی جاسکتی ہے؟

قنوت کتنی ہیں؟ قنوت نازلہ کیا ہے؟ کیوں پڑھی جاتی ہے؟ طریقہ کیا ہے؟ کب تک پڑھی جاسکتی ہے؟
-------------------------------
--------------------------------
قنوت کتنی ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق
تین قنوت ہیں:
لفظ قنوت کے معنی ہیں دعا، اور قنوت تین ہیں؛ 
(۱) ایک وہ جو وتر میں پڑھی جاتی ہے 
(۲) دوسری قنوتِ نازلہ ہے، یعنی وہ قنوت جو دشمن کی طرف سے آنے والی اُفتاد کے وقت میں پڑھی جاتی ہے، یہ قنوت اجتماعی ہے جب مسلمانوں کو دشمن کی طرف سے کسی آفت کا سامنا ہو تو انھیں قنوتِ نازلہ پڑھنی چاہیے ۔ پھر امامِ اعظم رحمہ اللہ کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ قنوت صرف نمازِ فجر کی دوسری رکعت کے قومے میں پڑھی جائے اور دوسرا قول یہ ہے کہ تمام جہری نمازوں میں پڑھ سکتے ہیں، اور امام شافعی کے نزدیک پانچوں نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھ سکتے ہیں 
(۳) تیسری قنوت قنوتِ راتبہ یعنی ہمیشہ پڑھا جانے والی قنوت اس کے صرف امام مالک اور امام شافعی قائل ہیں۔ پھر امام مالک رحمہ اللہ اس کو مستحب گر دانتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ سنت، باقی دو امام اس قنوت کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ قنوت صرف فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے قومے میں پڑھتے ہیں۔ (تحفة الالمعی: ۲/۲۳۶)
نیز درست یہ ہے کہ قنوتِ نازلہ جنگ کے ساتھ مخصوص نہیں؛ بلکہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آجائے یا فتنے میں مبتلا ہوں تو اسے پڑھا جائے۔ (خیر الفتاویٰ: ۲/۲۸۸) جب طاعون یا ہیضے وغیرہ کی وبا پھیل جائے جس سے لوگ مضطرب اور پریشان ہوں، تو قنوتِ نازلہ پڑھی جاسکتی ہے؛ تاآں کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کر دے۔ (فتاویٰ رحیمیہ: ۶/۲۱ صالح)
قنوتِ نازلہ سب کے لیے:
قنوتِ نازلہ کا حکم عام ہے، مرد، عورت، امام، منفرد ہر ایک کو شامل ہے۔ جماعت کی قید اور مَردوں کی تخصیص اور منفرد یا عورتوں کے لیے ممانعت کی صریح اور صحیح دلیل منقول نہیں ہے۔ ”قَنَتَ الامامُ“ اس کے لیے کامل دلیل نہیں ہے۔(حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کابھی یہی نظریہ ہے) لہٰذا منفرد اور عورتیں اپنی نماز میں دعاے قنوت پڑھ سکتی ہیں؛ مگر عورتیں زور سے نہ پڑھیں۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۶/۲۳)
قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ:
اس لیے عام مصیبت کے وقت بالاتفاق نماز ِفجرکی جماعت میں قنوتِ نازلہ پڑھنا مسنون و مستحب ہے، جس میں نہ قنوتِ وتر کی طرح ہاتھ اٹھائیں نہ تکبیر کہیں۔(جواہر الفقہ:۶/۱۲۶) یعنی قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر امام قومہ کرے،اور اسی حالت میں دعاے قنوت پڑھے اور جہاں جہاں وہ ٹھہرے، وہاں سارے مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں، پھر دعا سے فارغ ہوکر اللّٰہ اکبرکہتے ہوئے سجدے میں چلے جائیں اور بقیہ نماز امام کی اقتدا میں معمول کے مطابق ادا کریں۔ ’عمدة الفقہ‘ میں ہے کہ بہ اعتبارِ دلیل کے قوی یہ ہے کہ (قنوتِ نازلہ) رکوع کے بعد پڑھی جائے، یہی اولیٰ اور مختار ہے۔ دعا سے فارغ ہوکر اللّٰہ اکبر کہہ کر سجدے میں جائیں۔ اگر یہ دعامقتدیوں کو یاد ہو، تو بہتر ہے کہ امام بھی آہستہ پڑھے اور سب مقتدی بھی آہستہ پڑھیں اور اگر مقتدیوں کو یاد نہ ہو، جیسا کہ اکثر تجربہ اس کا شاہد ہے تو بہتر یہ ہے کہ امام زور سے پڑھے اور سب مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں۔ (عمدة الفقہ:۲/۲۹۶)
—————————
قنوت نازلہ کیا ہے؟ کیوں پڑھی جاتی ہے؟ طریقہ کیا ہے؟ کب تک پڑھی جاسکتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
لغت عرب میں "قنوت" دعاء کو کہتے ہیں. مسلمانوں کی ملی، قومی، ملکی ،مذہبی اجتماعی افتاد، مصائب، بلایا، قحط اورمشکلات کے وقت نماز میں جو ماثور دعا کی جاتی ہے اسے "قنوت نازلہ" کہتے ہیں۔ جس طرح مشکلات، مصائب ومصاعب اور فِتَن وحوادث کے وقت مسلمانوں کی مادی مدد کرنا اسلام کی تعلیم ہے، اسی طرح اجتماعی ظلم وجور، اور جبر و تشدد کے وقت مظلومین سے اظہار یکجہتی اور ان کے تحفظ ونجات اور ظالمین کی تباہی و بربادی کے لئے خدا تعالی سے نماز میں دعا کرنا (قنوت نازلہ) مسنون ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں پیچھے رہ  جانے والے مظلوم ومقہور مسلمانوں کے لئے دعائیں کی اور کفارومشرکین اور قبائل عرب کا نام لے لے کے بد دعائیں فرمائیں. اسی طرح بئرمعونہ میں شہید قراء کرام کے لئے دعائیں اور ان کے قاتلین کے لئے بددعائیں کیں. قنوت نازلہ پڑھنے کی اس سنت پر اصحاب رسول، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور اسلاف کرام بھی عمل پیرا رہے، حضرات شیخین ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے بھی فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے:
سالم عن أبیہ أنہ سمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إذا رفع رأسہ من الرکوع من الرکعۃ الآخرۃ من الفجر یقول: ’’اللہم العن فلانا وفلانا وفلانا‘‘ بعد ما یقول: سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد، کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یدعو علی صفوان بن أمیۃ، وسہیل بن عمرو، والحارث بن ہشام۔ (بخاري شریف، کتاب المغازي، باب قولہ ثم انزل علیکم من بعد الغم الآیۃ، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۵۸۲، رقم: ۳۹۲۲، ف: ۴۰۶۹)
إن نبي اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قنت شہرا في صلاۃ الصبح یدعو علی أحیاء من أحیاء العرب علی رعل وذکوان وعصیۃ، وبني لحیان، … أولئک السبعین من الأنصار قتلوا ببئر معونۃ۔ (بخاري، کتاب المغازي، باب غزوۃ الرجیع، ورعل وذکوان، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۵۸۶، رقم: ۳۹۴۳، ف: ۴۰۹۰)
اللہم أنج الولید بن الولید، ومسلمۃ بن ہشام وعیاش ابن أبي ربیعۃ، اللہم اشدد وطأتک علی مضر واجعلہا سنین کسني یوسف یجہر بذلک۔ (بخاري شریف، کتاب التفسیر، باب قولہ: لیس لک من الأمر شيء، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۶۵۵، رقم: ۴۳۷۴، ف: ۴۵۶۰)
أن أبا بکر قنت في الفجر۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، الصلاۃ، من کان یقنت فی الفجر ویراہ، مؤسسۃ علوم القرآن جدید ۵/ ۳۰، رقم: ۷۰۷۴، قدیم: ۲/ ۳۱۱)
عن زید بن وہب قال: ربما قنت عمر في صلاۃ الفجر۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، الصلاۃ، من کان یقنت فی الفجر ویراہ، قدیم: ۲/ ۳۱۱، موسسۃ علوم القرآن جدید ۵/ ۳۱، رقم: ۷۰۷۹)
عن أنس بن مالك رضي اللہ عنه، أن رعلا، وذكوان، وعصية، وبني لحيان، استمدوا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم على عدو، فأمدهم بسبعين من الأنصار، كنا نسميهم القراء في زمانهم، كانوا يحتطبون بالنهار، ويصلون بالليل، حتى كانوا ببئر معونة قتلوهم وغدروا بهم، فبلغ النبي صلى اللہ عليه وسلم، فقنت شهرا يدعو في الصبح على أحياء من أحياء العرب، على رعل، وذكوان، وعصية، وبني لحيان.(صحیح البخاري:۲؍۵۸۵، رقم الحدیث: ۴۰۹۰، کتاب المغازي، باب غزوة الرجيع، ورعل، وذكوان، وبئر معونة، وحديث عضل، والقارة، وعاصم بن ثابت، وخبيب وأصحابه، ط: البدر-دیوبند٭ الصحیح لمسلم:۱؍۲۳۷، رقم الحدیث:۲۹۹-(۶۷۷)، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة، ط: البدر- دیوبند)
احناف وحنابلہ کے نزدیک قنوت نازلہ سنت دائمہ نہیں ہے، بلکہ یہ بمنزلۂ علاج کے ہے، جب تک مرض ہے علاج جاری رہتا ہے، یعنی جب عمومی مشکلات کا سامنا ہو تو اسے جہری نمازوں میں پڑھا جاتا ہے، فجر کی دوسری رکعت کے قومہ میں پڑھنا راجح ومشہور ہے، بلاوجہ سال بھر اسے پڑھنا مسنون نہیں، اور جب تک حالات بہتر نہ ہوجائیں تب تک پڑھنا مشروع ہے، جن روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمومی حالات میں فجر کی نماز میں قنوت پڑھنا وارد ہو ا ہے وہ تمام روایات قنوتِ نازلہ پر محمول ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: 4/300) (المغنی لابن قدامۃ: 2/114)
ہمارے یہاں قنوت نازلہ سخت اور عالمگیر مصیبت کے وقت ہی مسنون و مشروع ہے، اور جب تک یہ مرض رہے تب تک علاج (قنوت نازلہ) کی اجازت ہے، اکثر ِمدت کی شرعا کوئی تحدید نہیں ہے حسب ضرورت اس کے دورانیہ کو طویل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن مرشد تھانوی رحمہ اللہ کا اس سلسلے میں خیال یہ ہے کہ سنت نبوی کی اتباع میں ایک ماہ مسلسل پڑھ کے بند کردیا جائے، اس اتباع سنت کے طفیل حالات نارمل ہوجائیں گے، وہ اس سلسلے کے ایک جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
حوادث میں قنوت نازلہ صرف ایک ماہ تک مسلسل پڑھنا مسنون ہے. ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں مدت سے خود اس مسئلہ کی تلاش میں تھا کہ قنوت نازلہ اگر پڑھے تو کب تک پڑھا کرے بہت سے علماء سے دریافت کیا، کسی نے شافی جواب نہیں دیا۔اب الحمد للہ حدیث سے سمجھ میں آگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ماہ زائد منقول نہیں حالانکہ حوادث بعد میں بھی باقی رہے تھے ۔ اس سے زیادت زیادت علی المنقول ہے رہا یہ شبہ کہ جب حوادث رفع نہ ہوں تو دعا کیسے منقطع کردی جائے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ تک پڑھنے کی برکت سے انشاء اللہ تعالٰٰی رحمت ہوجائے گی نیزعقلاً اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے کہ اگر کسی پر کوئی حادثہ آجائے تو کیا جب تک وہ حادثہ رہے برابر ہاتھ پھیلائے بیٹھارہے یہ تکلیف مالا یطاق کیسے ہوسکتی ہے آخر انقطاع گو اوقات خاصہ کے لئے یہاں بھی پایا گیا تو نفس انقطاع کی مشروعیت ثابت ہوگئی باقی ویسے مثل دوسری دعائو کلے دعا کرتے رہنا مسنون ہے کلام دعا بضمن قنوت میں ہے”۔ (الاضافات الیومیہ ج ۴ ص۱۲۹) (اشرف الاحکام ص:۱۰۱)
آپ کے علوم کے وارث و امین بیہقی ثانی، علامہ ظفر احمد عثمانی تحریر فرماتے ہیں:
’’قلت و فیہ بیان غایۃ القنوت للنازلۃ أنہ ینبغی أن یقنت أیاماً معلومۃً عن النبیا، وھی قدرُ شھرٍ، کما فی الروایات عن أنسؓ: ’’أنہ قنَت شھراً ثم ترک‘‘ فاحفظْہ فھذا غایۃُ اتباع السنۃ النبویۃ‘‘۔ (إعلاء السنن، أحکام القنوت النازلۃ:6/118، إدارۃ القرآن، کراتشی)
قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ”سَمِعَ اللّٰہ ُ لِمَنْ حَمِدَہ“ کہہ کر امام کھڑا ہوجائے، اور قیام کی حالت میں دعائے قنوت پڑھے اور مقتدی اس کی دعا پرآہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں، پھر دعا سے فارغ ہوکر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے سجدے میں چلے جائیں۔ بقیہ نماز امام کی اقتداء میں اپنے معمول کے مطابق ادا کریں۔
وأنہ یقنت بعد الرکوع لا قبلہ، بدلیل أن ما استدل بہ الشافعي علی قنوت الفجر، وفیہ تصریح بالقنوت بعد الرکوع، حملہ علماوٴنا علی القنوت للنازلة، ثم رأیت الشرنبلالي في مراقي الفلاح صرح بأنہ بعدہ؛ واستظھر الحموي أنہ قبلہ، والأظھر ما قلناہ، واللّٰہ أعلم․ (حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاة، مطلب: في القنوت للنازلة: 2/542، دار المعرفة، بیروت)
قنوتِ نازلہ کے دوران دعا میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنے  ،جیسا کہ عام طور سے قیامِ نماز میں باندھے جاتے ہیں۔ اور دونوں ہاتھ نیچے کی طرف لٹکانے کی بھی اجازت ہے، لیکن دعا مانگنے کے انداز میں ہاتھ اُوپراٹھا لینا مناسب نہیں۔ 
(بوادر النوادر، نوے واں نادرہ، تحقیق اِرسال یا وضع یدین در قنوتِ نازلہ: 6/122،123، ادارہ اسلامیات)
دُعا قنوت کیلئے کوئی خاص الفاظ متعین نہیں ہیں۔ ہر وہ دعا کی جا سکتی ہے جو مطلوب ہو۔ امام نوو ی رحمہ اللہ شرح مسلم میں لکھتے ہیں۔ 
والصحیح انہ لا یتعین فی دعا مخصوص بل یحصل بکل دعاء فیہ وجہ انہ لا یحصل الا بالدعاء (شرح مسلم للنوی ۱١/۲۳۷)
''صحیح بات یہ ہے کہ ا س بارے میں کوئی خاص دعا نہیں بلکہ ہراس دعا کو پڑھا جا سکتا ہے جس سے یہ مقصود حاصل ہوتا ہو۔ البتہ بہتر اور اولیٰ یہی ہے کہ جو دعائیں قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں موجود ہیں وہ پڑھے۔ علاوہ ازیں اپنی اپنی حاجات کے لئے مختلف دعائیں کی جاسکتی ہیں''۔
اس بارے میں تمام روایات کو سامنے رکھ کر علماء کرام نے یہ دعا نقل کی ہے 
﴿اللّٰہمَّ اھْدِنَا فِيْ مَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنَا فِيْ مَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيْ مَنْ تَوَلَّیَتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِيْ مَا أَعْطَیْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِيْ وَلَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ، وَإِنَّہ لَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنا وَتَعالَیْتَ، نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِيِّ الْکَرِیْمِ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُوٴْمِنِیْنَ وَلِلْمُوٴْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، وَاجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَالْحِکْمَةَ،وَثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّةِ رَسُوْلِکَ، وَاَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوا نِعْمَتَکَ الَّتِيْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ وَأَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِيْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْہِ، وَانْصُرْھُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ، اِلٰہَ الْحَقِّ، سُبْحَانَکَ؛ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ، وَالْعَنِ الْکَفَرَةَ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَمَنْ حَذَا حَذْوَھُمْ مِنَ الْأَحْزَابِ وَالْمُنَافِقِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ، وَیُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَاءَ کَ مِنَ الطُّلَّابِ وَالْعُلَمَآءِ وَالْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیَنَ کَلِمَتِھِمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَھِمْ، وَاَلْقِ فِيْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ، وَخُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ، وَأَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذيْ لَا تَرُدُّہ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴾․ 
ترجمہ: یا اللہ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور ہمیں ان چیزوں میں برکت عطا فرمائیے جو آپ نے ہمیں عطا فرمائی، اور ہماری ان چیزوں کے شر سے حفاظت فرمائیے جن کا آپ نے فیصلہ فرمایا، کیوں کہ آپ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اور آپ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، بے شک آپ جس کی مدد فرمائیں وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور عزت نہیں پا سکتا وہ شخص جو آپ سے دشمنی کرے، اے ہمارے رب آپ بابرکت ہیں اور بلند و بالا ہیں۔ہم تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اورآپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائیے اس نبی پر جو بڑے کریم ہیں، اے اللہ! ہمارے اور موٴمن مردوں اور عورتوں کے اور مسلمان مَردوں اور عورتوں کے گناہ معاف فرمادے، اور ان کے دلوں میں باہم الفت پیدا فرما دیجیے، اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادیجیے، اور ان کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دیجیے، اور ان کو اپنے رسول کے دین پر ثابت قدم رکھ، اور توفیق دے انہیں کہ شکر کریں آپ کی اس نعمت کا جو آپ نے انہیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں آپ کے اس عہد کو جوآپ نے ان سے لیا ہے، اور ان کی اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرما، اے اللہ! ان کافروں اور مشرکوں پر لعنت فرما، اور ان گروہوں پر جو ان کے نقشِ قدم پرچلتے ہیں اور منافقین پر جو آپ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، اور آپ کے اولیاء کو قتل کرتے ہیں،بالخصوص علماء، طلبہ اور عامة المسلمین کو، اے اللہ! خود انہیں کے اندر آپس میں اختلاف پیدا فرما، اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے، اور ان کی طاقت پارہ پارہ کردے، اور ان کے قدموں کو اُکھاڑ دے، اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے، اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑلے جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے اور اُن پر اپنا ایسا عذاب نازل فرما جو آپ مجرم قوموں سے دور نہیں کرتے۔
واللہ اعلم 
https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_4.html


Tuesday, 25 December 2018

سندھ (پاکستان) کی تباہی، ہند کے ہاتھوں؟

سندھ (پاکستان) کی تباہی، ہند کے ہاتھوں؟
امام قرطبی نے اپنی کتاب "التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة " ص 1349 میں ابن الجوزی کی کتاب "روضة المشتاق والطريق إلى الملك الخلاق" کے حوالے سے سند ذکر کئے بغیر، صیغۂ تمریض “رُوِيَ"  کے ذریعہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا یہ اثر نقل کیا ہے:
قال القرطبي في "التذكرة" : و < رُوِيَ > من حديث حذيفة بن اليمان ، عن [ص: 92] النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: "ويبدأ الخراب في أطراف الأرض حتى تخرب مصر ، ومصر آمنة من الخراب حتى تخرب البصرة ، وخراب البصرة من الغرق ، وخراب مصر من جفاف النيل ، وخراب مكة من الحبشة ، وخراب المدينة من الجوع ، وخراب اليمن من الجراد، وخراب الأبلة من الحصار ، وخراب فارس من الصعاليك ، وخراب الترك من الديلم، وخراب الديلم من الأرمن ، وخراب الأرمن من الخزر ، وخراب الخزر من الترك . . . ، وخراب الترك من الصواعق ، وخراب السند من الهند ، وخراب الهند من الصين ، وخراب الصين من الرمل ، وخراب الحبشة من الرجفة ، وخراب الزوراء من السفياني ، وخراب الروحاء من الخسف ، وخراب العراق من القحط " . ثم قال : ذكره أبو الفرج ابن الجوزي ، قال : وسمعت أن خراب الأندلس بالريح العقيم . والله أعلم .
تنزيه الشريعة لإبن عراق (2/351) میں مسند دیلمی کے حوالے سے  یہ روایت نقل کی گئی ہے ،لیکن لطف یہ ہے کہ مسند دیلمی کی مطبوعہ ودستیاب نسخوں میں کہیں بھی اس روایت کا وجود نہیں ہے!
اسی طرح فیض القدیر للمناوی 81/3)
میں حضرت حذیفہ سے مرفوعاً یہ روایت مذکور ہے۔
سیوطی نے “رفع شان الحبشان" (ص 379) میں، اور ابو عمر الدانی “السنن الواردة في الفتن 881/4) میں وہب بن منبہ سے الفاظ میں قدرے اختلاف کے ساتھ اسی طرح کی ایک طویل روایت نقل کی ہے۔
حافظ إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي الدمشقي أبو الفداء عماد الدين رحمہ اللہ،
البدایہ والنہایہ  “الجزء التاسع عشر“ میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
"وهذا الحديث لا يعرف في شيء من الكتب المعتمدة ، وأخلق به أن لا يكون صحيحا، بل أخلق به أن يكون موضوعا ، أو أن يكون موقوفا على حذيفة ، ولا يصح عنه أيضا،
والله سبحانه أعلم".
یعنی ملکوں اور شہروں کی تباہی و بربادی سے متعلق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث  صحیح سندوں سے ثابت نہیں، اغلب یہ ہے کہ یہ من گھڑت اور گھڑی ہوئی بات ہے 
حدیث کی معتبر و مستند کتابوں میں یہ موجود نہیں
جن کتابوں میں یہ روایت منقول بھی ہوئی ہے تو غیر ذمہ دارانہ اسلوب یعنی بلا سند
اور صیغہ تمریض کے ساتھ!
علم حدیث سے شغف رکھنے والے اہل علم کے علم سے یہ بات یقیناً مخفی نہیں ہوگی کہ فنِ حدیث “میزان ِ اسناد “ ہی وہ بے لاگ کسوٹی ہے جس کی وجہ سے ذخیرۂ حدیث میں ساقط الاعتبار ومن گھڑت روایتوں کی آمیزش کی کوشش کبھی کامیاب نہ ہوسکی ہے
اشراط الساعہ اور فتن کی جتنی صحیح و حسن درجے کی احادیث تفصیل کے ساتھ کتب معتبرہ ومعتمدہ میں بیان کردی گئی ہیں ، بیان کرنے کے لئے وہی کافی وافی ہیں ، انہیں چھوڑ کے
ادھر ادھر کی کمزور وبے سند روایتوں کو “درآمد “ کرنے یا انہیں  ذکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
قرطبی کے حوالے سے یہ اثر ذکر کرنے سے قبل کاش ان کے اسلوب و صیغہ بیاں پر بھی توجہ دے دی جاتی تو شاید اس روایت کا ضعف اسناد واضح ہوجاتا!
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_25.html

Monday, 24 December 2018

شخصی معمولات ومجرَّبات کی بجائے دعاء ماثورہ کا اہتمام کیجئے

شخصی معمولات ومجرَّبات کی بجائے دعاء ماثورہ کا اہتمام کیجئے!

قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت دعائیں (ادعیہ ماثورہ) دنیا وآخرت کی تمام بھلائیوں کو مستجمع ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی مشکلات و پریشانیوں کے وقت جب انہی کلمات و الفاظ سے رب کے حضور دعائیں مانگی، مناجات کی، تذلل وعاجزی کا اظہار فرمایا
تو اللہ نے آپ کی دعائیں
قبول فرمائیں
دنیاوی مشکلات کے وقت انسان کا دل رب کی طرف طبعا متوجہ ہوتا ہے
ایسی مشکل گھڑی میں زبان رسالت مآب سے جو دعائیہ کلمات ادا ہوئے ان میں نورانیت و آثار قبولیت غیر ماثور دعائوں کی بنسبت ہزاروں گنا زیادہ ہیں
بعض دعاء ماثورہ تو اس قدر جامع ہے کہ دنیا وآخرت کی ہر پریشانی کا اس میں حل موجود ہے
جبکہ ذخیرہ احادیث میں جزوی طور پر ہر قسم کی پریشانی کی الگ الگ دعاء بھی وارد ہوئی ہے۔
انسان کو زید عمر بکر کے شخصی مجربات کی طرف تاک جھانک کی بجائے نبوی دعاؤں کے پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے
یہ بہت غلط رسم چل نکلا ہے جو بڑی محرومی کی بات بھی ہے کہ دعاء واذکار ماثورہ کو چھوڑ کے لوگ ادھر ادھر کی تراکیب و نقوش کے پیچھے پڑے رہتے ہیں
ایسے رجحان و ذہنیت کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے
ویسے مختلف احادیث میں
قضائے حاجات وحلّ مشکلات کے لئے ذیل کی دعاء ماثورہ پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے
* لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، فإنَّهُ لم يدعُ بِها مسلمٌ ربَّهُ في شيءٍ قطُّ إلَّا استَجابَ لَهُ).[مسند أحمد، عن سعد بن أبي وقّاص، الصفحة : 3/36.]
* اللهمَّ إني أسالُك بأنَّ لك الحمدُ، لا إله إلَّا أنتَ وحدَك لا شريكَ لك، المنّانُ، يا بديعَ السماواتِ والأرضِ، يا ذا الجلالِ والإكرامِ، يا حيُّ يا قيومُ، إني أسالكَ الجنة، وأعوذُ بك من النارِ. فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلم لأصحابهِ: تدرونَ بما دعا؟ قالوا: اللهُ ورسولُه أعلمُ. قال: والذي نفسي بيدهِ لقد دعا اللهَ باسمهِ العظيمِ. وفي روايةٍ: الأعظمِ الذي إذا دعِيَ به أجاب ، وإذا سُئِلَ به أعطَى). [رواه الألباني، في أصل صفة الصلاة، عن أنس بن مالك، الصفحة: 3/1017.]
*(إذا مضَى شطرُ اللَّيلِ الأوَّلُ أو ثلثاه، ينزلُ اللهُ تبارك وتعالَى إلى سماءِ الدُّنيا فيقولُ هل من سائلٍ يُعطَى؟ هل من داعٍ يُستجابُ له؟ هل من مستغفرٍ يُغفرُ له؟ حتَّى ينفجرَ الصُّبحُ).[صحيح مسلم، عن أبي هريرة، الرقم: 758]
* ألا أعلِّمُكِ كلِماتٍ تَقولينَهُنَّ عندَ الكَربِ أو في الكَربِ؟ اللَّهُ اللَّهُ ربِّي لا أشرِكُ بِهِ شيئًا (صحيح ابن داود، عن أسماء بنت عميس، الصفحة أو الرقم: 1525.)
یہ اور اس طرح کی چھوٹی چھو ٹی  دعائیں مشکلات  کے وقت پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سندوں سے ثابت ہے، جس میں نہ وقت لگتا ہے نہ کوئی کلفت ہے، اس سے بہتر وجامع دعا  اور نہیں ، نہ ہی معمول مشائخ کبھی ان کا متبادل ہوسکتا، اس لئے ہر حال میں دعاء ماثورہ پڑھنے کا ہی اہتمام ہونا چاہئے
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_41.html

جس تیل میں کیکڑا تلا جاتا ہے اسی میں مچھلی کے تلے جانے کا حکم

جس تیل میں کیکڑا تلا جاتا ہے اسی میں مچھلی کے تلے جانے کا حکم

کیکڑا کھانا حنفی مذہب میں جائز نہیں ہے، ایک ہوٹل میں جس تیل میں کیکڑا تلا جاتا ہے اسی میں مچھلی بھی تلی جاتی ہے، آیا ایسی مچھلی کا کھانا درست ہے؟
بینوا توجروا

جس تیل میں زندہ بچھو جلایا گیا ہو اسے لگاکر نماز پڑھنا؟
سوال (۱۳۹۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زندہ بچھو گرم تیل میں ڈال دیتے ہیں پھر وہی تیل جسم کے ان اعضاء میں استعمال کرتے ہیں جہاں درد ہوتا ہے، جیسے پیر وغیرہ، تو سوال یہ ہے کہ ایسا تیل استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں، اگر تیل لگاکر نماز پڑھی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اور اگر تیل سوکھنے کے بعد نماز پڑھی جائے تو کیا یہی حکم ہے، نیز نماز کا اعادہ لازم ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللٰہ التوفیق:
بچھو چوںکہ ایسے حشرات الارض میں سے ہے جس میں دم سائل نہیں ہوتا؛ لہٰذا بچھو ڈالنے سے وہ تیل ناپاک نہیں ہوا، اس کا خارجا استعمال درست ہے، اور اسے لگاکر نماز پڑنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ (بہشتی زیور ۱۰۳-۱۰۴)
البتہ تیل میں زندہ بچھو ڈالنا صحیح نہیں؛ بلکہ اسے پہلے مار کر پھر تیل میں ڈالنا چاہئے؛ تاکہ جانور کو بلاضرورت جلانا اور تعذیب لازم نہ آئے۔
عن عبد الرحمن بن عبد اللٰہ عن أبیہ قال في حدیث طویل … قال رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم: لاینبغي أن یعذب بالنار إلا رب النار۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الآداب / باب قتل الذر ۲؍۷۱۴ رقم: ۶۲۶۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۹؍۴؍۱۴۱۹ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ

از کتاب النوازل
-----------

مردار اورحرام جانوروں کے تیل کا حکم:
سوال: اگرتیل میں حشرات الارض یا کوئی نجس چیز نہیں اور وہ تیل پاک ہے یانہیں، مطلب یہ ہے کہ جیسے وہ اجزاء کوئلہ ہوگئے جو اب بشکل کوئلہ دکھائی دیتے ہیں ایسے ہی تمام اجزاء مختلط بالدہن بھی جل گئے اور تبدیل ماہیت ہوگئی پھر پاک وحلال کیوں نہ ہوں۔
الجواب: حشرات الارض اگر ایسے ہیں کہ ان میں دم سائل نہیں تو انکو تیل میں جلانے سے (تیل) ناپاک نہیں ہوتا، اس کا استعمال جائز رہتا ہے، اور اگر حشرات الارض ذی دم مسفوح ہیں تو ان کو تیل میں ڈال کر جلانے سے تیل ناپاک ہوجائیگا اور اس تیل کا استعمال جائز نہ ہوگا، خواہ حشرات الارض زندہ تیل میں ڈالے گئے ہوں یا مرنے کے بعد، کیوںکہ ملاقات نجس سے جب تیل نجس ہوگیا تو وہ ناپاک رہیگا، اگرچہ جو جانور اس میں ڈالا گیا ہے وہ جل کر کوئلہ ہوگیا ہو مگر تیل نجس اپنی نجاست پر باقی ہے، اس کی نجاست کسی طرح زائل نہیںہوئی چنانچہ اس پر ردالمحتار کی روایات ذیل دلالت کرتی ہیں. وکذالووقعت (الفارۃ) فی العصیر اوولغ فیہ کلب ثم تخمر ثم تخلل لا یطھر ھوالمختار عن الخلاصۃ اور نیز خانیہ سے نقل کیا ہے  والنحل النجس اذاصب فی خمر فصار خلایکون نجسا لان النجس لمیتغیر بالجملہ صورت موجہہ میںجو نجاست دہن کا حکم کیا گیاہے وہ باعتبار ملاقات نجاست کے کیا گیا ہے، اور بعد ملاقات نجس نفس تیل میں کوئی تغیر نہی ہوا، پھر محض اسکے پکنے سے طہارت کا حکم نہیں کیا جاتا، ہاں غایتہ مافی الباب وہ حشرات الارض جو تیل میں جل کر کوئلہ ہوگئے ہیں وہ بوجہ تبدیل عین بہ نجاست میتہ ناپاک نہیں ہے ، اور انکا حکم پاخانہ کے خاکستر کا ہوگیا ہے، لیکن تیل کی نجاست کی وجہ سے ان کا کوئلہ بھی ناپاک ہے۔ فقط واللہ اعلم
حررہ خلیل احمد عفی عنہ

از فتاوی مظاہر العلوم

Saturday, 22 December 2018

جس کا کوئی امیر نہیں، کیا شیطان اس کا امیر ہے؟

جس کا کوئی امیر نہیں، کیا شیطان اس کا امیر ہے؟

الجواب و باللہ التوفیق:
من لا أمير لهم فالشيطان أميرهم
ان لفظوں میں کوئی بھی حدیث حتی کہ مقطوع حدیث بھی نہیں ہے 
یہ لوگوں کی خانہ ساز، اور اپنی چلائی ہوئی باتیں ہیں 
ہاں! اسلام میں اجتماعیت کی بڑی اہمیت آئی  ہے، اسی لئے سفر جیسی عارضی حالت میں بھی اجتماعیت کو اس قدر پسند کیا گیا ہے 
کہ تنہا سفر کرنے والے کو شیطان کہا گیا 
اسی لئے انتظامی و حکومتی منتظم (امیر، حاکم ) کی اتباع کی بڑی اہمیت حدیث میں آئی ہے 
اگر مسافر امیر سفر کی اور عوام الناس امیر مملکت کی تابع داری نہ کریں تو اجتماعی معاملات بدنظمی کا شکار ہوجائیں گے اور پھر شیطان ان میں دخل اندازی کر شر و فساد مچانا شروع کردے گا
اس معنی کی حدیث حضرت 
عبدالله بن عمرو سے مروی  ہے:
الراكب شيطان والراكبًان شيطانان والثلاثة ركب .
سنن أبي داود - الرقم: 2607 
سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح] 
و أخرجه الترمذي (1674)، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (8798 )، وأحمد (6748)

اثنائے سفر، اجتماعی امور اور خصوصا امور مملکت میں بحیثیت منتظم ومقتدر ایک آدمی کے طے ہونے سے سارے اجتماعی کام افرا تفری کے بغیر بحسن و خوبی انجام پاتے ہیں 

منتظم و مدبر کی حیثیت سے اثنائے سفر چلہ کش تبلیغی جماعتیں بھی اصول مذکور کی روشنی میں تجربہ کار، حلم مزاج، متبع سنت، اور مسائل شرعیہ سے واقف امیر منتخب کرلیں تو بہتر ہے 
لیکن خصوصیت سے اس منتظم کے بارے میں کوئی نص حدیث وارد نہیں 
مذکورہ عربی مقولے کو انہی الفاظ میں حدیث نبوی کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرنا ہے جو حرام وموجب جہنم ہے

اسی طرح سفری و اسلامی حکومتی امور میں امیر کی ضرورت اور اس کی اتباع کے لزوم میں توسیع کرکے عام حالات پہ اسے منطبق کرنا بھی درست نہیں
واللہ اعلم 
شکیل منصور القاسمی

کیا یہ حضرت مولانا عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہوتا ہے؟

یہ محاوہ ابو حامد غزالی نے احیاء میں نقل کیا ہے 
یہ شیخ عبد القادر کا قول نہیں ہے 
عوارف المعارف میں بھی مختلف صوفیاء کے حوالے سے یہ محاورہ منقول ہے 
يحتاج المريد إلى شيخ وأستاذ يقتدي به لا محالة ليهديه إلى سواء السبيل، فإن سبيل الدين غامض، وسبل الشيطان كثيرة ظاهرة فمن لم يكن له شيخ يهديه، قاده الشيطان إلى طرقه لا محالة. فمن سلك سبل البوادي المهلكة بغير خفير فقد خاطر بنفسه وأهلكها، ويكون المستقل بنفسه كالشجرةِ التي تنبت بنفسها فإنها تجف على القرب، وإن بقيت مدة وأورقت لم تثمر، فمعتَصَمُ المريد شيخُهُ، فليتمسك به.
["الإحياء" ج3/ص65]
أبو حامد الغزالي

اس مقولہ کا ماحصل صرف اس قدر ہے کہ انسان چونکہ ہمہ وقت شیطان کے وساوس کی زد میں رہتا ہے؛ اس لئے انسان کو کسی متبع سنت شیخ سے قلبی تعلق قائم کرکے اصلاح نفس کرتے رہنا چاہئے 
شیخ کامل کی نگرانی میں وتربیت سے اس کی اصلاح ہوگی، اگر کسی شیخ سے اصلاحی تعلق قائم نہ ہو تو پہر شیطان کو کھلے مہار اسے بہکانے و گمراہ کرنے کا موقع مل جائے گا ؛ کیونکہ شیطان تو انسان کے خون کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے 
بدون قلبی تعلق محض رسمی بیعت وپیری اس مقولہ کی مراد نہیں ہے 
صوفیاء کے اس محاورے کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ ایمان کی حفاظت شیخ سے بیعت پہ موقوف ہے 
کیونکہ یہ عقیدہ نصوص کے خلاف ہے 
ہاں نفس کی اصلاح گناہوں سے بچنے اور دین پر چلنے میں 
کسی متبع سنت بزرگ سے رابطہ کرلینا چاہئے 
شکیل منصور القاسمی
https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_71.html

المسح على الخفين والجوارب الرقيقةالمنسوجة من نائلون وغيره

المسح على الخفين والجوارب الرقيقةالمنسوجة من نائلون وغيره


الأصل في الوضوء غسل الرِّجلين إلى الكعبين  ،لقوله تعالى : <وأرجلَكم إلى الكعبين >
إلا أن المسح على الخفين شُرع بدلاً من غسل الرجلين في الوضوء، تيسيراً للناس 
فمن كان يلبس خفين، من الرجال والنساء، في الشتاء والصيف، والسفر والحضر، والمرض والصحة فلا يتكلف خلعهما بل يمسح عليهما، ومن كان يلبس نعلين ونحوهما، فلا يتكلف لبس خفين ليمسح عليهما.
والخفُّ: ما يُلبس في الرِجل وله ساقٌ يَستر الكعبين الجانبيين في القدم، ويكون الخفُّ من جلْد ونحوه...
ودليل مشروعية المسح على الخفين: قول النبي - صلى الله عليه وسلم -  وفعله .
ومن ذلك ما رواه الشيخان عن جرير بن عبد الله البَجَلي رضي الله عنه قال: (رأيت النبي - صلى الله عليه وسلم - بال، ثم توضأ ومسح على خفيه ).
وتواترت الروايات  في المسح على الخفين حتى بلغت عددأربعين حديثاً .
فبناءً على هذا التواتر ، قال عامة الفقهاء من أهل السنة والجماعة بمشروعية المسح على الخفين بدلاً من غسل الرجلين في الوضوء، للرجال والنساء، في الشتاء والصيف، والسفر والحضر، والمرض والصحة.
والغرض من مشروعيته التيسيرُ والترخيص للناس؛ لأن الحاجة تدعو إلى لبس الخِفاف وتلحق المشقة بنـزعها، لذلك أباح الله تعالى المسح عليها في الوضوء لا في الغُسل، لتكرُّر الأول أكثر من الثاني، فضلاً عن إمكان دخول الماء إلى الخف في الغسل. روى أحمد والترمذي وصححه وابن ماجه عن صفوان بن عسَّال رضي الله عنه قال: (كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يأمرنا إذا كنا مسافرين أن لا ننـزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة، لكن من غائط وبول ونوم ،أخرجه الترمذي (96)، والنسائي في ((المجتبى)) (1/ 126)، وابن ماجه (478).
وقال  صلى الله عليه وسلم :
(إن الله يحب أن تؤتى رخَصُه كما يحب أن تؤتى عزائمُه ). رواه الطبراني وابن حبان ورواه البزَّار بإسناد حسن.

والخفُّ: ما يُلبس في الرِجل وله ساقٌ يَستر الكعبين الجانبيين في القدم، ويكون الخفُّ من جلْد ونحوه...
ومثنَّاه خُفّان ، وجمعه خِفاف.

ويشترط لجواز المسح على الخفين شروط ،من أهمها :

1ـ لبسهما على طهارة كاملة:
2ـ ستر الخف للكعبين
3ـ تماسك الخف بحيث يمكن متابعة المشي فيه فرسخا .
فعند توافر هذه الشروط يجوز المسح على الخفين 
للمقيم يوماً وليلة (24 ساعة) وللمسافر ثلاثة أيام بلياليها (72 ساعة)؛ لما رواه أحمد ومسلم: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أمر بالمسح على الخفين ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر, ويوماً وليلة للمقيم.(أخرجه أحمد (6/ 27)، والطبراني في ((الكبير)) (18/ 40)، والدارقطني (1/ 197). كلهم باختلاف يسير.)
والجورب كما في "مواهب الجليل" (1/318) : " مَا كَانَ عَلَى شَكْلِ الْخُفِّ مِنْ كَتَّانٍ ، أَوْ قُطْنٍ ، أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ "
فإن كانت الجوارب المعاصرة المتخذة من القطن والقماش والنائلون ونحو ذالك في معنى الخف ، أعني إذا كان الجوربان ثخينين لايشفان الماء و يمكن متابعة المشي فيهما فرسخا فأكثر  فيُنزَلان منزلة الخفين ويُلحَقان في حكمهما ويباح المسح عليهما 
وإذا لم يكن الجوربان ثخينين صفيقين فلايجوز المسح عليهما باتفاق من الأئمة الأربعة 

وفيما يلي نقل المذاهب الأربعة من كتبها المعتمدة:

المذهب الحنفى:

قال الكاساني : " فَإِنْ كَانَا رَقِيقَيْنِ يَشِفَّانِ الْمَاءَ ، فلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَيْهِمَا بِالْإِجْمَاعِ ".
انتهى من "بدائع الصنائع" (1/10).
وفى رد المحتار على الدر المختار لابن عابدين: ( أو جوربيه ) ولو من غزل أو شعر ( الثخينين ) بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق ولا يرى ما تحته ولا يشف.
وجاء فيه أيضاً: يدل عليه ما في كافي النسفي حيث علل جواز المسح على الجورب من كرباس بأنه لا يمكن تتابع المشي عليه ، فإنه يفيد أنه لو أمكن جاز ، ويدل عليه أيضا ما في ط عن الخانية أن كل ما كان في معنى الخف في إدمان المشي عليه وقطع السفر به ولو من لبد رومي يجوز المسح عليه.
http://library.islamweb.net/newlibra...d=27&startno=7
وجاء فيه أيضاً: الشرط الثالث ( كونه مما يمكن متابعة المشي ) المعتاد ( فيه ) فرسخا فأكثر. وجاء فيه أيضاً: ] تنبيه ] المتبادر من كلامهم أن المراد من صلوحه لقطع المسافة أن يصلح لذلك بنفسه من غير لبس المداس فوقه فإنه قد يرق أسفله ويمشي به فوق المداس أياما وهو بحيث لو مشى به وحده فرسخا تخرق قدر المانع ، فعلى الشخص أن يتفقده ويعمل به بغلبة ظنه.
http://library.islamweb.net/newlibra...d=27&startno=2

المذهب المالكى:

في الشرح الكبير للدردير:
[ فصل ] ( رخص ) جوازا بمعنى خلاف الأفضل إذ الأفضل الغسل ( لرجل وامرأة ) غير مستحاضة بل ( وإن ) كانت ( مستحاضة ) لازمها الدم نصف الزمن فأكثر ( بحضر أو سفر ) الباء ظرفية متعلقة بمسح ( مسح جورب ) نائب فاعل رخص بتضمينه أبيح أو أجيز وإلا فرخص إنما يتعدى للمرخص فيه بفي وللمرخص له باللام نحو رخص لرجل في مسح جورب وهو ما كان على شكل الخف من نحو قطن ( جلد ظاهره ) وهو ما يلي السماء ( وباطنه ) وهو ما يلي الأرض وليس المراد بالظاهر ما فوق القدم وبالباطن ما تحت القدم المباشر للرجل من داخله إذ هذا لا يجوز المسح عليه كما يأتي في قوله بلا حائل
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=13&ID=215

المذهب الشافعى:
قال الإمام النووى فى الروضة: الأمر الثاني : أن يكون قويا ، بحيث يمكن متابعة المشي عليه بقدر ما يحتاج إليه المسافر في حوائجه عند الحط والترحال ، فلا يجوز المسح على اللفائف والجوارب المتخذة من صوف ولبد ، وكذا الجوارب المتخذة من الجلد الذي يلبس مع المكعب ، وهي جوارب الصوفية ،
لا يجوز المسح عليها حتى يكون بحيث يمكن متابعة المشي عليها.
http://library.islamweb.net/newlibra...bk_no=95&ID=65

المجموع شرح المهذب للإمام النووى:
أما ما لا يمكن متابعة المشي عليه لرقته فلا يجوز المسح عليه بلا خلاف
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=14&ID=601

المذهب الحنبلى:
قال الإمام أحمد بن حنبل (من المغنى لابن قدامة): إنما مسح القوم على الجوربين أنه كان عندهم بمنزلة الخف ، يقوم مقام الخف في رجل الرجل ، يذهب فيه الرجل ويجيء.
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=15&ID=349
وقال الإمام ابن تيمية في شرح العمدة : وأما ما لا يمكن متابعة المشي فيه إما لضيقه أو ثقله أو تكسره بالمشي أو تعذره كرقيق الخرق أو اللبود لم يجز مسحه لأنه ليس بمنصوص ولا في معنى المنصوص . 
http://islamport.com/w/hnb/Web/2212/122.htm
(وقال الإمام ابن تيمية فى فتاواه: يجوز المسح على الجوربين إذا كان يمشي فيهما)
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=56&ID=182
الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي:
ومن شروط المسح : إمكان المشي فيه مطلقا . تنبيه : قولي " إمكان المشي فيه " قال في الرعاية الكبرى : يمكن المشي فيه قدر ما يتردد إليه المسافر في حاجته.
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=26&ID=186
شرح منتهى الإرادات:
باب مسح الخفين وما في معناهما
(وَ) بِشَرْطِ (إمْكَانِ مَشْيٍ عُرْفًا بِمَمْسُوحٍ) وَهُوَ الرَّابِعُ
http://library.islamweb.net/newlibra...k_no=21&ID=111
(بقلم: الأستاذ أحمد محمد عوض)
والجوارب المعاصرة المنسوجة المصنوعة اليوم من نائلون وأمثاله لايوجد فيها إمكانية تتابع المشي مسافة بعيدة ولاتمنع نفوذ الماء فيها ؛ولذالك نراها لاتُلبس مجردةً عن الأحذية ، فلايجوز قياسها على الخف لعدم  اشتراك العلة. 
ومما يؤسفنا للغاية أن بعضا من الناس يشذون عن جمهور الأئمة في هذه المسألة ، ويلحقون الجوارب الرقيقة بالخفين إما لجهلهم وإما لتحرّرهم أوتساهلهم
والله تعالى أعلم 
شكيل منصور القاسمي
-------------------
مفتی صاحب
چمڑے کے موزوں پر مسح صحیح ہونے کے لیے بھی کیا یہ شرط ہے کہ اسے پہن کر تین میل چلا جاسکے؟


الجواب و باللہ التوفیق:

جی ہاں! یہ بھی شرط ہے ۔
إمكان متابعة المشي 
کی تفسیر میں ایک فرسخ چلنے کی شرط بھی ملحوظ ہے 
طحطاوی نے اس کی تصحیح کی ہے ،دیکھئے ص 130 

چمڑے کے موزوں پہ جواز مسح کی تمام شرطیں تفصیلا درج ذیل ہیں : 
(۱) ٹخنوں سمیت وہ پورے قدم کو چھپالیں 
(۲) وہ قدم کی ہیئت پر بنے ہوئے اور پیر سے ملے ہوئے ہوں 
(۳) وہ اتنے مضبوط ہوں جنہیں پہن کر جوتے کے بغیر ایک فرسخ (تین میل شرعی جس کی مسافت ۵؍ کلومیٹر ۴۸۶؍ میٹر ۴۰؍ سینٹی میٹرہوتی ہے۔
(۴) وہ پیروں پر بغیر باندھے رک سکیں 
(۵) اتنے دبیز ہوں کہ پانی کو پیروں تک نہ پہنچنے دیں 
(۶) ان میں سے کسی موزہ میں اتنی پھٹن نہ ہو جو مسح سے مانع ہو (۷) طہارتِ کاملہ پر پہنا جائے 
(۸) وہ طہارت تیمم سے حاصل نہ کی گئی ہو 
(۹) مسح کرنے والا جنبی نہ ہو 
(۱۰) اگر پیر کٹا ہوا شخص مسح کرنا چاہے تو یہ شرط ہے کہ کم از کم ہاتھ کی تین چھوٹی انگلیوں کے بقدر اس کے قدم کا اوپری حصہ باقی ہو۔ 
طحطاوي على المراقي 130 
شامی بیروت ۱؍۳۸۵، زکریا ۱؍۴۳۷، 
ہندیہ ۱؍۳۳) و حلبی کبیر ۱۰۹-۱۱۰)
والله تعالى أعلم 
شكيل منصور القاسمي
https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_22.html

Friday, 21 December 2018

نجاست کے مسائل

نجاست کے مسائل
نجاست دو طرح پر ہے
(۱) نجاست  غلیظہ  (۲) نجاست  خفیفہ ۔
۱۔  پاخانہ‘ پیشاب‘ منی‘ لید ‘ گوبر‘ مینگنیاں‘ بط اور مرغی کا گو‘ بہتا خون‘ بہتا پیپ‘ منہ بھر قئے‘ شراب‘ سیندھی‘ تاڑی‘ مردار چربی وغیرہ چیزیں نجاست غلیظہ ہیں ۔
۲ ۔ گھوڑے اور حلال چوپایوں کا پیشاب اور حرام پرندوں کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے۔
۳ ۔ نجاست غلیظہ اگر پتلی ہو تو ہتھیلی کے گڑھے برابر اور گاڑھی اور بستہ ہو تو ساڑھے  چار ماشہ وزن تک معاف ہے اس سے زیادہ ہو تو دور کرنا فرض ہے ۔
۴ ۔ نجاست خفیفہ جسم یا کپڑے کے کسی حصہ مثلاً ہاتھ پاؤں‘ یا آستیں‘ کلی وغیرہ پر لگ جائے تو اس کی چوتھائی تک معاف ہے۔ اس سے زیادہ ہو تو دور کرنا فرض ہے ۔
(تنبیہ) یہ احکام صرف کپڑے یا جسم سے مخصوص ہیں۔ اگر تھوڑے پانی یا کنویں میں ایک قطرہ یا ذرہ برابر بھی نجاست گر جائے تو سارا پانی ناپاک ہوجائے گا ۔
۵ ۔  اگر کسی کپڑے پر نظر نہ آنے والی نجاست لگ جائے تو تین مرتبہ دھونے اور ہر مرتبہ پوری قوت کے ساتھ نچوڑنے پر کپڑا پاک ہوجائے گا اور اگر نظر آنے والی نجاست  لگے تو صرف نجاست دور ہونے تک دھونا لازم ہے اگرچہ دھبہ یا بو باقی رہ جائے (یعنی عین نجاست اور اس کا قابل زوال اثردور ہوجانا کافی ہے)۔
۶ ۔ اگر کسی برتن میں کتا منہ ڈالے یا چاٹ لے تو اس کو تین دفعہ دھونے اور ہر دفعہ خشک کرنے سے پاک ہوجائے گا لیکن سات بار دھونا بہتر ہے اور ایک بار اسی سات بار میں مٹی سے دھونا چاہئے ۔
{نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ دوم}
--------------------------
سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ دکھنے والی اور نہ دکھنے والی نجاست کو تین مرتبہ دھونا بہتر اور سنت ہے اور نجاست دور ہونے تک دھونا ضروری ہے چاہے کتنی بھی مرتبہ میں دھلے ؟ اور جب کپڑے پہ نجاست لگے تو اگر دکھنے والی ہو تو تین مرتبہ دھونا بہتر ہے اور نجاست دور ہونے تک دھونا ضروری ہے ؟ اور اگر کپڑے پہ نہ دکھنے والی نجاست لگے تو تین مرتبہ دھونا ضروری ہے اور ہر مرتبہ دھونے کے بعد نچوڑنا بھی ضروری ہے؟ دھونے کا مطلب کیا ہے ، کیا دھونے کا مطلب پانی بہا دینا ہے یا پہلے نجاست زائل کریں اس کے بعد پانی بہایں؟ براہ مہربانی میرے اس سوال کا جواب جلدی دینے کی کوشش کیجئے گا میں طہارت کے مسائل کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔
جواببسم الله الرحمن الرحيم
نجاست اگر کپڑے میں لگ جائے اور وہ مرئیہ (نظر آنے والی نجاست) ہو جیسے خون، پاخانہ وغیرہ تو کپڑے میں محل جس کو اتنا دھویا جائے کہ نجاست زائل ہوجائے چاہے جتنی مرتبہ دھوناپڑے نجاست کا ازالہ ضروری ہے، اگر نجاست زائل ہوگئی تو کپڑا پاک ہوگیا، بدن میں لگ جائے تو بھی یہی حکم ہے البتہ اگر پہلی بار میں نجاست چھوٹ گئی تو دو مرتبہ اور دھولینا بہتر ہے اور اگر دوبار میں نجاست چھوٹی تو ایک مرتبہ اور دھولینا بہتر ہے غرض تین بار پورے کرلینا اچھا ہے اور اگر نجاست زائل ہوگئی لیکن داغ (دھبہ) باقی رہ گیا تو کوئی حرج نہیں، کپڑا پاک ہوگیا اور گر نجاست غیرمرئیہ (نظر نہ آنے والی نجاست) ہے مثلاً پیشاب وغیرہ کپڑے میں لگ کر سوکھ جائے تو اسے تین مرتبہ دھویا جائے اور ہرمرتبہ نچوڑا جائے ور تیسری مرتبہ پوری طاقت سے نچوڑا جائے اور اگر نجاست ایسی چیز میں لگ جائے جس کو نچوڑنا ممکن نہیں جیسے برتن جوتا وغیرہ تو اس کو پا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ دھوکر ٹھرجائے جب پانی ٹپکنا بند ہوجائے تو پھر دھوئے اسی طرح تین دفعہ دھوئے۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم
---------------------
 سوال: کپڑوں کو پاک  کرنے کا آسان طریقہ  بتادیں؟
جواب: کپڑوں  کو پاک  کرنے کا طریقہ  یہ ہے کہ  نجاست  اگر غیر مرئی   (سوکھی تہہ نہ جمنے والی) ہے تو تین مرتبہ  دھوئیں اور ہر مرتبہ  نچوڑیں  اور تیسری  مرتبہ  طاقت  بھر زور سے نچوڑیں اگر خوب زور سے نہ نچوڑا تو کپڑ ا  پاک نہ ہوگا ۔ اور اگر نجاست  مرئی ہے (سوکھ کر تہہ جم جانے والی) تو اتنا  دھوئیں  کہ نجاست چھوٹ جائے اور دھبہ جاتا رہے چاہے جتنی دفعہ  بھی دھوئیں  جب نجاست چھوٹ جائیگی  تو کپڑا پاک ہوجائیگا  البتہ  اگر پہلی  دفعہ  میں ہی نجاست  چھوٹ گئی تو دو مرتبہ۔ اور اگر دو مرتبہ  میں چھوٹی تو ایک  مرتبہ  غرض کہ  تین بار  پورے  کرلینا  بہتر ہے لیکن اگر کئی مرتبہ دھونے  پر بھی  دھبہ  یا بورہ گئی تو چھڑانا ضروری نہیں کپڑ اپاک ہوجائیگا  
جیسا کہ بہشتی زیور میں ہے:

 ”نجاست اگر غیرمرئی ہے تو تین دفعہ دھوئیں ہر دفعہ نچوڑیں اور آخری  مرتبہ خوب زور سے نچوڑیں  ورنہ  کپڑا  پاک نہ ہوگا، اور اگر  مرئی  ہے تو جب  تک دھوئیں  جب تک  نجاست چھوٹ  جائے  اور دھبہ  جاتا رہا  ہے البتہ  اگر پہلی  دفعہ  میں یا دو دفعہ  میں نجاست  چھوٹ گئی  تو تین مرتبہ  پورا کرلینا  بہتر ہے  لیکن اگر نجاست کئی بار دھونے کے باوجود بدبو رہ جائے  یا دھبہ رہ جائے  تو کپڑا پاک ہوجائیگا۔ صابن  وغیرہ  سے دور  کرنا ضروری نہیں۔” (بہشتی زیور: صفحہ 119)  
https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_21.html

کپڑوں پر ناپاکی کے شک کی صورت میں نماز کا حکم



Wednesday, 19 December 2018

لبس العمامة ليس من السنن المؤكدة، إنما هو من سنن الزوائد

لبس العمامة ليس من السنن المؤكدة، إنما هو من سنن الزوائد
———————————

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته  
وبعد: فيتناقل بعض الناس أنَّ لُبس العِمامةِ سنةٌ مؤكدةٌ أو واجبٌ؛ لأنَّ النبيَّ -صلى الله عليه وسلم- كَوَّرَ العِمامة دائمًا، هل يقولون حقًا؟ بَيِّنُوا تُوْجَرُوا.
إيس إي ساغر 

الجواب وبالله التوفيق:
العمامة بالکسر في اللغة: اللباس الذي یُلفُّ علی الرأس تکویرًا … ولا یخرج المعنی الإصطلاحيُّ عن المعنی اللغوي. (الموسوعة الفقهية ۳۰؍۳۰۰ الکویت)
ولبس العمائم من سنن الزوائد للرسول صلى الله عليه وسلم ، وليس من سنن الهَدْيِ. 
جاء في " الدر المختار وحاشية ابن عابدين" (1 / 103): "وَالسُّنَّةُ نَوْعَانِ: سُنَّةُ الْهَدْيِ ، وَتَرْكُهَا يُوجِبُ إسَاءَةً وَكَرَاهِيَةً كَالْجَمَاعَةِ ، وَالْأَذَانِ ، وَالْإِقَامَةِ وَنَحْوِهَا. وَسُنَّةُ الزَّوَائِدِ ، وَتَرْكُهَا لَا يُوجِبُ ذَلِكَ كَسَيْرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي لِبَاسِهِ وَقِيَامِهِ وَقُعُودِهِ ، وَالنَّفَلُ وَمِنْهُ الْمَنْدُوبُ يُثَابُ فَاعِلُهُ وَلَا يُسِيءُ تَارِكُهُ، قِيلَ: وَهُوَ دُونَ سُنَنِ الزَّوَائِدِ" انتهى. 
وفيه أيضا (1 / 103): " قَدْ مَثَّلُوا لِسُنَّةِ الزَّوَائِدِ أَيْضًا  بِتَطْوِيلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَلَا شَكَّ فِي كَوْنِ ذَلِكَ عِبَادَةً ، وَحِينَئِذٍ فَمَعْنَى كَوْنِ سُنَّةِ الزَّوَائِدِ عَادَةً أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاظَبَ عَلَيْهَا حَتَّى صَارَتْ عَادَةً لَهُ وَلَمْ يَتْرُكْهَا إلَّا أَحْيَانًا؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ هِيَ الطَّرِيقَةُ الْمَسْلُوكَةُ فِي الدِّينِ ، فَهِيَ فِي نَفْسِهَا عِبَادَةٌ وَسُمِّيَتْ عَادَةً لِمَا ذَكَرْنَا. وَلَمَّا لَمْ تَكُنْ مِنْ مُكَمِّلَاتِ الدِّينِ وَشَعَائِرِهِ سُمِّيَتْ سُنَّةَ الزَّوَائِدِ، بِخِلَافِ سُنَّةِ الْهَدْيِ، وَهِيَ السُّنَنُ الْمُؤَكَّدَةُ الْقَرِيبَةُ مِنْ الْوَاجِبِ الَّتِي يُضَلَّلُ تَارِكُهَا؛ لِأَنَّ تَرْكَهَا اسْتِخْفَافٌ بِالدِّينِ، وَبِخِلَافِ النَّفْلِ فَإِنَّهُ كَمَا قَالُوا مَا شُرِعَ لَنَا زِيَادَةً عَلَى الْفَرْضِ وَالْوَاجِبِ وَالسُّنَّةِ بِنَوْعَيْهَا" انتهى.

و من تلك السنن الزوائد التي لا يُلامُ الرَّجُلُ على تركها لُبْسُ العمائم.
يذكر ابن قيم الجوزية  هديه صلى الله عليه وسلم في هذا الصدد:
وکان یلبسها ویلبس تحتها القلنسوۃ، وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامة ویلبس العمامة بغیر قلنسوۃ.
زاد المعاد 135/1

ومما لا ريب فيه أن الأحاديث النبوية  تكاثرت في فضائل التعميم وتزايدت ، غير أن معظمها ضعاف غير خالية من النكارة والعلل الخفية والرواة المتهمين المتروكين مما لاينهض دليلًا على إثبات السنن المؤكدة. 
نعم! قد ورد في لُبسه- صلى الله عليه وسلم-للعمامة حديث صحيح: عن عبد الله بن عمر قال: كنتُ عاشرَ عشرةٍ في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وابن مسعود ‏وابن جبل وحذيفة وابن عوف وأنا وأبو سعيد فجاء فتًى من الأنصار فسلّم ثم جلس فذكر الحديث إلى أن قال ثم أمر ابن عوف فتجهز ‏لسرية بعثه عليها، فأصبح وقد اعتَمَّ بعمامةٍ كرابيس سوداءَ فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم ثم نقضها فعمَّمَه فأرسل من خلفه أربع أصابع ‏أو نحوها ثم قال هكذا يا ابن عوف فاعتم فانه أعرب وأحسن ثم أمر بلالًا فدفع إليه اللواء فحمد الله وصلى على النبي - صلى الله عليه ‏وسلم - ثم قال خُذ يا ابن عوف فاغزوا جميعًا في سبيل الله قاتِلوا من كفر بالله ولا تغدروا ولا تمثلوا فهذا عهد الله وسنة نبيه فيكم.
    قال الحافظ الهيثمي: ‏روى ابن ماجه طرفًا منه، رواه الطبراني في الأوسط وإسناده حسن
مجمع الزوائد ج: 5 ص: 120‏
     وكفى بقوله صلى الله عليه وآله وسلم دليلًا : هكذا يا ابن عوف فاعتم فإنه أعرب وأحسن. 
وهذا الحديث الصحيح  ينطق بوضوح أن النبي - صلى الله عليه وسلم- لَبِسَ العمامة وارتضى لبسها؛ إلا أنه لم يداوم على الإعتجار بها مداومةَ إعفاء اللحية. والمتأمل فيما قيل في صفات العمامة يدرك أنها مما لا يستهان به من مظاهر الشرع. 
قال الشوكاني في نيل الأوطار برقم 581 في شرح  حديث : ‏وعن نافع عن ابن عمر قال : كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم - إذا اعتم سدل عمامته بين كتفيه  قال نافع : وكان ابن ‏عمر يسدل عمامته بين كتفه رواه الترمذي.برقم 1736
 و قال الشوكاني : الحديث أخرج نحوه مسلم والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه من حديث جعفر بن عمرو بن حريث عن أبيه قال : رأيت ‏النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر، وعليه عمامة سوداء قد أرخى طرفها بين كتفيه. ‏
وأخرج ابن عدي من حديث جابر قال : كان للنبي صلى الله عليه وسلم عمامة سوداء يلبسها في العيدين ويرخيها خلفه. قال ‏ابن عدي : لا أعلم يرويه عن أبي الزبير غير العرزمي وعنه حاتم بن إسماعيل.
وأخرج الطبراني عن أبي موسى أن جبريل نزل على النبي صلى الله عليه وسلم وعليه عمامة سوداء قد أرخى ذؤابته من ورائه .
وقد أخرج الترمذي وأبو داود والبيهقي من حديث ركانة بن عبد يزيد الهاشمي أنه قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : ‏فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس.
عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما أن النبي -صلی اللّٰه علیه وسلم- خطب الناس وعلیه عصابة دَسماء۔ (الشمائل المحمدیة / باب ما جاء في عمامة رسول اللّٰہ ص:52 رقم:118 المکتبة الإسلامیة، دکا، بنغلادیش.
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنهما أن النبي - صلی اللّٰہ علیہ وسلم -دخل مکة یوم الفتح وعلیه شقة سوداء۔ (المصنف لابن أبي شیبة  رقم:25466 بیروت)
عن أبي صخرۃ قال: رأیت علی عبد الرحمٰن بن یزید عصابۃ سوداء۔ (المصنف لابن أبي شیبة  رقم:25461 بیروت)
عن أبي أمامة  رضي اللّٰه عنه قال: کان رسول اللّٰه -صلی اللّٰه علیہ وسلم -لایولي والیًا حتی یعممه و یرخي لها من الجانب الأیمن نحو الأذن۔ (رواہ الطبراني وفیه جمیع بن ثقة  وهو متروك)
عن أبي الدرداء رضي اللّٰہ عنه أن اللّٰه  وملائکته یصلون علی أصحاب العمائم یوم الجمعة في الجمعة۔ (مجمع الزوائد، کتاب اللباس / باب العمائم5؍120-212، کتاب اللباس والزینة رقم:158 دار الحدیث القاهرۃ)
وبقطع النظر عن صحة الروايات وعدم صحتها يتأكد أن للعمامة أهمية  كبيرة  في حياة المسلمين، وأنها لباس الملائكة  والأشراف السادة الكرام  وأنها زينة للرجل ومظهر جماله وهيبته.
فعلى المسلمين التأسي بهدي نبيهم -صلى الله عليه وسلم- لاسيّما في المناسبات الإسلامية، كالأعياد والجمع وصلاة الجماعة وغيرها.
والله أعلم بالصواب 
شكيل منصور القاسمي
<https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_58.html>

Tuesday, 18 December 2018

شیخ ابن باز رحمه الله کے حوالے سے ایک تحریر

(کل سے شیخ ابن باز رحمه الله کے حوالے سے ایک تحریر گردش کررہی ہے، 
طلباء کےاخراج پرعلامہ ابن باز ؒ کا دانشمندانہ فیصلہ   
 ایک بار کی بات ہے کہ اس زمانے میں ایک طالب علم کی شرارت اور یونیورسیٹی کے قوانین کا لحاظ نہ رکھنے کے سبب وہاں کے تمام اساتذہ نے اس کو یونیورسیٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ، کیوں کہ سب اس کی حرکتوں سے تنگ آچکے تھے لیکن اس فیصلے پر آخری رائے علامہ ابن باز کی لینی باقی تھی، تمام اساتذہ اس مسئلہ کو لے کر ان کے پاس پہونچے اور سب نے مل کر کہا محترم ! اس طالب علم کی وجہ سے یونیورسیٹی کا ماحول خراب ہورہا ہے کئی بار ہم لوگوں نے اپنے طور پر چاہا کہ وہ اپنی عادت سے باز آجائے ، اپنے اندر تبدیلی پیدا کرلے ، لیکن وہ اپنی عادت سے باز آنے کا نام نہیں لیتا ، دن بدن اس کی شرارتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں ، اگر اس کو یونیورسیٹی سے نکال باہر نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں حالات اور بھی پیچیدہ ہو سکتے ہیں ، اسی لئے آپ اس کے بارے میں ہم لوگوں کی رائے کو مان لیجئے ، اور اس طالب علم کو باہر کا راستہ دکھادیجئے ، تاکہ یونیورسیٹی کے اندر امن وامان کی فضاء قائم ہو ، علامہ ابن بازؒ نے اساتذہ کی بات سننے کے بعد فوراً ہنگامی میٹنگ طلب کی اور اس طالب علم کو بھی علامہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا ، وہ دل ہی دل یہ سوچ رہا تھا کہ شاید یہ اس کا آخری دن ہے کیونکہ معاملہ بہت آگے تک بڑھ گیا ہے ، لیکن اس وقت اس کی حیرت کی انتہاء نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ وقف کے مایہ ناز محقق، بے پناہ شہرت وعزت کے حامل علامہ ابن بازؒ کھڑے ہوئے اساتذہ سے مخاطب ہو کر اللہ کی حمدوثنا بیان کرنے کے بعد کہا ، بھائیو! اسلام ایک سیدھا دین ہے ہم خیر امت ہیں ، ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کی پیدائش کا مقصد ہی دنیا کو غلط راستے سے ہٹاکر سیدھا راستہ دکھانا ہے ، ہم اس دنیا میں دین سے دور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانے کے لئے بھیجئے گئے ہیں ، جس طالب علم کے بارے میں آپ لوگ ہمارے پاس شکایت لے کر آئے ہیں وہ نہ تو میرا رشتہ دار ہے اور نہیں اس سے مجھے کوئی ناجائز ہمدردی ہے ، بس میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ قوم کا ایک فرد ہے ، جس کا ضائع ہو جانا افسوس کی بات ہوگی ، یہ اپنی ماں باپ کو چھوڑ کر سات سمندر پار علم حاصل کرنے آیا ہے ممکن ہے شیطان کے بہکاوے میں مبتلا ہو کر اس نے ایسی حرکتیں کی ہوں گی ، جو یونیورسیٹی کے نظام کے خلاف ہے ، یا جس سے آپ لوگوں کی عزت پہ حرف آتا ہو لیکن ذرا مجھے بتائیے کہ ہم تمام لوگ جن کے سینوں میں اسلام کی سربلندی اور اللہ کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ارمان مچل رہے ہیں کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ سارے لوگ مل کر بھی ایک بچے کی اصلاح نہیں کرسکتے ہیں ؟ ؟ کیا ہمارے اندر سے استقامت اور صبر کا جذبہ ختم ہوگیا ہے ؟ علامہ ابن باز بولتے بولتے جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ، لبوں پہ تھرتھراہٹ پیدا ہوگئی ، علامہ کی یہ کیفیت دیکھ کر وہاں پہ موجود تمام اساتذہ کے آنکھیں بھی بھر آئیں ، وہ طالب علم بہت شرمندہ ہوا اور علامہ ؒ کی بات سن کر رونے لگا ، چند منٹ تک پوری مجلس میں خاموشی چھائی رہی اس کے بعد سبھی اساتذہ کھڑے ہوئے اور سبھوں نے مل کر بیک زبان کہا کہ محترم! ہم لوگوں نے جذبات میں غلط فیصلہ کرلیا ہے ، یہ طالب یونیورسیٹی میں ہی رہے گا ہم تمام لوگ آپ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ انشاء اللہ اس کو پورے طور پر ایک نیک انسان بنادیں گے جہاں تک ممکن ہوگا اس کی اصلاح کی کوش کریں گے ۔
اس و اقعہ کو گذرے ہوئے بیس سال کا طویل عرصہ بیت گیا اس بیچ کتنے طالب علم آئے گئے ، یونیورسیٹی کی پچھلی تمام یادیں ماضی کا حصہ بن کر رہ گئیں ، اس طالب علم کو فراغت حاصل کر کے نکلے ہوئے بھی زمانہ گذرگیا بیس سال کی لمبی مدت کے بعد علامہ ابن باز ؒ افریقہ تشریف لے گئے ، وہاں کے مختلف تاریخی جگہوں کو دیکھا وعظ ونصیحت کا سلسلہ ہر جگہ جاری رہا اسی بیچ ان کا گذر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں کا چپہ چپہ مسلمانوں کی شان وشوکت کا گواہ تھا ، ہر طرف ٹوپی کرتا میں ملبوس لوگ سڑکوں پہ دکھائی دے رہے تھے، بلند وبالا مسجدوں سے آتی ہوئی اذان کی آوازیں اس پورے علاقے کو ایمان کی روشنی سے منور کئے ہوئی تھیں، گھروں سے قرآن کی تلاوت کی صدائیں صاف سنائی دے رہی تھیں، علامہ ابن بازؒ کے ساتھ جو لوگ ان کی رہنمائی کررہے تھے، انہوں نے بتایا کہ محترم یہ پورا علاقہ کبھی کفر کا گہوارہ تھا، مختلف قسم کی بدعتیں یہاں رائج تھیں، ایک خدائے واحد کی پرستش چھوڑ کر لوگ اپنی من مانی زندگی گذاررہے تھے لیکن سالوں قبل کی بات ہے کہ ایک عالم دین یہاں آئے انہوں نے کمر توڑ کوشش کی ، لوگوں کو ایک اللہ کی عباد ت کی طرف بلایا ، سکون واطمینان کو ترس رہے یہاں کے باشندوں نے جب اسلام کا پیغام سنا تو ماضی کی تمام خرافات سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتے گئے ، اور آج الحمدللہ ! یہ بستی ہی نہیں پورا علاقہ اسلام کی روشنی سے جگمگا رہا ہے ، علامہؒ نے پوچھا کہ کیا وہ عالم دین ابھی حیات سے ہیں؟ پتہ چلا کہ کچھ دور کے فاصلے پر جہاں لوگوں کا ہجوم ہے دو دراز مقامات سے لوگ ڈھیرسارے مسائل لے کر آتے ہیں ، وہ ہر وقت ان کے مسائل کا تشفی بخش جواب دیتے ہیں ، وہ وہیں پہ موجود ہوں گے ، علامہؒ نے اسلام کے اس داعی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی چند لوگوں کے ساتھ ان کے پاس پہونچے قریب جاکر اس داعی سے علامہ کی نگاہیں ٹکرائیں تو وہاں پہ موجود تمام لوگوں نے جو منظر دیکھا اس سے سبھی لوگ حیران رہ گئے انہوں نے کیا دیکھا کہ جیسے ہی علامہؒ دعوت وتبلیغ کرنے والے اس عالم دین کے پاس پہونچے تو وہ علامہؒ کو دیکھتے ہی دوڑتے ہوئے آئے اور گلے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ، علامہ کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے ؟ بالآخر اس عالم دین نے اپنے آنسو پوچھتے ہوئے اپنا تعارف پیش کیا اور کہا کہ محترم ! ممکن ہے آپ کو یاد نہ ہو میں وہی طالب علم ہوں جو آج سے بیس سال پہلے آپ کی مہربانی کی بنا پر مدینہ یونیورسیٹی سے نکلتے نکلتے بچ گیا ، اور میرا مستقبل تاریکی سے محفوظ رہا ، آپ کی نصیحتوں کا ہی اثر ہے کہ اللہ نے مجھے اس لائق بنادیا کہ آج لوگ امنڈتے ہوئے سیلاب کی طرف میرے ہاتھوں اسلام قبول کررہے ہیں پورا علاقہ اللہ کی وحدانیت سے گونج رہا ہے یہ سن کر علامہ نے انہیں ڈھیر ساری دعاؤں سے نواز ا اور کہا بیٹا! زندگی کے آخری سانس تک اسی طرح اپنے مشن میں لگے رہنا کیوں کہ ’’یہ دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور جو تم کررہے ہو یہ آخرت کی سب سے اچھی تیاری ہے‘‘ 
دوستو! یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ کسی بھی ادارے کے ذمہ دار کو علامہ ابن باز ؒ ہی کی طرح دریا دل ہونی چاہئے آج بہت سارے اداروں میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کے سبب بچوں کا داخلہ کاٹ کر ان کی زندگی کو تباہ کردیا جاتا ہے بلا شبہ اس طرح کا فیصلہ بہتر نہیں کہا جاسکتا ہے کیوں کہ ادارہ سے باہر کردینا بہر صورت ایک بڑا قدم ہے ، دیکھا جاتا ہے کہ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کے شکار ہو کر جذبات میں بعض بچے یا تو پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں یا ایسی راہوں کا انتخاب کرلیتے ہیں ، جو ایک بامقصد زندگی جینے والے انسان کا راستہ نہیں ہوتا اسی لئے اداروں کے ذمہ داران کو ایسے فیصلوں سے بچنا چاہئے انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ بچیں کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں، ایک طالب علم اگر بہتر ہو جاتا ہے، نیک بن جاتا ہے اپنے اندر قابلیت پیدا کرلیتا ہے تو وہ جدھر بھی جائے گا علم کی روشنی جلاتا جائیگا اس سے ایک زمانے کو روشنی ملتی رہے گی اور اس کی کامیابی کا سہرا اسی ادارے کے ہی سر جائیگا جس کے علمی ماحول میں اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، اللہ ہمیں نیک سمجھ دیں۔  آمین
منقول
مگر اس کا حوالہ کہیں مذکور نہیں، لہذا بڑی کوشش کے بعد الحمدللہ اسکا حوالہ مل گیا ہے۔ واضح رہے واقعہ اپنی جگہ درست ہے مگر شیخ ابن باز کے اس افریقی ملک میں جانے اور سفر کرنے اور اس طالبعلم سے ملنے کی بات درست نہیں ہے)

حوالے میں مذکور عربی تحریر کا ترجمہ یہ ہے:
_______

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ جب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے وائس چانسلر تھے تو ان کے دور میں ایک واقعہ پیش آیا۔ واقعہ یہ تھا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر ایک بچے کو جامعہ سے نکالنے کا معاملہ ایک میٹنگ میں پیش کیا گیا، میٹنگ کے تمام ممبران نے بچے کو جامعہ سے نکالنے کے فیصلے کی تائید کی اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ ان سب کی باتوں کو بغور سماعت فرما رہے تھے، لیکن انہوں نے اس معاملے میں اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ جب گفتگو ختم ہوئی تو میٹنگ کے بعض ممبران نے شیخ ابن باز سے کہا: شیخ! ہم اس معاملے میں اب آپ کی راۓ سننا چاہتے ہیں۔ 
شیخ رحمہ اللہ نے جواب دیا: آپ لوگوں کا فیصلہ بہتر ہے۔ آپ نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا اور مزید اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کی، کیونکہ شیخ اپنے معزز ممبران کے اجماعی فیصلے کے خلاف کوئی راہے دینا نہیں چاہ رہے تھے۔ لیکن لوگ شیخ کی رائے لینے پر بضد تھے کیونکہ وہ شیخ الجامعہ اور وائس چانسلر تھے۔ لوگوں کے اصرار پر شیخ نے فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ بچے کو ایک آخری موقع اور دیا جائے، نیز میری درخواست ہے کہ مجلس کے سارے ممبران اس بچے کے لئے ہدایت کی دعا کریں، ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی اصلاح فرما دے اور اس کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا بھلا ہو جائے۔ چنانچہ شیخ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور بچے کے لئے ہدایت و توفیق کی دعا کرنے لگے اور مجلس کے سارے ممبران آپ کی دعا پر آمین کہہ رہے تھے ۔ 

تقریبا ایک دہائی کے بعد جامعہ نے افریقہ کے کسی ملک میں اپنا ایک وفد بھیجا۔ اس وفد میں شیخ عمر بن محمد فلاتہ رحمہ اللہ بھی شامل تھے اور یہ شیخ اس وقت جامعہ کے جنرل سیکریٹری تھے۔ اس دورے میں شیخ نے جن طلبا سے ملاقات کی تو ان کے علمی اور اخلاقی معیار کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ آپ نے جب ان بچوں سے ان کے مدرسے کے بارے میں پوچھا تو ان طلباء نے جواب دیا : ہم نے فلاں مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہے۔ 
شیخ عمر رحمہ اللہ نے اس مدرسے کی زیارت اور وہاں کے مدیر سے ملاقات کرنا چاہا تاکہ ان کی کوششوں کا شکریہ ادا کریں۔ 
شیخ عمر فلاتہ رحمہ اللہ جب وہاں مدرسے میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس مدرسے کا بانی اور مؤسس وہی طالبعلم ہے جس کو جامعہ سے اخراج کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا تھا اور پھر اسی میٹنگ میں اس کے لئے اجتماعی دعا کی گئی تھی۔
(حوالہ:  جهود الجامعة الإسلامية في مجال إعداد الكفاءات الدعوية ورعايتهم. مؤلف, د .سلطان بن عمر الحصين. صفحہ 24-25)
https://saagartimes.blogspot.com/2018/12/blog-post_80.html

الشيخ ابن باز