Tuesday, 27 November 2018

جمعیت علماء اور جماعت تبلیغ ایک واقعہ

جمعیت علماء اور جماعت تبلیغ ایک واقعہ ایک واقعہ سناتا ہوں، یہ واقعہ بندہ نے حضرت مولانا عبد الحنان صاحب (سابق صدر جمیعت علماء گجرات) سے بھی سنا۔ اور وہ مسجد میں کھڑے ہوکر سناتے تھے کہ یہ واقعہ میں نے حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے بیٹھ کر سنا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہندوستان کی جب آزادی ہوئی ۱۹۴۷ء میں اور ملک کی نئی پارلیمنٹ بنی تو آر ایس ایس والوں نے اور آر ایس ایس کے ترجمان ممبر آف پارلیمنٹ نے ملک کے پہلے وزیر اعظم نہرو جی کے سامنے فتنہ کھڑا کیا کہ دعوت وتبلیغ کے کام پر ملک میں پابندی لگنی چاہئے، ان تبلیغ والوں سے کہو کہ پاکستان چلے جائیں، ان کو یہ بد گمانی ہوئی ہوگی کہ تبلیغ کا کام مسلم لیگ کا ہے، حالانکہ یہ سراسر تہمت ہے، (حضرت جی مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تو متحدہ ہندستان کے حامی تھے، حضرت شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آپ بیتی میں اس کی تفصیل موجود ہے)
اسی طرح مولٰنا آزاد مرحوم کی کتاب ’انڈیا ونس فریڈم‘ میں اس کی تفاصیل موجود ہیں ۔ تو کہا کہ تبلیغ والوں سے کہو کہ تمہارا مرکز نظام الدین سے ہٹالو اور پاکستان چلے جاؤ ۔ بہت ہنگامہ ہوا پارلیمنٹ میں تو نہروجی نے مولانا آزاد کی طرف اشارہ کیا، مولانا اس وقت ملک کے وزیر تعلیم تھے، مولانا نے مخاطب کیا نہروجی کو اور پوری پارلیمنٹ کو سنایا: ’’نہروجی! یہ لوگ جس دعوت وتبلیغ کے کام پر پابندی لگانے کی بات کررہے ہیں وہ میرا ہے میں اس کام کا ایک فرد ہوں اور وہ میرا کام ہے ۔‘‘ بس مولانا آزاد کے ایک جملہ نے پارلیمنٹ کو ہلادیا، فوراً نہرو جی نے کھڑے ہوکر کہا: بس مولانا اب اس ملک میں کوئی اس دعوت کے کام پر پابندی نہیں لگاسکتا، نہروجی نے بھری پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اعلان کردیا۔ حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرد مومن کا ایک جملہ؛اس کام کو اس ملک میں اور اس ملک کے ذریعہ پورے عالم میں قیامت تک جمانے کا ذریعہ بنا۔ اس لئے حضرت جی مولانا یوسف صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت مولانا انعام الحسن صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دونوں حضرات مولانا آزاد کی کوٹھی پر یعنی جو حکومت کی طرف سے بنگلہ ملتا ہے، وہاں جب تک مولانا آزاد حیات رہے، وہاں اہتمام سے ملنے جاتے تھے۔ اس ملک میں اور اس ملک کے طفیل میں پورے عالم میں جتنا دعوت کا کام ہورہا ہے اس کے ثواب کا بڑا حصہ مولانا آزاد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا، یہ ایک ان کا تائیدی جملہ ہے کہ جس نے اس تبلیغ والے کام کی حفاظت فرمائی، معلوم ہوا جمعیت علماء اور دعوت وتبلیغ یہ کوئی ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہے۔
خطبات محمود: جلد 3 صفحہ 190 پٹیل، پہلانائب وزیر اعظم ہند کا ارادہ تبلیغی جماعت کو بند کرنے کا تھا۔ مولانا آزاد نے جواہر لال نہرو وزیر اعظم ہند اول سے کہا۔ یہ جماعت کلمہ نماز کو کہتی ہے۔ اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کو روکنا نہیں چاہئے، اگر اس کو منع کیا گیا تو دوسرے ملک میں یہ پیغام جائے گا کہ ہندوستان میں کلمے نماز کو منع کیا جارہا ہے۔ یہ بات جواہر لال نہرو کی سمجھ میں آگئی۔ مولانا حفظ الرحمن نے بھی کہا کہ یہ اخلاقی قدروں پر کام کرنے والی جماعت ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بند نہیں کرنا چاہئے۔ حیات فریدی

زچگی کے وقت کی سہولت کیلئے کچھ وظیفے

زچگی کے وقت کی سہولت کیلئے کچھ وظیفے
اللہ نے جنت ماں کے قدموں تلے رکھی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ حالت حمل میں جن تکالیف اور صعوبتوں کا سامنا صرف اور صرف تخلیق کے عمل سے گزرنے کے لۓ کرتی ہے اللہ کی بارگاہ میں اس کی اس برداشت کو انتہائی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے انعام کے طور پر اس کے قدموں تلے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ ایام حمل میں ایک عورت کی تمام تر توجہ کا محور اس کا ہونے والا بچہ ہوتا ہے اس کی آمد کی خوشی ماں کو وہ تمام تکالیف برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں جس کا سامنا اسے ایام حمل میں کرنا پڑتا ہے ۔اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس کی تعلیمات میں زندگی کے ہر ہر شعبے کے رہنمائی موجود ہے۔ اسی طرح ایام حمل کے حوالے سے قرآن و سنت میں ایک ماں کے لۓ مکمل رہنمائی موجود ہے جس کے مطابق عمل پیرا ہو کر وہ نہ صرف ان ایام کو صبر اور حوصلے سے گزار سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آںے والے بچے کی روحانی تربیت کا بھی اہتمام کرسکتی ہے
ایام حمل میں حضرت مریم کی والدہ کے عمل سے رہنمائی حاصل کی جاۓ:
حضرت مریم کی پیدائش سے قبل جب ان کو اس بات کی بشارت ہوئی کہ وہ حمل سے ہیں تو انہوں نے اپنے رب کی بارگاہ میں جو دعا مانگی وہ سورہ العمران کی آیت نمبر 35 میں اس طرح درج ہے. جب عمران کی عورت نے کہا اے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد کر کے میں نے تیری نذر کیا سو تو مجھ سے قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے. حصرت مریم کی والدہ کی اس دعا کی قدر و منزلت جاننے کے لۓ اتنا کافی ہے کہ اس دعا کے نتیجے ہی میں اللہ تعالی نے ان کو حضرت مریم کی صورت میں ایسی اولاد سے نوازا جس کی کوکھ سے اللہ نے پیغمبر خدا حضرت عیسی کو جنم دیا ۔ لہذا ایسی تمام مائیں جو حمل کی حالت میں ہوں اس دعا کا ورد باقاعدگی سے کرنے کی عادت اپنائیں تاکہ اللہ ان کو نیک اور صالح اولاد سے نوازے.
حمل کی خوشخبری کو محدود لوگوں تک پہنچاؤ:
حدیث کی رو سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ خوشی کی خبر کو پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے کیونکہ ہر خبر سننے والا دوست نہیں ہوتا (الطبرانی) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ یہ امر تو ثابت ہے کہ حسد اور بد نظر کا انسان پر برا اثر مرتب ہوتا ہے اور وہ معصوم روح جو ابھی دنیا میں اپنی آمد کی تیاری میں ہوتی ہے اس کو نظر بد سے محفوظ رکھنا ایک ماں ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے لہذا ماں کو چاہۓ کہ حمل کی خبر صرف ان لوگوں تک پہنچاۓ جو کہ اس کی خوشی میں خوش ہوں اور کوئی برا گمان نہ رکھتے ہوں۔
ایام حمل میں اللہ کے شکر گزار رہیں:
یہ بات تو قطعی طور پر ثابت شدہ ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہی اس بات پر قادر ہے کہ وہ آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ ماں بن سکیں لہذا  آپ اس سارے وقت کے  دوران اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کریں تاکہ اللہ کی یہ شکر گزاری آپ سے آپ کے بچے میں منتقل ہو. اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سورۃ لقمان آیت 14 
حالت حمل میں اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے آسانیاں:
اللہ اور اس کے رسول نے حمل کی حالت میں ماں کے لۓ بہت ساری آسانیاں فراہم کی ہیں حدیث میں ہے کہ اللہ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لۓ حکم ہے کہ اگر وہ ضعف میں مبتلا ہیں تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہیں اور بعد کے دنوں میں گنتی پوری سکتی ہیں۔ اسی حدیث کی رو سے حاملہ عورت کو معاشرتی ذمہ داریوں میں بھی چھوٹ حاصل ہے.
ماں بچے کے لیے دعا کرے:
صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ شروع کے چالیس دن کے بعد بچہ رحم مادر میں خون کے لوتھڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے پھر اللہ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو کہ اس بچے کی چار چیزیں تحریر کرتا ہے جن میں پہلی چیز اس کی تقدیر ہوتی ہے دوسری چیز اس کی زندگی تیسری چیز اس کی موت اور چوتھی چیز اس کا مذہب۔  لہذا ہر حاملہ ماں کو چاہۓ کہ اس حالت میں اپنے بچے کے لۓ زیادہ سے زیادہ دعا کریں تاکہ اس کے یہ فیصلے اچھے طریقے سے ہو سکیں. ان تمام احادیث اور احکامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک اس ماں کو جس کے قدموں تلے جنت فائز ہونے کی بشارت دے رہا ہے اس کی ہر ہر پل کی رہنمائی کر رہا ہے تاکہ وہ تربیت کے عمل سے گزرکر آنے والی روح کی بہترین تربیت کرسکے.
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ درد زہ کے لئے کوئی خاص عمل ہو تو ارسال کرے وقت زیادہ ہوچکا ہے مہربانی ہوگی
جواب: عورت كى زچگی کے وقت کی سہولت کیلئے کچھ وظیفے:
◀ درد شروع ھونے سے پہلے کثرت سے سورہ واقعہ کی یہ دو آیت پڑھے۔
(أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُون أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ)
◀ جب درد شروع ھوتو تسھیل کیلئے ھر گھنٹہ سورہ یسین پڑھے۔
◀ سورہ عبس کی یہ آیت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ثم السبیل یسرہ۔
اس کا تعویذ بنا کر پہنا دیں۔ اللہ جل شانہٗ فضل فرمائیں گے. ان شاء اللہ ولادت كے وقت درد کا احساس بھی نہیں ھوگا۔
----------------
اِذَا السَّماء ُ انشَقَّت وأذِنَت لرَبِّہا وَحُقَّت واِذا الأرضُ مُدَّت وألقَت مَا فیہا وَ تَخَلَّت وَ أذِنَت لرَبِّہا وَ حُقَّت؛ 
ان آیتوں کو کسی میٹھی چیز پر پڑھ کر اپنی حاملہ اہلیہ کو کھلادیں، ان شاء اللہ ولادت میں سہولت ہوگی۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ۵۵۴)
نوٹ: قرب ولادت کے وقت حاملہ کو کھلادیں۔ (د)
----------------
حمل کے بعد سورہ مریم پڑھنے سے ولادت میں آسانی کا ہونا مجرب ہے اور بیٹے کی پیدائش اور خوبصورتی کے لئے سورہ یوسف کا پڑھنا بھی مجرب ہے۔ اس لئے والدہ سورہ مریم اور سورہ یوسف پڑھ سکتی ہیں۔
----------------





حاملہ کو جب درد زہ شروع ہونے لگے تو حاملہ کی بائیں ران پر گھٹنہ کے نزدیک باندھ دیں کپڑے میں باندھا ہوا تعویذ ٹانگ کے اندر کی طرف اور گانٹھ باہر کی طرف ہو۔ انشاء اللہ 20-15 منٹ کے اندر بچہ جنے گی۔
-------------------------
لڑکا حاصل کرنے کی دعا
دعا یہ ہے: رَبِّ ھَب لی من لَّدُنکَ ذُرِّیَةً طَیِّبَہ  اِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعآء
ترجمہ: اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے کوئی پاکیزہ اولاد عنایت کر‘ بے شک تو (دعاوں کا) سننے والا اور (قبول کرنے والا ہے) (پارہ نمبر3 سورہ آل عمران)
یہ نیک اولاد حاصل کرنے کیلئے بہترین عمل ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے زیادہ عمر ہونے کے باوجود اللہ کی قدرت کاملہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے یہ دعا مانگی حالانکہ ان کی بیوی بانجھ مشہور تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو یحییٰ علیہ السلام جیسا نبی عطا ءفرمایا جس مرد یا عورت کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو تووہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں بلکہ یہ دعا بکثرت پڑھیں اگر کوئی عورت رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھ کر سارے رمضان اعتکاف میں یہی دعا پڑھے تو انشاءاللہ اولاد نرینہ ملے گی۔

Tuesday, 20 November 2018

مولانا سلمان ندوی اور ماضی قریب کے "تاریخی حقائق"

مولانا سلمان ندوی اور ماضی قریب کے "تاریخی حقائق"
                      
     ایک صاحب نے لکھا ہے کہ مولانا سلمان ندوی کو ـ ـ ـ ہوگیا ہے انھوں نے ایک نیا شگوفہ چھوڑدیا ہے، ساتھ ہی انھوں ایک ویڈیو بھی بھیجا ہے، ویڈیو سننے کے بعد اندازہ ہوا کہ اس میں صرف ایک شگوفہ نہیں بلکہ کئی  "عبرتناک شگوفے" ہیں ـ
   ویڈیو میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے مولانا مودودی سے متعلق ان سے سوال کیا ہے، (ہمیں حسن ظن رکھنا چاہئے کہ واقعی سوال کیا گیا ہوگا ـ)  اس کے جواب میں مولانا نے جو گل افشانی فرمائی ہے وہ انتہائی حیرتناک ہے ـ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کو صدیوں پرانے "تاریخی حقائق" تو ازبر ہیں مگر ماضی قریب  اور سامنے کی تاریخی حقیقتیں ذہن سے نکل گئی ہیں (یہ سمجھنا تو ایک عالم کی شان میں گستاخی اور بد گمانی ہوگی کہ موصوف سے جان بوجھ کر غلط بیانی صادر ہوگئی ہے)
   ابتدا میں انھوں نے مودودی صاحب کی تعریف کرتے ہوئے ان کی وسعت نظری، مطالعہ، الجہادفی الاسلام اور پردہ جیسی کتابوں کا تعارف کروایا ہے، پھر اس کے بعد مودودی صاحب کی تصنیف "خلافت وملوکیت" پر آگئے ہیں، فرماتے ہیں کہ اس کتاب میں چونکہ صحابیت کے سلسلے "عام علماء" کے رجحان اور ان کی فکر کے خلاف باتیں تھی، تحریر میں شدت بھی تھی اس لئے علماء دیوبند اور سہارنپور نے ان کے خلاف محاذ کھول دیا، چنانچہ مولانا حسین احمد مدنی اور شیخ زکریا (رحمہما اللہ) نے ان کے خلاف کتابیں لکھیں ـ آگے مولانا فرماتے ہیں کہ مولانا تھانوی اور مولانا عبد القادر رائے پوری خاموش رہے انھوں نے خلافت و ملوکیت کی حمایت یا مخالفت میں کچھ نہیں لکھا ـ
  مولانا سلمان ندوی کو یا تو معلوم نہیں تھا یا وہی ماضی قریب کی "تاریخی سچائیوں" کو بھولنے کی عادت، .......  مودودی صاحب کی خلافت وملوکیت 1965 میں ان کے رسالے ترجمان میں قسط وار چھپنا شروع ہوئی تھی اور 1966 یا 1967 میں کتابی شکل میں شائع ہوئی ـ حضرت تھانوی (رحمہ اللہ) کا وصال اس سے کہیں پہلے 1943 میں ہوچکا تھا، حضرت مدنی کی وفات 1957 میں ہوئی اور حضرت رائے پوری نے 1962 میں رحلت فرمائی ہےـ  کتاب چھپنے سے پہلے یہ حضرات اس کتاب پر کیسے تنقید وتبصرہ کرسکتے تھے یہ شیخ سلمان صاحب ہی بتاسکتے ہیں ـ
   دوسری قریبی سچائی جو شیخ کے ذہن میں نہیں رہی کہ مودودی صاحب اور علماء کا اختلاف ان کے افکار اور نظریات کو لے کر خلافت ملوکیت کی اشاعت سے قبل سے ہی رہا ہے، چنانچہ حضرت مدنی نے اپنی وفات سے قبل "مودودی دستور وعقائد کی حقیقت" نامی رسالہ تحریر فرمایاتھا، مولانا علی میاں اور مولانا منظور نعمانی، امین احسن اصلاحی جیسے علماء بھی اس کتاب کی اشاعت سے قبل ہی مودودی صاحب سے الگ ہوچکے تھے ـ
   آگے مودودی صاحب کی سیاسیات کا ذکر کرتے ہوئے سلمان صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستانی انتخابات میں مولانا مودودی نے محمد علی جناح کی بہن (مولانا سلمان ان کو جناح کی بیٹی بتاتے ہیں) فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی اس کی وجہ سے بھی مودودی صاحب کو ہند، پاک میں روایتی علماء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ـ ........ آگے مولانا نے علماء پر طنز کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہی علماء جو فاطمہ جناح کی حمایت پر مودودی صاحب کے خلاف ہنگامہ کررہے تھے سب بے نظیر بھٹو، حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کے ساتھ بیٹھے نظر آئے ـ
    ہندوستانی سیاست میں مولانا نے جمیعۃ علماء کا نام لیا اور حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب پر بغیر نام لئے یوں تیر اندازی فرمائی، کہ جن کے والد محترم نے فاطمہ جناح کے سلسلے میں مودودی صاحب کی مخالفت کی تھی انھیں کے فرزند ارجمند نے اندرا گاندھی کی حمایت کی اور جب اندرا کو گرفتار کیا گیا تو ان کو بچانے کے لئے ملک بچاؤ تحریک چلائی جس میں علماء اور طلبا مدارس کا بھی استعمال کیاگیا، مولانا یہ آیت بھی پڑھی ہے "تلک الایام نداولھا بین الناس" ـ
    یہاں پھر حد ادب کا خیال کرتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ پارہے ہیں کہ اتنا بڑا عالمی سطح کا نامور عالم "تلبیس" سے کام لے رہا ہے، مگر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ شاید مولانا کو اپنی ضروری وغیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے مولانا مودودی کے افکار ونظریات سمجھنے کا موقع نہیں ملا ـ
   حلانکہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ جماعت اسلامی کے قیام کی غرض  "حکومت الہیہ اور خلافت علی منہاج النبوت" کا قیام رہا ہے، اور مولانا اپنے اسی نظریہ کی وجہ سے حضرت معاویہ، حضرت عثمان اور دیگر صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ـ ....... اس لئے اگر کوئی اعتراض کرتا ہے کہ حکومت الہیہ کا سب سے بڑا داعی ایک عورت کو اسلامی مملکت کا سربراہ کیوں بنا رہا ہے تو اس میں کیا غلط ہے، ......اپنے اس اقدام کی مودودی صاحب نے جو صفائی دی ہے جس طرح دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اس میں بھی اہل نظر کے لئے کافی دلچسپی کا سامان موجود ہے ـ ....... اور صرف فاطمہ جناح کی حمایت ہی نہیں مودودی صاحب کے دوسرے بھی کچھ ایسے اقدامات تھے جو ان کے بنیادی نظریات سے میل نہیں کھاتے تھے، مثلا ایک اشپیشل ٹرین کے ذریعے پورے پاکستان میں غلاف کعبہ کی نمائش کرکے اپنے سیاسی استحکام کی کوشش، جبکہ وہ غلاف پاکستان ہی میں تیار ہوا تھا اور ابھی کعبے کو پہنایا بھی نہیں  گیا تھا کہ کعبے کی برکت اس میں حلول کئے ہوتی، اس نمائش کے دوران کیا کیا نہیں ہوا، ہار پھول نقد، بوسے استلام یہ ساری تفصیلات اس زمانے کے اخبارات میں دیکھی جاسکتی ہیں ـ
   پڑوسی ملک کی سیاست سے متعلق ہمیں اور کچھ نہیں کہنا وہاں کی سیاست وہاں والے جانیں،......... مگر اپنے ملک کے تعلق سے ہم یہ ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک مذہبی بنیاد پر قائم نہیں ہے، یہاں ایک سیکولر دستور کے تحت سیکولر حکومت قائم ہے، یہاں سیاسسی اعتبار سے دیگر جمہوریتوں کی طرح مرد و عورت مساوی حیثیت رکھتے ہیں، یہاں اگر کوئی خاتون کسی سیاسی پارٹی کی سربراہ یا حکومت کی سربراہی کرتی ہے تو کوئی تعجب نہیں ہے، اندرا گاندھی نے اپنی سیاسی پارٹی کی سربراہی بھی کی ہے اور ملک کی بھی، اگر ان کی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے لئے جمہوری طور پر احتجاج کرتا ہے، جیل جاتا ہے تو وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کررہا ہے، ویسے جب اندرا گاندھی کی ہندوستان میں حکومت تھی تو مولانا سلمان صاحب بھی بقید ہوش وحواس ہندوستان ہی میں تشریف رکھتے تھے، ہجرت نہیں فرمائی تھی، تاہم مولانا سلمان صاحب کو یہ حق ہے کہ حضرت مولانا اسعد صاحب سے اختلاف رکھیں ـ
   مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ مولانا کی یادداشت یہاں بھی دھوکا دے گئی ہے، ابھی بے شمار لوگ حیات ہیں جو بتائیں گے کہ جب اندرا گاندھی کو گرفتار کیا گیا تھا تو کانگریس کے ایک رکن کی حیثیت سے مولانا اسعد مدنی صاحب احتجاجا جیل ضرور گئے تھے مگر علماء اور طلبا مدارس کا استعمال قطعی نہیں ہوا تھا یہ صریح غلط بیانی ہےـ
   ہاں مولانا اسعد صاحب نے ملک و ملت بچاؤ تحریک ضرور چلائی تھی جس میں کثیر تعداد میں علماء وعوام نے حصہ لیا تھا، مگر وہ تحریک اندرا کی رہائی کے لئے نہیں تھی اندرا گاندھی ان دنوں جیل میں نہیں تھیں ـ
     ہمارے قریبی احباب جانتے ہیں کہ ملک وملت بچاو تحریک جب چلائی گئی تھی تو ہمیں اس سے اتفاق نہیں تھا، حضرت مولانا اسعد مدنی کے بعض دیگر اقدامات کے بھی ہم ناقد رہے ہیں،  مگر "تاریخی حقائق" کا اظہار بھی ضروری ہے اس لئے عرض کرتے ہیں کہ مولانا اسعد صاحب نے ملت کے کئی مطالبات کو لے کر چار مرتبہ ملک وملت بچاؤ تحریک کا اعلان کیا،  ایک بار مرارجی ڈیسائی کے زمانے میں، دوسری بار چرن سنگھ، تیسری بار خود اندرا گاندھی اور چوتھی بار اٹل بہاری باچپئی کے زمانے میں  ...... جب بھی تحریک چلی اندرا گاندھی کبھی جیل میں نہیں تھیں ـ
     اپنی اس تحریر کے آخر میں ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ جلد ہی مولانا سلمان صاحب کا ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئے گا جس میں مولانا اپنے پورے جاہ وجلال، گرجدار الفاظ اور خطیبانہ آہنگ میں ایک بار پھر اپنی پچھلی باتوں کو دھرائیں گے اور پھر اس کو رجوع کا نام دے دیا جائیگا ـ
محمود دریابادی

Sunday, 18 November 2018

اجینوموٹو؛ حرام ہے یا حلال؟

اجینوموٹو؛ حرام ہے یا حلال؟
اجینوموٹو جو چینی کھانے میں استعمال ہوتاہے حرام ہے یا حلال؟
Published on: Jun 16, 2011
جواب # 32757
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ب): 962=802-7/1432
”اجینو موٹو“ نمک ہوتا ہے جس کو چینی لوگ اپنے کھانے میں استعمال کرتے ہیں، اس نمک کے بارے میں ہمیں تحقیق نہیں کہ وہ کن اشیاء سے اور کس طرح تیار ہوتا ہے، اگر وہ حلال وپاک اشیاء سے بنتا ہے تو اس کے کھانے کی مسلمانوں کے لیے بھی گنجائش ہے، اوراگر وہ حرام و ناپاک وحرام چیزوں سے تیار ہوتا ہے تو اس نمک سے مسلمانوں کو اجتناب کرنا چاہئے۔ آپ اس کے اجزاء کی تحقیق فرمالیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
--------
علماء کرام  ومفتیان عظام  اس مسئلہ کے  بارے میں  کہ ہمارے ملک کے بعض مفتی کرام آجی نوموٹو (مونو سوڈیم گلوٹامیٹ  MSG) کھانے کو مطلقاً فراہم کررہے ہیں حرمت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ آجی نو موٹو کو کیڑوں سے بنایا جاتا ہے اور طبی لحاظ سے  بھی صحت  کے لئے مضر ہے اس کے بارے میں  ایک مقامی اخبار میں شائع کردہ  ایک طبی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں۔ البتہ انٹرنیٹ پر اس  کے بارے میں مندرجہ ذیل معلومات درج ہے۔
(معلومات  پی ڈی ایف فائل میں موجود ہے آخر میں  دییے گئے لنک پر موجود ہے)
مذکورہ تحقیقات کے مطابق  آجی نو موٹو  کا نارمل استعمال صحت  کے لئے مضر  ہونا معلوم  نہیں ہوتا۔ لہذا بعض مفتی حضرات کا مطلقا (کسی  بھی کمپنی کا بنایا ہوا ہو) آجی نو موٹو کو حرام کہنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا اس کا محض  کیڑوں سے  بنایا جاناا س کی حرمت  کے لیے کافی ہے اگر چہ ا س میں انقلاب  ماہیت پایا جارہا ہو۔
2 ) اور مزید یہ بات پوچھنی ہے کہ کسی کھانے کی چیز کے حرام ہونے کے لئے اس کا کس حد تک  مصر صحت ہونا ضروری ہے؟ اگر کوئی چیز  بعض اوقات بعض افراد کے حق میں مضر صحت  ہوتو باقی دوسرے افراد کے حق میں  اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
3) سگریٹ  پینا  شرعاً کیسا ہے؟ کیونکہ اس میں مضر صحت ہونے کی بات زیادہ پائی جارہی ہے۔
الجواب حامدوامصلیا ً
اجی نو موٹو (مونو سوڈیم گلوٹامیٹ) جس کی تفصیل آگے آرہی ہے اس کا اجمالی حکم یہ ہے کہ ہماری تحقیق کے مطابق اس کے بنانے میں کوئی ناپاک یا حرام چیز نہیں استعمال کی جاتی  لہذا یہ حلال ہے اور  اس کا استعمال جائز ہے، البتہ  اگر کہیں سے یہ یقینی طور پر معلوم  ہوجائے کہ دنیا میں کسی جگہ  اس کے بنانے میں حرام  اجزاء  شامل کئے جاتے  ہیں اور وہ اجزاء  اس میں سرایت  کرتے ہیں ۔ یا اس کا جز بن جاتے ہیں تو ایسی صورت میں  یہ حلال نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا استعمال جائز ہوگا۔
اجی نوموٹو (چائینیز نمک) کا اصل نام: 
اجی نو موٹو (چائینیز نمک) کا اصل نام  مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (Monosodium Glutamate) ہے جس کا مخفف MSG  ہے۔ MSG مختلف ناموں سے مشہور ہے مثلا: اجی  نوموٹو ویٹسن (Vetsin)، ایکسینٹ (Ac’cent) اور ٹیسٹنگ  پاؤڈر (Tasting Powder)۔ البتہ اس کا سب سے مشہور نام اجی نوموٹو ہے، اور یہ نام  اس کوا یک اجی ون موٹو نامی جاپانی کمپنی  سے ملا تھا اس لئے کہ اجی نو موٹو کمپنی سب سے پہلی کمپنی تھی جس نے MSG بہت بڑی مقدار میں بنانا شروع کیا تھا۔ اس لئے جواب میں MSG  کا نام استعمال کیا جائے گا۔
Ajinomoto  Co, Inc  is a Japanese company that produces food seasonings , cooking  foods, sweeteners  , amino acids and pharmaceuticals.Ajinomoto  ‘s signature product .monosodiumglutamate (MSG ) seasoning ,was  first  marketed  in japan  in 1909. Having  been  discovered and patented  by kikunae ikeda. 
MSG (مونو سوڈیم گلوٹامیٹ) کیا ہے:
MSG ایک نمک  کا نام  ہے جوکہ  گلوٹامیٹ ایسڈ (Glutamate acid) سے بنایا جاتا ہے، یہ سب  سے پہلے ایک جاپانی سائنس دان  کیکونائے (kikunae) نے  1908 ء میں دریافت کیاتھا اورا س نئے ذائقہ کو یومامی (umami) کا نام  دیا تھا۔
  MSG (Monosodium Glutamate) دو لفظوں سوڈیم (Sodium) اور  گلوٹامیٹ Glutamate)) سے مرکب ہے۔ سوڈیم (Sodium) عام نمک کو کہاجاتا ہے، اور گلوٹامیٹ Glutamate)) ایک ایسڈ (Acid) ہے جو ہر انسان اورجانور کے نروس سسٹم (system nervous) میں موجود ہوتا ہے اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ دماغ سے پیغامات  جسم کے دیگر اعضاء  تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے، یہ انسانوں اور جانوروں کے جسم میں خود بخود بنتا ہے لیکن اب اس کو جدید  ٹیکنالوجی  کے ذریعہ بھی  بنایاجانے لگا۔
گلوٹامیٹ ایسڈ کن کن  چیزوں سے بنتا ہے:
گلوٹامیٹ ایسڈ (Glutamate acid)  1909ء سے لے کر  1960 تک گندم کے نشاستہ (Wheat Gluten) سے بنایا جاتا تھا۔ لیکن پھر 1970 کے بعد سے گندم  کے نشاستہ کی بجائے اس سے سستا  ذریعہ ایجاد کیا گیا  جس میں مختلف  چیزوں، اسٹارچ (Starch)  سفید  پاؤڈر جو کہ گندم، آلو، مکئی، چاول  یا جڑی بوٹی  سے تیار کیا جاتا ہے) شوگر بیٹس  (Sugar beets)  گنا اور مولیسز  (Mollases)  چینی کا گاڑھا شیرا) کو جراثیم کی مدد سے  گلوٹامیٹ ایسڈ میں تبدیل کیا جانے لگا  اور اب یہ طریقہ  تقریبا  پوری دنیا میں رائج ہوگیا ہے۔
گلوٹامیٹ  ایسڈ (Glutamate acid) بنانے کا  طریقہ کار:
MSG بنانے کے تین طریقے ہیں،
پروٹین کی تحلیل  یعنی ہائیڈرولیسز (Hydrolysis of proteins)
سینتھیسز (Synthesis)
بیکٹیریل فرمنٹیشن (Bacterial Fermentation)
تین طریقوں کی تفصیل مندرجہ ذیل  ہے: 
پروٹین  کی تحلیل یعنی ہائیڈرولیسز (hydrolysis of proteins)
قدرتی  طور پر پروٹین  مختلف ایسڈ کا مجموعہ ہوتا ہے جن میں گلوٹامیٹ ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے اور اس کا طریقہ میں پروٹین کو تحلیل کرکے اس میں موجود ایسڈز کو جدا جدا کردیا جاتا ہے اور پھر ان ایسڈز میں سے گلوٹامیٹ  ایسڈ کو الگ  کرکے نکال دیا جاتا ہے۔ اور پھر گلوٹامیٹ  ایسڈ کو صاف کرکے نمک کی شکل دے  دی جاتے ہے.
2) سینتھیسز (Synthesis)
اس طریقہ  میں مختلف  ایسڈز کو مصنوعی  طریقہ سے ملا کر ایک نیا مرکب  تیار کیا جاتا ہے، اور یہی طریقہ  گلوٹا میٹ  ایسڈ بنانے  کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ انسانی جسم میں جب گلوٹامیٹ  کی کمی ہوجاتی ہے تو جسم میں موجود خلیے جسم سے مختلف مواد جمع  کرکے گلوٹامیٹ  بنادیتے ہیں، پھر وہی عمل کیا جاتا ہے جو مذکورہ  بالا طریقے میں ذکر کیا گیا ہے۔
3) بیکٹیریل فرمنٹیشن (Bacterial Fermentation)
یہ بیکٹیریا کی مدد سے مونوسوڈیم  گلوٹامیٹ بنانے کا ایک طریقہ  ہے اور آج کل تقریبا پوری دنیا میں مونو سوڈیم گلو ٹامیٹ  بنانے کے لیے یہی طریقہ استعمال  کیا جاتا ہے اور پہلے دونوں طریقے تقریبا متروک ہوچکے ہیں اس لیے اس لیے اس تیسرے طریقے  کو قدرے تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔
بیکٹیریا اور اس کا حکم:
بیکٹیریا  ایک   یک خلوی  جاندار  (جراثیم) ہے جو کہ صرف خورد بین کے ذریعہ نظر آتا ہے پینسل  سے بنائے ہوئے ایک نقطہ میں اس طرح  کے لاکھوں  جراثیم  سماسکتے ہیں، ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق جراثیم، جانوروں کے علاوہ جاندار  کی ایک دوسری قسم ہے۔
اور اس کا حکم یہ ہے کہ  یہ بذات خود ناپاک نہیں ہوتا کیونکہ فقہائے کرام  نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ وہ جاندار چیزیں  جو غیردموی  ہوں یعنی جن میں بہتا ہوا خون نہ ہو، تو ایسی تمام جاندار اشیاء پاک  کہلائیں گی۔ (دیکھیے عبارت نمبر1) جیسا کہ  حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے  کہ اگر کسی مائع  چیز میں مکھی گرجائے تو اس کے گرنے سے وہ چیز ناپاک  نہیں ہوگی، اسی طرح جرثومہ  یعنی Bacteria بھی چونکہ غیر مودی اشیاء میں شامل ہے اس لیے  وہ بھی ناپاک نہیں کہلائے گا، بالخصوص جبکہ جراثیم اس قدر کثیر تعداد  میں موجود ہیں کہ ہر چیز میں ان کا وجود پایا جاتا ہے مثلا ً ہوا، مٹی، انسانی خوراک، وغیرہ وغیرہ ، حتی کہ  انسانی جسم میں بھی مختلف اقسام کے جراثیم   موجود ہوتے ہیں ۔
ہر چیز میں جراثیم کے وجود سے متعلق مندرجہ  ذیل بالا حوالہ ملاحظہ ہو۔
ترجمہ:  ہوا جراثیم سے بھرپور ہے ۔۔۔۔ جراثیم مٹی میں، ہماری خوراک میں ،پودوں اور جانوروں میں پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ  ہمارے جسم مختلف اقسام کے جراثیم کا گھر ہیں، ہماری زندگیاں  ان کی زندگی کے ساتھ بہت حد تک جڑی ہوئی ہیں۔
ثانیاً اگر وہ جراثیم  ناپاک چیز میں موجود ہوں تب بھی ان  جراثیم کو ناپاک چیزمیں موجود ہونے کی وجہ سے نجس کہنا مشکل ہے اس کی فقہی نظریہ ہے کہ  فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ انسان کے قبل یا دبر میں سے کیڑے کا نکل آنا وضو ٹوٹنے کا باعث ہے، اس لیے نہیں کہ وہ کیڑا بذات خود نجس ہے بلکہ اس پر جو نجاست لگی ہوئی ہے وہ وضوٹوٹنے کا سبب ہے۔
اسی طرح  ناپاکی میں موجود جراثیم بھی  بذات خود نجس نہیں ہوتے۔
رہی یہ بات کہ جراثیم  یعنی بیکٹیریا سے نکلنے والی رطوبت حرام  یا ناپاک ہوگی یا حلال اور پاک، تواس میں بیکٹیریا کے ذریعہ  حاصل  ہونے والی چیز کودیکھا جائے گااوراس کے مطابق حکم لگایا جائے گا، مثال کے طور پر شیرے کا شراب  میں تبدیل ہونے میں بھی بعض  دفعہ بیکٹیریا  کااستعمال کیاجاتا ہے لیکن چونکہ  شراب حرام اور ناپاک ہوتی ہے اس لیے بیکٹیریا  کے ذریعہ حاصل ہونے والی شراب کو بھی حرام اور ناپاک کہا جائے گا، جبکہ دودھ  کو دہی تبدیل کرنے کے لیے بھی بیکٹیریا کا عمل دخل ہے لیکن  دہی کو پاک اور حلال کہا جاتا ہے، نیز بیکٹیریا کے ذریعہ حاصل  ہونے والا گلوٹامیٹ  ایسڈ میں چونکہ  کوئی  حرام چیز شامل نہیں ہوتی (جیسا کہ اوپر تفصیل سے گزرچکا ہے) اس لیے اس کو حرام نہیں کہا جائے گا۔ (بیکٹیریا سے متعلق تفصیل کے لیے التبویب 1356/44 کی طرف   رجوع کیا گیا ہے، بتصرف)۔
بیکٹیریا فرمنٹیشن کیا ہے:
بیکٹیریا فرمنٹیشن بیکٹیریا کے ذریعہ  کی جانے والی ایک  کیمیائی تبدیلی کا نام ہے، بیکٹیریا اس عمل  کے ذریعہ  کاربو ہائیڈریٹ جوکہ چینی، نائیٹروجن اور ہائیڈروجن  کا مجموعہ  ہوتا ہے) کو مختلف ایسڈ میں تبدیل کرتا ہے، اگر بیکٹیریا کو موافق ماحول  دستیاب  ہوتو یہ تبدیلی  از خود  وقوع  پذیر ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ  دودھ  کا کھٹا ہوجانا اور شیرے کا شراب میں تبدیل ہونا وغیرہ اس کی عام مثالیں ہیں۔ اور اب جدید سائنسی طریقوں کے ذریعہ بیکٹیری کو موافق  ماحول دستیاب ہوتو یہ تبدیلی از خود وقوع پذیر ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ دودھ کھٹا ہوجانا اور شیرے  کا شراب  میں تبدیل ہونا وغیرہ  اس  کی عام مثالیں ہیں۔ اور اب جدید سائنسی طریقوں کے ذریعہ بیکٹیریا کو موافق ماحول  فراہم کرکے یہ  تبدیلیاں  تیزی سے اور بڑے پیمانے پر کی جاتی ہیں۔
مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کی بیکٹیریا فرمنٹیشن  کیسے کی جاتی ہے:
اس فرمنٹیشن  کے لیے دوقسم کے بیکٹیریا استعمال کیے جاتے ہیں:
بری وی بیکٹیریم لیکٹوفرمینٹم
یہ بیکٹیریا   سویا بین میں پایاجاتا ہے  اورسویا بین  کے دیگرا جزاء سے اس بیکٹیریا کو الگ  کرنے کے لیے  تحلیل  یعنی ہائیڈرولیسز   کے عمل  سے گزارا جاتا ہے پھر بیکٹیریا  کو سویابین  کے اجزاء سے الگ  کرکے انہی مراحل  سے گزارا جاتا ہے جوکہ ذیل  میں سی گلوٹا میکم  کی تفصیل میں آرہا ہے۔
سی گلوٹامیکم  فرمنٹیشن  میں استعمال  ہونے والا دوسرا بیکٹیریا  ہے جوکہ جانوروں کے گوبر، مٹی  پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔
اس بیکٹیریاکو نشوونما کے لیے ایک چھوٹی سی پلیٹ  کی  طرح   کے برتن  میں ڈال دیاجاتاہے  جس میں گلوکوز ، نائٹروجن  اور کاربن  جس کو گروتھ  میڈیم  یا کلچر  میڈیم  کہتے ہیں  ، مائع حالت میں ہوتا ہے  اس دوران  اس پلیٹ کو ایک خاص  درجہ حرارت  میں رکھ کر  ایک مخصوص رفتار سے گھمایا جاتا ہے  جس سے اس مائع  کو گلوٹامیٹ  ایسڈ  میں تبدیل  کرنے اوراس بیکٹیریا کی نشوونما   اور بڑھوتری کا عمل  تیزی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ پھر  کچھ وقت  میں (تقریبا ً 12 گھنٹے) کے بعد جب یہ بیکٹیریا ایک حد تک بڑھ جاتا ہے تو پھر اس عمل کو دوسری مرتبہ اسی طرح کے ایک بڑے برتن میں کیا جاتا ہے اور پھر تیسری مرتبہ ایک بہت بڑے  ٹینک میں یہی عمل بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد گلوٹامیٹ ایسڈ  کو فلٹر کرکے ٹینک  میں موجود باقی مادوں (چینی، بیکٹیریا، نائٹروجن  وغیرہ) سے الگ کردیا جاتا ہے۔ اور پھر اس ایسڈ  میں سوڈیم کاربونیٹ ڈال دیا جاتا ہے اور مائع حالت سے ٹھوس  حالت میں تبدیل کردیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ ایک نمک کی شکل میں آجاتا ہے۔
مونوسوڈیم  گلوٹو میٹ کا حکم:
مذکورہ بالا تفصیل   کا خلاصہ یہ ہے کہ: 
الف) مونوسوڈیم گلوٹامیٹ بنانے میں جو چیزیں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی بھی چیز حرام  نہیں ہے۔
ب) اس کے بنانے میں جو  بیکٹیریا  استعمال کیاجاتا ہے وہ بذات خود حرام یا ناپاک نہیں ہوتا، اور نہ اس سے حاصل ہونے والا ایسڈ حرام یا ناپاک ہوتا ہے۔
ج) مونوسوڈیم گلوٹامیٹ کا مضرصحت ہونا بھی ثابت نہیں۔
د) گلوٹامیٹ ایسڈ بن جانے کے بعد اس کو باقی سارے مادوں سے الگ بھی کردیا جاتا ہے۔
مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کے بنانے میں جو مذکورہ بالا طریقہ ہماری معلومات میں آیا ہے اس کے مطابق مونو سوڈیم گلوٹامیٹ میں کوئی حرام یا ناپاک چیز استعمال نہیں کی جاتی، لہذا ان اشیاء سے بنایا جانے والا مونو سوڈیم گلوٹامیٹ حلال ہوگا اور اس کا استعمال بھی جائز ہوگا، البتہ اگر کہیں سے یہ یقینی طور  پر معلوم  ہوجائے کہ دنیا میں اگر کسی جگہ اس کے بنانے میں مذکورہ بالا اجزاء  شامل کئے  جاتے ہیں  تو ایسی صورت میں یہ حلال  نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا استعمال جائز ہوگا۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مونو سوڈیم  گلوٹامیٹ کیڑوں  سے  حاصل کیا جاتا ہے مذکورہ  معلومات کے مطابق  یہ بات بھی درست نہیں۔
مونو سوڈیم گلوٹامیٹ  کے حلال ہونے سے متعلق دیگر  ممالک سے جاری ہونے والے چند فتاوی بھی بطور تائید منسلک کئے جاتے ہیں۔
مونو سوڈیم گلوٹامیٹ یعنی چائینیز نمک کی  حلت پر پیدا ہونے والا شبہ اور اس کی حقیقت:
اجینوموٹو کی حلت پر سب سے پہلا شبہ اس  وقت کیا گیا جس مجلس علماء انڈونیشیا نے جولائی 2000ء میں حلال سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے اجینوموٹو بنانے کے  طریقہ کار کا ازسر نو جائزہ لیاتو اس  طریقہ کار میں استعمال ہونے والا ایک  نیا جزء پایا گیا جوکہ اس سے پہلے اس طریقہ میں موجود نہیں تھا۔ پھر جب  اس کے  بارے میں تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک اینزائم ہے جو کہ خنزیر کے لبلبہ سے حاصل کیاجاتاہے  اور یہ ہائیڈرولیسز کے عمل میں بیکٹو سوئیٹان نامی ایک مادہ (گروتھ میڈیم) میں استعمال ہوتا ہے یہ مادہ سوبابین سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس میں مذکورہ بیکٹیریا یعنی بری وی بیکٹیریا لیکٹو فرمینٹم کو نشوونما  کے لیے  ڈالا جاتا ہے، اب بیکٹیریا کی نشوونما کے عمل میں تیزی  پیدا کرنے کے لیے سیکٹوسوئیٹان میں خنزیر کے لبلبہ سے حاصل ہونے والا اینزائم  ڈالا جاتا ہے۔ اس بناء پر مجلس علماء انڈونیشیا کی فتوی کمیٹی نے بیکٹوسوئیٹان سے حاصل ہونے والے اجینو موٹوکو حرام قرار دے دیا تھا اس طرح اجینو موٹو کے حرام ہونے  کی ایک خبر مشہور ہوگئی  اور اس کی حلت میں شبہ پیدا ہوگیا۔
مجلس علماء انڈونیشیا کی فتوی کمیٹی کی تنبیہ پر اجینو موٹو کمپنی نے بیکٹوسوئیٹان  کا استعمال چھوڑکر مامینو نامی ایک دوسرا گروتھ میڈیم استعمال کرنا شروع کردیا جس میں خنزیر کا کوئی جزء  شامل نہیں تھا اور اس طرح اجینوموٹو کو حرام اجزا ء سے پاک کردیا گیا۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق  خنزیر کے لبلبہ سے حاصل ہونے والا اینزائم کسی بھی مرحلہ میں اجینو موٹو کا نہ جزء بنتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی جزء میں سرائیت کرتا ہے بلکہ یہ بیکٹیریا کی نشوونما  کے ایک خارجی  عمل میں تیزی  پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، تاہم  اگر ماہرین کی یہ تحقیق  واقعہ نہ ہو اور یہ بات ثابت ہوجائے کہ خنزیر کا مذکورہ جزء اجینو موٹو کا جزء بنتا ہے یا اس کے کسی جزء میں سرائیت کرتا ہے تو اس صورت میں یہ نمک حلال نہیں ہوگا اور نہ اس کا استعمال جائز ہوگا۔
2) مضر صحت اشیاء کا استعمال مکروہ ہے اسی لیے فقہائے کرام نے مٹی کا کھانا مکروہ لکھا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تصریح فرمائی ہے کہ اگر کسی شخص کو کبھی کبھار مٹی یا کوئی اور مضر صحت چیز کھلانے کا اتفاق ہوجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اگر کوئی مضر صحت چیز کسی شخص کے لیے مہلک ہوتو اس کے لیے اس کا استعمال حرام ہوگا اور اگر کسی حلال  چیز کے بارے میں بھی یہ معلوم ہوجائے کہ وہ کسی شخص کے لیے مضر صحت ہے تو اس شخص کو ایسی چیز کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔
3) سگریٹ پینا شریعت  میں اگرچہ حرام تو نہیں ہے مگر بلاضرورت اس کی عادت ڈالنا  مکروہ اور خلاف اولیٰ ہے۔ تاہم  سگریٹ کی کثرت  اگر ماہر معالجین  کے نزدیک کسی شخص کے لیے مضر صحت  ہوتواس کو اس سے بچنا چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد انس
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

Friday, 16 November 2018

اولیاء کرام کی اقسام

اولیاء کرام کی اقسام
1۔ سالک
2۔ مجذوب
3۔ قلندر
یہ سب ولائیت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں، ایک مشترک لفظ ’ولی‘ ان سب کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان کو پھر ہر درویش نے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے بعض ظاہری کام پر تعینات ہوتے ہیں۔ اور بعض کو صرف باطنی کام کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔

1۔ سالک :
راہِ سلوک میں رہ کر ظاہری شرع پر عمل کرنے والا سالک کہلاتا ہے۔ یہ شرع پر کاربند رہتا ہے۔ تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کر طریقت کو عام کرتا ہے۔ اس کا مقام انتہائی اہم اور اعلیٰ ہے۔ اس پر تمام کیفیات گزرتی ہیں۔ یہ ہوش میں رہ کر ہوش مندوں کی صحیح تربیت کرتا ہے۔ اس کا سلسلہ ہوتا ہے اور مریدین ہوتے ہیں۔ عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور شریعت اور طریقت کی مے انہیں ان کے میخانوں سے پلائی جاتی ہے۔ سلسلے کا معنی اللہ والے سے مل کر اللہ کے راستے کا پتہ چلانا ہے۔

2 ۔ مجذوب :
جذب شدہ۔ اللہ کی محبت میں جذب شدہ ایسا اللہ کا دوست جو اپنی ذات کی نفی کر کے اسی اللہ کی ذات میں ضم ہو گیا ہو۔ اس پر ظاہری شرع ساقط ہو جاتی ہے۔ کیونکہ شریعت ہوش مند پر لاگو ہوتی ہے۔ یہ ظاہری اعتبار سے بے ہوش ہوتا ہے۔
مجذوب کا سلسلہ نہیں ہوتا اور نہ ہی مریدین۔ یہ اپنے باطنی اسرار و رموز میں محو و مست رہتا ہے۔ جو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتے ہیں۔
مجذوب مانگنے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی اپنی خواہشِ نفس سے مانگتا ہے ایک سے لے کر دوسرے کو دے دیتا ہے اسی طرح کسی کے پاس زادِ سفر نہ تھا تو مجذوب نے کسی ایک سے لیا اور جِس کے پاس زادِ سفر نہ تھا اس کو دے دیا۔ ان کا ہر عمل، ہر حرکت، ہر ہر ادا مصلحت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ہر بات کے پیچھے کوئی تمثیل ہوتی ہے۔ بعض اوقات غیر متوقع بات کر دے گا۔ کسی کو گالی دے دے گا۔ مگر ہر بات کسی مصلحت کی بناء پر ہوتی ہے۔

3۔ قلندر :
یہ سالک اور مجذوب دونوں کے مزاج اور کیفیات کا حامل ہوتا ہے۔ سلوک اور جذب کا مجتمع ہو جانا۔ دونوں کی خصوصیات کا کسی میں مل جانا۔ قلندریت کا حامل کر دیتا ہے۔ قلندر پر جذب غالب ہو تو کیفیات اور ہوتی ہیں۔ ہوش غالب ہو تو کیفیات اور ہوتی ہیں۔ یہ کبھی باہوش اور کبھی بے ہوش ہوتا ہے۔ دو نوں طرح کی عطائیں اِس پر ہوتی ہیں۔
قلندر کا ایک معنی ’’ دین و دنیا سے آزاد ‘‘ بھی لیا جاتا ہے۔ کہ بعض اوقات جذب کی کیفیات غالب آگئیں تو اہل ظاہر کے نزدیک بے ہوش اور دین و دنیا سےآزاد ہے ۔

مفلس کے لئے ہے نہ تونگر کے لئے ہے
کونین کی ہر شے تو قلندر کے لئے ہے

قلندر سے ایک مراد ’ کُل اندر ‘ بھی لیا جاتا ہے۔ کہ عالمین اور کُل جہاں اس کے اندر پوشیدہ ہیں ۔سب کچھ سمیٹے ہوئے ہے ۔

( م ۔ ا )

اولیاء ظاھرین اور اولیاءِ مستورین

حضرت شاہ سید محمّد ذوقی اپنی کتاب " سّرِ دلبراں " میں فرماتے ھیں کہ " اولیاء اللہ کا وجود آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزّماں صلیّ اللہ علیہ و سلّم کے زمانے تک اور اسکے بعد ظہورِ مھدی علیہ السلام اور نزول عیسیٰ علیہ السلام تک رھا اور رھیگا...یہ حضرات دو اقسام پر منقسم ھیں...۱ اولیاء ظاھرین.......۲ اولیاء مستورین...

اولیاء ظاھرین کے سپرد خدمتِ ھدایت ِ خلق ھوتی ھے، یہ ظاھر ھوتے ھیں کیونکہ خدمتِ ھدایت ان کو اپنے اظہار پر مجبور کرتی ھے..................­اولیاءِ مستورین کے سپردانصرامِ امورِ تکوینی ھوتا ھے اور یہ اغیار کی نگاہ سے مستور رھتے ھیں، یہ صاحبِ خدمت ھوتے ھیں انہیں رجال الغیب اور مردانِ غیب کہتے ھیں...وہ نہ پہچانے جاتے ھیں نہ ان کا وصف بیان کیا جا سکتا ھے حالانکہ وہ انسان ھیں....ان میں ایسے لوگ بھی ھوتے ھیں جو صرف اپنے ھی ٹھکانوں میں پائے جاتے ھیں، عالمِ احساس میں جس انسان کی صورت چاھیں اختیار کر لیتے ھیں، لوگوں پر ظاھر بھی ھوتے ھیں اور غائب بھی ھو جاتے ھیں، جنگل، پہاڑ اور نہروں کے کنارے بستے ھیں لیکن ان میں سے جو قوی تر ھیں وہ شہروں میں بستے ھیں، صفاتِ بشری کو اپنے اوپر اوڑھے لپیٹے رھتے ھیں....اچھے اچھے مکانوں میں رھتے ھیں....بیاہ شادی کرتے ھیں....کھاتے پیتے ھیں ...بیمار پڑتے ھیں اور علاج بھی کرتے ھیں...اولاد و اسباب، اموال و املاک رکھتے ھیں....لوگ ان سے حسد بھی کرتے ھیں انھیں ایزا بھی پہنچاتے ھیں....مگر! حق تعالیٰ ان کے حسنِ احوال اور کمالاتِ باطنی کو اغیار کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھتا ھے.

انہی کی شان میں فرمایا گیا ھے کہ " اولیآئی تحتَ قبآئی لا یعرِفُھم غیری " ترجمہ....میرے اولیاء میری قبا کے نیچے ھیں، غیر ان کو نہیں جانتا .......

الٰہی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ھے ذوقِ خدائی!

حضرت شاہ سید محمّد ذوقی رح کی کتاب " سّرِ دلبراں "
سے اقتباس

سالکین کی بھی دو قسمیں ہیں یعنی طالبان حق اور طالبان آخرت و بہشت
. پھر طالبان حق کی دو قسمیں ہیں. پہلی متصوفہ دوسری ملامتیہ.

متصوفہ وہ حضرات ہیں جو اپنے نفس کی بعض صفات سے خلاصی حاصل کر لیتے ہیں اور اوصاف حسنہ میں سے بعض اوصاف اور احوال سے متصف ہوجاتے ہیں. لیکن ملامتیہ وہ لوگ ہیں جو اخلاص کی سختی سے نگہداشت کرتے ہیں اور اپنے تمام اوقات میں اخلاص کی تحقیق کی طرف متوجہ رہتے ہیں. جس طرح ایک گنہگار اپنے گناہ کے ظہور سے پرخوف رہتا ہے. اسی طرح یہ لوگ اپنی طاعت کے ظہور سے ڈرتے رہتے ہیں. کیونکہ اس سے ریا کا گمان پیدا ہوتا ہے. اس ملامتیہ فرقہ کے بعض لوگ فرقہ قلندریہ کو بھی اپنے اندر شمار کرتے ہیں.

از "مرأۃ الاسرار" مؤلفه حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی قدس سره
تحقیق و ترجمه مولانا الحاج کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری

اولیاء الله میں سے چار ہزار تو وہ ہیں جو پوشیدہ رہتے ہیں.وہ نہ تو ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ، اور نہ اپنے حال کی خوبی و جمال کو جانتے ہیںان کی حالت خود اپنے سے اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رہتی ہے.

اولیا کی مختلف جماعتیں:
جو اولیا حق تعالیٰ کی بار گاہ کے لشکری اور مشکلات کو حل کرنے والے اور حل شدہ کو بند کرنے والے ہیں، ان کی تعداد تین سو ہے. ان کو اخیار کہا جاتا ہےاور چالیس وہ ہیں جن کو ابدال اور سات وہ ہیں جن کو ابراراور چار وہ ہیں جن کو اوتاد اور تین وہ ہیں جن کو نقباءاور ایک وہ ہے جسے قطب اور غوث کہا جاتا ہے -
یہ اولیاء وہ ہیں جو ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور امور وہ معاملات میں ایک دوسرے کی اجازت کے محتاج ہوتے ہیں. اس پر مروی صحیح حدیثیں ناطق ہیں.

[حضرت داتا گنج بخش علی ھجویری رحمتہ الله علیہ، کشف المحجوب]

عارف اس شخص کو کہتے ھیں جس کو اپنی ذات کا عرفان ھو جائے
عالمِ راز میں عارف کا دل ایک آئینہ ھے، جب وہ اس آئینے میں دیکھتا ھے تو اللہ کو دیکھتا ھے، اس کے دل میں ایک جگہ ایسی ھے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کےکوئی اور اس میں جگہ نہیں پاتا
طاھر مقّدسی کا قول ھے کہ اگر لوگ عارف کا نور دیکھ پائیں تو اس میں جل جائیں اور اگر عارف وجود کے نور کو دیکھ لے تو سوخت ھو جائے
.یہ مقامِ عشق ھے مقامِ فنا ھےاس مقام پر عشق، عاشق اور معشوق ایک ھو جاتے ھیں.ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ تعلّق اسقدر بڑھ جاتا ھے کہ حالتِ محوّیت طاری ھو جاتی ھے..
حضرت نظام الدّین اولیاء رح فرماتے ھیں" عشق آیا، اور میرے رگ و ریشہ میں خون کی طرح داخل ھو گیا، عشق نے مجھے اپنے آپ سے خالی کردیا، اور میرے اندر دوست بھر دیا، میرے وجود کے سب اجزاء دوست نے لے لئے اور میرا نام ھی رہ گیا
باقی سب وھی ھے ...وھی ھے...وھی ھے !!!!!!

قدرت اپنے پیغام کو پہنچانے کے لئے دئیے سے دیا جلاتی رھتی ھے...معرفت کی مشعل ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوتی رھتی ھے. صوفی، ولی، غوث، قطب، مجذوب، اوتار، قلندر، ابدال.... قدرت کے وہ ھاتھ ھیں جن میں روشنی کی مشعل روشن ھے ... یہ پاکیزہ لوگ اس روشنی سے اپنی ذات کو بھی روشن رکھتے ھیں اور دوسروں کو بھی روشنی کا انعکاس دیتے ھیں...صرف تاریخ کے اوراق ھی نہیں، لوگوں کے دلوں پر بھی ان بزرگوں کی داستانیں اور چشم دید واقعات زندہ اور محفوظ ھیں
ان بندوں میں سے جو قلندر بندے ھیں وہ زمان ومکان کی قید سے آزاد ھو جاتے ھیں...اللہ کے یہ نیک بندے غرض، طمع، حرص اور لالچ سے بے نیاز ھوتے ھیں...مخلوق جب ان کی خدمت میں کوئی گزارش پیش کرتی ھے تو وہ اس کو سنتے بھی ھیں اور اس کا تدارک بھی کرتے ھیں، کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کے لئے مقررّ کیا ھے.یہی وہ پاکیزہ بندے ھیں جن کے بارے میں اللہ کہتا ھے ...." میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ھوں اور ان کے کان، آنکھ، اور زبان بن جاتا ھوں...پھر وہ میرے ذریعے بولتے ھیں، میرے ذریعے سنتے ھیں ، اور میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ھیں..."
ان ازلی سعید بندوں کی تعلیمات یہ ھیں کہ ھر بندہ کا اللہ کے ساتھ محبوبیّت کا رشتہ قائم ھے، ایسی محبوبّیت کا رشتہ جس میں بندہ اپنے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرتا ھے ....!!!!

ستاروں میں کہاں تم کھوجتے ھو....
خدا تو خود درونِِِ ِآدمی ھے !!!

خواجہ شمس الدّین عظیمی ....
..........................................................

گفتہء او گفتہء الله بود
گرچہ از حلقوم عبدالله بود
الله تعالی کے دوستوں کا بولنا دراصل الله تعالی ہی کا بولنا ہے- اگرچہ زبان تو بندے کی ہوتی ہے لیکن اس پہ کلام الله تعالی خود فرماتے ہیں-
مولانا رومی رحمت الله علیہ

----------------------
جذب اور طریقت 
مجذوب اور سالک 

بقاء ہوش وحواس کے ساتھ عمل بالشریعہ کو سلوک وطریقت اور عامل کو “سالک“ 
غیبی وارد سے مغلوب الحال ہوجانے، جمال یار کے مشاہدہ پہ ہوش وہواس سے بیگانہ ہوجانے اور از خود رفتہ ہوجانے کو جذب اور اس کیفیت سے مغلوب ہوجانے والے کو “مجذوب“ جمع مجاذیب کہتے ہیں 

مجذوبیت دلیل کمال نہیں 
حسن یار کو اپنے اندر برداشت کرکے دلوں میں سمیٹے رہنا اور حضرت حق سے مربوط رہنا 
اصل کمال ہے 
جذب دلیل کمال ہوتا تو سوا لاکھ انبیاء اور قریب اِسی تعداد میں اصحاب رسول 
بھی از خود رفتہ ہوجاتے 
جبکہ ہمارے ہادی ومعلم اعظم کا حال یہ ہے کہ:
موسی ز ہوش رفت بہ یک جلوہ صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی

﴿موسی تو محض ایک صفاتی جلوہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ عین ذات کا مشاہدہ کرتے بھی حالت تبسم میں ہیں﴾

اصحاب رسول کی نبوی تربیت کی کرشمہ سازی تھی کہ انہیں جمال یار کی حسن تابیوں سے چھلک جانا نہیں آیا۔
مجاذیب کی شناخت جامع طریقت و شریعت شخصیات ہی کرسکتی ہیں 
یا پہر جن کی طرف وقت کے اولیاء اللہ وصلحاء کی کشش یا میلان ہو وہ مجذوب ہوسکتا ہے  ان کی تعظیم کی جانی چاہئے۔ اور  بی ادبی توقیری سے بچنا چاہیے ۔
خستہ حالی اور اوّل فول بکنے اور بڑبڑانے کی وجہ سے کوئی  
مجذوبیت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا 
مجاذیب کی کئی قسمیں ہیں
بعض عام انسانوں کی طرح عقل وخرد اور فہم وفراست رکھتے ہیں 
جبکہ بعض عقل سے محروم ہوتے ہیں 
عقل سے محروم مجاذیب میں مدار تکلیف “عقل“ کے فقدان کی وجہ سے وہ دیگر حیوانات کی طرح غیر مکلف رہتے ہیں 
ایسوں کے اعمال قابل اتباع نہیں ہوتے 
سلوک جذب پہ مقدم ہے 
سالک اعمال سے مربوط رہتا ہے اس کی ترقی ہوتی رہتی ہے 
جبکہ جذب ترک عمل کا نام ہے اس سے ترقی مسدود ہوجاتی ہے مجذوب کو اپنی ذات سے سروے کار ہوتا ہے جبکہ سالک دوسروں کے لئے گھلتا اور پگھلتا ہے 
اس لئے سالک مجاذیب سے بہرحال افضل وبہتر ہے 
بیگوسرائے


جذب اور طریقت مجذوب اور سالک

جذب اور طریقت 
مجذوب اور سالک 

بقاء ہوش وحواس کے ساتھ عمل بالشریعہ کو سلوک وطریقت اور عامل کو “سالک“ 
غیبی وارد سے مغلوب الحال ہوجانے، جمال یار کے مشاہدہ پہ ہوش وہواس سے بیگانہ ہوجانے اور از خود رفتہ ہوجانے کو جذب اور اس کیفیت سے مغلوب ہوجانے والے کو “مجذوب “ جمع مجاذیب کہتے ہیں 

مجذوبیت دلیل کمال نہیں 
حسن یار کو اپنے اندر برداشت کرکے دلوں میں سمیٹے رہنا اور حضرت حق سے مربوط رہنا 
اصل کمال ہے 
جذب دلیل کمال ہوتا تو سوا لاکھ انبیاء اور قریب اِسی تعداد میں اصحاب رسول 
بھی از خود رفتہ ہوجاتے 
جبکہ ہمارے ہادی ومعلم اعظم کا حال یہ ہے کہ :
موسی ز ہوش رفت بہ یک جلوہ صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی

﴿موسی تو محض ایک صفاتی جلوہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ عین ذات کا مشاہدہ کرتے بھی حالت تبسم میں ہیں﴾

اصحاب رسول کی نبوی تربیت کی کرشمہ سازی تھی کہ انہیں جمال یار کی حسن تابیوں سے چھلک جانا نہیں آیا۔
مجاذیب کی شناخت جامع طریقت و شریعت شخصیات ہی کرسکتی ہیں 
یا پہر جن کی طرف وقت کے اولیاء اللہ وصلحاء کی کشش یا میلان ہو وہ مجذوب ہوسکتا ہے  ان کی تعظیم کی جانی چاہئے۔ اور  بی ادبی توقیری سے بچنا چاہیے ۔
خستہ حالی اور اوّل فول بکنے اور بڑبڑانے کی وجہ سے کوئی  
مجذوبیت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا 
مجاذیب کی کئی قسمیں ہیں
بعض عام انسانوں کی طرح عقل وخرد اور فہم وفراست رکھتے ہیں 
جبکہ بعض عقل سے محروم ہوتے ہیں 
عقل سے محروم مجاذیب میں مدار تکلیف “عقل “ کے فقدان کی وجہ سے وہ دیگر حیوانات کی طرح غیر مکلف رہتے ہیں 
ایسوں کے اعمال قابل اتباع نہیں ہوتے 
سلوک جذب پہ مقدم ہے 
سالک اعمال سے مربوط رہتا ہے اس کی ترقی ہوتی رہتی ہے 
جبکہ جذب ترک عمل کا نام ہے اس سے ترقی مسدود ہوجاتی ہے مجذوب کو اپنی ذات سے سروے کار ہوتا ہے جبکہ سالک دوسروں کے لئے گھلتا اور پگھلتا ہے 
اس لئے سالک مجاذیب سے بہرحال افضل وبہتر ہے 
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے

Wednesday, 14 November 2018

خلاصہ علم الفرائض: مفتی محمد علی حسن مظاہری نہٹوری

خلاصہ علم الفرائض
مفتی محمد علی حسن مظاہری نہٹوری 

ایک امام کی تقلید کرتے ہوئے کسی مسئلہ میں دوسرے امام کی رائے کو لینا

ایک امام کی تقلید کرتے ہوئے کسی مسئلہ میں دوسرے امام کی رائے کو لینا
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں
ایک عام مقلد شخص اگر مجبوری کی وجہ سے دوسرے مسلک کے مطابق کسی ایک مسئلہ پر عمل کرے تو کیا اسکی گنجائش ھے؟
اور اگر مقلد عالم ہو تو اسکے لئے کیا اسکی اجازت ھے؟
اس سلسلہ میں مفصل  مدلل اور واضح جواب عنایت فرمائیں
جواب: ایک امام کی تقلید کرتے ہوئے کسی مسئلہ میں دوسرے امام کی رائے کو لینا درست نہیں ہے، اس کو تلفیق کہتے ہیں اور تلفیق باجماع امت باطل ہے۔ مذاہب کی دلیل مانگنا عامی آدمی کو اس کا حق نہیں ہے اور پھر دلائل میں تقابل کرکے اپنی فہم ناقص سے فیصلہ کرنا اور بھی برا ہے۔ کسی مسئلہ کی دلیل بسا اوقات صرف ایک حدیث نہیں ہوتی ہے بلکہ احادیث کے پورے ذخیرہ اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تعامل اور ان کے آثار کو پیش نظر رکھ کر مجتہد مسئلہ کا حکم نکالتا ہے اور اُن وجوہ ترجیح کی بنیاد پر جو مسلم ہیں کسی مسئلہ کو ترجیح دیتا ہے اب ان دلائل میں غور کرنا اور اُن کی تہہ تک پہنچنا ہرکس و ناکس کا کام نہیں ہے، لہٰذا جو لوگ اس طرح کا طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں اور قرآن پاک کی ہدایت
﴿فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ﴾
اگر تمھیں نہیں معلوم تو اہل علم سے دریافت کرلو۔ کے خلاف کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ غلط ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
______
حنفی اور شافعی مسلک کے درمیان بہت سے مسائل اور فتووں میں فرق پایا جاتا ہے دونوں مسلک اہل حق میں سے ہیں۔ جس کی تقلید کرنا آپ کے لیے آسان ہو، یعنی مسائل وغیرہ معلوم کرنے میں دشواری نہ ہو اس کی تقلید کرلیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہ کریں کہ بعض مسائل میں حنفی طریقہ پر عمل کریں اور بعض مسائل میں شافعی طریقہ پر کیونکہ یہ تلفیق ہے جو کہ حرام ہے، نیز اس میں اتباع ہوا کا اندیشہ قوی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
----------
تمام مسائل شریعت میں ایک ہی امام کی تقلید کی جانی چاھے یا مختلف مسائل میں مختلف ائمہ کی تقلید کی جا سکتی ہے ؟دلائل میں عربی متن نہ دیں صرف ترجمہ کافی ہوگا؟
Published on: Jan 5, 2015
جواب # 57175
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 17-136/Sn=3-1436-U
جو آدمی جس امام کی اقتدا کرے ضروری ہے کہ تمام مسائل میں اسی امام کے اجتہادات اور تخریجات کے مطابق عمل کرے، ایک مسئلے میں کسی امام کا قول لینا، دوسرے میں کسی اور امام کا، شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے خواہش پرستی کا دروازہ کھلے گا، نیز ”تلفیق بین المسالک“ کی نوبت آئے گی جو قطعا جائز نہیں ہے“۔ شرح مہذب میں معین امام کی اتباع کے ضروری ہونے کا ذکر کر تے ہوئے تحریر فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر جس مذہب کی چاہے اتباع کرنے کی اجازت دی جائے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہوئے مذاہب کی رخصتوں کو چناجائے گا اور حلال وحرام، وجوب وجواز کے درمیان عمل کا اختیار دیا جائے گا، جس کا نتیجہ بالآخر شرعی تکلیف کا چولا اُتار پھینکنے کی صورت میں نمودار ہوگا، برخلاف دور اول (خیر القرون) کے کہ اس زمانہ میں وہ مذاہب جن میں سبھی مسائل کا حل ہومہذب ومرتب نہیں تھے، اس اعتبار سے آج مقلد پر لازم ہے کہ وہ ایک متعین مذہب کی اتباع میں اپنی پوری کوشش کرے: ووجھہ أنہ لو جاز اتباع أي مذھب شاء لا فضی إلی أن یلتقط رُخَص المذاھب متبعا ھواہ ویتخیر بین التحلیل والتحریم والوجوب والجواز وذلک یؤدي إلی انحلال ربقة التکلیف بخلاف العصر الأول فإنہ لم تکن المذاھب الوافیة بأحکام الحوادث مھذبة : فعلی ھذا یلزمہ أن یجتھد في اختیار مذھب یقلدہ علی التعیین (شرح المہذب: ۱/۵۵، ط: بیروت)
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
...........
تقلید کی شرعی حیثیت
افادات: شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی