Friday, 26 August 2016

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَع

ایس اے ساگر
اہل علم نے نکاح کو نصف ایمان قرار دیا ہے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجودیکہ معصوم تھے نیز کسی طرح کے وساوس آپ کے سینہٴ نبوت میں جگہ نہ تھی، نکاح فرمایا ہے، چنانچہ حدیث میں کثرت سے اس کے بارے میں فضیلت وارد ہوئی ہے، من جملہ ان احادیث کے ایک حدیث میں نکاح کو نصف ایمان کی تکمیل کی بات کہی گئی ہے،
نکاح نصف ایمان
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تزوج فقد استكمل نصف الإيمان فليتق الله في النصف الباقي .
( الطبراني الأوسط : 7643، 8/315 – شعب الإيمان :5100 ، 7/241 – مستدرك الحاكم :2/161 )
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے شادی کرلی اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہذا اسے چاہئے کہ باقی آدھے میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرے ۔
{ الطبرانی الاوسط ، شعب الایمان ، مستدرک الحاکم } ۔
تشریح : شادی اور نکاح انسان کی ضرورت ، نسل انسانی کے تسلسل کا ذریعہ اور جنسی ضرورت کو پورا کرنے کا وسیلہ ہے ، شادی اسلام کی نظر میں ایک مقدس رشتہ اور اللہ تعالی کے افضل ترین بندوں کی سنت ہے " [وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً] {الرعد:38} " ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا " ۔ شادی انسان کو جسمانی راحت اور قلبی سکون فراہم کرتی ہے : [وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً] {الرُّوم:21} " اور اس کی نشانی میں سے ہے کہ تمہارے جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمہارے [ میاں بیوی کے ] درمیان محبت و ہمدردی پیدا کردی" ۔ اسلام نے شادی کو یہ اہمیت دی کہ اس کے لئے کوشش کرنے والے انسان کے ساتھ اللہ تعالی کی خصوصی مدد رہتی ہے ، ارشاد نبوی ہے :
تین قسم کے لوگوں کا حق ہے کہ اللہ تعالی ان کی مدد کرے :
۱- اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔
۲- کاتب غلام جو حق مکاتبت ادا کرنا چاہتا ہے ۔
۳- شادی کرنے والا جو عفت پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے ۔

{ مسند احمد ، الترمذی ، 
 البتہ آپ کے سوال کے مطابق شادی کرنا آپ کے حق میں سنت ہے، اگر مبتلائے معاصی ہونے کا خطرہ ہو تو واجب ہے، اگر قوی امکان ہے تو فرض ہے۔ اس کی روشنی میں شریک حیات کا انتخاب ایک اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے، جس میں خوب باریک بینی سے کام لینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت مطہرہ میں نکاح سے قبل استخارہ بھی ثابت ہے۔ ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے نکاح سے قبل استخارہ کیا تھا. اللہ کو ان کا یہ عمل ایسا پسند آیا کہ باری تعالٰی نے آپ کا نکاح نبی کریم اللہ علیہ و سلم سے کردیا. لیکن اس کا کیا کیجئے کہ رشتہ کرنے میں بڑی عجلت اور جلد بازی سے کام لیا جاتا ہے اور استخارہ کا اہتمام تو درکنار  کسی قسم کی چھان بن اور تفتیش تک نہیں کی جاتی۔ اسلام رشتہ کرنے میں دیرنہ کرنے کا حکم ضرور دیتا ہے، مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ آنکھیں بندکرکے جہاں بھی ہو ، جیسے بھی ہو رشتہ کردیا جائے۔ بلکہ مناسب دینی و اخلاقی چھان بین کے بعد ہی رشتہ طے کرنا عقلی اور دینی تقاضا ہے۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ کی صورتوں سے بہر صورت بچنا چاہئے۔ فضول شرائط و اہداف اور خود ساختہ وغیرہ ضروری معیارات مقرر کرنا مناسب نہیں ہے۔ پیغام نکاح کے سلسلہ میں چند اہم دینی تعلیمات اور بزرگوں کی نصائح کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے ، جن کا خیال رکھنا ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فائدہ مند بھی ہے۔ رشتہ پررشتہ نہ بھیجا جائے: جس لڑکی کے لئے رشتہ کا پیغام بھیجا جارہا ہوں ، وہاں یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس کا رشتہ کہیں طے نہ ہوا ہو، یا کسی اور اور کی طرف سے اس کے ساتھ رشتہ کی بات چیت نہ چل رہی ہو، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:ترجمہ: کوئی آدمی اپنے بھائی کے رشتہ پر رشتہ نہ بھیجے، یہاں تک کہ وہ نکاح کرلے یا وہ چھوڑدے۔ (بخاری شریف) ہاں! اگر لڑکی والوں کی طرف سے کہیں اور نکاح سے حتمی انکار کردیا گیا ہو تو پھر اس لڑکی کیلئے نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر پہلے رشتہ بھیجنے والے کا کردار ٹھیک نہیں ہے تو اس صورت میں دوسرے شخص کیلئے اپنے نام سے پیغام بھیجنا جائز اور درست ہے، کیونکہ ایک مسلمان کا حق یہ ہے کہ اس لڑکی کو کسی فاسق و فاجر کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اس سے نجات دلائے۔ 
رشتہ بھیجنے سے پہلے لڑکی کو دیکھنا:
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے ایک لڑکی کو رشتہ کا پیغام دینے کا ارادہ کیا، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو دیکھ بھی لیا؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: 
اس کو دیکھ لو، کیونکہ یہ تمہارے درمیان محبت پیداکرنے کا ذریعہ ہے۔ (ترمذی شریف)
شادی سے پہلے لڑکی کے دیکھ لینے کو علماء نے مستحب لکھا ہے، کیونکہ یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے ، لڑکی پسند آگئی تو یہ ان کے لئے پوری زندگی کے لئے خوشی کا باعث ہوگا اور اگر نہ دیکھا اور خدانخواستہ بعد میں وہ پسند نہ آئی تو آپس میں ناچاقی اور زندگی تلخ ہوجائے گی۔ اگر رشتہ بھیجنے والا اپنے ارادے میں پختہ اور شادی کرنے کیلئے پہلے سے تیار ہے تو ایسے شخص کو چہرے اور ہتھیلیوں کے دیکھنے کی اجازت ہے، بلکہ اس کے لئے یہ بھی مناسب ہے کہ خاندان کی کچھ مخلص عورتوں کو لڑکی کے گھر بھیجے، تاکہ وہ لڑکی کے اخلاق اور اس کی عادات و اطوار کا انداز کریں۔دین داری کو ترجیح دینا چاہیے: آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
کسی عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے ، اس کے حسب نسب کی وجہ سے، اس کے دین کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، لیکن دیکھو ! تم دین دار عورت سے نکاح کرنا۔ لڑکی کے انتخاب کے وقت جو صفات مد نظر رکھنی چاہئیں، ان میں سب سے اہم صفت نیک اور دین دار ہونا ہے۔
روى البخاري (4802) ومسلم (1466)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :
( تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ) .
وليس في الحديث أمر
أو ترغيب في نكاح المرأة
لأجل جمالها أو حسبها أو مالها.
وإنما المعنى :
أن هذه مقاصد الناس في الزواج ،
فمنهم من يبحث عن ذات الجمال ،
ومنهم من يطلب الحسب ،
ومنهم من يرغب في المال ،
ومنهم من يتزوج المرأة لدينها ،
وهو ما رغب فيه النبي صلى الله عليه وسلم بقوله :
( فاظفر بذات الدين تربت يداك ) .
قال النووي رحمه الله في شرح مسلم :
" الصحيح في معنى هذا الحديث
أن النبي صلى الله عليه وسلم
أخبر بما يفعله الناس في العادة
فإنهم يقصدون هذه الخصال الأربع ،
وآخرها عندهم ذات الدين ،
فاظفر أنت أيها المسترشد بذات الدين ،
لا أنه أمر بذلك ...
وفي هذا الحديث الحث على مصاحبة أهل الدين في كل شيء
لأن صاحبهم يستفيد من أخلاقهم وحسن طرائقهم
ويأمن المفسدة من جهتهم " اهـ باختصار .
وقال المباركفوري في تحفة الأحوذي :
" قال القاضي رحمه الله :
من عادة الناس أن يرغبوا في النساء
ويختاروها لإحدى الخصال
واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات
أن يكون الدين مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون ،
لا سيما فيما يدوم أمره ، ويعظم خطره " اهـ .
وقد اختلف العلماء في معنى قوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
( تربت يداك ) اختلافاً كثيراً ، قال النووي رحمه الله في شرح صحيح مسلم :
" وَالْأَصَحّ الْأَقْوَى الَّذِي عَلَيْهِ الْمُحَقِّقُونَ فِي مَعْنَاهُ :
أَنَّهَا كَلِمَة أَصْلُهَا اِفْتَقَرَتْ ,
وَلَكِنَّ الْعَرَب اِعْتَادَتْ اِسْتِعْمَالهَا غَيْر قَاصِدَة حَقِيقَة مَعْنَاهَا الْأَصْلِيّ ,
فَيَذْكُرُونَ تَرِبَتْ يَدَاك , وَقَاتَلَهُ اللَّه ,
مَا أَشْجَعه , وَلَا أُمّ لَهُ , وَلَا أَب لَك ,
وَثَكِلَتْهُ أُمّه , وَوَيْل أُمّه , وَمَا أَشْبَهَ هَذَا مِنْ أَلْفَاظهمْ يَقُولُونَهَا عِنْد إِنْكَار الشَّيْء ,
أَوْ الزَّجْر عَنْهُ , أَوْ الذَّمّ عَلَيْهِ , أَوْ اِسْتِعْظَامه ,
أَوْ الْحَثّ عَلَيْهِ , أَوْ الْإِعْجَاب بِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَم " اهـ .
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کے خواہاں حضرات کی اس جانب رہنمائی فرمائی کہ وہ دینداری کا انتخاب کریں تاکہ عورت اپنے شوہر اور بچوں کا مکمل حق ادا کرسکے اور اسلامی تعلیمات اور نبی کریمﷺ کے ارشادات کے مطابق گھر کا نظم و نسق چلاسکے۔ اگر عورت دین دار نہ ہوگی تو نہ مرد کے حقوق کی حفاظت کرے گی اور نہ ہی اولاد کی تعلیم و تربیت صحیح طور پر کر پائے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خوبصورت اور حسن و جمال کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نیا رشتہ تلاش کرتے وقت محض خوبصورتی کو سب کچھ نہ سمجھا جائے۔ رفیقہ حیات میںمطلوبہ صفات اور بزرگوں کی نصائح:علماء کرام نے احادیث کی روشنی میں کچھ اور صفات بھی ذکر کی ہیں، جن کو ملحوظ رکھنا چاہیے مثلاً: یہ کہ عورت کا مزاج اچھا ہونا چاہیے، بد مزاج عورت ناشکری اور جھگڑالو ہوتی ہے، جس سے زندگی خراب ہوجاتی ہے۔
عورت کا مہر کم ہونا بھی ایک اچھی صفت ہے، رسول اللہ ﷺ نے عورت کا مہر کم ہونے کو اچھی صفت قرار دیا ہے۔ ایک اچھی صفت یہ ہے کہ عورت نوجوان اور کنواری ہو، اس میں بہت ساری حکمتیں اور فائدے ہیں: ایسی عورت سے مرد کو زیادہ محبت ہوگی اور عورت کو بھی مرد سے زیادہ محبت ہوگی کیونکہ شادی شدہ عورت پہلے ایک مرد دیکھ چکی ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہی پہلا مرد اس کے دل و دماغ پر حاوی رہے اور دوسرے شوہر میں وہ پہلے کی سی الفت نہ پائے جس کی وجہ سے دوسرے کیلئے اس کے دماغ میں جگہ نہ بن سکے۔
ابن ماجہ کی حدیث ہے: تم غیر شادی شدہ عورتوں سے شادی کرو اس لئے کہ وہ شیریں دہن، پاک و صاف رحم والی ، کم دھوکہ دینے والی اور تھوڑے پر قناعت کرنے والی ہوتی ہیں۔ایک اچھی صفت یہ ہے کہ وہ اچھے دین دار خاندان کی ہو، کیونکہ دیندار گھرانے کے بچوں پر خاندانی تربیت کے اثرات ہوتے ہیں۔ لوگوں میں شرافت اور ذلت اور تقویٰ و صلاح کے اعتبار سے بہت فرق ہوتا ہے۔ اسی بات کو کسی نے بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے: پہلے یہ نہ پوچھا جائے کہ ہونے والی بیوی نے کس درس گاہ میں تعلیم پائی ہے بلکہ پہلے یہ معلوم کیاجائے کہ اس کی پرورش کس گھرانے میں ہوئی ہے۔
حضرت عثمانی بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کو شادی کے معاملہ میں یہ وصت کی کہ :
اے میرے بیٹے! نکاح کرنے والی کی مثال ایسی ہے جیسے بیج بونے والا، اس لئے انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کہاں بیج ڈال رہا ہے۔ بری ذات و نسل کی عورت بہت کم شریف و نجیب بچہ جنتی ہے، اس لئے شریف النسل لڑکی کا انتخاب کرو چاہے اس میں کچھ وقت کیوں نہ لگے۔ داماد کیسا ہونا چاہیے ؟ :لڑکیوں کا رشتہ ناتہ کرتے وقت یہ بات دیکھنی چاہیے کہ لڑکا اور داماد بااخلاق ہو، اس لئے کہ ایسا شخص اپنی بیوی کا حق بھی پہچانے گا اور اس کو آرام و سکون سے رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اور اسی طرح خادندان کی دیکھ بھال، بیوی کے حقوق اور بچوں کی تربیت کی ذمہ داری کو مکمل طور پر ادا کرتا ہے۔ اگر کسی کے پاس مال و دولت تو بہت کچھ ہو، لیکن دین اور اخلاق نہ ہو تو وہ شخص اپنی بیوی کا حق ہی نہیں پہچانے گا اور اس کے ساتھ وفاداری کیا کرے گا۔ افسوس ہے کہ اب یہ پیمانہ بہت کم خاندانوں میں رہ گیا ہے، اب اگر کوئی پیمانہ رہ گیا ہے تو صرف مادی اور مالی پیمانہ ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دین داری کو اہمیت دیتے ہیں ، چنانچہ اگر لڑکی والوں کو کہا جائے کہ لڑکا زنا کا عادی ہے تو کہتے ہیں کہ شادی کے بعد سدھر جائے گا اور کہا جائے کہ نماز کا پابند نہیں تو کہتے ہیں کہ ابھی جوان ہے ، بعد میں پابندی کرلے گا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اورکچھ زیادہ مالدار نہیں ہے تو ان کا منہ بن جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی نیک اور اچھی سیرت کا مالک ہو۔)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’ جس وقت کہ پیغام بھیجے نکاح کا طرف تمہارے وہ شخص کہ راضی ہو تو اس کےدین سے اور اس کے خلق سے پس نکاح کرو اس سے اگر نہ کرو گے تم نکاح تو ہوگا فتنہ زمین میں اورفساد بڑا۔ ‘‘
(مظاہرحق، جلدسوم، ص۱۰۴)
ایک نیک اور شریف عورت کیلئے یہ بہت بڑا فتنہ ہے کہ اس کا رشتہ ایسے شخص سے کردیا جائے جو آزاد خیال، فاسق، مغرب زدہ یا ملحد ہو، کیونکہ وہ اسے بے پردگی، بے غیرتی اور دوسرے گناہوں پر مجبور کرے گا اور بالآخر اس نیک و شریف عورت کا دین و اخلاق تباہ و برباد ہوجائے گا۔سلف صالحین کا طریقہ: سلف صالحین کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ جب ان کی اولاد سن بلوغ کو پہنچتی اوروہ نکاح کے قابل ہوتی تو وہ ان کیلئے نیک، شریف اور دین دار گھرانوںمیں ان کیلئے شادی کی بات کرتے، بہت زیادہ تکلفات اور مال داری کے بجائے شرافت اور نیکی کو معیار بناکر جلد از جلد رشتہ طے کرکے نکاح اور رخصتی کردیتے۔ تاریخ کی کتابوں سے بطور نمونہ سلف صالحین میں سے ایک بہت بڑے بزرگ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کا واقعہ پیش خدمت ہے۔
حضرت عبداللہ بن ابو دائود رحمہ اللہ سے منقول ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت سعیدبن مسیّب رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا ، اتفاق سے میں کچھ روز حاضر خدمت نہ ہوسکا، آپرحمہ اللہ نے میری غیر حاضری کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا۔ جواب میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے پوچھا:
تم کہاں تھے؟
میں نے عرض کیا: میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا، میں اس کی تجہیز و تکفین میں لگا ہوا تھا،
آپرحمہ اللہ نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، میں بھی شریک ہوجاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپرحمہ اللہ نے فرمایا: پھر تم نے کوئی اور لڑکی دیکھی؟
میں نے عرض کیا: خدا آپ کا بھلا کرے، بھلا مجھ سے کون نکاح کرے گا؟ میرے پاس شاید دو تین درہم ہوں گے۔
آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں اپنی بیٹی سے تمہارا نکاح کرواتا ہوں۔
میں نے کہا: آپ نکاح کرائیں گے؟
آپ نے کہا : ہاں!
چنانچہ اسی وقت آپ نے خطبہ پڑھا، خدا کی حمدو ثنا بیان فرمائی، درود شریف پڑھا اور دو یا تین درہم مہر پر میرا نکاح کرادیا، میں آپ کی مجلس سے اٹھا تو مارے خوشی کے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھاکہ میں کیا کروں؟ پھر میں نے اپنے گھر کی راہ لی اور راستہ میں سوچنے لگاکہ کسی سے کچھ قرض لوں، کسی سے کوئی ادھار لوں، پھر میں نے مغرب کی نماز ادا کی اور اپنے گھر لوٹا، گھر پہنچ کر میں نے چراغ جلایا، میرا روزہ تھا، اس لئے افطار کیلئے کھانا اپنے سامنے رکھا، میرا کھانا کیا تھا، روٹی اورزیتون کا تیل تھا، اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی دروازہ کھٹکھٹارہا ہے،
میںنے کہا: کون ہے؟
آواز آئی، میں سعید ہوں۔
راوی کہتے ہیں کہ میںنے سعید نامی ایک ایک آدمی کا تصور کیا کہ یہ کون سعید ہوسکتا ہے؟ لیکن سعید بن مسیّب کی طرف میرا ذہن بھی نہیں گیا۔ کیونکہ چالیس سال کا عرصہ ان پر ایسا گزرا کہ وہ گھر سے مسجد کے علاوہ کہیں نہیں نکلے، نہ کہیں گئے۔ میں لپک کر دروازہ پر پہنچا، دیکھا تو حضرت سعید بن مسیّب تشریف فرماہیں، مجھے وہم ہوا کہ شاید آپ کا ارادہ بدل گیا ہے، میںنے عرض کیا: ابو محمد! (یہ حضرت سعید رحمہ اللہ کی کنیت ہے) اگر آپ اطلاع کردیتے تو میں خود آجاتا،
آپ نے فرمایا: نہیں! تم اس کے زیادہ مستحق تھے کہ تمہارے پاس آیا جائے۔
میں نے عرض کیا : کہئے کیا حکم ہے ؟
انہوںنے فرمایا: تم غیر شادی شدہ تھے، اب تمہاری شادی ہوگئی ہے، اس لئے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ تم رات تنہا گزارو۔ یہ تمہاری بیوی حاضر ہے،
میں نے دیکھا کہ آپ کی صاحبزادی یعنی میری اہلیہ آپ کے ٹھیک پیچھے کھڑی ہیں ، آپ نے صاحبزادی کو دروازے سے اندر داخل کیا اور خود لوٹ کر تشریف لے گئے۔راوی کہتے ہیں :
اب میں نے ان سے تخلیہ کیا، میں نے دیکھا کہ حسن و جمال میں وہ یگانہ روزگار تھیں، لوگوں سے کہیں زیادہ انہیں کلام پاک یاد تھا، احادیث نبویﷺ ان کے نوک زبان پر تھیں، اور سب عورتوں سے کہیں زیادہ شوہر کے حقوق سے انہیں کامل واقفیت حاصل تھی۔ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کی اس صاحبزادی سے خلیفہ عبدالمالک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کیلئے پہلے سے پیغام بھیجا تھا، ان دنوں ولید ولی عہد تھا، لیکن حضرت سعید رحمہ اللہ نے انکار فرمادیا۔ اس واقعہ سے یہی سبق ملتا ہے کہ مال داری کی بجائے دین داری اور شرافت کو معیار بنانا چاہیے۔ 
اس واقعے سے حسب ذیل عبرت آموز سبق ملتا ہے:

1۔ ایک پڑھی لکھی حسین و جمیل لڑکی جو ایک جلیل القدر محدث تابعی کی پروردہ بچی تھی۔

2۔ شہر میں اس کے علم اور حسن و جمال اور سیرت و کرادر کے چرچے تھے اسے اچھے سے اچھا رشتہ مل سکتا تھا۔

3۔ لیکن لڑکی کے باپ نے لڑکی کو ایسی تعلیم دی تھی کہ حکومتِ وقت کے ولیعہد کی ملکہ بننے کے بجائے اس نے ایک غریب طالب علم کی بیوی بننے کو ہنسی خوشی منظور کیا اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے کی یہ شاندار مثال پیش کی جو ایک مسلمان لڑکی کے لئے تاریخ میں ہمیشہ سنہرے لفظوں میں لکھی جاتی رہے گی۔

4. باپ نے بچی کو پوچھے بغیر رشتہ طے کرلیا تھا اور بچی نے باپ کے فیصلے کو سنتے ہی سر تسلیم خم کردیا اور اپنے علم و عمل اور باپ کی علمی حیثیت اور خاندان کی عزت کو چار چاند لگا دیا، دنیا ایسی مثالی خاتون کو ہمشہ محبت، عقیدت، عزت و احترام سے یاد کرتی رہے گی اور اسلامی تاریخ ایسی بچیوں پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔
حوالہ :
("تابعین" از شاہ معین الدین ندوی / ابن خلکان جلد اول ص 207 )

آزاد رہ کر

اللہ تعالی نے مولویوں کو عجیب الفطرت بنایا ہے، یہ کبھی تولہ اور کبھی ماشہ ہوتے ہیں، تو کبھی شاخ گل اور کبھی آتش فشاں- آئیے آج کی تحریر میں علمائے امت کے انہی روپ ریکھاؤں کا تجزیہ کرتے ہیں-

مولوی مہتمم کی نظرمیں :

مولوی اگرکسی ادارےکامدرس ہوتو وہ مہتمم کے لئے 'بہو' کی طرح ہوتا ہے اور مہتمم 'ساس' کی طرح-جس طرح کھڑوس ساس اپنی بہو پر خطرناک نظریں ڈالتی ہے، اسی طرح مہتمم بھی اپنےمدرس پر 'پینی ' نظر رکھتا ہے- استاذ خواہ کتنی ہی محنت اور جفاکشی کا مظاہرہ کرے، مہتمم کے خیال میں وہ نکما اور نکھٹو ہے- تدریس کتنی ہی عمدہ اور معیاری کیوں نہ ہو، یہ دیوث مدرس کی محنتوں میں بلاوجہ کیڑے نکالتا ہے- مہتمم خود تو وزارت عظمی کے مزے لوٹتا ہے، مگر مولوی کی تن خواہ بڑھاتے وقت ملک الموت سے پالا پڑجاتا ہے- جان نکلنےلگتی ہے-بے چارے غریب ملّا کمائی اور 'آوک' کا کوئی دوسراراستہ بھی نہیں نکال سکتا، ورنہ اسے 'باب الخروج' دکھا دیاجائےگا- مہتمم نماز نہ پڑھے توکوئی مضائقہ نہیں، مگر مولوی نہ پڑھے تو دائرۂ اسلام سے خارج اور مدرسہ سے برطرفی کا مستحق-

مولوی 'مولوی' کی نظر میں :

مدرسے میں کوئی نیا مولوی آجائے تو قدیم مولوی یہ سمجھتا ہےکہ 'سوتن' آگئی- اس کے پیچھے اس طرح پڑتا ہے کہ 'سی بی آئی' والے کیا پڑیں گے!! کس استاذ کے پاس طلبہ کی زیادہ آمدورفت ہے؟ کس مدرس کی طرف طلبہ کا رجوع زیادہ ہے؟ بس اسی ادھیڑبن میں قیمتی اوقات کاخون- مہتمم کی چاپلوسی کرکے کس طرح فلاں مدرس کو نکالا جائے؟ وہ کون سا حیلہ ہو کہ مدیر الجامعہ فلاں مولوی کو 'گول گول' گھما دے؟ انہی پیچ و تاب میں ہمہ وقت غلطاں- ایک دوسرے سے اس قدر نفرت کہ مخالفین اسلام کو مات دے جائیں- اس درجہ کدورت کہ اگر اسلام میں خونریزی جائز ہو تو یہ پہلا وار اپنی 'سخت جان سوکن ' پر کریں- ہر مولوی دوسرے کی نظر میں مفسد و مخرب- ہرایک دوسرے کی سیاست مکروہہ کا شکار-

مولوی طلبہ کی نظر میں :

مدرس اگر اولوالعزم اور سوزدروں کا حامل ہے اور طلبہ کو کچھ دینا چاہتا ہے، تووہ سب سے بڑا 'کرمنل ' ہے- ڈھیلا ڈھالا مدرس صوفی اور باخدا ہے، لیکن اصول پسند استاذ 'لکع ابن لکع'- ایسے مدرسین سے جان چھڑوانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں- اگر ایسے استاذ کے گھر کوئی آفت ٹوٹ پڑے تو طلبہ خوشیاں منائیں، مدرس کانام زبان پر آتےہی مغلظات بکیں، اس کی چپل اٹھاکر پھینک دیں، اور کوئی بس نہ چلے تو کسی حریف مدرس سے سازباز کرکے مہتمم تک ان کے نایاب قصور پہنچائیں-

مولوی عوام کی نظرمیں :

یہ لوگ چندہ خور اورزکوۃ خورہیں، انہیں تروی کرنا نہیں آتا، بلکہ ترقی کاخواب بھی ان کےبس کا روگ نہیں- یہ لوگ مال حرام کھانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے- یتیموں کے نام پر مال سمیٹ کر اپنی بلڈنگیں کھڑی کرتےہیں، بینک بلینس سےاپنا بیک گراؤنڈ مضبوط کرتے ہیں- لیکن اگر مولوی خستہ حال ہوتو عوام کا تبصرہ بدل جائےگا- انھوں نے ہی قوم کو آگےبڑھنے سے روک دیا- اسلام کی غلط تشریح کرتے پھر رہے ہیں- یہ مولوی کیا ہوئے، جوگی ہوگئے، وغیر ذالک من الالزامات

مولوی مقتدی کی نظرمیں :

امام صاحب کی تقریر زوردار نہیں، وہ ادھر ادھر کے موضوعات پر بولتے ہیں، چھ نمبر پر بات نہیں کرتے- ارےانہوں نےتوچلہ بھی نہیں لگایا، انھیں بھگاؤ- ارے یہ تو پان کھاتا ہے اور سیلری بڑھانے کی بات کرتا ہے ،اسےچلتا کرو- یہ تو ہماری باتوں پر توجہ ہی نہیں دیتا، بس ٹیوشن کاٹینشن لئے رہتاہے ،اس لئے ہمیں اس کی قطعی ضرورت نہیں- ہماری نماز ان کے پیچھے نہیں ہوگی، اسےرخصت کرو

مولوی حکومت کی نظرمیں :


مولوی بس اسلام کی بات کرتاہے ،لہذا وہ........

تحریر:   مولانا فضیل احمد ناصری صاحب

Tuesday, 23 August 2016

کیا بھینس کی قربانی جائز ہے؟

آج کل بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں
عند الاحناف اس کے کیا دلائل ہیں؟
مفصل ومدلل بحث فرمائیں

الجواب وبا اللہ التوفیق
اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ
بھینس گائے کی ایک قسم ہے، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے
امام ابن المنذر فرماتے ہیں:
’’ واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر‘‘
اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔
(الاجماع کتاب الزکاۃ ص۴۳حوالہ:۹۱)
ابنِ قدامہ لکھتے ہیں:
’’ لا خلاف فی ھذا نعلمہ‘‘
اس مسئلے میں ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں۔(المغنی ج۲ص۲۴۰مسئلہ:۱۷۱۱)

احناف کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں

جانوروں کی نسل کا اعتبار ہو گا، علاقائی ناموں کا نہیں
انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت ِمسلمہ کے نزدیک اجماعی و اتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں کی خواہ کوئی بھی نسل ہو اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی نام دیتے ہوں، اس کی قربانی جائز ہے۔ مثلاً بھیڑ کی نسل میں سے دنبہ ہے۔ اس کی شکل اور نام اگرچہ بھیڑ سے کچھ مختلف بھی ہے، لیکن چونکہ وہ بھیڑ کی نسل اور قسم میں شامل ہے، لہٰذا اس کی قربانی مشروع ہے۔ اسی طرح مختلف ملکوں اور علاقوں میں بھیڑ کی اور بھی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں جو دوسرے علاقوں والوں کے لئے اجنبی ہیں اور وہ انہیں مختلف نام بھی دیتے ہیں۔اس کے باوجود ان سب کی قربانی بھیڑ کی نسل و قسم ہونے کی بنا پر جائز اور مشروع ہے۔اسی طرح اونٹوں وغیرہ کا معاملہ ہے۔
قربانی کے جانوروں میں سے ایک ''بقر'' (گائے) بھی ہے۔ اس کی قربانی کے لئے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان کی قوم کو ''بقر'' ذبح کرنے کا حکم دیا، لیکن قومِ موسیٰ نے اس کی ہیئت و کیفیت کے بارے میں سوال پر سوال شروع کر دیے جس کی بنا پر انہیں سختی کا سامنا کرنا پڑا۔سورہئ بقرہ کی کئی آیات اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
انہی آیات کی تفسیر میں امام المفسرین، علامہ ابوجعفر، محمد بن جریر بن یزید بن غالب، طبری رحمہم اللہ (310-224ھ) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین اور اہل علم رحمہم اللہ کا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :
إِنَّھُمْ کَانُوا فِي مَسْأَلَتِھِمْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مُوسٰی ، ذٰلِکَ مُخْطِئِینَ، وَأَنَّھُمْ لَو کَانُوا اسْتَعْرَضُوا أَدْنٰی بَقَرَۃٍ مِّنَ الْبَقَرِ، إِذْ أُمِرُوا بِذَبْحِھَا، ۔۔۔۔۔، فَذَبَحُوھَا، کَانُوا لِلْوَاجِبِ عَلَیْھِمْ، مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ فِي ذٰلِکَ، مُؤَدِّینَ، وَلِلْحَقِّ مُطِیعِینَ، إِذْ لَمْ یَکُنِ الْقَوْمُ حُصِرُوا عَلٰی نَوْعٍ مِّنَ الْبَقَرِ دُونَ نَوْعٍ، وَسِنٍّ دُونَ سِنٍّ، ۔۔۔۔۔، وَأَنَّ اللَّازِمَ کَانَ لَھُمْ، فِي الْحَالَۃِ الْـأُولٰی، اسْتِعْمَالُ ظَاھِرِ الْـأَمْرِ، وَذَبْحُ أَيِّ بَھِیمَۃٍ شَاءُ وا، مِمَّا وَقَعَ عَلَیْھَا اسْمُ بَقَرَۃٍ .
''قومِ موسیٰ،گائے کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے سوالات کرنے میں غلطی پر تھی۔ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیاتھا، اس وقت وہ گائے کی کوئی ادنیٰ قسم بھی ذبح کر دیتے تو حکم الٰہی کی تعمیل ہو جاتی اور ان کا فرض ادا ہو جاتا، کیونکہ ان کے لئے گائے کی کسی خاص قسم یا کسی خاص عمرکا تعین نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ ان کے لئے ضروری تھا کہ پہلی ہی دفعہ ظاہری حکم پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا جانور ذبح کر دیتے، جس پر 'بقر' کا لفظ بولا جاتا تھا۔''
(جامع البیان عن تأویل آي القرآن [تفسیر الطبري] : 100/2)
معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ گائے ذبح کرنے کا حکم فرمائے تو گائے کی کوئی بھی قسم یا نسل ذبح کرنے سے حکم الٰہی پر عمل ہو جاتا ہے اور یہ بات لغت ِعرب میں اور اہل علم کے ہاں طَے ہے کہ جس طرح بختی، اِبِل(اونٹ) کی ایک نسل ہے، اسی طرح بھینس، بقر (گائے) کی ایک نسل و قسم ہے ۔
اس سلسلے میں ہم ہر دور کے چیدہ چیدہ علمائے لغت ِعرب کے اقوال پیش کرتے ہیں:
1 لیث بن ابوسلیم تابعی(اختلط في آخر عمرہٖ)(م : 138/148ھ)کا قول ہے :
اَلْجَامُوسُ وَالْبُخْتِيُّ مِنَ الْـأَزْوَاجِ الثَّمَانِیَۃِ .
''بھینس(گائے کی ایک قسم) اور بختی (اونٹ کی ایک قسم) ان آٹھ جوڑوں میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔''
(تفسیر ابن أبي حاتم : 1403/5، وسندہ، حسنٌ)
2 لغت و ادب ِعربی کے امام، ابومنصور، محمدبن احمد، ازہری، ہروی رحمہم اللہ (370-282ھ) فرماتے ہیں :
وَأَجْنَاسُ الْبَقَرِ، مِنْھَا الْجَوَامِیسُ، وَاحِدُھَا جَامُوسٌ، وَھِيَ مِنْ أَنْبَلِھَا، وَأَکْرَمِھَا، وَأَکْثَرِھَا أَلْبَانًا، وَأَعْظَمِھَا أَجْسَامًا .
''گائے کی نسلوں میں سے جوامیس(بھینسیں) ہیں۔اس کی واحد جاموس ہے۔ یہ گائے کی بہترین اورعمدہ ترین قسم ہے۔ یہ گائے کی سب اقسام میں سے زیادہ دودھ دینے والی اور جسمانی اعتبار سے بڑی ہوتی ہے۔''
(الزاھر في غریب ألفاظ الشافعي، ص : 101)
3 امامِ لغت ،علامہ، ابوالحسن،علی بن اسماعیل، المعروف بہ ابن سیدہٖ(458-398ھ) لکھتے ہیں :
وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے کی ایک نسل ہے۔''
(المحکم والمحیط الأعظم : 283/7)
4 عربی زبان کے ادیب اور لغوی ،ابوالفتح، ناصربن عبد السید، معتزلی، مطرزی (610-538ھ) لکھتے ہیں :
وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے ہی کی نسل سے ہے۔''
(المغرب في ترتیب المعرب، ص : 89)
5 مشہور فقیہ ومحدث ،علامہ عبد اللہ بن احمدبن محمد، المعروف بہ ابن قدامہ، مقدسی رحمہم اللہ (620-541ھ) فرماتے ہیں :
وَالْجَوَامِیسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَالْبَخَاتِي نَوْعٌ مِّنَ الْإِبِلِ .
''بھینسیں، گائے کی نوع (نسل) سے ہیں اور بختی، اونٹوں کی نوع (نسل) سے۔''
(الکافي في فقہ الإمام أحمد : 390/1)
6 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جد امجد، محدث و مفسر، ابوالبرکات، عبد السلام بن عبد اللہ،حرانی رحمہم اللہ (652-590ھ) فرماتے ہیں:
وَالْجَوَامِسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینسیں، گائے کی ایک نوع (نسل) ہیں۔''
(المحرّر في الفقہ علٰی مذہب الإمام احمد بن حنبل : 215/1)
7 شارحِ صحیح مسلم، معروف لغوی، حافظ ابوزکریا، یحییٰ بن شرف، نووی رحمہم اللہ (676-631ھ)، ابواسحاق شیرازی(474-393ھ) کی کتاب التنبیہ في الفقہ الشافعي کی تشریح و تعلیق میں فرماتے ہیں :
وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ
وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ ۔۔۔۔۔، قَالَ الْـأَزْھَرِيُّ : أَنْوَاعُ الْبَقَر، مِنْھَا الجَوَامِیسُ، وَھِيَ أَنْبَلُ الْبَقَرِ .
''مصنف کا [وَالْجَوَامِیسُ وَالْبَقَرُ] کہنا قابل اعتراض ہے، انہوں نے گائے اور بھینس کو گائے کی نسلیں قرار دیا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گائے ہی گائے کی دو نسلوں(بھینس اور گائے میں سے)ایک نسل ہو؟۔۔۔ازہری کہتے ہیں کہ بھینس، گائے کی ایک نوع ہے اور یہ گائے کی تمام نسلوں سے عمدہ ترین نسل ہے۔ ''
(تحریر ألفاظ التنبیہ، : 106)
8 لغت ِعرب میں امام وحجت کا درجہ رکھنے والے علامہ، ابوالفضل، محمدبن مکرم، انصاری، المعروف بہ ابن منظور افریقی (711-630ھ) فرماتے ہیں :
وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے کی ایک نسل ہے۔''
(لسان العرب : 43/6)
9 معروف لغوی، علامہ ابوالعباس، احمد بن محمد بن علی، حموی (م:770ھ) لکھتے ہیں :
وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے کی ایک نسل ہے۔''
(المصباح المنیر في غریب الشرح الکبیر : 108/1)
0 لغت ِعرب کی معروف و مشہور کتاب ''تاج العروس'' میں مرقوم ہے :
اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے کی نسل سے ہے۔''
(تاج العروس من جواھر القاموس لأبي الفیض الزبیدي : 513/15)
! لغت ِعرب کی معروف کتاب ''المعجم الوسیط'' میں ہے :
اَلْجَامُوسُ حَیَوَانٌ أَھْلِيٌّ، مِنْ جِنْسِ الْبَقَرِ .
''بھینس، گائے کی نسل سے ایک گھریلو جانور ہے۔'' (المعجم الوسیط : 134/1)
نیز اسی کتاب میں لکھا ہے :
اَلْبَقَرُ : جِنْسٌ مِّنْ فَصِیلَۃِ الْبَقَرِیَّاتِ، یَشْمَلُ الثَّوْرَ وَالْجَامُوسَ .
''بَقَر، گائے کے خاندان سے ایک جنس ہے جو کہ بَیل (گائے) اور بھینس پر مشتمل ہے۔'' (المعجم الوسیط : 65/1

نیز اسی کتاب میں لکھا ہے :
اَلْبَقَرُ : جِنْسٌ مِّنْ فَصِیلَۃِ الْبَقَرِیَّاتِ، یَشْمَلُ الثَّوْرَ وَالْجَامُوسَ .
''بَقَر، گائے کے خاندان سے ایک جنس ہے جو کہ بَیل (گائے) اور بھینس پر مشتمل ہے۔'' (المعجم الوسیط : 65/1
  بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے۔ اگر بھینس ،گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا، نہ کہ کچھ اور۔ جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں۔ ان کے لئے عرض ہے کہ بھینس کے لئے عربی میں لفظ ِ''جاموس'' استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیاہے۔ فارسی میں یہ نام ''گاؤمیش'' تھا۔ عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ''جاموس'' ہو گیا۔ اس بات کی صراحت لغت ِعرب کی قریباً تمام امہات الکتب میں لفظ ''جاموس'' کے تحت موجود ہے۔اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ''گاؤ'' (گائے) موجود ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے۔ چونکہ گائے کی یہ نسل (بھینس) عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی، بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی، عربوں کے ہاں معروف نہ تھی، اسی لئے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا۔
اس کی وضاحت کے لئے ہم معروف عرب عالم ومفتی، شیخ محمدبن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421-1347ھ) کا قول نقل کرتے ہیں۔ ان سے بھینس کی قربانی کے بارے میں سوال ہوا اور پوچھا گیا کہ جب بھیڑ اور بکری دونوں کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا ہے (حالانکہ یہ ایک ہی نسل [غنم] سے ہیں) تو بھینس اور گائے دونوں کا ذکر کیوں نہیں کیا (اگر یہ بھی ایک ہی نسل ہیں)؟
تو انھوں نے فرمایا :
اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذَکَرَ، فِي الْقُرْآنِ، الْمَعْرُوفَ عِنْدَ الْعَرَبِ الَّذِینَ یُحَرِّمُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَیُبِیحُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَالْجَامُوسُ لَیْسَ مَعْرُوفًا عِنْدَ الْعَرَبِ .
''بھینس، گائے ہی کی نسل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں صرف ان جانوروں کا ذکر کیا ہے، جو عربوں کے ہاں معروف تھے۔ (دور جاہلیت میں) عرب اپنے پسندیدہ جانوروں کو حلال اور اپنے نا پسندیدہ جانوروں کو حرام قرار دےتے تھے۔ بھینس تو عربوں کے ہاں معروف ہی نہ تھی (اور مقصد حلت و حرمت بتانا تھا، نہ کہ نسلیں)۔''
(مجموع فتاوی ورسائل فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین :
اخیر میں علمائے اہل حدیث کے فتاوے اور تحقیق ملاحظہ ہو

قربانی کے جانور:

قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ … الایۃ۔وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ …الایۃ
(سورۃ الانعام:143)
ترجمہ: آٹھ نر مادہ ہیں دو بھیڑوں میں سے، دوبکریوں میں سے، دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔
نوٹ: بھینس گائے کے حکم میں ہے اور بھینس کی قربانی جائز ہے۔

بھینس کی قربانی جائز ہے:

وَاجْمَعُوْا عَلٰی اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسَ حُکْمُ الْبَقَرَۃِ ۔
(کتاب الاجماع امام ابن منذر ص37)
ترجمہ: أئمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔ (یعنی دونوں کا حکم ایک ہے) .
قاضی محمد عبداللہ ایم اے ایل ایل بی (خانپوری ) کا فتویٰ:
تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب بہیمۃ الانعام (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔
( ہفت روزہ الاعتصام لاہور  ج20 شمارہ42 ،43 ص9)

بھینس کی قربانی غیرمقلدین علماء کی نظر میں:

مولوی ثناء اللہ امرتسری کا فتویٰ:
جہاں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے وہاں یہ الفاظ مرقوم ہیں
قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا‘‘
(سورۃ الانعام:145)
ان چیزوں کے سواء جس چیز کی حرمت ثابت نہ ہو وہ حلال ہے. بھینس ان میں نہیں اس کے علاوہ عرب لوگ بھینس کو بقرہ (گائے ) میں داخل سمجھتے ہیں۔
تشریح:
ہاں، اگر اس (بھینس ) کو جنس بقر (گائے کی جنس) سے مانا جائے یا عموم بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکم جواز قربانی کے لئے یہ علت کافی ہے۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص807اخباراہل حدیث ص11 دہلی)
حافظ محمد گوندلوی کا فتوی:
بھینس بھی بقر میں شامل ہے اس کی قربانی جائز ہے۔
(ہفت روزہ الاعتصام ج20 شمارہ9،10،ص 29 )
بدالقادر حصاروی ساہیوال کا فتویٰ:
خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری گائے کی (قربانی ) مسنون ہے اور بھینس بھینسا کی قربانی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز لکھنے والے کا مسلک واضح نہیں ہے۔
(اخبار الاعتصام ج26  شمارہ150 بحوالہ فتوی علمائے حدیث ج13 ص71 ) 6.

ابوعمر عبدالعزیز نورستانی کافتویٰ:

مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر میری رائے میں ان علماء کا مؤقف درست اور صحیح ہے جو (بھینس کی قربانی کے) قائل ہیں۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ، از حافظ نعیم الحق ملتانی ص154) 7.

حافظ عبدالقہار نائب مفتی جماعت غرباء اہلحدیث کراچی کا فتویٰ:

واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور اس کی قربانی کرنا درست ہے۔ کیونکہ گائے کی جنس سے ہے گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی جائز و درست ہے اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے تو گائے کے ہم جنس   بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہو جائے گی۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص156) 8.

حافظ احمداللہ فیصل آبادی کا فتویٰ:

میری کئی سال کی تحقیق ہے کہ بھینسے کی قربانی جائز ہے لہٰذا میں آپ کے ساتھ بھینسے کی قربانی کرنے میں متفق ہوں۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص159) 9.
پروفیسر سعد مجتبیٰ السعیدی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آخر میں لکھتے ہیں کہ لہٰذا گائے کی مانند بھینس کی قربانی بلا تردد جائز ہے.
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص18 ) 10.
مولوی محمد رفیق الاثری پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
یہ مسئلہ کہ قربانی میں بھینس ذبح کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔سلف صالحین میں متنازعہ مسائل میں شمار نہیں ہوا چند سال سے یہ مسئلہ اہل حدیث عوام میں قابل بحث بنا ہوا ہے ۔جبکہ ایسے مسئلہ میں شدت پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.
احناف کی آخری دلیل کتاب المسائل میں ہے
وتجوز بالجاموس لانہ نوع من البقر
(البحر الرائق ۹/۳۲۴، تاتارخانیہ ۱۷/۴۳۴، شامی ۹/۴۶۶، المحیط البرھانی ۸/۴۶۸، فتاوی محمودیہ ڈابھیل ۱۷/۳۴۹)
(از کتاب المسائل ۲/۲۳۱)

Monday, 22 August 2016

حشرات سے تحفظ کی دعا

گھر میں کثرت سے سانپ نکلتے ہیں. غالباً مشکوہ شریف میں کسی باب کے تحت سانپ کے تعلق سے دعا منقول ہے.

دعاء يحفظ من هوام الأرض
هل يوجد دعاء يمكن للمرء أن يقوله لطرد الحشرات والهوام من المنزل ، مثل الفئران والجرذان وغيرها ؟
تم النشر بتاريخ: 2007-01-11
الحمد للَّه
حفظ المنزل من هوام الأرض يكون أوَّلاً باتخاذ الأسباب المناسبة ، من استعمال الأدوية التي تقتلها أو تطردها ، وإحكام إغلاق بعض المنافذ ، وإبعاد كل ما يجلبها عن المنزل ، ونحو ذلك مما يتخذه الناس لحفظ بيوتهم ومنازلهم .
وشريعتنا الحكيمة لا تقوم على الخوارق والكرامات ، بل تأمر ببذل الأسباب والاجتهاد فيها ، مع حسن التوكل على الله سبحانه وتعالى ، فلا ينبغي للمسلم أن يتواكل ويقعد عن اتخاذ الأسباب التي سنها الله في هذا الكون ، ويبحث كلما عرض له عارض ، أو عن له أمر ، عن الأدعية أو الأذكار التي يظن أن فيها قضاء حاجته ، من غير أن يأخذ بالأسباب المشروعة التي توصله إلى مراده .
وفي شأن حفظ المنزل من هوام الأرض جاءت بعض الأدعية التي علمنا إياها النبي صلى الله عليه وسلم ، فمن ذلك :
1- عن خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ قالت : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :
( مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ) رواه مسلم (2708)
يقول النووي في "شرح مسلم" (17/31) :
" قيل : معناه الكاملات التى لا يدخل فيها نقص ولاعيب ، وقيل النافعة الشافية ، وقيل المراد بالكلمات هنا القرآن " انتهى .
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ :
( جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ ! قَالَ : أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ تَضُرَّكَ ) رواه مسلم (2709)
يقول المناوي في "فيض القدير" (1/446) :
" إذا قال ذاك مع قوة يقين وكمال إذعان لما أخبر به الشارع ( لا يضره شيء ) من الهوام والمخلوقات ( حتى يرتحل عنه ) أي عن ذلك المنزل .
قال القرطبي : خبرٌ صحيحٌ وقولٌ صادقٌ ، فإني منذ سمعته عملت به فلم يضرني شيء ، فتركته ليلة فلدغنتي عقرب " انتهى .
2- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ :
( كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، وَيَقُولُ : إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ )
رواه البخاري (3371)
قال ابن حجر في "فتح الباري" (6/410) :
" هامة : بالتشديد واحدة الهوام ذوات السموم " انتهى .

يقول النووي في "شرح مسلم" (14/170) :
" قال كثيرون أو الأكثرون : يجوز الاسترقاء للصحيح لما يخاف أن يغشاه من المكروهات والهوام ، ودليله أحاديث : ومنها حديث عائشة فى صحيح البخارى : ( كان النبى صلى الله عليه وسلم اذا أوى إلى فراشه تفل فى كفه ، ويقرأ قل هو الله أحد والمعوذتين ، ثم يمسح بها وجهه وما بلغت يده من جسده ) والله أعلم " انتهى .
3- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ :
( يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ ، وَشَرِّ مَا فِيكِ ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ ، وَمِنْ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ ، وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ ، وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ )
رواه أبو داود (2603) وسكت عنه ، والنسائي في "السنن الكبرى" (6/144) ، من طريقين عن صفوان بن عمرو عن شريح بن عبيد عن الزبير بن الوليد عن ابن عمر به .
قلت : وهذا سند يحتمل التحسين في باب الأذكار ، فإن رجاله ثقات ، غير الزبير بن الوليد ، فهو من التابعين ولم يرد توثيق له ، إلا ذكر ابن حبان له في الثقات (4/261) ، وسكت عنه البخاري في "التاريخ الكبير" (3/410) ، وقال الذهبي في "الكاشف" (1/402) : ثقة .
لذا صححه الحاكم في "المستدرك" (1/615) ، وابن خزيمة (4/152) ، وحسنه الحافظ ابن حجر كما في "الفتوحات الربانية" (5/164) ، وإن كان ضعفه به الألباني في "السلسلة الضعيفة" (4837) .
قال في "عون المعبود" (7/189) :
" الأَسوَد : الحية العظيمة ، ( ومن ساكني البلد ) : قيل : الساكن هو الإنس ، سماهم لأنهم يسكنون البلاد غالبا ، وقيل : هو الجن ، ( ومن والد وما ولد ) قال الخطابي : ويحتمل أن يكون أراد بالوالد إبليس وما ولد الشياطين " انتهى .

غير أننا ننبه إلى أن هذه الأذكار والأدعية التي أوردناها إنما هي في الحفظ من شر هذه الهوام والدواب ؛ ولا يلزم من ذلك أن تطرد هذا الهوام ، فقد تكون موجودة حوله أو في بيته ، غير أنها لا تضره .

نسأل الله العظيم أن يحفظنا وإياكم من كل مكروه وسوء .
والله أعلم .

چائے ....اللہ بچائے!

ایس اے ساگر
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے اپنی والدہ کے علاج کے سلسلہ میں حکیم خواجہ آفتاب صاحب سے ملنا پڑا. ایک دن باتوں باتوں میں حکیم صاحب نے بتایا کہ چائے پینے سے عضو تناسل چھوٹا اور مادہ منویہ پتلا ہوجاتا ہے. گویا کہ چائے کا استعمال انگریزوں کی منظم سازش کا نتیجہ ہے تاکہ ہندوستانی نامرد ہوجائیں اور خواتین بدچلنی کی شکار ہوجائیں. لیکن اس کا کیا کیجئے کہ انٹرنیٹ پر شائع ایک پوسٹ سے پتہ چلا کہ جاپان میں ایک اساطیری داستان  زبان زد عام ہے کہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں ایک ممتاز بدھ راہب ہر وقت گیان دھیان میں مصروف رہتا تھا۔ اس کا نام کیمپفر تھا۔ اس نے ہر طرح کا آرام اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ کم کھانا، کم بولنا اور کم سونا۔ وہ مسلسل کئی کئی راتیں جاگ کر گزارتا تھا، مگر ایک دفعہ وہ فطری نیند کے ہاتھوں ایسا مجبور ہوا کہ نفس کشی کا ماہر ہونے کے باوجود، وہ نیند پر قابو نہ پا سکا اور خود بخود اس کی پلکیں بند ہوتی چلی گئیں۔ جب آنکھ کھلی تو اپنے نفس کی اس عیاشی پر بہت جھنجھلایا اور اسے سزا دینے کے لیے اپنی دونوں پلکیں اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیں۔ پلکوں کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہاں ایک پودا پھوٹ پڑا۔ بدھ راہب نے اس کے پتے توڑے اور چبانے کے لئے منہ میں رکھ لئے۔ اس کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب اسے ان کے چباتے ہی اپنے جسم میں ایک نئی قسم کی 'توانائی' محسوس ہوئی اور نیند اس سے کوسوں دور چلی گئی۔ بعد میں اس بودھ راہب نے نیند بھگانے کا یہ نسخہ اپنے شاگردوں کو بھی بتا دیا۔
مخزن الادویہ :
قریب دو سو سال قبل لکھی جانے والی معروف طبی کتاب مخزن الادویہ، میں پرانی عربی کتب سے حکیم مرزا قاضی کےحوالے سے ایک واقعہ درج ہے کہ زمانۂ قدیم میں چین کا ایک شہنشاہ اپنے ایک مصاحب سے ناراض ہو گیا اور اسے دیس نکالا دے دیا۔ وہ غریب مدتوں جنگلوں، ویرانوں اور پہاڑوں میں در بدر ٹھوکریں کھاتا رہا۔ کھانے پینے کی کوئی چیز اس کے پاس باقی نہ رہی۔ ایک دن بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر وہ ایک پہاڑ کے دامن میں ہمت ہار کر گر گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش آئی تو بھوک نے پھر تڑپا کر رکھ دیا۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے وہاں پر اُگی ہوئی ایک گھاس کے پتے توڑ توڑ کر کھانا شروع کر دیئے، مگر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے محسوس کیا کہ صرف اس کی بھوک کی تسکین ہی نہیں ہوئی بلکہ اس کے جسم میں نئی قوت بھی آ گئی ہے۔ کئی روز تک وہ دامن کوہ میں مقیم رہا اور اس گھاس کو بطور غذا استعمال کرتا رہا۔ جس سے اس کی صحت قابل رشک ہو گئی۔ وہ وہاں سے شہر لوٹ آیا اور بادشاہ کے مصاحبین اس سے عجیب و غریب گھاس کا ذکر کیا جو اس کی حیات نو کا سبب بنی۔
قومی مشروب :
مصاحبین سے یہ بات بادشاہ تک پہنچی۔ اس معتوب درباری کو طلب کیا گیا اور بادشاہ اس کی قابل رشک صحت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ شاہی طبیبوں کو اس کے ساتھ بھیجا گیا اور پہاڑوں سے وہ گھاس منگوا کر تجربہ کیا گیا تو وہی فوائد ظاہر ہوئے جو اس مصاحب نے بیان کیے تھے۔ چنانچہ اس وقت سے اس گھاس، یعنی چائے کا استعمال شروع ہو گیا۔ عرصہ دراز تک وہ بطور ٹانک شاہی خاندان اور امرائے حکومت تک محدود رہی۔ پھر عام لوگ بھی اسے استعمال کرنے لگے اور آہستہ آہستہ چین کے لوگوں کا قومی مشروب بن گئی۔
سیاحوں  کا دخل :
چائے کا پودا چین سے دوسرے تمام ملکوں میں مسلم سیاحوں کے ذریعے پہنچا۔ ایک مسلمان سیاح سلیمانی سیرانی، جس نے ابو زید سیرانی کے ساتھ کئی مرتبہ چین کا سفر کیا تھا اپنی تالیف سلسلۃ التاریخ مطبوعہ۸۵۱ء میں لکھا ہے:
’’چین میں ایک قسم کی گھاس پائی جاتی ہے۔ جسے وہاں کے لوگ جوش دے کر پیتے ہیں اور تمام شہروں میں بڑے وسیع پیمانے پر وہ گھاس بکتی ہے اس سے چینی حکومت کو بڑی آمدنی ہوتی ہے۔ وہاں کے لوگ اس گھاس کو ساخت چاہ کہتے ہیں۔ اس میں قدرے تلخی پائی جاتی ہے۔ اسے کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر پیتے ہیں اور بہت ہی مفید اور مقوی ٹانک سمجھتے ہیں جس کا کوئی دوسرا مشروب مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘‘
مقبولیت کے مدارج :
ساخ دراصل چائے ہی کا بگڑا ہوا نام ہے کیونکہ عرب ’چ‘ کا تلفظ ادا نہیں کر سکتے اس لیے’چاہ‘ سے ساخ بن گیا۔ سلیمانی سیرانی مزید لکھتا ہے کہ چین کے سرکاری خزانوں میں آمدنی کے تین ذریعے تھے۔ عرب تاجروں سے وصول کیا جانے والا ٹیکس، نمک اور یہ گھاس۔ چین کے سرکاری گزٹ میں اس کا تذکرہ موجود ہے کہ۷۹۳ء میں چائے بطور ٹیکس سرکاری خزانوں میں جمع کروائی جاتی تھی۔ صدیوں تک چائے بہت مہنگے داموں بکتی رہی۔ تبت کے تاجروں کے پاس جب کوئی چائے کا گاہک آتا تھا تو سوائے کستوری کے کسی اور چیز سے اس کا تبادلہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے شراب کی مضرت دور کرنے کے لیے استعمال میں لاتے تھے۔ جاپان میں اس کا باقاعدہ استعمال پندرھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ روس میں چائے پہلی بار  ۱۶۳۸ء میں وسطی منگولیا میں مقیم روسی سفیر ستارکوف کے ذریعہ ماسکو پہنچی۔ منگولیا کے حکمران التین خاں نے زار روس کو بطور تحفہ چائے کے دو سو پیکٹ ارسال کئے۔ ستارکوف اسے بیکار چیز سمجھتا تھا اور بادلِ نخواستہ اسے ماسکو لے گیا تھا، لیکن زارِ روس اور اس کے مصاحبوں کو اتنی پسند آئی کہ اسے قومی مشروب کا درجہ دے دیا گیا۔ سولہوی صدی کے آخر میں اہل پرتگال اس گھاس کو یورپ لائے۔۱۶۳۵ء میں پہلی بار پیرس پہنچی اور جلد ہی اس نے وہاں کے حکمرانوں کے دل میں گھر کر لیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی کارستانی :
حتیٰ کہ ۱۶۵۸ء میں شاہی باغات میں اس کی کاشت شروع کر دی گئی۔ سترھویں صدی میں ایک عیسائی مشنری جیوٹ ٹراگالٹ نے اپنے سفرنامے میں چائے کا تذکرہ کیا اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یوروپ کو چائے چکھانے کا سہرا ولندیزی ایسٹ اینڈیا کمپنی کے سر ہے۔ ۱۶۶۶ء میں لارڈ آرلنگٹن کے ذریعے براستہ ہالینڈ انگلستان پہنچی۔ اسی سال برطانوی پارلیمنٹ نے چائے کے متعلق ایک بل پاس کیا، جس کی رو سے تیار شدہ چائے کے ایک گیلن پر آٹھ پنس ٹیکس لگا دیا گیا۔ اہل یورپ جو اپنے آپ کو عقل و دانش کا سرچشمہ سمجھتے ہیں، مدتوں اس کےطریق استعمال کو نہ سمجھ سکے۔ وہ چائے کو پانی میں پکا کر اس کا عرق پھینک دیتے اور پتیاں چبا لیتے تھے۔ سالہا سال کے بعد انہیں اپنی اس حماقت کا احساس ہوا۔ ملکہ این کے زمانہ میں وہ، اس کے تمام وزراء و امراء سب اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو گئے اور پھر اس کی دلنواز خوشبو اور نظر نواز رنگت نے ہر چھوٹے بڑے کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور پھر یہ بازار کی زینت بن گئی۔
قریہ در قریہ مفت کا چسکا :
حکیم خواجہ آفتاب صاحب کے قول تائید میں کیا گیا  ہے کہ برصغیر میں چائے کے تعارف کا تعلق ہے وہ انگریز بہادر کے ذریعہ ہوا، جو تجارت کی آڑ میں ہندوستان میں قابض ہو گئے۔ جہاں جہاں ان کے قدم پہنچے وہاںوہاں چاہے بھی پہنچی۔ ۱۸۵۷ء میں جنگ آزادی کے بعد فرنگیوں نے جب پورے ملک پر قبضہ کر لیا تو چائے نے بھی اپنا تسلط جما لیا۔ انگریز تو ۱۹۴۷ء میں رخصت ہو گیا لیکن چائے کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی۔ برصغیر والوں نے چائے نوشی میں یوروپ اور چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے بغیر اب نہ کوئی تقریب مکمل ہوتی ہے، نہ مہمان نوازی کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔شروع شروع میں برصغیر اور خصوصاً پنجاب کے لوگوں نے چائے کی بے حد مخالفت کی، لیکن چائے کمپنیوں نے گاؤں گاؤں جا کر مفت چائے پلا کر اس کا ایسا چسکہ ڈالا کہ وہ غیر رسمی طور پر یہاں کا قومی مشروب بن کر رہ گئی۔ عام لوگوں کی تو بات ہی کیا، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے عالم بھی اس کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔
کتنے ہیں نام؟
اُردو، ترکی، چینی اور روسی میں چائے، فارسی میں چائے خطائی، پنجابی میں چاء، سندھی میں چانھ، پشتو میں ساؤ، عربی میں شائی، انگریزی میں ٹی TEA فرانسیسی میں تھائے اور لاطینی میں کوملیا تھیفرا Commllia Thefera کہتے ہیں۔ لفظ چائے، دراصل چینی زبان کا لفظ ہے، جو دو لفظوں سے مرکب ہے ’چا‘ اور ’ئے‘۔  چاء اس مشروب کو کہتے ہیں جس میں یہ بوٹی ڈال کر گرم کر کے اس کا عرق نکالا جاتا ہے اور ’ئے‘ پتی کو کہتے ہیں، جو پینے کے لیے نہیں بلکہ پھینکنے کےلیے ہوتی ہے۔ لغوی معنوں میں سبز گھاس کو کہا جاتا ہے لیکن اصطلاحاً  اسپودے کے لیے استعمال ہونے لگا جس سے ’چاء‘ بنائی جاتی ہے۔ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں اس کے لیے بولا جانے والا لفظ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ یا من و عن چینی زبان ہی سے اخذ کیا گیا ہے۔
مقام پیدائش :
چین، تبت، نیپال، سری لنکا، انڈونیشیا، برازیل، کینیا، ارجنٹائن، زمبابوے، آسام، اور بنگال۔ انگریز کا بنیا ذہن چین کی درآمدی تجارت کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے انیسویں صدی کے آخر میں چائے کے باغات اپنے مقبوضات میں لگانے شروع کئے اور ۱۹۲۶ء تک آسام اور بنگال کے۲۰۳۲۰۰ مربع ایکڑ پر چائے کی کاشت کی گئی تھی۔
کیا ہے ماہیت؟
چائے، ایک جھاڑی نما پودے کی پتیاں ہیں، جس کی اونچائی ایک گز یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا پودا بڑی حفاظت اور احتیاط کے ساتھ پرورش پاتا ہے۔ اس کے پودوں کو پہلے گملوں میں بویا جاتا ہے چھ ماہ بعد جب پنیری تیار ہوجاتی ہے تو بڑے بڑے قطعات زمین پر قطار اندر قطار بو دیا جاتا ہے۔ اس کی کاشت سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ بلند ایسی پہاڑی ڈھلوانوں پر کی جاتی ہے، جہاں بارش کی اوسط 56,60 انچ سالانہ ہو۔ اس کی پتیاں مہندی یا انار کے پتوں جیسی ہوتی ہیں، جن کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے دندانے ہوتے ہیں۔ شروع میں ان کا رنگ بھورا ہوتا ہے جو پختہ ہونے پر سبز ہو جاتا ہے۔ اس کا پھول سفید رنگ کا ہوتا ہے اور اتنا خوشبودار کہ میلوں تک اس کی مہک جاتی ہے۔ اس کے پتوں میں تلخی ہوتی ہے لیکن ابالنے سے زائل ہو جاتی ہے۔ چائے کی پتیاں تین سال بعد چننا شروع کی جاتی ہیں اور سال میں تین بار توڑی جاتی ہیں۔
ایک ہزار سے زائد اقسام :
چائے کی ایک ہزار سے زیادہ اقسام ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر خود رو ہیں، لیکن بلحاظ رنگت تین قسمیں زیادہ مشہور ہیں۔ سفید، سبز اور سیاہ۔ سب سے بہتر وہ سفید چائے ہے جو خوشبودار ہو اور جن کی پتیاں ادھ کھلی ہوں لیکن یہ قسم کم یاب ہے۔اس کے بعد سبز چائے کا نمبر آتا ہے مگر اس میں خشکی زیادہ ہوتی ہے۔ سب سے گھٹیا قسم سیاہ رنگت والی ہے جو ہمارے ہاں زیادہ تر استعمال کی جاتی ہے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور گھٹیا سے گھٹیا چائے ایک ہی پودے سے تیار کی جاتی ہے۔ سبز چائے ان پتیوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں تھوڑی دیر سکھا کر فوراً ہی اکٹھا کر لیا جاتا ہے۔ اس میں چائے کی تمام خصوصیات موجود رہتی ہیں۔ کالی چائے زیادہ دیر تک پڑے رہنے والے سوکھے پتوں سے تیار ہوتی ہے۔ زیادہ دیر تک
متعدد اقسام :
پڑے رہنے سے ان کا قدرتی سبز رنگ سیاہی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کالی چائے کے جن برانڈوں نے عالمی شہرت حاصل کی ہے ان میں ہائی سن، ہائی سن سکن، ینگ ہائی سن، ٹوانکی، امپیریل اور گن پاؤڈر شامل ہیں۔ بہت سے برانڈوں میں مختلف پھولوں اور پھلوں کی خوشبو شامل کر دی جاتی ہے۔ مثلاً گلاب،چنبیلی، زیتون، سنگترہ وغیرہ۔ بعض چائے کمپنیاں اپنی برانڈ کو کسی ایسے نشے کی پٹھ دے دیتی ہیں جس سے پینے والا اسی کا عادی بن جاتا ہے۔ بازاروں میں بکنے والی سبز چائے کا بیشتر حصہ عموماً مصنوعی طور پر رنگا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے جپسم، نیل اور ہلدی وغیرہ استعمال کی جاتی ہے۔
کیسی ہوتی ہے عمدہ چائے؟
عمدہ چائے کے بارے میں پرانی طبی کتب میں بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ ایک واقعہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ’’خطا‘‘ کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے شکار کیا اور اس کا گوشت چائے کی پتیوں سے ڈھانپ کر رکھ دیا۔ چند گھنٹوں بعد جب اسے نکالا گیا تو سارا گوشت گل چکا تھا۔ چنانچہ اس سے یہ نتیجہ برآمد کیا گیا کہ عمدہ چائے کھانے کو، خصوصاً گوشت کو بہت جلد ہضم کر دیتی ہے۔کیمیائی تجزیہ امریکہ میں کیمیا دانوں نے چائے کی اڑھائی ہزار کے مختلف برانڈوں کا تجزیہ کر کے جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق اس کے اجزاء کی تفصیل درج ذیل ہے :
تھی این کیفین سے ملتا جلتا ایک مرکب ہے، جسے ۱۸۳۸ء کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔ کیفین کافی میں ہوتی ہے اور تھی این چائے میں۔ جس طرح کیفین کی وجہ سے کافی نے مقبولیت حاصل کی اسی طرح تھی این چائے کو مقبول بنانے کا سبب بنی۔ اس کیموجودگی اعصابی تھکن کو دور کرنے کا کام کرتی ہے۔ ٹے نین چائے کا انتہائی ضرر رساں جزو ہے۔جس کی وجہ سے عادی چائے نوش دائمی قبض، خشکی، بے خوابی اور فم معدہ کے درد میں مبتلا ہو جاتےہیں۔ چائے کی پتی کو جتنا زیادہ جوش دیا جائے ٹے نین اتنی ہی زیادہ مقدار میں نکل کر نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے علاوہ ایک اور مرکب زینتھین بھی موجود ہوتا ہے جو معدہ میں فساد برپا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
طبیعت کی رعایت :
دوسرے درجہ میں گرم خشک ہے۔ اسی لئے گرم مزاج لوگوں کو نقصان دیتی ہے۔
تیار کرنے کا طریقہ :
چائے کے شائقین نے بڑے بڑے مشکل طریقے لکھے ہیں۔ چین کے مشہور ادیب لن یوتانگ نے اپنی تالیف ’جینے کی اہمیت‘ میں یہاں تک لکھا ہے کہ پینے والا خود ہی اپنے لیے چائے بنائے اور ایک وقت میں ایک برتن میں دو سے زائد کپ نہ بنائے جائیں، لیکن اس مصروف دور میں ہر شخص تو اس شغل چائے نوشی کے لیےوقت نہیں نکال سکتا۔ اس لیے ایک ایسی ترکیب درج کی جا رہی ہے جس پر ہر شخص عمل کر سکتا ہے۔چائے کی پتی کا ایک چمچ چائے دانی میں ڈالیں اور ایک دفعہ جوش دیا ہوا، کھولتا ہوا پانی جو چار پیالی کے لگ بھگ ہوا اس میں ڈال کر چائے دانی کو سرپوش سے بندکر کے ٹی کوزی سے ڈھانپ دیں یا کوئی موٹا کپڑا لپیٹ دیں۔ پانچ منٹ بعد مناسب مقدار میں دودھ اور چینی شامل کر کے نوش فرمائیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ پتی کو جوش نہ دیا جائے، یہ نقصان دہ ہے۔ دودھ اور بالائی کا زیادہ استعمال کیا جائے، یہ مضر اثرات کی اصلاح کرتی ہے۔
کیا ہیں فوائد؟
طبیعت میں فرحت و انبساط پیدا کرتی ہے۔ مقوی اعصاب ہے۔ پیاس کو بجھاتی ہے۔ درد سر کو دور کرتی ہے۔ پسینہ آور ہے، اس لیے بخار کو بھی اتارتی ہے۔ مصفی خون ہے۔ جسم اور رخساروں کی رنگت نکھارتی ہے۔ ریاح اور ورموں کو تحلیل کرتی ہے۔ چائے کی پتی کو گرم کر کے سخت پھوڑوں پر باندھیں تو انہیں نرم کرتی اور پھوڑتی ہے۔ بواسیر کا درد رفع کرتی ہے۔ کھانا کھانے کے بعد استعمال کرنا اکثر حالتوں میں ہاضم اثر رکھتی ہے۔ ایسی خواتین جنہیں ایام کی بندش ہو مفید ہے۔ اعصاب رحم کو تحریک دے کر اس شکایت کا ازالہ کرتی ہے۔ زکام کے مریض کے لیے نافع ہے۔ ضعفِ قلب کی وجہ سے ہونے والی حالت نزع میں اگر چائے کی ایک پیالی میں لونگ اور تھوڑی سی دار چینی ڈال کر دیں تو آب حیات کا کام کرتی ہے۔ دم کشی کی ایسی صورت میں جب بلغم پتلی ہو گئی ہو چائے کا قہوہ پینے سے خارج ہو جاتی ہے۔ آنکھیں دکھتی ہوں تو چائے کی پتی گرم کر کے پوٹلی بنا کر آنکھوں پر باندھنے سے درد دور ہو جاتاہے اور تڑپتا ہوا مریض سکون سے سو جاتاہے۔ سرد بلغمی مزاج والے افراد کے لیے ہر موسم میں اور گرم مزاج والوں کے لیے کسی حد تک موسم سرما میں مفید ہے۔
کیا ہیں نقصانات؟
چائے کا بکثرت استعمال جدید طبی تحقیقات کی رُو سے بے شمار نقصانات کا باعث بھی بنتا ہے۔ یہ طبیعت میں گرمی پیدا کر کے گرم امراض پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ بہت گرم چائے پینا یا چائے نوشوں کی لغت میں لب سوز چائے، پینا یا نہار منہ استعمال کرنا مضر صحت ہے۔ اس کی زیادتی سے بعض افراد کو رعشہ کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ نیند اُڑ جاتی ہے۔ پیشاب زیادہ لاتی ہے۔ دانت کمزور ہو جاتے ہیں۔ معدہ میں خراش پیدا کرتی اور بعض حالتوں میں ہاضمہ کو خراب کر دیتی ہے۔ قبض کی شکایت  کا سبب بھی بنتی ہے۔ جگر خراب ہونے سے خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ یہ خون کو فاسد کرتی ہے۔ بعض مردانہ امراض بھی اس کے کثرت استعمال سے لاحق ہو جاتے ہیں۔ خونی بواسیر کے مریضوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ دیر تک استعمال کرنے سے نظر کو کمزور دیتی ہے۔ اس لیے چائے کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کیا جائے،کیونکہ اس میں غذائیت بالکل نہیں ہوتی۔ صرف تازیانے کا کام کر کے وقتی طور پر چاق و چوبند کرتی ہے۔ کسی کو تردد ہو تو وہ قدرتی غذاؤں کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ نمبر 254 سے رجوع کر سکتا ہے.

Sunday, 21 August 2016

توحید، کفر، شرک، الحاد، بدعت و ضلالت کی تعریف اور ان کے اقسام

توحید، کفر، شرک، الحاد، بدعت
و ضلالت کی تعریف اور ان کے اقسام
مع احکام قدرے وضاحت کے ساتھ
مطلوب ہے... 
بحوالہ مدلل اس پر روشنی ڈالیں

الجواب وباللہ التوفيق
توحید کہتے ہیں ذات و صفات میں الله تعالی کو یکتا ماننا ، کہ اس کارخانۂ عالم کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہے، اور اس میں بلا شرکتِ غیر ہر حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، وہ فاعلِ مختار ہے، ذات و صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں.

توحید کے چار مراتب ہیں؛
۱)توحیدِ ذات: یعنی صرف الله تعالی کی ذات کو واجب الوجود ماننا، کسی اور کو اس صفت کے ساتھ متصف نہ ماننا.
(واجب وہ ہستی ہے جس کاعدم ممتنع ہو، اور وجود ضروری ولابدی ہو،
واجب لذاتہ وہ ہستی جس کا وجود ذاتی ہو یعنی خانہ زاد نہ ہو، وہ اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو.)
۲)توحیدِ خلق: یعنی عرش آسمان، زمین، اور دیگر تمام جواہر کا خالق صرف الله ہی کا جانناـ
۳)توحیدِ تدبیر: یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ آسمان وزمین اور ان کے ذریعہ تمام چیزوں کا نظم و انتظام صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی کائنات کامدبر و منتظم ہے، ان کے ساتھ کائنات کے نظم و انتظام میں کوئی شریک نہیں ہے، وہی پروردگار و پالنہار ہے، اس مرتبہ کا دوسرا نام توحیدِ ربوبیت ہےـ

۴)توحیدِ الوہیت: یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہیں، بندگی اور عبادت انھیں کا حق ہے، ان کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ـ

◀ایمان و کفر

ایمان کی تعریف علامہ آلوسی رحمہ اللہ :  الایمان ھو التصدیق بما علم مجیئ النبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم بہ ضروررتا تفصیلا فیما علم  تفصیلا او اجمالا فیما علم اجمالا.
علامہ کشمیری رحمہ اللہ ایمان کی تعریف: تصدیق النبی بما جاء بہ النبی بالاعتماد علی النبی.
شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ : کتاب اللہ کا ظاہرا و باطنا اقرار کرنا اور اس کے معانی پر قرآن و حدث کے موافق عمل کرناـ

کفر کی تعریف علامہ غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تکذیب النبی فی شیئ مما جاء بہ
مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کفر؛ جن امور کی تصدیق ایمان میں ضروری ہے،  ان میں سے کسی امر کی تکذیب کرنا.
دراصل تکذیب النبی کا نام ہی کفر ہے پھر اس کی چند صورتیں ہیں اور انھیں صورتوں کی وجہ سے کفر کی چند قسمیں ہوجاتی ہیں.
۱)کفر انکار: جو شخص دل و زبان سےشدت کے ساتھ اسلام کا انکار کرتا ہے، یہ کفرِ انکار ہے اسی پر عام کفار ہیں.
۲)کفرِ جحود:  وہ یہ ہے کہ دل سے اسلام کو دین ِ حق سمجھتا ہو، اس کی حقانیت کا قائل ہو،  مگر زبان سے اقرار نہیں کرتا، بلکہ انکار کرتا ہے، یعنی خوب جانتا ہے مگر مانتا نہیں جیسے کفرِ ابلیس اور عہد نبوی کے یہود.
۳) کفرِ عناد ؛ وہ یہ ہے کہ اسلام کو دل سے سچا جانتا ہے اور اس کا اقرار بھی کرتا ہے، لیکن دینِ حق کے علاوہ ادیانِ باطلہ سے بیزار نہیں ہوتا اور دین حق کی اتباع نہیں کرتا،  جیسے ہرقل اور ابو طالب کا کفر
۴)کفرِ نفاق: وہ ہے کہ دل میں تکذیب و انکار ہے اور  زبان پر دنیوی مصلحت اور اغراضِ فاسدہ کی بنا پر اقرار ہے، قادیانی، شیعہ وغیرہ.
۵)کفرِ الحاد و زندقہ : وہ یہ ہے کہ دین کو بھی سچا جانتا ہو، قرآن و حدیث کو بھی تسلیم کرتا ہو، مگر قرآن و حدیث کے کسی نصوص کی اس طرح تاویل کرے کہ جو قرآن و حدیث کے کسی قطعی تصریحات کے خلاف خود ساختہ قول پر محمول ہو. جیسے بعض متجددین کا کفر.
(توضیحات و جواہر الفقہ)

 تفسیر القرطبی میں مذکور ہے:
”الالحاد: المیل والعدول، ومنہ اللحد فی القبر، لانہ میل الی ناحیة منہ“۔ 
اوراصطلاح میں:
ملحد اس شخص کو کہتے ہیں جوبظاہر تو دین حق کا اقرار کرتا ہے، لیکن ضروریات دین میں سے کسی امر کی ایسی تعبیر وتشریح کرتا ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ، نیز اجماع امت کے خلاف ہے تو وہ ملحد ہے، مثلاً :ایک شخص قرآن کے حق ہونے کا تو اقرار کرتا ہے اور اس میں جنت ودوزخ کا جو ذکر آیا ہے، اس کو بھی مانتا ہے، مگر کہتا ہے کہ جنت سے مراد وہ فرحت ومسرت ہے جو مؤمنین کو اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کی وجہ سے حاصل ہوگی اور نار جہنم سے مراد وہ ندامت و اذیت ہے جو کافروں کو اعمال شنیعہ اور اخلاق ذمیمہ کی وجہ سے حاصل ہوگی اور کہتا ہے کہ جنت اور دوزخ کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں، تو یہ ملحد و زندیق ہے۔
”فان الزندیق یموّہ کفرہ ویروّج عقیدتہ الفاسدة ویخرجہا فی الصورة الصحیحة وہذا معنی ابطال الکفر“۔ (فتاوی شامی ۴/۲۴۲،ط:ایچ ایم سعید)
ترجمہ: ”زندیق اپنے کفر کی ملمع سازی کرتا ہے اور اس کو صحیح صورت میں ظاہر کرتا ہے، یہی معنی ہے کفر کو چھپانے کا“۔
یعنی اصطلاح میں عام طور سے 'الحاد' ایسے انحراف کو کہا جاتا ہے کہ ظاہر میں تو قرآن اور اس کی آیات پر ایمان وتصدیق کا دعویٰ کرے، مگر اس کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن وسنت کی نصوص اور جمہور امت کے خلاف ہوں اور جس سے قرآن کا مقصد ہی الٹ جائے، جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
”وقال ابن عباس رضی اللہ عنہ : ہو تبدیل الکلام ووضعہ فی غیر موضعہ“۔
(تفسیر القرطبی، سورہ حم سجدہ:۴۰)
ترجمہ:۔”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'الحاد' کلام کو تبدیل کرنے اور اس کو غیر محمل پر حمل کرنے کو کہا جاتا ہے“۔
(ماخوذ از نت)

◀شرک

شرک ایک گھناؤنا جرم ہے، جو عقل و دانش کے حوالے سے انسانی فطرت پر ایک بدنما داغ ہے، شرک سے انسان اپنے خالق پر سب سے بڑا افتراء باندھتا ہے، اور اپنی تخلیق اور فطری استعداد کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اسی وجہ سے اس کو قرآن کریم میں ظلم عظیم کہا ہے، حدیث میں درجاتِ کبائرمیں سرفہرست رکھا گیا،
شرک کی تعریف میں شاہ وصی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: جو صفات خاص اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور میں ثابت کرنا،
حجۃ اللہ میں ان اس طرح تعریف فرمائی: شرک کی حقیقت یہ ہے کہ کسی بڑے آدمی ی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے، کہ اس سے جو آثارِ عجیبہ صادر ہوئے ہیں، وہ صرف اس وجہ سے صادر ہوئے ہیں کہ وہ صفاتِ کمالیہ میں کسی ایسی صفت کے ساتھ متصف ہے جوانسان میں نہیں پائے گئے، بلکہ واجب تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، ان کے علاوہ میں نہیں پائے جاسکتے.
بالفاظ دیگر عبادت وبندگی جوطریقہ اور جو افعال ذاتِ باری تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ مخصوص ہیں، وہ طریقہ و افعال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے بھی اختیار کرنا.
آسان لفظوں میں شرک غیر اللہ کی عبادت کرنے کا نام ہے،
اور عبادت غایت درجہ تذل،  عاجزی و انکساری کا نام ہے، یعنی باری تعالی کے سامنے اس کی انتہائی تعظیم کرکے خود کے عمل سے خود کو غایت درجہ کا عاجز و ذلیل قرار دینا، 
کون سا عمل غایتِ تذلیل ہے اور کون سا کم درجہ کا ہے یہ بات دو طرح سے متعین کی جاسکتی ہے،
۱)عمل کی حالت دیکھ کر جیسے سجدہ،
۲) نیت دیکھ کر جیسے قربانی کرناـ
شرک کی مزید وضاحت شرک کی ان صورتوں سے ہوجاتی ہے جن کو شاہ صاحب رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ میں بیان فرمایا:
۱)غیر اللہ کو سجدہ کرنا
۲)حوائج میں غیر اللہ سے مدد طلب کرنا
۳)کسی کو اللہ کا بیٹا یا نبی کہنا
۴)علماء و مشائخ و تحلیل و تحریم کا اختیار دینا
۵)غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرنا
۶)غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑنا
۷)غیر اللہ کی قسم کھانا (لوگ بعض انسانوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے نام بابرکت ومحترم ہیں ان کے ناموں کی جھوٹی قسم کھانا مال و آل میں نقصان کا باعث ہے)
۸)غیر اللہ کے آستانوں کا حج کرنا
۹)غیر اللہ کی طرف بندگی کی نسبت کرنا.
من اراد جل التوضیح فلیراجع "رحمۃ الله الواسعۃ"

ایک قسم شرک کی اور ہے جس کو شرکِ اصغر اور شرک خفی کہتے ہیں، یعنی ریاکاری، یعنی عبادت تو الله کی کی جائے لیکن نیت میں غیر الله کو شریک کرلینا.

◀بدعت

بدعت: لغوی طور پر نئے چیز اور نئے کام کرنے کو بدعت کہتے ہیں،
اور اصطلاح شرع میں ایسی کام کو ایجاد کرنا جس کی مثال و نظیر قرونِ مشہود لہا بالخیر میں نہ ظاہرا موجود ہوں نہ کنایۃ اور نہ کسی سے مستنبط ہو، اور اس کو حصول ثواب کی نیت سے کیا جائے، اور نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ رضی الله عنھم نے اس کی ضرورت ہونے کے باوجود نہیں کیا.
(یہ چند قیود ہیں تمام احترازی ہیں)
علامہ پالنپوری لکھتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ بدعت ہونے نہ ہونے کا مدار اس پر نہیں ہے کہ وہ کام خیر القرون میں ہوا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا مدار اس پر ہے کہ اس کی اصل خیر القرون میں موجود تھی یا نہیں، اگر اصل موجود تھی اور شاخیں بعد میں پھوٹیں اور برگ و بار لائیں، تو وہ بدعت نہیں ہے، ہاں جس کام کا اس مبارک زمانہ میں اصل ہی موجود نہ ہو اس کا سارا وجود ہی مابعد زمانہ میں ہوا ہو تو وہ بدعت ہے.
قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلام میں کوئی ایسی بات نکالنا جس کی کتاب و سنت سے نہ ہو نہ واضح نہ خفی نہ مصرح نہ مستنبط وہ مرود ہے.
قال النووي : البدعة كل شيء عمل على غير مثال سبق ، وفي الشرع إحداث ما لم يكن في عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (مرقات)
خلاصہ یہ کہ غیر دین کو دین میں داخل کرنا بدعت ہے.

مذکورہ بالا تعریف سے معلوم ہوگیا کہ بدعت فقط سیئہ ہیں اس کا کوئی فرد حسن نہیں ہے،
لہٰذا بدعت کی یہ تقسیم کرنے کی ذرا حاجت نہیں کہ بدعت بعض تو سیئہ ہیں اور بعضے حسنہ اس لئے کہ نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا " کل بدعۃ ضلالۃ"
اور حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ کا "نعمت بدعۃ ھٰذہ" کہنا لغوی معنی کے اعتبار سے تھا،لغوی مفہوم مطلق ایجاد کے معنی میں ہے اس میں تقسیم ہوسکتی ہے،
شرعی بدعت کے حوالہ سے مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
"اما ایں فقیر دریں مسئلہ بایشاں موافقت ندارد و ہیچ بدعت را حسنہ نمی داند و جز ظلمت و کدورت درآں احساس نمی نماید، قال علیہ وعلی آل علیہ الصلاۃ و السلام کل بدعۃ ضلالۃ"

بعض سلف سے جو تقسیم منقول ہے اس سے بدعتِ لغوی مراد جیسا کہ مرقاۃ مفاتیح میں ہے:

قال الشيخ عز الدين بن عبد السلام في آخر كتاب " القواعد " : البدعة إما واجبة كتعلم النحو لفهم كلام الله ورسوله وكتدوين أصول الفقه والكلام في الجرح والتعديل ، وإما محرمة كمذهب الجبريةوالقدرية والمرجئة والمجسمة ، والرد على هؤلاء من البدع الواجبة لأن حفظ الشريعة من هذه البدع فرض كفاية ، وإما مندوبة كإحداث الربط والمدارس ، وكل إحسان لم يعهد في الصدر الأول ، وكالتراويح أي بالجماعة العامة  والكلام في دقائقالصوفية ، وإما مكروهة كزخرفة المساجد وتزويق المصاحف يعني عند الشافعية وأما عند الحنفية فمباح ، إما مباحة كالمصافحة عقيب الصبح والعصر أي عند الشافعية أيضا ، وإلا فعند الحنفية مكروه ، والتوسع في لذائذ المآكل والمشارب ، والمساكن ، وتوسيع الأكمام.

والله تعالیٰ اعلم و علمه اکمل واتم
از مفتی یحی صاحب
استاذ حدیث و فقہ
دینیات فائن ٹچ

فقہی سمینار 
آج کا سوال نمبر 188
6 ﺫی القعدۃ. 1437ھ مطابق 10 اگست 2016ع بروز چهار شنبہ

Saturday, 20 August 2016

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اندر سے کیسا ہے؟

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اندر سے کیسا ہے؟ سعودی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ماڈل۔
حجرہ شریف، قبرمبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ
#Roza e #Rasool saw, #Qabar #Mubarak #madina

Wednesday, 17 August 2016

سب سے سے پہلے مشیت کے انوار سے

نعت شریف
کلام از:
مولانامحمدقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ

سب سے پہلے مشیت کے انوار سے
نقش روئے محمدﷺ بنایا گیا
پھر اسی نقش سے مانگ کر روشنی
بزم کون ومکاں کوسجایا گیا
وہ محمؐد بھی،احمدبھی،حامدبھی،محمود بھی
حسن مطلق کاشاہد ومشہودبھی
علم وحکمت میں وہ غیرمحدودبھی ،
ظاہرا امّیوں میں اٹھایا گیا
کس لئے ہو مجھے حشرکا غم اے قاسم!
میرا آقا ہے وہ میرا مولا ہے وہ
جن کے قدموں میں جنت بسائی گئی
جن کے ہاتھوں سے کوثر لٹایا گیا

Saturday, 13 August 2016

جمعہ کے دن موت کی فضیلت

ایس اے ساگر
ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ پر متعدد روایات نقل کی گئی ہیں. ﺍن روایات کے سبب دل میں تمنا پیدا ہوتی ہے ﮐﮧ اللہ ﮐﺮﮮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﻮﺕ ﺍٓﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﺪﯾﺚِ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ:
ﻣَﺎ ﻣِﻦْ ﻣُﺴْﻠِﻢٍ ﺍَﻭْ ﻣُﺴْﻠِﻤَۃٍ ﯾَﻤُﻮْﺕُ ﻓِﯽْ ﯾَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺠُﻤُﻌَۃِ ﺍَﻭْ ﻟَﯿْﻠَۃِ ﺍﻟْﺠُﻤُﻌَۃِ ﺍِﻻَّ ﻭُﻗِﯽَ ﻋَﺬَﺍﺏَ ﺍﻟْﻘَﺒْﺮِ ﻭَ ﻓِﺘْﻨَۃَ ﺍﻟْﻘَﺒْﺮِ ﻭَﻟَﻘِﯽَ ﺍﷲَ ﻭَ ﻻَ ﺣِﺴَﺎﺏَ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَ ﺟَﺎٓﺉَ ﯾَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﯿَﺎﻣَۃِ ﻭَﻣَﻌَﮧُ ﺷُﮭُﻮْﺩٌ ﯾَّﺸْﮭَﺪُﻭْﻥَ ﻟَﮧٗ ﺍَﻭْ ﻃَﺎﺑِﻊٌ
(ﻣﺮﻗﺎۃ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﯿﺢ، ﺑﺎ ﺏ الجمعہ)
ﺟﻮ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﯾﺎ ﺷﺐِ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﻮ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻥِ ﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کہ ہر وہ مسلمان جو جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن انتقال کرجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنہ(یعنی عذاب و سختیوں) سے نجات عطا فرمائینگے۔(ترمذی)حدیث کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت ہر مسلمان کے لیے ہے چاہے وہ نیک ہو یا گنہگار۔(مرقاۃ)
(۲) حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات انتقال کرجائے تو قبر کے عذاب سے بچایا جاتا ہے نیز قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہداء کا مہر ہوگا۔(الحلیۃ لابی نعیم)
(۳) رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ :جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات وفات کرجائے تو اس کے لیے شہید کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اسے قبر کے عذاب سے بچایا جاتا ہے۔(مسند حمیدی)
(۴) عطاء ؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ مؤمن مرد یامؤمنہ عورت جو جمعہ کی رات یا دن انتقال کر جائے تو اُسے قبر کے عذاب سے بچایا جاتا ہے اور وہ اللہ سے اس طرح ملتا ہے کہ اس پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا ۔۔۔(مرقاۃ)
مذکورہ بالا روایات گو کہ سند کے اعتبار سے کچھ کمزور ہیں لیکن فضائل اعمال میں اس قسم کو قبول کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ملا علی قاریؒ ،امام بیہقیؒ اور علامہ سیوطی ؒ نے بیان فرمایا ہے
 ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﻼ ﻋﻠﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﺭحمہ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻣﺤﺪﺙِ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﮯ ﻣﺮﻗﺎۃ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﻮٰۃ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﮧ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﻓَﺎِﻥَّ ﮬٰﺬَﺍ ﺍﻟْﺤَﺪِﯾْﺚَ ﯾَﺤْﺘَﻤِﻞُ ﺍﻟْﺎِﻃْﻼَ ﻕَ ﻭَﺍﻟﺘَّﻘْﯿِﯿْﺪ
َﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺤﺘﻤﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﻭ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭَﺍﻟْﺎِﻃْﻼَﻕُ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺎَﻭَّﻝُ ﻭَ ﺍﻟْﺎَﻭَّﻝُ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺎَﻭْﻟٰﯽ ﻧَﻈْﺮﺍً ﺍِﻟٰﯽ ﻓَﻀْﻞِ ﺍﻟْﻤَﻮْﻟٰﯽ
ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﻣﻄﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﻟﯽٰ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﺎ اللہ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ اللہ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﺑﻌﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻔﺘﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﮐﮭﻨﭽﺎﺋﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺍٓﮦ، ﻣﻼ ﻋﻠﯽ ﻗﺎﺭﯼ رحمہ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ اللہ ﺟﺰﺍ خیر عطا فرمائے، ﮐﯿﺎ ﻋﻠﻮﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ، ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﻣﻄﻠﻖ ﺭﮐﮭﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﻮﻟﯽٰ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺒﺮ
ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
ما صحة حديث أن من مات ليلة الجمعة أو يوم الجمعة وقاه الله عذاب القبر؟
الجواب
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ، والصلاة والسلام على رسول الله ، أما بعد :
فهذا تخريج لحديث : "ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر"، وبيان لدرجته التي خلاصتها : أنه حديث ضعيف ، لا يصح من طريق ، ولا يتقوى بمجموع طرقه، وهذا ظاهر صنيع البخاري -رحمه الله -؛ حين ترجم في كتاب الجنائز من "صحيحه" (3/253- الفتح) بقوله : (باب موت يوم الإثنين) ، ثم أخرج برقم ( 1387 ) حديث موت أبي بكر –رضي الله عنه-، فقال : حدثنا مُعَلّى بن أسد ؛ قال : حدثنا وُهَيْب ، عن هشام ، عن أبيه ، عن عائشة -رضي الله تعالى عنها- قالت : دخلت على أبي بكر –رضي الله عنه- ، فقال : في كم كَفّنْتم النبي –صلى الله عليه وسلم-؟ قالت : في ثلاثة أثوابٍ بيضٍ سَحولِيّة، ليس فيها قميص ولا عمامة . وقال لها: في أي يوم توفي رسول الله –صلى الله عليه وسلم-؟ قالت: يوم الإثنين، قال : فأي يوم هذا؟ قالت: يوم الإثنين، قال : أرجو فيما بيني وبين الليل، فنظر إلى ثوب عليه كان يمرّض فيه به رَدْعٌ من زعفران ، فقال : اغسلوا ثوبي هذا، وزيدوا عليه ثوبين فكفِّنوني فيها . قلت : إن هذا خَلِق ، قال : إن الحيّ أحقّ بالجديد من الميت ، إنما هو للمُهْلَة . فلم يُتَوَفّ حتى أمسى من ليلة الثلاثاء ، ودُفِن قبل أن يصبح .
قال الحافظ ابن حجر في (فتح الباري 3/253) : قوله : "باب موت يوم الإثنين" : قال الزين ابن المنيِّر : تعيين وقت الموت ليس لأحد فيه اختيار ، لكن في التسبب في حصوله مدخل ؛ كالرغبة إلى الله لقصد التبرك ، فمن لم تحصل له الإجابة أثيب على اعتقاده . وكأن الخبر الذي ورد في فضل الموت يوم الجمعة لم يصح عند البخاري ، فاقتصر على ما وافق شرطه ، وأشار إلى ترجيحه على غيره . والحديث الذي أشار إليه [ يعني : ابن الْمُنَيِّر ] أخرجه الترمذي من حديث عبد الله بن عمرو- رضي الله عنهما- مرفوعًا : "ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر" ، وفي إسناده ضعف ، وأخرجه أبو يعلى من حديث أنس –رضي الله عنه- نحوه وإسناده أضعف. اهـ .
وقال العيني في "عمدة القاري" ( 8 / 218 ) : أي : هذا باب في بيان فضل الموت يوم الإثنين . فإن قلت : ليس لأحد اختيار في تعيين وقت الموت ، فما وجه هذا ؟ قلت : له مدخل في التسبب في حصوله ؛ بأن يرغب إلى الله لقصد التبرك ، فإن أجيب فخير حصل ، وإلا يثاب على اعتقاده . اهـ .
وقال عن مناسبة الحديث للترجمة : (مطابقته للترجمة : من حيث إن النبي – صلى الله عليه وسلم- كانت وفاته يوم الإثنين ، فمن مات يوم الإثنين يرجى له الخير لموافقة يوم وفاته يوم وفاة النبي – صلى الله عليه وسلم- ، فظهرت له مزيّة على غيره من الأيام بهذا الاعتبار ...) ، ثم ذكر حديث عبد الله بن عمرو بن العاص –رضي الله عنهما- الذي ذكره ابن حجر ، ثم قال : (فلذلك لم يذكره البخاري فاقتصر على ما وافق شرطه).
وحديث فضل الموت يوم الجمعة هذا ورد من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص ، وأنس ، وجابر –رضي الله عنه-.
أما حديث عبد الله بن عمرو : فأخرجه الإمام أحمد في (المسند 2/169) ، والترمذي في "الجامع" (1074) والطحاوي في (شرح مشكل الآثار ص277) ، وابن منده في "تعزية المسلم ص108) من طريق هشام بن سعد ، عن سعيد ابن أبي هلال ، عن ربيعة بن سيف ، عن عبد الله بن عمرو ؛ قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم-: "ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر".
وأخرجه عبد الرزاق في (المصنف 5596) عن ابن جريج ، عن ربيعة بن سيف ، عن عبدالله بن عمرو –رضي الله عنهما- عن النبي – صلى الله عليه وسلم- قال : "برئ من فتنة القبر".
وابن جريج معروف بالتدليس ، ولم يصرح هنا بالسماع .
قال الترمذي : (هذا حديث غريب) ؛ يعني أنه ضعيف ، يوضحه قوله بعد ذلك : (وهذا حديث ليس إسناده بمتصل ؛ ربيعة بن سيف إنما يروي عن أبي عبد الرحمن الْحُبُلي ، عن عبد الله بن عمرو-رضي الله عنهما- ، ولا نعرف لربيعة بن سيف سماعًا من عبد الله بن عمرو- رضي الله عنهما-) .
وقد خولف هشام بن سعد في هذا الإسناد ، فرواه الليث بن سعد ، واختلف عليه .
فأخرجه الطحاوي في (شرح المشكل ص 279 ) من طريق يونس بن عبد الأعلى ، عن عبد الله بن وهب ، عن الليث ، عن ربيعة بن سيف : أن عبد الرحمن بن قحزم أخبره : أن ابنًا لفياض بن عقبة توفي يوم جمعة ، فاشتد وجده عليه ، فقال له رجل من أهل الصدق : يا أبا يحيى ، ألا أبشرك بشيء سمعته من عبد الله بن عمرو- رضي الله عنهما- سمعته يقول : سمعت رسول الله – صلى الله عليه وسلم- يقول ... ، فذكره .
ثم أخرجه الطحاوي (280 ) فقال : حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم ؛ حدثنا أبي وشعيب بن الليث ، عن الليث ؛ حدثنا خالد _ يعني ابن يزيد _ ، عن ابن أبي هلال ، عن ربيعة بن سيف : أن عبد الرحمن بن قحزم أخبره : أن ابنًا لفياض بن عقبة ، ثم ذكر مثله سواء .
وأخرجه البيهقي في "إثبات عذاب القبر ص 155) من طريق يعقوب بن سفيان عن أبي صالح عبد الله بن صالح كاتب الليث وأبي بكر _ غير منسوب _ ، كلاهما عن الليث بمثل رواية ابن عبد الحكم .
وكان الطحاوي أعلّ الحديث أوّلاً ( 1/ 250 ) بمثل إعلال الترمذي ، ثم قال : عن هذا الإسناد : (وزاد [ يعني ابن عبد الحكم ] على يونس في إسناده إدخاله بين الليث وبين ربيعة بن سيف : خالد بن يزيد وسعيد ابن أبي هلال ، وهو أشبه عندنا بالصواب _ والله أعلم _ ، فوقفنا بذلك على فساد إسناد هذا الحديث ، وأنه لا يجوز لمثله إخراج شيء مما يوجب حديث عائشة –رضي الله عنها- دخوله فيه).
وحديث عائشة –رضي الله عنها- الذي ذكره الطحاوي هو الحديث الأصل الذي أورده في أول الباب ، وهو قوله –صلى الله عليه وسلم-: "إن للقبر لضغطة ، لو كان أحد ناجيًا منها ؛ نجا سعد بن معاذ"، ولأجله ضعّف حديث عبد الله بن عمرو –رضي الله عنهما- الذي فيه : "وقاه الله فتنة القبر".
ومع ما تقدم من العلل : فإن ربيعة وإن كان صدوقًا ، فإنه ضعيف من قبل حفظه ، فقد قال عنه البخاري في (التاريخ الكبير 3/290 ) : (( عنده مناكير )) ، وقال في (الأوسط) (1464): ((وروى ربيعة بن سيف المعافري الإسكندراني أحاديث لا يتابع عليه )) ، وقال النسائي في رواية: ((ليس به بأس )) ، وقال في أخرى : (( ضعيف )) ، وقال الدارقطني في (سؤالات البرقاني ص 153): ((صالح )) ، وذكره ابن حبان في (الثقات 6/301) ، وقال : (( يخطئ كثيرًا )) ، وقال ابن يونس : (( في حديثه مناكير )) ، وقال العجلي في (تاريخه) ( 463 ) : (( ثقة )) . انظر (تهذيب التهذيب ص3/ 221) .
وقد عدّ الذهبي هذا الحديث من مناكير هشام بن سعد ، حين قال في (الميزان 7/81 ) : (ومن مناكيره ما ساق الترمذي له عن سعيد بن أبي هلال عن ربيعة بن سيف ... ) ، ثم ذكر هذا الحديث .
وله طريق آخر عن عبد الله بن عمرو-رضي الله عنهما- : أخرجه الإمام أحمد ( 2/176و220 رقم 6646 و7050 ) ، وعبد بن حميد ( 323 ) والطبراني في (الأوسط، 3107)، والدارقطني في "الغرائب والأفراد" كما في (أطرافه، 3585) ، وابن منده في (تعزية المسلم ص 106 و 107 ) ، والبيهقي في (إثبات عذاب القبر، ص 156 ) من طريق معاوية بن سعيد التجيبي ، عن أبي قَبيل ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص –رضي الله عنهما-قال قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم- : "من مات في يوم الجمعة _ أو ليلة الجمعة _ وُقي فتنة القبر".
قال الدارقطني : (تفرد به معاوية بن سعيد ، عن أبي قبيل) .
وسنده ضعيف ؛ فيه معاوية بن سعيد التجيبي ولم يوثق من إمام معتبر ، وإنما ذكره البخاري في (تاريخه 7 / 334 رقم 1441 ) ، وابن أبي حاتم في (الجرح والتعديل 8/384 رقم 1755)، وسكتا عنه ، وذكره ابن حبان في (الثقات 9/166 ) وقال : (من أهل مصر يروي المقاطيع)، ولذا قال عنه ابن حجر في (التقريب 6757 ) : (مقبول).
وروي موقوفًا على عبد الله بن عمرو –رضي الله عنهما-: أخرجه البيهقي في "إثبات عذاب القبر ص 157) من طريق ابن وهب ؛ أخبرني ابن لهيعة ، عن سنان بن عبد الرحمن الصدفي : أن عبد الله بن عمرو بن العاص –رضي الله عنهما- كان يقول : من توفي يوم الجمعة _ أو ليلة الجمعة _ وُقي الفتان .
وأما حديث أنس بن مالك –رضي الله عنه-: فأخرجه أبو يعلى (4113 ) _ ومن طريقه ابن عدي في "الكامل ص 7/ 92 ) _ من طريق عبد الله بن جعفر ، عن واقد بن سلامة ، عن يزيد بن أبان الرقاشي ، عن أنس بن مالك –رضي الله عنه- قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم- : "من مات يوم الجمعة وقي عذاب القبر".
وسنده ضعيف جدًّا ؛ فيه يزيد بن أبان الرقاشي ضعيف كما في "التقريب ص 7683 ) .
والراوي عنه واقد _ ويقال : وافد ( بالفاء ) _ ابن سلامة وهو ضعيف أيضًا . انظر لسان الميزان 6/215 رقم 754 ) .
والراوي عنه عبد الله بن جعفر يظهر أنه والد علي بن المديني ، وهو ضعيف أيضًا كما في "التقريب 3255) .
وله طريق أخرى أخرجها ابن منده في "تعزية المسلم 109 ) من طريق الحسين ابن علوان، عن أبان بن أبي عياش ، عن أنس بن مالك – رضي الله عنه- قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم- : "لا ينجو من ضغطة القبر إلا شهيد أو مصلوب أو من مات يوم الجمعة أو ليلة الجمعة".
لكنها متابعة أوهى من سابقتها ، فالحسين بن علوان كذاب يضع الحديث كما في (الكامل) لابن عدي ( 2/359 ) .
وأبان ابن أبي عياش متروك كما في "التقريب ص 142).
وأما حديث جابر –رضي الله عنه-: فأخرجه أبو نعيم في "الحلية 3/155 ) من طريق عمر بن موسى بن الوجيه ، عن محمد بن المنكدر ، عن جابر –رضي الله عنه- قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم-: "من مات يوم الجمعة أو ليلة الجمعة أجير من عذاب القبر ، وجاء يوم القيامة عليه طابع الشهداء".
وفي سنده عمر بن موسى بن وجيه وهو يضع الحديث أيضًا . انظر "لسان الميزان 4/332_333 ) . وللحديث طرق أخرى مراسيل وفيها مجاهيل ، لا يعتضد بشيء منها ، والله أعلم .
ﺍﺏ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﺗﻨﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ﺗﻮ ﺟﻮ رب العزت ﺑﯿﺖ اللہ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ
ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ اللہ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺷﺮﻑ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺮﻑ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ اللہ ﺯﻣﺎﻥ ﮐﻮ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻑ بخش ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺷﺮﻑِ ﺯﻣﺎﻧﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺷﺮﻑِ ﻣﮑﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﮑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ اللہ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺷﺮﻑِ
ﻣﮑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺩﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻑِ ﺯﻣﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺩﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻼ ﻋﻠﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﯿﺲ ﻓﯽ ﻓﻀﻞ ﮬﺬﺍ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﻣﺠﺎﻝ ﻟﻠﻘﯿﺎﺱ ﻭ ﺍﻟﻨﻈﺮ
ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻗﯿﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﻞ ﻟﮍﺍﺋﯿﮟ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩﺍً ﻋﻠﯽ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺼﺎﺩﻕ ﺍﻟﻤﺼﺪﻭﻕ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺮﻭﺭِ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺬﺍﺏِ ﻗﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﮔﯽ، ﻭ ﻻ ﺣﺴﺎﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
 ﺍﺱ لئے اللہ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ اللہ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﻣﻘﺪﺭ ﻓﺮﻣﺎﺩﮮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔۔لیکن ہر مسلمان کو چاہیے کہ نیک کاموں میں ہمیشگی کے ساتھ عمل پیرا رہے اور اچھے خاتمے کی دعاء کرتا رہے۔موت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ کب آئے گی لیکن جب بھی آئے تواللہ ہمیں ایمان ،اعضاء کی سلامتی اور کلمے کے ساتھ موت نصیب فرمائیں۔ آمین