Monday, 14 October 2019

پگلی! گھر رومانس پر نہیں، بلکہ اسلام اور رشتوں کے احترام پر چلتے ہیں کی تحقیق مطلوب ہے؟

پگلی! گھر رومانس پر نہیں، بلکہ اسلام اور رشتوں کے احترام پر چلتے ہیں کی تحقیق مطلوب ہے؟
اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے؟ براہ مہربانی عنایت فرمائیں. پگلی! گھر رومانس پر نہیں، بلکہ اسلام اور رشتوں کے احترام پر چلتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہُ عنہ کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خدا کی قسم دے کر پوچھا آیا وہ اس سے محبت کرتی ہے؟ عورت بولی: تم نے قسم ہی دے دی ہے تو، تم سے محبت تو مجھے ویسے نہیں ہے۔ آدمی امیرالمؤمنین عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کے پاس جاپہنچا۔ عورت کو بلایا اور پوچھا گیا۔ وہ بولی: اس نے مجھے اللہ کی قسم دے دی تھی تو کیا پھر جھوٹ بولتی؟ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: ہاں بولتی۔ بھلی مانس! گھر رومانس پر نہیں بلکہ اسلام اور رشتوں کے احترام میں چلتے ہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
صحح هذا الأثر الشيخ حاتم بن عارف العوني - حفظه الله - و قال :أخرجه البخاري في التاريخ الكبير مختصراً: (4/152)، والفسوى والمعرفة والتاريخ (1/392)، وابن جرير الطبري في تهذيب الآثار: مسند علي بن أبي طالب – رضي الله عنه-: (142) رقم (236)، ونصه:
عن ابن أبي عزرة الدؤلي، وكان في خلافة عمر يخلع النساء التي يتزوجها، فطار له في الناس من ذلك أحدوثة فكرهها، فلما علم بذلك، قام بعبد الله بن الأرقم حتى أدخله بيته، فقال لامرأته، وابن الأرقم يسمع: أنشدك بالله، هل تبغضينني؟ فقالت امرأته: لا تناشدني. قال: بلى. فقالت: اللهم نعم. فقال ابن أبي عزرة لعبد الله: أتسمع. ثم انطلق حتى أتى عمر، ثم قال: يا أمير المؤمنين، يحدثون أني أظلم النساء، وأخلعهن، فاسأل عبد الله بن الأرقم عما سمع من امرأتي ، فسأل عمر عبد الله، فأخبره، فأرسل عمر إلى امرأته، فجاءت، فقال لها: «أنت التي تحدثين زوجك أنك تبغضينه؟»، قالت: يا أمير المؤمنين، إني أول من تاب، وراجع أمر الله، إنه يا أمير المؤمنين أنشدني بالله، فتحرجت أن أكذب، أفأكذب يا أمير المؤمنين؟ قال: «نعم، فاكذبي، فإن كانت إحداكن لا تحب أحدا، فلا تحدثه بذلك، فإن أقل البيوت الذي يبنى على الحب، ولكن الناس يتعاشرون بالإسلام، والإحسان»
تهذيب الآثار، مسند علي. ابن جرير الطبري

سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃُ اللہ علیہ کی شاہ فیصل سے ملاقات اور عجیب نصیحت

سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃُ اللہ علیہ کی شاہ فیصل سے ملاقات اور عجیب نصیحت

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ شاہ فیصل سے ملاقات کیلئے جب ان کے محل تشریف لے گئے، تو محل کی خوبصورتی، اس کی سجاوٹ اور اس کی آرائش و زیبائش دیکھ کر شاہ فیصل سے یوں گویا ہوئے:
میں سوچ رہا ہوں اور مجھے یاد آرہا ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے، اس کی سلطنت آج کے پورے ہندوستان اور پاکستان پر نہیں بلکہ نیپال، سری لنکا اور افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی، اس نے 52 سال اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی، مگر اقتدار کے 52 سالوں میں سے 20 سال گھوڑے کی پیٹھ پر گذارے، اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے، خوشحال تھے، ان کیلئے ہر قسم کی آسانیاں تھیں لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا، قرآن مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا، خزانے کو ﷲ کی اور اس کی مخلوق کی امانت سمجھتا تھا، وہ خود روکھی سوکھی کھاتا، مگر دوسروں کیلئے لنگر چلاتاتھا، وہ خود تنگ دست تھا مگر دوسروں کیلئے موتی لٹاتا تھا، وہ فقیر تھا مگر دل کھول کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ عیاشی کے تمام سامان اس کے ایک اشارے پر فراہم ہو سکتے تھے، مگر وہ آخرت کو یاد کرکے روتا تھا۔ راتوں کو پروردگار کے حضور میں کھڑا رہتا تھا، اور اپنی کوتاہیوں پر رو رو کر معافی مانگتا تھا، اپنے دربار میں وہ بادشاہ تھا، لیکن اﷲ کے دربار میں فقیر بن کر کھڑا رہتا، اور آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا، اس وقت مسلم حکمراں غریب اور سادہ تھے، مگر عوام خوشحال اور آسودہ تھے۔ آج آپ کا یہ محل دیکھا تو خیال آیا کہ سب کچھ کتنا بدل گیا ہے، آج ہمارے بادشاہ خوشحال ہیں اور عوام غریب و محتاج۔ بادشاہ شاندار محلوں میں رہتے ہیں، مگر رعایا کو جھونپڑی بھی میسر نہیں۔ پہلے کے بادشاہ پوری قوم کیلئے درد مند تھے مگر اب بادشاہوں کو کسی کا کوئی خیال ہی نہیں۔ اپنی عیاشی میں مست ہیں۔ فلسطین کے عربوں کو دیکھئیے کہ کیا حال کر دیا ہے ان کا یہودیوں اور نصرانیوں نے، فلسطین میں مسلمان بے گھر ہیں، کشمیر میں ان کا لہو ارزاں ہے، وسط ایشیاء میں وہ اسلام کی شناخت سے محروم ہیں۔ آج میں نے آپ کے محل میں قدم رکھا تو اسلام کی پوری تاریخ میری نظر میں گھوم گئی اور پہلے کے اور اب کے بادشاہوں کے تقابل میں کھوگیا۔
جب مولانا خاموش ہوئے تو شاہ فیصل کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا، اب ان کی باری تھی لیکن وہ زار و قطار رو رہے تھے، رونے کی آواز سن کر محافظ دوڑتے ہوئے آئے، تو شاہ فیصل نے ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کیلئے کہا اور مولانا سے مخاطب ہوکر بولے:
وہ بادشاہ اس لئے تھے کہ انہیں آپ کے جیسے بے باک اور مومنانہ شان رکھنے والے ناصح میسر تھے۔ آپ تشریف لاتے رہیں تاکہ ہم کمزوروں کو نصیحت ملتی رہے۔


بینک ملازم کی پینشن کا حکم؟

بینک ملازم کی پینشن کا حکم؟
ایک آدمی ۷۲ سال کا ہے. پہلے بینک میں کام کرتا تھا. ابھی تو کئی سال سے ریٹائر ہوگیا ہے. پینشن آتی رہتا ہے. ایسے آدمی اگر ہدیہ دیوے تو قبول کرسکتے ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورت مسئولہ میں ہدیہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ‏:‏ تَهَادُوا تَحَابُّوا‏.‏
حـسـن (الألباني) حكم
واللہ اعلم بالصواب
ابوحنیفہ توحید قاسمی
ریاض سعودی عرب
---------------------------------------------------------
بکر کے والد صاحب اسٹیٹ بینک سے ریٹائر ہوئے، کیا ان کو وہاں سے جو پنشن ملتی ہے، وہ حرام ہے؟ الجواب و باللہ التوفیق: ”پنشن“ درحقیقت عطیہ ہے، اجرتِ عمل نہیں ہے اور ایسے شخص یا ادارے کی طرف سے پیش کردہ عطیہ لینے کی گنجائش ہے، جس کا مملوکہ غالب مال حلال ہو، بینک کا بنیادی کاروبار اگرچہ ”سود“پر مبنی ہوتا ہے؛ لیکن اس کا جو مجموعہ سرمایہ ہوتا ہے اس میں سود کی آمدنی نسبةً کم ہوتی ہے اور دیگر مال (مثلاً ڈیپازیٹرس کی جمع کردہ رقمیں) جو بہ حکم قرض ہیں) اور بینک کا اصل سرمایہ اس طرح مباح خدمات کی اجرتیں) نسبةً زیادہ ہوتا ہے؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد کے لیے سابقہ ملازمت کے باعث بینک کی طرف سے ملنے والی پنشن لینے کی گنجائش ہے۔ (دیکھیں: فتاوی عثمانی، ۳/ ۳۹۴تا ۳۹۶، ط: کراچی، کتاب الاجارہ) واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
------------------------------------------------------------------
درج ذیل مسئلہ کے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں: (۱) زید ایک قومیائے بینک میں بطور آفیسر کے کام کررہا تھا۔ اس نے اس نوکری سے استعفی دے دیا ہے اور پنشن لے رہا ہے۔ کیا یہ پنشن شریعت کی نظر میں جائز ہے؟ (۲) ریٹائر منٹ کے بعد موصول ہونے والی رقم جیسے پی ایف، گریچوٹی، تنخواہ، پنشن وغیرہ پر زکوة کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: (۱) ”پنشن“ چونکہ اجرتِ عمل نہیں ہے؛ بلکہ ”عطیہ“ ہے اور عطیہ کے بارے میں ضابطہٴ شرعی یہ ہے کہ اگر عطیہ دہندہ کی غالب آمدنی حرام کی نہیں ہے تو اس کا عطیہ لینا شرعاً جائز ہے اور تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بینک کی جو ”آمدنی “ ہے اس میں غالب سود نہیں ہے؛ بلکہ غالب دیگر غیر حرام آمدنی ہے مثلاً ڈپازیٹر کے جمع شدہ پیسے جو بہ حکم قرض ہیں، اسی طرح بینک کا اپنا اصل سرمایہ اور دیگر خدمات کی اجرتیں؛ اس لیے بینک کی ملازمت کی بنیاد پر جو پنشن ملے اس سے آدمی فائدہ اٹھا سکتا ہے، ناجائز نہیں ہے۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳۹۴ تا ۳۹۶، ط: معارف القرآن/ کراچی) ۔ (۲) دورانِ ملازمت اگر آپ کے ذمہ سودی حساب کتاب کی لکھا پڑھی یا کوئی ایسا کام تھا جس کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہے تو بطور تنخواہ ملنے والی رقم کو تو آپ صدقہ کردیں، اسی طرح ”پی ایف فنڈ“ سے وہ حصہ جو آپ کی تنخواہ سے کٹوتی کا ہے اسے بھی صدقہ کردیں، پی ایف فنڈ کی مابقیہ رقم، اسی طرح گریچوٹی اور پنشن کے طور پر ملنے والی رقوم کے آپ مالک ہیں، آپ پر ان کی زکوة حسب شرائط واجب ہے؛ لیکن سنین ماضیہ کی نہیں؛ بلکہ آئندہ یعنی وصول ہونے کے بعد سے اس پر زکوة واجب ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
https://saagartimes.blogspot.com/2019/10/blog-post_14.html


Sunday, 13 October 2019

ایک عورت کو حج سے فارغ ہوکر ماہواری آگئی تو کیا کرے؟

ایک عورت کو حج سے فارغ ہوکر ماہواری آگئی تو کیا کرے؟
سوال: ایک عورت حج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ آگئی وہاں آٹھ روز قیام کے بعد دوبارہ تین دن کیلئے مکہ مکرمہ آنا ہے وہاں سے اپنے وطن واپسی ہے، مسئلہ درپیش یہ ہے کہ وہ عورت ماہواری سے ہے اور تین دن میں پاک ہوگی نہیں، اب اسے قافلہ کے ساتھ جانا بھی ہے اگر وہ احرام کی نیت کرے بھی تو عمرہ تو کر نہیں پائے گی، اب یہ اس مشکل گھڑی میں کیا کرے، شریعت میں اس کا کیا حل ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
1: پہلا حل یہ ہے کہ 
وہ مکہ مکرمہ نہ جائے، بلکہ مدینہ منورہ ہی میں شوہر کے ساتھ رہے اور وہاں سے سیدھے ایرپورٹ چلے جائے، 
مکہ جانے کی صورت میں تو عمرہ لازم ہوجائے گا۔
2: دوسرا حل یہ ہے کہ 
ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھے 
چونکہ احرام کیلئے پاکی شرط نہیں ہے، 
مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کا طواف ناپاکی ہی کی حالت میں استغفار کرتے ہوئے کرلے، چونکہ طواف کیلئے پاکی شرط ہے اس لئے دم واجب ہوجائے گا، لہذا عمرہ سے فراغت کے بعد حدود حرم میں ایک بکری یا بکرا بطور دم ذبح کرے، 
طواف کے بعد سعی و حلق سے فارغ ہوجائے، اور سعی وحلق کیلئے پاکی شرط نہیں ہے، 
اس طرح عمرہ ہوجائےگا، ادائے ناقص کے ساتھ، اور اس پر قضا بھی نہیں آئے گی، 
یاد رہے کہ یہ صورت اس وقت ہے جب پاکی تک وہاں قیام کی کوئی ممکنہ صورت نا ہو، 
مستفاد از 👇
نیچے دارالافتاء بنوریہ و دیوبند اور فتاوی قاسمیہ کے فتاوی ملاحظہ فرمائیں 
----------------
سوال # 58875
محترم مفتی صاحب: 
اگر عورت مکہ پہنچ جائے اور اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اس کو حیض آجائے اگلے دن اس نے وطن واپس جانا ہے تو وہ احرام سے کیسے نکلے گی؟ 
ٹکٹ آگے کروانا بھی ممکن نہ ہواس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
اگر مذکور فی السوال عورت کے لیے مکہ مکرمہ میں اتنی مدت قیام کرنے کی کسی بھی صورت میں گنجائش نہیں جس میں وہ پاک ہو کر افعالِ عمرہ ادا کرکے حلال ہوسکے؛ تو اسے چاہیے کہ ترک عمرہ کے ارادے سے پوروے کے بہ قدر اپنے سر کے بال کٹوادے، اس سے وہ احرام سے نکل جائے گی؛ لیکن اس کے اوپر ترکِ عمرہ کی وجہ سے ایک دم اور آئندہ ایک عمرے کی قضاء ضروری ہے۔ 
- مستفاد از: وقد استدل بذلک الکوفیون علی أن للمرأة إذا أہلّت بالعمرة متمتعة فحاضت قبل أن تطوف أن تترک للمرة وتہل بالحج مفردةً کما صنعت عائشة - رضي اللہ عنہا- وإنما یلزمہا دم لرفض العمرة إلخ، انظر: أنوار المناسک وحاشیتہ (ص: ۳۳۲، ۳۳۳، ط: مکتبہ یوسفیہ دیوبند)
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
---------------------------------------
حالتِ حیض میں عورت ارکان عمرہ ادا کرکے حلال ہوگی تو دم لازم ہوگا
سوال (۵۱۰۶): کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: 
ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ حج کرنے کے لئے گئی، میقات سے احرام باندھ کر مکہ پہنچ گئی اور اسے حیض آگیا، مسئلہ معلوم نہیں تھا، اس نے سب لوگوں کے ساتھ اسی حالت میں طواف وسعی کرلی اور بال بھی کٹواکر حلال ہوگئی، بعد میں اسے پتہ چلا کہ ماہواری کی حالت میں ارکان عمرہ ادا کرنا جائز نہیں، 
اب اس کی تلافی کی کیا شکل ہے؟ 
کیا بعد میں مقیات جاکر دوبارہ عمرہ کرنے سے دم ساقط ہوجائے گا یا دم ہی دینا لازم ہے، شریعت کا اس سلسلہ میں کیا حکم ہے؟
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق: 
جو عورت بحالتِ حیض عمرہ کرکے حلال ہوگئی ہو تو اس پر ایک بکرا یا بکری بطورِ دم کے واجب ہوگئی اب اعادۂ عمرہ سے بھی تلافی نہیں ہوگی؛ 
کیوں کہ اس کا عمرہ نقصانِ  یسیر کے ساتھ درست ہوگیا۔
فإن رجع إلی أہلہ قبل أن یعید فعلیہ دم لترک الطہارۃ فیہ، ولا یؤمر بالعود لوقوع التحلل بأداء الرکن۔ (ہندیۃ، الفصل الخامس في الطواف والسعي، والرمل، ورمي الجمار، زکریا قدیم ۱/ ۲۴۷، جدید ۱/ ۳۱۱، ہدایۃ أشرفیہ دیوبند ۱/ ۲۷۵)
وإن رجع إلی أہلہ ولم یعد یصیر حلالا، وعلیہ الدم لإدخال النقصان في طواف العمرۃ۔ (المحیط البرہاني، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۳/ ۶۵، جدید المجلس العلمي ۳/ ۴۵۴، رقم: ۳۳۷۳)
أو طاف لعمرتہ وسعی محدثا ولم یعد، أي تجب شاۃ لترکہ الواجب، وہو الطہارۃ، ولا یؤمر بالعود إذا رجع إلی أہلہ لوقوع التحلل بأداء الرکن مع الحلق، والنقصان یسیر۔ (البحرالرائق، زکریا ۳/ ۳۸، کوئٹہ ۳/ ۲۲)طاف لعمرتہ وسعی علی غیر وضوء وحل وہو بمکۃ أعاد الطواف والسعي، وإن رجع إلی أہلہ ولم یعد یصیر حلالا، وعلیہ دم۔ (التاتارخانیۃ، زکریا ۳/ ۶۱۱، رقم: ۵۱۷۴، المحیط البرہاني، المجلس العلمي ۳/ ۴۵۳، رقم: ۳۳۷۳) 
فقط وﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیراحمد قاسمی عفاﷲ عنہ 
فتاوی قاسمیہ ج 12 ص 417
--------------------------------------------
حالت حیض میں حج و عمرہ کا طریقہ
سوال: لڑکی کو حیض آجائے اور اسے حج یا عمرہ کے لیے نکلنا ہو تو کیا حکم ہے؟ 
کیا اس حالت میں اس لڑکی کا حرم شریف جانا جائز ہے؟ 
اگر جائز نہیں تو پھر وہ حج یا عمرہ کی ادائیگی کیسے کرے گی؟
جواب: جس عورت / لڑکی کو حج یا عمرہ کے لیے نکلنا ہو اور اسے حیض آجائے تو اگر اس نے ابھی تک احرام نہ باندھاہو  تو بھی کوئی حرج نہیں؛ 
کیوں کہ عورت حالتِ حیض میں بھی احرام باندھ سکتی ہے، 
حالتِ حیض میں احرام باندھنے کے بعد عورت کے لیے تمام افعال کرنا جائز ہیں، صرف طواف کرنا اور نماز پڑھنا منع ہے، اس لیے احرام کی نیت کرتے وقت جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھے، بلکہ غسل یا وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لے، اب اگر اس عورت نے صرف حج کا احرام باندھا ہے تو چوں کہ حالتِ حیض میں مسجد میں داخل ہونا اور بیت اللہ کا طواف کرنا جائز نہیں؛ اس لیے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم نہ کرے، اگر منیٰ جانے سے پہلے پاک ہوجائے تو غسل کر کے طوافِ قدوم کر لے، اور اگر منیٰ جانے سے پہلے پاک نہیں ہوئی تو طوافِ قدوم چھوڑ دے اور منیٰ چلی جائے، طوافِ قدوم چھوڑنے کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا؛  
کیوں کہ طوافِ قدوم فرض یا واجب نہیں، بلکہ سنت ہے، البتہ دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے جس کو "طوافِ زیارت" کہتے ہیں، یہ طواف فرض ہے، لہٰذا اگر عورت اس دوران حالتِ حیض میں ہو تو پاک ہونے تک طوافِ زیارت میں تاخیر کرے، پاک ہونے کے بعد غسل کرکے طواف کرے اور چوں کہ یہ تاخیر عذر کے سبب سے ہوئی اس لیے اس تاخیر کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم واجب نہیں ہوگا۔ 
لیکن اگر پاک ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت نہیں ملتی ہے یا محرم واپس آرہا ہے تو اسی حالت میں طوافِ زیارت کرلے اور حدودِ حرم میں ایک بدنہ (اونٹ، گائے یا بھینس) ذبح کرے۔ 
مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کے وقت جو طواف کیا جاتا ہے وہ طوافِ وداع کہلاتا ہے، یہ طواف واجب ہے، لیکن اگر مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت عورت حالت حیض میں ہو تو اس طواف کو چھوڑ دے، حیض کی وجہ سے طواف وداع چھوڑنے سے کوئی کفارہ، دم یا قضا لازم نہیں ہوگی۔
اگر عورت نے حالتِ حیض میں عمرہ کا احرام باندھا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا مثلاً: گھر سے مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے وقت حیض تھا  اور اسی حالت میں احرام باندھنا پڑا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو مکہ مکرمہ جانے کے بعد پاک ہونے کا انتظار کرے اور پاک ہونے کے بعد غسل کرکے عمرہ کرلے، لیکن اگر واپسی سے پہلے پہلے حیض سے پاک ہوکر عمرہ کرنے کی کوئی صورت نہ ہو، یعنی ویزا بڑھانے کی یا محرم کے ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہیں تو مجبوراً حالتِ حیض ہی میں عمرہ کرلے اور حرم کی حدود میں ایک دم (قربانی)  دے دے۔
إعلاء السنن (۱۰ ؍ ۳۱۷)
"عن عائشة عن النبي ﷺ قال: الحائض تقضي المناسک کلها إلا الطواف بالبیت. رواه أحمد و ابن أبي شیبة".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 290)
"ثم ذكر أحكامه بـ (قوله :يمنع صلاة)  مطلقاً، ولو سجدة شكر، (وصوماً) وجماعاً ... (و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه".
الفتاوى الهندية (1/ 222)
"وإذا أراد الإحرام اغتسل أو توضأ، والغسل أفضل إلا أن هذا الغسل للتنظيف حتى تؤمر به الحائض، كذا في الهداية".
الفتاوى الهندية (1/ 38)
"(ومنها): أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور ... (ومنها): حرمة الطواف لهما بالبيت وإن طافتا خارج المسجد . هكذا في الكفاية. وكذا يحرم الطواف للجنب. هكذا في التبيين".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 494)
"(وطاف بالبيت طواف القدوم ويسن) هذا الطواف (للآفاقي)؛ لأنه القادم".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 518)
"(و) طواف الزيارة (أول وقته بعد طلوع الفجر يوم النحر وهو فيه) أي الطواف في يوم النحر الأول (أفضل ويمتد) وقته إلى آخر العمر (وحل له النساء) بالحلق السابق، حتى لو طاف قبل الحلق لم يحل له شيء، فلو قلم ظفره مثلاً كان جناية؛ لأنه لا يخرج من الإحرام إلا بالحلق (فإن أخره عنها) أي أيام النحر ولياليها منها (كره) تحريماً (ووجب دم)؛ لترك الواجب، وهذا عند الإمكان، فلو طهرت الحائض إن قدر أربعة أشواط ولم تفعل لزم دم، وإلا لا.
 (قوله: وهذا) أي الكراهة ووجوب الدم بالتأخير ط (قوله: إن قدر أربعة أشواط) أي إن بقي إلى غروب الشمس من اليوم الثالث من أيام النحر مايسع طواف أربعة أشواط، والظاهر أنه يشترط مع ذلك زمن يسع خلع ثيابها واغتسالها ويراجع. اهـ. ح وعلى قياس بحثه ينبغي أن يشترط زمن قطع المسافة أن لو كانت في بيتها ط. قلت: وبالأخير صرح في شرح اللباب، وذلك كله مفهوم من قول البحر عن المحيط: إذا طهرت في آخر أيام النحر فإن أمكنها الطواف قبل الغروب ولم تفعل فعليها دم؛ للتأخير، وإن لم يمكن
ها طواف أربعة أشواط فلا شيء عليها اهـ فإن إمكان الطواف لا يكون إلا بعد الاغتسال وقطع المسافة. وفي البحر أيضاً: ولو حاضت بعدما قدرت على الطواف فلم تطف حتى مضى الوقت لزمها الدم؛ لأنها مقصرة بتفريطها اهـ أي بعدما قدرت على أربعة أشواط. زاد في اللباب: فقولهم: "لا شيء عليها لتأخير الطواف" مقيد بما إذا حاضت في وقت لم تقدر على أكثر الطواف أو حاضت قبل أيام النحر ولم تطهر إلا بعد مضيها، لكن إيجاب الدم فيما لو حاضت في وقته بعد ما قدرت عليه مشكل؛ لأنه لا يلزمها فعله في أول الوقت، نعم يظهر ذلك فيما لو علمت وقت حيضها فأخرته عنه، تأمل.
[تنبيه] نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول ولم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا: يقال لها: لا يحل لك دخول المسجد وإن دخلت وطفت أثمت، وصح طوافك وعليك ذبح بدنة. وهذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء. اهـ. وتقدم حكم طواف المتحيرة في باب الحيض فراجعه".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 550)
"(أو طاف للقدوم)؛ لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنباً) أو حائضاً (أو للفرض محدثاً ولو جنباً فبدنة إن) لم يعده، والأصح وجوبها في الجنابة، وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول، والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي، جوهرة. وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم ، وكذا لو ترك من طوافها شوطاً؛ لأنه لا مدخل للصدقة في العمرة ... (قوله: بلا عذر) قيد للترك والركوب. قال في الفتح عن البدائع: وهذا حكم ترك الواجب في هذا الباب اهـ أي أنه إن تركه بلا عذر لزمه دم، وإن بعذر فلا شيء عليه مطلقاً. وقيل: فيما ورد به النص فقط، وهذا بخلاف ما لو ارتكب محظوراً  كاللبس والطيب، فإنه يلزمه موجبه ولو بعذر، كما قدمناه أول الباب".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 523)
"(ثم) إذا أراد السفر (طاف للصد) أي الوداع (سبعة أشواط بلا رمل وسعي، وهو واجب إلا على أهل مكة) ومن في حكمهم فلا يجب، بل يندب كمن مكث بعده.
(قوله: إلا على أهل مكة) أفاد وجوبه على كل حاج آفاقي مفرد أو متمتع أو قارن بشرط كونه مدركاً مكلفاً غير معذور، فلا يجب على المكي، ولاعلى المعتمر مطلقاً، وفائت الحج والمحصر والمجنون والصبي والحائض والنفساء، كما في اللباب وغيره". 
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر: 143909200565
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

گھر جاکر بچوں کو قرآن (قاعدہ اور سپارہ) پڑھانے کے بدلے اجرت لینے کا حکم

گھر جاکر بچوں کو قرآن (قاعدہ اور سپارہ) پڑھانے کے بدلے اجرت لینے کا حکم

سوال: بچوں کو گھر جاکر قاعدہ اور سپارہ پڑھانے میں جو پیسے لیے جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اور آخرت میں کوئی نقصان تو نہیں ہوگا؟ اور جو حدیثیں آئی  ہیں جیسے دونوں کاندہوں کے درمیان چنگاریاں وغیرہ اور قرآن کی آیت {لایشترون بایات اللہ ثمناً قلیلاً وغیرہ اس میں داخل تو نہیں ہوگا یہ پیسہ؟ راہ نمائی فرمادیں!
الجواب وباللہ التوفیق:
پہلے تو یہ  کوشش کرنی چاہیے کہ  بچوں کے گھر جاکر قرآن پڑھانے کی بجائے بچوں کو اپنے گھر یا مدرسہ بلاکر وہاں ان کو قرآن پڑھایا جائے، تاکہ بچوں کے دل میں قرآنِ کریم کی تعلیم  اور اس کے پڑھانے والے استاذ  کی عظمت باقی رہے، چوں کہ عام طور سے گھر گھر جاکر قرآن کی ٹیوشن پڑھانے سے لوگوں کے دلوں میں قرآن کے معلم اور قرآنی تعلیم کی عظمت باقی نہیں رہتی؛ اس لیے علمائے کرام نے گھر گھر جاکر قرآن کریم کی ٹیوشن پڑھانے کو پسندیدہ قرار نہیں دیا ہے، لیکن  اگر کسی عذر کی وجہ سے کوئی شخص گھر جاکر قرآن کریم پڑھاتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چند باتوں کی رعایت رکھے:
(۱) گھر جاکر قرآن پڑھانے کے دوران اپنا دینی تشخص اور دینی وقار برقرار رکھے اور استغنا کا مظاہرہ کرے۔ کوئی ایسا طرزِعمل نہ اپنائے جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے قرآن پڑھانے والوں کی عظمت واہمیت ختم ہوجائے، مثلاً ایسا نہ ہو کہ اسے صرف اپنی فیس لینے سے مطلب ہو اور بچے جب چاہیں چھٹی کرلیں، اور جتنا چاہیں اسے بٹھاکر انتظار کرواتے رہیں، اور خود کھیل کود میں مصروف ہوں، لیکن قاری صاحب کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔ اسی طرح مقررہ مشاہرے کے علاوہ گھر والوں سے صراحتاً یا اشارۃً  سوال نہ کرے۔
(۲) کسی بالغہ یا قریب البلوغ لڑکی کو نہ پڑھائے۔
(۳) لوگوں کے گھر آتے جاتے پردہ کا بہت زیادہ خیال رکھے  اور نگاہوں کی خوب حفاظت کرے کہ کسی اجنبی عورت پر نگاہ نہ پڑ جائے، اور گھر والوں کو بھی تلقین کرے کہ وہ اس کے آنے جانے کے اوقات میں پردہ کا خیال رکھا کریں۔
  اب رہی بات اس پر اجرت لینے کی تو تعلیمِ قرآن یعنی قرآنِ کریم کی تعلیم دینے، حفظ و ناظرہ پڑھانے پر اجرتلینے کو متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ اجرت اصل میں قرآن پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ ان کاموں کے لیے  اپنے آپ کو محبوس  اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے بچوں کو قاعدہ اور سپارہ پڑھاتا ہے، پیسے لینا مقصود نہیں ہو تو وہ اگر اپنے اس وقت کے بدلہ جو وہ دیتا ہے اور بچوں کے گھر آنے جانے کی مشقت کے بدلے بطورِ اجرت کچھ پیسے لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور یہ پیسے لینا سوال میں مذکور قرآن کی آیت اور حدیث کی وعید میں داخل نہیں ہوگا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55 ):
"(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه)، ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.
 (قوله: ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به»، وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم  إلى عمرو بن العاص: «وإن اتخذت مؤذناً فلا تأخذ على الأذان أجراً»؛ ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل، ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة، هداية. مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليه.
(قوله: ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار".
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 22):
قال - رحمه الله -: "(والفتوى اليوم على جواز الاستئجار لتعليم القرآن)، وهذا مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ استحسنوا ذلك، وقالوا: بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم؛ ولأن الحفاظ والمعلمين كان لهم عطايا في بيت المال وافتقادات من المتعلمين في مجازات التعليم من غير شرط، وهذا الزمان قل ذلك واشتغل الحفاظ بمعائشهم فلو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بالجواز، والأحكام تختلف باختلاف الزمان".
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر: 144003200448

معاف کرنے کی عادت: ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ Is it better to forgive and forget?

معاف کرنے کی عادت: ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ
ماہر نفسیات کے مطابق معاف کرنا انسان کی ایک شعوری کوشش ہے اور ایسے فرد سے ناراضگی یا شکوہ ختم کرنے کا نام ہے جس نے اپنے رویے اور عمل سے کسی انسان کو بہت تکلیف اور دکھ دیا ہو۔ اگرچہ کسی کو تکلیف دینے یا نقصان پہنچانے والے کا رویہ قابلِ قبول نہیں ہوتا مگر پھر بھی غصہ اور نفرت ختم کرکے اس انسان کو کھلے دل سے معاف کرنا آسان کام نہیں ہے۔ جب ہم کسی کے رویے سے تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں تو ہمارے اندر بڑی مقدار میں غصے اور نفرت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں جو کہ ذہنی دباؤ، پریشانی اور ڈپریشن کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو انسان بہت سے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ  سَیِّئَۃٌ  مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ  فَاَجۡرُہٗ  عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ  لَایُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
سورہ الشُّورٰی آیت نمبر 40
ترجمہ: اور کسی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔ (٨) پھر بھی جو کوئی معاف کردے، اور اصلاح سے کام لے تو اس کا ثواب اللہ نے ذمے لیا ہے۔ یقینا وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
تفسیر: 8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچادے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
وَ لَمَنۡ صَبَرَ  وَ غَفَرَ اِنَّ  ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ  الۡاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾
سورہ الشُّورٰی آیت نمبر 43
ترجمہ: اور یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی صبر سے کام لے، اور درگزر کر جائے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے حیائی کی باتیں طبعاً کرتے تھے نہ تکلفاً اورنہ بازار میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھے، اوربرائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگذر فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اورجب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے، اورآپ کو جب بھی دوچیزوں کا اختیار دیاگیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (جامع الترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور الصلوٰۃ والسلام کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابودائود)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، میںنے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑلیا، اورمیں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے، آپ نے فرمایا: اے عقبہ، جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو، جو تم کو محروم کرے، اس کو عطاکرو، اورجو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)
حضرت زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی لونڈی وضو کرواتے ہوئے ان پر پانی ڈال رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے برتن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے چہرے پر گرگیا جس سے چہرہ زخمی ہوگیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو اس نے عرض کی: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَالْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ’’ اور غصہ پینے والے‘‘ حضرت زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں نے اپنا غصہ پی لیا۔ اس نے پھر عرض کی: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ’’اور لوگوں سے در گزر کرنے والے‘‘ ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے معاف کرے۔ پھر عرض گزار ہوئی: وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ’’اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے.‘‘ ارشاد فرمایا: جا! تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔ (ابن عساکر، ذکر من اسمہ علی، علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب، ۴۱ / ۳۸۷)
معاف کرنے کے بہت سے فوائد ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
(1)  جب ہم دُکھ دینے والے فرد کو معاف کرتے ہیں تو اصل میں اپنے آپ کو منفی جذبات، ذہنی دباؤ، پر یشانی اور ڈپریشن سے آزاد کرواتے ہیں جو اگر ختم نہ ہوں تو انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔
(2)  معاف کردینے سے انسان ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے باہر نکل آتا ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ آجاتا ہے۔
(3)  معاف کردینے سے انسان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کتنی تکلیف کو برداشت کرسکتا ہے اور اس میں تکلیف سے مقابلہ کرنے کی کتنی صلاحیت ہے!
( 4)  معاف کرنے کی عادت سے رشتے خوب صورت اور مضبوط ہوتے ہیں اور انسان کو سکون ملتا ہے۔
(5)  انسان کو پرسکون نیند آتی ہے جوکہ بہت سی ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
(6)  دینِ اسلام میں معاف کرنے والے کو بہت پسند کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ بہترین انسانوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جو لوگ آسانی میں، تنگی میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں کو معاف (درگزر) کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (سورہ آل عمران)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہُ علیہ نے فرمایا: ’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کو معاف کرنے سے اللہ عزت بڑھادیتا ہے اور اس کے درجات بلند کردیتا ہے ۔‘‘ (صحیح المسلم)
جبکہ حضرت علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ: ’’طاقت کے ہوتے ہوئے معاف کرنا بہترین نیکی ہے ۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ انسان ان لوگوں کو کیسے معاف کرے جنہوں نے کسی وجہ سے تکلیف یا دکھ دیا ہو۔ خاص طورپر ان افراد کو جنہوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ ان کے رویے سے دوسرے افراد تکلیف اور اذیت ملی ہے اور انہوں نے اس پر کبھی معافی بھی نہیں مانگی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے خود کو سوچیں اور اپنا تجزیہ کریں کہ جن لوگوں نے آپ کو تکلیف دی ہے تو اس تکلیف دہ واقعہ یا احساسات سے ان کی زندگی زیادہ متاثر ہوئی ہے یا آپ کی؟ اور کیا آپ ان لوگوں کی وجہ سے ابھی تک ماضی میں قید ہیں اور زندگی میں آگے نہیں بڑھ نہیں رہے؟
۔  آپ سوچیں کہ کیا میں ضرورت سے زیادہ حساسیت کا مظاہر ہ تو نہیں کررہا؟
۔ اس تجزیہ کے بعد ان افراد کو معاف کرنا شروع کریں جن کی چھوٹی باتوں سے آپ دکھی ہوتے ہیں۔ اس سے آپ کے دل میں وسعت پیدا ہوجائے گی۔
۔  جن واقعات اورافراد سے آپ دکھی ہوئے ہیں ان کے بارے میں اپنے مخلص دوستوں سے بات کریں۔
۔  اگر ہوسکے تو ان افراد کو بتائیں کہ ان کے رویے یاعمل سے آپ کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔ کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ ان کا نقطہ نظر مختلف ہو۔
     سب سے اہم یہ ہے کہ کسی دوسرے کو معاف کردینے سے نہ صرف خدا خوش ہوتا ہے بلکہ انسان بھی ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے دور رہتا ہے۔

Is it better to forgive and forget?
(مرتب :ایس اے ساگر)

ذہنی کشیدگی کا غذا سے علاج

ذہنی کشیدگی کا غذا سے علاج
موجودہ دور میں لوگ بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں اور یہ چیز جسمانی و ذہنی طور پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ذہنی کشیدگی یا دباؤ بہت زیادہ عام ہوچکا ہے۔ ہر دوسرا فرد اس وقت اسٹریس یا ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے یہاں تک کہ بچے بھی تعلیمی مصروفیات کے نتیجے میں چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور اس دباؤ کا حد سے زیادہ بڑھ جانا انسانی صحت کے لئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ متعدد ذہنی وجسمانی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم آپ کی غذا اس کشیدگی کو کم یا ختم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ درحقیقت کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو بلڈ شوگر ہی نہیں بلکہ آپ کے جذباتی ردعمل کو بھی مستحکم کرنے کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اور ایسے ہی سپرفوڈ کے بارے میں جاننا آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
جو کا دلیہ:
اگر تو آپ دلیے کے شوقین ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو بھی ذہنی تناؤ کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے، میساچوسٹیس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق کے مطابق دلیے میں شامل کاربوہائیڈریٹس دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ ڈپریشن سے نجات کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی طرح ہی اثر کرتا ہے جبکہ دلیہ سے خون میں گلوکوز اور اسے آگے بڑھ کر ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔
دہی:
سننے میں چاہے جتنا بھی عجیب لگے مگر انسانی معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا تناؤ کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی 2013 کی ایک تحقیق کے مطابق معدے تک دماغی سگنل جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تناؤ کے باعث ہاضمے کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ، تاہم دہی میں موجود صحت بخش بیکٹریا دماغ کے ان حصوں کی سرگرمیاں کم کردیتے ہیں جو کہ جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے ذہنی تناؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں:
جب انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر فاسٹ یا جنک فوڈ کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے مگر اس موقع پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرنے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جو آپ کو پرسکون کردیتا ہے۔ 2012 میں طبی جریدے جرنل آف ایفیکیٹو ڈس آرڈرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ان سبزیوں میں فولاٹی نامی جز موجود ہوتا ہے جو ڈپریشن کی علامات کا خطرہ کم از کم کردیتا ہے جبکہ اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے والے افراد زیادہ پرسکون، خوش باش اور توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
دودھ:
دودھ وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ ہمارے اندر خوشی کے احساس کو بڑھانے کے لیے بہتر جز ہے، لندن کالج یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کا شکار ہونے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار دہشت اور تناؤ کے خطرے کو کم کردیتا ہے، دودھ کے ساتھ ساتھ مچھلی، انڈے کی زردی وغیرہ بھی اس مقصد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
کاجو:
کاجو میں پائے جانے والا ذنک ذہنی خوف یا فکر کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق کاجو کے استعمال سے ذہنی تشویش کی سطح میں 31 فیصد تک کمی آجاتی ہے کیونکہ اس میں شامل زنک ایک ایسے اعصابی کیمیکل پر اثرانداز ہوتا ہے جو کہ انسانی مزاج پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کاجو میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرکے جسم کو دیگر طبی فوائد بھی پہنچاتے ہیں-
پستے:
جب ذہن میں منفی خیالات کا دباﺅ بڑھ جاتا ہے تو اپنے ہاتھوں سے کوئی چیز بار بار کرنا اس اندرونی کشمکش کو کم کردیتا ہے جیسے پستے یا مونگ پھلی کے چھلکوں کو اتارنا وغیرہ، یہ حرکت لوگوں کو پرسکون کرتی ہے جبکہ یہ میوہ وزن کم کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ دل کی صحت کے لیے اس کے فوائد کو بھی طبی ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔ ماہرین کے بقول پستوں کے استعمال سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی سطح کم ہوجاتی ہے جس سے ذہنی تناﺅ میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔
بلیو بیریز:
جب کوئی انسان ذہنی تناﺅ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک جنگ بھی شروع ہوجاتی ہے، ایسے میں بیریز خاص طور پر بلیو بیریز میں پائے جانے والے اینٹی آکسائیڈنٹس تناﺅ پر قابو پانے کے لیے جسمانی ردعمل کو بہتر بناتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بلیوبیری کھانے والے افراد میں خون کے سفید ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ تناﺅ پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مچھلی:
جب کوئی فرد تناﺅ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر دہشت یا تشویش کا باعث بننے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول اور ایڈرنالائن کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے، تاہم اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اس مرض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتے ہیں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ مچھلی میں شامل اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کے منفی اثرات کو پسپا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
https://saagartimes.blogspot.com/2019/10/blog-post_13.html