زبان: خوں آشام درندہ
انسان کے وجود میں زبان ایک نہایت مختصر اور حقیر عضو ہے، مگر اس کی قوت اور اثرِ کار میں وہ طاقت پوشیدہ ہے جو پہاڑوں کو ہلادے اور دلوں کی سلطنتوں کو مسخر کرلے۔
یہی زبان ہے جو محبت و نرمی کے ایک جملے سے سخت دلوں کو پگھلا دیتی ہے، اور ہاتھی جیسی قوی و لحیم شحیم مخلوق کو بھی انسان کے قدموں میں لا بٹھاتی ہے۔ اور یہی زبان ہے جو شدت و حدّت، تلخی اور درشتی کے ایک لفظ سے انسان کو ہاتھی کے قدموں تلے روندوا بھی دیتی ہے۔
اسی لئے شریعتِ اسلامیہ نے زبان کو نہایت حساس امانت قرار دیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سب سے زیادہ لوگ اپنی زبانوں اور شرم گاہوں کے سبب جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔“
(فإنّ أكثر ما يُدخلُ الناسُ النارَ الأجوفان: الفرجُ والفمُ: ترمذی 2004)۔
پس اگر زبان خیر ومحبت کا ذریعہ ہو تو یہی زبان جنت کے دروازے کھول دیتی ہے، اور اگر شر کی پیامبر ہو تو یہی زبان جہنم کا دہانہ ثابت ہوتی ہے۔
حکمت کہتی ہے:
“كلمةٌ تأتي إليك بفيل، وتأتي بك إلى فيل”
(زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ تمہارے پاس ہاتھی جیسی طاقت لا سکتا ہے، اور اسی زبان کی درشتی تمہیں ہاتھی کے تلے کچلوا بھی سکتی ہے)۔
اور اہلِ دانش فرماتے ہیں:
”اللسانُ سبعٌ إن أُطلق أكل“
(زبان ایک درندہ ہے، اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ اپنے مالک ہی کو کھا جاتی ہے)۔
لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو لگام دے، ہر لفظ سے پہلے اس کے نتائج و عواقب پر غور کرے، اور ضبط و حکمت کے بغیر اسے کبھی نہ کھولے۔ زبان اگر قابو میں ہو تو عزت، شرف اور جنت کی ضمانت ہے، اور اگر بے قابو ہو جائے تو ذلت، ہلاکت اور جہنم کا درندہ بن جاتی ہے۔
انجنئیر محمد علی مرزا کے موجودہ انجام کار میں سب سے بڑا کردار خود ان کی بے قابو زبان کا ہے۔ یہی زبان تھی جس نے انہیں آج قفس مکیں بنادیا، اور یہی زبان تھی جس نے آخرکار انہیں اپنے ہی ہتھیار سے پھاڑ کر تہہ و بالا کیا۔
ہمیں خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ انسان کا سب سے طاقتور اور خطرناک ہتھیار اس کی اپنی زبان ہے۔ اگر اسے حکمت اور ضبط کے ساتھ استعمال کیا جائے تو عزت و نجات کا سبب بنتی ہے، اور اگر بے قابو چھوڑ دیا جائے تو ہلاکت اور رسوائی کی ضمانت بن جاتی ہے:
نرمی سے دل جیت لو، تلخی سے دشمن پال لو
یہ چھوٹا عضو بڑا کام کرجائے، بس سنبھال لو!
(بدھ 2؍ربیع الاوّل 1447ھ 27؍اگست 2025ء) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2025/08/blog-post_27.html
No comments:
Post a Comment