Thursday, 28 August 2025

سوشلستان کا علم فروش عہد

سوشلستان کا علم فروش عہد
-------------------------------
-------------------------------
زمانہ عجب تماشوں سے پُر ہوگیا ہے، وہ دور کہاں گیا جب علمی رسوخ کو طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا؟ مطالعہ کو زندگی کا سرمایہ اور غور و فکر کو حیاتِ عقل کا حسن قرار دیا جاتا تھا؟ آج تو کتاب کی خوشبو، ورق گردانی کی سرمستی اور مطالعہ کی روحانی لذت، سب کچھ ماضی کے دریچوں میں گم ہوکر رہ گئے ہیں، ذوقِ مطالعہ جو کبھی روح کو بالیدگی اور فکر کو رفعت بخشتا تھا، آج محض داستانِ پارینہ بن چکا ہے۔
بڑوں کا احترام، اسلاف کی تعظیم اور اہلِ علم کے سامنے ادب و انکسار کی نگاہیں جھکانا کبھی تہذیب و شرافت کی پہچان تھا۔ کبھی اساتذہ و معلمین کے گھروں کے سمت پاؤں پھیلانا بھی بے ادبی تصور کیا جاتا تھا، مگر آج یہ اوصاف عنقا ہوگئے، اب تو اساتذہ کے مد مقابل آنا کمال فکر وفن سمجھا جارہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ“ (مسند احمد 23197، 23198)
وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے)۔
افسوس! آج سوشل میڈیا کے سیلاب و بہاؤ نے یہی تعلیم فراموش کروادی ہے۔ ہر نوآموز خود کو علامہ باور کرتا ہے اور بڑوں سے الجھنا گویا کمالِ دانش بن گیا ہے۔ چند سطور گھسیٹ لینے کو علم سمجھا جانے لگا ہے؛ حالانکہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے:
”العلم نورٌ يجعله الله في القلب، وليس بكثرة الرواية“
(ابن أبي حاتم 17981–علم وہ نور ہے جو اللہ دل میں رکھ دیتا ہے، یہ محض روایتوں کی کثرت کا نام نہیں)۔
غور و تدبر، تحریر و انشاء اور فکری استقلال کی جو رہی سہی رمق باقی تھی، مصنوعی ذہانت اور سہولت پسندی نے اس پر بھی پردہ ڈال دیا ہے۔ اب ذاتی کمالات کے بجائے نقل و تلخیص کا بازار گرم ہے۔ بجائے اس کے کہ کوئی اپنے چراغِ فکر کو روشن کرے، دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا اور اہلِ علم کی تنقیص کرنا ہی گویا علم و فن کا معیار بن گیا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرزِ عمل پر تنبیہ فرمائی ہے:
”من طلب العلم ليباهي به العلماء أو ليماري به السفهاء أو ليصرف وجوه الناس إليه أدخله الله النار“ (سنن ابن ماجہ 253)
جو شخص علم اس لیے حاصل کرے کہ علما پر فخر کرے، جاہلوں سے بحث کرے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا)۔
یوٹیوب چینلز کی ارزانی وفراوانی اور ان کے ذریعے کمائی کی دوڑ نے اچھے اچھوں کو اپنے تدریسی انہماک سے ہٹاکر ویڈیوز کے جنگل میں لا کھڑا کیا ہے۔ ویوز کی کثرت کا جنون سچائی اور صداقت اور ذرائع ابلاغ کے اسلامی اقدار ومنشور کو پسِ پشت ڈال چکا ہے۔ نہ کسی کے محاسن و کمالات کے اعتراف کا حوصلہ رہا اور نہ ہی بزرگوں کے سامنے ادب و انکسار کا شعور باقی رہا۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
”من تهاون بالعلماء ذهبت آخرته، ومن تهاون بالأمراء ذهبت دنياه، ومن تهاون بالإخوان ذهبت مروءته (سیر أعلام النبلاء 8/408)
جو علما کی بے قدری کرے اس کی آخرت برباد، جو حکمرانوں کی بے ادبی کرے اس کی دنیا تباہ، اور جو بھائیوں کی تحقیر کرے اس کی مروّت ختم ہوجاتی ہے۔
آج وہ دور ہے جہاں شہرت کی ہوس نے اسلامی اقدار اور تہذیبی روایات کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ اب کم فہمی کو رائے، بدزبانی کو جرأت اور تنقیص وتحقیر کو بصیرت سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر اہلِ فکر و دانش بیدار نہ ہوئے تو اندیشہ ہے کہ آنے والی نسلیں روشنی کے "سراب" کو ہی علم کی حقیقت جان بیٹھیں گی۔
ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
(جمعہ 5 ربیع الاوّل 1447ھ 29 اگست 2025ء) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2025/08/blog-post_28.html

No comments:

Post a Comment