Wednesday, 18 September 2019

کیا ہم بڑی مونچھیں رکھ سکتے ہیں؟

کیا ہم بڑی مونچھیں رکھ سکتے ہیں؟

مونچھوں کو تراش کر لبوں کے برابر کرنا سنت ہے، لیکن میں نے سنا ہے کہ حضرت عمر کی مونچھیں بڑی بڑی تھیں، کیا میں نے صحیح سنا ہے؟ کیا ہم بڑی مونچھیں رکھ سکتے ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اُن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ مونچھیں بڑی بڑی نہیں رکھتے تھے؛ بلکہ ان کی مونچھیں بھی سنت کے مطابق چھوٹی ہواکرتی تھیں؛ البتہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال نہیں تراشتے تھے، واضح رہے کہ حضرت کا یہ عمل جمیع صحابہ کا عمل نہ تھا اسی وجہ سے ان کی یہ خصوصیت بیان کی جاتی ہے؛ اس لئے بال کے اس حصے کو بھی تراش لینا بہتر ہے باقی اگر کوئی اس کو ترک کردے تو گنجائش ہے کہ حضرت عمر رضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے عمل سے ثابت ہے۔
قال ابن عابدین: واختلف في المسنون في الشارب ہل ہو القص أو الحلق؟ والمذہب عند بعض المتأخرین من مشائخنا أنہ القص۔ قال في البدائع: وہو الصحیح ۔۔۔۔ وقال في الفتح: وتفسیر القص أن ینتقص عن الاطار، وہو بکسر الہمزة: ملتقی الجلدة واللحم من الشفة۔ (رد المحتار:۲/۵۵۰، کتاب الحج، باب الجنایات في الحج، ط: دارالفکر، بیروت) وقال الملا علي القاري: قص الشارب: قال الحافظ ابن حجر:فیسن احفاوٴہ حتی تبدو حمرة الشفة العلیا۔ (مرقاة المفاتیح:۲/۹۱، کتاب الطہارة، باب السواک، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۳۷۹) وقال فی العرف الشذی: وأما الحد من الطرفین فلم تثبت،وتوخذ بقدر مالا توذی عند الأکل والشرب،ولعل عمل السلف أنہم کانوایقصرون السبالتین أیضاً،فان فی تذکرة الفاروق الأعظم ذکر أنہ کان یترک السبالتین واہتمام ذکر ترکہ السبالتین یدل علی أن غیرہ لا یترکہما․ (العرف الشذی:۲/۱۰۵)

حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا؛ ایک گمنام صحابیہ

حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا؛ ایک گمنام صحابیہ 

قبیلہ مخزوم کے مغرور اور سرکش سردار عمرو بن ہشام کے پاس روپے پیسے کی بہتا ت تھی۔ اس کے شان و شوکت کے حامل محل میں غلاموں اور کنیزوں کی بھرمار تھی لیکن پھر بھی اس کی نظر ایک رومی کنیز پر پڑی تو اس نے اسے منہ مانگے داموں خرید لیا۔ اس لئے نہیں کہ اسے ملازمہ کی ضرورت تھی بلکہ اس لئے کہ یہ سرخ و سفید خوبصورت کنیز اس کے دل کو بھاگئی تھی۔ مکہ میں رومی غلام اور کنیزیں اپنے کھلتے ہوئے رنگ وروپ کی وجہ سے مہنگے داموں فروخت ہوتے تھے روپے پیسے کی اُس کے پاس کمی نہیں تھی اس لئے عمرو بن ہشام نے اس رومی کنیز کو خرید لیا جس کا نام ’زنیرہ‘ (معنی: چھوٹی کنکری) (1) تھا۔
زنیرہ کون تھی؟ اس کا خاندان کیا تھا؟ وہ کیا حالات ہوئے کہ دنیا کی سپر پاور سلطنتِ رومہ سے زنیرہ مکہ کے بازارِ غلاماں میں ناقدر جنس کی طرح فروخت ہوگئی؟ ان باتوں سے نہ عمرو بن ہشام کو کوئی دلچسپی تھی نہ جاننے کا کوئی شوق ….. زنیرہ کے ذہن میں بھی اپنی جائے پیدائش اپنی جنم بھومی کا تصور محض ایک بھولے بسرے خواب کا رہ گیا تھا۔ میں کون ہوں؟….. کیا میں غلامی کے لئے پیدا ہوئی ہوں؟….. کیا کبھی کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے بھی کرسکتی ہوں؟ ….. میری پیدائش کا مقصد کیا ہے؟ ….. خالقِ کائنات نے مجھے کیوں پیدا کیا …..؟ یہ وہ سوالات تھے جو اس کے شعور پر دستک دیتے مگر وہ ان سوالات کا جواب کسی سے طلب نہیں کرسکتی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہئے تھی۔ وہ بے شناخت تھی کیونکہ وہ ایک زرخرید ملازمہ تھی۔ آقا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہنے والی ایک کنیز….. جسے سوال پوچھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ جسے کہنے کا نہیں صرف سننے کا حکم تھا۔ اس کا کام تابعداری تھا اور کام کی نوعیت کا تعین کرنا مالک کا کام تھا۔ اپنی شناخت سے بے شناخت زنیرہ کا سوال گاہے بگاہے اسے بے چین کردیتا۔ میں کون ہوں؟….. میں کون ہوں؟….. لیکن جواب کون دے یہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔
دن گزرتے چلے گئے۔ زنیرہ اس غلامانہ زندگی کی عادی ہوچکی تھی۔ اب وہ سوال بھی کبھی کبھار ہی اس کے ذہن میں اٹھتا۔ عمرو بن ہشام کا رویّہ زنیرہ سے روایتی آقا اور غلام کا تھا اونٹوں کا گوبر اٹھانا، ان کو چارہ ڈالنا، گھر کو صاف رکھنا، عمرو کی چیزوں کی حفاظت پھر ساتھ ہی ساتھ عمرو کی بیوی کی ناگوار گالیاں اور مار پیٹ بھی اس کی زندگی کا حصہ تھی۔ خوف، ڈر، وسوسے اور اندیشے۔ اس کی زندگی اسی شش وپنج میں گزر رہی تھی۔ اس کی زندگی کی سب سے اہم خوشی کا موقع شاید اس کی نیند تھی مگر اب اسے خوابوں میں بھی خوف اور ڈر محسوس ہوتا تھا۔
ایک روز بہت عجیب بات ہوئی۔ چپ چپ خاموش طبع زنیرہ اونٹوں کو چارہ ڈال کر پلٹ رہی تھی کہ اسے اپنے آقا کی آواز آئی جو مالکن سے کچھ بات کررہا تھا۔ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جو میرے سامنے پلا بڑھا ہماری ہی طرح زندگی گزارتا ہے۔ اب وہ کہتا ہے کہ اﷲ اس سے کلام کرتا ہے۔ اس پر وحی نازل کرتا ہے۔ اس کے پاس جبرائیل فرشتہ آتا ہے‘‘۔ آقا کی آواز کے ساتھ ہی قہقہہ بلند ہوا۔ زنیرہ کو دیکھتے ہی مالکن نے رعب دار آواز سے اسے بلایا: ’’او زنیرہ! اِدھر آ اور میرے پاؤں دبا‘‘۔ زنیرہ سعادت مندی سے مالکن کے پاس گئی اور پاؤں دابنے لگی۔ کچھ دیر بعد مالکن کی سماعتوں میں سوراخ کرتی تیز آواز بلند ہوئی ’’یہ کیا بات کررہے ہو؟ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایسا کب کہا؟‘‘
عمرو نے نیم استراحت کی حالت میں کہا: ’’آج۔ ابھی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ کے سارے اکابرین کو بلوایا تھا۔ پہاڑ کے قریب اس نے پوچھا کہ اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کی فوج آرہی ہے تو کیا تم یقین کرلوگے؟ سب نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گزشتہ کردار کو دیکھتے ہوئے کہا ہاں ہم یقین کرلیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ تمہیں سچا اور امانت دار پایا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ سنو مجھے ﷲ نے پیغمبر بناکر بھیجا ہے۔ ﷲ نے مجھے تمہیں یہ بتانے کے لئے مبعوث کیا ہے کہ ﷲ ایک ہے۔ ایک ﷲ کے سوا کسی اور کی عبادت مت کرو۔ تمہاری تمام حاجتیں وہی اﷲ پوری کرتا ہے‘‘۔ عمرو چند لمحے خاموش ہو کر بولا ’’حیرت تو یہ ہے…..‘‘ عمرو پھر گویا ہوا ’’کہ وہ یہ کہتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ ہاہاہا…..‘‘ اس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا ’’آقا غلام کی تمیز کبھی مٹ سکتی ہے۔ کیا اعلیٰ اور ذلیل قبیلے برابر ہوسکتے ہیں؟ معلوم نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون سی باتیں کررہا ہے جو نہ کبھی سنیں نہ دیکھیں‘‘۔ بات آئی گئی ہوگئی لیکن یہ باتیں زنیرہ کی یادداشت میں رہ گئیں۔ خاندان قریش سے تعلق ہونے کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات بنو مخزوم سے بھی تھے اور دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح زنیرہ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دل میں احترام کے جذبات پاتی تھی۔ پھر یہ عمرو بن ہشام کا معمول بن گیا کہ اکثر گھر میں عمرو اور اس کی بیوی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زہر سے بجھی گفتگو کیا کرتے۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ عمرو بن ہشام جتنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلتا اتنا ہی زنیرہ کے دل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام بڑھتا چلا جاتا۔
پھر ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ابو جہل کی ہی سمیہ نامی بوڑھی کنیز نے زنیرہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق باتیں کرنا شروع کردیں۔ ایک رات سمیہ نے بتایا کہ آج شام سمیہ (رضی اللہ عنہا)، ان کے شوہر یاسر اور دو بیٹوں عمار اور عبدﷲ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اور زنیرہ کو ہدایت کی کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ حضرت سمیہ (رضی اللہ عنہا) کا خاندان چوری چھپے نور نبوت سے اپنے قلب و روح کو منور کرتا رہا۔ سمیہ (رضی اللہ عنہانے زنیرہ کو بتایا کہ رسول ﷲ (صلی اللہ علیہ وسلم) ﷲ کا یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ ﷲ ایک ہے۔ ﷲ ہی کی عبادت کرو اور اپنے تصور و خیال سے بنائے گئے تمام بتوں کو توڑ پھینکو۔ ﷲ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ سب انسان آپس میں برابر برابر ہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر فوقیت حاصل ہے نہ ہی عجمی عربی سے بڑھ کر ہے۔ نہ مرد کوعورت پر فضیلت ہے اور نہ ہی عورت کو مرد پر۔ ﷲ کے نزدیک بزرگی کا صحیح حقدار اور پسندیدہ وہ ہے جو متقی ہے۔ جس کے اندر ﷲ کی صفات کا نور ٹھاٹھیں مار رہا ہو۔ ان باتوں میں زنیرہ کے بے شمار سوالوں کا جواب موجود تھا۔
اس کی بے چینی اور بے کلی کو قرار آگیا اور سکون کا احساس دل و دماغ میں پیوست ہوگیا۔ زندگی وہی تھی۔ سارے دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرنا، بات بات پر گالیاں سننا اور مار کھانا مگر رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون کا کتنا آسان نسخہ کیمیا اسے عطا کردیا تھا۔
ایک روز نہ جانے کس طرح وہ سمیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی۔ سراپا محبت ورحمت ہستی نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائیں دیں۔ برسوں محبت کے لئے ترسی ہوئی زنیرہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، د ل میں دبی ہوئی محرومیوں کا آتش فشاں گویا پھٹ پڑا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اس غلام کو محبت سے دیکھ بھی سکتا ہے۔ مالک کا غلاموں پر احکامات صادر کرنا، ڈانٹ ڈپٹ، گالیاں اور مارپیٹ بس یہی کچھ تو اس نے دیکھا تھا۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگاہ کیا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ انسان ﷲ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ ﷲ کے قادرانہ اوصاف کا امین، صفاتِ الٰہیہ سے واقف اور ملاءِ اعلیٰ کی آخری حدوں سے بہت آگے کا شعور رکھنے والا ہے۔ ہرانسان کو ﷲ نے یہ ملکہ خصوصی عطا کیا ہے کہ جو شخص بھی سچے جذبے، گداز دل، عجزو انکساری سے اس رستے پر قدم اٹھالے گا، وہ دنیا میں چاہے کتنے ہی نچلے درجے پر فائز ہو وہ ﷲ کے نزدیک پسندیدہ اور مقرب بن جائے گا۔
نورنبوت کی ضیاپاشیوں سے زنیرہ کا باطن آفتاب کی طرح روشن ہوگیا تھا۔ دل تو نہ جانے کب سے اس خدائی پکار پر سرتسلیم خم کرچکا تھا۔ شاید یہ ازل کی پیاس تھی نورِ نبوت نے جسے سراب کردیا اور ساری تشنہ لبی جاتی رہی۔ اس نے فوری طور پر اسلام قبول کرلیا۔ اب وہ ایک معمولی کنیز سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم المرتبت صحابیہ زنیرہ رضی اللہ عنہا بن گئیں۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کو ﷲ کے قرب کے لئے چند طریقے مرحمت فرمائے اور تاکید فرمائی کہ ابھی اپنے قبولِ اسلام کا اعلان نہ کریں۔ زنیرہ رضی اللہ عنہا دولتِ ایمان سے سرفراز ہونے کے بعد واپس آگئیں۔ لیکن عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا عمرو بن ہشام کو آخر معلوم ہوہی گیا کہ زنیرہ رضی اللہ عنہا مسلمان ہوگئی ہیں اور عشقِ حقیقی پر قدم رکھ دیا ہے۔
پھر اس کی جہالت و ظلم کا وہ باب کھلا کہ جس کی بناء پر اس کا نام ’ابوجہل‘ مشہور ہوگیا اور آج بھی اس کا اصل نام عمرو بن ہشام بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ابوجہل نے حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کردئیے۔ ابوجہل حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کو اتنی بُری طرح زدوکوب کرتا کہ وہ بے ہوش ہوجاتیں۔ وہ مار مارکر تھک جاتا مگر ﷲ کی یہ نیک اور صابر بندی سب کچھ سہہ لیتیں مگر پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آتی۔ ابوجہل ہر روز نئے نئے طریقوں سے مظالم کرتا۔ کبھی کئی کئی دن تک کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ دیتا۔ کبھی سونے پر پابندی لگادیتا اور اونگھ آتے ہی کھال تک نوچ لینے والی چرمی چھڑی سے مارمارکر لہولہان کردیتا۔ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کا پورا جسم زخم زخم رہتا اور اس میں سے خون و پیپ رسنے لگتا مگر اب وہ روح کے اس سفر پر گامزن تھیں جہاں مادّی جسم کو آدمی روح کے خول یا لباس کی صورت میں دیکھتا ہے۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ہونے والے مظالم کی خبر پہنچتی تو غمگین ہوجاتے۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ابوجہل کے پاس گئے تا کہ انہیں خرید کر آزاد کردیں اور اس سے کہا کہ زنیرہ رضی اللہ عنہا کو فروخت کردو مگر وہ ایک کینہ پرور شخص تھا لہٰذا اس نے حقارت سے انکار کردیا۔ اس کا ظلم و جبر یہاں تک بڑھا کہ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی بینائی جاتی رہی اور آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ یہ دیکھ کر ابوجہل نہایت طنزیہ لہجے میں بولا: ’’دیکھ لات و عزیٰ نے تجھے اندھا کردیا۔ اب تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دین کو چھوڑدے۔‘‘ اس جملے نے زخم زخم حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کے دل کو تڑپا کر رکھ دیا مگر وہ خاموش رہیں۔ یہ بات اتنی مشہور ہوئی کہ مشرکین حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی مثال دے دے کر مسلمانوں پر جملے کسنے لگے کہ:
’’دیکھو زنیرہ (رضی اللہ عنہا) کو لات اور عزیٰ نے اندھا کردیا ہے۔‘‘
ایک روز چند مشرکین نے یہ بات حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کہی تو حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا نے تڑپ کر کہا: ’’خدا کی قسم! لات و عزیٰ لکڑی و پتھر کے بت ہیں وہ کیا جانیں کہ کون انہیں پوج رہا ہے اور کون نہیں پوجتا۔ اگر میری بینائی زائل ہوگئی ہے تو یہ مصیبت میرے لئے اﷲ کا ایک امتحان ہے۔ اگر وہ چاہے تو میری بینائی واپس بھی دے سکتا ہے۔‘‘ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی بات سن کر سارے مشرکین نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور زیادہ مضحکہ خیز انداز میں حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات سب کو ہنس ہنس کر بتانے لگے۔ پورے دن حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کا تذکرہ کرکے شرک کے پیروکار قہقہے لگاتے رہے، مذاق اُڑاتے اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے رہے۔ اگلے روز حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا سوکر بیدار ہوئیں تو ان بے نور آنکھوں میں روشنی آچکی تھی۔ اب ان کی بینائی پہلے سے بھی کہیں زیادہ تیز تھی۔ (2) حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی بینائی واپس لوٹنے کی خبر بھی مکہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کل تک جو لوگ حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کی بات کا مزے لے لے کر مضحکہ اور تمسخر اڑارہے تھے انہیں سانپ سونگھ گیا تھا۔ خصوصاً ابوجہل تو شرم کے مارے گھر سے ہی نہ نکلا۔ اسی روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ابوجہل کے پاس دوبارہ آئے اور کہا کہ اگر تم زنیرہ رضی اللہ عنہا کو فروخت کردو تو میں اس کے دگنے دام دوں گا اور تم اس سے زیادہ طاقتور اور محنتی کنیز خرید سکوگے۔ ابوجہل زنیرہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پاس اب مزید نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی اپنی ہی بات کی وجہ سے اسے سبکی اٹھانی پڑی تھی اِس لئے اُس نے کئی گنا زیادہ دام پر حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کو فروخت کردیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے ان کو آزاد کردیا۔
(ایس اے ساگر)
-----------------------------------
(1) مجھے درج ذیل ناموں کا مطلب معلوم کرنا ہے، براہ کرم، ان ناموں کے معنی بتائیں نیز بتائیں کہ یہ نام رکھنے میں کوئی قباحت تو نہیں؟: (۱) زنیرہ (۲) عاتکہ (۳) اریبہ، (۴) یسری (۵) انابیہ، (۶) ہانیہ ، (۷) منیرہ، (۸) اسحال۔
سوال
مجھے درج ذیل ناموں کا مطلب معلوم کرنا ہے، براہ کرم، ان ناموں کے معنی بتائیں نیز بتائیں کہ یہ نام رکھنے میں کوئی قباحت تو نہیں؟:
(۱) زنیرہ(۲) عاتکہ (۳) اریبہ، (۴) یسری (۵) انابیہ، (۶) ہانیہ ، (۷) منیرہ، (۸) اسحال۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم 
فتوی (ل): 1073=663-7/1432
(۱) ”زِنِّیْرَہ“ کے معنی ہیں ”چھوٹی کنکری“ کے، یہ ایک صحابیہ محترمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے، اس نام کو رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
(۲) ”عاتکہ“ کے معنی آتے ہیں: زیادہ خوشبو استعمال کرنے والی عورت، یہ بھی صحابیہ کے ناموں میں سے ہے، اس میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔
(۳) ”اریبہ“ اس کے معنی ہیں: عقل مند، دانا، اس میں بھی قباحت نہیں۔
(۴) ”یُسری“ بائیں جانب، یہ کوئی اچھا نام نہیں، اس کی جگہ ”یُمنیٰ“ نام رکھ سکتے ہیں۔
(۵) ”اِنابیہ“ رجوع ہونے والی، جھکنے والی، معنی صحیح ہے، کوئی قباحت نہیں۔
(۶) ”ہانیہ“ خوش رہنے والی، خادمہ، اس میں بھی قباحت نہیں۔
(۷) ”مُنیرہ“ روشن، چمک دار، روشنی دینے والی، اس میں بھی قباحت نہیں ہے۔
(۸) ”ایشال“ انگریزی ڈکشنری میں اس کے معنی جنت کے پھول کے لکھے ہیں؛ تاہم یہ معنی معتبر معلوم نہیں ہوتے ہیں؛ لہٰذا اس نام کو رکھنا مناسب نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
ماخذ : دار الافتاء دار العلوم دیوبند
------------------------------------------
اللہ تعالیٰ نے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پھر ان کی آنکھوں میں روشنی عطا فرما دی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے جادو کا اثر ہے۔ (زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۷۰)
(ایس اے ساگر)


Tuesday, 17 September 2019

فتح سمرقند

فتح سمرقند

یہ واقعہ خلیفۃالمسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کے دور حکومت کا ہے۔ آپ کو حضرت عمر (بن خطاب رضی اللہ عنہ) ثانی سمجھا جاتا ہے۔ آپ بہت امیر تھے اور شاہانہ طریقہ رہائش تھا مگر جب آپ کو خلیفہ چنا گیا تو آپ نے تمام دولت غرباء میں تقسیم کردی اور ایک نہایت معمولی سے شخص کی طرح زندگی گزاری۔ آپ نے بمشکل ڈھائی سال حکومت کی مگر یہ دور سنہرا دور مانا جاتا ہے اور انداز حکومت ضرب المثل بن گیا ہے۔ واقعہ مُسلم سپہ سالار قطان قتیبہ ابن ابی صالح مسلم ابن عمر البہیلی کا ہے جن کو ہم قتیبہ بن مسلم کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کا انتقال 715 سن عیسوی میں ہوا تھا۔ یہ تاریخ اسلام کا سنہرا دور تھا۔
عرب سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند فتح کرلیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا تھا۔ سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبہ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیامبر کے ذریعے خط لکھ کر بھجوائی۔ پیامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ اُس نے لوگوں سے پوچھا:
کیا یہ حاکم شہر کی رہائش ہے؟ 
لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے، تو نماز نہیں پڑھتا کیا؟ 
پیامبر نے کہا: نہیں، میں اہل سمرقند کے دین کا پیروکار ہوں۔ 
لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ پیامبر لوگوں کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے حاکم کے گھر جاپہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک عورت گارا اُٹھاکر اُسے دے رہی ہے۔ پیامبر جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جاپہنچا جنہوں نے اُسے یہ راستہ بتایا تھا۔ اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ 
لوگوں نے کہا: ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔ 
پیامبر نے بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جاکر دستک دی۔ جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کررہا تھا وہی اندر سے نمودار ہوا۔ 
میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا پیامبر ہوں کہہ کر اُس نے اپنا تعارف کروایا اور خط حاکم کو دیدیا۔ اُس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا:
عمربن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام: ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ 
مہر لگاکر خط واپس پیامبر کو دیدیا۔ پیامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے، کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ 
سمرقند لوٹ کر پیامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی، خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی، اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گا۔ مگر پھر بھی خط لیکر مجبوراً اُس حاکم سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہوچکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فوراً ایک قاضی (جَمیع نامی ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔ موقع پر عدالت لگ گئی، ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے روبرو اور پادری کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ 
قاضی نے سمرقندی سے پوچھا: کیا دعویٰ ہے تمہارا؟ 
پادری نے کہا: قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟ قتیبہ نے کہا: قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے، سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سرسبز وشاداب اور زورآور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کرلیا۔ 
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا: قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟ 
قتیبہ نے کہا: نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ 
قاضی نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کررہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔ قتیبہ! اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل وانصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔ میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور ان کے عہدہ داران مع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑکر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمرقند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع ودعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔ 
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آرہا تھا۔ چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جارہا تھا۔ اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد وغبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو ویران کرکے جارہے تھے۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتارہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہورہی تھی۔ اور اُس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اُن کو ایسے لوگ چھوڑکر جارہے تھے جن کے اخلاق، معاشرت، برتائو، معاملات اور پیار ومحبت نے اُن کو اور اُن کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کرپائے، اپنے پادری کی قیادت میں لاالہٰ الا الّلہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور اُن کو واپس لے آئے۔ اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔ دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصے تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی طنطاوی رحمت للہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 411 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
واللہ عالم بالصواب۔
ایس اے ساگر

من كتاب قصص من التاريخ للشيخ الأديب علي الطنطاوي رحمه الله،
وأصلها التاريخي في الصفحة 411 من فتوح البلدان للبلاذري، طبعة مصر سنة 1932 م.
في عهد الخليفة الصالح "عمر بن عبد العزيز"، أرسل أهل سمرقند رسولهم إليه بعد دخول الجيش الإسلامي لأراضيهم دون إنذار أو دعوة، فكتب مع رسولهم للقاضي أن احكم بينهم، فكانت هذه القصة التي تعتبر من الأساطير.
وعند حضور اطراف الدعوى لدى القاضى، كانت هذه الصورة للمحكمة:
صاح الغلام: يا قتيبة بلا لقب
فجاء قتيبة، وجلس هو وكبير الكهنة السمرقندي أمام القاضي جميعا
ثم قال القاضي: ما دعواك يا سمرقندي؟
قال السمرقندي: اجتاحنا قتيبة بجيشه، ولم يدعُـنا إلى الإسلام ويمهلنا حتى ننظر في أمرنا..
التفت القاضي إلى قتيبة وقال: وما تقول في هذا يا قتيبة ؟
قال قتيبة: الحرب خدعة، وهذا بلد عظيم، وكل البلدان من حوله كانوا يقاومون ولم يدخلوا الإسلام، ولم يقبلوا بالجزية ..
قال القاضي: يا قتيبة، هل دعوتهم للإسلام أو الجزية أو الحرب؟
قال قتيبة: لا، إنما باغتناهم لما ذكرت لك ..
قال القاضي: أراك قد أقررت، وإذا أقر المدعي عليه انتهت المحاكمة؛
يا قتيبة ما نـَصَرَ الله هذه الأمة إلا بالدين واجتناب الغدر وإقامة العدل.
ثم قال القاضي: قضينا بإخراج جميع المسلمين من أرض سمرقند من حكام وجيوش ورجال وأطفال ونساء، وأن تترك الدكاكين والدور، وأنْ لا يبقى في سمرقند أحد، على أنْ ينذرهم المسلمون بعد ذلك
لم يصدق الكهنة ما شاهدوه وسمعوه ، فلا شهود ولا أدلة، ولم تدم المحاكمة إلا دقائقَ معدودة،
ولم يشعروا إلا والقاضي والغلام وقتيبة ينصرفون أمامهم.
وبعد ساعات قليلة، سمع أهل سمرقند بجلبة تعلو، وأصوات ترتفع ، وغبار يعم الجنبات، ورايات تلوح خلال الغبار، فسألوا، فقيل لهم: إنَّ الحكم قد نُفِذَ وأنَّ الجيش قد انسحب، في مشهدٍ تقشعر منه جلود الذين شاهدوه أو سمعوا به.
وما إنْ غرُبت شمس ذلك اليوم، إلا والكلاب تتجول بطرق سمرقند الخالية، وصوت بكاءٍ يُسمع في كل بيتٍ على خروج تلك الأمة العادلة الرحيمة من بلدهم ، ولم يتمالك الكهنة وأهل سمرقند أنفسهم لساعات أكثر، حتى خرجوا أفواجاً وكبير الكهنة أمامهم باتجاه معسكر المسلمين وهم يرددون شهادة أن لا إله إلا الله محمد رسول الله.
فيا الله ما أعظمها من قصة، وما أنصعها من صفحة من صفحات تاريخنا المشرق،
أرأيتم جيشاً يفتح مدينة، ثم يشتكي أهل المدينة للدولة المنتصرة ، فيحكم قضاؤها على الجيش الظافر بالخروج؟

والله لا نعلم شبها لهذا الموقف لأمة من الأمم.
من كتاب قصص من التاريخ للشيخ الأديب علي الطنطاوي رحمه الله
---------------------------------------------------------
فتح سمرقند ...
"وذلك أن قتيبة لما فرغ من هذا كله وعزم على الرجوع إلى بلاده، قال له بعض الأمراء: إن أهل الصغد قد أمنوك عامك هذا، فإن رأيت أن تعدل إليهم وهم لا يشعرون، فإنك متى فعلت ذلك أخذتها إن كنت تريدها يوما من الدهر، فقال قتيبة لذلك الأمير: هل قلت هذا لأحد؟ قال: لا، قال: فلأن يسمعه منك أحدٌ أضرب عنقك. ثم بعث قتيبة أخاه عبد الرحمن بن مسلم بين يديه في عشرين ألفا فسبقه إلى سمرقند، ولحقه قتيبة في بقية الجيش، فلما سمعت الأتراك بقدومهم إليهم انتخبوا من ينهم كل شديد السطوة من أبناء الملوك والأمراء، وأمروهم أن يسيروا إلى قتيبة في الليل فيكبسوا جيش المسلمين، وجاءت الأخبار إلى قتيبة بذلك فجرد أخاه صالح في ستمائة فارس من الأبطال الذين لا يطاقون، وقال: خذوا عليهم الطريق فساروا فوقفوا لهم في أثناء الطريق وتفرقوا ثلاث فرق، فلما اجتازوا بهم بالليل - وهم لا يشعرون بهم - نادوا عليهم فاقتتل المسلمون هم وإياهم، فلم يفلت من أولئك الأتراك إلا النفر اليسير واحتزوا رؤوسهم وغنموا ما كان معهم من الأسلحة المحلاة بالذهب، والأمتعة، وقال لهم بعض أولئك: تعلمون أنكم لم تقتلوا في مقامكم هذا إلا ابن ملك أو بطل من الأبطال المعدودين بمائة فارس أو بألف فارس، فنفلهم قتيبة جميع ما غنموه منهم من ذهب وسلاح، واقترب من المدينة العظمى التي بالصغد - وهي سمرقند - فنصب عليها المجانيق فرماها بها وهو مع ذلك يقاتلهم لا يقلع عنهم، وناصحه من معه عليها من بخارى وخوارزم، فقاتلوا أهل الصغد قتالا شديدا، فأرسل إليه غورك ملك الصغد: إنما تقاتلني بإخواني وأهل بيتي، فأخرج إليَّ في العرب. فغضب عند ذلك قتيبة وميز العرب من العجم وأمر العجم باعتزالهم، وقدم الشجعان من العرب وأعطاهم جيد السلاح، وانتزعه من أيدي الجبناء، وزحف بالأبطال على المدينة ورماها بالمجانيق، فثلم فيها ثلمة فسدها الترك بغرار الدخن، وقام رجل منهم فوقها فجعل يشتم قتيبة فرماه رجل من المسلمين بسهم فقلع عينه حتى خرجت من قفاه. فلم يلبث أن مات قبحه الله فأعطى قتيبة الذي رماه عشرة آلاف، ثم دخل الليل، فلما أصبحوا رماهم بالمجانيق فثلم أيضا ثلمة وصعد المسلمون فوقها، وتراموا هم وأهل البلد بالنشاب، فقالت الترك لقتيبة: ارجع عنا يومك هذا ونحن نصالحك غدا، فرجع عنهم وصالحوه من الغد على ألفي ألفٍ ومائة ألفٍ يحملونها إليه في كل عام، وعلى أن يعطوه في هذه السنة ثلاثين ألف رأس من الرقيق ليس فيهم صغيرٌ ولا شيخٌ ولا عيبٌ، وفي روايةٍ مائة ألفٍ من رقيقٍ، وعلى أن يأخذ حلية الأصنام وما في بيوت النيران، وعلى أن يخلوا المدينة من المقاتلة حتى يبني فيها قتيبة مسجدا، ويوضع له فيه منبر يخطب عليه، ويتغدى ويخرج. فأجابوه إلى ذلك، فلما دخلها قتيبة دخلها ومعه أربعة آلاف من الأبطال - وذلك بعد أن بنى المسجد ووضع فيه المنبر - فصلى في المسجد وخطب وتغدى وأتى بالأصنام التي لهم فسلبت بين يديه، وألقيت بعضها فوق بعضٍ، حتى صارت كالقصر العظيم، ثم أمر بتحريقها فتصارخوا وتباكوا، وقال المجوس: إن فيها أصناما قديمةً من أحرقها هلك، وجاء الملك غورك فنهى عن ذلك، وقال لقتيبة: إني لك ناصح، فقام قتيبة وأخذ في يده شعلة نار، وقال: أنا أحرقها بيدي فكيدوني جميعا ثم لا تنظرون، ثم قام إليها وهو يكبر الله عز وجل، وألقى فيها النار فاحترقت، فوجد من بقايا ما كان فيها من الذهب خمسون ألف مثقال من ذهبٍ. وكان من جملة ما أصاب قتيبة في السبي جارية من ولد يزدجرد، فأهداها إلى الوليد، فولدت له يزيد بن الوليد، ثم استدعى قتيبة بأهل سمرقند، فقال لهم: إني لا أريد منكم أكثر مما صالحتكم عليه، ولكن لا بد من جند يقيمون عندكم من جهتنا. فانتقل عنها ملكها غورك خان فتلا قتيبة: { وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادا الْأُولَى * وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَى } الآيات [النجم: 50-51] ثم ارتحل عنها قتيبة إلى بلاد مرو، واستخلف على سمرقند أخاه عبد الله بن مسلم، وقال له: لا تدع مشركا يدخل باب سمرقند إلا مختوم اليد، ثم لا تدعه بها إلا مقدار ما تجف طينة ختمه، فإن جفت وهو بها فاقتله، ومن رأيت منهم ومعه حديدة أو سكينة فاقتله بها، وإذا أغلقت الباب فوجدت بها أحدا فاقتله، فقال في ذلك كعب الأشقري - ويقال هي لرجل من جعفي -:
كل يوم يحوي قتيبة نهبا * ويزيد الأموال مالا جديدا
باهليٌّ قد ألبس التاج حتى * شاب منه مفارق كن سودا
دوخ الصغد بالكتائب حتى * ترك الصغد بالعراء قعودا
فوليد يبكي لفقد أبيه * وأب موجع يبكي الوليدا
كلما حل بلدة أو أتاها * تركت خيله بها أخدودا
وفي هذه السنة عزل موسى بن نصير نائب بلاد ...." :)

فتح سمرقند



Sunday, 15 September 2019

نہلانے والی کا ہاتھ میت سے چمٹ گیا؟

نہلانے والی کا ہاتھ میت سے چمٹ گیا؟
سوال: ایک واقعہ کثرت سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عورت کا جب انتقال ہوا تو اسکو نہلانے والیوں میں سے ایک عورت کا ہاتھ اس میت کے جسم سے چمٹ گیا، پھر امام مالک رحمہ اللہ کے کہنے پر اسکو کوڑے مارے گئے… کیا یہ واقعہ درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی
یہ واقعہ مختلف کتابوں میں مذکور ہے لیکن جن حضرات نے اس واقعے کی تحقیق کی ہے انہوں نے اس واقعے کو موضوع قرار دیا ہے. علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس واقعے کو نقل کرکے فرمایا کہ یہ واقعہ مجھے کچھ اس طرح لکھا ہوا ملا ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ راوی کا خود سے بنایا گیا واقعہ ہو.
وجدت له حكاية (يشبه أن يكون من وضعه) قرأت بخط الحافظ قطب الدين الحلبي ما نصه وسيدي أبي عبدالرحمن بن عمر بن محمد بن سعيد وجدت بخط عمي بكر بن محمد بن سعيد ثنا يعقوب بن إسحاق بن حجر العسقلاني املأ قال ثنا إبراهيم بن عقبة حدثني المسيب بن عبدالكريم الخثعمي حدثتني أمةالعزيز امرأة أيوب بن صالح صاحب مالك قالت: غسلنا امرأة بالمدينة فضربت امرأة يدها علی عجيزتها فقالت: ما علمتك إلا زانية أو مابونة فالتزقت يدها بعجيزتها فأخبروه مالكا؛ فقال: هذه المرأة تطلب حدها فاجتمع الناس فأمر مالك أن تضرب الحد فضربت تسعة وسبعين سوطا ولم تنتزع اليد فلما ضربت تمام الثمانين انتزعت اليد وصلی على المرأة ودفنت…
اس واقعے کی سندی حیثیت:
اس واقعے کا اہم راوی جو اس واقعے کو لکھوانے والا ہے وہ یعقوب بن اسحاق العسقلانی ہے.
١. اس راوی کے متعلق امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹا راوی ہے.
يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم بن يزيد بن حجر القرشي أبوالحسن العسقلاني، وهو كذَّاب، كما وصفه بذلك الذهبي. (ميزان الاعتدال:5/176، ت/9260)
٢. حافظ ابن حجر نے بھی اس کو جھوٹا قرار دیا ہے.
وأورد له الحافظ رحمه الله في اللسان (ت/8631) حديثاً، فقال بعده: وهذا من أباطيل يعقوب، إشارة منه أنه من وَضْعِهِ…والله أعلم.
٣. لسان المیزان میں لکھا ہے کہ یہ راوی جھوٹا ہے.
يعقوب بن إسحاق (بن إبراهيم بن يزيد بن حجر بن محمد المعروف بابن حجر) العسقلاني: كذاب.
خلاصہ کلام
یہ واقعہ کسی صحیح سند سے منقول نہیں ہے اور اکابر محدثین نے بھی اس کی صحت کا انکار کیا ہے، لہذا اس واقعہ کو بیان کرنا یا اس کو پھیلانا درست نہیں ہے.
واللہ اعلم بالصواب


مسلم حکمران اور پروپیگنڈا

مسلم حکمران اور پروپیگنڈا
یہ ان حضرات کیلئے ہے جن کی وجہ سے یہ بات مشہور ہوئی ہے کہ جب انگریز آکسفورڈ اور کیمبریج بنارہے تھے اس وقت ہمارے حکمران تاج محل بنارہے تھے.
چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش ہے کہ جب یوروپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنارہے تھے. میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے، اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں. تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کروں. ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نا تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں. دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں. معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر-عالگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا. درآمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں. سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں. فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے. تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں. مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں. پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے. اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کروائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھردیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا گیا. عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion) سے بھرپور ہے. یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے. یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے. پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں.اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آسکتے ہیں. انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا. جب کے تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کرکے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہوگیا تھا. آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے. 'ٹائل موزیک' فن ہے، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے. یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے. ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے. یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے . تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں. ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں. مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (PhD) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی. کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہوسکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے. شیخ احمد سرہندی رح ہوں یا جھانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی.
مزید بھی میں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا، اسلئے کہ میرے ان "عظیم" صاحبان علم کو کسی مسلمان یا لوکل مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے. ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کس مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے: "ہر گاوں میں ایک سکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے. ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا. ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. " اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں. میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے "بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے". اورنگزیب عالمگیر رح کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا' جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے. میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا. جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا " تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے." مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے. انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیر رح کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا. عالمگیر رح نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں. سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے. اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں. سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ"، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا" اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری" لکھی. یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے. یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں. اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا. عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے.
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں. ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں. آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے. ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا. پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا. اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی. ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی. یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں. لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا.
مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئیے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے. لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنارہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں. لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے.
تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا.
"آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا بہا کے لے گیا.
(کاپی از پاسبان علم و ادب)
مغربی دانشوروں کا اسلام کو خراجِ عقیدت
مغربی دنیا اگرچہ اسلام کی سخت مخالف رہی ہے اور سمجھنے کی بجائے اس نے اس مذہب سے ہمیشہ ہی جنگ برپارکھی ہے لیکن اس تمام دور میں انہی میں سے بعض مفکرین ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اسلام کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش اور اپنے ہم مذہبوں کے ملامت کی پروا کئے بغیر اس کی خوبیو ں کی برملا تعریف کی ہے۔ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ دنیا میں اگر اسلام کا ورود نہ ہوا ہوتا تو دنیا،آج کے دور تک محض گھسٹ گھسٹ کر ہی چل رہی ہوتی۔ ان مفکرین نے واقف کروایا کہ تصور میںا تارے جانے کے برعکس اسلام خون آشامی کا نہیں بلکہ علم و تہذیب، امن و آشتی، حفظان ِ صحت ، آزادیٔ رائے اور عمدہ طرزِ حکومت کا داعی مذہب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں نے اسلام کا صرف تعصب کی نظر سے مطالعہ کیاہے،ورنہ اگر حقیقت کی نظروں سے وہ اس کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ اس جیسا ’’انسان ہمدرد‘‘ او ر علم دوست مذہب دنیا میں اور کوئی نہیں ۔
    یہ ایک ازلی سچائی ہے کہ صداقت میں اپنا ایک زور ہوتا ہے۔اس کیخلاف کتنے ہی تعصبات روا رکھے جائیں اور اس کے علم برداروںپر کتنا ہی تشدد کیا جائے ،حقیقت اپناا ٓپ منوا کر رہتی ہے۔ گزشتہ صدیوں میں جبکہ عیسائی کلیسائوںنے سامنے آنے والے سائنسی حقائق کو جھٹلانے اور دبانے کی تمام تر جابرانہ کوششیں کی تھیں ، دنیا کے منہ بولتے ہوئے حقائق قدامت پرست کلیسائوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ہرحال آگے ہی بڑھتے چلے گئے تھے۔ یہاں تک کہ پھر وہ زمانہ بھی آگیا جب کلیسا کوخود اپنی ہی چار دیواری تک محدود ہوجانا پڑاچنانچہ آج سب جانتے ہیں کہ عیسائی دنیا میں ان کلیسائوں کی کیا وقعت رہ گئی ہے؟ وہ سنسان پڑے ہیں اورمساجد کی تعمیر کی خاطر مسلمانوں کے ہاتھوں باقاعدہ فروخت ہورہے ہیں۔کلیسا صفر کی طرف جارہے ہیں اور مساجد خود سرکاری طور پر بنوائی جارہی ہیں!
      اسلام کے خلاف صلیبیوں نے آغازِ اسلام ہی سے اپنی ظالمانہ ومخالفانہ سرگرمیاں مسلسل جاری رکھی ہوئی ہیں تاکہ عیسائی عوام الناس کو اس کی سچائیوں اور برکتوں کی طرف متوجہ نہ ہونے دیاجائے تاہم جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ حقیقت حقیقت ہوتی ہے، اسلام جیسی سب سے عظیم سچائی ہر دور میں اپنی حقیقت منوا کرہی کر دم لیتی رہی ہے۔ تعصب و نفرت کے اس جدید دور میں اللہ کے چند نیک صفت سنجیدہ عیسائی و یہودی ممتازافراد قرآن ِپاک اورصدیوں پر پھیلی ہوئی ہماری تاریخ کا مطالعہ کرکے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو کچھ بھی اس مذہب کے خلاف اب تک کہا اور پھیلایا جارہا ہے، محض جھوٹ اور پروپیگنڈے کا ڈھیرہے۔ اپنی عالمانہ تحریرو ں اور مدبرانہ تقریروں میں انہوں نے اسلام مخالف پروپیگنڈوں کا بر سر عام مدلل جواب دینے کی کوشش کی ہے۔یہ وہ مفکرین ہیں جن کی حیرانی ،اسلامی ادوار کے چیختے چنگھاڑتے سنہرے حقائق کو دیکھ کر ہمیشہ ہی بڑھتی رہی ہے اور نتیجتاً وہ یہ اعلان کرنے پر ببانگ ِ دہل مجبور ہوئے ہیں کہ عیسائیت اور یہودیت جیسے مذاہب ،دین ِاسلام کے برابر تو کیا، اس کے پاسنگ بھی نہیں ہیں!۔     
    جدیددور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم اقوام، مغربی سیکولر مفکرین کے تابڑ توڑ گمراہ کن پروپیگنڈ ے کے دھوکے میں آکر اپنی ہی اولا دکو قتل کرنے کے دھندے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ اپنی ہی آبادی کو انہوں نے اس بے بنیاد خوف کے تحت دنیا میں آنے سے روکا ہوا  ہے کہ اربوں کی اس آبادی کو کھانے پینے کا سامان دنیا میں کہاں سے مہیا ہوگا؟ تاہم مغرب اس حماقت کو آج اپنی آنکھوں سے خود دیکھ رہا ہے۔نہ صرف یہ کہ وہاں کام کرنے والے افرادکی بدترین قلت پیداہوگئی ہے ،بلکہ حالت یہ ہے کہ ا ن کے بڑ ے بڑے عیسائی شہر بھی اب از خود مسلم شہروں میں تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
     کم آبادی والے اس فلسفے کو اگرچہ عالمی طورپر مسلمانوں نے بھی بخوشی اپنایا ہے،تاہم فرق یہ ہے کہ ان کے ہاں بچوں کی آمد پر مکمل پابندی نہیں ۔عیسائی گھرانوں کے برعکس مسلم گھرانوں میں4,3 کی حد تک توبچے ضرور ہی گھر کا تقاضا سمجھے جاتے ہیں چنانچہ آبادی کی اس کایا پلٹ نے مغربی دنیا پر جو اثرات مرتب کئے ہیں ، ان کا مطالعہ بھی خاصا دلچسپی کا حامل ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان مغربی دیار میں ہر جگہ اپنی حیثیت منوارہے ہیں حتی ٰ کہ مغربی دنیا کو آج ان کے بغیرا پنا نظام چلانا تقریباًناممکنات میں سے نظر آرہا ہے ۔
    مسلمانوں کیخلاف مغربی تعصب اور نفرت کی موجودہ جاری فضامیں انہی کے بعض سنجیدہ دانشوروں کے مثبت خیالات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ذیل میں انہی خیالات کی جھلکیں پیش کی جاتی ہیں۔
    ٭  فلپ کے حتّی(Philip k Hatti):
    تاریخ کی دنیا میں فلپ کے حتی کا نام بہت معتبر ہے۔وہ لبنانی نژاد امریکی عیسائی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے بارے میں انہوں نے ایک ضخیم کتا ب’’THE HISTORY OF ARABS ‘‘کے نام سے لکھی ہے جو تقریباً پوری کی پوری اسلام کے خصائص سے بھری ہوئی ہے۔کتاب میں مصنف کہتے ہیں:
    داعیٔ اسلام (ﷺ)کی وفات کے محض 100سال کے بعد ہی ان کے متبعین ایک ایسی عظیم سلطنت کے مالک بن بیٹھے تھے جو اپنے عروج کے وقت کی سلطنت ِ روما سے بھی کہیں زیادہ وسیع تھی او رجوBAY OF BISCAY  سے لے کر سندھ ، چین اور مصر تک پھیلتی چلی گئی تھی اوربنو امیہ کے دور میںجس کا دارالحکومت دمشق بنا ہوا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ جس کاغذ کو چین نے سمرقند میں آٹھوی صدی کے وسط میں تیا ر کرنا شروع کیا تھا، اور جواپنے معیار کے لحاظ سے بہت کمتر درجے کا حامل تھا، اسی صدی کے آخر تک مسلمانوںنے اسے کافی معیاری بنادیاتھا ۔یہی وجہ ہے کہ بغداد میں اس وقت دنیا کا کاغذ کاسب سے اولین کارخانہ قائم کیا جاسکا تھا ۔آہستہ آہستہ یہ کاغذسازی تمام عر ب ممالک میں پھیلتی چلی گئی اور لاتعداد کارخانے ہر جگہ وجود میں آنے لگے جہاں مختلف اقسام کے سفید و رنگین کاغذ تیا رہوتے تھے۔قدرتی طور پراس ایجاد نے دنیا بھر میںعلم کی توسیع میں بھرپور کردار ادا کیا(ص347)۔
    فلپ کے حتی اطلاع دیتا ہے کہ مسلمانوں کی معروف رواداری کے سبب ہم نویں صدی میں مسلم درباروں میں عیسائی شخصیتوں کو بھی اپنی ذمے داریاں انجام دیتے دیکھتے ہیں۔ایک عباسی خلیفہ المعتضد(902-892ء) نے ایک عیسائی کمانڈر کو اپنی جنگی سرگرمیوں کے ادارے کا سربراہ مقرر کیا تھا۔انہی میں سے ایک’’ راڈریگو ڈیاز‘‘بھی تھا جسے اسپین میں مسلم فوجیوںکا کمانڈرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا اور جسے دربار سے’’السید‘‘کا لقب دیاگیاتھا۔عیسائی دنیا میں وہ آج بھی راڈریگو ڈیاز کے اصل نام کی بجائے السیدCID  ہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہودیوں کا ذکرکرتے ہوئے وہ بیان کرتا ہے کہ ’’خلیفہ کے ساتھ دربار میں جاتے ہوئے یہودی سردار کشیدہ کاری والا ریشمی لباس پہنے ،اور سر پر جواہرات والی پگڑی اوڑھے3,2 گھڑ سواروں کے ہمراہ جاتا تھا جس کے آگے آگے ایک محافظ، چلاتا ہواجاتا تھاکہ خبردار !۔ ہمار ے سردار اورستارۂ دائودی کے بیٹے تشریف لارہے ہیں‘‘ (ص347،353،357،544)۔
    مسلمانوں میں پائی جانے والی شدیدعلمی پیاس کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے کہ نامور فلسفی ’’ابو یوسف یعقو ب ابن اسحاق الکندی‘‘محض فلسفی ہی نہیں تھا بلکہ بیک وقت ستارہ شناس، کیمیا دان ، ماہرِ چشم اور ماہر موسیقی بھی تھا۔اس کے نا م کے ساتھ کم ا ز کم بھی 360 کتابیں یا کتابچے معنون کئے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر اب دنیا سے ناپید ہوچکے ہیں۔ معروف ریاضی دان الخوارزمی کی تیار کردہ کتاب ’’حسا ب الجبر و المقابلہ‘‘نے بھی یورپی جامعات میں سولھویں صدی تک اہم اور اصل کتاب کی حیثیت سے اپنا لوہا منوائے رکھا تھا۔ اس کی کتابوں کی افادیت کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ’’الجبرا ‘‘اور’ ’الگورتھم‘‘جیسے مضامین کے نام تک بھی اسی سائنس دان کے نام پر رکھے گئے ہیں(ص 371،379)۔مسلم صلیبی جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں نامورتاریخ دان ایڈورڈگبن اور اس جیسے دوسرے مؤرخوں نے ان مقامات پر، جہاں کبھی گرجا پائے جاتے تھے، مسجدوں کو ابھرتے دیکھا اور جن آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں میں کبھی انجیل پڑھا ئی جاتی تھی، وہاں قرآن کی تلاوتیں سننے کوملیں(ص501) ۔
    فلپ کے حتی کہتاہے کہ جدید دنیاکی تعمیر میں مسلمانوں کا کردار کبھی نہیں بھلا یا جاسکتا۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں قدیم سائنس اور فلسفہ نہ صرف بازیافت ہو ئے تھے بلکہ ان پر نئے انداز میںعلمی تبصرے بھی کئے گئے تھے اور جنہیں مغرب میں اس طور سے منتقل کیا گیا تھا کہ بعد میں وہ وہاں ہر قسم کے احیا کا ذریعہ بن سکے تھے۔ اس تمام عمل میں ہسپانیہ کا کردار سب سے اولین تھاتاہم اسپین میں جب عیسائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر بربریت توڑی گئی تو اندازہ کیا جاتاہے کہ کم از کم بھی30 لاکھ مسلمانوں کو یا تو قتل کردیا گیاتھایا انہیں اسپین سے نکال دیا گیا تھا(ص356تا357)۔حال یہ تھا کہ مسلم ٹکسالوں میں عیسائی حکومتوں کے سکے ڈھلا کرتے تھے کیونکہ عیسائی ریاستوں کوسکے سازی کا فن نہیں آتاتھا۔اسپین کے بادشاہ’’ راجر ثانی‘‘ کے سکے جو اُس دور میں پائے گئے ہیں ،ان پر عربی رسم الخط میں ۱۳۸ ۱ء  اور چند حروف عربی کے پائے گئے ہیں۔راجر ثانی کو مسلم اندازِ زندگی کافی پسند آتا تھا اسی لئے دیگر یورپی بادشاہوں کے خلاف وہ عربی الفاظ سے کڑھے ہوئے مسلمانوں کے سے لباس پہنتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ نفرت سے اسے اس کے ہم مذہب لوگ ’’کافر‘‘ کہہ کر پکار اکرتے تھے۔ موئرخ ابنِ جبیر کے حوالے سے فلپ لکھتا ہے کہ راجر کے پوتے ولئیم ثانی (1189-1166ء) کے دور میں عیسائی خواتین بھی مسلم عورتوں کے سے لباس پہننے پر فخر کیاکرتی تھیں۔ اُس دور میں مشرقی لباس کی طلب کا حال یہ تھا کہ جب کوئی یوررپی اس وقت تک خوش لباس تصور نہیں کیا جاتا تھاجب تک کہ اس نے کوئی ایک لباس بھی مسلمانوں کا سا نہ پہنا ہو۔’’پیلرمو‘‘ شہر، مسلم اٹلی کے شاہی محلات میں کپڑے کے جو کارخانے قائم تھے ، وہاں سے یورپی حکمران خاندا ن کیلئے ایسے شاہانہ ریاستی لباس برآمد کئے جاتے تھے جن پرباقاعدہ عربی الفاظ کڑھے ہوتے تھے(ص607،613،616)۔
    نامور شخصیت ابن الہیثم ، جو بیک وقت ایک ریاضی دان، فلسفی، ماہر نجوم اورطبیب تھا، کی بینائی پر قیمتی کتاب ’’کتاب المناظر‘‘ نے اس موضوع پر اہم و بنیادی اصول بتا ئے تھے۔ اصل عربی کتاب اگرچہ اب دنیا میں موجود نہیں ہے،لیکن اس کے شائع شدہ ترجمے مطبوعہ1572ء نے یورپ کے سائنس دانوں کو آنکھ سے متعلق علم کو بہت آسان بنا دیاتھااور اسی نے محدب شیشے کی تیا ری بھی کی تھی جس کی صنعت سازی اٹلی نے بہت بعد میں 3صدیوںکے بعد کاروباری طور پر شروع کی تھی(ص929)۔  
    صلیبی جنگوں میں عیسائی قیدیوں کے ساتھ صلاح الدین ایوبی کے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فلپ بیا ن کرتا ہے کہ فتح ِ یروشلم کے بعدا یوبی نے عیسائی قیدیوں کی آزادی کیلئے ایک مخصوص رقم عائد کی تھی لیکن جب اس کے بھائی نے قیدیوں کی غربت کا حال دیکھا تو بھائی سے رقم کی معافی کی درخواست کی جس کے بعد سلطان نے ایک ہزار مستحق دشمن قیدیوں کو بلا معاوضہ ہی رہا کردیا۔بعدازاں خود عیسائی بطریقوں نے بھی اس سے اپنے قیدیوں کی بلامعاوضہ رہائی کی سفارش کی جسے ایوبی نے تسلیم کیا اور مزید کئی قیدیوں کو بھی رہائی عطاکی جن میں بے شمار خواتین اور بچے شامل تھے۔ بہادری کی علامت کے طور پرسلطان نے شاہین کو اپنا قومی نشان قرار دیا تھا۔ایوبی کی مسکینی کا حال یہ تھا کہ وفات کے وقت اس کے پاس سے محض 47 درہم اور سونے کا ایک ٹکڑا ملا تھا۔یہی وہ تمام صفات تھیں جن کی وجہ سے یورپ میں اسے آج تک ایک شریف، پارسا اور بہادر انسان تسلیم کیا جاتا ہے (ص652,651)۔

نام نہاد مہدی محمد بن عبد اللہ قحطانی کی ہلاکت

 نام نہاد مہدی محمد بن عبد اللہ قحطانی کی ہلاکت
حج ختم ہوئے ابھی صرف 20 دن ہی گزرے تھے اور نئے اسلامی سال بلکہ نئی اسلامی صدی یعنی 1400 ہجری کا پہلا دن تھا۔ گویا یہ یکم محرم الحرام سن 1400 ہجری بمطابق 20 نومبر 1979، منگل کی صبح تھی جب امام حرم کعبہ شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لاؤڈ سپیکر پر قابض ہو گئے۔ کچھ مسجد الحرام کے میناروں پر چڑھ گئے اور کچھ مسلح افراد نے مسجد کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا- حج ختم ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے اور اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔
ان حملہ آور خوارج کا سرغنہ جہیمان بن سیف تھا جس کا تعلق سعودی عرب کے علاقے ”نجد” سے تھا۔ اس کا دست راست 27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا۔ جس نے مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی چار سالہ تعلیم حاصل کی تھی-
ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کرکے جنازوں کا بہروپ بناکر تابوتوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار حرم پاک کے تہہ خانوں میں جمع کرلی تھی۔ اسلحے کے ساتھہ خشک کھجوروں اور دیگر اشیا خرد و نوش کا بھی اچھا خاصا ذخیرہ تہ خانوں میں چھپادیا گیا تھا۔ امام کو گھیرنے کے بعد اچانک حرم کے تمام دروازے بند کرکے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کردئیے گیے۔ حرم میں موجود تمام نمازی یرغمال بنا لیے گیے۔ جو اپنی تھوڑی بہت کوشش سے حرم سے نکل گئے، بس وہی نکل سکے۔ باقی سب معصوم حاجی اور نمازی جن میں خواتین، بوڑھے اور بچے بھی تھے محصور ہو کر رہ گئے۔ ایک حملہ آور نے عربی میں حرم پاک کے اسی مائک سے جس پر چند لمحوں پہلے نماز فجر کی تلاوت ہورہی تھی، اعلانات کرنا شروع کر دیے کہ ”مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔”
نام نہاد مہدی ”محمد بن عبد اللہ قحطانی” جسکی تصویر نیچے دی گئی ہے اس نے بھی مائیک پر آ کر اعلان کیا کہ
”میں نئی صدی کا مہدی ہوں، میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے.”
اس کے بعد اس گمراہ ٹولے نے مقام ابراہیم کے پاس جاکر گولیوں، سنگینوں اور بندوقوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروانی شروع کر دی۔
محاصرے کے فوراً بعد سعودی وزارت داخلہ کے تقریباً ایک سو (100) اہلکاروں نے دوبارہ مسجد حرام پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن مرتدین حملہ آوروں نے ان فوجیوں کی کوشش ناکام بنا دی۔ اس کوشش میں بہت سا جانی نقصان بھی ہوا۔ اس کے بعد سعودی فوج اور سعودی نیشنل گارڈ نے بھی حرم پاک کو ناپاک لوگوں سے آزاد کرانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ شام ہوتے ہوتے پورے شہر مکّہ مکرمہ کو رہاشیوں سے خالی کروالیا گیا۔
سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیا۔ علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مسلح گمراہ افراد کیخلاف کارروائی شریعت کے عین مطابق ہے۔تاہم اس فتوے کی روشنی میں بیت اللہ کے تقدس کے پیش نظر بھاری اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا۔
بعد ازیں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی کا خوارج سے مقابلہ ہوا جن کے پاس ٹیلی سکوپ رائفل والے فائرر(Snipers) اور ماہر نشانہ باز(Sharp Shooters) تھے اور انہوں نے مسجد الحرام میں جگہ جگہ پوزیشنز سنبھال لیں تھیں۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن سعودی فوجی ہلاکتوں کے باوجود سعودی اور فرنچ آرمی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ مسجد الحرام دو دنوں سے اذانوں اور نمازوں کی تکبیرت کی گونج سے محروم تھی۔ گویا نہ اذانیں دی جارہی تھیں نہ نمازوں کا باقاعدہ اہتمام ہو پارہا تھا، نہ طواف ممکن تھا۔
اللہ نے گویا مملکت پاکستان کو یہ سعادت بخشنی تھی اس لئے بلا آخر پاکستان کی فوج کو بلایا گیا۔اس فوج کا جو گوریلا دستہ اس ایکشن کے لئے آیا تھا اس کا سربراہ میجر پرویز مشرف تھا جو بعد ازاں پاکستان آرمی چیف اور صدر بنا اور اسے بیت اللہ کی چھت پر چڑھ کر اللہ اکبر کہنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی- نیز اس وقت پاکستان کا صدر جنرل ضیا الحق تھا جسے بعد ازاں حرم شریف کے امام نے مصلے سے پیچھے ہٹ کر مسجد حرام میں نماز کی امامت کے لئے درخواست کی-
بہرحال فوج نے نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی. کمانڈوز نے دہشت گردوں کے اسنائپرز سے نمٹنے کے لئے پوری مسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا اور پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ دوڑانے کی دھمکی دی گئی جس کی وجہ سے خوارج کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز کچھ دیر کے لئے غیر مؤثر ہوگئے۔
فوج نے غیر معمولی سرعت سے تمام خوارج پر قابو پالیا۔ بغیر کسی جانی نقصان کے سب حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کرلیا۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے. (آمین)
خوارج کا مکمل صفایا کرنے کے بعد 7 دسمبر 1979 کو دوبارہ حرم شریف کو عبادت کیلئے کھولا گیا۔ گویا سولہ دن حرم پاک میں اذانیں نمازیں اور طواف ممکن نہ ہوسکا۔
اس لڑائی میں 75 باغی مارے گئے جس میں نام نہاد مہدی ”محمد بن عبد اللہ قحطانی” بھی شامل تھا جسکی ہلاکت کے بعد کی تصویر نیچے پیش کی گئی ہے اور اس ناپسندیدہ انسان کی تصویر اور اس واقعہ کی تفصیل صرف اس لئے پیش کی جارہی ہے کہ آپ اور خاص طور سے آج کی نوجوان نسل اسلامی تاریخ کے اس لرزہ خیز ایونٹ سے آشنا ہو سکے۔
خوارج کے علاوہ نیشنل گارڈز کے 60 فوجی، چار پاکستانیوں سمیت 26 حاجی شہید اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ خوارج کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا جس میں اس کا سرغنہ ”جہیمان بن سیف العتیبی” بھی شامل تھا۔
سزائے موت پانے والے مرتدین میں سے 41 سعودی عرب، 10 مصر، 6 جنوبی یمن، اور 3 کویت سے تعلق رکھتے تھے جبکہ عراق، سوڈان اور شمالی یمن کا بھی ایک ایک مرتد شامل تھا۔ کیس کے بعد ان تمام ملزموں کے سعودی قوانین کے تحت سر قلم کر دیے گئے۔
اللہ ہمیں ایسے فتنہ اور شرانگیر لوگوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے. (آمین)
https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_53.html?m=1


الوداع جمعیة علماء ہند: قاری نسیم منگلوری عہدے سے مستعفی

الوداع جمعیة علماء ہند: قاری نسیم منگلوری عہدے سے مستعفی
اتراکھنڈ جمعیۃ کے حالیہ موقف سے دلبرداشتہ ہوکر قاری نسیم منگلوری عہدے سے مستعفی
دیوبند ۔ 15؍ ستمبر 2019 (ایس چودھری) جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ میں پاس کی گئی کشمیر سے متعلق قرار داد اور مولانا سید محمود مدنی کے حالیہ بیان سے اعتراض کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صوبہ اتراکھنڈ کے ترجمان وسکریٹری قاری نسیم احمد منگلوری نے آج اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
قومی صدر مولانا سید قاری محمد عثمان منصور پوری اور صوبائی صدر مولانا محمد عارف قاسمی کو ارسال اپنے استعفیٰ میں قاری نسیم منگلوری نے کہاکہ اگر اس ملک میں علماء کی جماعت یعنی جمعیۃ علماء ہند بھی حق کے ساتھ نہیں ہے تو میں اس جماعت سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، ملک میں سنگھ پریوار کی حکمرانی قائم ہونے کے بعد سیاسی اپوزیشن تو کبھی کا ختم ہوگیا تھا تو کیا اب انجمنیں یا تنظیمیں بھی حق کے اظہار سے رو گردانی کرنے لگیں ہیں؟۔
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے ایک جانب کشمیر میں دفعہ 370 کوختم کرنے کے مودی حکومت کے اقدام کی حمایت کی ہے تو دوسری جانب مغل شہنشاہ اورنگزیب ؒکی حکمرانی کے مقابلے شیواجی کی حکمرانی کو بہترقرار دیا ہے، میرا خیال ہے کہ ان دونوں ہی مدعوں پر مدنی صاحب نے حقائق کو بائی پاس کرکے موجودہ حکمرانوں کی خوشنودی کو مدنظر رکھا ہے۔
حدیث میں ہے کہ ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا بڑا جہاد ہے، لیکن اگرہمارے قائدین بھی وقتی مصلحت اورذاتی اغراض کے مد نظراظہار حق سے آنکھیں چرانے لگیں گے تو ایسے علماء کو میں اپنا قائد تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں اس لئے آج میں جمعیۃ علماء ہند (م) کے صوبائی ترجمان اور سکریٹری کے عہدہ سے استعفیٰ پیش کررہا ہوں۔ https://saagartimes.blogspot.com/2019/09/blog-post_37.html