Tuesday, 8 October 2019

نعمان بن ثابت کو امام اعظم ابوحنیفہ کیوں کہتے ہیں؟

نعمان بن ثابت کو امام اعظم ابوحنیفہ کیوں کہتے ہیں؟
حضرت امام ابوحنیفہ کا اصل نام نعما ن ہے، کنیت ابوحنیفہ اور لقب امام اعظم ہے، بعض لوگ آج کل امام اعظم ابوحنیفہ کے نام اور لقب دونوں پر اعتراض کرتے ہیں، ان مخالفین کے عام طور پر دو بڑے اعتراضات سامنے آتے ہیں:
1.. حنیفہ امام صاحب کی بیٹی کا نام ہے اور کہتے ہیں یہ کتنا کمزور مذہب ہے، جس میں نسبت لڑکی کی طرف کی جارہی ہو۔
2.. دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سب سے بڑے امام تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہیں آپ لوگ ابو حنیفہ کو امام اعظم کیوں کہتے ہیں۔
ان لوگوں کے ان اعتراضات کو دیکھ کر ان کی جہا لت کا پتا چل جاتا ہے، ان لوگوں کو نہ ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہے، نہ ان لوگوں کا عربیت سے کوئی تعلق ہے، اگر ان لوگوں کو ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہوتا یا ان کا عربیت سے کچھ تعلق ہوتا تو اس قسم کے اعتراضات کبھی نہ کرتے۔
جہاں تک ہمارے امام کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس کا علم اس لیے نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا، جس کا نام حماد تھا، اس کے علاوہ امام صاحب کا نہ کوئی بیٹا تھا نہ کوئی بیٹی۔ یہ کتنا بڑا الزام ہے کہ امام صاحب کی بیٹی کا نام حنیفہ تھا، جس کی وجہ سے ابوحنیفہ کو ماننے والے ان کی نسبت لڑکی کی طرف کررہے ہیں؟! اگلی بات یہ ہے امام اعظم کی کنیت ابوحنیفہ کیوں ہے؟ تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ کنیت دو قسم کی ہوتی ہے۔
۱۔ کنیت نسبی
۲۔ کنیت وصفی 
کنیت نسبی کا معنی یہ ہے کہ باپ کی بیٹے کی طرف نسبت کیے جانے کی وجہ سے وہ باپ کی کنیت ہوجاتی ہے، جیسے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ہے تو چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا نام قاسم تھا، پس قاسم کی نسبت محمد صلی الله علیہ وسلم کی طرف ہونے کی وجہ سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم نسبی ہے۔
اور دوسری قسم کنیت وصفی اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کنیت اولاد کی طرف نسبت کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ کسی مخصوص وصف کی وجہ سے ہوتی ہے جو صرف اسی شخص میں نمایاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ وصف اس شخص کی کنیت کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے، اب کنیت وصفی کو بھی مثال سے سمجھ لیں، جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا نام عبدالله بن ابی قحافہ ہے ابوبکر ان کی کنیت ہے ان کے بیٹے کا نام بکر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو ابوبکر کہا جاتا ہو بلکہ بکر عربی زبان میں پہل کرنے والے کو کہتے ہیں، جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے ان کی تصدیق کر نے والے حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ تھے، جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے دولت مانگی تو ساری دولت دینے میں حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ نے پہل کی جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے کنواری لڑکی نکاح کے لیے مانگی تو پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم مکہ سے مدینہ گئے تو ہجرت میں پہل حضرت عبد اللہ بن أبی قحافہ نے کی۔
جب حضور غزوہ احد میں گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماگئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مصلی پر کھڑے ہونے میں پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم اپنے مزار تشریف لے گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مزار میں سب سے پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی یہاں تک کے جب پیغمبر خدا صلی الله علیہ وسلم جنت میں جائیں گے تو ان کے ساتھ سب سے پہلے جانے والا عبداللہ بن ابی قحافہ ہی ہوگا، غرض یہ کہ ہر کام میں پہل کی، اسی لیے ان کی کنیت ابوبکر پڑگئی، اس وجہ سے نہیں کہ ان کے بیٹے کا نام بکر تھا، بلکہ ان کی اس صفت کی وجہ سے کہ ہر کام میں وہ پہل کرتے تھے۔
اسی طرح حضرت علی رضی الله عنہ کی کنیت ابوتراب ہے۔ تراب ان کے بیٹے کا نام نہیں تھا تو ان کی کنیت ابوتراب کیسے پڑگئی؟ وہ اس طرح کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے گھر تشریف لے گئے، دروازے پر دستک دی اور فرمایا علی ہیں؟ فاطمہ رضی الله عنہا نے کہا موجود نہیں۔ تو حضور علیہ السلام مسجد نبوی میں تشریف لے گئے، دیکھا کہ حضرت علی مسجد میں مٹی پر لیٹے ہوئے ہیں اور جسم مبارک کو مٹی لگی ہوئی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: قم یا ابا التراب! اے مٹی والے اٹھ جا۔ حضورصلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو کہا ابو التراب۔ تراب نہ حضرت علی کے بیٹے کا نام ہے اور نہ بیٹی کا تو یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا نام عبد الرحمن بن صخر ہے، ابو ہریرہ ان کی کنیت ہے، ایک مرتبہ آپ رضی الله عنہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی الله عنہ کی آستین کا دامن کھلا ہوا تھا، جس میں بلی کا بچہ تھا، عربی زبان میں ہریرہ بلی کے بچے کو کہاجاتا ہے تو ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر کی کنیت بن گئی اب یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی اسی طرح ابو حنیفہ بھی کنیت وصفی ہے نہ کہ نسبی اب امام میں آخر وہ کو نسا وصف تھا جس کی بنیاد پر انہیں ابو حنیفہ کہا جاتا ہے، وہ یہ کہ حنیفہ کا ایک معنی عربی زبان میں دوات کے ہیں اور امام صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر وقت قلم ودوات لے کر امام صاحب کے علوم کو مرتب کرتے تھے، اتنے علوم مرتب کیے کہ ان کی وجہ سے کنیت ابو حنیفہ بن گئی اور حنیفہ کا ایک معنی خالص کا آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ﴿واتبع ملة ابراہیم حنیفا﴾ ابراہیم علیہ السلام خالص دین والے تھے، باطل سے بالکل الگ تھے، امام اعظم رحمة اللہ علیہ نے اس شریعت کو مرتب کیا، جو بالکل خالص ہے، اسی وجہ سے کنیت ابوحنیفہ بن گئی، ابو حنیفہ کا معنی ہوا دین خالص کو مرتب کرنے والا اور جو لوگ کہتے ہیں حنیفہ امام اعظم رحمة اللہ علیہ کی بیٹی کا نام ہے تو ان کے پاس نہ تاریخ کا علم ہے اور نہ عربیت کا۔
ایک اہم نکتہ:
ابوبکر کا نام، جو کہ عبداللہ ہے، لوگ اس کو اتنا نہیں جانتے جتنا ان کی کنیت ابوبکر کو جانتے ہیں۔ اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کا نام نعمان بن ثابت ہے جسے لوگ نہیں جانتے، بلکہ ان کی کنیت یعنی ابوحنیفہ کو نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مشن ابوبکر کا تھا اور ایک مشن ابوحنیفہ کا تھا، ابوبکر کا مشن دین پھیلانا تھا اور ابوحنیفہ کا مشن دین لکھوانا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ کو ان دونوں کا مشن اتنا پسند آیا کہ ان کا نام عبداللہ اور نعمان پردہ خفا میں چلا گیا اور ان کا مشن قیامت تک زندہ رہا، اس نکتہ کے ذکر کرنے کے بعد امام اعظم ابوحنیفہ کا مخالف ابوحنیفہ کہہ کر مخالفت کر ے گا، ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا مخالف ابوبکر کہہ کر مخالفت کرے گا: تھوڑی سی تو شرم کرنی چاہیے، ابوحنیفہ بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہوا؟ ابوبکر بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہو؟ اس کا مطلب تو ایسے ہے جیسا کہ اللہ کے نبی کا نام محمد صلی الله علیہ وسلم ہے جس کی بار بار تعریف کی گئی ہے اب جو کہتا ہے میں محمد کو نہیں مانتا یا جو محمد سے مخالفت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس شخص کو نہیں مانتا جس کی تعریف خود رب ذوالجلال نے کی ہے، اسی طرح جو ابوحنیفہ کی مخالفت کرتا ہے اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ جس نے دین خالص کو مرتب کیا میں اس کو نہیں مانتا اور اس کی مخالفت کرتا ہوں۔
دوسرا اعتراض:
آپ حنفی لوگ ابوحنیفہ کو امام اعظم کیوں کہتے ہو؟ اس کا جواب میں چند مثالوں سے دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ سب سے بڑے صدیق یعنی سچے تو اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر ابوبکر صدیق اکبر کیوں کہا جاتا ہے؟ اسی طرح سب سے بڑے فاروق یعنی حق وباطل میں فرق کرنے والے تو اللہ کا نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر عمر رضی الله عنہ کو فاروق کیوں کہتے ہو؟ سب سے بڑا بہادر تو اللہ کا نبی ہے تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حیدرکرار کیوں کہتے ہو؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابوحنیفہ حضورصلی الله علیہ وسلم سے بھی بڑے امام ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ائمہ فقہاء میں سب سے بڑے امام ابوحنیفہ ہیں، اسی طرح صدیق اکبر صحابہ کی جماعت میں ابوبکر ہیں اور فاروق بین الحق و الباطل عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے بہادر صحابی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور انبیاء کی جماعت کے سب سے بڑے امام اللہ کے نبی محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں، آج کے غیرمقلد ین کا نفرنسیں کرتے ہیں اور اس کا نام رکھتے ہیں امام اعظم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور کہتے ہیں کہ امام اعظم اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ حنفی مسلک والے ابوحنیفہ کو امام اعظم کہتے ہیں، یہ حنفی شرک فی الرسالت کرتے ہیں، یہ مشرک ہیں، اب بیچارے ان پڑھ کے پاس دلیل نہیں ہوتی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ واقع میں یہ تو صحیح بات کرتے ہیں، حنفیوں کی یہ بات تو بالکل غلط ہے اور اسی لیے وہ غیرمقلدین کے چنگل میں پھنستے ہیں، یہ بات خوب سمجھ لیجیے کہ غیرمقلد دلیل کم دیتے ہیں اور ڈھکوسلے زیادہ مانگتے ہیں، دلیل اور ڈھکوسلہ سمجھانے کے لیے میں ایک مثال ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ایک بابا جی گھوڑا گاڑی چلارہے تھے مین روڈ پر اور ان کے پیچھے ایف ایس سی کا ایک اسٹوڈنٹ بائیک پہ آرہا تھا اچانک باباجی نے گھوڑاگاڑی کو دائیں طرف موڑدیا، دونوں ٹکرا گئے، اس نوجوان کو غصہ آگیا اور اس نے بابا جی سے کہا۔ اگر آپ کو گھوڑا گاڑی موڑنی تھی تو کم از کم اشارہ تو دیتے؟! باباجی کہنے لگے آپ کو یہ اتنا بڑا روڈ نظر نہیں آرہا تھا جو میرے پیچھے آگئے تو نوجوان خاموش ہوگیا؟ کیوں کہ کالج میں اسٹوڈنٹ نے اصول پڑھے، ڈھکوسلے نہیں پڑھے اسی طرح آج کے ان پڑھ یا کالج کے اسٹوڈنٹ وغیرہ غیرمقلد ین کے ڈھکوسلوں کی وجہ سے دلیل نہ ہونے کی صورت میں خاموش ہوجاتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حنفیوں کے پاس دلائل نہیں ہیں حالاں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ ڈھکوسلے مانگتے ہیں اور ہمارے پاس ڈھکوسلے نہیں، بلکہ دلائل ہیں، اگر غیرمقلدین دلیل کی بنیاد پر بات کریں تو قریب ہے کہ سارے غیرمقلدین حنفی بن جائیں، لیکن وہ ایسا کرتے نہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے: #
        واذ أتتک مذمتی من ناقص
        فھی الشھادة لی بأنی کامل
اگر کسی ناقص العقل کی جانب سے میری مذمت آپ کے پاس پہنچے تو یہی کافی ہے میری حقیقت جاننے کے لیے کہ میں کامل ہوں۔



Sunday, 6 October 2019

لفظوں کی لفاظی

لفظوں کی لفاظی

یہ بات بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثرانداز ہوتے ہیں یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے لفظوں کا ایک نیا مفہوم ابھرکر سامنے آتا ہے۔
ہر زندہ زبان اِن تبدیلیوں کو قبول کرتی ہے اور اپنا دامن نئے الفاظ ومحاورات سے بھرتی رہتی ہے۔ انہی تبدیلیوں کے دوران بعض زیرِ استعمال الفاظ ومحاورات متروک بھی ہوجاتے ہیں۔ گویا جس طرح ایک زندہ جسم پُرانے خلیات کو ختم کرکے نئے بننے والے خلیات کو قبول کرتا ہے اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی ردّوقبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اُردو کی بُنیاد اگرچہ ہندوستان کی مقامی بھاشاؤں پر استوار ہوئی تھی لیکن اس کے ذخیرۂ الفاظ نے عربی اور فارسی کے لسانی خزانوں سے بھی بہت استفادہ کیا ہے چنانچہ آج بھی اُردو جُملے کی ساخت تو مقامی ہے اور جُملے کا فعل بھی بالعموم مقامی ہوتا ہے لیکن جُملے کے دیگر عناصر میں عربی اور فارسی کے اثرات صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
اُردو میں مستعمل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کی اصل صورت اور تلفظ عربی فارسی یا سنسکرت میں بالکل مختلف تھا لیکن عوامی استعمال میں آنے کے بعد اُن لفظوں کا حُلیہ تبدیل ہوگیا۔ بعض مصلحینِ زبان اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ لفظ جِس زبان سے آیا ہو اُردو میں بھی اس کا تلفظ اور استعمال اسی زبان کے مطابق ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے یہ ایک سراسر ناجائز مطالبہ ہے۔
ذیل میں چند ایسے الفاظ دیے جا رہے ہیں جن کا تلفظ اُردو میں آ کر تبدیل ہو گیا ہے اور اب یہ تبدیل شدہ تلفظ ہی درست سمجھا جائے گا۔
سنسکرت کا لفظ ویاکُل جب اُردو میں آیا تو بیکل ہوگیا یعنی بے چین، بے قرار۔ سنسکرت کا پشچِم اُردو میں پچھَم ہوگیا اسی طرح سنسکرت پُوْر^و اُردو تک آتے آتے پُوَرب ہوگیا۔
فارسی میں لفظ پِیراہن ہے یعنی پ کے نیچے زیر ہے لیکن اُردو میں یہ پَیراہن بن چُکا ہے یعنی پ کے اُوپر زبر کے ساتھ۔ اسی طرح فارسی کا پِیرایہ اُردو میں آکر پَیرایہ بن جاتا ہے۔
عربی لفظ حِجامۃ میں ج کے نیچے زیر ہے لیکن اُردو میں حَجامت بنا تو ح کے اوپر زبر لگ گئی۔ اسی طرح عربی کے حَجَلہ میں ح اور ج دونوں کے اوپر زبر ہوتی ہے لیکن اُردو میں آکر یہ حُجْلہ بن گیا یعنی ح کے اوپر پیش لگ گئی (مثلاً حُجلہء عروسی)۔ عربی کے لفظ حِشمۃ کا مطلب حیاداری ہے۔ اُردو میں آکر اس کا مطلب شان وشوکت اور رعب داب بن گیا۔ ساتھ ہی اس کا تلفظ بھی بدل گیا اور ح پر زبر لگ گئی یعنی یہ حَشمت بن گیا۔
ظاہری شکل وصورت کے مفہوم میں ہم حُلیہ کا لفظ عام استعمال کرتے ہیں لیکن اسکا اصل عربی تلفظ حِلیہ ہے یعنی ح کے نیچے زیر ہے۔ پرندے کے پوٹے اور پِتّے کو عربی میں حوَصَََلہ کہتے ہیں یعنی ص پر زبر کے ساتھ، لیکن اُردو میں ص پر جزم ہے اور اسکا تلفظ حوص+ لہ ہو گیا ہے۔ اُردو میں اسکا لُغوی مفہوم مستعمل نہیں ہے بلکہ یہ صرف ہمت اور جرات کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
عربی میں خََصْم (ص پر جزم) کا مطلب ہے دُشمن، جس سے نکلا ہوا لفظ خُصُومت (دشمنی) اُردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ البتہ خود لفظ خصم ہمارے یہاں شوہر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور وہ بھی اِس تبدیلی کے ساتھ کہ ص پر جزم کی بجائے زبر لگادی جاتی ہے (خَصَم)۔
عربی میں لفظ دَرَجہ ہے یعنی دال پر زبر اور ر پر بھی زبر، لیکن اُردو میں ہم دْرجہ کہتے ہیں (در + جہ)۔ عربی میں ُدکّان کی ک پر تشدید ہے لیکن اُردو میں نہیں ہے۔ عربی میں لفظ رحِم ہے یعنی ح کے نیچے زیر لیکن اُردو میں یہ رحْم بن گیا (ح پر جزم)۔ عربی میں صِحّت کی ح کے اوپر تشدید ہوتی ہے لیکن اُردو میں نہیں۔
عربی میں ُقطْب کی ط پر جزم ہے لیکن اُردو میں ق اور ط دونوں پر پیش ہے۔ (قُطب)۔ عربی میں لفظ مَحَبہّ تھا یعنی م اور ح دونوں پر زبر، لیکن اُردو میں مُحبّت بن گیا اور م کے اوپر پیش لگ گئی۔
فارسی میں لفظ مُزد+ور تھا جو کہ بعد میں مُزدُرو بن گیا لیکن اُردو میں پہنچا تو م کے اوپر پیش کی جگہ زبر لگ گئی اور مَزدور ہوگیا۔ عربی میں لفظ مُشَاعَرہ ہے یعنی ع کے اوپر زبر ہے لیکن اُردو میں اسکی شکل مشاعِرہ ہوچکی ہے اور یہی درست ہے، جسطرح عربی کا موسِم اُردو میں پہنچ کر موسَم ہوچکا ہے (س پر زبر) اور اب اسی کو درست تسلیم کرنا چاہیئے۔
عربی کے نَشاط میں ن پر زبر ہے لیکن اُردو میں ہم ن کے نیچے زیر لگاکر نِشاط لکھتے ہیں اور اُردو میں یہی درست ہے۔
عربی میں لفظ نُوّاب تھا، نون پر پیش اور واؤ پر تشدید۔ یہ اصل میں لفظ نائب کی جمع تھی، اُردو میں آکر اس کا مطلب بھی بدلا اور تلفظ بھی نواب ہوگیا۔
جدائی کے معنیٰ میں استعمال ہونے والا عربی لفظ وَداع ہے (واؤ پر زبر) لیکن اُردو میں اس کی شکل تبدیل ہوکر وِداع ہوچکی ہے (واؤ کے نیچے زیر)۔
جِن لوگوں کا بچپن پنجاب میں گزرا ہے انھوں نے لفظ ’بکرا عید‘ ہزاروں مرتبہ سُنا اور بولا ہوگا۔ بچپن میں اس کی یہی توضیح ذہن میں آتی تھی کہ اس روز بکرا ذبح کیا جاتا ہے اس لئے یہ بکرا عید ہے۔ کچھ بڑے ہوئے تو اس طرح کے جُملے پڑھنے سننے کو ملے۔ ’میاں کبھی عید بکرید پر ہی مِل لیا کرو‘ اِس ’بکرید‘ کی کھوج میں نکلے تو پتہ چلا کہ یہ تو دراصل بقرعید ہے اور اس کا بکرے سے نہیں بقر (گائے) سے تعلق ہے۔
عربی فارسی اور سنسکرت کے علاوہ بھی اُردو نے کئی زبانوں سے خوشہ چینی کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُردو میں آکر لفظوں کی شکل خاصی بدل گئی ہے۔ جیسے انگریزی کا سٹیمپ پیپر اُردو میں اشٹام پیپر اور بعد میں صرف ’اشٹام‘ رہ گیا۔ تُرکی کا چاغ اُردو میں آکر چاق ہوگیا اور پُرتگالی زبان کا بالڈی اُردو میں آکر بالٹی بن گیا۔
باہر کے لفظوں نے اُردو میں داخل ہونے کے بعد جو شکل اختیار کرلی ہے اب اسی کو معیاری تسلیم کرلینا چاہئے۔ منبع وماخذ تک پہنچ کر اُن کے قدیم تلفظ کا کھوج لگانا ایک عِلمی مشغلہ تو ہوسکتا ہے لیکن روزمرّہ استعمال میں اصل اور پرانے تلفظ کو مُسلط کرنے کی کوشش اُردو کی کوئی خدمت نہیں ہوگی بلکہ اس کی راہِ ترقی میں روڑے اٹکانے والی بات ہوگی۔



خصم: شوہر یا دشمن؟

خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ خصم: شوہر یا دشمن؟

محترم عبدالمتین منیری ایک خلیجی ریاست سے کبھی کبھی ہماری خبر لیتے رہتے ہیں۔ ان کا 22 ستمبر 2017ء کا ایک محبت نامہ اچانک سامنے آگیا۔ اس میں ایک دلچسپ واقعے کا اعادہ کرنے میں کوئی 'ہرج' ہے نہ 'حرج'۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم جمالیہ عربک کالج، مدراس سے حاصل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی ہے۔ ان کے ایک استاد نے بتایا کہ ’’گول ’ۃ‘ لگانے سے صیغہ مذکر بدل کر مؤنث ہوجاتا ہے‘‘، تو ہم نے بھرے مجمع میں ایک استاد سے دریافت کیا کہ ’’ہل امک حیتہ‘‘ یعنی کیا آپ کی والدہ حية (زندہ) ہیں۔ انہوں نے ’’حی‘‘ پر گول ’ۃ‘ بڑھاکر مؤنث بنالی۔ لیکن عربی میں ’’حیۃ‘‘ سانپ کو کہتے ہیں جس پر بھری مجلس میں سب لوگ ہنس پڑے۔‘‘ منیری صاحب نے لکھا ہے کہ اہلِ زبان اور غیر اہلِ زبان میں یہی فرق ہوتا ہے۔
ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ برطانوی ہند میں ایک انگریز نے اردو پر عبور حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تو مخاطب نے کہا: ’’آپ تو ڈیوٹ ہیں۔‘‘ وہ خوش ہوگیا کہ ڈیوٹ اس آلے کو کہتے ہیں جس پر چراغ رکھا ہو۔ حالانکہ اردو میں ڈیوٹ بے وقوف کو کہتے ہیں۔ جہاں تک عربی کا تعلق ہے تو یہ بڑی وسیع اور بھرپور زبان ہے۔ چنانچہ جیسا کہ پچھلے شمارے میں ذکر کیا اس کے کئی الفاظ اردو میں آکر اپنا مفہوم بدل گئے۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’خصم‘‘۔ عربی میں دشمن کو کہتے ہیں اور اسی سے ’خصومت‘ یعنی دشمنی ہے، لیکن اردو، پنجابی وغیرہ میں خصم شوہر کو کہتے ہیں۔ ہم نے ایک سعودی صحافی کو یہ بات بتائی تو ہنس کر کہنے لگا ’’بہت ٹھیک کہتے ہیں۔‘‘ یعنی اُس کے نزدیک شوہر دشمن ہی ہوتا ہے۔ گو کہ اس بات سے ہرگز اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم بھی طویل عرصے سے خصم ہیں۔ پنجاب میں خواتین لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو ’’خصماہ کھانیے‘‘ یا ’’خصماں نوں کھا‘‘ کہتی ہیں۔ خصم عربی میں دشمن کے علاوہ جھگڑا کرنے والے کو بھی کہتے ہیں، ظاہر ہے کہ دشمن ہی جھگڑا کرے گا۔ فارسی میں بھی خصم دشمن کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے مطالب مالک، صاحب، مجازاً خاوند، دشمن، بدخواہ، حریف وغیرہ ہیں۔ خصومت کی جمع خصومات ہے، کسی چیز کی قیمت کم کروانے یا رعایت طلب کرنے پر بھی ’’خصم التجاریہ‘‘ کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں یہ معلوم نہیں۔
عربی کی بات نکلی ہے تو اسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ عربی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو متضاد معنی رکھتے ہیں۔ اسے یوٹرن تو نہیں کہا جاسکتا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عربی زبان میں اضداد سے مراد وہ الفاظ ہیں جو ایک ہی وقت میں ایک معنی رکھنے کے ساتھ متضاد معانی کے بھی حامل ہوں۔ اضداد مترادف کے معنی بھی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر الصریم کا لفظ رات کے لئے اور ساتھ ہی دن کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ دو متضاد الفاظ کے درمیان ایک حرف یا ایک حرکت (زیر، زبر، پیش) کا فرق ہوتا ہے۔ مثلاً یَحقُر کا معنی بڑھانا ہے تو یُحقُر کم کرنا یا ختم کرنا ہے۔ اسی طرح رعیب کا لفظ مرعوب زدہ اور خوف زدہ کے لیے بولا جاتا ہے، ساتھ ہی یہ اس کی ضد بن کر اس بہادر کا معنی دیتا ہے جو دوسرے کو رعب میں لے آئے۔
عربی زبان میں اضداد کی وجوہات میں عربوں کے لہجوں کا اختلاف بھی شامل ہے۔ مثلاً وثَبَ کا معنی اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ تاہم بنی حمیر کی لغت میں اس کے معنی بالکل برعکس یعنی ’’بیٹھ جانے‘‘ کے ہیں۔
عربی زبان میں سُرخ کے لیے اَحمر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ سفید ہو تب بھی وہ رجل احمر یعنی سرخ آدمی بولا جاتا ہے۔ یہ بات منقول ہے کہ عربوں میں اسود و احمر (سیاہ وسرخ) کے الفاظ اسود و ابیض (سیاہ وسفید) سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح اَخضر اپنے اصل معنی یعنی سبز کے علاوہ اسود یعنی سیاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد سبز رنگ کی شدت ہے جو کثیف ہوجانے کی صورت میں گہرے پن میں سیاہ کا عکس دیتا ہے۔ اسی طرح اخضر کا لفظ متضاد معنی رکھتا ہے۔ اگر کسی انسان کی شرافت کی تعریف کی جائے تو اسے رجل اخضر کہا جاتا ہے، اور اگر کوئی کمینے پن کا مظاہرہ کرے تب وہ رجل اخضر ہوگا۔ اس لیے کہ عربوں کے ہاں الخضرہ کا ایک معنی کمینہ پن ہے۔ عربی کی مشہور اضداد میں اخفی کا لفظ بھی ہے۔ یہ روپوشی کے معنی میں آتا ہے اور اگر کوئی نمودار ہوکر سامنے آیا تب بھی اس کے لیے اخفی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اضداد میں جبر کا لفظ بھی ہے۔ یہ بادشاہ کے لیے بولا جاتا ہے اور غلام کے لیے بھی جبر استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں شِمتُ کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ تلوار کے چھپائے جانے پر کہا جاتا ہے شمت السیف۔ اور اسی طرح اس کا معنی ’’نیام سے باہر نکالا جانا‘‘ بھی ہے۔ علاوہ ازیں کاس کا مشہور لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ یہ برتن (گلاس) کے لیے بولا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس شے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو کاس کے اندر موجود ہو۔ یہاں تک کہ کان کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ بعض شعری روایتوں میں یہ ماضی کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور مستقبل کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بَعد کا لفظ تاخیر کے معنی میں آتا ہے اور بعض مرتبہ قبل کے معنی میں! اسی طرح لفظ بعض کا معنی جُز بھی ہے اور بعض کا معنی کُل بھی ہے۔ (اردو میں بھی اگلا یا اگلے قبل کے معنوں میں آتا ہے جیسے ’’اگلے وقتوں کے لوگ‘‘ یا غالب کا مصرع 
(’’کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا‘‘)۔ 
عربی زبان میں الدائم کا لفظ ٹھیرے ہوئے کے لیے بھی آتا ہے اور متحرک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح الدّسیم کا معنی قلیل الذکر بھی ہے اور کثیرالذکر بھی ہے۔ عربی میں دونَ اس شے کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو نیچے ہو اور اس کے لئے بھی جو اوپر ہو!
اضداد کے دلچسپ پہلو میں فازَ کا لفظ بچنے کا معنی بھی دیتا ہے اور یہ ہلاک ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح فَزِعَ کا لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو مدد حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہو۔ اور اس شخص کے لئے بھی جو کسی کی مدد کرے۔ عربی میں وما کا لفظ کسی چیز کی تاکید کے لئے بولا جاتا ہے اور وما نفی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں الماتم کا لفظ غم کے واسطے جمع ہونے والی خواتین کے لئے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف خوشی کی تقریب میں اکٹھا ہونے والی خواتین کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دلچسپ اضداد میں ضاع کا لفظ کھودینے کے لئے آتا ہے اور ساتھ ہی یہ لفظ ظاہر ہونے اور سامنے آنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ عربی میں خود ضد کا لفظ بھی دو متضاد معنی دیتا ہے۔ ضدی یعنی میرے مقابل اور میرے خلاف۔ دوسری جانب ضدی کا معنی ’’میرا جیسا‘‘ ہے۔ الطاعم کھانا پیش کرنے والا اور الطاعم کھانا طلب کرنے والا بھی ہے۔
ربی میں (وراء) کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ اس کا معنی کسی شے کے پیچھے ہونا ہے اور دوسری طرف اس کا معنی آگے ہونا بھی ہے۔ اسی طرح (الوصيّ) وہ جو نصیحت یا وصیت کرے اور ساتھ ہی (الوصي) وہ ہے جس کو نصیحت یا وصیت کی جائے۔ عربی میں (أرجأ) کا معنی پیداوار کا وقت قریب آنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب کسی امر میں تاخیر ہو تو اس کا معنی بھی (أرجأ) کا لفظ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں (الحذمُ) کا معنی تیزی سے چلنا ہے اور اس کے مقابل ہلکی رفتار سے چلنا بھی (الحذم) ہے۔ اضداد کی فہرست میں (حلّق) کا لفظ بھی شامل ہے۔ کنوئیں میں پانی نیچے چلے جانے پر بولا جاتا ہے (حلّق الماء في البئر) .. دوسری جانب پرندہ فضا میں بلند ہو تو اس کے لئے (حلّق الطائر) کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
عربی میں (وراء) کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ اس کا معنی کسی شے کے پیچھے ہونا ہے اور دوسری طرف اس کا معنی آگے ہونا بھی ہے۔ اسی طرح (الوصيّ) وہ جو نصیحت یا وصیت کرے اور ساتھ ہی (الوصي) وہ ہے جس کو نصیحت یا وصیت کی جائے۔ عربی میں (أرجأ) کا معنی پیداوار کا وقت قریب آنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب کسی امر میں تاخیر ہو تو اس کا معنی بھی (أرجأ) کا لفظ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں (الحذمُ) کا معنی تیزی سے چلنا ہے اور اس کے مقابل ہلکی رفتار سے چلنا بھی (الحذم) ہے۔ اضداد کی فہرست میں (حلّق) کا لفظ بھی شامل ہے۔ کنوئیں میں پانی نیچے چلے جانے پر بولا جاتا ہے (حلّق الماء في البئر) .. دوسری جانب پرندہ فضا میں بلند ہو تو اس کے لئے (حلّق الطائر) کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
عربی میں ’صارخ‘ لفظ مدد کرنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور (صارخ) مدد طلب کرنے والا بھی ہے۔ اسی طرح (الغابر) کا لفظ گزرے ہوئے کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ باقی رہنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ عربی میں (الظنّ) کا لفظ شک یا گمان کے معنی میں بولا جاتا ہے اور دوسری جانب یہ یقین کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ (ندّ) کا لفظ مخالف یا متضاد ہونے کے معنی میں بولا جاتا ہے اور اسی طرح (ندّ) یکساں کے معنی میں بھی آتا ہے۔
عربی میں ’الورقة‘ کا لفظ شریف اور اعلی اخلاق کے مالک کے لیے استعمال ہوتا ہے تو دوسری جانب رکیک عادات اور طبیعت کے حامل کو بھی الورقة کہتے ہیں۔ لفظ (الساجد) کا معنی جھکا ہوا ہے اور (الساجد) تن کر کھڑا ہونے والا بھی ہے۔ اسی طرح (سليم) کا لفظ سلامتی فراہم کرنے والے آدمی کے لئے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف ڈسنے والا شخص بھی (سلیم) ہے ! … عربی میں ’حَسِب‘ غیریقینی کے معنی میں آتا ہے اور یہ ہی لفظ یقین کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
تحریر: اطہر ہاشمی

Saturday, 5 October 2019

اپنے بچوں کو خود جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں والدین

اپنے بچوں کو خود جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں والدین

 بہت ممکن ہے کہ بچوں سے جھوٹ جزوی وقت کے لئے حالات کو قابو میں لاتا ہے مگر دورس میں یہ کافی نقصاندہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ بڑے ہوتے ہیں۔
ایک نیا سروے ایکسپرمنٹل چائلڈ سائکالوجی میں شائع ہوا ہے جس میں مانا گیا ہے کہ اس طرح کی جھوٹ کم عمری میں بچوں کے ساتھ ان کے جوان ہونے پر اثرانداز ہوتی ہے۔
دیگر مسائل کے ساتھ وہ بڑھتی عمر کے ساتھ جھوٹ بولنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ ریسرچ کرنے والوں نے سنگا پور کے 379 نوجوان بچوں سے استفسار کیا کہ آیا ان کے والدین جب وہ کم عمر تھے تو کس حد تک جھوٹ بولتے تھے' اور اب وہ اپنے والدین کے ساتھ کتنا جھوٹ بولتے ہیں'
اور نوجوانی میں انہیں کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں نفساتی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنے میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔سلجھاؤ میں مشکلات بشمول 'خلل پیداکرنا' مسائل رونما ہونا کا سامنا انہیں شرمند ہ اور خاطی ہونے کا احساس دلاتا ہے' اور اس کے ساتھ ان کے کردار میں خودغرضی اور مفاد پرستی بھی شامل ہورہی ہے۔
سنگا پور اسکول آف سوشیل سائنس' نانیانگ ٹکنالوجی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اسٹنٹ پروفیسر سیتوہ پی پی جو اسٹڈی کے مرکزی مصنف بھی ہیں نے کہاکہ "والدین کی جانب سے جھوٹ کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی وجہہ کی وضاحت ان کے لئے مشکل ہوجاتی ہے"۔
مذکورہ مصنف نے وضاحت میں کہا کہ "جب والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ "سچائی سب سے بہتر ہے' مگر جھوٹ کے ذریعہ سچائی سے انحراف کیا جاتا ہے تو اس طرح کے رویہ سے بچوں میں غلط رحجان پیدا ہوتا ہے۔
والدین کا سچائی سے انحراف بچوں کا بھروسہ ختم کردیتا ہے اوربچوں کے اندر بھی جھوٹ رونما ہونا شروع ہوجاتا ہے"۔ اسٹڈی کے لئے ریسرچ کرنے والوں نے سنگاپور کے 379 نوجوان بچوں کو شامل کیا۔ پہلے ان سے پوچھا گیا کھانے' رہنے یاجانے کے متعلق والدین کی جانب سے بولے گئے جھوٹ کو یاد کریں۔
اس میں بچوں کے برتاؤ اور پیسوں کے اخراجات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ دوسرے میں ان سے استفسار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین سے کس حد تک جھوٹ بولتے ہیں۔ اپنے تعلقات میں ان کی سرگرمیوں اور کاروائیوں کے متعلق کس قدر جھوٹ بولتے ہیں.
سوال: ایک مشاہدہ کی بات ہے اور بزرگوں سے بھی سنا ہے کہ بچے تقریباً دس سے بارہ سال کی عمر تک (میرے اندازہ کے مطابق) اپنے ماں باپ کو بطور نمونہ سمجھتے ہوئے انُ کے طریقے پر عمل کرتے ہیں اس حوالہ سے ایک سوال ہے کہ کیا ماں باپ اپنے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی اور توجہ بڑھانے کے لئے اُن سے اس طرح کے جھوٹ بول سکتے ہیں کہ ہم جب اسکول میں تھے تو اسکول کا کام وقت پر کرلیا کرتے تھے یا اپنی جماعت میں اوّل آتے تھے، وغیرہ؟
جواببچوں کی تربیت کی غرض سے بھی اس جھوٹ بولنا جائز نہیں جھوٹ کی ظلمت بھی تربیت کو داغ دار کرے گی اور خود جھوٹ بولنے کا گناہ الگ ہو، جائز طریقے اختیار کیے جائیں۔

Parent's lies to children, make them liars, selfish in adulthood Source
Lies spoken to children might help in controlling them for short term but continue to affect them even when they grow up. A new study published in the Journal of Experimental Child Psychology has found that these lies are associated with detrimental effects when the child becomes an adult. They are more likely to lie when they grew up along with other problems they face. Researchers asked 379 Singaporean young adults whether their parents lied to them when they were children, how much they lie to their parents now, and how well they adjust to adulthood challenges. Adults who reported being lied to more as children were more likely to report lying to their parents in their adulthood. They also said they faced greater difficulty in meeting psychological and social challenges. Adjustment difficulties include disruptiveness, conduct problems, the experience of guilt and shame, as well as selfish and manipulative character. "Parenting by lying can seem to save time especially when the real reasons behind why parents want children to do something is complicated to explain," said lead author Assistant Professor Setoh Peipei from Nanyang Technological University, Singapore's School of Social Sciences. "When parents tell children that 'honesty is the best policy', but display dishonesty by lying, such behaviour can send conflicting messages to their children. Parents' dishonesty may eventually erode trust and promote dishonesty in children," the author explained. For the study, researchers incorporated 379 Singaporean young adults to complete four online questionnaires. The first asked participants to recall if their parents told them lies related to eating; leaving and/or staying; children's misbehaviour; and spending money. The second asked participants to indicate how frequently as adults they lied to their parents. It asked about lies in relation to their activities and actions; prosocial lies (or lies intended to benefit others); and exaggerations about events. Lastly, participants filled in two questionnaires that measured their self-reported psychosocial maladjustment and tendency to behave selfishly and impulsively. The analysis found that parenting by lying could place children at a greater risk of developing problems that the society frowns upon, such as aggression, rule-breaking and intrusive behaviours. Asst Prof Setoh said, "It is possible that a lie to assert the parents' power, such as saying 'If you don't behave, we will throw you into the ocean to feed the fish', maybe more related to children's adjustment difficulties as adults, compared to lies that target children's compliance, e.g. 'there is no more candy in the house'."

کتبِ فقہ حنفیہ کے رموز /اشارات

کتبِ فقہ حنفیہ کے رموز /اشارات
"له" اس سے "لابي حنيفة" كی طرف اشاره ہوتا ہے۔
"عندہ" اس سے پہلے اگر کسی اور فقیہ کا ذکر نہ ہو تو اس سے امام ابوحنیفہ  کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
"عندہ وعنہ" ان دونوں میں سے "عندہ" سے مسلک کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ مثلا امام صاحب کا مسلک ہے، جبکہ "عنہ" سے روایت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ امام صاحب کی ایک روایت ہے۔
"لھما/عندھما/مذھبھما" ان الفاظ سے امام ابویوسف و امام محمد کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
5. "اصحابنا" اس لفظ سے تین ائمہ "امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد" مراد ہوتے ہیں۔
"الصاحبین/الصاحبان" سے امام ابویوسف اور امام محمد مراد ہوتے ہیں۔
7. "الشیخین/الشیخان" سے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف مراد ہوتے ہیں۔
8. "الطرفین/الطرفان" سے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ اور امام محمد علیہ الرحمہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
9. "الثانی" سے امام ابویوسف 
علیہ الرحمہ مراد ہوتے ہیں۔
10۔ "الثالث" سے امام محمد علیہ الرحمہ مراد ہوتے ہیں
11. "المشایخ" سے ان فقہاء کی طرف اشارہ ہوتا ہے جن کو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکا ہو۔
12. "قالوا" یہ لفظ وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں مشایخ کا اختلاف ہو۔
13. "ح" کتبِ حنفیہ میں اس حرف سے شیخ حلبی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
14. "الکتاب" سے مختصر القدوری کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
15. "المتون الثلاثہ" سے مختصر القدوری، وقایہ اور کنز الدقائق کی طرف اشارہ ہوتا ہے.
---------------------------------------------------
اصغر : الجامع الصغير محمد بن الحسن وليث السمرقندی
اسنع : الاسرار نجم الدين العلامہ
اختر : الاختيار من شرح المختار
ب
بخت : ب رہان الفتاوى البخاريہ
بق : البقالی
بر : الوبری
بو : ب رہان صاحب المحيط
بس : ب رہان السمرقندی صاحب الہدايہ
بد : بدر بن طاہر
بز : بزدوی
بط : بحر المحيط
بت ( بنت ) : ب رہان الترجمانی
بخ : بكر بن خواہرزاده
بص : ب رہان الصدر
بف : ابو بكر بن الفضل
بك : ب رہان كافی ( المحيط ) .
ت
ت : واقعات الناطفی
تج : تاج الدين اخو حسام الدين الشہيد
تح : تحفہ
ث
ث : ابو الليث او الغياثی
ثو : ثوری
ج
جت : جمع التفاريق
جس : اجناس ناطفی
جص : جامع الصغير
جع : جامع العلوم
جك : جامع الكبير
جف : جامع الفصول
جل : جلال الدين
جي : جمع البخای
جہ : ابو جعفر الهندوانی
ح
حكت : ابو حفص الكبير
حق : حقائق
حم : ابو حامد
حل : حلوانی
* = خ =
خج : خجندی
خی : خانيہ
خع : خلاصۃ عزی
خو : خميس وبری
خك : خزانہ الاکل
د
دسہ : دقائق الاسرار
ده : درايہ
ذ
ذ : ذخيرة
ر
ر : روضۃ
ز
ز : زيادات
س
سج : أسبيجابی
سف : سيف نايلي یا بالی یا تايلی
سم : اسماعيل المتكلم
سن : سمرقندی مجموعات
ش
شب : شرح بكر خواهرزاده
شح : شمس الائمہ الحلوانی
شد : شرح إرشاد
شذ : شرح ابی ذر
شبر : شرح فخر الائمہ الاوزجندی
شز : شرح البزدوی
شس : شرح السرخسی
شص : شرح صباغ
شط :شرح طحاوی
شظ : شرح ظہير
شع : شرف الائمہ العتابی
شف : شرح القدوری
شق : شرح بقالی
شي : شرح الزيادات
شقخ : شرح قاضی خان
شم : شرف الائمہ المكی
شب : شهاب الأمانی ==ص ==
صغر : الفتاوى الصغرى
صبق : صلاة البقالی
ص : أصل
صج : صلاة جلابی
صب : صلاة برهان الائمہ
صح : صدر حسام
صهب : صدر شهيد بخارى
صق : صدر القضاة
صش : صدر الشريعہ
ض
ضج : ضياء الأئمہ الحجبی والإيضاح
ط
ط : محيط
طح : طحاوي
ظ
ظت : ظهير تمرتاشی
ظم : ظهير مرغينانی
ع
عت : علاء تاجری
عتج : علاء ترجمانی
عز : علاء زاهدی
عح : علاء الحمامی یا عمر الحافظ
عخ : علاء الخياطی
عي : علاء السغدی
ع : عيون
عط : عطاء بن حمزة السغدی
عك : عين الائمہ الكرباسی
عن : عمر النسفی یا عين الائمہ النسفی
عحخ : عبد الرحيم الخفی
عجت : علاء ،علا الائمہ الحمامی، علاء الائمہ التاجری == غ ==
غر : غريب الروايہ
غثم : غياث المفتين
غنۃ : الغنۃ
ف
فب : فتاوى ب رہان الدين
فث : فتاوى ابی الليث
فج : فقيہ ابو جعفر
فخ : فتاوى البخاریۃ
فتخ : فتاوى خواہر زاده
فك : ابو الفضل الكرمانی
فس : فتاوى سمرقندی
فص : فتاوى الصاعدی
فع : فتاوى العطر على السغدی
فض : فتاوى الفضلی
فن : فتاوى النسفی
ق
قب : قاضی بديع
قخ : قاضی خان
قص : قاضي صدر
قع : قاضی عبد الجبار
ق : قدوری
قعم : قاضی علاء المروزي
قضم : قاضی القضاة المتكلم
قض : قاضی ابو اليسر
ک
كب : كمال بياعی
كخ : ركن خزافی
كف : كافی
كص : ركن الصيادی
كك : كفايۃ
كن : ركن والجائی والخانی
ل
لف : لعان الفقيه
م
مت : حبر الائمہ الترجماني
مج : مجد الائمہ صاح التجريد
مح : محسن
محر : محرر
مخت : مختارات
مل : امالی ابی يوسف
م : منتقى
من : مجد الائمہ النجاری
مجخ : مجد الائمہ الخياطی
ن
نج : نجد الائمہ الحكمی
نظ : نظم الزندويستی
نو : نور الائمہ المنصورانی
ن : نوازل الفقيه ابی الليث
نجخ : نجم الائمہ البخاری
و
و : واقعات برهاني
وع : واقعات صدر الشهيد
ھ
ه : هدايہ
ا ل
لا : فتاوى لولو

ی
يب : يوسف بلانی
يت : يوسف الترجمانی الصغير
يف : يتيمۃ الدہر فی فتاوى العصر


Wednesday, 2 October 2019

ضَلَّ: گمراہی

ضَلَّ:
===
ضَلَّ کے معنی ہیں گمراہی یعنی سیدھی راہ سے بھٹک جانا اور غلط فیصلے کرنا ضَلَّ کہلاتا ہے:
(1): گمراہی (ضَلَّ):
===========
الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنا، الله کی طرف سے ہدایت کے برعکس اپنی ہواۓ نفس کی پیروی کرنا، الله کےعلاوہ ان کو پکارنا جونہ ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نفع، آخرت پر ایمان نہ رکھنا الله سے، اس کے ملائکہ سے، اس کی کتابوں سے، اس کے رسولوں سے اور یوم آخرت سے انکار کرنا انتہا درجہ کی گمراہی (ضَلَالًا) ہے. جس نے الله کے ساتھ شرک کیا تو وہ گمراہی (الضَّلَالُ) میں دور جا پڑا اور بغیر جانے بوجھے آباء و اجداد کے دین کی پیروی کرنا گمراہی (ضَالِّينَ) ہے اور جس نے اپنے ایمان کو کفر سے بدل دیا تو بیشک وہ راہ راست سے گمراہ (ضَلَّ) ہو گیا.
الله تعالیٰ فرماتا ہے:
اور کسی مومن یا مومنہ کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب الله اور اس کا رسول کسی امر کا فیصلہ کردے تو پھر اپنے اس امر میں ان کی کوئی راۓ رہے اور جو الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو بیشک وہ گمراہ (ضَلَّ) ہوا، یہی صریحاً گمراہی (ضَلَالًا) ہے.
(33:36)
پس اگر وہ تجھے جواب نہ دے سکیں تو جان لے کہ وہ تو بس اپنی ہواۓ نفس ہی کی پیروی کرنے والے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ (أَضَلُّ) کون ہے جو الله کی طرف سے ہدایت کے برعکس اپنی ہواۓ نفس کی پیروی کرتا ہے بیشک الله ظالم لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا.
(28:50)
وہ الله کے علاوہ ان کو پکارتا ہے جو نہ اسے ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نفع یہی تو انتہائی گمراہی (الضَّلَالُ) ہے.
(22:12)
اے ایمان والوں ایمان لے آؤ الله اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی اور جو کوئی الله سے اس کے ملائکہ سے اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور یوم آخرت سے انکار کرے گا تو بیشک یہ گمراہی (ضَلَّ) ہے، وہ گمراہی (ضَلَالًا) میں دور چلا گیا.
(4:136)
بیشک الله اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جاۓ اور اس کے سوا جسے چاہے گا سب کچھ بخش دے گا اور جس نے الله کے ساتھ شرک کیا تو بیشک یہ گمراہی (ضَلَّ) ہے، وہ گمراہی (ضَلَالًا)میں دور چلا گیا.
(4:116)
انہوں نے یقیناً اپنے آباء و اجداد کو گمراہ (ضَالِّينَ) پایا تھا سو وہ بھی انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گۓ اور بیشک ان سے قبل بھی بہت سے پہلے لوگ گمراہ (ضَلَّ) ہوۓ.
(37:69,70,71)
کیا تم چاہتے ہو کہ تم اپنے رسول پر سوال کرو جس طرح کہ اس سے قبل موسیٰ پر سوال کئیے گۓ؟ پس جس نے ایمان کو کفر سے بدل دیا تو بیشک وہ راہ راست سے گمراہ (ضَلَّ) ہو گیا.
(2:108)
.
(2): وہ لوگ جو خود گمراہ (ضَلَالٍ) ہوتے ہیں:
==========================
بدبختی ہے ان سنگدل لوگوں کی جو الله کی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے وہی تو ہیں جو واضح گمراہی (ضَلَالٍ) میں پڑے ہیں الله نے بہت سے جن و انس جہنّم کیلئے پیدا کیۓ ہیں ان کے قلوب ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھے ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں وہ تو ڈھور ڈنگر جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (أَضَلُّ). وہ لوگ کہ جن کا بدلہ الله کے نزدیک اس سے بھی بدتر ہے جن پر الله نے لعنت کی اور جن پر اس کا غضب ہوا اور اللہ نے ان میں سے بغض کو بندر یعنی علم سے خالی اور نقل کرنے والا، بعض کو سوئر یعنی جس کو حرام و حلال کی تمیز نہ ہو اور شیطان کا بندہ بنا دیا وہ وہی ہیں جو کہ راہ راست سے بھٹکے (وَأَضَلُّ) ہوۓ ہیں.
وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر وہ کفر میں زیادتی کرتے رہے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی وہی تو ہیں جو گمراہ (الضَّالُّونَ) ہیں. وہ جو حیات دنیا کو آخرت سے زیادہ محبوب جانتے ہیں، الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس قرآن میں کجی تلاش کرتے ہیں وہی تو ہیں جو گمراہی (ضَلَالٍ) میں بہت دور نکل گۓ ہیں. اگرچہ تو ان کی ہدایت کیلئے حریص کیوں نہ ہو مگر بیشک الله اس کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے جو گمراہ (يُضِلُّ) ہوگیا اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا. پس جنہوں نے گمرہی (الضَّلَالَةَ) کو ہدایت کے بدلے میں اور عذاب کو مغفرت کے عوض خریدا تو کتنی جرات سے انہوں نے آگ پر صبر کیا.
الله تعالیٰ فرماتا ہے
کیا وہ شخص جس کا ذہن الله نے اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کے نور پر ہے پس بدبختی ہے ان سنگدلوں کی جو الله کی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے وہی تو ہیں جو واضح گمراہی (ضَلَالٍ) میں پڑے ہیں.
(39:22)
بیشک ہم نے بہت سے جن و انس جہنّم کیلئے پیدا کیۓ ہیں ان کے قلوب ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ان کی آنکھے ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور انکے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں وہ تو ڈھور ڈنگر جیسے ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ (أَضَلُّ) وہ ہی تو ہیں جو غافل ہیں.
(7:179)
کہہ دے کیا میں تمہیں مطلع کروں جن کا بدلہ الله کے نزدیک اس سے بھی بدتر ہے جن پر الله نے لعنت کی ہے اور جن پر اس کا غضب ہوا اوراس نے ان میں سے بغض کو بندر اور بعض کو سور اور شیطان کا بندہ بنا دیا وہ وہی ہیں جن کا مقام بہت برا ہے اور جو کہ راہ راست سے بھٹکے (وَأَضَلُّ) ہوۓ ہیں.
(5:60)
بیشک وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر وہ کفر میں زیادتی کرتے رہے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جاۓ گی اور وہی تو ہیں جو گمراہ (الضَّالُّونَ) ہیں.
(3:90)
وہ جو حیات دنیا کو آخرت سے زیادہ محبوب جانتے ہیں اور الله کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہی گمراہی (ضَلَالٍ) میں بہت دور نکل گۓ ہیں.
(14:3)
.
اگرچہ تو ان کی ہدایت کیلئے حریص کیوں نہ ہو مگر بیشک الله اس کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے جو گمراہ (يُضِلُّ) ہوگیا اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا.
(16:37)
وہی تو ہیں جنہوں نے گمراہی (الضَّلَالَةَ) کو ہدایت کے بدلے میں اور عذاب کو مغفرت کے عوض خریدا کتنی جرات سے انہوں نے آگ پر صبر کیا.
(2:175)
.
(3): وہ لوگوں جنہیں الله گمراہ (يُضْلِلِ) کردیتا ہے:
============================
بیشک منافق الله کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انکو فریب دیتا ہے جب صلوٰۃ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو بیدلی کے ساتھہ لوگوں کے دیکھاوے کیلئے اور وہ الله کی نصیحت تو بہت ہی کم لیتے ہیں. وہ متذبذب ہیں نہ اس طرف کے ہیں نہ اس طرف کے یعنی انہیں حق و باطل میں فرق کا پتا ہی نہیں. الله جسے ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسکے ذہن کو اسلام کیلئے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ (يُضِلَّهُ) کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن کو تنگ اور بھنچا ہوا بنا دیتا ہے گویا اسے آسمان کی چڑھائی درپیش ہو اس طرح لله ان لوگوں پر جو کہ ایمان نہیں لاتے نجاست ڈال دیتا ہے اور جسے الله گمراہ (يُضْلِلِ) کردے اس کیلئے کوئی ہادی نہیں اور وہ انکو انکی سرکشیوں میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے.
الله جسے چاہتا ہے گمراہ (يُضِلُّ) کرتا ہے اور جسے طلب ہو اسے اپنی جانب ہدایت کرتا ہے. جو لوگ ایمان لاۓ الله ان کو حیات دنیا اور آخرت میں قول ثابت سے ثابت قدم بناتا ہے اور ظالموں کو گمراہ (وَيُضِلُّ) کر دیتا ہے. وہ شخص جس کی نظر میں اس کی بدکرداری زینت دی گئی اور وہ اسے اچھا سمجھتا ہے الله ایسے لوگوں کو گمراہ (يُضِلُّ) کر دیتا ہے. پس جس نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنالیا، تو الله نے اسکو دانستہ گمراہ (وَأَضَلَّهُ) کردیا، اسکی سماعت اور قلب پر مہرلگا دی اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیا پھر الله کے بعد اسے ہدایت دینے والا کون ہے؟؟؟ بیشک الله کسی قوم کو اسکی ہدایت کرنے کے بعد گمراہ (لِيُضِلَّ) کرنے والا نہیں جب تک کہ ان پر واضح نہ کردے کہ کن چیزوں سے بچیں.
الله تعالیٰ فرماتا ہے:
بیشک منافق الله کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انکو فریب دیتا ہے اور جب صلوٰۃ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو بیدلی کے ساتھہ کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کے دیکھاوے کیلئے اور وہ الله کی نصیحت تو بہت ہی کم لیتے ہیں. وہ متذبذب ہیں نہ اس طرف کے ہیں نہ اس طرف کے اور جس کو الله گمراہ (يُضْلِلِ) کردے اس کیلئے تو ہر گز کوئی راہ نہیں پاے گا.
(4:142,143)
اور جسے الله ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن کو اسلام کیلئے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ (يُضِلَّهُ) کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن کو تنگ اور بھنچا ہوا بنا دیتا ہے گویا کہ اسے آسمان کی چڑھائی درپیش ہو اس طرح ان لوگوں پر جو کہ ایمان نہیں لاتے الله نجاست ڈال دیتا ہے.
(6:125)
جسے الله گمراہ (يُضْلِلِ) کردے اس کیلئے کوئی ہادی نہیں ہے اور وہ ان کو ان کی سرکشیوں میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے.
(7:186)
جنہوں نے کفر اختیار کیا کہتے ہیں کہ اس پر اسکے رب کی طرف سے کوئی آیت کیوں نازل نہیں ہوتی کہہ دے بیشک الله جسے چاہتا ہے گمراہ (يُضِلُّ) کرتا ہے اور جسے طلب ہو اسے اپنی جانب ہدایت کرتا ہے.
(13:27)
جو لوگ ایمان لاۓ الله ان کو حیات دنیا اور آخرت میں قول ثابت سے ثابت قدم بناتا ہے اور ظالموں کو گمراہ (وَيُضِلُّ) کر دیتا ہے اور الله جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے.
(14:27)
کیا وہ شخص جس کی نظر میں اس کی بدکرداری زینت دی گئی اور وہ اسے اچھا سمجھتا ہے پس بیشک الله جسے چاہتا ہے گمراہ (يُضِلُّ) کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے پس تو ان لوگوں پر افسوس کرتے ہوۓ اپنی جان ہلکان نہ کر جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں بیشک الله اس سے خوب واقف ہے.
(35:8)
کیا تونے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے کہ اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا؟ اور الله نے دانستہ اسے گمراہ (وَأَضَلَّهُ) کردیا اور اسکی سماعت اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیا پھر الله کے بعد اسے ہدایت دینے والا کون ہے؟ پس کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے؟
(45:23)
اور الله کسی قوم کو اس کی ہدایت کرنے کے بعد گمراہ (لِيُضِلَّ) کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان پر واضح نہ کر دے کہ کن چیزوں سے وہ بچین بیشک الله ہر شے کا جاننے والا ہے.
(9:115)
.
(4): وہ لوگوں جنہیں شیطان گمراہ (أَضَلَّ) کرتا ہے:
=============================
اللہ نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرواور شیطان سے اجتناب کرو پس ان میں ایسے بھی ہیں جنہیں الله نے ہدایت دی اور ایسے بھی ہیں جن پر گمراہی (الضَّلَالَةُ) حق ثابت ہوی کیونکہ انہوں نے الله کی بجاۓ شیطان کو اولیا بنایا اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جو الله کے بارے میں بغیرکسی علم کے جھگڑ تے ہیں اور شیطان کی پیروی کرتے ہیں جبکہ اس کیلئے لکھا جاچکا کہ جو کوئی اس سے دوستی رکھے گا وہ اسکو گمراہ (يُضِلُّهُ) کر دیگا اور اسے جہنم کے شعلوں کی طرف لے جاۓ گا.
شیطان نے کہا میں انسان کو ضرور گمراہ (وَلَأُضِلَّنَّهُمْ) کر کے رہوں گا، انکو امیدیں دلاؤں گا، انکو حکم دوں گا کہ وہ جانوروں کے کان پھاڑیں اور انکو حکم دونگا کہ وہ الله کی خلق کی ہوئی ہیت کو بدل دیں پس جس نے شیطان کوولی بنا لیا تو بیشک وہ خسارے میں رہا آخرت میں وہ کہے گا ہاۓ افسوس کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے اس پیغام سے گمراہ (أَضَلَّنِي) کر دیا جو میرے پاس آچکا تھا اور شیطان تو انسان کو چھوڑ جانے والا ہے اور اللہ کہے گا کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی بندگی نہ کرنا وہ تمہارا دشمن ہے صرف میری ہی بندگی کرنا یہی صراط مستقیم ہے اور تم میں سے کتنی کثیر تعداد کو اس نے گمراہ (أَضَلَّ) کر دیا اور پھربھی تم نے عقل سے کام نہ لیا. یہی ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا گیا تھا آج اس میں چلے جاؤ بوجہ اس انکار کے جوتم کیا کرتے تھے.
الله تعالیٰ فرماتا ہے:
اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرو اور شیطان سے اجتناب کرو پس ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہیں الله نے ہدایت دی اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جن پر گمراہی (الضَّلَالَةُ) کا تسلط حق ثابت ہوا پس دنیا کی سیر کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا.
(16:36)
ایک گروہ کی تو اس نے ہدایت کردی اور ایک گروہ گمراہی (الضَّلَالَةُ) کا مستحق ٹھرا کیونکہ انہوں نے الله کی بجاۓ شیطان کو اولیا بنایا اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں.
(7:30)
اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو الله کے بارے میں بغیر کسی علم کے جھگڑتا ہے اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے. اس کیلئے لکھا جاچکا ہے کہ جو کوئی اس سے دوستی رکھے گا وہ اس کو گمراہ (يُضِلُّهُ) کر دیگا اور اسے لپکتے ہوۓ شعلوں کے عذاب کی طرف لے جاۓ گا.
(22:3,4)
اور میں ان کو ضرور گمراہ (وَلَأُضِلَّنَّهُمْ) کرکے رہوں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور انکو حکم دوں گا کہ وہ جانوروں کے کان پھاڑیں اور انکو حکم دونگا کہ وہ الله کی خلق کی ہوئی ہیت کو بدل دیں اور جس نے الله کو چھوڑ کر شیطان کو ولی بنا لیا تو بیشک یہ واضع خسارہ ہی خسارہ ہے.
(4:119)
ہاۓ افسوس کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا یقیناً اس نے مجھے اس پیغام سے گمراہ (أَضَلَّنِي) کر دیا جو میرے پاس آچکا تھا اور شیطان تو انسان کو چھوڑ جانیوالا ہے.
(25:28,29)
اے بنی آدم کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی بندگی نہ کرنا یقینآ وہ تمہارا واضع دشمن ہے اور یہ کہ صرف میری ہی بندگی کرنا یہی صراط مستقیم ہے اور تم میں سے کتنی کثیر تعداد کو اس نے گمراہ (أَضَلَّ) کر دیا ہے اور کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہ لو گے یہی ہے وہ جہنم کہ جس سے تمہیں ڈرایا گیا تھا آج اس میں چلے جاؤ بوجہ اس انکار کے جو تم کیا کرتے تھے.
(36:60to64)
(5): آخرت میں:
=========
اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اور گم کردہ (وَأَضَلُّ) راہ ہوگا، جس دن انکے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیۓ جائیں گے تو وہ کہیں گے افسوس ہم پر کاش کہ ہم نے الله کی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی. وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے اکابریں کی اطاعت کی پس انہوں نے ہمیں راہ سے گمراہ (فَأَضَلُّونَا) کردیا اور جب وہ اس میں جھگڑ رہے ہوں گے تو کہیں گے کہ الله کی قسم بیشک ہم صریح گمراہی (ضَلَالٍ) میں تھے جب ہم نے تم کو رب العالمین کے برابر قرار دیا، ہمیں تو بس مجرموں نے ہی گمراہ (أَضَلَّنَا) کیا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے ان دونو کو دکھلا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ (أَضَلَّانَا) کیا تھا ہم ان دونو کو اپنے قدموں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں.
الله تعالیٰ فرماتا ہے:
اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اور گم کردہ (وَأَضَلُّ) راہ ہوگا.
(17:72)
جس دن انکے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے ہاۓ افسوس ہم پر کاش کہ ہم نے الله کی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے اکابریں کی اطاعت کی پس انہوں نے ہمیں راہ سے گمراہ (فَأَضَلُّونَا) کردیا.
(33:66,67)
وہ جب اس میں جھگڑ رہے ہوں گے تو کہیں گے الله کی قسم بیشک ہم صریح گمراہی (ضَلَالٍ) میں تھے جب ہم نے تم کو رب العالمین کے برابر قرار دیا اور ہم کو تو بس مجرموں نے ہی گمراہ (أَضَلَّنَا) کیا.
(26:96to99)
اور وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے ان دونو کو دکھلا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ (أَضَلَّانَا) کیا تھا ہم ان دونوں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں.
(41:29)

https://saagartimes.blogspot.com/2019/10/blog-post_2.html


تبلیغی جماعت اور انچاس کروڑ کا ثواب

تبلیغی جماعت اور انچاس کروڑ کا ثواب

سوال: میرے دو سوالا ت ہیں: (۱) ہمارے تبلیغی جماعت والے بھی اکثر دو احادیث کو ملا کر یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کے راستے میں نکلا کر و۔ اس سے نماز کے ثواب 490000000 (انچاس کروڑ) ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے؟
(۲) کیا تبلیغی جماعت میں جانا اللہ کے راستے میں داخل ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق: (۱) یہ محض تبلیغی جماعت والوں کا ہی بیان نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں شراحِ حدیث نے یہ مطلب بیان کیا ہے بذل المجھود في حل أبي داوٴد وغیرہ میں بھی ہے۔ (۲) بلاشبہ داخل ہے، اس سلسلہ میں بہت عمدہ مدلل و مفصل کلام الاعتدال في مراتب الرجال المعروف بـ اسلامی سیاست اردو میں ہے، یہ کتاب دیوبند، دہلی وغیرہ کے کتب خانوں میں عامةً قیمتاً دستیاب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
--------------------------------------------------------------------
نجم الفتاوی جلد 1:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا سوال اننچاس کروڑ کے بارے میں ہے، مفتی صاحب! تبلیغی ساتھی دعوت وتبلیغ میں نکلنے پر اننچاس کروڑ کا ثواب بتاتے ہیں۔ کیا یہ ثابت ہے؟ سنا ہے کہ یہ لوگ دو حدیثوں کو ضرب دے کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ اس بارے میں دو سوالوں کا جواب مطلوب ہے۔
۱)۔ ایک یہ کہ اس طرح حدیثوں کو ضرب دینا کیسا ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟
۲)۔ سنا ہے کہ ان دو حدیثوں میں اصل جہاد کی فضیلت بیان کی گئی ہے تو کیا جہاد کی فضیلت میں وارد حدیث کو تبلیغ پر چسپاں کرنا درست ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
۱)۔ مذکورہ فضیلت دو حدیثوں کو ملانے سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک حدیث میں ہے کہ ”فی سبیل اللہ“ ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات لاکھ کے برابر ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک کا بدلہ سات سو گنا المضاعف ہوتا ہے۔ سات لاکھ کو جب سات سو سے ضرب دیا جائے تو اننچاس کروڑ بنتا ہے۔ اگرچہ اس طرح حدیث کو ضرب دے کر بیان کرنے میں کوئی حرج تو نہیں۔ کیونکہ دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہیں لیکن احتیاط اس میں ہے کہ حقیقت ضرب کو واضح کردیا جائے۔ تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے کیونکہ معاملہ بیانِ حدیث کا ہے، انتہائی نازک موقع ہے۔
۲)۔ جہاد جہد سے مشتق ہے۔ یعنی کوشش کرنا، اس کا اولین مصداق قتال بالسیف ہے۔ اس کے علاءِ کلمۃ اللہ کے لیے ہر کوشش پر جہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جہاں فضائل جہاد کو تبلیغ کیلئے بیان کیا جاتا ہے اس میں عموماً ”فی سبیل اللہ“ کے لفظ سے استدلال کیا جاتا ہے۔ لفظِ جہاد اور فی سبیل اللہ کا اطلاق دوسرے دینی کاموں پر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ علامہ شامی بدائع کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں کہ (”وفی سبیل اللہ“یدخل فیہ جمیع القرب وکل من سعی فی طاعۃ اللہ) عبارتِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کوشش جو اطاعتِ الٰہی سے متعلق ہو اس پر فی سبیل اللہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ نیز حافظ ابن حجر نے تعلیم وتعلم وغیرہ کو جہاد قرار دیا ہے چونکہ تبلیغِ دین کا کام اِسی زمرے میں آتا ہے (اس لئے تبلیغ بھی جہاد کا ہی ایک شعبہ ہوا) لہٰذا جن آیات واحادیث میں جہاد کے فضائل وارد ہوئے ہیں تو ان کو تبلیغ کے فضائل کے مواقع پر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ وہ آیات واحادیث جو قتال بالسیف کے ساتھ خاص ہیں ان کو کسی دوسرے معنی کی طرف پھیرنا درست نہیں۔
لمافی سنن ابی داؤد (۳۳۸/۲): عن سھل بن معاذ عن ابیہ قال: قال رسول اللہ ﷺان الصلوۃ والصیام والذکر تضاعف علی النفقۃ فی سبیل اللہ عزوجل بسبعمائۃ ضعف۔
وفی سنن ابن ماجۃ: عن علی بن ابی طالب …… کلھم یحدث عن رسول اللہ ﷺانہ قال: من ارسل بنفقتہ فی سبیل اللہ، واقام فی بیتہ فلہ لکل درھم سبع مائۃ درھم، ومن غزا بنفسہ فی سبیل اللہ وانفق فی وجہ ذلک فلہ لکل درھم سبع مائۃ الف درھم ثم تلا ھذہ الآیۃ ”واللہ یضاعف لمن یشاء“
وفی فتح الباری (۶/۲): ”الجہاد بکسر المیم“ اصلہ لغۃً المشقۃ۔۔۔وشرعاً بذل الجھد فی قتال الکفار، ویطلق ایضاً علی مجاھدۃ النفس و الشیطان والفساق، واما مجاھدۃ النفس فعلی تعلم امور الدین ثم علی العمل بھا، ثم علی تعلیمھا۔
---------------------------------------------------------------------------
فتاوی فریدیہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان دین متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
(۱) …تبلیغی جماعت والے اللہ کی راہ (تبلیغ) میں نکل کر ایک نماز کی ادائیگی کا اجر و ثواب انچاس کروڑ بتلاتے ہیں کیا قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہے براہ کرم تعین حدیث فرمادیجئے یہ سنا ہے کہ بعض احادیث کی ضرب سے یہ تعداد حاصل ہوتی ہے کیا یہ ضرب دینا درست ہے؟
(۲) …اگر ضرب دینا درست ہوجائے تو پھر اگر ایک شخص مسواک استعمال کرکے گھر کی بجائے مسجد میں نماز باجماعت ادا کرے تو مسواک سے ستر گنا اجر بڑھ گیا اور مسجد میں جماعت کے ساتھ ادائیگی کا ۲۵ گنا اجر بڑھ گیا تو ۷۰×۲۵ ہوا جس کا حاصل تقریبا ًسترہ لاکھ پچاس ہزار بنتا ہے اور اگر رمضان میں ادا کرے تو ایک فرض ادا کرنا ستر فرض کی ادائیگی کے برابر ہے تو حاصل ضرب ایک کروڑ بائیس لاکھ پچاس ہزار بنے تو اب اگر یہ شخص یہ تعبیر ادا کرے کہ رمضان کے مہینہ میں مسواک استعمال کرکے جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی پر ایک کروڑ بائیس لاکھ پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملے گا نیز مذکورہ بالا قیودات کو سامنے رکھ کر نماز بیت اللہ میں ادا کرے تو اور بڑھے گا۔ تو کیا اسی طرح کے ضرب وغیرہ کا سلسلہ درست ہو گا؟
المستفتی: حافظ غنی الرحمن جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر ۵…۱۹۹۰ ء؍۱۱؍۲۲
الجواب: نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد پس اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نمازی ہونے والے شخص کے متعلق ایک نماز کا ثواب انچاس کروڑ ہونا حدیث سے ثابت ہے قال رسول اللہ ﷺ و من غزا بنفسہ فی سبیل اللہ و انفق فی وجہہ ذالک فلہ بکل درہم سبعمائۃ دراہم رواہ ابن ماجہ {۱}و قال رسول اللہ ﷺ ان الصلاۃ والصیام والذکر یضاعف علی النفقۃ فی سبیل اللہ عزو جل بسبعمائۃ ضعف رواہ ابوداؤد فی باب تضعیف الذکر فی سبیل اللہ۔{۲} (۷۰۰×۷۰۰۰۰۰=۴۹۰۰۰۰۰۰۰)۔
اس حدیث کی عبارت میں اگر چہ نمازی کا ذکرہوا ہے لیکن حدیث کی دلالت سے یہ ثواب ہر اس شخص کیلئے ثابت ہے جو کہ اعلاء کلمۃ اللہ او راشاعت دین کرے مثلا معلم متعلم مجاہد مبلغ وغیرہ ۔۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------

سوال … تبلیغی جماعت والے کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں نکلو، اللہ کے راستے میں ایک نماز کا ثواب انچاس کروڑ نمازوں کے برابر ہے، لیکن میں نے سنا ہے کہ یہ ثواب جہاد فی سبیل اللہ میں ہے؟
جواب … تبلیغی کام بھی جہاد فی سبیل اللہ کے حکم میں ہے۔
مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

آپ کے مسائل اور ان کا حل
https://saagartimes.blogspot.com/2019/10/blog-post.html