Monday, 24 March 2025

مہا بودھی مکتی آندولن مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے خلاف جوابی پروپیگندہ کا ایک اہم قضیہ

مہا بودھی  مکتی آندولن 
مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے خلاف جوابی پروپیگندہ کا ایک اہم قضیہ

احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

گیا کا مہا بودھی مہا وہار وہ جگہ ہے جہاں ایک درخت کے نیچے گوتم بدھ کو معرفت حاصل ہوئی تھی، اس لیے اسے بدھ ازم میں کافی اہمیت حاصل ہے، بدھ ازم کے تمام فرقے اس جگہ کو مقدس ترین مقام مانتے  ہیں، جس درخت کے نیچے گوتم بدھ کو معرفت حاصل ہوئی تھی اسے بودھی ورکش کہا جاتا ہے، مہا راجہ اشوک نے اس درخت کے پاس یہ مہا وہار تعمیر کرایا جو مہا بودھی مہا وہار سے موسوم ہوا۔ اشوک کا دور برہمنیت مخالف انقلاب کے کمال اور عروج واستحکام کا دور ہے، آگے چل کر جب برہمنیت نے پلٹ وار کیا  تو بدھسٹ مقامات پر قبضے شروع کیے؛ جس کی لپیٹ میں یہ مہاوہار بھی آیا، انیسویں صدی کے اواخر میں برہمنوں  کے اس قبضے کے خلاف آواز اٹھنی شروع ہوئی جب ایڈون آرنلڈ نے دی لائٹ آف ایشیا کے نام سے گوتم بدھ کی شان میں منظوم منقبت لکھی، اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے مشہور بدھسٹ سنت اناردک دھرم پال نے بھارت کے سفر کے دوران1891 میں اس مہا وہار کو برہمنوں سے آزاد کرنے کی کوششیں کیں، یہ کوششیں جاری رہیں مگر یہ مہاوہار برہمنوں کے قبضے سے آزاد نہ ہوسکا، تحریک آزادی کے دوران بھی یہ آواز اٹھی مگر آزادی کے شور میں دب گئی یا عمدا دبا دی گئی، آزادی کے بعد پھر اس مطالبہ نے زور پکڑا تو اس قضیہ کو نمٹانے بلکہ دبانے کے لیے  بی ٹی ایکٹ (Bodh Gaya Temple Act, 1949)بنایا گیا۔ 
اس ایکٹ کے تحت یہ بات طے پائی کہ مہاوہار چلانے کے لیے آٹھ رکنی  انتظامی کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں چار بدھسٹ ہوں گے اور چار ہندو، کمیٹی کے چیرمین کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی کہ اس علاقے کا ڈی ایم کمیٹی کا چیرمین ہوگا، اور چیرمین کا ہندو ہونا ضروری ہے، اگر ڈی ایم ہندو نہ ہو تو پھر حکومت کسی ایسے کو چیر مین بنائے جو ہندو ہو۔  ہندو ہونے کی یہ شرط بہار حکومت کی طرف سے 2013 میں ہٹائی گئی، مگر عملا اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ بی ٹی ایکٹ کے تحت بنائی گئی اس کمیٹی کو بی ٹی ایم سی (Bodhgaya Temple Management Committee) کا نام دیا گیا، کمیٹی کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا کہ برہمنوں کا تسلط بھی باقی رہے اور بدھ مت کے پیروکار ’کل نہیں تو کچھ سہی‘ سوچ کر اسے قبول کرلیں اور خاموش بیٹھ جائیں۔
بی ٹی ایکٹ کے تحت کمیٹی تشکیل دینے اور کمیٹی میں چار بدھسٹوں کو نامزد کرنے کے بعد مہابودھی مہاوہار کی آزادی کی آواز خاموش سی ہوگئی، چالیس سال تک یہ تحریک دبی رہی، پھر 1992 میں یہ تحریک دوبارہ شروع ہوئی اور 1998 تک چلی، اتنے لمبے عرصہ تک تحریک چلنے کے باوجود مہاوہار برہمنوں کے تسلط سے آزاد نہ ہوسکا، تحریک میں شامل کئی سرکردہ افراد کو بہار حکومت نے بی ٹی ایم سی میں شامل کردیا، اس طرح تحریک کا زور ٹوٹ گیا۔ 2012 میں سپریم کورٹ میں مہاوہار کی آزادی کے لیے رٹ پٹیشن داخل کی گئی، مگر کوئی کامیابی نہ ملی۔ 
اس مہاوہار پر شیو پنتھی برہمنوں کا ناجائز قبضہ ہے، ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ مہابودھی مہاوہار کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، بلکہ اس کا برہمنی کرن بھی کر رکھا ہے، گربھ گرہ جہاں گوتم بدھ کی بڑی مورتی رکھی ہوئی ہے اس کے باب الداخلہ کے اوپر دیوار پر پہلے گوتم بدھ کا نام کندہ تھا، اسے سمنٹ سے بھر کر مٹا کر برابر کردیا گیا۔ گربھ گرہ میں بڑی مورتی کے سامنے باب الداخلہ کے قریب گوتم بدھ کی ایک اور مورتی رکھی ہوئی تھی، اسے ہٹا کر وہاں دان پیٹی رکھ دی گئی، اور اس پیٹی کے پیچھے ایک ابھرے ہوئے حصہ کو شیو لنگ بنا دیا گیا، اس طرح بدھسٹوں کا یہ مہاوہار برہمنوں کے شیو مندر میں تبدیل ہوگیا، اندر موجود بدھ کی پانچ مورتیوں کو پانچ پانڈو کہہ کر پرچار کیا جارہا ہے اور بدھ مت کی تارا دیوی کو ہندو مت کی دروپدی بتایا جارہا ہے۔یہ ساری باتیں ثبوتوں کے ساتھ باہر آرہی تھیں  اور ان دنوں کافی وائرل ہورہی تھیں اس لیے بی ٹی ایم سی نے 18 مارچ کو سرکولر جاری ہوتے ہوئے کیمرہ موبائل اندر لے جانے پر مکمل پابندی لگادی ۔
برہمنوں کے اس تسلظ اور ان کی طرف سے کیے جارہے اس برہمنی کرن کے خلاف مہا بودھی مہاوہار کو آزاد کرانے کے لیے 2023 میں یہ تحریک مہا بودھی مہاوہار مکتی آندولن کے نام سے دوبارہ شروع ہوئی جو تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اس تحریک میں خاص طور پر بی ٹی ایکٹ کو رد کرنے اور مہاوہار کو برہمنوں سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، 12 فروری 2025 کو اس تحریک نے اس وقت مزید شدت اختیار کرلی جب بدھسٹ مونکوں کی ایک جماعت بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی، اس بھوک ہڑتال  کو چالیس روز ہونے جا رہے ہیں، پندرہویں دن پولیس نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مونکوں کو حراست میں بھی لیا تھا، مگر ان لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم نہیں کی۔اس احتجاج اور ہڑتال کو بدھ مت کے پیروکاروں کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر تائید مل رہی ہے، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ، امریکہ وغیرہ کئی ملکوں میں احتجاج کیے گئے۔
اندرون ملک بھی  یہ آندولن کئی ریاستوں میں پھیل گیا، خاص کر مہاراشٹر میں اس سلسلہ میں کافی بیداری پائی جا رہی ہے،  6 اپریل کو ناگپور میں عظیم احتجاج منعقد کرنے کی تیاری ہے، اور 12 مئی کو بدھ جینتی کے موقع سے بدھ گیا میں کل ہند سطح کا احتجاج کرنے کا پروگرام ہے۔ نیشنل میڈیا اسے مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے، اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کی اجازت نہ دے کر اسے محدود رکھنے اور دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، آج (مورخہ 23 مارچ) حیدرآباد کے پنجہ گٹہ علاقہ میں پر امن احتجاج منظم کرنے کا بدھسٹ بھائیوں کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا، لیکن پولیس کی اجازت نہ ملنے کہ وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔
مہابودھی مہاوہار پر برہمنی تسلط کا تعلق اس ملک میں جاری قدیم کشمکش سے ہے، جو اس ملک کی حقیقی کشمکش ہے، یہ کشمکش دو نظریات کے درمیان ہے، ایک نظریہ ہے نسلی برتری کا اور دوسرا نظریہ ہے سماجی انصاف کا یعنی سارے انسانوں کو برابر سمجھنے اور کسی مخصوص نسل کو برتری نہ دینے کا، نسلی برتری والی آریائی برہمن قوم جب سے اس ملک میں آئی ہے تب سے اس نے اپنا تسلط باقی رکھنے اور باقی اقوام کو اپنا محکوم وغلام بنا کر رکھنے ہر ممکن حربے اپنائے، سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی اس سے ہر دور میں ٹکراتی رہی، مگر نسلی برتری والی آئیڈیالوجی اپنا غلبہ بنا کر رکھنے میں کامیاب رہی، نسلی برتری والوں سے سب سے بڑا ٹکراؤ گوتم بدھ کی تبلیغ وتحریک کی وجہ سے پیدا ہوا، جسے انقلاب کا زمانہ کہا جاتا ہے، پھر نسلی برتری والوں نے مختلف حکمت عملیاں اپناتے ہوئے دوبارہ برہمنی تسلط کے پنجے گاڑ دیے، اسے رد انقلاب کا دور کہا جاتا ہے، اس دور میں برہمنوں نے بدھ ازم کی روح کو ختم کرنے، اس کی شناخت کو مٹانے، اس کی تہذیبی علامتوں اور تہواروں کا برہمن کرن کرنے اور اس کے مقدس مقامات پر قبضہ کرنے میں اپنا پورا زور لگا دیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے، مہابودھی مہاوہار یہ تنہا نہیں ہے، بلکہ ایسے ہزاروں مہاوہار ہیں جن کو مندر میں تبدیل کردیا گیا، جگن ناتھ، بدری ناتھ اور تروپتی بالا جی کے مشہور مندر بھی در اصل بدھ معابد ہی ہیں۔ 
نسلی برتری اور سماجی انصاف کی کشمکش اس ملک کی حقیقی کشمکش ہے جس پر بھارتی تاریخ و تہذیب، بھارتی مذاہب کا لٹریچر، بھارتی مصلحین کی تحریکی واصلاحی تگ ودو بلکہ یہاں کے کھنڈرات اور کھدائی میں بر آمد ہونے والے آثار شاہد ہیں، نسلی برتری کا فائدہ چند فیصد برہمن کو حاصل ہے جبکہ سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی اس ملک کی تمام مظلوم ومحروم اقوام کی ضرورت ہے، اسلام اس سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی کا عالمی نمائندہ ہے، اور اسلام کی وجہ سے جن لوگوں کو سماجی انصاف کی دولت ملی برہمنواد آج تک ان پر اپنی غلامی کا سایہ بھی نہ ڈال سکا، نہ ان کے مذہب میں ایک حرف کی تبدیلی کر سکا اور نہ ان کی تہذیب کا کچھ بگاڑ سکا۔ نسلی برتری چوں کہ اقلیت کے مفاد میں ہے اور اکثریت کے خلاف ہے، اس لیے جمہوری دور کی مجبوری کی وجہ سے اور اسلام کی مقبولیت واشاعت کے خوف کی وجہ سے نسلی برتری والوں نے اس ملک کی اصل کشمکش کو ایک دوسری کشمکش کے شور میں دبانے کا منصوبہ بنایا، نہ صرف منصوبہ بنایا، بلکہ منظم ومستحکم پروپیگنڈہ کے ذریعہ اس کے حق میں رائے عامہ ہموار کی اور نتیجتا یہ رائے عامہ عوامی رویے میں تبدیل ہوئی، جس کشمکش کو دبانا چاہا وہ نسلی برتری اور سماجی انصاف کی کشمکش ہے، اور جس کشمکش کو برپا کیا وہ ہندو بنام مسلم کی کشمکش ہے، نسلی برتری اور سماجی انصاف کے بیچ نظریاتی تصادم جتنا بڑھے گا برہمن قوم کا نقصان بھی اتنا ہی بڑھے گا اور ان کا تسلط اسی قدر کمزور ہوگا، جبکہ ہندو بنام مسلم والا تصادم جتنا بڑھے گا برہمن قوم کا فائدہ بھی اتنا ہی بڑھے گا اور ان کا تسلط اسی قدر مضبوط ہوگا۔
نظریاتی کشمکش میں نسل پرستانہ تسلط کو باقی رکھنے اور برہمنوادی نظام حیات کو مختلف نام اور عنوان سے مسلط رکھنے کے لیے اس ملک میں مسلم مخالف پروپیگنڈہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ بھارت کی وہ اقوام جو سماجی انصاف کی علمبردار ہیں اور وہ اقوام جو سماجی انصاف سے محروم ہیں یہ سب اُس تصادم میں الجھی رہیں جس سے نسلی برتری والوں کا فائدہ ہے، اور نسلی برتری کو چیلنج کرکے اس تصادم کو مضبوط نہ کریں جس سے نسلی برتری والوں کا نقصان ہے۔یہ پروپیگنڈہ اتنی شدت سے چلایا جاتا ہے کہ اس کے شور میں وہ ساری آوازیں دب جاتی ہیں جو اس پروپیگنڈہ کے مقصد کو فوت کرسکتی ہیں۔ مسلم مخالف پروپیگنڈہ کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے جوابی پروپیگنڈہ کو منظم ومستحکم کرنا ضروری ہے، پروپیگنڈہ پر رد عمل ظاہر کردینے سے پروپیگنڈہ ناکام نہیں ہوسکتا، اس کے لیے جوابی پروپیگنڈہ ضروری ہے، جوابی پروپیگنڈہ کا مطلب ہے اس تصادم کو مضبوط کرنے کے لیے مسائل کو اٹھانا اور ان پر ہنگامہ برپا کرنا، اور ان کے تئیں شعور بیداری کی نظریاتی مہم چھیڑنا جس سے نسلی برتری والے نظریہ ونظام حیات کی بنیاد پر زد پڑتی ہے، اس سے ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف سے محروم ہیں اور مسلم مخالف پروپیگنڈہ کی وجہ سے ہندو اور ہندوتو کے نام پر نسلی برتری والوں کے آلۂ کار بنے ہوئےہیں، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف سے محروم ہیں اور اس کے حصول کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف کے حامل ہیں مگر برہمنواد کے پلٹ وار کی زد میں ہیں جیسا کہ بدھسٹ، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف کے حامل ہیں اور برہمنواد ان پر کسی طرح کا پلٹ وار نہیں کرسکا  ، البتہ جمہوری دور میں انھیں نفرت وعداوت اور ظلم وستم کا نشانہ بنا کر برہمنواد اپنا الو سیدھا کر رہا ہے، یعنی مسلم قوم۔
برہمنوادی تسلط واستحصال کو قدر مشترک مان کر حقیقت وصداقت پر مبنی جوابی پروپیگنڈہ ملک میں جاری نظریاتی یلغار کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، اس جوابی پروپیگنڈہ کے لیے جن مسائل اور تاریخی حقائق کو استعمال کیا جا سکتا ہے مہا بودھی مہاوہار کی آزادی ان میں ایک اہم قضیہ ہے، برہمنواد نہیں چاہتا کہ اس قضیہ کا شور بلند ہو اور یہ مسئلہ اوپر آئے اور چھائے، وہ اسے ابھی نظر انداز کرکے دفنانا یا کم از کم دبانا چاہ رہا ہے،نظر انداز کرنے کے باوجود اگر یہ مسئلہ نہیں دبتا ہے اور اس کا شور کسی طرح سے بلند ہوجاتا ہے اور یہ آندولن ملک کا سلگتا ہوا قضیہ بننے میں کامیا ب ہوجاتا ہے تو خدشہ ہے کہ کہیں برہمنواد ہمیشہ کی طرح اس تصادم کو ہندو مسلم تصادم سے کمزور کرنے کی کوشش نہ کرے، جس طرح منڈل  کے شور کو کمنڈل کے ذریعہ دبایا گیا، اسی طرح ڈر ہے کہ یہاں بھی کوئی نہ کوئی مسلم مخالف قضیہ اٹھایا کر ماحول کو برہمنوادی مفاد کے لیے سازگار کیا جائے گا، برہمنواد اس کشمکش اور تصادم کو جس میں اس کی کمزوری ہے اس کشمکش اور تصادم سے دبانے کی حکمت عملی اپناتا ہے جس میں اس کا استحکام ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس کشمکش اور تصادم کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں جس سے برہمنوادی مفاد پر زد پڑتی ہے، مہابودھی مہاوہار کا قضیہ اسی قبیل سے ہے، یہ قضیہ اس وقت چھڑا ہوا ہے، اس کی شدت کو بڑھانے اور اس تحریک کو پھیلانے کی ضرورت ہے، بظاہر یہ قضیہ ہمارے ملی مسائل سے کوئی تعلق نہیں رکھتا؛ لیکن جو آئیڈیالوجی ہمارے ملی مسائل کو نشانہ بناتی ہے  یہ اور اس طرح کے مسائل اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر زد لگاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ملک میں جاری پروپیگنڈہ کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھ کر منظم ومستحکم جوابی پروپیگنڈہ چھیڑا جائے۔

Wednesday, 12 March 2025

زکوٰۃ: مستحقین تک یا زکوٰۃ مافیا تک؟


زکوٰۃ: مستحقین تک یا زکوٰۃ مافیا تک؟
بقلم  محمد أبو طالب رحمانی 
زکوٰۃ کی رقم کا اصل حق دار وہی مستحقین ہیں جن کے لیے شریعت نے اس کا تعین کیا ہے، نہ کہ وہ کمیشن خور جو اسے کاروبار بنا کر اپنے جیب بھر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج تقریباً 50 فیصد یا اس سے بھی زیادہ زکوٰۃ کی رقم ایسے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے جو اس کے حقدار نہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو کل 100 فیصد بھی کوئی ہڑپ کر لے، تو کیا ہم خاموش رہیں گے؟
ہم عوام کو زکوٰۃ کی فضیلت اور اس کی برکتیں بتا کر زکوٰۃ وصول تو کرتے ہیں، لیکن کیوں نہ اہلِ خیر کو دینی تعلیم کے عمومی اخراجات کے لیے عطیات دینے کی طرف متوجہ کریں؟
رمضان المبارک میں چندہ مہم کے سبب بہت سے سفرا روزے، نماز اور تراویح جیسی عبادات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر غور و فکر اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ میرے کہنے میں کچھ خامیاں ہوسکتی ہیں، لیکن اصل مسئلہ پسِ پردہ نہیں جانا چاہیے۔
مدارس کے نام پر جعلی چندے، غیر مستحق افراد کو زکوٰۃ کی رقم دینا، اور ایسے فضلاء کا وجود جو اپنی سند کی عبارت بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتے—یہ سب ہمارے تعلیمی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
پھر وہ مدارس بھی ہیں جہاں عوامی چندے سے زمین خریدی جاتی ہے، لیکن وہ کسی کی بیوی یا بیٹوں کے نام پر رجسٹر ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات کی اصلاح اور تطہیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رہی بات حکومت کی نظر کی، تو اس سے مطمئن رہیں۔ ہمارے مدارس کے کئی فارغین آج ان تنظیموں میں ملازمت کر رہے ہیں جو فتنہ انگیزی میں مصروف ہیں۔ ہمیں حکومت کی نہیں، بلکہ اللہ کی نظر کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ اصل احتساب وہیں ہونا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ زکوٰۃ کے نظام کو شفاف بنایا جائے، تاکہ وہ مستحقین تک پہنچے، نہ کہ زکوٰۃ مافیا تک۔
۔۔۔۔۔۔
بیس لاکھ کروڑ زکوٰۃ؟ تحقیق وتجزیہ
بقلم: محمد توصیف قاسمی
حضرت مولانا ابوطالب رحمانی صاحب مدظلہ ملک کے جانے مانے مقرر ین میں سے ہیں، سلاست بیانی اور طلاقت لسانی کی مثال ہیں، آپ کے اصلاحی و فکری بیانات سوشل میڈیا کے ذریعہ دور دراز پہنچ کر مفید عام و خاص ہوتے ہیں، اللہ کرے یہ سلسلہ دراز تر ہو، نفع عام سے عام ہو۔ آمین
آپ کا ایک ویڈیو کلپ ایک دوست نے ارسال کرکے اس پر اظہار رائے کا اصرار کیا، بندہ کی علمی و عملی بساط ہی کیا، مگر طالب علمانہ ذوق کے سبب اپنی بات رکھنے میں کوئی تردد نہیں کرتے، غلط ہوا تو اصلاح کردی جائے گی۔
پورا بیان نہیں مل سکا، لیکن اس کلپ میں انھوں نے جو بات کہی ہے وہ اپنی جگہ مکمل ہے، اس لئے اس پر چند معروضات پیش ہیں، ویڈیو میں مولانا ایک حساب کرتے نظر آرہے ہیں:
 ایک لاکھ  کو ایک کروڑ میں ضرب دیا جائے تو حاصل ضرب بیس لاکھ کروڑ نہیں آئے گا، بلکہ ایک لاکھ کروڑ اآئے گا، اور اسے اردو  میں اس طرح لکھا جائے گا:
10,00,00,00,00,000
اردو میں اسے دس کھرب کہا جائے گا۔
اسی رقم کو میٹرک اشاریے میں اس طرح لکھا جائے گا:
1,000,000,000,000
یعنی ایک ٹرلین روپے، دونوں جگہ صفر 12 ہی ہیں، بس قومہ لکھنے کا فرق ہے، 
ایک ٹرلین، دس کھرب یا ایک لاکھ کروڑ یہ تینوں اعداد و رقوم برابر ہی ہیں، الگ الگ عرف و زبان اور صنعت میں ادائیگی مختلف ہے۔
ایک لاکھ کو ایک کروڑ میں ضرب دے کر کسی بھی طرح بیس لاکھ کروڑ نہیں بنتے ہیں۔
یہ حساب اگر طلبہ  وعلماء محض کے درمیان ہورہا ہوتا تو بڑی بات نہ تھی، نحن امۃ امیۃ کی اتباع میں مدارس اسلامیہ میں حساب کا کوئی شعبہ نہیں (پھر خدا جانے ماضی میں ماہرین حساب کیونکر ہوگئے؟)
بلکہ ایک ایسے مجمع میں یہ گفتگو ہورہی ہے اہل مدارس اور عصری علوم کے ماہرین میں مشترک ہے، اور ڈائس پر تو زیادہ تر وہی نظر آرہے ہیں، حیرت ہے کہ کسی نے اس طرف توجہ نہ کی،اور نہ ہی بعد میں اسے سنجیدگی سے لیا۔
یہ حساب ہم نے اتفاقاً کرلیا، اتنی بھاری بھرکم رقم پر اطمینان نہیں ہورہا تھا، حساب تو ہم نے اپنی مشق کے لئے کرلیا، جس میں یہ بات سامنے آگئی کہ ایک لاکھ ضرب ایک کروڑ بیس لاکھ کروڑ نہیں ہوتے، بلکہ صرف ایک لاکھ کروڑ ہی ہوتے ہیں۔
واضح ہوکہ ایک لاکھ کروڑ ایک ٹرلین برابر ہوتے ہیں۔
ایک لاکھ کروڑ میں عدد کے علاوہ بارہ صفر ہوں گے۔
بیس لاکھ کروڑ میں عدد (2) کے علاوہ تیرہ صفر ہوں گے۔
اس ویڈیو کلپ میں ہمارے لئے دراصل قابل اشکال یہ چند باتیں لگیں:
1: کیا مسلمانوں کے اس مالی نظام و حساب کا ایسی عمومی محفلوں میں بیان کرنا قرین مصلحت ہے یا نہیں؟
ہمارے ناقص خیال میں تو ہرگز نہیں، اگر کوئی مالدار کسی مدرسہ کی دو ہزار سے زائد کی رسید بنادے تو اس کے لئے مصیبت کا ٹکٹ بن سکتا ہے، ایسی صورت حال میں ببانگ دہل یہ کہنا کہ اتنے کروڑ یا اتنے لاکھ کروڑ کا مدارس کو ٹرن اوور ہے، نہایت خطرناک بات ہے۔
مانا کہ یہ نہایت پرسنل مسئلہ ہے، لیکن موجودہ حکومت کے ٹارگٹ سے مسلمانوں کا کو نسا پرسنل مسئلہ بچا ہے؟ ایسے بیانات کا حکومت اور فرقہ پرستوں کی نظر سے چوک جانے کا اطمینان کس بھروسہ پر ہوسکتا ہے، ملت اسلامیہ ایسے ہی ہر سمت و پہلو سے، ہر محاذ پر تمام تر پینتروں سے گھات پر ہے، ایک جگہ بچانہیں پاتے کہ دوسری اور تیسری جگہ زخم کاری لگایا جارہا ہے، تو ایسے دعوے کرکے انھیں دعوت دینے کا فائدہ کچھ نظر نہیں آتا۔
2: افسوس یہ ہے کہ یہ بات ایک عالم دین اور پرسنل لا بورڈ کے ذمہ دار کی زبان سے نکلی ہے، کسی اور نے کہی ہوتی تو قابل التفات نہ ہوتی۔
ہندوستان کے چند مثالی اداروں کے علاوہ سارے کے سارے مدارس مسلمانوں کے صدقات و زکوٰۃ پر منحصر ہیں، غیر واجبی اموال کا حصۃ مدارس کی آمدنی میں چند دو چار فیصد سے زیادہ کا نہ ہوگا۔
گویا یہ کہ مسلمانوں کے مالی ترقی میں مانع یا باعث تنزلی یہ مدارس ہیں، اگر یہ نہ ہوتی تو قوم مسلم مالدار ہوتی۔
یقیناً مولانا اس مفہوم مخالف کے قائل نہیں، مگر لبرل اور دین بیزار طبقہ تو یہی کہتا آیا ہے، ایسے ہی دعووں سے وہ اپنے آپ کو ، دوسرے مسلمانوں کو، اور منافق خصلت تو غیروں تک کو علماء و مدارس سے متنفر کرنے کے لئے کہتے ہیں۔
3: مولانا مدظلہ فرماتے ہیں کہ 20 کروڑ مسلمانوں کی آبادی میں ایک کروڑ تو زکوٰۃ نکالنے والے ہوں گے۔
یہ صرف تخمینہ ہی ہے، اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک کروڑ اصحاب نصاب زکوٰۃ مستحقین کو ادا کرتے ہیں؟
بڑے اطمینان و اعتماد سے ہم کہہ سکتے ہیں نہیں، ہرگز نہیں۔
ایمانداری کی بات ہی ہے کہ "اصل بے ایمانی" ان ایک کروڑ مالداروں کے زکوٰۃ نکالنے میں ہے، مالداروں کا اوپرکا ایک طبقہ تو بالکل خرچ کرنے والا نہیں، ایک طبقہ صرف سرسری حساب کرکے جان چھڑا لیتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو ہر سال مالی ترقی کرتے ہیں، لیکن مال خرچ کرنے کا شئیر ہر سال گھٹا دیتے ہیں۔
اور اس میں اوسط درجہ کا جو مالدار طبقہ ہے، اسی میں کی اچھی خاصی تعدادپابندی سے زکوٰۃ نکالتی ہے، بلکہ اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنے کی نیت رکھتی ہے، جس سے دینی امور انجام پاتے ہیں۔
نیز ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ یہ اصحاب نصاب مالدار لوگ اگر ایمانداری سے اپنی صحیح زکوٰۃ نکال ادا کرنے لگ جائیں توزکوٰہ اتنی نکلے کہ  وصولنے والوں کی بے ایمانی  بھی عامۃ المسلمین کی مالداری اور ترقی میں مانع نہیں بن سکتی ہے۔
خدانخواستہ، حاشا و کلا ،وصولنے والے طبقے کی بے ایمانی کو چھوٹ دینا  مقصد نہیں، اگر یہ بے ایمانی نہ ہوتو تو مدارس کا نظام مالیات و خدمات جتنا موجود ہے، اس سے کئی گنا زیادہ مضبوط، عمدہ اور مفید خلائق ہوجائے۔
4: زکوٰۃ ایک لاکھ کروڑ یا بیس لاکھ کروڑ؟
اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی زکوٰۃ بقول مولانا رحمانی کے ایک لاکھ کروڑ ہے یا بیس لاکھ کروڑ؟
اس کی تحقیق و تفتیش کے لئے ہم نے سال جاری کا بجٹ دیکھا، جس میں امسال 2025 میں  28 لاکھ کروڑ کی صرف ٹیکس آمدنی متوقع ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ آمدنی 23 لاکھ کروڑ کی ہوئی تھی، جس کا صرف نصف سال کی آمدنی کے بارے میں حکومت کا کہنا کہ وہ آمدنی اس سے گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
اسی طرح ورلڈ بینک کے سروے اور اعداد کے مطابق بھارتی ' فی کس آمدنی" (Per Catipa Income , PCI یا   Net National Income, NNI) 2800 ڈالرس  سالانہ ہے، جسے ماہرین نے سال 2023 کے لحاظ سے 170000، ایک لاکھ ستر ہزار بیان کیا ہے، یعنی سالانہ اوسطاًایک ہندوستانی اتنے ہی پیسہ کماپاتا ہے۔
- یہی آمدنی اگر امبانی اڈانی جیسے بلینئرس کو ہٹا کر دیکھی جائے تو یہ آمدنی فی کس 2700 ڈالرس ہوجاتی ہے۔
- پھر آگے بڑھ کر اگر اعداد سے ملک کے پانچ فیصد مالداروں کو نکال دیا جائے(ظاہر ہے کہ اس میں دوچار ہی مسلمان ہیں زیادہ تر بس نام کے مسلمان ہیں) تو فی کس آمدنی ہر ہندوستانی کی 1130 ڈالرس رہ جاتی ہے، اگر ان 1130 ڈالرس کو آج کے ڈالرس ریٹ پر بھی بھنایا جائے تو اس کی ہندستانی رقم ایک لاکھ روپے سے زیادہ نہیں بنتی، جو غریب افریقی ممالک کی طرح ہے، اس فہرست میں ہندستان 143 نمبر پر ہے۔
حاصل یہ ہے کہ اوپر کے پانچ فیصد مالداروں کے علاوہ ہندوستانی ہر شخص (بلا تمیز مسلم و غیرمسلم) ایک لاکھ کا اوسط بنتا ہے۔
ورلڈ بینک کی اس رپورٹ سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فی کس شہری کی آمدنی کا کیا حال ہے، پھر ظاہر ہے کہ زکوٰۃ  اوپر شمار کردہ سروے سے خارج تو نہیں، وہ مل ملا کر بھی آمدنی کا حال کچھ خاص تبدیلی کے لائق نہیں بنتا۔
حاصل یہ ہے کہ بیس لاکھ کروڑ تو کجا ؟ہندوستان میں مفلسی کا یہ عالم ہے کہ مالداروں کا مال بھی غریبوں میں تخمیناً جوڑنے کے باوجود بھی یہ غریبی دور نہیں ہوجاتی،اور زکوٰۃ ایک لاکھ کروڑ روپے  نہیں بنتی۔
بیان کی قابل توجہ بات:
مولانا کی اس بات سے مجھے مکمل اتفاق ہے، اور ملت کا ہردرد رکھنے والے کو ہونا چاہئے کہ زکوٰۃ کے اموال سے ایسے حضرات جو بر سرروزگار نہیں انھیں حسب حیثیت و لیاقت کام اور کاروبار پر لگایا جائے۔
یہ ایسا موضوع ہے کہ اس وقت اس پر ملت کے ہر چھوٹے بڑے خیرخواہ کو اپنی اپنی بساط بھر کوشش کرنا چاہئے، مگر کچھ بنیادی نزاکتوں کوسامنے رکھ کرجیسے اولا تو یہی کہ اس تدبیر میں مدارس اور علماء کی حق تلفی نہ ہو، کیونکہ وہ فرد اور نفس (جان) کی ضرورت ہے، اور مدارس اجتماعی اور دین اسلام کی بقائ کا ذریعہ ہیں،ثانیاً یہ کہ یہ کام بھی نہایت خفا اور بلا تشہیر کیا جائے ،ثالثاً بجائے ملکی و بڑے وفاق کے جو حکومت کو نظر آئے ، مقامی طور پرایسے افراد کو اپنی اپنی صلاحیتیں اس میں لگا سکیں جیسے علماء اپنے علم سے ماہرین معاش و اقتصاد اپنی عقل سے اور ارباب مال اپنے مال لگائیں، اور بڑی خاموش سے کام ہو، اس پر اپنے اپنے سطح سے جو کام ہو کرنے کی ضرورت ہے، اور اہل علم کو بھی چاہئے کہ اس فریضہ وقت کی جانب خواص کی توجہ مبذول کرائیں۔
آخر مسلمان کتنی زکوٰۃ نکالتے ہیں؟
معلوم ہوگیا کہ بیس لاکھ کروڑ تو گنتی کی غلطی تھی، چنانچہ اگر ایک لاکھ کروڑ کا نصف یعنی پچاس ہزار کروڑ یا پانچ سو بلین روپے کی زکوٰۃ مان لی جائے تو اس کی اصل مالیت کتنی ہوگی؟ یعنی اجتماعی طور پر مسلمانوں کے پاس کتنا مال ہوتو پچاس ہزار کروڑ زکوٰۃ نکلے گی؟
اسے جوڑنے کا آسان سا فارمولا ہے، زکوٰۃ کسی بھی مال کا ڈھائی فیصد(2.5) ہوتی ہے، اسے اگر 40 سے ضرب دے دیا جائے تو اصل مالیت نکل آئے گی،جیسے:2.5×40 =100 
چنانچہ پچاس ہزار کروڑ کو چالیس سے ضرب دیں تو حاصل ضرب آتا ہے:
بیس لاکھ کروڑ یا بیس ٹرلین ہندستانی روپے 
یعنی مولانا رحمانی صاحب بیس لاکھ کروڑ جسے غلطی سے مجموعہ زکوٰۃ فرمارہے تھے اتنی اصل مالیت ہوتب جاکر پچاس ہزار کروڑ صرف زکوٰۃ نکلے گی اور یہ اس کا آدھا ہے جس کا نتیجہ ایک لاکھ کی اوسط آمدنی کو ایک کروڑ مالداروں کے اوسط پر ضرب کرکے حاصل کیا گیا تھا۔
اگر سال جاری 2025 کے بجٹ پر نظر ڈالیں تو اس سال کل خرچ کا تخمینہ ہی 50 لاکھ کروڑ ہے، 
اور اس سال آمدنی کا تخمینہ 28 لاکھ کروڑ بذریعہ ٹیکس، اور 34 لاکھ کروڑ دورے ذرائع سے متوقع ہے۔
ایسے صورت میں مسلمانوں کے پاس بیس لاکھ کروڑ کی مالیت کے دعوی کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کے ایک تہائی فیصد آمدنی اور ایک تہائی سے زیادہ کا خرچ مسلمانوں کا ہے، 
ظاہر ہے اتنی مالیت کا دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔
مسلمانوں کے پاس نہ ٹاپ کمپنیاں ہیں، نہ ہی خرچ کرنے والے بلینئرس، پھر دس سالوں سے فرقہ پرستوں کا کریک ڈاون ، ان امور کے مدنظرراقم کا تخمینہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی بمشکل شئیر ایک ٍآمد و رفت کا دسواں حصہ ہے۔واللہ اعلم
چنانچہ چھ لاکھ کروڑ بھی مان لیا جائے تو اس کی زکوٰۃ صرف ڈیڑھ ہزار کروڑبنتی ہے، اس میں سے کتنے زکوٰۃنکالتےہیں اور کتنے صحیح مصارف میں خرچ کرتے    ہیں یہ قابل تحقیق ہے۔
لیکن جیسا کہ اپنا خیال عرض کیا کہ مدارس اور علماء کی فکر مالداروں کے متوسط طبقہ کو ہی زیادہ ہے، ورنہ زیادہ اونچے اور ٹاپ مالدار یا تو زکوٰۃ نکالتے نہیں، یا پھر انھوں نے مصارف کے نام پر زکوٰۃ کو اپنے پاس رکھنے کے ظاہری جائز سسٹ یا چور دروازےجیسے ٹرسٹ وغیرہ بنا رکھے ہیں،اور اپنے واجب الاخراج اموال کو وہ گھما پھرا کر اپنے ہی تصرف میں کئے ہوئے ہیں۔ الاماشاء اللہ

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی آمد و خرچ کا صحیح شمارہ نہ تو موجود ہے، اور نہ ہی نکال کر عام کرنے کی ضرورت ہے، البتہ مدارس کی کفالت اور عامۃ المسلین کی معاشی خبرگیری ہونا اسی زکوٰۃ کے مال سے ہے، اگر ان دونوں میں سے کسی ایک پہلو ذرا بھی غفلت اور لاپرواہی برتی گئی تو اس کے نتائج بد اگلی نسلوں کو صدیوں بھگتنے پڑ سکتے ہیں، اس فکر کو ضرور عام کرنے کی ضرورت ہے۔
(تحریر کے حکومتی شمارے حکومتی ویب سائٹ سے لئے گئے ہیں، جوڑنے اور سمجھانے کے لئے اپنے الفاظ و ترجمہ کیا گیا ہے)
آخر میں ہماری مولاے محترم سے عاجزانہ گزارش  ہے کہ ملک کی موجودہ بدترین جبر وفسطائیت کے ماحول میں :آبیل مجھے مار" جیسا کوئی قول یا  عمل حکمت وبصیرت اور عقل ودانش کے خلاف ہے 
دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے 
جوش خطابت کے ساتھ اس کے عواقب ونتائج پر بھی گہری نظر رہے اور ساتھ میں ہوش ودور اندیشی سے بھی برابر استفادہ ہو۔ مدارس اسلامیہ پہلے سے ہی نشانے پر ہیں ایسے میں مسلم کمیونٹی کی مالیات یا زکات سے متعلق کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان مسلم امہ کے گلے کی گھنٹی بن سکتا ہے 
ہمیں امید ہے کہ آئندہ ایسے حساس ونازک مسائل پہ اظہار خیال کرتے ہوئے احتیاط وتیقظ کو ضرور بروئے کار لائیں گے۔

چیٹ جی پی ٹی اور علماء وفضلاء

چیٹ جی پی ٹی اور علماء وفضلاء
چیٹ جی پی ٹی یا ذکاء اصطناعی کی زبان ہی الگ ہوتی ہے ، موجودہ دور میں اس سے استفادہ سے منع کرنے کا حق تو کسی کو نہیں ہے۔ لیکن اس کے منافع کے ساتھ مضار کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ مہذب علمی سرقہ کو شامل ہے۔ واقف کار یا باخبر وصاحبِ بصیرت شخص اس پلیٹ فارم سے تبادلہ آراء کی حد تک تو استفادہ کرسکتا ہے۔
لیکن بعینہ وبلفظہ اس کے طولانی ابحاث اٹھا کر چند سینکنڈوں میں چسپاں کردینا درست نہیں ہے  
ارباب افتاء کو تتبع مسائل میں راست مصادر ومراجع سے استفادہ کرکے تنقیح وتطہیر اور ایک خاص تلخیص وترتیب کے ساتھ قدر ضرورت کچھ رقم کرنا چاہئے ، اگر دینی وشرعی مسائل ودقیق ابحاث کی تلاش وجستجو میں بھی چیٹ جی پی ٹی کی بے ہنگم ترتیب اور معکوس معانی ومفاہیم پر ہی انحصار کو کافی وافی سمجھا جانے لگے۔ 
صرف چند سیکنڈز کے وقفہ سے معمولی رود وبدل کے ساتھ اس کے الفاظ پیسٹ کردینے کو کمال علم وفن سمجھا جانے لگے تو پھر علم وتحقیق اور فقہی مصادر ومراجع کے ان عظیم ذخائر کا کیا بنے گا؟ 
عوام الناس کا وہ عجلت پسند طبقہ جو راست اصل مصادر فقہیہ سے مراجعت کرنے سے عاجز وقاصر ہے وہ اگر چیٹ جی پی ٹی وغیرہ کے الفاظ تک کی کورانہ تقلید کرے تو بات کسی درجے میں بنتی ہے 
لیکن غور وتدبر اور اخذ واستنباط کی صلاحیتوں سے مالا مال عربی داں اور تحقیق آشنا طبقہ علماء وفضلاء بھی اس "ببغاء معلَّم" پر یوں پروانہ وار فدائیت کا مظاہرہ کرنے لگ جائے تو ذرا سوچیں کہ پھر ہمارے پاس کیا بچا؟ 
اپنی سوچ دوسروں پہ تھوپنے کا خبط بحمد اللہ نہیں ہے 
لیکن اس حلقے کے علمی وقار اور میدان تحقیق میں عمر عزیز کھپانے والے فضلاء وفقہاء کی عالمانہ آن بان وشان کے تحفظ کے مقصد سے گزارش یہ ہے کہ اس حلقے میں چیٹ جی پی ٹی وغیرہ کے جوابات بلفظہ چسپاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 
بات دراصل یہ ہے کہ "مفت خوانی" کی خوے بد ہم لوگوں میں ایسی رچ بس گئی ہے کہ معتدل حالات وفرصت کے لمحات میں بھی اپنے الفاظ  واسالیب میں کچھ رقم کرنے کی زحمت سے  عاری وخالی ہوچکے ہیں۔
میری نظر میں یہ طرز عمل اور علماء وفضلاء میں بڑھتا وپنپتا رجحان لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے  
جدید سہولیات سے استفادہ الگ امر ہے 
اس کے الفاظ واسالیب تک پہ مرمٹ ہوجانا امر آخر ہے 
دونوں میں فرق ملحوظ رہنا ضروری ہے 
علماء وفضلاء کو اپنی فکر ونظر اور انشائی وتخلیقی  صلاحیت کو کام میں لاتے ہوئے 
گہرے غور وتدبر کے ساتھ اپنے الفاظ واسلوب میں مضمون یا فقہی وتحقیقی جواب قلمبند کرنا چاہیے 
فقط 
شکیل منصور القاسمی 
مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی ( #ایس_اے_ساگر )
۷

Friday, 28 February 2025

رمضان شریف کا چاند دیکھ کر یا چاند ہونے کی خبر ملنے پر تین مرتبہ سورہ فتح پڑھنا

پورے سال رزق ملنے کے لئے رمضان شریف کا چاند دیکھ کر یا چاند ہونے کی خبر ملنے پر تین مرتبہ سورہ فتح پڑھنا علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ (گنجینۂ اسرار) کے مجربات میں سے ہے، اس لئے پڑھنے میں حرج نہیں، البتہ  یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح رمضان میں کسی خاص عمل کو کرنے کا  شرعی حکم ہے کہ اس کی پابندی کی جائے، لہٰذا اس کے پڑھنے کو لازم نہ سمجھا جائے۔ ( #ایس_اے_ساگر )


Sunday, 16 February 2025

حاجت مندوں کے لئے مجرب عمل

حاجت مندوں کے لئے ایک مجرب عمل
حافظ القرآن و الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ مسجد نبوی شریف میں، گنبد خضریٰ کے سامنے وعظ ارشاد فرما رہے تھے، دوران وعظ فرمایا ایک وظیفہ بتلاتا ہوں جو میرا مجرب ہے، جب بھی کسی چیز کی حاجت پیش آتی ہے تو میں یہ پڑھ لیتا ہوں، اللہ تعالیٰ اتنا عطاء فرماتے ہیں کہ پھر سنبھالا نہیں جاتا، پڑھنے کا طریقہ درج ذیل ہے:
صبح کی نماز کے بعد تین مرتبہ، اور 
مغرب کی نماز کے بعد تین مرتبہ 
اول آخر درود شریف کے ساتھ، ان شآءاللہ چند دنوں میں تمام حاجات پوری ہوتی نظر آئیں گی بشرطیکہ صدق دل اور یقین سے پڑھا جائے،
- اَللّٰهُمَّ مَالِكَ الْملْكِ تُؤتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا تُعْطِيْهِمَا مَنْ تَشَآءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَآءُ ارْحَمْنِيْ رَحْمَةً تُغْنِيْنِيْ  ِبهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ.
روایت میں ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ  پر قرض تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھلاؤں کہ اگر تم پر اُحد پہاڑ جیسا قرض ہو تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادائیگی کا انتظام فرمادیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں درج بالا دعا  پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ (رواہ الطبراني في المعجم الصغير)
2- " تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَیِّ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ الْحَمْدُلِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا."
3- "اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ."
نوٹ: حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے وظیفہ پڑھنے کی اجازت عام ہے،
طالب دعاء مرغوب الرحمن درخواستی ( #ایس_اے_ساگر )

Thursday, 13 February 2025

شب برات اور زیارت قبور کے آداب و احکام

 شب برات اور زیارت قبور کے آداب و احکام

----------------------------------

---------------------------------- 

شب برات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری عمر مبارک میں ایک مرتبہ خاموشی سے جنت البقیع جانا اور مردوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا بعض ضعیف روایت سے ثابت ہے:
عن عائشة قال : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ "أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ." قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ . فَقَالَ "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ."
(ترمذی، الصوم، باب ماجاء فی لیلة نصف الشعبان (۷۳۹)، وابن ماجه (۱۳۸۹)، واحمد (٢٦٥٤٦)، والبیھقی فی شعب الایمان (٣٨٢٤)، والمعجم الاوسط لطبرانی (۱۹۹)، وجمع الجوامع (۱۷۳۷)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر سے) غائب پایا۔ (میں نے تلاش کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ گمان تھا کہ آپ کسی دوسری اہلیہ کے ہاں چلے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان (۱۵ شعبان) کی رات کو آسمانِ دُنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار (لوگوں) کو معاف فرما دیتا ہے۔ (ترمذی، الصوم، باب ماجاء فی لیلة نصف الشعبان (۷۳۹)، وابن ماجه (۱۳۸۹)، واحمد (٢٦٥٤٦)، والبیھقی فی شعب الایمان (٣٨٢٤)، والمعجم الاوسط لطبرانی (۱۹۹)، وجمع الجوامع (۱۷۳۷)
یہ روایت اسنادی حیثیت سے کمزور ہے، مسلم شریف کی ایک صحیح طویل حدیث میں بقیع غرقد جانے کا یہ واقعہ مطلق وارد ہوا ہے، شب برات کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ ترمذی وغیرہ کی روایات مذکورہ کی بنیاد پر شب برات میں عبرت وموعظت کے حصول اور مردوں کے ایصال ثواب کے غرض سے قبرستان جانے کا جواز ثابت تو ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شرعی حیثیت استحباب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ کسی التزام و اہتمام و اجتماعی ہیئت وکیفیت کے بغیر انفرادی طور پر اس رات قبرستان جانا مستحب ہے۔ قبرستان جاکر قبروں سے استمداد، جزع فزع، صاحب قبر کی بیجا تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے:
نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا۔ (طبرانی کبیر: 11653)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس اب تم زیارت کرلیا کرو اور کوئی بیہودہ بات نہ کہا کرو۔ حضرت ابن بُریدہ رضی اللہُ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:
وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا۔(نسائی: 2033)
میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن اب جو زیارت کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے، لیکن(قبروں کی زیارت میں)کوئی بیہودہ بات نہ کہا کرو۔ قبرستان پہنچ کر سب سے پہلے صاحب قبر کے لیے سلامتی کی دعا کی جائے. حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ قبرستان کی جانب نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء پڑھی:
«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ»
تم پر سلامتی ہو اے ایمان والو! اور بیشک ہم بھی تمہارے ساتھ لاحق ہونے والے ہیں۔ (مسلم: 975۔ ترمذی: 1053)
سلامتی کی دعا کے بعد ان کے لئے دعا مغفرت ورحمت کی جائے:
«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللهُ، بِكُمْ لَاحِقُونَ، اَللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ»۔
(سلامتی ہو تم پر اے مومنین! تمہارے پاس وہ چیز آئی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا یعنی ثواب و عذاب کل کو یعنی قیامت کے دن کو تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دی گئی ہے اور یقیناً ہم بھی اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سے ملنے ہی والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد والوں کو بخش دے)۔ (مسلم: 974)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں قیام فرما ہوتے تو (اکثر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصہ میں بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے اور (قبر والوں سے خطاب کرکے یہ دعا فرماتے) مردہ کے پائوں کی طرف سے قبر پہ جائے، سر کی طرف سے داخل نہ ہو، اس سے مردے کو تکلیف ہوتی ہے۔ ایصال ثواب کرتے ہوئے قبر کی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پشت کرکے کھڑا ہو. اور جب دعا کا ارادہ کرے تو قبر کی طرف پشت اور قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو، ہندیہ میں ہے:
ثم يقف مستدبر القبلة مستقبلا لوجه الميت . وإذا أراد الدعاء یقوم مستقبل القبلة مستدبرا لوجه الميت. (هنديه 350/5. كتاب الكراهية)
قبرستان میں بحالت قیام قبلہ رو ہوکر، دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعاء و استغفار کرنا سنت ہے، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے قبرستان بقیع الغرقد میں کھڑے ہوکر، ہاتھ اُٹھاکر تین دفعہ دعاکی:
جاء البقيع فأطال القيام ثم رفع يديه ثلاث مرات. (مسلم. الجنائز. باب الذهاب الى زيارة القبور 1619. نسأيي 2010.)۔
دوسرے رخ پہ اور بیٹھے ہوئے اور بلا ہاتھ اٹھائے ہوئے بھی دعا کرنا جائز ہے۔ اس کے بعد قرآن میں سے جو یاد ہو پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے، عض روایات میں ہے کہ جو شخص قبروں پر سے گزرا اور [قل ھو اللّٰہ احد] گیارہ دفعہ پڑھ کر اس کا ثواب مرُدوں کو پہنچایا، تو اس کو وہاں کے مرُدوں کی تعداد کے برابر اجر ملے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو قبرستان میں داخل ہو ا، اور سورۂ فاتحہ اور اخلاص اور الھاکم التکاثر پڑھا اور کہا کہ اے اللہ! میں نے تیرا جو کلام پڑھا ہے اس کا ثواب قبر والے مؤمن مردوں اور عورتوں کو میں دیتا ہوں تو یہ قبر والے ا للہ کے پاس اس کے حق میں سفارش کریں گے۔ (بہ حوالہ اعلاء السنن: ۸/۲۸۷ تا ۸/۲۸۸) قبرستان جاتے ہوئے قبروں کے درمیان جوتے پہن کر نہ چلے، ہاں اگر باضابطہ راستہ بنا ہوا ہو تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔ قبر پہ ٹیک لگاکے بیٹھے، نہ اسے روندے اور نہ وہاں پیشاب پاخانہ کرے۔ شور وغوغا، جشن وچراغاں اور طوفان ہائو ہو بپا کئے بغیر انفرادی طور پر مذکورہ بالا آداب کی رعایت ولحاظ کے ساتھ شب برات میں قبروں کی زیارت کی اجازت ہے، یہ عمل صرف مستحب کے درجے کا ہے، عوام اسے سنت و واجب نہ سمجھے۔ فقط۔ واللہ اعلم
https://saagartimes.blogspot.com/2025/02/blog-post_38.html


سترہ قائم کرنے کی شرعی حیثیت، اس کی حکمت ومقصد اور اس کی شرعی مقدار؟

سترہ قائم کرنے کی شرعی حیثیت، اس کی حکمت ومقصد اور اس کی شرعی مقدار؟

----------------------------------

---------------------------------- 

حضرات مفتیان عظام سے سوال یہ ہے کہ نمازی نماز ادا کررہا ہوتا ہے اس کے آگے کی صف میں بیٹھا ہوا شخص اپنا ہاتھ چوڑائی میں بطور سترہ کے رکھ لیتا ہے پھر لوگ اس کے آگے سے گزرجاتے ہیں تو کیا اس طرح رکھا ہاتھ سترہ کے قائم مقام ہوجائے گا یا نہیں؟ مدلل جواب مطلوب ہے. دارالافتاء دارالعلوم دیوبند اور بنوری ٹائون کا احقر کے سامنے ہے سوال کا مقصد مزید تنقیح و تحقیق ہے بطور خاص مفتی شکیل منصور قاسمی دامت برکاتہم سے توجہ کی درخواست ہے. حضرت ہاتھ کا کہنی تک کا حصہ سیدھا کھڑا کرکے سترہ بنایا تو اوصاف و شرائط سترہ کے وجود کے سبب اس کے کافی ہونے میں شک نہیں لیکن یہاں سوال چوڑائی میں ٹیڑھا رکھنے کے بارے میں ہے.

الجواب وباللہ التوفیق:

امام اور منفرد کے لئے اتخاذ سترہ سنت ہے. حنفیہ کے یہاں اگر کسی کے گزرنے کا مظنہ نہ ہو تو ترک سترہ کی بھی گنجائش ہے؛ ورنہ مکروہ تنزیہی ہے. سترہ قائم کرنے کی سنیت یا استحباب کا مقصد نمازی کو ذہنی انتشار سے محفوظ رکھنا ہے ۔ جب نفس عمل کی حیثیت سنیت کی ہے تو اس کی تحدید وتنصیب بھی سنیت سے متجاوز نہیں ہوسکتی. سترہ کی اقل مقدار کے بارے میں حدیث میں "مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ" آیا ہے، اور مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ (کجاوے کا پچھلا حصہ) کماً مختلف ہوتا تھا. اس لئے ائمہ میں اس کی تحدید مقدار میں اختلاف ہوا. ائمہ ثلاثہ کے یہاں اس کی کم سے کم مقدار  لمبائی میں ایک ہاتھ اور چورائی میں انگلی کے برابر ہونا مسنون ہے جبکہ حنابلہ کے یہاں بالشت بھر ہونے سے بھی کام چل جائے گا. یہ بھی مسنون ہے کہ اس کیفیت کا حامل سترہ کھڑا ہو. لیکن جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں عرضاً رکھ دینے سے بھی سنیت ادا ہوجائے گی. سترہ قائم کرنا بھی سنت ہے. اور اسے لمبائی میں کھڑا کرنا بھی سنت ہے. جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں ہاتھ بھر لمبی جس چیز سے بھی پردہ کردیا جائے اور نمازی کی توجہ منتشر ہونے سے بچ جائے؛ خواہ قیاماً ہو یا نصباً وہ سترہ کے قائم مقام ہوجائے گی. بعض ائمہ کے یہاں خط کھینچ دینا بھی کافی ہے جس سے مسئلے میں عموم وتوسع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے. اس تفصیل سے اب مسئولہ جزئیہ کا جواب بھی واضح ہے کہ چوڑائی میں ہاتھ رکھنے سے بھی سترہ کی سنیت ادا ہوجائے گی۔ واللہ اعلم 

https://saagartimes.blogspot.com/2025/02/blog-post_13.html


Saturday, 1 February 2025

تیری رضا جو ہو سو ہو

 تیری رضا جو ہو سو ہو 

----------------------------------

---------------------------------- 

خلّاقِ اکبر نے انسان کی طبعیت میں ناپائیدار خواہشات ومتضاد خوابوں کا تعاقب کرنا شامل کردیا ہے، وہ دنیاوی حسن، جمال، دولت، شہرت، مادی آسائش وآرام پاکر بھی مضطرب وبے چین ہی رہتا ہے، انسانی زندگی کی حقیقی خوشی، مسرت وطمانینت اور معنویت دنیاوی آسائشوں ، کامیابیوں اور حصولیابیوں میں نہیں؛ بلکہ روحانی تعلقات کی استواری اور "تسلیم ورضاء" میں مضمر ہے۔ انسان عموماً اپنی ایک حالت پر راضی نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اسے نصیب نہیں ہوئی ہوتی، اور وہ نعمت جو اللہ نے اسے عطا کر رکھی ہوتی ہے، اس کی قدر نہیں کرتا۔ اسلام نے بندہ مومن کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ صبر وتوکل کا پیکر بنا رہے اور رنج وراحت میں بھی اس کا شعار “الحمد للہ” ہونا چاہیے۔ غم ہوکہ خوشی، آسانی وفتوحات کا زمانہ ہو یا ابتلاء وآزمائش اور مشکلات کی گھڑی، وہ ہر دو حالتوں میں اپنے رب کی عطاء ونوازش اور اس کے فیصلے پر راضی رہ کر "الحمدللہ" کہنے کا مزاج بنائے، اس سے حقیقی بندگی کا مزہ پائے گا اور یہی وہ بلند مقام ہے جس تک پہنچنا انسان کے لئے بہ ظاہر مشکل ہوتا ہے؛ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس میں بھی اس کے لیے کوئی بھلائی چھپا رکھی ہوتی ہے۔ انسانی فطرت کی بے قراری،  خواہشات کی نہ ختم ہونے والی دوڑ اور زندگی کی ناپائیداری کو ایک عربی شاعر  عباس محمود العقاد نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ انتہائی مؤثر اور دلکش انداز میں بیان کیا ہے، اشعار اس قابل ہیں کہ انہیں سرمہ بصیرت بنایا جائے اور لوح قلب پہ ثبت کرلیا جائے:

۱: صغيرٌ يطب الكبرَا —-وشيخٌ ودَّ لو صغرا

(چھوٹا بچہ بڑا بننے کی خواہش رکھتا ہے، اور بوڑھا شخص چاہتا ہے کہ کاش وہ پھر سے جوان ہوجاتا) یعنی چھوٹا بچہ بڑا ہونا چاہتا ہے تاکہ خود مختار ہوسکے، اپنی امیدوں اور خوابوں کو پورا کر سکے۔جبکہ بوڑھا شخص حسرت کرتا ہے کہ کاش وقت پیچھے پلٹ جائے تاکہ وہ ان تمناؤں کو پورا کر لے جنہیں وہ حاصل نہ کرسکا۔ (جیسا کہ کہا گیا: ألا ليت الشباب يعود يوماً.. فأخبره بما فعل المشيب. "اے کاش! جوانی ایک دن لوٹ آتی، تاکہ میں اسے بتا سکتا کہ بڑھاپے نے میرے ساتھ کیا کیا!")

۲: وخالٍ يشتهي عملًا —-وذو عمل به ضجرا

(بے روزگار شخص کام کی تمنا کرتا ہے، اور جو کام میں لگا ہوا ہے، وہ اس سے بیزار ہے) یعنی بے روزگار شخص چاہتا ہے کہ اسے کوئی مصروفیت ملے، جبکہ جو شخص مصروف کارگہِ حیات ہے، وہ تھکن اور بوجھ سے تنگ آ چکا ہوتا اور کام سے فراغت کی تمنا کرتا ہے)۔

۳: ورب المال في تعب —-وفي تعب من افتقرا

(مالدار شخص بھی پریشان ہے[چاہے اس کے پاس کوئی اس کا کاروبار سنبھالنے والا ہو، پھر بھی وہ فکرمند اور بے چین ہے] اور جو غریب ہے، وہ بھی تکلیف میں ہے [کیونکہ اس کے پاس ضروریات زندگی کے وسائل نہیں ہیں].

۴: وذو الأولاد مهمومٌ —-وطالبهم قد انفطرا 

(جس کے پاس اولاد ہے، وہ ان کے حال اور مستقبل کی فکر میں مبتلا ہے۔

اور جو اولاد کے لیے ترستا ہے، وہ بھی بے چین ہے)

۵: ويشقى المرءُ منهزمًا ولا يرتاحُ منتصرا

( انسان شکست کھا کر افسردہ ہو جاتا ہے، اور جیت کر بھی سکون نہیں پاتا۔( بلکہ ہفت اقلیم کے حصول کے لئے سرگرداں ( حیران وسرگرداں) رہتا ہے)

۶: ومن فقد الجمال شكي —-وقد يشكو الذي بُهِرا

(جسے حسن نہیں ملا، وہ شکوہ کرتا ہے (آئینہ میں شکل دیکھ کر خوش نہیں ہوتا)  چاہے وہ اپنی ذات کے بارے میں ہو یا اپنی بیوی کے بارے میں) اور جسے حسن ملا، وہ بھی شکایت کرتا ہے(اسے دوسروں کی حسد اور جلن کا سامنا کرنا پڑتا ہے) چاہے وہ خود کا ہو یا اپنی بیوی کا۔

۷: ويبغي المجد في لهفٍ فإن يظفر به فترا

(وہ عظمت اور کامیابی کی شدید خواہش رکھتا ہے، لیکن جب اسے حاصل کر لیتا ہے تو اس سے بیزار ہوجاتا ہے (ناقدری شروع کردیتا اور اپنے کام کی تحقیر شروع کردیتا ہے)

۸: شكاة ما لها حَكمٌ —-سوى الخصمين إن حضرا

(یہ تمام شکایتیں ایسی ہیں جن کا کوئی منصف نہیں، سوائے اس کے کہ دونوں فریق خود موجود ہوں)

۹: فهل حاروا مع الأقدا ر—- أو هم حيَّروا القدرا؟

(تو کیا یہ لوگ تقدیر سے پریشان ہیں، یا انہوں نے خود تقدیر کو حیران کردیا ہے؟)

حیاتِ انسانی مستقل "تغیّر" کا نام ہے، یہاں احوال کو نہیں؛ صرف "تغیرات" کو دوام واستقلال ہے۔ رات کی تاریکیوں سے  نورسحر پھوٹتا اور آفتاب عالم تاب کی  ضوفشانیوں کے بعد گُھپ اندھیری رات ڈیرہ ڈال دیتی ہے، غم ہو یا خوشی عسر ہو یا یسر! سارے احوال فانی ہیں، بندہ مومن کو اس فلسفہ تغیرات کو سمجھتے ہوئے اچھی وبُری ہر حالت میں تسلیم وتوکل  کے ساتھ مستانہ وار یہ گنگناتے رہنا چاہیے:

درپہ ہوں تیرے آکھڑا 

کیا کہوں بس خاموش ہوں 

شاہ بنا   گدا بنا 

تیری رضا جو ہو سو ہو 

(ہفتہ 2؍ شعبان المعظم 1446ھ یکم ؍ فروری 2025ء) ( #ایس_اے_ساگر) 

https://saagartimes.blogspot.com/2025/02/blog-post.html



اسلامی معاشرہ کا ایک بھولا سبق (قسط نمبر 2)

 اسلامی معاشرہ کا ایک بھولا سبق (قسط نمبر 2) 

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ [النساء: 36].

اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ (اچھا برتاؤ رکھو)

معزز قارئین، اس آیت مبارکہ میں والدین اقرباء اور رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کے بھی مستقل حقوق بیان کیے گئے ہیں- ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر ہمارا پڑوسی بھوکا ہے تو ہم اسے اپنے کھانے میں شریک کریں، اگر وہ بیمار ہے تو اس کی عیادت و تیمارداری کریں، اگر وہ کسی آفت و مصیبت کا شکار ہے یا کسی رنج و غم میں مبتلا ہے تو ہم اس کا دست و بازو بن کر اس کے رنج وغم کا مداوا کریں لیکن آج ہمارا مسلم معاشرہ اس اسلامی معاشرہ کے سبق سے اتنا غافل ہوچکا ہے کہ ایک طرف تو ایک مسلمان بھائی پوری فیملی کے ساتھ بھوکا سونے پر مجبور ہے کیونکہ گھر پر ایک روٹی کے آٹے تک بندوست نہیں ہے- دوسری طرف پورا محلہ اور گاؤں روایتی بے سود جلسوں اور پروگراموں اور مہنگی شادیوں میں مگن ہے. جی. یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حال ہی میں گھٹی ایک سچی گھٹنا ہے. اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک عالم دین کی ویڈیو کال آئ جو حالات اور تنگدستی سے پریشان ہوکر خودکشی کرنے پر مجبور تھا- ان سطور کے قلم بند کرنے کا واحد مقصد امت کے اہل خیر حضرات کی توجہ اس پہلو کی طرف مبذول کرنا ہے جس کی امر کی واضح تعلیمات آپ علیہ السلام بار بار امت کے سامنے بیان فرمائی- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں ہمسایہ اور پڑوسی کے حقوق کی اہمیت اس طرح فرمائی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پڑوسیوں کے یہاں تک حقوق بیان کئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے- (مسنداحمد: 20350)

پڑوسی کی اقسام:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پڑوسی کی تین اقسام ہیں: (1) وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہوتا ہے (2 ) وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں (3) وہ پڑوسی جس کے تین حق ہوتے ہیں۔بعد ازاں خود نبی کریم ﷺ نے ان تینوں اقسام کے حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حق ہیں:حقِ پڑوس، حقِ اسلام اور رشتہ داری کا حق۔مسلمان پڑوسی کے دو حق ہیں: حقِ پڑوس اور حقِ اسلام۔ مشرک پڑوسی کا صرف ایک حق ہے: اورہ وہ ہے حقِ پڑوس۔(شعب الایمان، باب فی اکرام الجار: 9113)

پڑوسی کے حقوق کی اختصار کے ساتھ تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو، اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو، اگر وہ بدحال ہو تو اس کی پردہ پوشی کرو، اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارکباد دو، اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو، اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر: ج 19، ص 419) 

اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کی:میرے دو پڑوسی ہیں، ان میں سے ایک میرے دروازے کے سامنے رہتا ہے اور دوسرا کچھ دور، بعض اوقات میرے پاس موجود چیز اتنی ہوتی ہے کہ دونوں کو دینے کی گنجائش نہیں ہوتی، لہٰذا ان دونوں میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے سامنے ہے- (صحیح بخاری: 2595)۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربہ زیادہ کرے، پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے (المعجم الاوسط: 3615)۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پیٹ بھرکر رات گزارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے. (المعجم الکبیر: 751) ۔

 جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے. (صحیح مسلم: 165)

اللہ تعالیٰ ہم کو اس بھولے سبق پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے 

آمیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــن يارب العالمیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــن

مُحَمَّد عَارِف دَهٗلَوِى٘ (02/02/25)  ( #ایس_اے_ساگر )

https://saagartimes.blogspot.com/2025/02/2.html



Friday, 31 January 2025

اسلامی معاشرہ کا ایک بھولا سبق

اسلامی معاشرہ کا ایک بھولا سبق
 وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (32)
ترجمہ: اور تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں  کو نگاہیں جھکاکر رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا، اب اس آیت میں شرم گاہوں کی حفاظت کا ایک پاکیزہ طریقہ بیان کیا جارہا ہے، تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں، خواہ مرد ہوں یا عورتیں، کنوارے یا غیر کنوارے (یعنی شادی شدہ تھے لیکن پھر طلاق یا موت ہوگئی) اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں  میں سے جو نیک ہیں  ان کے نکاح کردو۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تین شخصوں  کی اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔ جن میں ایک پارسائی کے ارادے سے نکاح کرنے والا ہے۔ (ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی المجاہد والناکح والمکاتب۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۷، الحدیث: ۱۶۶۱)
معزز قارئین، اس وقت ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار خواتین ہیں، جن کو کم عمری ہی میں طلاق ہوجاتی ہے یا شوہر کے وفات پاجانے کی وجہ سے ان پر بیوہ کا ٹائٹل لگ جاتا ہے، بلا شبہ ایسی ستم زدہ اور تقدیر کی ماری خواتین ہر محلہ، گاؤں اور علاقے میں بکثرت پائ جاتی ہیں جو یا تو سسرال ہی میں یا پھر میکے میں بڑے درد و الم کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، والدین لاکھوں جتن کرکے تو بڑے آسرے اور امنگوں کے ساتھ  بیٹی کو وداع کرتے ہیں لیکن چند سال بعد پھر جب یہ نا ختم ہونے والا درد آگھیرتا ہے تو ستم بالائے ستم ہمارا معاشرہ جلے پر نمک چھڑکنے سے نہیں چوکتا ہے۔
محترم قارئین، ایسی دکھیاری اور غمزدہ خواتین کا ایک ایک منٹ ہزاروں سال کے برابر گزرتا ہے۔ وہ گھٹ گھٹ کر اپنے آنسوؤں کو پی کر زندگی گزارتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کی مایوس اور تاریک زندگیوں میں ایک نئی امید پیدا کرکےخوشیاں بھری جائیں۔
اولا تو یہ ہونا یہ چاہئے کہ جو حضرات اس کی استعداد رکھتے ہیں وہ آگے بڑھیں اور شرعی طریقے سے ایسی خواتین کا ہاتھ تھام کر انہیں نئی زندگی کی شروعات کا موقع فراہم کریں۔ حدیث میں ہے کہ من تمسك بسنتي عند فساد أمتي، فله أجر مائة شهيد (رواه الطبراني)
ترجمہ: جس شخص نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت پر عمل کیا تو اس کے لئے سو شہید کا ثواب ہے۔
آپ علیہ السلام نے اپنے سارے نکاح ایسی ہی  بیوہ یا مطلقہ عورتوں سے فرمائے سوائے ایک کے اور معاشرہ میں ایسی خواتین کا قد بڑھاکر امہات المؤمنین کے لقب سے سرفراز فرمایا۔
اگر ہم خود اس کی قدرت اور استطاعت نہیں رکھتے تو پھر اس حدیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بچولیا کا کردار ادا کرکے ایسی بے سہاراؤں کا سہار بن کر ان کی دعائیں لیں: من دل على خير، فله أجر فاعله. (رواه مسلم)
ترجمہ:جس نے بھلائی کا راستہ دکھایا تو اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ اس کے کرنے والے کو ملتا ہے۔
نوٹ: کئی کارگزاریاں حال ہی میں بڑی تکلیف دہ اس بابت سنیں (تفصیلات کو طوالت کی بنا پر ترک کردیا ہے) اسی وجہ سے مذکورہ بالا چند سطور لکھی گئی ہیں کیونکہ مطلقہ یا بیوہ کی کفالت اور گزربسر کا کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا بالآخر یا تو وہ گداگری کا شکار ہوجاتی ہیں یا پھر ان کو قوم کی زکوٰۃ و صدقات پر نربھر رہنا پڑتا ہے بہت سی دکھیاری بہنیں تو مجبوراً غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
اللہم احفظنا منہ
آمیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــن يارب العالمیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــن (بقلم: مُحَمَّد عَارِف دَهٗلَوِى٘) (31/01/25) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2025/01/blog-post_31.html

Thursday, 30 January 2025

محبت کا معیار

محبت کا معیار

مرد کو اپنی بیوی سے اور عورت کو اپنے شوہر سے کتنی محبت ہونی چاہئے- الله تعالی نے انسان کو انسانی صفات، عادات و اخلاق پر ڈھالا ہے۔ جس کو جبلت و فطرت بھی کہتے ہیں، جس پر انسان کو ڈھالا جائے اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا، کہاوت ہے: 

"جبل گردد جبلت نگردد"

ان صفات و عادات میں سے ایک "محبت" ہے۔ الله تعالی نے محبت کرنے کا جذبہ، صلاحیت، استعداد ہر انسان کے دل میں رکھی ہے۔ وہ اپنے دل کا کھچاؤ ضرور کسی کی طرف محسوس کرتا ہے۔

محبت گناہ نہیں:

اور محبت کرنا گناہ نہیں ہیں، ہاں اسباب گناہ ہوسکتے ہیں۔ طور طریق گناہ ہوسکتا ہے لیکن کسی پر دل آجانا برا نہیں، کسی کے حسن و جمال، کمال و منال پر فریفتہ ہونا گناہ نہیں۔ "ولو اعجبک حسنھن" ہم نے اپنے بڑوں سے یہ شعر سنا ہے:

گر سمجھو تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

محبت میں انسان مجبور ہے

پھر محبت اضطراری ہے کہ یہ تو دل کا کام ہے، 

"بسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجہ ہے"

اور دل پر کس کا زور چلتا ہے؟ نہ چاہتے ہوئے بھی دل کسی پر مر مٹتا ہے، کسی پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتا ہے، دل کا سودا کرکے سودائی ہوجاتا ہے۔ اس سودائی سے کوئی پوچھے کہ تم یہ کر کیا رہے ہو؟ کس پیچ و تاب میں ہو ؟تو جواب اس کا یہی ہوتا ہے: 

محبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتی

یہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکا یا نہیں جاتا

محبت کسے کہتے ہیں:

بعض چیزیں دقیق و غامض ہوتی ہی اس لیے ان کی تعریف دشوار ہوجاتی ہیں، بعض چیری عیاں، روشن واضح ترین بلکہ ابدہ البدیہیات ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کی تعریف دشوار ہوجاتی ہے۔ علم کی کئی تعریفیں کی گئی ہیں آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے۔ حتی کہ بعضوں نے تو اسے ناقابل تعریف قرار دے دیا۔ محبت بھی اسی قسم میں سے ہے۔ کسی نے کہا:

"میل القلب الی الشیئ لتصور کمال فیہ" [العینی] 

یعنی دل کا کسی چیز پر آجانا اس کے اندر موجود کسی کمال کی وجہ سے۔

المیل الی مایوافق المحب [النووی]

محبوب کے موافق و پسندیدہ چیز کی طرف میلان کا نام محبت ہے، کسی نے کہا: بھلی، خوشگوار لگنے والی چیز کی طرف دل کا جھکاؤ۔ کسی نے کہا: محض محبوب کی خواہش کے پیش نظر اپنی خواہش کو پیروں تلے روند دینا۔ تقی صاحب فرماتے ہیں:

محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہوجانا

متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا

کسی نے کچھ کہا ہے اور کسی نے کچھ۔ اس مقام کے مناسب، سپر ڈال دینا ہے، یہ ایک بدیہی چیز ہے، جیسے انسان پیٹ میں بھوک محسوس کرتا ہے، وہ اپنے دل میں محبت بھی محسوس کرتا ہے اس کو تعریف کرکے سمجھایا نہیں جاسکتا۔ بقول شاعر: 

محبت اصل میں "مخمورؔ" وہ رازِ حقیقت ہے

سمجھ میں آگیا ہے پھر بھی سمجھایا نہیں جاتا

محبت کی کئی قسمیں کی گئی ہیں؛ لغوی عرفی اختیاری اضطراری عشقی ایمانی، حقیقی مجازی ہوسکتا ہے تعریف میں اس اعتبار سے فرق ہو، یا ہوسکتا ہے  ابتداءو انتہاء کا فرق ہو،

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا 

آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا

جیسے انتہاء پر پہچنے کے بعد کوئی عاشق کہہ اٹھتا ہے " بخدا میرا سر قلم ہونے سے بچ جائے اور حضرت نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کو ایک کانٹا بھی چبھے مجھے یہ بھی گوارا نہیں" 

کسی شاعر نے کہا ہے: 

من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری [امیر خسرو دہلوی]

میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔  نبی کی چاہت میں یہی مطلوب ہے کہ انسان ہر چیز/ ہر شخص کی محبت پر نبی کی محبت کو بڑھا دے والد اور اولاد کی محبت سے بھی حتی کہ اپنے آپ سے بھی زیادہ نبی کی محبت ہو۔ [بخآری]

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ اور ان جیسے دوسرے عاشقان رسول نے ایسا کرکے بتایا وہ ایک جان دو قالب تھے، ان کی وہی خواہشات، جذبات و پسند نا پسند تھیں جو نبی کی تھی۔

أَنا مَن أَهوى وَمَن أَهوى أَنا

نَحنُ روحانِ حَلَنا بَدَنا

میاں بیوی کی محبت:

آج کل جب محبت، پیار، عشق بولا جاتا ہے تو عورت کی مرد سے اور مرد کی عورت سے عشق ہی مراد لیا جاتا ہے، معاشرے میں اسے بہت بڑا درجہ دے دیا گیا ہے جو نہ سرحدیں دیکھتا ہے نہ حدیں، نہ رنگ و نسل دیکھتا ہے نہ تہذیب و کلچر، نہ دھرم دیکھتا ہے نہ مذہب، کہا جاتا ہے محبت اور پیار سب سے اوپر ہے، پیار اندھا ہوتا ہے، محبت کا کوئی مذہب نہیں یہ مذہب سے بالاتر ہے. [العیاذ بالله]

حضرت نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جب یہ کہا تھا کہ میری محبت سب سے زیادہ ہونی چاہیے تو فرمایا تھا والدین سے ["والد" بمعنی من له الولد]، اولاد سے بھی اور تمام لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے۔ "زوجہ" کا ذکر صراحتا نہیں کیا بلکہ اسے "والناس اجمعین" کے ضمن میں بیان کیا۔ اور سورۂ توبہ میں الله تعالی ارشاد فرماتے ہیں (اے رسول !) آپ کہہ دیجئے، اگر تمہارے باپ دادا۔ تمہاری اولاد، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، مال و اسباب جن کو تم نے حاصل کیا ہے، (تمہاری) تجارت جس کے بیٹھ جانے کا تمہیں ڈر لگارہتا ہے اور وہ رہائش گاہیں جنھیں تم پسند کرتے ہو، اگر تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہوں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ جاری کردیں، اور اللہ نافرمانی کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتے۔ اس فرمان میں بھی بیوی کی محبت کو باپ دادا، اولاد اور بھائیوں کے بعد رکھا ہے۔ میرا مقصود بیوی سے محبت کی نفی نہیں ہے بس درجات کا تعین ہے، آخر زمانے میں لوگ بیوی کی محبت میں بیوی کو ماں سے زیادہ ترجیح دینے لگے گیں، مقصد اس کی روک تھام ہے، غلو سے اور اس سلسلے میں ہونے والی خطاووں سے محافظت ہے۔ فی نفسہ میاں بیوی کی محبت تو ان کی فطرت اور گٹھی میں ہے، الله تعالی ارشاد فرماتے ہیں: اسی کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے جوڑے (بیویاں) بنادیئے؛ تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان پائیدار محبت اور ہمدردی پیدا کردی. [سورۂ روم: ۲۰]

الله تعالی نے انسانوں کے فائدے کے لیے بیویاں بنائی، سوچو اگر اس دنیا میں صرف مرد ہی مرد ہوتے عورتوں کا نام و نشان نہ ہوتا تو دنیا کتنی بے رونق ہوتی، دنیا کی سرسبز و شادابی اور خوش نمائی بے رنگ ہوجاتی، زندگی بدمزہ بے ڈھنگ ہوتی۔ اور وہ فائدہ یہ ہے کہ مرد عورت کے پاس جاکر بیٹھے اس سے باتیں کرے اس سے لذت حاصل کرے اور سکون پائے، سکون پانے کے لیے آسانی ہو اس لیے ان دونوں میں پائیدار محبت اور ایک دوسرے کی طرف جھکاؤ و میلان رکھا اور شفقت و ہمدردی بھی۔ اگر محبت نہ ہو تو آدمی اس سے بچے ہونے کی وجہ سے یا اس کی ضرورت ہونے کی وجہ یا اس کے ساتھ کافی عرصہ ساتھ گزارنے کی وجہ سے اس سے مہربانی کا معاملہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے ہمدردی بھی رکھی گئی۔ یہ محبت میاں بیوی کی عموما "نکاح" سے وجود میں آتی ہے، الله تعالی نے نکاح کو بنایا ہی ایسی چیز ہے کہ ایک لفظ ہی سے دو پرائے اشخاص ایک دوسرے کے لیے شیر وشکر ہوجاتے ہیں۔ حضرت نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: 

"لم تر للمتحابين مثل النكاح۔" 

"تم دو محبت کرنے والوں کے لئے نکاح کی طرح کوئی چیز نہیں پاؤگے۔"  مطلب یہ ہے کہ نکاح کے ذریعہ جس طرح خاوند اور بیوی کے درمیان بغیر کسی قرابت کے بے پناہ محبت والفت پیدا ہو جاتی ہے، اس طرح کا کوئی تعلق ایسا نہیں ہے جو دو شخصوں کے درمیان جو ایک دوسرے کے لئے بالکل اجنبی ہوں، اس درجہ کی محبت والفت پیدا کردے۔ یا مطلب یہ ہے کہ مرد کسی پر فریفتہ ہوگیا تو اس فریفتگی اور محبت کا بقا نکاح سے بہتر کسی چیز میں نہیں۔ رسول اللہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے بہترین مشعلِ راہ ہے، آں حضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات اور خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہایت محبت رکھتے تھے اور یہ تمام صحابہ کو معلوم تھا، چنانچہ لوگ قصدًا اسی روز  ہدیے اور تحفے بھیجتے تھے جس روز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام کی باری ہوتی۔ [بخآری]

اسی محبت کی وجہ سے آپ اپنے زندگی کے ایام حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنھا کے پاس گزارنا چاہتے تھے، اسی وجہ سے آپ ان کی عزت افزائی کرتے اور کبھی "یاموفقہ" فرماتے کبھی فرماتے "جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت ہے اسی طرح عائشہ کو تمام عورتوں پر فضیلت ہے [شمائل ترمذی] کبھی فرماتے: 

"أنا لك كأبي زرع لأم زرع" 

میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے ابو زرع ام زرع کے لیے۔ کبھی بیوی کی محبت یا شوہر کی محبت حد سے بڑھ جاتی ہے جو اس کے لیے دینی یا دنیاوی ذمہ داریوں میں مخل ہوتی ہے یا مضر ہوتی ہے ایسی محبت نہیں ہونے چاہیے، کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے یا یہ محبت سے برے یا غلط کام پر آمادہ کرے۔ ایسی خبریں بسا اوقات کانوں سے ٹکراتی ہیں کہ کسی مرد/عورت کو اس کے محبوب نے چھوڑ دیا تو وہ دماغی مریض ہوگیا یا نشےکی لت اختیار کرلی یا کام کاج سے بیٹھ کر دین و دنیا سے بے گانا ہوگیا یا خود کشی کرلی بلکہ بعض ناسمجھ بچیوں کادین تک چھوڑنے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ کسی کی محبت کو اتنا غالب نہیں ہونے دینا چاہیے کہ وہ اپنا یا اپنے دین کا ہی نقصان کر بیٹھے۔ ہمارے اکابر اگر یہ دیکھتے کہ وہ بیوی کی محبت کی وجہ سے دینی کاموں میں عبادت و ریاضت میں کوتاہی کررہا ہے تو اسے طلاق دینے کا حکم دیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کا واقعہ آپ کو معلوم ہوگا، نہایت حکیم اور مدبر شخص تھے جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا بیٹا عبدالله (رضی الله تعالی عنہ) نکاح کے بعد اپنی بیوی سے اس قدر لگاؤ کر رکھا ہے کہ عبادت و مجاہدت میں مخل ہوگا تو انھوں نے طلاق دینے کا حکم دیا- حضرت عبدالله رضی الله تعالی عنہ بھی پریشان کہ کیا کریں۔ انھوں نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے الله کے رسول! ابا تو طلاق دینے کا کہہ رہے ہیں؟ کیا کروں؟ تو آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ابا کا کہا مانو۔ پھر جب دوسری مرتبہ حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ طلاق دینے کہا تو فورا طلاق دے دی، بعد میں بیٹے نے کہا کہ وہ تو فی الحال حائضہ ہے (میں نے اس لیے پہلے نہیں کہا کہ کہیں آپ اسے طلاق نہ دینے کا بہانا نہ سمجھ لیں) ابا نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے استفسار کیا، آپ نے رجوع کرکے پھر ایسے طہر میں طلاق دینے کہا جس میں بیٹے نے بہو سے ہم بستری نہ کی ہو، اور چاہو تو نکاح میں روک بھی سکتے ہو، آپ نے اختیار بھی دیا۔ بہرحال انھوں نے رجوع کیا پھر طلاق نہیں دی کیوں کہ ایک مرتبہ طلاق دینے کے بعد اب پہلے جیسی شدید محبت باقی نہیں رہی تھی۔

مطالبہ حقوق کا ہے محبت کا نہیں:

 جیسا کہ آپ حضرات جان چکے ہیں، دل پر کسی کا زور نہیں چلتا- دل بے قابو ہیں، محبت غیر اختیاری ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مردوں سے بھی مطالبہ ادایئگئ حقوق کا ہے اور عورتوں سے بھی، آپ قرآن و حدیث پڑھو گے اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ بیوی سے محبت کرو، محبت پر دائم رہو یا محبت بڑھاؤ بلکہ دونوں کو کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو، اس لیے کہ اگر کوئی مرد کہے کہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے، آپ کے بنا جینا ادھورا ہے، زندگی فضول ہے، زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہے اور حقوق ادا نہیں کرتا نہ اخراجات پورے دیتا ہے نہ خبر گیری کرتا ہے تو یہ زبانی جمع خرچی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت یہ کہے آپ میرے سرتاج ہو جان ہی نہیں جان جہاں ہو، تمہارے بنا میں جی تو کجا مر بھی نہیں سکتی، میرے رگ و ریشہ تمہاری محبت میں سرشار ہے لیکن شوہر کے حقوق ادا نہیں کرتی نہ اطاعت کرتی ہے نہ تعظیم تو یہ صرف زبانی ڈھکوسلے اور دغا بازی ہے۔ شاعر کہتا ہے: 

لو كان حبك صادقـاً لأطعتـه

إن المحب لمن يحب مطيـع

اگر تو محبت میں سچی ہوتی تو میری اطاعت کرتی، اس لئے کہ محب جس سے محبت کرتا ہے اس کی اطاعت ضرور کرتا ہے۔

(محمد یحیی بن عبدالحفیظ)

https://saagartimes.blogspot.com/2025/01/blog-post_30.html



Monday, 27 January 2025

بدن سے نکلنے والے خون کے ناقض وضوء ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں ائمہ کرام کے نقطہاے نظر

بدن سے نکلنے والے خون کے ناقض وضوء ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں ائمہ کرام کے نقطہاے نظر
----------------------------------
----------------------------------
مفتی صاحب، ایک سوال درپیش ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب ابو لولو فیروز نے زہریلا خنجر مارا تو آپ نے کہا اکلنی کلب درآں حالیکہ آپ نماز میں تھے توکیا اس سے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کی نماز فاسد ہوگئی؟
 2: اسی طرح اسی طرح حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صحابہ کو پہرہ دینے کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ چنانچہ ان میں سے ایک صحابی آرام فرما تھے اور ایک صحابی پہرا دیتے، انھوں نے نماز شروع کردی، دشمن نے ایک تیر پھینکا، وہ ان کو لگا۔ پھر ایک مرتبہ تیر پھینکا تو انھوں نے اس کو توڑ دیا اس عمل سےان کے جسم سے خون تو بہا ہوگا، اس حالت میں انہوں نے نماز مختصر کردی۔ کیا اس سے ان کی نماز ہوگئی یا نمازفاسد ہوگئی؟
مدلل جواب عنایت فرمادیں۔
بہت شکریہ
ایک طالبہ ہفتم عربی
الجواب وبالله التوفيق والسداد 
لما طُعن سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه في صلاة الفجر وسال الدم من جسده قطع صلوته وخرج منها واستناب واستخلف عبدالرحمن بن عوف فتقدم لإتمام الصلاة مع المسلمين وصلى بالناس خفيفة وأتمها،وبعد ما انتهت الصلاة قال عمر لابن عباس انظر من قتلني؟ فجال ساعة ثم جاء فقال غلام المغيرة ….. جاء التصريح عنه في صحيح البخاري "وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَدْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ , فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَلَاةً خَفِيفَةً فَلَمَّا انْصَرَفُوا ، قَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِي" إلخ….( صحيح البخاري 3700) 
فقول عمر "قتلني أو أكلني الكلب " كان بعد ما قطع صلوته بوجود ما يوجب الحدث في الصلاة.لا أنه قال هذه الكلمة وهو في الصلاة، فلاإشكال!

وأما مسألة وجوب الوضوء من الدم الخارج من الجسد من غير السبيلين فمما اختلفت فيه آراء الفقهاء المتبوعين.
فالسادة الحنفية جعلت سيلان الدم من الجروح ناقضاً، ولم ينقض به المالكية والشافعيّة 
بينما الحنابلة فرقت بين القليل والكثير على ماهو المعتمد في المذهب.
والقائلون بعدم النقض من دم خارج من غير السبيلين يحتجون بروايات عديدة ، منها عمل عباد بن بشر الأنصاري: 
”أن النبي ﷺ نزل الشِّعب فقال: من يحرسنا الليلة؟ فقام رجل من المهاجرين ورجل من الأنصار فباتا بِفَم الشِّعب، فاقتسما الليلة للحراسة، وقام الأنصاري يصلي، فجاء رجل من العدو فرمى الأنصاري بسهم فأصابه فنزعه، واستمر في صلاته، ثم رماه بثان، فصنع كذلك، ثم رماه بثالث، فنزعه وركع وسجد، وقضى صلاته، ثم أيقظ رفيقه، فلما رأى ما به من الدماء قال له: لم لا أنبهتني أول ما رمى؟ قال: كنت في سورة فأحببت أن لا أقطعها۔ (سنن أبي داود كتاب الطهارة - باب الوضوء من الدم 198، صحيح ابن خزيمة 36, صحيح ابن حبان 1096)
فاستمراره في الصلاة بعد خروج الدم من الجرح يفيد أن الدم الخارج من الجسد لاينقض، والنبي صلى الله عليه وسلم كان مطلعاً عليه ومع ذالك لم يأمره بالوضوء ولا إعادة الصلاة، ولو كان الدم ناقضا لبين له ولمن معه في تلك الغزوة. 

وأما القائلون بانتقاض الوضوء من دم سائل فيستدلون بروايات كثيرة، من أصحّها: 
ما أخرجه أبو داود والترمذي، والنسائي عن حسين المعلم عن يحيى بن أبي كثير حدثني الأوزاعي عن يعيش بن الوليد المخذومي عن أبيه عن معدان بن أبي طلحة عن أبي الدرداء {أن النبي صلى الله عليه وسلم قاء فتوضأ، فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فذكرت ذلك له ، فقال: صدق، أنا صببت له وضوءه} (جامع الترمذي - 87، سنن أبي داود - 2381، صحيح ابن خزيمة - 1956، صحيح ابن حبان - 1097)
قال الترمذي: هو أصح شيء في هذا الباب . ورواه الحاكم في "المستدرك " وقال: صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه
وقوله - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: «الوضوء من كل دم سائل» أخرجه الدارقطني في "سننه " 
وقوله - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: «من قاء أو رعف في صلاته فلينصرف وليتوضأ وليبن على صلاته ما لم يتكلم» ( نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية للإمام الزيلعي 93/1، البناية في شرح الهداية لبدر الدين العيني 263/1)

وقال الخطابي أكثر الفقهاء على انتقاض الوضوء بسيلان الدم وهذا أقوى إلى الاتباع.( المصدر السابق)
والله أعلم بالصواب 
الجواب وبالله التوفيق والسداد
جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فجر کی نماز میں خنجر مارا گیا اور ان کے جسم سے خون بہنے لگا تو انہوں نے اپنی نماز ترک کر دی اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کردیا۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز مکمل کی۔ جب نماز ختم ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: "دیکھو، مجھے کس نے قتل کیا؟" ابن عباس تھوڑی دیر کے لیے گئے اور آکر کہا: غلام مغیرہ۔
اس واقعہ کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے:
"اور مسجد کی اطراف میں لوگ یہ نہیں جانتے تھے، سوائے اس کے کہ انہوں نے عمر کی آواز کو غائب پایا، اور وہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہہ رہے تھے۔ عبدالرحمن نے ان کے ساتھ مختصر نماز مکمل کی، پھر جب وہ فارغ ہوئے تو کہا: اے ابن عباس! دیکھو مجھے کس نے قتل کیا۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر 3700)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا “قتلنی أو أکلنی الکلب” (مجھے کتے نے مار ڈالا یا کھالیا) نماز کے دوران نہیں بلکہ نماز کو ترک کرنے کے بعد تھا، کیونکہ نماز میں حدث (وضو توڑنے والی چیز) پایا گیا۔ لہٰذا اس میں کوئی اشکال نہیں۔ جہاں تک جسم کے کسی حصے سے خون بہنے پر وضو کے ٹوٹنے کے مسئلے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے:
 1. حنفیہ: خون کا بہنا وضو توڑ دیتا ہے۔
 2. مالکیہ اور شافعیہ: اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
 3. حنابلہ: خون کی مقدار پر فرق کرتے ہیں، تھوڑے خون سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن زیادہ سے ٹوٹ جاتا ہے۔
وضو نہ ٹوٹنے کے قائلین کے دلائل:
 1. عباد بن بشر انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قیام پذیر تھے۔ ایک مہاجر اور ایک انصاری پہرہ دینے کے لئے مقرر ہوئے۔ انصاری رضی اللہ عنہ نماز میں مشغول ہوگئے۔ ایک دشمن نے ان پر تیر مارا جو لگ گیا، لیکن وہ تیر نکال کر نماز جاری رکھتے رہے۔ پھر دوسرا اور تیسرا تیر لگا، لیکن انھوں نے وہ نماز مکمل کرنے کے بعد ہی اپنے ساتھی کو جگایا۔" (سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من الدم، حدیث 198)
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم سے خون بہنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
وضو ٹوٹنے کے قائلین کے دلائل:
 1. حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی روایت: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو وضو کیا۔" (جامع الترمذی، حدیث 87؛ سنن ابی داود، حدیث 2381)
 2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "ہر بہنے والے خون سے وضو کرو۔" (سنن دارقطنی)
 3. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: "جو شخص نماز میں قے یا نکسیر (رعاف) کرے، وہ وضو کرے اور بغیر بات کئے نماز مکمل کرے۔" (نصب الرایہ، جلد 1، صفحہ 93)
خطابی رحمہ اللہ نے کہا کہ اکثر فقہاء کے نزدیک خون بہنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور یہی اتباع کے زیادہ قریب ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
٢٥/ رجب سنة ١٤٤٦هجرية  ( #ایس_اے_ساگر) 
https://saagartimes.blogspot.com/2025/01/blog-post_27.html