Saturday, 23 January 2021

سیاست کا کیا مطلب ہے؟

سیاست کا کیا مطلب ہے؟

لغت میں سیاست کے معنیٰ: 

حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔

اصطلاح میں: فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔

قرآن میں سیاست کے معنی: حاکم کا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا اور رشوت وغیرہ کو ممنوع قرار دینا ہے' دین اسلام کو اپنی اصل روح میں بھرپور طریقے سے نافذ کرنا۔

حدیث میں سیاست کے معنی: عدل و انصاف و فلاحی معاشرے کا قیام' اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔

فلسفہ کی نظر میں: فلسفہ کے نزدیک فن حکومت، اجتماعی زندگی کا سلیقہ، صحیح اخلاق کی ترویج وغیرہ سیاست ہے۔

چوں کہ انسان خود بخود مندرجہ بالا امور سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا،لہٰذا کسی ایسے قانون کی ضرورت ہے جو انسانوں کو بہترین زندگی کا سلیقہ سکھائے، جس کو دین کہتے ہیں۔

اسلام میں سیاست اس فعل اور عمل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح کے قریب اور فساد سے دور ہوجائیں۔ اہل مغرب فنِ حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کا نظم ونسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہا جاتا ہے۔

اسلام دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور دین کا مفہوم تقریباً ہی سیاست کے بنتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت ،ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام' چوٹی کے آصحاب الرسول' اہل بیت العظام اور اولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ  اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا  اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ  اِنَّ اللّٰہَ  اصۡطَفٰٮہُ عَلَیۡکُمۡ وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ  وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۷﴾ سورہ البقرۃ آیت نمبر 247

ترجمہ: اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ: اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ کہنے لگے: بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا: اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

ہُوَ الَّذِیۡۤ  اَرۡسَلَ  رَسُوۡلَہٗ  بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ  لِیُظۡہِرَہٗ  عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ  شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾ سورہ الفتح آیت نمبر 28

ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے۔ اور (اس کی) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے۔  آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

ان آیات سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست کے لئے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیار قرار دیتے ہیں ،سیاستدان کے لئے ذاتی طور پر ”دولت مند“ ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اسے عالم باعمل اور شجاع (دلیر) ہونا چاہئے۔

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

(شاعرِمشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ)

مرادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم' خلیفۂ الراشد الثانی امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہٗ کا دورِخلافت کرۂ ارض پر عالمِ انسانیت کے لئے ایک بہترین فلاحی اور اصلاحی حکومت کا نمونہ تھا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سیاست کو اگر دینِ حق سے جُدا کردیا جائے تو سیاست کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل دُنیائے سیاست کا ہے۔ ۔۔۔!

ایک دفعہ خلیفۂ الثانئ الاسلام' امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہٗ مسجد نبوی ﷺ میں منبرِ رسول اللہ ﷺ پر کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ: "اے عمر! ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہیں بتاؤگے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ دُگنا ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا تمہارے حصّے میں ملا تھا وہ اس سے آدھا تھا"۔ تو سیّدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہٗ نے کہا کہ: "کیا اس مجمع میں میرا بیٹا عبدالله ابنِ عمر موجود ہے؟ "۔ چنانچہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہٗ کھڑے ہوتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہٗ نے پوچھا کہ بیٹا بتاؤ کہ: "تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے؟ ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں قیامت تک اس مبارک منبر پر نہیں چڑھوں گا۔" سیدنا عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا  کہ: "بابا کے حِصّہ میں جو کپڑا ملا تھا وہ ناکافی تھا کہ حِصّہ بقدرِجُثّہ آپ کا پورا جسم ڈھانپ سکے جبکہ آپ کے پاس پہلے سے پہنا ہوا جو لباس تھا وہ بھی بہت حد درجہ کا خستہ حال ہوچکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنے حِصّے کا کپڑا اپنے والد گرامی کو دے دیا تاکہ آپ پورا لباس زیب تن کرسکیں."

ابن سعد اپنے طبقات میں یہ واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ: "لوگ ایک دن امیرالمؤمنین سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز (باندی) کا گزر ہوا۔ اُن لوگوں میں سے بعض کہنے لگے یہ باندی امیرالمؤمنین کی ہے۔ آپ (حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہٗ) نے سنتے ہی یہ فرمایا کہ: "امیرالمؤمنین کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ اللہ جل جلالہٗ کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لئے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے"۔

اپنے دورخلافت میں جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہٗ کسی شخص کو بطورِگورنر یا عاملِ حکومت تقرری کرکے کسی خطے میں بھیجتے تو یہ شرائط بتادیتے کہ:

"1- ترکی گھوڑے پر کبھی سوار نہیں ہونا؛

2۔ عمدہ کھانا کبھی نہ کھانا؛

3۔ باریک یا ریشمی کپڑا کبھی نہ پہننا اور؛

4۔ حاجت مندوں کی داد رسی کرتے رہنا۔"

اگر کسی گورنر یا عمالِ حکومت کو ان شرائط کی پاسداری کرتے نہ پاتے تو احتساب کرتے اور سزائیں دیتے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/01/blog-post.html



Wednesday, 16 December 2020

مرنے کے بعد انسان پر کیا گزرتی ہے؟

مرنے کے بعد انسان پر کیا گزرتی ہے؟
مرنے کے فوراً بعد انسانی دماغ کی سرگرمی اچانک بڑھتی ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے بالکل ختم ہوجاتی ہے. یعنی حیاتیاتی نقطہ نظر سے جب کوئی انسان مرجاتا ہے تو اس کے مادّی جسم پر کیا گزرتی ہے.
سیکنڈوں کے بعد:
مرنے کے فوراً بعد انسانی دماغ کی سرگرمی اچانک بڑھتی ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے بالکل ختم ہوجاتی ہے۔
مرنے کے ساتھ ہی جسمانی درجہ حرارت 1.6 ڈگری فیرن ہائیٹ (0.89 ڈگری سینٹی گریڈ) فی گھنٹہ کی شرح سے کم ہونے لگتا ہے؛ یہاں تک کہ وہ اردگرد کے درجہ حرارت جتنا ہوجاتا ہے۔
منٹوں کے بعد:
آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی خلیات مرنے لگتے ہیں اور ان میں ٹوٹنے پھوٹنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان خلیوں کے اندر بند مواد خارج ہونے لگتا ہے۔
گھنٹوں کے بعد:
پٹھوں میں کیلشیم جمع ہونے لگتا ہے جس کے باعث لاش اکڑ کر سخت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ یہ کیفیت مرنے کے تقریباً 36 گھنٹے بعد تک برقرار رہتی ہے۔
اس کے بعد جب پٹھے ایک بار پھر سے نرم پڑتے ہیں تو جسم میں باقی رہ جانے والے فضلہ جات (پیشاب اور پاخانہ) بھی خارج ہوجاتے ہیں۔
رگوں میں خون کا بہاؤ رُک جانے کی وجہ سے کششِ ثقل اس خون کو نیچے کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ نتیجتاً سرخ و سفید رنگت والی جلد پیلی پڑجاتی ہے اور اس پر جگہ جگہ سرخ دھبے نمایاں دکھائی دینے لگتے ہیں۔
بتدریج خشک ہونے کی وجہ سے کھال سکڑ جاتی ہے جس کے باعث یوں دکھائی دیتا ہے جیسے مُردے کے ناخن اور بال کچھ لمبے ہوگئے ہوں (حالانکہ اصل میں ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ صرف کھال کے سکڑ جانے کی وجہ سے ایسا صرف محسوس ہوتا ہے)۔
دنوں کے بعد:
مرنے کے ایک سے دو دن بعد ہی مُردے کے جسم سے شدید ناگوار بدبو اُٹھنے لگتی ہے کیونکہ اس دوران گلتے سڑتے جسم سے بدبو پیدا کرنے والے مرکبات کی بڑی مقدار خارج ہورہی ہوتی ہے۔
گلنے سڑنے کے اسی عمل میں جسم اعضاء پر بیکٹیریا (جراثیم)، خامروں سے مدد لیتے ہوئے دھاوا بول دیتے ہیں اور انہیں ہڑپ کرکے ختم کرنے لگتے ہیں۔ اس وجہ سے مُردے کے جسم میں (اندر اور باہر کی طرف) سبز رنگت خاصی نمایاں ہوجاتی ہے۔
ہفتوں کے بعد:
لاش کے کیڑے مُردہ جسم پر بسیرا کرلیتے ہیں اور نرم جسمانی بافتوں کا 60 فیصد حصہ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر کھاکر ہضم کرجاتے ہیں۔
مُردے کے بال بھی ایک سے دو ہفتے میں جھڑنے لگتے ہیں۔
لاش کو گلانے سڑانے والے جراثیم اپنا کام جاری رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں مرنے کے لگ بھگ تین ہفتے بعد مُردے کی رنگت جامنی پڑجاتی ہے۔
مہینوں کے بعد:
اگر مُردہ جسم کے ارد گرد ماحول کا درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری فیرن ہائیٹ (10 ڈگری سینٹی گریڈ) رہے تو جسم کے سارے نرم حصے (سافٹ ٹشوز) صرف چار مہینوں میں گلنے سڑنے کے بعد مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں؛ اور یوں ہڈیوں پر مشتمل مُردے کا ڈھانچہ ہی باقی رہتا ہے۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں نیچر، جرنل آف کرمنل لا اینڈ کرمنالوجی، مائیکروبائیالوجی ٹوڈے، برٹش میڈیکل جرنل اور آسٹریلین میوزیم کی ویب سائٹس پر دستیاب معلومات سے مدد لی گئی ہے۔ 
https://saagartimes.blogspot.com/2020/12/blog-post_16.html
:: نقلہ: #ایس_اے_ساگر

Tuesday, 8 December 2020

اسلام میں فعل خلاف فطرت کا کیا حکم ہے؟

اسلام میں فعل خلاف فطرت کا کیا حکم ہے؟
جنسی بے اعتدالی کی اس سے بھی بدترین شکل لواطت اور استلذاذ بالمثل ہے۔ یہ نہایت خلاف فطرت اور اسلام کی نگاہ میں مبغوض اور قبیح فعل ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر محض اسی وجہ سے سخت بھیانک اور عبرت ناک عذاب نازل ہوا، زمین پر پتھر کی سخت بارش ہوئی اور اس کی سطح پلٹ کررکھ دی گئی۔ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ چار اشخاص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی صبح وشام اللہ کی غضب اور ناخوشنودی کی حالت میں ہوتی ہے، ان میں ایک اس فعل کا مرتکب بھی ہے۔
اس جرم کی شناعت کی وجہ سے فقہاء مضطرب ہیں کہ آخر ایسے مجرم کو کیا سزادی جائے؟ بعض کہتے ہیں کہ پہاڑ سے گراکرہلاک کردیا جائے، بعض زانی کی سزا جاری کرنے کے قائل ہیں، بعض قتل کے اور بعض قاضی کی صوابدید پررکھتے ہیں۔
 حضرت علیؓ کی ایماء پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غیرشادی شدہ لوطی پر زانی کی سزا سو کوڑے جاری کرائی ہے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردینے کی ہدایت فرمائی ہے اور اکثر فقہاء کا رجحان اسی طرف ہے کہ ایسے مجرم کو قتل کردیا جائے۔ البتہ یہ ’’تعزیر‘‘ کے قبیل سے ہے اور تعزیر میں عدالت کو حالات وواقعات کے اعتبار سے کم وزیادتی کا حق حاصل ہوتا ہے۔
جن اقوام میں یہ برائی عام ہے ان کو خود قدرت جان لیوا اور عبرت ناک امراض کی صورت میں جیتے جی بھیانک سزادے رہی ہے اور آخرت کی پکڑ اس سے سوا ہے کہ ’’ان بطش ربک لشدید‘‘
جانوروں سے تکمیل ہوس:
ایسے ہی قبیح افعال میں جانوروں کے ذریعہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین ہے اور واقعہ ہے کہ یہ ایسا عمل ہے کہ اس پر حیوانیت اور بہمیت کی جبین حیا بھی عرق آلود ہے… آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے شخص اور خود جانوردونوں کو قتل کردو۔ فقہاء نے گواس فرمان کو شدت وتوبیخ پر محمول کیا اور ازراہ تعزیر عادی مجرم کے لئے قتل کی گنجائش رکھی ہے تاہم ایسا شخص قابل سرزنش ہے اس پر اتفاق ہے۔جانور بھی ذبح کردیا جائے گا اور زندہ ومردہ اس سے کوئی نفع نہیں اُٹھایا جائے گا۔ بعض روایات میں جانور ذبح کے بعد جلادینے کا بھی ذکر ہے لیکن ایسا کرنا واجب نہیں۔ کیونکہ اصل مقصود یہ ہے کہ برائی کے نشان کو باقی نہ رہنے دیاجائے کہ ایسا نہ کیا جائے تو انگشت نمائی ہوگی، برائی کا ذکر پھیلے گا اور اس سے خود ایک برائی کی طرف ذہن انسانی منتقل ہوگا۔
جنسی بے راہ روی کا سدباب:
 شریعت نے ناجائز چیزکو روکنے اور عفت وعصمت کی حفاظت کے لئے اور شرم وحیا کی بقا کے لئے مختلف تدبیر یں کی ہیں۔ جن میں سب سے اول تو نکاح ہے لیکن اس کے علاوہ بعض اور احتیاطی تدبیریں بھی کی گئی ہیں، ان میں بدنگاہی کی ممانعت اور استیذان خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بدنگاہی آنکھوں کا زنا ہے۔ ارشاد ہوا کہ شرم گاہ کے ذریعہ تو آخری درجہ کی تصدیق ہوتی ہے ورنہ آنکھیں، ہاتھ، پائوں اور زبان یہ سب زنا کرتے ہیں، یعنی اس فعل زنا میں معاون ہیں۔ اس لئے کہ برائی کااولین خیال یہی نگاہ دل میں پیداکرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم فرمایا کہ اپنی نگاہوں کو پست رکھیں’’قل للمومنین یغضوامن ابصارھم‘‘ یہی حکم مسلمان عورتوں کو بھی دیا گیا کہ نگاہیں پست رکھیں اور اپنی زیبائش اور آرائش کا اظہار نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ کو شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر قراردیا ہے۔
عورتیں اگر بضرورت گھر سے باہرنکلیں تب بھی ان کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ تبرج اور آرائش کا اظہار نہ کریں، عام گزرگاہ سے بچ کر کنارے چلاکریں، مسجد میں آئیں تو ان کی صف سب سے آخری ہو، گفتگو ایسی نہ کریں جس میں لوچ ہو۔آواز میں شیرینی اور جاذبیت نہ ہو جس سے اجنبی مردوں کا دل ان کی طرف کھنچے۔اجنبی مرد وعورت کا تخلیہ نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اس میں تیسرا شیطان ہوتا ہے ’’لایخلون رجل بامرأۃ الاکان ثالثھما الشیطان‘‘ اصل میں یہ ساری قدغنیں اسی لئے ہیں کہ آخری درجہ کی برائی بیک خیال نہیں آتی، یہ زہر بتدریج پروان چڑھتاہے، پہلے نگاہیں ملتی ہیں ،پھر نگاہ کا تیردل میں اترتا ہے اور دل میں آگ سلگتی ہے پھر اول زبان دامن حیا کو تار تار کرتی ہے اور اپنا مدعائے ہوس رکھتی ہیں، پھر تنہائی اور ماحول کا اختلاط اس فتنہ کی آنچ کو اور تیز کرتا ہے، زیبائش و آرائش کا اظہار، جاہلانہ تبرج اور زبان کی حلاوت اس آتش فتنہ کو اور سلگاتی اور بڑھاتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ نوبت یہاں تک آپہنچتی ہے کہ انسان آخری درجہ کی برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے، جب انسان بالخصوص عورت کے جسم سے ایک بار حیا کی چادراترتی ہے تو پھر اس کا آشفتہ ہوس اور وارفتۂ نفس بدن کبھی اس چادر کو اوڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ کل جس کی نگاہ اٹھتے ہوئے شرماتی تھی اور جس کو زبان کھولنے میں بھی حجاب آتا تھا۔ آج اسے رقص گاہوں میں تھرکنے اور ناچنے اور محفلوں میں اپنے مدح سرائوں کے سازدل کو چھیڑنے اور تارنفس کو بجانے میں لطف آنے لگتا ہے۔ اسی لئے شریعت اسلامی اس فتنہ کے آغاز ہی پر روک لگاتی ہے اور اس فتنہ چنگاری کو سلگنے اور شعلہ و آتش بننے کی اجازت نہیں دیتی۔
جنسی بے راہ روی ہی کی ایک صورت جلق اور استمناء بالید کی ہے، اسلام کی نگاہ میں انسان کا پوراوجود اور اس کی تمام ترصلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں، قدرت نے ان کو ایک خاص مقصد کے تحت جنم دیا ہے جو شخص جسم کے کسی حصہ کا غلط استعمال کرتا ہے وہ دراصل خدا کی امانت میں خیانت اور خلق اللہ میں من چاہے تغیر کا مرتکب ہوتا ہے۔ انسان کے اندر جو جنسی قوت اور مادئہ منویہ رکھا گیا ہے وہ بھی بے مقصد اور بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس سے نسل انسانی کی افزائش اور بڑھوتری مقصود ہے اور اس قسم کا عمل چاہے جلق و استمناء بالید ہو یا اغلام بازی یا خود اپنی بیوی سے لواطت، اس مقصد کے عین مغائر اور اس سے متصادم ہے۔
اس لئے یہ عمل بھی ممنوع اور حرام ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے شخص کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن توجہ نہیں فرمائیں گے۔ ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ایسے شخص پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت بھیجی ہے۔ اس کی حرمت پر سورۃ المومنون کی آیت ۵ تا ۷ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جس میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے دوہی راستوں کی تحدید کردی گئی ہے، ایک بیوی، دوسرے لونڈی، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک تیسری صورت ہے، فقہاء احناف نے اسے قابل تعزیر جرم قراردیا ہے۔  
 قضاء شہوت کی نیت سے ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں، ہاں اگر شہوت کا غلبہ ہو، زنا سے بچنے اور شہوت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرنے کے لئے ایسا عمل کیا جائے تو لکھتے ہیں کہ امید ہے کہ اس پر وبال اور عذاب نہ ہوگا، چنانچہ ایسے حالات میں حضرت ابن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، مجاہدؒ، حسن بصریؒ وغیرہ سے اس کا جواز نقل کیا گیا ہے۔ اسی ضرورت کے ذیل میں علاج اور میڈیکل جانچ کی غرض سے مادئہ منویہ کا نکالنا بھی ہے، تاہم ان سب کا تعلق اتفاق سے ہے۔ عادتاً تو کسی بھی طرح اجازت نہ دی جائے گی کہ یہ نہ صرف اخلاق کو متأثر کرتا ہے اور فطرت سے بغاوت کے مترادف ہے بلکہ صحت انسانی کے لئے بھی سخت مضر ہے۔ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ (شمارہ 479) 
---------------------------------
قرآن پا ک میں ہے وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اس آیت کے تحت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہر ی میں لکھا ہے کہ آیت خود دلیل ہے مشت زنی کے حرام ہونے پر۔ پھر ابن جریج کا قول نقل کیا کہ انھوں نے حضرت عطاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکروہ بتایا اور پھر فرمایا میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اورحضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عذاب دیں گے جو اپنے ذَکر کے ساتھ کھیل کرتے تھے۔ ارو ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ناکح الید ملعون یعنی مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔ ہاں اگر کوئی زنا میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ رکھتا ہے تو زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کرلے تو امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (ملاحظہ فرمائیں تفسیر مظہری، ج: 5، ص:۳6۵) اور در مختار)
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
---------------------------------
کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق مشت زنی اور خود لذتی حرام ہے۔
اول: قرآن مجید سے دلائل:
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: امام شافعی  اور ان کی موافقت کرنے والے علمائے کرام نے ہاتھ سے منی خارج کرنے کے عمل کو اس آیت سے حرام قرار دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ اور وہ لوگ جو اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں [5] ما سوائے اپنی بیویوں  کے یا لونڈیوں کے جن کے وہ مالک ہیں۔ [المؤمنون: 5، 6]
امام شافعی کتاب النکاح میں لکھتے ہیں: "جب  مومنوں کی صفت یہ بیان کر دی گئی کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کہیں  استعمال نہیں کرتے، اس سے ان کے علاوہ کہیں بھی شرمگاہ کا استعمال حرام ہوگا۔۔۔ پھر اللہ تعالی نے اسی بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا: فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ چنانچہ جو شخص ان کے علاوہ کوئی اور راستہ تلاش کرے تو وہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 7] اس لیے مردانہ عضوِ خاص کو صرف بیوی اور لونڈی  میں ہی استعمال کیا جاسکتا ہے، اس لیے مشت زنی حلال نہیں ہے، واللہ اعلم" ماخوذ: امام شافعی کی "کتاب الام"
کچھ اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان سے بھی خود لذتی کو حرام قرار دیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ اور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ اس وقت تک عفت اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کردے[النور: 33] لہذا عفت اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شادی کے علاوہ ہر قسم کی جنسی تسکین سے صبر کریں۔
دوم: احادیث نبویہ سے خودلذتی کے دلائل:
علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کی روایت کو دلیل بنایا کہ جس میں ہے کہ: "ہم نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  تھے اور ہمارے پلے کچھ نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے شادی  کی ضروریات [شادی کے اخراجات اور جماع کی قوت] رکھتا ہے وہ شادی کرلے؛ کیونکہ یہ نظروں کو جھکانے والی ہے اور شرمگاہ کو تحفظ دینے والی ہے، اور جس کے پاس استطاعت نہ ہو تو وہ روزے لازمی رکھے، یہ اس کیلیے توڑ ہے [یعنی حرام میں واقع ہونے سے رکاوٹ بن جائے گا])" بخاری: (5066)
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں  روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی حالانکہ روزہ رکھنا مشکل کام ہے، لیکن آپ نے خود لذتی کی اجازت نہیں دی، حالانکہ خود لذتی روزے کی بہ نسبت ممکنہ آسان حل ہے اور ایسی صورت میں فوری حل بھی ہے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔ :: نقلہ: #ایس_اے_ساگر
https://saagartimes.blogspot.com/2020/12/blog-post.html

ایپ BURSE سے روپیہ کمانے کا تفصیل حکم

ایپ BURSE  سے روپیہ کمانے کا تفصیل حکم

آج کل BURSE نامی ایک ایپ رائج ہے، جس سے عام مسلمان، خصوصا نوجوان طبقہ، جانے انجانے میں روپیہ کما رہا ہے، 
اس ایپ کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ اس ایپ میں آرڈر کی شکل میں صرف خریداری کا نظام ہے، حقیقت میں خریداری نہیں ہے، حقیقت جس کی یہ ہے کہ اس ایپ کو اوپن کرنے کے بعد صرف یہ چیزیں شو ہوتی ہے، گنگن، کوکر، ورزش کی مشین اور دو، چار قسم کی فریج ۔۔۔۔ اور ہرایک کے نیچے آرڈر کا بٹن ہوتا ہے، آرڈر کے بٹن پر ٹاسک کرنے کے بعد ریٹرن کا بٹن نمودار ہوتا ہے، پھر ریٹرن کے بٹن پر ٹاسک کرنا ہوتا ہے، یہ ایک مرتبہ کا عمل ہوا
اس طرح یومیہ کم از کم تیس مرتبہ کرنا ہوتا ہے، اگر اس سے کم ٹاسک ہوئے تو وہ نفع کا مستحق نہیں ہوگا
اس ایپ میں چار مرحلے ہیں

(1) کچھ بھی روپیہ جمع کئے بغیر ۱۰۰ روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر آرڈر دینا ہوتا ہے، پھر اس آرڈر کو ریٹرن کرنا ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں صارف کا وہ اکاؤنٹ جو ایپ میں ہے، اس میں نفع کے نام سے معمولی روپیہ جمع ہوتا ہے، پھر صارف اگر چاہے تو نفع کے عنوان سے دئیے گئے ان روپیوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرسکتا ہے۔

(2)  ۵۰۰ روپیہ جمع کرکے ۵۰۰ روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے،
 اس مرحلہ میں اول کے مقابلہ میں نفع کے نام سے کچھ زیادہ روپیہ جمع ہوتا ہے
(3)  ۵۵۰۰ روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے، جس میں سے ۵۰۰ روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے، پھر اس میں بھی ۵۰۰۰ روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں نمبر دو سے، زائد روپیہ نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے
(4) اکتیس ھزار روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے، جس میں سے ایک ھزار روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے، پھر اس میں تیس ھزار روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر بھی سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں درجہء سوم کے مقابلہ میں زیادہ روپیہ، نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے
پھر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اول مرحلے کا صارف نمبر دوم، سوم اور چہارم کی چیز پر آرڈر کرنا کا عمل کرنا چاہے، تو نہیں کرسکتا، اس کے سامنے ان تین آپشن میں سے کوئی آپشن کھلیگا ہی نہیں، اسی طرح نمبر دو والے کے لئے تیسرا اور سوم مرحلہ  والے کے لئے چوتھا آپشن کھلے گا ہی نہیں، جب تک کہ ایپ کی طرف سے متعین کردہ مخصوص رقم جمع نہ کروائے اور ممبرشپ کے عنوان سے متعین کردہ رقم نہ کٹوائے، 
زیادہ نفع کا حصول ۔۔۔۔
پھر اگر کوئی صارف زیادہ روپیہ حاصل کرنا چاہے تو آگے کسی کو ممبرشپ دے سکتا ہے، ممبرشب کی وجہ سے اس کو مزید روپیہ ملیگا، پھر نمبر دو کا ممبر یہ ممبرشپ آگے منتقل کرے گا اور دوم نمبر والا ممبر کمپنی کے اپنے اکاؤنٹ میں ریچارج کرے گا تو اس کی وجہ سے دوم نمبر والے کو تو نفع ملے گا ہی، ساتھ نمبر اول والے کو بھی نفع ملے گا، اگرچہ درجہء سوم کے ممبر کو اول درجہ کا ممبر جانتا اور پہچانتا نہ ہو، اس تیسرے ممبر کی وجہ سے اول کو دوم کے مقابلہ میں کم روپیہ ملے گا، لیکن ملے گا ضرور۔۔۔ اسی طرح یہ سلسلہ اور کڑی نیچے کی طرف چلتی رہے گی، اور نیچے کے ممبران کے ریچارج کرنے کی صورت میں اوپر کے تمام ممبران کو ایپ کی طرف سے متعین کردہ تناسب کے حساب سے ہرایک کو کمیشن ملتا رہے گا۔
واضح رہے کہ یہ ممبرشب لازمی نہیں ہے، اختیاری ہے، لیکن زیادہ روپیہ کمانے کے چکر میں تقریبا ہر صارف ممبر زیادہ بنانے کی فکر میں رہتا ہے
یہ نفع کس وجہ سے آتا ہے؟
اس کے متعلق ایپ کے ڈائریکٹر سے بذریعہء واٹس ایپ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ آپ نے ہماری تجارت کو فروغ دینے میں اشیاء کا اشتہار کیا، یہ اس اشتہار کی اجرت ہے، جو ہم آپ کو دے رہے ہیں۔
ہم نے اس کی مصنوعات کی تفصیل جاننا چاہی، تو اس نے ایماژون کا حوالہ دیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایپ ایماژون کی اشیاء کا اشتہار کررہا ہے، لیکن بسیار تحقیق کے باوجود اس بات کا واضح  ثبوت نہیں مل سکا کہ یہ ایپ ایماژون کے ساتھ کنیکٹ ہے۔
صارفین اور خود کی تحقیق سے مذکورہ بالا طریقہ اور سسٹم کا علم ہوا ہے۔
 شرعی لحاظ سے اس میں شریک ہونا اور اس سے روپیہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب و باللہ التوفیق
حامدا و مصلیا و مسلما:
اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ اگر واقعی طریقہء کار یہی ہے جو اوپر سوال میں مذکور ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ  غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عقد اجارہ کے ساتھ ہے، لیکن اجارہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں۔
اول یہ کہ اس میں معقود علیہ بقول اس کے اشتہار ہے اگر واقعی اشتہار ہی مقصود ہے تو اولا عام طور اشتہار  کے لئے کوئی رقم جمع کروانا ضروری نہیں ہوتا، اشتہار کے لئے اصل چیز محنت و عمل ہے،  بغیر رقم جمع کروائے بھی اشتہار کا عمل ہوسکتا ہے، بلکہ رقم جمع نہ کرنے کی صورت میں مشتہرین کی تعداد میں کئی گنہ اضافہ ہوگا۔
اور اگر رقم جمع کرنا ضروری ہی ہے تو سو روپیہ والے کو پانچسو روپیہ کی چیز کا، اسی طرح پانچسو روپیہ والے کو پانچ ھزار والی چیز کا اور پانچ ھزار روپیہ والے کو تیس ھزار روپیہ والی چیز کا اشتہار کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا ؟ جبکہ اس صورت میں رقم جمع  کروانے کے مقابلے میں اشتہار  زیادہ ہوگا، لیکن صورتحال ایسی نہیں ہے،
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایپ والے کو اشتہار مقصود نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع کرنا مقصود ہے، اسی وجہ سے اس نے ممبرشپ کا بھی  نظام چلا رکھا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا جاسکے، اس سے اشتہار کا معقود علیہ نہ ہونا متعین ہوگیا، جب معقود علیہ ہی متعین نہیں تو شرعی لحاظ سے یہ اجارہ فاسد ہے۔
      مزید یہ کہ یہ اجارہ مشروط ہے..ایپ والے کو پانچسو روپیہ، یا پانچ ھزار روپیہ یا تیس ھزار روپیہ بطور قرض دینے کے ساتھ۔۔۔ اگر یہ رقم جمع نہیں کی گئی تو اشتہار کا عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تو یہاں ایک ہی معاملہ میں دو معاملے ایک ساتھ ہو رہے ہیں، *اجارہ اور قرض*،  اور نبئ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک معاملہ کے ساتھ دوسرا معاملہ کرنے سے منع فرمایا ہے ( یعنی دو معاملے ایک ساتھ کرنے سے۔)
عن أبي هریرۃ رضي اللّٰہ عنه قال: نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن بیعتین في بیعة۔ (سنن الترمذي ۱؍۲۳۳)
عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنه قال: نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم عن صفقتین في صفقة واحدۃ۔
(المسند لإمام أحمد ۱؍۳۹۸ رقم:۳۷۸۲)
اور صارف کے پاس سے جو رقم جمع کروائی جارہی ہے، اس کے متعلق ڈپاژٹ کی تاویل اس وجہ سے درست نہیں کہ ڈپاژٹ کا حصول، سکیوریٹی کی غرض سے ہوتا ہے اور یہاں ایپ والے کے لئے سکوریٹی کی کوئی ضرورت نہیں، اس لئے کہ صارف، ایپ والے کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، کنجی تو اسی کے قبضہ میں ہے، پھر سکیوریٹی کا کیا مطلب؟ بلکہ اس کے برعکس ایپ کی طرف سے صارف کو سکیوریٹی کی ضرورت ہے کہ صارف نے شرائط کے مطابق تیس ٹاسک پورے کئے، اس کے باوجود ایپ نے اس کی اجرت نہیں دی تو اب صارف اجرت کہاں سے وصول کرے؟ وصول کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں، اگر ڈپاژٹ دیا ہوا ہوتا تو اس میں سے وصول کرنا ممکن تھا، اس تفصیل سے پیشگی جمع کردہ رقم کے متعلق ڈپاژٹ کا نہ ہونا متعین ہوگیا، اس رقم کا قرض ہونا متعین ہے اور اجرت کے نام سے جو روپیہ آرہا ہے، وہ قرض کے بالمقابل ہے، جو سود ہے، حرام ہے۔
    دوم یہ کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کن چیزوں کا اشتہار کروارہے ہیں؟ تو اس نے ایماژون کا حوالہ دے دیا، جبکہ ایماژون کی اشیاء، پس پردہ ہیں، اس لئے کہ اس ایپ میں مذکورہ چار، پانچ چیزوں کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آتی کہ جس کا اشتہار کیا جائے
تو یہاں جس چیز کا اشتہار کروایا جارہا ہے وہ تو پس پردہ ہے، جس کا صارف کو بھی علم نہیں اور یہ غیر متعین ہے، پس  یہ بھی مفسد عقد ہے
اور اگر نفس ٹاسک کو ہی عمل قرار دیا جائے، بایں طور کہ صارف کے لئے صرف ٹاسک کرنے کا عمل ہو، قطع نظر اس سے کہ اس کا ٹاسک، کس چیز کے اشتہار کے ساتھ لنک ہے؟ تو یہ بھی درست نہیں، اس لئے کہ ممکن ہے کہ صارف کا یہ ٹاسک، کسی ناجائز چیز، مثلا تصاویر، فحش، شراب، بینک، ٹی وی یا مردار کے گوشت وغیرہ ناجائز چیز کے ساتھ لنک ہو،اور اس کا اشتہار صارف سے کروایا جارہا ہو، اور ناجائز چیز کا اشتہار  بنص قطعی حرام ہے
ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان (القرآن الکریم)
(وفی البدائع) و منھا بیان محل المنفعة حتی لو قال آجرتك احدی ھاتین الدارین او احد ھذین العبدین او قال استاجرت احد ھذین الصانعین لم یصح العقد لان المعقود علیه مجھول لجہالة محله جہالة مفضیة الی المنازعة فتمنع صحة العقد
(بدائع الصنائع ۴/۲۵ و الفقه الاسلامی و ادلته ۴/۵۳۰)
و فی شرح المجلة:- النوع الثانی، تعیین الماجور (۲/۴۲۰)
سوم یہ کہ ممبرسازی کا نظام بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اصل مقصود زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع کرنا ہے اور نیچے کے ممبران کے توسط سے اوپر کے تمام ممبران کو انھیں کے روپیوں سے کم و بیش کمیشن دینا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف روپیوں کی ہیرا پھیری ہے
خود پھنسو اور دوسروں کو بھی پھنساؤ۔۔۔۔یہ اسکیم معلوم ہورہی ہے
پھر اس رقم سے کون سا  کاروبار کیا جاتا ہے؟ یہ بھی واضح نہیں،
 اس  لیے یہ بظاہر غرر، دھوکہ، قمار اور  سودی لین دین ہی کی ایک شکل معلوم ہو رہی  ہے۔  
 حلال کمائی کے لیے کسی بھی ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو، ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
شعب الإيمان (2/ 434):
"عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ".
ترجمہ: آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کونسی ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: آدمی کا  خود اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔
شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (7/ 2112):
اس لئے مسلمان کے لئے،بحیثیت مسلمان ہونے کے اس ایپ میں شامل ہوکر اس سے منافع حاصل کرنا اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینا اب تک کی تحقیق کے مطابق جائز نہیں۔
اگر کسی نے منافع حاصل کرلئے ہیں تو وہ ایپ میں واپس کردئیے جائیں۔
اگر واپسی کی کوئی صورت نہ ہو تو مستحق زکاة کو دے دئیے جائیں 
فقط واللہ اعلم بالصواب و علمه احکم و اتم
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا و ازقنا اجتنابه۔۔
--------------------------------------------
حررہ وکتبه:- العبد محمد اسماعیل پالن پوری (ماہی)
مدرس و مفتی دارالعلوم چھاپی، شمالی گجرات
۱۸ ربیع الثانی ۱۴۴۲ ھجری
4 دسمبر سن عیسوی 2020
------------------------------
الجواب صحیح
مفتی اسامہ پالن پوری (ڈینڈرولوی)
خادم جامعہ تعلیم الدین، ڈابھیل
الجواب صحیح
مفتی سلمان قاسمی پالن پوری (کھلی)
جامعہ خلیلیہ، ماھی
الجواب صحیح
مفتی سعیداحمد قاسمی پالن پوری (مجادری)
الجواب صحیح
مفتی محمد حارث پالن پوری (میتوی)
مؤمن نگر، جوگیشوری، ممبئی
الجواب صحیح
مفتی یوسف ایلولوی
مفتی دارالعلوم کنتھاریہ، گجرات

---------------------------------------------
نوٹ:-
صارفین کی معاونت اور خود کی تحقیق سے جو حقائق اب تک سامنے آئے، اس کو سامنے رکھ کر خود (محمد اسماعیل) ہی نے سوال مرتب کیا اور جواب لکھا ہے
اور تائید کرنے والے پانچ مفتیان کرام پر جواب بھیج کر انھوں نے جواب غور سے پڑھا اور انھیں کی اجازت سے الجواب صحیح لکھا گیا ہے۔
ان کان الصواب فمن اللہ عز و جل وان کان خطآ فمنی و من الشیطان۔۔۔
اللھم احفظنا و جمیع المسلین من الضلال و الاضلال۔۔۔
https://saagartimes.blogspot.com/2020/12/burse.html


Sunday, 22 November 2020

غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارکباد دینا؟

غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارکباد دینا؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ بعافیت ہوں گے۔ دیوالی وہولی وغیرہ غیرمسلموں کے تہوار کے موقع پر مبارکباد دینا جائز نہیں ہے، عام کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ بھارت کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کے لیے ایک طرف نفرت وشدت میں ہر دن اضافہ ہے اور شدت پسندی کا الزام بھی،دوسری طرف مسلمانوں اور غیروں کے درمیان سماجی، سیاسی اور تجارتی رابطے آپس میں بہت گہرے بھی ہیں اور بوقت ضرورت یہی را‌بطے باہمی فتنہ وفساد کی آگ کو بجھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسی بنیاد پر عید ملن دیوالی ملن وغیرہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور دونوں طرف کے سرکردہ حضرات شرکت بھی کرتے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ آپ عید ملن پارٹی میں ان کو بلائیں گے تو آپ کو بھی ان  کی ہولی ملن پارٹی میں شامل ہونا پڑے گا، مسلم و غیرمسلم تنظیموں کے ذریعے یہ عمل ملک بھر میں جاری ہے، دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی، سماجی اور تجارتی حضرات اس موقع پر مبارکباد بھی دیتے اور قبول کرتے ہیں، مقصد یہاں بھی نفرتوں کا خاتمہ اور مضرت کا دفعیہ ہے، مشرکانہ عمل میں شرکت یا اس پر رضامندی نہیں ہے، مثلاً دیوالی مبارک ہو، ہیپی دیوالی وغیرہ، بسا اوقات ان مواقع پر سرکاری افسران وعہدے داران کی طرف سے فون آتے ہیں اور وہ اپنی طرف سے پہل کرتے ہوئے دیوالی مبارک کہتے ہیں تو پھر جواب بھی دینا ہوتا ہے۔ ان حالات میں "الا ان تتقوا منھم تقاۃ" کے پیش نظر مسلم سماج کے مخصوص وسرکردہ حضرات کے لئے غیرمسلموں کو مبارکباد پیش کرنے کی اور ان کا جواب دینے کی کوئی گنجائش ہے نہیں، براہ کرم بھارت کی موجودہ صورت حال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے مدلل جواب سے نوازیں گے، شکریہ جزاکم اللہ خیرا
سوال کنندہ۔ ذکاوت حسین قاسمی، مقیم دہلی
الجواب وباللہ التوفیق:
مذہب، مسلک، رنگ، نسل زبان وتہذیب کی تفریق کے بغیر تمام ہی انسانوں کے ساتھ محبت، مودت، نرمی، احسان، حسن خلق، حسن معاشرت، مہربانی، شرافت، اخلاق وانسانیت کے ساتھ پیش آنا، دکھ درد میں کام آنا اسلام کی تعلیم وہدایت ہے اور اس کا امتیاز بھی۔ اسلام کے اس اعلی ترین اخلاقی ورواداری کے اصول و تعلیم کی تصریح قرآن کریم میں اس طرح ہے:
(وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا)  [البقرة: 83۔۔۔ لوگوں سے بھلی باتیں کیا کرو]
(إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَان) [النحل: 90 ۔۔ یقیناً اللہ برابری اور احسان کا حکم کرتا ہے]
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة :8)
”جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں جلاوطن کیا اللہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے تعلق محبت رکھنے سے روکتا ہے، جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگیں لڑیں اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور ان جلاوطن کرنے والوں کی مدد کی، جو لوگ ایسے کافروں سے تعلق محبت قائم کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں“۔ ان نصوص  قرآنیہ سے واضح ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ اگر غیرمسلموں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسرپیکار ومحارب ہے تو تمام غیرمسلموں کو بلاتمیز ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کردیا جائے! ایسا کرنا حکمت وانصاف کے خلاف ہوگا۔ دیگر تمام مذاہب والوں کے ساتھ حسن سلوک اور تعاون وعدم تعاون کا اسلامی اصول یہی ہے کہ ’’ان سے مودت وموالات کا تعلق قائم کرنا "ان کے مذہبی  ودینی امور میں اشتراک وتعاون" تعلیمات اسلام کے خلاف ہے“۔ اسے ہمارا مذہب ناجائز وحرام کہتا ہے:
"يَا أيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ". (الممتحنة: 1).
(’’من کثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم کان شریکا في عمله‘‘۔ (كنزالعمال: الرقم: 24730، نصب الرایۃ للزیلعي: 102/5. کتاب الجنایات، باب ما یوجب القصاص وما لا یوجبہ، الحدیث التاسع)
ہاں! ان کے ساتھ "مشترک سماجی، اجتماعی وملکی مسائل ومعاملات" ۔۔ جن میں شرعی نقطۂ نظر سے اشتراک وتعاون میں کوئی ممانعت نہ ہو ۔۔ ان میں ساتھ دینا چاہیے۔ یہ انسانیت کی خدمت ہے اور اسلام کی خاموش دعوت بھی۔ معاشرتی حسن سلوک اور اعلی انسانی اخلاق واقدار کا نمونہ پیش کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ہدایا قبول کئے اور غیرمسلم بیمار شخص کی تیمار داری اور مزاج پرسی کی ہے۔ اسلام مستقل دین ،کامل واکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے، ہر مسلمان کو اپنے مذہب کے عقائد واعمال اور احکام و تعلیمات کی صداقت وحقانیت پر دل ودماغ سے مطمئن ہونا اور اعضاء وجوارح سے اس کا عملی ثبوت پیش کرنا ضروری ہے. کسی دوسری قوم کی عادات و اطوار اور تہذیب و تمدن سے استفادہ وخوشہ چینی (شرکیہ و کفریہ طور طریق کو پسند کرنے) کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے. کفر پسندی یا اس پہ رضا واقرار یا اس کی حمایت ونصرت بندہ مومن کو دین سے خارج کردیتا ہے. اپنے مذہبی حدود وشعار پہ انشراح واستقامت کے ساتھ دیگر اہل مذاہب ہم وطنوں و ہم پیشہ افراد و اشخاص کے ساتھ معاشرتی حسن سلوک و احسان کے تحت اپنی خوشی کے مواقع پہ انہیں بلانا یا شریک طعام کرنا یا خود ان کی خوشی میں ان کی دعوت قبول کرنے کی گنجائش ہے:
ولا بأس بضيافة الذمي، وإن لم يكن بينهما إلا معرفة، كذا في "الملتقط" … ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريبًا كان أو بعيدًا محاربًا كان أو ذميًّا] الفتاوى الهندية" (5/ 347، ط. دار الفكر)
کفار و مشرکین کی شادی: 
مسرت اور دیگر معاشرتی خوشیوں کے مواقع پر حدود شرع کی رعایت کے ساتھ اظہار مسرت کرنا، انہیں تحفے تحائف دینا، نیک خواہشات کا اظہار کرنا ،صحت وعافیت کی دعاء اور مبارکباد دینا ان کے مذہبی معاملات میں اشتراک و تعاون یا مودت و موالات نہیں؛ بلکہ حسن سلوک، خوش خلقی اور بر و احسان کے  قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز ومباح ہے. ان کے مذہبی تہواروں کے موقع سے ان کی خوشی ومسرت پہ دعا دینا، مذہبی ہم آہنگی و رواداری کے جذبے سے نیک خواہشات کا اظہار کرنا اور مبارکباد دینا جائز ہے یا نہیں. اس بابت شروع سے علماء کرام کے دو مختلف نقطہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ علماء کے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ غیرمسلمین کے مذہبی تہواروں کے موقعوں پر انہیں مبارک دینا مشرکانہ عقائد و شعائر کی تعظیم و توثیق کے مشابہ ہونے کے باعث ناجائز ہے۔ جبکہ علماء کے دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ ان کے مذہبی تہواروں کے موقعوں  پر کفریہ وشرکیہ امور کی ادنی تعظیم وتوقیر کے بغیر، دل میں کفر سے نفرت و کراہیت رکھے ہوئے صرف ان کی خوشی ومسرت پہ اچھے جذبات ونیک خواہشات کا اظہار کرنا، انہیں خوشی وشادمانی اور فرحت ومسرت اور آسودگیِ حال کی دعائیں دینا (مبارکباد دینا) حسن سلوک، بِرّ واحسان، مواسات ومدارات کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز ہے. کفریہ وشرکیہ تہواروں کو "مبارک" کہنا علیحدہ ہے جس کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ شعائر کفار کی تائید وتحسین کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ان تہواروں کے مواقع پہ حاصل "ان کی خوشیوں" پہ مبارکباد دینا، نیک خواہشات کا اظہار کرنا اور ہدایتِ حق یا دنیوی منافع کی دعائیں کرنا امرآخر ہے۔ مختلف مذاہب وکلچر والے ملک کی مخلوط آبادی میں بین مذہبی معاشرتی تنائو کی فضا قائم کرنا مفید و دانشمندانہ عمل نہیں۔ ہم وطن، پڑوسی، ہم پیشہ برادران وطن سے کٹ کے رہنا اور انکی خوشیوں پہ منہ چڑھائے رہنا اسلام کے حسن سلوک اور بر واحسان کے اصول سے ہم آہنگ نہیں ہے. مذہبی تہواروں کے موقعوں پر خوشی ومسرت پہ دعائیہ جملوں کا تبادلہ کرنا ان کے کفریہ وشرکیہ عقائد کی نہ تائید ہے، نہ کفر پسندی ہے اور نہ اعمال کفر پہ رضا ورغبت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کے لئے مال واولاد کی کثرت، درازیِ عمر اور صحت وعافیت کی یوں دعاء فرمائی ہے: 
«أَكْثَرَ اللَّهُ مَالَكَ، وَوَلَدَكَ، وَأَصَحَّ جِسْمَكَ، وَأَطَالَ عُمُرَكَ» (مصنف  ابن ابی  شیبہ 105/6)
یہودی کے لئے درازی عمر کی دعاء اگر اس کے کفریہ اعمال کی تائید نہیں ہے تو کفار و مشرکین کی مذہبی خوشیوں پہ ان کے لئے اس نوع کی دعائیں کفریہ وشرکیہ اعمال کی تائید و توثیق کیسے ہوجائے گی؟ یہاں کفر وشرک کی تحسین وتبریک ہرگز نہیں ہے بلکہ صرف ان کی خوشیوں ومسرتوں پہ نیک خواہشات کا اظہار مقصود ہے، جس کا اعتقاد ومذہبی معاملات، مودت وموالات یا اس پہ رضا سے نہیں؛ بلکہ سماجی ومعاشرتی امور اور مدارات سے تعلق ہے. عیدین کے مواقع پہ جب وہ ہمیں مبارکباد دیتے ہیں تو ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلامی شعائر و تہوار پہ رضا ورغبت کے بعد یا اسلامی عقائد کی تائید و توثیق کے بعد وہ ایسا کرتے ہیں بلکہ صرف سماجی ومعاشرتی حیثیت سے ہی ہمیں مبارکباد دیتے ہیں۔ ان کی مذہبی خوشیوں کے مواقع پر مسلمانوں کی طرف سے مبارکباد بھی اسی سماجی، مکافاتی، معاملاتی ومداراتی حیثیت میں دی جاتی ہے، یعنی کہ عقائد سے اس امر کا تعلق نہیں ہے 
کہ اس کی وجہ سے ملت بیزاری یا کفر کا  خدشہ ہو؛ بلکہ اس کی حیثیت دعاء کی ہے، کفار و مشرکین کے لئے مغفرت ورحمت کے علاوہ دعائیں کرنا، مبارکباد کا پیغام دینا بعض اجلاء صحابہ سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ فرعون بحالت کفر مرا، لیکن وہ اگر مجھے برکت کی دعاء کرتا تو میں بھی اسے بدلے میں مبارکباد دیتا:
عن ابنِ عباسٍ قال لو قال لي فرعونُ: بارك اللهُ فيك، قلت: وفيك، وفرعونُ قد مات۔ (صحيح الأدب المفرد: 848)
اس سے پتہ چلا کہ کافر کو بدلے میں مبارکباد دینا مدارات و معاملات سے تعلق رکھتا ہے. مذہب کے اعتقادی وعباداتی مسائل سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ صاحب فیض القدیر علامہ مناوی اور علامہ نووی رحمہ اللہ جیسے محدثین کرام کا خیال یہ ہے کہ کفار و مشرکین کے لئے دنیوی منافع (صحت، عافیت، خوش حالی، فارغ البالی، مال ودولت کی کثرت اور درازی عمر وغیرہ) کی دعائیں کی جاسکتی ہیں. (فيض القدير (1/ 345)، الأذكار/ النووي/ ص 317) 
"سلام" خالص اسلامی تحیہ اور دعا ہے. مسلمان سے ملاقات اور جدائی کے وقت "السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ" کے ساتھ سلام کرنا اور اسی لفظ کے ساتھ جواب دینا مسنون ہے۔ جمہور فقہاء، شراح حدیث اور حنفیہ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا مسلک  یہ ہے کہ کفار ومشرکین کو ابتدا بالسلام ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی ضرورت سے سلام کرنا پڑے تو جائز تو ہے لیکن اسے: 
"السلام علی من اتبع الھدی" 
کہے۔ ہاں اگر وہ سلام کرلیں تو اس کے جواب میں صرف "وعلیکم" یا "وعلیک یا علیکم" بغیر واو کے کہا جائے۔ جواب میں "وعلیکم السلام ورحمة اللہ" کہنا جائز نہیں ہے ۔ جبکہ صحابہ و تابعین کی ایک دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی ضرورت سے کسی کافر کو ابتداءاً سلام کرلیا جائے، یا اس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہہ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، یہ رائے حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوامامہ، حضرت حسن بصری اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے، ان حضرات کے پیش نظر یہ روایات ہیں:
(1) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَتَبَ إلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: السَّلَامُ عَلَيْك. 
(2) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إبْرَاهِيمَ قَالَ: إذَا كَتَبْت إلَى الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ فِي الْحَاجَةِ فَابْدَأْ بِالسَّلَامِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: اُكْتُبْ "السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى" . 
( 3 ) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ عَنْ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِالسَّلَامِ فَقَالَ: نَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَلَا نَبْدَؤُهُمْ، فَقُلْت: وَكَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَرَى بَأْسًا أَنْ نَبْدَأَهُمْ، قُلْت: لِمَ؟ قَالَ: لِقَوْلِ اللَّهِ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ. 
(4) حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَمُرُّ بِمُسْلِمٍ وَلَا يَهُودِيٍّ وَلَا نَصْرَانِيٍّ إلَّا بَدَأَهُ بِالسَّلَامِ .
(مصنف ابن أبي شيبة: 3548 (65) فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يُبْدَءُونَ بِالسَّلَامِ)
قابل غور ہے کہ جب حالات، ضرورت، حکمت ومصلحت کے پیش نظر غیر مسلمین کو صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کے نزدیک ابتداء بالسلام کرنا جوکہ خالص اسلامی دعاء ہے جائز ہے. تو تالیف قلب اور مذہبی منافرت کے خاتمہ جیسی اہم ترین ضرورت کے پیش نظر مواقع مسرت کی (مذہبی شعار کی نہیں) انہیں مبارکباد دینے، نیک خواہشات کے اظہار کرنے اور دنیوی برکات کی دعائیں دینے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے. اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ زمان ومکان اور احوال واشخاص کے فرق سے شرعی احکام میں بھی فرق آتا ہے، اگر کسی زمانے میں مخصوص حالات وعرف کے پیش نظر کسی عالم وفقیہ نے اسے ممنوع لکھا ہے تو ہر زمانے اور ہر ملک کے لئے اسے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ پھر غیرمسلمین کو تہنیت ومبارکباد دینے کا مسئلہ منصوص نہیں؛ بلکہ مجتہد فیہ ہے، دونوں میں فرق ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ممانعت پہ کتاب وسنت یا آثار صحابہ و تابعین یا ائمہ اربعہ مجتہدین سے اس بابت کوئی صریح دلیل منقول نہیں، اسی لئے حرمت تہنیت کو اتفاقی کہنا بھی علماء محققین کے ہاں محل نظر ہے۔ ممانعت کے قائلین مختلف نصوص سے دلالۃً واشارۃً اس کی ممانعت مستنبط کرتے ہیں، اگر تہنیت کا معاملہ اتنا ہی حساس واعتقادی ہوتا تو صحابہ و تابعین یا ائمہ مجتہدین سے اس بابت ضرور ممانعت منقول ہوتی۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مذہبی جنون پرستی اور مسلم اقلیت کے خلاف مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ کشیدگی، اشتعال انگیزی، فتنہ پروری، غنڈہ گردی سے ملک کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے. ایسے میں اقلیتی طبقے کے سماجی ومذہبی شخصیات پر خصوصا اور ہر مبتلی بہ فرد مسلم پر عموماً ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے عقائدی حدود کی حفاظت اور تہذیبی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے اکثریتی طبقہ سے میل جول، انسانی ہمدردی، اور رواداری کے سلسلے کو مزید مضبوط ومستحکم کریں، ان کے دکھ درد اور غمی وخوشی کے مواقع پہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے شریک ہوں، اعتدال وتوازن ہر چیز میں مطلوب اور افراط وتفریط ہر شئے میں معیوب ہے۔ بے ضرورت مبارکباد کی ارزانی و فراوانی کردینا بھی بے غیرتی کی بات ہوگی، حسب ضرورت اور قدر ضرورت دفع مضرت“ جیسی مصلحت ومقصد شرعی کے پیش نظر جہاں کاروباری یا رہائشی ارتباط ہو. مذہبی تہواروں کی خوشی ومسرت پہ  نیک خواہشات کے عدم اظہار پہ  ذہنی تحفظات اور بدگمانیاں مزید گہرے ہونے کا جہاں گمان غالب ہو تو وہاں اہل تعلق غیرمسلموں سے”آپ خوش رہیں آباد رہیں.“ آپ کو حقیقی خوشی نصیب ہو“، آپ تندرست وتوانا رہیں.“ یا اس خوشی کے موقع پہ میری طرف سے مبارکباد قبول فرمائیں“ جیسے جملوں سے مبارکباد دینے یا نیک خواہشات کے اظہار میں کوئی شرعی حرج نہیں، یہ صرف دعاء ہے جو انسانی ہمدری و رواداری کے قبیل سے ہے، اسے کفر پسندی  یا مشرکانہ شعائر کی تعظیم، توثیق وتائید سے دور کا بھی واسطہ نہیں، جہاں ضرورت نہ ہو وہاں اس سے احتیاط و پرہیز یقیناً بہتر ہے، خیال رہے کہ مشرکانہ و ہندوانہ تہواروں کو راست "مبارک" کہنے کی گنجائش میرے نزدیک نہیں ہے، صرف اس موقع کی حاصل خوشی پہ مبارکباد یا دعائیں دینے کی گنجائش ہے بشرطیکہ  کسی منکر شرعی کا ارتکاب نہ ہوا ہو!
واللہ اعلم بالصواب 
مركز البحوث الإسلامية العالمي
جمعہ 4 ربیع الثانی 1442ھ 20 نومبر 2020ء (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_22.html


Saturday, 7 November 2020

لاٹری کی ایک شکل کا حکم

لاٹری کی ایک شکل کا حکم

-------------------------------
--------------------------------

السلام علیکم 

ایک مسئلہ سمجھنا تھا. وہ یہ کہ دوکان والے کچھ پرچی رکھتے ہیں جسے کھولا جاتا ہے اس کے اندر کچھ نمبر لکھا رہتا ہے. دوسرے کاغذ پر کچھ سامان چپکا رہتا ہے مثلا ٹارچ گھڑی وغیرہ. اگر پرچی اور گھڑی کے سامنے کا نمبرایک رہا تو اسے مل جائے گی. اور کبھی کچھ نہیں نکلتا اسے ٹاٹا بولتے ہیں. ایسا سامان بیچنا کیسا ہے؟

———————
الجواب وباللہ التوفیق:

یہ قمار (جوا) کی شکل ہے. احتمالی انعام کے لالچ میں جانے کتنے لوگ قیمۃً یہ پرچی خریدیں گے 

کتنوں کو کچھ نہیں ملے گا. اور اس کی خریدی گئی پرچی بیکار جائے گی. قمار و میسِر (اردو میں: جوا) اسی کو کہتے ہیں کہ کسی غیریقینی واقعے کی بنیاد پر کوئی رقم اس طرح داؤ پر لگائی جائے کہ یا تو رقم لگانے والااپنی لگائی ہوئی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اُسے اتنی ہی یا اس سے زیادہ ر قم کسی معاوضہ کے بغیر مل جائے۔ قمار شیطانی عمل اور ناجائز وحرام ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة :90)

واللہ اعلم بالصواب

شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_68.html



صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرکے وظائف پڑھنے کی تخصیص کیوں؟

صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرکے وظائف پڑھنے کی تخصیص کیوں؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال 
——
حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی جانب متوجہ ہوکر بیٹھتے تھے، اس روایت میں کسی خاص نماز کی تخصیص تو ہے نہیں پھر ہمارے یہاں امام صرف عصر و فجر میں مقتدیوں کی جانب رخ کرتا ہے باقی نمازوں میں نہیں۔
ایسا کیوں؟
ابوحنظلہ عبدالاحد قاسمی 
سہارنپور 
———————
الجواب وباللہ التوفیق:
سلام پھیرنے کے بعد امام کا مستقبل قبلہ بیٹھے رہنا اجماعی و اتفاقی طور پہ مکروہ بلکہ بدعت ہے.
اس کی مختلف علتیں بیان کی گئی ہے، نئے آنے والے نمازی کو امام کے نماز میں مشغول سمجھنے کے اشتباہ سے بچانا بھی من جملہ حکمتوں کے اہم حکمت ہے.
بعد سلام "اللهم أنت السلام ومنك السلام إلخ" یا تین مرتبہ استغفار یا اس جیسی دیگر ماثور مختصر دعاء پڑھ کے امام کو استقبال قبلہ سے ہٹ جانا مستحب ہے، مزید نماز کی سابقہ ہیئت کی طرح قبلہ رو بیٹھے رہنا امام کے لئے مکروہ ہے (کوئی دعاء پڑھنا مخصوص نہیں ہے، انت السلام ومنک السلام کے دورانیے کے بقدر کوئی بھی ماثور دعاء پڑھ کے امام جگہ، رخ وہیئت تبدیل کردے)
اس استحباب پر بھی علماء کا اجماع قائم ہے، ہر نماز کا یہی حکم ہے. 
بعد سلام امام کا قبلہ سے رخ پھیر دینے کی تین کیفیات احادیث میں وارد ہوئی ہیں: 
۱: امام اپنا دایاں جانب مقتدی کی طرف جبکہ یسار قبلہ کی طرف کرے.
۲: امام اپنا یمین محراب و قبلہ کی طرف جبکہ یسار مقتدی کی طرف کرے. 
۳: مقتدی کے سیدھ میں استدبار قبلہ کرکے بیٹھ جائے بشرطیکہ امام کے سامنے کوئی مسبوق نماز نہ پڑھ رہا ہو.
ان تینوں طرح بیٹھنے میں ہمارے ہاں امام کو اختیار ہے. 
البتہ اوّل الذکر دو ہیئتوں میں بیٹھنا عینی کی نقل کے مطابق صاحب مذہب امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے افضلیت کی روایت مروی ہے.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نماز کے سلام پھیرنے کے بعد “انصراف “ اور "انفتال" جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں. 
شارح بخاری علامہ قسطلانی وغیرہ "انصراف" کو اٹھ کر چلے جانے اور گھر میں بقیہ نوافل ادا کرنے پہ محمول کیا ہے، جبکہ انفتال کو استقبال ماموم پہ محمول کیا ہے. 
بعض روایتوں میں صراحت ہے کہ فجر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد سلام مختصر ذکر ماثور و تکبیر کے بعد مقتدیوں کی طرف رخ کرتے. 
مسائل کی تعلیم کرتے. 
کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اس کی تعبیر مرحمت فرماتے. 
ابن حجر کے بقول تعلیم مسائل کے مقصد سے امام استقبال ماموم کرسکتا ہے ورنہ انصراف و انفتال پہ عمل کرے. 
ہر نماز کے سلام کے بعد مختصر ماثور دعاء پڑھ کے تبدیلی ہیئت (انصراف، انفتال، اقبال الناس بوجہ) تمام علماء کے ہاں مستحب ہے. 
احناف بھی تبدیلی ہیئت کے استحباب کے قائل ہیں. 
البتہ دیگر مختلف روایات وآثار صحابہ کی وجہ سے احناف فرض کے سلام اور سنن رواتب کے درمیان طویل اوراد وظائف میں اشتغال کے ذریعہ فصل کو مکروہ گردانتے ہیں.
اس لئے مختصر دعاء (اللھم انت السلام جیسی دعاء) پڑھ کر اٹھ جانے، رفع یدین کے ساتھ دعاء انفرادی کرلینے گھر چلے جانے یا سنن رواتب میں مشغول ہوجانے کو بہتر سمجھتے ہیں. 
فجر وعصر کے بعد چونکہ سنن رواتب نہیں ہیں؛ اس لئے فرض کے بعد طویل اوراد ووظائف میں اشتغال سے تاخیر سنن رواتب کی کراہت کا ارتکاب نہیں ہوگا 
اس لئے ان دو نمازوں میں فرض کے سلام کے بعد تبدیلی ہیئت کے ساتھ وظائف میں مشغول ہونے کی اجازت ہے. 
لیکن فرض کے بعد سنن رواتب والی نماز میں تبدیلی ہیئت کے بعد سنن رواتب میں مشغول ہوجانا  چاہئے۔
نماز کے فورا بعد (دبرالصلوۃ وعقیب الصلوۃ) پڑھی جانے والی ادعیہ سنن رواتب کے بعد پڑھے، سنن رواتب مکملات وتوابع مکتوبات ہیں اس لئے اس کے بعد اوراد پڑھنے پر بھی دبریت وعقبیت کا تحقق ہوجائے گا یعنی تب بھی فرائض کے بعد پڑھنا ہی کہا جائے گا؛ کیونکہ یہ بھی کسی حدیث میں نہیں ہے کہ سنت راتبہ سے پہلے فرض کی جگہ میں ہی بیٹھے بیٹھے عقیب الصلوۃ والی دعائیں پڑھی جائیں!
ابن حجر ہیتمی نے صراحت کی ہے کہ سنن رواتب کے بعد اوراد ووظائف عقبیہ پڑھی جاسکتی ہیں. ثواب میں کوئی کمی نہیںم کمال میں فرق آسکتا ہے.
اگر کوئی فرض کے سنن رواتب گھر جاکر پڑھنا چاہے تو راستہ چلتے اوراد عقبیہ پڑھ سکتا ہے. 
حنفیہ کے یہاں جن نمازوں کے بعد سنن رواتب ہیں ان کے سلام کے بعد طویل وظائف میں مشغول ہونا مکروہ ہے۔
محقق ابن الہمام، حلبی، شمس الائمہ حلوانی وغیرہم کراہت تنزیہی کے قائل ہیں، جبکہ صاحب اختیار کراہت  تحریمی کے قائل ہیں. 
عادت بنائے بغیر کبھی کبھار اشتغال بالاوراد بین الفریضہ والسنہ ہوجائے تو مضائقہ نہیں:
ائمہ ثلاثہ کے یہاں امام مقتدی منفرد ہر ایک کے لئے اشتغال بالاوراد بین الفریضہ والسنہ مستحب ہے، دبر الصلوۃ وعقیب الصلوۃ کے ظاہر سے وہ استدلال کرتے ہیں 
احناف کے چند دلائل یہ ہیں:
عن عائشة رضي الله عنها قالت:
(كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) رواه مسلم (592)
وروا عبدالرزاق في "المصنف" (2/246) عن ابن جريج قال: حدثت عن أنس بن مالك قال: (صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم، وكان ساعة يسلم يقوم، ثم صليت وراء أبي بكر فكان إذا سلم وثب، فكأنما يقوم عن رضفة)
ورواه الطبراني في "المعجم الكبير" (1/252)، والبيهقي في "السنن الكبرى" (2/182) كلاهما من طريق عبدالله بن فروخ، عن ابن جريج، عن عطاء، عن أنس بن مالك.
يقول العلامۃ ابن عابدين رحمه الله:
"أما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها; لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها، فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة. 
وقول عائشة: (بمقدار) لا يفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريبا، فلا ينافي ما في الصحيحين من أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد)" انتهى من "رد المحتار" (1/531)
"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثاً ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثاً وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك.
(قوله: إلا بقدر اللهم إلخ) لما رواه مسلم والترمذي عن عائشة قالت «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لايقعد إلا بمقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة.
وقول عائشة بمقدار لايفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريباً، فلاينافي ما في الصحيحين من «أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولاينفع ذا الجد منك الجد» وتمامه في شرح المنية، وكذا في الفتح من باب الوتر والنوافل (قوله: واختاره الكمال) فيه أن الذي اختاره الكمال هو الأول، وهو قول البقالي. ورد ما في شرح الشهيد من أن القيام إلى السنة متصلا بالفرض مسنون، ثم قال: وعندي أن قول الحلواني لا بأس لا يعارض القولين لأن المشهور في هذه العبارة كون خلافه أولى، فكان معناها أن الأولى أن لايقرأ قبل السنة، ولو فعل لا بأس، فأفاد عدم سقوط السنة بذلك، حتى إذا صلى بعد الأوراد تقع سنة لا على وجه السنة، ولذا قالوا: لو تكلم بعد الفرض لاتسقط لكن ثوابها أقل، فلا أقل من كون قراءة الأوراد لا تسقطها اهـ.
وتبعه على ذلك تلميذه في الحلية، وقال: فتحمل الكراهة في قول البقالي على التنزيهية لعدم دليل التحريمية، حتى لو صلاها بعد الأوراد تقع سنة مؤداة، لكن لا في وقتها المسنون، ثم قال: وأفاد شيخنا أن الكلام فيما إذا صلى السنة في محل الفرض لاتفاق كلمة المشايخ على أن الأفضل في السنن حتى سنة المغرب المنزل أي فلا يكره الفصل بمسافة الطريق (قوله قال الحلبي إلخ) هو عين ما قاله الكمال في كلام الحلواني من عدم المعارضة ط (قوله: ارتفع الخلاف) لأنه إذا كانت الزيادة مكروهة تنزيهاً كانت خلاف الأولى الذي هو معنى لا بأس (قوله: وفي حفظي إلخ) توفيق آخر بين القولين، المذكورين، وذلك بأن المراد في قول الحلواني لا بأس بالفصل بالأوراد: أي القليلة التي بمقدار "اللهم أنت السلام إلخ" لما علمت من أنه ليس المراد خصوص ذلك، بل هو أو ما قاربه في المقدار بلا زيادة كثيرة فتأمل. وعليه فالكراهة على الزيادة تنزيهية لما علمت من عدم دليل التحريمية فافهم وسيأتي في باب الوتر والنوافل ما لو تكلم بين السنة والفرض أو أكل أو شرب، وأنه لا يسن عندنا الفصل بين سنة الفجر وفرضه بالضجعة التي يفعلها الشافعية (قوله: والمعوذات) فيه تغليب، فإن المراد الإخلاص والمعوذتان ط (قوله: ثلاثاً وثلاثين) تنازع فيه كل من الأفعال الثلاثة قبل"
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 530)
ملک العلماء علامہ كاساني رحمه الله لکھتے ہیں:
"إن كانت صلاة لا تصلى بعدها سنة، كالفجر والعصر: فإن شاء الإمام قام، وإن شاء قعد في مكانه يشتغل بالدعاء; لأنه لا تطوع بعد هاتين الصلاتين، فلا بأس بالقعود، إلا أنه يكره المكث على هيئته مستقبل القبلة، لما روي عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا فرغ من الصلاة لا يمكث في مكانه إلا مقدار أن يقول: (اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام); ولأن مكثه يوهم الداخل أنه في الصلاة فيقتدي به فيفسد اقتداؤه، فكان المكث تعريضا لفساد اقتداء غيره به فلا يمكث، ولكنه يستقبل القوم بوجهه إن شاء" انتهى من "بدائع الصنائع" (1/159)
علامہ عینی نے عمدہ القاری 599/4, حضرت شیخ نے اوجز 500/7 میں اور فیض الباری وغیرہ میں اس بابت تشفی بخش بحث کی گئی ہے؛ فليراجع ثمةً.
واللہ اعلم بالصواب 
مركز البحوث الإسلامية العالمي 
ہفتہ 20 ربیع الاول 1442ہجری  
7 نومبر / 2020
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_7.html