Thursday, 5 November 2020

اسلاف کے صبر کے تابندہ نقوش

 اسلاف کے صبر کے تابندہ نقوش

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین و اکابر رحمہم اللہ کی زندگیاں مجسم صبر تھیں، ہر نوع کی آزمائشوں پر ان کا شیوہ صبرتھا، وہ فقر و احتیاج کی آزمائش ہو یا بھوک و پیاس کا عالم ہو، بیماری ہو یا اپنوں کے فراق کا صدمہ، اولاد کی موت کا حادثہ ہو یا شریک حیات کی وفات کا سانحہ، والدین کا فراق ہو یا بھائیوں اور بہنوں کا، ہر موڑ پر ان کی تاریخ صبر وتحمل اور رضا بالقضا سے معمور ہے۔ ذیل میں اس کے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔

(۱) فقر واحتیاج کی مشقت:

فقروافلاس بہت بڑی آزمائش ہے، اور اس میں لوگوں کو بیحد مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ اہل اسلام کے صبر اور رضا بالقضا کے امتحان کا ذریعہ ہے، اللہ نے اپنی حکمت بالغہ کے ذریعہ بعض بندوں کو مالدار بنایا ہے اور بعض کو محتاج و فقیر، قرآن میں اسی حقیقت کا ذکر آیا ہے ﴿واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق﴾ (النحل:۷۱) اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطاء کر رکھی ہے، آیت سے واضح ہوا کہ مال و دولت میں عدمِ مساوات فطری ہے اور اس میں مختلف درجات کا ہونا اللہ کی حکمت بالغہ اور مصالح انسانیہ کا مقتضی ہے، فرمایا گیا ﴿اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ﴾ (العنکبوت:۶۲) اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔

اب جو بندہ فقر و افلاس پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر قانع اور راضی رہتا ہے وہ امتحانِ صبر میں کامیاب اور جنت کی نعمتوں کا مستحق ٹھہرتا ہے، حدیث نبوی میں اسی کی صراحت ہے کہ ﴿یدخل فقراء المسلمین الجنة قبل الأغنیاء بنصف یوم وہو خمسمأة عام﴾ (ترمذی) فقراء مسلمین مالداروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے، مزید فرمایا ﴿اطّلعت فی الجنة فرأیت أکثر اہلہا الفقراء﴾ (بخاری ومسلم) میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو میں نے اہل جنت میں زیادہ تعداد فقراء کی پائی۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرکے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ﴿ہل تدرون أول من یدخل الجنة من خلق اللّٰہ عزوجل؟﴾ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے کون جائے گا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا ﴿اللہ و رسولہ أعلم﴾ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿الفقراء المہاجرون الذین تسد بہم الثغور، وتتقی بہم المکارہ ویموت احدہم وحاجتہ فی صدرہ لا یستطیع لہا قضاءً﴾ (مسند احمد) جنت میں سب سے پہلے وہ فقراءِ مہاجرین جائیں گے جن کے ذریعے سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے، (دشمن کی طرف سے آنے والی) ناپسندیدہ چیزوں (حملوں) سے بچاؤ ہوتا ہے، اور ان میں جب کوئی مرتا ہے تو اپنی ضرورت سینے میں دبائے مرجاتا ہے، اس ضرورت کی تکمیل کی اس میں استطاعت نہیں ہوتی۔

ایک حدیث میں آیا ہے ﴿ان حوضی ما بین عدن الی عمان أکوابہ عدد النجوم ماوٴہ أشد بیاضاً من الثلج وأحلیٰ من العسل، واکثر الناس ورودًا علیہ فقراء المہاجرین﴾ میرا حوض کوثر عدن سے لے کر عمان تک (کی مسافت کے بقدر لمباچوڑا) ہوگا، اس کے پیالے ستاروں کی طرح (بیشمار) ہوں گے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، اور اس سے سب سے زیادہ سیراب و متمتع ہونے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﴿صِفْہم لنا﴾ ان فقراء کے اوصاف ہم سے بیان کیجئے! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿شعث الروٴوس، دُنس الثیاب، الذین لاینکحون المنعمات، ولا تُفتح لہم السُدد، الذین یعطون ما علیہم، ولا یعطون مالہم﴾ وہ پراگندہ بال، معمولی گندے لباس والے ہیں جو مالدار اور ناز و نعم میں پروردہ خواتین سے نکاح نہیں کرتے، اور جن کے لئے (فقر کی وجہ سے) دروازے نہیں کھولے جاتے، جو اپنے اوپر واجب حق ادا کرتے ہیں مگر ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

مزید فرمایا گیا ﴿ان فقراء المسلمین یُزفون کما یزف الحمام، فیقال لہم: قِفوا للحساب، فیقولون: واللہ ما ترکنا شیئًا نحاسب بہ، فیقول اللّٰہ عز وجل: صدق عبادی، فیدخلون الجنة قبل الناس بسبعین عامًا﴾ (طبرانی) فقراء مسلمین اس طرح تیز رفتاری سے آئیں گے جیسے کبوتر پر پھیلائے تیزی سے آتا ہے، ان سے کہا جائے گا: حساب کے لئے ٹھہرو، وہ کہیں گے بخدا ہم نے تو کچھ نہیں چھوڑا جس کاحساب دیں، اللہ فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا، چنانچہ وہ اور لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

ارشاد نبوی ہے ﴿من قلّ مالہ، وکثر عیالہ، وحسنت صلاتہ، ولم یغتب المسلمین، جاء یوم القیامة وہو معی کہاتین﴾ (مسند ابویعلی) جس کا مال کم ہو، بچے زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ وہ میرے ساتھ ہوگا (میرے قریب ہوگا)۔

فقرو احتیاج کے موقع پر صبر کی روش اپنانا بہت مشکل کام ہے اور بقول شاعر۔

آنچہ شیراں  ر ا  کند  ر و بہ مز ا ج

احتیاج است احتیاج است احتیاج

جو چیز شیر (جیسے بہادر) کو گیدڑ (جیسا بزدل) بنادیتی ہے وہ فقرواحتیاج ہے، اس لئے فقر کی حالت میں جو بندہ صبر و ثبات کی راہ پر گامزن رہتا ہے وہی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، انبیاء واولیاء، صدیقین و شہداء وصالحین سب کو اس امتحانِ فقر سے گذرنا پڑا، اور سب صابرانہ کامیاب گذرے۔

اہل اسلام کے لئے سب سے بڑا نمونہ اور مشعل راہ سید الاولین والآخرین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے، فقر وفاقہ کی آزمائش پر صبر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری لمحہٴ زندگی تک فقر کا سامنا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ لگاتار دو ماہ گذر جاتے تھے اور آپ کے گھر میں چولھا گرم نہیں ہوتا تھا اور کھجور و پانی پر گذارہ ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)

عہدنبوت کا بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! میں مصیبت زدہ ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے کھانا منگواتے ہیں مگر تمام ازواج مطہرات کے ہاں سے جواب آتا ہے کہ پانی کے سوا کچھ نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو متوجہ کرتے ہیں، حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اس مہمان کو لے جاتے ہیں اور بچوں کے لئے تیار کھانا بچوں کو بہلاسلاکر اپنے مہمان کو کھلاتے اور ایثار کا ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ ایک اسلامی موٴرخ نے اس واقعہ کا نقشہ اپنے ساحرانہ اسلوب میں اس طرح کھینچا ہے۔ ”مغرب کی نماز ہوچکی ہے، کچھ نمازی رخصت ہوگئے ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد میں تشریف فرما ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوتا ہے، پراگندہ مُو، خستہ حال، چہرے پر زندگی کی سختیوں کے نقوش، عرض کرتا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں مفلس اور مصیبت زدہ ہوں وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا ہے مگر شاید زبان ساتھ نہیں دیتی، مسجد میں پھیلی ہوئی خاموشی گمبھیر ہوجاتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چند لمحے اس کے سراپا کا جائزہ لیتے ہیں، پھر ایک شخص سے فرماتے ہیں: ”ہمارے ہاں جاؤں اور اس مہمان کے لئے کھانا لے آؤ“۔ وہ خالی ہاتھ واپس آجاتا ہے اور زوجہٴ محترمہ کا پیغام دیتا ہے: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا، میرے پاس اس وقت پانی کے سوا کچھ نہیں۔“ مسافر پیغام سن کر دم بخود رہ جاتا ہے، وہ جس بابرکت ہستی کے پاس اپنے افلاس کا رونا لے کر آتا ہے خود ان کے گھر کا یہ حال ہے! حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پیغام سن کر دوسری زوجہٴ مطرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتے ہیں، مگر وہاں سے بھی یہی جواب ملتا ہے، ایک ایک کرکے سب ازواجِ مطہرات سے پوچھواتے ہیں، لیکن سب کاجواب یہی ہے: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔

نووارد کی حالت دیدنی ہے وہ افلاس اور فاقہ کشی سے بھاگ کر اس پاک ہستی کے دامن میں پناہ لینے آیا تھا جو تنگ دستوں اور محتاجوں کا ملجا و ماویٰ ہے، تاج دارِ دوعالم ہے، جس کے اشارے پر دنیا بھر کے خزانے قدموں پر ڈھیر ہوسکتے ہیں، ایسی عظیم اور مقدس ہستی کے ہاں بھی بس اللہ کا نام ہے! اسے اپنے گھر کا خیال آجاتا ہے، وہاں اتنی احتیاج تو نہ تھی، جب اس نے گھر چھوڑا تھا اس وقت بھی اس کے ہاں تین دن کی خوراک موجود تھی، پھر ایک بکری بھی اس کے پاس تھی جس کا دودھ زیادہ نہ سہی، بچے کے لئے تو کافی ہورہتا تھا، وہ تو اس خیال سے حاضر ہوا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے دامن احتیاج پھیلائے گا، وہ جن کا جودوکرم ہو اسے بھی زیادہ بے پایاں ہے ان کے فیضِ کرم سے کٹھن زندگی آسان ہوجائے گی، لیکن یہاں تو عالم ہی اور ہے، اسے اپنے وجود پر شرم آنے لگتی ہے اور ندامت کے قطروں سے اس کی پیشانی بھیگ جاتی ہے، اچانک اسے آقائے دوسرا کی آواز سنائی دیتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں: ”آج کی رات اس شخص کی میزبانی کون کرے گا؟“ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اٹھ کر عرض کرتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا گھر حاضر ہے.“ پھر اس شخص کو ساتھ لے کر گھر آتے ہیں بیوی امّ سلیم سے پوچھتے ہیں: ”کھانے کو کچھ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مہمان ساتھ آئے ہیں.“ نیک بخت کہتی ہیں ”میرے پاس تو بچوں کے کھانے کے سوا کچھ بھی نہیں“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”بچوں کو سلادو اور کھانا دسترخوان پر چن کر چراغ گل کردو ہم مہمان کے ساتھ بیٹھے یونہی دکھاوے کو منھ چلاتے رہیں گے اور وہ پیٹ بھرکر کھالے گا۔“ (اسلامی زندگی کی کہکشاں /۶۰-۶۳، از آباد شاہ پوری رحمۃ اللہ علیہ)

ام سلیم رضی اللہ عنہا ایسا ہی کرتی ہیں، اندھیرے میں مہمان یہی سمجھتا ہے کہ میزبان بھی اس کے ساتھ کھانا کھارہے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاکر سارا گھر فاقے سے پڑا رہتا ہے، صبح ہوتی ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، حضور انہیں دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں تم دونوں میاں بیوی رات مہمان کے ساتھ جس سلوک سے پیش آئے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم آیت تلاوت فرماتے ہیں جواس موقع پر نازل ہوئی ﴿ویوٴثرون علی أنفسہم ولو کان بہم خصاصة﴾ اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج کیوں نہ ہوں. (الحشر:۹) اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے ایثار کی داستان رہتی دنیا تک کلام الٰہی میں ثبت ہوجاتی ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی حد سے زیادہ زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی تھی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دن خدمت نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر آپ لیٹے ہوئے ہیں اور اس کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے، اور چٹائی کی بُناوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشانات ڈال دئیے ہیں، اور سرہانے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال کوٹ کے بھری ہوئی ہے، یہ حالت دیکھ کر حضرت عمر کی آنکھیں بھر آئیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کا سبب پوچھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ﴿یا نبی اللہ! ومالی لا أبکی، وہذا الحصیر قد اثر فی جنبک، وذلک قیصر وکسریٰ فی الثمار والأنہار، وأنت نبی اللہ وصفوتہ﴾ اے اللہ کے رسول! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی آپ کے پہلوئے مبارک پر گہرے نشان ڈال رہی ہے، اُدھر قیصرو کسریٰ دنیا کے ناز و نعم میں ہیں، آپ تو اللہ کے نبی اور برگزیدہ ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ﴿اولئک قوم عجلت لہم طیباتہم فی الحیاة الدنیا، أما ترضی أن تکون لہم الدنیا ولنا الآخرة﴾ یہ سب تو وہ لوگ ہیں جن کو ان کی لذتیں اسی دنیا میں دے دی گئی ہیں، (اور آخرت میں ان کا کچھ نہیں ہے) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کیلئے دنیا کا عیش ہواور ہمارے لئے آخرت کا عیش۔ (بخاری و مسلم و مسند احمد)

ایک بار ایک صحابی نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ﴿واللہ انی لأحبک﴾ خدا کی قسم مجھے آپ سے گہری محبت ہے اور یہی بات تین بار دہرائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان کنت تحبنی فأعد للفقر تجفافًا فان الفقر أسرع الی من یحبنی من السیل الی منتہاہ﴾ اگر مجھ سے سچی محبت ہے تو فقر وفاقہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ، مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فقر سیلاب کی رفتار سے زیادہ تیزی سے آتا ہے۔ (ترمذی)

قرآن میں آپ کو حکم دیا گیا ﴿واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغداة والعشی یریدون وجہہ، ولا تعد عیناک عنہم ترید زینة الحیاة الدنیا﴾ (الکہف:۲۸) آپ اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجئے جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے لئے ان سے نگاہیں نہ پھیرئیے۔

اس حکم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق فقراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہت افزوں ہوگیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خنداں ملتے اور سلام میں پہل کرتے اور فرماتے ﴿الحمد للہ الذی جعل فی أمتی من أمرنی ربی أن أبد أہم بالسلام﴾ تمام تعریف اللہ کی ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا کہ میں اُن سے سلام میں پہل کروں، اور ان فقراء سے فرمایا ﴿ابشروا یا صعالیک المہاجرین بالنور التام یوم القیامة، تدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس بنصف یوم، وذلک خمس مأة عام﴾ (ابوداؤد) اے فقراء مہاجرین! قیامت کے دن مکمل روشنی کی بشارت قبول کرو، تم مالداروں سے آدھے دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤگے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فقراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کچھ تلخ کلامی ہوگئی ہے. اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر ﴿لعلک أغضبتہم، لئن کنت أغضبتہم لقد أغضبت ربک﴾ شاید تم نے ان کو ناراض کردیا ہے، اگر تم نے ان کو ناراض کردیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ہے، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور معذرت کی۔

روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ۳۰/ صاع جو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی (بخاری) آپ کی دعاؤں میں یہ دعاء بہت مشہور ہے ﴿اللّٰہم أحینی مسکینا وأمتنی مسکینًا واحشرنی فی زمرة المساکین﴾ (ترمذی) اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھا، اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما۔

ان روایات سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیرانہ زندگی گذاری اور فقر میں صبر کا عملی نمونہ قائم فرمادیا، ایک دن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلے اور فرمایا ﴿یا أبا ذر أعلمت أن بین یدی الساعة عقبة کوٴودًا لا یصعدہا الا المخففون﴾ اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ قیامت میں ایک گھاٹی بڑی دشوار گذار ہوگی جس پر وہی چڑھ سکیں گے جو ہلکے ہوں گے، ایک آدمی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلکا ہوں یا بھاری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ایک دن کی خوراک ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کل کی خوراک ہے؟ اس نے کہا ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پرسوں کی ہے؟ اس نے کہا نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس تین دن کا کھانا ہوتا تب تم بھاری ہوتے، اور وہ گھاٹی عبور نہ کرپاتے۔ (طبرانی) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مال کی کثرت کو مالداری سمجھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿انما الغنی غنیٰ القلب والفقر فقر القلب﴾ اصل مالداری دل کی مالداری ہے اور اصل فقر دل کا فقر ہے۔ (نسائی)

اطاعت رسول کے جذبہٴ بے پناہ کے نتیجے میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فقر وفاقہ کی زاہدانہ زندگی کو ترجیح دیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تاریخ میں اس کے بے شمار نمونے موجود ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بار اپنی تلوار لے کر بازار آئے اور فرمایا کہ مجھ سے یہ تلوار کون خریدے گا؟ اگر میرے پاس چار درہم ہوتے جس سے میں تہہ بند خرید سکتا تو میں یہ تلوار فروخت نہ کرتا۔ (حیاة الصحابہ: ۲/۳۱۰)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ جاؤ ایک غلام مانگ لاؤ، تاکہ وہ گھر کا کام کردیا کرے اور تمہیں اتنی مشقت نہ اٹھانی پڑے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خدمت نبوی میں آئیں مگر شرم و حیاء سے کچھ کہہ نہ سکیں، واپس چلی گئیں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آئیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ چکی پیستے پیستے فاطمہ کے ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، آپ ایک خادم عنایت کردیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غلام تم کو نہیں دے سکتا، میں انہیں فروخت کرکے ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا، یہ سن کر حضرت علی و فاطمہ واپس چلے آئے، تھوڑی دیر بعد حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے، حضرت علی و فاطمہ دونوں لیٹے ہوئے تھے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ﴿ألا أخبر کما بخیر ما سألتمانی﴾ کیا میں تم کو اس چیز سے بہتر نہ بتاؤں جو تم نے مجھ سے مانگی تھی، دونوں نے عرض کیا کیوں نہیں ضرور بتائیے! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو مجھے جبریل نے سکھائے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللّٰہ، دس بار الحمد للّٰہ، اور دس بار اللّٰہ اکبر کہہ لیا کرو، اور بستر پر لیٹتے وقت ۳۳/ بار سبحان اللّٰہ، ۳۳/ بار الحمد للّٰہ، اور ۳۴/ بار اللّٰہ اکبر کہہ لیا کرو، حضرت علی کا بیان ہے ﴿فواللّٰہ ما ترکتہن منذ علمنیہن﴾ خدا کی قسم جب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھلائے آج تک میں نے انہیں نہ چھوڑا، پوچھا گیا کہ: ”کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟“ فرمایا کہ: ”نہیں اس رات بھی نہیں چھوڑا“۔ (الاصابة: ۴/۳۷۹)

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، اور ان کے گھر کا جائزہ لینے لگا، پھر بولا: اے ابوذر! میں آپ کے گھر میں کوئی سامان نہیں دیکھ رہا ہوں، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بولے کہ ہمارا اصل گھر دوسرا ہے (جنت) جہاں ہم سارا اچھا سامان (عمل صالح) بھیج رہے ہیں، وہ شخص بولا کہ جب تک یہاں ہیں کچھ سامان یہاں بھی ہونا چاہئے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس گھر کا مالک (اللہ) ہم کو یہاں رہنے نہیں دے گا (موت دے گا) اس لئے یہاں کچھ سامان رکھنا بے سود ہے۔ (مختصر منہاج القاصدین: ابن قدامہ المقدسی / ۳۶۸)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہدخلافت میں شام تشریف لے جاتے ہیں، شہر حمص کے دورے پر پہنچتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ یہاں سب سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اس کا نام لکھا جائے، تمام حاضرین جواب دیتے ہیں، سعید بن عام بن جذیم، حضرت عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ کون سعید؟ لوگ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے گورنر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑا تعجب ہوتا ہے، پوچھتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کیا ہوتی ہے؟ جواب ملتا ہے کہ سب فقراء میں تقسیم کردیتے ہیں، کچھ باقی نہیں رکھتے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں، وہ حضرت سعید کی خدمت میں ایک ہزار دینار بھجواتے ہیں، قاصد جاتا ہے اور کہتاہے کہ امیرالموٴمنین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ضروریات کیلئے یہ ہدیہ بھیجا ہے، حضرت سعید زور سے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہیں، ان کی بیوی اندر سے باہر آتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کیا بات ہے؟ کیا امیرالموٴمنین کا انتقال ہوگیا؟ حضرت سعید کہتے ہیں نہیں: اس سے بڑی مصیبت آئی ہے، اہلیہ پوچھتی ہیں: کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ جواب ملتا ہے: نہیں اس سے بڑا حادثہ ہوا ہے، اہلیہ پوچھتی ہیں کہ کچھ تو بتائیے کیا بات ہے؟ حضرت سعید فرماتے ہیں ﴿الدنیا: أتتنی الفتنة، دخلت علیّ﴾ دنیا کا فتنہ میرے پاس آگیا ہے، پھر وہ سب دینار مستحقین پر صرف کردیتے ہیں۔(کتاب الزہد للامام احمد: ۱۸۵)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہٴ خلافت میں جمعہ کی نماز میں کچھ تاخیر سے آئے، حاضرین کو اس سے ناگواری ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس بس ایک قمیص ہے، اسے دُھل دیا تھا، اس کے سوکھنے میں دیر ہوگئی۔

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار حضرت رابعہ عدویہ سے ملاقات کے لئے گئے، حضرت رابعہ بدحالی اور فقر کا شکار تھیں، حضرت سفیان نے انہیں اپنے کسی مالدار پڑوسی سے مدد طلبی کے لئے کہا، اس پر حضرت رابعہ نے جواب دیا ﴿یا سفیان وما تریٰ من سوء حالی؟﴾ اے سفیان! تم میری بدحالی کیا دیکھتے ہو؟ ﴿ألست علی الاسلام﴾ کیا تم اسلام پر یقین نہیں رکھتے؟ ﴿فہو العز الذی لا ذلّ معہ، والغنیٰ الذی لا فقر معہ، والأنس الذی لاوحشة معہ﴾ اسلام سراپا عزت ہے، اس کے ساتھ ذلت نہیں، وہ غنی ہے جس کے ساتھ فقر نہیں، وہ انس ہے جس کے ساتھ وحشت نہیں، ﴿واللّٰہ انی لأستحی أن اسأل الدنیا من یملکہا فکیف أسألہا من لا یملکہا؟﴾ بخدا میں تو اس اللہ سے دنیا مانگنے سے شرماتی ہوں جو دنیا کا مالک ہے، تو میں کیسے اس سے دنیا مانگ سکتی ہوں جو دنیا کا مالک نہیں ہے، یہ سن کر حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ بول اٹھے کہ ﴿ما سمعت مثل ہذا الکلام﴾ میں نے اس جیسا (عمدہ و موٴثر) کلام نہیں سنا۔

امام دارالہجرة امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ کو طلب علم کی راہ میں اپنے گھر کی شہتیریں تک فروخت کرنی پڑیں، اتنی مشقتوں کے بعد ان کو علم ملا، پھر جب وہ مسند مشیخت حدیث پر متمکن ہوئے تو دنیا ان پر ٹوٹ پڑی، وہ فرمایا کرتے تھے ﴿لاینال ہذا الأمر حتی یذاق فیہ طعم الفقر﴾ دین کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ساتھ فقر کا ذائقہ نہ چکھا جائے۔

(۲) بھوک اور پیاس کی مشقت:

خردونوش انسانی زندگی کے بقاء و قیام کا اہم ترین ذریعہ ہے، اگر آدمی خوردونوش سے محروم رہے تواس میں ضعف آجاتا ہے اور وہ موت کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے، اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی ملتی ہے ﴿اللّٰہم انی أعوذبک من الجوع فانہ بئس الضجیع﴾ خدایا میں بھوک سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ بدترین ساتھی ہے۔ (کنزالعمال: ۲/۳۶۸۹)

انبیاء و رسل علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء و اتقیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے بھوک پیاس کی مشقت پر صبر کیا، قناعت، رضا بالقضا اور صبر نے ان کی زندگیوں کو آراستہ کردیا تھا، غزوئہ خندق کے موقع پر سخت بھوک اور فاقہ مستی کا عالم تھا، ہر صحابی مضطرب تھا، ایک صحابی بے قرار ہوکر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں سخت بھوکا ہوں، اور اپنے پیٹ پر بندھا ہوا پتھر دکھا دیا، حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا شکم مبارک کھولا تو اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے تاکہ بھوک کی شدت کو محسوس نہ ہونے دیں۔

ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلافِ معمول بیٹھ کر نماز ادا کررہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا نہیں: بھوک کی شدت ہے جس کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا ہے، اس لئے بیٹھ کر نماز ادا کررہا ہوں۔

مکی زندگی میں جب اہل کفر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور قبیلہ بنو ہاشم کا مقاطعہ کیا اور آپ کو شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا، تین سالہ مقاطعہ کی اس طویل مدت میں آپ کو اور تمام لوگوں کو بھوک اور پیاس کی مشقت پر سینکڑوں بار صبر کرنا پڑا، درخت کے پتوں پر گذارا کرنا پڑا، یہاں تک کہ منھ زخمی ہوگئے، آپ کی سیرت طیبہ میں ایسے واقعات بے شمار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری رات بھوک کے عالم میں گذاری، بھوک مٹانے کے لئے کچھ نہ تھا، صبح کو گھر میں آتے اور کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔

صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں بھی اسی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں، انھوں نے پورے صبر اور عزیمت و حوصلہ مندی کے ساتھ بھوک و پیاس کی مشقت کا مقابلہ کیا، کبھی بھوک کی شدت ان کو بے چین بناتی تھی، کبھی پیاس کی شدت بے ہوش کردیتی تھی، اہل صفہ اس صبر کے لحاظ سے سب میں ممتاز ہیں، جس کا اندازہ صرف اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سات سات آدمی ایک ہی کھجور کو باری باری چوستے تھے تاکہ بھوک کی شدت میں کمی آئے، اس کے سوا کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تھا۔

شیخ عبدالقادر جیلانی کی فاقہ کشی:

شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا: میں نہر کے کنارے سے خرنوب اشوک،گری پڑی سبزی اور خس کے پتے لے کر آتا اور ان کو کھاکر گذارہ کرتا، بغداد میں اس قدر ہوش ربا گرانی تھی کہ مجھے کئی دن بغیر کھائے ہوجاتے تھے، اور میں اس تلاش میں رہتا تھا کہ کہیں کوئی پھینکی ہوئی چیز مل جائے تو اسے اٹھاکر بھوک مٹالوں، ایک روز، بھوک کی شدت میں اس امید پر دریا کے کنارے چلاگیا کہ شاید مجھے خس یا سبزی وغیرہ کے پتے پڑے ہوئے مل جائیں گے، تو اسے کھالوں گا، مگر میں جہاں بھی پہنچا معلوم ہوا، مجھ سے پہلے کوئی دوسرا اٹھاکر لے گیا، کہیں کچھ ملا بھی تو وہاں دوسرے غریبوں اور ضرورت مندوں کو اس پر چھینا جھپٹی کرتے ہوئے دیکھا، اور میں ان کی محبت میں اسے چھوڑکر چلا آیا۔

میں وہاں سے چلتا ہوا اندرونِ شہر آیا، خیال تھا کہ کوئی پھینکی ہوئی چیز مل جائے گی لیکن یہاں بھی اندازہ ہوا کہ کوئی مجھ سے پہلے اٹھاکر لے گیا ․․․․ میں بغداد کے ”عطر بازار“ میں واقع مسجد یاسین کے پاس پہنچا تو بہت ہی نڈھال ہوچکا تھا اور قوتِ برداشت جواب دے چکی تھی، میں مسجد میں داخل ہوگیا، اور ایک کونے میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگا۔

کھانا لئے ایک عجمی نوجوان کی آمد:

اتنے ہی میں ایک عجمی نوجوان صاف ستھری روٹیاں اور بھنا ہوا گوشت لے کر آیا اور بیٹھ کر انہیں کھانا شروع کردیا وہ جب لقمہ لیکر ہاتھ اوپر کرتا تو بھوک کی شدت کی وجہ سے بے اختیار میرا منھ کھل جاتا، کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے آپ کو ملامت کی، اور دل میں کہا: یہ کیاحرکت ہے؟ یا تو خدا کھانے پینے کا کوئی انتظام کرے گا، اوراگر موت کا فیصلہ لکھ چکا ہے تو پھر وہ پورا ہوکر رہے گا!!

کھانے کے لئے اصرار:

اچانک عجمی کی نظر میرے اوپر پڑی، اور اس نے مجھے دیکھ کر کہا: بھائی، آؤ کھانا کھالو، میں نے منع کردیا، اس نے قسم دی تو میرے نفس نے لپک کر کہا کہ اس کی بات مان لو، لیکن میں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پھر انکار کردیا، اس نے پھر قسم دی، اور آخر میں راضی ہوگیا اور رُک رُک کر تھوڑا تھوڑا کھانے لگا، وہ مجھ سے پوچھنے لگا، تم کیا کرتے ہو؟ کہاں کے ہو؟ اور کیا نام ہے؟ میں نے کہا: میں جیلان سے پڑھنے کے لئے آیا ہوں، اس نے کہا: ”میں بھی جیلان کا ہوں.“ کیا تم ابوعبداللہ صومعی درویش کے نواسے، عبدالقادر نامی، جیلانی نوجوان کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: میں وہی تو ہوں!۔ (صبر و استقامت، ص: ۱۰۷، ترجمہ: عبدالستار قاسمی)

محمد بن نصر مَرْوزی کا پیاس کے مارے بُرا حال:

حافظِ حدیث، خطیب بغدادی، تاریخ بغداد میں اور حافظ ذہبی ”تذکرة الحفاظ“ میں امام محمد بن نصر مروزی (پیدائش ۲۰۲ھ وفات ۲۹۴ھ) کا تذکرہ کرتے ہوئے ابوعمرو عثمان بن جعفر بن لبان کی روایت سے محمد بن نصرمروزی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ:

”میں مصر سے اپنی ایک باندی کو لے کر چلا، اور مکہ مکرمہ جانے کے لئے ایک جہاز پر سوار ہوا، اچانک راستہ میں اُسے حادثہ پیش آیا اور ڈوب گیا، اور اسی کے ساتھ میری دو ہزار کتابیں بھی بہہ گئیں، کسی طرح میں اور میری باندی ایک جزیرے میں پہنچ گئے، دیکھا تو وہاں دور دور تک کوئی نظر نہ آتا تھا. مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی، مگر پانی کا کہیں نام و نشان نہ تھا، جب میں نڈھال ہوگیا تو باندی کی ران پر سررکھ کر لیٹ گیا اور موت کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔

غیبی امداد:

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ایک کوزہ میں پانی لے کر آیا، اوراس نے کہا پیو! میں نے لے کر خود پیا اور باندی کو پلایا، اس کے بعد وہ چلاگیا، مجھے پتہ نہیں کہ وہ کہاں سے آیا اور کہاں کو گیا۔ (تاریخ بغداد: ج: ۳، ص: ۳۱۷، تذکرة الحفاظ، ج: ۲، ص: ۶۵۲)

مجبوری سب کچھ کرواتی ہے:

بکربن حمدان مروزی کی روایت ہے کہ انھوں نے ابنِ خروش کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”مجھے طلب حدیث میں پانچ مرتبہ اپنا پیشاب پینے کی نوبت آئی ہے۔“

اس کی وجہ دراصل یہ تھی کہ وہ حدیث حاصل کرنے کے شوق میں بیابانوں اور بے آب و گیاہ میدانوں میں رات دن پیدل چلا کرتے تھے اور راستے میں سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ (العبر فی خبر من غبر، ج:۲، ص: ۷۰، میزان الاعتدال، ج:۲، ص: ۶۰۰)

(۳) بیماری اور مرض کی مشقت:

مرض اور بیماری کی آزمائشوں سے عام طور پر کوئی محفوظ نہیں رہتا، اسلام نے حالت مرض میں صبر کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن میں حضرت ایوب کا صبر نمونہ کے طور پر بیان ہوا ہے، ان کے اندر حالت مرض میں صبر کی بے پناہ طاقت اللہ نے بھردی تھی، اسی لئے صبر ایوب ضرب المثل بن گیا، بقول شاعر۔

و فی  أ یو ب قُد و تنا

اذا ما استفحل الکرب

لنا فی صبر ہ و ز ر

یزول بنورہ الخطب

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر پریشانی زیادہ ہونے کے وقت ہمارے لئے نمونہ ہے، جس میں ہمارے لئے پناہ گاہ ہے، جس کے نور سے پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے لخت جگر حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق پر بیحد صدمہ پہنچا جس سے ان کی صحت متاثر ہوئی اور روتے روتے بینائی ختم ہوگئی، مگر انھوں نے صبر سے کام لیا، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے لقمہ بنایا، پھر ایک کنارے پر اگل دیا، اس وقت وہ بیحد کمزور اور نحیف و ناتواں ہوگئے تھے، مگر وہ صبر سے کام لیتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کی طاقت انہیں لوٹادی۔

خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمام لوگوں کیلئے صبر کے میدان میں بھی بہت اعلیٰ اور عمدہ نمونہ اور مشعل راہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بارے میں فرمایا ﴿انی أوعک کما یوعک رجلان منکم﴾ (بشرالصابرین: ۵۹) مجھے اتنا بخار آتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کوآتا ہے، بارہا ایسا ہوا کہ آپ مبتلائے بخار ہوئے، شدت بخار کی وجہ سے آپ تڑپتے اور کروٹیں بدلتے رہے مگر آپ مرضی بقضا رہے اور کلمہٴ خیر کے سوا زبان سے کچھ نہ نکلا، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ بخار میں تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے، میں نے چادر کے اوپر ہاتھ رکھا اور کہا ﴿ما أشد حماک یا رسول اللّٰہ؟﴾ اے اللہ کے رسول! آپ کو کتنا سخت بخار ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿انا کذلک یشدد علینا البلاء، ویضاعف لنا الأجر﴾ ہم پر اسی طرح سخت آزمائش آتی ہے اور دوہرا اجر ملتا ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! ﴿من أشد الناس بلاءً؟﴾ سب سے سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ فرمایا: ﴿الأنبیاء﴾ انبیاء کی، پوچھا پھر کس کی؟ فرمایا ﴿العلماء﴾ اہل علم کی، پوچھا پھر کس کی؟ فرمایا ﴿الصالحون﴾ نیک بندوں کی، پھر فرمایا کہ ﴿وکان أحدہم یُبتلیٰ بالقمل حتی یقتلہ﴾ پچھلے لوگوں میں کسی پر جویں مسلط کردی جاتی تھیں جو اسے مار ڈالتی تھیں، یہ آزمائش ہوتی تھی، ﴿وکان أحدہم یُبتلی بالفقر حتی ما یجد الا العباء ة یلبسہا﴾ اور کسی کو فقر میں مبتلا کیا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے ایک عبا کے سوا کوئی لباس نہ میسر آتا تھا ﴿ولأحدہم کان أشد فرحاً بالبلاء من أحدکم بالعطاء﴾ ان کو آزمائش پر اتنی زیادہ مسرت ہوتی تھی جتنی تم کو نعمتوں اور عطیات پر ہوتی ہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ ابن ماجہ: ۵۹)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک بار رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم میں کہیں درد ہونے لگا، آپ بے چین ہوگئے، کروٹ بدلنے لگے، حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی ایسا کرتا تو آپ اس پر ناراض ہوجاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان الموٴمنین لیشدد علیہم، وانہ لیس من موٴمن تصیبہ نکبة شوکة ولا وجع الا کفر اللّٰہ عنہ بہا خطیئة ورفع لہ بہا درجة﴾ بلا شبہ اہل ایمان پر سختی کی جاتی ہے، اور جس مسلمان کو کوئی چوٹ لگتی ہے، کانٹا چبھتا ہے، درد ہوتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے، تواللہ اسے اس کی خطاؤں کا کفارہ بنادیتا ہے اور اس کے درجے بلند کردیتا ہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ بیہقی)

حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو حالت مرض میں صبر کی تاکید فرماتے تھے اور بیماری کو گناہوں سے پاکی کا ذریعہ اور ترقیٴ درجات کا زینہ بتاتے تھے، روایات میں آتا ہے کہ ایک کالی عورت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور میرا بدن کھل جاتا ہے، آپ میرے لئے اللہ سے دعا کردیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ان شئت صبرت ولک الجنة، وان شئت دعوت اللّٰہ أن یعافیک﴾ اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تم کو جنت ملے، اور چاہو تو میں اللہ سے دعاء کردوں کہ تم کو عافیت عطاء فرمائے، اس عورت نے کہا کہ میں صبر کروں گی، مگر آپ اتنی دعا کردیجئے کہ میرا بدن نہ کھلے، تو آپ نے دعاء فرمادی۔ (وبشرالصابرین بحوالہ مسند احمد: ۶۱۔)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے آئے، فرمایا کہ یہ مرض تو ٹھیک ہوجائے گا مگر میری وفات کے بعد جب تم اندھے ہوجاؤگے اور لمبی عمر پاؤگے تو کیا کروگے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ﴿اذاً اصبر و احتسب﴾ تب تو میں بہ نیت ثواب صبر کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿اذاً تدخل الجنة بغیر حساب﴾ تب تم جنت میں بے حساب داخل ہوگے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہوگئی، مگر وہ تازندگی صابر رہے۔ (وبشرالصابرین بحوالہ مسند ابی یعلیٰ: ۶۱)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں لوگ ان کی عیادت کیلئے آئے، اور طبیب بلانے کا مشورہ دیا، اس پر انھوں نے فرمایا کہ طبیب مجھے دیکھ چکا ہے اور اس کا کہنا ہے ﴿انی فعال لما أرید﴾ میں وہی کرتا ہوں جو چاہتا ہوں۔ (وبشر الصابرین بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ، ص: ۶۱)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، ان کے ساتھیوں نے کہا کہ اے ابوالدرداء! تمہیں کیا تکلیف ہے؟ فرمایا: گناہوں کی تکلیف ہے، پوچھا گیا کہ کیا خواہش ہے؟ فرمایا: جنت کی خواہش ہے، عرض کیاگیا کہ کیا کسی طبیب کو بلایا جائے؟ فرمایا کہ طبیب (اللہ) ہی نے تو مجھے لٹایا (اور بیمار کیا) ہے۔ (وبشر الصابرین بحوالہ طبقات ابن سعد: ۶۲)

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مرض طاعون میں مبتلا ہوگئے مگر اس پر صابر رہے اور فرمایا کہ اس مرض کے بدلے سرخ اونٹ مجھے پسند نہیں ہیں۔ (وبشر الصابرین بحوالہ کنزالعمال)

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پیر کا کچھ حصہ سڑگیا جس کا نکالنا ضروری ہوگیا، ڈاکٹر نے پیر کاٹنے سے پہلے بے ہوش کرنا چاہا، مگر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ نہ ہوئے، کچھ لوگ ان کو پکڑنے اور تھامنے آئے تاکہ آپریشن کے وقت وہ حرکت نہ کریں مگر آپ نے منع کردیا، اور ہوش و حواس کے عالم میں پیر کٹوادیا، ان کی زبان پر تسبیح و ذکر کا ورد جاری تھا، آپریشن ختم ہونے کے بعد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ﴿لقد لقینا من سفرنا ہذا نصباً﴾ اس سفر میں بڑی مشقت اور تعب کا سامنا کرنا پڑا، پھر کٹا ہوا پیر اپنے ہاتھ میں لے کر اسے مخاطب کیا کہ: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں تمہارے ذریعہ کسی حرام کی طرف کبھی نہیں چلا“ (وبشر الصابرین بحوالہ کنزالعمال) اسی طرح کے واقعات امام احمد بن حنبل اور دیگر اکابر رحمہم اللہ کے بھی ہیں۔

ام ابراہیم نامی خاتون بڑی نیک، عبادت گذار اور خداترس تھیں، ایک بار اونٹ نے ان کو پٹخ دیا جس کی وجہ سے ان کا پیر ٹوٹ گیا، کچھ لوگ عیادت کیلئے آئے تو انھوں نے فرمایا ﴿لولا مصائب الدنیا وردنا الآخرة مفالیس﴾ اگر دنیا کے مصائب نہ ہوتے تو ہم آخرت میں خالی ہاتھ اور مفلس آتے۔ (صفوة الصفوة: ۴/۳۸)

(۴) موت کی مشقت پر صبر:

انسان کو لاحق ہونے والے مصائب میں سب سے سخت اور دردناک مصیبت موت ہے، خود قرآن میں موت کو مصیبت کہا گیا ہے (سورہ مائدہَ ۱۰۶) اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے. (آل عمران: ۱۸۵، الانبیاء: ۳۵، العنکبوت: ۵۷) اور یہ موت و حیات کی تخلیق انسان کے حسن عمل کی آزمائش کیلئے ہے ﴿الذی خلق الموت والحیاة لیبلوکم أیکم أحسن عملاً﴾ (الملکَ۲) جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں کس کا عمل اچھا ہے، جو اس زندگی کو غنیمت سمجھ کر طاعات کا خوگر بن جاتا ہے وہ کامیاب و بامراد ہے، اور جو اسے غنیمت نہیں سمجھتا اور نیکی نہیں کرتا وہ خائب و خاسر ہے۔

قرآن میں صراحت آئی ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، وہ اپنے وقت مقرر پر آکر رہتی ہے، اس میں تقدیم و تاخیر ناممکن ہے، وہ ہر جگہ آسکتی ہے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، قرآن کہتا ہے ﴿ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم﴾ (الجمعةَ ۸) جس موت سے تم فرار اختیار کررہے ہو وہ تم کو پیش آکر رہے گی، عرب شاعر ابوالعتاہیہ کہتا ہے۔

لا تأمن الموت فی طرفٍ ولا نفس ولو تستّرتَ بالابواب والحرس

واعلم بأن سہام الموت قاصدَة                

لکل مدرعٍ منّا مترسٍ (وبشرالصابرین: ۶۶)

تم ایک لمحے کے لئے بھی موت سے بے خوف نہ رہو، تم چاہے جتنا چھپ جاؤ، حفاظتی انتظام کرلو، پہرے کا بندوبست کرو، بچاؤ کا سامان کرو موت کا تیر تم تک پہنچ کررہے گا۔

اسی لئے قرآن میں حکم ہے ﴿ولتنظر نفس ما قدّمت لغد﴾ (الحشرَ۱۸) جب موت آنی ہے تو ہر شخص کو یہ فکر ہونی چاہئے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیج رکھا ہے، حدیث نبوی ہے ﴿الکیّس من دان نفسہ و عمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسہ ہواہا وتمنّٰی علی اللّٰہ الأمانی﴾ (وبشرالصابرین: بحوالہ ترمذی و مسند احمد و ابن ماجہ) عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے کام کرے، اور عاجز و بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنی خواہش کے تابع کردے اور اللہ سے امیدیں باندھے رکھے، ایک حدیث میں وارد ہوا ہے ﴿اغتنم خمسا قبل خمس: حیاتَک قبل موتک، وصحتک قبل سقمک، وفراغک قبل شغلک، وشبابک قبل ہرمک، وغناک قبل فقرک﴾ (وبشر الصابرین: بحوالہ بیہقی) تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو مرض سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو فقر سے پہلے غنیمت سمجھو۔

حضرت عمر فاروق کا فرمان ہے ﴿حاسبوا أنفسکم قبل أن تحاسبوا، وزِنوا أعمالکم قبل أن توزن علیکم، فالیوم عملٌ ولا حساب، وغدًا حساب ولا عمل﴾ (مختصر منہاج القاصدین: ۳۷۲) اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے، اپنے اعمال تولو قبل اس کے کہ (قیامت میں) ان کاوزن کیا جائے، کیونکہ آج (دنیا) عمل کا وقت ہے نہ کہ حساب کا، اور کل (قیامت کا دن) حساب کا وقت ہے نہ کہ عمل کا۔

اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ موت کے وقت آدمی صبر اور رضا بالقضا اور اللہ کے سامنے خود سپردگی کا مظاہرہ کرے، یہی ایمان صادق کی دلیل اور اخروی کامیابیوں کے حصول کا ذریعہ ہے، حدیث قدسی ہے، اللہ فرماتا ہے ﴿ما لعبدي الموٴمن عندی جزاء اذا قبضت صفیہ من أہل الدنیا ثم احتسبہ الا الجنة﴾ جس بندہ مومن کے کسی عزیز کی میں روح قبض کرلوں اور وہ اس پر بہ نیت ثواب صبر کرے تواس کے لئے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں ہے۔

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خصوصاً اشرف الانبیاء محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصیبتِ موت کا بارہا سامنا ہوا، ولادت سے قبل ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، چھ سال کی عمر میں ماں کا وصال ہوگیا، آٹھ سال کی عمر میں شفیق دادا داغِ مفارقت دے گئے، پھر نبوت کے بعد مہربان چچا ابوطالب اور مخلص بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی چل بسے، اور وہ سال آپ کے لئے غم و اندوہ کا سال ہوگیا، اولاد کی وفات کا صدمہ بھی آپ نے سہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر ان کے سوا تمام صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی وفات آپ کے سامنے ہوئی، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کی وفات آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی، شفیق چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے غزوہ احد میں بے دردی سے شہید اور ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے، احد کے بعد مدینہ کی عورتیں اپنے مقتول و شہید اعزہ کا ماتم کررہی تھیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ﴿لكن حمزة لا بواكى له﴾ حمزہ پر رونے والیاں نہیں تھیں، آپ کے سامنے آپ کے بہت سے جاں نثار اصحاب نے وفات پائی، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا، حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی میں اپنا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر رکھ کر آخری ہچکی لی۔

معرکہٴ احد کے شہداء میں حضرت انس بن نضر، سعد بن ربیع اور عمرو بن جموح رضی اللہ عنہم سرفہرست رہے، غزوہ موتہ کے وفا شعار قائدین حضرت زید بن حارثہ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہم بھی نعمت شہادت سے سرفراز ہوئے، مگر موت و شہادت کے ان اور ان جیسے بے شمار حوادث کے موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے تربیت و فیض یافتہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صبر و تحمل اور استقامت و ثبات کا بے نظیر ریکارڈ قائم کیا، اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے سامنے نمونہٴ عمل رکھ دیا۔

اولاد کی موت پر صبر:

حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ﴿اذا مات ولد العبد قال اللّٰہ تعالیٰ لملائکتہ: قبضتم ولد عبدی، فیقولون: نعم، فیقول: قبضتم ثمرة فوٴداہ؟ فیقولون: نعم، فیقول: فماذا قال عبدی: فیقولون: حمدک واسترجع فیقول اللّٰہ تعالیٰ: ابنوا لعبدی بیتًا فی الجنة وسموہ بیت الحمد﴾ جب کسی کا بچہ وفات پاجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ کیا تم نے میرے بندے کے بچہ کی روح قبض کرلی؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں، اللہ فرماتا ہے کہ کیا تم نے اس کے دل کے ٹکڑے کو چھین لیا؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں، اللہ پوچھتا ہے کہ میرے بندے نے اس پر کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے آپ کی حمد بیان کی اور "انا للّٰہ وانا الیہ راجعون" کہا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد (تعریف کا گھر) رکھو۔ (ترمذی)

حضرت عتبہ بن عبداللہ، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ﴿ما من مسلم یموت لہ ثلاثة من الولد لم یبلغوا الحنث الا تلقّوہ من أبواب الجنة الثمانیة من أیہا شاء دخل﴾(مسند احمد وابن ماجہ) جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجاتے ہیں (اور وہ صبر کرتا ہے) تو یہ بچے اسے جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوجائیگا۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ما منکنّ امرأة تقدّم بین یدیہا ثلاثةً من ولدہا الا کانوا لہا حجاباً من النار، قالت امرأة: واثنین؟ قال: واثنین﴾ (مسند احمد) جس عورت کے تین بچے وفات پاجائیں وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ اور پردہ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دو بچے وفات پاجائیں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دو بچے وفات پاجائیں تو بھی یہی بات ہے کہ وہ جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔

کسی صحابی کے کم سن بچے کے انتقال کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن صحابی سے فرمایا ﴿ألا یسرّک أن لا تأتی بابا من أبواب الجنة الا وجدتہ عندہ یسعیٰ یفتح لک﴾ (مسند احمد ونسائی) کیا یہ تمہارے لئے مسرت کی بات نہیں ہے کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ اس بچے کو وہاں دوڑتے ہوئے اور اپنے لئے جنت کے دروازے کھلواتے ہوئے پاؤ۔

حضرت خنساء رضی اللہ عنہا مشہور شاعرہ ہیں، جنگ قادسیہ میں ان کے چاروں بیٹوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جب یہ خبر ان کو ملی تو انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے شرف کی بات ہے، اور مجھے اللہ سے خیر کی امید ہے۔

شوہر کی موت پر صبر:

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے وصال پر ان کی وفا شعار بیوی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بے پناہ غم لاحق ہوا، انھوں نے صبر سے کام لیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی یہ دعا پڑھی کہ ﴿اللہم آجرنی فی مصیبتی وأخلف لی خیرا منہا﴾ اے اللہ مجھے اس مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ پھر انہیں اللہ نے ابوسلمہ سے اچھا بدل عطاء فرمایا اور وہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں۔

بیوی کی موت پر صبر:

اس کا سب سے عمدہ نمونہ خود حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر صبر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خواتین میں سب سے پہلے مشرف باسلام ہوئیں، اور ہر طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاون کیا، اور تسلی دیتی رہیں، ان کی وفات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد غم ہوا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا، دیگر ازواج مطہرات کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر فرماتے تھے اور ان کی خوبیوں کو بیان کرتے تھے۔

ابراہیم بن ادہم کا صبر:

ایک بار سلطان ابراہیم با ادہم رحمۃ اللہ علیہ حج کے لئے آئے ہوئے تھے، قربانی کے دن حجامت بنوانے کی ضرورت ہوئی، اور ایک حجام سے بات ہوئی، لیکن جس وقت اس نے بال کاٹنے شروع کئے اسی وقت ایک مالدار آدمی جو اس کو ایک دینار اجرت دینے پر تیار تھا آگیا اور اس نے اس سے کہا کہ میری حجامت بنادو، پیسہ کی لالچ میں وہ ابراہیم ابن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوگیا اور جب اس سے فارغ ہوا تو پھر ان کی طرف آیا، ابھی تھوڑے ہی بال کاٹے تھے کہ ایک اور صاحب دینار آگیا اور وہ حجام ان کو چھوڑ کر پھر اس کے بال کاٹنے میں مشغول ہوگیا، غرض پانچ یاچھ مرتبہ یہ قصہ پیش آیا، آخر کسی نہ کسی طرح جب سلطان ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے بال کاٹ کرفارغ ہوا تو انھوں نے مزدوری دوگنی دی، وہ یہ دیکھ کر بہت شرمندہ اور حیران ہوا کہ میں نے تو ان کو اتنا پریشان اور ذلیل کیا اور یہ الٹی مجھے دوگنی مزدوری دے رہے ہیں، اس نے پوچھا: اے درویش! آپ مجھے دوچند اُجرت کیوں دے رہے ہیں؟ میں نے طمعِ دنیاوی اور اہل دنیا کے خوف سے آپ کی حق تلفی کی تھی، مجھے تو آپ سے کچھ بھی ملنے کی امید نہ تھی، اگر دینا ہی ہے تو جتنا سب دیتے ہیں وہ آپ بھی دے دیں، دو چند دینے کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا، اُجرت تو حق محنت کی ہے اور زیادتی اس بات کی کہ جب تم مجھے چھوڑکر کسی مالدار کی حجامت بنانے کے لئے جاتے تھے تو میرے نفس میں شدید غصہ اور اشتعال پیدا ہوتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ تم کو کچھ کہہ دیں، لیکن میں نے اپنے نفس کو شکست دینے کے لئے صبر سے کام لیا اور صابرین کا درجہ بہت بڑا ہے اور یہ سب مجھے تمہاری بدولت حاصل ہوا، اس لئے درحقیقت تم میرے دوست ہو، اور اجرت میں اضافہ کی یہی وجہ ہے۔ (اخلاق سلف سوم، ص: ۲۰۰، مرتبہ حضرت مولانا محمد قمرالزماں صاحب مدظلہ)

اسلاف کے صبر و تحمل اور استقامت کے یہ چند نمونے ہیں جو ہر مدعیٴ اسلام کی رہنمائی کا سامان ہیں۔

ازقلم: مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی (2)  (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post_5.html



Wednesday, 4 November 2020

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے

تنبیہات سلسلہ نمبر 145: پچھلی صدی کے کتے بھی ہم سے زیادہ غیرت مند تھے
● سوال:
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
حافظ ابن حجر العسقلانی نے ایک کتے کا ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو کاٹ کھایا.
ایک دن نصاریٰ کے بڑے پادریوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں ایک عیسائی مبلّغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکی، قریب ہی ایک شکاری کتا بندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکے سے رسی نکال کر اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹ لیا. لوگوں نے آگے بڑھ کر اس کتے کو قابو کیا اور پیچھے ہٹایا۔ تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا ہے، اس صلیبی نے کہا: بالکل نہیں، بلکہ یہ خوددار کتا ہے. جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں تو اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لئے ہاتھ اٹھا رہا ہوں اسلئے اس نے مجھ پر حملہ کردیا، یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر گالی بکی، اس بار کتے نے رسی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پر چھلانگ لگا کر اس کی منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہوگیا، اس کو دیکھ کر چالیس ہزار (40,000) منگولوں نے اسلام قبول کیا۔ (الدرر الکامنة: 3/203)
اور امام الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ "معجم الشیوخ" (صفحہ: 387) میں نقل کیا ہے، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ: اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کو کاٹا اور اس کی گردن کو دبوچا جس سے وہ ہلاک ہوگیا...
      کیا یہ واقعہ درست ہے؟
      ▪ الجواب باسمه تعالی
سوال میں مذکور واقعہ چھٹی ہجری میں پیش آیا ہے اور اس واقعے کو ابن حجر اور ذہبی رحمهما اللہ  نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کو درست قرار دیا ہے.
ابن حجر فرماتے ہیں کہ عیسائیوں نے اپنے داعی مغل قبیلوں میں پھیلا دیئے تھے تاکہ لوگوں کو عیسائی بناسکیں، ایک مرتبہ ہلاکو خان نے اپنی عیسائی بیوی ظفر خاتون کے کہنے پر ان عیسائیوں کو دعوت کی اجازت دے رکھی تھی .... إلی آخرہ
□ قال الإمام ابن حجر العسقلاني في كتابه "الدرر الكامنة": كان النصارى ينشرون دعاتهم بين قبائل المغول طمعا في تنصيرهم وقد مهد لهم الطاغية هولاكو سبيل الدعوة بسبب زوجته الصليبية ظفر خاتون، وذات مرة توجه جماعة من كبار النصارى لحضور حفل مغولي كبير عقد بسبب تنصر أحد أمراء المغول، فأخذ واحد من دعاة النصارى في شتم النبي صلى الله عليه وسلم، وكان هناك كلب صيد مربوط، فلما بدأ هذا الصليبي الحاقد في سبّ النبي صلى الله عليه وسلم زمجر الكلب وهاج ثم وثب على الصليبي وخمشه بشدة، فخلصوه منه بعد جهد...
فقال بعض الحاضرين: هذا بكلامك في حق محمد عليه الصلاة والسلام، فقال الصليبي: كلا! بل هذا الكلب عزيز النفس رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه، ثم عاد لسب النبي وأقذع في السب، عندها قطع الكلب رباطه ووثب على عنق الصليبي وقلع زوره في الحال فمات الصليبي من فوره، فعندها أسلم نحو أربعين ألفا من المغول. (الدرر الكامنة، جزء: 3، صفحة 202)
امام ذہبی نے بھی اسی واقعے کو نقل کیا ہے.
□ قال الحافظ الذهبي في
"معجم الشيوخ" (ص: 387، ط: دار الكتب العلمية):
حدثنا الزين علي بن مرزوق بحضرة شيخنا تقي الدين المنصاتي: سمعت الشيخ جمال الدين إبراهيم بن محمد الطيبي بن السواملي يقول في ملإ من الناس: حضرت عند سونجق (خزندار هولاكو وأبغا) وكان ممن تنصر من المغل، وذلك في دولة أبغا في أولها، وكنا في مخيمه وعنده جماعة من أمراء المغل وجماعة من كبراء النصارى في يوم ثلج، فقال نصراني كبير لعين: أي شيء كان محمد (يعني نبينا صلى الله عليه وسلم)؟ كان داعيا وقام في ناس عرب جياع، فبقي يعطيهم المال ويزهد فيه فيربطهم. وأخذ يبالغ في تنقص الرسول صلى الله عليه وسلم، وهناك كلب صيد عزيز على سونجق في سلسلة ذهب، فنهض الكلب وقلع السلسلة ووثب على ذاك النصراني فخمشه وأدماه، فقاموا إليه وكفوه عنه وسلسلوه، فقال بعض الحاضرين: هذا لكلامك في محمد صلى الله عليه وسلم. فقال: أتظنون أن هذا من أجل كلامي في محمد؟ لا! لكن هذا الكلب عزيز النفس؛ رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه فوثب. ثم أخذ أيضا يتنقص النبي صلى الله عليه وسلم ويزيد في ذلك. فوثب إليه الكلب ثانيا وقطع السلسلة وافترسه (والله العظيم) وأنا أنظر! ثم عض على زردمته فاقتلعها فمات الملعون، وأسلم بسبب هذه الواقعة العظيمة من المغل نحو من أربعين ألفا، واشتهرت الواقعة.
                 ▪ خلاصہ کلام
سوال میں مذکور واقعہ چونکہ ان دونوں محدثین کے قریبی زمانے میں پیش آیا تھا لہذا ان دونوں حضرات کا اس واقعے کو اپنی سند سے نقل کرنا ہی اس کی صحت کی دلیل ہے. چونکہ مغل قوم سے اللہ تعالی نے اسلام کی خدمت کا کام لینا تھا تو اس طرح کے معجزات کا پیش آنا اس قوم کے اسلام میں دخول کا پیش خیمہ ثابت ہوا.
    《واللہ اعلم بالصواب》
0333-8129000
٣ نومبر ٢٠١٨ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

باسمہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک وائس مسیج سوشل میڈیا پر کثرت کے ساتھ گردش کررہا ہے، جو درج ذیل ہے👇 

جیسا کہ آج کل فرانس کے صدر آمانویل میکرون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر گستاخانہ کارٹون بنانے والوں کو ایوارڈ دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جناب عالی یہ سارے کارٹون جو ہے نبی پاک کی گستاخی میں جو بنائے گئے ہیں وہ پورے فرانس کے ہر شہر میں ہر صوبے میں ہر روڈ پر چورنگی پر ہوڈنگس پر ہوٹلس پر لگائے جائیں گے (العیاذ باللہ) یہ تو کفر ہے، تو اس کے ساتھ وہی ہونا چاہئے جو ایک بادشاہ کے ساتھ ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک بادشاہ نے گستاخی کی تھی، آپ کے خط مبارک کو پھاڑ دیا تھا، اس کو تھوکا اور پاؤں تلے مسلا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللهم سلط عليه كلبا من كلابك" یا اللہ اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پر مسلط کردے، وہ بادشاہ جو ہے بڑے بڑے وحشی جانوروں کو ، درندوں کو پالنے کا شوقین تھا اور اسی میں سے ایک  دیوار پھٹی اور پیچھے سے ایک شیر باہر آیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اس ملعون کے، جیسے اس نے نبی پاک کے خط کے ساتھ گستاخی کی تھی۔           

اس کی مدلل تحقیق مطلوب ہے، آپ سے گزارش ہے کہ جواب شافی و کافی دے کر عنداللہ ماجور و ممنون ہو۔ 

فقط والسلام مع الاحترام ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب:- 

نہیں، وہ الگ واقعہ ہے، جو الفاظ ملعون لہب بن ابو لہب کے متعلق ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا دی تھی، اور آپ کی بد دعا کے مطابق ایسا ہی ہوا کہ اسے شام کے راستے میں شیر نے پھاڑ کھایا اور وہ ملعون مرگیا۔ پورا واقعہ عربی الفاظ میں درج ذیل ہے 👇

روى الحاكم (3984) والبيهقي في "الدلائل" (622) أن لهب بن أبي لهب كان يسب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (اللهم سلط عليه كلبك)، فخرج في قافلة يريد الشام فنزل منزلا فقال: إني أخاف دعوة محمد صلى الله عليه وسلم، قالوا له: كلا. فحطوا متاعهم حوله وقعدوا يحرسونه، فجاء الأسد فانتزعه فذهب به.

وقال الحاكم: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي.

ورواه أبو نعيم في "الدلائل" (220) وسماه عتبة بن أبي لهبب، وفيه: (اللهم سلط عليه كلبا من كلابك).

والحديث حسنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" (4 /39)، والعيني في "عمدة القاري" (16 /51)، والشوكاني في "نيل الأوطار" (5 /80)، والصنعاني في "سبل السلام" (2 /195) 

اس میں شیخ طلحہ بلال منیار کی تحریر ملاحظہ فرمائیں 👇

 لهب بن أبي لهب غيرمعروف في أولاد أبي لهب، وأظنه خطأ من الراوي

والمعروف المشهور أن أولاد أبي لهب أربعة ، ثلاثة أبناء، وهم عتبة وعُتيبة ومُعَتِّب، وابنة اسمها دُرَّة.

هكذا في كتب الأنساب

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة كَذَلِك وَقَالَ: هَكَذَا قَالَ عَبَّاس بن الْفضل (لَهب بن أبي لَهب) وعباس لَيْسَ بِالْقَوِيّ، وَأهل الْمَغَازِي يَقُولُونَهُ: عتبَة بن أبي لَهب وَمِنْهُم من يَقُول: عتيبة، انْتَهَى

وقال ابن الأثير في "أسد الغابة" ط الفكر (4/ 396):

قلت: كذا قَالَ «لهب بْن أَبِي لهب»، وهذه القصة لعتيبة بْن أَبِي لهب، ذكر ذَلِكَ ابن إِسْحَاق، وابن الكلبي، والزبير، وغيرهم. والله أعلم.

تفسير الرازي = التفسير الكبير (32/ 350)

السؤال الأول: لماذا كناه مع أنه كالكذب *إذ لم يكن له ولد اسمه لهب* ، وأيضا فالتكنية من باب التعظيم؟

والجواب: عن الأول أن التكنية قد تكون اسما، ويؤيده قراءة من قرأ (تبت يدا أبو لهب) كما يقال: علي بن أبو طالب ومعاوية بن أبو سفيان، فإن هؤلاء أسماؤهم كناهم، وأما معنى التعظيم فأجيب عنه من وجوه أحدها: أنه لما كان اسما خرج عن إفادة التعظيم.

والثاني: أنه كان اسمه عبدالعزى فعدل عنه إلى كنيته والثالث: أنه لما كان من أهل النار ومآله إلى نار ذات لهب وافقت حاله كنيته، فكان جديرا بأن يذكر بها.انتھی کلام الشیخ ۔۔۔

اور وہ واقعہ جو بالا سوال میں مذکور ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعاء تھی: اللهم مزق ملکه. واقعہ درج ذیل ہے 👇

رقم الحدیث: 2939 حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى حَرَّقَهُ. فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.

(صحيح البخاري | كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ  | بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ)

وفي حديث عبدالله بن حذافة " فلما بلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم مزق ملكه (فتح الباری) 

خلاصۂ کلام:-

بالا سوال میں مذکور واقعہ بادشاہ کے متعلق نہیں ہے، بلکہ لہب بن ابولہب کے متعلق ہے، جس کی صراحت اوپر گزر چکی۔ اور بادشاہ کے واقعے میں اللہم سلط علیہ الخ کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ اللہم مزق ملکہ کے الفاظ ہیں۔ 

فقط والسلام

واللہ اعلم بالصواب

جمعہ ورتبہ:- ابواحمد حسان بن شیخ یونس تاجپوری گجرات (الھند)

استاذ:- جامعہ تحفیظ القرآن اسلام پورا گجرات

30/اکتوبر/2020ء بروز جمعہ 

-------------------

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا ہے تو طریقہ بھی وہی ہو. فوٹو یا تصویر سامنے رکھ کر بد دعا دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ایک نئی بدعت دعاؤں میں گھس جائے گی، میکرون سے شروع ہوگی، پھر کسی مریض کے لئے دعا کی درخواست کی جائے گی، تو مطالبہ ہوگا کہ تصویر بھیجو، اس کو دیکھ کر دعا کریں گے اس پر دم کریں گے، پھر معاملہ بڑھتے بڑھتے نا محرموں کی تصویر جمع کرنے تک پہنچ جائے گا، بحجۃ دعائے خیر؟!

از ۔ شیخ طلحہ منیار

(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html



Monday, 2 November 2020

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم 

-------------------------------
--------------------------------
سوال نمبر-1: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلماءعزام اس مسئلہ کےبارے میں کہ...

 ۱۔ عقیدہ حیات انبیاء کرام علیھم السلام کیا ہے..؟

۲۔ دین متین میں اس کی شرعی حثیت کیا ہے..؟

۳۔ اس عقیدہ کے منکر کا کیا حکم ہوگا...؟؟

سوال نمبر۔2: اھلسنت والجماعت کے عقائد میں سے سماع صلوة وسلام قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے.؟

سوال نمبر-3: روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں شفاعت کا طلب کرنا کیسا ہے ..؟

سوال نمبر۔4: روضہ رسول پہ حاضری کے متعلق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ کی وفات پر جنازہ مبارک کا لانا اور بارگاہ رسالت سے دروازہ مبارک کا کھلنا، حضرت علامہ جامی رحمہ اللہ کے نعتیہ کلام پہ سلام کا تذکرہ، اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کو روضہ مبارک میں سے سلام کا آنا، کیا یہ سارے اور دیگر ان جیسے تمام واقعات اھلسنت کے عقائد کے مطابق صحیح اور درست ہیں...؟

سوال نمبر-5: حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے حضرات کو یہ کہنا کہ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں میرا نام لے کر صلوة و سلام عرض کرنا شرعا ٹھیک ہے.؟

سوال نمبر-

6: اس عقیدے کا انکار سب سے پہلے کس نےکیا تھا.؟

٧- ایسے منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مستقل طور پہ نمازیں پڑھنا اور انکو امام بنانا صحیح العقیدہ علماء کیلئے اور عوام کیلئے کیا حکم ہے۔؟

ابومحمدیاسرقریشی (پاکستان)

____________________________

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب وباللہ التوفیق: 

دنیا میں آنے والی ہر مخلوق کو یہاں سے سدھارنا اور رحلت کرنا ہے، ایک ذات واجب الوجود کے علاوہ کسی کو بھی دوام وخلود نہیں، سرور کائنات فخر موجودات  خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیاوی زندگی کی 63 بہاریں دیکھ کے یہاں سے رحلت فرماگئے، اور عالم برزخ پہنچ گئے، اپنے روضہ مبارکہ وحجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں آپ مدفون ہوئے۔ قبر مبارک میں آپ کے جسد عنصری ودنیوی میں روح مبارکہ لوٹائی گئی، جسد عنصری اور روح مبارک کا یہ ربط وتعلق شہداء سے بھی زیادہ  مضبوط ومستحکم اعلی و ارفع ہے، جسد عنصری وروح مبارکہ کا غایت تعلق واتصال مشابہ حیات دنیوی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ اطہر میں زندہ ہیں، درود وسلام پیش کرنے والوں کے سلام کا جواب دیتے ہیں اور وہ تمام امور جن کی تفصیل ﷲ ہی کو معلوم ہے بجالاتے ہیں، اسی کو "عقیدہ حیات النبی" کہتے ہیں، میرے نبی سمیت  تمام انبیاء کرام کے تعلق سے امت مسلمہ کا یہی اجماعی عقیدہ ہے، جو چودہ سو سال سے جمہور سلف وخلف وائمہ اربعہ مجتہدین اور علامہ ابن تیمیہ وغیرہ کا یہی متفقہ موقف چلا آرہا ہے، یہ "عقیدۂ حیات النبی"  قرآن کریم کی متعدد آیات کے اشارے، دلالت واقتضاء سے جبکہ حدیث سے صراحۃ النص سے ثابت ہے۔

تو اس مسئلے کا ثبوت قطعیات ومسلمات میں سے ہوا، انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام خصوصا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روضہ مقدسہ میں جسم عنصری کے ساتھ ارواح مبارکہ کا  غایت اتصال وتعلق یعنی حیات برزخی مشابہ حیات دنیوی ثابت نہ کرنا اور جسم کو روح سے بے تعلق ومردہ تصور کرنا خرق اجماع ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص اہل سنت والجماعت سے خارج، متبع ہوی اور گمراہ ہے۔

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ (الزخرف 45)

اور آپ ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھيجا ہے پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا دوسرے معبود ٹھہرادئیے تھے کہ ان کی عبادت کرو۔

کبار مفسرین نے اس آیت سے انبیاء علہیم الصلوة والسلام کی حیات پر استدلال کیا ہے: یستدل به علی حیات الانبیاء (مشکلات القرآن للکشمیری : ص 234) روح المعانی:جلد 5 ص89، جمل: جلد 4 ص88، شیخ زادہ جلد 7ص 298، حقاجی: جلد 7 ص 444، تفسیرمظہری: جلد 8 ص353، تفسیرجلالین: ص 408، تفسیر بغوی: جلد 4 ص 141]

 حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ" [مسند أبي يعلى الموصلي» بَقِيَّةُ مُسْنَدِ أَنَسٍ, رقم الحديث: 3371 (3425) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا فرماتے ہیں.

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: و صححہ البیہقی (امام بیہقی نے اس کی تصحیح کی ہے) ۔ [فتح الباری جلد 6 ص 352]

علامہ سیوطی  نے اسے حسن کہا [الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 3089]

علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ابویعلی کی سند کے سب راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 8/214]

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْتُ، وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ: "مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ". [صحيح مسلم» كِتَاب الْفَضَائِلِ» بَابٌ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ, رقم الحديث: 4386 (2377)]  

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "معراج کی رات میرا گزر حضرت موسیٰؑ کی قبر پر ہوا، جو سرخ ٹیلے کے قریب ہے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں.

 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: "وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ". [سنن ابن ماجه» كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ» بَاب ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ... رقم الحديث: 1637][الحكم: إسناده متصل، رجاله ثقات]

ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کہ دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ وہ دن حاضری کا ہے۔ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ مجھ پر جو کوئی شخص دورد پڑھتا ہے اس کا ددور مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتی کہ وہ اس سے فارغ ہو۔ میں نے کہا فرمایا وفات کے بعد بھی پیش جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! وفات کے بعد بھی پیش کیا جائے گا۔ بے شک ﷲ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام طیبہ کو کھائے۔ سو ﷲ تعالی کا نبی زندہ ہے۔ اس کو رزق ملتا ہے۔

 رجالہ ثقات، تہذیب التہذیب جلد 3 ص 398)

عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ»، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ، وَقَدْ أَرَمْتَ؟ - قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ» ۔[سنن ابوداود: باب فی الااستغفار، حدیث نمبر 1531؛ سنن ابن ماجۃ: باب فی فضل الجمعۃ، حدیث نمبر 1085] 

ترجمہ: حضرت اوس ابن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ آپ تو بوسیدہ ہو چکے ہوں گے [ شاید راوی نے ارمت کی جگہ بلیت، کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کو حرام کر دیا کہ وہ کھائے۔

 حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ".[مصنف ابن أبي شيبة» كتاب الصلاة» أَبْوَابُ مَسَائِلَ شَتَّى فِي الصَّلاةِ» فِي ثَوَابِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ..., رقم الحديث: 8506 (8789)- صحيح]

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی الله عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: "الله کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو زمین میں چکر لگاتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں.

قال أبوالشيخ في الكتاب (الصلاة على النبي): حدثنا عبدالرحمن ابن أحمد الأعرج، حدثنا الحسن بن الصباح حدثنا أبومعاوية، حدثنا الأعمش، عن أبي الصالح، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: "مَنْ صَلَّى عَلِيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلِيَّ نَائِيًا عَنْهُ أَبْلَغْتُهُ" .[جلاء الافہام، لابن قيم: رقم الحديث: 19؛ مشكوة: جلد 1 حديث 899، برواية الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ]

ترجمہ: حافظ ابوالشیخ اصبہانی فرماتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمن بن احمد العرج نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے الحسن بن الصباح نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے اعمش رحمة اللہ علیہ نے بیان کیا۔ وہ ابوصالح سے اور وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میری قبر کے پاس دورد پڑھا تو میں اسے خود سنتا ہوں اور جس نے مجھ پر دور سے پڑھا تو وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ (جلاء الافہام، لابن قيم: رقم الحديث: 19)

"ومما هو مقرر عندالمحققين انه - صلى الله عليه وسلم - حي يرزق متمتع بجميع الملاذ والعبادات غير انه احجب عن إبصار (نوالایضاح، ح١٧٧)

القاصرين عن شريف المقامات ينبغي لمن قصد زيارة النبي صلى الله عليه وسلم ان يكثر الصلاة عليه فانه يسمعها وتبلغ اليه (مراقي الفلاح ص: 405 طبع مير محمد كراجي).

ترجمہ: علامہ شرنبلالی رحمة اللہ علیہ "نورالایضاح، ح ١٧٧ "میں فرماتے ہیں کہ "محققین کے نزدیک یہ طے شدہ ہے کہ حضور انور زندہ ہیں اور آپ کو رزق بھی ملتا ہے اور عبادت سے لذت بھی اٹھاتے ہیں. ہاں اتنی بات ہے کہ وہ  ان نگاہوں سے پردے میں ہیں جو ان مقامات تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں. (نورالایضاح، ح ١٧٧) 

حنفیہ میں علامہ طحطاوي المتوفي 1233 هـ فرماتے ہیں:

(فانه يسمعها) أي إذا كانت بالقرب منه - صلى الله عليه وسلم - (وتبلغ إليه) أي يبلغها الملك إذا كان المصلي بعيدا (الطحطاوي ص: 405 طبع مير محمد كراجي). 

ترجمہ: آپ صلے الله علیہ وسلم صلاة و سلام کو اس وقت خود سنتے ہیں جب قریب سے عرض کیا جارہا ہو اور فرشتے اس وقت پہنچاتے ہے جب یہ دور سے پڑھا جارہا ہو. إمام مالك المتوفي 179 هـ فرماتے ہیں: 

نقل عن الإمام مالك انه كان يكره أن يقول رجل زرت قبر النبي - صلى الله عليه وسلم - قال ابن رشيد من اتباعه أن الكراهية لغلبة الزيارة في الموتى وهو - صلى الله عليه وسلم - أحياه الله تعالى بعد موته حياة تامة واستمرت تلك الحياة وهي مستمرة في المستقبل وليس 

هذا خاصة به صلى الله عليه وسلم بل يشاركه الأنبياء عليهم السلام فهو حي بالحياة الكاملة مع الإستغناء عن الغذاء الحسى الدنيوي (نورالإيمان بزيارة آثار حبيب الرحمن ص: 14 للشيخ عبدالحليم فرنكي محلي, وكذلك في وفاء الوفاء ج: 4 ص: 1373 مصر  

ترجمہ: ابنرشد امام مالک رحمة اللہ علیہ کے مقلدین میں سے ہیں کہ امام مالک رحمة اللہ علیہ کی ناپسندیدگی (کہ میں نے حضور کی "قبر" کی زیارت کی) وجہ یہ ہے کہ زیارتقبر کا لفظ عام طور پر موتى (مردہ) کے متعلق استمعال ہوتا ہے اور حضور وفات شریفہ کے بعد اب حیات تامہ سے زندہ ہیں اور یہ حیات آئندہ بھی اسی طرح رہے گی. یہ صرف آپ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ تمام انبیاء اس وصف میں آپ کے ساتھ شریک ہیں. پس آپ دنیوی حسی غذا سے استغناء (بے-پروائی) کے باوجود حیات_کاملہ سے زندہ ہیں. 

شوافع میں علامة تاج الدين سبكي المتوفي 777 هـ فرماتے ہیں:

"لان عندنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حي يحس ويعلم وتعرض عليه اعمال الأمة ويبلغ الصلاة والسلام على ما بينا" (طبقات الشافغية الكبرى ج: 3 ص: 412 طبعة دار الأحياء بقاهرة)

ترجمہ: ہم شافعیہ کے نزدیک حضور زندہ ہیں اور آپ میں احساس و شعور موجود ہے، آپ پر اعمال_امت بھی پیش ہوتے ہیں اور صلوة و سلام بھی پہچایا جاتا ہے.

حنابلہ میں علامہ ابن عقيل فرماتے ہیں:

"هو - صلى الله عليه وسلم - حي في قبره" (الروضة البهية ص: 14) 

ترجمہ: حضور صلے الله علیہ وسلم اپنی قبرمبارک میں زندہ ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں. 

إمام شمس الدين محمد السخاوي المتوفي 902 هـ:

نحن نؤمن ونصدق بأنه صلى الله عليه وسلم - حي يرزق في قبره وان جسده الشريف لا تأكله الأرض والإجماع على هذا (القول البديع ص: 172 ,طبعة دارالكتب العربي)

ترجمہ: علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہم یقین رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں، آپ کو رزق دیا جاتا ہیں اور آپ کے جسد شریف کو زمین نے نہیں کھایا اور اس پر اجماع ہے۔‘‘ (القول البدیع، علامہ سخاوی ص 335)

علامة عبدالوہاب شعراني المتوفي 973 هـ لکھتے ہیں: 

قد صحت الأحاديث انه - صلى الله عليه وسلم - حي في قبره يصلي بأذان واقامة (منح المنة ص: 92, طبعة مصر) 

شیخ عبد الله بن محمد بن عبدالوهاب النجدي المتوفي 1206 هـ لکھتے ہیں:

والذي نعتقد ان رتبة نبينا - صلى الله عليه وسلم - أعلى مراتب المخلوقين على الإطلاق و انه حي في قبره حياة مستقرة ابلغ من حياةالشهداء المنصوص عليها في التنزيل إذ هو أفضل منهم بلا ريب, وانه يسمع من يسلم عليه (اتحاف النبلاء ص: 415, طبعة كانبور).

قاضي شوكاني المتوفي 1255 هـ لکھتے ہیں:

وقد ذهب جماعة من المحققين إلى أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حي بعد وفاته وانه يسر بطاعات أمته وان الأنبياء لا يبلون مع أن مطلق الإدراك كالعلم والسماع ثابت بسائر الموتى إلى أن قال وورد النص في كتاب الله فى حق الشهداء أنهم أحياء يرزقون وان الحياة 

فيهم متعلقة بالجسد فكيف بالأنبياء والمرسلين وقد ثبت في الحديث أن الأنبياء أحياء في قبورهم رواه المنذرى وصححه البيهقي وفي صحيح مسلم عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال مررت بموسى ليلة اسري بي عند الكثيب الأحمر وهو قائم يصلي في قبره نيل الأوطار ج: 3 ص: 305 طبعة دارالفكر ببيروت الإمام ابن تيمية يثبت حياة الأنبياء والصالحين في قبورهم

شيخ الاسلام علامہ ابن تيمية مجموع الفتاوى میں لکھتے ہیں  (1/330):

"وكذلك الأنبياء والصالحون وان كانوا أحياء في قبورهم وان قدر انهم يدعون للأحياء وان وردت به آثار فليس لأحد أن يطلب منهم ذلك ولم يفعل ذلك أحد من السلف لأن ذلك ذريعة إلى الشرك بهم وعبادتهم من دون الله تعالى بخلاف الطلب من أحدهم في حياته فانه لا يفضى إلى الشرك"ا.هـ

"فهذه نصوصه الصريحة-أي النبي صلى الله عليه وسلم- توجب تحريم إتخاذ قبورهم مساجد مع أنهم مدفونون فيها وهم أحياء في قبورهم ويستحب إتيان قبورهم للسلام عليهم ومع هذا يحرم إتيانها للصلاة عندها وإتخاذها مساجد"ا.هـ (مجموع الفتاوى (27/502) 

(یہ تمام تفصیلات المہند علی المفند سے مستفاد ہیں) 

ان تمام روایات، اقوال ائمہ واسلاف سے واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت اور وفات کے بعد برزخ میں آپ کو  بہ تعلق روح مع الجسد العنصری ایک خاص واعلی قسم کی برزخی حیات حاصل ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زائرین کے سلام کو سنتے ہیں اور جواب بھی مرحمت فرماتے ہیں ،آپ کی یہ زندگی شہداء سے بھی زیادہ ارفع و ابلغ ہے ، اسی خاص وممتاز  قسم کی حیات کو علماء اہل حق نے مختلف تعبیرات واسلوب میں بیان کیا ہے؛ لیکن مآل سب کا ایک ہی ہے۔ اس خاص زندگی کی کنہ اور حقیقت کا علم اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں۔ (تفصیل ماہنامہ البینات، کراچی، محرم الحرام 1427 ہجری میں دیکھی جاسکتی ہے)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روضہٴ اقدس پر جانے والوں کی باتیں سنتے ہیں اور دوسرے امتی جو آپ کے روضے سے دو رہیں، ان کے اعمال کی خبر اور درود وسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا جاتا ہے۔ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت دوسروں کے لئے ایذاء رسانی کا سبب بنے بغیر انتہائی پست آواز میں پورے ادب واحترام کی رعایت  کے ساتھ روضے پہ سلام پیش کرنا، آپ کے وسیلے سے دعاء کرنا اور شفاعت کی درخواست کرنا جائزومندوب ہے، ائمہ اربعہ مجتہدین کا اس کے جوازواستحباب پہ اتفاق ہے:

ويسأل الله تعالى حاجته متوسلا إلى الله بحضرة نبيه عليه الصلاة والسلام، وأعظم المسائل وأهمها سؤال حسن الخاتمة والرضوان والمغفرة". (شرح فتح القدير، لإبن الهمام، (39) ، دارالكتب العلمية، بيروت، لبنان، الطبعة الأولى، 1415ه 1995  آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم) 

 ... ثمّ يتوسل به – أي بالنبي صلّى الله عليه وسلّم - في جميع مطلوباته .ثمّ ينتقل قبالة قبر أبي بكر ويقول: "السلام عليك يا خليفة رسول الله ...ثمّ يتوسل به إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ثمّ ينتقل قبالة قبر أمير المؤمنين عمر ويقول: "السلام عليك يا صاحب رسول الله، السلام عليك يا أمير المؤمنين عمر الفاروق ثمّ يتوسل به إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلّم ثمّ يأتي إلى البقيع فيسلّم على أهله هكذا ويتوسل بهم إلى رسول الله فلتحفظ تلك الآداب فإنّ من فعلها مع الشوق وفراغ القلب من الأغيار بلغ كل ما يتمنى إن شاء الله تعالى (الشرح الصغير على أقرب المسالك إلى مذهب الإمام مالك، للعلامة أبي البركات أحمد بن محمد بن أحمد الدردي، وبهامشه حاشية العلامة الشيخ أحمد بن محمد الصاوي المالكي، (2 72)، طبعة دار المعارف، القاهرة، لدى ذكره آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم وصاحبيه) 

 وروي عن الإمام مالك بن أنس رضي الله عنه أنّه قال للخليفة المنصور لما حج وزار قبر النبي عليه وعلى آله الصلاة والسلام وسأل مالكا قائلا: يا أبا عبد الله أأستقبل القبلة وأدعو أم أستقبل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأدعو؟ فقال الإمام مالك: "ولم تصرف وجهك عنه وهو وسيلتك ووسيلة أبيك آدم إلى الله تعالى؟ بل استقبل واستشفع به فيشفعه الله فيك."

(.. واعلم أنّ زيارة قبرالرسول صلى الله عليه وآله وسلم من أهم القربات وأنجح المساعي .. إلى أن قال: ويقف ناظرا إلى أسفل ما يستقبله من جدار القبر غاض الطرف في مقام الهيبة والإجلال فيقول: السلام عليك يا رسول الله ... إلى أن قال: ويتوسل به في حق نفسه ويستشفع به إلى ربه سبحانه وتعالى " .(كتاب المجموع  شرح المهذب، للنووي، (8 256 – 257  ، دارإحياء التراث العربي للطباعة والنشر والتوزيع)

وقال الامام تقي الدين أبوالحسن السبكي رحمه الله تعالى من أعلام الشافعية:

(اعلم أنه يجوز ويحسن التوسل والاستغاثة والتشفع بالنبي صلى الله عليه وآله وسلّم إلى ربه سبحانه وتعالى وجواز ذلك وحسنه من الأمور المعلومة لكل ذي دين المعروف من فعل الأنبياء والمرسلين وسيرة السلف الصالحين والعلماء المسلمين). انظ: كتاب شفاء الأسقام في زيارة خير الأنام الباب الثامن  ص 161.وقال: (وأقول: إنّ التوسل بالنبي صلى الله عليه وآله وسلم جائز في كل حال: قبل خلقه وبعد خلقه في مدة حياته في الدنيا وبعد موته في مدة البرزخ وبعد المبعث في عرصات القيامة والجنة) كتاب شفاء الأسقام في زيارة خيرالأنام الباب الثامن ص 161)

وجاء في كتاب (الإقناع، للشربيني،ج 1 ص 374) في آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم : ".... ثمّ يرجع إلى موقفه الأول قبالة وجه النبيّ صلّى الله عليه وسلّم ويتوسل به في حق نفسه ، ويستشفع به إلى ربه، وإذا أراد السفر ودّع المسجد بركعتين وأتى القبر الشريف وأعاد نحو السلام الأول." 

جاء في كتاب الإنصاف، للمرداوي، الحنبلي: "يجوز التوسل بالرجل الصالح على الصحيح من المذهب وقيل يستحب) وقال : (والتوسل بالإيمان به صلّى الله عليه وآله وسلّم وطاعته ومحبته والصلاة والسلام عليه وبدعائه وشفاعته ونحوه ممّا هو من فعله أو أفعال العباد المأمور بها في حقه مشروع إجماعا) كتاب الإنصاف (2/456).

 وقال الإمام أحمد للمروزي رحمهما الله تعالى: (ويتوسل بالنبي صلى الله عليه وآله وسلم في دعائه وجزم به في المستوعب وغيره).

 وجاء في المغني، لإبن قدامة، (ج 3 600) في آداب زيارة قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم: "ثمّ تأتي القبر فتولّي ظهرك وتستقبل وسطه وتقول: "السلام عليك أيّها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام عليك يا نبي الله وخيرته من خلقه ... اللهمّ إنّك قلت وقولك الحق: "ولو أنّهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توّاباً رحيما"  (النساء، 64) وقد أتيتك مستغفرا من ذنوبي مستشفعاً بك إلى ربي فأسألك يا ربّ أن توجب لي المغفرة كما أوجبتها لمن أتاه في حياته، اللهمّ اجعله أول الشافعين وأنجح السائلين وأكرم الآخرين والأولين، برحمتك يا أرحم الراحمين" .

 قاضی شوکانی لکھتے ہیں: 

وقال: (ويتوسل إلى الله بأنبيائه والصالحين) أقول: ومن التوسل بالأنبياء: وذكر قصة الأعمى، وأما التوسل بالصالحين حديث استسقاء سيدنا عمر بسيدنا العباس رضي الله عنهما)   انظر: (كتاب تحفة الذاكرين ص (37)

جہاں تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تدفین کے وقت قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرنے اور روضے سے اجازت ملنی والی بات کا تعلق ہے تو یہ کسی صحیح، معتبر یا مستند روایت سے ثابت تو نہیں ہے؛ البتہ یہ واقعہ السيرة الحلبية، 3: 493 ، الخصائص الکبریٰ للسيوطی، 2: 492، تاريخ دمشق الکبي، ابن عساکر، 30: 436 میں درج ہے، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس طرح کی ایک روایت سند کے ساتھ اس طرح ذکر کی ہے: 

أنبأنا أبوعلي محمد بن محمد بن عبدالعزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبوطاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبدالله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبدالله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبوبكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق" (تاریخ دمشق، جلد 30، صفحہ 437)

ترجمہ: جناب علی رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے اپنے سرہانے بٹھاکر مجھے فرمایا: اے علی! کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے غسل وغیرہ دے کر روضہ رسول کے سامنے رکھ دینا اور اجازت طلب کرنا، تو اگر درازہ کھول دیا جائے، تو مجھے اندر لے جانا، بصورت دیگر مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان لے جانا، جناب علی فرماتے ہیں کہ (وصیت کے مطابق) انہیں غسل، کفن دینے کے بعد ہم انہیں لے کر روزہ شریفہ کے پاس پہنچے اور سب سے پہلے میں عرض کی۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ابوبکر ہیں جو آپ کی اجازت کے طلب گار ہیں ،تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا، اور کہنے والے کا کہنا سنا کہ محب کو حبیب کے پاس پہنچا دو ، کیونکہ آقا اس محب کی (ملاقات) کے مشتاق ہیں۔"

امام ابن عساکر یہ روایت نقل کرکے فرماتے ہیں:

هذا منكر وراويه أبوالطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبدالجليل مجهول

والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس"

یہ روایت منکر ہے، اور اس کے دو راوی موسی بن محمد اور عبدالجلیل مجھول ہیں،

اور ثابت بات یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر کو ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس نے غسل دیا تھا (نہ کہ جناب علی نے)

تفسیر رازی میں اس واقعے کو حضرت ابوبکر رضی اللہ کی کرامت شمار کیا گیا ہے، وہاں  یہ واقعہ بلاسند کے منقول ہے: 

«أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ ۔( تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (21/ 433)

حضرت عبدالرحمن ملا جامی رحمہ اللہ کے لئے روضہ رسول سے مصافحہ کے لئے  ہاتھ نکلنا اسی طرح  حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے لئے روضے سے جواب سلام آنا تو اس سلسلے میں جامعہ بنوری ٹائون نے جو  تفصیلی فتوی جاری کیا ہے وہ انتہائی چشم کشا اور مدلل ہے، اسے ہم یہاں بعینہ نقل کررہے ہیں: 

"سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبرِمبارک میں حیات ہیں، اور آپ درود وسلام  پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ دنیوی میں خرق عادت کے طور پر چند امور بطورِ معجزہ  ظاہر ہوئے ہیں، اور ان کا صدور مسلم عقیدہ ہے اسی طرح آپ کی حیاتِ برزخیہ دنیویہ جسدیہ میں اگر اس طرح کے کچھ واقعات صادر ہوں تو  یہ نہ عقلاً ممتنع ہے اور نہ ہی شرعاً، اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ  اولیاء کی کرامات حق ہیں، لہذا اگر اللہ کے کسی ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر روضہ اقدس سے سرورِ کائنات حضرت رسولِ مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک باہر آئے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس سے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے، بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن  کو اہلِ علم نے  اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، سرِ دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں نقل کیا ہے:

سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہوکر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِاطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا ... تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهْيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ... فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِي

ترجمہ: "دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانہ  مبارک چومتی تھی ، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دست مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں"۔

اس پر قبر شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔ انتھی

’’وَفِي بَعْضِ الْمَجَامِيعِ: حَجَّ سَيِّدِي أحمد الرفاعي فَلَمَّا وَقَفَ تُجَاهَ الْحُجْرَةِ الشَّرِيفَةِ أَنْشَدَ: 

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا ... تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهْيَ نَائِبَتِي

وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ... فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِي

فَخَرَجَتِ الْيَدُ الشَّرِيفَةُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِيفِ فَقَبَّلَهَا‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ’’البنیان المشید‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً  نوے ہزار کا مجمع  مسجد نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ  کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ (فضائل حج ص 197، آداب زیارت)

اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  نے سلام کے جواب آںے سے متعلق بھی واقعات نقل کیے ہیں، نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ ذیل میں ہے:

1) سید نورالدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ  جب وہ روضہ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: "السلام علیک أیها النبي ورحمة الله وبرکاته"  تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا  سناکہ قبر شریف سے "وعلیک السلام یا ولدي" کا جواب ملا۔

’’وَفِي مُعْجَمِ الشَّيْخِ برهان الدين البقاعي قَالَ: حَدَّثَنِي الْإِمَامُ أبو الفضل بن أبي الفضل النويري أَنَّ السيد نور الدين الإيجي وَالِدَ الشريف عفيف الدين لَمَّا وَرَدَ إِلَى الرَّوْضَةِ الشَّرِيفَةِ وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَمِعَ مَنْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ قَائِلًا مِنَ الْقَبْرِ يَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِي‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

2) شیخ ابو نصر عبدالواحد  بن عبدالملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرہ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بِکری رحمہ اللہ تشریف لائے، اور مواجہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کیا: "السلام علیک یا رسول الله" تو میں نے حجرہ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی: "وعلیک السلام یا أبابکر" اور ان سب لوگوں نے جو اس وقت حاضر تھے اس کو سنا۔

’’وَقَالَ الْحَافِظُ محب الدين بن النجار فِي تَارِيخِهِ: أَخْبَرَنِي أبو أحمد داود بن علي بن هبة الله بن المسلمة أَنَا أبو الفرح المبارك بن عبد الله بن محمد بن النقور قَالَ: حَكَى شَيْخُنَا أبو نصر عبد الواحد بن عبد الملك بن محمد بن أبي سعد الصوفي الكرخي قَالَ: حَجَجْتُ وَزُرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ الْحُجْرَةِ إِذْ دَخَلَ الشَّيْخُ أبو بكر الدياربكري وَوَقَفَ بِإِزَاءِ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ دَاخِلِ الْحُجْرَةِ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أبا بكر، وَسَمِعَهُ مَنْ حَضَرَ‘‘. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’فضائل حج‘‘ اور ’’فضائل درود شریف‘‘ میں اس طرح کے کئی واقعات  کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

آپ نے جن دو واقعات کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلا واقعہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘  میں نقل کیا ہے:

(1)   حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے ملا جامی رحمہ اللہ  کی کتاب ’’یوسف زلیخا‘‘ اپنی دس سال کی عمر میں والد صاحب سے پڑھی، اور ان ہی سے یہ قصہ سنا کہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ یہ نعت (جو یوسف زلیخا نامی کتاب کے شروع میں ہے)  لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج  کے لیے تشریف لے گئے، ان کا ارادہ  یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکراس نظم  کو پڑھیں گے، چناچہ جب حج کے بعد  مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو  امیر مکہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ  اس کو (یعنی جامی کو) مدینہ نہ آنے دیں، امیرِمکہ نےممانعت کردی، مگر ان پر جذب وشوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ  کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ  آرہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِمکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ  مکہ  کو تیسری  مرتبہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آکر میری قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنے  کا ارادہ کررہا ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے  گا جس میں فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزار واکرام کیا گیا۔ (فضائل درود شریف ص 198)

(2)     اور دوسرا واقعہ ’’الجمعیۃ،  شیخ الاسلام نمبر‘‘ میں اس طرح مذکور ہے: مشہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارتِ بیت ﷲ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے دورانِ قیام مشائخِ وقت سے یہ تذکرہ سناکہ اِمسال روضہ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے، ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر صلاۃ وسلام پڑھا تو دربارِرسالت سے ”وعلیکم السلام یا ولدي“ کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کی؛ تاکہ اس محبوبِ بارگاہِ رسالت کی زیارت سے مشرف ہوسکوں اور خود اس واقعہ کی بھی تصدیق کرلوں۔ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب ﷲ مہاجر مدنی رحمہ ﷲ کا فرزندِ ارجمند ہے۔ گھر پہنچا ملاقات کی، تنہائی پاکر اپنی طلب وجستجو کا راز بتایا، ابتدا میں خاموشی اختیار کی،  لیکن اصرار کے بعد کہا: ”بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔“ یہ نوجوان تھے مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ‘‘۔ (الجمعیۃ  شیخ ا لاسلام نمبرص۹۴)

  نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے درسِ ختمِ بخاری شریف جامع مسجد سورتی، رنگون، برما میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں نے پڑھا ہے اور اپنے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ آپ روضہٴ رسول اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم پر حاضر ہوئے، سلام پڑھا ’’الصلاة والسلام علیک یا رسول الله‘‘۔ روضہٴ اقدس سے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”وعلیک السلام یاولدي․“ (ماہنامہ الفاروق ذوالقعدہ 1437ھ)

لہذا اس طرح کے واقعات کا ظہور  کوئی اَن ہونی بات ہے، نہ ہی  ناممکن ہے،  جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں بے شمار معجزات عطا فرمائے، دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی بطورِ معجزہ کسی خرقِ عادت کا ظہور اہلِ سنت والجماعت کے ہاں باعثِ تعجب یا انکار نہیں ہے، بلکہ یہ محبت اور دلی شوق کی باتیں ہیں، اللّٰهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه!  فقط واللہ اعلم" 

فتوی نمبر: 143909200177- دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) 

حجاج ومعتمرین کی معرفت روضہ رسول پہ سلام بھجوانا ظاہری علماء کو چھوڑ کے جمہور علماء کے ہاں جائز ہے، کیونکہ باتفاق جمہور  حضور اپنی قبر میں خاص زندگی رکھتے ہیں، جس طرح  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سلام بھیجنا ثابت ہے ویسا ہی بعد وفات بھی سلام بھیجنا جائز وباعث اجر ہوگا۔ مکرمی مفتی عبد الباقی اخونزادہ صاحب  نے اپنے قیمتی سلسلہ "تنبیہات " میں اسے مفصل لکھا ہے، عموم فائدہ کے لئے جواب  بلفظہ پیش ہے : 

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں (اور یہی جمہورامت کا عقیدہ ہے)،  لہذا جیسا کہ آپ کی زندگی میں آپ کی طرف سلام کا بھیجنا ثابت اور باعث اجر تھا ویسے ہی آپ کے انتقال کے بعد بھی ایسا کرنا درست ہے۔

آپ علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں سلام بھیجنے کا ثبوت:

١. ابوعامر رضی اللہ عنہ کا سلام کہلوانا:

ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے کہا کہ اے بھتیجے!  آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر میرا سلام پیش کردو.

ابْنَ أَخِي! انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ أَبُوعَامِرٍ: اسْتَغْفِرْ لِي. (صحیح مسلم: 2498، کتاب فضائل الصحابة)

٢. سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کا سلام کہلوانا:

فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِكَ، قَالَ:  فَاذْهَبْ إِلَيْهِ،  فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (موطا امام مالك: 1338، کتاب الجهاد)

٣. محمد بن المنکدر کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ان کے انتقال کے وقت حضور علیہ السلام کو سلام پیش کرنے کی درخواست:

فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ: مَا شَأْنُكَ؟  فَقَالَ الرَّجُلُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآتِيَهُ بِخَبَرِكَ، قَالَ: فَاذْهَبْ إِلَيْهِ، فَاقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (موطا امام مالك: 1338، کتاب الجهاد) أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ وَهُوَ يَمُوتُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَقْرِئْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ. (مسند احمد: 11660)

٤.  ایک اور صحابی:

إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: "وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ". (ابوداود: 2934، کتاب الخراج، وکتاب الادب:5231)

آپ علیہ السلام کی قبر مبارک پر سلام بھجوانے کا سلف کا معمول:

١. حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے باقاعدہ سلام کا بھیجنا ثابت ہے.

◄ یزید المہدی کہتے ہیں کہ جب میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اجازت چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ میری ایک حاجت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تم آپ علیہ السلام کی قبر پر حاضر ہو تو میرا سلام عرض کردینا۔

عن يزيد المهدي قال: لما ودّعت عمر بن عبدالعزيز قال: إن لي إليك حاجة؛ قلت ياأمير المؤمنين كيف ترى حاجتك عندي؟ قال: أنى أراك إذا أتيت المدينة سترى قبرالنبي فأقرئه منى السلام.

◄ حاتم بن وردان کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ باقاعدہ لوگوں کو سلام کیلئے شام سے مدینہ منورہ روانہ کرتے تھے.

وعن حاتم بن وردان قال: كان عمر بن عبدالعزيز يُوجّه البريد قاصدا من الشام إلى المدينة ليُقرئ عنه النبي السلام. [ذكره القاضي عياض في الشفاء في باب الزيارة (ج: 2، ص: 83)]

◄ ابوسعید کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ تم مدینہ جاؤگے اور اللہ کے نبی کی قبر دیکھوگے تو وہاں میرا سلام عرض کردینا.

وعن ابی سعید قال: قال لی عمر بن عبدالعزیز: إذا اتیت المدینة ستری قبر النبی فاقرئه منی السلام. (خلاصة الوفاء: 359)

٢. خفاجی کہتے ہیں کہ سلف کا طریقہ کار رہا ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں سلام پیش کروایا کرتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی طریقہ کار رہا کہ وہ آپ علیہ السلام اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام بھجوایا کرتے تھے.

وذكر الخفاجى: كان من دأب السلف أنهم يرسلون السلام إلى رسول الله وكان ابن عمر يفعله ويرسل له عليه الصلاة والسلام ولأبى بكر وعمر رضي الله عنهما

٣. خفاجی رحمه اللہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں فرشتوں کے ذریعے سلام پہنچادیا جاتا ہے لیکن اس صورت (یعنی سلام بھجوانے کی صورت) میں آپ علیہ السلام سے مخاطب ہونے کی اور آپ علیہ السلام کی طرف سے جواب کی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔

ورسول الله صلى الله عليه وسلم وإن كان يبلغه سلام من سلم عليه وان كان بعيدا عنه لكن في هذا فضيلة خطابه عنده ورده عليه السلام بنفسه. [من نسيم الرياض للخفاجى (ج:3، ص:516) وذكرها الفيروزآبادى في الصلاة والبشر (ص:(153])

٤. اسی طرح امام نووی کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی کو اس بات کی وصیت/تلقین کی کہ میرا سلام پہنچادے تو اسے چاہئے کہ باقاعدہ سلام پیش کرے کہ فلاں بن فلاں آپ کو سلام عرض کررہا ہے۔

الإمام النووي قال في "المجموع شرح المهذب": وَإِنْ كَانَ قَدْ أُوصِيَ بِالسَّلَامِ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْك يَارَسُولَ الله من فلان بن فُلَانٍ، وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُسَلِّمُ عَلَيْك يَارَسُولَ اللهِ، أَوْ نَحْوَ هَذِهِ الْعِبَارَةِ.

٥. اسی طرح فقہ کی معتبر کتب میں بھی اس بات کی وضاحت ہے کہ سلام پیش کردینا چاہئے۔

جاء في”الاختيار لتعليل المختار”(1/176) وفي "الفتاوى الهندية" (1/265-266): وَيُبَلِّغُهُ سَلَامَ مَنْ أَوْصَاهُ فَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَارَسُولَ اللهِ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، يَسْتَشْفِعُ بِكَ إِلَى رَبِّكِ فَاشْفَعْ لَهُ وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يَقِفُ عِنْدَ وَجْهِهِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ مَا شَاءَ. ویبلغه سلام من اوصاہ فیقول: السلام علیك یارسول الله من فلان بن فلان. (الفقه علی المذاهب الاربعة)

خلاصہ کلام:

درود اور سلام کی کثرت مطلوب بھی ہے اور محبوب بھی، لہذا ہر مسلمان کو اس کی پابندی کرنی چاہئے، اور اگر کبھی ایسا موقعہ ہو کہ کوئی سفر مدینہ پر جانے والا ملے تو اس سے بھی اپنا سلام عرض کردینے کا ضرور کہنا چاہئے کہ اس میں آپ علیہ السلام سے محبت وعقیدت کے اظہار کے ساتھ ساتھ سلف صالحین کی اتباع بھی ہے. واللہ اعلم بالصواب" 

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

عقیدہ حیات النبی حیات بعد الوفات ہی کی ایک فرع ہے، تنعیم وتعذیب بعد الوفات حیات بعد الوفات پہ موقوف ہے، لہذا متواتر درجے کی روایات سے حیات بعد الوفات ثابت ہوئی، اجماع امت مسلمہ اس پہ امر مستزاد ہے، عقیدہ حیات النبی کا منکر مبتدع ، متبع ہوی خارج عن اہل سنت والجماعت ہے. اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے: 

اُن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور عقائد کا تعلق اگرچہ اندرون اور دل سے ہے؛ لیکن ظاہری قال الحصکفي: و یکرہ امامة العبد۔۔۔۔۔و مبتدع، أي: صاحب بدعة، و ھی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ۔۔۔۔لایکفر بھا ۔۔۔وان کفر بھا، فلا یصح الاقتداء بہ أصلاً ۔قال ابن عابدین: قولہ: (وہي اعتقادالخ) عزا ھذا التعریف في ھامش الخزائن الی الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولا یخفی أن الاعتقاد یشمل ما کان معہ عمل أولا؛ فان من تدین بعمل لا بد أن یعتقدہ۔۔۔۔(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۵۴۔۔۲۵۷، ط: داراحیاء التراث العربي، بیروت)

"جو شخص اس کے (عقیدہ حیات النبی کے) خلاف عقیدہ رکھتاہے وہ میرے اکابرؒ کے نزدیک گمراہ ہے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اس کی تقریر سننا جائز نہیں اوراس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق روا نہیں۔" فتاوی بینات، ج 1 ص 601، یونیکوڈ) 

واللہ اعلم بالصواب 

شکیل منصور القاسمی 

مركزالبحوث الإسلامية العالمي 

31 اکتوبر 2020، روز ہفتہ

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/blog-post.html