Wednesday, 4 November 2020

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

(تحقیقات سلسلہ نمبر 50): (ایک بادشاہ کا واقعہ اور اس کی تحقیق)

باسمہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک وائس مسیج سوشل میڈیا پر کثرت کے ساتھ گردش کررہا ہے، جو درج ذیل ہے👇 

جیسا کہ آج کل فرانس کے صدر آمانویل میکرون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر گستاخانہ کارٹون بنانے والوں کو ایوارڈ دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جناب عالی یہ سارے کارٹون جو ہے نبی پاک کی گستاخی میں جو بنائے گئے ہیں وہ پورے فرانس کے ہر شہر میں ہر صوبے میں ہر روڈ پر چورنگی پر ہوڈنگس پر ہوٹلس پر لگائے جائیں گے (العیاذ باللہ) یہ تو کفر ہے، تو اس کے ساتھ وہی ہونا چاہئے جو ایک بادشاہ کے ساتھ ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک بادشاہ نے گستاخی کی تھی، آپ کے خط مبارک کو پھاڑ دیا تھا، اس کو تھوکا اور پاؤں تلے مسلا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللهم سلط عليه كلبا من كلابك" یا اللہ اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پر مسلط کردے، وہ بادشاہ جو ہے بڑے بڑے وحشی جانوروں کو ، درندوں کو پالنے کا شوقین تھا اور اسی میں سے ایک  دیوار پھٹی اور پیچھے سے ایک شیر باہر آیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اس ملعون کے، جیسے اس نے نبی پاک کے خط کے ساتھ گستاخی کی تھی۔           

اس کی مدلل تحقیق مطلوب ہے، آپ سے گزارش ہے کہ جواب شافی و کافی دے کر عنداللہ ماجور و ممنون ہو۔ 

فقط والسلام مع الاحترام ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب:- 

نہیں، وہ الگ واقعہ ہے، جو الفاظ ملعون لہب بن ابو لہب کے متعلق ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا دی تھی، اور آپ کی بد دعا کے مطابق ایسا ہی ہوا کہ اسے شام کے راستے میں شیر نے پھاڑ کھایا اور وہ ملعون مرگیا۔ پورا واقعہ عربی الفاظ میں درج ذیل ہے 👇

روى الحاكم (3984) والبيهقي في "الدلائل" (622) أن لهب بن أبي لهب كان يسب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (اللهم سلط عليه كلبك)، فخرج في قافلة يريد الشام فنزل منزلا فقال: إني أخاف دعوة محمد صلى الله عليه وسلم، قالوا له: كلا. فحطوا متاعهم حوله وقعدوا يحرسونه، فجاء الأسد فانتزعه فذهب به.

وقال الحاكم: صحيح الإسناد، ووافقه الذهبي.

ورواه أبو نعيم في "الدلائل" (220) وسماه عتبة بن أبي لهبب، وفيه: (اللهم سلط عليه كلبا من كلابك).

والحديث حسنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" (4 /39)، والعيني في "عمدة القاري" (16 /51)، والشوكاني في "نيل الأوطار" (5 /80)، والصنعاني في "سبل السلام" (2 /195) 

اس میں شیخ طلحہ بلال منیار کی تحریر ملاحظہ فرمائیں 👇

 لهب بن أبي لهب غيرمعروف في أولاد أبي لهب، وأظنه خطأ من الراوي

والمعروف المشهور أن أولاد أبي لهب أربعة ، ثلاثة أبناء، وهم عتبة وعُتيبة ومُعَتِّب، وابنة اسمها دُرَّة.

هكذا في كتب الأنساب

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة كَذَلِك وَقَالَ: هَكَذَا قَالَ عَبَّاس بن الْفضل (لَهب بن أبي لَهب) وعباس لَيْسَ بِالْقَوِيّ، وَأهل الْمَغَازِي يَقُولُونَهُ: عتبَة بن أبي لَهب وَمِنْهُم من يَقُول: عتيبة، انْتَهَى

وقال ابن الأثير في "أسد الغابة" ط الفكر (4/ 396):

قلت: كذا قَالَ «لهب بْن أَبِي لهب»، وهذه القصة لعتيبة بْن أَبِي لهب، ذكر ذَلِكَ ابن إِسْحَاق، وابن الكلبي، والزبير، وغيرهم. والله أعلم.

تفسير الرازي = التفسير الكبير (32/ 350)

السؤال الأول: لماذا كناه مع أنه كالكذب *إذ لم يكن له ولد اسمه لهب* ، وأيضا فالتكنية من باب التعظيم؟

والجواب: عن الأول أن التكنية قد تكون اسما، ويؤيده قراءة من قرأ (تبت يدا أبو لهب) كما يقال: علي بن أبو طالب ومعاوية بن أبو سفيان، فإن هؤلاء أسماؤهم كناهم، وأما معنى التعظيم فأجيب عنه من وجوه أحدها: أنه لما كان اسما خرج عن إفادة التعظيم.

والثاني: أنه كان اسمه عبدالعزى فعدل عنه إلى كنيته والثالث: أنه لما كان من أهل النار ومآله إلى نار ذات لهب وافقت حاله كنيته، فكان جديرا بأن يذكر بها.انتھی کلام الشیخ ۔۔۔

اور وہ واقعہ جو بالا سوال میں مذکور ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعاء تھی: اللهم مزق ملکه. واقعہ درج ذیل ہے 👇

رقم الحدیث: 2939 حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى حَرَّقَهُ. فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.

(صحيح البخاري | كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ  | بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ)

وفي حديث عبدالله بن حذافة " فلما بلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم مزق ملكه (فتح الباری) 

خلاصۂ کلام:-

بالا سوال میں مذکور واقعہ بادشاہ کے متعلق نہیں ہے، بلکہ لہب بن ابولہب کے متعلق ہے، جس کی صراحت اوپر گزر چکی۔ اور بادشاہ کے واقعے میں اللہم سلط علیہ الخ کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ اللہم مزق ملکہ کے الفاظ ہیں۔ 

فقط والسلام

واللہ اعلم بالصواب

جمعہ ورتبہ:- ابواحمد حسان بن شیخ یونس تاجپوری گجرات (الھند)

استاذ:- جامعہ تحفیظ القرآن اسلام پورا گجرات

30/اکتوبر/2020ء بروز جمعہ 

-------------------

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا ہے تو طریقہ بھی وہی ہو. فوٹو یا تصویر سامنے رکھ کر بد دعا دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ایک نئی بدعت دعاؤں میں گھس جائے گی، میکرون سے شروع ہوگی، پھر کسی مریض کے لئے دعا کی درخواست کی جائے گی، تو مطالبہ ہوگا کہ تصویر بھیجو، اس کو دیکھ کر دعا کریں گے اس پر دم کریں گے، پھر معاملہ بڑھتے بڑھتے نا محرموں کی تصویر جمع کرنے تک پہنچ جائے گا، بحجۃ دعائے خیر؟!

از ۔ شیخ طلحہ منیار

(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/11/50.html



No comments:

Post a comment