Monday, 8 October 2018

بیوی پر خاوند کے حقوق

بیوی پر خاوند کے حقوق
السلام عليكم ورحمۃ اللہ
ایک حدیث کی تحقیق مطلوب ھے براە کرم مدلل اور مستند بحوالہ عنایت فرمائیں بیوی کے حقوق میں یہ بات بھی ھے کیا کہ اگرعورت اپنے شوہر کے زخم چاٹ بھی لے تو وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ کیا کوئی حدیث اس ضمن میں ھے تو براہ کرم ارسال فرمائیں.
جزاکم اللہ احسن الجزاء
الجواب: -  أتَى رجلٌ بابنتِه إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال إنَّ ابنتي هذه أبت أن تتزوَّجَ فقال لها رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أطيعي أباك فقالت والَّذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ حتَّى تخبرَني ما حقُّ الزَّوجِ على زوجتِه قال حقُّ الزَّوجِ على زوجتِه لو كانت به قرُحةٌ فلحَستها أو انتثر مِنخراه صديدًا أو دمًا ثمَّ ابتلعته ما أدَّت حقَّه قالت والَّذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ أبدًا فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم لا تُنكِحوهنَّ إلَّا بإذنِهنَّ.
    الراوي: أبو سعيد الخدري
    المحدث: المنذري
    المصدر:  الترغيب والترهيب
    الصفحة أو الرقم:  3/98
    خلاصة حكم المحدث:  إسناده جيد رواته ثقات مشهورون
اس روايت كا متن حضرت ابوهريرة رضي اللہ عنہ والى سند سے كم وبيش اس طرح آيا ہے:
جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله إني فلانة بنت فلان، قال: قد عرفتك ما حاجتك ؟ قالت : حاجتي أن فلانا ابن عمي العابد ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قد عرفته فمه ؟ قالت : يخطبني وأنا أكره الرجال ، فأخبرني ما حق الزوج على الزوجة فإن كان شيئا أطيقه تزوجت وإن لم أطق لم أتزوج ، قال : من حق الزوج على الزوجة أن لو سال منخراه دما وقيحا وصديدا فلحسته بلسانها حتى توعبه ما أدت حقه ، ولو كان ينبغي لبشر أن يسجد لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها إذا دخل عليها لما فضله الله عليها ، قالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج شيئا ما بقيت في الدنيا
اس ميں سليمان بن داود نامى راوى ہے جو شديد ضعيف ہے۔
حافظ منذرى نے ترغيب وترهيب ميں اس كو يوں ذكر كيا، آخرى الفاظ اس كى نكارت كى دليل ہیں: 
جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم قالت أنا بنت فلانة بنت فلان قال قد عرفت حاجدنك قالت حاجتي إلى ابن عمي فلان العابد قال قد عرفته قالت يخطبني فأخبرني ما حق الزوج على الزوجة فإن كان شيئا أطيقه تزوجته قال من حقه لو سال منخراه دما وقيحا فلحسته بلسانها ما أدت حقه لو كان ينبغي لبشر أن يسجد لبشر لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها إذا دخل عليها لما فضله الله عليها قالت والذي بعثك بالحق لا أتزوج ما بقيت الدنيا 
اور كہا: سليمان بن داود اليمامي واه عن القاسم بن الحكم۔
حضرت ابو سعيد الخدري رضى اللہ عنہ والى روايت كا متن يوں ہے: 
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابنة له فقال: يا رسول الله ، هذه ابنتي قد أبت أن تزوج . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم : أطيعي أباك . فقالت : والذي بعثك بالحق لا أتزوج حتى تخبرني ما حق الزوج على زوجته ؟ قال : حق الزوج على زوجته أن لو كانت له قرحة فلحستها ما أدت حقه 
امام ذھبي رحمہ اللہ نے اس كو منكر قرار ديا ہے۔


اگر عورت اپنے شوہر کے زخم چاٹ بھی لے تو وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ یہ ساری باتیں تشبیہ اور استعارے کے طور پر بیان ہوئی ہیں نہ کہ لفظی معنی کے طور پر۔
جس طرح مرد کے بیوی پر حقوق ہیں اسی طرح بیوی کے خاوند پر حقوق ہیں، اسلام نے ان حقوق کی بھی بڑی اہمیت بتائی ہے ۔
صحيح البخاري
باب الوصاة بالنساء:
باب: عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان
حدیث نمبر: 5186 
واستوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء خيرا".
عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔

Sunday, 7 October 2018

جادو کرنے کا حکم

جادو کرنے کا حکم
سوال:
(۱) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص نقصان کیلئے کسی پر کالا علم کرے یا کروائے اس کی سزا کا کیا حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا کیا حکم ہے ؟
(۲) جو جادو کے زور پر نہ چاہتے  ہوئے بھی وہ کام کررہا ہو جو خلافِ شریعت ہے آیا وہ بھی انہی میں سے ہوگا یا مظلوم ہے
الجواب حامداًومصلیاً
(۱) واضح رہے کہ اگر کوئی شخص جادو یا سفلی عمل جائز سمجھ کر کرتا ہے تو کافر ہے ۔ اور اگر گناہ سمجھ کر کرتا ہے تو کافر تو نہیں لیکن بہت بڑے گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس گندے عمل سے بچائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (4 / 240)
(قَوْلُهُ وَالْكَافِرُ بِسَبَبِ اعْتِقَادِ السِّحْرِ) فِي الْفَتْحِ: السِّحْرُ حَرَامٌ بِلَا خِلَافٍ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاعْتِقَادُ إبَاحَتِهِ كُفْرٌ. وَعَنْ أَصْحَابِنَا وَمَالِكٍ وَأَحْمَدَ يَكْفُرُ السَّاحِرُ بِتَعَلُّمِهِ وَفِعْلِهِ سَوَاءٌ اعْتَقَدَ الْحُرْمَةَ أَوْ لَا وَيُقْتَلُ وَفِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ «حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ» يَعْنِي الْقَتْل
شرح النووي على مسلم – (14 / 176)
فعمل السحر حرام وهو من الكبائر بالاجماع وقد سبق فى كتاب الايمان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عده من السبع الموبقات وسبق هناك شرحه ومختصر ذلك أنه قد يكون كفرا وقد لايكون كفرا بل معصيته كبيرة۔
اور ایسا شخص اگر توبہ نہ کرے تو اس کو سزائے موت ہوسکتی ہے لیکن یہ سزا جاری کرنا شرعی حکومت کاکام ہے ۔ اب چونکہ کوئی شرعی قانون رائج نہیں ہے اور جادو گروں نے جگہ جگہ بورڈ لگا رکھے ہیں تو ان کو سزا اگر دنیا میں نہیں بھی ملتی تو مرنے کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ملے گی ۔البتہ اگر کوئی جادو گر اپنے جادو کرنے اور اس کے ذریعہ سے کسی کو جان سے مارنے یا نقصان پہونچانے کا خود ہی اعتراف کرلے تو جائز اور صحیح العقیدہ عملیات کے ذریعہ اس کا تدارک کرنا اور بدلہ میں اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہوگی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (4 / 240)
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: السَّاحِرُ إذَا أَقَرَّ بِسِحْرِهِ أَوْ ثَبَتَ بِالْبَيِّنَةِ يُقْتَلُ وَلَا يُسْتَتَابُ مِنْهُ، وَالْمُسْلِمُ وَالذِّمِّيُّ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ فِيهِ سَوَاءٌ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 44)
وَفِي ذَخِيرَةِ النَّاظِرِ تَعَلُّمُهُ فَرْضٌ لِرَدِّ سَاحِرِ أَهْلِ الْحَرْبِ، وَحَرَامٌ لِيُفَرَّقَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا، وَجَائِزٌ لِيُوَفِّقَ بَيْنَهُمَا. اهـ.
(۲) چونکہ جادو کا اثر ہونا شرعاً محال نہیں بلکہ ممکن ہے اس لئے جادو سے متاثر شخص جادو کے زور پر اپنے ارادے اور اختیار کے بغیر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کام کرے جو شریعت کے خلاف ہو تو وہ عنداللہ معذور اور مظلوم ہوگا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 44
----------------------
کیا جادو توڑنا اور اسے زائل کرنا کا عمل سیکھنا جائز ہے؟
الحمدللہ
اگر تو یہ عمل شرعی دم اور دعاؤں اور ان کے ساتھ ہو جو کہ جائز ہیں تو پھر اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
لیکن اگر جادو کو اس لئے سیکھا جائے کہ اس سے جادو کا توڑ کیا جاسکے یا کسی اور مقصد کے لئے تو یہ جائز نہیں بلکہ یہ نواقض اسلام میں سے ہے (یعنی جس سے مسلمان اسلام سے نکل جاتا ہے) کیونکہ یہ اس وقت تک سیکھا ہی نہیں جاسکتا جب تک شرک نہ کیا جائے اور اس طرح کہ شیطان کی عبادت کی جائے اور اس کے لئے ذبح اور نذر وغیرہ مانی جائے جو کہ عبادت کی اقسام میں سے ہو اور ان کا تقرب حاصل کرنے کے لۓ اور ان کے پسندیدہ کام کۓ جائیں تاکہ وہ بھی اسکی پسندیدہ خدمت کریں۔
اور یہی وہ نفع ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے اس فرمان میں کیا ہے۔
"اور جس روز اللہ تعالی تمام مخلوق کو جمع کرے گا (اور کہے گا) اے جنات کی جماعت تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لئے جو انسان انکے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم میں سے ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تو نے ہمارے لئے معین فرمائی اللہ تعالی فرماۓ گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے بے شک آپ کا رب بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے۔" الانعام 128 .

Tuesday, 2 October 2018

سود کی رقم کے مصارف

سود کی رقم کے مصارف
مسئلہ (۱۵۹): حضرات فقہاء کرام نے مالِ حرام مثلاً بینک کے سود کے دو مصرف بتائے ہیں: ایک یہ کہ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں واپس کردیا جائے، لیکن اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں ہماری سودی رقم کو اَغیار، اسلام دشمنی کے کاموں میں لگادیتے ہیں، اس لیے دوسرے مصرف میں یہ رقم صرف کی جائے، یعنی مالِ حرام کے وبال سے بچنے کے لیے بلانیتِ ثواب بہت زیادہ غریب ومحتاج ، پریشان حال مقروض ، یا لُٹے پِٹے لوگوں پر صدقہ کردی جائے(۱)، خود اپنے یا مسجد کے بیت الخلاء کی تعمیر میں، اسی طرح اپنے یا مسجد وعیدگاہ کے مقدمہ میں، یاپھر رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں، راجح قول یہی ہے، کیوں کہ مالِ حرام کا غریبوں پر تصدُّق واجب ہے، اور تصدُّق میں کسی غریب کو دے کر اسے مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرنے کی صورت میں مالک بنانے کی صورت نہیں پائی جاتی۔(۲)
------------------------------
= تفریغ الذمۃ منہ بردہ إلی أربابہ إن علموا ، وإلا إلی الفقراء ۔ (۳۹/۴۰۷ ، المیسر)
ما في ’’الدر المختار مع الشامیۃ‘‘: والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔
(۷/۳۰۱ ، کتاب البیوع ، مطلب فیمن ورث مالا حراما)
ما في ’’بذل المجہود‘‘: صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث، فأما إن ملکہ بعقد فاسد ، أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمۃ عن نفسہ ، فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔ (۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ) (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۸۰۳۸)=
(۱) ما في ’’بذل المجہود‘‘: صرّح الفقہاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ۔۔۔۔۔۔۔ إن أخذہ من غیر عقد ولم یملکہ یجب علیہ أن یردہ علی مالکہ إن وجد المالک ، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء ۔۔۔۔۔۔ وأما إذا کان عند رجل مال خبیث فاما إن ملکہ بعقد فاسد أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔ (۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ ، باب فرض الوضوء ، تحت رقم :۵۹ ، رد المحتار :۹/۴۷۰ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع)
(۲) ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : ویشترط أن یکون تملیکا لا یصرف إلی بناء مسجد وکفن میت وقضاء دینہ ۔ تنویر۔ وفي الشامیۃ : قال الشامي رحمہ اللہ تعالی : قولہ : (نحو مسجد) کبناء القناطیر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنہار والحج والجہاد وکل ما لا تملیک فیہ ۔ زیلعي ۔
(۳/۲۹۱ ، کتاب الزکاۃ ، باب المصرف ، الفتاوی الہندیۃ :۱/۱۸۸، کتاب الزکاۃ ، الباب السابع۔ ۔

=======================
سوال # 39376
میرے اوپر میرے بھائی کی طرف سے عدالت میں ایک غیر ضروری اور غیر شرعی مقدمہ دائر کیا گیا ہے تفصیل کے لئے وصیت اور وارثت کی فتویٰ رقم ۳۹۰۸۶ پڑھ لیں حالات تفصیل سے واضح ہوجائیں گے۔ علماے دین سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا بھائی کی طرف سے میرے اوپر مسلط کئے مقدمہ کیغیر ضروری اخراجات سود کی رقم سے خرچ کئے جاسکتے ہیں؟ سود سے متعلق نیز یہ بھی فرما دیں کہ کیا سود کی رقم سے بلا ثواب کی غرض سے حاجت مند اپنے عزیز اور کسی مسلمان کی مدد کی جا سکتی ہے؟ براہ کرم، شرعی حکم سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 27, 2012
جواب # 39376
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1243-1016/B=7/1433
سود کی رقم مقدمہ کے ضروری اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے، ہاں ثواب کی نیت کے بغیر بہت غریب اور پریشان حال مقروض مسلمان خواہ وہ وعزیز ہی ہو ان کی مدد کرسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔
___________
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق
حضرات فقہاء کرام نے مالِ حرام مثلاً بینک کے سود کے دو مصرف بتائے ہیں:
(۱) ایک یہ کہ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں واپس کردیا جائے، لیکن اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں ہماری سودی رقم کو اَغیار، اسلام دشمنی کے کاموں میں لگادیتے ہیں،
(۲) اس لیے دوسرے مصرف میں یہ رقم صرف کی جائے، یعنی مالِ حرام کے وبال سے بچنے کے لیے بلانیتِ ثواب مثلا بہت زیادہ غریب ومحتاج، پریشان حال مقروض، یا لُٹے پِٹے لوگوں پر صدقہ کردی جائے،
اور صورت مسئولہ میں سود کی رقم بطور رشوت کے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ ”سود“ کی رقم یا تو مالک (بینک یا حکومت وغیرہ) کو لوٹانا ضروری ہے (جیسا کہ پہلی صورت میں مذکور ہوا)  یا پھر غریبوں مسکینوں کو بلا نیت ثواب دے دینا ضروری ہے، (جیسا کہ دوسری صورت میں مذکور ہوا)
اور چونکہ رشوت میں جو رقم دی جاتی ہے وہ حکومت کے کھاتے یعنی مالک کے قبضہ میں نہیں جاتی؛ بلکہ افسران کے جیب میں جاتی ہے، اس لئے یہ جائز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم باصواب و علمہ اتم ,
        والدلیل علی ما قلنا
ما في ’’الدر المختار مع الشامیۃ‘‘ : والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔
(۷/۳۰۱ ، کتاب البیوع ، مطلب فیمن ورث مالا حراما)
ما في ’’بذل المجہود‘‘ : صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالاً بغیر حق ، فأما إذا کان عند رجل مال خبیث ، فأما إن ملکہ بعقد فاسد ، أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمۃ عن نفسہ ، فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔
(۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ)
(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۸۰۳۸)=
ما في ’’بذل المجہود‘‘ : صرّح الفقہاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق ۔۔۔۔۔۔۔ إن أخذہ من غیر عقد ولم یملکہ یجب علیہ أن یردہ علی مالکہ إن وجد المالک ، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء ۔۔۔۔۔۔ وأما إذا کان عند رجل مال خبیث فاما إن ملکہ بعقد فاسد أو حصل لہ بغیر عقد ولا یمکنہ أن یردہ إلی مالکہ ، ویرید أن یدفع مظلمتہ عن نفسہ فلیس لہ حیلۃ إلا أن یدفعہ إلی الفقراء ۔
(۱/۳۵۹ ، کتاب الطہارۃ ، باب فرض الوضوء ، تحت رقم :۵۹، رد المحتار :۹/۴۷۰ ، کتاب الحظر والإباحۃ)

_________________
سودی رقم کا مصرف؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
مفتی شکیل منصور صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں
سوال:بینک کے سود کے پیسوں کا مصرف کیا هے؟
کیا اس پیسوں سے اپنے گھر کا بیت الخلا بناسکتے هے؟
کیا اس پیسوں سے ذاتی زمین کی باؤنڈری بناسکتے هے؟
کیا اس پیسوں سے مدرسہ کے بیت الخلا بنا سکتے ہیں؟
کیا اس پیسوں سے اسکول کے بیت الخلا بنا سکتے ہیں؟ جبکہ وہ اسکول عیسائی کی ہوں اور فیس لے کے نفع بناتی ہو؟
کیا رفاہی کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں؟کون کون سےرفاہی کام مراد ہیں؟
تفصیل سے وضاحت کرنےکی درخواست گے.جزاکم اللہ
سائل: محمد واصف پٹیل
مقیم حال: کینیا ،ایسٹ ،افریقہ

12/3/2017
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
بنک سے ملنے والی سودی رقم حرام مال ہے اور مال حرام کو اس کے مالک کو لوٹانا ضروری ہے
لہذا اس سودی رقم کو کسی ایسے ٹیکس کی ادائی وغیرہ کی شکل میں حکومت کو لوٹادے جس کا ادا کرنا واجب نہ ہو ۔
اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مال حرام کا تصدق علی الفقراء بلا نیت ثواب علی اصح الاقاویل ضروری ہے یعنی صدقات واجبہ کی طرح اس میں بھی تملیک  فقراء واجب ہے ۔مفتی شفیع صاحب نے جواہر الفقہ میں مختلف دلائل سے اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے
جبکہ مفتی کفایت اللہ دہلوی اور مفتی عبد الرحیم لاجپوری جیسے مفتیان کی رائے یہ ہے کہ تصدق علی الفقراء کے علاوہ دوسرے رفاہی کاموں میں بھی اسے صرف کیا جاسکتا ہے ان حضرات کی آراء کی روشنی میں مفاد عامہ کے لئے بیت الخلاء وغیرہ کی تعمیر کی بھی گنجائش ہے۔ ذاتی بیت الخلاء کی تعمیر میں ان کے یہاں بھی اجازت نہیں۔
عاجز کا رجحان یہ ہے کہ بنک وغیرہ کے سود کو کسی رفاہی تعمیراتی کاموں میں صرف نہ کیاجائے ۔کیونکہ اسے دیکھ کر سود کی قباحت لوگوں کی نظروں میں کم ہوجائے گی۔ محتاجوں اور ضرورت مندوں کو روپے دیدیئے جائیں۔ وہ اپنی ضرورتوں میں صرف کریں۔
اگر حکومت کا غیر واجبی ٹیکس قابل ادا ہو تو اس کی ادائی تصدق علی الفقراء سے بھی مقدم ہے۔
إن سبیل التوبۃ مما بیدہ من الأموال الحرام إن کانت من ربا، فلیردہا علی من أربی علیہ، ویطلبہ إن لم یکن حاضرًا، فإن أیس من وجودہ فلیتصدق بذٰلک عنہ۔ (الجامع لأحکام القرآن الکریم للقرطبي ۳؍۲۴۸، سورۃ البقرۃ: ۳۷۹ دار إحیاء التراث العربي بیروت)
إن من شرط التوبۃ: أن تردّ الظلامۃ إلی أصحابہا، فإن کان ذٰلک في المال، وجب أدائہ عینًا أو دینًا ما دام مقدورًا علیہ۔ (القواعد للزرکشي ۲؍۲۴۵ بیروت)
ویردّونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۔ (الأشباہ والنظائر / القاعدۃ الخامسۃ ۱۴۹ مکتبہ دار العلوم دیوبند، کذا في البحر الرائق / باب الربا ۶؍۱۲۶ کراچی)
ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب الاستبراء، فصل في البیع ۶؍۳۶۵ کراچی، ۹؍۵۵۳ زکریا)
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء۔ (بذل المجہود، کتاب الطہارۃ / باب فرض الوضوء ۱؍۳۷ سہارنفور، ۱؍۳۵۹ مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)
من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد إلی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراء الخ۔ (معارف السنن ۲؍۳۴ أشرفیۃ دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

بچہ فوت ہونے پر صبر كرنے كا اجر وثواب؟

بچہ فوت ہونے پر صبر كرنے كا اجر وثواب؟
دل کے ٹکڑے کو لے لیا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
جب کسی کا بچہ فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ:
تم نے میرے بندے کے بچے کی روح نکال لی (حالانکہ وہ اللہ تو سب جانتا ہے)،
فرشتے عرض کرتے ہیں کہ نکال لی،
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم نے اس (والدین) کے دل کے ٹکڑے (پھل) کو لے لیا،
فرشتے عرض کرتے ہیں؛ لے لیا،
ارشاد ہوتا ہے کہ: پھر میرے بندے نے اس پر کیا کہا؟
فرشتے کہتے ہیں: اِس نے آپ کی حمد کی اور (إنا لله وإنا إليه راجعون) پڑھا،
اللہ فرماتا ہے کہ: اس کے بدلے میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد (تعریف کا گھر) رکھو.
--------------------------------------------------
(سنن الترمذي : 1021 (حسن) ،
الترغيب والترهيب : 4/257 ، ، 3/123 ،
تخريج مشكاة المصابيح : 2/230 ، ، 1677 ،
صحيح الجامع : 795 ،
صحيح الترغيب: 2012 ، ، 3491 (حسن لغيره)،
السلسلة الصحيحة : 1408 ، ،
صحيح ابن حبان : 2948)​

.............
ماں کو جنت لے جائے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بچہ اپنی والدہ کے پیٹ میں (روح پھونکے جانے سے پہلے) ہی ساقط (ختم، ضائع) ہوگیا، اور اگر اُس کی والدہ صبر کرتے ہوئے اپنے اِس بچے پر ثواب کی امید رکھے تو وہ بچہ بھی اپنی والدہ کو نال (ناف سے ملا ہوا، ایک حصہ) سے پکڑ کر جنت میں لے جائے گا.
(مفہوم فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)​
--------------------------------------------------------
(سنن ابن ماجه : 1609 ، ، الترغيب والترهيب : 3/122 ، ،
صحيح الترغيب : 2008 (صحيح لغيره) ، ، المتجر الرابح : 99 ، ،
صحيح الجامع : 7064 (حسن))​

_________________
ہاں، یہ سب کے لئے ہے
قرة بن إياس المزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہو؟
اس نے عرض کی جی ہاں اور (دعا بھی دی) کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت فرمائے کہ جس طرح میں اس سے محبت کرتا ہوں (پھر کچھ عرصہ تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (دونوں) کو (حاضر) نہ دیکھا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا کہ فلاں شخص کے بیٹے کا کیا بنا؟
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس کی تو وفات ہوگئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے (ملنے پر) ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم (بروز قیامت) جنت کے دروازے پر جاؤ اور اپنے بیٹے کو اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ؟ (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ خوشخبری صرف اِسی (والد) کے لئے خاص ہے یا ہم سب (مسلمانوں) کے لئے ہے؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (خوشخبری) سب (مسلمانوں) کے لئے ہے
----------------------------------------------------
(الترغيب والترهيب: 3/122، المتجر الرابح: 98،
تخريج مشكاة المصابيح للألباني: 1697 (إسناده صحيح))​


اگر نومولود بچہ فوت ہوجائے اور والدين اس پر صبر شكر كريں تو انہيں كيا اجروثواب حاصل ہوتا ہے؟
الحمد للہ:
كتاب وسنت ميں بہت سي نصوص ملتی ہيں جو صبر كرنے والوں کی فضيلت اور ان كے لئے اجرعظيم پر دلالت كرتى ہيں، اور اللہ تعالى انہيں بغير حساب كے اجروثواب عطا كرےگا، يہ اجروثواب ہر اس شخص كے لئے ہے جو كسی بھی مصيبت پر صبر كرے، اس ميں كوئی شک نہيں كہ بيٹے كا فوت ہونا والدين كے لئے بہت بڑی مصيبت اور آزمائش ہے، لہذا جو بھی اس پر صبر كرے اور اللہ تعالٰی كي رضا اور تقدير پر راضی ہو اسے اللہ تعالٰی كے فضل و كرم سے يہ اجرعظيم حاصل ہوگا، ذيل ميں ہم اس کی چند ایک نصوص پيش كرتے ہيں تاكہ آپ كو اس مصيبت اور آزمائش سے تسلی اور حوصلہ مل سكے:
اللہ سبحانہ تعالى كا فرمان ہے:
{اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور كرينگے، دشمن كے ڈر سے، بھوک وپياس سے، مال وجان اور پھلوں کی كمی سے، اور ان صبر كرنے والوں كو خوشخبری دے ديجئے، جنہيں جب کبھی كوئی مصيبت آتی ہے تو وہ كہہ ديا كرتے ہيں كہ ہم تو خود اللہ تعالى کی ملكيت ہيں اور ہم اسي کی طرف لوٹنے والے ہيں، ان پر ان كے رب کی نوازشيں اور رحمتيں ہيں اور يہی لوگ ہدايت يافتہ ہيں} البقرۃ (155- 157) .
اور ایک مقام پر اللہ تعالى نےارشاد فرمايا:
{اور اللہ تعالى صبر كرنے والوں سے محبت كرتا ہے} آل عمران (146)
اور ایک مقام پر اللہ جل شانہ نے فرمايا:
{اللہ تعالٰی يقينا صبر كرنے والوں كو بغير حساب كے اجروثواب دے گا} الزمر (10).
اس معنى کی آيات بہت زيادہ ہيں، ليكن اسی پر اكتفا كرتے ہيں.
اور احاديث بھی بہت وارد ہيں جن ميں سے چند ایک ذكر کی جاتی ہيں:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نےصہيب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
" مومن كا معاملہ عجيب ہے كہ اس كے ہر معاملہ ميں خير ہی خير ہے، يہ مومن كے علاوہ کسی اور كو حاصل نہيں، اگر مومن كو كوئی آسانی اور خوشي حاصل ہوتي ہے اور وہ اس پر اللہ كا شكر كرتا ہے تويہ اس كے لئےبہتر اور خير ہے، اور اگر اسے كوئی تكليف اور مصيبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر كرتا ہے يہ اس كے لئے بہتر اور خير ہے." صحيح مسلم (5318) .
يہ حديث تو عام صبر كے متعلق ہے، اور بچے كے فوت ہونے پر صبر كرنے ميں بھی خاص كر احاديث آئيں ہيں جن ميں سےچند ایک ذيل ميں ذكر كرتے ہيں:
امام ترمذی رحمہ اللہ تعالٰی نے ابوسنان رحمہ اللہ تعالٰی سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں ميں نے اپنے بيٹے سنان كو دفنايا اور قبر كے كنارے ابو طلحہ خولانی رحمہ اللہ تعالٰی بيٹھے ہوئے تھے جب ميں نے نكلنا چاہا تو انہوں نےميرا ہاتھ پكڑا اور كہنے لگے ابوسنان كيا ميں تمہيں خوشخبری نہ دوں؟ ميں نےجواب ديا كيوں نہيں، تو انہوں نے كہا:
مجھے ضحاک بن عبدالرحمن بن عرزب رحمہ اللہ نے ابو موسى اشعرى رضی اللہ تعالى عنہ سے حديث بيان کی كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب کسی بندے كا بيٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالى اپنے فرشتوں سے كہتا ہے تم نے ميرے بندے كے بيٹے كي روح قبض کرلی تو وہ كہتے ہيں جي ہاں تو اللہ تعالى كہتا ہے تم نے اس كےدل كا پھل اور ٹكڑا قبض كرليا تو وہ كہتے ہيں جي ہاں، تواللہ تعالى كہتا ہے ميرے بندے نے كيا كہا؟ تو فرشتے جواب ديتے ہيں اس نے تيری حمد و تعريف اور انا للہ وانا اليہ راجعون پڑھا، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ميرے بندے كے لئے جنت ميں ایک گھر تيار كردو اور اس كا نام بيت الحمد ركھو." جامع الترمذي حديث نمبر (942). علامہ البانن رحمہ اللہ تعالٰی نےاس حديث كو السلسلۃ الصحيحۃ (1408) ميں حسن قرار ديا ہے.
اور بخاری ومسلم ميں کسی شخص كے ایک سے زيادہ بچے فوت ہونے اور اس پر صبر كرنے اور اللہ تعالٰی سے اجروثواب کی نيت كرنے کی فضيلت پر خاص حديث مذكور ہے:
ابو سعيد رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ عورتوں نے نبی كريم صلى اللہ عليہ وسلم سےعرض کی اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہميں نصيحت اور تبليغ كرنے كے لئے كوئی دن خاص كرديں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں وعظ ونصيحت کی اور فرمايا:
"جس عورت كے بھی تين بچے فوت ہوں تو وہ آگ سے پردہ ہونگے، ايک عورت كہنے لگی اور اگر دو ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا اور دو بھی" صحيح بخاری (99) صحيح مسلم ( 4786 ) .
اور بخاری کی ايک روايت ميں ہے كہ:
انس بن مالک رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
"جس مسلمان شخص كے بھی بلوغت سے قبل تين بچے فوت ہوجائيں اللہ تعالٰی ان کی وجہ سے اسے اپنی رحمت اور فضل سے جنت ميں داخل كرے گا." صحيح بخاری حديث نمبر (1292).
ان احاديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جس كے بھی دو يا اس سے زيادہ بچے فوت ہوجائيں اور وہ اس پر صبر كرے تو اس كے ساتھ جنت ميں داخل اور جہنم سے نجات كا وعدہ كيا گيا ہے.
اور مصيبت كے وقت ہميں نبی صلى اللہ عليہ وسلم نےايک دعا سكھائی ہے جس ميں بہت فضيلت اور اجرعظيم ہے .
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے ام المومنين ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بيان كيا ہے وہ كہتى ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
"جس مسلمان شخص كو بھی كوئی مصيبت پہنچے اور وہ وہی كہے جو اسےاللہ تعالى نےحكم ديا ہے (انا للہ وانا اليہ راجعون) اور يہ دعا پڑھے:
(اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا) اے اللہ ميری مصيبت ميں مجھے اجر دے اور اس كا نعم البدل عطا فرما."
ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہتی ہيں كہ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فوت ہوئے تو ميں كہنے لگی ابو سلمہ سے كون سا مسلمان بہتر ہے سب سے پہلا گھر جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم کی طرف ہجرت كركے آيا پھر ميں نے يہ دعا پڑھ لی تو اللہ تعالى نے مجھے اس كے بدلے ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم دئے. صحيح مسلم حديث نمبر (1525).
ہم اللہ تعالى سےدعا گو ہيں كہ وہ آپ كو آپ کو مصيبت ميں صبر دے اور اس كے بدلے ميں بہتر اور اچھا بدلا عطا فرمائے.

Monday, 1 October 2018

امام ابو حنیفہ وغیرہم کی تصانیف

امام ابو حنیفہ وغیرہم کی تصانیف

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور دیگر علماء اسلاف کی تصانیف کثرت سے نہ ہونے کی وجہ باوجودیکہ ان کا علم کتب کثیرۃ کو محیط ہے.
بعض اھل تحقیق نے بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں مستقل تصنیف کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی کیونکہ ان کے تلامذہ کثرت سے تھے جن کے پاس ان کی لکھی ہوئی کاپیاں موجود تھیں
جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانے میں تصنیف کی ضرورت محسوس نہ کی گئی  اور بعض اھل علم نے کہا کہ تصنیف تو ان کی تھیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب فتنۂ تاتاری برپا ہوا تو ظالم تاتاریوں نے ساری دینی کتابوں  اور ان اھل علم حضرات کی تصانیف کو دریا میں غرق کردیا.
تاتاری لوگ فتنۂ یاجوج ماجوج سے کم نہ تھے
ان ظالم لوگوں نے بہت مسلمانوں کو قتل کیا اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر علماء کرام کی بیش بہا بے شمار کتابوں کو دریاء میں بہادیا
ورنہ بعض اھل تاریخ نے لکھا ہے کہ ہمارے علماء کرام کی اتنی تصانیف تھیں کہ اگر دریا میں پل بنایا جاتا تو پل بن جاتا بظاہر یہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ کتابیں کثرت سے تھیں
اور دریا دجلہ وفرات اس پر شاہد عدل ہے کہ جب ان ظالم تاتاریوں نے علماء کرام کے ذخیرۂ کتب کو دریا میں غرق کیا تو دجلہ وفرات کا پانی روشنائی کی وجہ سے سیاہی مائل ہوگیا تھا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی کتابیں رہی ہوں گی ہمارے علماء کرام کی
اب اس زمانے میں چھپائی پریس تو ہوتے نہیں تھے کہ کئی نسخے ہوں جو بروقت دستیاب ہوجائیں قلمی نسخے ہوتے تھے جو کمیاب تھے
فقط واللہ اعلم بحقیقۃ الحال
محمد اسعد المظاھری الٰہ آبادی عفی عنہ
.......
مزید تلاش کے بعد امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ کی 14 کتابوں کا نام ملا ہے اس میں سے ان کی ایک جو فقہ حنفی کی مستند ومشہور کتاب ہے وہ ہے،
کتاب الخراج:
اس کے علاوہ ان کی مزید کتابیں معلوم ہوئی ہیں
1/کتاب الآثار
2/کتاب النوادر
3/اختلاف الامصار
،4/ادب القاضی
المالی فی الفقہ
5/الرد علی مالک بن انس
7/الفرائض
8/الوصایا
9/الوکالۃ
10/ البیوع
11/الصید والذبائح
12/ الغضب والاستبراء
13/ کتاب الجوامع

دنیا امتحان کی جگہ ہے

دنیا امتحان کی جگہ ہے
سورہ الکہف آیت نمبر 7
اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ   اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
ترجمہ:
یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔ (١)
تفسیر:
1: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین کے کفر اور معاندانہ طرز عمل سے سخت صدمہ ہوتا تھا، ان آیات میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ دنیا تو لوگوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون ہے جو دنیا کی سجاوٹ میں محو ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، اور کون ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق استعمال کر کے اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناتا ہے۔ اور جب یہ امتحان گاہ ہے تو اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو امتحان میں کامیاب ہوں گے اور وہ بھی جو ناکام ہوں گے۔ لہذا اگر یہ لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کر کے امتحان میں ناکام ہورہے ہیں تو اس میں نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ اس پر آپ کو اتنا افسوس کرنا چاہیے کہ آپ اپنی جان کو گھلا بیٹھیں۔
آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی

نظر بد سے حفاظت کی دعاء

نظر بد سے حفاظت کی دعاء

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین کو دم کرنے کے لئے یہ دعا کرتے اور یہ کہتے تھے کہ تمہارے باپ اسکے ساتھ اسماعیل اور اسحاق کو دم کرتے تھے۔

(اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ)

(میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ساتھ ہر شیطان، ہرزہریلی چیز جوکہ مار دے اور اور ہر تکلیف دینے والی آنکھ سے پناہ چاہتا ہوں)

«أَعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب ۱۰، ح: ۳۳۷۱ وسنن ابن ماجه، الطب، باب ما عوذ به النبیﷺ وما عوذ به، ح: ۳۵۲۵ ولفظها: اعوذ بکلمات اللہ… وسنن ابی داود، السنة، باب فی القرآن، ح:۴۷۳۷ وجامع الترمذی، الطب، باب کیف یعوذ الصبیان، ح:۲۰۶۰۔