Friday, 9 October 2020

آیات متشابہات پر ایمان کیسے لایا جائے

آیات متشابہات پر ایمان کیسے لایا جائے

قرآن کریم میں دو قسم کی آیات ہیں ایک آیات محکمات (یعنی جن کے معنی واضح ہیں)

اور دوسری آیات متشابہات (یعنی جن کے معنی معلوم یا معین نہیں)

اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿آل عمران ۷﴾

ترجمہ: ”وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتےہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے“۔

اس میں کسی کو شبہ نہیں کہ كهيعص، يٰس، حٰم، ن، يد، عين، استويٰ علي العرش

وغیرہ آیات کی اصل مراد اللہ کے سوائے کوئی نہیں جانتا اور یہ آیات ِمتشابہات میں سے ہیں جس طرح سے كهيعص وغیرہ (حروف مقطعات) کی مراد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اسی طرح استویٰ، يد، عين وغیرہ بلاشبہ متشابہات میں سے ہیں اور انکی مراد بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

لہذا ان پر ایمان لانے کیلئے پہلے ان کی مراد بھی معلوم ہو والی بات قطعاً غلط ہے۔ اللہ کی مراد کو اسی کے سپرد کرکے بھی ایمان لایا جاسکتا ہے اور ایسا لانا ہی اللہ کا حکم ہے جیسا دوسرے متشابہات پر لایا جاتا ہے۔ حروف مقطعات کے متعلق کوئی بیوقوف نہیں کہتا ہے کہ اگر تمہیں ان کی اصل مراد کا علم نہیں تو تم ان پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اگر ایمان لانے کیلئے اللہ کی مراد کا معلوم ہونا ضروری ہوتا تو اللہ تعالٰی پھر اپنی کتاب قرآن مجید میں ان کو تقسیم ہی کیوں کرتا ؟

امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں:۔

وَجُمْهُورُ أَهْلِ السُّنَّةِ مِنْهُمُ السَّلَفُ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ عَلَى الْإِيمَانِ بِهَا وَتَفْوِيضِ مَعْنَاهَا الْمُرَادِ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَا نُفَسِّرُهَا مَعَ تَنْزِيهِنَا لَهُ عَنْ حَقِيقَتِهَا.

ترجمہ: ”جمہور اہل سنت جن میں سلف اور اہلحدیث (محدثین) شامل ہیں ان کا مذہب (نصوص صفات پر) ایمان رکھنا ہے ساتھ اس کے کہ ان کے معنی مراد کو اللہ کی طرف سپرد کردیا جائے اور ہم ان کی تفسیر نہیں کرتے جبکہ ان کے ظاہری معنی سے اللہ کو پاک قرار دیتے ہیں“۔ (الإتقان في علوم القرآن ج 3 ص 14)

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

 کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن شریف کی متشابہ آیات کی ٹٹول میں لگے رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انہی کا ذکر فرمایا ہے لہٰذا ان کی صحبت سے پرہیز کرتے رہو۔ (بخاری ج 6 ص 33)

اللہ جانے اگر یہ لامذہبی وہی نہیں جن کے متعلق اللہ اور رسول نے خبر دی ہے تو پھر اور کون ہیں۔

----------------------------------

سوال: قرآن مجید میں وجہ ید اور استواء علی العرش جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کے کیا معنی ہیں؟

سائل: محمد آصف

جواب: مذکورہ الفاظ صفات ِ متشابہات میں سے ہیں جن کے معنی معلوم تو ہیں مگر  اس کے ظاہری معنی کواللہ تعالی کے لیے ثابت کرنااور اللہ کے لیے اس کی کیفیت کو ثابت کرنا اہل حق کے نزدیک درست نہیں  کیونکہ اللہ  تعالیٰ مخلوقات  کے مشابہ نہیں (لیس کمثلہ شیئ)، نیز اللہ تعالیٰ اعضا ء سمیت ہر چیز کی احتیاج سے پاک ہیں۔

اس لیے ان صفات (وجہ، عین، استوا علی العرش) سے متعلق اہل سنت والجماعت کے متقدمین اور متاخرین جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ان صفات کو مانتے تو ہیں لیکن ہم ان کا ظاہری معنیٰ مراد  لینا جائز نہیں۔ پھر جمہور علماء تو ان الفاظ  کے معنیٰ کو اللہ تعالیٰ  کے سپرد کردیتے ہیں کہ ہم ان الفاظ پر تو ایمان لاتے ہیں لیکن ان کے حقیقی معنیٰ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔جبکہ اہل سنت  کے ہی دیگر بعض علماء ان الفاظ  سے ان کا باطنی مطلب مراد لیتے ہیں۔ مثلاً اس حدیث ”مومن کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے“ کا مطلب ان علماء نے تاویل کرکے یہ  بیان کیا ہے کہ یہاں دو انگلیوں سے مراد اللہ کی قدرت اور غلبہ ہے۔

اسی طرح قرآن میں ”وجہ“ کو اللہ کی رضامندی سے تاویل کیا  ہے اور استوا علی العرش  سے حاکمیت مراد لی ہے۔ بہرحال اہل حق کے یہ دونوں مسلک درست ہیں۔تاہم  ان الفاظ سے ان کے حقیقی معنیٰ مراد لینا جائز نہیں۔ نیز ان امور میں زیادہ غور و خوض کرنا شرعاً مطلوب نہیں، بلکہ نقصان دہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔ اس لیے اس میں زیادہ انہماک سے بچنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فقط والله المؤفق

صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر

الجواب صحیح: مفتی انس عفی اللہ عنہ صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر: الجواب الصحیح مفتی طلحہ ہاشم صاحب رفیق دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

--------------------------------------------------

"كلتايديه يمين" اور "يطوي السماء بشماله" کے درمیان تطبیق

مفتی صاحب پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک حدیث میں ھے کلتا یدیہ یمین 

اور مسلم باب صفت یوم القیمہ والجنت والنار میں ایک حدیث ھے 

جس میں یہ ھے کہ یطوی السماء بشمالہ تو ان دونوں حدیثوں میں تعارض ھے 

ممنون ومشکور فرمائے اور با حوالہ جواب چاھئے 

اجرکم علی اللہ

الجواب وباللہ التوفیق:

ترمذی کی روایت میں اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں یہ آیا ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ اولا تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ اور متشابہات میں کھود کرید درست نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علما نے یہ لکھا ہے کہ اللہ کی صفات متشابہات میں صفات کا تو یقین کرنا ہے لیکن کیفیات کی چھان پھٹک نہیں کرنی ہے۔ اس سے بہت سی خرابیوں کے دروازے وا ہوجاتے ہیں۔

بہرحال حدیث پاک میں دونوں ہاتھ داہنے ہیں سے مراد یہ ہے کہ جس طرح عام انسانوں کے ہاتھ کی تعیین شریعت نے مختلف اعمال کے اعتبار سے کی ہے؛ کھانا کھانے کے لیے داہنے کا استعمال کیا جائے، استنجا وغیرہ کے لیے بائیں ہاتھ کا وغیرہ، یہ تعیین انسان کے ہاتھ کے بابرکت ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے ہے۔ یہی صورت حال ہر عمل میں ہے جس میں دائیں اور بائیں کی تعیین کی گئی ہے۔

حدیث شریف میں اسی تقسیم کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ بابرکت ہیں۔ اس میں تقسیم نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ مخلوقات کے بائیں ہاتھ قوت و طاقت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ پرزور اور قوت میں برابر ہیں۔ اس اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ یمین ہوئے۔

تیسری تاویل یہ کی جا سکتی ہے کہ مذکورہ عبارت سے اللہ تعالیٰ کے جود و سخا اور انعام و اکرام کی صفات کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کرنا ہے۔ چناں چہ اہل عرب جب کسی کی دریا دلی کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ملتا یدیہ یمین۔

جہاں تک مسلم شریف کا حوالہ دیا ہے تو وہ ہمیں شمال کے لفظ کے ساتھ نہیں ملا۔ بخاری میں بھی یمین کا لفظ ہے، اور مسلم میں بھی یمین ہی کا لفظ ہے۔ لہذا کوئی اشکال باقی نہیں رہنا چاہیے۔

2787 (23) حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟".

اگر پھر بھی شمال کا لفظ کہیں پر ملتا ہے تو اس سے مراد صرف اتنا ہوسکتا ہے کہ وہاں پر حکایت حال مقصود ہوگی اور کچھ نہیں۔ 

فقط واللہ اعلم باالصواب

سعد مذکر 

——————————

بائیں ہاتھ والی ابن عمر کی روایت صحیح مسلم میں موجود ہے:

يَطْوِي اللَّهُ عزَّ وجلَّ السَّمَواتِ يَومَ القِيامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بيَدِهِ اليُمْنَى، ثُمَّ يقولُ: أنا المَلِكُ، أيْنَ الجَبَّارُونَ؟ أيْنَ المُتَكَبِّرُونَ. ثُمَّ يَطْوِي الأرَضِينَ بشِمالِهِ، ثُمَّ يقولُ: أنا المَلِكُ أيْنَ الجَبَّارُونَ؟ أيْنَ المُتَكَبِّرُونَ؟ : عن عبدالله بن عمر. صحيح مسلم. 2788.

اس ذیل میں ایک پسندیدہ توجیہ یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالی کے دو ہاتھ ناموں کے اعتبار سے یقیناً یمین و شمال ہیں جیساکہ صحیح و مرفوع روایت سے دونوں ثابت ہے البتہ معنی، مفہوم اور شرف وفضل کے لحاظ سے دونوں "یمین" ہیں۔ "كلتا يديه يمين" والی روایت کے یہی معنی ہیں ۔

تو نام کے لحاظ سے یمین و شمال کی تقسیم ہے اور شرف وفضل اور یمن وبرکت کے لحاظ سے دونوں "یمین" ہیں 

فلا اشکال! 

شکیل منصور القاسمی  (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/10/blog-post_9.html



Thursday, 8 October 2020

ضرورت وحاجت کی تعریف اور احکامِ شرعیہ میں ان کا لحاظ

ضرورت وحاجت کی تعریف اور احکامِ شرعیہ میں ان کا لحاظ

ضرورت وحاجت کی تعریف کیا ہے؟
اور احکامِ شرعیہ میں ان کا لحاظ کیسے کریں؟
مذہبِ اسلام مکمل دستورِ زندگی اور کامل نظامِ حیات کا ضامن ہے، قیامت تک آنے والے انسانوں کی رہبری کا سامان مہیا کرتا ہے، اس کے بنیادی اصول وضوابط اٹل ضرور ہیں؛ مگر تغیر پذیر دنیا میں ہر انقلاب سے نمٹنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہے، یہی تو اس کا امتیاز ہے کہ زمان ومکان سے ماوراء ہوکر بھی ممکن حد تک سہولت پر مبنی قانون کی لافانی قوت سے ہر موڑ پر دست گیری کرتا رہتا ہے، اس دین کا خاص لقب ہی اَلْحَنِیْفِیَّةُ السَّمْحَةْ (یعنی سیدھا اور آسان مذہب) ہے جو معتدل مزاج بناکر زندگی کے ہر گوشہ کو سیراب رکھتا ہے۔ ظاہرِ اسلام سے وابستہ ہوکر زندگی کا ایک خاص رخ متعین ہوتا ہے جو ”من چاہی“ کے بجائے ”رب چاہی“ پر مرکوز ہوتا ہے، قانونِ الٰہی ہر موڑ پر اپنی بالادستی باقی رکھتا ہے، جس پر عمل پیرا ہونا عموماً نفس انسانی پر شاق گزرتا ہے، اور ایسا بوجھ جو بشری وسعت سے باہر ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ڈالا ہی نہیں، قرآنِ کریم نے صاف لفظوں میں اعلان کردیا:
لاَیُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَھَا (بقرہ: ۲۸۶)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی سکت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔
”وسع“ کی تفسیر امام رازی (محمد فخرالدین بن علامہ ضیاء الدین متوفی ۶۰۴ھ) اور علامہ زمخشری (جار اللہ محمود بن عمر متوفی ۵۳۸ھ) وغیرہ نے بڑی وضاحت سے کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ: ”وسع“ کا مطلب ہے جسے انسان وسعت وسہولت کے ساتھ کرسکے، جسے کرنے میں اسے تنگی اور گھٹن پیش نہ آئے، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی چیز کا مکلف بناتا ہے جسے انسان پوری توانائی صرف کیے بغیر آسانی سے کرسکتا ہے۔ (تفسیر رازی:۴/۱۵۱، مطبوعہ: دارالفکر بیروت، تفسیر کشاف ۱/۴۰۸ مطبوعہ: مطبع مصطفی البانی، مصر ۱۹۷۲/)
اسی طرح متعدد آیات ہیں جن میں ”حرج و تنگی“ کو اس امت سے اٹھالینے کا مژدہ سنایاگیا ہے، مثال کے طور پر قرآن وضو کی تعلیم کے بعد کہتا ہے:
مَا یُرِیْدُ اللہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن (مائدہ:۶)
ترجمہ: اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے؛ لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور پورا کرے اپنے احسان تم پر؛ تاکہ تم احسان مانو۔
ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے:
وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِي الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (حج:۷۸)
ترجمہ: تمہارے اوپر دین میں تنگی کو مسلط نہیں کیا۔
اس قسم کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بنیادی خوبی سہولت و آسانی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے ماننے والوں کو سمجھایا: انَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ․ (بخاری:۱/۳۵ ”کتاب الوضو“ باب صب الماء علی البول فی المسجد)
(تم آسانی پیدا کرنے والے بناکر بھیجے گئے ہو، دشواری میں ڈالنے والے بناکر نہیں بھیجے گئے) آپ کا طریقہٴ کار بھی کچھ اسی طرح تھا روایت ہے:
مَا خُیِّرَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَیْنَ الأَمْرَیْنِ الاّ اخْتَارَ أیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ اثْمًا، فَانْ کَانَ اثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ (ابوداؤد:۲/۶۶۰، کتاب الأدب، باب في العفو والتجاوز)
(جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں کے مابین اختیار دیاگیا تو آپ نے سہولت والے امر کو اختیار کیا، اِلاّ یہ کہ وہ گناہ کا کام ہو (بایں طور کہ گناہ کا ذریعہ بن رہا ہو) تو ایسے موقع پر بہت دور بھاگنے والے تھے)
ذخیرہٴ حدیث میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ آپ علیہ الصلاة والسلام نے محض اس وجہ سے خفگی کا اظہار فرمایا کہ سہولت سے اعراض کرکے پُرمشقت عمل کو اختیار کیاگیا، حضرت مُعاذ بن جبل اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہما جلیل القدر صحابہ میں ہونے کے باوجود جب ایک موقع پر سہولت کو چھوڑ کر ایسے عمل کو اختیار کرتے ہیں جس میں بظاہر عند اللہ محبوبیت بھی ہوتی ہے؛ مگر عام لوگوں کے لیے شاق ہوتا ہے، تو فوراً دربارِ رسالت سے ڈانٹ پڑتی ہے۔
حدیث کی متداول کتابوں میں مذکور ہے: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ لمبی سورت شروع کردی، ایک صاحب جو دن بھر کام کرکے چور ہوگئے تھے، محض اس خیال سے کہ نماز لمبی ہوجائے گی، اپنی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل گئے، لوگوں نے چہ می گوئی کی ، تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی جس پر ڈانٹ کے الفاظ تھے:
یَا مُعَاذُ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ، (بخاری: ۱/۹۸، کتاب الصلاة، باب: من شکا امامہ ایٴا طوّل) (اے معاذ! کیا فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قصہ فجر کا ہے، راوی کا بیان ملاحظہ فرمائیں:
مَا رَأیْتُہ غَضِبَ فِيْ مَوْعِظَةٍ کَانَ أَشَدَّ غَضَباً مِنْہُ یَوْمَئِذٍ․ (بخاری: ۱/۹۸، کتاب الصلاة، باب: من شکا امامہ اذا طوّل) (میں نے نصیحت کرنے میں اس موقع سے زیادہ حالتِ غضب میں کبھی نہیں دیکھا)
ایک دوسری روایت میں سہولت سے اعراض کرنے کے عواقب کو بیان کرتے ہوئے تنبیہ فرمائی: 
انَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَلَنْ یُشَادَ الدِّیْنَ أَحَدٌ الاّ غَلَبَہ (بخاری: ۱/۱۰، کتاب الایمان، باب: الدین یسر) (دین کی بنیادی خوبی تو آسانی میں ہے، جو بھی دین میں شدت اختیار کرتا ہے تو مغلوب ہوجاتا ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے کہ نتیجتاً چھوڑ دیتا ہے)
اور ارشاد ہے: عَلَیْکُمْ مِنَ الأعْمَالِ مَا تُطِیْقُوْنَ فانَّ اللہَ لاَ یَمُلُّ حَتّٰی تَمُلُّوْا (بخاری:۱/۱۱، کتاب الایمان، باب: احب الدین الی اللہ عز وجل أدومہ) (تم ایسے اعمال اختیار کرو جو تمہارے بس میں ہوں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک ثواب دینا بند نہیں کرتا؛ جب تک کہ تم بھاری سمجھ کر چھوڑ نہ دو)
انھیں آیات و احادیث کو بنیاد بناکر فقہاء نے ”اَلْمَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّیْسِیْرَ“ (مشقت آسانی پیدا کرتی ہے) جیسے مختلف اصول بھی متعین کیے ہیں، جن کو ان آیات واحادیث کے بھرپور ترجمان بھی کہہ سکتے ہیں۔
نیز اسی زریں قانونِ یسر وسہولت پر کاربند رہتے ہوئے الٰہی قانون پر عمل کرکے اللہ کے ماننے والوں نے دنیا کے اسلام مخالف طاقتوں کو چنے چبوائے، اور ہر میدانِ عمل میں سرخروئی، ہر کارزار میں فتح مندی، اور زندگی سے وابستہ سماجی، اقتصادی ومعاشی ہر شعبے میں اپنے وپرائے کی دل پذیری سمیٹ کر دنیا پر راج کیا، معاشرت کی بکھری اور منتشر زلفوں کو سنوار کر دنیا کو ایک محکم نظام عطا کیا جس پر آج بھی بڑی حد تک عمل ہورہا ہے۔
تقریباً دو صدی قبل سے مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوا، دیکھتے دیکھتے زمامِ اقتدار غیروں کے ہاتھ چلا گیا، اقتصادی ومعاشی دنیا پر یہودی ایجنٹوں کا کنٹرول ہوا، رفتہ رفتہ مسلمانوں کامزاج اسلامی شریعت سے ہٹ کر یورپ کے نظام پر مرکوز ہوکر رہ گیا، اب ماحول کی تبدیلی، سوسائٹی کے بگاڑ، افکار وخیالات کے عدمِ توازن اور غیرقوموں کی مداخلت یا بے جا رواداری سے بہت سے اسلامی احکام پر عمل کرنا بظاہر ناممکن یا تنگی ودشواری کا باعث بن گیا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مخالف حالات، شدید تر ضرورت اور حرج وتنگی کی وجہ سے شرعی احکام میں کچھ تغیر ہوتا ہے یا نہیں، گنجائش کا پہلو نکلتا ہے یا نہیں، اگر گنجائش کا پہلو ہے تو وہ کون سے احکام ہیں جو یسر و تخفیف کو قبول کرتے ہیں، اور کون سے احکام ہیں جو تخفیف کو قبول نہیں کرتے، ظاہر ہے نہ تو لوگوں کو آزاد چھوڑا جاسکتا ہے کہ من مانی کرکے اپنی خواہشاتِ نفس اور محض سہولت پسندی کا نام ضرورت وحاجت رکھ لیں اور نہ ہی غیر معمولی تنگی ودشواری میں ہی مبتلا کرکے اسلام بیزاری میں مبتلا کریں؛ اس لیے ضرورت ہے کہ اصولی طور پر لوگوں کے احوال اور درپیش حالات کے لیے ”ضرورت وحاجت“ کا سانچہ تیار کیا جائے؛ تاکہ بروقت ناپ تول کر شریعت کے مزاج ومذاق سے ہم آہنگ خطوط متعین کیے جاسکیں۔ مندرجہ ذیل سطور میں کوشش کی جائے گی کہ ”ضرورت وحاجت“ سے متعلق ضروری مباحث اختصار کے ساتھ آجائیں۔
”ضرورت وحاجت“ فقہ اسلامی کا وسیع باب ہے، عبادات سے لے کر معاملات تک میں ان کی تاثیر نمایاں ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس کے لغوی واصطلاحی معنی پر غور کرلیا جائے۔
لغت میں ”ضرورت“:
”ضرورت“ ضرر سے نکلا ہے، یہ لفظ ”نقصان“ کے ہم معنی نفع کی ضد ہے۔ اس مادہ سے نکلنے والے تقریباً تمام ہی الفاظ میں نقصان کا معنی ملحوظ ہے۔ ”ضریرالبصر“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے، جس کی بینائی ناقص یعنی کمزور ہو، قرآنِ پاک میں ”ضراء“ کا لفظ اسی مادہ سے ”سراء“ کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، ”ضراء“ جانی ومالی نقصان مراد ہے، ابوالدُقَیس کے حوالہ سے علامہ زبیدی حنفی (محب الدین ابی فیض محمد مرتضیٰ) نے تاج العروس میں اور ابن منظور (محمد بن مکرد بن علی انصاری الرویفعی ۷۱۱ھ) نے لسان العرب میں یہ معنی بیان کیا ہے:
مَا کَانَ مِنْ سُوْءِ حَالٍ أَوْ فَقْرٍ أَوْ شِدَّةٍ فِيْ بَدَنٍ فَھُوَ ضَرٌ (تاج العروس: ۳/۳۴۸، لسان العرب: ۹/۳۲، مادہ: ضرر)
(ہرقسم کی بدحالی، وفقر، یا جسمانی مشقت ضرر ہے)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لغت کے لحاظ سے ضرورت کسی بھی ”قابلِ لحاظ نقصان“ کو کہا جاتا ہے، خواہ جسم سے متعلق ہو یا دوسرے انسانی احوال سے۔ صاحب لغة الفقہاء نے شدید حاجت اور لاعلاج مشقت کا نام ضرورت رکھا ہے۔ اَلضَّرُوْرَةُ: اَلْحَاجَةُ الشَّدِیْدَةُ وَالْمَشَقَّةُ الشَّدِیْدَةُ الَّتِيْ لاَ مَدْفَعَ لَھَا․ (لغة الفقھاء: ۲۸۳) (ضرورت نام ہے حاجتِ شدیدہ کا اور ایسی مشقت کا جس کے دفعیہ کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو)
ویسے لغت میں ”ضرورت“ اضطرار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ابن منظور (محمد بن مکرد ابن علی انصاری الرویفعی متوفی ۷۱۱ھ) لیث کے حوالہ سے لکھتے ہیں: اَلضَّرُوْرَةُ اسْمٌ لِمَصْدَرٍ: الاِضْطِرَارُ تَقُوْلُ حملتنی الضرورة علی کذا وکذا (لسان العرب: ۹/۳۳)
(ضرورت، اضطرار کا اسم ہے تم کہتے ہو ضرورت نے مجھے اس پر مجبور کیا)
اسی طرح ضرورت کا معنی لغت میں مطلقاً حاجت کے بھی کیا گیا ہے، علامہ فیروز آبادی (مجدالدین محمد بن یعقوب) لکھتے ہیں: اَلضَّرُوْرَةُ: اَلْحَاجَةُ (القاموس المحیط: ۲/۷۵ مطبوعہ دارالفکر بیروت)
اسی لیے امام راغب (ابوالقاسم حسین بن محمد اصبہانی متوفی: ۵۰۲ھ) نے ضرورت کی مختلف قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: لفظ ضروری کا اطلاق تین طرح ہے: ایک تو جبر وبے اختیاری صورت پر جیسے کہ درخت کو جب تیز وتند ہوا حرکت دے، دوسرے وہ صورت ہے کہ بغیر اس کے اس شئے کا وجود ناممکن ہو، جیسے بدن کی حفاظت کے لیے ضروری خوراک، تیسرے ایسے موقع پر کہا جاتا ہے؛ جب کہ کسی چیز کا اس کے خلاف ہونا ممکن نہ ہو، مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایک جسم بہ یک وقت دو جگہوں پر یقینا نہیں ہوسکتا۔ (المفردات في غریب القرآن، ص۲۹۶)
جمیل محمد لکھتے ہیں: لغت کی رو سے لفظ ضرورت کے استعمال کے لیے حالت کا کسی خاص معین حد کو پہنچنا ضروری نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل لغت ضرورت کی حاجت سے اور اضطرار کی احتیاج سے، اور اسی طرح حاجت کی ضرورت سے تفسیر کرتے ہیں (نظریة الضرورة، جمیل محمد: ۲۲ بحوالہ: ضرورت وحاجت سے مراد ۲۰۸ مطبوعہ فقہ اکیڈمی)
اس پوری تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کا استعمال لغت کے لحاظ سے تین معنی پر ہوتا ہے: (۱) ناقابل لحاظ نقصان (۲) اضطرار (۳) مطلق حاجت۔
ضرورت کی تعریف اصحاب بصیرت علماء کی نظر میں:
 ضرورت کی بنیادی طور پر دو تعریفیں ہیں، ایک کے حامل علامہ حموی (احمد بن محمد مکی ابوالعباس الحسینی ۱۰۹۸ھ) ابن ہمام (کمال الدین بن محمد بن عبد الاحد متوفی ۶۸۱ھ) علامہ سیوطی (جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر متوفی ۹۱۱ھ) اور ماضی قریب کے شیخ مصطفی زرقاء (متوفی ۱۴۲۰ھ-۱۹۹۹/) ہیں، ان حضرات کی تعریف کا لُبِّ لُباب یہ ہے کہ مصالحِ خمسہ (تحفظ نفس، تحفظ دین، تحفظ مال، تحفظ نسل، تحفظ عقل) میں صرف تحفظ نفس کی بقا جن امور پر موقوف ہو وہی ضرورت ہے۔ علامہ سیوطی (جلال الدین بن عبدالرحمن بن ابی بکر متوفی ۹۱۱ھ) لکھتے ہیں:
فَالضَّرُوْرَةُ بُلُوْغُہ حَدًّا انْ لَمْ یَتَنَاوَلِ الْمَمْنُوْعُ ھَلَکَ أَوْ قَارَبَ (الأشباہ والنظائر للسیوطی، ۱۱۴، مطبوعہ: موٴسسة الکتب الثقافیہ بیروت ۱۴۱۶ھ)
(ضرورت آدمی کا اس حد تک پہنچ جانا ہے کہ اگر ممنوعہ چیز نہ کھائے تو ہلاک ہوجائے یا ہلاکت کے قریب ہوجائے)
ان بزرگوں کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”ضرورت“ اسی اضطرار کے معنی میں ہے جس کو قرآنِ کریم میں فَمَنِ اضّطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ سے تعبیر کیاگیا ہے۔ امام ابوبکر جصاص (متوفی ۳۷۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: مَعْنَی الضَّرُوْرَةِ ھٰھُنَا ھُوَ خَوْفُ الضَّرَرِ عَلٰی نَفْسِہ أَوْ بَعْضِ أعْضَائِہ بِتَرْکِہ الْأَکْلَ (احکام القرآن للجصاص: ۱/۱۸۱، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت ۱۴۳۲ھ)
(یہاں پر ضرورت کا مفہوم یہ ہے کہ ترکِ اکل کی وجہ سے نفس یا کسی عضو کے ہلاک ہونے کا خوف ہو۔ اس کے برخلاف کچھ دوسرے بزرگوں نے جن میں سرِفہرست مالکی فقیہ اور اصولی امام علامہ شاطبی (ابواسحاق ابراہیم متوفی ۷۹۰ھ) ہیں، انھوں نے تھوڑا توسع اختیار کیا اور ضرورت کا تعلق صرف ہلاکتِ نفس سے ہی نہیں؛ بلکہ حیاتِ انسانی کے پانچ مصالح میں سے کسی پر بھی شدید زد پڑنے والی ہر صورت سے کیا، اور ”ضرورت“ کو ایک اصل کلی قرار دیا جس کی مختلف جزئیات ہیں۔ علامہ شاطبی (ابواسحاق ابراہیم متوفی ۷۹۰ھ) لکھتے ہیں:
ضروری احکام سے مراد وہ احکام ہیں جو دین ودنیا کے مصالح کی بقا کے لیے ناگزیر ہوں، اس طور پر کہ اگر وہ مفقود ہوجائیں تو دنیا کی مصلحتیں صحیح طریقہ پر قائم نہ رہ سکیں؛ بلکہ فساد وبگاڑ اور زندگی سے محرومی کا باعث بن جائیں یا ان کے فقدان سے نجات اور آخرت کی نعمت سے محرومی اور کھلا ہوا نقصان و خسران اٹھانے کا باعث ہو۔(الموافقات: ۲/۴، کتاب المقاصد، النوع الاول، المسئلة الاولیٰ، مطبوعہ: بیروت)
ان کی ہی پیروی کرتے ہوئے شیخ عبدالوہاب خلاّف نے علم اصول الفقہ میں اور شیخ ابوزہرہ نے اصول الفقہ میں ضرورت کو وسیع تر مفہوم میں استعمال کیاہے، فقہاء واصولیین کے استعمال سے بھی اسی نظریہ کی تائید ہوتی ہے، صاحب ہدایہ مختلف جگہوں پر ضرورت کو بنیاد بناکر مسائل کو مدلل کرتے ہیں، اکثر مواقع پر تحفظِ نفس کے علاوہ دیگر مصالح کا تحفظ واضح طور پر نظر آتا ہے، یہی حال کچھ دیگر مصنّفین کا بھی ہے، نمونہ کے لیے چند عبارتیں پیش کی جارہی ہیں:
(۱) جس جانور میں دم مسفوح (بہتا ہوا خون) نہ ہو، اگر پانی میں گرکر مرجائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا، امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے ان کی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:
لِأنَّ التَّحْرِیْمَ لاَ بِطَرِیْقِ الْکَرَامَةِ آیَةٌ لِلنِّجَاسَةِ بِخِلاَفِ دُوْدِ النَّحْلِ وَسُوْسِ الثِّمَارِ لِأنَّ فِیْہِ ضَرُوْرَةٌ (ہدایہ:۱/۳۷)۔
(اس لیے کہ ایسی تحریم جو بطریقِ کرامت نہ ہو اس کے نجس ہونے کی دلیل ہوتی ہے برخلاف شہد کی مکھی اور پھلوں کے کیڑے کہ اس میں ضرورت ہے)
(۲) قلیل وکثیر کی مقدار متعین کرتے ہوئے مصنف موصوف رقم طراز ہیں:
جَعَلَ الْقَلِیْلَ عَفْوًا لِلضَّرُوْرَةِ وَلاَ ضَرُوْرَةَ فِي الْکَثِیْرِ وَھُوَ مَا یَسْتَکْثِرْہُ النَّاظِرُ الَیْہِ فِي الْمَرْوِيِ عَنْ أبِيْ حَنِیْفَةَ وَعَلَیْہِ الْاعْتِمَادُ (ہدایہ:۱/۴۲، باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء وما لا یجوز بہ) (کنواں میں قلیل مقدارلید قابلِ عفو ہے کہ اس میں ضرورت ہے، کثیر مقدار میں ضرورت نہیں ہے، کثیر مقدار وہ ہے جس کو دیکھنے والے کثیر محسوس کریں، امام ابوحنیفہ سے یہی مروی ہے اور اسی پر اعتماد ہے)
(۳) کتبِ دینیہ کو جنبی کے لیے اپنی آستین سے چھونے میں حرج نہیں ہے؛ جبکہ قرآنِ کریم کو آستین سے مس کرنا مکروہ ہے۔ دلیل بیان کرتے ہوئے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: لاِٴنَّ فِیْہِ ضَرُوْرَةً (ہدایہ: ۱/۶۵ باب الحیض والاستحاضہ) (فرماتے ہیں کہ اس میں ضرورت ہے)۔
(۴) بیع وشراء کے ایک مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے ہدایہ میں ذکر کیاگیا ہے:
وَلاَ تَجُوْزُ بَیْعُ بَیْضَتِہ عِنْدَ أبِيْ حَنِیْفَةَ وَعِنْدَھُمَا یَجُوْزُ لِمَکَانِ الضَّرُوْرَةِ (ہدایہ: ۳/۵۴ باب البیع الفاسد)
(امام ابوحنیفہ کے نزدیک ریشمی کیڑے کے انڈوں کا فروخت کرنا ناجائز ہے؛ لیکن حضراتِ صاحبین کے نزدیک ضرورت کی وجہ سے جائز ہے)
(۵) صاحبِ دُرِمختار (محمد علاء الدین حصکفی متوفی ۱۰۸۸ھ) موزے پر مسح کی مدت پوری ہوگئی؛ لیکن وضو باقی ہے، اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَمُضِيُّ الْمُدَّةِ وَانْ لَمْ یَمْسَحْ انْ لَمْ یَخْشَ بِغَلَبَةِ الظَّنِّ ذَھَابَ رِجْلِہ مِنْ بَرَدٍ لِلضَّرُوْرَةِ فَیَصِیْرُ کَالْجَبِیْرَةِ فَیَسْتَوْعِبُہ بِالْمَسْحِ (درمختار مع رد المحتار ۱/۲۰۲، باب المسح علی الخفین، مطلب نواقض المسح، مطبوعہ: مکتبہ رشیدیہ پاکستان ۱۴۱۲ھ)
(اگر موزے پر مسح کی مدت پوری ہوگئی؛ لیکن وضو باقی ہے تو موزے اتارکر پیروں کا دھونا فرض ہے؛ لیکن سردی کی وجہ سے ظن غالب ہے کہ پاؤں شل ہوجائے گا تو مدت پوری ہونے کے بعد بھی مسح جاری رکھے، جس طرح زخمی غضو کے جبیرہ پر مسح کرتا ہے، یہ رخصت ضرورت کی وجہ سے ہے۔
(۶) علامہ رافعی (فقیہ اکبر عبدالقادر رافعی فاروقی مفتی دیار مصریہ متوفی ۱۳۲۳ھ) اپنی مایہ ناز تعلیق میں تحریر فرماتے ہیں:
فِيْ مَوَاقِعِ الضَّرُوْرَةِ أَيْ: بِأَنْ طَالَتْ عِدَّتُھَا تَعَالَجَتْ فَرْجَھَا بِدَوَاءٍ حَتّٰی رَأَتْ صُفْرَةً مثلاً فَھِيَ حَیْضٌ وَانْ لَمْ یَکُنْ فِيْ أَیَّامِ حَیْضِھَا․ (تقریرات رافعی:۱/۳۸ ملحق بردالمحتار)
(مواقع ضرورت میں یہ ہے کہ کسی کی عدت طویل ہوگئی اس نے اپنی شرم گاہ میں کوئی دوا داخل کیا، یہاں تک کہ پیلا مادہ نظر آیا تو یہ حیض ہوگا؛ اگرچہ کہ ایام حیض کے ماسواء میں ہو)
یہ چند مثالیں ہیں جن سے یہ بات بخوبی معلوم ہوسکتی ہے کہ ضرورت کا اطلاق، شریعت غرا میں صرف اسی وقت نہیں ہوتا ہے؛ جبکہ ہلاکتِ نفس کا تیقن یا غلبہ ظن ہو؛ بلکہ اس کے مفہوم میں توسع ہے جو مقاصدِ پنج گانہ (تحفظ نفس، تحفظ مال، تحفظ عقل، تحفظ دین، تحفظ نسل) میں سے ہر ایک سے اس کا تعلق قائم ہے۔ نیز اضطرار کی کیفیت ہی میں منحصر نہیں؛ بلکہ شدید ضرر اور غیرمعمولی مشقت بھی لاحق ہو تو ضرورت کا تحقق ہوجاتاہے۔
بہرحال یہ دو نقطہ ہائے نظر ہوئے، راقم یہ سمجھتا ہے کہ دونوں تعریف میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے۔ علامہ حموی (احمد بن محمد مکی ۱۰۹۸ھ) اور ان کی اتباع کرنے والوں کے پیش نظر وہ ضرورت ہے جو دلائلِ قطعیہ سے ثابت احکام جیسے کلمہٴ کفر کا زبان سے تکلم کرلینا، مردار کا گوشت وغیرہ کھالینا میں بھی موثر ہو؛ جبکہ علامہ ابو اسحاق شاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) ہر اس ضرورت کی تعریف کررہے ہیں جو احکام میں مطلقاً موثر ہوتی ہے؛ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ کچھ بزرگوں نے ضرورت شدیدہ بمعنی اضطرار کی تعریف پر زور دیا ہے، تو دوسرے بزرگوں نے مطلق ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے۔
شریعت میں اضطرار کا استعمال بھی ضرورت کے عام معنی میں ہوا ہے:
اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ ”ضرورت“ ایک مفہومِ کلی کا نام ہے جو کھانے پینے سے ہی متعلق نہیں؛ بلکہ اپنے مفہوم و استعمال کے لحاظ سے عموم رکھتی ہے، اس میں اضطرار کا معنی بھی پایا جاتا ہے؛ لیکن حقیقت میں وہ بھی ”ضرورت“ کی ایک نوع ہی ہے۔ ذرا ہم آیات واحادیث پر سرسری نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ”اضطرار“ قرآن کے سیاق وسباق میں کھانے پینے کے ضمن میں ضرور آیا ہے؛ بلکہ اس کا استعمال خاص طور پر اس موقع پر ہوا ہے؛ جب کہ جان آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو؛ لیکن احادیث میں ”مضطر“ بھی وسیع مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(۱) نَھَیٰ رَسُولُ اللہِ صَلی اللہُ علیہ وسلم عَنْ بَیْعِ الْمُضْطَرِّ (ابوداؤد: ۲/۴۸۰، کتاب البیوع، باب بیع المضطر) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مضطر کی بیع سے منع فرمایا)
ظاہر ہے خریدوفروخت کے باب میں مذکور ”مضطر“ کی حالتِ زار ہونا ضروری نہیں ہے کہ بغیر اس قسم کی بیع وشراء جان خطرے میں پڑجائے، یا قریب بہ ہلاکت ہوجائے؛ بلکہ مجبور شخص جو شدید ضرورت کی بنا پر، یا کسی خاص مصلحت کے حصول کے لیے بیچنے پر مجبور ہوا ہے، وہی مراد ہے۔ علامہ خطابی (ابوسلیمان احمد بن محمد متوفی ۳۸۸ھ) حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَالثَّانِيْ أَنْ یَضْطَرَّ الٰی الْبَیْعِ لِدَیْنٍ رَکِبَہ أَوْ مُوٴُنَةٍ تُرْہِقُہ فَیَبِیْعُ مَا فِيْ یَدِہ فِالْوَکْسِ بِالصَّرُوْرَةِ․ (حاشیہ ابوداؤد: ۲/۴۷۹، کتاب البیوع، باب بیع المضطر) (دوسری صورت یہ ہے کہ قرض کا بار آگیا، یا کوئی اور تاوان دینا پڑگیا، جس کی وجہ سے بیچنے پر مجبور ہوجائے تو اپنے مال کو کم قیمت میں ضرورت کی وجہ سے بیچ دے)
(۲) مسند احمد کی روایت ہے: اذا اضَّطَرَرْتُمْ اِلَیْھَا فَاغْسِلُوْھَا بِالْمَاءِ (مسنداحمد:۲/۱۸۲)
(جب تم ان برتنوں کے استعمال پر مجبور ہوتو ان کو پانی سے دھولیا کرو)
ظاہر ہے کہ برتن کے نہ رہنے سے جان نہیں چلی جاتی؛ اس لیے کہ انسان بھون کر کھاسکتا ہے۔ ہاں شدید مجبوری ہوتی ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
(۳) موطا مالک کی روایت ہے: اذَا اضَّطَرَّ الٰی لُبْسٍ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الثِّیَابِ الَّتِيْ لَابُدَّ لَہ مِنْھَا صُنْعُ ذٰلِکَ وَاقْتَدیٰ․ (موطا مالک: ۱۴۰، کتاب الحج، باب ما جاء فیمن أحصر بغیر عدد)
(حاجی جب کسی کپڑے کے پہننے پر مجبور ہوجائے جو کہ اس کے لیے ضروری بھی ہوتو پہن لے اور فدیہ دے دے)
معلوم ہوا کہ احادیث میں ”مضطر“ بھی وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ امام ابوبکر جصاص (احمد الرازی متوفی ۳۷۰ھ) نے تو قرآن کریم کی آیت: ”الَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ الَیْہ“ کی تفسیر کرتے ہوئے آیت سے بھی عموم ہی کو مستفاد مانا ہے: آیت میں مذکور ”ضرورت“ دیگر محرمات کو بھی شامل ہے اور بعض آیات میں مردار وغیرہ کے سیاق میں اس کا تذکرہ اس آیت کے عموم سے مانع نہیں ہے۔ (احکام القرآن للجصاص: ۱/۱۸۲ مطبوعہ دارالفکر ۱۴۳۲ھ)
اسی طرح مفسر موصوف آیت اضطرار کے تحت ضرورت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَقَدِ انْطَویٰ تَحْتَہ مَعْنَیَانِ اس کے تحت دو شکلیں آتی ہیں: ایک شکل بھوک کی وجہ سے اضطرار اور مردار کھانے کی اور دوسری شکل اکراہ کی وَکِلَا الْمَعْنَیَیْنِ مُرَادٌ بِالْآیَةِ عِنْدَنَا لِاحْتِمَالِھِمَا اور دونوں ہی معنی مراد ہیں اس لیے کہ آیت دونوں کی محتمل ہے (احکام القرآن: ۱/۱۸۱، مطبوعہ دارالفکر، بیروت ۱۴۳۲ھ)
جب اضطرار بھوک و پیاس کے ساتھ خاص نہیں ہے، تو ضرورت کو بھوک وپیاس کے ساتھ کیوں کر خاص کیا جاسکتا ہے؛ اس لیے زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”ضرورت“ ایک مفہومِ کلی ہے جو مختلف نوع کو شامل ہے۔
(باقی آئندہ)
--------------------------------------------------
ضرورت وحاجت سے متعلق تجاویز
پہلی تجویز
۱- بنیادی طور پر پانچ مصالح ہیں، جن کا حصول احکامِ شرعیہ کا مقصود ہے، دین ، حیات وزندگی (بشمول عزت وآبرو) نسل، عقل اور مال کا تحفظ ، جو امور ان مصالح کے حصول کے لیے اس قدر ناگریز ہوجائیں کہ ان کے فقدان کی وجہ سے ان مصالح کے فوت ہوجانے کا یقین غالب ہو وہ ضرورت ہیں، ضرورت فقہاء کے یہاں ایک مستقل اصطلاح ہے جس میں ’’اضطرار‘‘ بھی داخل ہے۔ تاہم یہ اصطلاح بمقابلہ اضطرار کے عام اور وسیع مفہوم کی حامل ہے ۔
۲- حاجت ایسی کیفیت ہے جس میں انسان مصالحِ پنجگانہ کے حاصل کرنے میں ایسے قابلِ لحاظ مشقت وحرج میں مبتلا ہوجائے جن سے بچانا شریعت کا مقصود ہے ، البتہ فقہاء کے یہاں کبھی ضرورت پر حاجت اور کبھی حاجت پر ضرورت کا اطلاق کردیا جاتا ہے ۔
۳- ضرورت وحاجت دونوں کا تعلق بنیادی طورپر مشقت سے ہے ، مشقت کا ایک درجہ وہ ہے جو تمام ہی احکامِ شرعیہ میں لازم ہوتا ہے ، اس کا اعتبار تبدیلی احکام میں نہیں ہے ، اور مشقت کبھی اس درجہ شدید ہوجاتی ہے کہ اگر اس کی رعایت نہ کی جائے تو ضررِ شدید لاحق ہوجانے کا یقین یاغالب گمان ہو یہ ضرورت ہے ، کبھی اس سے کم درجہ کی مشقت ہوتی ہے ، لیکن شریعت نے جس طرح کی مشقتوں کا انسان کو پابند کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں غیر معمولی ہوتی ہے ، یہ کیفیت حاجت ہے، پس ضرورت وحاجت کی حقیقت میں بنیادی فرق مشقت کی کمی وزیادتی کا ہے ۔
۴- ضرورت وحاجت کے احکام میں بھی فقہاء نے فرق کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ضرورت کے ذریعہ ایسے منصوص احکام سے استثناء کی گنجائش ہوتی ہے جن کی ممانعت قطعی ہو او رجو بذاتِ خود ممنوع ہو، حاجت اگر عمومی نوعیت کی نہ ہو تو اس کے ذریعہ ان ہی احکام میں استثناء کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جن کی ممانعت بذاتِ خود مقصود نہ ہو ، بلکہ دوسری محرمات کے سدِ باب کے لیے ان سے منع کیا جاتا ہے۔
۵- حاجت اگر عمومی نوعیت کی ہو اور لوگ عام طور پر اس میں مبتلا ہوں تو یہ ضرورت کے درجہ میں آجاتی ہے ، اور اس سے نصوص میں تخصیص واستثناء کی گنجائش ہوجاتی ہے۔
۶- ضرورت وحاجت کی بنیاد مشقت پر ہے، اور مشقت ایک اضافی چیز ہے، اس لیے ضرورت وحاجت کی تعیین میں علاقہ ومقام ، احوالِ زمان ، لوگوں کی قوتِ برداشت، مسلم اکثریتی ممالک اور ان ممالک کے لحاظ سے جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں ، فرق واقع ہوسکتا ہے ، اس لیے ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں جہاں مسلمان اس موقف میں نہیں ہیں کہ قانون سازی کے کام میں مؤثر کردار ادا کرسکیں، ضرورت وحاجت کی تعیین میں اس پہلو کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
۷- کسی امر کے بارے میں یہ متعین کرنا کہ وہ موجودہ حالات میں ضرورت یا حاجت کا درجہ رکھتا ہے، یہ نہایت نازک، احتیاط اور دقتِ نظر کا متقاضی ہے، اس لیے ہر عہد کے علماء، اربابِ افتاء کا فریضہ ہے کہ وہ واپنے زمانے کے حالات کو پیش نظر رکھ کر طے کریں کہ اب کون سے امور ہیں جو ضرورت وحاجت کے درجہ میں آگئے ہیں، اور ان کی وجہ سے احکام میں تخفیف ہوسکتی ہے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے نازک مسئلے میں افراد واشخاص کے بجائے ایک مقتدر جماعت ہی فیصلہ کرے ، تاکہ دفعِ حرج کے نام پر اباحت کا راستہ کھلنے نہ پائے۔
۸- محرمات کی کسی خاص صورت کو نص کے ذریعے صراحۃً یا دلالۃً حرمت سے مستثناء کردیا گیا ہو، تو اس صورت میں حرمت باقی نہیں رہتی ہے، اور اس صورت سے فائدہ اٹھانا واجب ہے، اس کے علاوہ جن صورتوںمیں نص کے ذریعے یا فقہاء کے اجتہاد کے ذریعے رخصت وسہولت ثابت ہوتی ہے، وہاں صرف رفعِ اثم ہوتا ہے۔
۹- ضرورت وحاجت کی بناء پر جو سہولت دی جاتی ہے، اصولی طور پر ان کی حیثیت استثنائی ہوتی ہے۔
دوسری تجویز
ضرورت کی بناء پر اباحت ورخصت کا حکم حرام لعینہ از قبیلِ حق العبد، قتلِ نفس اورزنا کے ما سوا حقوق العباد، معاملات اورتمام ابوابِ فقہیہ پر اثر انداز ہوں گے اور اس کی تاثیر کے حدوددرجۂ ذیل تفصیلات کے مطابق مختلف ہوں گے۔
۱- احکام اگر مامورات کے قبیل سے ہوں اور ان کے عدمِ امتثال سے صرف حقِ شارع متاثر ہوتا ہو جیسے کلمۂ کفر وغیرہ ، تو حالتِ اضطرار میں فی نفسہ حرام ہوتے ہوئے بھی ان امورکے ارتکاب کی رخصت ہوگی ، یعنی بقاء حرمت کے باوجودرفعِ اثم ہوگا۔
۲- اگر احکام از قبیلِ منہیات ہوں اور ان کی خلاف ورزی سے صرف حقِ شارع متاثر ہوتا ہو جیسے اکلِ میتہ ، لحمِ خنزیر، شربِ خمر وغیرہ، تو بحالتِ اضطراریہ چیزیں مباح ہوجاتی ہیں، یعنی رفعِ اثم اور رفعِ حرمت دونوں ہوجاتے ہیں، اور محظور پر عمل واجب ہوگا۔
۳-اگر احکام از قبیلِ منہیات ہوں او ران کی خلاف ورزی سے حق العبد متاثر ہوتا ہو جیسے ناحق قتل ، زنا، اتلافِ مالِ مسلم ، تو اس کی دو صورتیں ہیں:
(الف) اگر حق العبد کی تلافی ممکن ہوجیسے اتلافِ مالِ مسلم ، کہ اس کی تلافی بصورتِ ضمان ممکن ہے تو اضطرار کی صورت میں بقاء حرمت کے ساتھ رخصت ہوگی۔
(ب)لیکن اگر تلف شدہ حق العبد کی تلافی ممکن نہ ہوجیسے قتل وزنا، تواس کی رخصت بصورتِ اضطرار بھی حاصل نہ ہوگی اور اس پر عمل کرنا حرام ہوگا۔
تیسری تجویز
محرمات کی اباحت میںضرورت کی طرح کبھی کبھی حاجت بھی مؤثر ہوتی ہے اور بعض حالات میں حاجت کو ضرورت کے قائمِ مقام قراردیا جاتا ہے ، البتہ اس کے لیے حدود وقیود ہیں ، جن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے :
(الف) حاجت کے وقت محرمات کی اباحت میں دفعِ مضرت مقصود ہو، جلبِ منفعت مقصود نہ ہو ، محض جلبِ منفعت کی غرض سے کسی حرام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
(ب) حاجت کی بناء پرغیر عادی مشقت کو دفع کرنا مطلوب ہو، وہ مشقت حاجتِ معتبرہ کے حدود میں نہیں آتی ہے، جو عام طورپر انسانی اعمال اور شرعی احکام میں پائی جاتی ہے۔
(ج) مقصد کے حصول کے لیے کوئی جائز متبادل طریقہ موجود نہ ہو ، یا موجود تو ہو مگر مشقتِ شدیدہ سے خالی نہ ہو۔
(د)حاجت کی بناء پر جو حکم ثابت ہوگا وہ بقدرِ حاجت ہی ثابت ہوگا ، اس سے زیادہ اس میں توسع پیدا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
(ھ) کسی مفسدہ کو دور کرنے میں کوئی اس سے بڑا مفسدہ لازم نہ آئے ۔
(و) حاجت واقعی ہو، محض موہوم نہ ہو۔
چوتھی تجویز
اباحتِ محظورات کے سلسلے میں ضرورتِ معتبرہ کے لیے درجِ ذیل شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے :
۱؍ … ضرورت بالفعل موجود ہو، مستقبل میں پیش آنے والی ضرورتوں کا اندیشہ وخطرہ معتبر نہیں۔
۲؍ … کوئی جائز مقدور متبادل نہ ہو۔
۳؍… ہلاکت وضیاع کا خطرہ یقینی ہو، یا مظنون ظنِ غالب ہو۔
۴؍… محرمات کے استعمال یا ارتکاب سے ضررِ شدید کا ازالہ یقینی اور نہ استعمال کی صورت میں اس کا وقوع یقینی ہو۔
۵؍… بقدرِ ضرورت استعمال کیا جائے ۔
۶؍… اس کا ارتکاب اس کے مصالح یا اس سے بڑے مفسدہ کا سبب نہ ہو۔
پانچویں تجویز
۱- ضرورت وحاجت، جس کی وجہ سے شریعت بہت سے احکام میں رخصت وسہولت دیتی ہے، اس کے پیچھے متعدد اسباب ہوتے ہیں، یہ وہ اسباب ہیں جن کو فقہاء وعلماء اسبابِ رخصت اور اسبابِ تخفیف کے عنوان سے ذکر کیا کرتے ہیں۔
معروف قول کے مطابق یہ اسباب سات ہیں: سفر، مرض، اکراہ، نسیان، جہل، عسر وعمومِ بلوی اور نقص۔
۲- عرف وعمومِ بلوی پر مبنی ہونے والے احکام میں اکثر وبیشتر ضرورت وحاجت اور رفعِ حرج ملحوظ ہوتا ہے، اگر چہ فقہی طور پر عرف وعمومِ بلوی اور اس پر مبنی ہونے والے احکام کا دائرہ کچھ وسیع ہے۔
چھٹی تجویز
۱- شرکاء سیمینار کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی معاملہ میں عمومی حرج وتنگی اور حاجتِ عامہ پیدا ہونے کی صورت میں بعض اوقات اسے ضرورت واضطرار کا درجہ دیدیاجاتا ہے اور سماج کو غیرمعمولی ضرر اور تنگی لاحق ہونے کی صورت میں ممنوع وحرام چیز مباح قرار پاتی ہے۔
۲- جن چیزوںکی حرمت نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اگر ان میں سے کسی کے بارے میں حاجتِ عامہ اور عمومی حرج وضیق پیدا ہو تو انہیں ضرورت کا درجہ دیکر منصوص حرمت سے استثناء بہت ہی نازک اور ذمہ دار ی کا کام ہے، تمام اجتماعی اور ملی حاجات ایک درجہ کی نہیں ہوتیں ، ان کا دائرہ اور ناگزیریت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ، اس لیے اجتماعی حاجتوں کا شرعی حکم متعین کرنے سے پہلے ان میں سے ہر ایک کا انتہائی گہرا مطالعہ ضروری ہے۔
۳- جب کوئی اجتماعی حاجت اس درجہ اہمیت حاصل کرلے کہ اس سے لوگوں کا بچنا انتہائی دشوار ہو اور اس کا کوئی جائز عمل متبادل موجود نہ ہو ، یا قانونی جبر کی وجہ سے اس سے چارہ کا ر نہ ہو تو اس کی بناء پرمنصوص حرمت پائے جانے کے باوجود اجتماعی حاجت موجود رہنے تک جواز کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
۴- کسی اجتماعی حاجت کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس کا انتہائی گہرا اور عمیق جائزہ ضروری ہے، اس جائز ے میں حسبِ ضرورت ماہرینِ قانون، ماہرینِ سماجیات وغیرہ سے مدد لی جائے،اجتماعی حاجت شعبۂ زندگی سے متعلق ہے، اس سے تعلق رکھنے والے افراد سے ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی مقاصدِشریعت اور احکامِ شریعت پر نظر رکھنے والے، خداترس، اصحابِ بصیرت ، علماء اور فقہاء اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں ، کہ کونسی اجتماعی حاجت اس درجہ کو پہنچ گئی ہے، کہ اسے نظر انداز کرنے میں فوری طور پر، یا مستقبل میں ملت کوغیر معمولی ضرر لاحق ہونے کا خطرہ ہے، لہذا اس کے جواز کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
۵ - جن معاملات میں اجتماعی حاجت کی بنیاد پر نصوص میں تخصیص یا استثناء کا مسئلہ در پیش ہے ان کا فیصلہ علماء اور اصحابِ افتاء انفرادی طور پر نہ کریں ، بلکہ علماء اور فقہاء کی معتد بہ تعداد پورے غور وخوض کے بعد مقاصدِ شریعت ، احکامِ شریعت ، فقہی اصول وقواعد کی روشنی میں باہمی مشورے سے اس کا فیصلہ کرے، اجتماعی فیصلہ ہی ایسے نازک معاملات میں محتاط او رقابلِ اطمینان ہوتا ہے ۔ (جدید فقہی مباحث:۱۴/۵۶۵تا ۵۶۸)
قاعدہ(۱۸۶): {اَلضَّرُوْرَاتُ تَتَقَدَّرُ بِقَدْرِہَا}
ترجمہ: ضرورتیں بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہیں۔
(قواعد الفقہ: ص۸۹، القاعدۃ: ۱۷۱، شرح القواعد: ص۱۸۷، جمہرۃ القواعد، القاعدۃ: ۱۰۷۸، ۲۱۱۹، القواعد الکلیۃ :ص۲۲۰)
مثال:جس شخص کو مردار کھانے کی اجازت دی گئی، وہ صرف اتنی مقدار کھا سکتا ہے، جس سے جان بچ جائے ،نہ کہ اس سے زائد۔
قاعدہ(۱۸۷): {اَلضَّرُوْرَاتُ لا تُبِیْحُ إتْلافَ مَالِ الْغَیْرِ بِغَیْرِضَمَانٍ}
ترجمہ:ضرورتیں بدونِ ضمان، مالِ غیرکے اتلاف کو مباح نہیں کرتیں۔
(جمہرۃ القواعد الفقہیۃ:۲/۷۶۵، رقم:۱۰۷۹، مجلہ:ص۳۳۲)
مثال: اگر کسی شخص کو شدتِ بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا خطرہ ہو، تو وہ بقدرِ ضرورت مالِ غیر کو استعمال کرسکتا ہے، لیکن اس پر اس کا ضمان واجب ہوگا۔ (شرح القواعد الفقہیۃ: ص۲۱۳)
قاعدہ(۱۸۸): {ضَمَانُ الْفِعْلِ یَتَعَدَّدُ بِتَعَدُّدِ الْفَاعِلِ وَضَمَانُ الْمَحَلِّ لا}
ترجمہ: فاعل کے متعدد ہونے سے ضمانِ فعل متعدد ہوتا ہے، ضمانِ محل نہیں ۔
(قواعد الفقہ: ص۸۹، القاعدۃ: ۱۷۳)
مثال:دو مُحرِم مل کر ایک شکار کو قتل کریں تو جزاء صید (شکار کی قیمت) متعدد ہوگی، یعنی ہر ایک پرپوری پوری قیمت کا تصدق واجب ہوگا(یہ ضمانِ فعل کی مثال ہے)۔
اور اگر دوغیر مُحرِم حرم کے شکار کو قتل کریں، تو جزاء صید متعدد نہیں ہوگی(یہ ضمانِ محل کی مثال ہے)۔
قاعدہ (۱۸۹): {اَلضَّمَانَاتُ تَجِبُ إمَّا بِأخْذٍ أوْ بِشَرْطٍ وَإلَّا لَمْ تَجِبْ}
ترجمہ:ضمانات یا تو واجب ہوتے ہیں بسببِ اخذ یا بسببِ شرط،ورنہ نہیں ۔
(قواعد الفقہ: ص۸۹، القاعدۃ:۱۷۲)
مثال:غصب کردہ شی ٔ غاصب کے پاس ہلاک ہوجائے تو ضمان واجب ہوگا(یہ اخذ کی مثال ہے) ۔ اور اگر زید کہے کہ: ’’میں نے یہ سائیکل ہزار روپئے کے عوض بیچ دی‘‘ اور عمرو کہے :’’ میں نے قبول کیا‘‘،تویہ قبولِ عقد بھی ضمان کا سبب ہوگا (یہ شرط کی مثال ہے)۔
قاعدہ(۱۹۰): {اَلْعَادَۃُ مُحَکَّمَۃٌ}
ترجمہ:عادت کو حکم بنایا جاتا ہے۔
(الأشباہ والنظائر لإبن نجیم:۱/۳۲۸ ، الأشباہ والنظائر للسیوطي :۱/۱۹۳، شرح السیر الکبیر:۱/۱۲۳، باب الأمان ، درر الحکام :۱/۴۴ ، المادۃ :۳۶ ، ترتیب اللآلي :ص۸۲۱، قواعد الفقہ:ص۹۰، القاعدۃ: ۱۷۶، شرح القواعد :ص۲۱۹، القواعد الکلیۃ :ص۲۲۹)
توضیح:کبھی اثباتِ حکمِ شرعی کے لئے عادت کو حَکم بنا یا جاتا ہے۔
مثال:اسی قاعدہ پر ماء جاری کی تعریف متفرع ہے، کہ جس کو لوگ ماء جاری شمار کریں، وہ ماء جاری ہے؛ اسی طرح اگر حیض اور نفاس میں دم، اکثرِ حیض دس دن اور اکثرِ نفاس چالیس دن سے زائد پر بند ہو، تو عورت اپنی عادت کی طرف رجوع کرے گی اور جتنے ایام، ایامِ عادت تھے، اتنے ایام حیض یا نفاس کے شمار ہونگے، اور ان کے ماسوا استحاضہ ہوگا۔ (الأشباہ:۱/۲۶۹)
قاعدہ(۱۹۱):{اَلْعَارِضُ إذَا ارْتَفَعَ مَعَ بَقَائِ حُکْمِ الأصْلِ جُعِلَ کَأنْ لَمْ یَکُنْ}
ترجمہ:جب عارض بقائِ حکمِ اصل کے باوجود مرتفع ہو، تو اس کو ایسا قرار دیا جائے گا گویا وہ تھا ہی نہیں۔
(قواعد الفقہ: ص۹۰، القاعدۃ:۱۷۸، شرح السیر الکبیر:۳/۸۲، باب دفع الفرس باشتراط السہم وإعادتہ وإیداعہ في دار الحرب ،۴/۲۲، باب الشرکۃ في الغنیمۃ)
مثال:جب اموالِ زکوۃ کا نصاب سال کے دونوں جانب ،یعنی نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا کے دن کی ابتدا اور انتہامیں پورا ہو اور درمیانِ سال میں کم ہو، تو یہ درمیانِ سال میںنقصانِ نصاب، وجوبِ زکوۃ کے لئے مانع نہیں ہے۔
قاعدہ(۱۹۲):{اَلْعَامُّ قَطْعِيٌّ کَالْخَاصِّ یُوْجِبُ الْحُکْمَ فِیْمَا یَتَنَاوَلُہٗ قَطْعًا}
ترجمہ:عام، خاص کی مانند قطعی ہوتا ہے اوروہ جن افراد کو شامل ہوتا ہے، ان میں حکمِ قطعی کو ثابت کرتا ہے۔
(قواعد الفقہ:ص۹۱، القاعدۃ :۱۸۰، شرح السیر الکبیر:۲/۱۷۶، باب ما یجب من السلب بالقتل وما لا یجب، کشف الأسرار شرح المصنف علی المنار:۱/۱۶۱، الفصل الثاني ، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
مثال: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:’’ استنزہوا من البول‘‘ تم پیشاب سے بچو۔ یہ حکم پیشاب سے بچنے میں عام ہے، لہٰذا پیشاب انسان کا ہویا ماکول اللحم وغیرماکول اللحم کا، اس سے بچنا قطعی طور پر لازم ہے۔ البتہ یہ بات یادرہے کہ عام مخصوص منہ البعض، خواہ مخصِّص معلوم ہو یا مجہول قطعی نہیں بلکہ ظنی ہوتا ہے، اوراس سے استدلال کرنا ساقط نہیں ہوتا۔
قاعدہ(۱۹۳): {عِبَارَۃُ الرَّسُوْلِ کَعِبَارَۃِ الْمُرْسِلِ}
ترجمہ:بیانِ قاصد ،بیانِ مرسِل کی مانند ہوتا ہے۔
(شرح السیر الکبیر:۱/۲۵۳، باب ما یکون أمانا وما لا یکون ،۲/۳۹ ، باب أمان الرسول ، قواعد الفقہ:ص۹۱، القاعدۃ:۱۸۲، القواعد الفقہیۃ:ص۷۳۴)
مثال:جب امیرِ لشکر اپنے کسی قاصد کو اپنا پیغام دے کر قلعہ کے امیر کے پاس بھیج دے اور قاصد یوں کہے کہ امیر لشکر نے میری زبانی آپ کو امان کا پیغام بھیجا ہے، اس لئے آپ قلعہ کا دروازہ کھول دیجئے، آپ کی پوری قوم آمن ہوگی؛ اب اس کے اس پیغام کو سن کر امیر نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا تو اس کو اور اس کی قوم کو امان حاصل ہوگا۔ ’’ لأنَّ عِبَارَۃَ کُلِّ مُبْلَغٍ تَکُوْنُ بِمَنْزِلَۃِ عِبَارَۃِ الْمُبْلِغِ ‘‘ ۔
(شرح السیر: ۱/ ۲۹۱ )
تنبیہ: اس طرح کا قاعدہ ما قبل میں قاعدہ نمبر: (۱۵۴) گذرچکا ہے۔
قاعدہ (۱۹۴): {اَلْـعِبْرَۃُ فِي الْعُقُوْدِ لِلْمَقَاصِدِ وَالْمَعَانِيْ لَا لِلْألْفَاظِ وَالْمَبَانِي}
ترجمہ:عقود میں مقاصد ومعانی معتبر ہوتے ہیں، نہ کہ الفاظ ومبانی۔
(درر الحکام :۱/۲۱ ، المادۃ :۳ ،قواعد الفقہ:ص۹۱، القاعدۃ:۱۸۳، شرح القواعد :ص۵۵، جمہرۃ القواعد :۲/۷۷۷، القاعدۃ :۱۱۶۱، القواعد الکلیۃ :ص۱۲۱، القواعد الفقہیۃ :ص۵۵)
مثال:کفالہ میںبرأت کی شرط لگانے سے وہ حوالہ ہوگا، جیسے حوالہ میں عدم برأت کی شرط لگانے سے وہ کفالہ ہوجاتا ہے۔
کفالہ: مطالبۂ دین میں کفیل کے ذمہ کو مکفول عنہ کے ذمہ سے ملانا ’’کفالہ‘‘ کہلاتا ہے ۔
کفیل: جس نے اپنے ذمہ کو مکفول عنہ کے ذمہ سے ملایا۔
مکفول عنہ: جس کے ذمہ سے اپنے ذمہ کو ملانا پایا گیا، اس کو ’’اصیل‘‘ بھی کہتے ہیںاور ’’مکفول عنہ‘‘ بھی۔
مکفول لہٗ:دین کا مطالبہ کرنے والا، اسے ’’دائن‘‘ بھی کہتے ہیں۔
مکفول بہ: جس چیز کے اداکرنے اور سپرد کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔
حوالہ:تحول بمعنی انتقال سے ماخوذ ہے ، شرعاً حوالہ نام ہے اپنے ذمہ دَین کا دوسرے کے ذمہ منتقل کرنا۔
محال لہٗ: قرض خواہ۔
محال علیہ: جس نے حوالہ کو قبول کیا۔
محال بہ: وہ مال، جس کو ـاپنے ذمہ سے دوسرے کے ذمہ منتقل کیا گیا۔
قاعدہ(۱۹۵): {اَلْعِبْرَۃُ لِعُمُوْمِ الَّلفْظِ لا لِخُصُوْصِ السَّبَبِ}
ترجمہ: اعتبار عمومِ لفظ کا ہوتا ہے ، نہ کہ خصوصِ سبب کا ۔
(جمہرۃ: ۲/۷۷۸، رقم:۱۱۶۴، القواعد الکلیۃ: ۲۹۲)
مثال: حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس شخص نے اس چیز کی طرف سبقت کی جس کی طرف کسی مسلمان نے سبقت نہیں کی تو ہ چیز اسی کی ہے.‘‘ ۔ (ابوداود ،رقم الحدیث: ۲۹۴۷)
علامہ مناویؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث افتادہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے بارے میں آئی ہے، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہر چشمہ، کنواں اور معادن کو شامل ہے، جس شخص نے ان میں سے کسی چیز کی طرف سبقت کی وہ اسی کاحق ہے، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے ، سبب کے خاص ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا ہے ، اسی پر حقوقِ مجردہ (تصنیف وتالیف) کو قیاس کیا گیا ہے۔
(فقہی مقالات: ۱/ ۲۲۵)
قاعدہ(۱۹۶): {اَلْعِبْرَۃُ لِلْغَالِبِ الشَّائِعِ لا لِلنَّادِرِ}
ترجمہ: غالب وعام کا اعتبار ہوتا ہے، نہ کہ نادر و کم یاب کا۔
(دررالحکام: ۱/۵۰، المادۃ:۴۱ ، قواعد الفقہ: ص۹۱، القاعدۃ: ۱۸۴، القواعد الفقہیۃ :ص۱۳۰، ۲۲۷، شرح القواعد :ص۲۳۵، جمہرۃ القواعد: القاعدۃ :۸۴۱، القواعد الکلیۃ :ص۲۶۷، شرح السیر الکبیر:۴/۱۹۵، باب ما یحل للمسلمین أن یدخلوہ دار الحرب من التجارات)
مثال:فرمان باری تعالیٰ :{وابتلوا الیتٰمیٰ حتی إذَا بلغوا النکاح فإن آنستم منہم رشداً فادفعوا إلیہم أموالہم}۔اور تم سدھاتے رہو یتیموں کو جب تک کہ وہ پہونچیں نکاح کی عمر کو، پھر اگر تم ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالہ کردو۔ (سورۃ النساء:۶)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے یتیموں کے والیوں اور کفیلوں کو حکم دیا کہ جب وہ سنِ رُشد (پندرہ سال کی عمر) کوپہنچ جائیں تو ان کے اموال ان کے حوالہ کردو، خواہ ان میں سمجھ داری کے آثار نمایاں ہوں یا نہ ہوں؛ کیوںکہ عموماًوغالباً اس عمر میں بچہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے لگتا ہے۔ ہاں! بعض بچے اس عمر کو پہونچنے کے باوجود بھی اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھتے، لیکن یہ شاذ ونادر ہے اور نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔
قاعدہ(۱۹۷): {اَلْعُرْفُ غَیْرُ مُعْتَبَرٍ فِي الْمَنْصُوْصِ عَلَیْہِ}
ترجمہ:منصوص علیہ میں عرف غیرمعتبر ہوتا ہے۔ (قواعد الفقہ:ص۹۲، القاعدۃ:۱۸۵)
مثال:اموالِ ربویہ (گیہوں، جو، نمک،کجھور،سونا اور چاندی)’’ الحنطۃ بالحنطۃ ، والشعیر بالشعیر، والملح بالملح ، والتمر بالتمر، والذہب بالذہب ، والفضۃ بالفضۃ، مثلا بمثل ، یدا بید ، فمن زاد أو استزاد فقد ربا ‘‘میں ان کے کیلی یا وزنی ہونے میں عرف کا اعتبار نہیں ہوگا، ہاں! اموالِ ربویہ مذکورہ کے علاوہ دیگر اموال کے کیلی یا وزنی ہونے میں عرف کا اعتبار ہوگا۔
وضاحت:واضح ہو کہ عرف کا غیر معتبر ہونا صرف انہی اموالِ ربویہ میں نہیں، بلکہ ہر منصوص علیہ (جس کے متعلق نص موجود ہے)میں وہ غیر معتبر ہوگا، کیوںکہ نص کے مقابلہ میں عرف کا اعتبار نہیں ہوتا ۔
(القواعد الفقہیۃ:ص۹۲)
قاعدہ(۱۹۸): {اَلْعُرْفُ یَسْقُطُ إعْتِبَارُہٗ عِنْدَ وُجُوْدِ التَّسْمِیَۃِ بِخِلَافِہٖ}
ترجمہ:عرف کا اعتبار ساقط ہوتا ہے، جب اس کے خلاف تسمیہ موجود ہو۔
(شرح السیر الکبیر:۵/۲، باب الموادعۃ ، قواعد الفقہ:ص۹۲، القاعدۃ:۱۸۶)
مثال:اگر بائع نے کسی چیز کو دس درہم کے بدلہ بیچا ،درانحالاکہ بائع و مشتری دونوں ایسے شہر میں ہیں جہاں مختلف دراہم کا چلن ہے، اور یہ دراہم مالیت و رواج میں مختلف ہیں،تو بیع ان میں سے اغلب درہم کی طرف منصرف ہوگی، کیوںکہ وہی متعارف ہے ،اور مطلق متعارف کی طرف منصرف ہوتا ہے، لیکن اگر بائع ان دراہم میں سے کسی ایک درہم کا متعین طور پر ذکر کردے، جو اغلب کے سوا ہے،مثلاً یوں کہے کہ میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ بیچ دی پاکستانی دس درہم کے عوض ، تو اب بیع اغلب درہم کی طرف منصرف نہیں ہوگی بلکہ پاکستانی دراہم کی ادائیگی ہی لازم ہوگی، کیوںکہ متعین درہم کے ذکر کی وجہ سے عرف کا اعتبار ساقط ہو گیا۔ (شرح الأشباہ والنظائر:۱/۲۷۱)
قاعدہ(۱۹۹): {اَلْعَفْوُ إنَّمَا یُسْقِطُ مَا کَانَ مُسْتَحَقًّا لِلْعَافِي خَاصَّۃً}
ترجمہ:معافی صرف معاف کنندہ کے حق کو ساقط کرتی ہے ۔
(شرح السیر الکبیر:۵/۱۶، باب من الرہن یأخذ المسلمون والمشرکون منہم ، قواعد الفقہ:ص۹۳، القاعدۃ:۱۹۱)
مثال:قتلِ خطا میں دیت (خون بہا) اولیائِ مقتول کا حق ہے، اگر وہ اپنے اس حق کو معاف کردے تو وہ ساقط ہوجائے گا، لیکن اگر رہزنوں نے کسی کا قتل کیا تو ولی ٔ مقتول کے ان کو معاف کردینے سے، وہ حدِشرعی سے نہیں بچ سکیں گے، بلکہ رہزنوں کو قتل کیا جائے گا، کیوںکہ رہزنوں کی یہ سزا اللہ کاحق بن کر واجب ہوتی ہے ،اور بندہ کو اس بات کا اختیار نہیںہے کہ وہ اللہ کے حق کو ساقط کردے۔
قاعدہ(۲۰۰): {اَلْعَقْدُ إذَا دَخَلَہٗ فَسَادٌ قَوِيٌّ مُجْمَعٌ عَلَیْہِ أوْجَبَ فَسَادَہٗ، شَاعَ فِي الْکُلِّ}
ترجمہ:جب عقد میںمتفق علیہ فسادِ قوی داخل ہوجائے ، تو وہ فسادِ عقد کا موجب ہوگا ، اور پورے عقد میں عام ہوگا۔ (جمہرۃ:۲/۷۸۰ ، رقم :۱۱۸۵، جمہرۃ :۱/۳۷۸)
مثال:مذبوحہ اور میتہ کو ایک ساتھ ملاکر بیچنا ،یا عصیرعنب وخمر کو ایک ساتھ فروخت کرنا ،امام صاحب کے نزدیک بیع فاسد ہے ، جب کہ صاحبین کے نزدیک مذبوحہ و عصیر میں یہ بیع درست ہوگی، اور میتہ وخمر میں فاسد ہوگی ۔ (جمہرۃ القواعد:۱/۳۷۹)
قاعدہ(۲۰۱): {اَلْعَقْدُ الْفَاسِدُ لا یَصِحُّ وَإنْ رَضِيَ الْمَالِکُ بِفَسَادِہٖ}
ترجمہ:عقدِ فاسد جائز نہیں ہے، گرچہ مالک اس کے فساد سے راضی ہو۔
(جمہرۃ:۲/۷۸۳، المادۃ:۱۲۰۳)
مثال۱:اگر کوئی شخص شراب یا خنزیر کے بدلہ کپڑا فروخت کرے، یا مدتِ مجہولہ کے ساتھ بیعِ سلم کرے، تویہ عقد، عقدِ فاسد ہے، اور بائع ومشتری پر رفعِ فساد کے لیے اس کا فسخ کرنا واجب ہے، اگرچہ بائع اس فساد پرراضی ہو ۔ (حاشیۃ الہدایۃ:۲/۶۴۰، کتاب البیوع ، فصل في أحکامہ)
مثال۲:عبدِمکاتب کی بیع ، بیعِ فاسد ہے، اگرچہ مکاتب اس بیع پر راضی ہو ۔
(ہدایۃ:۲/۵۰، باب بیع الفاسد)
مثال۳:بہت سی جگہوں پر یہ معاملہ عام ہے کہ مادہ جانور کو ادھیاء پر دیتے ہیں ،اور اس کا دودھ اور ہونے والا بچہ دونوں کے مابین برابر تقسیم کرتے ہیں، شرعاً یہ اجارہ فاسد ہے، گرچہ متعاقدین اس پر راضی ہوں ، البتہ جواز کی صورت یہ ہے کہ جس شخص کا جانور ہے وہ اس کی بازاری قیمت لگا کر اس کا نصف حصہ فریق آخر کے ہاتھ بیچ دے، پھر اس قیمت کو معاف کردے، اب یہ دونوں اس جانور میں برابر کے شریک ہوں گے، اور اس کی کل منفعت دودھ اور بچے وغیرہ بھی ان دونوں کے درمیان مشترک ہوں گے، اور اگر وہ اس جانور یا اس سے حاصل بچوں کو فروخت کریں گے، تو قیمت میں بھی دونوں نصف نصف کے حقدار ہوں گے ۔
(الفتاوی الہندیۃ: ۲/۳۳۵، فتاوی قاضیخان علی ہامش الہندیۃ:۲/۳۳۰، فتاوی محمودیہ :۱۶/۵۹۴، ایضاح النوادر : ص۱۲۱ )
قاعدہ (۲۰۲): {اَلْعَقْدُ الْفَاسِدُ یُفِیْدُ الْمِلْکَ عِنْدَ الْقَبْضِ}
ترجمہ:عقدِ فاسد قبضہ کی صورت میں مفیدِ ملک ہوتا ہے۔
(جمہرۃ:۲/۷۸۳، رقم المادۃ: ۱۲۰۶، درر الحکام :۱/۱۰۸، المادۃ: ۱۰۹)
مثال:ہوا میں پرندے کی بیع ، تالاب میں مچھلیوں کی بیع اور تھن میں دودھ کی بیع،غیر مقدور التسلیم ہونے اور غررکے پائے جانے کی وجہ سے عقدِ فاسد ہے، لیکن اگر مشتری ان پر قبضہ کرلے ، تو یہ عقدِ فاسد اس کے لیے مفیدِ ملک ہوگا۔
(قدوری:ص۷۸، باب البیع الفاسد،الموسوعۃ الفقہیۃ: ۹/۹۸، شامی: ۷/۱۶۹، ہدایہ: ۲/۶۲، فصل فی أحکامہ)
قاعدہ(۲۰۳): {اَلْعُقُوْدُ کُلُّہَا تَفْسُدُ بِالإکْرَاہِ}
ترجمہ:تمام عقود ومعاملات بصورتِ اکراہ فاسد ہوتے ہیں۔
(جمہرۃ القواعد الفقہیۃ: ۱/۷۸۸، رقم :۱۲۴۰)
مثال: اگر کسی شخص کو کسی شی ٔ کے بیچنے یا خریدنے پر مجبور کیا گیا ، تو یہ معاملہ فاسد ہوگا ،کیوں کہ تمام عقودِ مالیہ میں طرفین کی رضامندی شرط ہے، جو یہاں مفقود ہے۔
(الجوہرۃ النیرۃ: ۲/۵۶۴، فتاوی حقانیہ: ۶/۲۵)
قاعدہ(۲۰۴): {اَلْعَمَدُ وَالْخَطَأ فِيْ ضَمَانِ الأمْوَالِ سَوَائٌ}
ترجمہ:ضمانِ اموال میں عمد وخطا دونوں برابر ہیں ۔
(جمہرۃ القواعد: ۲/۷۹۰، رقم: ۱۲۵۲، جمہرۃ: ۱/۳۴۴)
مثال:کسی شخص نے دوسرے کے مال کو عمداً یا خطأًتلف کردیا،تو وہ ضامن ہوگا۔
(جمہرۃ القواعد:۱/۳۴۴ ،الموسوعۃ الفقہیۃ:۱۳/۲۷۳)
قاعدہ(۲۰۵):{اَلْعَمَلُ بِغَالِبِ الرَّأيِ وَأکْبَرِ الظَّنِّ فِي الأحْکَامِ وَاجِبٌ}
ترجمہ:احکام میں غالبِ رائے اور اکبرِ ظن کے مطابق عمل واجب ہوتا ہے۔
(جمہرۃ القواعد الفقہیۃ، رقم: ۱۲۵۸، القواعد الفقہیۃ:ص۳۰۶)
مثال۱: اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں ہو ، پانی ختم ہوجائے ،اور کوئی ایسا شخص موجود نہ ہو جو پانی کا پتہ بتلا سکے ، اور غالب رائے یہ ہو کہ پانی قریب ہے، تو تیمم کرنا جائز نہیں ، اور اگر غالب رائے یہ ہو کہ پانی ایک میل یا اس سے زیادہ دور ہے توتیمم کرنا جائز ہے ۔ (بدائع الصنائع:۱/۱۶۹)
مثال۲:اگر کسی معاملہ میں جواز یا عدمِ جواز مشتبہ ہو،یا اس میں تحققِ ربا اور عدمِ تحققِ ربا میں شبہ ہو ، او ر غالب گمان یہ ہو کہ وہ معاملہ جائز نہیں ، یا اس میں ربا کا تحقق ہوتا ہے، تو اس طرح کے معاملہ کو ترک کرنا واجب ہے۔ (موسوعۃ القواعد الفقہیۃ:۷/۴۹۲)
قاعدہ(۲۰۶): {عِنْدَ اِجْتِمَاعِ الْحُقُوْقِ یُبْدَئُ بِالْأہَمِّ}
ترجمہ: کئی حقوق کے جمع ہونے کی صورت میں اہم سے آغاز کیا جائے گا۔
(شرح السیرالکبیر:۴/۱۴۴، باب من یکرہ لہ أن یغزو ومن لا یکرہ ذلک، قواعد الفقہ:ص۹۲، القاعدۃ:۱۸۷، شرح السیرالکبیر:۵/۱۰۹، باب ما یختلف فیہ أہل الحرب وأہل الذمۃ من الشہادات والوصایا)
مثال:قضاء دِین، جہاد کے لئے نکلنے سے اس لئے قضاء دَین کے بعد ہی جہاد کو نکلے،اچھا ہے، اسی طرح اگر کوئی آدمی سفر حج کے لئے نکلے اور اپنی واپسی تک کا خرچ گھروالوں کو نہ دے تو اس کا یہ عمل مکروہ ہے، کیوںکہ اہل و عیال کا خرچ دینے کے بعد اگر اتنی رقم بچ جاتی ہے، جس سے حج کرسکتا ہے تو ہی حج کی ادائے گی لازم ہے، ورنہ نہیں۔
قاعدہ(۲۰۷): {رَدُّ الْقِیْمَۃِ عِنْدَ تَعَذُّرِ رَدِّ الْعَیْنِ کَرَدِّ الْعَیْنِ}
ترجمہ:جب عین شیٔ کا واپس کرنا ناممکن ہو تو اس کی قیمت کا واپس کرنا، عین کو واپس کرنے کی مانند ہے ۔
(شرح السیر الکبیر:۵/۱۵، باب من الرہن یأخذہ المسلمون والمشرکون۔۔الخ ، قواعد الفقہ:ص۹۳، القاعدۃ:۱۹۰، جمہرۃ القواعد :۲/۷۹۱، القاعدۃ:۱۲۶۰)
مثال:اگر کسی شخص نے اپنی کوئی چیز کسی کے پاس رہن رکھی اور وہ شی ٔمرہون اس کے پاس سے ضائع ہوگئی ،اور وہ اس کی قیمت راہن کو دیدے، تو یہ ایساہی ہے جیسے اس نے عین شی ٔواپس کی، چنانچہ وہ اس ادائیگی ٔ قیمت سے بری الذمہ ہوجائے گا۔
قاعدہ(۲۰۸): {عِنْدَ التَّعْرِیْفِ بِالإشَارَۃِ یَسْقُطُ إعْتِبَارُ النِّسْبَۃِ}
ترجمہ:تعریف بالاشارہ کے وقت نسبت کا اعتبار ساقط ہوتا ہے۔
(شرح السیر الکبیر:۲/۲۱۴ ، باب الاستثناء في النفل والخاص منہ ، قواعد الفقہ:ص۹۳، القاعدۃ:۱۸۸)
مثال۱: مجلسِ عقد میںعورت کے وکیل نے اس کی غیر حاضری میں اس کے نام میں غلطی کی، مثلاً فاطمہ بنت زید کی جگہ خالدہ بنت زید کہا، تو عدمِ تمیز کے سبب نکاح درست نہ ہوگا، لیکن اگر عورت خود مجلس نکاح میں موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ کرکے خالدہ بنت زید کہے ، تو نکاح صحیح ہوگا، نام کی غلطی اس صورت میں مضر نہیں ہوگی، کیوں کہ اشارہ نسبت (نام) سے قوی ترہونے کی وجہ سے نسبت کا اعتبار ساقط ہوگا۔ ’’ غلط وکیلہا بالنکاح في إسم أبیہا بغیر حضورہا لم یصح للجہالۃ، إلا إذا کانت حاضرۃ وأشار إلیہا فیصح ‘‘۔
(ردالمحتار:۴/۹۶،۹۷، کتاب النکاح ، مطلب في عطف الخاص علی العام ، بیروت)
مثال۲:امیرا لمسلمین نے یوں کہا :جس شخص کا تیر اس سبز جبہ کو جا لگے وہ اسی کا ہے، پھر ایک شخص کا تیر اس کو جالگا اور وہ جبہ کے بجائے کھال نکلی تو وہ اسی کی ہوگی، کیوںکہ امیرنے استحقاق کی بنیاد، تعیین بالاشارہ پر رکھی ہے، نہ کہ اسم اور نسبت پر ۔
قاعدہ(۲۰۹): {اَلْعِوَضُ حُکْمُہٗ حُکْمُ الْمُعَوَّضِ}
ترجمہ:جو حکم معوض کا ہے، وہی عوض کا ہوگا۔
(شرح السیر الکبیر: ۵/۷۸، باب أسر العبد وغیرہ ثم یرجع إلی مولاہ أو لا یرجع، قواعد الفقہ: ص۹۳، القاعدۃ:۱۹۲)
مثال:اگر معوض جائز ہے تو عوض بھی جائز ہوگا، اگر معوض حرام ہے تو عوض بھی حرام ہوگا، جیسے نکاح جائز ومباح ہے تو مہر بھی جائز ہوگا، اور زنا حرام ہے تو اس کاعوض(اجرت) بھی حرام ہوگا۔
قاعدہ(۲۱۰): {اَلْغَرَرُ لا یَضُرُّ فِيْ التَّبَرُّعَاتِ}
ترجمہ: تبرعات واحسانات میں غرر مضر نہیں ہے۔ (جمہرۃ:۲/۷۹۵، رقم:۱۲۸۰)
مثال۱: اگر کوئی شخص اپنے تالاب میں موجود مچھلیاں کسی کو ہبہ کردے ، تو یہ جائز ہے، اب موہوب لہ کے لیے ان مچھلیوں کو پکڑنا درست ہے، او رنہ پکڑ پائے تو واہب پرکوئی ضمان لازم نہیں ہوگا۔
مثال۲:عبد آبق کو مالک ہبہ کردے ،تو موہوب لہ کے لیے جائز ہے جہاں پائے اس کو پکڑلے، اور نہ پکڑ سکے تو بھی واہب پر کوئی ضمان نہیں، کیوں کہ موہوب لہ کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہے ۔
(جمہرۃ القواعد:۱/۳۱۳)
قاعدہ(۲۱۱): {اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ}
ترجمہ: تاوان نفع کے مطابق ہوتا ہے۔(ذمہ داری حقِ استفادہ کی وجہ سے عائد ہوتی ہے)
(درر الحکام :۱/۹۰، المادۃ :۸۷ ، القواعد الفقہیۃ :ص۳۰۵ ، ۳۷۴ ، ترتیب اللآلي :ص۸۷۱ ، شرح القواعد: ص ۴۳۷، قواعد الفقہ: ص۹۴، القاعدۃ:۱۹۵، شرح السیر الکبیر:۱/۲۲۶ ، قبیل باب وما جاء في الغلول)
مثال:چند لوگوںنے مل کرکوئی کاروبار شروع کیا ،اور اس میں نقصان ہوا،تو یہ نقصان ہر شریک پر اس کے حصۂ نفع کے مطابق لازم ہوگا، یعنی جس کا حصہ نفع پچاس فیصد (50%) ہے، تو اس کا
نقصان بھی پچاس فیصد(50%) ،اور جس کا تیس فیصد (30%) ہے تو اس کا نقصان بھی تیس فیصد (30%) ،اور جس کابیس فیصد(20%) ہے تو اس کانقصان بھی بیس فیصد (20%)ہوگا۔
زید،بکر اور عمرو نے ایک ہزار روپے جمع کرکے ایک کاروبار شروع کیا،اس میں زید کے پانچ سو، بکر کے تین سو اور عمرو کے دو سو روپے ہیں،اور حصۂ نفع بھی ترتیب وار پچاس فیصد (50%) تیس فیصد (30%) اور بیس فیصد(20%) ہے۔ یعنی سوروپے منافع میں زید کے پچاس روپے ، بکر کے تیس روپے اور عمرو کے بیس روپے ہیں، ٹھیک اسی طرح نقصان بھی بقدر حصۂ نفع ان تینوں پر لازم ہوگا۔
فائدہ:حضرت الاستاذ(قاضی مجاہد الاسلام صاحبؒ) نے اسی قاعدہ سے استشہاداً فرمایا کہ : ’’مرد پر حقِ زوجیت سے استفادہ کی بناء پر اس کی بیوی کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘‘۔
(مباحث فقہیہ:ص۲۵۹)
قاعدہ(۲۱۲): {اَلْغَصَبُ لَیْسَ بِمُوْجِبٍ لِلْمِلْکِ بِنَفْسِہٖ}
ترجمہ:غصب بنفسہ موجبِ ملک نہیں ہے۔
(شرح السیر الکبیر:۵/۹، باب الموادعۃ ، قواعد الفقہ:ص۹۴، القاعدۃ:۱۹۶)
مثال:اگر غاصب نے مغصوب منہ سے کسی چیز کو غصب کیا تو یہ غصب کرنا اس کے لئے شیٔ مغصوب میں ملک کو ثابت نہیں کرے گا، بلکہ اس پر واجب ہے کہ عینِ مغصوب، مغصوب منہ کو واپس کردے۔ ہاں! جب غاصب نے شی ٔمغصوب کو ضائع کردیا ،یا وہ خود ضائع ہوگئی تو اس پر اس کا تاوان واجب ہوگا،اور وہ وقتِ غصب سے ہی اس کا مالک شمار ہوگا، اس صورت میں غصب کو سببِ ملک قرار دینا ضرورتاً ثابت ہے، تاکہ دونوں بدل (ضمان اور شی ٔ مغصوب) کا اجتماع ملکِ واحد میں نہ ہو۔
قاعدہ(۲۱۳): {غَیْرُ الْجَائِزِ لا یَحْتَمِلُ الْجَوَازَ بِقَضَائِ الْقَاضِي}
ترجمہ: امر ناجائز قضاء قاضی کے سبب جواز کا احتمال نہیں رکھتا ہے۔
(جمہرۃ القواعد: ۲/۷۹۶، رقم: ۱۱۹۰)
Read more:
http://www.elmedeen.com/read-book-4272&page=196#page-212&viewer-text
-----------------
کتاب کا نام
ضرورت و حاجت سے مراد اور احکام شرعیہ میں ان کا لحاظ
مصنف
حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی
ناشر
ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
اسلام ایک ایسا عادلانہ آسمانی دین ہے جو انسانی زندگی کی ہمہ جہت ترقی کا ضامن ہے۔ خالق کائنات انسان کی جملہ ضرورتوں ، حاجتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس لیے شریعت اسلامی میں ان تمام پہلوؤں کانہایت حسن و کمال کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہے جن کے ذریعہ انسان کی رہنمائی ہوتی ہے اور اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔اور راست جہت میں سنورتا اور ترقی کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو منصب قیادت پر سرفراز فرمایا ہے۔ یہ منصب   بہت ساری صلاحیتوں اور خوبیوں کا متقاضی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم ترین یہ ہے کہ  پیش آمدہ مسائل کا  حل پیش کیا جائے۔ اس سلسلے میں علمائے اصول جس علم سے استمداد لیتے ہیں اسے اصول فقہ کہتے ہیں۔ جس کا ایک گوشہ تسہیل وتیسیر، رفع حرج، تخفیف وترخیص، اعتدال و توازن، تسامح  اور اباحت کے اصولوں کا ہے۔ اسلام نے بندوں کے مفادات و مصالح اور ضروریات کی مکمل رعایت رکھی ہے اس لیے مقاصد شریعت میں رفع حرج، دفع ضرر او رمصالح کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ فقہاء نے ان اصولوں کی روشنی میں امت کی ضرورتوں کا دائرہ متعین کرتے ہوئے ان کا حق پیش کرنے او ردین ،نفس، عقل، مال اور نسل کی حفاظت و رعایت رکھنے کے لیے ہر پہلو پر غور و خوض کیا  اور اپنے قیمتی اجتہادات پیش کئے ہیں۔زیر نظر کتاب اصلا ضرورت و حاجت کے اصولوں پر مبنی  منتخب مقالات کا مجموعہ ہے۔ جو اسلامی فقہ   اکیڈمی (انڈیا) کے زیرنگرانی منعقدہ سالانہ پروگرام میں اہل علم نے پڑھے تھے۔ بعد میں انہیں کتابی شکل میں پیش کر دیا گیا ہے۔ (اصول فقہ) (ع۔ح)
-----------------------------------------
(نقلہ: #ایس_اے_ساگر) 




Thursday, 1 October 2020

"الرحیق المختوم" کا ایک علمی سرسری جائزہ

"الرحیق المختوم" کا ایک علمی سرسری جائزہ 
کتاب "الرحیق المختوم" کے بارے میں مجھے پہلے صرف اتنا معلوم تھا کہ سعودی حکومت نے اس پر ایوارڈ دیا تھا لہذا کتاب کے بارے میں میں ساکت تھا. لیکن فتوے کے بعد جب کتاب کو اندر سے دیکھا اور ابھی اس کے ابتدائی صرف 250 صفحات کے حوالجات پر دو تین گھنٹوں میں طائرانہ نظر ڈالی تو مجھے بہت حیرت ہوئی. یہ سوال تو میں نے کل بھی کیا تھا کہ جو لوگ اس کتاب کے ثناخواں ہیں وہ کتاب کے ان نمایاں اور امتیازی خوبیوں کو بتائیں جن کی وجہ سے سعودی حکومت نے ایوارڈ دیا مگر جواب اب تک نہیں مل سکا ہے. کیا اس کتاب کی عربی زبان غیرمعمولی ہے، اس کے مشمولات نرالے ہیں، اس کے سارے حوالے مستند ہیں، اس کی ساری روایات صحیح اور قوی ہیں، بہت جامعیت ہے یا کچھ اور ہے؟ 
سیرت کی جس عربی کتاب میں تحقیق وریسرچ کے اصولوں کے برخلاف اولین مصادر (Primary sources) سے ہٹ کر ثانوی مصادر (Secondary sources) بلکہ ثالثی ورابعی بلکہ دنیا کی نگاہ میں گمنام مصادر کی بھرمار ہو بلکہ بعض جگہوں پر مصادر میں صرف بائبل کا حوالہ ہو، بعض جگہوں پر بخاری شریف کی صحیح حدیث کو نقل کرکے اس کے مقابلے میں ابنِ اسحاق کی بات اور اپنی عقل کو ترجیح دیا گیا ہو، جگہ جگہ جمہور کے قول کو چھوڑ کر شاذ قول کو اختیار کیا گیا ہو بلکہ مصنف بعض جگہوں پر یہ بھی کہتا ہو کہ اس کا قائل کوئی نہیں ہے، بکثرت مودودی صاحب کا حوالہ دیا گیا ہو، عربی کی سیرت کی اس کتاب میں بکثرت ہندوستان کی اردو کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہو، ضعیف احادیث کی بھرمار ہو بلکہ بعض موضوع حدیثوں سے بھی استدلال کیا گیا ہو ایسی کتاب اگر انتہائی سطحی نہ کہی جائے تو پھر کس کتاب کو انتہائی سطحی کہا جائے؟
ذیل میں سرسری طور پر میں نے چند چیزوں کو جمع کیا ہے. احباب ان پر نظر کریں اور انٹرنیٹ پر موجود (جسے میں اس تبصرے کے بعد شیئر کررہا ہوں) اس کتاب کو اس کے درج ذیل صفحات نمبرات پر جاکر ازخود بھی دیکھ لیں:
صفحہ 17: محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ للخضری 
نوٹ: پوری کتاب میں اس کتاب کا بکثرت حوالہ دیا گیا ہے. 
صفحہ 18: وبعد إدارة النظر من جميع الجوانب أثبتنا ماترجح عندنا...
نوٹ: موصوف مقدمے میں بھی "ثم اثبت فی صلب المقالۃ ماترجح لدی بعد التحقیق" لکھ چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جمہور کی تحقیق کے مقابلے میں اپنی تحقیق کو راجح قرار دے رہے ہیں.
صفحہ 18: موصوف فرماتے ہیں کہ معروف یہ ہے کہ ہاجرہ فرعون کی باندی تھی مگر وہ باندی نہیں بلکہ اس کی بیٹی تھی. دیکھئے رحمۃ للعالمین قاضی محمد سلیمان منصورپوری 
نوٹ: موصوف نے اس اردو کتاب کا بکثرت حوالہ دیا ہے. 
صفحہ 25: تفہیم القرآن للسید المودودی 
نوٹ: موصوف نے سیرت کی اس کتاب میں بطور حوالہ بکثرت مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کا ذکر کیا ہے.
صفحہ 27: سفر التکوین نوٹ: مصنف نے اکلوتا حوالہ بائبل کے باب  Genesis سے دیا ہے.
صفحہ 50: مختصر سیرۃ الرسول للشیخ محمد بن عبد الوہاب النجدی 
نوٹ: اس کے بکثرت حوالے موجود ہیں.
صفحہ 58: مختصر سیرۃ الرسول للشیخ عبد اللہ النجدی
نوٹ: اس کے بھی بکثرت حوالے موجود ہیں.
صفحہ 59: ووقع فی کتاب الترمذی وغیرہ انہ بعث معہ بلالا (تحفۃ الاحوذی) ...
نوٹ: براہِ راست حدیث کا حوالہ ترمذی سے دینے کی بجائے تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی سے دیا ہے.
صفحہ 66: موصوف نے اپنی عقل سے فرمایا ہے کہ نزولِ وحی کی ابتداء 21 رمضان کو ہوئی جس کا حوالہ نہ صرف یہ کہ ندارد ہے بلکہ یہ تک فرمایا کہ اس کا قائل کوئی نہیں ہے.
صفحہ 101: تدل علیہ روایۃ ذکرہا الشیخ عبداللہ النجدی فی مختصر السیرۃ...
نوٹ: حدیث کا حوالہ اصل کتاب سے دینے کی بجائے شیخ نجدی کی کتاب سے دیا جارہا ہے.
صفحہ 115: تاریخ اسلام للشاہ اکبر خان نجیب آبادی 
نوٹ: اس اردو کتاب کے حوالے بھی بکثرت ہیں.
صفحہ 172: مصنف نے قبا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام چار دن پیر تا جمعرات بتایا ہے اور حوالے میں فرماتے ہیں کہ یہ ابن اسحاق، ابن ہشام اور اسی کو علامہ منصورپوری نے اختیار کیا. جب کہ بخاری شریف میں ایک روایت میں 24 روز، دوسری میں دس روز اور کچھ، اور تیسری میں 14 راتیں بتائی گئی ہیں اور اسی اخیر کو ابن قیم نے 'زادالمعاد' میں اختیار کیا ہے. 
نوٹ: موصوف بخاری شریف کی صحیح حدیثوں اور ابن قیم کے قولِ مختار کو ذکر کرنے کے باوجود صرف چار روز قیام بتاتے ہیں اور اس کی اپنی توجیہ کرتے ہیں. 
صفحہ 202: حقق الأستاذ السيد أبوالأعلى المودودي تحقيقا مدللا أن سورة محمد نزلت قبل بدر
نوٹ: کس شان سے بدر سے پہلے سورہِ محمد کے نزول کی تحقیق اور حوالے میں مودودی صاحب کا ذکر کیا ہے دیکھنے کی چیز ہے.
صفحہ 21: پر اخیر میں جو حدیث ان اللہ خلق الخلق ... نقل کی ہے وہ ضعیف ہے.
صفحہ 53: پر فرمایا گیا "وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال: انا ابن الذبیحین" 
نوٹ: محدثین اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں لا اصل لہ بہذا اللفظ.
میں نے مذکورہ بالا سطور میں موصوف کے ریسرچ اور تحقیق کے طریقہ، مشمولات، حوالجات اور طرزِاستدلال کا ایک سرسری اور ہلکا نمونہ پیش کیا ہے. اگر کوئی باریک بیں علمی تحقیق کے ٹھوس اصولوں کے میزان پر بالاستیعاب اس کتاب کا جائزہ لے لے تو نہ جانے بات کہاں تک پہنچے گی اور حشر کیا ہوگا. مگر صاحب! سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ پھر سعودی حکومت نے پاکستان میں منعقدہ اپنی کانفرنس میں سلفیہ کے استاذ مصنف کو اس کتاب پر 50 ہزار ریال کا ایوارڈ کیوں دیا؟ تو اس کا جواب میرے ذمہ نہیں ہے. اور اس کا جواب حالات سے واقف اہلِ نظر کے لئے مشکل بھی نہیں ہے.
اب میں شرحِ صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ استفسار کے جواب میں فتوے میں مفتی دارالعلوم کی یہ بات کہ یہ کتاب انتہائی سطحی ہے بالکل درست، تعصب سے خالی اور مبنی بر انصاف ہے. اللہ تعالی مفتی صاحب کو جزائے خیر دے کہ ان کے فتوے کی وجہ سے ہمیں اس کتاب کے جائزے کی توفیق ہوسکی.
بقلم: محی الدین ڈاکٹر مفتی عبیداللہ قاسمی صاحب (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2020/10/blog-post.html

Monday, 28 September 2020

تراویح میں عورت کا اپنے محرم کے لئے سامع بننا

 تراویح میں عورت کا اپنے محرم کے لئے سامع بننا

سوال: عورت اپنے محرم کے پیچھے (تراویح کی نماز میں) سامع بن سکتی ہے؟

جواب: اگر مرد گھر میں تراویح  کی امامت کرے اور اس کے پیچھے  اس کی محرم خواتین اقتدا کریں اور امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے تو یہ نماز شرعاً درست ہے، اور اگر اس نماز میں دوسرے  کوئی نامحرم مرد شامل نہ ہو اور عورت  غلطی آنے پر اپنے محرم امام کولقمہ  دے دے اور امام لقمہ لے لے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ عورت کو لقمہ دینے سے اس صورت میں بھی اجتناب کرنا چاہیے، غلطی آنے پر بائیں ہاتھ کی  پشت پر دائیں ہاتھ سے مارکر امام کو متوجہ کردینا چاہیے، اور امام غلطی کی اصلاح نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ رکوع کرلے۔

’’فتاوی شامی‘‘ میں ہے:

"تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره، بحر".  (1/ 566، باب الامامۃ، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية: أنه الأشبه. وفي النهر: وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء»، فلايحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهراً؛ لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان، بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل: إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجهاً، ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام  من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبوالعباس القرطبي في كتابه في السماع: ولايظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا: صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولانجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة". (1/ 406)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  (ص: 199):

"قوله: "لأنه عورة" ضعيف، والمعتمد أنه فتنة فلاتفسد برفع صوتها صلاتها".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 285):

"وفي شرح المنية: الأشبه أن صوتها ليس بعورة، وإنما يؤدي إلى الفتنة كما علل به صاحب الهداية وغيره في مسألة التلبية، ولعلهن إنما منعن من رفع الصوت بالتسبيح في الصلاة لهذا المعنى، ولايلزم من حرمة رفع صوتها بحضرة الأجانب أن يكون عورةً".

غمز عيون البصائر – (3 / 383):

"وصوتها عورة في قول. في شرح المنية: الأشبه أن صوتها ليس بعورة وإنما يؤدي إلى الفتنة. وفي النوازل: نغمة المرأة عورة، وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى، ولذا قال عليه الصلاة والسلام: التسبيح للرجال والتصفيق للنساء، فلايجوز أن يسمعها الرجل، كذا في الفتح".  

فقط واللہ اعلم

گھر میں مرد امام کی خواتین کو تراویح پڑھانے سے متعلق مزید صورتوں کی تفصیل کے لئے درج ذیل فتوی کا ملاحظہ فرمائیں:

گھر میں تراویح میں محرم اور نامحرم کے ساتھ جماعت کرنا

فتوی نمبر: 144008200439 - دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 

-----------------

(۱۹۴۵) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا أَنْسَانِیَ الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِیْ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّقِ النِّسَائُ)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۸)

سیدنا جابر بن عبداللہ  رضی ‌اللہ ‌عنہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں غلطی آنے پر بائیں ہاتھ کی  پشت پر دائیں ہاتھ سے مارکر امام کو متوجہ کردینا چاہئے۔ 

:: (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_13.html



(رجعنا من الجہادالاصغر الی الجہادالاکبر) کیا یہ صحیح ہے؟

سوال: مشہور ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:

(رجعنا من الجہادالاصغر الی الجہادالاکبر)

کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب:

O اولا: سوال میں ذکر کردہ حدیث کےالفاظ، یہ  روایت بالمعنی ہے، اصل الفاظ اس طرح نہیں ہیں۔

O ثانیا: اس باب میں روایات دو طرح کی ہیں: مرفوعہ، مقطوعہ:

مرفوعہ: یعنی الفاظ کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی 

مقطوعہ: یعنی مذکورہ الفاظ کسی تابعی کی طرف خود انہیں  کے الفاظ مانتے ہوئے نسبت کی گئی۔

O ثالثا: مرفوعہ روایت کے راوی صرف حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مذکور ہیں۔

O رابعا: سوال میں جو الفاظ مذکور ہیں، وہ مقطوعہ روایت کے  قریب ہیں، بعینہ پھر بھی نہیں ہیں۔ جبکہ مرفوعہ روایت کے الفاظ بالکل الگ ہیں۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:

۞ مرفوعہ روایت ۞

عن جابر قال: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 

"قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ" . قِيلَ: وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ".

تنبیہ: روایت کے الفاظ اسی طرح ہیں، (جہاد) کا لفظ بلا الف لام کے ہیں، اور(الاصغر۔ الاکبر) صفت ہے، جس کا موصوف محذوف ہے، والتقدیر: (جہاد العدوّ الاصغر۔ جہاد العدوّ الاکبر)۔

التخريج:

یہ حدیث دو اسانید سے کتب حدیث وتاریخ میں وارد ہے، دونوں میں مدار سند (لیث بن ابی سُلیم ) ہیں، پھر ان سے روایت کرنے والے دو راوی ہیں:

۱۔ یحیی بن یعلیٰ بن حرملہ، ابو المحیاۃ  التیمی۔

۲۔ یحیی بن العلاء الرازی البجلی۔

 O پہلے راوی (یحیی بن یعلی ابوالمحیاہ) کےطریق سے یہ روایت مندرجہ ذیل کتابوں میں منقول ہے:

1- "الفوائد المُنتقاة" من مرويات أبي بكر الشافعي، لأبي حفصٍ البصري (الجزء 13 رقم الحديث: 62):

نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَ: نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، قَالَ: نا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ " . قِيلَ : وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ".

2- کتاب "الزهد الكبير" للبيهقي - فصل في ترك الدنيا ومخالفة النفس والهوى (حديث: 373):

أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، حدثنا أحمد بن عُبيد، حدثنا تَمْتَام ، حدثنا عيسى بن إبراهيم ، حدثنا يحيى بن يعلى، عن ليث، عن عطاء، عن جابر قال: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَوْمٌ غُزَاةٌ  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ" . قِيلَ: وَمَا جِهَادُ الأَكْبَرِ؟  قَالَ: "مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ" .

قال البيهقي: هذا إسناد فيه ضعف اهـ.

O دوسرے راوی (یحیی بن العلاء الرازی البجلی) کےطریق سے مندرجہ ذیل کتابوں میں یہ روایت وارد ہے :

3-  "تاريخ بغداد" للخطيب (ت بشار 15/ 685)

(4590) - أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ حَمْزَةَ فِي سَنَةِ خَمْسِينَ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِبُخَارَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْخَيَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ هَاشِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ، وَقَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ".

4-  "ذم الهوى" لابن الجوزي (ص: 39) بسَنَد الخطيب:

أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ – هو الخطيبُ - قَالَ: أَنْبَأَنَا وَاصِلُ بْنُ حَمْزَةَ الصُّوفِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَهْلٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى عَنِ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلاءِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ ...الحديث.

۞ مقطوعہ روایت ۞

"قَد جِئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر؟"

یہ حضرت (ابراہیم بن ابی عبلہ) رحمہ اللہ کا قول ہے، جو اُن سے بسند صحیح ثابت ہے ،اور یہ شام کے علاقہ کے رہنے والے مشہور تابعی ہیں، ان کی طرف منسوب روایت مندرجہ ذیل کتابوں میں ہے:

1- النَّسَائِيّ فِي كتاب "الكُنى":- (كما ذكر المِزِّي في "تهذيب الكمال" 2/ 144):

قال النسائي : أخبرني صفوان بن عمرو،أَخْبرنِي أَبُو مَسْعُود مُحَمَّد بن زِيَاد الْمَقْدِسِي، سَمِعت إِبْرَاهِيم بن أبي عَبْلة يَقُول لِأُنَاسٍ جَاءُوا من الْغَزْو : قد جئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر ؟ قَالُوا: يَا أَبَا إِسْمَاعِيل وَمَا الْجِهَاد الْأَكْبَر ؟ قَالَ :جِهَادُ الْقلب . انْتَهَى

2- تاريخ دمشق لابن عساكر (6/438) من طريق النسائي:

قرأت على أبي الفضل بن ناصر، عن أبي الفضل جعفر بن يحيى التميمي، أنا أبونصر الوائلي، نا الخَصيب بن عبد الله بن محمد، أخبرني أبو موسى عبد الكريم بن أحمد بن شعيب، أخبرني أبي أبوعبدالرحمن – هو النسائي - أخبرني صفوان بن عمرو، نا محمد بن زياد أبو مسعود من أهل بيت المقدس ، قال : سمعت إبراهيم بن أبي عَبلة وهو يقول لمن جاء من الغزو ...الحديث

مقطوعہ روایت صحیح السند ہے، صفوان بن عمروثقہ لاباس بہ (تاریخ الاسلام6/98)۔محمد بن زیادالمقدسی،قال أبو حاتم: صالح (الجرح والتعدیل 7/258)۔ وابن ابی عبلہ تابعی ثقہ (سیراعلام النبلاء 6/323)۔

* مرفوعہ روایت کی حیثیت *

* پہلا طریق بروایتِ یحیی بن یعلی:

اس میں صرف ایک راوی ضعیف ہے، اور وہ ہے (لیث بن ابی سُلیم)، جس کے بارے میں نقاد حدیث کے اقوال مختلف ہیں ، لیکن اکثراُن کے ضعفِ حفظ کے  قائل ہیں، مگر کسی نے ان پر وضع حدیث کی تہمت نہیں لگائی ہے، بلکہ مسلم نے (صحیح برقم 2066 ) میں بطورِمتابعت ان کی روایت کی تخریج کی ہے، اور بعض علماء ان کی مرویات کی تحسین کے بھی قائل ہیں ، جیساکہ ذہبی نے (سیرالاعلام 6/184 ) میں کہا: بَعْضُ الأَئِمَّةِ يُحَسِّنُ لِلَّيْثِ، وَلاَ يَبلُغُ حَدِيْثُه مَرتَبَةَ الحَسَنِ، بَلْ عِدَادُه فِي مَرتَبَةِ الضَّعِيْفِ المُقَارَبِ، فَيُرْوَى فِي الشَّوَاهِدِ وَالاعْتِبَارِ، وَفِي الرَّغَائِبِ وَالفَضَائِلِ، أَمَّا فِي الوَاجِبَاتِ، فَلاَ ۔

یعنی بعض ائمۂ حدیث لیث کی روایت کو حسن بتاتے ہیں ، لیکن اس کی روایت اس مرتبہ کی نہیں ہے، بلکہ ایسی ضعیف ہےجو حسن کے قریب ہوتی ہے، لہذا شواہد میں ، فضائل اور ترغیبات میں اس سے استدلال کی گنجائش ہے، ہاں واجبات اور احکام میں نہیں۔

لیکن زیرِبحث روایت میں (لیث بن ابی سلیم ) پر اسانید دائر ہیں ،یعنی روایت میں ان کا تفرد ہے، اور  کسی راوی نے ان کی متابعت بھی نہیں کی، اگرچہ بعض روایات متنِ حدیث کے لئےشواہد بن سکتے ہیں، جن سے حدیث کے مفہوم کی صحت معلوم ہوتی ہے، لیکن کوئی بات مفہوم کے اعتبار سےچاہے صحیح ہو، تب بھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کے لئے معتبر سند کا ہونا ضروری ہے۔

* سندِحدیث کے بقیہ رجال ِسند سب معتبر موثوق بہم ہیں:

علي بن احمد بن عبدان: شيخ البيهقي، ثقة (تاریخ بغداد13/232) وأخطأ من زعم أنه ضعيف۔

 احمد بن عُبيدالصفار: كَانَ ثِقَةً ثَبْتاً (سیراعلام النبلاء13/439) ۔

 محمد بن غالب تمتام: كَانَ ثقة حافظًا (تاریخ الاسلام6/819) ۔

عيسى بن ابراهيم البرکی: صدوق، لا بأس به (تہذیب الکمال 22/581 ) ۔وقول الحافظ فی التقریب :صدوق ربما وھم، تسامح منہ ، قلد فیہ صاحب الکمال،کما وضحہ فی (تحریر التقریب 3/136)۔

يحيى بن يعلی ابو المحیاۃ: وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ  (تاریخ الاسلام 4/775)۔

عطاءبن ابی رباح: تابعي ثقة مشهور۔

* دوسرا طریق بروایتِ یحیی بن العلاء:

 اس میں (لیث کے علاوہ) کئی رجالِ سند میں کلام ہے:

۱۔ خلف بن محمد الخيام البخاري: ضعيف جداً رَوى متونا لا تُعرف (لسان المیزان 3/372) ۔

۲۔ عیسی بن موسی (لعلہ غُنجار)  : يروي عَنِ المجاهيل والكذابين أشياء كثيرة حتى غَلب على حديثه المناكيرُ لكثرة روايته عَنِ الضعفاء والمتروكين (تہذیب الکمال23/39) ۔

۳۔ الحسن بن ھاشم : مجهول۔

۴۔ یحیی بن العلاء الرازی : متَّهم بالکذب والوضع (میزان الاعتدال4/397)۔

تو یہ روایت واہی، ضعیف جدا ہے۔

 *رجالِ سند کے متعلق چند اشکالات مع جوابات *

O پہلا اشکال: سندمیں یحیی بن یعلی ہے (جیساکہ بیہقی کی سند میں ہے) کہ یحیی بن العلاء (جیساکہ خطیب کی سند میں) ہے؟

* البانی نے الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460) میں یہ اشکال کیا ہے، قال:

ويحيى بن أبي العلاء لعله يحيى بن العلاء الكذاب، ولكن يغلب على الظن أنه يحيى بن يعلى المذكور في سند أبي بكر الشافعي والبيهقي، تحرف اسمُ أبيه على ناسخ " التاريخ "، فإنه المذكور في الرواة عن ليث. ويؤيده أن السيوطي أورد الحديث في " الدرر " (ص 170) من رواية الخطيب متعقّبا به على الحافظ ابن حجر جَزْمَه بأن الحديث من قول إبراهيم بن أبي عبلة، فلوكان في سند الخطيبِ الوضاعُ المذكورُ؛ لما تعقّب به السيوطي إن شاء الله تعالى.

البانی کا کہنا ہے کہ: خطیب کی سند میں یحیی بن العلاء جو ہے، شاید (تاریخ بغداد) کے ناسخ سے اس کے نام کی کتابت میں تسامح ہوا ہوگا، اور صحیح (یحیی بن یعلی ) ہوگا، جیساکہ بیہقی اور ابوبکر شافعی کی سند میں ہے۔

البانی نے اپنی بات کی تایید میں دو دلیلیں پیش کیں:

ایک یہ کہ: لیث بن ابی سلیم سے روایت کرنے والوں میں یحیی بن یعلی کا نام مذکور ہے (تہذیب الکمال) میں ،نہ کہ ابن العلاء۔

دوسری دلیل: سیوطی نے (الدررالمنتثرہ) میں حافظ ابن حجر کےوثوق سے یہ کہناکہ :یہ حدیث ابراہیم بن ابی عبلہ ہی کا قول ہے، اُن پر استدراک کرتے ہوئے خطیب کی مرفوع روایت پیش کی ہے، اگر سیوطی کے نزدیک خطیب کی سند میں (ابن العلاءکذاب) ہوتا، تو ابن حجر پراستدراک درست نہیں ہوتا۔

مگر البانی کی دونوں دلیلیں درست نہیں ہیں، لیث سے روایت کرنے والوں میں (تہذیب الکمال) میں اگرچہ (یحیی بن العلاء) مذکور نہیں ہے، لیکن اس کی لیث سے روایت (معجم طبرانی کبیر8/ 121حدیث نمبر7555) میں ہے۔

دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ: سیوطی تصحیح کے باب میں متساہل ہیں ، اور مناوی نے (الفتح السماوی(2/ 514) میں سیوطی سے نقل کیا ہے: لَا أعرفهُ مَرْفُوعا (یعنی خطیب والی روایت کا اعتبارنہیں)۔

* ایک دوسرے باحث (شیخ محمد زیاد التکلہ) نے اپنی کتاب "الدرة اليتيمة في تخريج أحاديث التحفة الكريمة في بيان كثير من الأحاديث الموضوعة والسقيمة ص 65" میں البانی کے برعکس اشکال پیش کیا ہے، فرماتے ہیں:

ويحيى بن العلاء رُمي بالوضع، فأخشى أن تكون الرواية الأولى تصحَّفت عن الثانية، فانقلب اسمُ الراوي من يحيى بن العلاء الكذاب، إلى يحيى بن يعلى، إذ لو كان المتنُ محفوظا عن ليثٍ لكان رُوي وعُرف، واشتَهَر الكلامُ عليه مبكّرا، وما حَكم عليه بعضُ الحفاظ بأنه لا أصلَ له.

یہ اشکال بھی معتبر نہیں ہے، چونکہ یحیی بن یعلی کی لیث بن ابی سلیم سےروایت معروف ومشہور ہے، سنن ترمذی (2800) میں لیث سے ایک روایت وارد ہے، قال الترمذی: (وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ يَعْلَى) اسی طرح ابن ابی شیبہ ،مسند بزار ،معجم طبرانی میں بھی دوسری روایات ہیں۔

ایک اور بات ہے کہ: بیہقی کی سند میں (یحیی بن یعلی) سے ماقبل  جتنے رواۃ ہیں، سب ائمہ حفاظ ہیں، ان سے راوی کے نام میں وہم واقع ہونا بعید ہے، جبکہ خطیب بغدادی کی سند میں کمزور ہیں، تو وہاں وہم وغلط واقع ہونا ممکن ہے۔ یعنی شیخ محمد زیاد کے مقابلہ میں البانی کا اشکال معقول ہوسکتا ہے۔

O دوسرا اشکال:  یحیی بن یعلی کون ہے، اسلمی یا تیمی؟

* قال الالبانی في الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460 ): ويحيى بن يعلى؛ الظاهر أنه الأسلمي، وهو ضعيف أيضا۔

یہ بھی البانی کی مجرد تخمین ہے، ظاہر یہی ہے کہ اسلمی نہیں ہے ، اور اسلمی کی روایت لیث سے معروف بھی نہیں ہے ۔خطیب بغدادی نے (المتفق والمفترق 3/2069) میں دونوں کے درمیاں تفریق کرتے ہوئے یحیی تیمی کے شیوخ میں (لیث بن ابی سلیم) کا نام ذکر کیا، اور پھر ایک روایت لیث ہی کے واسطے سے پیش کی ، جبکہ اسلمی کے مشایخ میں (لیث) کا ذکر نہیں کیا۔

* حافظ ابن حجر کے کلام  میں بھی اشکال ہے، حیث قال فی (تخريج أحاديث الكشاف ص 114): هُوَ من رِوَايَة عِيسَى بن إِبْرَاهِيم عَن يَحْيَى بن يعْلى عَن لَيْث بن أبي سليم، وَالثَّلَاثَةُ ضعفاء.

حافظ ابن حجر نے تینوں کو ضعیف بتایا ہے، شاید حافظ نے بھی یحیی بن یعلی کو اسلمی سمجھا، جس کا جواب گذرچکا۔ اور عیسی بن ابراہیم کو قرشی ھاشمی قرار دیا، جو ضعیف ہے (میزان الاعتدال 3/308)۔ جبکہ یہاں عیسی بن ابراہیم برکی ہے، جیساکہ ابوبکر شافعی کے فوائد کی سند میں مصرح بہ ہے، مزید بر آں ان کے شاگرد یہاں (محمد غالب تمتام) عیسی برکی ہی سے روایت کرتے ہیں (تہذیب الکمال 22/581)۔

O تیسرا اشکال: یحیی بن العلاء ہے، یا ابن ابی العلاء؟

یحیی بن ابی العلاء ( تاریخ بغداد) کے قدیم نسخے میں ہے (13/498) ۔  بشار عواد کے محقق نسخے میں (15/685) یحیی بن العلاء علی الصواب ہے، اسی طرح ابن الجوزی کی(ذم الہوی ص39) میں بطریق الخطیب: ابن العلاء ہی ہے، کما مر۔

* مرفوعہ روایت کے بارے میں نقاد ِحدیث کا موقف *

ایک ضروری بات اس سلسلہ میں عرض کروں گا کہ: اس طرح کی احادیث جو مرفوع موقوف مروی ہوں، اور اسانید کے مراتب بھی مختلف ہوں (صحیح ،ضعیف، موضوع) تو نقادِ حدیث کے اقوال واحکام نقل کرنے میں احتیاط ضروری ہے ، اصل کلام دیکھے بغیر نقل کرنے میں حدیث پر حکم لگانے میں غلطی ہونے کے امکانات ہیں ۔

زیرِبحث حدیث کے بارے میں بھی بعض باحثین نے متقدمین ومتاخرین کے حوالے سے متناقض اقوال نقل کئے :(فیہ ضعف،ضعیف، غریب، منکر، لا اعرفہ مرفوعا، لا اصل لہ )جن کے نقل کرنے کے بعد حدیث کا مرتبہ معلوم کرنا دشوار ہے۔

لہذا صحیح یہ ہے کہ ہر ناقد کا اصل کلام دیکھا جائے کہ وہ کونسی روایت ، کونسی سند پر کلام کر رہا ہے۔ اسی نکتہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے ذیل میں نقادِ حدیث کی آراء کو پیش کرنے کی سعی کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:

* اولا: بیہقی کی سند بخصوصہ:

1- قال البيهقي في الزهد الكبير(حديث: 373): هذا إسناد فيه ضعف.

۲- قال ابن حجر العسقلاني في (تخريج أحاديث الكشاف ص 114 ) وكما في الفتح السماوي (2/ 851): هُوَ من رِوَايَة عِيسَى بن إِبْرَاهِيم عَن يَحْيَى بن يعْلى عَن لَيْث بن أبي سليم، وَالثَّلَاثَة ضعفاء.

۳- قال الألباني في الضعيفة (5/ 478 برقم 2460): قلت: وهذا سند ضعيف، ليث هو ابن أبي سليم، وهو ضعيف لاختلاطه، ويحيى بن يعلى؛ الظاهر أنه الأسلمي، وهو ضعيف أيضا، وبقية رجاله ثقات.

قلت: عيسى بن إبراهيم هو البِركي، وقد قال فيه الحافظ في "التقريب": "صدوق ربما وهم"، فإطلاقه الضعفَ عليه - كما سبق - ليس بجيد.

ويحيى بن أبي العلاء لعله يحيى بن العلاء الكذاب، ولكن يغلب على الظن أنه يحيى بن يعلى المذكور في سند أبي بكر الشافعي والبيهقي، تحرف اسم أبيه على ناسخ " التاريخ "، فإنه المذكور في الرواة عن ليث. ويؤيده أن السيوطي أورد الحديث في " الدرر " (ص 170) من رواية الخطيب متعقبا به على الحافظ ابن حجر جزمه بأن الحديث من قول إبراهيم بن أبي عبلة، فلوكان في سند الخطيب الوضاع المذكور؛ لما تعقب به السيوطي إن شاء الله تعالى.انتهى باختصار

* ثانیا: خطیب بغدادی کی سند بخصوصہ:

1- قال خلدون الأحدب في (تخریج زوائد تاريخ بغداد 9/310) : إسناده تالف ۔

1- قال محمد بن عمرو بن عبد اللطيف في (تبييض الصحيفة۔ القسم الاول: ص 76ـ 78) عن رواية الخطيب: إسناده واه جدا ۔

 *  ثالثا: حدیث مرفوع کے بارے میں مطلق اقوال:

(رجعنا من الجہاد الاصغر)

کے الفاظ کے بارے میں نقاد حدیث کا موقف

* ابوالمظفر السمعانی فی التفسير (3/458): وَفِي بعض الغرائب من الْأَخْبَار: أَن النَّبِي لما رَجَعَ من غَزْوَة تَبُوك قَالَ: " رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر"۔

* الزيلعی فی تخريج أحاديث الكشاف (2/ 395): عَن النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ أَنه رَجَعَ من بعض غَزَوَاته فَقَالَ (رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر) قلت: غَرِيب جدا ۔

* ابن تيميہ فی الفرقان بين اولياء الرحمن واولياء الشيطان (ص: 56) وفی " مجموع الفتاوی" (11/ 197): "لا أصل له، ولم يروه أحد من أهل المعرفة بأقوال النبي صلى الله عليه وسلم وأفعاله"۔

* ابن حجر العسقلانی فی تسديد القوس كما في الدرر المنتثرة فی الأحاديث المشتهرة (ص: 125):

245 - (حديث) "رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ، قَالُوا وَمَا الْجِهَادُ الأَكْبَرُ؟ قَالَ جِهَادُ الْقَلْب" قال الحافظ بن حجر في تسديد القوس: هو مشهور عَلَى الألسنة، وهو من كلام إبراهيم بن أبي عبلة في الكنى للنسائي ،انتهى.

* السيوطی كما فی الفتح السماوی  (2/ 514) :

393 - قَوْله: وَعَلِيهِ قَوْله عَلَيْهِ السَّلَام: رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر.

قَالَ السُّيُوطِيّ لَا أعرفهُ مَرْفُوعا، وَأَقُول(المناوي): هَذَا عَجِيب مِنْهُ مَعَ سَعَة نظره، فقد أخرجه الديلمي فِي مُسْند الفردوس والخطيب الْبَغْدَادِيّ فِي تَارِيخه من حَدِيث جَابر مَرْفُوعا بِلَفْظ: (قدمتم من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر: جِهَاد النَّفس وهواها)۔

* الألبانی فی الضعيفہ (5/ 478 برقم 2460 ): "رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر". منكر۔

* محمد بن عمرو بن عبداللطيف فی (تبييض الصحيفہ باصول الاحاديث الضعيفہ ص 76 رقم الحديث 25 ): ضعيف بغير هذا اللفظ ، ولكن هكذا اشتهر على الألسنة ، ولم أقف عليه به مرفوعا أو موقوفا .

(قدمتم من الجہادالاصغر)

کے الفاظ کے بارے میں نقاد حدیث کا موقف

* ابن رجب فی  جامع العلوم والحكم تحقیق ماهر الفحل (2/ 583) :

وقال إبراهيم بن أبي عبلة  لقوم جاءوا من الغزو: قد جئتُم من الجهاد الأصغر، فما فعلتم في الجهاد الأكبر؟ قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: جهادُ القلب. ويُروى هذا مرفوعاً من حديث جابر بإسناد ضعيف، ولفظه: ((قدمتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر)) قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: ((مجاهدةُ العبدِ لهواه)) .

* ابن حجر المكی فی الفتح المبين بشرح الاربعين (ص : 379) : وجاء في حديثٍ ضعيفٍ: "قدمتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر" قالوا: وما الجهاد الأكبر؟ قال: "مجاهدة العبد لهواه" .

O  تحسین حدیث کے قائلین:

۱۔شیخ احمد بن صدیق غماری نے اس حدیث کی تخریج وتحسین پر ایک رسالہ تحریر کیا ہے بعنوان (تحسين الخبر الوارد فی الجهاد الاكبر)۔ وقال فی (المداوی لعلل الجامع الصغير وشرحی المناوی (4/ 622) : والحديث له شواهد كثيرة يمكن جمعها في جزء مفرد، ولنا عزم على ذلك إن شاء اللَّه تعالى، وأعان عليه.

۲۔  ملتقی اہل الحدیث پر ایک اور باحث کی رائے، قال:

إن الحديث حسنُ الإسناد ، فيه ضعفٌ يمكن تجاوزُه والغضّ عنه، وعلى الأخص إذا كان له شواهدُ يرتقي بها معناه جاءت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجاهدة النفس ومخالفة الهوى، وهي كثيرة لا تحصى، نذكر منها:

حديث فَضالة بن عبيد قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ...

وفي رواية الطبراني والحاكم من حديث فضالة أيضاً: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في حجة الوداع : ثم ألا أخبركم بالمؤمن ؟ من أمِنه الناسُ على أموالهم وأنفسهم، والمسلمُ من سلم المسلمون من لسانه ويده ، والمجاهِد من جاهد نفسَه في طاعة الله.

وعن حَنان بن خارجة قال: قلت لعبد الله بن عمرو بن العاص: كيف تقول بالجهاد والغزو؟ قال: ابدأ بنفسك فجاهدها ، وابدأ بنفسك فاغزُها، فإنك ان قُتلت فارا بعثك الله فارا ، وان قُتلت مرائيا بعثك الله مرائيا ، وان قُتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا. رواه ابن أبي الدنيا في (مُحاسبة النفس /97/) انتهى كلامه ۔

خلاصۃ الحکم علی حدیث 

(رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر) 

* یہ حدیث مذکورہ الفاظ سے وارد نہیں ہے، نہ مرفوعا، نہ موقوفا ومقطوعا۔

مرفوع کے الفاظ ہیں: (قَدِمْتُمْ مِنْ جِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى جِهَادِ الأَكْبَرِ)

مقطوع کے الفاظ ہیں: (قَد جِئْتُمْ من الْجِهَاد الْأَصْغَرِ، فَمَا فَعلْتُمْ فِي الْجِهَاد الْأَكْبَر؟)

تو ثابت ہوا کہ (رجعنا من الجہاد ...الخ) روایت بالمعنی ہے، اس میں اکثر بیان کرنے والے پوری روایت بیان نہیں کرتے۔    

كتبه محمد طلحة بلال أحمد منيار، عفا عنه الرحيم الغفار

(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2020/09/blog-post_52.html