Thursday, 23 July 2020

رزق کی کنجیاں

رزق کی کنجیاں 
پہاڑ کے برابر قرض اتارنے کی ایک نبوی دعا:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو کہا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعاء سکھائی ہے. میں نے کہا کہ وہ کیا انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنے اصحاب کو سکھلاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تم میں سے کسی پر پہاڑ کے برابر قرضہ ہوگا یہ دعا کروگے تو اللہ تعالیٰ پورا کر دےگا۔ دعا یہ ہے:
"اَللّٰہُمَّ فَارِجَ الہَمِّ وَ کَاشِفَ الَغَمِّ مُجِیبَ دَعوَةِ المُضطَرِّینَ وَ رَحمٰنَ الدُّنیَا وَلاٰخِرَةِ وَ رَحِیمَہُمَا اَنتَ تَرحَمُنِی فَارحَمنِی بِرَحمَةٍ تُغنِینِی بِہَا عَن رَّحمَةٍ مَّن سِوَاک" 
(حاکم، ابن مردویہ، عن ابی بکر الصدیق)
”اے اللہ! فکر مندی دور فرمانے والے غم کے ہٹانے والے جو لوگ مجبور حال ہوں ان کی دعاﺅں کے قبول فرمانے والے تو مجھ پر رحم فرماتا ہے پس تو مجھ پر رحم فرما، ایسی رحمت کے ساتھ جس کے ذریعے تو مجھے بے نیاز فرما دے دوسروں کے رحم کرنے سے“۔
تنگ دستی اور قرض کیلئے عمل:
بعد نماز عشاء تنہا بیٹھ کر یَاوَہَّابُ چودہ سو چودہ بار پڑھ کر یہ دعاء ایک سو مرتبہ پڑھا کریں:
"یَاوَہَّابُ ہَب لِی مِن نِّعمَةِ الدُّنیَا وَالاٰخِرَةِ اِنَّکَ اَنتَ الوَہَّابُ"
اول و آخر تین مرتبہ درود شریف بھی پڑھیں۔
 (ملفوظات شیخ الاسلام ص 330)
رزق میں برکت کیلئے ایک مجرب عمل:
مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ رحمت اللہ علیہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے آیت مندرجہ ذیل ہے:
اَللّٰہُ لَطِیف بِعِبَادِہ یَرزُقُ مَن یَّشَائُ وَ ہُوَ القَوِیُّ العَزِیزُ۔
(معارف القرآن جلد 7 صفحہ 687)
مال میں برکت پیدا کرنے‘ زوال سے بچانے کا عمل:
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس کسی کو منظور ہو کہ میرے مال کو زوال نہ ہو اور برکت اور خوشی حاصل ہو تو کہا کرے:
"اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبدِکَ وَ رَسُولِکَ وَ عَلٰی المُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ وَالمُسلِمِینَ وَالمُسلِمَاتِ"
(اے اللہ! رحمت نازل فرما اپنے بندے اور اپنے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور مسلم مردوں اور مسلم عورتوں پر۔
روزی کی کشادگی کیلئے دعاء:
تنگی رزق کی شکایت پر ایک بار مفتی شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے، رزق جتنا مقدر ہوتا ہے اتنا ہی ملتا ہے اس کو (بڑھانے) کا کوئی خاص وظیفہ نہیں، ہاں دعا کرنا چاہئے، دعاء کرنے سے اللہ تعالیٰ سکون دیں گے اور جب اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھ جاتا ہے تو پھر پریشانی نہیں ہوتی اور تعلق پیدا کرنے کی بڑی ترکیب یہ ہے کہ خوب مانگا کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کشائش رزق کیلئے یہ دعاء کرتی تھیں۔ 
”اَللّٰہُمَّ اجعَل اَوسَعَ رِزقِکَ عَلٰی عِندَ کِبَرِسِنِّی وَانقِطَاعِ عُمرِی“
”اے اللہ تو میری روزی کو کشادہ کردے میرے بڑھاپے اور میری عمر کے ختم ہونے تک“۔ 
(جامع صغیر جلد 1صفحہ 57 ترغیب جلد 4 صفحہ 586)
اَللّٰہُمَّ ابسُط عَلَینَا مِن ۰ بَرَکَاتِکَ وَ رَحمَتِکَ وَفَضلِکَ وَ رِزقِکَ
”اے اللہ آپ ہم پر اپنی برکتوں اپنی رحمتوں اپنے فضل اور اپنے دیئے ہوئے رزق میں فراغت اور فراخی نصیب فرمائیے“۔ (الحزب الاعظم صفحہ 60)
مال و تجارت میں برکت ہونے کی دعاء:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ جب تو سفر کیلئے نکلے تو اپنے ساتھیوں سے حالت اور سہولت میں بہتر ہو اور توشے میں ان سے بڑھ کر ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان پانچوں سورتوں کو پڑھ لیا کرو۔ یعنی
(1) قُل یَااَیُّہَا الکٰفِرُونَ پوری سورة
(2) اِذَا جَائَ نَصرُاللّٰہِ پوری سورة
(3) قُل ہُوَ اللّٰہُ اَحَد پوری سورة
(4) قُل اَعُوذُبِرَبِّ الفَلَقِ پوری سورة، 
(5) قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پوری سورة۔ ہر ایک سورة کو بسم اللہ سے شروع کرو اور بسم اللہ پر ختم کرو۔ حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ان سورتوں کی برکت سے میں بہت مال دار ہوگیا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوگیا۔ (مسند ابویعلیٰ)
---------------------------------------------------
1۔ توبہ اور استغفار:
مالک کائنات فرماتے ہیں:۔ اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے (10) وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا (11) اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا (12) سورة نوح
2 ۔ تقوٰی:
اللہ عزوجل فرماتے ہیں:۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے (2) اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے (3) سورة الطلاق
3 ۔ اللہ پر توکل:
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ”اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمھیں ایسے ہی رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔“ [احمد والترمذی وابن ماجہ ۔ بحوالہ صحیح الجامع للالبانی: 5254]۔
4 ۔ حج اور عمرے میں متابعت:
امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ اور ابن حبان سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ '' حج اور عمرہ کو ایک دوسرے کے بعد ادا کرو کیونکہ وہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی سونے اور لوہے کے میل کچیل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہے.''
حج اور عمرہ میں متابعت کا مفہوم:۔
شیخ ابوالحسن سندھی حج اور عمرے میں متابعت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''ایک کو دوسرے کے تابع کرو یعنی جب حج ادا کرلو تو عمرہ ادا کرو اورجب عمرے کی ادائیگی سے فارغ ہوجاؤ تو حج کی ادائیگی کرو کیونکہ یہ دونوں یکے بعد دیگرے آتے ہیں.'' (حاشیہ امام سندھی رحمہ اللہ علی سنن النسائی 5 /115)
5 ۔ صلہ رحمی:
رسول مقبول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ''جو شخص اپنے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ پسند کرے  وہ صلہ رحمی کرے.'' حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ریاض الصالحین کی شرح میں لکھتے ہیں: صلہ رحمی کے اخروی اجرو ثواب کے علاوہ یہ دو بڑے فائدے ہیں: جو انسان کو حاصل ہوتے ہیں رزق میں اضافے سے مراد یا تو فی الواقع مقدار میں زیادتی ہوتی ہے جو اللہ کی طرف سے کردی جاتی ہے یا پھر مراد اس کے رزق میں برکت ہے، اسی طرح عمر کا مسئلہ ہے یا تو یہ حقیقی طور پر زائد کردی جاتی ہے، یا مراد اس سے بھی اُس کی عمر میں برکت ہے یعنی اُس کی زندگی بہر پہلو فوائد سے لبریز ہوتی ہے.''
6 ۔ اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنا:
مالک خود فرماتے ہیں: تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے (39) سورة سباء
 7 ۔ اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے فارغ ہونا:
رسول مقبول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ۔
اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کیلئے وقت فارغ ہوجا تو میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجگی ختم کردوں گا۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا (یعنی ہر وقت اپنی دُنیا میں ہی مشغول رہا) تو میں تیرے ہاتھ کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور (اتنی محنت اور مصروفیات کے باوجود) تیری محتاجگی کو (کبھی) ختم نہ کروں گا۔‘‘ (سنن الترمذي )۔
8 ۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو کوئی اللہ کی راه میں وطن کو چھوڑے گا، وه زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی، اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف نکل کھڑا ہوا، پھر اسے موت نے آ پکڑا تو بھی یقیناً اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے (100) سورة النساء
9 ۔ شرعی علوم کے حصول کے لیے وقف ہونے والوں پر خرچ کرنا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی تھے. ایک علم کے حصول کے لیے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا اور دوسرا حصول معاش کے لیے محنت کرتا. محنت کرنے والے نے اپنے بھائی کی شکایت جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کی آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔
''شاید کہ تمہیں اُسی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو.'' (سنن الترمذي)۔
10 ۔ کمزوروں کے ساتھ احسان کرنا:
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ اُنہیں اپنے سے کمزور لوگوں پر برتری حاصل ہے: تو جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ''تمہاری مدد صرف تمہارے کمزورون کی وجہ سے کی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے.'' (صحیح بخاری)۔
پروفیسر ڈاکٹر فضل الہی حفظہ اللہ اپنی کتاب رزق کی کنجیاں میں لکھتے ہیں:۔
پس جو شخص پسند کرے کی دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالٰی اُس کی نصرت اور تائید فرمائیں اور رزق کے دروازے اس پر کھول دیئے جائیں تووہ کمزور، ناتواں، ضعیف، بے آسرا اوربے سہارا مسلمانوں کی عزت وتکریم کرے اور اُن کے ساتھ بھلائی اور احسان کا سلوک روا رکھے۔''
http://saagartimes.blogspot.com/2020/07/blog-post_90.html?m=1

چھوٹے باشعور بچوں کو مسجد لانے کی اجازت ہے‘ انہیں ڈانٹ ڈپٹنا برا ہے

چھوٹے باشعور بچوں کو مسجد لانے کی اجازت ہے‘ انہیں ڈانٹ ڈپٹنا برا ہے 
-------------------------------
--------------------------------
ایسے ناسمجھ بچوں کو مسجدوں میں لانے سے منع کیا گیا ہے جو صغرسنی کی وجہ سے مسجدوں کو آلودہ کردیں۔ یعنی پانچ سال سے کم عمر کے بچے۔ اس سے زیادہ کی عمر کے بچے عموما پاکی ناپاکی اور صفائی ستھرائی سے تقریبا واقف ہوجاتے ہیں۔ چھ سال سے اوپر کے بچوں کو مسجدوں میں لانا ممنوع نہیں بلکہ موجودہ زمانے کے حالات کے تناظر میں تربیتی وتادیبی نقطہ نظر سے بچوں کو مسجدوں میں لانا مطلوب ہے۔ بچوں کو مسجدوں میں لانے کی ممانعت پہ جو لوگ ابن ماجہ وغیرہ کی درج ذیل روایت پیش کردیتے ہیں تو یہ روایت فنی حیثیت سے ضعیف ہے: 
جنبوا مساجدکم صبیانکم و مجانینکم و شراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع أصواتکم و إقامۃ حدودکم و سلَّ سیوفکم و اتخذوا علی أبوابہا المطاہر و جمروہا فی الجمع۔
’’اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچائو نیز خرید و فروخت، لڑائی جھگڑے، آواز بلند کرنے، حد قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے مسجدوں کو بچائو۔ مسجد کے دروازے پرطہارت کے واسطے جگہ بناؤ۔ جمعہ کے دن مسجدوں میں خوشبو کی دھونی دو۔‘‘
أخرجه ابن ماجہ برقم ۷۵، کتاب المساجد و الجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد.بروایت حدثنا أحمد بن یوسف السلمی قال حدثنا مسلم ابن إبراہیم قال حدثنا حارث بن نبہان قال حدثنا عتبۃ بن یقظان عن أبی سعد عن مکحول عن واثلۃ بن الأسقع مرفوعاً کی ہے.
وأخرجه المنذری في الترغیب و الترہیب (۱؍۱۹۹) والسیوطی في الجامع الصغیر (۳۶۰۱) 
حدیث کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہیں انھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم الترجمۃ: ۱۰۵۱) میں متروک قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے رجل صالح منکر الحدیث اور بخاری نے منکرالحدیث کہا ہے۔ (دیکھیں: میزان الاعتدال ۱؍۴۴۴ رقم الترجمۃ: ۱۶۴۹)
ایک دوسرے راوی عتبہ بن یقظان ہیں جنھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم ۴۴۴۴) میں ضعیف کہا ہے۔ ذہبی نے میزان الاعتدال (۳؍۳۰ رقم ۵۴۸۰) میں امام نسائی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ انھو ں نے انھیں ’’غیرثقۃ‘‘ کہا ہے اور کہا ہے: ’’قوّاہ بعضہم‘‘ یعنی انھیں بعض نے قوی قرار دیا ہے۔ مگر قوی قرار دینے والوں کا نام نہیں درج کیا۔ یاد رہے کہ عتبہ بن یقظان سے کتب ستہ میں صرف ابن ماجہ ہی میں روایت آئی ہے، عتبہ بن یقظان اور حارث بن نبہان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس لئے اس سے بچوں کو مسجد لانے کی ممانعت پہ عمومی استدلال کرنا اس لئے بھی درست اور تام نہیں ہے کہ اس کے بالمقابل صحیح ترین روایتوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا  بچوں کو مسجد لانے کا عمل ثابت ہے۔
عن أبی قتادة : أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی و ہو حامل أمامۃ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و لأبی العاص بن الربیع فإذا قام حملہا و إذا سجد وضعہا۔ (صحیح مسلم: ۵۴۳، کتاب الصلاۃ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلاۃ)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور (اپنی نواسی) امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھالیتے اور سجدہ میں جاتے تو زمین پر رکھ دیتے۔‘‘ مسلم کی دوسری روایت  میں صراحت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی امامت کرواتے ہوئے یعنی مسجد میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی کو گود  میں اٹھاتے تھے:
رَأَيْتُ النبيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وأُمَامَةُ بنْتُ أبِي العَاصِ وهي ابْنَةُ زَيْنَبَ بنْتُ النبيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ علَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وضَعَهَا، وإذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أعَادَهَا. (عن أبی قتادة الحارث بن ربعي.صحيح مسلم: 543)
یہ مسلم شریف کی صحیح حدیث ہے، جو نص صریح ہے کہ یہ کام مسجد میں ہوتا تھا جس سے ثابت ہوتا  ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں کو مسجد میں لاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اپنے بچوں کو مسجد لاتے تھے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عام صحابہ کے بچے بھی مسجد میں آتے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنی لأدخل فی الصلاۃ أرید إطالتہا فأسمع بکاء الصبی فأخفف من شدۃ و جد أمہ بہ۔ 
(صحیح مسلم مع شرح النووی: ۴؍۱۸۷ رقم الحدیث: ۴۷۰)
’’میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور نماز کو لمبا کرنا چاہتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو ہلکی کردیتا ہوں، اس کی ماں کو اس کی وجہ سے پریشان ہونے کی وجہ سے۔‘‘
اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ سمجھدار بچوں کو مسجد لانا جائز اور درست ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ثابت ہے۔ ان سے مسجد کا تقدس و احترام  متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اعمال مسجد میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی  نواسی امامة بنت زينب کو گود میں لے کر نماز پڑھاتے تھے، مسلم 563۔
دین سکھانے اور مسجدوں سے محبت پیدا کرنے  کے لئے آج کے پرفتن معاشرے میں  ضروری ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے مسجدوں کا عادی بنایا جائے۔ بچے تو شور مچانے ہی کے لئے ہیں! اگر بچے شور نہ کریں تو کیا بوڑھے شور کریں گے؟؟ بس ان کے کھیل کود پہ تھوڑی نگرانی زیادہ ہو. اگر پھر بھی بچے شرارت کریں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد سے متنفر کرنے کی بجائے یا تو نماز کے بعد انہیں محبت وشفقت سے سمجھادیں. یا پھر اس کی بھی گنجائش ہے کہ اپنے ساتھ صف کے کنارے میں لے کر خود کھڑے ہوجائیں۔
(مستفاد: فتاویٰ دارالعلوم ۳؍۳۴۲)
جو لوگ بچوں کے شور وغوغہ پہ خود ان سے زیادہ چینخنے چلانے لگتے ہیں ان کا یہ عمل  بالکل غلط ہے۔ نادانی اور سنت رسول سے ناواقفیت  پہ مبنی ہے۔ آج کے ماحول میں بہت ضروری ہے کہ بچوں کو مسجد والے ماحول سے قریب کیا جائے 
بچپن کی شوخی پہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد کے ماحول سے متنفر اور برگشتہ کردینے والے احباب نئی نسل کو برباد کرنے کے اصل ذمہ دار ہونگے۔ بچوں کو مسجد لانے سے متعلق اوپر والی حدیث کے ضمن میں امام نووی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
فالصواب الذی لا معدل عنہ أن الحدیث کان لبیان الجواز و التنبیہ علی ہذہ الفوائد فہو جائز لنا و شرع مستمر للمسلمین إلی یوم الدین۔ (صحیح مسلم مع شرح النووی: ۵؍۳۳)
’’صحیح اور سیدھی بات یہ ہے کہ حدیث بیان جواز کے لئے اور مذکورہ فوائد سے آگاہ کرنے کے لئے ہے لہٰذا یہ ہمارے لئے جائز ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے  مشروع ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو مسجد میں آتے دیکھ کر خطبہ روک دیا اور منبر سے اتر کر انھیں گود میں لے کر منبر پر چڑھے۔ (دیکھیں: سنن ترمذی: ۳۷۷۶، سنن أبی داؤد: ۱۱۰۹، سنن ابن ماجہ: ۳۶۰۰)
بچوں کو مسجد میں لانا اگر کوئی ناپسندیدہ عمل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہرگز نہ کرتے۔ ہاں بالکل ناسمجھ اور چھوٹے بچے (اندازا چھ سال سے کم عمر کے بچے) کے آنے سے تلویث مسجد کا جہاں خطرہ ہو وہاں انہیں لانے سے  پرہیز کیا جائے۔
ویحرم إدخال صبیان ومجانین حیث غلب تنجیسہم وإلا فیکرہ۔ (درمختار ۲؍۴۲۹ زکریا)
وفي تقریرات الرافعي: قول الشارح وإلا فیکرہ أي حیث لم یبالوا بمراعات حق المسجد من مسح نخامۃ، أو تفل في المسجد، وإلا فإذا کانوا ممیزین ویعظمون المساجد بتعلم المساجد بتعلم من ولیہم، فلاکراہۃ في دخولہم۔ (تقریرات رافعي علی الدر ۲؍۸۶)
واللہ اعلم بالصواب 
8 رمضان 1439 ہجری
(رقم الفتوی 1811)

لاک ڈاؤن کے دوران قربانی کے احکام

لاک ڈاؤن کے دوران قربانی کے احکام
معزز مفتیان کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
ہمیں مندرجہ ذیل امور کے بارے میں فقہی رائے درکار ہے، براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون ہوں۔
محمود خاں دریابادی
جنرل سیکریٹری آل انڈیا علماء کونسل، ممبئی
برہان الدین قاسمی
ڈائریکٹر، ایم ایم ای آر سی، ممبئی
اقبال چون والا
جوگیشوری، ممبئی
سوال: قربانی کس شخص پر لازم ہے اور کن شرائط کے‌ساتھ لازم ہے؟
جواب:
قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو صحیح العقل، بالغ، مقیم اور صاحب نصاب ہو۔ صاحب نصاب وہ شخص ہے جس کے پاس 612 گرام و 36 ملی گرام چاندی یا کوئی بھی چیز بنیادی ضروریات سے زیادہ اتنی ہو جس کی قیمت چاندی کے نصاب کے برابر ہو۔ بنیادی ضروریات کا مطلب گھر ، کپڑے، گاڑی وغیرہ ہے۔ لہذا، اگر کسی کے پاس‌گاڑی یا رہا ئشی گھر ضرورت سے زیادہ ہے اور انکی قیمت نصاب کے بقدر ہے اس پر قربانی واجب ہے۔ قربانی واجب ہونے کے لئے زکوۃ کى طرح نہ تو مال کا نامی (سونا، چاندی، پیسے، مال تجارت، جانور) ہونا ضروری ہے اور نہ ہی نصاب پر سال کا گزرنا ضروری ہے۔
سوال: کسی ایمرجنسی کے دوران قربانی کی کیا حیثیت رہتی ہے، مثال کے طور پر CoVID-19 میں دنیا بھر میں وبائی امراض کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، جانوروں کی خریداری میں بھی پریشانی ہے تو ایسے حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
قربانی ہر حال میں صاحب نصاب مسلمان پر واجب ہے۔ لہذا، اگر کسی کے لئے کوروناوبائی مرض کے حالات میں اپنے علاقے میں جانوروں کی قربانی دینا ممکن نہیں ہو تو وہ دوسرے مسلمانوں کے تعاون سے دوسرے علاقوں میں قربانی کروالیں، قربانی اس سے ساقط نہیں ہوگی جب تک یہ امکان موجود ہے۔
سوال:
اگر کہیں قربانی معاشرتی یا قانونی طور پر ناممکن ہوجائے تو پھر مسلمانوں کے پاس متبادل کیا ہیں؟
جواب:
اگر کسی پر قربانی واجب لیکن وہ قانونی یا معاشرتی پریشانیوں کی وجہ سے قربانی نہ کرسکا تو اسے قربانی کے ایام کے بعد ایک سال کے متوسط درجے کے چھوٹے جانور جیسے بکری وغیرہ کی قیمت صدقہ کرنا ہوگا۔
وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها۔ (ردالمحتار: 6/320)
سوال:
بہت سے مالدار مسلمان اپنے آباء و اجداد کے نام سے نفلی قربانی کیا کرتے تھے، لیکن موجودہ حالات میں جب کہ بہت سے غریب لوگ دانے دانے کے محتاج ہیں، تو موجودہ صورتحال میں ان کے لئے نفلی قربانی کرنا بہتر ہے یا لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں مہیا کروانا بہتر ہے؟
جواب:
نفلی قربانی ایک قسم کا صدقہ ہے اور عام دنوں میں بہترین صدقہ وہ ہے جس سے غریب لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہو۔ لہذا اگر مالدار مسلمان اپنے آباؤ اجداد کے ایصال کے لئے قربانی کى بجائے غریبوں کى بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ان کی مالی مدد کرتے ہیں تو یہ بھی درست ہے، بلکہ موجودہ حالات میں یہ بہتر معلوم ہوتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ: "بہترین صدقہ بھوکوں کا پیٹ بھرنا ہے."،
"افضل الصدقة ان تشبع كبدا جائعا"۔ (البيهقي في شعب الإيمان)
سوال:
ایام تشریق کب سے کب تک ہیں اور مسلمانوں کو ان ایام میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب:
9 ذِی الحجہ سے 13 ذِی الحجہ تک، پانچ دن ایام تشریق کہلاتے ہیں۔
9 ذوالحجہ کی فجر کی نماز سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر کی نماز تک (23 نمازوں میں) ہر فرض نماز کے بعد مردوں کے لئے بآوازِ بلند اور عورتوں کے لئے آہستہ آواز سے ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے، نماز تنہا پڑھے یا جماعت سے۔
تکبیرات تشریق یہ ہیں:
"اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، لَآ اِلٰہ الَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَر، اللّٰہُ اَکْبَر، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔"
سوال:
یوم عرفہ کا روزہ کب رکھنا ہے اور اس کی فضیلت کیا ہے؟
جواب:
9 ذی الحجہ کو یومِ عرفہ کہتے ہیں۔ احادیث میں یومِ عرفہ کے روزے کی غیرمعمولی فضیلت بیان کی گئی ہے. حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
''صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ''. (مسلم: 1162)
ترجمہ: مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔
سوال:
قربانی کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب تک رہتا ہے؟
جواب:
جن شہروں یا بستیوں میں نماز جمعہ وعیدین کی نماز پڑھنا واجب ہے، وہاں عید کی نماز سے پہلے قربانی جائز نہیں۔ اگر کسی نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کردی تو اس پر دوبارہ قربانی لازم ہے، البتہ چھوٹے گاؤں جہاں جمعہ و عیدین کی نمازیں نہیں ہوتیں وہاں لوگ 10 ذی الحجہ کی صبح صادق کے بعد قربانی کرسکتے ہیں، قربانی کا آخری وقت 12 ذی الحجہ کی مغرب تک ہے، لیکن 10 ذی الحجہ کو قربانی کرنا افضل ہے۔
قال النبی صلی الله علیه وسلم: "من ذبح قبل الصلوته فانما هو لحم قدمه لاهله لیس من النسک فی شئی“
(مسلم ج 2، حدیث نمبر 1551)
سوال:
کیا قربانی کے جانور وزن کرکے بیچنا جائز ہے؟
جواب:
قربانی کے جانور وزن سے خریدنا و بیچنا جائز ہے۔
سوال:
ذی الحجہ کے مہینے میں کب سے کب تک بال و ناخن نہیں کاٹنا جاہیے؟
جواب:
قربانی کرنے والوں کے لئے مستحب یہ ہے کہ ایک ذی الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن۔ البتہ اگر زیرناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزرچکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا واجب ہے۔
سوال:
کس طرح کے عیب والے جانور کی قربانی درست نہیں ہوتی؟
جواب:
قربانی میں تندرست و موٹے جانور کو ذبح کرنا چاہئے، عیب دار جانور کی قربانی نہیں کرنا چاہیے البتہ اگر عیب بہت کم ہو تو اس کی قربانی درست ہے گو بہتر نہیں، جس جانور میں کوئی بڑا عیب ہو اس کی قربانی جائز نہیں لہذا وہ جانور جس کے سینگ جڑ سے اُکھڑ گئے ہوں جس کا اثر دماغ پر ہونا لازم ہے تو اس کی قربانی دُرست نہیں، اسی طرح اندھے، کانے اور لنگڑے جانور کی قربانی دُرست نہیں، اسی طرح ایسا مریض اور لاغر جانور جو قربانی کی جگہ تک اپنے پیروں پر نہ جاسکے اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔ جس جانور کا تہائی سے زیادہ کان یا دُم کٹی ہوئی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔ جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر نہ ہوں اس کی قربانی جائز نہیں۔ اسی طرح جس جانور کے کان پیدائشی طور پر بالکل نہ ہوں، اس کی قربانی دُرست نہیں۔
سوال:
عیدالاضحى کی نماز کے بارے میں بھی بتائیں کہ موجودہ حالات میں کس طرح ادا کی جائے کریں۔
جواب:
عید کی نماز وجب ہے، عید کی نماز صحیح ہونے لئے وہی سارے شرائط ہیں جو جمعہ کے ہیں سوائے خطبہ کے کہ یہ عید میں سنت ہے جبکہ جمعہ میں واجب۔
لہذا اگر عید تک مسجدیں عوام کے لئے نہیں کھلتی ہیں تو عید کی نماز بھی گھر پر ہی ادا کریں، اور امام کے علاوہ تین لوگ ہوں تو عید نماز پڑھ لیں لیکن اگر جماعت سے پڑھنا ممکن نہ ہو تو پھر مستحب یہ ہے کہ چاشت کی نماز چار رکعت تنہا تنہا پڑھ لیں۔ فإن عجز صلى أربعاً كالضحى۔ (ردالمحتار)
عید کی نماز کا وقت آفتاب کے بلند ہوجانے کے بعد یعنی جب فجر کے بعد مکروہ وقت ختم ہوتا ہے اس وقت شروع ہوتا ہے اور زوال سے پہلے تک وقت رہتا ہے۔
عید کی نماز کا طریقہ:
عید کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ امام تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے، پھر ہاتھ اُٹھا کر تین تکبیریں کہے، دو تکبیروں میں ہاتھ چھوڑ دے، تیسری تکبیر کے بعد بغیرکسی ہاتھ چھوڑے ناف کے نیچے ہاتھ باندھ لے، مقتدی بھی ایسا ہی کریں۔ پھر امام اعوذباللہ و بسم اللہ کے بعد بلندآواز سے قرات کرے۔ قرات کے بعد حسبِ معمول رکوع و سجود کیے جائیں۔ دوسری رکعت میں پہلے امام قرات کرے، قرات کے بعد تین مرتبہ ہاتھ اُٹھا کر تکبیریں کہے اور ہاتھ چھوڑ دے، مقتدی بھی امام کے ساتھ ایسا ہی کریں اور چوتھی مرتبہ امام ہاتھ اُٹھائے بغیر تکبیر کہتے ہوئے رکوع کرے، مقتدی بھی ایسا ہی کریں، اس طرح دو رکعت نماز مکمل کی جائے گی۔
نماز کے بعد امام خطبہ دے۔
خطبہ زبانی یاد نہ ہو تو کتاب یا موبائل اسکرین میں دیکھ کر پڑھ لے اور اگر خطبہ لکھا ہوا بھی نہ ملے تو پہلے خطبے میں سورہ فاتحہ جبکہ دوسرے خطبے میں درود شریف پڑھ لے۔
(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها". (ردالمحتار: 2 / 166)
عیدالأضحى کا خطبه
پہلا خطبہ:
"اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰه أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ ۞ اَلْحَمْدُ
للهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ۞ وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَأَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ ۞ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰه أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۞
أَمَّا بَعْدُ! فَاعْلَمُوْا أَنَّ یَوْمَکُمْ هٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ، لِلّٰهِ عَلَیْکُمْ فِیْهِ عَوَائِدُ الْاِحْسَانِ، وَرَجَاءُ نَیْلِ الدَّرَجَاتِ وَالْعَفْوِ وَالْغُفْرَانِ ۞ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ لِکُلِِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَّهٰذَا عِیْدُنَا ۞ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ۞
وَقَدْ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ ۞ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ۞ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۞ بَارَکَ اللهُ لَنَا وَلَکُمْ فِي الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَنَفَعَنَا وَإِیَّاکُمْ بِالْآیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ. أَسْتَغْفِرُ اللهَ لِيْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَاسْتَغْفِرُوْهُ إِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُِ.
دوسرا خطبہ:
" اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ،اَللّٰه أَکْبَرْ ۞ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا مَن یَّهدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِيَ لَهٗ ۞ اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ۞ وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ ۞ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ.
اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ۞ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ.
قَالَ النَّبِیُّ صَلی اللہُ عَلیہِ و آلہ وَسلَم : أَرْحَمُ أُمَّتِيْ بِأُمَّتِيْ أَبُوْبَکْرٍ، وَأَشَدُّهُم فِيْ أَمْرِ اللهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِیٌّ ۞ فَاذْکُرُوا اللهَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَلَذِکْرُ اللهِ تَعَالٰی أَعْلٰی وَأَوْلٰی وَأَعَزُّ وَأَجَلُّ وَأَتَمُّ وَأَهَمُّ وَأَعْظَمُ وَأَکْبَرُ۞
نوٹ حکومت کی طرف سے قانونا چھوٹے جانور کی قربانی کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لہذا بلڈنگ کی سوسائٹی کسی کو بھی قربانی کرنے سے نہ روکے، البتہ فاصلے کے ساتھ قربانی کا اہتمام کریں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔
کتبہ:
جسیم الدین قاسمی
مفتی آن لائن دارالافتاء، مرکزالمعارف، ممبئی
29 ذی القعدہ، 1440
20 جولائی، 2020
بحکم
مفتی عزیزالرحمن فتحپوری
(مفتی اعظم مہاراشٹر)
تائیدکنندگان:
مفتی سعیدالرحمن فاروقی صدر مفتی دارالعلوم امدادیہ، مفتی سید حذیفہ قاسمی بھیونڈی، مفتی محمد آزاد بیگ صدر مفتی معراج العلوم چیتا کیمپ، مفتی محمد اشفاق دارالعلوم امدادیہ، مفتی جنید پالنپوری مسجد نور قلابہ، مفتی حارث پالنپوری، جوگیشوری، مفتی حسیب الرحمٰن فتح پوری، مفتی محمد انصار قاسمی دارالعلوم منہاج السنہ مالونی ملاڈ

غزوہ ہند کے نام پر فساد و شرارت

غزوہ ہند کے نام پر فساد و شرارت
----------------
عبدالحمید نعمانی
-----------------
بہت سی باتوں کا تعلق مخصوص زمان و مکان سے ہوتا ہے ، ان کو منظر،پس منظر سے الگ کر کے صحیح طریقے سے سمجھا بھی نہیں جاسکتا ہے ، کسی چیز کا موجود ہونا ، کافی نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کے خارج میں مصداق اور صحیح افہام و تفہیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک صحیح قانون اور اس کی دفعات کا غلط استعمال ہوتا ہے ، یہی مذہبی احکام و مسائل کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے ،کبھی مخالف غلط استعمال کرتا ہے تو کبھی موافق غلط استعمال کرتا ہے ، دونوں کا مقصد سماج میں اپنی جگہ بناکر اپنے وجود اور سرگرمیوں کا جواز فراہم کرکے تفوق قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں کتب حدیث میں موجود غزوہ ہند کی روایات کی مثال پیش کی جاسکتی ہے، پاکستان میں روس، افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے دوران میں ایک مخصوص طرح کا ذہن و عمل پروان چڑھنے کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی، گزرتے دنوں کے ساتھ بہت سی ایسی تنظیمیں اور گروپس وجود میں آتے چلے گئے، جن کے لیے بہت سی سرگرمیوں کو وقت اور حالات نہ رہ جانے کے باوجود بھی جاری رکھنا زندگی کی ضرورت بن گیا ۔ افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد بھی، اپنی سابقہ کی زندگی اور سرگرمیوں کی طرف واپس جانا مشکل ہوگیاہے کہ جاری سرگرمیوں نے کاروبار حیات کی شکل اختیار کر لی تھی، سامنے سے روس ہٹ جانے کے بعد بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ سرگرمیوں کا رخ دوسری طرف موڑا جائے، ان عناصر نے غزوہ ہند کی روایات کا سہارا لے کر اپنی مہم کار خ بھارت کی طرف موڑ دیا یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ جب ملک اور عالمی سطح پر سفارتی تعلقات اور معاہدے ہوں تو شرعاً و اصولاً جنگ کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ہے ،غزوہ تو بہت دور کی بات ہے ۔ ویسے بھی شرعی و اصطلاحی طور سے عدم معاہدہ کی صورت میں بھی مقدس غزوہ کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے ، کیوں کہ اسلامی اصطلاح کے مطابق غزوہ اس جنگی مہم کوکہا جاتا ہے ،جس میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شریک ہوں،ایسی جنگوں کی تعداد، اسلامی تاریخ و سیر ت کی کتابوں میں دو درجن سے زائد 27کے قریب ہے ،جنگ کی ایک قسم سریہ ہے، یعنی وہ جنگی مہم جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات شرکت نہ فرمائی ہو ،بلکہ کسی صحابی ؓ کو قیادت کے لیے متعین و مقرر فرمایا ہو، یہ مذکورہ دونوں کی جنگیں غزوات واقعہ کے زمرے میں آتی ہیں ، ان دونوں کے سوا دیگر جنگیں قتال کے زمرے میں آسکتی ہیں، یا زیادہ سے زیادہ غزوات موعودہ کے ذیل میں ایسی ادنی مناسبت کے پیش نظر محدثین نے ایسی روایا ت کو کتب حدیث میں غزوہ کے باب کے تحت درج کیا ہے، 
کتب حدیث میں غزوات موعودہ کے تحت، کئی ممالک و قبائل کے تناظر میں مختلف قسم کی روایات پائی جاتی ہیں، غزوہ ہند کی روایات ان ہی کا حصہ ہیں ، ان کے حوالے سے پڑوسی ملک میں یہ تاثرات پھیلانے کا کام ہورہا ہے کہ احادیث کے پیش نظر خلافت راشدہ سے قیامت تک ہندستان کے خلاف جتنے بھی حملے ہوں گے،ان میں شریک لوگ غزوہ ہند ہی میں تصور کیے جائیں گے اور نبوی بشارتوں کے حق دار ٹھہریں گے، اس سلسلے میں کئی اہم نکات کو نظر انداز کر کے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خود غزوہ کے دائرے اور زد میں آجاتے ہیں ، یہ سب جانتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت غزوہ ہند کی پیشن گوئی کی تھی ،اس وقت نہ تو بھارت کا موجودہ جغرافیہ تھا، نہ سرحدیں بلکہ بھارت سند ھ سے معروف تھا، اور پورے ملک کے جغرافیائی حدود میں پاکستان، بنگلہ دیش، برما (میانمار) افغانستان بھی شامل تھے اور یہ ایران، بصرہ اور ہندستان کی طرف کے علاقے بھی مراد ہوتے تھے ،اس اعتبار سے نبوی پیشن گوئی والے حملے کی زد میں پاکستان و افغانستان بھی آجاتے ہیں کہ وہ بھی ہند میں شامل تھے ۔ معروف عالم مولانا مفتی سلمان منصور پوری نے کچھ برسوں پہلے غزوہ ہند کی روایات کے مصداق پر ایک تحقیقی تحریر لکھی تھی ،لیکن اس کی زیادہ اشاعت نہیں ہوسکی اور جو افراد میڈیا کے سامنے باتوں کو رکھتے ہیں ، انھوں نے متعلقہ مسئلے سے واقفیت کے لیے کوئی محنت و جستجو نہیں کی، انھوں نے یاتو خاموشی سے کام لیا یا اصل مسئلے کو نظر انداز کر کے دوسری تیسری باتیں کرکے ہندو فرقہ پرستوں کو غزوہ  ہند کے حوالے سے نفرت پھیلانے اور اکثریتی سماج میں اپنی جگہ بنانے کے مواقع فراہم کیے، سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے گروپس سرگرم عمل ہیں جن کی زندگی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے اور اشتعال انگیزیاں کرنے پر قائم ہے ، سرجیت یادو نے ہندو وادی سر جیت یا د وکے نام سے فیس بک اکاﺅنٹ بنا رکھا ہے ، وہ ایک ٹی وی چینل کا ایک پروگرام باربار دکھاتے ہیں ، جس میں شامل مسلم نمائندہ سوال کا جواب نہیں دیتا ہے اور مسلم نام والا ایک راجستھانی آدمی کہتاہے کہ ہاں ہمیں مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے کہ بھارت کے غیر مسلموں کے خلاف جنگ کرنی ہوگی، فیس بک پر اور بھی ہندو وادی کے نام سے 6,7 اکاﺅنٹ ہیں، پڑوسی ملک کے کچھ عناصر نے غزوہ   ہند کی روایات کے نام پر جس طرح کا ماحول بنا رکھا ہے اس کا بھارت کے فرقہ پرست ہندستانی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے لیے خوب خوب استعمال کرتے ہیں ، دونوں طرف کے  شدت  پسندوں کو لگتا ہے کہ سیکولرازم اور ملک کے آئین کے دائرے میں ہندوتو اور ملت کے نام پر سرگرمیوں اور سیاست کے لیے کوئی زیادہ گنجائش نہیں ہے ۔ اس لیے مذہبی علامتوں و روایات کا غلط استعمال کرکے سماج میں پھیلنے کی جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں ، غزوہ  ہند کی روایات کابے جا استعمال اسی ذیل میں آتا ہے ، اس سوال کو نظر اندا ز کردیا جاتا ہے کہ کوئی بھی پیش گوئی حالات کے تحت عمل کی صورت اختیار کرتی ہے ، اس کے پیش نظرامن و معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش ، شر پسندی اور فسا د انگیزی ہے نہ کہ مقدس جہاد، امت مسلمہ کی مختلف ممالک کے علاوہ بھارت میں آمد اور جنگی مہمات، حضرات صحابہ ؓ خلافت راشدہ کے دور ،حضرت عمر ؓ کے عہد سے شروع ہوکر ، تابعین محمد بن قاسم اور بعد کے دنوں میں عمل میں آچکی ہیں اور غزوہ ہند کے متعلق نبوی پیشن گوئی کا ظہور مسلم حکمرانوں کی فتوحات کی شکل میں ہوچکا ہے ۔ حضرت عیسیٰؑ سے ملنے والے گروہ کے متعلق روایات گرچہ صحت و وضاحت سے خالی ہیں ، تاہم ماضی کی جنگی مہمات اور کارہائے دعوت و تبلیغ سے جو خطے ، سندھ ، افغانستان ، ،بصرہ وغیرہ مسلم آبادیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں ، وہیں سے حضرت عیسیٰؑ سے ملنے والا گروہ بھی ہوسکتا ہے، غزوہ  ہند سے متعلق حضرات ابو ہریرہ ؓ (دو روایات)ثوبانؓ، ابی بن کعب، صفوان بن عمر وؒ (تابعی) کے حوالے سے ذخیرہ احادیث میں کل پانچ (5) روایات ہیں، حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی دونوں روایات میں اطلاع دی گئی ہے کہ اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہوگی ، اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور اس میں شہید ہوگیا یا اگر واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابو ہریرہ ؓ ہوں گا جسے اللہ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہوگا(مسند احمد ج دوم 369 البدایة و النہا یةلابن کثیر جلد 6، صفحہ223) ایک دوسری سند سے نسائی اور السنن الکبریٰ میں بھی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں بھی قریب قریب مذکورہ روایت کی طرح باتیں ہیں، لیکن یہ دوسری روایت کی اسنادی کمزوری کی طرف امام مزی اور امام ذہبی ؒ نے تہذیب الکمال اور میزان الاعتدال میں اشارہ کیا ہے،
حضرات ثوبان و ابی ابن کعب ؓ اور صفوان بن عمرو ؒ کی روایات میں کچھ دیگر تفصیلات (اور کئی طرح کے علمی مباحث) ہیں، مثلاً یہ کہ میری امت کے کچھ لوگ ہند میں جنگ کریں گے اللہ تعالی ان کو فتح عطا فرمائے گا حتی کہ وہ اس کے حکمراں کو بیٹریوں میں جکڑے ہوئے پائیں گے۔ ایسی روایات میں کئی طرح احتمالات و سوالات کے ساتھ اسنادی کمزوریوں کے ساتھ مختلف صحیح روایات کے خلاف بھی ہیں مزید یہ کہ دور اول محمد بن قاسم اور عہد وسطی میں مسلم حکمرانوں  کی فتوحات اور سندھ ،ہند کے حکمراں کی گرفتاری کے واقعات بھی ظہور پذیر ہوچکے ہیں توایسی حالت میں طرف سے دونوں شدت پسند گروپس کی جانب سے امن و معاہدہ کے تحت زندگی گزارنے والے افراد کو روایات کا مخاطب بنانا سرا سر شرارت اور غارت پسندی کے سوا کچھ اور نہیں ہے، آج کی تاریخ میں عالمی اور ملک کی سطح پر انسانی سماج کے امن اور آزادی کا تحفظ و بقاء ازحد ضروری ہے۔


Tuesday, 21 July 2020

قرض ادا نہ کرنا کتنا سنگین جرم ہے

قرض ادا نہ کرنا کتنا سنگین جرم ہے!
 
آج معاشرہ میں اکثر یہ شکایت سن کو ملتی رہتی ہے۔ کہ لوگ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لٸے دوسروں سے قرض لے لیتے ہیں اور وقت پر واپس نہیں کرتے۔ ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔ اپنی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں اور قرض دینے والے کی نہ یہ کہ ضرورت کا خیال نہیں کرتے بلکہ ان کو اذیت میں مبتلا کرتے ہیں ۔۔ یہ شریعت کی نظر میں بھی مذموم ہے۔ آخرت میں خسارے کا بھی باعث ہے۔ اور دنیا میں بے برکتی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ قرض دہندہ کی نظر میں خود کو کمتر تصور کرتا رہتا ہے جب تک اس سے نجات حاصل نہ کرلے۔ اور کبھی کبھی تو قرض اور لین دین کی وجہ سے برسوں پرانے تعلقات تک خراب ہوجاتے ہیں۔ اور آدمی اپنی نظریں چھپاتا اور قرض دہندہ کے خوف سے راستے تبدیل کرتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالی ہر شخص کو قرض کے بوجھ۔ اس کی ذلت اور اس کی سنگین سے محفوظ ومامون فرماۓ۔ قرض لے کر ادانہ کرنا کتنا سنگین ہے. آپ اس کا انداز اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ کتنا مقدس عمل ہے کہ شہید کا خون زمین پر گرنے سے پہلے عنداللہ مقبول اور اس کی روح جنت میں پہنچ جاتی ہے۔ مگر کوٸی شخص جو دوسرے کے قرض لٸے ہوۓ ہو اور میدان کارزار میں شہید بھی ہوجاۓ تو اس کی روح کو جنت میں جگہ نہیں ملتی۔ بلکہ قرض اداء ہونے تک جنت کے دروازے پر محبوس رہتی ہے۔ اسے جنت میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا. ایک حدیث میں ہے:
”عن سعد بن الاطول أن أخاہ مات وترک ثلاث مأة درھم۔وترک عیالا قال: فأردت أن أنفقھا علی عیالہ۔ قال: فقال النبی صلي الله عليه وسلم ”إن أخاک محبوس بدینہ۔ فاذھب۔فاقض دینہ۔فذھبت فقضیت عنہ ۔۔۔“۔ وفیہ عبدالملک ابوجعفر ذکرہ ابن حبان فی ”الثقات“ وباقی رجال الإسناد علی شرط الشیخین۔ وصحح اسنادہ البوصیری۔فی ”الزواٸد۔ورقة ١٥٦۔ أخرجہ البیہق (جلد ١٠۔ ص ١٤٣)۔
اور مسند احمد کی روایت میں ہے:
”قال روسول اللہ ﷺ۔: رأیت صاحبکم محبوسا علی باب الجنة“ (احمد۔ جلد۔٤۔ ص۔١٣٦۔ابن۔ماجہ۔رقم الحدیث۔ ٢٤٣٣۔ ابن سعد ج۔٧۔ ص۔ ٥٧)۔
قرض لینے کا جواز یقینا ہے۔ اور انسان کو ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں۔ جو بسااوقات ناگزیر ہوتی ہیں۔ اور انسان اپنی اور گھروالوں کی معاشی یا معالجاتی مجبوری میں تلملا اٹھتا ہے۔ اور قرض نہ لے تو افراد خانہ کی جان تک پہ بن آتی ہے ۔۔ اسی لٸےشریعت نے ایسے ضرورت مندوں کو گھریلو یا کاروباری ضرورت میں سودی قرض تک لینے کی اجازت دی۔ اگر قرض حسن نہ مل سکے۔
”یجوزللمحتاج الاستقراض بالربح“۔ ”وقدفصل لکم ما حرم علیکم إلا مااضطررتم إلیہ“ [سورہ انعام۔ ١١٩۔}
سے مستنبط بہت مشہوراصول ہے۔۔ اور قرض خواہ اگر قلاش اور مزید مفلس ہوجاۓ تو اس کے ساتھ ہمدردی کرنے اور فارغ البال ہونے تک۔ اسے مہلت دیٸے جانے جیسی اخلاقی رواداری کی بھی تعلیم اسلام نے دی ہے۔
”وإکان ذوعسرةفنظرة إلی میسرة۔ وأن تصدقوا خیرلکم إن کنتم تعلمون“ (سورہ بقرہ۔١٨٠) 
{اور اگر کوٸی تنگی والا ہو تو اسے آسانی میسرہونے تک مہلت دو اور اسے صدقہ کرکے چھوڑ ہی دو تمارے لٸے اس سے بتر بات اور کیا ہوگی۔ اگر تمہیں علم ہو}
مگر بات اس وقت سنگینی کے داٸرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ جب قرض خواہ دینے میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ یا دینا نہیں چاہتا۔ اور قرض دہندہ کو اذیت دیتا ہے۔ اور اگر اسی درمیان انتقال کرگیا تو اس کا بوجھ یا تو اپنے مفلس ورثہ پر چھوڑ جاتا ہے جو ذلت بھی اٹھاتے ہیں اور پریشان بھی ہوتے ہیں ۔۔ یا پھر اپنےاوپر بندہ حق کا لے کر دنیا سے جاتا ہے۔ جسے روزقیامت کماٸی ہوٸی نیکیوں سے۔ ایک مفلس کی طرح چکانا ہوگا جہاں خود ایک ایک نیکی کا انسان محتاج ہوگا۔ اور قرض چاہے شخصی ہو یا کسی ادارے اور بینک کا ہو اداٸیگی کے حکم میں سب برابرہے اور حقوق العباد کے زمرے میں ہے۔ اللہ تعالی ہر مسلمان کو اپنے دین کی حقوق واخلاق پر مبنی تعلیمات کو اپنانے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔
احمد نادر القاسمی
http://saagartimes.blogspot.com/2020/07/blog-post_21.html?m=1

مرزا محمد علی جہلمی، تعارف اور عقائد

مرزا محمد علی جہلمی، تعارف اور عقائد

میرے کئی دوستوں کا حکم ہے کہ انجینئر مرزا محمد علی جہلمی کے بارے میں بھی کچھ بیان کروں، ان کے حکم کی تعمیل کے لئے یہ مختصر مضمون پیشِ خدمت ہے۔
مرزا جہلمی کون ہے؟
پاکستان کا ایک صوبہ پنجاب کے نام سے ہے۔ وہیں جہلم نام کا ایک تاریخی شہر آباد ہے، جو دریائے جہلم اور جی ٹی روڈ کے درمیان واقع ہے۔ اسی جہلم کی طرف منسوب ہوکر مرزا محمد علی 'جہلمی' کہلاتا ہے۔ مرزا جہلمی 1977 میں پیدا ہوا۔ انگریزی تعلیم خوب پائی۔ میکینکل انجینئر بنا۔ کسی مدرسے میں پڑھا، نہ کسی دینی درس گاہ کا رخ دیکھا، لیکن خود کو اہلِ علم کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ عوام اس کے حلیہ اور چکنی چپڑی باتوں سے فریب کھا جاتے ہیں۔ کرتے پاجامہ میں ملبوس۔ سر پر ہمیشہ پگڑی، جس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ چہرہ بیضوی اور بدن پتلا دبلا۔ یہ ہے اس کا حلیہ۔ سوشل میڈیا ہی اس کا وجہِ تعارف ہے۔ اس کے سبسکرائبر کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے ہر ویڈیو میں سامنے تپائی رکھی رہتی ہے اور اس پر صحاحِ ستہ یعنی بخاری شریف، مسلم شریف، سننِ نسائی، جامعِ ترمذی، سننِ ابی داؤد اور سننِ ابنِ ماجہ کا سیٹ۔ ساتھ ہی بزِاخفش جیسے دو چار مریدین بھی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی خاص مقام پر عوام کو اپنے پاٹھ بھی پڑھاتا ہے۔
تعلیمی لیاقت:
جیسا کہ عرض کیا جاچکا کہ مرزا نے کسی مدرسے میں نہیں پڑھا۔ اس کی پوری تعلیم اسکولوں اور کالجوں سے ہے۔ مذہبِ اسلام کے بارے میں اس کی ساری معلومات اردو اور انگریزی کتابوں سے حاصل شدہ ہیں۔ ایسے ہی لوگ نیم ملا خطرۂ ایمان کہلاتے ہیں۔ عربی میں کہئے تو حاطبِ لیل، جو رات میں رسی سمجھ کر سانپ کو اٹھا لاتا ہے۔ آپ اسے خود رو مولوی یا ریڈی میڈ عالم کہہ سکتے ہیں۔ اس کی عربی دانی کا یہ عالم ہے کہ وہ عربی عبارت پڑھ نہیں سکتا۔ اعراب لگانے میں سخت ٹھوکر کھاتا ہے۔ بریلوی مکتبِ فکر کی مشہور کتاب 'جاءَ الحق' کو 'جاءُ الحق' پڑھتا ہے۔ قرآن کے اس ٹکڑے 'فلا تطع الکافرین' کا ترجمہ یوں کرتا ہے: اے نبی! آپ کافروں کی بات کا برا نہ مانیں۔ جب کہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ اے نبی! آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں، ان کا اتباع نہ کریں۔
مسلم علمی کتابی فرقے کا اعلان:
مرزا جہلمی 2014 سے سوشل میڈیا سے وابستہ ہے۔ شدہ شدہ اس کے ارد گرد ہزاروں جہلا جمع ہوچکے ہیں۔ متاثرین میں زیادہ تر غیرمقلدین کے عوام ہیں۔ جہلمی خود کو غیر مقلدین کے نمایاں ترین رہ نما حافظ زبیر علی زئی کو اپنا استاذ بتاتا ہے۔ ابتداء میں حافظ زبیر علی صاحب اس کے سلسلے میں نرم گوشہ رکھتے تھے، لیکن بعد میں اس سے ناطہ توڑ لیا اور اس پر متروک ہونے کا حکم لگا دیا۔ جب کسی گمراہ آدمی کے حامیین کچھ بڑھ جائیں تو وہ کسی قدیم فرقے سے مربوط نہیں رہتا، بلکہ ایک نئے فرقے کی بنیاد بھی رکھ دیتا ہے۔ محمد علی جہلمی نے بھی اپنا ایک فرقہ بنایا ہے، جس کا نام ہے: 'مسلم علمی کتابی'۔ یہ نئی جماعت نقشۂ عالم پر اسی سال چار ماہ پہلے 24 فروری 2020 کو آئی۔ جہلمی کا کہنا ہے کہ بریلوی مسلمان ہوسکتے ہیں تو مسلم علمی کتابی کیوں نہیں؟ 
محمد علی جہلمی کے عقائد:
محمد علی جہلمی 31 سال تک بریلوی رہا، 2008 میں بریلویت سے توبہ کی۔ پھر غیرمقلد بن گیا۔ اب اللّٰہ جانے کیا ہے! اپنے افکار و خیالات سے کبھی قادیانی لگتا ہے، کبھی شیعہ۔ کبھی جماعتِ اسلامی سے وابستہ لگتا ہے اور کبھی غیرمقلدین کا ترجمان۔ اس کے مکتبِ فکر کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ یہ قادیانیت نواز بھی ہے۔ قادیانیوں کے چینل پر اس کے متعدد ویڈیو ہیں، جن سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مرزائیوں کو اس سے کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ آئیے، محمد علی کے چند عقائد پر نظر ڈالتے ہیں: 
1: قادیانیوں کے اعضائے وضو بھی قیامت میں چمکیں گے۔ 
حالانکہ احادیث کے مطابق اعضائے وضو صرف ان مسلمانوں کے چمکیں گے جو نماز کے لئے وضو کریں گے اور قادیانی مسلمان نہیں، بلکہ مرتد ہیں۔
2: اللّٰہ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مغفرت کا اعلان نہیں کیا ہے، بلکہ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کے ذریعے اعلانِ مغفرت کا تعلق صرف ان 1400 صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہے، جو صلح حدیبیہ کے وقت موجود تھے، کیوں کہ سورۂ فتح کی آخری آیت یعنی "محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار" صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور مغفرت کا وعدہ بھی انہیں کے لئے ہے۔
جب کہ ہم تمام اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مغفور ہیں، خواہ وہ صلح حدیبیہ کے وقت موجود تھے، یا پہلے، یا بعد میں۔ اللّٰہ نے سب کی مغفرت کا واضح اعلان کردیا ہے۔ جیسا کہ: "لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل" اور اس جیسی دوسری آیتوں سے صاف ظاہر ہے۔
3: سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بدعتی تھے۔ اللّٰہ ان سے راضی نہیں ہوا۔ معاذ اللہ! 
جب کہ ہمارا عقیدہ ہے: الصحابۃ کلہم عَدول، یعنی تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نیکی اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر تھے۔ سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک ہیں۔ نیز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے فضائل بہت منقول ہیں۔
4: فتحِ مکہ کے موقع پر ایمان لاکر جنہوں نے صحابیت کا شرف پایا، وہ اسلام کی طرف طبعی میلان کی بنا پر نہیں، بلکہ مسلمانوں کے غلبے کے خوف سے ایمان لائے۔ العیاذ باللہ! 
جب کہ ہم سنیوں کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کے منتخب بندے اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی تھے۔ 
5: سب سے پہلے مسلمان سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی ثابت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللّٰہ بعض محدثین کی وجہ سے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے قول کو رد کرنے اور یہ کہنے کی وجہ سے ناصبیت، بابائیت اور فرقہ پرستی کے مرتکب ہوئے کہ سب سے پہلے مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ 
حالانکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے پہلے ایمان لانے کو کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں۔
6: قادیانی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہیں اور یہود و نصاریٰ نبی نہیں مانتے، لہذا قادیانی ان دونوں اقوام سے افضل ہیں۔
جب کہ ہم اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اہلِ کتاب ہیں۔ ان کی خواتین سے نکاح جائز ہے اور ان کا ذبیحہ بھی جائز ہے۔ رہے قادیانی تو وہ مرتد ہیں، خواہ وہ پیدائشی طور پر بھی قادیانی کیوں نہ ہو۔ یہ لوگ زندیق ہیں، جو کفر کا انتہائی درجہ ہے۔ لہذا یہ لوگ یہود و نصاریٰ سے کبھی افضل نہیں ہوسکتے۔
7: تفسیر ابنِ کثیر کی خرابیوں پر پانچ گھنٹوں کا لیکچر دے سکتا ہوں۔ ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں گپ شپ، سیکسی باتیں اور شرکیہ عقائد بھی گھسیڑ دیئے ہیں۔
جب کہ علامہ عمادالدین ابنِ کثیر بصری کی یہ کتاب ہر زمانے میں اہلِ علم کے درمیان مقبول رہی ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اسے بے حد پسند فرماتے تھے۔ روایت و درایت کے اعتبار سے کسی بھی محدث کی تفسیر اتنی شان دار نہیں ہے۔ آٹھویں صدی ہجری کے یہ مفسر پائے کے محدث بھی تھے۔
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ:
مرزا جہلمی کے ان عقائد کے بعد تغلیبی طور پر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ بندہ شیعہ ہے اور سنیوں کے لبادے میں شیعیت کو فروغ دے رہا ہے۔ اہل السنۃ والجماعۃ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بیانات سننا عام مسلمان کے لیے خطرناک ہے۔ اہلِ علم اس کے رد کے لئے سنیں تو لا حرج۔ اس شخص کے بارے میں دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ابھی نرم ہے۔ جب اس کے بھیانک عقائد و افکار دارالعلوم دیوبند تک پہنچیں گے تو اس کا فیصلہ بھی سخت ہوگا۔ فی الحال اس کا یہ موقف پیشِ خدمت ہے: 
ہمارے علم کے مطابق یہ شخص یعنی انجینئر مرزا علی فکری انحراف کا شکار ہے، اس لیے اس کے بیانات سننے سے احتراز کیا جائے. 
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
------------
✏ فضیل احمد ناصری
https://www.youtube.com/channel/UCJUOJPHjfrCaA7_7prAo0jQ
........
http://saagartimes.blogspot.com/2020/07/blog-post_41.html?m=1

Sunday, 19 July 2020

ساری پریشانیاں دور کرنے کا نبوی علاج

ساری
پریشانیاں دور
کرنے کا نبوی علاج

زندگی کے چار اہم ترین موقعوں پر کام آنے والے چار آسمانی وظائف:
سخت تعجب ہے، چار طرح کے ان لوگوں پر، تالے کی چابی جن کے پاس رکھی ہے، اور وہ مگر تالے کھلنے کے انتظار میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔
1 - تعجب ہے اس شخص پر جس پر غم کی آزمائش آن پڑی، وہ مگر ازالہ غم کی اس اکسیر آیت سے غافل ہے:
​۞ لا إلهَ إلاّ أنتَ سُبحانكَ إني كنتُ من الظالمين ۞​
(یا اللہ !) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک میں قصور وار ہوں۔ (٤٠) سورہ الانبیآء آیت نمبر 87
کیا اسے علم نہیں کہ اس قرآنی دعا کا عرشِ بریں سے کیا جواب دیا گیا؟ فرمایا؛
​۞ فاستجبنا لهُ ونجيناهُ من الغم ۔۔۔۔۔۔
اس پر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں گھٹن سے نجات عطا کی۔ سورہ الانبیآء آیت نمبر 88
2- تعجب ہے اس مریض پر، جو "بیماری" میں مبتلا تو ہے، مگر وہ اس دعائے شفا سے غفلت برت رہا ہے:
​۞ ربي إني مسّنيَ الضرُ وأنتَ أرحمُ الراحمين
اپنے پروردگار کو پکارا کہ: مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (٣٧) سورہ الانبیآء آیت نمبر 83
کیا علم نہیں کہ اس دعا کی افادیت کے بارے رب نے قرآن میں کیا فرمایا؟
فرمایا ہے؛
​۞ فاستجبنا له وكشفنا ما به من ضر ۔۔
پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں جو تکلیف لاحق تھی، اسے دور کردیا۔
3- ​تعجب ہے اس شخص پر "خوف" کا جو شکار تو ہے​، اس آیتِ دعا سے مگر غافل:
​۞ حسبنا الله ونعم الوكيل ۞​
(ہر خوف و ہیبت سے)​​ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ (٥٩)
اللہ ہی ہمیں کافی ہے اور بھلا اس سے بہتر بھی کوئی کارساز ہوسکتا ہے​​؟
(سورہ آل عمران آیت نمبر 173)
اس دعا کے ذریعے پکارنے والے کے متعلق خدا نے بھلا کیا فرمایا؟
فرمایا؛
​۞ فانقلبوا بنعمةٍ من اللهِ وفضلٍ لم يمسسهم سوء۞​
​​نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی،
​۞"وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ" ۞​
​​اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ یقینا اللہ سارے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے- سورہ الغافر آیت نمبر 44
کیا لوگوں کو علم نہیں کہ اس دعا کا نتیجہ خوف پاک پروردگار نے کیا بتایا؟ فرمایا؛
​۞ فوقاهُ اللهُ سيئاتِ ما مكروا ۔۔۔۔۔ ۞
نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے جو برے برے منصوبے بنا رکھے تھے، اللہ نے اس (مرد مومن) کو ان سب سے محفوظ رکھا-
یقینا ان چار قسم کے لوگوں پر تعجب ہے، وہ کہ تالے کی چابی جن کے پاس پڑی ہے، وہ مگر تالا کھلنے کے انتظار میں اذیتیں کا سامنا کررہے ہیں۔