Tuesday, 15 January 2019

خاوند کی رغبت بہت ہی قوی اور شدید ہو تو بیوی کیا کرے؟

خاوند کی رغبت بہت ہی قوی اور شدید ہو تو بیوی کیا کرے؟
سوال: ہماری شادی چھ ماہ قبل ہوئی ہے اور ہمیں ہم بستری کے بارہ میں ایک مشکل ہے جسے ہم ابھی تک منظم نہيں کرپائے، کیونکہ خاوند کی رغبت بہت ہی قوی اور شدید ہے، میں نے اس کی خواہش پوری کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن نہیں کرسکی اور اب میں بہت ہی تکلیف محسوس کرتی ہوں اور بدنی طور پر مجھ میں اس کی طاقت نہیں رہی۔
میرے خاوند نے اس سے بہت ہی برا تاثر لیا ہے اور گھر میں مجھ سے علیحدہ رہنے لگا ہے، مجھے یہ تو علم ہے کہ میں اس کی رغبت کو پوری کروں، لیکن ہمارے ایک دوسرے کے بارہ میں واجبات کیا ہيں؟
اگر طرفین کی رضامندی کے باوجود ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کے قریب رہنے کی طاقت نہ رکھے، تو کیا خاوند کے لئے جائز ہے کہ وہ اس طریقے سے مجھ سے علیحدہ ہو؟
اور کیا اسے یہ حق ہے کہ وہ میرے پاس صرف یہ تعلق قائم کرنے کے لئے ہی آئے باوجود اس کے ہم نے ابھی تک اکٹھے بات چیت بھی نہیں کی؟
ان حالات کے باوجود المحد للہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور بہت ہی خوش ہيں اور ہر ایک دوسرے کا احترام بھی کرتا ہے، لیکن ہم اپنی زندگی کی اس مشکل کا اسلامی حل چاہتے ہیں۔
جواب:
الحمدللہ
خاوند پر واجب اور ضروری ہے کہ وہ بیوی سے حسن معاشرت کرے، اور حسن معاشرت میں جماع بھی شامل ہے، جوکہ اس پر واجب ہے، جمہور علماء کرام نے ہم بستری کے لئے مدت مقرر کی ہے کہ زيادہ سے زيادہ چار مہینہ تک کے لیے جماع چھوڑا جاسکتا ہے، اور صحیح تو یہی ہے کہ وہ کوئی مدت محدد نہ کرے بلکہ بیوی کے لئے جتنا کافی ہو اس سے اتنی ہی ہم بستری کرنی چاہئے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:
مرد پر جب اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو تواپنی بیوی سے ہم بستری واجب ہے، امام مالک رحمہ اللہ تعالی کا بھی یہی قول ہے۔
دیکھیں المغنی لابن قدامہ (7 / 30) ۔
جصاص رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:
خاوند پر ضروری ہے کہ اپنی بیوی سے ہم بستری کرے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
کہ تم اسے معلق کرکے چھوڑ دو یعنی نہ تو اسے فار‏غ کرو کہ وہ کہیں اور شادی کرلے، کہ جب خاوند اسے ہم بستری کا حق نہیں پورا کرتا تو وہ ایسے ہی ہے کہ اس کا خاوند نہ ہو۔
دیکھیں احکام القرآن للجصاص (1 / 374)۔
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ ا للہ تعالی کہتے ہيں:
خاوند پر اپنی بیوی کی کفایت کے حساب ہم بستری کرنا واجب ہے، جب تک خاوند کا بدن لاغر نہ یا پھر وہ اسے اس کی معیشت سے روک دے، اور چار ماہ کی تحدید کئے بغیر۔ دیکھیں: الاختیارات الفقھیۃ ص (246) ۔
جب خاوند بیوی کو ہم بستری کے لئے بلائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس کی بات تسلیم کرے اگر وہ انکار کرے گی تو نافرمان ہوگی۔
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور بیوی آنے سے انکار کردے تو صبح ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں) صحیح بخاری حديث نمبر (3065) صحیح مسلم حدیث نمبر (1436) ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جب خاوند بیوی کوہم بستری کے لیے بلائے تواس پر واجب ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے کیونکہ یہ اس پر فرض اور واجب ہے ۔۔۔ اور جب بھی وہ ہم بستری کرنا قبول نہ کرے تو نافرمان شمار ہوگی ۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
اور وہ عورتیں جن کی نا فرمانی سے تم ڈرتے ہو انہيں وعظ ونصیحت کرو اور انہیں بستروں میں الگ کردو، اور انہیں مار کی سزا دو جو کہ شدید نہ ہو، اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو پھر ان پر کوئی راہ تلاش نہ کرتے پھرو ۔
دیکھیں الفتاوی الکبری (3 / 145 - 146)۔
خاوند کے لئے جائز نہیں کہ وہ بیوی کے ساتھ طاقت سے زيادہ ہم بستری کرے، اگر وہ بیماری کی وجہ سے ہم بستری کرنے سے معذور ہو یا پھر اس کی برادشت سے باہر ہو تو وہ ہم بستری کرنے سے انکار پر گنہگار نہیں ہوگی۔
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:
لونڈی اور آزاد عورت پر فرض ہے کہ جب اس کا مالک اور خاوند جب بھی اسے ہم بستری کی دعوت دے تو وہ اس کی بات قبول کرے اور انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے، لیکن جب وہ حائضہ یا پھر مریض ہوں اور ہم بستری ان کے لئے تکلیف دہ ہو، یا پھر فرضی روزے سے ہوں تو پھر انکار کرسکتی ہیں، اور اگر بغیر کسی عذر کے انکار کریں تووہ ملعون ہیں۔ محلی ابن حزم (10 / 40)۔
اور بھوٹی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے:
خاوند کو اپنی بیوی سے ہر وقت استمتاع کا حق ہے ۔۔۔ جب تک کہ اسے وہ فر‏ائض سے مشغول نہ کرے اور یا پھر اس کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔
تو اسی حالت میں خاوند کو اس سے استمتاع کا حق نہیں کیونکہ ایسا کرنا حسن معاشرت میں داخل نہیں، اور جب اسے فرائض سے مشغول نہ کرے اور نہ ہی اس کے لئے نقصان دہ ہو تو پھر خاوند کو حق استمتاع حاصل ہے۔
دیکھیں کشف القناع ( 5 / 189 ) ۔
ایسی بیوی جسے خاوند کی زيادہ ہم بستری نقصان اور تکلیف دہ ہوتی ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے خاوند سے مصالحت کرے اور اس کے ساتھ اپنی برداشت کےمطابق ہم بستری کی تعداد متعین کرلے، اور اگر وہ اس سے زيادہ کرے حتی کہ اسے نقصان اور تکلیف دے تو پھر اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا معاملہ عدالت میں لے جائے اور قاضی کو بیان کرے اور قاضی کوحق حاصل ہے کہ وہ اس کے لیے تعداد متعین کرے جو خاوند اور بیوی دونوں پر لازم ہو ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:
خاوند پر اپنی بیوی کی کفایت کے حساب ہم بستری کرنا واجب ہے، جب تک خاوند کا بدن لاغر نہ یا پھر وہ اسے اس کی معیشت سے روک دے، اور چار ماہ کی تحدید کیے بغیر ۔۔۔۔
اور اگر وہ آپس میں تنازع کریں توحاکم کو چاہئے کہ وہ خاوند پر نفقہ کی طرح ہم بستری اگر زيادہ کرتا ہے تو اس کی تعداد متعین کرکے اس پر لازم کرے۔
دیکھیں: الاختیارات الفقھیۃ ص (246)۔
اور اب جبکہ آپ کے ملک میں شرعی عدالت نہیں تو بیوی کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں اپنے خاوند کے ساتھ متفق ہوکر اسے حل کرلے، اور اسے صراحتا اپنے خاوند سے بات کرنی چاہئے، اور اس کے سامنے وہ احادیث اور آیات بیان کرے جس میں حسن معاشرت کا ذکر ہے اور حکم دیا گيا ہے کہ خاوند بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرے۔
اور بیوی کواپنے خاوند کے لئے یہ بھی بیان کرنا چاہئے کہ وہ اس سے انکار تو نہیں کرتی لیکن جو چيز اس کے نقصان دہ ہے اور جس کی وہ متحمل نہيں اور وہ نقصان اور تکلیف دیتی ہے وہ اس سے انکار کرتی ہے، بلکہ وہ خود تو اس پر حریص ہے کہ آپ کی اطاعت اور آپ کی خواہش و رغبت پوری کرے اور بات کو تسلیم کرے۔
ہم سوال کرنے والی بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے معاملہ میں صبرو تحمل سے کام لے، اور اس معاملہ کو حسب استطاعت برداشت کرے اور اسے یہ علم ہونا چاہئے کہ اسے اس پر اللہ تعالی کی جانب سے اجر وثواب بھی ملے گا۔
اور خاوند پر بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرے اور اس کا خوف اپنے ذہن میں رکھے، اور اس پر ایسا کام مسلط نہ کرے جو اس کی برداشت سے ہی باہر ہو، اور اسے اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے، اور حسن معاشرت اختیار کرنی چاہئے۔
اگر اس کی شہوت اتنی ہی زيادہ ہے کہ اسے ایک بیوی کافی نہیں تو پھر وہ اس کا حل کیوں نہیں تلاش کرتا، ہوسکتا ہے یہ مشکل خاوند اور بیوی کے مابین تعلقات میں خرابی اور ناچاقی کا باعث بن جائيں، یا پھر اس سے بھی خطرناک کام میں پڑجائے کہ اپنی شہوت کو حرام طریقے سے پوری کرنا شروع کردے۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لئے جو حل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے، کیونکہ اللہ تعالی نے مرد کے لئے مباح کیا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں چار بیویاں رکھ سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگر وہ ان میں عدل وانصاف اور برابری کرنے کی طاقت رکھتا ہو وگرنہ نہیں۔
اور اس مشکل کا حل یہ بھی ہے کہ:
وہ روزے کثرت سے رکھنے شروع کردے، اس لئے کہ روزے شہوت کو کم کردیتے ہیں۔
ایک حل یہ بھی ہے کہ: شہوت کم کرنے والی ادویات استعمال کرے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ وہ نقصان دہ نہ ہوں۔
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے۔
واللہ اعلم.

شرعی پردہ کا اہتمام

شرعی پردہ کا اہتمام

قرآن وحدیث کی رو سے مسلمان خواتین کے لیے شرعی پر دے کا اہتمام کرنا ایسے ہی لازمی ہے، جیسے کہ نماز، روزہ، زکوٰة اور حج جیسے یہ عبادات فرض عین ہیں، ایسے ہی شرعی پردہ بھی فرض عین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ایک مقام پر پردے کے حکم کو شریعت کے دوسرے احکامات پر مقدم ذکر فرمایا ہے۔

چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِیْنَ الزَّکَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہ﴾․(احزاب:33)
ترجمہ:” اے مومن عورتو! تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیا کراور الله تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہنا مانو۔“ ( سورہٴ احزاب، آیت:33)

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں خواتین کے لیے گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کو واجب قرار دیا گیا ہے مگر مواقع ضرورت اس سے مستثنیٰ ہیں۔ (معارف القرآن)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِنَّ﴾․(سورہٴ احزاب، آیت:59)
”اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے او راپنی صاحب زادیوں سے اورمسلمان عورتوں سے فرما دیجیے ( کہ جب مجبوری کی بنا پر گھروں سے باہر جانا پڑے) تو اپنے چہروں کے اوپر ( بھی) چادروں کا حصہ لٹکایا کریں۔“ 

اور سورہٴ احزاب ہی میں تیسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَاب﴾․
ترجمہ:”اور جب تم ان سے (امہات المؤمنین سے) کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر ( کھڑے ہو کر وہاں) سے مانگا کرو۔“ (سورہٴ احزاب)

یعنی بلا ضرورت تو پردے کے پاس جانا اور بات کرنا بھی نہیں چاہیے، لیکن بہ ضرورت کلام کرنے میں مضائقہ نہیں مگر ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہیے۔ (بیان القرآن)

نگاہ پست رکھنے کا حکم
ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ ، وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْْرِ أُوْلِیْ الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَاء وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِن زِیْنَتِہِنَّ وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیْعاً أَیُّہَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون﴾․(سورة النور:31-30)

”اے نبی! آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں( یعنی جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا جائز نہیں، اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کافی نفسہ دیکھنا جائز ہے، مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت کی نگاہ سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں، جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہیں) یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے، بے شک الله کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مسلمان خواتین سے کہہ دیجیے کہ (وہ بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں جس میں زنا اور سحاق سب داخل ہیں)۔“ (بیان القرآن)

عورت کو گھروں سے باہر نکلنے کا حق نہیں
جناب نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ”عورتوں کو اپنے گھر سے باہر نکلنے کا حق نہیں، مگر اس وقت ( جب کہ وہ کسی ضرورت شدیدہ پیش آنے کی وجہ سے نکلنے پر) مجبور ہو جائیں۔“ (طبرانی)

عورت چھپانے کی چیز ہے
قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: المرأة عورة، اذا خرجت استشرفھا الشیطان․ (رواہ الترمذی، مشکوٰة باب النظر الی المخطوبة) جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ” عورت چھپانے کی چیز ہے (یعنی عورت کے لیے پردہ کے ذریعے خود کو چھپانا ضروری ہے) کیوں کہ وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاک جھانک کرتا ہے۔“ (ترمذی، ص:140)

بدباطن لوگ جو گلی کوچوں میں بیٹھ کر عورتوں کو جھانکتے رہتے ہیں، یہ سب شیطان کے کارندے ہیں۔ شیطان کے ورغلانے سے یہ عورتوں کی تاک جھانک میں لگے رہتے ہیں، اس لیے عورتوں کی چاہیے کہ بلا ضرورت شدیدہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

ایک غیرت مند خاتون کا واقعہ
حضرت قیس بن شماس رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ : ”ام خلاد نامی ایک صحابیہ عورت اپنے بیٹے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے دربار نبوی صلی الله علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں۔ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے ہوئی تھیں۔ اس حالت کو دیکھ کر ایک صحابی رضی الله عنہ نے کہا اپنے ( شہید) بیٹے کی حالت معلوم کرنے آئی ہو اور چہرے پر نقاب؟ (مطلب یہ تھا کہ پریشانی کے عالم میں بھی پردے کا اس اقدر اہتمام!) ام خلاد رضی الله عنہا نے جواب دیا کہ جی ہاں ! بیٹے کی شہادت کی مصیبت میں مبتلا ہو گئی ہوں، لیکن اس کی وجہ سے شرم وحیا کو چھوڑ کر (دینی) معصیت زدہ نہیں بنوں گی اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے بیٹے کے بارے میں خوش خبری سنائی کہ تمہارے بیٹے کو دو اجر ملیں گے۔ وجہ پوچھنے پر ارشاد فرمایا، اس لیے کہ ان کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد)

مطلب یہ کہ کسی غیرت مند خاتون کا ضمیر اس بات کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا کہ حیا وشرم کی چادر کو اتار کر مردوں کے سامنے ننگی پھرتی رہے۔ چاہے موقع خوشی کا ہو یا غم کا حیا وشرم کابرقرار رکھنا ہی کمال ہے۔

حضرت حسن بصری رحمہ الله تعالی فرماتے ہیں کہ: ”کیا تم اپنی عورتوں (ماں، بہنوں اور بیٹیوں) کو چھوڑ دیتے ہو کہ وہ بازاروں میں گھومتی پھریں اور کفار اور فاسقوں سے رگڑ کر چلیں۔ خدا تباہ وبرباد کرے اس کو، جو غیرت نہ رکھتا ہو۔“ (احیاء العلوم، ج 2ص: 48)

حیاء انبیاء کی سنت ہے
جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ” پیغمبروں کی طرز زندگی میں چار چیزیں ( بہت اہم ہیں) حیا کرنا، خوش بو لگانا، مسواک کرنا، نکاح کرنا۔“ (ترمذی شریف)

غیر محرم مردوں کا بے محابا گھروں میں داخل ہونا بڑا گنا ہ ہے
عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: وایاکم والدخول علی النساء، فقال رجل یا رسول الله، أرأیت الحمو؟ قال: الحمو الموت․ ( متفق علیہ)

جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ” تم (غیر محرم) عورتوں کے پاس داخل ہونے سے اجتناب کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) ! اگر وہ مرد، شوہر کی طرف سے عورت کا رشتہ دار ہو؟ (یعنی تب بھی منع ہے؟) تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس سے (یعنی شوہر کے رشتہ دار دیور، جیٹھ وغیرہ) سے تو اس طرح ڈرتے رہنا چاہیے، جس طرح موت سے ڈرا جاتا ہے ۔“ (مشکوٰة ص: 267)

مطلب یہ ہے کہ سسرالی رشتہ داروں سے پردہ نہ کرنے میں دیگر غیر محرموں کی بہ نسبت زیادہ خطرہ ہے کہ کسی برائی میں مبتلا ہو جائے، اس لیے ان سے بچنے کا زیادہ اہتمام ہونا چاہیے۔

اجنبی مردو زن کی خلوت میں شیطان کی شرکت
عن عمر  عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: لا یخلون رجل بامرأة الا کان ثالثھما الشیطان․ (رواہ الترمذی، مشکوٰة، ج2،ص:269)

جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ” کوئی مرد جب کسی (غیر محرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں ان دونوں کے علاوہ تیسرا فرد شیطان ضرور ہوتا ہے۔“ (مشکوٰة، ص: 269)

پردہ کس عمر میں لازم ہے؟
کتنی عمر کے لڑکوں سے پردہ کیا جائے؟ اس کی حد کیا ہے؟ تو عرض یہ ہے کہ جب لڑکا دس سال کا ہو جائے او راس کے جسم کے ظاہری نشو ونمابالغ کی طرح معلوم ہوں تو دس سال سے ہی پردہ کیا جائے ،اگر ماحول او رحالات اور جسمانی نشونما سے یہ اندازہ ہو کہ یہ ابھی حد شہوت کو نہیں پہنچا تو بارہ سال تک رخصت ہوگی۔ اس کے بعد عورتوں کے لیے پردہ ضروری ہے۔ پندرہ سال پورے ہونیکے بعد کسی طرح کی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیوں کہ پندرہ سال کے بعد بالاتفاق اس پر بالغ ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ (احسن الفتاویٰ:8)

او رلڑکیوں کی عمر جب نو سال پوری ہو جائے تو اس وقت سے ان کو پردے کا حکم کیا جائے گا، یعنی نو سال عمر پوری ہونے کے بعد بے پردہ باہر نہ نکلیں، والدین سرپرست حضرات اس کا اہتمام کروائیں۔

لیکن افسوس صد افسوس! آج مسلمان خواتین نے اسلام کے اس اہم حکم پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ گھروں میں رہنا، چاردیواری میں بیٹھنے کو پسند کرنا تو دور کی بات ہے، ہر کام کے لیے خود گھر سے باہر جانے کو ضروری سمجھ لیا گیا ہے ۔ لباس خریدنا ہو یا او رکوئی سامان، میاں کو گھر بیٹھاکر خود بازار چلی جاتی ہیں، بلکہ اب تو تفریحی مقامات کا چکر لگانا بھی خواتین کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔ پھر مزید یہ ہے کہ باہر جاتے ہوئے برقعہ پہننا فیشن کے خلاف قرار دیا جارہا ہے اور اس کو معیوب سمجھا جارہا ہے، اس لیے برقعہ چھوڑ دیا اس پر مزید ستم ظرفی یہ ہے کہ لباس بھی نیم آستین اور تنگ اپنانے لگی ہیں۔ گو یا کہ قرآنی احکام کے سراسر خلاف نیم برہنہ مسلم خواتین، گھروں سے باہر گھومنے لگی ہیں۔ (اعاذنا الله منہ)

جہاں کہیں پردہ کا کچھ تصور ہے وہ بھی برائے نام ہے۔ (الا ماشاء الله) اور بہت سی خواتین اس دھوکے میں ہیں کہ ہم باپردہ ہیں۔ جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو برقعہ اوڑھ لیتی ہیں، لیکن گھر کے اندر ہر قسم کے مردوں سے اختلاط رکھتی ہیں ۔ حالاں کہ گھر کے اندر بھی شرعی پردے کا اہتمام کرنا خواتین پر فرض ہے، گھر کے اندر داخل ہونے والے مرد رشتہ دار دو قسم کے ہیں، محرم اور غیر محرم ، جو غیر محرم ہیں ان سے پردہ فرض ہے۔

وہ رشتہ دار جن سے پردہ فرض ہے
یعنی جس طرح اجنبی مردوں سے پردہ فرض ہے، اسی طرح بہت سے رشتہ داروں سے پردہ کرنا بھی فرض ہے، جن کی فہرست یہ ہے:
چچازاد، پھوپی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، دیور، جیٹھ، نندوئی، بہنوئی، پھوپھا، خالو، شوہر کا بھتیجا، شوہر کا بھانجا، شوہر کا چچا، شوہر کا ماموں، شوہر کا پھوپھا، شوہر کا خالو۔

بعض عورتوں کو اشکال ہوتا ہے کہ اتنے سارے رشتہ داروں سے پردہ ہے تو کون سے مرد رہ گئے؟ جن سے پردہ نہیں۔ اس طرح تو شریعت میں بہت تنگی ہے، حالاں کہ شریعت میں کوئی تنگی نہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ:﴿لا یکلف الله نفسا الا وسعھا﴾ (سورہ بقرہ) ”یعنی الله تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زائد احکام کا مکلف نہیں بناتے۔“

وہ رشتہ دار جن سے پردہ فرض نہیں ہے
شوہر، باپ، دادا، پڑدادا، بیٹا، پوتا، پڑپوتا، نواسہ، پڑ نواسہ، چچا ، (حقیقی، علاتی، اخیافی) بھائی (تینوں قسم کے) بھتیجے (تینوں قسم کے بھائیوں کے بلاواسطہ یا بالواسطہ) بھانجے (تینوں قسم کے بہنوئی کے بلا واسطہ یا بالواسطہ) ماموں (تینوں قسم کے)، نانا، پڑنانا، سسر، داماد، شوہر کے بیٹے، رضاعی باپ، رضاعی بیٹا، رضاعی بھائی، رضاعی چچا، رضاعی ماموں وغیرہ۔

غرض یہ کہ فروعات کو ملاکر تیس سے زائد قسم کے مردوں سے پردہ فرض نہیں ہے، لہٰذا یہ اشکال پیش کرنا کہ شریعت میں تنگی ہے بالکل فضول اور لایعنی بات ہے، ایک غیرت ایمان رکھنے والی خاتون کبھی بے پردگی بے حیائی کو پسند نہیں کرسکتی، وہ ہمیشہ اپنی عفت وناموس کی حفاظت کا خیال رکھتی ہے، جان تو دے سکتی ہے، لیکن پردے کے حکم کو نہیں چھوڑسکتی۔

بے پردہ خواتین کے لیے سخت وعید
قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: صفات من أھل النارلم أرھما، قوم معھم سیاط کأذناب البقر،یضربون بھا الناس، ونساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات، رؤوسھن کأسنمة البخت المائلة، لا یدخلن الجنة ولا یجدن ریحھا،وان ریحھا لتوجد من مسیرة کذا وکذا․(رواہ مسلم، مشکوٰة باب الترجل)

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں، ان کو میں نے نہیں دیکھا (یعنی میرے زمانے میں موجود نہیں، بعد میں پیدا ہوں گے) ایک تو وہ (ظالم) جن کے ہاتوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے، جن سے لوگوں کو (ظلماً) ماریں گے۔ دوسری وہ عورتیں ہوں گی جو ننگے لباس والی ہوں گی (یعنی باریک لباس میں ہوں گی، یا نیم برہنہ لباس میں، چال چلن کے اعتبار سے) مردوں کی طرف مائل ہونے والی او رمردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے سربختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے (یعنی ہندو عورتوں کی طرح سر کے اوپر جوڑا باندھیں گی)، نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی ان کو جنت کی خوش بوملے گی، حالاں کہ جنت کی خوش بو جنتیوں کو بہت دور کے فاصلے سے ملے گی۔ (مسلم)

خواتین کو شرعی پردے کا ماحول فراہم کرنا مردوں کی ذمے داری ہے
شرعی پردہ کا اہتمام کرنا تو خواتین کی ذمہ داری ہے، جیسا کہ ہر بالغ عورت پر پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں، بعینہ اسی طرح شرعی پردے کا اہتمام کرنا بھی فرض ہے۔ مردوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے گھر کی خواتین سے پردے کا اہتمام کروائیں۔ ان کے لیے ایسا ماحول فراہم کریں جس میں خواتین کے لیے پردہ کے شرعی حکم پر عمل کرنا آسان او رممکن ہو۔ اگر مرد اپنے گھر کی خواتین کے لیے شرعی پردے کے اہتمام کا ماحول فراہم نہ کرے، بلکہ ان کو بے پردگی پرابھارے یا ان کی بے پردگی پر روک ٹوک نہ کرے، کسی قسم کی مخالفت نہ کرے تو ایسے مردوں کو دیوث اور بے غیرت قرار دیا گیا ہے، ان کو جنت سے محرومی کی وعید سنائی گئی ہے۔

قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ثلثة قد حرم الله علیہم الجنة مدمن الخمر، والعاق، والدیوث الذی یقر فی أھلہ الخبث رواہ أحمد والنسائی (مشکوٰة، باب بیان الخمر ووعید شاربھا)

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں پر الله نے جنت کو حرام قرار دیا ہے ۔شراب کا عادی۔ والدین کی نافرمانی کرنے والا۔ وہ دیوث جو اپنے گھر والوں میں برائی کو بر قرار رکھتا ہے۔ (مشکوة) اس حدیث میں ”دیوث“ کے لیے جنت سے محرومی کی وعید ہے، دیوث کی تعریف بھی ساتھ فرمادی کہ گھر کی خواتین، ماں، بہن، بیٹی، بیوی وغیرہ کسی کو اجنبی مردوں کے ساتھ مشتبہ حالت میں دیکھے، پھر بھی اس کو غیرت نہ آئے او ران کو نہ روکے، بلکہ بے اعتنائی اور لا پرواہی کامعاملہ کرے۔ ایک مسلمان مرد کو اپنے گھر کی خواتین کے متعلق غیرت او رحمیت کا مظاہرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ان کو بے حیائی کے کاموں سے روکے اور بے پردگی کے جتنے مواقع ہیں ان میں خواتین کو جانے سے روکے، ان کو شرعی پردے کی تعلیم دے، پھر اس کی پابندی بھی کرو ائے۔ جو لوگ شرعی پردے کے اہتمام میں رکاوٹ بنیں، خواتین کو چاہیے کہ ان کی پروا نہ کریں، بلکہ الله تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں اور یہ شعر پڑھا کریں۔
        سارا جہاں ناراض ہو پروا نہ چاہیے
        مد نظر تو مرضی جانانہ چاہیے
        بس اس نظر سے دیکھ کر تو کر یہ فیصلہ
        کیا کیا تو کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے

رشہ داری ختم ہونے کا خیال
بعض خواتین کا کہنا ہے کہ اس طرح تو رشتہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ان غیر محرموں کے ساتھ آپ کی رشتہ داری پہلے ہی کہاں قائم تھی جو اب ختم ہو جائی گی…؟ ان مردوں کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً آپ کے لیے حلال ہے اور پردہ کے بعد بھی حلال رہے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بے پردگی کے ساتھ جو محبت ہوئی ہے وہ در حقیقت محبت نہیں، بلکہ شہوت پرستی ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق اور نظارہ بازی کے ذریعے نفسانی جذبات کو تسکین دی جاتی ہے، ورنہ رشتہ داری کی بنیاد پر جو حقیقی محبت ہوتی ہے وہ تو ہرحال میں قائم رہتی ہے ۔ خواتین شرعی پردے کی پابندی کرکے تجربہ کریں، آپ کے دل کے سکون میں اضافہ ہو گا، آپ کی قدر ومنزلت، عزت واحترام بڑھ جائے گا۔ ظاہری طور پر دنیا والے عزت نہ بھی کریں، الله تعالیٰ کی نظر میں تو عزت ہی عزت ہو گی ۔ ان شاء الله تعالی دنیا وآخرت کی زندگی سکون والی ہو گی۔

گھر کے کئی افراد کا ایک ساتھ رہنا
ایک اشکال یہ کیا جاتا ہے کہ اگر گھر کے کئی افراد ایک مکان میں رہنا چاہیں تو پردے کی وجہ سے تو ایک ساتھ رہنا ممکن ہی نہیں۔ یا تو پردہ ختم کرنا ہوگا یا یکجا رہائش ختم کرکے منتشر ہونا پڑے گا؟ یہ اشکال بھی شرعی احکام سے جہالت اور ناواقفیت پر مبنی ہے، ورنہ ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی شرعی پردے کی پابندی آسانی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔

گھر میں ساتھ رہنے والوں سے پردے کا طریقہ
جب مرد گھر میں آئے تو کھنکھارتے ہوئے آئے ۔ خواتین فوراً پردہ کر لیں اور مرد اپنے کمرے میں چلا جائے۔ اسی طرح استنجا وغیرہ کے لیے جانے کی ضرورت ہو تو یہی طریقہ اپنائے، نیز مرد یہ اہتمام کرے کہ بھاوج کے مخصوص کمرے میں ہر گز نہ جائے۔ اگر خواتین کو کچھ سودا سلف منگوانا ہو یا دیور یا جیٹھ سے کوئی ضروری بات کرنی ہو تو دیوار کے پیچھے سے ( آواز میں لچک پیدا کیے بغیر) کرے۔ اگر کوئی چیز دینی یا لینی پڑے تو ہتھیلی ظاہر کرنے کی اجازت ہے۔ ہاتھ باہر نکال کر دے اور لے سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ پورے جسم کو ظاہر کیا جائے۔ اسی طرح کھانا وغیرہ گھر کی عورتیں اور مرد الگ الگ جگہ بیٹھ کر کھائیں، اس فعل سے بہ آسانی پردے کے حکم پر عمل ہو سکتا ہے،بس شرط یہ ہے کہ مردو خواتین دونوں کے دل میں خوف خدا ہو اور دونوں شریعت کے اس حکم کو بجالانا چاہتے ہوں۔

اتنی مرتبہ تو دیکھ چکے
بعض خواتین کا کہنا ہے کہ وہ شخص چھوٹا تھا، اتنی مرتبہ دیکھ چکے یا تو وہ میرے بھائی کے برابر ہے یا میرے بیٹے کے برابر ہے وغیرہ۔ بات یہ ہے کہ پہلے جتنا عرصہ بھی بے پردگی میں گذرا ہو اس سے پردے کا حکم ساقط نہیں ہوتا، جیسے کسی نے بلوغت کے بعد دو چار سال نماز نہ پڑھی ہو تو کیا اس سے موت تک کے لیے نماز معاف ہوجائے گی، ہر گز نہیں، بلکہ جب الله تعالیٰ توفیق دے نماز شروع کردے اور فوت شدہ نمازوں کی قضا بھی کرے، اسی طرح پردے کے حکم میں بھی اگرچہ کچھ عرصہ اس پر عمل نہیں ہوا تو سابقہ بے پردگی سے توبہ کرے اور آئندہ کے لیے پابندی کرے۔ باقی بھائی یا بیٹا جیسا ہونا شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس سے پردہ کا حکم ساقط نہ ہوگا، کیوں کہ پھر تو کوئی بھی مرد پسند آجائے،اگر ذرا معمر ہو تو اس کو باپ جیسا اور اگر جوان ہو تو بھائی جیسا کہہ کر پردہ ختم کر دیا جائے، تب تو شریعت ایک مذاق بن جائے گی۔

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنے اور مسلمان خواتین کو شرعی پردے کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

جائے نماز پر ”کعبة اللہ“ اور ”مدینہ شریف“ کا عکس

جائے نماز پر ”کعبة اللہ“ اور ”مدینہ شریف“ کا عکس 
سوال: جائے نماز پر بہت سی کمپنیاں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کشی کرتی ہیں، اکثر نمازی مصلی کا غلط استعمال کرتے ہیں، وہ کعبہ اور مسجد نبوی کی جائے نماز پر بنی تصاویر پر چلتے ہیں
جواب: اگر کسی جائے نماز پر حرمین شریفین میں سے کسی کی تصویر اس طرح بنی ہوئی ہے کہ وہ پاؤں کے نیچے نہیں آتی، تو اس میں بھی اہانت کا پہلو نہیں ہے، البتہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسی جائے نمازوں سے اجتناب کریں، جن پر ”کعبة اللہ“ اور ”مدینہ شریف“ کا عکس ہو۔ نیز اگر کوئی جائے نمازوں میں ان تصویروں پر مقاماتِ مقدسہ کی اہانت کی نیت سے پاؤں رکھے تو یہ سخت گناہ ہے، بلکہ اس میں کفر کا اندیشہ ہے، او راگر یہ مقصود نہ ہو، تو چونکہ تصویر کا حکم اصل کا نہیں ہے، البتہ موضعِ سجود میں ”بیت اللہ“ کے سوا کسی اور چیز کی تصویر بالخصوص روضہٴ اقدس کی شبیہ میں چونکہ ایہام خلافِ مقصود کا ہوتا ہے، اس لیے اس سے احتراز مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (مستفاد فتاویٰ عثمانی)

نماز کے بعد جائے نماز کو فولڈ کرنے کی حیثیت



Sunday, 13 January 2019

خواتین کی آواز کا پردہ

خواتین کی آواز کا پردہ
سوال: پردہ کی شرعی حد کیا ہے؟ آواز اور نام کا بھی پردہ ہے؟ اگر ہاں! پھر قریبی رشتہ داروں سے کس طرح کیا جائے؟ مہربانی کرکے بتائیں۔
جواب:
صحیح قول کے مطابق عورت کی آواز حجاب میں داخل نہیں ہے، لیکن بلاضرورت اجنبیہ عورت کے کلام کو سننا اور اس سے بات کرنا ممنوع وناجائز ہے، اگر بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو پردے میں رہ کر، لب ولہجہ میں سختی ودرشتی کے ساتھ بات کرنا چاہئے، نیز عورتوں کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی آواز بلاضرورت کسی اجنبی مرد کو سنائیں اور پردے کے حکم میں قریبی غیر محرم رشتہ دار بھی داخل ہیں، بلکہ غیرمحرم قریبی رشتے دار مثلاً بھابی وغیرہ کے سلسلے میں حدیث میں صراحتاً پردے کا تاکیدی حکم وارد ہوا ہے کہ ان سے موت کی طرح بچو؛ لہٰذا اگر اللہ نے وسعت دے رکھی ہے تو اصل شریعت کا منشاء یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے اہل وعیال کے ساتھ الگ مکان میں رہے، لیکن اگر کسی وجہ سے ایک ہی مکان میں چند ایسے قریبی غیر محرم لوگ رہتے ہیں جن کا آپس میں شرعاً پردہ کرنا ضروری ہے، تو فقہاء نے اس وقت صرف اتنی گنجائش دی ہے کہ مثل اجنبیہ عورت کے ہر وقت گھر میں نقاب اوڑھ کر بیٹھنا تو لازم نہیں؛ البتہ خلوت وتنہائی، باہم بے تکلفی سے باتیں کرنے اور قصداً چہرہ کھول کر سامنے آنے سے احتیاط ضروری ہے، اگر سامنے آنے کی ضرورت پڑے تو کپڑے سے چہرہ ڈھانک لیاجائے ۔ عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: ایاکم والدخول علی النساء، فقال رجل من الأنصار یارسول الله أفرأیت الحموقال: الحمو الموت (البخاری: باب لایخلون رجل بامرأة الی ذومحرم،رقم:۵۲۳۲) وزادابن وہب فی روایة عن مسلم سمعتُ اللیثَ یقول: الحمرأخوالزوج وماأشبہ من أقارب الزوج ابن العم ونحوہ وقال الترمذی:یقال: وہو أخوالزوج ، کرہ لہ أن یخلوبہا قال: ومعنی الحدیث علی نحوماروی: لا یخلون رجل بامرأة فان ثالثہا الشیطان(الترمذی ، رقم: ۱۱۷۱) وفی مرقاةالمفاتیح:قولہ “ایاکم والدخول علی النساء” أی غیر المحرمات علی طریق التخلیة أوعلی وجہ التکشف، (المرقاة:کتاب النکاح، باب النظر الی المخطوبة وبیان العورات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے قریبی غیر محرم اعزہ سے پردے کے سلسلے میں بہت ہی محتاط الفاظ میں ایک جامع حکم بیان فرمایا تھا، جس کو یہاں نقل کرنامناسب ہے، "جو رشتہ دار محرم نہیں مثلاً: خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، بھائی یا بہنوئی یا دیور وغیرہ، جوان عورتوں کو ان کے روبرو آنا اور بے تکلف باتیں کرنا ہرگز نہیں چاہئے، اگر مکان کی تنگی یاہر وقت آمد ورفت کی وجہ سے گہرا پردہ نہ ہوسکے تو سرسے پاؤں تک کسی میلی چادر سے ڈھانک کر شرم ولحاظ سے بہ ضرورت روبرو آجائے اور کلائی، بازو، سر کے بال اور پنڈلی ان سب کاظاہر کرناحرام ہے، اسی طرح ان لوگوں کے روبرو عطر لگاکر عورت کا آنا جائز نہیں اور نہ بجتا ہوا زیور پہنے۔ (تعلیم الطالب: ص: ۸)۔
عن أبی ہریرة رضي الله عنه قال خرج رسول الله صلی الله علیہ وسلم ذات یوم أولیلة- فأتی رجلاً من الأنصار فاذاہو لیس فی بیتہ فلما رأتہ المرأة قالت: مرحبًا وأہلاً فقال لہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم: أین فلان؟ قالت: ذہب لیستعذب لنا من الماء۔ قال النووی: فیہ جواز سماع کلام الأجنبیة ومراجعتہا الکلام للحاجة۔ (النووی علی مسلم: کتاب الأشربة ، باب جوازاستتباعہ غیرہ الی دار من یثق برضاہ بذٰلک۔ (شرح النوی علی مسلم:۲۱۰/۱۳،ط: داراحیاء التراث العربی) وفی الدرالمختار: وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد وصوتہا علی الراجح وقال الشامی: قولہ: “علی الراجح” عبارة البحر عن الحلیة أنہ الأشبہ وفی النہر وہو الذی ینبغی علیہ اعتمادہ الی قولہ: فانا نجیز الکلامَ مع النساء للأجانب ومحاورتہن عند الحاجة الی ذٰلک، ولا نجیزلہُنَّ رفعَ أصواتہن ولا تمطیطہا ولا تلیینہا وتقطیعہا؛ لما فی ذٰلک من استمالة الرجال الیہن وتحریک الشہوات منہم، ومن ہٰذا لم یجز أن توٴذن المرأة۔۱ھ (الدر مع الرد:’۷۸-۷۹۔ط: زکریا، دیوبند)
------------------------
سوال: اگرخواتین اجتماعی دعا مانگیں اور آواز مردوں تک پہنچے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: عورت کی آواز کو بہت سے فقہاء کرام نے ستر جبکہ جمہور نے فتنہ  قرار دیا ہے لہٰذا عورتوں کے لئے بلاضرورت مردوں تک اپنی آواز پہنچانے کی اجازت نہیں ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اجتماعی دعا اگر عورتیں مانگیں تو اتنی کم آواز میں مانگیں کہ مردوں تک ان کی آواز نہ پہنچے۔
المبسوط للسرخسي – (1 / 133)
وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْأَذَانِ وَالْمَرْأَةُ مَمْنُوعَةٌ مِنْ ذَلِكَ لِخَوْفِ الْفِتْنَةِ، فَإِنْ صَلَّيْنَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ جَازَتْ صَلَاتُهُنَّ مَعَ الْإِسَاءَةِ لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ وَالتَّعَرُّضِ لِلْفِتْنَةِ.
(م م) غمز عيون البصائر – (3 / 383)
وصوتها عورة في قول في شرح المنية الأشبه أن صوتها ليس بعورة وإنما يؤدي إلى الفتنة وفي النوازل نغمة المرأة عورة وبنى عليه أن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى ولذا قال عليه الصلاة والسلام التسبيح للرجال والتصفيق للنساء فلا يجوز أن يسمعها الرجل كذا في الفتح

اسلامی عصری اسکولوں میں بعض طالبہ کا اناؤنسری کرنا؟

اسلامی عصری اسکولوں میں بعض طالبہ کا اناؤنسری کرنا؟
السلام علیکم
مفتی شکیل صاحب ایک مسئلہ ہے کہ ایک مسلم اسکول ہے وپاں بچے اور بچیاں دونوں کی پڑھائی ہوتی ہے اور دونوں کے اوقات بھی الگ الگ ہیں. اب مسئلہ یہ ہے کہ اسکول میں سال میں ایک مرتبہ دینی پروگرام ہوتآ ھے جس میں نظم اور تقریر اور اسلامی ڈرامہ اور بھی بہت کچھ پروگرام ہوتے ہیں. اس پروگرام میں بچے اور بچیاں اور اسکول کا اسٹاف جس میں 90% ٹیچرس عورتیں ہیں اور 10% فیصد مرد حضرات ہیں، بس مسئلہ اس بآت کا ہے  کہ ایک 14 سال کی لڑکی کو اس پروگرام میں اناؤنسر  کے طور پر رکھنا ہے جس میں وہ سب بچوں اور بچیوں کو پروگرام کے لئے بلائے تو اس کا ان بچوں کو بلانے کے لئے آواز دینا کیسا ہے؟ کیا اس کی آواز ستر میں داخل ہے؟ اسی بچی کو پروگرام میں اسپپچ کے لئے رکھنا جائز ھے؟ اور پروگرام کو سننے والے تھوڑی عورتیں اور تھوڑے مرد حضرات بھی ہوتے ہیں، اب کیا حکم ہے اس مسئلہ کا؟ پوری تفصیل کے ساتھ جواب مطلوب ہے؟
حافظ مسعود اعجازی، اورنگ آباد، مہاراشٹر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:
اسلام سراپا معرفت اور تعلیم وتدریس کا مذہب ہے، اس کا اولیں نزول ہی پڑھنے پڑھانے سے ہوا ہے، مرد وعورت دونوں پہ بقدر ضرورت دینی تعلیم کو وہ ضروری قرار دیتا ہے.
یہاں تعلیم نسواں کی بھی ہمت افزائی کی گئی ہے ، لیکن اس کے "حیاء باختہ" طریقوں اور "انسانیت سوز" و "آوارہ گرد" نصاب تعلیم اور مرد وزن کے بے مہابا اختلاط پہ قدغن لگائی گئی ہے، مخلوط نظام تعلیم والے اسکولوں اور اداروں نے نسل نو کی اخلاقی مٹی پلید کردی ہے
تعلیمی اداروں میں آزانہ اختلاط نے اخلاقی بگاڑ، جنسی انارکی، ہم جنس پرستی اباحیت پسندی اور ہوس پرستی کو فروغ دے کر ایسی نسل تیار کی ہے جو رنگ وخون کے اعتبار سے چاہے کچھ بھی ہو لیکن ذہن وفکر کے اعتبار اسلام بیزار اور عیسائیوں کے غلام ضرور ہونگے!
واقفان احوال پہ یہ بات یقیناً مخفی نہیں ہے کہ آج مسلمانوں میں جو متمول طبقہ ہے، باستثنائے معدودے چندے اکثریت اپنے بچے اور بچیوں کو مدارس میں نہیں پڑھاتی- إلا من رحم ربك ـ
ان کے بچے ماڈرن انگریزی میڈیم کانوینٹ میں جاتے ہیں پھر لبرل طبقہ یا  عیسائی اور یہودی ٹیچرس کے اثرات کی وجہ سے  پڑھنے والے بیشتر بچوں میں ایمانی پختگی میں کمی آجاتی ہے، ایمان واسلام سے دور اور کفر وشیطنت سے قریب ہوجاتے ہیں، شعائر وتعلیم اسلام کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں، ان کی فکری بنیادیں کھوکھلی کردی جاتی ہیں، یوں ہمارے مسلم بچے ہماری نظروں کے سامنے ہمارے صحن آگن میں فکری ہائی جیک ہوجارہے ہیں، “لارڈ میکالے” کی خفیہ مشن اگر اسی برق رفتاری سے جاری رہی تو بعید نہیں کہ سرمایہ داروں کی آئندہ نسل دین سے محروم یا بالکل کمزور یا ختم ہوجائے!
صورت حال کی حساسیت و نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ہندوستان کے متعدد مقامات پہ اسلام پسند علمی وتربیتی شخصیات نے ایسے اسکولز کے قیام کا منصوبہ بنایا جہاں مکمل اسلامی ماحول میں اعلی پیمانے کی معیاری عصری تعلیم  کے ساتھ تجوید، دینیات، اسلامی تاریخ، ودیگر دینی ضروری تعلیم دی جائے،
اس مقصد کے لئے متعدد بڑے شہروں میں ایسے اسکولز قائم کئے گئے ہیں جہاں بچوں اور بچیوں کے لئے الگ الگ اوقات میں دسویں یا بارہویں تک تعلیم ہوتی ہے، دینی تعلیم کے لئے علماء ومعلمات ہوتی ہیں، ایک جامع دینی نصاب مرتب کیا جاتا ہے جس کے مطابق تعلیم ہوتی ہےـ بعض  اسکولوں میں ذہین بچے میٹرک تک پہنچنے سے پہلے حافظ بھی ہوجاتے ہیں، معلمات اور خاتون ٹیچر نیز چھٹی کلاس سے اوپر کی بچیوں کے لئے چہرے کے پردے کے ساتھ اسلامی برقع لازمی ہوتا ہے.
ایسے مکاتب واسکولز کے سالانہ اجلاسات میں دعوتی نقطہ نظر سے کبھی پڑھے لکھے غیرمسلم طبقہ کی خواتین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے، تاکہ اس اسکولی نظام کی تشہیر ہو، اس پہ لوگوں کا اعتماد ووثوق بڑھے، لوگ اس سے قریب آئیں اور ارتداد کے دہانہ پہ پہنچے ہوئے مالدار طبقہ کے بچے یہاں داخل ہوں
اس دعوتی نقطہ نظر اور ناگزیر ضرورت و مصلحت کی وجہ سے اگر مکمل شرعی پردہ کے ساتھ بعض طالبہ اسٹیج پہ، غیر لذت بخش آواز  وانداز میں، امیدواروں کے نام پکاریں یا بعض نشستوں کی جزوی نظامت یا بیان کریں جبکہ سامعین اجلاس میں خواتین کی معتدبہ تعداد بھی ہو موجود ہو تو بر بنائے ضرورت مذکورہ اس کی گنجائش ہے.
اس نوع کے اسکولز کے فروغ و تعمیر میں ہم سب کو رفیق کار کی حیثیت سے اپنا اپنا دست تعاون بڑھانا چاہئے، اگر واقعی کہیں کوئی خامی کوتاہی ہوئی ہو تو نصح وخیر خواہی، و آداب اسلامی کی رعایت کے ساتھ اصلاح کی کوشش ہونی چاہئے
جہاں تک عورتوں کی آواز کے پردہ کی بات ہے تو صحیح اور راجح قول کے مطابق عورت کی آواز پردہ (ستر) میں داخل نہیں ہے۔ عوارض مثلا خوف فتنہ کی وجہ سے اس پہ روک لگائی گئی ہے۔ جہاں یہ علت نہ ہوگی، وہاں عورت کی آواز کا پردہ بھی نہ ہوگا۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آیت حجاب کے نزول کے بعد بھی پردہ سے امہات المومنین سے بوقت ضرورت باتیں کرتے۔ مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
کیا عورت کی آواز فی نفسہ ستر میں داخل ہے اور غیر محرم کو آواز سنانا جائز ہے؟ اس معاملے میں حضرات ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی کی کتب میں عورت کی آواز کو ستر میں داخل نہیں کیا گیا۔ حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں۔ ابن ہمام نے نوازل کی روایت کی بناء پر ستر میں داخل قرار دیا ہے۔ اسی لئے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ازواج مطہرات نزول حجاب کے بعد بھی پس پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں. اس مجموعہ سے راجح اور صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل میں عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے (جصاص) اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضروت عورتیں پس پردہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں۔
(معارف القرآن 407/6)
الموسوعةالفقہیہ میں ہے:
ذَهَبَ الْفُقَهَاءُ إِلَى أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ التَّكَلُّمُ مَعَ الشَّابَّةِ الأَْجْنَبِيَّةِ بِلاَ حَاجَةٍ لأَِنَّهُ مَظِنَّةُ الْفِتْنَةِ، وَقَالُوا إِنَّ الْمَرْأَةَ الأَْجْنَبِيَّةَ إِذَا سَلَّمَتْ عَلَى الرَّجُل إِنْ كَانَتْ عَجُوزًا رَدَّ الرَّجُل عَلَيْهَا لَفْظًا أَمَّا إِنْ كَانَتْ شَابَّةً يُخْشَى الاِفْتِتَانُ بِهَا أَوْ يُخْشَى افْتِتَانُهَا هِيَ بِمَنْ سَلَّمَ عَلَيْهَا فَالسَّلاَمُ عَلَيْهَا وَجَوَابُ السَّلاَمِ مِنْهَا حُكْمُهُ الْكَرَاهَةُ عِنْدَ الْمَالِكِيَّةِ وَالشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ، وَذَكَرَ الْحَنَفِيَّةُ أَنَّ الرَّجُل يَرُدُّ عَلَى سَلاَمِ الْمَرْأَةِ فِي نَفْسِهِ إِنْ سَلَّمَتْ عَلَيْهِ وَتَرُدُّ هِيَ فِي نَفْسِهَا إِنْ سَلَّمَ عَلَيْهَا، وَصَرَّحَ الشَّافِعِيَّةُ بِحُرْمَةِ رَدِّهَا عَلَيْهِ۔
(بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية 4 / 1577، وحاشية ابن عابدين 1 / 272، 5 / 233، والفواكه الدواني 2 / 224، وشرح الزرقاني 3 / 110، وروضة الطالبين 10 / 229، والمغني 6 / 558 - 560.)

مرشد تھانوی رحمة اللہ علیہ کے مختلف ملفوظات وفتاوی میں ہے:
عورت کی آواز کے عورت (ستر) ہونے میں اِختلاف ہے مگر صحیح یہ ہے کہ وہ عورت نہیں۔ (اِمدادُالفتاوی) لیکن عوارض کی وجہ سے بعض جائز اُمور کا ناجائز ہوجانا فقہ میں معروف و مشہور ہے اِس لئے فتنہ کی وجہ سے عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔
(اِمدا دُالفتاوی)
بعض فقہاء نے عورت کی آواز کو عورت (ستر) کہا ہے گو بدن مستور (پردہ) ہی میں ہو کیونکہ گفتگو اَور کلام سے بھی عشق ہوجاتا ہے اَور آواز سے بھی میلان ہوجاتا ہے۔ (ملفوظاتِ اَشرفیہ)
عورت کی آواز تو بے شک عورت (ستر) ہوتی ہے، اِس کو آہستہ بولنا چاہئے تاکہ کبھی کوئی آواز سن کر عاشق نہ ہوجائے۔ اِس کے زور سے بولنے میں فتنہ ہے اِس لئے (عورت کو) زور سے نہ بولنا چاہئے۔
(الافاضات الیومیہ)
اَز افادات: حکیم الامت حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ)
فتاوی شامی میں ہے:
ولا یکلم الأجنبیۃ إلا عجوزاً۔’’درمختار‘‘۔ ویجوز الکلام المباح مع امرأۃ أجنبیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفي الحدیث دلیل أنہ لا بأس بأن یتکلم مع النساء بما لا یحتاج إلیہ ولیس ھذا من الخوض فیما لایعنیہ، إنما ذلک في کلا م فیہ إثم، فالظاہر أنہ قول آخر أو محمول علی العجوز ۔
’رد المحتار علی الدر المختار‘
(۹/۵۳۰، الحظروالإباحۃ، فصل في النظر والمس)

مذکورہ بالا فقہی نصوص سے واضح ہے کہ بوقت ضرورت اجنبیہ عورت سے بات کی جاسکتی ہے۔ بشرطیکہ لذت بخش اور نغمگی آواز کے ذریعہ نہ ہو اور خوف فتنہ بھی نہ ہو۔ ۔۔۔۔۔ اللہ نے قرآن کریم میں امہات المومنین کو جو سلیقہ گفتگو سکھایا وہ اس جانب بھی مشیر ہے۔
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ۔۔۔۔(033:032)
فلا تخضعن بالقول کہ کسی اجنبی آدمی سے دب کر بات نہ کرو بلکہ کلام میں درشتگی اختیار کرو۔ کیونکہ نرم لہجے میں بات کرنے سے فیطمع الذی فی قلبہ مرض دل کا روگی آدمی لالچ کرے گا۔ دل کے روگ سے مراد نفاق، خواہشات نفسانی اور شہوانی میلان ہے۔ اس لئے حکم دیا کہ اگر کسی اجنبی آدمی سے بات کرنی پڑے تو روکھا پن ظاہر کرو، تاکہ کسی بد باطن آدمی کے دل میں کوئی خیال نہ آسکے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
سیّدپور /بیگوسرائے

آغاز سفر پہ ہی مسافت سفر کی نیت کرنا

آغاز سفر پہ ہی مسافت سفر کی نیت کرنا
السلام عليكم
ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ ایک شخص گھر سے نکلتا ہے باہر جانے کے لئے اس کو یہ نہیں معلوم کہ کتنا دور جانا ہے لیکن جب منزل پے پہنچا تو معلوم ہوا کہ تقریبا 100 کلومیٹر کا سفر کرچکا ہے اب تو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ شخص مسافر ہوا کہ نہیں؟
جن اوقات کی نماز میں قصر کرچکا ہے اب اس کا اعادہ کرے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق: 
آغاز سفر پہ ہی مسافت سفر کی نیت کرنا ضروری ہے
آغاز سفر میں مسافت سفر کی نیت کے قصد کے بغیر ساری دنیا کا بھی گشت کرلے
پ
ھر بھی وہ مسافر نہیں بن سکتا، دیگر ائمہ مجتہدین کے یہاں آغآز سفر میں نیت سفر ضروری نہیں، قطع مسافت کے بعد آغاز نماز میں بھی نیت سفر کرلینے سے قصر کی رخصت مل جائے گی
من خرج من موضع إقامتہ قاصدا مسیرۃ ثلاثۃ أیام و لیالیہا صلی الفرض الرباعي رکعتین، قولہ قاصدا: و من طاف الدنیا بلا قسد لم یقصر (درمختار) أشار بہ مع قولخ خرج إلی أنہ ل خرج ولم یقصد أوقصد و لم یخرج لا یکون مسافرا۔ (در مختار مع الشامي ۲؍۶۰۳- ۵۹۹ زکریا، البحر الرائق ۲؍۱۲۸ کوئٹہ، ہندیہ ۱؍۱۳۹)
ولا یصیر مسافراً بالنیۃ حتی یخرج، ویصیر مقیما بمجرد النیۃ، کذا في محیط السرخسي۔ (ہندیہ ۱؍۱۳۹، کذا في البحر الرائق ۲؍۲۲۷ رشیدیہ، والبدائع / باب صلاۃ المسافر ۱؍۴۷۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

جن اوقات کی نماز میں قصر کرچکا ہے اب اس کا اعادہ کرے.
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

<https://saagartimes.blogspot.com/2019/01/blog-post_13.html>

Thursday, 10 January 2019

کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز کا مدلل جواب

"کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز" کا مدلل جواب
تصاویر کے تعلق سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ایک پوسٹ "کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز" پیش کی گئی ہے۔ براہ کرم اس کا مدلل جواب عنایت فرمائیں:


"کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز
 عدنان خان کاکڑ 
بے شمار ٹی وی چینل آنے سے پہلے ٹی وی اور تصویر بالاتفاق حرام قرار دیے جاتے تھے۔ جب ویڈیو کے فوائد دکھائی دیے تو بعض گوشوں سے یہ رائے آنے لگی کہ تصویر تو حرام ہے لیکن ویڈیو جائز ہے۔ پھر جب موبائل کیمرے والے فون ہر ایک کے ہاتھ میں پہنچ گئے تو اب بہت بڑی تعداد میں یہ رائے دی جانے لگی کہ کاغذ پر چھپی ہوئی تصویر حرام ہے لیکن ڈیجیٹل تصویر جائز۔ گو کاغذ پر چھپی تصویر کی حرمت کے بارے میں بھی بعضے اختلاف کرتے ہیں کہ فوٹوگراف تو عکس ہے اس لئے جائز ہے، صرف پینسل یا برش وغیرہ سے کھینچا ہوا سکیچ حرام ہے۔

دارالعلوم دیوبند کا دار الافتا تو واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ ”جاندار کی تصویر کشی اور اس کی ویڈیوگرافی چاہے کسی بھی طریقے سے اور کتنے ہی ترقی یافتہ آلے سے ہو حرام ہے، اس کا پرنٹ بھی اسی حکم میں ہے“۔

جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن والوں کا فتوی ہے کہ ”کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا یا بنانا، چاہے اس کھینچنے یا بنانے کے لیے کوئی سا آلہ استعمال کیا جائے، ناجائز اور حرام ہے۔ اہل علم و اہل فتوی کی ایک بڑی تعداد کی تحقیق کے مطابق تصویر کے جواز وعدم جواز کے بارےمیں ڈیجیٹل اور غیر ڈیجیٹل کی تقسیم شرعی نقطہ نظر سے ناقابل اعتبار ہے۔ الیکٹرنک آلہ بند کرنے سے تصویر تحلیل ہوجاتی ہے مگر مواد موجود رہتا ہے اور کمانڈ دینے سے پھر آ موجود ہوتا ہے، پس جب اصل غلط ہے تو اس کا مواد محفوظ رکھنا بھی غلط ہے۔ “

چلیں ان کا موقف تو واضح ہو گیا کہ چاہے تصویر کاغذی ہو یا ڈیجیٹل، یکساں حرام ہے۔ لیکن ان کا معاملہ دلچسپ ہے جو کہتے ہیں کہ چھپی ہوئی تصویر حرام ہے لیکن ڈیجیٹل حلال۔ یعنی اگر آپ اپنے موبائل سے تصویر کھینچ لیں اور اس کو موبائل یا کمپیوٹر پر دیکھتے رہیں یا اس کا وال پیپر بنا لیں تو خیر ہے۔ لیکن اسے پرنٹ کر لیں تو وہ حرام ہو جاتی ہے۔

اس معاملے پر ایک موقف کچھ یوں ہے کہ یہ سکرین پر پائیدار نہیں ہوتی۔ جب تک کرنٹ برقرار ہے دکھائی دے گی۔ اور وہ بھی کیتھوڈ رے کی صورت میں 50 ہرٹز کی رفتار سے بار بار پینٹ کی جاتی ہے اور ایل ای ڈی کی سکرین 300 ہرٹز کی سپیڈ سے۔ اس لئے ڈیجیٹل تصویر پائیدار نقش نہیں ہوتی اور جائز ہے۔ ایک وضاحت یہ بھی کی جاتی ہے کہ اول ڈیجیٹل تصویر کا کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ یہ روشنیوں کے اجتماع سے آنکھوں کا دھوکہ ہوتی ہے۔ اگر کسی چیز کا وجود ہی نہ ہو تو اس پر کوئی تعریف بھی صادق نہیں آ سکتی۔

یہاں اب ناپائیداری والی دلیل ٹیکنالوجی سے ٹکرانے کو تیار ہے۔ اگر ہم کہیں کہ ڈیجیٹل تصویر مستقل نہیں ہوتی بلکہ بار بار ریفریش کر کے دکھائی دیتی ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا ریفریش ریٹ ہو گا جس کے بعد تصویر پائیدار قرار پائے گی؟ ایک سیکنڈ میں 50 ہرٹز کا ریفریش ریٹ تو چلو ناپائیدار قرار پا گیا کہ اس سے کم میں تصویر مٹنے لگتی ہے۔ اگر ایک سکرین ایسی ہو کہ جس پر ایک مرتبہ ریفریش کرنے کے ایک گھنٹے بعد وہ مٹنے لگے تو کیا وہ پائیدار کہلائے گی یا ناپائیدار؟ اسی طرح اگر ایک سکرین ایسی ہو جو ایک مرتبہ پینٹ ہونے کے ایک ہفتے یا مہینے بعد ختم ہو تو کیا وہ ناپائیدار ہو گی یا پائیدار؟ یا پھر ایک ایل سی ڈی پر ہم مستقل ایک ہی تصویر سال بھر دکھاتے رہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

ٹیکنالوجی اب ہمیں ڈیجیٹل کاغذ کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ ایک عام کاغذ جیسی موٹائی والی پلاسٹک کی شیٹ ہوتی ہے جس پر ویسے ہی سکرین ڈسپلے آتا ہے جیسے ہمارے کمپیوٹر یا ٹی وی یا موبائل کی سکرین پر آتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تقریباً پندرہ برس پرانی ہے اور اب اتنی سستی اور ایڈوانس ہو چکی ہے کہ کمرشل پیمانے پر اسے بنایا جا سکے۔ سنہ 2016 میں کمپنی ایل جی نے ایک 18 انچ کی سکرین والا ایسا ٹی وی کا نمونہ پیش کیا تھا جو اخبار کی طرح رول کیا جا سکتا تھا۔

سیمسنگ ایسا موبائل کا نمونہ بنا کر پیش کر چکا ہے ہے جو ماچس کی ایک ڈبیہ جتنا ہے۔ اس کے اندر کاغذ جتنی موٹائل والی سکرین رول کی ہوئی پڑی ہوتی ہے۔ اسے کھینچے اور پھیلا کر دیکھ لیں۔ ان سب کو تصویر برقرار رکھنے کے لئے مسلسل برقی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عام کاغذ ختم ہو جائیں گے۔ اگلے دس بیس برس بعد سب کے ہاتھوں میں ایک ایسی ہی ماچس کی ڈبیا ہو گی جس پر وہ کسی وقت بھی اپنی لاکھوں کتابوں کی لائبریری میں سے کوئی کتاب بھی کھول کر پڑھ سکیں گے، یا کوئی تصویر بھی دیکھ سکیں گے۔ یا پھر ایک ایسی کاپی سب کے ہاتھ میں ہو گی جس میں صرف ایک ورق ہو گا۔ ایک بٹن دبانے پر اس ایک ورق پر ہماری مطلوبہ کتاب کا صفحہ ویسے ہی نمودار ہو جائے گا جیسے طلسم ہوشربا میں کتاب سامری کے سادہ ورق پر ہوا کرتا تھا۔

لیکن ان سے سے زیادہ دلچسپ وہ ٹیکنالوجی ہے جسے ای۔ انک کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی سکرین کو ای بک ریڈرز میں کئی برس سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں سکرین کے نیچے مقناطیسی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ سکرین پر تصویر یا تحریر بنانے کے لئے ایک مخصوص چارج اس میں سے گزارا جاتا ہے۔ مقناطیسی اجزا مخصوص ترتیب میں اچھل کر سکرین پر چسپاں ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد تصویر کرنٹ کی ضرورت سے بے نیاز ہو کر برقرار رہتی ہے اور اسے ریفریش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب پیج بدلنے کا بٹن دبایا جاتا ہے، یا آپریٹنگ سافٹ وئیر مختلف تصویر پینٹ کرنا چاہتا ہو، تو کرنٹ کی ایک نئی لہر دوڑا کر تصویر بدل دی جاتی ہے۔ میرے ایک ای بک ریڈر پر ایسی ایک تصویر ایک سال بعد بھی موجود تھی حالانکہ بیٹری کب کی ختم ہو چکی تھی۔ اب یہ ای۔ انک والی سکرین پائیدار نقش کہلائے گی یا ناپائیدار؟ ممکن ہے کہ سال دو سال بعد اس کی تصویر ختم ہو جائے۔ ممکن ہے کہ سو برس بعد ہو۔

نہایت باریک ای-پیپر۔ اسے موڑیں فولڈ کریں یہ ایک صفحہ آپ کی لاکھوں کتابوں کی لائبریری میں سے کچھ بھی دکھا سکتا ہے۔

پھر ایک نئی ٹیکنالوجی اور بھی ہے۔ وہ ہے ہولوگرام کی۔ بغیر سکرین کے ہوا میں ہی تصویر بنا دی جاتی ہے۔ اب کیا وہ حلال قرار پائے گی یا حرام؟ اگر کاغذ پر بنی تصویر حرام ہے اور سکرین پر بنی جائز، تو پھر یہی معاملہ سمجھ آتا ہے کہ اعتراض تصویر پر نہیں ہے، اسے بنانے کی ٹیکنالوجی پر ہے۔ جب سکرین ہی کاغذ بن جائے گی تو پھر کیا حکم ہو گا؟

ہم جو بھی کہیں لیکن ڈیجیٹل تصویر سے مفر ممکن نہیں۔ بہت جلد ہماری ہر کتاب اسی سکرین پر ملے گی۔ ہماری ہر تصویر اسی پر آئے گی۔ ہم سفر کرنے اور ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے اس سکرین کے محتاج ہوں گے۔ ہمارے سکولوں میں اس کا استعمال ہو گا۔ ہم اسے حرام کریں گے، تو جدید علم اور ٹیکنالوجی کو خود پر حرام کر بیٹھیں گے۔ سنہ 2010 میں دنیا کے سب سے بڑے کتاب فروش امیزون نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے ہر سو کاغذی کتابوں کے مقابلے میں 105 ای۔ بکس بیچی ہیں۔

اب تصویر کو جائز قرار دینے کے لئے یا تو ویسے ہی ”مجبوری“ والی تاویلات پیش کی جائیں جیسی کرنسی نوٹ اور پاسپورٹ وغیرہ کے معاملے میں پیش کی جاتی ہیں، یا مان لیا جائے کہ تصویر کی حرمت کا مقصد صرف یہ تھا کہ پرانے زمانے میں اسے عبادت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ مقصد عبادت نہ ہو تو پھر اسے جائز مان لینا چاہیے۔ دوسری صورت میں مولوی حضرات کو اپنے سمارٹ فونز اور ٹی وی چینلز سے دستبردار ہونا پڑے گا جو ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہمیشہ خود کو حلال ہی قرار دلوایا ہے۔ خواہ زمین کے گول ہونے کا معاملہ ہو، پرنٹنگ پریس کا، انگریزی تعلیم کا، لاوڈ سپیکر کا، ٹی وی کا یا کمپیوٹر کا۔
ختم شد۔"
ایس اے ساگر

الجواب وباللہ التوفیق: 
یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ اس معاملے میں اپنی ذاتی تحقیق رکھنے والے یا دو طرفہ تحقیق کو سمجھ کر کسی ایک کو راج قرار دینے کے بعد اس پر عمل درآمد کر نے والے علماء کی تعداد تمامی علماء کے مقابلے آٹے میں بال برابر ہے 

بقیہ علماء میں تین طبقے ہو جاتے ہیں ایک وہ جو کہ اپنی علمی عقیدت کی بنیاد پر دونوں طرف کے اکابرین میں سے کسی ایک کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اور اسی راے پر عمل پیرا بھی ہیں لیکن یہ حضرات بھی بقیہ حضرات کے مقابلے آٹے میں بال برابر ہی ہیں 
دوسرے وہ حضرات ہیں جو اپنی علمی عقیدت دونوں سے رکھتے ہیں اور عمل زیادہ تر جواز والی شکل پر ہی کرتے ہیں انکی تعداد بہت زیادہ ہے 
تیسرے وہ حضرات ہے جو یقینا کنفیوژن کا شکار ہیں اور انکے ذہن میں بھی بہت سے سوالات موجے مارتے ہے لیکن اکثر عمل جائز والی شکل پر ہی کرتے ہیں.....اسکی علامت یہ ہے کہ انکے سامنے جب ایسے سوالات آتے ہیں اور اعتراضات آتے ہیں تو وہ یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا کہتے ہیں کہ یار بڑے حضرات جانے علمی تحقیق ہمیں تو گنجائش نظر آرہی ہے اس لئے عمل کرتے ہیں اگرچہ سمجھ میں نہیں آتا انکی تعداد بھی بہت زیادہ ہے 

البتہ صاحب مضمون کی چند باتیں قابل مؤاخذہ ہے 
اس نے لکھا ہے عدم جواز والوں کی دلیل کے اخیر میں 
جب اصل غلط تو اسکا مواد محفوظ رکھنا بھی غلط حالانکہ اصل غلط مان لینے کے بعد مواد رکھنے نہ رکھنے پر بات ہی بے جا ہے

اخیر میں اس نے لکھا ہے کہ ڈیجیٹل تصویر سے مفر نہیں اس لئے فتوے میں زبردستی مجبوری کی تاویلات نکالنی پڑیگی... یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ مفر نہیں کی بات فضول ہے اسکے بغیر چلیگا ہی نہیں ورنہ علم کے دروازے کو بند کرنا لازم ہوگا یہ ساری باتیں یا طنز کے تیر یا تو صاحب مضمون نے دکھی دل سے لکھ دی ہے یا پھر موجودہ کشمکش پر شدید نکتہ چینی کی ہے.... 

ویسے طالب علم کا ذاتی تجربہ و تجزیہ یہ ہے کہ عمومی جواز پر عمل کرنے والے حضرات کی اکثریت جواز والی گنجائش پر چل نکلی ہے اور اسکی وجہ سوائے آزادی نفس کے کچھ نہیں جو مزیدار چیزوں کی طرف جھکاؤ کو زیادہ پسند کرتا ہے..... اور سب سے بڑا اس آزادی کا نقصان یہ ہے کہ ۹۵%  طبقہ اس استعمال کی وجہ سے حرام چیزوں سے قطعا نہیں بچ پاتا بلکہ دھیرے دھیرے حرام چیزوں کا مزہ زبان کو چڑھنے لگا ہے اور کوئی مجبوری کا نام دیکر تو کوئی ضرورت کا نام دیکر تو کوئی تبلیغ کا دیکر تو کوئی حالات پر نظر کا نام دیکر کسی شکل میں سہی حرام چیزوں مثلا نامحرم کا دیکھنے دکھانے اور موسیقی کے سننے سنانے کا عادی ہونے لگا ہے اور اس گناہ کے گناہ نہ ہونے پر دلائل دینے تک سے باز نہیں آتا....... 

طالب علم کا دکھ بھرا سوال ہے اگرچہ بظاہر حکم نافذ کرنے کے بعد بھی جو وہ حضرات جو تحقیق نہیں رکھتے بس گنجائش سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں جواز کی راہ پر بہت آگے نکل چکے ہیں انکا اب یوٹرن لینا تقریبا ناممکن سا ہے 
سوال یہ ہے 
کیا اب بھی جواز کو قابل قبول مانا جانا چاہیے؟؟؟
واللہ اعلم 
طالب علم
https://saagartimes.blogspot.com/2019/01/blog-post_10.html
"کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز" کا مدلل جواب