Tuesday, 5 February 2019

تلبیہ کا آخری وقت کب تک ہے؟

تلبیہ کا آخری وقت کب تک ہے؟

عمرہ میں احرام باندھنے کے بعد سے تلبیہ شروع کردیا جاتا ہے لیکن تلبیہ کا آخری وقت کب تک ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:
احرام باندھنے اور نیت کرلینے کے بعد سے تلبیہ پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
حج میں تلبیہ جمرہ عقبہ کی رمی (دس ذی الحجہ) کرنے تک پڑھا جاتا ہے:
عن الفضل بن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لبی حتی رمیٰ جمرۃ العقبۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۲۵۲، صحیح البخاري ۱؍۲۲۸)
اور عمرہ میں تلبیہ طواف شروع کرنے تک پڑھا جاتا ہے
عمرہ میں جو زائر میقات سے احرام باندھا ہو وہ استیلام کے وقت تلبیہ پڑھنا بند کردے
معتمر کے لئے تلبیہ پڑھنے کے آخری وقت کے بارے میں ائمہ حدیث کے مختلف اقوال ہیں
فقہ حنفی کے لحاظ سے معتمر طواف شروع کرنے تک تلبیہ پڑھ سکتا ہے۔
امام زیلعی نصب الرایہ جلد 3صفحہ 114 حدیث نمبر 4515 کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:

((قطع التلبية في عمرة القضاء حين استلم الحجر الأسود،
قلت‏:‏ أخرجه الترمذي ‏[‏عند الترمذي في ‏"‏باب متى يقطع التلبية في العمرة‏"‏ ص 124، وعند أبي داود في ‏"‏باب متى يقطع المعتمر التلبية‏"‏ ص 252 - ج 1، وص 253 - ج 1، وعبد الملك ابن أبي سليمان اسمه ميسرة أبو محمد، أحد الأئمة، قال ابن مهدي‏:‏ كان شعبة يعجب من حفظه، وقال ابن عيينة عن الثوري‏:‏ حدثني الميزان عبد الملك ابن أبي سليمان، وقال ابن المبارك عبد الملك ميزان، كذا في ‏"‏تهذيب التهذيب‏"‏ ص 397 - ج 6‏]‏ عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس أن النبي عليه السلام كان يمسك عن التلبية في العمرة إذا استلم الحجر، انتهى‏.‏ وقال‏:‏ حديث صحيح، ورواه أبو داود، ولفظه‏:‏ أن النبي عليه السلام قال‏:‏ يلبي المعتمر حتى يستلم الحجر، انتهى‏.‏ قال أبو داود‏:‏ رواه عبد الملك بن أبي سليمان، وهمام عن عطاء عن ابن عباس موقوفًا، انتهى‏.‏ وفي إسناده محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وفيه مقال، ولم يصب المنذري في عزوه هذا الحديث للترمذي، فإن لفظ الترمذي من فعل النبي ـ صلى اللّه عليه وسلم ـ، ولفظ أبي داود من قوله، فهما حديثان، ولكنه قلد أصحاب ‏"‏الأطراف‏"‏ إذ جعلوها حديثًا واحدًا، وهذا مما لا ينكر عليهم، وقد بينا وجه ذلك في حديث‏:‏ ‏"‏ابدءُوا بما بدأ اللّه به‏"‏، وروى الواقدي في ‏"‏كتاب المغازي‏"‏ حدثنا أسامة بن زيد عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي عليه السلام لبى - يعني في عمرة القضية - حتى استلم الركن، انتهى‏.))
در مختار مع الشامی میں ہے:
وقطع التلبیۃ باولہا (درمختار) فی الحج الصحیح والفاسد مفرداً أو متمتعاً او قارناً ۔۔۔۔وقید بالمحرم بالحج لأن المعتمر یقطع التلبیۃ إذا استلم الحجر لأن الطواف رکن العمرۃ فیقطع التلبیۃ قبل الشروع فیہا۔ (شامي 532/3 زکریا)
عمدة القاري 21/10. معارف السنن 296/6
انوار مناسک 199. معلم الحجاج ؍106)
فتاوی ہندیہ  کے کتاب المناسک الباب الخامس فی کیفیۃ  افعال الحج جلد 1.صفحہ:248 کی عبارت:
"ويستحب أن يكون ملبّيا في دخوله حتى يأتي باب بني شيبة فيدخل   المسجد الحرام منه متواضعا خاشعا ملبيا ملاحظا جلالة البقعة  إلخ"
میں تلبیہ کے آخر وقت کا بیان نہیں ہے
بلکہ مسجد حرام میں باب بنی شبیہ سے داخلہ کے وقت بھی تلبیہ  پڑھنے کا ہی بیان  ہے، پتہ نہیں تعارض کیسے سمجھ لیا گیا! کوئی تعارض نہیں ہے، غور کرلیا جائے، مکمل عبارت میں نے نقل کردی ہے ۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی
<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_5.html>

Monday, 4 February 2019

توہین آمیز حرکتوں کا اشتراک

توہین آمیز حرکتوں کا اشتراک 

کھیلوں کا سامان بنانے والی اس کمپنی کے خلاف مسلمان احتجاج کررہے ہیں کہ نائیکی کے نئے جوتوں (ایئر میکس 270) پر بنائے گئے ڈیزائین عربی کے لفظ ’اللہ‘ سے مشابہت رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس بارے میں ایک آن لائن پٹیشن جو دو ہفتے قبل شروع کی گئی پر اب تک 17000 دستخط ہوچکے ہیں۔ اس پٹیشن میں کمپنی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یہ جوتے دنیا بھر میں واقع اپنے اسٹورز سے واپس منگوالے۔ اپیل میں بتایا گیا ہے کہ یہ اسلام کی بے عزتی ہے اس طرح کی غیر اخلاقی حرکت کرکے مسلمانوں کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار اسلام کو نیچا دکھانے کیلئے پیمپر، ٹیشوو پیپر اور اس طرح کی دیگر چیزوں کو متعارف کروایا گیا ہے۔
نائیکی نے اس بارے میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ لوگو ایئر میکس کے ٹریڈ مارک کی سٹائل میں نمائندگی کررہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کوئی معنی یا نمائندگی غیر ارادی ہے۔ نائیکی تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ہم اس نوعیت کے تحفظات کو بہت سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔‘
الجواب و باللہ التوفیق:
اسلام دشمن عناصر کے گھنائونے سازش کے تسلسل کا حصہ ہے کہ ذات باری، رسالت محمدیہ اور قرآن کریم کی توہین پہ مشتمل مختلف قسم کے خاکے شائع کرکے مسلمانوں کے مابین منتشر کردیتے ہیں 
جہاں ان کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنا ہوتا ہے 
وہیں لاشعوری طور پر وہ نقل در نقل کرواکے اس جرم کی اشاعت میں مسلمانوں کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں، ایسے توہین آمیز اور گستاخانہ حرکتوں کی تشہیر سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے، ہاں! جہاں سادہ لوح عوام کو اس کی خطرناکیوں سے  واقف کروانے کے لیے ویڈیوز یا تصاویر کا اشتراک ناگزیر ہو وہاں بقدر ضرورت اس کے اشتراک کی گنجائش ہے 
آج کل بڑے شاطرانہ انداز میں استعمالی چیزوں اور جوتے چپلوں میں کلمہ طیبہ آیات قرآنی یا اسمائے الہیہ پیوست کردیتے ہیں جو کفر بلکہ شدید قسم کا کفر ہے، ان اوچھے ہتھکنڈوں اور گھنائونے سازش سے اعدائے اسلام کا مقصد خدا اور رسول کو ایذاء پہنچانا ہوتا ہے 
إِنَّ ٱلَّذِینَ یُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـَٔاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابࣰا مُّهِینࣰا (الأحزاب ٥٧)
جس ویڈیو میں جوتا کے نچلے حصے میں لفظ جلالہ (اللہ) صاف طور پہ لکھا ہوا نظر آرہا ہے، وہ ملحدانہ ومشرکانہ حرکت اور شان باری تعالی میں شدید وصریح کفر ہے، ایسے جوتوں کی خرید وفروخت یا استعمال بھی تعاون علی الکفر اور ناجائز وحرام ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیہودہ اور گستاخانہ کلمات کہنے اور اسے پھیلانے اور مشترک کرنے والے دونوں گناہ میں برابر ہیں:
عن عليّ رضي الله عنه  قال: "القائل الفاحشة ، والذي يشيع بها : في الإثم سواء".
رواه البخاري في " الأدب المفرد " (324)

وعن شبيل بن عوفٍ قال : كان يقال: "مَن سمع بفاحشة فأفشاها : فهو فيها كالذي أبداها".
رواه البخاري في الأدب المفرد (325)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:
إذا وصف اﷲ بما لا یلیق بہ أو سخر باسم من أسماء اﷲ تعالیٰ … یکفر۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب أحکام المرتدین، الفصل الثاني، فیما یقال في ذات اﷲ سبحانہ وتعالیٰ وصفاتہ، مکتبہ زکریا دیوبند ۷/۲۸۵، رقم:۱۰۴۹۷)
مجمع الأنہر، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، مکتبہ زکریا دیوبند۵/۲۰۲، کوئٹہ ۵/۱۲۰)
کلمات طیبہ یا اسمائے الہیہ کی توہین پر مشتمل ہر قسم کی مصنوعات، ماکولات، مشروبات مصنوعات کا سماجی بائیکاٹ کرنا تقاضائے ایمانی ہے، ایسی مصنوعات کی خرید وفروخت بھی شرعا حرام اور باعث لعنت ہے 
ان گھٹیا حرکتوں کی نشان دہی جہاں تک زبانی طور پر ممکن ہو اسی سے کام چلانا چاہئے، 
بلاضرورت شدیدہ ایسے ویڈیوز کے اشتراکات سے بھی گریز کرنی چاہئے 
 واللہ اعلم بالصواب 
 شکیل منصور القاسمی
-----------------
<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_22.html>





کمیٹی ڈالنے کا حکم

کمیٹی ڈالنے کا حکم
....
سوال: معاشرے میں‌ اس وقت مختلف کیمیٹیاں ڈالنے کا رواج ہے اس کے بارے میں‌ ہماری شریعت کیا کہتی ہے
جواب: یاد رکھیں‌ کمیٹی ڈالنے کا رواج آج سے نہیں‌ بلکہ کافی پرانا ہے جس میں‌ لوگ مختلف رقوم جمع کرکے کسی ایک کو دیتے ہیں‌ اس کے بعد بھی کمیٹی چلتی رہتی ہے . ان مروجہ کمیٹٰوں‌ میں‌ صرف ایک قسم کی کمیٹی جائز ہے اس کے علاوہ باقی تمام کیمیٹاں شرعا جائز نہیں‌اور نہ ہی ان میں‌ حصہ لینا جائز ہے
عام طور پر لوگ اپنی کسی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کمیٹیاں ڈالتے ہیں جس میں ممبران کی مخصوص تعداد مقررہ رقم ہر ماہ جمع کرواتی ہے یوں ایک خطیر رقم اکٹھی ہوجاتی ہے جو قرعہ اندازی کرکے کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے تاہم قرعہ اندازی میں نام آنے والا ممبر بھی کمیٹی ختم ہونے تک اپنی ماہانہ کمیٹی بھرتا رہتا ہے۔ یہ درست ہے.
جو کیمیٹی جائز ہوتی ہے اس کی صورت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ایک گروپ مل کر ایک مخصوص رقم طے کرتے ہیں‌ اور اس کے افراد بھی متعین ہوتے ہیں‌ اور ان کی تعداد بھی مقرر ہوتی ہے. ان میں‌ سے ہر ایک مقررہ وقت پر اپنی رقم جمع کرات اہے جس کے بعد ساری جمع ہوئی رقم ایک شخص کو دی جاتی ہے. لیکن یہ رقم حاصل کرنے والا فارغ نہیں‌ہوتا بلکہ تب تک کمیٹی دیتا رہتا ہے جب تک تمام افراد کو رقم مل نہیں‌ جاتی . اس میں‌دی جانے والی رقم اور ملنے والی رقم سب برابر ہوتی ہے اور کسی کو کم یا زیادہ نہیں‌ ملتا.
......
لکی کمیٹی:
لیکن کئی کاروباری حضرات ایسی کمیٹیاں بھی ڈالتے ہیں جنہیں ’’لکی کمیٹی‘‘ کہا جاتا ہے، اس کمیٹی میں جس ممبر کی کمیٹی کھل جاتی ہے وہ پوری رقم تو لے جاتا ہے لیکن پھر کمیٹی کی ماہانہ رقم بھرنے کا پابند نہیں ہوتا اسے لکی کمیٹی کہا جاتا ہے اور یہ جوا کھیلنے کی مانند ہے۔
اس لئے لکی کمیٹی یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور کمیٹی ڈالنا اور اس پہ رقم حاصل کرنا جائز نہیں۔
.......
بولی کمیٹی:
اسی طرح ایک ’’بولی کمیٹی‘‘ ہوتی ہے جس میں قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام آتا ہے اسے کوئی دوسرا ممبر زیادہ رقم دے کر وہ کمیٹی لے لیتا ہے اور اس کمیٹی میں بھی جس جس کا نام قرعہ اندازی میں آتا جاتا ہے وہ کمیٹی سے باہر ہو جاتا ہے چنانچہ یہ کمیٹی بھی سراسر جوا اور سود ہے جو کسی طور جائز نہیں۔
......
سوال: آج کل بولی والی کمیٹی کا بڑا زور شور اور بڑے بڑے لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے کیا یہ سودی کاروبار کے زمرہ میں آتی ہے یا نہیں؟

الجواب و بالله التوفیق:
بولی والی کمیٹی سود ہے کیونکہ اس میں زیادہ پیسے کی کم پیسے کے ساتھ بیع پائی جاتی ہے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ نے فرمایا:
«لاَ تَبِيْعُوْا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ، وَلاَ تُشِفُّوْا بَعْضَهَا عَلٰی بَعْضٍ،وَلاَ تَبِيْعُوْا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ اِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوْا بَعْضَهَا عَلٰی بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيْعُوْا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ»
’’سونا سونے کے بدل نہ بیچو مگر برابر برابر اور زیادہ کم مت بیچو اور چاندی کو چاندی کے بدل نہ بیچو مگر برابر برابر اور ایک طرف زیادہ دوسری طرف کم نہ ہو اور نہ ایک طرف ادھار دوسری طرف نقد‘‘صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ نے فرمایا:
«اَلذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ الحديث وفی آخرہ: ’’فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبٰی الْآخِذُ وَالْمُعْطِیْ فِيْهِ سَوَاءٌ»
’’سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے الحدیث اور اس کے آخر میں ہے کہ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا پس وہ سود میں پڑ گیا لینے والا اور دینے والا اس میں برابر ہیں‘‘ نیز صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اَلذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ» الحديث
’’سونا سونے کے بدلے سود ہے مگر نقد ونقد اور چاندی چاندی کے بدلے سود ہے مگر نقد ونقد‘‘ اور معلوم ہی ہے کہ سود حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾-- بقرة275
’’اور حلال کیا اللہ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو‘‘
واللہ تعالی اعلم

<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_54.html>


علوم اسلامیہ میں فقہ کی اہمیت اور کتاب وسنت سے اس کا ربط

علوم اسلامیہ میں فقہ کی اہمیت اور کتاب وسنت سے اس کا ربط
حرف ِ آغاز
”فقہ“ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے، وہ قرآن کریم کا خلاصہ اور سنت رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح ہے، شریعت کے عمومی مزاج ومذاق کا ترجمان ہے اور اسلامی زندگی کے لیے چراغ راہ بھی، اس لیے علوم اسلامیہ میں اس کی جو اہمیت وضرورت ہے وہ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے اور یہی نہیں کہ اس کی ضرورت صرف اور صرف ماضی ہی سے وابستہ تھی؛ بلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت و اہمیت ماضی ہی کی طرح محسوس کی جاتی رہے گی اور مجتہدین کرام قرآن و حدیث میں غوطہ زنی کرکے فقہی اصول کے ذریعے امت کے پیش آمدہ مسائل حل کرتے رہیں گے۔
ذیل میں اسی پر روشنی ڈالی جائے گی اوراس پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ علوم اسلامیہ میں ”فقہ“ ہی ایسافن ہے جس کے اندر ایسی عالمگیریت وہمہ جہتی پائی جاتی ہے کہ ہرہر مسلمان کی زندگی بلکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس سے پوری طرح مربوط ہے، اور اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ونامکمل سمجھی جائے گی، رہ گئے وہ کورچشم جو اپنی مینڈکی فطرت کی بنا پر سرے سے فقہ کے منکر ہیں اور اسے کتاب وسنت سے علیحدہ شئی گمان کرتے ہیں تو اس سلسلے میں اتنا کافی ہے کہ چاند پر دھول ڈالنے والے کا چہرہ تو گرد آلود ہوسکتا ہے؛ لیکن قمر کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔
غرض یہ کہ ”فقہ“ قرآن وحدیث سے تیار شدہ وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے حیاتِ انسانی مکمل زاد راہ کے ساتھ اپنی منزل مقصود (آخرت) تک بآسانی پہنچ سکتی ہے۔
فقہ کس کا نام ہے
لغت میں لفظ فقہ کو کسی چیز کے جاننے اور سمجھنے کے معنی میں استعمال کیاجاتا تھا، بعد میں اس کا استعمال خاص علم دین کے فہم میں ہونے لگا(۱) قرآن پاک میں یہی مراد ہے(۲) اور حدیث میں بھی یہی معنی: من یرد اللّٰہ بہ خیرا یفقہ فی الدین(۳)۔ عہد صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین  و تابعین رحمہم اللہ میں فقہ کا لفظ ہر قسم کے دینی احکام کے فہم پر بولا جاتا تھا جس میں ایمان و عقائد، عبادات واخلاق، معاملات اور حدود و فرائض سب شامل تھے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منقول فقہ کی تعریف ان الفقہ ہو معرفة النفس مالہا وماعلیہا: ”جس سے انسان اپنے نفع و نقصان اور حقوق و فرائض کو جان لے وہ فقہ ہے“(۴) اپنے اندر مذکورہ تمام چیزوں کو سموئے ہوئے ہے، مگر بعد میں جب علیحدہ طور پر ہر فن کی تدوین وتقسیم ہوئی تو ”فقہ“ عبادات و معاملات اور معاشرت کے ظاہری احکام کے لیے خاص ہوگیا، چنانچہ فقہ کی تعریف علامہ ابن خلدون کے الفاظ میں اس طرح ہے کہ ”افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکامِ الٰہی کے جاننے کا نام ہے کہ وہ واجب ہیں یا محظور (ممنوع وحرام)، مستحب اور مباح ہیں یا مکروہ“(۵) اس کی مزید وضاحت اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ”فقہ ملکہٴ استنباط اور دینی بصیرت کا نام ہے جس کے ذریعے احکامِ شریعت، اسرار معرفت اور مسائل حکمت سے واقفیت ہوتی ہے نیز نئے فروعی مسائل کے استنباط اور ان کی باریکیوں کا علم ہوتا ہے“(۶)
فقہ کی بنیاد قرآن و حدیث ہی ہیں نہ کہ محض عقل و قیاس چنانچہ علامہ مناظر احسن گیلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ”فقہ کے یہ معنی نہیں کہ شریعت میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ عقل کرتی ہے؛ بلکہ وہی بات یعنی نتائج و احکام کا جو روغن وحی و نبوت کے ان معلومات میں چھپا ہوا تھا، عقل کی مشین ان ہی کو اپنی طاقت کی حد تک ان سے نچوڑنے کی کوشش کرتی ہے اسی کوشش کا نام اجتہاد ہے“(۷)
فقہ کا اصل سرچشمہ
یہ بات تو پوری طرح واضح ہے کہ احکام شرعیہ کے استنباط کا اصل منبع کتاب اللہ رہا، اس کے بعد سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر قیاس و اجماع، جس کی حقیقی تصویر اس واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے جب کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا قاضی بناکر رخصت کرتے وقت رسول الثقلین (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا کہ: کوئی مسئلہ درپیش ہوتو اپنے فیصلہ کی بنیاد کس کو قرار دوگے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا کتاب اللہ کو - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اگر اس میں کسی کا حل نہ مل سکے تو؟ فرمایا: احادیث سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا: کہ اگر وہاں بھی نہ ملے تو؟ اخیر میں کہا کہ اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا اورحق کی جستجو میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا(۸)، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے مزاجِ دین اور مزاجِ شریعت سے ہم آہنگی اور آگہی پر خوشی کا اظہار کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اس کا رسول راضی ہے۔
اسی طرح اسی کی ہم شکل تصویر آپ کے وصال کے بعد مسئلہ خلافت سے جھلکتی ہے جوکہ صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کے اجماع سے حل ہوا، اسی کے ساتھ اس حقیقت کی حیثیت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ درس نبوی کے سب سے پہلے مدرسہ کا پہلا معلم، جن کے اخلاق واعمال نبی کے بالکل مشابہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جن کو بنی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں درس و تعلیم کی اجازت دے دی تھی اور صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کو حکم فرمایا کہ قرآن وحدیث اورمسائل ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حاصل کرو(۹) یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا فقہی طریقہٴ کار بے حد مقبول ہوا بعد میں یہی ”فقہ حنفی“ کی شکل میں ابھر کر پورے عالم میں پھیل گیا۔ مذکورہ سطور سے پوری حقیقت سامنے آگئی کہ عمارتِ فقہ کی خشت اول کتاب اللہ ہے پھر حدیث، قیاس اور اجماع۔ اور فقہ کی بنیاد بھی عہد نبوی ہی میں رکھی جاچکی تھی۔
فقہ اسلام کا ارتقاء
فقہ وفتاویٰ کی بنیاد تو عہد رسالت ہی میں پڑ چکی تھی اوراسی زمانے میں خود ایوانِ رسالت سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ میں منصب افتا پر فائز ہونا بھی تاریخ بتاتی ہے۔(۱۰)
قرنِ اوّل میں جہاں امور دینیہ ودنیویہ کو حل کرنے کے لئے انفرادی و اجتماعی غور و فکر ہوتا تھا وہیں اجتماعی اور شورائی اجتہاد کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس مقصد کے لیے اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین اور فقہائے صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کی ایک مستقل مجلس قائم رکھی تھی۔ تابعین کے دور میں بھی مدینہ کے فقہائے سبعہ کی ایسی ہی مثالیں ملتی ہیں، یہ اس زمانہ کا سب سے بڑا اور لائق اعتبار دارالافتاء تھا،(۱۱) بعد میں کوفہ کی درس گاہِ فقہ میں اسی منہاج و طریق کو امام ابوحنیفہ نے مزید وسعت کے ساتھ اختیار کیا اور ایسی عظیم الشان اور وسیع و جامع فقہ کی بنیاد رکھی جو دیگر تمام مکاتب فقہ سے فائق و ممتاز ہے اسی کو آج فقہ حنفی سے جانا جاتا ہے۔
فقہ اسلامی یا قانونِ اسلامی کی تدوین اور طریقہٴ کار
تدوین و ترتیب کا باضابطہ سلسلہ اموی دور سے شروع ہوا، اور عہد عباسی کی ابتدا سے مختلف علوم و فنون کی طرف زیادہ توجہ ہوئی۔ چنانچہ اسی زمانے میں فقہ کو فن کی حیثیت حاصل ہوئی۔ علماء تاریخ فقہ کو چار دور میں تقسیم کرتے ہیں، پہلا دور اس کی نشوونما اور ابتداء کا ہے جس کا سلسلہ ۱۰ھء تک جاری رہا، دوسرا دور اس کی وسعت کا ہے جس کی مدت عہد صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین سے ۴۱ھء تک رہی ہے، تیسرا دور اس کی پختگی و کمال اور تدوین کا ہے جو صغارِ صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کے دورسے دوسری صدی ہجری کی ابتدا تک رہا ہے اور چوتھا دور چوتھی صدی ہجری کے تقریباً نصف تک رہا۔ یہ وہ دور ہے جس کے بعد فقہ اسلامی کا دورِ تقلید شروع ہوجاتا ہے،اور عہد نبوی سے بُعد کی بنا پر لوگوں میں اسلاف جیسی فقاہت اور فقہ اسلامی میں درک و کمال باقی نہیں رہتا ہے، اس لیے عام طور پر لوگ ائمہ اربعہ کے فقہی مکاتب کے پیرو ہوجاتے ہیں۔(۱۲)
یوں تو طلوع اسلام کے ساتھ ہی فقہ اسلامی کا آغاز ہوگیاتھا؛ لیکن چوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں لوگ انتہائی سادہ، اور ضروریات محدود تھیں، اسی وجہ سے فقہائے صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کی توجہات اس کی تدوین کی طرف مبذول نہ ہوسکیں، پھر حالات کے تقاضے کے پیش نظر فقہائے مدینہ نے تدوین فتاویٰ کی داغ بیل ڈالی اور فقہائے کوفہ نے فتاویٰ و قضایا کے جمع و ترتیب پر زور دیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ نے ایسے فتاویٰ اور ان کے مبادیات کو ایک مجموعہ کی شکل میں جمع کیا تھا، اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے پاس اور حماد رحمة اللہ علیہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا(۱۳)؛ لیکن فقہ اسلامی کی باضابطہ فقہی ابواب کے مطابق تدوین کا سہرا حضرت امام حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے سر ہے جس کی تائید امام موفق مکی کی تحریر سے یوں ہوتی ہے کہ ”امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ ہی نے سب سے پہلے علم شریعت (فقہ) کی تدوین کی ان سے پہلے یہ کام کسی اور نے نہیں کیا“۔(۱۴)
عہد رسالت کے بعد جب اسلام کی حدود بہت بڑھ گئیں، قیصر وکسریٰ کی حکومتیں اسلام کے زیر نگیں ہوگئیں، یورپ میں اندلس تک افریقہ میں مصر اور شمال افریقہ تک اور ایشیا میں ایشیائی ترکستان اور سندھ تک اسلام پھیل گیا تو اسلام کو نئے تمدن، نئی تہذیب اور نئی معاشرتوں سے سابقہ پڑا ”وسائل اور مسائل کی نئی نئی قسمیں پیدا ہوگئیں تو تابعین کے آخرعہد میں علمائے حق کی ایک جماعت نے (امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں) کتاب و سنت کو سامنے رکھ کر اس کے مقرر کردہ قوانین و حدود کے مطابق ایک ایسا ضابطہ حیات مرتب کرنا چاہاجو ہرحال میں مفید، ہر طرح مکمل اور ہر جگہ قابل عمل ہو۔“(۱۵)
چنانچہ امام صاحب نے اپنے ایک ہزار شاگردوں میں سے چالیس کو منتخب کرکے دنیا کی بے نظیر شورائی طرز کی ایک مجلس تدوین فقہ قائم کی۔(۱۶) جس کے اندر یوسف و زفر جیسا قیاس اور صاحب بصیرت، یحییٰ بن زائدہ، حفص بن غیاث، حبان جیسا ماہر حدیث، قاسم بن معن جیسا ماہرلغت، داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زہدوورع کا پیکر موجود تھا گویا یہ مجلس ہر علم وفن کے ماہروں سے مزین تھی اور اس پر مزید یہ کہ ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ جیسا جامع کمالات اس قافلے کا میر ․․․․ اللہ اکبر!
طریقہٴ تدوین پر روشنی ڈالتے ہوئے امام شعرانی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے مفتی ظفیرالدین صاحب لکھتے ہیں کہ ”جب کوئی واقعہ (مسئلہ) آپڑتا تو امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اپنے تمام اصحابِ علم وفن سے مشورہ، بحث و مباحثہ اور تبادلہٴ خیال کرتے، پہلے ان سے فرماتے کہ جو کچھ ان کے پاس حدیث اوراقوالِ صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کا ذخیرہ ہے وہ پیش کریں پھر خود اپنا حدیثی ذخیرہ سامنے رکھتے اور اس کے بعد ایک ماہ یا اس سے زیادہ اس مسئلہ پر بحث کرتے تاآنکہ آخری بات طے پاتی اورامام ابویوسف رحمة اللہ علیہ قلم بند کرتے اس طرح شورائی طریقے پر سارے اصول منضبط ہوئے ایسا نہیں ہوا کہ تنہا کبھی کوئی بات کہی ہو“۔(۱۷)
یہ اسی قانونِ اسلامی کی جامعیت و وسعت ہے کہ سائنس و ٹکنالوجی کا یہ عہد جدید اور مستقبل کا کوئی بھی ترقی یافتہ اور عصری تمدن اپنے مسائل و معاملات کے لیے اس کا دامن تنگ نہیں پاسکتا۔(۱۸) ڈاکٹر حمید اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ان مباحث میں تقریباً پانچ لاکھ مسئلے مرتب ہوئے جن میں اڑتیس ہزار کا تعلق عبادات سے اور باقی کا معاملات سے تھا“(۱۹) اوریہ بات خوب اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہئے کہ اس مجلس میں محض انھیں مسائل پر بحث و مباحثہ ہوا کرتے تھے جن سے قرآن و حدیث ساکت تھے نہ کہ ان مسائل پر جن کی قرآن و حدیث میں پوری وضاحت ہے۔
فقہ اسلامی کی اہمیت اوراس کا مقام
علوم اسلامیہ میں فقہ کو جو حیثیت اور مقام حاصل ہے وہ سورج سے بھی زیادہ روشن اور واضح ہے اس لیے کہ یہ علم زندگی سے مربوط اور انسانی شب و روز سے متعلق و ہم رشتہ ہے۔ بالفاظ دیگراسلام کا نظامِ قانون بنیادی طورپر جن پاکیزہ عناصر سے مرکب ہے وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو اسلامی شریعت کے مرکزی مصادر و مآخذ ہیں، فقہ و قانون کی دنیا میں اسلامی نظامِ قانون، عدل و انصاف، توازن و اعتدال، غلو وتشدد سے اجتناب اورجامعیت و افادیت جیسی امتیازی صفات کے لیے شہرت و مقام رکھتا ہے، اس کی وسعت و گہرائی، سہولت پسندی، حیرت انگیز بے ساختگی، لچک اورانسانی فطرت سے ہم آہنگی تمام حقیقت پسندوں کے یہاں مسلم ہے، جس کا دائرئہ عمل پیدائش سے میراث تک اور عقائد سے لے کر معاملات و سیاست وغیرہ امور تک محیط ہے؛ بلکہ علوم نبویہ کے امین اور کاتب رسول سیدنا حضرت علی کے بقول: ”فقہ - طریقہٴ زندگی کا رہنماہے“۔(۲۰) اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں اس فن پر زمانہ کی بہترین ذہانتیں صرف ہوتی رہیں۔ اسی کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتی ظفیرالدین صاحب اس طرح تحریر فرماتے ہیں کہ ”فقہ وفتاویٰ ایسا فن ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں اس لیے کہ انسانی زندگی میں جس قدر واسطہ اس فن اوراس کے اصول و جزئیات سے پڑتا ہے اور جس قدر آئے دن کے مسائل کا جواب یہاں ملتا ہے کہیں اور سے ممکن نہیں“۔(۲۱) اس کے غیرمعمولی حیثیت کا اندازہ مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی اس تحریر سے بھی ہوتا ہے کہ ”مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا اصل سبب ہے اس لچک کی عملی اور قانونی تشکیل جو اسلام میں ایک عالمگیر مذہب ہونے کی حیثیت سے موجود ہے“(۲۲) یہ معلوم ہوچکا کہ فقہ دراصل قرآن ہی کی عملی تفسیر ہے۔ جیسا کہ جناب سرور صاحب مولانا عبداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”مولانا کے نزدیک اسلامی فتوحات کے بعد قرآن کے قانون کو چلانے کے لیے فقہا کے مختلف مذاہب اسی مقصد کو پوراکرنے کے لیے معرضِ وجود میں آ ئے“۔(۲۳)
فقہ کی آفاقیت اور فقہاء کی عبقریت نیز خلوص و للہیت کے سوا اسے کیا کہا جاسکتا ہے کہ امت محمدی کے اساطین،متبحرین اور علم کے پہاڑوں نے نہ صرف یہ کہ اس فن کی تائید کی بلکہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، اوراسے اپنی پلکوں پہ سجانے میں سعادت مندی سمجھی۔ چنانچہ فقہ کی عظمت کو چار چاند لگاتے ہوئے علامہ انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ اس طرح گویا ہیں کہ ”ہر علم و فن میں اپنی مخصوص رائے رکھتا ہوں، کسی کا مقلد نہیں باستثنائے فقہ کہ اس میں میری کوئی رائے نہیں،ابو حنیفہ کی تقلید کرتاہوں“(۲۴) اس پتھر کی لکیر سے جہاں علم فقہ کی کاملیت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے وہیں فقہ حنفی کے ذریعے کتاب و سنت کی حفاظت و پاسداری میں منشائے خداوندی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
یوں تو فقہ کی اہمیت و افادیت انسانی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے عیاں ہے، اور اس کا تفوق نہ صرف یہ کہ دیگر علوم اسلامیہ ہی پر ہے؛ بلکہ اس کا مقام و مرتبہ عبادت سے بھی بڑھ کر ہے جس کی حسین منظر کشی یوں ہوتی ہے کہ ”حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک فقیہہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے“ (مشکوٰة) مذکورہ بالاسطور سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی کہ فقہ کی وہی اہمیت ہے جو کتاب وسنت کی، اس لیے کہ شربت بھی چینی اورپانی ہی کا نام ہے، اگر کتاب و سنت گلشن وگل ہیں تو فقہ انھیں کی عمدہ اور من موہک خوشبو۔
ایک ضروری وضاحت
یوں تو بہت سے فقہی مکاتب وجود میں آئے؛ لیکن مستقل حیثیت چار ہی کو حاصل رہی اور آج بھی دنیا کے تمام مقلدین انھیں چار میں منحصر ہیں، ان میں بھی ہرطرح سے اولیت کا درجہ فقہ حنفی کو ہی حاصل رہا کیوں کہ دیگر ائمہ مجتہدین اور ان کے اجتہادات کو بھی امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے اجتہاد ہی کا ایک حصہ کہا جاسکتا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ آپ کے اندر کئی ایسی خصوصیات ہیں جو آپ کو دوسرے ائمہ سے ممتاز کرتی ہیں ان میں سے اہم شرفِ تابعیت اور آپ کی حیرت انگیز ذہانت ہے، یہی وہ اسباب ہیں کہ جہاں دنیا کے ایک بڑے طبقے نے آپ کی پیروی کی وہیں چند لوگوں کی تعداد ایسی بھی رہی جس نے آپ کو ہدف ملامت بنایا اورطرح طرح سے آپ کے خلاف زہرافشانی کی گئی، اور آج بھی ایسے سیاہ بخت اور جاہل لوگ موجود ہیں جن کے نزدیک سرے سے فقہ ہی باطل اور بے بنیاد ہے اور خاص طور پر فقہ حنفی تو ان کی آنکھ کا کانٹا ہے۔ اس لیے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی کہ تحریر میں بار بار فقہ حنفی کا ذکر بھی اسی کا شاخسانہ ہے، اور آگے فقہ حنفی کے منکرین وحاسدین پر بھی اختصاراً روشنی ڈالی جائے گی۔
فقہ اوراس کے منکرین
عالم اسلام کی اکثرت فقہ کی پیروکار ہے، اور ائمہ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کی تقلید کرنے والی ہے؛ لیکن چندکورچشم ایسے بھی ہیں کہ جن کے یہاں نہ صرف یہ کہ فقہ قابل اعتبار ہی نہیں بلکہ سرے سے اس کے منکر ہیں اور اس بات کی رٹ لگاتے نہیں تھکتے کہ ”فقہ“ محض پراگندہ خیالات اور بیجا قیاس کا مجموعہ ہے، جس کا کتاب و سنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسی فرقے کو ”غیرمقلد“ سے جانا جاتاہے، یہ فرقہ حنفیوں کو کبھی مشرک بتاتا ہے تو کبھی احبار و رہبان کا پجاری گردانتا ہے۔ اور ان کی عقل نارسا کی کرشمہ سازی یہیں تک نہیں رہ گئی؛ بلکہ ان کے جنون کی ہانڈی میں اس قدر جوش آیا کہ اس سے ایسے ایمان سوز کلمات بھی ابلے کہ ”فقہ اسلامی پر پیشاب کرنا پیشاب کی ناپاکی کو بڑھا دیتا ہے“ (العیاذ باللہ) بالکل بجا ہے کہ دیوانگی میں خوشبو و بدبو کی تمیز بھی ختم ہوجاتی ہے۔
اس گروہ کا احناف پر الزام یہ ہے کہ حنفی لوگ قرآن وحدیث پر رائے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ محض اہل رائے ہیں، اور ہم اہل حدیث اور عامل بالحدیث ہیں نیز فقیہہ و محدث کے بارے میں یہ فرقہ عدم وجود کا نظریہ رکھتا ہے حالانکہ ان دونوں کی مثال ”ایک جان دو قالب“ کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حدیث اگر عمارت کی بنیاد ہے تو فقہ اس کا اوپری ڈھانچہ، جس طرح سے ظاہری عمارت کے لیے بنیاد ناگزیر ہے اسی طرح اس بنیاد سے فائدہ بھی اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ اس کے اوپر عمارت ہو۔
حدیث کا علم اوراس سے شغف جتنا ایک محدث کو ہوتا ہے اتنا ہی ایک فقیہہ کو بھی، اگر محدثین کا الفاظِ احادیث پر زیادہ زور رہتا ہے تو فقہاء کے یہاں ان کے معانی پیش نظر رہتے ہیں۔ چنانچہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”فقہ سہل الحصول کے ساتھ ساتھ حدیث کا ہی ثمرہ ہے اور آخرت میں فقیہ کا ثواب محدث کے ثواب سے کم نہیں ہے“(۲۵) اوریہی نہیں کہ حدیث و فقہ میں انتہائی گہرا ربط ہے بلکہ امام اعمش رحمة اللہ علیہ تو یہاں تک کہہ گئے کہ ”اے فقیہو! آپ لوگ طبیب ہیں، اور ہم دوافروش ہیں“(۲۶)
فقہاء مشکل احادیث کو اپنی قیاسات و اجتہادات سے حل کرنے کی بنا پر اہل الرائے سے جانے گئے نہ کہ اس بنا پر جو غیرمقلدین کا نظریہ ہے۔ چنانچہ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ ”محدثین اصحاب قیاس کو اصحاب الرائے کہتے ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکل احادیث کو اپنی رائے اور سمجھ سے حل کرتے ہیں“۔(۲۷)
اس فرقے کی فقہ حنفی سے بغض و عداوت اور کجروی کی تصویر اسی کے آئینے میں اس طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ ”کتب فقہ مروجہ شریعت اسلام کے بالکل منافی ہیں، کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے ان پر عمل کرنا محض گمراہی اور حرام ہے بھلا اکلِ حلال ہوتے ہوئے خنزیر کھانا کب رواہے“(۲۸)
یہ گروہ جب حنفیوں کے داؤ میں پھنس جاتا ہے تو احادیث کے ضعف و غرابت کا مالا جپنے لگتا ہے حالاں کہ خوب اچھی طرح جاننا چاہیے کہ حدیث کا یہ معیار انقلابِ زمانہ کے پیش نظر امام صاحب کے زمانے کے بعد ہوا۔ ان تمام باتوں سے بخوبی اندازہ لگ جاتا ہے کہ ان کے تمام دعاوی بے دلیل اور سراسر باطل ہیں،ان کی پالیسی دورخی ہے، زبانی طور پر تو یہ گروہ اس کا دعویدار ہے کہ فقہ سے اسے کوئی سروکار نہیں، اس لیے کہ یہ قرآن وحدیث کے علاوہ ایک تیسری چیز ہے؛ لیکن عملی طورپر اس میں کتنی صداقت ہے وہ پوری طرح واضح ہے کیوں کہ نہ تو وہ تقلید سے جدا ہے اور نہ ہی فقہ سے اس کا کوئی سانس خالی اس فرقے کی گرگٹی چال کا کچھ اندازہ اس کے نام سے بھی ہوتا ہے کہ کبھی وہ محمدی بنتا ہے تو کبھی سلفی اورکبھی اہل حدیث، یہ لوگ جزوی مسائل کو بھی ظاہراً قرآن سے ثابت کرنے کے دعویدار ہیں؛ لیکن جب ان سے یہ کہا جائے کہ ہوائی جہاز و ٹرین میں نماز کا کیا حکم ہے؟ ٹیلی فون اورانٹرنیٹ پر نکاح ہوجائے گا کہ نہیں؟ وغیرہ وغیرہ ․․․ اور ان کا جواب یاتو قرآن سے یا صحیح وصریح احادیث سے دیں تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ انکا بھانڈا تو یہاں آکر پوری طرح پھوٹ جاتا ہے جب کہ ایک طرف تو وہ احناف سے ہر مسئلہ میں بخاری کا حوالہ چاہتے ہیں گویا بخاری کو معتبر مانتے ہیں،اور امام بخاری رحمة اللہ علیہ خود مقلد ہیں۔ اور آئینہ کا دوسرا رخ اس طرح ہے بقول انھیں کے ایک دانشور کہ: ”ہر مشرک پہلے مقلد ہوتا ہے پھر مشرک“ (۲۹) اب خود ادنیٰ عقل و خرد کا حامل شخص بھی اندازہ لگاسکتا ہے کہ آیا غیرمقلد کا دامن شرک سے محفوظ رہا یا آلودہ؟!
حاصل یہ ہے کہ وہ فقہ کی حقانیت کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں؛ لیکن کچھ تو بغض و عناد اور کچھ اپنے آقا انگریز کی ناراضگی کا خوف۔ دونوں کی آمیزش سے پیدا شدہ تعفن نے ان کی عقل کو ماؤف، سماعت پر دبیز پردہ اور زبان کو اعترافِ حق سے گونگ کردیا ہے۔ اللہ انھیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں بھی حق پر جمائے رکھے آمین۔
فقہ: ضرورت اور تقاضے
یہاں آکر ذہن میں ایک خلش پیدا ہوسکتی ہے کہ آخر قرآن وحدیث کے رہتے ہوئے فقہ کی کیاضرورت تھی؟ تو اس سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب و سنت کے نصوص میں احکام کا دائرہ محدود و متناہی ہے، اس کے برخلاف حوادثِ زمانہ غیر محدود اور لامتناہی ہیں، آئے دن نئے نئے مسائل اورمشکلات جنم لیتے رہتے ہیں، اب اگر قرآن و حدیث کے نصوص میں غور و فکر کرکے ان مسائل کا حل تلاش نہ کیاجائے تو یہ شریعت محمدی بالکل جامد و معطل ہوکر رہ جائے گی، اس میں زمانے کے بدلتے ہوئے حالات و تغیرات کو اپنے اندر سمونے کی گنجائش نہیں رہے گی؛ حالاں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی یہ شریعت کامل و مکمل ہے اور قیامت تک کی انسانیت کے لیے آخری شریعت ہے۔ انھیں باتوں کے پیش نظر خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے ایک چراغِ راہ کی ضرورت پڑی کہ جس کی روشنی میں انسان بآسانی منزل مقصود تک پہنچ سکے، اسی مشعل راہ کو ”فقہ“ کہا جاتا ہے۔ اللہ ان ائمہ مجتہدین کا بھلا کرے جنھوں نے ہمیں اپنی منزل کا نشان بتایا، اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم ان کی دی ہوئی روشنیوں کے ذریعے ساحل مراد تک رسائی حاصل کریں، خاص طورپر دور حاضر میں جب کہ ہر طرف جدیدٹکنالوجی کی صدائیں گونج رہی ہیں اور لوگوں کیلئے راہ راست سے پھسلنے کے بے شمار اسباب مہیا ہیں، اس فن کے تئیں دوہری ذمہ داری آجاتی ہے۔
چنانچہ مفتی شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”فقہ اسلامی میں ہمارے اس زمانے کی بیشتر ضروریات کا حل موجود ہے؛ لیکن جدید تمدن اور صنعتی انقلاب نے اس زمانے میں نت نئے مسائل پیدا کردئیے ہیں: معاملات، معاشیات اور اقتصادیات کے سلسلے میں سینکڑوں ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جو حل طلب ہیں اور علمائے امت کو دعوتِ فکر دے رہے ہیں کہ وہ فقہ اسلامی کی روشنی میں ان کا حل پیش کردیں۔(۳۰)
خلاصہٴ تحریر
مذکورہ بالا تمام حقائق سے علوم اسلامیہ میں فقہ کا کتاب و سنت سے ربط و تعلق، فقہاء کا کمالِ علم وعمل اور ان کی بے پناہ ذہانت و ذکاوت، نیز اس فن کی تدوین میں غایت درجہ کا احتیاط، اور فقہ کے منکرین و حاسدین کا اس پر ہزار کیچڑ اچھالنے کے باوجود سورج کی طرح اس کی روشنی کا دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچنا؛ بلکہ انسانی زندگی میں موجوں کی روانی سے بھی بڑھ کر اس کا تسلسل۔ وہ اسباب و علل ہیں جن سے اس علم کی قدر و منزلت ہمارے سامنے پوری طرح واشگاف ہوجاتی ہے، اور تاریخ فقہ اسلامی کے ہر ہر سطر سے اس کی غیرمعمولی ضرورت واہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ اللہ قرآن و حدیث پر ہمیں پوری طرح کاربند بنائے، اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔
از: مولوی فاروق اعظم متعلّم دارالعلوم دیوبند

$ $ $

حواشی

(۱)         لسان العرب ۵/۲۴۰، بحوالہ فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے والقاموس ۴/۴۱۴ بحوالہ ماہنامہ ”دارالعلوم“ مارچ ۲۰۰۳/۔

(۲)        توبہ: ۱۲۲۔

(۳)        بخاری ۱/۱۶، ومسلم ۲/۴۴، ودارمی ۱/۷۳۔

(۴)        البحرالرائق ۱/۶ (مکتبہ ماجدیہ پاکستان)

(۵)        مقدمہ ابن خلدون ص: ۴۴۵ (دارالقلم بیروت)

(۶)        مسلم الثبوت، ص: ۷۔

(۷)        ماہنامہ ”برہان“ دہلی جنوری ۱۹۴۵/، ص: ۴۲۔

(۸)        ابوداؤد: ۲/۵۰۵۔

(۹)         تذکرة الفنون، ص: ۴۶۔

(۱۰)       نظام الحکومة النبویہ ۱/۵۷ بحوالہ تدوین قانونِ اسلامی، ص: ۱۳۔

(۱۱)        فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے، ص: ۵-۶۔

(۱۲)       فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے، ص: ۱۸۔

(۱۳)      امام ابوحنیفہ عہد وحیات، فقہ و آراء ص: ۳۸-۳۳۷، بحوالہ فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے، ص: ۱۹۔

(۱۴)      مناقب امام ابوحنیفہ: ۱/۳۹۳ بحوالہ فقہ اسلامی ․․․ ص:۲۰۔

(۱۵)      تاریخ علم فقہ،ص: ۸، از ڈاکٹر حمید اللہ۔

(۱۶)       تذکرة الفنون، ص: ۴۸۔

(۱۷)      مقدمہ فتاویٰ دارالعلوم،ص: ۶۸،مناقب امام ابوحنیفہ ص:۵۷ بحوالہ فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے۔

(۱۸)      فقہ اسلامی، ص: ۳۲۰۔

(۱۹)       تدوین قانونِ اسلامی، ص: ۳۸۔

(۲۰)      فقہ اسلامی، ص: ۳۲۰۔

(۲۱)       مقدمہ فتاویٰ دارالعلوم، ص: ۷۸۔

(۲۲)      ماہنامہ ”برہان“ دہلی، فروری ۱۹۴۵/، ص: ۸۲۔

(۲۳) ایضاً فروری ۱۹۴۴/۔

(۲۴) نقش دوام، ص: ۴۴۱۔

(۲۵)     تہذیب الکمال ۲۴/۴۶۴ بحوالہ غیرمقلدین امام بخاری کی عدالت میں، ص: ۹۹۔

(۲۶)اخبارابی حنیفہ و اصحابہ،ص:۳، الفقہ والمتفقہ بغدادی ۲/۷۴، مناقب ابی حنیفہ ذہبی،ص:۲۱ بحوالہ ائمہ اربعہ، ص:۴۵۔

(۲۷)     مقام ابوحنیفہ از سرفراز خان صفدر،ص: ۱۶۰ بحوالہ مقدمہ تحفة الاحوذی، ص:۲۶۰ ونہایہ ۲/۱۷۹۔

(۲۸)     خطبہ امارت ،ص: ۱۳ مشمولہ مسائل اہل حدیث جلد دوم بحوالہ حدیث اور اہل حدیث،ص: ۳۶ ، از انوار خورشید پاکستان۔

(۲۹)      عبداللہ بھاولپوری: اصلی اہل سنت،ص: ۳۲ بحوالہ حدیث اور اہل حدیث، ص:۸۵۔

(۳۰)     سرورق : فقہ اسلامی اصول، خدمات اور تقاضے۔


<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_4.html>


Saturday, 2 February 2019

هل يجوز استخارة لغيره أم لا؟

هل يجوز استخارة لغيره أم لا؟
السلام عليكم ورحمة الله، وبعد: هل يجوز استخارة لغيره أم لا؟
وعليكم السلام ورحمة الله
النيابة في الاستخارة
أو الاستخارة لغيره جائز
ولكن الأفضل أن يستخير لاموره نفسه
فالأصل أن الإنسان هو الذي يستخير لنفسه كما ورد في حديث الاستخارة ولما ذكرناه سابقاً عن العلامة ابن القيم، وهذا هو الذي رجحناه في الفتوى المشار إليها، وقد رأى بعض العلماء صحة النيابة في الاستخارة، ففي حاشية العدوي المالكي على شرح الخرشي لخليل: تنبيه: كان بعض المشايخ يستخير للغير، وقال بعض الفضلاء: يؤخذ من قوله صلى الله عليه وسلم: من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه. أن الإنسان يستخير لغيره، والحديث في الجامع الصغير، وفي الاستدلال بما ذكر شيء كما في بعض الشراح. انتهى.
وقال سليمان الجمل الشافعي في فتوحات الوهاب: تنبيه: ظاهر الحديث -أي الوارد في تعليم الاستخارة- أن الإنسان لا يستخير لغيره، وجعله الشيخ محمد الحطاب المالكي محل نظر، فقال: هل ورد أن الإنسان يستخير لغيره؟ لم أقف في ذلك على شيء، ورأيت بعض المشايخ يفعله. انتهى، قلت: قال بعض الفضلاء: ربما يؤخذ من قوله عليه السلام: من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه أن الإنسان يستخير لغيره. انتهى.
ومذاهب العلماء فيه مختلف
<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_2.html>

Friday, 1 February 2019

گوشہ نشینی افضل ہے یا عوامی اختلاط؟

گوشہ نشینی افضل ہے یا عوامی اختلاط؟
اس حدیث پاک کی مختصر سی تشریح براہ مہربانی نقل فرمائیں
الجواب و باللہ التوفیق:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا (سب سے) عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لئے بھاگ جائے گا۔ "صحيح البخاري: كتاب الفتن. باب التعرب في الفتنة. رقم (7088).
انسانی معاشرے سے کنارہ کشی، گوشہ نشینی اور عزلت والگ تھلگ رہنا علی الاطلاق محمود نہیں ہے
بلکہ عمومی میل جول اور عوامی اختلاط کے ساتھ اصلاح حال واصلاح معاشرہ کی کوشش کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اشتغال کی ترغیب اسلام میں دی گئی ہے:
عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد، من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة، من سرته حسنته وساءته سيئته فذلك المؤمن»
(قال الترمذی): هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد رواه ابن المبارك، عن محمد بن سوقة، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم،سنن الترمذي 2165.كتاب الفتن ،باب لزوم الجماعة

(تم لوگ جماعت کو لازم پکڑو اور پارٹی بندی سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ رہتا ہے، دو کے ساتھ اس کا رہنا نسبۃً زیادہ دور کی بات ہے، جو شخص جنت کے درمیانی حصہ میں جانا چاہتا ہو وہ جماعت سے لازمی طور پر جڑا رہے اور جسے اپنی نیکی سے خوشی ملے اور گناہ سے غم لاحق ہو حقیقت میں وہی مومن ہے)“۔
اگر عوامی اختلاط کے ساتھ اصلاحات کی یہ کوشش بار آور نہ ہو تو دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ:
عن عقبة بن عامر، قال: قلت: يا رسول الله ما النجاة؟ قال: «املك عليك لسانك، وليسعك بيتك، وابك على خطيئتك»: «هذا حديث حسن»
(سنن الترمذي 2406)

سیدنا عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“
فتنوں کا سیلاب بلاخیز اس قدر شدید ہو کہ اس عوامی میل جول اور اصلاحات کی کوشش کے باوجود بھی اگر ایمان کی حفاظت انسانی معاشرے سے دور رہنے ہی میں ہو تو اب حفاظت ایمان کی خاطر یہ شکل بھی اپنائی جاسکتی ہے
لیکن حفاظت ایمانی کا انحصار اسی پر نہیں ہے
فتنوں کی نوعیت اور حالات و زمانے کے لحاظ سے یہ بھی حفاظت ایمان کی ایک امکانی شکل ہے
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی
<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post_1.html>

سنت مئوکدہ اور سنت غیر مئوکدہ میں کیا فرق ہے؟

سنت مئوکدہ اور سنت غیر مئوکدہ میں کیا فرق ہے؟ 
سوال: میرا سوال یہ ہے کہ سنت مئوکدہ اور سنت غیر مئوکدہ میں کیا فرق ہے؟
اور کیا مئوکدہ کی بھی چاروں رکعات میں صورتیں پڑھی جاتی ہیں؟

جواب: بسم الله الرحمن الرحيم
حکم کے اعتبار سے دونوں میں فرق یہ ہے کہ سنت موکدہ کا تارک (چھوڑنے والا) ملامت وعتاب کا مستحق ہونا ہے اور اس کا فاعل (انجام دینے والا) اجر وثواب کا مقدار ہوتا ہے۔ وحکمہا ما یوجر علی فعلہ ویلام علی ترکہ (درمختار) اور غیرموٴکدہ کا کا ترک ملامت کا باعث نہیں اوراس کوکرنا اجر وثواب کا ذریعہ ہے۔
(۲) جی ہاں، چاروں رکعت میں سورت ملائی جائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
-------------------------------
فرض، سنت موکدہ وغیر موکدہ کی ادائیگی کا طریقہ
سوال: نماز فرض، سنت مؤکدہ اور غیرمؤکدہ کی ادائیگی کا طریقہ بتادیں۔
جواب: فرائض، سنن مؤکدہ وغیرمؤکدہ کی ادائیگی کے طریقہ میں چند چیزوں کا فرق ہے جس کی تفصیل ملاحظہ ہو: فرض کی صرف ابتدائی دو رکعت میں سورة الفاتحہ کے ساتھ کسی سورت کا ملانا یا تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت کا ملانا واجب ہے اور آخری رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھنا مسنون ہے جبکہ سنتیں، مؤکدہ ہوں یا غیرمؤکدہ، دو ہوں یا چار، ان کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے ساتھ سورة وغیرہ کا ملانا واجب ہے، البتہ سنت مؤکدہ اور فرض میں ایک بات میں یکسانیت ہے کہ چار رکعت والی فرض نمازاور سنت مؤکدہ میں پہلے قعدہ میں صرف تشہّد پڑھ کے تیسری رکعت کے لیئے اٹھ جانا واجب ہے ، درود اور دعاء کا پڑھنا جائزنہیں اور سنت غیر مؤکدہ میں افضل یہ ہے کے پہلے قعدہ میں بھی درود شریف اور دعاء پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے اٹھا جائے اور پھر تیسری رکعت کا آغاز بھی ثناء سے کیاجائے۔ واللہ اعلم
فتوی نمبر: 143510200029
-----------------------------------------
(سنت موکدہ اور غیر موکدہ میں فرق)
=======================
سوال: سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ میں پڑھنے کے لحاظ سےکیا فرق ھے قران وحدیث سے جواب دیں کیاسنت مؤکدہ کےآخری دو رکعات میں سورت ملانا ضروری ھے یا فرض کی طرح نھیں ملانی چاہئے
جزاک اللہ
جواب: 1- سنت موکدۃ اور سنت غیر موکدہ میں پڑھنے کے لحاظ سے دو فرق ہیں۔
الف: چار رکعت والی سنت موکدہ میں قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کی اجازت نہیں ہے بھولے سے پڑھا لیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔ اور غیرہ موکدہ اگر چار رکعت کی نیت کی ہے تو قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا افضل ہے۔
ب: چار رکعت والی سنت موکدہ کی تیسری رکعت کی ابتداء میں ثناء پڑھنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ غیر موکدۃ میں افضل ہے۔
ان دونوں فرقوں کے علاوہ سنت موکدۃ اور غیر موکدہ پڑھنے کے اعتبار سے یکسان ہیں۔
2۔ سنت موکدۃ، غیرہ موکدۃ، نوافل وغیرہ کی تمام رکعتوں میں فرض نماز کے برعکس سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملانا واجب ہے ۔
(یعنی فرض نماز کے علاوه باقی هر طرح کی نماز کی هر رکعت میں سوره فاتحه کے بعد سورت یا تین آیت پڑهنا واجب هے)
==================================
نوٹ: (سنت مئوکده کون کون سی هے؟)
1: فجر کے دو فرض سے پهلے 2 سنت مئوکده هے.
2: ظهر کے چار فرض سے پهلے 4 رکعت سنت مئوکده هے اور فرض کے بعد 2 رکعت سنت مئوکده هے.
3: مغرب کے تین فرض کے بعد 2 سنت مئوکده هے.
4: عشاء کے چار فرض کے بعد 2 رکعت سنت مئوکده هے .
نوٹ: یه جمله 12 رکعات سنت مئوکده هیں اس کے پڑهنے کی تاکید آئی هے ان سنتوں کا پڑهنا ضروری هے اگر بلاعذر شرعی کوئی یه سنتیں نه پڑهتا هو تب وه شخص (فاسق و گناه گار) هوگا.
اس کے علاوه سنت غیرمئوکده هے اس پر تاکید نهیں هے اگر پڑهے تو ثواب هوگا نه پڑهنے پر کوئی گناه نهیں هوگا
(اسے نفل بهی کهتے هیں اگر پڑهے تو ثواب نه پڑهے تب کوئی گناه نهیں)
----------------------------------------

<https://saagartimes.blogspot.com/2019/02/blog-post.html>