Monday, 17 September 2018

حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کو امام کہنے کا حکم

حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کو امام کہنے کا حکم
سوال: محترم مفتی صاحب، عام طور سے حضرت حسین رض کا نام لوگ امام، کا خطاب لگاکر لیتے ہیں، لیکن پڑوس ملک کے ایک عالم مفتی عبدالستار صاحب نے اپنی کتاب، شہادت حسین، میں یہ لکھا ہے کہ امام حسین کہنا اہل تشیع سے مشابہت ہونے کی وجہ ممنوع ہے،
جبکہ اکثر واعظین اس میں مبتلا ہیں،
دوسری بات یہ ہیکہ اس کتاب میں اکابر علماء دیوبند کے افادات کو جمع کیا گیا ہے،
اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں ۔۔۔۔۔۔
کہ: حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کوامام کہنا صحیح ہے یا نہیں؟
(المستفتی: افضال احمد ملی
امام جامع مسجد پمپر کھیڑ، چالیسگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : حضرات حسنین (حضرت حسن و حسین) رضی اللہ عنھما کو امام  کہنا درست نہیں ہے، یہ شیعوں کا طریقہ ہے۔ وہ  امام بمعنی معصوم بولتے ہیں، اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک صرف انبیاء معصوم ہوتے ہیں، کسی صحابی یا اولیاء اللہ کو معصوم ماننا قطعاً ناجائز ہے ۔

مسئلہ ھذا میں دارالعلوم دیوبند کے آن لائن دارالافتاء کا فتوی ملاحظہ فرمائیں :
شیعوں کے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لے کر ۱۱ ویں امام تک جتنے بزرگ ہیں، وہ سنیوں کے بھی بزرگ ہیں اور اہل بیت کے خاندان سے ہیں، شیعہ حضرات ان بزرگوں  کو  امام،  خاص عقیدوں کے ساتھ مانتے ہیں ۔ مثلاً انھیں وہ انبیاء کی طرح معصوم مانتے ہیں، ان کی اطاعت کرنا فرض مانتے ہیں، جو شخص ان کی اطاعت نہ کرے اسے مومن نہیں گردانتے ہیں، ان اماموں کے پاس اللہ کی طرف سے نئی کتاب اور نئی شریعت دی گئی ہے، انھیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ملا ہے، جس حلال کو  چاہیں حرام کردیں اور جس حرام کو  چاہیں حلال بنائیں۔ اس لیے ہمارے لئے  امام علی، امام حسن اور  امام حسین  کہنا جائز نہیں ۔ (رقم الفتوی : 11341)

صاحب احسن الفتاوی مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
امام کا لفظ اہلِ حق کے یہاں بھی استعمال ہوتا ہے، اور شیعوں کے یہاں بھی، اہلِ حق کے ہاں اس کے معنی ’’پیشوا، رہبر،اور مقتَدیٰ‘‘ کے ہیں، اور اہلِ تشیُّع کے یہاں ’’امام‘‘ عالم الغیب اور معصوم ہوتے ہیں، یعنی اُن کے یہاں ’’امام‘‘ کا درجہ نبیوں سے بھی بڑا ہے، اہلِ حق یعنی اہلِ سنت والجماعت جب لفظ ’’امام‘‘ استعمال کرتے ہیں، تو ظاہری معنی ’’پیشوا، رہبر، مقتَدیٰ‘‘ ہی مراد ہوتے ہیں، اس اعتبار سے تمام انبیاء، صحابہ، تابعین، اولیاء اللہ اور علماء  امام  ہیں، اس لیے  امام  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،  امام عمر فاروق رضی اللہ عنہ،  امام عثمان رضی اللہ عنہ،  امام  حضرت علی رضی اللہ عنہ،  امام  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ  کہنا  چاہیے ۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ لوگ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم کو ’’امام‘‘ نہیں کہتے، بلکہ صرف حضرت حسن وحسین  رضی اللہ عنہما  کو ہی ’’امام‘‘ کہتے ہیں، معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں یہ اثر کہیں غیر سے آیا ہے، یہ تشیُّع (شیعیت) کا اثر ہے، جو مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے، ہاں ! البتہ اگر اہلِ حق میں سے کسی نے ان کو  امام کہا ہے، تو وہ صحیح معنی میں کہا ہے، مگر اِس سے مُغالَطہ ضرور ہوتا ہے، اس لیے اِس سے احتراز ضروری ہے ۔ (احسن الفتاوی : ۱/۳۹۰)

سوال نامہ میں مذکور مفتی صاحب کی کتاب میں لکھا ہوا مسئلہ بالکل درست ہے ۔ لہٰذا واعظینِ امت کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے اس لیے کہ عوام الناس کی اکثریت تقریر کے ذریعے ہی دین سیکھتے ہیں، اور اسی پر بھروسہ کرکے عمل کرنا شروع کردیتے ہیں، جبکہ تحریر صرف مطالعہ کا ذوق رکھنے والے افراد کے لیے مفید ہوتی ہے ۔

الأئمۃ لغۃً : من یُقتدَی بہم من رئیس أو غیرہ ، مفردہ ؛ إمام ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یُطلق علی الأنبیاء علیہم السلام أنہم ’’ أئمۃ ‘‘ من حیث یجب علی الخَلق اتباعہم ، قال اللّٰہ تعالی عقِب ذکرِ بعض الأنبیاء {وجعلناہم أئمۃ یہدون بأمرنا} کما یُطلق علی الخلفاء ’’ أئمۃ ‘‘ ، لأنہم رُتّبوا في المحل الذي یجب علی الناس اتباعہم وقبول قولہم وأحکامہم ۔ اہـ ۔ (۱/۷۵ ، أئمۃ ، الإطلاقات المختلفۃ لہذا المصطلح، الموسوعۃ الفقہیۃ)

الإعانۃ علی المحظور محظور۔ (جمہـرۃ القـــواعد الفقہیۃ، ۲/۶۴۴)

ان الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرما۔ (المقاصد الشریعۃ، ص/۴۶)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
06 محرم الحرام 1440
........
سوال # 11341
شیعہ جن بارہ امام کا ذکر کرتے ہیں کیا ہ ہمارے (سنیوں) کے بزرگ نہیں ہیں؟کیا وہ تمام اہل بیت سے ہیں؟کیا ہم بھی ان کو امام کے ساتھ بلائیں؟ ان شیعوں سے ہم ملیں تو سلام کرنا جب نا گزیر ہو تعلق کی وجہ سے تو کیسے بلائیں تاکہ ان کو قریب کر کے دعوت کی محنت کے ذریعہ سے ان کی ہدایت کی محنت کی جاسکے؟ اگر مجبوری میں ان کے ساتھ کھانا پڑے یا ان کا جھوٹا کھانا پینا پڑے تواس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
Published on: Apr 9, 2009
جواب # 11341
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 414=393/ب

شیعوں کے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لے کر ۱۱ویں تک جتنے بزرگ ہیں، وہ سنیوں کے بھی بزرگ ہیں اوراہل بیت کے خاندان سے ہیں، شیعہ حضرات ان بزرگوں کو امام خاص عقیدوں کے ساتھ مانتے ہیں۔ مثلاً انھیں وہ انبیاء کی طرح معصوم مانتے ہیں، ان کی اطاعت کرنا فرض مانتے ہیں، جو شخص ان کی اطاعت نہ کرے اسے مومن نہیں گردانتے ہیں، ان اماموں کے پاس اللہ کی طرف سے نئی کتاب اور نئی شریعت دی گئی ہے، انھیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ملا ہے، جس حلال کو چاہیں حرام کردیں اور جس حرام کو چاہیں حلال بنائیں۔ اس لیے ہمارے لے امام علی، امام حسن اور امام حسین کہنا جائز نہیں۔ شیعہ اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے جو ان کی کتابوں میں ملتے ہیں، دائرہٴ اسلام سے خارج ہیں، ان کے عقائد نصوص قطیعہ کے خلاف ہیں۔ مثلاً وہ حضرت علی کے خدا ہونے کے قائل ہیں۔ قرآن کے محرف ہونے کے قائل ہیں۔ حضرت جبرئیل کو خائن مانتے ہیں کہ وحی اللہ نے انھیں دیکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تھا، مگر وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو زانیہ مانتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے منکر ہیں، سب عقائد قرآن کے خلاف ہیں، اس لیے وہ مسلمان نہیں، اگر دعوت کی محنت کے ذریعہ ہدایت کی طرف انھیں بلائیں تو بلاسکتے ہیں۔ ان کا نام لے کر پکاریں، ان سے سلام میں پہل نہ کریں۔ اگر پہل کریں تو ہداک اللہ کہہ دیا کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اسلام کی طرف ہدایت دے۔ ان کے ساتھ کھانے پینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Friday, 14 September 2018

قبولیتِ دعا کے مخصوص زمان و مکان

قبولیتِ دعا کے مخصوص زمان و مکان
سوال: ایسے کونسے اوقات، جگہیں اور کیفیات ہیں جن میں دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: "فرض نمازوں کے بعد" کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا والد کی اپنی اولاد کیلئے دعا قبول ہوتی ہے، یا والد کی اپنے اولاد کے خلاف بد دعا قبول ہوتی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ ان تمام سوالات کا جواب دیں، جزاکم اللہ خیراً

الحمد للہ:
دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں:

1- لیلۃ القدر:
چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت فرمایا   جب انہوں نے کہا:  "مجھے بتلائیں کہ اگر مجھے کسی رات کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ لیلۃ القدر کی ہی رات ہے ، تو اس میں میں کیا کہوں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو: (اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ) [یا اللہ! بیشک تو ہی معاف کرنے والا ہے، اور معافی پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف کردے]

2- رات کے آخری حصے میں:
یعنی سحری کے وقت دعا کرنا، اس وقت  اللہ تعالی آسمان دنیا تک نزول فرماتا ہے، یہ اللہ سبحانہ وتعالی کا   اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے کہ انکی ضروریات اور تکالیف  دور کرنے کیلئے نزول فرماتا ہے، اور صدا لگاتا ہے: "کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اسکی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھے سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگے، تو اسے بخش دوں" بخاری: (1145)

3- فرض نمازوں کے بعد:
ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: "کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟" آپ نے فرمایا: (رات کے آخری حصے میں، اور فرض نمازوں کے آخر میں)" ترمذی: (3499)، اس حدیث کو البانی نے "صحیح ترمذی" میں حسن قرار دیا ہے۔

یہاں اس بات میں مختلف آراء ہیں کہ عربی الفاظ"دبر الصلوات المكتوبات"سے کیا مراد ہے؟ سلام سے پہلے یا بعد میں؟

اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ  کہتے ہیں: یہ سلام سے پہلے ہے، چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: "ہر چیز کی "دُبُر" اسی چیز کا حصہ ہوتی ہے، جیسے "دبر الحیوان" یعنی حیوان کا پچھلا حصہ" زاد المعاد(1/305)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جن دعاؤں کا تذکرہ "دبر الصلاۃ" کی قید کے ساتھ آیا ہے، ان سب کا وقت سلام سے پہلے ہے، اور جن اذکار کا  تذکرہ "دبر الصلاۃ " کی قید کے ساتھ آیا ہے، تو یہ سب سلام کے بعد کے اذکار ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ}
چنانچہ جب تم نماز مکمل کر لو؛ تو اللہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے، اور پہلو کے بل کرو۔ [النساء : 103]
مزید کیلئے دیکھیں : "كتاب الدعاء "از شیخ محمد الحمد :صفحہ: (54)

4-  اذان اور اقامت کے درمیان:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی)
ابو داود :(521) ترمذی: (212) اسی طرح دیکھیں: صحیح الجامع (2408)

5- فرض نمازوں کی اذان  اور میدان معرکہ میں گھمسان کی جنگ کے وقت:
چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دو چیزیں کبھی رد نہیں ہوتیں، یا بہت ہی کم رد ہوتی ہیں، اذان کے وقت، اور میدان کار زار کے وقت جب گھمسان کی جنگ جاری ہو) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ روایت صحیح ہے، دیکھیں: صحیح الجامع: (3079)

6- بارش کے وقت:
چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت  میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: (دو دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے وقت کی  دعا) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے "صحیح الجامع": (3078) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

7- رات کے کسی حصے میں دعا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے  جس میں کوئی بھی مسلمان  دنیاوی اور اخروی  خیر مانگے تو اسے وہ چیز دے دی جاتی ہے، یہ گھڑی ہر رات آتی ہے) مسلم: (757)

8- جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: (اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے کھڑے ہو کر دعا مانگے  تو اللہ تعالی اسے وہ  چیز عطا فرماتا ہے) اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھڑی کے انتہائی مختصر ہونے کا اشارہ بھی فرمایا۔
بخاری: (935) مسلم: (852)
اس کے بارے میں آپ سوال نمبر: (21748) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

9- زمزم پیتے وقت کی دعا:
چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: (زمزم کا پانی ہر اس مقصد کیلئے ہے جس مقصد سے پیا  جائے ) امام احمد نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے "صحیح الجامع" (5502) میں صحیح قرار دیا ہے۔

10-      سجدے کی حالت میں دعا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بندہ اپنے رب کے قریب ترین سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے کثرت سے سجدے کی حالت میں دعا کرو) مسلم: (482)

11-      مرغ کی آواز سننے کے وقت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم مرغ کی آواز سنتے ہو تو  اللہ سے فضل الہی مانگا کرو، کیونکہ اس وقت  مرغ فرشتے کو دیکھتا ہے) بخاری: (2304) مسلم: (2729)

12-      "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ" پڑھ کے دعا مانگنا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ذو النون [یونس علیہ السلام] کی دعا مچھلی کے پیٹ میں یہ تھی: "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ" اور ان الفاظ کے ذریعے کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے دعا مانگے تو اللہ تعالی اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے) ترمذی، البانی رحمہ اللہ سے اسے  "صحیح الجامع" (3383) میں صحیح قرار دیا ہے۔
قرآن مجید کی جس آیت میں ان الفاظ کا ذکر ہے ان کی تفسیر بیان کرتے ہوئے قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: {وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ [87] فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} اور مچھلی والا جب غصے کی حالت میں  چل نکلا، اور یہ سمجھا کہ ہم اس پر گرفت نہیں کریں گے، پھر اس نے اندھیروں میں پکارا: بیشک تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالموں میں سے ہوں [87] پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی، اور غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح  ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ [الأنبياء: 87- 88] قرطبی  فرماتے ہیں ان آیات میں اللہ تعالی نے  یہ لازم قرار دیا ہے کہ جو بھی اسے پکارے گا، تو وہ اسکی دعا قبول کریگا، جیسے یونس علیہ السلام کی دعا قبول کی، اور اسی طرح نجات بھی دے گا جیسے یونس علیہ السلام کو نجات دی، اس کی دلیل آیت کا آخری حصہ ہے: "وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ" [اور ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دینگے]۔
"الجامع لأحكام القرآن" (11/334)

13-      مصیبت پڑنے پر "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرَاً مِنْهَا" کے ذریعے دعا کرنا:

صحیح مسلم: (918) میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (کوئی بھی مسلمان  کسی بھی مصیبت کے پہنچنے پر  حکم الہی کے مطابق کہتا ہے: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرَاً مِنْهَا" [بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں، اور اسی کی طرف لوٹیں گے، یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر  عطا فرما، اور مجھے اس سے اچھا بدلہ نصیب فرما] تو اللہ تعالی اسے اِس سے اچھا بدلہ ضرور عطا فرماتا ہے) مسلم: (918)

14-      میت کی روح پرواز کرجانے پر لوگوں کا دعا کرنا:
ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، [آپ فوت ہوچکے تھے] اور آپکی آنکھیں پتھرا گئی تھیں، آپ نے انکی آنکھیں بند فرمائیں، اور ارشاد فرمایا: (جس وقت روح قبض کی جاتی ہے، نظر اسکا پیچھا کرتی ہے) یہ سن کر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ  میں سے کسی نے چیخ ماری، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے لئے اچھے کلمات ہی بولو؛ کیونکہ تم جو بھی کہوگے فرشتے اس پر آمین کہہ رہے ہیں) مسلم: (2722)

15-      بیمار آدمی کے پاس دعا کرنا:
صحیح مسلم: (919) میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم مریض کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے تمہاری ان باتوں پر آمین کہتے ہیں) ۔۔۔ ام  سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ  جس وقت ابو سلمہ فوت ہوگئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپکو خبر دی کہ : "ابو سلمہ فوت ہوگئےہیں " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم یہ کہو: "اَلَّلهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلَهُ وَأَعْقِبْنِيْ مِنْهُ عُقْبىً حَسَنَةً" [یا اللہ! میری اور اس کی مغفرت فرما، اور مجھے اس سے اچھا بدلے میں عطا فرما]) ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے یہ الفاظ کہے، تو اللہ تعالی نے مجھے ابو سلمہ سے بہتر  خاوند عطا کیا، یعنی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم"

16-      مظلوم کی دعا:
ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مظلوم کی بد دعا سے بچنا ، کیونکہ اللہ اور مظلوم کی بد دعا کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا) بخاری: (469) مسلم: (19)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے، چاہے وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو، اس کے فاجر ہونے کا نقصان اُسی کو ہوگا) احمد نے اسے روایت کیا ہے، مزید کیلئے دیکھیں: صحیح الجامع: (3382)

17-      والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا، روزہ دار کی روزے کی حالت میں دعا، اور مسافر کی دورانِ سفر دعا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (تین قسم کی دعائیں رد نہیں ہوتیں: والد کی اپنی اولاد کے حق میں، روزے دار، اور مسافر کی دعا) بیہقی نے اسے روایت کیا ہے، اور یہی روایت: صحیح الجامع: (2032) اور سلسلہ صحیحہ: (1797) میں موجود ہے۔

18-      والد کی اپنی اولاد کیلئے بد  دعا:
صحیح حدیث میں ہے کہ: (تین دعائیں قبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنی اولاد کے لئے بد دعا) ترمذی: (1905) مزید دیکھیں: (372)

19-      نیک اولاد کی اپنے والدین کیلئے دعا:
صحیح مسلم: (1631) کی حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (جب انسان مرجائے تو تین ذرائع کے علاوہ اس کے تمام عمل منقطع ہوجاتے ہیں: صدقہ جاریہ، نیک اولاد جو مرنے والے کیلئے دعا کرے، یا علم جس سے لوگ مستفید ہوں)

20-      ظہر سے پہلے زوال شمس کے وقت دعا:
چنانچہ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد اور ظہر کے فرائض سے قبل چار رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے، اور آپ نے فرمایا: (اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ  اس وقت میرے نیک اعمال اوپر جائیں) اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، اور اسکی سند صحیح ہے، مزید کیلئے دیکھیں: تخریج المشکاۃ: (1/337)

21-      رات کے وقت کسی بھی لمحے آنکھ کھلنے پران مسنون الفاظ کے بعد دعا کرنا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص رات کے وقت  بیدار ہوا، اور اس نے یہ کہا: "لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، وہ یکتا و تنہا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تعریفیں اسی کیلئے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ اکبر، نیکی کرنے کی طاقت، اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے] پھر اس نے کہا: یا اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دعا مانگی تو اسکی دعا قبول ہوگی، اور اگر وضو کرکے نماز پڑھی تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی) بخاری: (1154).

Wednesday, 12 September 2018

دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں واقع کنواں

دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں واقع کنواں آج تک فیض رسانی کا مرکز

ایشیاء کی شہرئہ آفاق دینی تعلیم گاہ دارالعلوم دیوبند کا مشہور احاطہ ”احاطہٴ مولسری“ اپنی نظیر آپ ہے، یہ احاطہ دارالعلوم کے احاطوں میں علمی اور تربیتی خدمات کے اعتبار سے سب سے فائق ہے۔

          باہر سے آنے والے زائرین جب دارالعلوم کی زیارت کی غرض سے یہاں تشریف لاتے ہیں اور اس کے گوشے گوشے کو عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ذہنی اور قلبی، ایسا سکون ملتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے دنیا کو بھول جاتے ہیں؛ مگر جب اس احاطے میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے زیادہ متاثر اسی احاطے سے ہوتے ہیں اور رُوحانی سرور اور قلبی تسکین مکمل طور پر یہیں ملتی ہے۔ اسی طرح دارالعلوم سے فارغ ہوکر جانے والے طلبہ کو ان کی یادوں، خیالوں اور خوابوں میں ستانے، تڑپانے، اور بے قرار کرنے میں اس کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔

          سندِ فراغت پاکر یہاں سے رخصت ہونے والے طلبہ کو اس احاطہ کی عظمت واہمیت، ان کی اخیرسالوں کی تعلیمی سرگرمیاں، تقریر وتحریر میں حصہ لینے کے مواقع، رفیقوں کے ساتھ دل لگی،، نودرے میں ہونے والے تکرار ومطالعہ اور زمانہٴ امتحان میں شب بے داری کے واقعات ان کو دوبارہ مادرِ علمی کی زیارت پر مجبور کرتے ہیں۔

          اس کی ابتداء ”باب قاسم“ سے اور انتہاء ”دارالحدیث“ پر جاکر ہوتی ہے، ”باب قاسم“ قدیم طرز کا یہ شاہکار، بلند وبالا پُرشکوہ باب الداخلہ اپنے اندر تاریخ دارالعلوم اور اس کے خلوص وللہیت کی مثال رکھتا ہے۔ یہ چند کمروں پر مشتمل ہے، کچھ حجرے طلبہ کی رہائش کے لیے، تو کچھ انتظامی امور میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ تاریخی حیثیت سے کب وجود پذیر ہوا؛ اس کے بارے میں جستجو کے باوجود صحیح معلوم نہ ہوسکا؛ البتہ اس پر لگے ہوئے کتبے پر دارالعلوم کی تاسیس کی تاریخ رقم ہے، ایسا لگتا ہے کہ جب دارالعلوم کی اولین عمارتیں بننا شروع ہوئیں، انھیں میں اس کی تعمیرعمل میں آئی ہے، اس کی بالائی منزل میں دفتر محاسبی ہے، جس کے کارندے دارالعلوم کے حساب وکتاب کا کام بحسن وخوبی انجام دیتے ہیں۔ یہ شعبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ادنیٰ سے ادنیٰ حساب بھی بذریعہٴ رسید تکمیل پزیر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی شفافیت بالکل عیاں ہے۔ طلبہٴ دارالعلوم کے وظائف اور امدادی سامان یہیں سے وصول کیے جاتے ہیں، اسی دفتر میں ترکی حکومت کی جانب سے عطا کردہ قیمتی ہدیہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جُبّہٴ مبارکہ سے مس شدہ رُومال مبارک رکھا ہوا ہے، جو اس کے حسن وجمال کو دوبالا کرتا ہے، آنے والے زائرین عقیدت مندانہ جذبات سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ اس کی تاریخی حیثیت کے بارے میں رُوداد دارالعلوم ۱۳۳۲ھ میں لکھا ہوا ہے کہ ”دارالعلوم نے جنگ بلقان کے زمانے میں ترک مجروحین ومہاجرین کی انجمن ہلالِ احمر کے ذریعے ہندوستان میں قابل قدر امدادی خدمات انجام دی تھیں، اُن سے سلطان محمد پنجم بہت متاثر ہوئے؛ چنانچہ سلطان المعظم نے اپنے اس تاثر کا اظہار اس طرح فرمایا کہ دولتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا تبرک ہدیہ یعنی جُبّہٴ مبارکہ کا غلاف دارالعلوم کو عطا فرمایا، پھر آگے اس متبرک ہدیہ کے صفاتی احوال لکھے ہوئے ہیں کہ ”یہ غلاف رومال کی شکل میں ہے، کپڑا سفید، نہایت مہین اور خوش وضع ہے، وسط میں جلی قلم سے سیاہ حروف سے یہ شعر لکھا ہوا ہے۔

نُورُ الہُدیٰ بہ تکرِیْماً    صَلُّوا عَلیہ، وسَلِّمُوا تَسْلِیماً

          کناروں پر ترکی زبان میں ان کے شعر لکھے ہوئے ہیں۔ (رُوداد دارالعلوم دیوبند ۱۳۳۲ھ)

          گیٹ سے داخل ہوتے ہی اس کی بائیں جانب لٹکتا ہوا گھنٹہ نظر آتا ہے، جو طلباء، ارباب حل وعقد اور منتظمین کو قت کی پابندی پر اُبھارتا ہے، اس کے شمال میں دارالعلوم دیوبند کی قدیم طرز کی بنی ہوئی مسجد قدیم کے دو چھوٹے چھوٹے زینے ہیں جو مسجد میں جاکر کھلتے ہیں، انھیں زینوں کے ساتھ مسجد کا میذنہ بھی ہے، جو اذانِ بلالی کی یاد تازہ کرہے۔

          اس مسجد کا سنگ بنیاد ۴/ربیع ۱۳۲۷ھ کو رکھا گیا، اس مسجد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے موسسین اور معماران شیخ الہند، حکیم مسعود صاحب خلفِ صادق حضرت گنگوہی، مولانا خلیل احمد صاحب انبیٹھوی، حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب، حافظ احمد صاحب خلف الصدق حضرت نانوتوی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اساطین علماء رَبّانی تھے، یہ حضرات طلباء کے ساتھ اینٹیں اور گارے اٹھانے میں شریک کار تھے، یہ روح پرور منظر تعمیرِ کعبہ کی سنتِ خلیل اللّٰہی کی ایک عقیدتی مثال ہے۔ اس کے اوصاف کے بارے میں تاریخ دارالعلوم میں لکھا ہوا ہے کہ ”مسجد کے مُسقف دو درجے ہیں، بیرونی دیواریں پتھر کی ہیں، جن پر نہایت نفیس نقش ونگار بنے ہوئے ہیں، اوپرسنگ مرمر کا کتبہ نصب ہے، جس پر شیخ الہند کے اشعار کندہ ہیں، جس کے آخری مصرع ”مقرون شدہ عبادت وعلم، درمدرسہ خانقاہ دیدہ ام“ میں (۱۳۲۸ھ) سن تعمیر مضمر ہے۔ (تاریخ دارالعلوم ، ج۱،ص:۲۲۰)

          پھر اس گیٹ کو پار کرنے کے بعد سامنے ایک بہت بڑا صحن ہے، جو ”احاطہٴ مولسری“ سے موسوم ہے، اس کی دائیں جانب کے بالکل کنارے پر شعبہٴ تکمیل افتاء کی درس گاہ ہے، جس کی عظمت و اہمیت سب پر ظاہر ہے۔ فقہ وفتویٰ کے حوالے سے دارالعلوم کا مسلکی مزاج، اعتدال پر مبنی ہے، اس سلسلے میں دارالعلوم ”کورانہ تقلید“ کی صرف مذمت ہی نہیں؛ بلکہ اس کا شدید مخالف ہے اور نہ آزادیٴ اجتہاد کا قائل ہے؛ بلکہ کسی نئے مسئلے کا حل قرآن وسنت اور سلف کے قائم کردہ اصولوں سے مستنبط کرتے ہیں ؛ چنانچہ اس سلسلے میں قاری محمد طیب صاحب نے بالتفصیل وضاحت فرمائی ہے، آپ لکھتے ہیں: ”غرض نہ تو وہ مجتہدین فی الدین کے بعد اجتہاد مطلق کے قائل ہیں؛ جب کہ عملاً اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا اور نہ جنسِ اجتہاد کی کلی نفی کرکے فتاویٰ کے حقائق وعلل کے استخراج اور ان کے موٴیدات کے استنباط یا متماثل جزئیات سے جزئیاتِ وقت کے استخراج سے گریزاں ہیں؛ بلکہ تقلید کے ساتھ تحقیق کا ملا جلا رنگ لیے ہوئے ہیں ۔

(علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج ص۱۴۴)

          دارالعلوم بھی اس شعبہ کا بہت قدرداں ہے، خوش نصیب طلبہ ہی اس شعبہ کی تکمیل کرپاتے ہیں، ہر سال طلبہ کی ایک بڑی جماعت ایسی ہوتی ہے، جو افتاء کی تعلیم اور فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کیے بغیر حسرت ویاس کے عالم میں یہاں سے چلی جاتی ہے اور تاحیات اس کا شدید قلق رہتا ہے۔

          دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ کی اہمیت ہندوپاک، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے مدارس سے جاری کردہ فتووں سے بڑھ کر ہے، یہاں کے فتوے لوگوں کے دلوں میں سند کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کی رائے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہے، اس حوالے سے دارالعلوم بالکل منفرد ہے، اس کی بے نظیر فقہی خدمات کا قدرے اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ۱۳۳۹ھ سے ۱۳۴۶ھ تک کے فتووں کی تعداد( ۳۷۵۶۱) ہے ؛ حالانکہ یہ تعداد صرف مفتی عزیز الرحمن عثمانی کے دورِ افتاء کی ہے اس سے پہلے دارالعلوم میں فتووں کے ریکارڈ کرنے کا انتظام نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ حضرت قاری محمد طیب صاحب کے تخمینے کے مطابق صرف مفتی عزیزالرحمن نے تقریباً تین لاکھ استفتاء کے جوابات دیے ہیں۔ جب فتووں کے دفتروں کی کثرت ہوتی چلی گئی تو دارالعلوم نے ان کو ازسرنو ترتیب و تدوین کے لیے مفتی محمد ظفیرالدین صاحب رحمة اللہ علیہ کو اس کی ذمے داری سونپی، ان کی محنت وکوشش کے نتیجے میں گیارہ ضخیم جلدیں مرتب ہوئیں، جو ”فتاویٰ دارالعلوم“ کے نام سے مشہور ہیں۔ ادھر کافی عرصے سے تدوین وترتیب کا کام زیرالتوا تھا؛ اس لیے اربابِ حل وعقدنے اس کی تکمیل کے لیے ایک مستقل شعبہ بعنوان ”شعبہٴ ترتیبِ فتاویٰ دارالعلوم“ قائم کیا ہے۔ الحمدللہ یہ کام بہت تیزی سے چل رہا ہے اب تک سولہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ نیز یہ شعبہ بھی احاطہٴ مولسری کے قریب ہے۔

          فتاویٰ دارالعلوم کی عظمت وعقیدت لوگوں کے دلوں میں اتنی رچی بسی ہے کہ دارالعلوم نے ۲۰۰۲ء میں جب امریکہ نے افغانستان سے جنگ کرنے کے لیے اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی ٹھان لی تو اس وقت اُس نے امریکہ اور یورپ کی مصنوعات خریدوفروخت کے خلاف فتویٰ دیا، اس فتویٰ کا اثر لوگوں پر ایسا ہوا کہ انھوں نے خریدوفروخت تو درکنار، اُن اشیاء کو توڑڈالا، مسلمان (خواہ ان کا کسی بھی مسلک سے تعلق ہو) خریدتے وقت اس قدر احتیاط کرتے اور یہ معلوم کرتے کہ یہ سامان امریکہ اور یوروپ کا تونہیں ہے، انھوں نے اس سوال کو بیع وشرا کا ایک جزولاینفک بنالیا تھا۔

          اس فتوے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کا اقتصادی بجٹ خسارے میں چلاگیا، اُس نے مجبوراً لوگوں کو لبھانے کے لیے نصف قیمت پر سامان بیچنا شروع کردیا، پھر دارالعلوم کے فتوے کو بے وزن کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے حواریین نے طرح طرح سے اس کو ذلیل کیا، کبھی اس کے فتوے کو لے کر دارالعلوم کا مذاق اُڑایا، تو کبھی مسلک کو لے کر جگ ہنسائی کی، پرنٹ اورالکٹرونک میڈیا نے اس سازش کا بھرپور ساتھ دیا اور اب بھی دے رہے ہیں، چند سال قبل پیش آنے والے ”عمرانہ کیس، عورتوں کی ملازمت کرنا اور کریڈٹ کارڈ جیسے ظاہر الثبوت مسائل میں دارالعلوم کی عظمت کی پامالی، اسی ناپاک سازش کی بدنما مثالیں ہیں؛ لیکن ذاتِ الٰہی نے اس بار بھی دارالعلوم کو صہیونی پالیسیوں سے محفوظ رکھا اور اس کی عظمت میں کمی نہ آنے دی؛ البتہ اس پروپیگنڈے سے دارالعلوم کے فتووں کی افادیت پوری دنیا میں پھیل گئی، بیرونِ ممالک کے لوگوں نے بھی استفتاء کرنا شروع کیا تو دارالعلوم نے اسی احاطہ کے مشرقی جانب ”شعبہٴ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ“ قائم فرمایا، انٹرنیٹ سے روزانہ دسیوں استفتاء آتے ہیں اور ان کا جواب بذریعہٴ انٹرنیٹ دیا جاتا ہے۔ والحمد علی ذلک۔

          اسی احاطے کے مشرقی جانب میں ”مولسری کا کنواں“ ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کا پانی کھینچنے والا ہینڈپائپ بھی ہے، یہ کنواں بھی ایک خوابی بشارت سے مشرف ہے، اس کی بابت تاریخ دارالعلوم دیوبندکے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”ایک مرتبہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ دارالعلوم کا یہ کنواں دودھ سے بھرا ہوا ہے اوپر مَن تک دودھ آیا ہوا ہے کہ ہاتھ سے دودھ لے سکتے ہیں، اس کی مَن پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، سیکڑوں کی تعداد میں لوگ دُودھ لے کر جارہے ہیں، کوئی مشک بھر کرلیے جارہا ہے، کوئی بالٹی بھرکر، کوئی لوٹا بھر کر، کوئی پیالہ بھرکر، جس کے ہاتھ میں برتن نہیں وہ چلوبھرکر لیے جارہا ہے۔

          خواب دیکھ کر میں اس کا مطلب اور تعبیر سمجھنے کے لیے منکشف ہوا تو پتہ چلا کہ یہ ”کنواں“ تو مدرسہ کی صورتِ مثالی ہے، دودھ ”علم“ کی صورت ہے، ذاتِ اقدس نبوی قاسم العلوم (علم کی تقسیم کنندہ) ہے اور دودھ لینے والے مدرسہ کے طلبہ ہیں (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم دیوبند،ص:۵۰)

          یقینا انبیاء علیہم الصلاة والسلام کے منامِ مبارک کے علاوہ کسی بشر کا خواب یقینی دلیل نہیں بن سکتا، تاہم رویائے صالحہ کشف والہام اور القاء قلبی ہونے کی وجہ سے یہ خواب مُبشِّرات میں سے ہے، پھر حدیث نبوی ”مَنْ رَآني في المَنَامِ فقد رآني فِيْ الیقظة“ (شمائل ترمذی) کی وجہ سے اس کی قوت مزید بڑھ گئی۔

          آپ اس کی حقیقت سے متعارف ہوچکے تو اب اس کے پانی کی تاثیر بھی مولانا مناظر احسن گیلانی کی زبانی سنتے چلیے:

          فرماتے ہیں کہ ”اتنا لذیذ، اتنا خوش گوار، اتنا شیریں، صاف وسبک اور خنک پانی، میں نے اس سے پہلے نہیں پیا۔“ (احاطہٴ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن، ص۲۴)

          اب اس کے سامنے دیکھیے تو دونوں جانب مولسری کے درخت نظر آئیں گے، ان سایہ فگن درختوں نے دارالعلوم کی تاریخ اور قبل دارالعلوم کے حالات کو دیکھا ہے، نہ جانے یہ کتنی مرتبہ امت کی زبوں پرروئے ہوں گے اور بناء دارالعلوم کے وقت امت کی بازیافتگی پر مسکرائے ہوں گے۔

           ان درختوں کے سائے تلے کتنے سہ روزہ، ہفتہ واری، پندرہ روزہ اور ماہ نامہ عربی، اردو، بنگلہ، آسامی اور تمل زبان میں نکلنے والے پرچے اپنا وجود برقرار رکھے ہیں، ان پرچوں کے ذریعہ طلبہ صحافت اور تصنیف کی مشق وتمرین کرتے ہیں، ان سے طلبہ کو زبان وادب کا کافی شعور بیدار ہوجاتاہے۔ کچھ شعر وشاعری میں امتیازی شان کے حامل ہیں تو بعض پرچوں کی خصوصیت جامعہ کی اخباری نشریہ کی ہے اس سے صحافتی ذوق پروان چڑھتا ہے --- دیواری پرچوں کا یہ سلسلہ ”بابِ قاسم “سے شروع ہوتا ہے اور ان درختوں کے اردگرد اور قرب وجوار کی دیواروں میں آویزاں پرچوں کی بہتات ہے، ان پرچوں کے ذریعے طلبہ اپنی تحریری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں، گویا یہ میدانِ صحافت کے سنگِ میل کو عبور کرنے کا پہلا قدم ہے، دیواری پرچوں کی افادیت اور دارالعلوم دیوبند کے طرز پر دیگر مدارسِ عربیہ کی نقل ومحاکات کے بارے میں مولانا نورعالم خلیل امینی (استاذ ادب عربی ورئیس تحریر مجلہ الداعی، دارالعلوم دیوبند) اپنا تاثر لکھتے ہیں کہ ”دیواری اخبارات ورسائل کی اب دارالعلوم میں بہار آئی ہوئی ہے۔ دارالعلوم میں فکر وعمل کا جو ساز چھڑتا ہے خدائے حکیم کی توفیق سے ہرمدرسے میں ناگزیر طور پر اس کی محاکات شروع ہوجاتی ہے․․․․ بقدرِ توفیق بہت سے مرکزی مدرسوں میں دیواری رسالوں کا نظام رائج ہوا اور ہورہا ہے۔ دیواری رسالوں کے ذریعے بطورِ خاص سیکڑوں؛ بلکہ ہزاروں طلبہ کی تحریر میں حسن وجمال کی قلم لگی، کتنے خوش نصیب عربی کے باکمال خطاط بن گئے، نہ صرف عربی خط؛ بلکہ مطلقاً خوش خطی کا ذدوق پروان چڑھا اور نسل نو میں عربی زبان کو ہمہ گیر پیمانے پر سیکھنے کا ولولہ بیدار ہوا۔

(مقدمہ خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں، ص:۸)

          اب بالکل سامنے دیکھیے دو منزلوں پر مشتمل لال رنگ کی قدیمی طرز کی تاریخی عمارت نظر آئے گی، یہ عمارت نودروں پر محیط ہے، جس کو ”نودرہ“ کے نام سے ساری دنیا جانتی ہے۔ یہ دارالعلوم کی سب سے پہلی عمارت ہے، جس کی سن تعمیر۱۳۹۲ھ ہے۔ اس تاریخی منزل کے تذکرے کے بغیر تاریخ دارالعلوم ادھوری ہے، یہی وہ جگہ ہے جو کسی زمانے میں دیوبند نامی بستی کی کوڑی تھی؛ لیکن اپنے اندر دنیا کی علمی، عملی، تہذیبِ اسلامی اوراحیائے قرآن وسنت کی نشاةِ ثانیہ کا راز چھپائے ہوئے تھی، یہی وہ جگہ ہے جو مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خواب ”کہ میں بیت اللہ کی چھت پر کھڑا ہوا ہوں اور میرے ہاتھ، پاؤں کی انگلیوں سے نہریں جاری ہیں جو اطرافِ عالم میں پھیل رہی ہیں جس کی اس دور کے بزرگوں نے یہ تعبیر دی تھی کہ آپ سے علومِ نبوت کا فیضان تمام دنیا میں جاری ہوگا تھی، یہی وہ جگہ ہے جو سیداحمد شہید کی پیشین گوئی کہ ”مجھے یہاں سے علم کی خوشبو آرہی ہے“ کی حقیقت ہے۔ (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم)

          یہی وہ جگہ ہے کہ جس کے محلِ وقوع کی تعیین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس نے خواب میں فرمائی ہے، جس کو حضرت مولانا ریاست علی ظفربجنوری دامت برکاتہم نے ترانہٴ دارالعلوم میں اس طرح تعبیر فرمایا ہے

ع       خود ساقیِ کوثر نے رکھی میخانے کی بنیاد یہاں

          اس کی تاریخی استناد اور اس کی تعمیری جائے وقوع کی تعیین کی کارگذاری بڑی دلچسپ اور ایمان افروز ہے، جس کے بارے میں قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم لکھتے ہیں کہ ”جب (نودرے کی) تعمیر کا مسئلہ سامنے آیا․․․․․ (تو) شب میں حضرت مولانا رفیع الدین صاحب مہتمم ثانی دارالعلوم نے خواب میں دیکھا کہ اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف ارزانی فرمائی، دستِ مبارک میں عصا ہے، آپ نے فرمایا کہ جو یہ بنیاد کھودی گئی ہے، اس سے صحن مدرسہ چھوٹا اور تنگ رہے گا، یہ فرماکر آپ نے جانبِ شمال دس بیس گز آگے بڑھ کر عصائے مبارک سے نشان لگایا اور ایک لانبی لکیر کھینچ دی کہ اس جگہ بنیاد کھودی جائے۔ بیدار ہوتے ہی مولانا ممدوح اس جگہ پر گئے تو لکیر کا نشان اسی طرح موجود پایا، جس طرح حضور … نے عصائے مبارک سے لگایا تھا۔ مولانا نے پھر نہ ممبران سے پوچھا نہ کسی سے مشورہ کیا؛ بلکہ نئی بنیاد اسی جگہ کھودوائی۔ (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم دیوبند، ص۴۷)

          جب اس کی بنیاد ساقیِ کوثر نے رکھی ہے تو سنگ بنیاد عاشقانِ نبوت، وفادارانِ آبروائے اسلام نے رکھا ہے۔ ارواحِ ثلاثہ میں ہے کہ سنگ بنیاد مولانا احمد علی محدث سہارن پوری کے دستِ مبارک سے رکھوایا گیا، پھر ایک ایک اینٹ حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی، حضرت مولانا مظہرنانوتوی، حضرت میاں جی منے شاہ اور حضرت حاجی عابدرحمہم اللہ نے رکھی۔ (ارواحِ ثلاثہ حکایت ۲۵۲)

          جب بنیاد رکھی جاچکی تو سب لوگوں نے مل کر اس کی بقا وترقی کے لیے نہایت خشوع وخضوع سے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی، پھر اس کے بعد حضرت نانوتوی نے فرمایا: کہ ”عالمِ مثال میں اس کی اس مدرسے کی شکل ایک معلق ہانڈی کے مانند ہے جب تک اس کا مدار توکل اوراعتماد علی اللہ پر رہے گا، یہ مدرسہ ترقی کرتا رہے گا۔

          بفضلہ تعالیٰ آج بھی دارالعلوم ترقی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے، اس کے خلاف جب بھی غیروں نے سازشیں رچی ہیں، تو خدائے قدوس نے ان کی سازشوں کو ناکام کردیا ہے، اسی لیے آج ساری باطل دنیا کی نگاہیں، اس کی ترقی وشہرت کو متزلزل کرنے میں لگی ہیں، مگر قاضیِ تقدیر ہمیشہ اس کی ترقی کا فتویٰ دیتا ہے اور دے رہا ہے اوران شاء اللہ دیتا رہے گا۔ (والحمد علی ذلک)

          ”نودرے“ کی بالائی منزل ”دارالحدیث فوقانی) کی تعمیر ۱۳۵۳ھ میں شروع ہوگئی؛ جب کہ اس سے پہلے دارالحدیث بنی ہے؛ لیکن جب دارالعلوم کی ترقی روز افزوں اور طلبہ کی کثرت ہوتی چلی گئی، اس کی ضرورت کا احساس شدید ہوتا چلا گیا، جس کے باعث فوقانی دارلحدیث کا قیام عمل میں آیا اور چند سالوں میں ایک عظیم الشان ”ہال“ تعمیر ہوا۔

          احاطہٴ مولسری کی دوجانبوں میں قرأت اور تجوید کی درس گاہیں ہیں، جن سے اٹھنے والی روح پرور قرآن پاک کی شیریں تلاوت ”قال اللہ وقال الرسول“ کا حسین امتزاج پیدا کرتی ہے۔ اس شعبہ کی ابتدا، ۱۳۲۱ھ میں ہوئی اور فراغت کے لیے اس کا التزام ۱۳۵۱ھ میں ہوا ہے، اس کے اغاز کے وقت خدا کا کرشمہ دیکھیے کہ جس طرح دارالعلوم کا آغاز ایک استاذ اور ایک شاگرد سے ہوا تھا، اسی طرح یہ شعبہ بھی ایک استاذ اورایک شاگرد سے شروع ہوا ہے، استاذ تھے جناب قاری عبدالوحید خاں الٰہ آبادی اور شاگرد تھے حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب۔

          دارالعلوم نے جس طرح لاکھوں ماہرین پختہ کار علماء پیدا کیے ہیں، جو اپنے میدانِ علم وعمل کے فردِ فرید ہیں، اسی طرح دارالعلوم نے ماہرین قراء، بہترین مُجودین کو پیدا کیا ہے،جو اپنی مثال قائم کیے ہوے ہیں۔

          چونکہ دارالعلوم ۱۳۵۱ھ سے فضلاء کے لیے قرأت وتجوید کا پڑھنا لازم قرار دیا ہے؛ اس لیے کوئی بھی فاضل اپنی علمی تکمیل اس کے بغیر نہیں کرسکتا، یہ سچ ہے کہ دارالعلوم نے اپنے فارغین کو ”قال اللہ وقال الرسول“ کی عملی تفسیر بناتا ہے۔ مزید اس کی بہترائی کے لیے کوشاں اور نیک مفید مشوروں کا خواہاں بھی ہے، اسی لیے دنیا اس کے فضلاء کو آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔

          اس کے علاوہ چند ذیلی شعبہ ہیں، جیسے شعبہٴ تبلیغ، شعبہٴ اوقاف، شعبہٴ برقیات، وغیرہ، جو تندہی سے اپنے کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔

          دارالعلوم کے ذکرِ خیر کے وقت دارالتفسیر، دارالحدیث، دارالافتاء، دارجدید، جامع رشید، باب الظاہر، مدنی گیٹ وغیرہ کا تذکرہ ضروری ہے؛ مگر چوں کہ اس مضمون کو احاطہٴ مولسری اوراس کے شعبہ جات سے متعارف کرانا تھا، اس لیے ان کے تذکروں کو ان شاء اللہ ایک مستقل مضمون میں بیان کیاجائے گا۔

دارالعلوم کا علمی اور تربیتی احاطہ ”احاطہ مولسری“ تاریخ ، واقعات اور روحانیت

از: عبید اللہ فاروق قاسمی بارہ بنکوی مدرسہ ضیاء الحرم جبری خورد، بارہ بنکی

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/06-Darululoom%20ka%20ilmi%20aur%20tarbiyati...._MDU_01_January_12.htm