Tuesday, 9 October 2018

ایک مجلس کی تین طلاق

ایک مجلس کی تین طلاق

احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں

تین طلاق کا جواز اور وقوع، احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے ثابت ہے۔

خود کو بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

آج کل ایک مجلس کی تین طلاق کا مسئلہ پورے ہندوستان بلکہ عالمی پیمانے پر اچھالا جارہا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک مانی جائے گی تین نہیں، اور انتہائی جرأت و بے باکی سے کہا جارہا ہے کہ ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایک حدیث بھی مجلس کی تین طلاق کی حمایت میں نہیں وارد ہوئی ہے، اور طلاق ثلاثہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری حاصل نہیں ہے“ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ”طلاق انسان کا بنایا ہوا قانون ہے اور یہ دعویٰ کرنا کہ طلاق کا قانون وحی پر مبنی ہے کھلی بے ایمانی ہے۔“

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت کے نزدیک بیوی کو طلاق دینا انتہائی مبغوض اور مکروہ فعل ہے، طلاق کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابغض الحلال کہا ہے(رواہ ابن ماجہ:۲۰۱۸) اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: اگر میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوجائے تو (مطلقاً طلاق کے بجائے) باہمی صلح و مصالحت کاطریقہ اختیار کرو بایں طور کہ شوہر کے گھرانے سے ایک ذمہ دار شخص اور عورت کے گھرانے سے ایک ذمہ دار شخص صلح مصالحت کی کوشش کریں۔ (سورہ نساء:۳۵)

لیکن اگر صلح مصالحت سے کام نہ چلے اور میاں بیوی میں اتفاق کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو مجبوراً طلاق جیسے مبغوض عمل کی شریعت نے اجازت دی ہے، اب شوہر کتنی طلاق دے، ایک، دو، یا تین۔ نیز تین طلاق دینے کی صورت میں ایک ہی طہر میں تینوں دے یا الگ الگ طہر میں اور اگر ایک طہر میں تین طلاق دے رہا ہے تو ایک مجلس میں دینا چاہئے یا الگ الگ تین مجلس میں۔ ان سب چیزوں کا بیان مندرجہ بالا آیت میں نہیں ہے، بلکہ ان میں سے بعض کا بیان قرآن کریم کی دوسری آیات میں ہے اور بعض چیزوں کا بیان قرآن کریم میں سرے سے ہے ہی نہیں، ان کا ذکر صرف احادیث صحیحہ میں ہے، جس کی تفصیل مالہ و ما علیہ کے ساتھ درج ذیل ہے:

طلاق کی قسمیں

طلاق کی تین قسم ہے:

(۱) طلاق احسن، یعنی شوہر بیوی کو ایک طلاق دے، ایسے طہر میں جو جماع سے خالی ہو اور اسی حالت پر بیوی کو چھوڑ دے تا آں کہ عدت پوری ہوجائے یا رجوع کرنا چاہے تو زمانہٴ عدت میں رجعت کرلے۔

(۲) طلاق کی دوسری قسم طلاق حسن ہے، یعنی مدخول بہا عورت کو تین طلاق الگ الگ طہر میں دے۔

(۳) تیسری قسم کو طلاق بدعی کہتے ہیں۔ اس کی دو صورت ہے: پہلی صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاق (الگ الگ مجلس میں) دے۔ (ہدایہ: ۱/۲۲۱، مطبوعہ بیروت، ۱۹۹۵/)

اول الذکر دو قسموں کا ذکر قرآن وحدیث دونوں میں موجود ہے، پہلی قسم کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے: یا أیہا النبي اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن (سورہ طلاق:۱) اے نبی جب آپ طلاق دیں عورتوں کو تو ان کو طلاق دیجئے ان کی عدت پر۔ یعنی طہر میں طلاق دیجئے تاکہ اسکے بعد والا حیض عدت میں شمار ہوجائے اور حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دے دی، حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کہا کہ ابن عمر کو رجعت کرلینا چاہئے اور بیوی کو نکاح میں باقی رکھنا چاہئے تاآں کہ عورت کو دوسرا حیض آجاوے اور اس حیض سے پاک ہوجاوے تو اب اگر ابن عمر کو مناسب معلوم ہو تو بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو الخ۔ (نسائی۳۳۹۱، بخاری ۵۲۵۱، مسلم ۱۴۷۱، ابن ماجہ ۲۰۱۹)

طلاق کی دوسری قسم کا ذکر اس آیت میں ہے: الطلاق مرتان، فامساک بمعروف أو تسریح باحسان (سورہ بقرہ: ۲۲۹) طلاق رجعی دوبار ہے، اس کے بعد دستور کے موافق بیوی کو رکھنا ہے یا بھلے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔ یعنی طلاق جس میں رجعت ہوسکے کل دوبار ہے، ایک یا دوطلاق تک تو اختیار دیاگیا کہ عدت کے اندر مرد چاہے تو عورت کو پھر دستور کے موافق رکھ لے یا بھلی طرح سے چھوڑ دے، پھر عدت کے بعد رجعت باقی نہیں رہتی۔ ہاں اگر دونوں راضی ہوں تو وہ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں اوراگر تیسری بار طلاق دے گا تو پھر ان میں نکاح بھی درست نہیں ہوگا جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے نکاح کرکے صحبت نہ کرلیوے۔ (ترجمہ شیخ الہند)

اور طلاق کی دوسری قسم کا ذکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ہے کہ : سنت طریقے پر طلاق یہ ہے کہ شوہر ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو، پھر عورت کو حیض آوے اور حیض سے پاک ہوجائے تو دوسری طلاق دی جائے، پھر عورت تیسرے حیض سے بھی پاک ہوجائے تو تیسری طلاق دے اور اب عورت ایک حیض عدت گزارے گی۔ (اخرجہ النسائی ۳۳۹۴، وابن ماجہ ۲۰۲۱)

اور مذکورہ دونوں قسموں کا مجموعی ذکر اس آیت میں ہے : واذا طلقتم النساء فبلغن أجلہن فأمسکوہن بمعروف أو فارقوہن بمعروف (بقرہ: ۲۳۱) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک طلاق، یا دو طلاق الگ الگ طہر میں دینے کی صورت میں رجعت کا حق صرف عدت تک ہے کہ عدت گزرنے سے پہلے یا تو رجعت کرے (اگر بھلے طریقے پر رکھناہے) یا بھلے طریقے پر چھوڑ دے اورعدت گزرجائے۔

مندرجہ بالا تینوں آیتوں میں اللہ نے یہ بیان کیا ہے کہ دو طلاق تک شوہر کو عدت کے زمانے میں رجعت کا حق باقی رہتا ہے۔ عدت گزرنے کے بعد رجعت کا حق باقی نہیں رہتا ہے بلکہ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور تین طلاق دینے کی صورت میں زمانہٴ عدت میں نہ تو رجعت کا حق باقی رہتا ہے اور نہ ہی عدت کے بعد اس سے نکاح درست ہے جب تک دوسرا شوہر اس سے نکاح کرکے صحبت نہ کرلے۔

قرآن کریم میں طلاق کی صرف دو قسموں کو ذکر کرنے کی حکمت و مصلحت دوسری آیات میں ملتی ہیں، ارشاد باری ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً (طلاق:۲) ومن یتق اللہ یجعل لہ من أمرہ یسرًا (طلاق:۴) لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک أمرًا (طلاق:۱) یعنی طلاق کی بابت جو اللہ سے ڈرے اوراس کے بنائے ہوئے طریقے کے مطابق طلاق دے تو ممکن ہے کہ اللہ اس پر رحم و کرم اور نرمی کا معاملہ کریں اور کوئی سبیل پیدا فرمادیں بایں طور کہ طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ شوہر کے دل میں بیوی کی محبت پیدا کردیں اور شوہر بیوی کو چاہنے لگے اور رجعت کرلے، اور ظاہر ہے کہ تین طلاق دینے کی صورت میں رجعت نہیں کرسکتا۔

مندرجہ بالا آیتوں میں سے کسی ایک بھی آیت میں - تیسری قسم کا بیان ہے ہی نہیں کہ جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دیدی تو اس کا کیا حکم ہے، قرآن نے اس کا ذکر ہی نہیں چھیڑا ہے بلکہ اس کا ذکر صرف احادیث صحیحہ شریفہ میں آیا ہے، اس لیے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ماننے پر قرآن کریم سے استدلال جس طرح غلط ہے اس سے کہیں زیادہ غلط یہ نظریہ ہے کہ ”ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک مانا جائے، تین ماننا قرآن کے خلاف ہے“ اس لئے کہ جب قرآن میں سرے سے اس کا ذکر ہی نہیں ہے تو ایک ماننے کو قرآن کے حکم کے موافق اور تین ماننے کو قرآن کے خلاف بتانا کہاں کا انصاف ہے؟ اور تمام اصولیین کے نزدیک یہ قاعدہ مسلم ہے کہ جب کوئی حکم قرآن میں مذکور نہ ہو تو احادیث کی طرف رجوع کیاجائے گا اور احادیث کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اور اس صورت میں حدیث ”جاء بحکم لم یُذکَر فی القرآن الکریم“ کے قبیل سے ہوگی۔

طلاق ثلاثہ اور ائمہ مجتہدین

پہلے ہم ایک مجلس کی تین طلاق کی بابت ائمہ اربعہ رحمہم اللہ (جو اسلام کے سب سے اعلیٰ اور ممتاز ترین ماہر قانون تھے) کا نظریہ ذکر کریں گے کہ ان حضرات نے مجلس کی تین طلاق کو ایک مانا ہے یا تین۔ پھر ان احادیث و آثار کو ذکر کریں گے جن میں ایک مجلس کی تین طلاق کا ذکر ملتا ہے کہ ان احادیث و آثار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا فیصلے اور فتاوے صادر فرمائے ۔

امام نووی ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں ائمہ اربعہ کا نظریہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو اپنی بیوی سے انت طالق ثلاثا کہے (میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں) امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف و خلف اس بات کے قائل ہیں کہ تینوں واقع ہوجائیں گی۔ (شرح نووی علی صحیح مسلم: ۵/۳۲۸، تحقیق حازم محمد و اصحابہ، طباعت:۱۹۹۵/)

امام نووی کے اس بیان سے معلوم ہوگیا کہ ائمہ اربعہ نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ہی مانا ہے، ایک نہیں مانا، لیکن افسوس غیرمقلدین پر نہیں ہے بلکہ حیرت اور تعجب ان لوگوں پر ہے جو اپنے آپ کو مقلد بھی ظاہر کرتے اور کہتے ہیں۔ پھر بھی ائمہ اربعہ کے مسلک کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے پر اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تین ماننا اسلامی انصاف اور قانون کو مسخ کرنا ہے۔ اب ہم ان احادیث کو ذکر کریں گے جن میں ایک مجلس کی تین طلاق کا ذکر ملتا ہے۔

طلاق ثلاثہ اور احادیث

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس عورت نے دوسرا نکاح کرلیا، دوسرے شوہر نے بھی (قبل الوطی) طلاق دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پہلے مرد کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک دوسرا شوہر پہلے شوہر کی طرح لطف اندوز نہ ہولے۔ (صحیح بخاری: ۵۲۶۱، صحیح مسلم:۱۴۳۳)

ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے والے حضرات کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ”طلق امرأتہ ثلاثًا“ میں ثلاث سے مراد ثلاث مفرقہ ہے یعنی یہ تینوں طلاقیں ایک مجلس میں نہیں دی گئی تھیں اس لئے اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز پر استدلال فاسد ہے۔

لیکن ان حضرات کا ثلاث سے ”ثلاثل مفرقہ“ (تین طہر میں ایک ایک کرکے طلاق دینا)مراد لینا غلط ہے بلکہ ثلاث سے مراد ثلاث مجموعہ (ایک ہی دفعہ تینوں طلاق دینا) ہے کہ صحابی نے دفعة واحدہ (ایک مجلس میں) تینوں طلاق دی تھی، ثلاث مفرقہ مراد لینا خلاف ظاہر ہے اوراس پر کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے، اس کے برعکس ثلاث مجموعہ مراد لینا ظاہر لفظ کے عین مطابق ہے۔ نیز ثلاث مجموع کے متعین ہونے کی تائید امام بخاری جیسے حدیث داں اور محدث کے ترجمة الباب سے ہوتی ہے۔ موصوف اس حدیث پریوں باب قائم کرتے ہیں: باب من جَوّز الطلاقَ الثلاث، اور شارح بخاری حافظ ابن حجر ترجمة الباب کی اس طرح وضاحت کرتے ہیں: ہذا یرجح أن المراد بالترجمة بیان من أجاز الطلاق الثلاث ولم یکرہہ، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ترجمة الباب کا مقصداس امر کا بیان ہے کہ تین طلاقوں کو جائز قرار دیا اوراس کو مکروہ نہیں سمجھا۔ (فتح الباری: ۹/۳۶۷)

۲- ایک مجلس کی تین طلاق کے جائز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رفاعہ قزطی کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور کہا کہ اے اللہ کے رسول: ان رفاعة طلقنی فَبَتَّ طلاقی کہ رفاعہ نے مجھے طلاق قطعی دیدی (عدت گزرنے کے بعد) میں نے عبدالرحمن بن الزبیر سے نکاح کرلیا لیکن ان کے اندر قوت رجولیت ختم ہوگئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہاری خواہش یہ ہے کہ پھر رفاعہ کی زوجیت میں چلی جاؤ، ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ (عبدالرحمن) تم سے اور تم اس سے لطف اندوز نہ ہولو۔ (بخاری: ۵۲۶۰)

حضرت عائشہ کی پہلی حدیث اور یہ حدیث دونوں الگ الگ ہے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور دونوں حدیث کو الگ الگ واقعے پر محمول کیا ہے۔

مجلس کی تین طلاق کا انکار کرنے والے اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں طلاق البتہ کا ذکر ہے تین طلاق کا ذکر نہیں ہے، لیکن یہ کہنا کم علمی کی دلیل ہے اس لیے کہ خود امام بخاری نے کتاب اللباس میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں ”ثلاث تطلیقات“ ہے کہ رفاعہ نے تین طلاق دی تھی۔ طلاق البتہ (مغلظہ) نہیں دی تھی یہ راوی کا اپنا بیان ہے۔

اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس تین طلاق سے کیا مراد ہے، ثلاث مجموعہ مراد ہے کہ ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی یا ثلاث مفرقہ مراد ہے کہ الگ الگ مجلس میں طلاق دی تھی، مجلس کی تین طلاق کا انکار کرنے والے ثلاث مفرقہ ہی مراد لیتے ہیں؛ لیکن امام بخاری کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ رفاعہ نے ایک مجلس میں تینوں طلاق دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا جیسا کہ حلالہ کی بات سے پتہ چلتا ہے، لہٰذا تین طلاق کے منکرین کی بات یہاں بھی غلط ثابت ہوگئی اور مجلس کی تین طلاق کا جواز اور ثبوت اس حدیث سے بھی ثابت ہوگیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ”فتح الباری“: ۹/۳۶۷، ۴۶۸)

۳- فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں: طلقنی زوجی ثلاثًا وہو خارج الی الیمن فأجاز ذلک رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وسلم (میرے شوہر حفص بن عمرو نے مجھے تین طلاق دیدی اور وہ یمن کے سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز یعنی نافذ قرار دیا) اخرجہ ابن ماجہ ۲۰۲۴۔

اس روایت میں اضطراب دکھلانے کی بے جا کوشش کی جاتی ہے کہ بعض روایت میں ہے کہ پہلے فاطمہ کو دو طلاق دی گئی تھی پھرتیسری طلاق دی، اور بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حفص نے طلاق البتہ دی تھی اور بعض روایت میں مطلق طلاق کا ذکر ہے تعداد کا ذکر ہی نہیں ہے۔ (دیکھئے: التعلیق المغنی علی الدار قطنی: ۴/۱۱)

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حفص نے تین طلاق دیا تھا اور ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دیا تھا، اس لیے کہ دار قطنی کی روایت میں ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے پاس کچھ لوگوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کے مکروہ ہونے کا تذکرہ کیا، ابوسلمہ نے کہا کہ حفص بن عمرو نے فاطمہ بنت قیس کو ایک مجلس میں تین طلاق دیا تھا لیکن کسی روایت سے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی ہو۔ (اخرجہ الدارقطنی: ۴/۱۱)

الغرض مذکورہ روایت میں اضطراب نہیں ہے بلکہ دار قطنی کی روایت کی وجہ سے تین طلاق کی روایت کو ترجیح دی جائے گی اور حدیث مضطرب میں سے کسی ایک کو دوسرے پر راجح قرار دینے کے بعد اس کا اضطراب ختم ہوجاتا ہے، رہا یہ سوال کہ دارقطنی کی روایت کو ترجیح کیوں دی گئی تواس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اس کے الفاظ کا اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور ان کے درمیان تطبیق ہوجائے گی ورنہ کم از کم دارقطنی کی روایت کو ترک کرنا پڑے گا اگر ترجیح کی کوئی دوسری صورت اختیار کی گئی۔

نیز امام ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حفص نے ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی؛ موصوف اس حدیث پر یوں عنوان لگاتے ہیں: من طلق ثلاثًا فی مجلس واحد جس نے ایک مجلس میں تین طلاق دی،اور حضرت فاطمہ بنت قیس کی تطلیق کی مذکورہ روایت کو بہ سند ذکر کیا ہے۔

۴- شروع میں حضرت ابن عمر کی تطلیق (طلاق دینے) کی جو حدیث گزری ہے اس کے بعض طرق میں حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: فقلت (ابن عمر): یا رسول اللّٰہ أرأیت لو أنی طلقتہا ثلاثًا أکان یحل لی أن أراجعہا؟ قال: لا، کانت تبین منسک، وتکون معصیة (اخرجہ البیہقی: ۷/۳۳۴) صحیحین کے الفاظ یہ ہیں: وکان عبداللہ (بن عمر) اذا سئل عن ذلک قال: ان کنت طلقتَہا ثلاثا فقد حرمت علیک حتی تنکح زوجاً غیرہ․

بیہقی کی روایت کی وجہ سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ اس میں حضرت ابن عمر نے ثلاث مجموعہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے کہ کلمہ واحدہ میں تین طلاق دینے کے بعد رجعت کرنا درست ہے یا نہیں (یعنی تینوں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اب رجعت نہیں کرسکتے؛ اس لیے کہ طلاق کے بعد رجعت کا حق ختم ہوجاتا ہے اور تین طلاق دینا (ایک مجلس میں) گناہ ہے۔

اس روایت میں ثلاث مجموعہ کے متعین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی، اور آپ کا ارادہ یہ تھا کہ حیض سے پاک ہوجانے کے بعد طہر میں پھر طلاق دوں گا پھر حیض سے پاک ہوجانے کے بعد تیسری طلاق دوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حیض میں طلاق دینے پر نکیر فرمائی کہ تم کو پہلی طلاق حیض کے بجائے طہر میں دینا چاہئے تھا، سنت طریقہ یہی ہے، تم رجعت کرلو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت طریقے کی وضاحت بھی فرمادی تاکہ بقیہ دو طلاق کے استعمال میں ابن عمر غلطی نہ کریں اگرچہ ان کا ارادہ پہلے ہی سے تھا کہ بقیہ دو طلاق طہر میں دوں گا۔ (امام ابن تیمیہ نے ”منتقی الاخبار“ میں ابن عمر کے تطلیق کے قصے میں دار قطنی کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے اس کا مفاد وہی ہے جو ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: منتقی الاخبار مع شرحہ نیل الاوطار: ۴/۳۲۱، رقم ۲۸۵۲) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ثلاث مفرقہ کا حکم خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی حضرت ابن عمر کو بتادیا تھا، دوبارہ ابن عمر جیسا شخص اس کے بارے میں پھر سوال کرے یہ ممکن نہیں ہے۔

بیہقی کی روایت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں ایک راوی عطاء خراسانی ہے اور یہ ضعیف ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ابن معین، امام ابوحاتم، امام نسائی، دارقطنی اور ابن سعد وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے اور عطاء سنن اربعہ اور مسلم کے رجال میں سے ہیں، لہٰذا ان کو ضعیف کہنا غلط ہے۔ (دیکھئے ”تہذیب التہذیب:۷/۲۱۳،۲۱۴، عطاء خراسانی کا ترجمہ)

۵- حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے لعان کی حدیث صحیحین وغیرہ میں ہے، اس حدیث کے آخر میں حاضر واقعہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فتلاعنا و أنا مع الناس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلما فرغا قال عویمر: کذبت علیہا یارسول اللہ ان أمسکتہا، فطلقہا ثلاثًا قبل أن یأمرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بخاری ۵۲۵۹، مسلم ۱۴۹۲) ابوداؤد کے الفاظ یہ ہیں: فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سنن ابی داؤد، حدیث ۲۲۵۰)

ترجمہ: حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ان دونوں (عویمر اور ان کی بیوی) نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ حاضر خدمت تھا، جب میاں بیوی لعان سے فارغ ہوگئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول (…) ! اگرمیں نے اس کو نکاح میں روک لیا تب تو میں نے اس پر غلط الزام لگایا ہے (اور الزام جھوٹا نہ ہونے کی وجہ سے) حضرت عویمر نے بیوی کو تین طلاق دیدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حکم صادر ہونے سے پہلے ہی۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ عویمر نے بیوی کو تین طلاق دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو نافذ بھی کردیا۔

یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ حضرت عویمر نے لعان کے بعد ایک ہی مجلس میں تین طلاق دی تھی، جیسا کہ ظاہر لفظ سے پتہ چلتا ہے، لیکن اس پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ لعان میں میاں بیوی کے درمیان جدائی نفس لعان سے ہوجاتی ہے طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے جب عویمر اور ان کی بیوی لعان سے فارغ ہوگئے تو ان کے درمیان فرقت ہوگئی اب عویمر کا طلاق دینا غیر محل (اجنبیہ) میں تھا۔ (دیکھئے : نیل الاوطار: ۴/۳۲۱، تحقیق عادل عبدالموجود و اصحابہ، مطبوعہ بیروت، طباعت:۲۰۰۰/)

حافظ ابن حجر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز پر استدلال اس بات سے ہے کہ جب حضرت عویمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مجلس میں تین طلاق دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر نہیں فرمائی، اگر تین طلاق دینا (ایک مجلس میں) ناجائز اورحرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور نکیر فرماتے، قطع نظر اس سے کہ فرقت تو نفس لعان سے ہوگئی یا نہیں، ان کی بیوی محل طلاق تھی یا نہیں۔ (دیکھئے : فتح الباری: ۹/۳۶۷)

۶- سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی شہید کردئیے گئے تو حسن بن علی کی بیوی عائشہ خثعمیہ نے آکر حضرت حسن سے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو، حضرت حسن نے کہا: امیرالمومنین کی شہادت پر مجھے مبارک باد دیتی ہے، جا! تجھے طلاق دیتا ہوں (ایک روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ دیکھئے : دارقطنی: ۴/۳۰) اور حضرت حسن نے کہا: اگر میں نے اس کو طلاق بائن نہ دی ہوتی تو میں اس سے رجعت کرلیتا، مگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے ہر طہر میں ایک طلاق، یا ہر مہینے کے شروع میں ایک طلاق یا بیک وقت (ایک مجلس میں) تین طلاق دے تواس کے لیے وہ عورت حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔ (اخرجہ الدارقطنی: ۴/۳۱، والبیہقی: ۷/۳۳۶)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اکٹھی تین طلاق دے چکنے کے بعد رجوع کرنا ایسا ہی حرام ہے جیساکہ متفرق طور پر تین طہر میں تین طلاقیں دینے کے بعد حرام ہے، اگر دفعة تین طلاقیں دینے کے بعد بھی رجوع کی کوئی امکانی صورت باقی ہوتی تو حضرت حسن ضرور مراجعت فرمالیتے۔

اس حدیث پر جو اعتراض کیاگیا ہے وہ بقول مولانا شمس الحق صاحب عظیم آبادی غیرمقلد یہ ہے کہ اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں، پہلا راوی عمروبن ابی قیس ہے اور دوسرا راوی سلمہ بن فضل ہے اور یہ بھی ان کے بقول ضعیف ہے۔ (دیکھئے: التعلیق المغنی علی الدارقطنی: ۴/۳۱)

لیکن غیرمقلد صاحب کا یہ اعتراض اصول حدیث کے پیش نظر کوئی وزن نہیں رکھتا اور مذکورہ حدیث حسن سے کسی طرح کم نہیں ہے؛ کیوں کہ عمروبن ابی قیس سے امام بخاری نے تعلیقاً روایت کیا ہے اور امام ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ نے ان سے استدلال کیا ہے، ابن حبان اور ابن شاہین ان کو ثقات میں لکھتے ہیں اور امام بزار ان کو مستقیم الحدیث سے یادکرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب: ۸/۹۴)

اسی طرح سلمہ بن فضل کی امام ابن معین نے ایک روایت میں توثیق کی ہے، علامہ ابن سعد ان کو ”ثقہ صدوق“ کہتے ہیں، امام ابوداؤد بھی ان کو ثقہ کہتے ہیں، امام احمد فرماتے ہیں کہ مجھے ان کے بارے میں خیر ہی معلوم ہے۔ (دیکھئے : تہذیب التہذیب لابن حجر: ۴/۱۵۳)

آثار صحابہ

ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز اور وقوع پر احادیث صحیحہ مرفوعہ سے استدلال کے بعداب ہم صحابہ کرام کے فتاویٰ اورآثار کو ذکر کررہے ہیں کہ صحابہ کرام نے مجلس کی تین طلاق کو ایک نہیں مانا ہے بلکہ تین مانا ہے اور وہ آثار درج ذیل ہیں:

۱- مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ابن عباس بیوی کو اس آدمی کے نکاح میں لوٹادیں گے، پھر ابن عباس نے کہا: تم لوگ حماقت کا کام کرتے ہو، پھر آکر چلاتے ہو اے ابن عباس، اے ابن عباس، اللہ فرماتا ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً، اور تم اللہ سے نہیں ڈرے اسلئے میرے یہاں تمہارے لئے کوئی سبیل نہیں ہے، تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔ (اخرجہ ابوداؤد:۲۱۹۷، والدارقطنی: ۴/۱۳)

۲- حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دیدی، حضرت ابن عباس نے کہا: تمہارے لئے کافی تھا کہ تین طلاق دیدیتے اور بقیہ نو سو ستانوے ترک کردیتے۔ (دارقطنی: ۴/۱۲)

۳- مدینہ میں ایک مسخرے آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دیدی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس استفتاء آیا، آپ نے کہا - کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس آدمی نے کہا نہیں، میری نیت طلاق - کی نہیں تھی میں تو مذاق کررہا تھا، حضرت عمر نے اس کو کوڑے لگائے اور کہا کہ تین طلاق دیناکافی تھا۔ (عبدالرزاق فی ”المصنف“ ۱۱۳۴۰، والبیہقی: ۷/۳۳۴)

۴-ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی ہے، آپ نے فرمایا: تین طلاق نے بیوی کو تم پر حرام کردیا۔ یعنی بقیہ نوسو ستانوے لغو ہوگئیں۔ (بیہقی: ۷/۳۳۵)

۵- محمد بن ایاس کہتے ہیں کہ: ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم تینوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو قبل الدخول طلاق دے دی، تینوں نے کہا: عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے (ابوداؤد:۲۱۹۹) بیہقی کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ : ابن عباس اور ابوہریرہ نے اس آدمی کی مذمت نہیں کی کہ اس نے تین طلاق کیوں دی اور نہ ہی عبداللہ بن عمرو نے یہ کہا کہ تین طلاق دے کر تم نے بہت برا کام کیا۔ (اخرجہ البیہقی: ۷/۳۳۰)

۶- حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تماضر بنت الاصبغ کو کلمہ واحدة (ایک مجلس میں) تین طلاق دیدی، عبدالرحمن کے شاگرد ابوسلمہ کہتے ہیں کہ کسی روایت سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کسی صحابی رسول نے آپ پر نکیر کی ہے۔ (دارقطنی: ۴/۱۲)

۷- مسلمہ بن جعفر احمسی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ جعفر بن محمد سے پوچھا کہ : بعض حضرات کہتے ہیں کہ جس نے نادانی میں بیوی کو طلاق دے دی تواس کو سنت کی طرف لوٹایا جائیگا، یعنی ایک طلاق واقع ہوگی اور اس بات کو آپ سے روایت کرتے ہیں۔ جعفر بن محمد نے کہا: اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، ہم نے اس طرح کی بات نہیں کہی ہے بلکہ جس نے تین طلاق دی تواس کے قول کا اعتبار ہوگا۔ یعنی تین طلاق واقع ہوگی۔ (اخرجہ الامام البیہقی: ۷/۳۴۰)

طلاق ثلاثہ کے ان ناقابل تردید حقائق و شواہد کے باوجود، ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے پر اصرار کے پس پردہ نفسانی خواہشات کی پیروی کے علاوہ اور کون جذبہ ہوسکتا ہے۔ اور اب تو مسلمانوں کا ایک روشن خیال طبقہ مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کرنے لگا ہے اور بڑے جذباتی انداز میں تین طلاق کے حکم کو کالعدم قرار دینے اور عورتوں کو طلاق کا حق دینے کی تحریک چلارہا ہے، ایسے تجدد پسندوں میں تقلید کے مخالفین نمایاں نظر آتے ہیں۔

اگر ایسے دانشور حضرات واقعی مسلمانوں کے ہمدرد ہوتے اور اسلام کی حقیقت پر دل سے ایمان رکھتے تو طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا کرنے کی تحریک چلاتے کہ تین طلاق دینا اگرچہ جائز ہے لیکن اسلام نے اس حرکت کو مبغوض ترین عمل قرار دیا، اس جائز پر عمل نہ کرنا ہی افضل ہے کسی ایسے عمل کے جواز سے جس کی قباحت بھی واضح انداز میں بیان کردی گئی ہے بچنا اصل امتحان اور دینی بیداری کا ثبوت ہے، مگر جدید ذہن کے دانشوروں کو تو اسلام میں تحریف کرنے کا اتنا ارمان ہے کہ وہ کسی طرح سے بھی اسلام کو جدید نصرانیت سے ہم آہنگ کرنے کے مشتاق ہیں ان کو اسلام کی کاملیت اور جامعیت پر فخر نہیں بلکہ مغربیت کی نقالی کرنے اور اسلامی قوانین پر اعتراض کرکے اپنے آپ کو روشن خیال مسلمان ثابت کرنے کا جنون ہے۔

ان حضرات سے میری تو یہی گذارش ہے کہ رسماً اسلام کو تھامے رکھنے کی بجائے یہ نفس پرست مفکرین اپنا کوئی نیا راستہ ہی اختیار کرلیں نہ مسلمانوں کو ان کے مشوروں کی ضرورت ہے نہ اسلام کو ان کی حاجت ہے نہ ہی ایسے افراد مغربیت کیلئے موزوں ہیں اسلئے کہ خمیر میں ہندستانیت ہے، مزاج میں مغربیت ہے، زبان پر مسلمانوں سے ہمدردی اور دل میں لیڈرشپ اور اقتدار کی ہوس۔ یہ زرخرید ذہن والے صرف اخبار کی سرخیوں میں رہنے اور ملت کے نام پر فتنہ انگیزی میں مشغول رہنے کے شوقین ہیں۔ بہرحال یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ایسے افراد ہر دور میں گذرے ہیں۔

جہاں تک عورت کو حق طلاق دینے کی بات ہے تو اسلام نے کب منع کیا ہے، اگر آپ واقعی اتنے حساس ہیں تو اپنی بیوی کو حق طلاق تفویض کردیجئے اپنے بچوں کو حکم دیں کہ وہ نکاح کرتے وقت اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار سونپ دیں۔ پھر عورت کی بالادستی کا یورپی منظر اپنے گھروں میں عملاً دیکھیں۔ انشاء اللہ ایک بھی عالم دین نہیں کہنے جائے گا کہ آپ نے عورت کو طلاق دینے کا حق کیوں دیدیا ہے۔

رہ گئی یہ بات کہ علماء کرام قانون بناکر عورتوں کو اسلام کی طرف سے طلاق دینے کا ویسا ہی حق دیدیں جیسا کہ یورپ میں یہ کورٹ میرج میں مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرے کو طلاق دینے کا حق ہوتا ہے، تو اسلام بہرصورت ایسا حق عورتوں کو نہیں دے سکتا وہ مردوں کو قوام کہتا ہے تواس کے بعد عورتوں کو قوام بنانا خلاف فطرت بھی ہے اور خلاف عقل بھی ہے۔ پہلے یہ دانشوران قوم مرد و عورت کی تخلیقی حقیقت، مزاج و طبیعت کو سنجیدگی سے مطالعہ و تحقیق کے ذریعہ جانیں پھر اس موضوع پر لب کشائی کریں.
از: ابوطلحہ قاسمی خیرآبادی
http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1464411231%2004-Ek%20Majlis%20Ki%20Tin%20Talaq_MDU_05_May_2005.htm

____________________________

Monday, 8 October 2018

دوسری شادی

دوسری شادی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تعالی: فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع (القرآن)
(پس تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چا ر)
17 فروری بروز جمعرات لاہور میں جامعہ منظور الاسلامیہ کے استاذ حدیث اورحضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب زید مجدھم کے خلیفہ مجاز صوفی محمد اکرم صاحب زید لطفہ کے ہاں مقیم تھا کہ صبح ناشتے کے موقع پر دوسری شادی کے موضوع پر بات چھڑ گئی۔ اس مجلس میں مولانا محمد اکرم صاحب کے علاوہ حضرت مولانا صوفی محمد سرور مجدھم کے بڑے صاحبزادے مولانا عتیق الرحمن صاحب، سعودی عرب میں بیس سال گزار کر پاکستان آئے ہوئے قاری عطاء الرحمن صاحب اور حافظ جی (صوفی محمد اکرم صاحب کے سسر) کے علاوہ چند دوسرے ساتھی بھی موجود تھے، دوسری شادی کے موضوع پر سب سے زیادہ پر جوش اور مخلص قاری عطاء الرحمن صاحب تھے جن کے اخلاص کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ میں اپنی بیٹیاں صرف ان حضرات کے نکاح میں دوں گا جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہوں گے انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ لوگ چور اچکوں، رشوت خوروں، بے نمازوں اور گمراہوں کو اپنی بیٹیاں دے دیتے ہیں مگر انہیں نہیں دیتے جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
حافظ صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ماحول کچھ ایسا بن گیا ہے کہ دوسری شادی گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے اس حوالے سے انہوں نے اپنا تجربہ سناتے ہوئے بتایا کہ کئی سال پہلے میں نے اپنی اہلیہ کی علالت کی وجہ سے دوسری شادی کا ارادہ کیا تو اس کے مثبت اور منفی دو نتیجے نکلے ۔مثبت نتیجہ تو یہ نکلا کہ اہلیہ بھلی چنگی ہوکر کھڑی ہوگئی کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں اور منفی نتیجہ یہ نکلا کہ رشتہ داروں نے طعنے دے دے کر جینا دو بھر کر دیا ۔ میں جب اپنے گائوں میں گیا تو ان میں سے بعض پوری سنجیدگی سے کہتے تھے: ’’حافظ جی! اساں تے تہانوں شریف آدمی سمجھدے ساں‘‘ (ہم تو آپ کو شریف آدمی سمجھتے تھے)
شور کوٹ میں ایک مدرسے کے شیخ الحدیث جو کہ مجاز بیعت بھی ہیں انہوں نے دوسری شادی کرلی تو کئی مریدوں نے بیعت توڑدی۔ ایک مریدنی نے خط لکھا کہ پہلے میں تہجد میں آپ کے لئے دعا کیا کرتی تھی اب بد دعا کرتی ہوں ایک سلجھا ہوا اور صاحب ثروت ڈاکٹر ان کے گھر میں راشن دیا کرتا تھا، اس نے راشن بند کر دیا ۔کئی دوسرے دوستوں نے قطع تعلقی کر لی ۔
یہ ایک واقعہ نہیں اس جیسے بے شمار واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت اور دجالی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کے نصوص ، حدیث کی تصریحات ، انبیاء کے حالات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت، قدیم اور جدید مشاہدات و تجربات اور عقلی و نقلی دلائل سے نہ صرف تعدد ازواج کا ثبوت ملتا ہے بلکہ اس مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے فوائد اور اس سے اعراض کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔ مانا کہ ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں رہا مانا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کی زبانیں کھلتی اور انگلیاں اٹھتی ہیں مانا کہ دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرنے والے کو عیاش اور شہوت پرست سمجھا جاتا ہے، مگر کیا محض رسم و رواج اور طعن و تشنیع کے ڈر سے اللہ اور رسول کے حکموں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ؟ خواہ اس کے نتیجے میں لاکھوں بیٹیاں بے نکاحی بیٹھی رہیں، بدکاری عام ہوتی رہے؟
کون نہیں جانتا کہ فطرتاً مرد تعدد پسند ہے ۔ اس کے اس فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں بعض عرب ممالک میں ’’نکاح یسیر‘‘ کے جواز کی بات چل رہی ہے۔ اہل مغرب نے مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ ہر رات نئی عورت کے ساتھ گزار سکتے ہیں. اس میں شک نہیں کہ اکثر مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ پوری زندگی گزاردیتے ہیں اور اس پر مطمئن رہتے ہیں مگر ہر مرد ایسا نہیں ہوتا۔ بے شمار ایسے بھی ہیں جو تعدد چاہتے ہیں شریعت انہیں اجازت بھی دیتی ہے مگر وہ پہلی بیوی یا اپنے خاندان اور معاشرے کے عام افراد کے طعنوں کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتے پھر یا تو دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ناجائز تعلقات کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ اسلام فطری اور جائز راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے یعنی اپنے حالات کے مطابق دو دو، تین تین اور چار چار شادیاں کرلو۔
قاری عطاء الرحمن صاحب کا کہنا یہ تھا کہ اس صورت حال کی کچھ ذمہ داری علماء پر بھی عائد ہوتی ہے جن میں سے بعض تعدد کا جواز تو بیان کر دیتے ہیں مگر نہ تو خود دوسری شادی کرتے ہیں نہ دوسری کی خواہش رکھنے والوں کو رشتہ دیتے ہیں حالانکہ بسا اوقات نا تجربہ کار نوجوانوں کے مقابلے میں پختہ عمر والے زیادہ با وفا اور سنجیدہ ہوتے ہیں ۔
قاری صاحب کی درد بھری اور معقول گفتگو سے متاثر ہوکر مولانا عتیق الرحمن صاحب نے تجویز پیش کی کہ ایسی جماعت تشکیل دی جائے جو نہ صرف تعدد ازواج جیسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کی تحریک چلائے بلکہ شریعت کے حکم کے مطابق وراثت کی تقسیم پر بھی مسلمانوں کو آمادہ کرے اس سلسلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس تحریک کے علمبرداروں کو سب سے پہلے خود عملی نمونہ بن کر دکھانا چاہئے ۔ چنانچہ قاری صاحب نے مجھے ترغیب دی کہ سب سے پہلے آپ دوسری شادی کریں بلکہ اسی مجلس میں اعلان کر دیں۔ رشتے کی ذمہ داری میرے اوپر ہے ایک اچھی شکل و صورت والی حافظہ عالمہ آپ کے لئے موجود ہے۔ آپ بس رضامندی ظاہر کر دیں مگر میں نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیے بغیر رشتہ قبول کرنے سے معذرت کرلی۔
اللہ کی قسم ! یہ بھی محض قرآن کی نسبت اور خدمت کی برکت ہے کہ ایک معذور اور صاحب اولاد انسان کو اچھے اچھے رشتوں کی پیش کش ہو رہی ہے اور وہ بھی بغیر کسی تگ و دو اور سلسلہ جنبانی کے ۔
الحمد للہ ! میں شروع ہی سے تعدد ازواج کا قائل رہا ہوں اور اس موضوع پر لکھنے والوں کی نہ صرف میں نے حوصلہ افزائی کی بلکہ ان میں سے بعض کی کتابوں پر تقریظ لکھنے کی سعادت بھی مجھے حاصل ہوئی ۔ منبر و محراب سے بھی میں نے وقتاً فوقتاً آواز اٹھائی کیونکہ میں پوری دیانت داری سے فحاشی کا راستہ روکنے اور بے نکاحی خواتین کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے اور اپنوں اور غیروں کے طعنے سننے سے بچانے کے لیے ہر اس شخص کے لیے ایک سے زائد شادیاں مناسب سمجھتا ہوں۔
٭ جس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔
٭ وہ سب کے حقوق ادا کرسکتا ہو۔
٭ عدل کرسکتا ہو۔
٭ کثرت اولاد کے ذریعے امت میں اضافہ کرنا چاہتا ہو اور جس کا خیال یہ ہو کہ تعدد کی وجہ سے میرے گھر کا سکون تباہ نہیں ہوگا اور گھر کے سکون کو تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلی بیوی کی ذہن سازی کی جائے ، اسے یقین دلایا جائے کہ اس کی حق تلفی نہیں ہوگی اور اس کی تھوڑی سی قربانی سے ایک بے نکاحی کا گھر بس جائے گا۔ جب ہم قربانی کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کی نظر صرف اس قربانی کی طرف جاتی ہے جو پہلی بیوی دیتی ہے یا جو دوسری بیوی بننا قبول کرتی ہے حالانکہ قربانی صرف عورت کی نہیں ہوتی مرد کی بھی ہوتی ہے وہ مرد قابل تعریف ہے جو حلال روزی کما کر دو گھروں کو آباد کرتا ہے اور کسی ایک کے ساتھ بھی ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ عام طور پر اسے مرد کی عیاشی سے تعبیر کر دیا جاتا ہے حالانکہ عیاشی تو تب ہوتی جب وہ نکاح کے بغیر ادھر ادھر منہ مارتا اور اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہ لیتا ۔
نکاح کی صورت میں بیوی اور پھر اس سے پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت اور پرورش کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے والے کو ہم کیسے عیاش کہہ سکتے ہیں؟ اور اگر عیاشی کا طعنہ دیے بغیر کسی کو سکون نہیں ملتا تو ہم عرض کریں گے کہ اگر یہ عیاشی ہے تو شریعت کے دائرے میں ہے اور اس کی اجازت خود اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے مگر سخت اندیشہ ہے کہ کل کلاں پہلی شادی کو بھی عیاشی یا کچھ اور قرار دے کر قابل نفرت عمل نہ بنا دیا جائے ۔ دجالیت کے علمبرداروں کی یہی کوشش ہے کہ وہ نکاح جیسا مبارک عمل ختم کرکے حرام کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل تر بنا دیں ۔
تعدد ازواج بھی اس سلسلے میں اہم کر دار ادا کر سکتا ہے نہ صرف یہ کہ مردوں میں ’کثیر الازواجی‘ عرف کو فروغ دیا جائے بلکہ ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ کوئی بھی خاتون خواہ وہ کنواری ہو یا مطلقہ اور بیوہ، بغیر شوہر کے نہ رہے، شرط یہ ہے کہ وہ نکاح کرنا چاہتی ہو۔ میں سمجھتا ہوں اگر اپنے بچوں کا مستقبل بنانے اور سر چھپانے کا ٹھکانہ حاصل کرنے کے لیے مطلقہ اور بیوہ کو اپنے بعض حقوق سے دستبردار بھی ہونا پڑے تو ہوجانا چاہئے ورنہ ممکن ہے اسے زندگی بھر اپنوں اور غیروں کے طعنے سننا پڑیں اور زکوۃ خیرات پر گزر بسر کرنی پڑے کیونکہ عوام کے ذہنوں میں یہ بات تقریباً راسخ ہو چکی ہے کہ جو بیوہ ہوتی ہے وہ زکوۃ کی مستحق ہوتی ہے ۔
میں نے جب کبھی تعدد ازواج کی حمایت میں آواز اٹھائی مجھے اس اعتراض کا سامنا کرنا پڑا کہ جب یہ اتنا اچھا بلکہ آج کے حالات میں اہم عمل ہے تو آپ خود اس کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟ اس اعتراض کے جواب میں ہمیشہ یہ عرض کرتا ہوں کہ الحمد للہ! میری ازدواجی زندگی بہت اچھی گزررہی ہے اور میں دوسری بیوی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور یہ ہے بھی حقیقت۔ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے جو بیوی عطا کی ہے وہ وفا دار اور حیا، صورت اور سیرت میں ممتاز ترین ہے ۔ اگر میں اسے لاکھوں میں ایک کہوں تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔ ہمارے درمیان مثالی محبت ہے مگر گزشتہ چند سالوں سے اسے کبھی کبھی سر اور جوڑوں میں ایسا شدید درد اٹھتا ہے کہ چلنا پھرنامحال ہو جاتا ہے کئی کئی راتیں نیند نہیں آتی اور بھوک بھی ختم ہو جاتی ہے اس وجہ سے ہمارے درمیان کئی بار دوسری شادی کے حوالے سے بات ہوئی تاکہ آنے والی ہم دونوں کی مشترکہ خدمت کرے ۔
لاہور سے واپس آنے کے بعد میں نے ’’مسجد توابین‘‘ میں مذکورہ موضوع پر چند بیانات کئے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اگرچہ دوسری شادی فرض اور واجب کا درجہ نہیں رکھتی مگر ہ مارے ہاں جس طرح دو تین یا چار شادیاں کرنے والے کو اچھوت بنا دیا جاتا ہے اور اسے گندی نظروں سے دیکھا جاتا ہے یہ بھی ہرگز مناسب نہیں ہے۔ میں نے خواتین کو بھی سمجھایا کہ وہ اپنے شوہروں کو بخوشی دوسری شادی کی اجازت دیں اور مردوںسے بھی گزارش کی کہ وہ اسے نہ تو عار سمجھیں اور نہ ہی گناہ۔ البتہ اقدام سے پہلے اپنے اہل و عیال کی ذہن سازی ضروری کرلیں، کیونکہ اخلاقی طور پر پہلی بیوی کے جذبات نظر انداز کردینا ہرگز مناسب نہیں، خصوصاً ایسی خاتون جس نے زندگی کے مشکل دنوں میں ساتھ دیا ہو، اور ایسے انسان کو تو میں انتہائی گھٹیا سمجھتا ہوں جو گھر میں دوسری بیوی آنے کے بعد پہلی بیوی کے حقوق پامال کرے یا اسے تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنائے ۔ جو جوشیلے دوست پہلی بیوی کی ذہن سازی کیے بغیر سوکن گھر میں لا بٹھاتے ہیں ان میں سے اکثر بعد میں پریشان ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں جو سوکن کو بخوشی قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں ہمارے ہاں سوکن کا لفظ دشمنی، نفرت، زیادتی اور حسد کا استعارہ بن چکا ہے ۔
آج کے نفرت زدہ ماحول میں شاید کسی کو یقین نہ آئے مگر حقیقت یہی ہے کہ میرے بیان سے سب سے پہلے میری اہلیہ ہی متاثر ہوئیں اور انہوں نے نہ صرف مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دی بلکہ میرے لیے رشتے کا انتخاب بھی از خود کیا۔ دوسرا بظاہر ناقابل یقین واقعہ یہ پیش آیا کہ جس لڑکی کو میری اہلیہ نے پسند کیا خود اسے اور اس کے سگے بھائی کو ایسے خواب دکھائی دیے جو میرے ساتھ رشتے کے حق میں تھے اور انہوں نے خود ہی رشتے کی پیش کش کر دی ۔ خوب استخارہ کے بعد میں نے نکاح ثانی کا ارادہ کر لیا ہے ، جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ہمارے ہاں اسے سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے کو گالیاں تک دی جاتی ہیں، اس لئے میں نے اس تحریر کے ذریعے سارے معاملے کی وضاحت ضروری سمجھی ہے ۔ امید ہے میرا اور میری اہلیہ کا یہ عمل بہت سوں کے لیے قابل تقلید مثال ثابت ہوگا۔ جہاں تک ہمارے رشتہ داروں، محبت کرنے والے خواتین و حضرات اور ناقدین کا تعلق ہے ، میں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرتے ہوئے زیر نظر مسئلہ کی تائید میں چند ٹھوس دلائل پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ یہ دلائل چند نکات کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس موضوع پر سیر حاصل مطالعہ کے لئے آخرمیں چند کتابوں کے نام دیے جائیں گے وہ بھی دیکھ لی جائیں۔
٭ سورہ نساء میں ہے:
’’پس نکاح کرو ان عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں، دودو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پس اگر تمہیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی سے کرو۔ یا پھر ان باندیوں پر اکتفا کرو جن کے تم مالک ہو۔‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے گنتی کو ایک سے نہیں بلکہ دودو، تین تین اور چار چار شادیوں سے شروع کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل حکم ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا ہے ، البتہ اگر کوئی عدل نہ کرسکتا ہو تو وہ ایک پر ہی اکتفا کرے۔
(روح المعانی 194/4)
٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’نکاح کرو اس لئے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں۔
(بخاری ، 4782)
انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین، حضرت یعقوب علیہ السلام کی چار، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چار، حضرت دائود علیہ السلام کی نو اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سات سو بیویوں اور تین سو حرموں کا ذکر ملتا ہے۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گیارہ بیویاں تھیں۔
خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت بھی تعدد کی تائید کرتی ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے چار، حضرت عمر فاروق نے آٹھ نکاح کئے.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں بسا اوقات کسی عورت سے نکاح کرتا ہوں حالانکہ مجھے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی اور زوجہ سے ہم بستری کرتا ہوں حالانکہ مجھے جماع کی خواہش نہیں ہوتی، کیونکہ میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالی میرے ذریعے اتنی اولاد پیدا کرے جس کی کثرت کی وجہ سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے پیغمبروں پر فخر کرسکیں ۔‘‘
(تفسیر قرطبی 328/9)
٭ دوسری شادی زندگی کے کسی بھی دور میں کی جا سکتی ہے ہمارے ہاں صورت یہ ہے کہ کوئی بڑی عمر میں دوسری شادی کرے تو کہا جاتا ہے کتنی بے شرمی ہے کہ بچوں کی شادی کی بجائے اپنی شادی کی جا رہی ہے ۔ اگر کوئی جوانی میں کرے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر زمانہ قریب کے بزرگان دین تک عمر کے کسی بھی حصہ میں شادی کرتے رہے ہیں۔ محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ نے غالباً 75 سال کی عمر میں نوجوان خاتون سے شادی کی تھی ۔ فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے والد نے سو سال کی عمر میں شادی کی اور اس سے بچے بھی پیدا ہوئے ۔ حضرت مولانا فضل رحمن رحمہ اللہ کی عمر سو سال سے بھی زائد تھی جب انہوں نے دوسری شادی کی تھی۔
٭ یہ ضروری نہیں کہ دوسری شا دی صرف اس صورت میں کی جاسکتی ہے جب پہلی بیوی سے تعلقات خراب ہوجائیں یا وہ بدصورت، لاولد یا بیمار ہو۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے بے پناہ محبت تھی۔ ان کی صورت و سیرت اور ذکاوت و ذہانت بھی مثالی تھی ۔ اس کے باوجود آپ نے ان سے نکاح کے بعد سات مزید عورتوں سے نکاح فرمایا۔
٭ یہ بھی ضروری نہیں کہ دوسری شادی مطلقہ یا بیوہ ہی سے کی جائے اس لئے کہ ہمارے سینے میں دل اور دل میں جذبات رکھنے والے اللہ نے ’’ما طاب لکم‘‘ فرما کر اپنی پسندیدہ عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے ۔ باوجودیکہ خود ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے سوا مطلقہ اور بیوہ عورتوں سے نکاح فرمائے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کنواری اور جوان عورتوں سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔
٭ اس حقیقت سے تو خیر کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا کہ اسلام نے نہ صرف تعدد کی اجازت دی ہے بلکہ اس میں بہت سارے منافع بھی پوشیدہ ہیں البتہ اکثر خواتین کو یہ اندیشہ پریشان کرتا ہے کہ گھر میں دوسری اور نئی نویلی بیوی آجانے کی صورت میں مجھے نظر انداز کردیا جائے گا اور یہ اندیشہ اتنا بے بنیاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ بعض شوہر واقعتاً ایسا ہی کرتے ہیں وہ پہلی بیوی کو نظر انداز ہی نہیں کرتے بسا اوقات دوسری کی خوش رکھنے کے لئے پہلی پر ہاتھ بھی چلانے لگتے ہیں بالخصوص وہ شوہر جو کسی بے حجاب اور بے حیا عورت کے محض حسن سے متاثر ہوکر اسے اپنے عقد میں لے آتے ہیں ان کی طرف سے ایسے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں بلکہ ایسی عورتیں خود انہیں ظلم اور زیادتی پر اکساتی ہیں۔ ایسے ظالم شوہروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے تعدد کی اجازت صرف انہیں دی ہے جو عدل کر سکتے ہوں ۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ عدل کا معاملہ نہ کیا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ مفلوج ہوگا۔‘‘ (ترمذی، مشکوۃ)  دوسری شادی کی ترغیب کا مقصد صرف یہ نہیں کہ شریعت کے مطابق حقوق ادا کرنے کی سکت رکھنے والے حضرات اس مٹتی ہوئی سنت کو زندہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ جن کی بیٹیاں اور بہنیں بے نکاحی گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ ایسے شریف اور سنجیدہ مردوں کو رشتہ دینے کے لئے تیار ہوجائیں جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہوں۔
٭ یہ بات خاص طور پر ملحوظ رکھنی چاہئے کہ عقلی اور نقلی دلائل کی کثرت کے باوجود چونکہ ہمارے ہاں دوسری شادی کا ماحول نہیں ہے ، اس لئے اس وادی پر خار میں سوچ سمجھ کر قدم رکھنا چاہئے ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ جب تک پہلی بیوی اور بچوں (بالخصوص جبکہ بڑے ہوں) کی ذہن سازی نہ کرلی جائے ، تب تک دوسری شادی نہیں کرنی چاہیے ، ورنہ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ گھر کا امن اور سکون تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ ٭ آخر میں اس موضوع پر لکھی گئی چند کتابوں کے نام دیے جا رہے ہیں، امید ہے کہ ان کے مطالعہ سے بہت سارے اشکالات رفع ہو جائیں گے اور اطمینانِ مزید نصیب ہوگا۔
-1 ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں؟ تالیف مولانا طارق مسعود صاحب۔ (اس کتاب پر بندہ نے بھی تقریظ لکھی ہے۔)
-2 اسلامی نظریہ تعدد ازواج: تالیف محمد سلیم الدین آغا رحمہ اللہ (اس کتاب پر مفتی ابو لبابہ شاہ منصور زید مجدہم کی تصدیق ثبت ہے اس کتاب کے مولف کتاب شائع ہونے سے قبل محض 28 سال کی عمر میں انتقال فرماگئے)
-3 فضل تعدد زوجات (شیخ خالد الجریس، ریاض)
-3 فضل تعدد زوجات (شیخ خالد الجریس، ریاض)
-4 عائلی قوانین شریعت کی روشنی میں۔
-5 اسلامی شادی ۔
-6 اسلام کا نظام عفت و عصمت۔ -
7 شادی سے شادیوں تک۔ (یہ دو امریکی خواتین، ام عبد الرحمن ہرش فیلڈ اور ام یاسمین رحمن کے قلم سے اپنی نوعیت کی بہترین تصنیف ہے)
-8 اسلام اور جنسیات۔
نوٹ: یہ عاجز تحریر اور تقریر کے ذریعے نوجوان اولاد کے رشتے جلد کروانے، عقد نکاح سادگی سے کرنے، رشتے میں سیرت اور دین داری کو معیار بنانے، ہندوانہ اور ظالمانہ رسموں سے بچنے، بوقت ضرورت دوسری شادی کو گناہ نہ سمجھنے کی ترغیب تو دے سکتا ہے مگر بہت سارے اعذار اور مصروفیات کی بنا پر رشتے نہیں کرواسکتا۔ لہذا نکاح اول یا ثانی کی خواہش رکھنے والے حضرات و خواتین یا والدین اس مقصد کے لئے اس کی طرف ہرگز رجوع نہ کریں۔
تحریر: داعی قرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید