Monday, 24 March 2025

مہا بودھی مکتی آندولن مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے خلاف جوابی پروپیگندہ کا ایک اہم قضیہ

مہا بودھی  مکتی آندولن 
مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے خلاف جوابی پروپیگندہ کا ایک اہم قضیہ

احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

گیا کا مہا بودھی مہا وہار وہ جگہ ہے جہاں ایک درخت کے نیچے گوتم بدھ کو معرفت حاصل ہوئی تھی، اس لیے اسے بدھ ازم میں کافی اہمیت حاصل ہے، بدھ ازم کے تمام فرقے اس جگہ کو مقدس ترین مقام مانتے  ہیں، جس درخت کے نیچے گوتم بدھ کو معرفت حاصل ہوئی تھی اسے بودھی ورکش کہا جاتا ہے، مہا راجہ اشوک نے اس درخت کے پاس یہ مہا وہار تعمیر کرایا جو مہا بودھی مہا وہار سے موسوم ہوا۔ اشوک کا دور برہمنیت مخالف انقلاب کے کمال اور عروج واستحکام کا دور ہے، آگے چل کر جب برہمنیت نے پلٹ وار کیا  تو بدھسٹ مقامات پر قبضے شروع کیے؛ جس کی لپیٹ میں یہ مہاوہار بھی آیا، انیسویں صدی کے اواخر میں برہمنوں  کے اس قبضے کے خلاف آواز اٹھنی شروع ہوئی جب ایڈون آرنلڈ نے دی لائٹ آف ایشیا کے نام سے گوتم بدھ کی شان میں منظوم منقبت لکھی، اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے مشہور بدھسٹ سنت اناردک دھرم پال نے بھارت کے سفر کے دوران1891 میں اس مہا وہار کو برہمنوں سے آزاد کرنے کی کوششیں کیں، یہ کوششیں جاری رہیں مگر یہ مہاوہار برہمنوں کے قبضے سے آزاد نہ ہوسکا، تحریک آزادی کے دوران بھی یہ آواز اٹھی مگر آزادی کے شور میں دب گئی یا عمدا دبا دی گئی، آزادی کے بعد پھر اس مطالبہ نے زور پکڑا تو اس قضیہ کو نمٹانے بلکہ دبانے کے لیے  بی ٹی ایکٹ (Bodh Gaya Temple Act, 1949)بنایا گیا۔ 
اس ایکٹ کے تحت یہ بات طے پائی کہ مہاوہار چلانے کے لیے آٹھ رکنی  انتظامی کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں چار بدھسٹ ہوں گے اور چار ہندو، کمیٹی کے چیرمین کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی کہ اس علاقے کا ڈی ایم کمیٹی کا چیرمین ہوگا، اور چیرمین کا ہندو ہونا ضروری ہے، اگر ڈی ایم ہندو نہ ہو تو پھر حکومت کسی ایسے کو چیر مین بنائے جو ہندو ہو۔  ہندو ہونے کی یہ شرط بہار حکومت کی طرف سے 2013 میں ہٹائی گئی، مگر عملا اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ بی ٹی ایکٹ کے تحت بنائی گئی اس کمیٹی کو بی ٹی ایم سی (Bodhgaya Temple Management Committee) کا نام دیا گیا، کمیٹی کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا کہ برہمنوں کا تسلط بھی باقی رہے اور بدھ مت کے پیروکار ’کل نہیں تو کچھ سہی‘ سوچ کر اسے قبول کرلیں اور خاموش بیٹھ جائیں۔
بی ٹی ایکٹ کے تحت کمیٹی تشکیل دینے اور کمیٹی میں چار بدھسٹوں کو نامزد کرنے کے بعد مہابودھی مہاوہار کی آزادی کی آواز خاموش سی ہوگئی، چالیس سال تک یہ تحریک دبی رہی، پھر 1992 میں یہ تحریک دوبارہ شروع ہوئی اور 1998 تک چلی، اتنے لمبے عرصہ تک تحریک چلنے کے باوجود مہاوہار برہمنوں کے تسلط سے آزاد نہ ہوسکا، تحریک میں شامل کئی سرکردہ افراد کو بہار حکومت نے بی ٹی ایم سی میں شامل کردیا، اس طرح تحریک کا زور ٹوٹ گیا۔ 2012 میں سپریم کورٹ میں مہاوہار کی آزادی کے لیے رٹ پٹیشن داخل کی گئی، مگر کوئی کامیابی نہ ملی۔ 
اس مہاوہار پر شیو پنتھی برہمنوں کا ناجائز قبضہ ہے، ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ مہابودھی مہاوہار کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، بلکہ اس کا برہمنی کرن بھی کر رکھا ہے، گربھ گرہ جہاں گوتم بدھ کی بڑی مورتی رکھی ہوئی ہے اس کے باب الداخلہ کے اوپر دیوار پر پہلے گوتم بدھ کا نام کندہ تھا، اسے سمنٹ سے بھر کر مٹا کر برابر کردیا گیا۔ گربھ گرہ میں بڑی مورتی کے سامنے باب الداخلہ کے قریب گوتم بدھ کی ایک اور مورتی رکھی ہوئی تھی، اسے ہٹا کر وہاں دان پیٹی رکھ دی گئی، اور اس پیٹی کے پیچھے ایک ابھرے ہوئے حصہ کو شیو لنگ بنا دیا گیا، اس طرح بدھسٹوں کا یہ مہاوہار برہمنوں کے شیو مندر میں تبدیل ہوگیا، اندر موجود بدھ کی پانچ مورتیوں کو پانچ پانڈو کہہ کر پرچار کیا جارہا ہے اور بدھ مت کی تارا دیوی کو ہندو مت کی دروپدی بتایا جارہا ہے۔یہ ساری باتیں ثبوتوں کے ساتھ باہر آرہی تھیں  اور ان دنوں کافی وائرل ہورہی تھیں اس لیے بی ٹی ایم سی نے 18 مارچ کو سرکولر جاری ہوتے ہوئے کیمرہ موبائل اندر لے جانے پر مکمل پابندی لگادی ۔
برہمنوں کے اس تسلظ اور ان کی طرف سے کیے جارہے اس برہمنی کرن کے خلاف مہا بودھی مہاوہار کو آزاد کرانے کے لیے 2023 میں یہ تحریک مہا بودھی مہاوہار مکتی آندولن کے نام سے دوبارہ شروع ہوئی جو تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اس تحریک میں خاص طور پر بی ٹی ایکٹ کو رد کرنے اور مہاوہار کو برہمنوں سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، 12 فروری 2025 کو اس تحریک نے اس وقت مزید شدت اختیار کرلی جب بدھسٹ مونکوں کی ایک جماعت بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی، اس بھوک ہڑتال  کو چالیس روز ہونے جا رہے ہیں، پندرہویں دن پولیس نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مونکوں کو حراست میں بھی لیا تھا، مگر ان لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم نہیں کی۔اس احتجاج اور ہڑتال کو بدھ مت کے پیروکاروں کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر تائید مل رہی ہے، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ، امریکہ وغیرہ کئی ملکوں میں احتجاج کیے گئے۔
اندرون ملک بھی  یہ آندولن کئی ریاستوں میں پھیل گیا، خاص کر مہاراشٹر میں اس سلسلہ میں کافی بیداری پائی جا رہی ہے،  6 اپریل کو ناگپور میں عظیم احتجاج منعقد کرنے کی تیاری ہے، اور 12 مئی کو بدھ جینتی کے موقع سے بدھ گیا میں کل ہند سطح کا احتجاج کرنے کا پروگرام ہے۔ نیشنل میڈیا اسے مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے، اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کی اجازت نہ دے کر اسے محدود رکھنے اور دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، آج (مورخہ 23 مارچ) حیدرآباد کے پنجہ گٹہ علاقہ میں پر امن احتجاج منظم کرنے کا بدھسٹ بھائیوں کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا، لیکن پولیس کی اجازت نہ ملنے کہ وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔
مہابودھی مہاوہار پر برہمنی تسلط کا تعلق اس ملک میں جاری قدیم کشمکش سے ہے، جو اس ملک کی حقیقی کشمکش ہے، یہ کشمکش دو نظریات کے درمیان ہے، ایک نظریہ ہے نسلی برتری کا اور دوسرا نظریہ ہے سماجی انصاف کا یعنی سارے انسانوں کو برابر سمجھنے اور کسی مخصوص نسل کو برتری نہ دینے کا، نسلی برتری والی آریائی برہمن قوم جب سے اس ملک میں آئی ہے تب سے اس نے اپنا تسلط باقی رکھنے اور باقی اقوام کو اپنا محکوم وغلام بنا کر رکھنے ہر ممکن حربے اپنائے، سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی اس سے ہر دور میں ٹکراتی رہی، مگر نسلی برتری والی آئیڈیالوجی اپنا غلبہ بنا کر رکھنے میں کامیاب رہی، نسلی برتری والوں سے سب سے بڑا ٹکراؤ گوتم بدھ کی تبلیغ وتحریک کی وجہ سے پیدا ہوا، جسے انقلاب کا زمانہ کہا جاتا ہے، پھر نسلی برتری والوں نے مختلف حکمت عملیاں اپناتے ہوئے دوبارہ برہمنی تسلط کے پنجے گاڑ دیے، اسے رد انقلاب کا دور کہا جاتا ہے، اس دور میں برہمنوں نے بدھ ازم کی روح کو ختم کرنے، اس کی شناخت کو مٹانے، اس کی تہذیبی علامتوں اور تہواروں کا برہمن کرن کرنے اور اس کے مقدس مقامات پر قبضہ کرنے میں اپنا پورا زور لگا دیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے، مہابودھی مہاوہار یہ تنہا نہیں ہے، بلکہ ایسے ہزاروں مہاوہار ہیں جن کو مندر میں تبدیل کردیا گیا، جگن ناتھ، بدری ناتھ اور تروپتی بالا جی کے مشہور مندر بھی در اصل بدھ معابد ہی ہیں۔ 
نسلی برتری اور سماجی انصاف کی کشمکش اس ملک کی حقیقی کشمکش ہے جس پر بھارتی تاریخ و تہذیب، بھارتی مذاہب کا لٹریچر، بھارتی مصلحین کی تحریکی واصلاحی تگ ودو بلکہ یہاں کے کھنڈرات اور کھدائی میں بر آمد ہونے والے آثار شاہد ہیں، نسلی برتری کا فائدہ چند فیصد برہمن کو حاصل ہے جبکہ سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی اس ملک کی تمام مظلوم ومحروم اقوام کی ضرورت ہے، اسلام اس سماجی انصاف کی آئیڈیالوجی کا عالمی نمائندہ ہے، اور اسلام کی وجہ سے جن لوگوں کو سماجی انصاف کی دولت ملی برہمنواد آج تک ان پر اپنی غلامی کا سایہ بھی نہ ڈال سکا، نہ ان کے مذہب میں ایک حرف کی تبدیلی کر سکا اور نہ ان کی تہذیب کا کچھ بگاڑ سکا۔ نسلی برتری چوں کہ اقلیت کے مفاد میں ہے اور اکثریت کے خلاف ہے، اس لیے جمہوری دور کی مجبوری کی وجہ سے اور اسلام کی مقبولیت واشاعت کے خوف کی وجہ سے نسلی برتری والوں نے اس ملک کی اصل کشمکش کو ایک دوسری کشمکش کے شور میں دبانے کا منصوبہ بنایا، نہ صرف منصوبہ بنایا، بلکہ منظم ومستحکم پروپیگنڈہ کے ذریعہ اس کے حق میں رائے عامہ ہموار کی اور نتیجتا یہ رائے عامہ عوامی رویے میں تبدیل ہوئی، جس کشمکش کو دبانا چاہا وہ نسلی برتری اور سماجی انصاف کی کشمکش ہے، اور جس کشمکش کو برپا کیا وہ ہندو بنام مسلم کی کشمکش ہے، نسلی برتری اور سماجی انصاف کے بیچ نظریاتی تصادم جتنا بڑھے گا برہمن قوم کا نقصان بھی اتنا ہی بڑھے گا اور ان کا تسلط اسی قدر کمزور ہوگا، جبکہ ہندو بنام مسلم والا تصادم جتنا بڑھے گا برہمن قوم کا فائدہ بھی اتنا ہی بڑھے گا اور ان کا تسلط اسی قدر مضبوط ہوگا۔
نظریاتی کشمکش میں نسل پرستانہ تسلط کو باقی رکھنے اور برہمنوادی نظام حیات کو مختلف نام اور عنوان سے مسلط رکھنے کے لیے اس ملک میں مسلم مخالف پروپیگنڈہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ بھارت کی وہ اقوام جو سماجی انصاف کی علمبردار ہیں اور وہ اقوام جو سماجی انصاف سے محروم ہیں یہ سب اُس تصادم میں الجھی رہیں جس سے نسلی برتری والوں کا فائدہ ہے، اور نسلی برتری کو چیلنج کرکے اس تصادم کو مضبوط نہ کریں جس سے نسلی برتری والوں کا نقصان ہے۔یہ پروپیگنڈہ اتنی شدت سے چلایا جاتا ہے کہ اس کے شور میں وہ ساری آوازیں دب جاتی ہیں جو اس پروپیگنڈہ کے مقصد کو فوت کرسکتی ہیں۔ مسلم مخالف پروپیگنڈہ کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے جوابی پروپیگنڈہ کو منظم ومستحکم کرنا ضروری ہے، پروپیگنڈہ پر رد عمل ظاہر کردینے سے پروپیگنڈہ ناکام نہیں ہوسکتا، اس کے لیے جوابی پروپیگنڈہ ضروری ہے، جوابی پروپیگنڈہ کا مطلب ہے اس تصادم کو مضبوط کرنے کے لیے مسائل کو اٹھانا اور ان پر ہنگامہ برپا کرنا، اور ان کے تئیں شعور بیداری کی نظریاتی مہم چھیڑنا جس سے نسلی برتری والے نظریہ ونظام حیات کی بنیاد پر زد پڑتی ہے، اس سے ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف سے محروم ہیں اور مسلم مخالف پروپیگنڈہ کی وجہ سے ہندو اور ہندوتو کے نام پر نسلی برتری والوں کے آلۂ کار بنے ہوئےہیں، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف سے محروم ہیں اور اس کے حصول کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف کے حامل ہیں مگر برہمنواد کے پلٹ وار کی زد میں ہیں جیسا کہ بدھسٹ، اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا جو سماجی انصاف کے حامل ہیں اور برہمنواد ان پر کسی طرح کا پلٹ وار نہیں کرسکا  ، البتہ جمہوری دور میں انھیں نفرت وعداوت اور ظلم وستم کا نشانہ بنا کر برہمنواد اپنا الو سیدھا کر رہا ہے، یعنی مسلم قوم۔
برہمنوادی تسلط واستحصال کو قدر مشترک مان کر حقیقت وصداقت پر مبنی جوابی پروپیگنڈہ ملک میں جاری نظریاتی یلغار کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، اس جوابی پروپیگنڈہ کے لیے جن مسائل اور تاریخی حقائق کو استعمال کیا جا سکتا ہے مہا بودھی مہاوہار کی آزادی ان میں ایک اہم قضیہ ہے، برہمنواد نہیں چاہتا کہ اس قضیہ کا شور بلند ہو اور یہ مسئلہ اوپر آئے اور چھائے، وہ اسے ابھی نظر انداز کرکے دفنانا یا کم از کم دبانا چاہ رہا ہے،نظر انداز کرنے کے باوجود اگر یہ مسئلہ نہیں دبتا ہے اور اس کا شور کسی طرح سے بلند ہوجاتا ہے اور یہ آندولن ملک کا سلگتا ہوا قضیہ بننے میں کامیا ب ہوجاتا ہے تو خدشہ ہے کہ کہیں برہمنواد ہمیشہ کی طرح اس تصادم کو ہندو مسلم تصادم سے کمزور کرنے کی کوشش نہ کرے، جس طرح منڈل  کے شور کو کمنڈل کے ذریعہ دبایا گیا، اسی طرح ڈر ہے کہ یہاں بھی کوئی نہ کوئی مسلم مخالف قضیہ اٹھایا کر ماحول کو برہمنوادی مفاد کے لیے سازگار کیا جائے گا، برہمنواد اس کشمکش اور تصادم کو جس میں اس کی کمزوری ہے اس کشمکش اور تصادم سے دبانے کی حکمت عملی اپناتا ہے جس میں اس کا استحکام ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس کشمکش اور تصادم کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں جس سے برہمنوادی مفاد پر زد پڑتی ہے، مہابودھی مہاوہار کا قضیہ اسی قبیل سے ہے، یہ قضیہ اس وقت چھڑا ہوا ہے، اس کی شدت کو بڑھانے اور اس تحریک کو پھیلانے کی ضرورت ہے، بظاہر یہ قضیہ ہمارے ملی مسائل سے کوئی تعلق نہیں رکھتا؛ لیکن جو آئیڈیالوجی ہمارے ملی مسائل کو نشانہ بناتی ہے  یہ اور اس طرح کے مسائل اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر زد لگاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ملک میں جاری پروپیگنڈہ کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھ کر منظم ومستحکم جوابی پروپیگنڈہ چھیڑا جائے۔

No comments:

Post a Comment