علم تجوید میں حروف کی صفات کا بیان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفات کی اہمیت:
جس طرح بغیر مخرج کے حرف ادا نہیں ہوسکتا، اسی طرح بغیر صفات کے حرف کامل ادا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح حُرُوف کے مخارج الگ الگ ہیں، اسی طرح ہر حرف میں پائی جانے والی صفات بھی جُدا جُدا ہیں۔ صفات کے ساتھ حرف کو ادا کرنے سے ایک ہی مخرج کے کئی حُرُوف آپس میں جُدا اور مُمتاز ہوجاتے ہیں۔ صفات، صفت کی جمع ہے۔
صفت کا لغوی معنی: صفت کا لغوی معنی ٰ ہے ’’مَا قَا مَ بِشَیْ ئٍ‘‘ جو کسی شے کے ساتھ قائم ہو۔
صفت کا اصطلاحی معنی:
اصطلاح تجوید میں ’’صفت‘‘ حرف کی اس حالت یا کیفیّت کو کہتے ہیں جس سے ایک ہی مخرج کے کئی حُروف آپس میں جُدا اور ممتاز ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حرف کا پُر یا باریک ہونا آواز کا بلند یا پست ہونا، قوی یا ضعیف ہونا، نرم یا سخت ہونا وغیرہ جیسے ’’ص‘‘ اور ’’س‘‘ اِن کا مخرج تو ایک ہے مگر ’’ص‘‘ صفتِ استعلاء اور اطباق کی وجہ سے پُر اور ’’س‘‘ صفتِ استفال اور انفتاح کی وجہ سے باریک پڑھا جاتا ہے۔
صفات کی اقسام
صفات کی دوقسمیں ہیں:
{۱} صفاتِ لازمہ
{۲} صفاتِ عارضہ
صفاتِ لازمہ کی تعریف:
حرف کی وہ صفات جو حرف کے لئے ہر وقت ضروری ہوں اور ان کے بغیر حرف ادا نہ ہوسکے یا حرف ناقص ادا ہو۔ مثلاً ’’ظ‘‘ میں صفتِ استعلاء اور اطباق ادانہ کی جائے توحرف ’’ظ‘‘ ادا ہی نہیں ہوگا۔ حرف کو صفات لازمہ کے ساتھ ادا نہ کرنے سے لحن جلی واقع ہوتی ہے۔ (لمعاتِ شمسیہ حاشیہ فوائد مکیہ، ص۲۱، بتصرف)
صفاتِ عارضہ کی تعریف:
حرف کی وہ صفات جو حرف کے لئے کبھی ہوں اور کبھی نہ ہوں ان کے ادانہ کرنے سے حرف ادا ہوجاتا ہے لیکن حرف کی تحسین باقی نہیں رہتی۔ مثلاً 'را' مفتوحہ کو باریک پڑھنا وغیرہ۔ یہ صفات آٹھ حُرُوف میں پائی جاتی ہیں جن کا مجموعہ ’’اَوْ یَرْ مُلَانِ‘‘ ہے۔ صفاتِ عارضہ کی غلطی کو ’’لحنِ خفی‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن لحنِ خفی کو چھوٹی اور معمولی غلطی سمجھ کر اس سے بچنے کی کوشش نہ کرنا بڑی غلطی ہے۔
صفاتِ لازمہ کی اقسام:
صفاتِ لازمہ کی دو قسمیں ہیں:
(1) صفاتِ لازمہ متضادہ
(2) صفاتِ لاز مہ غیرِ مُتَضادہ
صفاتِ لازمہ مُتَضادہ کی تعریف:
صفاتِ لازمہ متضادہ وہ صفات ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہوں جیسے ’’ہمس‘‘ کی ضد ’’جہر‘‘ اور ’’شدّت‘‘ کی ضد ’’رخاوت‘‘ ہے۔
صفاتِ لازمہ مُتضادہ:
صفاتِ لازمہ مُتَضادہ دس۱۰ ہیں۔ جن میں سے پانچ، پانچ کی ضد ہیں۔
{1}… ہمس {2} … جہر
{3}…شدّت {4} … رخاوت
{5}… استعلاء {6} … استفال
{7}… اطباق {8} … انفتاح
{9}… اذلاق {10}… اصمات
تفصیل
(1)…ہمس:
لغوی معنی: ’’پستی‘‘ ۔
اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجویدمیں ’’ضعف کی وجہ سے آواز کے پست ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ مہموسہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ دس ۱۰ ہیں جن کا مجموعہ ’’فَحَثَّہ شَخْصٌ سَکَتْ‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی:
حُروفِ مہموسہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر ضعف یعنی کمزوری سے ٹھہرتی ہے کہ سانس جاری رہتا ہے اور آواز پست ہوجاتی ہے۔
(2)…جہر:
یہ صفت ہمس کی ضد ہے۔ لغوی معنی: ’’بلندی‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجویدمیں ’’قُوّت کی وجہ سے آواز کے بلند ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے، انہیں ’’حُرُوفِ مجہورہ‘‘ کہتے ہیں۔ حروف مہموسہ کے علاوہ باقی انیس ۱۹ حروف مجہورہ ہیں۔
طریقۂ ادائیگی:
حُرُوفِ مجہورہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ اس کے اثر سے سانس کا جاری ہونا موقوف ہوجاتا ہے اور آواز بلند ہوجاتی ہے۔
(3)…شدّت:
لغوی معنی: ’’سختی‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’قُوّت کی وجہ سے آواز کے سخت ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ شدیدہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ آٹھ۸ ہیں جن کا مجموعہ ’’أَجِدُ قَطٍ بَکَتْ‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ شدیدہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اتنی قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ فوراً بند ہوجاتی ہے اورسخت ہوجاتی ہے۔
(4)…رخاوت:
یہ صفت ’’شدّت‘‘ کی ضد ہے۔ لغوی معنی: ’’نرمی‘‘، اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’ضعف کی وجہ سے آواز کے نرم ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ رخوہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ سولہ ۱۶ ہیں۔ جو حُرُوفِ شدیدہ اور حُرُوفِ مُتَوسّطہ کے علاوہ ہیں۔
طریقۂ ادائیگی:
حُرُوفِ رخوہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اتنے ضعف سے ٹھہرتی ہے جس کی وجہ سے آواز جاری رہتی ہے اور نرم ہوجاتی ہے۔
٭…(توسط): لغوی معنی: ’’درمیان‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’شدّت اور رخاوت کی درمیانی حالت کے ساتھ پڑھنے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے، انہیں ’’حُرُوفِ مُتَوَسّطِہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ پانچ ہیں جن کا مجموعہ ’’لِنْ عُمَرْ‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ متوسطہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں نہ تو مکمل بند ہوتی ہے کہ شدّت پیدا ہوجائے اور نہ ہی مکمل جاری رہتی ہے کہ رخاوت پیدا ہوجائے بلکہ اس کی درمیانی حالت رہتی ہے۔
(5)…استعلاء :
لغوی معنی: ’’بلندی چاہنا‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجویدمیں ’’زبا ن کی جڑ کے تالو کی جانب بلند ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ مُسْتَعْلِیَہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ سات ۷ ہیں جن کا مجموعہ ’’خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ مستعلیہ کو ادا کرتے وقت زبان کی جڑ تالو کی جانب بلند ہوتی ہے جس کی وجہ سے حُرُوف پُر پڑھے جاتے ہیں ۔
(6)…استفال:
یہ صفت ’’استعلاء ‘‘ کی ضد ہے۔ لغوی معنی: ’’نیچائی چاہنا‘‘
اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’زبان کی جڑ کے تالو کی جانب بلند نہ ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے، انہیں ’’حُرُوفِ مُسْتَفِلَہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ بائیس ۲۲ ہیں جو ’’حُرُوفِ مستعلیہ‘‘ کے علاوہ ہیں۔
طریقۂ ادائیگی: حُروفِ مستفلہ کو ادا کرتے وقت زبان کی جڑ تالو کی جانب بلند نہیں ہوتی بلکہ نیچے رہتی ہے اس لئے یہ حُرُوف باریک پڑھے جاتے ہیں۔
(7)… اطباق:
لغوی معنی: ’’مل جانا یا ڈھانپ لینا‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’زبان کے پھیل کر تالو سے مل جانے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ مُطْبَقہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ چار ۴ ہیں جن کا مجموعہ ’’صطظض‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی: حُروفِ مطبقہ کو ادا کرتے وقت زبان تالو سے مل جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ حُرُوف بَہُت ہی پُر پڑھے جاتے ہیں۔
(8)…انفتاح:
یہ صفت ’’اِطباق‘‘ کی ضد ہے۔ لغوی معنی: ’’جُدا رہنا یا کھلا رہنا‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’زبان کے تالو سے جُدا رہنے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ مُنفَتِحَہْ‘‘ کہتے ہیں اور یہ پچیس ۲۵ ہیں جو حُروفِ مطبقہ کے علاوہ ہیں۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ منفتحہ کو ادا کرتے وقت زبان تالو سے جُدا رہتی ہے۔
(9)…اذلاق:
لغوی معنی: ’’کنارہ‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’حُرُوف کے ہونٹوں، دانتوں اور زبان کے کناروں سے پِھسل کربسہولت ادا ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ مُذلَقَہ‘‘ کہتے ہیں اوریہ چھ ۶ ہیں جن کا مجموعہ ’’فَرَّ مِنْ لُّبٍّ‘‘ ہے۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ مذلقہ اپنے مخارج سے پِھسل کر بسہولت ادا ہوتے ہیں۔
(10)…اِصمات:
یہ صفت ’’اِذلاق‘‘ کی ضد ہے۔ لغوی معنی: ’’روکنا‘‘ اصطلاحی معنی: اصطلاحِ تجوید میں ’’حُرُوف کے مضبوطی اور جماؤ کے ساتھ ادا ہونے‘‘ کو کہتے ہیں۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوف مُصْمَتَہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ تیئس ۲۳ ہیں جو کہ حُرُوفِ مذلقہ کے علاوہ ہیں۔
طریقۂ ادائیگی: حُرُوفِ مصمتہ اپنے مخارج سے مضبوطی کے ساتھ جم کر ادا ہوتے ہیں ۔
صفاتِ لازمہ مُتضادہ کے حامل حروف کامجموعہ
نمبر شمار حُروف تعداد مجموعہ
۱ حُرُوفِ مہموسہ 10 فَحَثَّہ‘ شَخْصٌ سَکَتْ
۲ حُرُوفِ مجہورہ 19 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۳ حُرُوفِ شدیدہ 8 أَجِدُ قَطٍ بَکَتْ
۴ حُرُوفِ رخوہ 16 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
- - حُرُوفِ مُتَوَسّطِہ 5 لِنْ عُمَر
۵ حُرُوفِ مُسْتَعْلِیَہ 7 خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ
۶ حُرُوفِ مُسْتَفِلَہ 22 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۷ حُرُوفِ مُطْبَقَہ 4 صطظض
۸ حُرُوفِ مُنْفَتِحَہْ 25 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۹ حُرُوفِ مُذْلَقَہْ 6 فَرَّ مِنْ لُّب
۱۰ حُرُوفِْ مُصْمَتَہْ 23 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(منقول) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2025/08/blog-post_22.html
سوال نمبر 1: صفات کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب: صفت کا لغوی معنی ٰ ہے ’’مَا قَا مَ بِشَیْ ئٍ‘‘ جو کسی شے کے ساتھ قائم ہو۔
سوال نمبر 2: صفت کے اصطلاحی معنی کیا ہیں؟
جواب: اصطلاح تجوید میں ’’صفت‘‘ حرف کی اس حالت یا کیفیّت کو کہتے ہیں جس سے ایک ہی مخرج کے کئی حُروف آپس میں جُدا اور ممتاز ہوجاتے ہیں۔ مثلاً حرف کا پُر یا باریک ہونا آواز کا بلند یا پست ہونا ، قوی یا ضعیف ہونا، نرم یا سخت ہونا وغیرہ جیسے ’’ص‘‘ اور’’س‘‘ اِن کا مخرج توایک ہے مگر ’’ص‘‘ صفتِ استعلاء اور اطباق کی وجہ سے پُر اور ’’س‘‘ صفتِ استفال اور انفتاح کی وجہ سے باریک پڑھا جاتا ہے۔
سوال نمبر 3: صفات کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: جس طرح بغیر مخرج کے حرف ادا نہیں ہوسکتا اسی طرح بغیرصفات کے حرف کامل ادا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح حُرُوف کے مخارج الگ الگ ہیں، اسی طرح ہر حرف میں پائی جانے والی صفات بھی جُدا جُدا ہیں۔ صفات کے ساتھ حرف کو ادا کرنے سے ایک ہی مخرج کے کئی حُرُوف آپس میں جُدا اور مُمتاز ہوجاتے ہیں۔ صفات، صفت کی جمع ہے۔
سوال نمبر 4: صفات کے کتنے اقسام ہیں؟
صفات کی دوقسمیں ہیں:
{۱} صفاتِ لازمہ
{۲} صفاتِ عارضہ
صفاتِ لازمہ کی تعریف: حرف کی وہ صفات جو حرف کے لئے ہروقت ضروری ہوں اور ان کے بغیر حرف ادا نہ ہوسکے یا حرف ناقص ادا ہو۔ مثلاً ’’ظ‘‘ میں صفتِ استعلاء اور اطباق ادانہ کی جائے توحرف ’’ظ‘‘ ادا ہی نہیں ہوگا ۔ حرف کو صفات لازمہ کے ساتھ ادا نہ کرنے سے لحن جلی واقع ہوتی ہے۔ (لمعاتِ شمسیہ حاشیہ فوائد مکیہ، ص۲۱، بتصرف)
--------------
"قوی صفات" کا اصطلاحی مفہوم " صفاتِ لازمہ" سے وابستہ ہے، جو حروف کی وہ خصوصیات ہیں جو ان کے ساتھ مستقل رہتی ہیں اور انہیں حروف کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے. یہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی حرف کو دوسرے حروف سے ممتاز کرتی ہیں، جیسے جہر کی ضد ہمس ہونا.
قوی اور ضعیف صفات:
قوی صفات ۔ جہر - شدت - استعلاء - اطباق - اصمات - صفیر - قلقلہ - تکریر - تفشی - استطالت - غنہ
قوی اور ضعیف حروف:

ط

ظ

ض

ق ۔
قوی حروف:
ج د ص غ ء
متوسط حروف💓 :
ا🌷 ب ر ز ع 🌷
💜ضعیف حروف :💜
ا 🌱ت 🌻 خ 🌻 ذ س 🌻 ش 🌻 ک ل 🌻 م 🌻ن 🌻 و ی 🌻
🎀اضعف حروف🎀 :
🍄یعنی بہت ضعیف حروف🍄 :
ث🍀 ح🍀 ہ 🍀 ف 🍀
⭐صفات عارضہ کی تعریف⭐
صفات عارضہ ان صفات کو کہتے ھیں جو حروف میں کبھی پائی جاۓ کبھی نہ پائی جاۓ اگر یہ صفات ادا نہ ھوں تو حرف وہ ھی رھے مگر اس کا حسن باقی نہ رھے۔
----
سوال نمبر 5:صفات لازمہ کسے کہتے ہیں؟
صفاتِ لازمہ حرف کی وہ صفات جو حرف کے لئے ہروقت ضروری ہوں اور ان کے بغیر حرف ادا نہ ہوسکے یا حرف ناقص ادا ہو۔ مثلاً ’’ظ‘‘ میں صفتِ استعلاء اور اطباق ادانہ کی جائے توحرف ’’ظ‘‘ ادا ہی نہیں ہوگا ۔ حرف کو صفات لازمہ کے ساتھ ادا نہ کرنے سے لحن جلی واقع ہوتی ہے۔ (لمعاتِ شمسیہ حاشیہ فوائد مکیہ، ص۲۱، بتصرف)
سوال نمبر 6:صفات لازمہ کے کتنے اقسام ہیں؟
صفاتِ لازمہ کی دو اقسام ہیں:
(1) صفاتِ لازمہ متضادہ
(2) صفاتِ لاز مہ غیرِ مُتَضادہ
سوال نمبر 7:صفات عارضہ کسے کہتے ہیں؟
صفاتِ عارضہ حرف کی وہ صفات جو حرف کے لئے کبھی ہوں اور کبھی نہ ہوں ان کے ادانہ کرنے سے حرف اد اہوجاتاہے لیکن حرف کی تحسین باقی نہیں رہتی۔ مثلاًرا مفتوحہ کو باریک پڑھنا وغیرہ۔
سوال نمبر 8:صفات عارضہ کے کتنے حروف ہیں اور اس کا مجموعہ کیا ہے؟صفات عارضہ کے آٹھ حُرُوف ہیں جن کا مجموعہ ’’اَوْ یَرْ مُلَانِ‘‘ ہے۔ صفاتِ عارضہ کی غلطی کو ’’لحنِ خفی‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن لحنِ خفی کو چھوٹی اور معمولی غلطی سمجھ کر اس سے بچنے کی کوشش نہ کرنا بڑی غلطی ہے۔
سوال نمبر 8:صفات متضادہ کے ضد کتنے ہیں؟
صفاتِ لازمہ مُتَضادہ دس۱۰ ہیں۔ جن میں سے پانچ، پانچ کی ضد ہیں۔
{1}… ہمس {2} … جہر
{3}…شدّت {4} … رخاوت
{5}… استعلاء {6} … استفال
{7}… اطباق {8} … انفتاح
{9}… اذلاق {10}… اصمات
-------------------------
سوال:ہمس کا لغوی معنی کیا ہے؟
جواب:ہمس کا لغوی معنی ہے: ’’پستی.‘‘
سوال:ہمس کے کتنے حروف ہیں اور ان کا مجموعہ کیا ہے؟
جواب:ہمس کے دس۱۰ حُرُوف ہیں جن کا مجموعہ ’’فَحَثَّہ شَخْصٌ سَکَتْ‘‘ ہے.
سوال:ہمس کے حروف کو کیا کہتے ہیں؟
جواب:ہمس کے حُرُوف کو ’’حُرُوفِ مہموسہ‘‘ کہتے ہیں
سوال:ہمس کو کس طرح ادا کیا جاتا ہے؟
جواب:حُروفِ مہموسہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر ضعف یعنی کمزوری سے ٹھہرتی ہے کہ سانس جاری رہتا ہے اور آواز پست ہوجاتی ہے۔
سوال:جہر کے حروف کتنے ہیں؟
جواب:جہر کے انیس ۱۹ حروف ہیں.
سوال:جہر کے حروف کو کیا ہیں؟
جواب:جہر کے حروف کو’’حُرُوفِ مجہورہ‘‘ کہتے ہیں.
سوال:جہر کو کس طرح ادا کیا جاتا ہے؟
جواب:حُرُوفِ مجہورہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ اس کے اثر سے سانس کا جاری ہونا موقوف ہوجاتاہے اور آواز بلند ہوجاتی ہے۔
سوال:ہمس اور جہر میں کیا فرق ہے؟
جواب:حُروفِ مہموسہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر ضعف یعنی کمزوری سے ٹھہرتی ہے کہ سانس جاری رہتا ہے اور آواز پست ہوجاتی ہے جبکہ حُرُوفِ مجہورہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ اس کے اثر سے سانس کا جاری ہونا موقوف ہوجاتا ہے اور آواز بلند ہوجاتی ہے۔
سوال:ہمس کی ضدکیا ہے؟
جواب:ہمس کی ضد جہر ہے.