Friday, 14 January 2022

کیا اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہیں؟

کیا اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہیں؟ 

---------------------------------
----------------------------------
ذات باری تعالی جسم وجہات اور ازمنہ وامکنہ سے یکسر پاک اور غیرمحدود و لامتناہی ہے. اس کی ذات پوری دنیا اور دنیا کے ذرے ذرے کو تھامے ہوئے اور محیط ہے، وہ قیّوم السماوات والارض ہے. مخلوقات کے وجود کے لئے حیزوحلول ضروری ہے. جبکہ ذات باری تعالی کے ہر جگہ وجود کے لئے تحیز، حلول وتکیّف کی ضرورت نہیں؛ بلکہ وہ بحیثیت "قیوم" کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے. اس پہ ایک دو نہیں متعدد نصوص موجود ہیں:
"وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ"
میں "واسع" کا مفہوم یہی ہے کہ ذات باری تعالی کو شرق وغرب جیسی محدود جہات میں بند کردینا درست نہیں. اس کا وجود کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے۔
اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورة البقرة (2)، الآية: 255)
 أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم (سورة المجادلة (58)، الآية: 7)
يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لاَ يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا (سورة النساء (4)، الآية: 108)
 هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاء وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورة الحديد (57، الآية: 4) 
آیات مبارکہ میں "وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ" سعت وجود باری تعالی کو صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے، استوی علی العرش کے ذیل میں ذات باری تعالی کو یک گونہ محدود کردینے والے احباب "وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ" جیسی آیات سے سے احاطہ علمی مراد لیتے ہیں اور سعت وجود کا انکار کرتے ہیں جو درست نہیں ہے؛ کیونکہ احاطہ علمی کو "أحاط بكل شيء علماً" جیسی آیت میں بطور خاص بیان کردیا گیا ہے، تو پھر ان آیتوں میں بھی وہی احاطہ علمی کے تکرار در تکرار کے کیا معنی؟
طول، عرض اور عمق (ابعاد ثلاثہ) سے مرکب موجود مادی وحسی کے وجود کے لئے تحیز وتکیف درکار ہوتا ہے. موجود غیرمادی کے وجود کے لئے تحیز وتکیف یا جہات کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی. بعض نصوص میں ذات باری تعالی کے لیے جہت فوق وسماء کی نسبت جہت علو کے  ذاتی تفوق کے لئے کی گئی ہے تحدید جہت مخصوصہ مراد نہیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں ہے کہ وجود باری غیر مادی ہے، لہذا ہر جگہ موجود ہونے کے لئے تحیز وتکیف کی ضرورت ہے نہ سمات نقص کا تحقق ہوگا. سعت وجود باری کو عام فہم انداز میں بتانے کے لیے "اللہ ہر جگہ موجود ہے" جیسی تعبیر اختیار کی گئی ہے. اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے. جمہور علماء وارباب افتاء اسے استعمال کرتے چلے آئے ہیں. ان سب کا ایک غلط و باطل عقیدے پہ مجتمع ہونا محال ہے. عقیدے کا مسئلہ ویسے ہی انتہائی حساس و نازک ہے، منطقی و کلامی موشگافیوں کے ذریعے اسے طول دینا اور لاطائل بحثوں کا لامتناہی سلسلہ دراز کرتے رہنا صالح ذہانتوں کو انتشار کا شکار کرنا ہے جو مفید نہیں. فقط 
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_67.html


سماج میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک اخلاقی ناسور

سماج میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک اخلاقی ناسور 
---------------------------------
----------------------------------
اہلیت، صلاحیت، قابلیت اور لیاقت سے آنکھیں موند کر، اپنوں، چہیتوں، رشتہ داروں اور اعزہ واقارب کے ساتھ ترجیحی سلوک اپناتے ہوئے انہیں نوازنا، معاشرتی، اجتماعی، دینی وسماجی عہدے ومناصب پہ براجمان کردینا آج کے دور کی بے قابو وباء ہے۔
اسے اقرباء پروری کہتے ہیں، اپنے اثر ورسوخ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اہل،  قابل اور  محنتی افراد کے ہوتے ہوئے نا اہلوں کو نوازنے؛ یعنی اقرباء پروری کی رسمِ بد، معاشرہ کے "ارتقائی سفر" کو ریورس گِیَر لگادیتی  ہے؛ کیونکہ زبانِ رسالتِ مآب میں اسے "علامت قیامت" (انتظار قیامت) کہا گیا ہے (إذا ضُيِّعَتِ الأمانَةُ فانْتَظِرِ السَّاعَةَ قالَ: كيفَ إضاعَتُها يا رَسولَ اللَّهِ؟ قالَ: إذا أُسْنِدَ الأمْرُ إلى غيرِ أهْلِهِ فانْتَظِرِ السَّاعَةَ. عن أبي هريرة.صحيح البخاري: 6496–حضرت بوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ’’جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کردیئے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الأمانۃ)۔
اکثر میدانوں میں شعوری یا لاشعوری طور پہ دبے پائوں یہ بیماری سرایت کرچکی ہے. اچھے اچھے صاحبان جبہ ودستار کو خودانتفاعی کی یہ وباء قابو کرچکی ہے۔ 
ترقی کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نتائج وعواقب سے بے پروا ہوکر، جفاکشی، جواں مردی، جرأت اور عزم وحزم کے ساتھ بر وقت اس ناسور پہ قابو پانے کی سخت ضرورت ہے۔
۱۱جنوری ۲۰۲۲
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_14.html



Thursday, 13 January 2022

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اچھی شعری تخلیق پیش کرنے یا بہترین اردو ادب کو منصۂ شہود پر لانے کے لئے فارسی زبان کا علم ضروری ہے۔ عربی اور فارسی کے ہزاروں الفاظ، محاورے، فقرے، جملے، ضرب الامثال اردو روزمرہ کے جزو لاینفک بن چکے ہیں اور اب کیفیت یہ ہے کہ ان کو اردو زبان سے خارج ہی نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ کچھ فقرے اور محاورے تو اس طرح سے زبان زد خاص و عام ہوچکے ہیں کہ انھیں ان کی روزمرہ کی گفتگو سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(1) خطائے بزرگان گرفتن خطاست
(بزرگوں کی غلطیوں کی گرفت خود ایک خطا ہے)۔
ہماری تہذیب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے کہ بڑوں کی غلطیوں پر انگلی اٹھائی جائے ۔ ان کی غلطیوں کو خاموشی سے نظر انداز کردینا بہتر تصور کیا جاتا ہے ۔
اس کا یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان سے غلطی سرزد نہیں ہوتی ہے یا ہر بات میں ان کی اندھی تقلید کی جانی چاہئے ، بلکہ ان کی بزرگی اور عمر رسیدگی کے باعث احتراماً ان کی غلطیوں کو نظر انداز کردینے کی روایت ہماری تہذیب کی ایک صحت مند علامت ہے۔ اس فقرے کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان کی خطاؤں کی نشاندہی اور گرفت کرکے انھیں شرمندہ کرنا بجائے خود غلط ہے اور اس سے اجتناب مستحسن قرار دیا جاتا ہے۔
(2) پدرم سلطان بود، تُراچہ؟
(میرا باپ بادشاہ تھا ۔ تیرا باپ کیا ہے؟)
یہ فقرہ کم علمی اور شیخی بگھارنے والا ہے ۔ یہ فقرہ وہ لوگ استعمال کرتے ہیں ، جو اپنی برتری ، بڑائی اور فضیلت بہ زبان خود بیان کرنا چاہتے ہیں ۔ گویا آبا واجداد کے کارناموں پر خود اپنی نام نہاد کامیابی کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔
سنجیدہ حلقوں میں ایسی شیخی کا اظہار مستحسن شمار نہیں کیا جاتا ہے ، کیونکہ انسان کی فضیلت و برتری کا شمار اس کی اپنی حصولیابیوں کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ آبا و اجداد کی عزت و عظمت کے حوالے سے۔
(3) گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل
(اگر بولوں تو مشکل اور نہ بولوں تو بھی مشکل ہے)
کبھی ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان کو خاموش رہنے اور بولنے دونوں صورتوں میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر اس مصرعے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مصرع مرزا غالب کے ایک قطعہ سے اخذ کردہ ہے ۔ اس مصرعے کا ایسے وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ اگر وہ اپنی صفائی میں کسی مسئلہ کی صراحت کے سلسلے میں کچھ بولتا ہے تو اس کی کوئی نہیں سنتا ہے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو بھی اسے مورد الزام قرار دیا جاتا ہے۔
(4) من تُرا حاجی بگویم تو مُرا ملا بگو
(میں تجھے حاجی کہتا ہوں اور تو مجھ کو ملا کہہ)
یہ محاورہ عام طور پر ’’من تیرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ کے طور پر مشہور ہے، لیکن’’حاجی بگو‘‘ کی بجائے ’’ملاّ بگو‘‘ درست ہے ۔ اکثر و بیشتر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ آپس میں گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی تعریف کرکے لوگوں پر اپنی نام نہاد برتری ثابت کرنے کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ آج کل ادب میں یہ طریقہ عام ہوگیا ہے ۔ ایک ادیب دوسرے ادیب کی تعریف کرتا ہے اور دوسرا ادیب اس کی شان میں قصیدے پڑھتا ہے جو اس کی تعریف کرتا ہے۔
(5) من آنم کہ من دانم
(میں جو کچھ ہوں وہ میں خود ہی اچھی طرح جانتا ہوں)
یہ مقولہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی شخص کی تعریف کی جائے لیکن وہ خود کو اس کا مستحق نہ سمجھتا ہو ۔ ایسے موقع پر وہ شخص (جس کی تعریف کی جاتی ہے) کہتا ہے کہ آپ کی تعریف بصد شوق قبول ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اس تعریف کا مستحق نہیں ہوں۔ میں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوں کہ میں کتنے پانی میں ہوں۔ وہ انسان جو حقیقت پسند ہوتا ہے وہی یہ مقولہ استعمال کرتا ہے ورنہ بیشتر لوگ تو اپنی جھوٹی تعریف بھی سن کر پھولے نہیں سماتے ہیں اور تعریف کرنے والے کو دل ہی دل میں دعا بھی دیتے ہیں۔ کیونکہ اپنی تعریف ہر شخص کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
(6) آوازِ سگاں کم نہ کنُد رزقِ گدارا
(کتوں کے بھونکنے سے فقیروں کا رزق کم نہیں ہوجاتا ہے)
جب کسی فقیر کو دیکھ کر کتیّ بھونکتے ہیں، تو کتوں کے بھونکنے سے ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اسے بھیک نہیں ملتی ہے۔ حالانکہ فقیر نے ان کتوں کا کچھ بھی بگاڑا نہیں ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنی خصلت سے مجبور ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جب کسی شخص کی برائی کی جائے اور اس شخص کو خواہ مخواہ لوگوں میں بدنام کرنے اور اسے رسوا کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنی برائی کرنے والے شخص سے کہتا ہے کہ ایسی بے بنیاد باتوں سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں واقع ہوسکتا ہے۔ جس طرح کتوں کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہوتا اسی طرح تمہاری بیہودہ اور بے بنیاد باتوں سے میرے رتبہ و مقام پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔
(7) ہنوز دلی دور است
(ابھی دلی دور ہے)
یہ فقرہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی کام کو مکمل ہونے میں دیر ہو اور کوئی شخص اس بات پر بضد ہو کہ کام تو پورا ہوگیا، اب انتظار کس چیز کا ہے؟ المختصر یہ کہ جب کسی مقصد کے حصول میں تاخیر ہورہی ہو اور سامنے والا شخص اس کام کو مکمل کرنے کی ضد کرے یا اسے محسوس ہو کہ اب کام تو مکمل ہوگیا، لیکن کام کرنے والا اس کام کی نزاکتوں سے واقف ہوتا ہے۔ اسے اس کام کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے تو وہ اس شخص سے جو کام کی تکمیل کے احساس سے سرشار ہوتا ہے، کہتا ہے کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ۔
(8) خود کردہ را علاجے نیست
(اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں)
اردو میں اسی سے ملتا جلتا ایک محاورہ رائج ہے کہ ’’کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلی بات واپس نہیں آتے ہیں‘‘ ۔ اسے دوسرے لفظوں میں محاورۃً یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے پیر پر کلہاڑی خود مارنا ۔ ظاہر ہے ایسے شخص کا کیا علاج ہوسکتا ہے جو اپنا بھلا بُرا خود ہی نہیں سمجھتا ۔ جس شخص کو ایسی بات یا کام کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ہو جس میں سراسر اسی کا نقصان ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر ہی یہ محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
(9) کنُد ہم جنس باہم جنس پرواز
(ایک ہم جنس پرندہ اپنے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے)
دراصل یہ ایک شعر کا پہلا مصرعہ ہے جو ضرب المثل کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ وہ شعر یوں ہے
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر ، باز با باز
یہ شعر انسان کی فطرف کی جانب اشارہ کرتا ہے ،کیونکہ معاشرے کا ہر شخص اپنے ہم مسلک ، ہم خیال ، ہم مزاج اور ہم زبان لوگوں کو تلاش کرتا ہے اور انہی لوگوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ ان کی ہم نشینی اسے پسند آتی ہے اور وہ دوسروں کی بہ نسبت ہم زبان و ہم خیال لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،گفتگو کرنا ، رسم و راہ رکھنا زیادہ بہتر تصور کرتا ہے ۔ شاعر نے پرندوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہوئے اپنے اس شعر میں انسانی فطرت کی جانب اشارہ کیا ہے۔
(10) عقل مند را اشارا کافیست
(عقل مند کو ایک اشارہ کافی ہوتا ہے)
(11) ہرچہ دانا کند، کند ناداں لیک بعد از خرابیٔ بسیار
(جو کام ایک عقلمند آدمی کرتا ہے وہی کام ایک نادان انسان بھی کرتا ہے، لیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد)
ان مقولوں کا مطلب ایک عام انسان بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے ، جو تھوڑی بہت بھی اردو جانتا ہو ۔ احمق انسان کو ایک ہی بات بار بار سمجھانی پڑتی ہے، جبکہ عقلمند شخص آنکھ کے اشارے سے ہی بہت سی باتیں سمجھ لیتا ہے۔
اس لئے یہ مثل بھی مشہور ہے کہ ’’نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا۔
(12) دروغ گورا حافظہ نباشد
(جھوٹ بولنے والے شخص کا حافظہ نہیں ہوا کرتا ہے)
ایک جھوٹے شخص کی فطرت ہوتی ہے کہ اسے یہ یاد نہیں رہتا ہے کہ اس نے کس سے کیا کہا تھا اور کب کہا تھا۔ کیونکہ وہ تو ہر وقت جھوٹ ہی بولتا رہتا ہے۔ اگر سچ بات بولے گا تبھی تو اسے وہ بات یاد رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص ایک آدمی سے کچھ کہتا ہے اور دوسرے سے کچھ اور ۔ عام طور پر یہ عمل غیردانستہ ہوتا ہے، کیونکہ اس کی یادداشت اس کا ساتھ نہیں دیتی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کا جھوٹ، سچ ثابت نہیں ہوپاتا ہے۔
(13) ہم خُرمہ وہم ثواب
(خُرمے الگ ہاتھ آئے اور ثواب الگ ملے)
عام طور پر مذہبی محفلوں میں تقریب کے اختتام پر تبرک تقسیم کئے جاتے ہیں ، جس کا مقصد حصول ثواب ہوتا ہے، اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ عمل بھی خوب ہے کہ ثواب بھی ملا اور کھانے کے لئے خُرمے بھی ہاتھ آئے۔ اردو میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ اور یہ مقولہ مذکورہ فارسی مثل کی بہترین تشریح ہے ۔ اس لئے عقلمند افراد ایسے کاموں میں کبھی پیچھے نہیں رہتے ہیں، جس میں ثواب کے ساتھ ساتھ مادی منفعت بھی ہو۔
(14) آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
(جو بات ساری دنیا کے حسینوں میں ہے وہ تمہارے ذات واحد میں موجود ہے)۔
یہ مصرع مولانا جامی کے مشہور نعتیہ شعر کا ہے:
حسنِ یوسف، دمِ عیسٰی، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری
مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حُسنِ یوسف بھی ہے، عیسیٰ کا دم بھی ہے، موسیٰ کا یدِ بیضا بھی ہے یعنی جو کچھ سارے کے سارے نبی رکھتے تھے وہ تنہا آپ کے پاس ہے۔
یہ مقولہ کسی شخص کی تعریف و تحسین کے لئے مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا ایک طرف اور آپ ایک طرف ۔ یعنی ساری دنیا کے مقابلے میں آپ کی تنہا ذات پیش کی جاسکتی ہے ۔ آپ اپنی خصوصیات و اوصاف میں بے مثال ہیں ۔ آپ کا کسی اور سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
(15) سپردم بتومایۂ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
(میں نے اپنی زندگی کا پورا سرمایہ آپ کے حوالے کردیا ہے۔ اب آپ ہی کمی بیشی کا حساب جانتے ہیں کہ حق ادا ہوا کہ نہیں)
بعض دفعہ پورا شعرہی ضرب المثل کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کی مثال یہ شعر ہے۔ جب کوئی فنکار یا تخلیق کار اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرکے کوئی شاہکار پیش کرتا ہے اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنی فروتنی اور خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنی تخلیق آپ کے سامنے پیش کی ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ میں اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوپایا ہوں۔
(16) ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجُا
(دیکھو تو سہی کہ ہماری راہ کا فرق کہاں سے کہاں جاپہنچا ہے)
دراصل یہ حافظ شیرازی کے ایک مشہور شعر کا مشہور مصرع ہے ۔ شعر یوں ہے
صلاحِ کار کجا ومنِ خراب کجا
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجُا
یعنی میرا خیرخواہ کس فکر میں ہے اور میں خود کس خیال میں ہوں ۔ دیکھو تو سہی کہ ہماری راہ کا فرق کہاں سے کہاں جاپہنچا ہے۔ دراصل مصرع بالا جس کی وضاحت مقصود ہے، یہ مصرع اپنے اور کسی دوسرے شخص کے مؤقف یا نقطۂ نظر کے فرق کی وضاحت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا اتنے بڑے فرق کے ہوتے ہوئے بھلا سمجھوتے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اس مصرع کو ایک دوسرے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص دو فنکاروں یا دو بڑی شخصیتوں کا تقابل کررہا ہو، جس میں دونوں کی صفات و خصائص ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ ہوں یا ایک دوسرے سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہوسکتا ہو تو ایسے موقع پر بھی کہا جاتا ہے۔
(17) چُناں نہ ماندو چنیں نیز ہم نہ خواہد ماند
(وہ باقی نہیں رہا، اور یہ بھی باقی نہیں رہے گا)
زمانہ کے تغیرات کو ہی دوام حاصل ہے۔ وقت کو ثبات حاصل نہیں ہے یہ ہمیشہ گردش کرتا رہتا ہے۔ یہاں ہر وقت انقلاب رونما ہوتا رہتا ہے کسی بھی انسان کا وقت یکساں نہیں رہتا ہے۔ کبھی ایک شخص دولت سے مالا مال رہتا ہے اور دیکھتے دیکھتے وہ دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے۔
(18) ملکِ خدا تنگ نیست ، پائے گدالنگ نیست
(خدا کا ملک تنگ نہیں اور فقیروں کا پاؤں لنگڑا نہیں)
کوشش کرنے والے انسان کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔ کوشش کرنے کا ہر جگہ موقع ہے۔ اگر ایک شخص کو اس کی کوشش کے باوجود کسی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوپاتی ہے تو اسے دوسری جگہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر کوشش کرنی چاہئے کیونکہ دنیا بہت بڑی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ہے۔ یہاں نہ سہی وہاں کام تو بن ہی جاتا ہے ۔ اس مقولہ میں ان لوگوں کے لئے ایک سبق بھی پوشیدہ ہے جو کسی کام میں کامیابی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ انھیں ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور کوشش جاری رکھنی چاہئے۔
(19) افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را
(غمگین دل پورے انجمن کو افسردہ و رنجیدہ بنادیتا ہے)
کوئی شخص جب کسی محفل میں جاتا ہے اور اس کے چہرے پر رنجیدگی کے آثار ہوتے ہیں یا وہ شخص محفل میں کچھ ایسی دردناک باتیں سناتا ہے جس سے اس کا دل افسردہ ہوتا ہے، تو اسے سن کر پوری محفل رنجیدہ و غمگین ہوجاتی ہے ۔ جبکہ کوئی تبسم آمیز گفتگو کرتا ہے تو دوسروں کے لبوں پر بھی مسکراہٹ رقصاں ہوجاتی ہے ۔ افسردگی و پژمردگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے لوگوں میں خوشیاں بانٹنی چاہئے۔
(20) شود ہم پیشہ باہم پیشہ دشمن
(ہم پیشہ آدمی دوسرے ہم پیشہ شخص کا دشمن ہوتا ہے)
یہ بات عام طور پر دیکھی جاتی ہے کہ ایک ہی پیشے سے وابستہ لوگ ایک دوسرے سے حسد ، جلن اور کینہ رکھتے ہیں ۔ ان میں کم صلاحیت والا انسان احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور ایک باصلاحیت ہم پیشہ شخص سے اس کی ترقی ، مقبولیت اور ہردلعزیزی کی وجہ سے اسے جلن ہوتی ہے ۔ اسے یہ لگنے لگتا ہے کہ مجھے کوئی بھی نہیں پوچھ رہا ہے اور ہمارے ہم پیشہ دوسرے شخص کی بہت پذیرائی ہورہی ہے۔
(21) بریں عقل و دانش بباید گریست
(ایسی عقل و دانش پر تو رونا چاہئے)
(22) جواب جاہلاں خاموشی باشد
(یعنی جاہلوں کے سوال کا جواب دینے سے بہتر خاموشی اختیار کرنا ہوتا ہے.)
ان محاورہ جات کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے، جب کوئی شخص بے سر پیر َکی باتیں کرے جس کا جواب دینا خود کو اس شخص کی سطح پر لے جانے کے مترادف ہو۔ ایسے شخص کی عقل و دانش پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
(23) آزمودہ را آزمودن خطاست
(آزمائے ہوئے شخص کو دوبارہ آزمانا غلطی ہے)
اگر کسی شخص سے معاملات کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہو اور اس نے اپنے معاملات میں سنجیدگی نہ دکھائی ہو اور جھوٹ بول کر اپنا کام نکالنے کی کوشش کی ہو تو دوبارہ صاحب معاملہ سے بھلے ہی معافی مانگے یا دوبارہ غلطی نہ دہرانے کی بات کہے ۔ اس کے باوجود اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ وہ دوبارہ ویسی ہی حرکت کرے گا جیسی حرکت پہلے کرچکا ہے ۔ کیونکہ فریب دہی اور دروغ گوئی اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی ہے۔
(24) داشتہ آید بکار ۔ گرچہ باشد سرِمار
(رکھی ہوئی چیز کبھی نہ کبھی کام آتی ہے چاہے وہ سانپ کا سر ہی کیوں نہ ہو)
وہ لوگ جو معمولی اور وقتی طور پر بے مصرف سمجھ کر کسی چیز کو پھینک دیتے ہیں ، لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انھیں احساس ہوتا ہے کہ جو چیز میں نے فلاں وقت اور فلاں جگہ پھینک دی تھی ، وہ اس وقت ہوتی تو میرے کام آتی ۔ اس لئے کسی بھی معمولی چیز کو بھی حفاظت سے رکھنی چاہئے ۔ نہ جانے کب اس کی ضرورت پڑجائے۔
(25) درکارِ خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست
(اچھا کام کرنے کے لئے استخارہ کی ضرورت نہیں)
جب کسی کام میں انسان پس و پیش محسوس کرے اسے ایسا لگے کہ اس کام کو کرنے میں نفع ہے یا نقصان تو ایسے وقت استخارہ کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ ایک اسلامی طریقہ ہے۔ اس میں ایک مخصوص دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر جس کام کے تئیں دل گواہی دیتا ہے کہ یہ کام کرنا چاہئے اسے کیا جاتا ہے۔ لیکن جس کام کو کرنے میں صرف خیر ہی خیر پوشیدہ ہو، اس کام کو کرنے میں استخارہ کی کیا ضرورت ہے۔ بس نیکی کر دریا میں ڈال والے محاورے پر عمل کرنا چاہئے اور نتیجہ یا صلہ کی پروا سے بے خبر ہوجانا چاہئے۔
(26) چاہ کنَ راچاہ درپیش
(کنواں کھودنے والا پہلے خود ہی کنویں میں جاتا ہے)
برائی کرنے والا خود ہی برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی برائی کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کی زبان ناپاک ہوتی ہے۔ یا وہ شخص جو کسی کی برائی چاہتا ہے، وہ خود بھی ایک نہ ایک دن اس برائی کی پاداش میں سخت آزمائش و امتحان میں گھر جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے تو پہلے اسے اس کنویں کی گہرائی تک جانا پڑتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ برائی کا بدلہ کبھی اچھائی نہیں ملتا ہے، برائی ہی ملتا ہے۔
(27) بزرگی بہ عقل است نہ بسال
(بزرگی عقل سے ہوتی ہے عمر سے نہیں)
یہ شیخ سعدی شیرازی کے ایک شعر کا مصرع ہے ۔ پورا شعرا اس طرح ہے۔
تونگری بہ دل است نہ بمال
بزرگی بہ عقل است نہ بسال
یعنی مالداری دل سے ہوتی ہے مال سے نہیں اور بزرگی عقل سے ہوتی ہے عمر رسیدگی کی وجہ سے نہیں۔ اکثر مالداروں کے پاس دل نہیں ہوتا ہے جبکہ اکثر دلدار لوگوں کے پاس دولت نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی چھوٹا یا کم عمر انسان عقل کی بات کہے تو اس کی عمر کی کمسنی کی وجہ سے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس میں اگر وزن ہو تو اسے قبول کرنا چاہئے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کی عمر زیادہ ہو وہ عقلمند بھی ہو کیونکہ عقل کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا ہے ۔ کوئی بھی شخص عقلمند ہوسکتا ہے اس کے لئے کمسنی یا عمر رسیدگی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔
(28) ہر کمالے راز والے
(انتہائی ترقی کے بعد زوال شروع ہوتا ہے)۔
اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس بلندی پر بیٹھا ہے، وہ وقتی ہے۔ اس کے بعد تنزلی اس کے مقدر میں آنے والی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے ۔ اپنے علاوہ دوسروں کو کمتر اور حقیر تصور کرتا ہے۔ کسی کی بات آسانی سے نہیں سنتا ہے جبکہ اسے اپنی ترقی کی ناپائیداری پر توجہ دینی چاہئے۔ ایسے ہی شخص کو اس کی اصل اوقات بتانے کے لئے کہا جاتا ہے۔
(29) ایں سعادت بزورِ بازو نیست
(یہ سعادت بازو کی قوت کی وجہ سے نہیں ہے)
یہ مصرع اس شعر کا پہلا مصرع ہے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
یعنی جب تک عطا کرنے والا خدا کسی کو کوئی مرتبہ، صلاحیت اور عزت نہ عطا کرے کسی شخص کے بازو کی طاقت سے وہ رتبہ یا وہ صلاحیت و عزت حاصل نہیں ہوتی ہے۔
اکثر و بیشتر لوگ اس شعر کا استعمال خدا کی بزرگی اور اپنی خاکساری کا اظہار کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی پیش کیا ہے اس میں اللہ کی مدد اور اس کی ودیعت کردہ صلاحیت کا ہی عمل دخل ہے۔ اس میں میرا کچھ بھی حصہ نہیں ہے۔
(30) گرُبہ کشتن روز اول
(بلی کو پہلے ہی دن مارنا بہتر ہوتا ہے)
یعنی رعب پہلے ہی دن بیٹھتا ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ انسان کسی پر رعب ڈالنا چاہے تو پہلے ہی دن اس کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ورنہ وہ شخص اگلے انسان کی نفسیات سے آگاہ ہوجائے گا اور بعد میں وہ لاکھ اس پر دھونس جمانا چاہے ، اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ عام طور پر لوگ نوجوانوں کو یہی مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں جب اس کی شادی ہو تو روز اول ہی اگر آپ نے اپنی بیوی پر رعب نہیں جمایا تو بعد میں آپ اپنی بیوی پر رعب نہیں بٹھاسکتے کیونکہ پہلا تاثر ہی آخر دم تک اپنا اثر قائم رکھتا ہے۔
(31) جائے استاد خالیست
(استاد کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے)
شاگرد چاہے جتنی بھی ترقی کرجائے۔ آگے بڑھ جائے ۔ علم و فضل کا مالک بن جائے، لیکن اس کے باوجود استاد اس موقف میں رہتا ہے کہ اسے کچھ نہ کچھ سکھائے۔ یعنی شاگرد کتنا بھی آگے بڑھ جائے وہ استادکا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور اسے کرنا بھی نہیں چاہئے۔ کیونکہ استاد کی وجہ سے ہی اسے وہ عزت و منزلت اور رتبہ حاصل ہوتا ہے جس کی اسے توقع تک نہیں ہوتی ہے۔
(32)۔ صدر ہر جا کہ نشیند صدراست
(صدر جہاں بھی بیٹھ جائے وہ صدر ہی ہوتا ہے) ۔
یعنی بزرگ، حاکم یا کوئی بڑا آدمی، جہاں بھی بیٹھ جائے وہی جگہ معزز سمجھی جاتی ہے ۔ صدر کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اسٹیج پر ہی بیٹھے تو اسے صدر کہا جائے گا بلکہ وہ عام سامعین میں بھی بیٹھے تو وہ صدر ہی کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بزرگ شخصیت کا حامل کوئی بھی انسان چاہے، جہاں بھی رہے اس کا مقام کسی اچھی یا بری جگہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا ہے وہ ہر جگہ معزز ہی تصور کیا جاتا ہے۔
(33) شنیدہ کیَ بود مانند دیدہ
(سنا ہوا کب دیکھے ہوئے کے برابر ہوسکتا ہے)
یعنی سنی ہوئی بات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے جب تک اس بات کی حقیقت کے متعلق خود مشاہدہ نہ کیا جائے ۔ کسی واقعے کے بارے میں کوئی شخص اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر کچھ بھی بول سکتا ہے، لیکن جب آپ اس واقعے کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں تو آپ کو حقیقت کا علم ہوجاتا ہے اور پوری سچائی سامنے آجاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ سنی ہوئی باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے جب تک اس کی پوری تحقیق نہ ہوجائے۔
(34) تامرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد
(جب تک کوئی شخص کچھ کہنے کے لئے اپنی زبان نہیں کھولتا ، اس کے عیب و ہنر اس وقت تک پوشیدہ رہتے ہیں)
عام طور پر کسی خاموش مزاج انسان کے تئیں غلط رائے قائم کرلی جاتی ہے ، لیکن جب وہ بولتا ہے تو اس کی صلاحیت ، اس کا نظریہ، اس کی فکر اور اس کی علمی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کسی بھی شخص کے بارے میں اس وقت تک کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے جب تک وہ خاموش رہے کیونکہ آپ اس کی خوبیوں اور خامیوں سے اس وقت تک واقف نہیں ہوتے جب تک وہ اپنی زبان نہیں کھولتا ہے۔
کبھی کبھی لوگ اپنی کم علمی چھپانے کے لئے بھی خاموش رہتے ہیں، اور کبھی مصلحتاً بھی بعض افراد خاموشی اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیونکہ محفل میں ہر شخص بولنے کی ہمت نہیں کرتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب کسی کے بارے میں جاننا چاہو تو اس کے بارے میں دوسروں سے مت پوچھو بلکہ اس سے خود گفتگو کرو، پھر اس کے عیب و ہنر، اس کی علمیت اور اس کی فکری بصیرت سامنے آجائے گی۔
(35) فکرِ ہرکس بقدرِ ہمتِ اوست
یہ بھی حافظ شیرازی کا شہرہ آفاق مصرع ہے جس سی مراد ہے کہ انسان اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔
فارسی کے مذکورہ مقولے، محاورے، اقوال، اشعار، مصرعے اور ضرب الامثال ایسی معنویت لئے ہوئے ہیں جن کے نعم البدل اردو میں موجود نہیں ہیں اس لئے تحریر و تقریر میں ان مقولوں کی معنویت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(S_A_Sagar#)  https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_21.html



کتنے عجیب ہیں نا لوگ

کتنے
عجیب ہیں نا لوگ 
بات پکڑ کر انسان چھوڑ دیتے ہیں 
حضرت خواجہ سید گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 
ایک دن ایک معتبر مسافر وارد ہوا، آپ (حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) اسے نزدیک بٹھاکر سفر اور مشائخ راہ کا حال دریافت فرمارہے تھے، وہ کہہ رہا تھا کہ فلاں مشائخ سے میں نے فلاں پیراہن حاصل کیا ہے اور فلاں سے فلاں کپڑا ملا ہے، ان سب کو ملاکر میں نے ایک خرقہ بنایا؛ لیکن راستے میں وہ خرقہ چور لے گئے، اگرحضرت شیخ کا یہ پیراہن مجھے مل جائے تو ساری کمی پوری ہوجائے گی، اور دل کو قرار آجائے گا،
حضرت اقدس نے فرمایا:
زین الدین (خادم) دوسرا پیراہن لاؤ، 
آپ نے اپنا پیراہن اتارتے ہوئے فرمایا:
جو کچھ تمہارے ساتھ چوروں نے کیا ہے، تم نے ہمارے ساتھ اس سے کم نہیں کیا۔ یہ سن کر خادموں کو اس قدر ہنسی آئی کہ سامنے سے بھاگ گئے۔ (شرح جوامع الکلم، ص: 202) (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_30.html

ﷲ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے

ﷲ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے
اکیسویں صدی کے انسان کو اپنے مسائل کے حل کے لیے روحانیت کی سخت ضرورت ہے
ایک جاپانی پروفیسر کی حیرت انگیز ریسرچ
معدے کی تیزابیت کا اصل سبب الٹا سیدھا کھانا نہیں بلکہ بے چینی ہے.
بلڈپریشر کی وجہ کھانے میں نمک کی زیادتی نہیں بلکہ احساسات وجذبات کا عدم انضباط ہے.
کولسٹرول کی زیادتی کا اصلی سبب چربی دار کھانے نہیں بلکہ سستی ہے.
سینہ سے جڑے پرابلمس کا اصلی سبب آکسیجن کی کمی نہیں بلکہ شدت غم ہے.
شگر کی بیماری کی وجہ جسم میں گلوکوز کی زیادتی نہیں بلکہ انانیت اور اپنے موقف پر بے جا شدت ہے.
جگر کی بیماریوں کا سبب نید میں بے ضابطگی اور نفسیاتی خلل نہیں بلکہ مایوسی اور دل شکستگی اس کے اسباب میں شامل ہے.
دل کی بیماریوں اور شرایین کے انسداد کا سبب دوران خون کی کمی نہیں بلکہ اطمینان وسکون کا فقدان ہے. 
یہ بیماریاں جن اسباب سے پیدا ہوتی ہیں ان کا تناسب درج ذیل ہے:
50%  روحانی اسباب
25% نفسیاتی اسباب 
15% معاشرتی اسباب 
10% نامیاتی اسباب 
اس لئے اگر تم ایک صحتمند زندگی کے خواہاں ہو تو اپنے دل ودماغ کی حفاظت کرو اور کینہ، حسد، جلن، نفرت، غصہ، تکبر، انتہاپسندی، سستی،نگالم گلوچ اور دوسروں کی تحقیر وتذلیل سے گریز کرو.
اور لوگوں کے ساتھ درگزر سے کام لو، پورے یقین واذعان کا ساتھ اللہ کا ذکر کرو، پورے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرو، ہمیشہ باوضو رہو، لوگوں کے تئیں حسن ظن رکھو خواہشات نفسانی سے پرہیز کرو، ہمیشہ صدقہ وخیرات کرتے رہو اور اس قول الہی کو مت بھولو  کہ 
اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
ترجمہ: خوب سمجھ لو کہ ﷲ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے۔
اور پیارے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کے اس فرمان کو بھی یاد رکھو کہ اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو. 
مذکورہ بالا تحقیق کو اگرچہ اسے سو فیصدی صحیح نہیں کہہ سکتے مگر یہ بات مسلم ہے کہ روحانیت کو صحت میں بہت زیادہ دخل ہے لہذا اکیسویں صدی میں انسان مغربیت اور ٹیکنالوجی کے نشہ میں روحانیت سے جو اپنے رشتہ کو کمزور کرچکا ہے. اسے ایک بار پھر مضبوط کرنے کی سخت ضرورت ہے تجربات مشاہدات اور تحقیقات اسی کی نشاندہی کررہی کہ قرآن نے بالکل درست کہا:
اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
ترجمہ: خوب سمجھ لو کہ اﷲ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے۔
اللہ کے باغی انسانوں آؤ اپنے خالق و مالک اور أرحم الراحمين رب کی جانب لوٹو دنیا وآخرت میں کامیاب اور بامراد ہوجاؤگے ان شآءاللہ (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_13.html

بے شک دین آسان ہے

بے شک 
دین آسان ہے اور 
جب بھی دین پر سختی 
تھوپنے کی کوشش کی جائے گی، 
تو دین ایسا کرنے والے پر غالب آ جائے گا۔ 
لہذا، عمل کے معاملے میں اعتدال سے کام لو، 
اگر کامل ترین صورت اپنا نہیں سکتے تو ایسے اعمال کرو جو اس سے قریب تر ہوں، اپنے رب کے پاس ملنے والے ثواب کی خوش خبری قبول کرو اور صبح و شام اور کسی قدر رات (کی عبادت) کے ذریعے مدد حاصل کرو.
 حدیث: عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إن الدين يسر، ولن يشاد الدين إلا غلبه، فسددوا وقاربوا وأبشروا، واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة». وفي رواية: «سددوا وقاربوا، واغدوا وروحوا، وشيء من الدلجة، القصد القصد تبلغوا».  [صحيح.] - [رواه البخاري.]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بے شک دین آسان ہے اور جب بھی دین پر سختی تھوپنے کی کوشش کی جائے گی، تو دین ایسا کرنے والے پر غالب آ جائے گا۔ لہذا، عمل کے معاملے میں اعتدال سے کام لو، اگر کامل ترین صورت اپنا نہیں سکتے تو ایسے اعمال کرو جو اس سے قریب تر ہوں، اپنے رب کے پاس ملنے والے ثواب کی خوش خبری قبول کرو، اور صبح و شام اور کسی قدر رات (کی عبادت) کے ذریعے مدد حاصل کرو"۔ ایک اور روایت میں ہے: ”عمل کے معاملے میں اعتدال سے کام لو اور اگر کامل ترین صورت اپنا نہیں سکتے تو ایسے اعمال کرو جو اس سے قریب تر ہوں۔ صبح کو چلو، شام کو چلو، اور رات کے کچھ حصے میں، میانہ روی سے کام لو اور اعتدال کا دامن نہ چھوڑو، منزل مقصود کو پہنچ جاؤگے“۔  صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
شرح: جو بھی شخص دین کی فراہم کی ہوئی آسانی کو پس پشت ڈالتے ہوئے دینی اعمال میں مشکل پسندی کی روش اپنائے گا، وہ ایک نہ ایک دن عاجز و بے بس ہوکر اپنے عمل سے کلی یا جزوی طور پر دامن کش ہوجائے گا۔ اس لیے غلو اور مبالغہ کو درکنار کرتے ہوئے اعتدال سے کام لو اور قریب ترین طریقہ اختیار کرو, چنانچہ اگر کامل ترین صورت پر عمل نہیں کرسکتے تو اس سے قریب ترین صورت پر عمل کرو۔ مسلسل کیے گئے عمل پر، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، ثواب کی خوش خبری قبول کرو۔ اور فراغت و نشاط کے وقت کو غنیمت جان کر اللہ کی عبادت کیا کرو۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں وارد لفظ "الدین" نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ویسے اسے منصوب بھی روایت کیا گیا ہے, نیز ایک روایت میں "لن يشاد الدين أحد" بھی آیا ہے۔ جب کہ آپ کے الفاظ "إلا غلبه" کے معنی یہ ہیں کہ دین سختی کی روش اپنانے والے پر غالب آ جائے گا جبکہ ایسا شخص دین کے احکام کے بکثرت ہونے کى وجہ سے دین کے مقابلے کی تاب نہ لا سکے گا۔ یاد رہے کہ دن کے پہلے حصے، آخری حصے اور رات میں چلنے کا حکم بطور تشبیہ ہے، جس میں ایک مسلمان کے صراط مستقیم پر چلنے کی تشبیہ ایک انسان کے دنیوی عمل میں مشغول رہنے سے دی گئي ہے، جو اقامت کی حالت میں دن کے دونوں کناروں میں یعنی صبح و شام کام کرتا ہے اور کچھ دیر آرام کرتا ہے، جب کہ سفر کی حالت میں رات میں چلتا ہے اور جب تھک جاتا ہے، تو اتر کر آرام کرتا ہے۔ کچھ یہی حالت اللہ کی جانب چلنے کی بھی ہونی چاہئے۔ (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post.html

Friday, 24 December 2021

حقیقت تبلیغ، طریقۂ تبلیغ، تبلیغی جماعت کی تاسیس، شرعی حیثیت، اس کے مساعی وکارنامے اور ابن سلمان کا جبر!

 حقیقت تبلیغ، طریقۂ تبلیغ، تبلیغی جماعت کی تاسیس، شرعی حیثیت، اس کے مساعی وکارنامے اور ابن سلمان کا جبر!

---------------------------------
----------------------------------

دین اسلام میں اصل تبلیغ یعنی اللہ کے بندوں تک اللہ کا آخری دین واحکام پہنچانا ہے۔ قرآن حدیث میں صراحت کے ساتھ اس کا حکم دیا گیا ہے۔ یایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک المائدہ 67۔۔۔ بخاری شریف میں حضور علیہ السلام کا فرمان ہے:

قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ لِمَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ فَكَانَ كَذَلِكَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (صحيح البخاري. كتاب الفتن رقم الحديث 6667.۔ 

باقی تعلیم، تدریس، تصنیف و تالیف خلافت وحکومت وغیرہ سب اسی تبلیغ دین کے آلات وذرائع ہیں۔ اسلام ابتدا ہی سے ایک تبلیغی مذہب رہا. جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے رہنے والوں کی وحشیانہ عادات چھڑواکر انھیں مسلمان بنایا ہے تو نہ ان کے پاس طاقت تھی نہ دولت۔ بلکہ صرف ایک آلۂ تبلیغ تھا جسے زبان کہتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عقیدۂ توحید پر صرف ایک ہی طریقہ سے زور دے سکتے ہیں اور وہ یہ تھا کہ بت پرستی کی خوف ناک سزاؤں سے متنبہ کریں۔ اور ان انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کو یاد دلائیں جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہر زمانہ میں اللہ رب العزت کا پیغام لے کر مبعوث ہوئے تھے، البتہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاں نثار انصار کی ایک ایسی جماعت مل گئی جو آپ پر سے اپنی جانیں قربان کرنے اور ایک آزاد حکومت کے قیام کی بنا ڈالنے کے لئے تیار تھی۔ اگرچہ اس وقت اس کی حیثیت بالکل بدل گئی تھی، مگر اس کے باوجود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تبلیغِ اسلام کا وہی طریقہ جاری رہا کہ افراد کو نیکی کی ترغیب دے کر قبولِ اسلام پر راضی کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک پہنچنے والے دین کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں: ایک حصہ تو وہ ہے جس کی مخصوص ہیئت و شکل مطلوب ومعین ہے اس میں حالات زمانہ کے لحاظ سے کمی بیشی کی اجازت قطعا کسی کو نہیں جیسے وضوء  نماز اور حج وغیرہ وغیرہ۔ دوسری صورت وہ ہے جس میں نفس شئے تو مطلوب ہے لیکن بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کی بنیاد پر اس کی شکل اور صورت متعین نہیں کی گئی جیسے جہاد فی سبیل اللہ۔ دعوت الی اللہ، علم ودین کے سلسلے کو چلانا، احکام شریعت دوسروں تک پہنچانا وغیرہ؛ کہ جہاد، دعوت، تعلیم وتبلیغ تو مطلوب ہے' لیکن اس عمل کو انجام دینے کی کوئی مخصوص ہیئت متعین نہیں کی گئی؛ بلکہ امت کے باکمال افراد کی صلاحیتوں اور عقل سلیم پہ اس کی تعیین کو چھوڑ دیا گیا۔ مثلا مساجد کی تعمیر مطلوب ہے۔ پاکی صفائی اور ان میں ذکراللہ بھی مطلوب ہے لیکن ان کی تعمیر کا کوئی خاص وضع وطرز متعین و مطلوب نہیں۔ اسی لئے  عالم اسلام میں مختلف وضع کی مسجد پائی جاتی ہے۔ اور گنبد ومینار وغیرہ مسجد کے لئے شرائط میں سے نہیں ہیں۔ ہند-پاک میں دو مینار بنانے کا رواج ہے۔ خلیج میں عموما ایک مینار ہوتا ہے جبکہ دنیا کی سب سے قدیم  واول مسجد بیت اللہ میں ایک بھی مینار نہیں تھا۔ نوح علیہ السلام کی دعوت (انی دعوت قومي ليلا ونهارا سورة نوح 5) واضح لفظوں میں بتارہی ہے کہ  دعوت الی اللہ کی مختلف شکلیں ہیں۔ انفرادی، اجتماعی، علانیہ وخلوت، کوئی بھی شکل دعوت کے لئے متعین نہیں۔ دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والے ہر فرد کو اختیار ہے کہ ماحول، وقت، حالات وتقاضے کے مطابق دعوت دین کے جس طریقہ کو صحیح، مفید، مؤثر اور دوررس سمجھے اسے اختیار کرے۔ اس سلسلہ میں کسی کو کسی پر روک لگانے یا اس کے طریقہ کار پہ نکیر کرنے کا کوئی حق نہیں جب تک کہ اس میں کوئی شرعی منکر یا مقاصد دینیہ سے متضاد کوئی عنصر شامل نہ ہوجائے۔ احکام دین کے منصوص اور غیرمنصوص طریقوں کو خلط ملط کردینے یا غیرمنصوص، اجتہادی، تجرباتی اور انتظامی طریقہ دعوت کو منصوص کا درجہ دیدینے کی وجہ سے دین کی خدمت کررہے دیگر مختلف اداروں اور جماعتوں میں تنازع، تصادم اور تقابل کی شکل پیدا ہوتی ہے۔ حالانکہ اگر چشم حقیقت وا کئے ان میں فرق سمجھ لیا جائے تو انگنت تنازعات کا سد باب ہوسکتا ہے اور ہم سینکڑوں ذہنی الجھنوں اور کشمکش سے نجات پاسکتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش یقینا نہیں ہے کہ دعوت الی اللہ کی مخصوص شکل اور طرز کی افادیت وتاثیر کی وضاحت عمدہ سے عمدہ طریقہ سے کیجاسکتی ہے' لیکن کسی کو اپنے طرز و تجربہ کا اس طرح پابند نہیں بنایا جاسکتا جیسے احکام قطعیہ اور نصوص قرآنیہ کا۔ دین کی دعوت وخدمت کرنے والی کوئی جماعت 'اصول دین ومنہج اسلاف سے ہم آہنگ کسی بھی طریق کار کو اختیار کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور وہ اس میں حق بجانب ہے۔ لیکن ان کے طرزدعوت سے فرق رکھنے والے دیگر شعبہائے دین کی تحقیر، تنقیص، تقلیل شان یا ان کی افادیت ونافعیت کا انکار کرنا بالکل غلط ہے۔ دعوتی طریقہ کار کی بعض چیزیں تو منصوص ہوتی ہیں لیکن دیگر متعدد چیزیں  محض انتظامی ہوتی ہیں جو قرآن وحدیث اور حیات صحابہ سے مستنبط ہوتی ہیں. ایسی چیزوں اور شکلوں کی ہیئت کذائی کی تنفیذ پہ منصوص طریقے جیسا اصرار کرنا اور دوسروں پہ زبردستی تھوپنا صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نفس تبلیغ پہ ہر زمانہ میں عمل ہوتا رہا ہے۔البتہ حالات وزمانے کے اعتبار سے طریقے مختلف رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ جمع ہوتے اور احادیث سناتے اور انہیں مسائل بیان کرتے تھے۔ بخاری میں ہے:

[ص: 39] بَاب مَنْ جَعَلَ لِأَهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً 

70 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُاللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا (صحيح البخاري. كتاب العلم)

حضرت ابوہریرہ ہفتہ میں ایک دفعہ مسجد نبوی میں منبر کے قریب کھڑے ہوکے احادیث سنایا کرتے تھے۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کو خطبہ شروع ہونے سے پہلے احادیث سنایا کرتے تھے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ مستقلا تبلیغ کیا کرتے تھے۔ (اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ 55/3۔ رقم 2789)

حضرت سعد بن ابی وقاص کی درخواست پہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کوفہ تبلیغ کے لئے بھیجا۔ (اسدالغابہ 3/283۔ رقم 3177۔ کذا فی الاصابہ 201/4۔ رقم 4970)۔۔

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی جماعت کو بصرہ اور عبادہ بن صامت اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی جماعت کو ملک شام بھیجا۔ (اسدالغابہ 294/3۔ الاصابہ 307/4۔ رقم 3197)۔

اس کے بعد پھر ایک وقت آیا کہ احادیث کتابی شکل میں لکھی گئیں۔ جگہ جگہ حدیث سنانے کے حلقے لگتے۔ بعض محدثین کے حلقہ میں ایک لاکھ یا اس سے زائد آدمی موجود رہتے۔ (مرقات المفاتیح 57/1۔ رشیدیہ)۔

پھر ایک وقت آیا کہ مشائخ نے تصوف اور توجہ باطن کے ذریعہ تبلیغ کی۔پہر علماء نے مدارس قائم کئے۔ واعظین نے وعظ کہے۔ مناظرین نے مناظرے کئے۔ درس وتدریس، تصنیف و تالیف، رسائل وجرائد، ارشاد وتلقین کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور یہ تمام طرق تبلیغ دین کے لئے اختیار کئے گئے۔ غرض یہ امت کبھی بھی مجموعی حیثیت سے نفس تبلیغ سے غافل نہیں رہی۔اور ہر ہر طریقہ تبلیغ نہایت موثر ومفید ثابت ہوا (محمودیہ ملخصا 200/4)۔

 دین کی بنیادی تعلیم، عقائد، اخلاق واعمال کی اصلاح ضروری و فرض عین ہے۔ خواہ جس ذریعہ سے بھی اس کا حصول ممکن ہو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ دین سکھنے کے لئے جس کو سہولت ہے کہ مدارس دینیہ میں داخل ہوکر باقاعدہ نصاب پڑھے تو وہ یہی صورت اختیار کرلے۔ جس کے پاس اتنا وقت نہیں یا اتنی مالی وسعت نہیں یا عمر زائد ہوچکی ہو یا حافظہ وذہن ایسا نہیں کہ تو خواہ وہ خود آہستہ آہستہ اہل دین سے زبانی سیکھے یا کتاب کے ذریعہ سیکھے یا اہل علم کی تقاریر سے سیکھے غرض جو صورت بھی قابو میں ہو اس کو اختیار کرے۔جب تک اس میں کوئی قبح ومفسدہ نہ ہو۔ مختلف استعداد رکھنے والوں کے لئے کوئی خاص صورت اسہل وانفع ہوتو اس کا انکار مکابرہ ہے اور اس خاص صورت کو ہر شخص کے لئے لازم قرار دینا بھی تضییق وتحجیر ہے۔ پھر سیکھے ہوئے دین کو دوسروں تک پہنچانا فرض کفایہ ہے۔

تبلیغی جماعت کا مقصد تاسیس: 

دہلی واطراف کے میو علاقے کے عمومی بے دینی کو دیکھ کے مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے یہ طے کرلیا تھا کہ لادینیت کے اس عمومی سیلاب کے روک تھام کے لئے اسی سطح کی عمومی محنت کی ضرورت ہے۔اور انہوں نے اپنے طویل تجربہ اور بالغ نظری سے یہ سمجھ لیا تھا کہ اپنے ماحول میں اور مشاغل میں گھرے رہ کر غریبوں اور کاشتکاروں کا دین سیکھنے کے لئے اتنا وقت نکالنا کہ جس سے ان کی اصلاح ہوجائے ناممکن ہے۔ اور ان سے ابھی یہ مطالبہ کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ تمام کی تمام اس عمر میں مکاتب کے طالبعلم بن جائیں اور ان سے یہ توقع بھی صحیح نہیں کہ صرف وعظ ونصیحت سے ان کی اصلاح ودرستگی کا انقلاب ان کی بگڑی ہوئی زندگیوں میں بپا ہوجائے. مگر ان تمام مشکلات کے ہوتے ہوئے مولانا کاندھلوی کے نزدیک ان لوگوں کی زندگیوں میں یہ اصلاحی انقلاب بپا کرنا ضروری بھی تھا۔ آپ کو اس کی یہ تدبیر سمجھ میں آئی کہ یہ لوگ کچھ مدت کے لئے جماعتوں کی شکل میں دینی علوم کے مرکزوں کی طرف نکلیں۔ اور وہاں کے عوام وجہلاء کو کلمہ ونماز کی تبلیغ کریں اور اس طرح اپنا پڑھا ہوا سبق پختہ کریں۔ اور وہاں کے اہل علم حضرات کی مجالس میں بیٹھ کر ان علماء کی باتوں کو مکمل غور وفکر کے ساتھ سنیں اور ان اہل علم کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی اصلاح کریں اور اس طرح علمی وعملی زندگی حاصل کریں۔ علماء کی براہ راست تشکیل نہ کریں، وہ حضرات علماء جن دینی مشاغل میں لگے ہوئے ہیں انکو تو وہ خوب جانتے ہیں اور ان کے منافع کا وہ تجربہ رکھتے ہیں۔ دعاء لینے واستفادہ کے لئے ان کی خدمت میں حاضری کی تلقین فرمائی۔ تاکہ اس کام کو علماء کرام کی سرپرستی حاصل رہے۔

تبلیغی جماعت کا بانی: 

حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ (بانیِ تبلیغی جماعت) کی دینی تعلیم اور تربیتِ اخلاق کی ابتداء قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے دربارگوہر بارسے ہوئی، پہلی بیعت کا شرف بھی حضرت گنگوہی سے ہی حاصل ہوا۔ حضرت گنگوہی کے فیض صحبت اور پھر بعد میں حضرت مولانا خلیل احد سہارنپوری رحمہ اللہ کی تعلیم وتربیت نے مولانا محمد الیاس صاحب کو شریعت وطریقت کا جامع اور ظاہر وباطن کا مصلح اور مربی بنادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ان دونوں شیوخ اور مربیوں کے فیوض وبرکات کو مولانا مرحوم کے ذریعہ عالم اسلام کے بڑے حصہ میں پہنچادیا. تبلیغی جماعت کی کاوشیں اور کوششیں بارآور و مثمر ہوئیں۔ اور لاکھوں مسلمانوں کو اس جماعت کے ذریعہ اپنی اصلاح کے مواقع میسر ہوئے، یہ تمام تر ان کے شیوخ اورمربیوں کا ہی فیض ہے، حضرت مولانا خلیل احمد سہانپوری نے تو خاص اس تبلیغ کے سلسلہ میں میوات کا دورہ فرمایا تھا اور ایک بہت بڑے جلسہ قصبہ نوح تحصیل ہول ضلع گڑگانوہ میں بنفس نفیس شرکت فرمائی تھی، اور اس وقت اس جلسہ سے اس خاص طرز ِتبلیغ کی ابتداہوئی تھی اور اس کے بعد بھی تمام ہمعصر اکابر نے اس کے استحسان اور عمومی نفع کی تائید فرمائی، اس طرح یہ جماعت تمام اکابر دیوبند کی مشترکہ مساعی جمیلہ اور کوششوں کا نتیجہ اور ثمرہ ہے. اگرچہ بطورِ بانی ِاول ہونے کی وجہ سے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کی طرف اس کی نسبت بجاطور پر ہورہی ہے، لیکن حقیقت میں ان کے تمام ہمعصر اکابر علماء اور مشائخ رحمہم اللہ کی توجہات ِعالیہ اور دعواتِ صالحہ اس کارِتبلیغ میں شامل حال رہی ہیں، خاص کر محدثِ کبیر حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور آں موصوف کے تعلیم یافتہ اور تربیت حاصل کرنے والے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے مدرسین اور منتظمین نے ہمیشہ اس جماعت کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اوراس کو اپنی جماعت میں شامل فرمایا۔

تبلیغی جماعت اور اکابر دارالعلوم دیوبند: 

جماعت تبلیغ کے بانی اور پہلے بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس کاندہلوی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے بہت ہی قابل اعتماد شاگر تھے۔دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے ممبر بھی رہے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صا حب رحمہ اللہ نہ صرف اس جماعت کی تائید فرمائی بلکہ بڑے اہتمام سے اس کے اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ سہارنپور کے اجتماع میں چھ نمبروں پر ہی تقریر فرمائی اور ہر نمبر کو قرآن وحدیث سے ثابت کرکے ارشاد فرمایا کہ اس دور میں یہ طریقہ نہایت جامع ہے۔ ہمہ گیر یے۔ انتہائی مفید ہے۔ دہلی نظام الدین خط لکھ کر خود بھی اجتماعات میں شرکت کی اور دارالعلوم دیوبند جماعتیں بھیجنے کی فرمائش کی۔ اور آج دارالعلوم میں جماعتوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے. فخرالمحدثین حضرت مولانا فخرالحسن صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند بھی اجتماعات میں شرکت فرماتے رہے۔ اور حضرت مولانا الیاس صاحب کے ساتھ بارہا میوات کے علاقہ میں تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا ارشاد صاحب مبلغ دارالعلوم نے جماعت کی مدافعت کے لئے مناظرے کئے۔ اور بارہا اس مقصد کے لئے طویل طویل سفر فرمایا۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے بھی بھرپور تائید فرمائی۔ اور بعض عوامی ذہن رکھنے والے لوگوں کی غلو آمیز باتوں پہ مشفقانہ انداز میں تنبیہ فرمائی۔ شامی وقت مفتی اعظم ہند فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی قدس سرہ کی فتاوی محمود یہ اس کی تائید سے بھڑی پڑی ہے۔جماعت کے تمام ہی انتظامی اعمال کو حدیث وتاریخ سے  جس محققانہ انداز میں مفتی اعظم نے مدلل فرمایا ہے وہ کسی اور کے حصہ میں نہ آئی۔ حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری رحمہ اللہ سالانہ امتحان کے موقع سے طلبہ کو جمع کرکے باہر نکلنے پہ ترغیب دیتے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سید سلیمان ندوی، مولانا وصی اللہ صاحب۔ مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی. صاحب اعلاء السنن علامہ ظفر احمد عثمانی، مولانا اسعد اللہ صاحب، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی، مولانا عبدالرحمن صاحب، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید، مفتی فرید صاحب نقشبندی، علامہ تقی عثمانی صاحب جیسے اکابر علماء دیوبند وارباب بصیرت کی طرف سے تحریری وتقریری طور پہ بھرپور اس جماعت کی تائید کی گئی اور اس کام کی نافعیت پہ اطمنان کا اظہار کیا گیا۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کو ابتداء بے اطمینانی تھی کہ میوات کے بےعلم لوگ بغیر علم کے فریضہ تبلیغ کیسے انجام دے سکیں گے؟؟ لیکن جب مولانا ظفر احمد عثمانی نے بتایا کہ یہ مبلغین ان چیزوں کے سوا جن کا ان کو حکم ہے (چھ نمبر) کسی اور چیز کا ذکر نہیں کرتے اور کچھ اور نہیں چھیڑتے تو حضرت کو مزید  اطمینان ہوا اور فرمایا کہ الیاس نے یاس کو آس سے بدل دیا۔ ان ہی اکابر کی تائید وتوثیق کا نتیجہ تھا کہ یہ جماعت دیکھتے ہی دیکھتے ایک عالمگیر اصلاحی ودعوتی تحریک بن گئی۔

جماعت کے مساعی وکارنامے: 

اس جماعت میں ان پڑھ، کاشتکار، مزدور، تاجر، ملازمت پیشہ، اہل صنعت کار، خانہ دار، اہل علم گریجویٹ، ڈاکٹر انجنیئر ہر طبقہ کے لوگ اپنے مصارف سے سفر کرتے ہیں، جس کو جتنا وقت ملا نکلا۔ ہر فرد اپنے سے بڑے سے سیکھتا ہے اور چھوٹے کو سکھاتا ہے۔ کسی نے کلمہ نماز سیکھا، کسی نے قرآن کی سورتیں سیکھیں۔ کسی نے ترجمہ ومطلب سیکھا۔ کسی نے حدیثیں یاد کیں۔ پھر یہ لوگ گشت کے لئے نکلتے ہیں اور اپنے بھائیوں کے پاس جاکر نہایت ہمدردی ودلسوزی سے ان کی خوشامد کرکے ان کو مسجد لاتے ہیں۔ دین کی اہمیت بتلاتے ہیں۔ نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کوئی وضوء کرواتا ہے۔ کوئی الحمدللہ کوئی قل ھواللہ یاد کرواتا ہے کوئی تشہد یاد کراتا ہے۔ اعتکاف کی نیت سے عموما مسجدوں میں قیام کرتے ہیں۔ نوافل پڑھتے ہیں۔ تہجد کا سب کو عادی بناتے ہیں. دعاء میں روتے ہیں۔ پیدل سفر کرتے ہیں۔ گاؤں درگاؤں پھرتے ہیں۔ بس اور ٹرین پہ سفر کرتے ہیں۔ ہر جگہ اپنا مشغلہ سیکھنا سکھانا جاری رکھتے ہیں۔ موسم حج میں حجاج میں بھی کام کرتے ہیں. بندرگاہ پر، جدہ میں، مکہ مکرمہ، منی، عرفات، مدینہ منورہ میں سب جگہ یہ جماعتیں کام کرتی ہیں دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں پہیل کے کام کررہے ہیں۔ ان کی مساعی سے بہت بڑی تعداد نمازی بن گئی۔ بہت بڑی تعداد نے پورا علم دین حاصل کرلیا۔ باقاعدہ زکات دینے لگی۔ صحیح طریقہ پہ حج کرنے لگی۔ اس جماعت کی بدولت بہت سی بدعات ختم ہوگئیں۔ سنت پر لوگوں کا عمل شروع ہوگیا۔ بہت سے ان پڑھ عالم نہ ہونے کے باوجود سینکڑوں حدیثوں کے مفہوم یاد کرلئے اور گھنٹوں گھنٹہ تقریریں کرنے لگے۔ یوروپ میں اس کام کو اتنا عروج ملا کہ مسجدیں تنگ پڑگئیں توچرچ وکلیسا کو کرایہ پہ حاصل کرکے مسجد کا کام لیا جارہا ہے۔ اسے چھ نمبر یاد کروائے جاتے ہیں. لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے الفاظ صحیح سے یاد کرواکے اس کا مطلب وضاحت سے سمجھایا جاتا ہے۔ نماز علم ذکر اکرام مسلم تصحیح نیت ترک مالایعنی کو سمجھنے، ذہن نشین کرنے عملی مشق کرنے اور دوسرے بھائیوں تک پہنچانے کے لئے جماعتیں نکلتی ہیں کیونکہ اپنی جگہ اور اپنے مشاغل میں رہتے ہوئے ان امور کی تکمیل دشوار ہے۔ جماعت بناکر نکلنے میں ناموافق لوگوں کے اخلاق وافعال پر صبرو تحمل، رفقاء کے لئے ایثاروہمدردی، عام مخلوق کے لئے خیرخواہی واحسان، بڑوں کا اعزاز واحترام، چھوٹوں پر شفقت و مہربانی، امیر کی اطاعت وفرمانبرداری، ماتحتوں کی نگرانی وغمگساری، باہمی مشورہ کی اہمیت کی اہمیت وعادت وغیرہ وغیرہ بے شمار اخلاق وتعلیمات نبویہ کی آہستہ آہستہ مشق ہوجاتی ہے۔ اور رفتہ رفتہ تمام دین کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ اور دین کی خاطر سر کھپانے، محنت کرنے کا جذبہ مستحکم ہوتا ہے. (محمودیہ ملخصا 226/4)۔

غرضیکہ اس جماعت کی پرخلوص مساعی سے عالمگیر اصلاح کی فضاء قائم ہوئی جس کا انکار مشکل ہے۔

محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقشِ قدم پر: 

معتدل اور لچکدار اسلام کے بانی مبانی محمد بن سلمان مصطفی کمال اتاتُرک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سالوں پہلے سے  دینی روح او اسلامی جذبہ رکھنے والی تحریکوں کو پابندسلاسل کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے گھناونے کھیل و منصوبے کا آغاز کردیا تھا، جبکہ خالص ہندو کلچر "یوگا" کھیل کو قومی طور پر منظوری دی گئی۔ سعودی عرب کو نئے شہزادے نے ببانگ دہل تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے ہر فرد کے لئے کھلا رکھنے کا اعلان کردیا؛ لیکن سیاست، فرقہ واریت، مسلکی اختلافات  وتنگ نائیوں سے مکمل عاری و خالی، صرف کلمے کی بنیاد پر دنیا کے تمام مسلمانوں کو سو فیصد اللہ کے احکام اور پیغمبراسلام کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کی محنت کرنے والی بے لوث تحریک "تبلیغی جماعت" پہ پابندی عائد کردی گئی۔ کس قدر شرمناک امر ہے کہ وہاں ایسے ایسے ریستوران کھل چکے ہیں جہاں عورتیں اور مرد مخلوط طور پر بلا روک ٹوک بیٹھ کے عیاشیاں کرسکتے ہیں۔ وہاں تیز موسیقی بھی بجتی ہے۔ مغربی معاشرے میں پروان چڑھنے والے اور وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اب سعودی عرب میں بلا روک ٹوک گاڑیاں چلارہے ہیں، مدینہ منورہ سینما ہالز بھی کھل چکے ہیں، صحرائی ریس میں عورتیں اور مرد دونوں شریک ہورہے ہیں۔ کرونا کا بہانہ بناکر حرمین شریفین کو تو لمبے عرصے تک بند کردیا گیا؛ لیکن بے حیاء رقاصاؤں کو بلابلا کر، کرونا ایس اوپیز کا خیال کئے بغیر، حرمین کی مقدس سرزمین میں رقص وسرود کی محافل منعقد کی گئیں۔ احادیث رسول کی ایسی من مانی اور مغربی آقاؤں کی من پسند تشریح وتوضیح کرنے کی اکیڈمی قائم کی گئی  جس سے 'سخت گیر' اور اسلام پسند نظریہ کا قلع قمع کیا جاسکے۔ نہی عن المنکر کے لئے سعودی عرب کی گلیوں میں جو مذہبی پولیس (المطوع) گشت کرتی نظر آتی تھی۔ اس ٹیم کو بھی اب معتدل اسلام کے بانی مبانی شہزادے نے "غار سر من رأی" میں بھیج دیا ہے۔ یعنی امربالمعروف ونہی عن المنکر کے ادارے کو کالعدم کرکے اس کو "جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی" کے گھٹیا ادارے سے بدل دیا گیا ہے۔ ارض توحید پہ الحاد جدید کی چو طرفہ یلغار ہے. دین بیزار وزارت مذہبی امور نے امن وآشتی کی داعی تبلیغی جماعت پہ جو حالیہ پابندی عائد کی ہے. اس کے اس شرمناک و گھناؤنے کرتوت اور خطرناکیوں کو سوشلستان میں اجاگر کرنے کے ساتھ مساجد کے ائمہ وخطباء جمعہ کے خطبوں میں بیان کریں، ملی ومذہبی قائدین متحد ہوکے سعودی سفارت خانے کے سامنے پر امن مظاہرہ کرکے اپنا احتجاج درج کروائیں، اس شرمناک اقدام کی مذمت کریں، عربی وانگلش میں مذمتی تحریر وکلپس تیار کرکے سماجی رابطے کی سائیٹس پہ عام کی جائے۔ یہ سب کچھ صہیونیوں کی منظم سازش کے زیراثر ممکن ہوا ہے، اسے دلیل بناکر اب شرپسند عناصر بھی اندرون ملک اس پہ شکنجہ کسنے کی تیاری میں ہوں گے، وقت کا تقاضہ ہے کہ اصحاب قلم وملی تنظیموں کے قائدین معاملے کی نزاکت وحساسیت کا بروقت ادراک کرتے ہوئے متحد ہوکر اس کے خلاف آواز بلند کریں؛ تاکہ سعودی حکومت کو اس پہ نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

شکیل منصور القاسمی

بیگوسرائے

https://saagartimes.blogspot.com/2021/12/blog-post_40.html