Tuesday, 25 August 2026

تعلیمی اداروں کے لئے حکومت کی لازمی گائڈلائن

تمام اقامتی اور غیراقامتی مدارس، مکاتب، اسکول اور تعلیمی اداروں کے لئے حکومت کی لازمی گائڈلائن               -(مدارس اسلامیہ کے تعلق سے پوکسو ایکٹ کے لازمی قوانین) 
-بھارت میں اسکولوں، مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے پوکسو ایکٹ (POCSO Act) اور سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے تحت بچوں کی حفاظت کے سخت قوانین مقرر کئے گئے ہیں، ادارہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور دیگر عملے پر درج ذیل قانونی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1۔ عملے کی پولیس ویریفکیشن: ادارہ میں کام کرنے والے تمام ملازمین (اساتذہ، پرنسپل، سیکیورٹی گارڈز، صفائی کرنے والا عملہ اور بس ڈرائیورز) کی پولیس ویریفکیشن (سابقہ ریکارڈ کی جانچ) کروانا لازمی ہے۔
2. کیمپس کی نگرانی (CCTV and Infrastructure): تعلیمی ادرے کے تمام اہم حصوں (جیسے کوریڈور، کھیل کے میدان، داخلے اور خارج ہونے کے راستے) میں سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے لگانا لازمی ہے۔
3۔ لازمی رپورٹنگ اور پرنسپل کی ذمہ داری (Mandatory Reporting): اگر کسی استاد یا عملے کو شک بھی ہو کہ کسی بچے کے ساتھ ادارے کے اندر یا باہر کوئی غلط حرکت ہوئی ہے، تو اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینا لازمی ہے۔اگر ادارہ کا پرنسپل/مہتمم یا انتظامیہ معاملے کو دبانے یا ادارہ کی بدنامی کے ڈر سے پولیس کو نہیں بتاتی، تو قانون کے تحت انہیں 1 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔
4۔ اسکول ٹرانسپورٹ کے اصول (School Bus Safety)سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے مطابق ہر اسکول بس میں ایک خاتون اٹینڈنٹ (خاتون ملازم) کا ہونا لازمی ہے۔ بس ڈرائیور کا کم از کم 5 سال کا تجربہ ہونا چاہئے اور تیز رفتاری یا شراب پی کر گاڑی چلانے والے ڈرائیور کو نہیں رکھا جا سکتا۔ 
5۔ پوکسو کمیٹی اور آگاہی (POCSO Committee & Awareness) ہر اسکول/تعلیمی ادارے میں ایک چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی (پوکسو کمیٹی) بنانا لازمی ہے، جو بچوں کی شکایات سن سکے۔ بچوں کو اسکول میں "محفوظ اور غیر محفوظ لمس" (Good Touch and Bad Touch) کے بارے میں آسان زبان میں سکھلانا اسکول کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی دیواروں اور نوٹس بورڈز پر چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 واضح طور پر لکھا ہونا چاہئے۔
6۔ اکیلے میں ملنے پر پابندی (No Solitary Meetings) کسی بھی کم عمر طالبہ  کو کسی بھی مرد عملے  کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند نہیں چھوڑا جاسکتا۔ بچوں کو کسی بھی قسم کی سزا کے طور پر اندھیرے یا اکیلے کمرے میں بند کرنا قانونی جرم ہے۔ 

پوکسو ایکٹ  کے قوانین مدارس، مساجد، خانقاہوں اور تمام مذہبی تعلیمی اداروں پر بھی مکمل طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کا تحفظ ہر جگہ یکساں ہے اور اس معاملے میں کسی بھی ادارے کو کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔
پوکسو ایکٹ کے سیکشن 5(f) اور سیکشن 9(f) میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ "مذہبی اداروں" (Religious Institutions) کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ اگر مدرسے، آشرم یا کسی بھی مذہبی ادارے کی انتظامیہ یا عملے کا کوئی شخص (جیسے ناظم، استاد یا قاری) کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی یا حملہ کرے، تو اسے کم از کم 10 سے 20 سال قید یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
اگر مدرسے کے مہتمم، ناظم یا کسی دوسرے استاد کو معلوم ہو کہ ادارے میں کسی بچے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، تو ان پر پولیس کو فوراً مطلع کرنا قانونی طور پر فرض ہے۔ 

حفاظتی اقدامات کی پابندی:
قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (NCPCR) اور مختلف عدالتی احکامات کے مطابق، اقلیتی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے بھی بچوں کے حوالے سے درج ذیل گائیڈلائنز پر عمل کرنا ضروری ہے:
مدارس میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ یا دیکھ بھال کرنے والے عملے کا بیک گراؤنڈ اور پولیس ویریفکیشن چیک ہونا چاہئے۔ 
بچوں کی آگاہی کے لئے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 کو نمایاں جگہ پر لکھنا ضروری ہے۔ 
قانون کے تحت سبق یاد نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے بچوں پر شدید جسمانی تشدد یا مارپیٹ کرنا بھی سخت جرم ہے۔ 
ایسے مدارس جہاں بچے رات کو قیام کرتے ہیں (رہائشی مدارس)، وہاں بچوں کے سونے کے کمروں  کی حفاظت کا خاص انتظام ہونا چاہئے۔ بڑی عمر کے طلبہ اور چھوٹے بچوں کے رہنے اور سونے کے انتظامات الگ الگ ہونے چاہئیں تاکہ چھوٹے بچے محفوظ رہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں مدرسے کے مہتمم (Principal/Manager) کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
مدرسے میں ایک ایسی جگہ شکایت بکس لگانا لازمی ہے جہاں بچے یا ان کے والدین اپنی شکایت نام لکھے بغیر ڈال سکیں۔
مدرسے کے اساتذہ اور قاری صاحبان کو پوکسو ایکٹ کے قوانین کے بارے میں باقاعدہ تربیت دینا ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ بچوں کے حقوق کیا ہیں۔
کلاس رومز، برآمدوں اور مشترکہ حصوں میں کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنانا چاہیے، سوائے ان جگہوں کے جہاں پرائیویسی (جیسے واش رومز یا چینجنگ رومز) متاثر ہوتی ہو۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )

Monday, 17 August 2026

سورتوں کے نام اور آیات

قرآن کریم حفظ کرنے والے مدرسے میں ایک استاد نے کسی طالب علم سے سبق سنتے وقت پوچھا کہ وہ ان سورتوں کے نام بتلائے جن میں یہ آیت (أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ) آئی ہے۔ طالب علم نے کچھ سورتیں تو بتلادیں مگر متعدد سورتوں میں اٹک گیا۔

✒️ استاد نے کہا: یہ جملہ یاد کرلو:

"غَفَرَاللهُ لِلْحَجِّ مُحَمَّد یوسف"

پھر وضاحت کی:

غَفَرَاللهُ ...... سورۃ غافر

لِلْحَجِّ ........ سورۃ الحج

مُحَمَّد ....... سورۃ محمد

یوسف ...... سورۃ یوسف

یہ وہ چار سورتیں ہیں جن میں (أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا ذکر آیا ہے۔

حفاظِ قرآن کے لئے ایک اہم نکتہ:

اکثر حفاظ کو تلاوت کے دوران الفاظ میں التباس (کنفیوژن) ہوجاتا ہے، مثلاً کوئی یوں پڑھ دیتا ہے:

"وَفَاكِهَةً مِمَّا يَشْتَهُونَ" کی جگہ

"وَفَوَاكِهُ مِمَّا يَشْتَهُونَ"

اور اسی طرح کے دیگر متشابہ الفاظ کی کثرت سے حافظ مایوس ہوجاتا ہے۔ اس دشواری کا حل ایک قاعدہ ہے جو پورے قرآن کی سورتوں پر نافذ ہوتا ہے:

▪️ 1. اگر سورت کا نام واحد (سنگولر) ہو، جیسے: یٰسٓ، صٓ، الزخرف، الطور، الرحمٰن، الواقعہ وغیرہ — تو لفظ "فاکہہ" (واحد) آئے گا۔

▪️ 2. اگر سورت کا نام جمع ہو، جیسے: المؤمنون، الصافات، المرسلات وغیرہ — تو لفظ "فواکہ" (جمع) آئے گا۔

ایک اور قرآنی معلومات:

سورت کے آغاز میں "یُسَبِّحُ" اور "سَبِّحْ" میں فرق کیسے کریں؟

اگر سورت کے نام کا پہلا حرف نقطے والا ہو تو ابتدا "یُسَبِّحُ" سے ہوگی۔

اور اگر سورت کے نام کا پہلا حرف بغیر نقطے کے ہو تو ابتدا "سَبِّحْ" سے ہوگی۔

مثال کے طور پر:

سورۃ الحدید "ح" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ نہیں — لہٰذا آغاز "سَبِّحْ" سے ہے۔

سورۃ التغابن "ت" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ ہے — لہٰذا آغاز "یُسَبِّحُ" سے ہے۔

سؤال: قرآن کریم کی سات "خماسیات" (پانچ پانچ کے مجموعے) کیا ہیں؟

جواب:

سورتوں کے آغاز کو آسانی سے یاد رکھنے کے لیے، اور یہ قرآن کریم کی دقتِ نظر کی ایک مثال بھی ہے کہ اس میں یہ "خماسیات"                         

(پانچ پانچ سورتوں کے گروپ) پائے جاتے ہیں:

5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5

جو درج ذیل سات زمروں پر مشتمل ہیں:

1️⃣ پہلا زمرہ:

حمد سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الفاتحہ

▪️ الانعام

▪️ الکہف

▪️ سبا

▪️ فاطر

یہ سب مکی ہیں

2️⃣ دوسرا زمرہ:

تسبیح سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الحدید

▪️ الحشر

▪️ الصف

▪️ الجمعہ

▪️ التغابن

یہ سب مدنی ہیں

3️⃣ تیسرا زمرہ:

"الٓر" (الف لام را) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ یونس

▪️ ہود

▪️ یوسف

▪️ ابراہیم

▪️ الحجر

یہ سب مکی ہیں

4️⃣ چوتھا زمرہ:

ندا (پکار) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ النساء

▪️ المائدہ

▪️ الحج

▪️ الحجرات

▪️ الممتحنہ

یہ سب مدنی ہیں

5️⃣ پانچواں زمرہ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے پکارنے سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الاحزاب

▪️ الطلاق

▪️ التحریم

▪️ المزمل

▪️ المدثر

یہ سب مدنی ہیں

6️⃣ چھٹا زمرہ:

استفہام (سوال) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الانسان

▪️ الغاشیہ

▪️ الشرح

▪️ الفیل

▪️ الماعون

یہ سب مکی ہیں

7️⃣ ساتواں زمرہ:

لفظ "قُلْ" (کہہ دو) کے حکم سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الجن

▪️ الکافرون

▪️ الاخلاص

▪️ الفلق

▪️ الناس

یہ سب مکی ہیں

دوسروں تک یہ معلومات پہنچائیں۔

اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے، شائع کرنے والے، پڑھنے والے اور آگے بھیجنے والے سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور ان کے والدین اور ہمارے و آپ کے والدین اور تمام مسلمانوں، زندہ و مردہ، کی مغفرت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب کو متقن انداز میں پڑھنے، تلاوت کرنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی اس کا عمل جاری رہے، اسے چاہئے کہ علم کو پھیلائے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )