Friday, 29 June 2018

شوہر پردہ کرنے سے روکے تو HUSBAND PREVENTING FROM HIJAB

شوہر پردہ کرنے سے روکے تو

سوال: شوہر بیوی کو برقعہ پہننے سے نہیں روکتا البتہ چہرہ ڈھانپنے سے منع کرتا ہے 
اور باوجود سمجھانے کے نہیں مانتا
بقیہ میاں بیوی میں کوئی جھگڑا نہیں ہے
ایسی صورت میں کیا بیوی کے گھر والے یا بیوی اپنے شوہر سے خلع لے لے...... یہ جائز ہے؟؟؟؟؟

جواب: خلع کی گنجائش ہے، لیکن پہلے سمجھانے اور ذہن سازی سے کام لیا جائے،ایک دم ہی خلع پر نہ اتر آئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بھی خلع کی شرعی وجہ بن سکتی ہے۔
.......
سوال # 55239
میں نے تین سال پہلے اسکارف شروع کیا تھا اپنے شوہر کی اجازت سے، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں تم اسکارف نہ لیا کرو اور میں اتارنا نہیں چاہتی۔ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ میں کیا کروں؟ میری مدد کریں اور مجھ بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟

Published on: Sep 22, 2014
جواب # 55239
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 53-53/Sd=11/1435-U
اجنبی مرد کے سامنے عورت کے لئے اپنے سر یا چہرے کو کھولنا شرعاً جائز نہیں، شرعی پردے میں سر اور چہرہ بھی داخل ہے، آپ مکمل طور پر شرعی پردے کا اہتمام کریں، شوہر کا آپ کو پردے سے منع کرنا بڑے گناہ اور بے غیرتی کی بات ہے، اس سلسلے میں آپ پر شوہر کی اطاعت ضروری نہیں، آپ پہلے از خود شوہر کو سمجھانے کی کوشش کریں، شرعی پردہ نہ کرنے کی بہرحال کسی بھی صورت میں گنجائش نہیں ہے۔
قال اللہ تعالی: یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ (الأحزاب: ۵۹) قال الآلوسي: الجلابیب جمعُ جلباب وہوعلی ما روي عن ابن عباس رضي اللہ عنہ: الذي یستر من فوق إلی أسفل (روح المعاني: ۱۱/۲۶۴، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت) وأخرج ابن جریر وابن ابي حاتم وابن مردویہ عن ابن عباس رضي اللہ عنہ في ہذہ الآیة: قال: أمراللہ نساء الموٴمنین إذا خرجن من بیوتہن في حاجة أن یغطین وجوہہن من فوق روٴوسہن بالجلابیب ویبدین عینا واحدة. وأخرج عبد الرزاق، وعبد بن حمید، وأبو داود، وابن المنذر، وابن أبي حاتم، وابن مردویہ عن أم سلمة قالت: لما نزلت ھذہ الآیة یدنین علیھن من جلابیبھن خرج نساء الأنصار کأن رؤوسھن الغربان من السکینة، وعلیھن أکسیة سود یلبسنھا (فتح القدیر: ۴/۳۵۲، ط: دار ابن کثیر) وعن محمد بن سیرین قال: سألت عبیدة السلماني عن ھذہ الآیة یُدْنِینَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیبِھِنَّ فرفع ملحفة کانت علیہ فتقنع بھا وغطی رأسہ کلہ حتی بلغ الحاجبین وغطی وجھہ وأخرج عینہ الیسری من شق وجھہ الأیسر․ (روح المعاني: ۱۱/ ۲۶۴، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت) وقال العثماني التہانوي، اعلم أنہ قد حدث في ہذاالزمان أحداث سفہاء الأحلام کالذی مرقوا من الدین - فظنوا أن الحجاب المتعارف للنساء في زماننا مخالف للدین؛ لأن الشرع أباح للنساء کشف الوجہ والکفین للأجانب-- وقالوا کل ذلک تقلیدا للنصاری وتأثروا بتعلیماتہم وإیثارًا لأوضاعہم علی أوضاع المسلمین - إلخ (إعلاء السنن: ۱۷/ ۳۷۲، کتاب الحظر والإباحة، ط: أشرفیہ دیوبند)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
............

بیوی کو بے پردہ کرنے والے کا شرعی حکم
سوال(۳۲۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو شوہر اپنی اپنی بیوی کو بے پردہ کرے، اُس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو شوہر اپنی بیوی کو بے پردہ رہنے کو کہے، وہ دیوث اور قابلِ لعنت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو اپنے گھر والوں کی بے حیائیوں کو بخوشی گوارا کرے۔ بیوی اگر اِس معاملہ میں شوہر کی بات مانے گی تو وہ بھی سخت گنہگار ہوگی۔ 
عن عمر بن یاسر عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ثلاثۃ لا یدخلون الجنۃ أبدًا: الدیوث من الرجال والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر۔ فقالوا یا رسول اللّٰہ: أما مدمن الخمر فقد عرفناہ، فما الدیوث من الرجال؟ قال الذي لا یبالي من دخل علی أہلہ۔ (شعب الایمان للبیہقي ۷؍۴۱۲ رقم: ۱۰۸۰۰) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۰؍۴؍۱۴۲۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
........
سوال # 28128
ایک عورت پردہ کررہی ہے، لیکن اب اس کا شوہر اسے نقاب پہننے سے منع کررہا ہے، اس صورت میں وہ عورت کو کرنا چاہئے؟ کیا اسے نقاب اتاردینا چاہئے چونکہ اس کا اس کے ساتھ جھگڑا کررہا ہے، کیا اس سے عورت کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ کیا پردہ کرنا مطلب چہرہ چھپانا فرض ہے؟

Published on: Jan 18, 2011
جواب # 28128
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی (ل): 100=82-2/1432
عورت پر پردہ کرنا ضروری ہے، اس لئے مذکورہ بالا عورت کو نقاب نہ اتارنا چاہے، بلکہ نقاب پہنتے رہنا چاہئے اور حکمت وبصیرت سے اپنے شوہر کو نصیحت کرتے رہنا چاہئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
...........

شوہر پردہ کرنے سے روکے تو
پردہ کے ۴۰ فائدے
آج کا سوال نمبر ١۳۹۹
میں نے سمجھدار ہونے سے جوانی اور شادی ہونے تک پردہ کیا، شادی کے بعد میرے شوہر مجھے مجبور کرتے ہے کہ تم برقعہ اور نقاب مت پہنو، تو کیا میرے لیے شوہر کی یہ بات ماننا ضروری ہے؟ اگر نا مانو تو گناہگار تو نہیں؟
جواب
حامدا و مصلیا و مسلما
پردہ کرنا عورتوں پر فرض ہے اور شرعی حکم ہے، شوہر کے کہنے پر نا چہرہ کھولنا جائز ہے، اور نہ ہی پردہ کا چھوڑنا جائز ہے، شوہر کو سمجھائے اور پردہ کے فائدہ بتلائے، (پردہ کے چالیس فائدے جواب کے اخیر میں ہیں،) پھر بھی مجبور ہی کرے تو اس سے طلاق لے لی جائے، تاکہ وہ ایسی بیوی لاسکے جو ہر ایک کو اپنے حسن کے نظارے کی دعوت دے،
ایسی صورت میں شوہر بھی سخت گنہگار ہوگا
آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ٨ صفہ ۸۶ قدیم ۹۵ جدید
پردہ اور نقاب والا برقعہ پہننے کے چالیس فائدے
١، غیر مرد کی بری نگاہ سے حفاظت،
٢، غلط تعلقات پیدا ہونے سے حفاظت،
٣، دھوپ سے حفاظت،
۴، دھول مٹی سے حفاظت،
۵، پردہ سردی سے بھی بچاتا ہے،
۶، سورج کی کرنوں سے رنگ کی حفاظت،
۷، جراثیم سے حفاظت،
٨، پردوشن-پولیوشن سے حفاظت،
٩، بدبو سے حفاظت،
۱۰، کسی کی نظر لگ کر بیمار ہونے سے حفاظت،
١۱، شریف ہونے کی علامت،
١۲، عزت دار ہونے کی علامت،
١۳، معاشرے کا بدکاری سے پاک ہونا اور اس کی حفاظت،
١۴، اللہ تعالیٰ کی محبت کا حاصل ہونا،
١۵، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا نصیب ہونا،
۱۶، پردہ پاکیزگی ہے،
١۷، پردہ گھروالوں اور شوہر سے وفاداری ہے،
١۸، پردہ تقوی ہے،
١۹، پردہ ایمان ہے،
۲۰، پردہ نفاق سے بچاتا ہے،
۲۱، پردہ تہمت اور الزام سے بچاتا ہے،
٢۲، پردہ نسوانی حسن کا محافظ ہے،
۲۳، پردہ دلوں کی پاکیزگی اور طہارت کا ذریعہ ہے،
٢۴، پردہ عورت کی فطری حیا کا تقاضا ہے،
٢۵، پردہ گھر اور خاندان کی عزت ہے،
۲۶، پردہ عورت کے لیے افضل ترین عمل میں سے ہے،
۲۷، پردہ کرنے والی عورت اپنے رب سے زیادہ قریب ہے،
۲۸، پردہ شیطان اور اسکے مکر سے بچاؤ کا ذریعہ ہے،
۲۹، پردہ تقویٰ کا لباس، اور حیا کی دلیل ہے،
٣۰، پردہ عورت کو فیشن کی شرارت سے محفوظ رکھتا ہے،
٣۱، بے پردگی کی حرام خواہش، گناہ سے بچنے کی وجہ سے جنت کی بشارت ہے
۳۲، پردہ لباس اور زیور کی ریاکاری سے بچاتا ہے،
۳۳، پردے میں چین، ہار کسی کے ٹوڑ جانے سے حفاظت رہتی ہے،
۳۴، پردے سے اندر کا لباس میلا نہیں ہوتا،
۳۵، پردہ کرنے والی عورت بے پردہ عورت کے مقابلے میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتی ہے،
۳۶، پردہ کرنے سے مکھی اور مچھر پریشان نہیں کرتے،
۳۷، پردہ کی وجہ سے کوئی ستائے تو صبر جس کا ثواب بے حساب ہے ملتا ہے،
۳۸، پردہ دین دار ہونے کی علامت ہے،
۳۹، پردہ ازواج مطہرات کی پاک سنت ہے،
۴۰، پردہ کر کے گناہ سے بچنے والی عورت کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے،
واللہ اعلم بالصواب
مفتی عمران اسماعیل میمن حنفی چشتی،
استاذ محترم دار العلوم رام پورہ سورت گجرات 

..........
SHAUHAR PARDE SE ROKE TO? 
PARDAH KARNE KE 40 FAYDE
AAJ KA SAWAL NO.1399
Mene ne samjhdar hone se jawani aur shadi hone tak pardah kiya, shadi ke baad Mere shauhar mujhe majboor karte hai ke tum burqaa aur naqab mat pehno.
To kya mere liye shauhar ki baat manna jaiz hai?
JAWAB
حامدا و مصلیا و مسلما
Pardah karna aurton par farz hai aur sharaee hukm hai, shauhar ke kehne par na chehra kholna jaiz hai aur na pardah ka chhodna hee jaiz hai, shauhar ko samjhaye aur pardah ke fayde batlaye, (pardah ke 40 fayde jawab ke akheer me hain) fir bhi majboor hee kare to usse talaaq le li jaye, taake woh aisi bivi laa sake jo har ek ko apne husn ke nazare ki dawat de.
Aisi surat me shauhar bhi sakht gunahgar hoga.
AAP KE MASAIL AUR UN KA HAL 8/86 Qadeem, 95 jadeed
PARDAH AUR NAQABWALA BURQA PAHANNE KE 40 FAYDE
1. GAIR MARD KI BURI NIGAH SE HIFAZAT
2. GALAT TA'ALLUQAT PAIDA HONE SE HIFAZAT.
3. DHUP SE HIFAZAT.
4. DHUL-MATTI SE HIFAZAT
5.pardah thhandi-sardi se bhi bachata hai
6. SURAJ KI KIRNO SE RANG KI HIFAZAT
7. BACTARIA -(JARAASIM-KITANU) SE HIFAZAT.
8. PRADUSHAN (POLLUTION) DHUWEN SE HIFAZAT
9. BADBU SE HIFAZAT
10. KISI KI NAZAR LAGKAR BIMAR HONE SE HIFAZAT
11. SHAREEF HONE KI ALAAMAT (NISHANI).
12 .IZZATDAR HONE KI ALAAMAT
13. MUA'ASHRAH (SAMAAJ) KA BADKARI SE PAAK HONA AUR USKI HIFAZAT
14. ALLAH KI MUHABBAT KA MILNA.
15. RASOOL صلی اللہ علیہ وسلم KI SHAFA'AT KA NASEEB HONA
16. Pardah Paakizgi hai.
17. Pardah Satar hai.
18. Pardah Taqwa hai.
19. Pardah Imaan hai.
20. Pardah nifaq se bachata hai.
21. Pardah aisa sharaee hukm hai jisme deen aur duniya ke faide hain.
22. Pardah niswani husn ka muhafiz hai.
23. Pardah dilon ki pakeezgi or taharat ka zariyah hai.
24. Pardah aurat ki fitri haya ka taqaza hai.
25. Pardah chhote bade kayi gunaah ki rukawat hai.
26. Pardah aurat ke liye afzal tareen amal me se hai.
27. Pardah karne wali aurat apne rab se ziyadah qareeb hai.
28. Pardah shaitaan or uske makr se bachav ka zariyah hai.
29. Pardah taqwa ka libas, aur haya ki daleel hai.
30. Pardah aurat ko fashion ki shararat se mahfooz rekhta hai.
31. .BEPARDAGI KE HARAAM KHWAISH-GUNAH SE BACHNE KI WAJAH SE JANNAT KI BASHARAT
32.pardah libas aur zewar ki riyakari se bachata hai
33.pardeh me chain, haar kisi ke tod jane se saif rehte hai.
34.pardah se andar ka kibas maila nahi hota.
35.pardah karne wali aurat  beparda aurat ke muqable me apne aap ko mafooz (safe) mahsoos karti hai.
36.Pardah karne se makhkhi aur machchhar pareshan nahi karte.
37.Pardah ke wajha se koi sataye to sabr jis ka sawab be hisab hai milta hai.
38.Pardah deendar honi ki alamat-nishani hai.
39.pardah azwaje mutahhraat-Huzoor SALALAHU ALAYHI WASALLAM ki paak biviyin ki sunnat hai.
40.pardah kar ke gunah se bachnewali aurat ka khatmah iman par hota hai.
IMRAN ISMAIL MEMON HANFI GUFIRA LAHOO
USTAZE DARUL ULOOM RAMPURA SURAT GUJRAT INDIA 
Roman urdu me masail ke liye zaroor dekhe
......................
HUSBAND PREVENTING FROM HIJAB
All through my childhood and adolescence, I have been wearing hijab. My husband forces me to let go of my abaya and veil. Is it permissible to listen to my husband?
Answer 
To shield is farz for women and is directed by Shariah, on husband's saying it is neither permitted to keep your face visible or giving up covering oneself. Explaining husband about the advantages of covering  (40 benefits of covering oneself) and even after this he forces, talaq should be taken, so that he can be free to marry woman who can flaunt her looks to others.
In such a situation, husband will also be greatly sinful.
AAP KE MASAIL AUR UNKA HAL 8/86
40 BENEFITS OF WEARING ABAYA AND VEIL
1. Protection from males eyeing.
2. Staying away from wrong relationships.
3. Protection from sunrays.
4. From dirt and dust.
5. Protection from cold, winters.
6. Skin protection from harmful sunrays.
7. Protection from bacteria.
8. Protection from pollution.
9. From bad odours.
10. Protection from evil eye.
11. Sign of nobility.
12. Sign of respectful.
13. Protection from evils of society and safety.
14. Allah swt pleased.
15. Prophet Muhammad sallalahu alaihi wasalam's Shafaat bestowed.
16. It is a sign of purity.
17. It is a covering.
18. It is taqwa.
19. It is Imaan.
20. Protection from all kind of evils.
21. It is such a Shariah rule which is beneficial for both deen and duniya.
22. Protection of youth.
23. It is a source of clean heart and taharat.
24. It is a source of haya of women.
25. It safeguards from major and minor sins.
26. It is best amal (ibaadat) of women.
27. It is a source of nearness to Allah swt.
28. It is protection from shaitaan and his evil.
29. It is a clothing of taqwa, and explanation of haya.
30. It protects women from evil of fashion.
31. Protection from Haraam desires and a promise to jannah.
32. Protection from showing of clothing, jewellery.
33. Protection from jewellery being stolen.
34. Protection of inner dress from getting soiled.
35. Covered women compared to uncovered women  feels safe.
36. Protection from insects, mosquitoes bites.
37. If someone harasses because of hijab, rewarded due to sabr in such a situation.
38. It is a sign of being dedicated to deen.
39. It is a sunnah of azwaje mutaharrat of Prophet Muhammad sallalahu alaihi wasalam  (pure wives).
40. Her end (death) will be on Imaan.
MUFTI IMRAN ISMAIL MEMON HANFI GUFIRA LAHOO
USTAZE DARUL ULOOM, RAMPURA, Surat, Gujarat, India.
....
शौहर परदे से रोके तो
आज का सवाल नंबर १३९९
मैंने ने समझदार होने से जवानी और शादी होने तक परदह किया, शादी के बाद मेरे शौहर मुझे मजबूर करते है के तुम बुर्क़ा और नक़ाब मत पेहनो।
तो क्या मेरे लिए शौहर की बात मानना जाइज़ है?
जवाब
حامدا و مصلیا و مسلما
परदह करना औरतों पर फ़र्ज़ है, और शरई हुक्म है, शौहर के केहने पर ना चेहरा खोलना जाइज़ है, और ना परदह का छोड़ना ही जाइज़ है, शौहर को समझाए, और परदह के फायदे बतलाए, (परदह के 40 फ़ायदे जवाब के आखीर में हैं) फिर भी मजबूर ही करे तो उस से तलाक़ ले ली जाए, ताके वह ऐसी बीवी ला सके जो हर एक को अपने हुस्न के नज़ारे की दावत दे।
ऐसी सुरत में शौहर भी सख्त गुनहगार होगा।
आप के मसाइल और उन का हल ८/८६ कदीम 95 जदीद
नक़ाब वाले बुर्के और परदह के फायदे
१। गैर मर्द की बुरी निगाह से हिफ़ाज़त।
२। गलत त'अल्लुक़ात पैदा होने से हिफ़ाज़त।
३। धुप से हिफ़ाज़त।
४। धूल-मट्टी से हिफ़ाज़त
५ । परदह ठंडी शर्दी से भी बचाता है।
६। सूरज की किरणो से रंग की हिफ़ाज़त।
७। बक्टेरिआ -(जरासीम-कीटाणु) से हिफ़ाज़त।
८। प्रदुषण (पोल्लुशण) धुवें से हिफ़ाज़त।
९। बद्बू से हिफ़ाज़त
१०। किसी की नज़र लगकर बीमार होने से हिफ़ाज़त
११। शरीफ होने की अलामत (निशानी)।
१२। इज़्ज़तदार होने की अलामत।
१३। मुआ'शराह (समाज) का बदकारी से पाक होना और उसकी हिफ़ाज़त।
१४। अल्लाह की मुहब्बत का मीलना।
१५। रसूल صلی اللہ علیہ وسلم की शफ़ाअत का नसीब होना।
१६। परदह पाकीजगी है।
१७। परदह सतर है।
१८। परदह तक़वा है।
१९। परदह ईमान है।
२०। परदह निफ़ाक़ से बचाता है।
२१। परदह ऐसा शरई हुक्म है जिसमें दिन और दुनिया के फायदे हैं।
२२। परदह निस्वानी हुस्न का मुहाफ़िज़ है।
२३। परदह दिलों की पाकीजगी और तहारत का ज़रियाः है।
२४। परदह औरत की फितरी हया का तक़ाज़ा है।
२५। परदह छोटे बड़े कई गुनाह से रूकावट है।
२६। परदह औरत के लिए अफ़ज़ल तरीन अमल में से है।
२७। परदह करने वाली औरत अपने रब से ज़ियादह क़रीब है।
२८। परदह शैतान और उसके मकर से बचाव का ज़रियाः है।
२९। परदह तक़वा का लिबास, और हया की दलील है।
३०। परदह औरत को फैशन की शरारत से मेहफ़ूज़ रख्ता है।
    
३१। बेपर्दगी के हराम ख्वाईश-गुनाह से बचने की वजह से जन्नत की बशारत।
३२। परदह लिबास और ज़ेवर की रियाकारी से बचाता है।
३३। परदह में चैंन, हार किसी चोर के तोड़ जाने से महफूज़ रेह्ते है।
३४। परदह से अंदर का लीबास मैला नहीं होता।
३५। परदह करने वाली औरत  बेपरदा औरत के मुक़ाबले में अपने आप को महफूज (सेफ) मह्सूस करती है।
३६। परदह करने से मख्खी और मच्छर परेशांन नहीं करते।
३७ । परदह की वजह से कोई सताए तो सब्र जिस का सवाब बे हिसाब मिलता है।
३८। परदह दीनदार होने की अलामत-निशानी है।
३९। परदह अज़्वाजे मुतह्हरात-हुज़ूर सलल्लाहु अलय्हि वसल्लम की पाक बीवियां की सुन्नत है।
४०। परदह कर के गुनाह से बचनेवाली औरत का खात्मह इमांन पर होता है।
و الله اعلم بالصواب
✍मुफ़्ती इमरान इस्माइल मेमन
उस्ताज़े दारुल उलूम रामपुरा, सूरत, गुजरात, इंडिया.
.....
શોહર પરદે સે રોકે તો
આજ કા સવાલ નં. ૧૩૯૯
મૈને સમઝદાર હોને સે જવાની ઔર શાદી હોને તક પરદા કિયા, શાદી કે બાદ મેરે શોહર મુઝે મજબુર કરતે હૈ કે તુમ બુરખા ઔર નકાબ મત પહેનો. તો કયા મેરે લિયે શોહર કી બાત માનના જાઇઝ હૈ.?
 *જવાબ* 
حامدا و مصلیا و مسلما
પરદા કરના ઔરતો પર ફર્ઝ હૈ ઔર શરઇ હુકમ હૈ, શોહર કે કહેને પર ના ચહેરા ખોલના જાઇઝ હૈ ઔર ના પરદા કા છોડના હી જાઇઝ હૈ, શોહર કો સમઝાયે ઔર પરદે કે ફાયદે બતલાયે, (પરદે કે ૪૦ ફાયદે આખીર મેં હૈ) ફિર ભી મજબુર હી કરે તો ઉસસે તલાક લે લિયા જાયે, તાકે વોહ ઐસી બીવી લા સકે જો હર એક કો અપને હુસ્ન કે નઝારે કી દાવત દે. ઐસી સૂરત મેં શોહર ભી સખ્ત ગુનહગાર હોગા.
આપકે મસાઇલ ઔર ઉનકા હલ ૮/૮૬
નકાબ વાલે બુરખે ઔર પરદે કે ફાયદે
૧. ગૈર મર્દ કી બુરી નિગાહ સે હિફાઝત
૨. ગલત તાઅલ્લુકાત પૈદા હોને સે હિફાઝત
૩. ધૂપ સે હિફાઝત
૪. ધુલ - મિટ્ટી સે હિફાઝત
૫. પરદા ઠંડી શરદી સે ભી બચાતા હૈ
૬. સુરજ કી કિરનો સે રંગ કી હિફાઝત
૭. બેકટેરિયા સે હિફાઝત
૮. પ્રદુષન (POLLUTION) સે હિફાઝત
૯. બદબૂ સે હિફાઝત
૧૦. કિસીકી નઝર લગકર બિમાર હોને સે હિફાઝત
૧૧. શરીફ હોને કી નિશાની
૧૨. ઇઝ્ઝતદાર હોને કી નિશાની
૧૩. સમાજ કા બદકારી સે પાક હોના ઔર ઉસકી હિફાઝત
૧૪. અલ્લાહ કી મુહબ્બત કા મિલના
૧૫. હુઝુર ﷺ  કી શફાઅત કા નસીબ હોના
૧૬. પરદા પાકીઝગી હૈ
૧૭. પરદા સતર હૈ
૧૮. પરદા તકવાદી હૈ
૧૯. પરદા ઇમાન હૈ
૨૦. પરદા નિફાક સે બચાતા હૈ
૨૧. પરદા ઐસા શરઇ હુકમ હૈ જિસમેં દીન ઔર દુનિયા કે ફાયદે હૈ
૨૨. પરદા નિસ્વાની હુસ્ન કા મુહાફિઝ હૈ
૨૩. પરદા દિલો કી પાકીઝગી ઔર તહારત કા ઝરીયા હૈ
૨૪. પરદા ઔરત કી ફિતરી હયા કા તકાઝા હૈ
૨૫. પરદા છોટે બડે કઇ ગુનાહ સે રૂકાવટ હૈ
૨૬. પરદા ઔરત કે લિયે અફઝલ તરીન અમલ મેં સે હૈ
૨૭. પરદા કરનેવાલી ઔરત અપને રબ સે ઝયાદા કરીબ હૈ
૨૮. પરદા શૈતાન ઔર ઉસકે મકર સે બચાવ કા ઝરીયા હૈ
૨૯. પરદા તકવા કા લિબાસ ઔર હયા કી દલીલ હૈ
૩૦. પરદા ઔરત કો ફેશન કી શરારત સે મહફુઝ રખતા હૈ
૩૧. બેપર્દગી કે હરામ ખ્વાહિશ/ગુનાહ સે બચને કી વજહ સે જન્નત કી બશારત
૩૨. પરદા લિબાસ ઔર ઝેવર કી રીયાકારી સે બચાતા હૈ
૩૩. પરદે મેં ચેન, હાર કિસીકે તોડ કર લે જાને સે મહફુઝ રહેતે હૈ
૩૪. પરદા સે અંદર કા લિબાસ મેલા નહિં હોતા
૩૫. પરદા કરનેવાલી ઔરત બેપર્દા ઔરત કે મુકાબલે મેં અપને આપ કો મહફુઝ મહસુસ કરતી હૈ
૩૬. પરદા કરને સે મખ્ખી ઔર મચ્છર પરેશાન નહિં કરતે
૩૭. પરદા કી વજહ સે કોઇ સતાયે તો સબ્ર, જિસકા સવાબ બેહિસાબ મિલતા હૈ
૩૮. પરદા દીનદાર હોને કી નિશાની હૈ
૩૯. પરદા અઝવાજે મુતહહરાત/હુઝુર ﷺ  કી પાક બીવીયો કી સુન્નત હૈ
૪૦. પરદા કરકે ગુનાહ સે બચનેવાલી ઔરત કા ખાત્મા ઇમાન પર હોતા હૈ
و الله اعلم بالصواب
મુફતી ઇમરાન ઇસ્માઇલ મેમણ, હનફી, ચિશ્ત
 ઉસ્તાદે દારૂલ ઉલુમ રામપુરા, સુરત, ગુજરાત, ભારત
૧૪ શવ્વાલ ૧૪૩૯ હિ. / ૨૮-૬-૨૦૧૮
.. .


بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا میں غُفْرَانَكَ کا لفظ ہے یا نہیں؟

بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا میں غُفْرَانَكَ کا لفظ ہے یا نہیں؟
سوال: بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا میں غُفْرَانَكَ کا لفظ ہے یا نہیں حدیث سے کونسی دعا ثابت ہے؟
جواب: دونوں دعائیں الگ الگ روایت سے ثابت ہیں، دونوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے ہیں، ایک بھی پڑھ سکتے ہیں۔
دیکھیں


























..............

قضائے حاجت کے شرعی احکام

          جی ہاں ، کیوں نہیں!! ”ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سب کچھ ہی سکھلایا ہے، اور استنجے سے متعلق بھی ضروری ہدایات دی ہیں“۔یہ تاریخی کلمات حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان مشرکین کے جواب میں ارشاد فرمائے تھے جو بطورِ استہزاء اور طنز کہہ رہے تھے کہ ”تمہارے نبی تو تمہیں پیشاب پاخانہ کرنے کے طریقے بھی سکھاتے ہیں!“

          حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مزید یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت ہم قبلہ کی طرف رُخ کریں یا یہ کہ ہم داہنے ہاتھ سے استنجا کریں، یا یہ کہ ہم استنجے میں تین پتھرون سے کم استعمال کریں، یا یہ کہ ہم کسی چوپائے (اونٹ، گھوڑے یا بیل وغیرہ ) کے فضلے(گوبر اور لید وغیرہ) یا ہڈی سے استنجا کریں۔

          (صحیح مسلم، کتاب الطھارة، باب الاستطابة، رقم الحدیث:۲۶۲،بیت الأفکار)

حدیثِ مبارکہ سے مستفاد امور

          علامہ طیبی  اس حدیث کے ضمن میں لکھتے ہیں، کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حکمت سے بھر پورجواب دیا، آپ نے اس کے استہزاء کی کوئی پروا نہ کی اورایسا جواب دیا جو ایک شیخ اپنے مرید کی راہنمائی کرتے ہوئے دیتا ہے، یعنی : اس استہزاء کرنے والے کو یہ فرمایا کہ ”یہ کوئی قابل استہزاء بات نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک اٹل حقیقت اور قابلِ اعزاز بات ہے،اور جب ایسا ہے تو تم پر لازم ہے کہ ہٹ دھرمی چھوڑو اور صراط مستقیم کو اختیار کرو، یہ صراطِ مستقیم تمہارے باطن اور ظاہر کو پلیدگیوں اور نجاستوں سے پاک کر دے گا“۔(فتح الملہم، کتاب الطھارہ، باب الاستطابة،۲/۱۱۵، مکتبہ دار العلوم کراچی)

          مندرجہ بالا حدیث ِ مبارکہ میں پیشاب پاخانہ کرنے سے متعلق چار ہدایات ارشاد فرمائی ہیں:

قضائے حاجت کے وقت کس طرف منہ کیا جائے؟

          (۱ )     قضائے حاجت کے وقت اس طرح بیٹھا جائے کہ قبلے کی طرف نہ منہ ہو اور نہ ہی پیٹھ۔ یہ حکم قبلہ کے ادب و احترام اور تقدس کی خاطر تھا کہ کوئی بھی ذی شعور انسان جو لطیف اور روحانی حقیقتوں کا ادراک کرنے والا ہو وہ اس موقعہ پر کسی مقدس اور محترم چیز کی طرف منہ یا پشت کرنے کو بے ادبی شمار کرتے ہوئے اس طرز کے اپنانے سے گریز کرے گا۔

استنجاء کس ہاتھ سے کیا جائے؟

          (۲)      دوسری ہدایت یہ دی گئی کہ اس عمل کے لیے اپنا دایاں ہاتھ استعمال نہ کیا جائے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر فوقیت دی ہے، اس ہاتھ کو اعلی،محترم ، مقدس، صاف ستھرے اور نفیس کاموں کے لیے تو استعمال کیاجا سکتا ہے ،گھٹیا اور رذیل کاموں کے لیے نہیں؛ چناں چہ ! دائیں ہاتھ کے شرف و احترام کی وجہ سے استنجا کرتے ہوئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

کتنے ڈھیلوں سے استنجاء کیا جائے؟

          (۳)     تیسری ہدایت یہ کی گئی ہے کہ استنجے کے لیے کم از کم تین ڈھیلوں کو استعمال کیا جائے، اس کی وجہ یہ تھی کہ عام طور پر صفائی تین پتھروں سے کم میں پوری طرح نہیں ہوتی؛اس لیے حکم دیا گیا کہ تین پتھر استعمال کر کے اچھی طرح اور مکمل صفائی کی جائے؛چناں چہ اگر کسی شخص کی صفائی تین پتھروں سے حاصل نہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تین سے زائد پتھر استعمال کرے تاکہ کامل صفائی ہو جائے۔نیز حدیثِ مذکور میں پتھر کا ذکر کیا گیا ہے، یہ اس زمانے میں ملنے والی عام چیز کی وجہ سے تھا، موجودہ دور میں شہروں میں بنے ہوئے پختہ بیت الخلاء میں ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں؛اسی طرح ہر وہ پاک چیز جس سے صفائی کا مقصد حاصل ہو سکتاہو اور اس کا استعمال اس کام کے لیے موضوع بھی ہو اور جسم کے لیے نقصان دہ بھی نہ ہو۔

جانوروں کے فضلات سے استنجاء کرنے کا حکم

          (۴)     چوتھی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ استنجا کے لیے کسی جانور کی گری پڑی ہڈی یا ان کے فضلے (لید، گوبر وغیرہ)کو استعمال نہ کیا جائے، دراصل اس طرح زمانہٴ جاہلیت میں کر لیا جاتا تھا؛ حالانکہ یہ فطرتِ سلیمہ کے خلاف ہے۔احادیثِ مبارکہ میں متفرق طور پر قضائے حاجت سے متعلق بہت سے احکامات مذکور ہیں ، نیز! فقہاء کرام نے ان احادیث کی روشنی میں بہت سے مسائل کتب ِ فقہ میں ذکر کیے ہیں، ذیل میں قضائے حاجت سے متعلق مختلف اہم مسائل نقل کیے جاتے ہیں؛ تاکہ ہم اپنا یہ عمل بھی شریعت کے مطابق انجام دے سکیں۔

 قضائے حاجت سے قبل کی مسنون دعا

          حضر ت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاجت کے ان مقامات میں خبیث مخلوق شیاطین وغیرہ رہتے ہیں، پس تم میں سے جب کوئی بیت الخلاء جائے تو چاہیے کہ پہلے یہ دعا پڑھے، أَعُوْذُ بِاللّہِ مِنَ الْخُبُثِ وَ الْخَبائِثِ“(ترجمہ: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں خبیث جنوں اور خبیث جنّیوں سے۔

          (سنن أبي داوٴد، کتاب الطھارة، باب ما یقول الرجل إذا دخل الخلاء، رقم الحدیث: ۶،۱/۳،دار ابن الحزم)

           اس دعا کی برکت سے انسان شریر جنات کے اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے؛ کیوں کہ یہ گندی جگہیں جنات و شیاطین کا مسکن ہوتی ہیں اور یہ مخلوق ان جگہوں پر آکر فراغت حاصل کرنے والوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہے؛ اسی لیے سرکارِدو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی تعلیم دی گئی کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے ایسی جگہوں پر جاوٴ تو ان کے شرور سے بچنے کے لیے اللہ کی پنا میں آ جایا کرو؛چناں چہ روایات میں آتا ہے کہ اس دعا کے پڑھنے والا شریر جن اورشریر جنّیوں کے اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

قضائے حاجت کے بعد کی دعا

           حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تو ”غُفْرَانَکَ“ کہتے تھے(ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں۔

          (السننالکبریٰ للنسائي، کتاب الطھارة، ما یقول إذا خرج من الخلاء، رقم الحدیث: ۹۸۲۵، موٴسسة الرسالة)

          ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَذْھَبَ عَنِّيْ الْأَذیٰ وعَافَانِيْ“․ (سنن کبریٰ ۹۸۲۵) ترجمہ: تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جس نے مجھ سے گندگی دور کی اور مجھے تکلیف سے عافیت دی۔ یہ دعا بڑی اہمیت کی حامل ہے؛ اس لیے کہ انسان جو کچھ بھی کھاتا ہے ، اس کا ایک حصہ جسم کے لیے تقویت کا باعث بنتا ہے، اور ایک حصہ بہ طورِ فضلہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے، اس غذا کا جسم سے خارج ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے،اگر یہ فُضلہ جسم سے نہ نکلے توانسان بیماریوں میں مبتلا ہوجائے،اس دعا میں اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کرنا ہے، کہ اس نے ہمیں اس گندگی سے نجات دی،اس کو ”أَذْھَبَ عَنِّيْ الْأَذی“سے تعبیر کیا،اسی کے مناسب ”غُفْرانَکَ“ کے ساتھ کی جانے والی دعا ہے ، حکمت اور مقصد اس دعا کا یہ ہے کہ اے اللہ جیسے تو نے میرے جسم سے زائد فضلات کو دور کر کے مجھے گندگی سے نجات عطا فرمائی اور مجھے عافیت جیسی عظیم نعمت نصیب فرمائی ، ایسے ہی تو میرے باطن کو صاف فرمادے اور میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہم پر ایک اور انعام کیا کہ اس نے جسم سے ساری کی ساری غذا نہیں نکال دی، اگر ایسا ہو جاتا تو ہم زندہ ہی نہ رہتے، اس نعمت کے شکر کو ”وعَافَانِيْ“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

          فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ان دونوں دعاوٴں ”غُفْرَانَکَ“ اور ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَذْھَبَ عَنِّيْ الْأَذیٰ وعَافَانِيْ“ کو جمع کر کے پڑھا جائے؛البتہ اگر کسی کو دوسری دعا نہ آتی ہو تو پھر صرف ”غُفْرَانَکَ“ پڑھ لے۔

بیت الخلاء اور غسل خانہ اکٹھا ہونے کی صورت میں دعائیں کس جگہ پڑھی جائیں؟

          آج کل گھروں میں باتھ روم ،حمام ، واش بیسن وغیرہ اکٹھے بنے ہوتے ہیں، اس صورت میں جب قضائے حاجت کے لیے ان جگہوں میں داخل ہو تو غسل خانے میں داخل ہونے سے پہلے دعا پڑھے، اور جب فارغ ہو کر کے نکلے تو نکلنے کے بعد دعا پڑھے۔

          نیز! اگر قضائے حاجت کسی میدان ، جنگل یا صحراء وغیرہ میں کرنی پڑے تو اس صورت میں قضائے حاجت سے پہلے پڑھی جانے والی دعا ستر کھولنے سے قبل پڑھے اور قضائے حاجت کے بعد پڑھی جانے والی دعا ستر چھپالینے کے بعد پڑھے۔

          (ردالمحتار،کتاب الطھارة، مطلب: في دلالة المفھوم، ۱/۲۲۷، دار عالم الکتب)

          اسی کی طرف حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں بھی اشارہ موجود ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کے پڑھنے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ”جب تم بیت الخلاء میں داخل ہو، یا داخل ہونے کا ارادہ کرو تو یہ دعا پڑھ لو“․(السنن الکبریٰ للنسائي، کتاب الطھارة، ما یقول إذا دخل في الخلاء، رقم الحدیث: ۹۸۲۳، ۹/۳۵،موٴسسة الرسالة)

          البتہ! اس جگہ ایک بات پیش نظر رہنی چاہییے کہ اوپر ذکر کردہ لفظِ ”بیت الخلاء“سے مراد زمانہ ماضی کے وہ بیت الخلاء ہیں ،جہاں قضائے حاجت کر لینے کے بعد گندگی ونجاست پڑی رہتی تھی، بعدمیں اسے اکٹھا کر کے دور جنگل وغیرہ میں جا کر پھینکا جاتا تھا، موجودہ دور کے پختہ اور سنگ مر مر کے بنے ہوئے بیت الخلاء اس مفہوم سے بالا تر ہیں، پس اگراس قسم کے بیت الخلاء میں گندگی وغیرہ پھیلی ہوئی نہ ہو تواس میں دعا ستر کھولنے سے قبل پڑلی جائے، اس کی بھی گنجائش ہے؛ کیوں کہ ان بیت الخلاوٴں میں دعا پڑھنے کی صورت میں وہ خرابی نہیں ہے جو گندگی والے بیت الخلاء میں لازم آتی تھی؛لیکن اس صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ دعا بیت الخلاء سے باہر پڑھ کے داخل ہوا جائے۔

 بیت الخلاء میں زبان سے کلمہ پڑھنے اور قرآنِ پاک کی تلاوت کا حکم:

          بیت الخلاء میں زبان سے کلمہ پڑھنا ،کوئی ذکر کرنا ،قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا یا اندر جاکر مسنون دعاپڑھناجائزنہیں؛البتہ دل ہی دل میں ذکر کرنایا چھینک وغیرہ کے جواب میں دل میں ہی ”الحمد للہ“ کہنا جائز ہے۔

          (الفتاوی العالمگیریہ، کتاب الطھارة، الفصل الثالث في الاستنجاء: ۱/۵۰، رشیدیہ)

بیت الخلاء میں لفظِ ”اللہ “ اور حروفِ مقطعات والی انگوٹھی یا لاکٹ پہن کے جانے کا حکم

          بیت الخلاء میں ایسی انگوٹھی یا لاکٹ پہن کے جانا ،جس پر لفظِ اللہ یا حروفِ مقطعات لکھے ہوں جائز نہیں ہے، ایسی انگوٹھی یا لاکٹ باہر رکھ کے پھر داخل ہونا چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار کر باہر ہی رکھ دیتے تھے۔

          (سنن أبي داوٴد، کتاب الطھارة، باب ما یقول الرجل إذا دخل الخلاء، رقم الحدیث: ۶، ۱/۳،دار ابن الحزم)

          اگر یہ چیزیں کسی چیز میں لپٹی ہوئی ہوں یا جیب میں ہوں یا لاکٹ گریبان میں قمیص کے نیچے چھپا ہوا ہو توان کے ساتھ بیت الخلاء میں جانے کی گنجائش ہے ؛لیکن بہتر پھر بھی یہی ہے کہ یہ اشیاء باہر رکھ کے اندر جائیں۔

کن چیزوں سے استنجاء کرنا جائز ہے اور کن سے ناجائز؟

          کاغذ،کھانے کی چیز،گوشت، درخت کے پتوں ،نجس اشیاء ، ہڈی، لید، گوبر، شیشہ، پختہ اینٹ، کوئلہ،ٹھیکری، بال اور اسی طرح دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا جائز نہیں، اس کے علاوہ ہرایسی چیز جوقابلِ احترام نہ ہو، خوراک نہ ہو، جسم کے لیے نقصان دہ بھی نہ ہواور قیمتی بھی نہ ہو تو اس سے استنجا کرنا جائز ہے۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

 ڈھیلوں سے استنجاء کرنے کا حکم

          اگر کوئی شخص پانی سے استنجاء کرنے کے بجائے صرف ڈھیلوں سے استنجاء کرنا چاہے تو اس سلسلے میں تفصیل یہ ہے کہ اگرنجاست مخرج سے تجاوز کرجائے اور زائد کی مقدار ایک درہم سے زائد نہ ہو، تو بغیر دھوئے صرف ڈھیلے کے استعمال کرنے سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔

          لیکن مخرج سے تجاوز کرنے والی نجاست اگر درہم کی مقدار سے زائد ہو تو اسے بلا عُذر دھوئے بغیر چھوڑدینا اور اسی طرح نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اور اگر بقدرِ درہم یا اس سے کم ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے۔

          (رد المحتار: کتاب الطھارة، باب الأنجاس:۱/۵۲۲، دار عالم الکتب)

دیر تک قطرے آنے والوں کے لیے طہارت کا طریقہ

          اگر پیشاب کرنے کے بعد کسی کو قطرے آنے کا مرض ہو تو اسے چاہیے کہ پہلے ڈھیلے یا ٹوائلٹ پیپر سے اچھی طرح خشک کر لے،حتی کہ پیشاب کی نالی کو خالی کرنے کی اپنی مقدور بھر کوشش کر لے ، اس کے بعدپانی سے استنجاء کرے۔

          (ردالمحتار، کتاب الطھارة، باب الأنجاس، مطلب في الفرق بین الاستبراء والاستسقاء والاستنجاء:۱/۵۵۸، دارعالم الکتب)

پردے کی عدم موجودگی میں صرف ڈھیلوں کے استعمال کا حکم

          اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ ہو جہاں پردے کے ساتھ استنجاء کرنا ممکن نہ ہو تو وہاں قضائے حاجت کے بعد صرف ڈھیلوں یا ٹوائلٹ پیپر کے ساتھ استنجاء کرنے پر اکتفاء کرے، ایسی جگہ پر دوسروں کے سامنے ستر کھول کر پانی سے استنجاء کرنا جائز نہیں۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

شلّ ہاتھ والا استنجاء کیسے کرے؟

          اگر کسی شخص کا بایاں ہاتھ شل ہو اور وہ اپنے بائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے پر قادر نہ ہو؛ تو دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے اور اگر دایاں ہاتھ بھی شل ہو تو پھر ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص (اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے) پانی ڈالے اور اگر کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو تو ایسے شخص سے استنجاء معاف ہے۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

مریض آدمی کے لیے استنجاء کا حکم

          ایسا مریض جو وضو کرنے پر قادر نہ ہو؛لیکن اس کی بیوی موجود ہو تو وہ اسے استنجاء اور وضو کرائے اوراگر اس کی بیوی نہ ہو؛ لیکن بیٹا یا بھائی موجود ہو تواس کا بیٹا یا بھائی اس مریض کو وضو کرائے۔ اسی طرح کوئی عورت مریضہ ہواور اس کا شوہر بھی ہو تو اس کا شوہر اپنی بیوی کو بوقت ضرورت وضو بھی کروائے گا اور استنجاء بھی کروائے گااور اگر اس کا شوہر نہ ہو؛ لیکن اس کی بیٹی یا بہن موجود ہوں تو وہ وضو کرائیں۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

قضائے حاجت کے وقت باتیں کرنااور ایک دوسرے کے ستر کو دیکھنا

          حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”دو آدمی قضاء حاجت کرتے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کہ دونوں ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ رہے ہوں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتے ہیں“۔

          (سنن ابن ماجة، کتاب الطھارة، باب النھي عن الاجتماع علیٰ الخلاء والحدیث عندہ، رقم الحدیث:۳۴۲، ۱/۷۸،مکتبة المعارف،الریاض)

           انسانی شرافت سے بہت دور اور بڑی بد تہذیی کی بات ہے کہ دو افراد ننگے ہو کر ایک دوسرے کے سامنے اپنی حاجت سے فارغ ہوں اور اس سے بھی بڑی بے حیائی یہ ہے کہ اس دوران وہ دونوں آپس میں بات چیت بھی کرتے رہیں،یہ امر شرعاً جائز نہیں ہے۔

ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کا حکم

          اگر کسی جگہ پانی کھڑا ہو تو اس میں پیشاب کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ اس پانی کو بہت سے کاموں میں استعمال کیا جانا ممکن ہے، حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجة، کتاب الطھارة، باب النھي عن البول في الماء الراکد، رقم الحدیث:۳۴۴، ۱/ ۷۸،مکتبة المعارف، الریاض)

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا حکم

          آج کل جدید تہذیب کے دلدادے، مغربیت کی تقلید میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو جدیدیت ، تہذیب اور اسلوب زندگی شمار کرتے ہیں، اس عمل کے لیے نہ بیٹھنے کو ضروری خیال کرتے ہیں اور نہ ہی پانی سے استنجاء کرنے کو کوئی اہمیت دیتے ہیں، اب تو باقاعدہ ہر جگہ پیشاب کے لیے دیواروں میں ایسی جگہیں بنائی جاتی ہیں، جہاں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ممکن ہوتا ہے، اور ایسے بیت الخلاء ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، رُوٹ کی بڑی بسوں کے اڈوں اور سعودیہ میں حاجیوں کے لیے تیار کی جانے والی رہائش گاہوں میں تیار کیے گئے ہوتے ہیں؛حالاں کہ کھڑے ہو کر استنجا کرنا شرعاً ممنوع ہے، اس فعل کے مرتکب اپنے کپڑوں کو بھی پاک نہیں رکھ سکتے اور اپنے بدن کو بھی نہیں۔

          حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار (ابتدائے اسلام میں جب مجھے مسئلے کا علم نہیں تھا)مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھ لیا، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب مت کر“، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے (کبھی) کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجة، کتاب الطھارة، باب في البول قاعداً، رقم الحدیث:۳۰۸، ۱/۱۹۶،)

          درحقیقت یہ دشمنانِ اسلام کی سازش ہے ، کہ مسلمانوں کو ان کے پیغمبر علیہ السلام کی مبارک سنتوں سے اتنا دورکر دیا جائے کہ وہ اپنے ہی مسلم معاشرے میں اپنے نبی کی اتباع میں عار محسوس کریں۔

           ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اپنی ذات سنت طریقے کے مطابق کرلیں، اور اپنی اولاد بالخصوص نابالغ اولادکی نگرانی کریں، کہ کہیں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی عادی تو نہیں بن رہی ہیں یا وہ پیشاب کرنے کے بعد استنجا لیتی ہے یا نہیں؟! اور اگر ایسا محسوس ہو تو فوراً مناسب تنبیہ کریں۔

پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کا وبال

          کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی صورت میں کپڑوں پر یا بدن پر چھینٹوں کا گرنا ایک یقینی امر ہے، دیکھنے کے اعتبار سے تو یہ چھوٹا اور معمولی عمل ہے؛ لیکن جزا کے اعتبار سے پیشاب کی چھینٹوں سے اپنے آپ کو نہ بچانا بہت بڑے وبال کا سبب ہے۔

          حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک بار نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو عذاب کوئی بڑے بڑے اور مشکل کاموں کی وجہ سے نہیں ہو رہا؛ بلکہ ان میں سے ایک کو پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کرنے کی وجہ سے“۔

          (سنن ابن ماجة، کتاب الطھارة، باب: التشدید في البول، رقم الحدیث: ۳۴۹، ۱/۲۱۹، دار المعرفة، بیروت )

          اس لیے پیشاب کرنے کے بعد بہتر یہ ہے کہ پہلے کسی ڈھیلے یا ٹشو پیپر وغیرہ سے قطرات کو خشک کریں ، اس کے بعد پانی کا استعمال کریں۔اس طریقے سے مثانہ اور پیشاب کی نالی اچھی طرح خالی ہو جاتی ہے، فارغ ہونے کے بعد قطرے وغیرہ ٹپکنے سے امن رہتا ہے۔

قبلہ کی طرف منہ یا پشت کر کے پیشاب کرنے کاحکم

          قضائے حاجت کے احکام میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ اس عمل کے دوران قبلے کی طرف نہ منہ کیا جائے اور نہ ہی پُشت، ایسا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، چاہے قضائے حاجت کا وقت ہو یا (ننگے ہو کر)غسل کرنے کی حالت ہو، شہر میں ہو یا دیہات میں ،جنگل میں ہو یا صحرا میں،تمام صورتوں میں یہی حکم ہے۔

          حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کے لیے آئے تو قبلے کی طرف نہ چہرہ کرے اور نہ ہی پشت کرے۔ (صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب لا یستقبل القبلة بغائط أو بولٍ، رقم الحدیث: ۱۴۴، ۱/۶۸، المکتبة السلفیة)

قبلے کی طرف بنے ہوئے بیت الخلاء کا حکم

          اگر کسی گھر میں بیت الخلاء قبلہ ُرو بنا ہوا ہو یا اس طرح بنا ہو کہ قبلہ کی طرف پُشت ہوتا ہو تو اہلِ خانہ پر ٹھیک سمت میں بیت الخلاء بنانا واجب ہے، البتہ اگر اُس بیت الخلاء میں اپنا رُخ قبلہ کی طرف سے پھیر کر بیٹھے تو جائز ہے۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

دودھ پیتے بچوں کے لیے استقبال قبلہ کا حکم

          والدہ یا ہر ایسا شخص جو بچوں کو قضائے حاجت کروائے، اس کے لیے ان بچوں کو لے کر قبلہ کی طرف رکھ کر کے بیٹھنا یا قبلہ کی طرف پشت کر کے بیٹھنا جائز نہیں؛، بلکہ وہ بھی شمالاً یا جنوباًبیٹھ کے قضائے حاجت کروائیں۔

          (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الطھارة، باب الأنجاس: ۱/۵۵۵، دار عالم الکتب)

مریض کے لیے استقبال قبلہ اور استدبار قبلہ کا حکم

          جو شخص مرض کی وجہ سے خود اپنا رُخ بدلنے پر قادر نہ ہو تو اس شخص کے تیمار دارقضائے حاجت کے وقت اس کو ایسے طریقے سے اٹھائیں یا لٹائیں کہ بہ وقت قضائے حاجت اس کا رُخ یا پیٹھ قبلہ کی طرف نہ ہو، اسی طرح ہسپتالوں میں بھی انتظامیہ کو چاہیے کہ مریضوں کے بیڈ / بستر قبلہ رُ خ پر حتیٰ الوسع بچھانے سے گُریز کریں۔

بیت الخلاء جاتے ہوئے سر ڈھانپنا

          بیت الخلاء جاتے ہوئے سر ڈھانپ کے جانا بھی سنت ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنے سر کو ڈھانپ لیتے تھے۔

          (السنن الکبریٰ للبیہقي،کتاب الطھارة، باب تغطیة الرأس عند دخول الخلاء، رقم الحدیث: ۴۶۴،۱/۹۶،دائرة المعارف،دکن)

پیشاب پاخانہ کی طرف دیکھنے کی ممانعت

          اپنے بول و براز کی طرف دیکھنا خلاف ادب ہے، علامہ طحطاوی  نے لکھا ہے کہ یہ نسیان کو پیدا کرتا ہے۔(کتاب الطہارة: ۱/۳۱، دارالکتب العلمیة)

قضائے حاجت کے بعد زمین پر ہاتھ ملنے کا حکم

          حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ” نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے جب استنجاء کر لیا تو اپنے ہاتھوں کوزمین پر رگڑا“۔

          (سنن الترمذي، کتاب الطھارة، باب: دلک الید بالأرض بعد الاستنجاء، رقم الحدیث:۵۰، دارالسلام)

           موجودہ دور میں اس عمل پر قادر شخص کے لیے یہ عمل بھی مسنون ہو گا، بصورت دیگر صابن وغیرہ سے ہاتھوں کو دھو لینا بھی اس کا قائم مقام ہو جائے گا۔

استنجا کے بعد ہاتھ دھونے کا حکم

          استنجاء کرنے کے بعد اگر ظنِ غالب ہو کہ ہاتھ صاف ہوگئے ہیں اور بدبو وغیرہ بھی ختم ہو گئی ہے تو مزید صفائی کے لیے ہاتھ دھونا مسنون ہے؛ لیکن ضروری نہیں ہے، مطلب یہ کہ اگر یہ شخص ہاتھ نہ دھوئے تو عند اللہ مجرم نہیں ہو گا۔

          (الفتاویٰ الھندیة، کتاب الطھارة، صفة الاستنجاء بالماء، ۱/۵۵، دار الکتب العلمیة)

جن جگہوں میں استنجاء کرنا مکروہ ہے

          جن جگہوں میں استنجاء کرنا مکروہ ہے وہ درج ذیل ہیں:پانی میں، حوض یا چشمے کے کنارے، پھل دار درخت کے نیچے، کھیتی میں ، ہر ایسے سایہ میں جہاں لوگ بیٹھتے ہوں، مساجد اور عید گاہ کے پہلو میں ، قبرستان میں اور مسلمانوں کی گذرگاہ میں، سورج یا چاند کی طرف منہ کر کے، ڈھلوان (نیچے والی سطح) میں بیٹھ کے اوپر کی جانب پیشاب کرنا، ہوا کے رُخ پر پیشاب کرنا، چوہے، سانپ یا چیونٹی کے بل میں پیشاب کرنا۔غرض جس جگہ سے بھی لوگوں کا نفع وابستہ ہو اور وہاں ناپاکی یا گندگی ان کے لیے تکلیف دِہ ہو یا اس عمل کی وجہ سے خود اس کو کسی ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، وہاں پیشاب پاخانہ کرنا جائز نہیں ہے۔

          (البحر الرائق، کتاب الطھارة، باب الانجاس، ۱/ ۶۵۲، دارالکتب العلمیة)

قضائے حاجت کا مفصل طریقہ

          جب کوئی شخص بیت الخلاء میں جانے کا ارادہ کرے، تو اس کے لیے مناسب ہے کہ ایسے وقت میں ہی چلا جائے جب اس پر قضائے حاجت کا بہت زیادہ تقاضا نہ ہو؛ بلکہ یہ شخص اس حالت کے طاری ہونے سے پہلے پہلے ہی بیت الخلاء میں داخل ہو جائے،اس دوران یہ شخص اپنے ساتھ کوئی ایسی چیزجس پر اللہ کا نام(یا قرآن ِ پاک کی آیت وغیرہ لکھی ہوئی ) ہو ،نہ لے جائے،اور ننگے سر بھی نہ جائے، جب دروازے کے پاس پہنچ جائے تو بیت الخلاء میں داخل ہونے والی دعا پڑھنے سے قبل ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھے ، پھر دعائے ماثورہ ”اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ پڑھے، پھر بایاں پاوٴں اندر داخل کرے،پھر زمین کے قریب ہوکر ستر کھولے، پھر اپنے پاوٴں کو قدرے کشادہ کر کے اس طرح بیٹھے کہ اس کے بدن کا زیادہ وزن بائیں پاوٴں پر ہو، اس حالت میں یہ شخص اُخروی امور (مثلاً: علم دین ،فقہ وغیرہ ) کے بارے میں نہ سوچے، کوئی شخص اِس کو سلام کرے تو اُسے جواب نہ دے، موٴذن کی آواز اس کے کانوں میں پڑے تو اُس کا جواب نہ دے، اس حالت میں اس کو چھینک آئے تو ”الحمد للہ“ نہ کہے، اپنے اعضائے مستورہ کی طرف نظر نہ کرے، بدن سے نکلنے والی گندگی کی طرف بھی نہ دیکھے، پاخانہ پر تھوک، ناک کی رینٹھ، اور بلغم وغیرہ نہ تھوکے، بہت زیادہ دیر تک وہاں نہ بیٹھے، آسمان کی طرف نہ دیکھے، بلکہ معتدل کیفیت کے ساتھ رہے، پھر جسم سے خارج ہونے والی نجاست کوپانی ڈال کر اچھی طرح بہا دے، پھر جب فارغ ہو جائے تو شرمگاہ کے نیچے کی جانب موجود رَگ پر اپنی انگلی پھیر کے اُسے اچھی طرح پیشاب کے قطروں سے خالی کر دے، پھر تین پتھروں سے اپنے عضو سے نجاست دور کرے، پھر فارغ ہو کے سیدھا کھڑا ہو نے سے پہلے پہلے اپنے ستر عورت کو چھپالے، پھر اپنا دایاں پاوٴں بیت الخلاء سے باہر نکال کر قضائے حاجت کے بعد کی دعا پڑھے ”غُفْرَانَکَ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَذْھَبَ عَنِّيْ الْأَذیٰ وعَافَانِيْ“۔(ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الطھارة، باب الأنجاس: ۱/۹۵۵، دارعالم الکتب)

قضائے حاجت کے وقت کی احتیاطیں

          تکمیل عبادات کے لیے چوں کہ طہارتِ کاملہ ضروری ہے؛ اس لیے قضائے حاجت سے فراغت پر استنجاء کرتے وقت مبالغے کی حد تک اپنے آپ کو پیشاب کے قطروں اور ناپاکی سے بچانا ضروری ہے، بالخصوص موجودہ دور میں جب کہ پختہ بیت الخلاء اور پانی سے استنجا ء کرنے کا معمول عام ہو چکا ہے، احتیاط لازم ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی بیت الخلاء میں داخل ہو، اسی وقت ٹونٹی کھول کے پانی کے ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ کرلے ، اس کے علاوہ بیٹ الخلاء میں ٹشوپیپر بھی ضرور رکھنے چاہئیں؛ تا کہ بوقت ضرورت ان کو استعمال کیا جا سکے۔

          جن مقامات میں ٹونٹیوں کی حالت معلوم نہ ہو وہاں لوٹے کو اوپر اٹھا کر ٹونٹی کے قریب کر کے پانی بھریں ، پھر نیچے رکھ دیں، اسی طرح پیشاب کرنے میں احتیاط اس طرح برتی جائے کہ پیشاب فلش میں سامنے کی ٹھوس جگہ میں قوت سے نہ ٹکرائے؛کیوں کہ اس صورت میں اسی قوت کے ساتھ چھینٹیں اڑنے کا قوی امکان ہوتاہے، اس سے حفاظت اسی صورت میں ممکن ہے کہ پیشاب فلش کی سائڈوں میں گرے نہ کہ سامنے والے حصے میں۔

          آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں دین کے اس اہم اور عظیم الشان حکم کو نہایت کامل اور احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




مشاركة مدير الجامعة الإسلامية إشاعة العلوم أكل كوا الهند في مؤتمر دولي بماليزيا

مشاركة مدير الجامعة الإسلامية إشاعة العلوم أكل كوا الهند في مؤتمر دولي بماليزيا
مشاركة مدير الجامعة الإسلامية إشاعة العلوم أكل كوا الهند في مؤتمر دولي بماليزيا:
قد شارك مدير الجامعة الإسلامية إشاعة العلوم الاخ حذيفه الوستانوي في مؤتمر دولي الذي انعقد بمدينة جاكرتا حضر فيه ٧٠ جامعات من ٢٥ دول 
وفي المجلس الختامي قال الاخ حذيفه أولاً اشكر الجامعة الإسلامية العالمية الماليزيا واتحاد الجامعات العربية على انعقاد هذا المؤتمر ثم اريد أن أقول بأن في الهند جامعات إسلامية كثيرة ولهم دور كبير في نشر العلوم العربية والإسلامية لكن لهذه الجامعات مشكلة كبيرة وهي الاعتماد من قبل الحكومة لان نظام التعليم علماني والسبيل الوحيد هو حصول الاعتماد من احد الجامعات المعتمدة وكذالك ليس لهذه الجامعات التواصل والترابط بالجامعات في الدول العربية والإسلامية فياليت هناك تنسيق من قبل اتحاد الجامعات العربيه يكون أنفع وأفضل عفواً.
والأمر الثاني اريد أن أقوله وهو أن جميع وسائل مادية موجود لدي الدول العربية والإسلامية لكن مشكلتنا الاعتماد لإخراج النفط وغيره على الاوربا وروسيا أما نقص عندنا في التعليم أو عدم الفرصة للخرجين الماهرين من جامعاتنا عفواً.
قبل انتهاء الجلسة قال الدكتور سلطان ابو عرابي الأمين العام لإتحاد الجامعات العربية باني اشكر الدكتور داؤود الحدابي وزملائه لجهودهم لنجاح هذا المؤتمر واكرمه بهذا الدرع من قبل اتحاد الجامعات العربيه وكذالك اكرم الدكتور حذيفه من الهند لتوجيهه لنا الى امر مهم جداً ونحن إن شاءالله نقوم بواجبنا تجاه الجامعات العربية والإسلامية في الهند فشكرا جزيلاً للدكتور سلطان على تكريم الشيخ حذيفه
وهذه تفاصيل عن المؤتمر وبيان ختامي
البيان الختامي للمؤتمر الدولي
للجامعات العربية الاسيانية الثالث
في فترة من 24 – 27 يونيو 2018
انعقد المؤتمر الدولي الثالث للجامعات العربية الاسيانية في الفترة من 24 – 27 يونيو 2018 في رحاب الجامعة الإسلامية العالمية بالتعاون بين الجامعة الإسلامية العالمية بماليزيا واتحاد الجامعات العربية في عمان بالاردن. وقد حضر المؤتمر 70 رئيسا و ممثلا لجامعات عربية وآسيانية. حضر حفل الافتتاح في فندق  سيري باسفيك في كوالالمبور الوفود المشاركة من الجامعات إضافة الى العديد من السفراء والملحقيات الثقافية لعدد من الدول العربية المقيمين في مملكة ماليزيا إضافة الى العديد من الإعلاميين ولفيف من الضيوف.
وفي حفل الافتتاح رحبت قيادة الجامعة الإسلامية العالمية ممثلة بالاستاذة الدكتورة زليخه قمرالدين والاستاذ الدكتور عبدالعزيز برغوث نائب رئيس الجامعة للعلاقات الدولية والتشبيك الدولي بالمشاركين, كما القى الأستاذ الدكتور سلطان أبو عرابي الأمين العام لاتحاد الجامعات العربية كلمة اكد فيها أهمية التعاون وتبادل الخبرات بين الجامعات وبعد ذلك تم  تكرريم الأستاذ الدكتور سلطان أبو عرابي العدوان امين عام اتحاد الجامعات العربية من قبل مديرة الجامعة الإسلامية العالمية الأستاذة زليخه قمرالدين بمنحه شهادة التميز والانجاز مدى الحياة. وفي نهاية جلسة الافتتاح تم توقيع اتفاقيات التعاون بين الجامعة الإسلامية العالمية  و 38 جامعة عربية وآسيانية.
وبعد الافتتاح بدأت فعاليات المؤتمر في يومه الأول حيث تم عرض عشرة أوراق علمية في ثلاث جلسات من قبل باحثين من عدة جامعات مشاركة كما تم  في اليوم التالي في أربع جلسات تقديم 7 أوراق علميه بما في ذلك  الورقة التي قدمها مدير إدارة الهيئة  الإسلامية لضمان الجودة و الاعتماد في اتحاد جامعات العالم الإسلامي  الأستاذ الدكتور داود عبدالملك الحدابي والمستضافة من قبل  الجامعة الإسلامية العالمية.
و اختتم المؤتمر بكلمتين رئيسيتين من قبل كل من الأستاذه الدكتوره زليخه قمر الدين مديرة الجامعه الإسلامية العالميه بماليزيا المستضيفه للمؤتمر و الأستاذ الدكتور سلطان أبو عرابي العدوان الأمين العام لإتحاد الجامعات العربية. و انتهى الاجتماع يوم 26 يونيو 2018 بقراءة البيان الختامي للمؤتمر و اتفق الحضور على التوصيات الآتية:
1 -يقوم مكتب الهيئة الإسلامية  لضمان الجودة و الاعتماد و المستضاف في الجامعة الإسلامية العالمية بالتواصل مع الجامعات المشاركة والراغبة في تطبيق اداة قياس أداء الجامعات المتكامل بغرض التجريب والاستفادة من عملية التشخيص لواقع أداء الجامعات والعمل على تطويرها إضافة الى تقديم المقترحات لمكتب الهيئة بغرض تطوير الأداة في صورتها التالية.
2-تشجيع الجامعات على الانضمام لشبكة الجودة وقياس أداء الجامعات التابعة للهيئة الإسلامية لضمان الجودة والاعتماد وذلك لتنبادل الخبرات بين الجامعات
3-يقوم مكتب الهيئة الإسلامية لضمان الجودة والاعتماد بتقديم الاستشارات والتدريب في مجال تطبيق أداة قياس أداء الجامعات لجميع الجامعات الراغبة مع الاستفادة من الكفاءات والخبرات المتوفرة في الجامعات جميعا لتقديم الاستشارات والتدريب مع تطوير قاعدة بيانات لهم من قبل مكتب الهيئة.
4-تشجيع الجامعات في العالم العربي والإسلامي  على تبادل الخبرات والتجارب سعياً في التعلم من بعضهم البعض.
5-تشجيع وتنظيم تبادل الطلبة والأساتذة بين الجامعات.
6-التقديم المشترك من قبل عدد من الجامعات لطلب تمويل البحوث العلمية من قبل المؤسسات المانحة المحلية والاقليمية والدولية.
7-الاشراف المشترك على طلبة الدراسات العليا ومناقشة الرسائل الجامعية.
8- العمل على التدرج نحو عملية الترتيب والتصنيف للجامعات في العالم الاسلامي
9- عقد مثل هذا المؤتمر دوريا بين الجامعات العربية والآسيانية.
10- يتقدم المشاركون في المؤتمر بخالص الشكر والتقدير للمبادرة الكريمة من صاحب السمو الشيخ الدكتور سلطان القاسمي رئيس جامعة القاسمية في الشارقة بدولة الامارات العربية المتحدة وذلك بتقديم منحة لكل جامعة مشاركة في المؤتمر في ضوء توصية من رئيس الجامعة المعنية.
11- العمل على اعداد اطاريين للجودة وقياس الاداء لكل من الجامعات البحثية والتعليمية من قبل مكتب الهيئة وبالتعاون مع جامعات العالم الاسلامي.
12- ندعو الجامعات المشاركة على دعم الجامعات في مناطق ودول الحروب.


Mr Huzaifa Vastanwi CEO Jamia Akkalkuwa attend the international conference at Koula Lumpur
 :
I (Huzaifa Vastanwi) attend
The Third Arab-Asian International Conference at Kuala Lumpur  Malasiya
There were 70 Universities from 30 countries attended the conference.
In the last and final session I
suggest them in conclusion statement ofThe Third Arab-ASEAN International Conference
that there is good progress in education field in India Muslims but there is lack of communication between us and Arabic and Islamic educational institutes so request them to strong our communication so we can progress better I raised a question for them you have all abilities and amenities for research and development but we are still depending on Western countries we have to think about weak points in our educational system or we are not giving good opportunities to our professional people .
In the end of the program the 
Prof. Dr. Sultan Abu Orabi, the Secretary General of the Association of Arab Universities
Announced to honor the organizing committee ho organized this confrance and especially my name to honoring weth sheild because of my raised our attention to our important points .
More details of this conference are below
The Third Arab-ASEAN International Conference was conducted during the period 24-27 June 2018 at the International Islamic University, Malaysia as a result of cooperation between IIUM and the Association of Arab Universities in Amman, Jordan. 70 Presidents/Rectors or representatives of Arab and ASEAN universities attended the conference. The opening ceremony was held at Seri Pacific hotel, Kuala Lumpur. It was attended by university , several ambassadors and cultural attaches representing number of Arab countries in Malaysia, media and guests.
In the opening ceremony the leadership of  IIUM represented by its Rector, Prof. Dr. Zalehah Qamaruddin, and Vice-Rector for Internationalization and Global Network, Prof. Dr. Abdulaziz Bergouth welcomed the delegates from Arab and ASEAN countries. Then, Prof. Dr. Sultan Abu Orabi, the Secretary General of the Association of Arab Universities, delivered a speech wherein he stressed the importance of cooperation and exchange of experiences among universities. After that, the Rector of the IIUM Prof. Dr. Zalehah Qamaruddin has honoured  Prof. Dr. Sultan Abu Orabi, the Secretary General of the Association of Arab Universities and offered him a life-long Achievement Award. At the end of the opening ceremony 38 MoUs have been signed between IIUM and Arab and ASEAN universities.
After the opening, the conference functions began in the first day in which researchers from many participating universities have delivered ten academic papers in three successive sessions. In the next day of the conference the participants delivered their papers in the Senate Hall at IIUM campus. 7 academic papers, including the paper presented by the Director of The Islamic Agency for Quality Assurance and Accreditation in the Association of Islamic World Universities (ISESCO), Prof. Dr. Dawood Abdulmalik Al-Hidabi, have been delivered in four sessions.
The conference has been concluded by two key speeches by the host of the conference, the IIUM’s Rector, Prof. Dr. Zalehah Qamaruddin, and Prof. Dr. Sultan Abu Orabi, the Secretary General of the Association of Arab Universities. The meeting ended with the Concluding statement on June 26, 2018. The attendees agreed on the following recommendations:
The Bureau of the Islamic Agency for Quality Assurance and Accreditation, which is hosted by the International Islamic University, Malaysia, shall communicate with participating universities and those interested in implementing the Integrated University Performance Measurement Tool, with the purpose of piloting it, to further develop it, and to provide recommendations for the Agency’s office for  the purpose of enhancing it.
Encouraging the universities to join the membership of the Quality and University Performance Measurement Network at  the Islamic Agency for Quality Assurance and Accreditation, for the purpose of exchanging experiences between universities.
The office of the Islamic Agency for Quality Assurance and Accreditation shall provide consultation and training on the implementation of the University Performance Measurement Tool to all interested universities taking into account the available consultants and experts in all Muslim universities. A data base for experts has to be developed by the BIAQAA.
Encouraging universities in the Arab and Islamic worlds to exchange experiences, seeking to learn from each other.
Encouraging and organizing the exchange of students and academic staff between universities.
Working collectively to jointly develop proposals to seek research funds from local, regional and intentional donors.
Facilitating joint supervision of post graduate students’ research.
Working together to have a gradual process for rating and ranking the universities of the Islamic world.
Holding such as this conference at regular times among Arab and ASEAN universities.
Participants would like to express their thanks and appreciation   for His Excellency Shaikh Dr. Sultan Alqasimi, the Ruler of Sharja, UAE for his scholarship scheme for all participating universities where he awarded one scholarship for each university through a recommendation letter written by each participating university and directed to the president of Alqasimiyyah University.
BIAQAA has to lead the development of two quality frameworks for research and teaching universities.
The participants invite all universities to support universities in conflict zones and countries for developing their capacities.

Thursday, 28 June 2018

کیا ایسا کہنا درست ہے کہ زنا کا قرض گھر والے اتارتے ہیں؟

کیا ایسا کہنا درست ہے کہ زنا کا قرض گھر والے اتارتے ہیں؟
السلام وعلیکم
آج کل یہ جملہ بہت سنا گیا ہے کیا ایسا کہنا درست ہے کہ زنا کا قرض گھر والے اتارتے ہیں؟
پاک دامن رہوتمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی
بیشک "زنا" قرض ہے
اگر تو نے اسے لیا تو ادائیگی تیرے گھروالوں سے ہوگی
اے شخص اگرتو عقلمند ہے تو اس کو سمجھ۔
مفتیان کرام پلیز مدلل رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی
الجواب وباللہ التوفيق:
زنا قرض ہے، یہ حدیث شریف کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا  قول ہے جو مکمل اس طرح ہے:
عفوا تعف نساوٴکم في المحرم وتجنبوا ما لا یلیق بمسلم
إن الزنا دین فإن أقرضتہ کان الوفا من أھل بیتک فاعلم
معجم کبیر طبرانی: ۱۱/۱۷۳ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت ہے جس میں نبی کریم علیہ السلاة والسلام نے فرمایا : ”عفوا تعف نساوٴکم“
ترجمہ: پاک دامن رہو تمھاری عورتیں پاک دامن رہیں گی، مستدرک حاکم: ۱۷/۹۸ میں بھی یہ روایت موجود ہے.
چنانچہ اسی مضمون کو امام شافعی رحمہ اللہ نے شعر میں بیان کیا ہے:
إن الزنا دین فإن أقرضتہ کان الوفا من أھل بیتک فاعلم
ترجمہ: بیشک زنا قرض ہے، پس اگر تو نے اسے لیا تو اسکی ادائیگی تیرے گھر والوں سے ہوگی، پس تو جان لے.
بعض لوگ اس معاملہ میں مغالطہ کا شکار ہیں، اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ اس کی بھی وضاحت کردی جائے،
چنانچہ پاکستان کے جید عالم دین مفتی عبدالباقی صاحب اخونزادہ اسی عنوان کے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ اللہ رب العزت ظالم نہیں ہیں، اور نہ کسی ایک شخص کے گناہوں کی سزا دوسروں کو دیں گے، البتہ علماء امت فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کھلم کھلا زنا کرے اور اپنے اس فسق اور گناہ پر اصرار کرتا رہے تو یقیناً اس کے گھر والے جو اس کو یہ عمل کرتے دیکھ رہے ہوں گے انکے دلوں سے بھی اس گناہ کی برائی ختم ہوجائے گی، اور وہ بھی اس فعل میں مبتلا ہوجائیں گے، لیکن اگر کوئی کسی غلطی کو کرنے کے بعد توبہ کرلے اور اپنے عمل پر پچھتاوا ہو تو ان شاللہ اس کی مغفرت اور رحمت بہت وسیع اور اللہ رب العزت کی ذات جس عمل کو خود ناپسند کرتی ہے اس عمل میں اپنے بندوں کو کس طرح سزا کے طور پر مبتلا کرسکتی ہے؟
اللہ رب العزت ہمارے ایمان اور عزتوں کی حفاظت فرمائے. آمین یا رب العالمین
فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
2 رجب المرجب 1439


بٹ کوئن؛ ایک فرضی کرنسی

بٹ کوئن؛ ایک فرضی کرنسی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوقات کی طرح مختلف ضرورتوں کا محتاج بناکر پیدا فرمایا ہے، اسے پیٹ بھرنے اور بھوک مٹانے کے لئے غذا کی ضرورت ہے، صحت و علاج کے لئے دوائیں درکار ہیں، وہ جسم چھپانے کے لئے کپڑوں کا محتاج ہے، اسے چلنے کے لئے جوتے اور چپل کی حاجت ہے اور اگر وہ سفر کرنا چاہے تو سواری کے بغیر اپنی منزل تک پہنچ نہیں سکتا، غرض کہ قدم قدم پر ضرورتیں اس کا دامن تھامے ہوئی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے ہر انسان کے وجود میں ناک، کان، آنکھیں اور دل و دماغ کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے اور ان میں سے کوئی ضرورت ایسی نہیں ہے جو اسے خرید کر حاصل کرنی پڑے، دوسری ضرورتوں کے سلسلے میں قدرت کا یہ نظام نہیں ہے، کسی کے پاس کھیت ہیں جن میں چاول اور گیہوں اُگتا ہے لیکن اس کا کھیت دال اور تیل کی پیداوار نہیں دیتا، کسی کے پاس دال اور تیل کا انتظام ہے لیکن پہننے کے کپڑے میسر نہیں ہیں، کسی کے پاس کپڑوں کی بڑی سی دُکان ہے لیکن وہ سواری کے لئے ٹیکسی والوں کا محتاج ہے، ہر شخص کچھ ضرورتیں دوسروں کی پوری کرسکتا ہے اور کچھ ضرورتوں کے لئے وہ دوسروں کا حاجت مند ہوتا ہے۔
غرض، وہ اس بات پر مجبور ہے کہ اپنی کچھ چیزیں دے کر دوسروں سے اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرے، اسی لئے انسانی سماج کے قدیم ترین دور سے خرید و فروخت اور اشیاء کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوا. ابتداء میں لوگ جو چیز اپنے پاس مہیا ہوتی تھی، وہ دیتے تھے، اور اس کے بدلے میں اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرتے تھے. اگر کسی کے پاس گیہوں ہے اور اسے چاول کی ضرورت ہے تو وہ گیہوں لے کر جاتا اورچاول والے کو گیہوں دے کر چاول حاصل کرتا لیکن اس میں ایک بڑی دشواری یہ تھی کہ ضروری نہیں ہے کہ جس کے پاس چاول ہو، اس کو گیہوں کی ضرورت ہو، اگر اس کو گیہوں کی ضرورت نہیں ہو تو یہ شخص چاول کیوں کر حاصل کرسکے گا؟ اس بناپر یہ سوچ پیدا ہوئی کہ کسی چیز کو ذریعۂ تبادلہ اور زر کی حیثیت حاصل ہونی چاہئے کہ اس کی بنیاد پر انسان اپنی تمام ضروریات بازار سے حاصل کرسکے، چنانچہ اس کے لئے ابتداء ًایسی چیزوں کو ذریعہ بنایا گیا، جو زیادہ استعمال میں آتی تھیں، جیسے؛ گیہوں، نمک، لوہا بلکہ بعض جانوروں کا بھی اس حیثیت سے استعمال کیا گیا۔
لیکن اس طریقۂ تبادلہ میں کچھ کم دشواری نہیں تھی کیوں کہ اگر ایک کپڑا انسان کو پچاس کلو گیہوں کے بدلے میں ملتا ہے اور گھر کے دس افراد کے لئے کپڑے لینے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ کوئنٹل گیہوں لے کر وہ کپڑوں کی دُکان پر پھرتا رہے اور اپنی پسند کے کپڑے خرید کرے، سوچئے! اس میں کس قدر دشواری ہے ؟ اس لئے لوگوں نے سوچا کہ کسی ایسی چیز کو ذریعہ تبادلہ بنایا جائے، جو ہلکی پھلکی بھی ہو اور انسان کو اس کے حاصل کرنے میں رغبت بھی ہو چنانچہ اس کے لئے مختلف مرحلوں میں الگ الگ چیزیں مقرر کی جاتی رہیں لیکن آخر نظر انتخاب سونے اور چاندی پر جم گئی، کیوں کہ شروع سے یہ دھاتیں انسان کو مرغوب رہی ہیں، یہ سڑتی اور گلتی بھی نہیں ہیں، وزن کم ہونے کی وجہ سے ان کا حمل ونقل بھی آسان ہے اور حجم کم ہونے کی وجہ سے ان کی حفاظت بھی دشوار نہیں ہے، اس لئے پوری دنیا کے انسانی سماج نے ان کو زر اور ثمن کی حیثیت سے قبول کرلیا، سینکڑوں ہی نہیں، ہزاروں سال سونے چاندی کا اس طریقہ پر استعمال ہوتا رہا اور اسے چیزوں کی قدر متعین کرنے کا پیمانہ تسلیم کرلیا گیا۔
چوں کہ چوروں اور رہزنوں کا نشانہ بھی یہی سونا اور چاندی بنتا تھا، ہر آدمی کے پاس ایسے وسائل مہیا نہیں تھے کہ وہ ان قیمتی دھاتوں اوران کے سکوں کو محفوظ کرسکے تو ایک نئی صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ سناروں اور صرافوں کے پاس چوں کہ حفاظت کا پورا انتظام ہوتا تھا، اس لئے لوگ ان کے پاس سونا اور چاندی بطور امانت رکھوادیتے تھے اور یہ اس کی رسید دے دیا کرتے تھے، اسی رسید کی بناء پر بازار میں اشیاء کی خرید وفروخت ہوتی تھی، آخر اس کا اتنا عموم ہوا کہ اس نے باضابطہ کاغذی نوٹ کی حیثیت حاصل کرلی اور سترہویں صدی کے آغاز میں سب سے پہلے سویڈن کے اسٹاک ہوم بینک نے ایک کاغذی نوٹ جاری کیا، اس وقت ان نوٹوں کا سونے سے پورا پورا تعلق قائم تھا. بینک کو اپنے پاس موجود سونے کے برابر ہی کاغذی نوٹ جاری کرنے کا حق حاصل تھا اور کوئی بھی شخص کاغذی نوٹ کے بدلہ بینک سے اس کے برابر سونا حاصل کرسکتا تھا. پھر یہ قانون نرم ہوتا گیا اور کہا گیا کہ جتنے نوٹ جاری کئے گئے ہیں، اس کا دو تہائی یا نصف یا ایک تہائی یا چوتھائی سونا ہونا کافی ہے. یہاں تک کہ ایک ایسا مرحلہ آیا کہ امریکہ نے اعلان کردیا کہ اب وہ کرنسی کے بدلہ سونا ادا نہیں کرے گا. اب اگرچہ نوٹ کے پیچھے سونے کی قوت باقی نہیں رہی لیکن اس کو حکومت کی پشت پناہی اور قانون کی طاقت حاصل ہے اور اسی سے دنیا کی ساری چیزوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ کاغذی نوٹ کے اس نظام کے پیچھے معاشی ظلم کار فرما ہے اور اس نے سودی نظام کو بڑی تقویت پہنچائی ہے لیکن جب اس کو قبولیت عامہ حاصل ہوگئی تو علماء نے طے کیا کہ سونا اور چاندی تو خلقی ثمن ہیں، گویا اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لئے پیدا فرمایا ہے، اور یہ کاغذی نوٹ ثمن اصطلاحی ہیں، جن کو لوگوں کے اتفاق اور عرف کی وجہ سے ثمن مان لیا گیا ہے. روز بروز اشیائے ضرورت میں پیدا ہونے والی گرانی اور روپیوں کی قدر میں ہونے والی کمی کی وجہ سے اب صورت حال یہ ہوگئی کہ معمولی سامان حاصل کرنے کے لئے ڈھیر ساری رقموں کی ضرورت پڑنے لگی اور اتنی ساری رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جانا دشوار بھی ہوگیا اور حفاظت کے نقطۂ نظر سے بھی یہ ایک پر خطر بات ہوگئی، اس لئے روپیوں کی جگہ ایسے الیکٹرانک کارڈ جاری کئے گئے جو کاغذی کرنسی کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کو کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کہا جاتا ہے. حمل و نقل کی سہولت، واجبات کی ادائیگی میں آسانی اور حفاظتی پہلو کی وجہ سے اب یہ کارڈ اس درجہ مقبول ہوگئے ہیں اور ان کا استعمال بڑھتا جارہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں تو پچاس فیصد سے بھی زیادہ اسی کا استعمال ہے اور ترقی پذیر ممالک میں بھی تیزی سے اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
ان مرحلوں سے گذرتے ہوئے اب کرنسی نے ڈیجیٹل دنیا کا رُخ کیا ہے، جو ’کرپٹو کرنسی‘ کہلاتی ہے،،چوں کہ یہ رمزی حروف یا خط کی شکل میں حساب پیش کرتا ہے اور اس کا لیجر جس کو اصطلاح میں بلاک چین (Block Chain) کہتے ہیں، بھی رمزی زبان ہی میں لکھا جاتا ہے، اس لئے اس کو کرپٹوکرنسی (Crypto Currency) کہتے ہیں. اس کرنسی کا تصور نومبر ۲۰۰۸ء میں  'ستوشی ناکاموتو' نامی جاپانی شخص نے پیش کیا. اس کا پس منظر وہ مالیاتی بحران تھا، جس نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا، اس بحران میں ایک کردار کرنسیوں کا بھی تھا کہ حکومتیں اپنی کرنسیوں کو سنبھال نہیں سکیں اور اچانک کرنسیوں کی قدر اتنی گرگئی کہ بظاہر نہ کسی چور نے چوری کی نہ کسی ڈاکو نے ڈاکہ ڈالا لیکن لوگوں کا لاکھوں کا سرمایہ ڈوب گیا اور کئی بینک دیوالیہ ہوگئے. اس صورت ِحال نے کرپٹو کرنسی کے موجد کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ ایک ایسی کرنسی ہونی چاہئے جو حکومتوں اور بینکوں کی گرفت سے آزاد ہو اور وہ براہِ راست عوام کے کنٹرول میں ہو۔
کہا جاتا ہے کہ کم از کم ساٹھ کرپٹو کرنسیاں انٹر نیٹ پر موجود ہیں. ان ہی میں سے ایک ’بٹ کوئن‘ ہے جس کو بہ مقابلہ دوسری کرنسیوں کے زیادہ قبولیت حاصل ہے. ان کرنسیوں کی ایک وجہ کشش یہ بھی ہے کہ یہ حکومتوں کی آنکھ سے پوشیدہ ہیں، اس لئے ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا. بٹ کوئن کے ذریعہ پہلا سودا ۲۳؍ مئی ۲۰۱۰ء کو ہوا، جس میں دس ہزار بٹ کوئن دے کر دو پیزے حاصل کئے گئے لیکن اس کی قیمت میں تیز رفتار اضافہ کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ایک بٹ کوئن کے ذریعہ سینکڑوں پیزے خرید کئے جاسکتے ہیں. عجیب بات ہے کہ جس شخص نے کرپٹو کرنسی کا تصور پیش کیا اوراس کی زبردست تشہیر کی، ۲۰۱۱ء میں وہ اچانک اُفق سے غائب ہوگیا اور آج تک یہ ایک معمہ ہے کہ یہ کون شخص تھا اور اچانک کہاں چلا گیا؟
بٹ کوئن کے سلسلے میں یہ باتیں قابل لحاظ ہیں:
(۱) نہ اس پر حکومت کا کنٹرول ہے نہ کسی بینک کا۔
(۲) محسوس کرنسی کی طرح نہ اس کے سکے ڈھالے جاتے ہیں، نہ اس کے نوٹ چھپتے ہیں، نہ خریدنے اور بیچنے والے کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی ہے، صرف اس کا ایک ذہنی وجود ہے جو نیٹ کی دنیا میں پایا جاتا ہے اور پیچیدہ حسابات کے ذریعہ اسے وجود میں لایا جاتا ہے۔
(۳) کاغذی نوٹ کی قدر کے بڑھنے اور گھٹنے کا تعلق کسی نہ کسی درجہ میں اس ملک کے اثاثے اور برآمدات وغیرہ سے ہوتا ہے لیکن بٹ کوئن کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ کا اثاثہ اور دولت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، صرف طلب میں اضافہ اور کمی سے ہوتا ہے. ڈیمانڈ بڑھ گئی تو قیمت بڑھ جاتی ہے اور کم ہوگئی تو قیمت گھٹ جاتی ہے۔
(۴) عام طورپر کرنسیوں کی قیمت میں استحکام ہوتا ہے لیکن بٹ کوئن کی قیمت میں غیر معمولی اور تیز رفتار اُتار چڑھاؤ ہوتا ہے، جیسے ۲۰۱۰ء میں ایک بٹ کوئن کی قیمت ایک ڈالر کے چند سینٹ تھی، پھر ۲۰۱۱ء کے وسط میں تیس ڈالر ہوگئی، پھر اس سال کے ختم تک دو سو ڈالر اور ۲۰۱۳ء میں ۲۶۰ڈالر ہوگئی لیکن اچانک پھر اس کی قیمت گر کر سو ڈالر پر آگئی ہے، چنانچہ جن حضرات نے ۲۶۰ ڈالر میں کوئن خریدا تھا، انھیں غیر معمولی نقصان ہوا. ۲۰۱۶ء میں ایک بٹ کوئن کی قیمت چھ سات سو ڈالر تھی اور دسمبر ۲۰۱۷ء میں ستر ہزار سے اوپر ہوگئی ، قیمت کے اس نشیب وفراز کا سبب سوائے طلب کے بڑھنے اور گھٹنے کے کچھ اور نہیں ہے ،اور اس طلب کے بڑھنے کے لئے کوئی معقول وجہ بھی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ جوئے بازوں کی طرح محنت کے بغیر کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسے حاصل کرنے کی ہوس نے کبھی طلب بڑھائی ہے اور کبھی گھٹائی ہے۔
(۵) اس کرنسی میں چوری اور گم ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہیں، اگر کمپیوٹر ہیک کرکے کسی نے بٹ کوئن اکاؤنٹ کا پاس ورڈ حاصل کرلیا تو چند لمحوں میں لاکھوں روپیوں کی بٹ کوئن چوری ہوسکتی ہے اور ایسے واقعات پیش آ بھی چکے ہیں، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کا پاس ورڈ گم ہوجائے، اگر ایسا ہو تو پھر اس کے لئے اس کے پورے سرمایہ کے ڈوب جانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
(۶) اس بات کا بھی بہت اندیشہ ہے کہ اس کو غیر سماجی حرکتوں، دہشت گردانہ کاموں اور مخدرات کے لئے استعمال کیا جائے۔
اس پس منظر میں جب ہم بٹ کوئن کے بارے میں غور کرتے ہیں تو ایک مضمون نگار کے بقول یہ ایک ’جناتی کرنسی‘ ہے، نہ اس کرنسی کا کوئی حسی وجود ہے، نہ اس کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام ہے، نہ اس کے پیچھے حکومتوں کی طاقت ہے ، اگر کسی کا یہ سرمایہ چور کرلیا جائے یا ضائع ہوجائے تو کسی عدالت سے رُجوع بھی نہیں کیا جاسکتا، کرنسی ایسی چیز ہونی چاہئے جس تک ہر شخص کی رسائی ہوسکتی ہو لیکن بٹ کوئن ایسی چیز نہیں ہے، اس کی ریز گاری اور چھوٹے سکے آسانی سے دستیاب ہونے چاہئیں لیکن بٹ کوئن کے چھوٹے سکے حاصل کرنے کا طریقہ نہایت ہی پیچیدہ اور دشوار تر ہے، جس چیز سے براہِ راست انسان کی ضرورت پوری ہوسکتی ہو، جیسے چاول، دال، گوشت، انڈا، پھل، ترکاری، ان کی قیمت میں اُتار چڑھاؤ فطری نظام کے تحت ہوتا ہے یعنی جب پیداوار بڑھ جاتی ہے تو طلب کے مقابلے رسد زیادہ ہوجاتی ہے اور قیمت کم ہوجاتی ہے، اور اگر پیداوار کم ہوئی تو رسد کے مقابلہ طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے تو قیمت بڑھ جاتی ہے، یہ ایک فطری نظام ہے لیکن بٹ کوئن کی طلب میں اضافہ کے لئے کوئی واضح اور مناسب سبب موجود نہیں ہے بلکہ یہ بڑی حد تک جوئے کے مشابہ ہے، جس میں کسی معقول سبب کے بغیر مصنوعی طورپر طلب پیدا کی جاتی ہے اور جیتنے والا اس کا فائدہ اُٹھاتا ہے، اس لئے حقیقت یہ ہے کہ شرعاً اس کو کرنسی قرار نہیں دیا جاسکتا ، اس کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے، ہاں اگر کاغذی کرنسی کی طرح عالمی اور ملکی سطح پر اس کو کنٹرول کرنے والے ادارے قائم ہوجائیں، حکومتیں اس کو قبول کرلیں، اس کرنسی کی پیدائش اثاثوں سے مربوط ہو، صرف پیچیدہ حسابات پر مبنی نہ رہے، عام لوگوں کی اس تک رسائی ہوسکتا ہے، تو اس وقت اس بات پر غور کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ بھی کاغذی کرنسی کی طرح عرفی کرنسی کے درجہ میں آگئی ہے؟ اس لئے بہر حال مسلمانوں کو ابھی اس کی طرف لپکنے سے بچنا چاہئے، کہ شرعاً بھی یہ جائز نہیں ہے اور اس میں زبردست معاشی نقصان کا بھی بھرپور خطرہ موجود ہے!
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)