Sunday, 8 March 2026

مالدار بیوی کا اپنے محتاج شوہر کو زکوٰۃ دینا

مالدار بیوی کا اپنے محتاج شوہر کو زکوٰۃ دینا

---------------------------------

بقلم: مفتی شکیل منصور القاسمی

---------------------------------

فقہائے اسلام کے مابین اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا عورت اپنی زکوٰۃ اپنے غریب ومحتاج شوہر کو دے سکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اہلِ علم کے دو مشہور اقوال ملتے ہیں:

پہلا قول جواز کا ہے. بعض ائمہ کے نزدیک عورت کے لیے اپنے محتاج شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ یہ موقف فقہائے احناف میں سے حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا ہے، اور مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی ایک روایت بھی اسی کے موافق ہے۔ (دیکھیں: بدائع الصنائع (٢/٤٠)، عمدة القاري (٩/٣٢)، البحر الرائق (٢/٢٦٢)، العناية شرح الهدايۃ (٣/٢٠٦)، مواهب الجليل (٢/٣٧٧)، حاشية العدوي (١/٦٤٥)، الشرح الكبير مع حاشية الدسوقي  (١/٥٠٩)، منح الجليل (١/٥٠٩)، مغني المحتاج (٣/١٠٨)، المغني (٣/٤٢٥)، نيل الأوطار (٤/٢٤٦)، شرح ابن بطال (٣/٤٩٢)، الإفصاح (١/٣٧٤)، الإنصاف (٣/٢٦١)، فتح الباري (٣/٣٢٩)

ملک العلماء علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:

قال أبو يوسف ومحمد: تدفع الزوجة زكاتها إلى زوجها

(یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک عورت اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دے سکتی ہے) (بدائع الصنائع (٢/٤٠)

اسی طرح امام طحاویؒ فرماتے ہیں:

ذهب قوم إلى أن المرأة جائز لها أن تعطي زوجها من زكاة مالها … وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله

(یعنی بعض اہلِ علم کے نزدیک عورت کے لیے اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دینا جائز ہے، اور اس قول کے قائلین میں امام ابو یوسف اور امام محمد بھی شامل ہیں)(شرح معاني الآثار (٢/٢٢)

ان حضرات نے صحیحین کی درج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے:

عن زينب امرأة عبد الله قالت: قال رسول الله ﷺ: تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن، قالت: فرجعت إلى عبد الله فقلت: إنك رجل خفيف ذات اليد، وإن رسول الله ﷺ قد أمرنا بالصدقة، فَأْتِه فاسأله، فإن كان ذلك يجزئ عني وإلا صرفتها إلى غيركم. قالت: فقال لي عبد الله: بل ائتيه أنت. قالت: فانطلقت فإذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله ﷺ حاجتي حاجتها، قالت: وكان رسول الله ﷺ قد ألقيت عليه المهابة، قالت: فخرج علينا بلال فقلنا له: ائت رسول الله ﷺ فأخبره أن امرأتين بالباب تسألانك: أتجزئ الصدقة عنهما على أزواجهما، وعلى أيتام في حجورهما؟ ولا تخبره من نحن. قالت: فدخل بلال على رسول الله ﷺ فسأله، فقال له رسول الله ﷺ: من هما؟ فقال: امرأة من الأنصار وزينب. فقال رسول الله ﷺ: أيّ الزيانب؟ قال: امرأة عبد الله. فقال رسول الله ﷺ: لهما أجران: أجر القرابة وأجر الصدقة(رواه البخاري (١٣٩٧)، ومسلم (٩٩٨)

(حضرت زینب رضی اللہ عنہا (زوجۂ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عورتو! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے شوہر عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آئی اور عرض کیا: آپ تنگدست آدمی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ جاکر دریافت کیجیے کہ اگر میں آپ پر خرچ کردوں تو کیا یہ میرے لیے کافی ہوگا یا نہیں، ورنہ میں اسے کسی اور کو دے دوں گی۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: تم خود جا کر پوچھ لو۔

وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر پہنچی تو ایک انصاری عورت بھی اسی مقصد سے آئی ہوئی تھی اور اس کی حاجت بھی میری ہی جیسی تھی۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے خود اندر جانے کی ہمت نہ ہوئی، چنانچہ حضرت بلالؓ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کریں کہ دروازے پر دو عورتیں مسئلہ پوچھنا چاہتی ہیں: کیا اپنے شوہروں اور اپنی کفالت میں موجود یتیموں پر خرچ کرنا ان کے لیے صدقہ شمار ہوگا؟ اور ہمارا نام نہ بتائیں۔

حضرت بلالؓ اندر گئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

یہ کون ہیں؟

انہوں نے کہا: ایک انصاری عورت اور دوسری زینب ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: کونسی زینب؟

انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ۔

اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں دوہرا اجر ملے گا: ایک قرابت داری کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر۔)

دوسرا قول عدمِ جواز کا ہے: 

جبکہ بعض ائمہ کے نزدیک عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔یہ موقف حضرت امام ابوحنیفہؒ، سفیان ثوریؒ، حسن بصریؒ اور امام احمدؒ سے منقول ایک روایت کا ہے۔

(المغني (٣/٤٢٥)، الإنصاف (٣/٢٦١)، الفروع (٢/٤٧٨)

چنانچہ حضرت امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ “المبسوط” میں لکھتے ہیں:

ولا تعطي المرأة زوجها من زكاتها؛ لأنه يجبر على أن ينفق عليها، وهذا قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لا بأس بأن تعطى المرأة زوجها من زكاتها؛ لأنها لا تجبر على أن تنفق عليه (یعنی عورت اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو نہ دے؛ اس لیے کہ شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے۔ البتہ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، کیونکہ عورت شوہر پر خرچ کرنے کی پابند نہیں)

(المبسوط) (٢/١٤٩)

اسی طرح امام کاسانیؒ فرماتے ہیں:

ولأبي حنيفة: أن أحد الزوجين ينتفع بمال صاحبه كما ينتفع بمال نفسه عرفًا وعادة، فلا يتكامل معنى التمليك

(یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے مال سے عرفاً و عادتاً اسی طرح فائدہ اٹھاتا ہے جیسے اپنے مال سے، اس لیے تملیک کا معنی مکمل طور پر متحقق نہیں ہوتا)

(بدائع الصنائع (٢/٤٠)

اور علامہ عینیؒ لکھتے ہیں:

وقال الحسن البصري والثوري وأبو حنيفة وأحمد في رواية وأبو بكر من الحنابلة: لا يجوز للمرأة أن تعطي زوجها من زكاة مالها

(یعنی حسن بصری، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور امام احمد سے منقول ایک روایت کے مطابق عورت کے لیے اپنے مال کی زکوٰۃ شوہر کو دینا جائز نہیں) (عمدة القاري (٩/٣٢)

نیز علامہ ابن قدامہؒ حنبلی فرماتے ہیں:

وأما الزوجة ففيها روايتان إحداهما: لا يجوز دفعها إليه، وهو اختيار أبي بكر ومذهب أبي حنيفة

(یعنی بیوی کے شوہر کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں دو روایتیں ہیں، جن میں سے ایک کے مطابق یہ جائز نہیں، اور یہی ابو بکر کا اختیار اور امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے) (المغني (٣/٤٢٥)

اور علامہ ابن مفلحؒ کہتے ہیں:

وهل يجوز للمرأة دفع زكاتها إلى زوجها … فيه روايتان … إحداهما: لا يجوز، وهو الصحيح

(یعنی عورت کا اپنی زکوٰۃ شوہر کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں دو روایتیں ہیں، جن میں سے ایک کے مطابق یہ جائز نہیں اور اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے)(الفروع (٢/٤٧٨)

ان حضرات کے نزدیک اس موقف کی دو بنیادی وجوہات ہیں:

پہلی یہ کہ بیوی کو شوہر پر قیاس کیا گیا ہے؛ جس طرح شوہر کے لیے اپنی بیوی کو زکوٰۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں، اسی طرح بیوی کے لیے بھی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ میاں بیوی کے درمیان باہمی منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک دوسرے کے حق میں گواہی معتبر نہیں ہوتی اور شوہر بیوی کے مال کی چوری پر حد بھی قائم نہیں ہوتی۔

دوسری وجہ یہ کہ بیوی کے شوہر کو زکوٰۃ دینے میں خود بیوی کو بھی فائدہ پہنچتا ہے؛ کیونکہ اگر شوہر محتاج ہو تو زکوٰۃ کے ذریعے اسے مالی سہارا ملے گا اور وہ بیوی کا نفقہ ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اور اگر وہ پہلے سے نفقہ دینے کے قابل ہو تب بھی مالی آسودگی کے باعث اس کا اثر بالواسطہ بیوی کو پہنچے گا۔ لہٰذا ایسی صورت میں زکوٰۃ دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ (المغني (٣/٤٢٥)

حدیثِ زینبؓ کی توجیہ:

بعض ائمہ حدیث نے حدیثِ زینبؓ کو زکوٰۃ کے بجائے نفلی صدقہ پر محمول کیا ہے

چنانچہ امام نوویؒ فرماتے ہیں:

المراد به كله صدقة تطوع وسياق الأحاديث يدل عليه

(یعنی اس حدیث میں مذکور صدقہ سے مراد نفلی صدقہ ہے اور احادیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے)

(شرح النووي على صحيح مسلم (٧/٨٨)

اور مجمع الأنهر میں ہے:

قلنا هو محمول على النافلة للاشتراك في المنافع

(یعنی اس حدیث کو نفلی صدقہ پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ میاں بیوی کے درمیان منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے)

(مجمع الأنهر) (١/٢٢٤)

فقہِ حنفی میں فتویٰ عموماً صاحبِ مذہب، حضرت امام ابو حنیفہؒ کے قول پر دیا جاتا ہے، اس بنا پر احناف کے نزدیک اس مسئلے میں عدمِ جواز ہی کو راجح اور مفتیٰ بہ قول قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا حنفی فقہ کے مطابق عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے:

قال: "ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل" لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتتحقق التمليك على الكمال "ولا إلى امرأته" للاشتراك في المنافع عادة "ولا تدفع المرأة إلى زوجها" عند أبي حنيفة لما ذكرنا. وقالا: تدفع إليه لقوله  "لك أجران أجر الصدقة وأجر الصلة" قاله لامرأة عبد الله بن مسعود وقد سألته عن التصدق عليه قلنا هو محمول على النافلة.(الهداية في شرح بداية المبتدي ١١١/١)

(مزکّی (زکوٰۃ دینے والا) اپنی زکوٰۃ اپنے باپ کو نہیں دے سکتا … اور نہ اپنی بیوی کو؛ کیونکہ عرف و عادت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک، اسی علت کی بنا پر جس کا ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک عورت اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتی ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے دو اجر ہیں: ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلۂ رحمی کا اجر۔

یہ ارشاد آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ سے فرمایا تھا، جب انہوں نے اپنے شوہر پر صدقہ کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ (ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث نفلی صدقہ پر محمول ہے)

ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
مركز البحوث الإسلامية العالمي (ہفتہ 17؍ رمضان المبارک 1447ھ7؍ مارچ 2026ء)  ( #ایس_اے_ساگر )

 https://saagartimes.blogspot.com/2026/03/blog-post.html



Monday, 2 February 2026

دو بیویاں ہوں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل

دو بیویاں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل
جس شخص کے دو بیویاں ہوں ان کے نباہ کا طریقہ 
اور ضروری دستورالعمل
(از: اسلامی شامی)
شوہر کے لئے دستورالعمل:
 (۱) ایک بیوی کا راز دوسری سے نہ کہے۔ 
(۲) دونوں کا کھانا اور دونوں کا رہنا الگ الگ رکھے ان کا اجتماع آگ اور بارود کے اجتماع سے کم نہیں۔ 
(۳) ایک بیوی سے دوسری بیوی کی شکایت ہرگز نہ سنے۔
 (۴) ایک کی تعریف دوسری سے نہ کرے۔
 (۵) غرض ایک کا تذکرہ نہ دوسری سے کرے اور نہ دوسری سے سنے، اگر ایک شروع بھی کرے تو فورا روک دے اور کچھ بات کرو۔ 
(٦) اگر ایک دوسرے کی کوئی بات پوچھے تو ہرگز نہ بتلائے لیکن سختی نہ کرے نرمی سے منع کردے۔
 (۷) لینے دینے میں یہ شبہ نہ ہونے دے کہ ایک کو زیادہ دے دیا ہو بلکہ اس کو صاف صاف ظاہر کر دے۔ 
(۸) باہر آنے والی عورتوں کو سختی سے روکے کہ وہ دوسری جگہ کی حکایت یا شکایت بیان نہ کریں ۔ 
(۹) خوشامد میں بھی ایک کیساتھ کم محبتی کا دعوی دوسری کے سامنے نہ رکھے۔ 
(۱۰) اگر موقع ہو تو ایک سے ایسی روایت کردے کہ دوسری تمہاری تعریف کرتی تھی۔
 (۱۱) لطف (نرمی) سے اس کی تدبیر ہوسکے تو مفید ہے کہ ایک دوسرے کے پاس ہدیہ وغیرہ بھی بھیجا کریں۔

پہلی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) جدیدہ (نئی بیوی) پر حسد نہ کرے۔ 
(۲) اس پر طعن و تشنیع نہ کرے۔
(۳) بہ تکلف نئی بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا برتاؤ کرے تاکہ اس کے دل میں محبت نہ ہو تو عداوت بھی نہ ہو۔ 
(۴) شوہر سے کوئی ایسی بے تکلف گفتگو نہ کرے کہ شوہر کو اس جدیدہ (نئی) کے سامنے اس کا ہونا اس لئے ناگوار ہو کہ اس کو یہ احتمال ہو کہ یہ جدیدہ بھی ایسی بے تمیزی (ںے ادبی) نہ سیکھ لے۔ 
(۵) شوہر سے نئی کا کوئی عیب بیان نہ کرے کوئی شخص اپنے محبوب کی عیب گوئی خصوصا رقیب کی زبان سے پسند نہیں کرتا (اس میں خود پہلی بیوی ہی کا نقصان ہے)۔ 
(۶) جدیدہ (نئی بیوی) سے ایسا برتاؤ رکھے کہ اس کی زبان قدیمہ (پہلی) کے سامنے ہمیشہ بند ر ہے۔ 
(۷) شوہر کی اطاعت و خدمت و ادب میں پہلے سے زیادتی کردے تاکہ اس کے دل سے نہ اترجائے۔
(۸) اگر شوہر سے ادائے حقوق میں کچھ کمی رہ جائے تو جو کمی حد تکلیف تک نہ پہنچے اس کو زبان پر نہ لائے اور اگر تکلیف ہو تو جس وقت مزاج خوش دیکھے ادب سے عرض کر دے۔ 
(۹) جدیدہ کے رشتہ داروں سے خوش اخلاقی و مدارات اور حسن سلوک کا برتاؤ رکھے کہ جدیدہ کے دل میں جگہ میں ہو۔
 (۱۰) کبھی کبھار اپنا دن (شوہر کے پاس رہنے کی باری) جدیدہ کو دے دیا کرے تا کہ شوہر کے دل میں قدر بڑھے۔
نئی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) قدیمہ ( پہلی بیوی) کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے جیسے اپنے بڑوں کے ساتھ کیا کرتے یہیں۔ 
(۲) شوہر پر زیادہ ناز نہ کرے اس گمان سے کہ میں زیادہ محبوب ہوں (بلکہ) خوب سمجھ لے کہ قدیمہ (پہلی) سے جو تعلقات رفاقت ہیں جو کہ دل میں جاگزیں ہو چکے ہیں یہ نفسانی جوش اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
 (۳) شوہر سے خود الگ رہنے سہنے کی درخواست نہ کرے۔
 (۴) اگر شوہر الگ رکھنے لگے تب بھی کبھی کبھی قدیمہ (پہلی) سے ملنے جایا کرے اور قدیمہ کو دعوت وغیرہ کے لئے کبھی کبھی بلایا کرے۔
 (۵) شوہر کو سمجھاتی رہے کہ قدیمہ سے بے پروائی نہ کرے۔ 
(۶) اگر قدیمہ کچھ سختی یا طعن وغیرہ کرے تو اس کو ایک درجہ میں معذور سمجھ کر معاف کر دے اور شوہر سے ہرگز شکایت نہ کرے۔
 (۷) قدیمہ کے رشتہ داروں کی خوب خدمت کرے۔
 (۸) قدیمہ کی اولاد سے بالخصوص ایسا معاملہ رکھے کہ قدیمہ کے دل میں اس کی محبت و قدر ہوجائے۔ 
(۹) ضروری امور میں قدیمہ سے مشورہ کرتی رہے کہ اس کے دل میں قدر بھی ہو اور اس کو تجربہ بھی زیادہ ہے۔
(۱۰) اور اپنے میکہ جائے تو قدیمہ سے خط و کتابت بھی رکھے۔ (اصلاح و انقلاب)
(بقلم: محمد یحیی بن عبدالحفیظ قاسمی) ( #ایس_اے_ساگر )



عورتوں کے لئے تعلیم کی حد کیا ہے

"عورتوں 
کے لئے تعلیم 
کی حد کیا ہے؟؟؟"
ایسے حق گو اور بے لاگ حضرات اب نایاب ہوچکے ہیں، جو شریعت کے مقابلے میں کسی کی ذرّہ برابر رعایت بھی گوارا نہ کریں۔ براہ کرم جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳، حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳ ملاحظہ فرمائیں۔ 
فتاوی کے فوائد:
فتاوی در اصل مسلم سماج و معاشرہ کے اقتصادی، معاشی، سیاسی ، اعتقادی اور سماجی مسائل کا آئینہ اور عکاس ہوتے ہیں، ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص زمانے میں، مخصوص معاشرہ و سماج کے لوگوں کے کیا مسائل تھے، وہ کن حالات کے شکار تھے، ان کے زمانے میں سماجی تبدل اور معاشرتی تغیرات نیز افکار و نظریاتی اختلاف کس نوعیت کے تھے، اس معاشرے کے مسائل کا حل اصحاب افتاء نے کس طرح پیش کیا،اور اس کا حل پیش کرنے میں کیا اصول وضوابط ملحوظ رکھے اور کس انداز میں غور و فکر کیا اور ان کی خدمات کا معاشرے پر کیا اثر مرتب ہوا۔ گویا ہر دور کے فتاوی میں اس عہد و زمانہ کا رنگ نظر آئے گا
ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس دور کے فقہاء نے  مسائل کے حل کے لیے مختلف مراجع و مصادر سے استفادہ کیا، تو اس میں بہت سے مراجع و مصادر وہ ہوں گے، جن سے ہمیں واقفیت نہ ہوگی ، ان فتاوی کے مطالعہ سے ایسے مصادر و مراجع بھی ہمارے علم میں آئیں گے۔ (ماخوذ از تقریظ و تائید مفتی اقبال صاحب ٹنکاروی دامت برکاتہم  بر فتاوی فلاحیہ  ج 5 ص 29) ( #ایس_اے_ساگر )

Sunday, 18 January 2026

بونے کو ہے قدآوری کا جنون

 بونے کو ہے قدآوری کا جنون 

بقلم: شکیل منصور القاسمی 

زبان کوئی جامد شے نہیں کہ ایک ہی سانچے میں منجمد ہوکر صدیوں کا بوجھ اٹھاتی پھرے، زبان ایک زندہ، متحرک اور ارتقائی حقیقت ہے جو ہر دور کے تقاضوں، ماحول اور اظہار ذوق کے ساتھ اپنے الفاظ، تراکیب، نحو اور اسالیب میں تبدیلیاں قبول کرتی چلی آئی ہے۔ عربی زبان کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہر دور نے اس زبان کو ایک نیا قالب عطا کیا ہے؛ نہ صرف الفاظ کے اعتبار سے بلکہ نحو، ترکیب اور اسلوب کے میدان میں بھی یہ تنوع قبول کیا گیا ہے۔

ادب عربی کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اہل علم کے علم میں یقیناً یہ بات ہوگی کہ قریش کے دور کی زبان، عصرِ جاہلیت کی زبان، صدرِاسلام، اور عباسی ادوار میں عربی کے بیانیہ ،اسلوب اور لسانی قالب میں وہ یکسانیت نہیں تھی جو بعض لوگ آج بھی فرض کرتے ہیں، عصرِ جاہلیت کی زبان اپنی شان میں منفرد تھی، صدرِ اسلام میں اس نے ایک نیا تہذیبی وقار اختیار کیا، اور پھر عباسی ادوار میں اس کے بیان و اظہار میں ایسے تغیرات آئے جو اس سے پہلے معروف نہ تھے؛ یہی وجہ ہے کہ بعد کے اہل علم وادب نے بعض طبقوں کے کلام سے استدلال کو قابلِ قبول نہیں سمجھا اور لسانی لغزشوں کے اندراج کے لئے باقاعدہ کتابیں تصنیف کیں۔ یہ سب اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ زبان کے معیار، اس کی ساخت اور اس کے ذوق میں تبدیلی ایک ناگزیر حقیقت رہی ہے اور یہ ہوتی چلی آئی ہے ۔

زبان کی تاریخ دراصل اس کے مفردات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ترکیبی نظام، اسالیبِ بیان اور فکری سانچوں کا مطالعہ بھی اسی قدر ضروری ہے، یہی حقیقت ہے جس کی طرف اہلِ علم نے ہمیشہ اشارہ کیا اور اسی لئے زبان عربی کے ارتقاء و تغیر کا مطالعہ ایک سنجیدہ علمی موضوع بنا۔  

یہی وجہ تھی کہ قدیم و جدید محققین نے لغت عامیہ، لحنِ عمومی، لحن خصوصی جیسے ناموں سے نحوی وترکیبی غلطیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا ضروری سمجھا اور اس علمی روایت کے تحت متعدد کتابیں تدوین پائیں،جن میں شاکر شقیر لبنانی (متوفی 1314ہجری) کی کتاب "لسان غصن لبنان في انتقاد العربية العصرية"اور شیخ ابراہیم یازجی (متوفی 1324ہجری)کی کتاب " لغة الجرائد" ہے ، جن میں  اخباری زبان اور لسانی لغزشوں اور تغیرات کو تفصیل کے ساتھ شامل کتاب کیا گیا ہے ۔

پھر شیخ عبد القادر مغربی ( متوفی 1375ہجری) ( نائب رئيس المجمع العلمي العربي دمشق) نے “الكلمات غير القاموسية" نامی اپنے مبسوط مقالے میں متبدل ومنقول کلمات عربیہ کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے ، اور مختلف بلاد عربیہ کے ۱۹ علماء وادباء کا تفصیلی فتویٰ بھی شامل کیا ہے جنہوں نے مشروط طور پہ عربی میں در آمد کلمات جدیدہ کے استعمال کی اجازت دی ہے ،نیز انہوں نے  "تعريب الأساليب"نامی اپنے مضمون میں بھی عجمی تراکیب کے استعمال کی اجازت  دی ہے ۔

شیخ محمد تقي الدين هلالی (متوفی1407هـ ) کی كتاب "تقويم اللسانين" اور ڈاکٹر ابراهيم سامرائی(1342هـ) کی تحریر "تعابير أوربية في العربية الحديثة” وغیرہ جیسی دیگر کتابوں میں عجمی زبانوں سے عربی میں در آمد اسالیب وتعبیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

1443ہجری میں مشہور ماہر لسانیات وترجمہ نگاری شیخ احمد غامدی کی کتاب “ العرنجية" منظر عام پر آئی، سچی بات یہ ہے کہ کتاب کے نام کے ساتھ مشمولات کتاب بھی عجائب وغرائب کا مجموعہ ہیں ، کتاب عوامی حلقے میں مقبول ہوئی ، اس میں انہوں نے تیرہویں صدی ہجری اور انیسویں صدی عیسوی کی سات دہائیوں میں فرانسیسی وانگریزی زبانوں کا رنگ وآہنگ عربی میں غالب آنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ عوام تو عوام ؛ بڑی شدت وجرأتِ بے جا کے ساتھ انہوں نے مشہور وتسلیم شدہ ادباءِ عرب کی تحریروں کو بھی ان نقائص کا مجموعہ قرار دیا ہے ، ان کی تحریروں کے اقتباسات پیش کرکے یہ بتانے کی سعی لاحاصل کی ہے کہ ان کی عربی تحریرات عجمیت اور فرنگیت کا مظہر تھیں ؛حالانکہ غور کی نظر مطلع صاف کردیتی ہے کہ تعبیرات واسالیب کا تنوع  خطاءِ عربیت نہیں، بلکہ کل وقتی لسانی تبدّلات کی علامت ہیں،  جو عربی زبان کی جڑیں و مراحلِ نمو کی نشاندہی کرتے ہیں، زبان کا طویل سفر صرف الفاظ کی تبدیلی کا داستان نہیں ہوتا، بلکہ نحو، تراکیب، اظہار کے اسالیب کا تنوع وتسلسل ہوتا ہے جس میں لفظ و بیان کے ارتقا کے نشانات پہلو بہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں ، ہر زمانہ کے جمہور ادباء نے مشروط طور پہ ان لسانیاتی وتعبیراتی ارتقاءات کو قبول کیا ہے ، جمہور سے ہٹ کر جدت طرازی کی اپنی پگڈنڈی قائم کرنا محفوظ طریق نہیں ہے ۔


ابھی میرے سامنے ایک نو فاضل کی نئی کتاب ( عربی حروف میں فرنگی زبان ، مؤلفہ محمد ہدایت اللہ قاسمی آسامی )کے چند صفحات  ہیں ، جو احمد غامدی کی مذکورہ بالا کتاب “ العرنجیۃ” ، اور  "تقويم اللسانين"، "تعابير أوربية في العربية الحديثة” اور عالم عرب کی اس جیسی دیگر معاصر تحریرات کا اردو قالب ہے ، احمد غامدی نے احمد شوقی جیسے ادباء کی تحریروں میں ضعف عربیت کی نشاندہی کی ہے اور ہدایت اللہ قاسمی صاحب نے یہی کام حضرت الاستاذ مولانا نور عالم صاحب خلیل امینی ، حضرت کیرانوی ، حضرت الامام علی میاں ندوی رحمہم اللہ کی تحریروں کے ساتھ کیا ہے 

یعنی پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا ہے اور اختلاف رائے کے لبادے میں بڑی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا  ہے 

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب کسی ردّ کا محتاج ہی نہیں ہے، کیونکہ جہاں فہم کا چراغ ہی گل ہو، وہاں فصاحت کے آفتاب پر گفتگو اندھوں کی سرگوشی بن کر رہ جاتی ہے۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہم اللہ کی تحریروں پر ضعف یا مسخ عربیت کا بھدا  الزام ایسا ہی ہے جیسے کوئی “کور ذوق” آئینے پر غبار کا مقدمہ قائم کرے، یہ نہ اختلاف رائے ہے، نہ تحقیق؛ بلکہ تاریخ ادب عربی ، لسانی ارتقاءات وتطورات سے ناواقفیت کی عکاسی ، فکری مفلس پن کی آواز ہے جو بلند معیار کو اپنی پست قامت کے پیمانے سے ناپنے کی جسارت کرتا ہے۔

جن اکابر کی عربی تحریریں اہل عرب کے اذہان میں چراغ بنی ہوں، جن کی نثر پر فصاحت سر جھکاتی اور بلاغت مسکراتی ہو، ان پر عربیت کے ضعف ومسخ کا حکم لگانا علمی بے ادبی ہی نہیں، ادبی خودکشی بھی ہے۔ یہ وہی روش ہے جس میں “بونے قد “ میناروں کو قامت ناپنے کا چیلنج دیتے ہیں اور پھر اپنی پستی کو اختلاف رائےکا نام دے دیتے ہیں۔

حضرت الاستاذ شیخ امینی قدس سرہ کی عربیت وہ شمشیر ہے جس کی دھار قواعد سے نہیں، ذوق سے تیز ہوتی ہے؛ اور حضرت مولانا علی میاں ندوی کی نثر وہ سحر ہے جو قاری کے شعور کو مسحور ومسخر کر لے، ان ائمہ ادبِ عربی کے ان اسالیب کو خلاف عربیت کہنا دراصل اس ذوق کی میّت پر نوحہ ہے جو نہ جزالت کی پہچان رکھتا ہے، نہ سلاست کا شعور، اور نہ تاریخ وروایت عربیت کی حرمت سے واقف ہے۔

حیرت ہے حیثیت عرفی رکھنے والے ان قد آور اکابر علماء پر جو ایسی فاسد شراب کو اپنے تقریظاتی کلمات سے “ رحیق مختوم “ بناکر پیش کرنے کی چوک کربیٹھتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ صاحب کتاب کی فکر ونظر کو اپنی ہدایت (ہدایت اللہ) سے مالا مال فرمائے ؛آمین ! 

شکیل منصور القاسمی 

مركز البحوث الإسلامية العالمي 

(اتوار 28؍ رجب المرجب 1447ھ18؍جنوری2025ء)

( #ایس_اے_ساگر )