Sunday, 13 February 2022

جہنم کی آگ حرام کردینے والے اعمال کون سے ہیں؟

 جہنم کی آگ حرام کردینے والے اعمال کون سے ہیں؟ 

بعض اعمال کی بنا پر اللہ تعالی اپنے بندوں پر جہنم کی آگ حرام کردیتا ہے۔ یہ اعمال کون سے ہیں؟ ملاحظہ فرمائیں اور عمل کرکے ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جن پر جہنم کی آگ حرام کردی گئی ہے:

1. سچی دل سے لا اله الا الله کی گواہی دینا:

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ : میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی،  عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے ؟

وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَالْمَوْتِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ.

(وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ پر لازم کیا تھا) یہ وہی کلمہ تقوی ہے جو نبی ﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا، یعنی لا اله الا الله کی گواہی۔ (مسند احمد: 447)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

فَإِنَّ اللہ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللہ .

بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے جو  اللہ کی رضا کے لیے لاالہ الا اللہ کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: 425)

2. جہنم کی آگ حرام کر دینے والی تین چیزیں:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَرُمَ عَلَى النَّارِ وَحَرُمَتِ النَّارُ عَلَيْهِ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَحُبُّ اللَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ.

تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔ (مسند احمد: 11679)

3 پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنا:

سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :

مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، عَلَى وُضُوئِهَا وَمَوَاقِيتِهَا، وَرُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا، يَرَاهَا حَقًّا لِلہ عَلَيْهِ، حُرِّمَ عَلَى النَّارِ .

پانچوں نمازوں میں رکوع و سجود، وضو اور اوقات نماز کا خیال رکھتے ہوئے ان پر مداومت اختیار کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے برحق ہیں اس پر جہنم کی آگ حرام کردی جائے گی۔ (مسند احمد: 18346)

4. نماز فجر اور عصر ادا کرنا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

مَن صلّى قبلَ طلوعِ الشَّمسِ وقبلَ غروبِها حرَّمَهُ اللہ على النّارِ.

جس شخص نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی ایسے شخص کو اللہ نے جہنم کی آگ پر حرام کر دیا ہے۔ (صحيح ابن خزيمة : 318)

5. ظہر سے پہلے اور بعد میں چار رکعتیں پڑھنا:

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ   .

جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کردے گا۔ (سنن ترمذی: 427)

6. بارہ رکعت سنتیں پڑھنا:

سیدہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من صلى في اليوم اثنتي عشرة ركعة حرم الله لحمه على النار.

جو شخص دن میں بارہ رکعت (سنتیں) پڑھتا ہے ایسے شخص کا گوشت اللہ تعالی جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ (الاحادیث المختارة: 2135) 

7. اللہ کی راہ میں پہرہ دینا:

سيدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :

حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللہ.

جہنم اس آنکھ پر حرام ہو جاتی ہے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے۔ (سنن دارمی: 251) ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا أُنَبِّئُكُم بِلَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ القَدْرِ؟ حَارِسٌ حَرَسَ في أَرْضِ خَوْفٍ، لَعَلَّه أَن لَّا يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِه.

کیا میں تمہیں لیلۃ القدر سے افضل رات نہ بتاؤں؟ خوف کے علاقے میں پہرہ دینے والا ( جسے یہ خدشہ ہو کہ ) شاید وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ کر نہ جاسکے۔ (الصحیحة: 3811)

8. نرمى اپنانا:

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

حُرِّمَ عَلَى النَّارِكُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ، سَهْلٍ قَرِيبٍ مِنَ النَّاسِ.

جہنم کی آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرار دے دیا گیا ہے جو باوقار ہو، نرم خو ہو، سہولت پسند طبیعت کا ہو (جھگڑالو نہ ہو) اور لوگوں کے قریب ہو۔(مسند احمد : 3938)

9. اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا:

سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ الله حَرَّمَهُ الله عَلَى النَّارِ.

جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔ (صحیح بخاری: 907)

10. اللہ کے خوف سے رونا:

سيدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے تھے. ایک رات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:

حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللہ، وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمِعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللہ.

جہنم اس آنکھ پر حرام ہوجاتی ہے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے اور جہنم اس آنکھ پر حرام ہوجاتی ہے جو اللہ کے خوف سے روتی ہے۔ (سنن دارامی: 251) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بھی اللہ کے خوف سے رویا کرتے تھے، عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي:‏‏‏‏ يَبْكِي .

میں نبی ﷺ  کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے۔ (سنن نسائی : 1215) (محمد سلیمان جمالی) (Sa_Sagar#) 

https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post_55.html



اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے محبوب کیسے بنیں؟

اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے محبوب کیسے بنیں؟

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کو میں انجام دوں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہوجاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے‘‘۔  

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وآله وسلم- فقال: يا رسول الله، دُلَّنِي على عمل إذا عملته أحبني الله وأحبني الناس؟ «فقال ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس».

شرح الحديث: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی محبت حاصل ہوسکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک ایسے جامع عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جو اس کے لئے اللہ اور لوگوں کی محبت کا باعث بنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی رکھو۔ یعنی صرف اسی قدر دنیا کو حاصل کرو جتنی ضرورت ہو اور زائد از ضرورت اور اس چیز کو چھوڑ دو جو آخرت کے اعتبار سے فائدہ مند نہ ہو اور ایسی اشیاء سے پرہیز کرو جس میں تمہارے دین کا کوئی نقصان ہو۔ اور اس دنیا سے بھی بے پروائی کرو جس میں لوگوں کے مابین لین دین ہوتا ہے اور جب تمہارے اور کسی دوسرے کے درمیان کوئی حق ہو یا کوئی معاہدہ طے پائے تو ایسا رویہ اختیار کرو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: "اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو جب بیچتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب خریدتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب ادائیگی کرتا ہے تو کشادگی سے کرتا ہے اور جب ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے تو تب بھی کشادگی اپناتا ہے۔" اس رویے کو اپنانے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ تم لوگوں کے ہاں ہردلعزیز ہوسکو اور اللہ کے ہاں تم پر رحم ہو۔  

عَنْ أَبي العَباس سَھلِ بنِ سَعدٍ السَّاعِدي رضي الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النبي صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟ فَقَالَ: (ازهَد في الدُّنيَا يُحِبُّكَ اللهُ، وازهَد فيمَا عِندَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ) أخرجه ابن ماجۃ – كتاب: الزهد، باب: الزهد في الدنيا، (4102)

ترجمہ: حضرت ابوالعباس سھل بن سعدالساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد اختیار کرلو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور لوگوں کے ہاتھوں میں جومال ومتاع ہے اس سے بھی زہد اختیار کرلو تو لوگ بھی تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اس حدیث کے راوی معروف صحابی سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا تعلق انصارِمدینہ سے تھا، حضرت ابوالعباس کنیت کے ساتھ معروف تھے، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی، سن ۹۱ ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے، اس وقت ان کی عمر ۱۰۰ سال تھی، مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے یہ آخری صحابی تھے۔ (الاصابۃ: 2/87)

اس حدیث میں ایک سائل کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا ذکر ہے، اس سائل کا نام معلوم نہیں، اگرکسی شخص کا نام معلوم نہ ہو، تو نام تلاش کرنے کے تکلف کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی؛ کیونکہ نام کے تعین یا ابہام کا مضمونِ حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کے مرتبہ پر فائز ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے، کیونکہ سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوانتہائی عظیم حاجتوں کی بابت سوال کیاتھا، ان دونوں حاجتوں میں بظاہر تناقض سا پایا جاتا ہے، کیونکہ اللہ رب العزت کی محبت کے تقاضے کچھ اور ہیں اور انسانوں کی محبت کے تقاضے کچھ اور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں محبتوں کے حصول کو ایک ہی جملہ میں جمع فرمادیا اور اس کے لئے ایک ہی عمل کی نشاندہی فرمادی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (اعطیت جوامع الکلم) کی صداقت اور حقانیت کی انتہائی واضح دلیل ہے۔ یہ عظیم نکتہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کی زبردست دلیل بھی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم جاری فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ صلاحیت عطا فرمادی کہ بعض اوقات ایک ہی جملے میں جنت کا پورا پروگرام واضح فرماسکتے تھے، لہذا جس شخص کا بھی صدقِ دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کے ساتھ تعلق جڑگیا وہ یقیناً ایسی احادیث تک رسائی حاصل کرسکے گا جن میں انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ حصولِ جنت کا پروگرام موجود ہو۔

(ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء)

اس حدیث سے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طلبِ خیر کی حرص ثابت ہوتی ہے، یہ نفوسِ قدسیہ کس قدر ہر خیر کے حریص ہوا کرتے تھے، اور کس قدر امورِ خیر کی طرف سبقت لے جانے کا سوچا کرتے تھے، چنانچہ یہ صحابی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سائل کی حیثیت سے آیا اور اپنے تمام تر فقر اور تنگیٔ معیشت کے باوجود نہ تو دنیا کی حرص ظاہر کی نہ طلبِ دنیا کا سوال کیا، اسے نہ کسی عہدے کی حرص تھی نہ ہی دنیوی فخر اور ریاء کی تمنا تھی۔ اس کی طلب تھی تو یہ تھی کہ دنیا میں، میں کیسے لوگوں کا محبوب بن جاؤں اور جب قیامت قائم ہو تو اللہ رب العزت کا محبوب بن چکا ہوں۔ اللہ رب العزت کی محبت ہی سب سے اعلیٰ مقصد اور سب سے عمدہ غایت ہے، یہی نکتہ اس عظیم صحابی کی سوچ کا محور تھا، کتنے عرصہ سے یہ فکر اس کے دامن گیر رہی ہوگی، کتنے دن رات ان سوچوں میں گم رہا ہوگا، بالآخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوگئی اور اپنی یہ قیمتی خواہش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، ’’يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟‘‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب عنایت فرمایا وہ واقعۃً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کی خوبی سے متصف ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے ارشاد فرمایا:

ازهَد في الدُّنيَا يُحِبَّكَ اللهُ.

یعنی: دنیا میں زہد اختیار کرلو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ زہد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: والزهد في الدنيا الرغبة عنها، وأن لا يتناول الإنسان منها إلا ما ينفعه في الآخرة، وهو أعلى من الورع، لأن الورع: ترك ما يضر من أمور الدنيا، والزهد: ترك مالا ينفع في الآخرة. یعنی: دنیا میں زہد اختیار کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے مکمل بے رغبتی اختیار کرلے،اور دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے صرف وہ چیزیں لے لےجو آخرت میں نفع دیں۔ (زہد) کا مقام (ورع) سے بہت اونچا ہے؛کیونکہ ورع سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ چیز چھوڑدینا جو نقصان دہ ہو، جبکہ زہد کا معنی یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ شیٔ ترک کردینا جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ نفع سے خالی چیز کو چھوڑ دینے کا درجہ، نقصان دینے والی چیز کو چھوڑ دینے سے زیادہ ارفع واعلیٰ ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی ذکرکردہ اس تعریف کی تائید شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام سے بھی ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں: الزہد المشروع ھو ترک الرغبۃ فیما لاینفع فی الدار الآخرۃ. یعنی: زہدِ مشروع کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزآخرت میں نفع بخش نہ ہو اس کی رغبت و خواہش ہی دل سے نکل جائے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10/21)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزہد سفر القلب من وطن الدنیا وأخذہ فی منازل الآخرۃ. یعنی: زہد یہ ہے کہ دل دنیا کے وطن سے نکلنے کا سفر اختیار کرکے، منازلِ آخرت میں پہنچ جائے۔ (مختصر منہاج القاصدین: 324)

حافظ ابن رجب البغدادی رحمہ اللہ نے زہد کے تعلق سے معروف عالم اور زاہد ابوسلیمان الدارانی  رحمہ اللہ کا بڑا نفیس کلام نقل فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: عراق میں لوگوں نے حقیقتِ زہد کے بارے میں مختلف آراء پیش کیں، کچھ نے کہا: زہد یہ ہے کہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دو، کچھ نے کہ زہد ترکِ شہوات کا نام ہے، کچھ نےکہا: زہد پیٹ بھر کے کھانا نہ کھانے کا نام ہے، یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ حقیقتِ زہد یہ ہے کہ ہر وہ چیز چھوڑدو جو آپ کو اللہ تعالیٰ سے غافل کردے۔ (جامع العلوم والحکم 2/186)

امام اہل السنۃ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے دنیا کے ساتھ کم سے کم امیدیں وابستہ کرنے کو زہد کہا ہے، ان کے اس قول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زہد اس چیز کا نام نہیں کہ دنیا کو اوراس کی تمام تر لذات کو یکسر خیرباد کہہ دیا جائے اور مکمل بے رغبتی اختیارکرلی جائے، بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے ساتھ ایک واجبی تعلق قائم رکھنا اور تمام تر ربط آخرت کے ساتھ استوار کرلینا، حقیقتِ زہد کے منافی نہیں ہے، لیکن دنیا کے ساتھ ایسا اشتغال اور انہماک جو دین سے دوری اور آخرت سے غفلت کا باعث بنے، زہد کے منافی بھی ہے اور انتہائی مذموم عمل بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر تدبر کرنے سے یہ نکتہ عیاں ہوتا ہے کہ فقیرانہ زندگی یا تنگیٔ معیشت ایک انتہائی پسندیدہ پہلوہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبرِجمیل کی توفیق ودیعت ہوجائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فرامین پر غور کرلیتے ہیں:

(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے (تاکہ پوری توجہ سے آپ کی یہ بات سن لیں)فرمایا: (کن فی الدنیا کأنک غریب أو عابر سبیل) یعنی: دنیا میں اس طرح رہو گویا تم مسافر ہو یا کوئی راستہ عبور کرنے والے ہو) (بخاری: 6416)

اس حدیث کے پیش نظر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور صبح کرلو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت میں سے اپنے مرض کے لئے کچھ حاصل کرلو، اور اپنی حیات میں سے اپنی موت کے لئے کچھ لے لو۔

(۲) جنگِ احزاب کے موقع پر جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پیٹوں پر پتھر باندھے خندق کھودنے میں مصروف تھے ،ان کی زبانوں پر یہ شعر جاری تھا:

نحن الذین بایعوا محمدا

علی الجھاد مابقینا ابدا

یعنی: ہم نے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جب تک زندہ ہیں جہاد کرتےرہنے کی بیعت کرلی ہے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:

اللھم لاعیش الا عیش الآخرۃ

فاغفر للأنصار والمھاجرۃ

یعنی: اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، پس تو انصار ومہاجرین کو معاف فرمادے۔ (بخاری: 2834، صحیح مسلم: 1805)

(۳) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عوالیٔ مدینہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے، اور آپ کے دونوں جانب صحابہ کرام بھی چل رہے تھے، ایک چھوٹے قد کی مردہ بکری کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑکر فرمایا: کون ہے جو یہ بکری ایک درہم میں خرید لے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم تو اسے مفت میں لینے کے لئے بھی تیار نہیں، اور آخر ہم اس کا کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہوکہ یہ بکری تمہاری ہوجائے؟ عرض کیا: اگر یہ زندہ ہوتی تو پھر بھی عیب دارہوتی؛ کیونکہ یہ چھوٹے قد کی کن کٹی بکری ہے، یہ تو مردہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (فواللہ للدنیا أھون علی اللہ من ہذا علیکم) یعنی:اللہ کی قسم! پوری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے۔ (صحیح مسلم: 2957)

(۴) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اطلعت فی الجنۃ فرأیت أکثر أھلھا الفقراء واطلعت فی النار فرأیت أکثر أھلھاالنساء) (صحیح بخاری: 6449 صحیح مسلم: 2737) 

یعنی: میں نے جنت میں جھانکاتودیکھاکہ جنت میں فقراء زیادہ ہیں، اور جہنم میں جھانکاتودیکھاکہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں۔

(۵)حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں بھیج کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیا کرتے ہو، پس دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، بنی اسرائیل کا (پہلا) فتنہ عورتوں کے تعلق سے ہی تھا۔ (صحیح مسلم: 2742)

(۶) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین افراد آئے اور کہا: اے ابومحمد! ہمارے پاس نہ تو نان نفقہ ہے، نہ ہی سواری اور نہ دیگر سامان، فرمایا: تم جس طرح چاہو کرلو، یا تو ہمارے پاس دوبارہ آؤ تو ہم تمہیں جو آسانی سے دے سکے دے دیں، ہا پھر تمہارا معاملہ امیرالمؤمنین سے ذکر کردیں اور یا پھر تم صبر سے کام لے لو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے: فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں کی بنسبت چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر ان لوگوں نے کہا: ہم کچھ نہیں مانگتے اور صبر کرلیتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 2979)

(۷) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درہم ودینار اور کپڑے لٹے کے پجاری کو تبارہ وبرباد ہونے کی بددعا دی ہے، جس کا کردار یہ ہوتا ہے کہ دنیا کا مال دیا جائے تو خوش رہتا ہے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری:6435)

(۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر) یعنی: دنیا مؤمن کا قیدخانہ اور کافر کی جنت ہے۔ (صحیح مسلم: 2956)

(۹) حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (لوکان الدنیا تعدل عنداللہ جناح بعوضۃ ماسقی کافرا منھا شربۃ ماء) یعنی: اگر یہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔ (ترمذی: 2320)

(۱۰) ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی حقیقت واضح کرتے ہوئے قیامت کا ایک قصہ بیان فرمایا: قیامت کے دن دنیا کے سب سے بڑے نعمتوں سے پروردہ شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم کا ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے؟ کیا تیرے قریب سے کوئی نعمت گزری ہے؟ کہے گا: اللہ کی قسم! نہیں۔ پھر ایک دنیا کے سب سے بڑے تکلیف زدہ شخص کو لایا جائے گا، اسے جنت کا ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف چکھی ہے؟ کیا تیرے پاس سے کسی تکلیف کا گزر ہوا ہے؟ کہے گا: اللہ کی قسم! نہیں، نہ تو میں نے کوئی مصیبت جھیلی ہے نہ ہی میرے قریب سے کسی تکلیف کا گزرہوا ہے۔ (صحیح مسلم: 2807)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں زہد کی جھلکیاں

(۱) حضرت نعمان بن بشیر فرمایاکرتے تھے: آج تمہیں ہر کھانا اور پینا میسر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتو پیٹ بھر کر ردی کھجوریں بھی نصیب نہیں ہوتی تھیں۔ (صحیح مسلم: 2977)

(۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو بھنی ہوئی بکری کا گوشت کھارہے تھے،انہوں نے ابوھریرہ کو کھانے کی دعوت دی، حضرت ابوہریرہ نے انکار کردیا اورفرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے گزر گئے اور کبھی جوکی روٹی سے پیٹ بھرکے کھانانصیب نہیں ہوا۔ (صحیح بخاری: 5414)

(۳) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتےتھے: (اللھم اجعل رزق آل محمد قوتا) (صحیح بخاری: 2460 صحیح مسلم: 1055)

یعنی: اے اللہ! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت بھر روزی عطافرما۔ (یعنی: زیادہ اور اسراف والی روزی سے بچا کر رکھنا)

(۴) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے، پورا پورا مہینہ ایسا گزر جاتا کہ ہمارے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا، کھجوروں اور پانی سے گزر بسرہوتی تھی۔ (صحیح بخاری: 6458 صحیح مسلم: 2972)

ایک حدیث میں متواتر تین تین چاند اسی حالت میں گزر جانے کا ذکر ہے۔ (صحیح بخاری: 2567)

(۵) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاہی سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری: 6456 صحیح مسلم: 2082)

(۶) ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: اگر میرے پاس احدپہاڑ کے برابر سونا ہوتو مجھے کوئی خوشی نہ ہو، اگر ایسا ہوجائے تو میں تین دن کے اندر سب کچھ تقسیم کردوں الا یہ کہ اگر میرے کسی صحابی پر ایک دینار قرض ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے میں ایک دینار روک کے رکھ لوں۔ (صحیح بخاری: 6444) (جاری ہے) (صححہ: #ایس_اے_ساگر) https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post_13.html



مذاہب اربعہ کا خلاصہ کیا ہے؟

مذاہب اربعہ کا خلاصہ کیا ہے؟
میں نے اپنے استاذ محترم محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمہ اللہ سے (علامہ بنوری ٹاون جامعہ میں) ایک مجلس میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے مذاہب اربعہ کا جو مطالعہ و موازنہ کیا ہے. میں نے ان فقہی مذاہب میں سے ہر ایک فقھی مذہب کا دو لفظی خلاصہ نکالا ہے جسے آپ ان ائمہ اربعہ کا فقہی ذوق بھی کہہ سکتے ہیں۔ فرمایا کہ:
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے فقھی مذھب کا خلاصہ (فقہ السنّة) ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کے فقھی مذھب کا خلاصہ (تعظیم السنّة) ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے فقہی مذہب کا خلاصہ (الذبُّ عن السنّة) ہے ۔
(الذبُّ) کا معنی ہے دفاع کرنا
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی مذہب کا خلاصہ (اتباع السنّة) ہے۔ پھر حضرت رحمہ اللہ نے ہر امام کے  فقہی ذوق کی مفصل تشریح بھی فرمائی. غالبا (میری یادداشت کے مطابق) اسی مجلس میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اور ان کے فرزند شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظه الله بھی تشریف فرما تھے چناچہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ باتیں آپ لکھ لیں یہ آپکو کتابوں میں نہیں ملیں گی۔
------------------
خلاصة المذاهب الأربعة في نظر فضيلة الشيخ محمد يوسف البنوري رحمه الله (كما سمعت ذلك منه)
الإمام أبوحنيفة = فقه السنّة
الإمام مالك = تعظيم السنّة
الإمام الشافعي = الذبُّ عن السنّة
الإمام أحمد بن حنبل = اتباع السنّة
رحمهم الله جميعا.
محمد شفاعت رباني
مقیم مدینہ منورہ
https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post.html




Thursday, 27 January 2022

شام میں حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی قبر کی بے حرمتی: حقیقت کیا ہے؟

شام میں حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی قبر کی بے حرمتی: حقیقت کیا ہے؟


کچھ روز قبل شام میں صحابی رسول ؐحضرت حجر بن عدیؓ کی قبر کی بے حرمتی اور معجزانہ طور پر اُن کے جسدِ خاکی کے اب تک محفوظ رہنے کی خبر میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر لائی گئی اور اس حوالے سے ایک جعلی تصویر بھی ان کی طرف منسوب کر کے اس کو خوب عام کیا گیا جس پر پوری دنیا میں مسلمانوں کے اندر ایک بے چینی پائی گئی اور مختلف شکوک وشبہات اور سوالات نے ذہنوں میں جنم لیا،ہر جانب سے مذمتی بیانات آنا شروع ہوگئے، أسدی حکومت کے ساتھ ساتھ ایرانی اور عراقی حکومت نے اس پر خوب بناوٹی رونا رویا بلکہ ایران کے وزیر تعلیم علی أکبر زندی (أدیب) نے احتجاج کے طور پر وہاں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کچھ وقت کے لئے بند رکھنے کا حکم دے ڈالا، اس سب ڈرامے کی حقیقت کیا ہے آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
اس ڈرامہ کا آغاز اس وقت ہوا جب شام کے أسدی میڈیا نے بڑے زور وشور سے یہ خبر شائع کی کہ شام میں ایک مسلح گروپ ’’جبہۃ النصرۃ‘‘ نے دمشق کے اطراف ’عدرا‘ شہر میں حضرت حجربن عدی رضی اللہ عنہ کی قبر کھودکر ان کی بے حرمتی کی، اور ان کو کسی نا معلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے، اوراس سلسلہ میں جبہۃ النصرۃ کی طرف منسوب ایک بیان بھی شائع کیا گیا، اس خبر کو کافی مذمتی انداز سے نشر کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ کام تکفیریوں اور دھشت گردوں نے کیا جو صحابہ کرام کی قبروں کا بھی احترام نہیں کرتے ہیں، بلکہ ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے....! اصل حقیقت کو جاننے سے قبل ’’جبہۃ النصرۃ‘‘ کی طرف منسوب بیان پڑھنا ضروری معلوم ہوتا ہے، یہاں اس کے عربی متن کے ایک حصہ کا اردو ترجمہ دیا جا رہا ہے:
’’زمین پر اللہ کی شریعت کو نافذ کرتے ہوئے اللہ کے فضل وکرم سے شرک کے اہم ذریعہ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، اس لئے کہ حجر بن عدیؓ کے جسد خاکی کو دوسری جگہ دفن کرنے کے لئے منتقل کر دیا گیا ہے،کیونکہ شام کی کافر حکومت نے ان کی قبر کی جگہ ایک مزار بنالیا تھا، (اس کے بعد بیان کے عربی الفاظ یہ ہیں:’’ان المدعو حُجر بن عدی الکندی ھذا الخارج عن أصول الشریعۃ والسنۃ أضحی معبودا من قبل فرقۃ الرافضہ‘‘ یعنی:) اصول شریعت وسنت سے خارج حجر بن عدی نام کا یہ شخص رافضی فرقہ کے نزدیک ایک معبود کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس کے لئے اللہ کی شریعت کے خلاف عبادت گاہ اور مزار بنا یا گیا تھا، لہذا جب ہمارے مجاہدین نے ’’عدرا‘‘ شہر کو کافر حکومت کی ناپاکی سے آزاد کرلیا تو وہاں حجر بن عدی کے مزار کی شکل میں موجود شرک کو ہمارے مجاہدین نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا..‘‘۔
مذکورہ بیان میں موجود عبارت ’’اصول شریعت وسنت سے خارج حجر بن عدی نام کا یہ شخص...‘‘ خاص طور پر قابلِ غور ہے، صرف یہی عبارت اس بیان کے جعلی ہونے کے لئے کافی ہے، کوئی بھی صحیح العقیدہ مسلمان صحابی رسولﷺ کے بارے میں ایسے الفاظ ہر گز استعمال نہیں کرسکتا ہے، حضرت حجر بن عدیؓ صحابی رسول ہیں، اہل سنت والجماعت کے نزدیک کسی بھی صحابی کی بے حرمتی، ان کے بارے میں بد کلامی کرنا، زبان طعن وتشنیع دراز کرناکسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، لہذا جبہۃ النصرۃ کے ذریعہ اس طرح کی زبان کا استعمال کیسے ممکن ہے؟!
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بیان کااصل مصدر کیا ہے؟ بشار نواز تمام سائٹس (جن میں ’’براثا‘‘ سائٹ خاص طور پر قابل ذکر ہے) پر اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ جبہۃ النصرۃ کے فیس بک پیج پر یہ بیان نشر کیا گیا ہے، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ شام کی اس تنظیم کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دئے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ کے حکم پر ’’جبہۃ النصرۃ‘‘ کے نام کا ان کا آفیشیل پیج ۱۶/۱۲/۲۰۱۲ کو بند کر دیا گیا تھا...!! اب جبہۃ النصرۃ کا فیس بک پر سرے سے کوئی آفیشیل پیج ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے اس طرح کا کوئی بیان نشر کیا گیا جس میں اس ڈرامہ کو اپنی طرف منسوب کیا ہو، بلکہ شام کے الجیش الحر، جبہۃ النصرۃ اور تمام گروہوں نے اس بیان کی سختی سے تردید کی اور اس واقعہ کے حوالے سے کسی طرح کی بھی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا، البتہ لگتا ایسا ہے کہ أسدی کارندوں کے ذریعہ اس ڈارامے کو عام کرنے کے بعد اکثر حضرات نے اس کی اصل حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس پر من وعن یقین کر لیا حالانکہ اس سلسلہ میں شائع شدہ سینکڑوں خبروں اور مضامین کے ساتھ کہیں بھی کسی نے اس بیان کی اصل کاپی دکھانے یا شائع کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، کیونکہ اس کی کوئی اصل ہے ہی نہیں!
رہا یہ سوال کہ جس قبر کی تصویر پوری دنیا میں پھیلائی گئی جس کے پاس دو مسلح افراد کھڑے نظر آتے ہیں، قبر کی اس تصویر کواگر حقیقی بھی مانا جائے (حالانکہ یہ سب کچھ ایک ڈرامہ ہے)تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا بھی مصدر کیا ہے؟ اگر مسلح افراد جبہۃ النصرۃ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہی کے ذریعہ یہ تصویر بنائی گئی ہے جیسا کہ دعوی کیا گیا ہے،تو جبہۃ النصرۃ یا الجیش الحر کے صفحات پر اس کو سب سے پہلے شائع ہونا چاہئے تھاجبکہ یہ تصویر صرف اور صرف أسدنواز سائٹس پر شائع کی گئی...! اور قبر کے پاس موجود مسلح افراد کے کندھوں پر جو سٹار لگے ہیں وہ صاف اور واضح طور پر أسدی فوجی نظر آتے ہیں، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مزعومہ قبرچاروں طرف سے نہایت ہی مرتب انداز سے کھودی گئی ہے ایسا کہیں سے بھی نہیں لگتا ہے کہ یہ کسی ایسے شخص نے جلدی جلدی کھودی ہو جسے کہیں سے یہ خطرہ ہو کہ کوئی حملہ کر سکتا ہے!!
اس ڈرامے کے فورا بعد حضرت حجر بن عدیؓ کے جسد خاکی کی طرف منسوب ایک’ معجزانہ تصویر‘ بھی شائع کی گئی جس میں دعوی کیا گیا کہ ہزاروں سال گذرنے کے بعد بھی اب تک ان کا جسم محفوظ ہے، لیکن چند ہی گھنٹے بعد اس کا پردہ بھی چاک ہوگیا کہ یہ تصویر حقیقت میں شامی شہداء میں سے ایک شہید ’’محروس الشریجی‘‘ کی ہے جو ۱؍۵؍۲۰۱۳ء کودمشق کے مضافات ’’حزہ‘‘ شہر میں شہید ہوئے تھے، اس تصویر کی اصل حقیقت جاننے کے لئے یوٹوب پر اس لنک کو دیکھا جاسکتا ہے.
اسی تصویر کو حضرت حجر بن عدیؓ کی طرف منسوب کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا گیا، سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس تصویر کو گردش کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں کے تبصرے مختلف ومتنوع تھے، بعض کا کہنا تھا کہ الحمد للہ صحابی کی زیارت نصیب ہوگئی!!
بہرحال حقیقت بالکل واضح ہے کہ أسدی گماشتوں اور ان سے ساز باز رکھنے والوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی طرف سے یہ ایک ڈرامہ رچا گیا جس کے ذریعہ ایک طرف تواپنے مخالفین کی بدنامی مقصود تھی، اور دوسری طرف شام میں ہونے والے قتل عام، خاص طور پر بانیاس اور البیضا کے قتل عام سے دنیا کی توجہ ہٹانا مقصود تھا،جس سے توجہ ہٹانے کے لئے اسرائیل تک کو استعمال کرکے شام پر حملے کرائے گئے!!
اگر قبر کے اس ڈرامے کو صحیح بھی مانا جائے تو أسدی حکومت سے کونسا بعید ہے کہ انہوں نے یہ بذاتِ خود کیا ہو جنہوں نے شام کے موقر علماء کو بھی نہیں بخشا، جو قصاب روزانہ دسیوں اور سینکڑوں خواتین، بچوں اور بزرگوں کا خون کر رہا ہو،جو اب تک ایک لاکھ سے زائدبے گناہوں کا قتل عام کرچکا ہو، جس کے ہاں انسانی خون کا کوئی احترام نہ ہو، کیا اس سے کسی صحابی کے احترام کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس جھوٹے ڈرامے پر تو یہ سب جھوٹا رونا رو رہے ہیں مگر ذبح کئے جانے والے ہزاروں بھائیوں ،بہنوں، بچوں کابے دردی سے خون کرتے ہوئے ان کو ذرہ برابر رحم نہیں آرہا ہے!
حقیقت یہ ہے کہ أسدی ٹولہ اب آخری سانس لے رہا ہے،وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہر طرح کے ہھتگنڈے استعمال کر رہے ہیں، اوروہ اس کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں،یہاں تک کہ اپنے درپردہ دوست اسرائیل کو بھی اب اس کے لئے متحرک کردیا ہے، کیونکہ بشار کے بعد کا مرحلہ اسرائیل کے لئے نہایت ہی پریشان کن ہے، محافظین جب چلے جائیں گے تو پھر اسرائیل کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں بچے گا،یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری نے بھی اسرائیل کے وسیع تر مفادات کی خاطر شامی مظلوموں کو تنہا چھوڑ دیا ہے، اور صرف بیان بازی کی سیاست چلائی جا رہی ہے، اس لئے اب داخلی اور خارجی ہر اعتبار سے بقاء کی جنگ لڑی جارہی ہے، اور اس کے لئے صحابہ کی مقدس شخصیات کو بھی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ظالم ومظلوم کے درمیان فرق کرکے حقائق کی تہہ تک پہنچا جائے، نہ یہ کہ دور سے بیٹھ کر کسی بھی ذریعہ سے آنے والی خبر کو من وعن تسلیم کرکے امت میں انتشار پیدا کیا جائے اور ظالم کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کو تعاون فراہم کیا جائے۔ (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_85.html

أسانيد الصحاح الست

أسانيد الصحاح الست وكتب المسانيد والآثار وغيرها
---------------------------
---------------------------
الحمدُللهِ ربِّ العالمينَ، والصَّلاةُ والسَّلام على نبيِّنا محمَّدٍ المبعوث رحمةً للعالمينَ، وعلى آله وصحبه والتابعين لهم بإحسان إلى يوم الدين. أما بعد .. فيقول العبدالفقير إلى رحمة ربه القدير شكيل منصور القاسمي إن الأخ ........................ طلب مني أن أجيزله عبر الهاتف بعد قراءة الأطراف من أمهات الست أن يروى عني وعن مشائخي الكرام جمعني الله وإياهم في دارالسلام، فأجزت له إجازة عامة بالشروط المعتبرة عند أهل الحديث والأثر. 
فإني قد أجزته أن يروي عني الكتب المذكورة أدناه  بأسانيدها المتصلة إلى مؤلفيها،
وأوصيه بتقوى الله والعناية بالسنة المشرفة والتحلي بالآداب والأخلاق الحسنة.
 وأما صحيح البخاري 
فحدثنا الشيخ نصير أحمد خان بن عبدالشكور البلند شهري رئيس هيئة التدريس وشيخ الحديث بالجامعة الإسلامية دارالعلوم/ ديوبند (الهند)
1335-1431هـ = 1916-2010 م 
والشيخ عبدالحق الأعظمي رحمهما الله تعالى قالا حدثنا شيخ الإسلام السيد حسين أحمد المدني عن شيخ الهند المحدث البارع محمود حسن الديوبندى عن الحجة العارف محمد قاسم النانوتوي الديوبندي وعن المحدث الحجة مولانا رشيد أحمد الكنكوهي كلاهما عن الشيخ المحدث العلامة عبدالغني المجددي الدهلوي عن الشاه محمد أسحاق الدهلوي بسماعه لجميعه عن عبدالعزيز الدهلوي بسماعه عن  والده الشاه ولي الله الدهلوي قال أخبرني أبوطاهر محمد بن إبراهيم الكوراني قال أخبرني والدي إبراهيم الكردي – بضم الكاف وإسكان الواو والراء المهملة بعدها ألف ونون نسبة إلى قرى شهرزور – عن الشيخ السلطان بن أحمد المزاحي قال أخبرنا أحمد شهاب الدين السبكي عن النجم الغيطي عن الزين زَكَرِيَّا بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ عن الحافظ أحمد بن حجر العسقلاني عن الأستاذ إبراهيم بن أحمد التَّنوخي، عن أبي العباس أحمد بن أبي طالب الحجَّار، عن أبي عبد الله الحسين بن مبارك الزَّبيدي ثم البغدادي، عن أبي الوقت عبدالأول بن عيسى بن شُعيب السّجْزي – بكسر السين المهملة والزاي – الهَرَوي، عن أبي الحسن عبدالرحمن ابن محمد بن مظفر بن داود الداوودي البُوشَنجي، عن أبي محمد عبدالله بن أحمد بن حَمُّويه السَّرَخسي، عن أبي عبدالله محمد بن يوسف بن مطر بن صالحبن بشر الفِرَبْرِي، عن أميرالمؤمنين في الحديث الجهبَذ الإمام أبي عبدالله محمدبن إسماعيل ابن إبراهيم بن المُغيرة ابن بَرْدِزْبَة البخاري الجُعفي رحمه الله تعالى
ح) وللشيخ نصير أحمد إسناد عال جدا" فله إجازة من الشيخ الزاهد العلامة عبدالرحمن الأمروهي وهو عن العلامة فضل الرحمان الكنج مراد آبادي و هو يروي من جانب عن الشيخ محمد إسحاق الدهلوي وعن الشيخ إسماعيل الشهيد الدهلوي، وهما يرويان عن الشيخ عبد العزيز الدهلوي والشيخ رفيع الدين الدهلوي عن أبيهما الشاه ولي الله الدهلوي.
ح) و يروي الشيخ فضل الرحمان الكنج مراد آبادي مباشرة عن الشاه عبد العزيز الدهلوي عن أبيه ولي الله الدهلوي بالسند السابق.
قلت والسند الأخير هو أعلى أسانيد الشيخ نصير أحمد الذي يمتاز به عن كثير من معاصريه وبه يعلو إسنادنا.
وأما صحيح مسلم 
فحدثنا الشيخ قمر الدين الغُورَكْفوري (المجلد الأول) وحدثنا الشيخ محمد نعمت الله الأعظمي (المجلد الثاني) قالا حدثنا الشيخ العلامة محمد إبراهيم البَلْياوي قال حدثنا شيخ الهند الشيخ محمود حسن الديوبندي قال حدثنا  حجة الاسلام مولانا محمدقاسم النانوتوي قال حدثنا الشاه عبدالغني المجددي قال حدثنا الشاه محمداسحاق الدهلوي قال 
الشاه عبدالعزيز المحدث الدهلوي 
قال حدثنا والدي الشاه ولي الله المحدث الدهلوي  قال حدثنا أبو طاهر محمد بن إبراهيم المدني قال حدثنا أبي إبراهيم الكردي  قال حدثنا الشيخ سلطان المزاحي قال حدثنا شهاب الدين أحمد بن خليل السبكي قال حدثنا نجم الدين غيطي قال حدثنا زين الدين  زكريا قال حدثنا ابن الحجر العسقلاني قال حدثنا صلاح بن أبي عمر المقدمي قال حدثنا فخر الدين أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدالهاد المعروف بابن البخاري قال حدثنا 
أبوالحسن المؤيد بن محمد الطوسي النيسابوري بسماعه من فقيه الحرم أبي عبدالله محمد بن الفضل الفراوي أنا أبوالحسن عبد الغافر بن محمد بن عبدالغافر الفارسي أنا أبو أحمد محمد بن عيسى الجلودي ثنا أبواسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان الزاهد النيسابوري عن  الإمام الحافظ أبي الحسين مسلم بن الحجّاج القُشيْرِي النَّيسابوري.
وأما سنن أبي داؤد
فحدثنا الشيخ نعمة الله الأعظمي (المجلد الأول) قال حدثنا الشيخ إعزاز علي الأمروهوي  وحدثنا الشيخ حبيب الرحمن الأعظمي (المجلد الثاني) قال حدثنا الشيخ فخرالحسن المرادآبادي قالا حدثنا شيخ الإسلام السيد حسين أحمد المدني قال حدثنا شيخ الهند محمود حسن الديوبندي قال حدثنا الحجة العارف الشيخ محمد قاسم النانوتوي قال حدثنا عبد الغني المجددي الدهلوي قال حدثنا محمد إسحاق الدهلوي قال حدثنا عبد العزيز الدهلوي عن أبيه رئيس الفقهاء والمحدثين مسند الوقت آية من آيات الله الشيخ ولى الله بن الشيخ عبدالرحيم الدهلوي، عن الشيخ العلامة أبي طاهر محمد بن إبراهيم الكردي، عن أبيه الشيخ إبراهيم الكردي، عن الشيخ صفی الدین أحمـد بن محمد المدني القشاشي، عن الشيخ شمس الدين محمد بن الحافظ زین الدین زكريا بن محمد الأنصاري، عن الإمام الحافظ ابن حجر العسقلاني، عن الشيخ عمر بن الحسن المراغى، عن العالم الفقيه رحلة الآفاق فخرالدين أبي الحسن على بن أحمد بن عبدالواحد المعروف بابن البخاري، عن الشيخ عمر بن محمد بن طبرزد البغدادي، قال: أخبرنا به الشيخان أبوالبدر إبراهيم بن محمد بن منصور الكرخي وأبو الفتح مفلح بن أحمد بن محمد الدومي ساعا عليها، قالا: أخبرنا به الحافظ الكبير أبوبكر أحمد بن على بن ثابت الخطيب البغدادي، أنا أبوعمر القاسم بن جعفر بن عبدالواحد الهاشمي، أنا أبوعلى محمد بن عمرو اللؤلؤى، أنا أبوداود السجستاني رضى الله عنهم.
وأما جامع الترمذي 
فحدثنا الشيخ سعيد أحمد البالنبوري (المجلد الأول) وحدثنا الشيخ السيد محمد أرشد المدني (المجلد الثاني) قالا حدثنا العلامة محمد إبراهيم البلياوي قال حدثنا شيخ الهند محمود حسن الديوبندي قال حدثنا الحجة العارف الشيخ محمد قاسم النانوتوي قال حدثنا عبدالغني المجددي الدهلوي قال حدثنا محمد إسحاق الدهلوي قال حدثنا عبد العزيز الدهلوي قال حدثنا الشاه ولي الله الدهلوي عن الشیخ ابي طاہر محمدبن ابراھیم بن حسن الکردی الکورانی عن الشیخ شهاب الدین ابراھیم بن حسن الکردی الکورانی عن شیخ القراء سلطان بن احمد المزّاحی المصری الشافعیؒ عن  الشیخ شهاب الدین احمد بن خلیل المصری الشافعی السُبکیؒ عن  شیخ الاسلام نجم الدین محمد بن احمد الغیطی الإسکندری المصری الشافعیؒ عن شیخ الاسلام قاضی القضاۃ زین الدین زکریا بن محمد الأنصاری الشافعیؒ عن مسند مصر  قاضی القضاۃ عزّالدین عبدالرحیم بن ناصرالدین المصری الحنفیؒ عن الشیخ عمر بن حسن مَراغی الحلبی الدمشقی عن ابي الحسن فخرالدین علی بن احمد المَقدسی الحنبلیؒ المعروف بابن البخاری عن أبي  حفص عمر بن محمد المعروف بابن طَبَرْزَدْ البغدادیؒ عن الشیخ ابي الفتح عبدالملک بن عبداللہ الهروی الکرخیؒ عن ابي عامر محمود بن القاسم الأزدی المهلبیؒ عن الشیخ ابي محمد عبدالجبار بن محمد ابي الجرّاح  الجرّاحی المروزی المرزبانیؒ عن  ابي العباس محمد بن احمد بن محبوب  بن فضيل التاجر المحبوبی المروزیؒ عن  ابي عیسی بن سورۃ الامام الترمذیؒ.
وأما سنن النسائي 
فحدثنا الشيخ قمرالدين قال حدثنا الشيخ بشير أحمد خان البلند شهري قال حدثنا الشيخ محي الدين الغلاؤتي قال حدثنا شيخ الهند محمود حسن الديوبندي قال حدثنا الحجة العارف الشيخ محمد قاسم النانوتوي قال حدثنا عبد الغني المجددي الدهلوي قال حدثنا محمد إسحاق الدهلوي قال حدثنا عبدالعزيز الدهلوي قال حدثنا الشاه ولي الله الدهلوي قال أخبرني أبو طاهر محمد بن إبراهيم الكوراني قال أخبرني والدي إبراهيم الكردي عن الشيخ السلطان بن أحمد المزاحي قال أخبرنا أحمد شهاب الدين السبكي عن النجم الغيطي عن الزين زَكَرِيَّا بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ 
قال حدثنا الشيخ عزالدین عبدالرحيم ابن فرات قال حدثنا عمر الـمـراغـي قـال حـدثـنا الشيخ فخر ابن البخاري قال حدثنا الشيخ احمد ابن محمد اللبان قال حدثنا الشيخ ابوعلى حسن ابن احمد الحداد قال حدثنا أبونصر احمد ابـن الـحـسـن الـكسار قال حدثنا ابو بکر احمد ابن محمد الدينوري المعروف بابن السـنـى قـال حـدثـنـا ابـو عبـدالـرحـمن احمد ابن شعیب ابن علی ابن بحر النسائي صاحب الكتاب رحمه الله.
وأما سنن ابن ماجة 
فحدثنا الشيخ رياست علي البجنوري قال حدثنا الشيخ المقري محمد طيب قال حدثنا الشيخ العلامة محمد أنور شاه الكشميري قال حدثنا شيخ الهند محمود حسن الديوبندي قال حدثنا الحجة العارف الشيخ محمد قاسم النانوتوي قال حدثنا عبدالغني المجددي الدهلوي قال حدثنا محمد إسحاق الدهلوي قال حدثنا عبدالعزيز الدهلوي قال حدثنا الشاه ولي الله الدهلوي 
قال أخبرني أبوطاهر محمد بن إبراهيم الكوراني قال أخبرني والدي إبراهيم الكردي عن الشيخ السلطان بن أحمد المزاحي قال أخبرنا أحمد شهاب الدين السبكي عن النجم الغيطي عن الزين زَكَرِيَّا بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ عن الحافظ أحمد بن حجر العسقلاني عن أبي الحسن علي بن محمد الدمشقي عن أبي العباس أحمد بن أبي طالب الحجَّار
عن الأنجب ابن أبي السعادات أنا أبو زرعة طاهر بن الحافظ أبي الفضل محمد بن طاهر المقدسي أنا أبو منصور محمد بن الحسين بن الهيثم المقومي أنا أبوطلحة القاسم الخطيب ابن أبي البدر أنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن سلمة بن بحر القطان أنا به مؤلفه أبو عبد الله ابن ماجة القزويني
وأما الموطا للامام مالك رحمه الله 
فحدثنا الشيخ الاستاذ محمد عثمان المنصورفوري قراءۃً علیه 
قال حدثنا الشيخ محمد بشير أحمد البلند شهري قال حدثنا الشيخ الكبير العلامة محمد انورشاه الكشميري قال حدثنا شيخ الهند محمود حسن الديوبندي قال حدثنا الحجة العارف الشيخ محمد قاسم النانوتوي قال حدثنا عبدالغني المجددي الدهلوي قال حدثنا محمد إسحاق الدهلوي قال حدثنا عبدالعزيز الدهلوي عن أبيه الإمام، صدرالأئمة الأعلام حجة الإسلام أبي عبدالعزيز قطب الدين أحمد، المدعو بولي الله بن أبي الفيض عبدالرحيم العمري، قال أخبرنا بجميع ما في الموطأ، رواية يحيى بن يحيى المصمودي، الشيخ محمد وفد الله المكي المالكي، قراءة عني عليه من أوله إلى آخره، بحق سماعه لجميعه على شيخي الحرم المكي: حسن بن علي العجيمي، والشيخ عبد الله بن سالم البصري المكي، قالا: أخبرنا الشيخ عيسى المغربي سماعا من لفظه في المسجدالحرام، بقراءته لجميعه على الشيخ السلطان ابن أحمد المزاحي، بقراءته لجميعه، على الشيخ أحمد بن خليل السبكي، بقراءته لجميعه على النجم الغيطي، بسماعه لجميعه على الشرف عبدالحق بن محمد السنباطي. بسماعه لجميعه على البدالحسن بن محمد بن أيوب الحسنى النسابة، بسماعه لجميعه على عمه أبي محمد الحسن بن أيوب النسابة، بسماعه على أبي عبد الله محمد بن جابر الوادياشي عن أبي محمد عبدالله بن محمد بن هارون القرطبي، سماعا عن القاضي أبي القاسم أحمد ابن يزيد القرطبي، سماعا عن محمد بن عبدالرحمن بن عبدالحق الخزرجي القرطبي، سماعا على أبي عبدالله محمد بن فرج مولی ابن الطلاع، سماعا عن أبي الوليد يونس بن عبدالله ابن مغيث الصفار، سماعا عن أبي عيسى يحيى بن عبدالله سماعا، قال: أخبرنا عم والدي عبيدالله بن يحيى سماعا، قال: أخبرنا والدي يحيى بن يحيى الليثي المصمودي سماعا عن إمام دارالهجرة مالك بن أنس - رضي الله عنه – إلا أبوابا ثلاثة من آخر الاعتكاف فعن زياد ابن عبدالرحمن عن الإمام مالك بن أنس.
وأما موطأ الإمام مالك بن أنس برواية الإمام محمد بن الحسن الشيباني 
فحدثني الشيخ محمد أمين البالنبوري قال حدّثني الشيخ محمد سالم القاسمي عن الشيخ محمد إدريس الكاندهلوي عن المفتي عزيز الرحمن العثماني عن الشيخ محمد يعقوب النانوتوي  عن الشيخ المحدث العلامة عبدالغني المجددي الدهلوي عن الشاه محمد إسحاق الدهلوي عن الشاه  عبد العزيز الدهلوي بسماعه عن  والده الشاه ولي الله الدهلوي وبقية السند معروفة.
وأما شرح معاني الآثار للإمام الطحاوي رحمه الله 
فحدثنا فضيلة الشيخ سعيد أحمدالبالنبوري، قال حدثنا الشيخ المفتي سيد مهدي حسن شاه جهانفوري، قال حدثنا الشيخ المفتي كفايت الله الدهلوي، قال حدثنا شيخ الهند العلامة محمود حسن الديوبندي، قال حدثنا حجة الإسلام مولانا محمد قاسم النانوتوي، قال حدثنا الشاه عبدالغني المجددي، قال حدثنا الشاه محمد إسحاق الدهلوي، قال حدثنا الشاه عبد العزيز الدهلوي، قال حدثنا مسند الهند الشاه ولي الله الدهلوي، وأيضاً حدثنا الشيخ مفتي سعيد أحمد البالنبوري عن الشيخ إبراهيم البلياوي، عن شيخ الهند محمود حسن الديوبندي، عن الشيخ العلامة رشيد أحمد الغنغوهي، عن الشاه عبد الغني المجددي، عن الشاه محمد إسحاق الدهلوي، عن الشاه عبدالعزيز الدهلوي، عن والده الشيخ الشاه ولي الله المحدث الدهلوي عن أبي طاهر المدني عن عبدالله بن سالم البصري عن محمد بن علاؤالدين البابلي عن زين الدين النحراوي الحنفي عن جمال الدين الأنصاري الشافعي عن زين الدين زكريا الأنصاري عن الحافظ بن حجر العسقلاني عن عزالدين ابن الكويك عن زينب بنت الكمال عن محمد بن عبدالهادي عن أبي موسى المديني عن أبي سعد السراج عن أبي الفتح التاني عن محمد بن إبراهيم عن أبي جعفر أحمد بن محمد الطحاوي الحنفي صاحب الكتاب.
وأما الشمائل المحمدية للإمام الترمذي رحمه الله 
فحدّثنا الشیخ مولانا عبدالخالق المدراسي قال حدٌثنا الشیخ المحدث مولانا فخر الحسن المراد آبادي قال حدٌثنا الشیخ شیخ الأدب و الفقه مولانا محمد اعزاز علي الامروهوي قال حدٌثنا الشیخ شیخ الهند مولانا محمود حسن الدیوبندي عن قاسم العلوم و الخیرات حجة الله في الأرض مولانا محمد قاسم النانوتوي رحمهم الله تعالی.
المسلسل بالأولية:
أخبرني شيخي محمد سالم القاسمي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني والدي، وهو أول حديث سمعته منه إضافة، قال: أخبرني العلامة الإمام خليل أحمد السهارنفوري، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني العلامة الشيخ عبد القيوم بن عبد الحي البدهانوي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني العلامة المحدث محمد إسحاق الدهلوي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني جدي لأمي الإمام عبدالعزيز بن أحمد الدهلوي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني والدي كوكب الديار الهندية أحمد بن عبد الرحيم الدهلوي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرني السيد أبو حفص عمر بن عقيل، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به الإمام المسند الشهاب أحمد بن عبد الغني المعروف بابن البنا الدمياطي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به المعمر محمد بن عبد الله الزيادي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به أبو الخير ابن عموس الرشيدي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به القاضي زكريا الأنصاري، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به الحافظ أبو الفضل أحمد ابن حجر العسقلاني، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا به الحافظ أبو الفضل عبدالرحيم بن الحسين العراقي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا أبو الفتح محمد بن محمد بن إبراهيم الميدومي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثني أبو الفرج عبد اللطيف بن عبد المنعم الحراني، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرنا الحافظ أبوالفرج عبدالرحمن بن علي ابن الجوزي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرنا الإمام أبو سعد إسماعيل بن أبي صالح أحمد بن عبدالملك النيسابوري، وهو أول حديث سمعته منه، قال: أخبرنا والدي الإمام أبو صالح أحمد بن عبدالملك المؤذن، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا الأستاذ أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الزيادي، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزاز، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم، وهو أول حديث سمعته منه، قال: حدثنا سفيان بن عيينة، وهو أول حديث سمعته منه، عن عمرو بن دينار، عن أبي قابوس مولى عبد الله بن عمرو بن العاص، عن عبدالله بن عمرو، رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الراحمون يرحمهم الرحمن تبارك وتعالى، ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء".
هذا حديث صحيح، أخرجه أبو داود والترمذي من غير تسلسل، فرواه أبو داود في سننه، كتاب الأدب، باب الرحمة عن أبي بكر بن أبي شيبة ومسدد، ورواه الترمذي في جامعه، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة المسلمين عن محمد بن يحيى بن أبي عمر العدني، ثلاثتهم عن سفيان بن عيينة، وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.
المسلسل بالمحبة:
وأخبرنا شيخنا محمد سالم القاسمي، قال: أخبرني والدي، قال: أخبرني العلامة الإمام خليل أحمد السهارنفوري، قال: أخبرني العلامة الشيخ عبد القيوم بن عبد الحي البدهانوي، قال: أخبرني العلامة المحدث محمد إسحاق الدهلوي، قال: أخبرني جدي لأمي الإمام عبد العزيز بن أحمد الدهلوي، قال: أخبرني والدي كوكب الديار الهندية أحمد بن عبد الرحيم الدهلوي، قال: حدثني الشيخ أبو طاهر، قال: أخبرني أحمد النخلي عن الشمس البابلي، عن علي بن محمد، عن إبراهيم بن عبدالرحمن العلقمي، عن أخيه محمد، عن أبي الفضل جلال الدين السيوطي، قال: أخبرني أبو الطيب أحمد بن محمد الحجازي الأديب، قال: أخبرنا قاضي القضاة مجد الدين إسماعيل بن إبراهيم الحنفي، قال: أخبرنا الحافظ أبو سعيد العلائي، قال: أخبرنا أحمد بن محمد الأرموي، قال: أخبرنا عبدالرحمن بن مكي، قال: أخبرنا أبو طاهر السلفي، قال: أخبرنا محمد بن عبد الكريم، قال: أخبرنا أبو علي بن شاذان، قال: أخبرنا أحمد بن سليمان النجاد، قال: حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، قال: حدثنا الحسن بن عبد العزيز الجروي، قال: حدثنا عمرو بن مسلم التنيسي، قال حدثنا الحكم بن عبدة، قال: أخبرني حيوة بن شريح، قال: أخبرني عقبة بن مسلم، عن أبي عبد الرحمن الحبلي، عن الصنابحي، عن معاذ بن جبل رضي الله عنه، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معاذ إني أحبك فقل: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك، وفي رواية: وأوصيك أن لا تدعن دبر كل صلاة أن تقول: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك، قال الصنابحي: قال لي معاذ: وأنا أحبك فقل، وكذلك قال كل راو لمن روى عنه: "إني أحبك فقل" إلى أن وصل إلينا.
أخرجه أبو داود في سننه، كتاب الصلاة، باب في الاستغفار، والحاكم في المستدرك، كتاب الصلاة، وقال: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه، وأخرجه مرة أخرى في كتاب معرفة الصحابة، وقال: صحيح الإسناد ولم يخرجاه.
المسلسل بالفقهاء الحنفية:
أخبرني شيخي محمد سالم القاسمي، قال أخبرني والدي، قال: أخبرني العلامة الإمام خليل أحمد السهارنفوري الحنفي، قال: أخبرني العلامة الشيخ عبد الغني المجددي الدهلوي الحنفي، عن الشيخ محمد عابد السندي الحنفي، عن الشيخ يوسف بن محمد المزحاجي الحنفي، عن أبيه الشيخ محمد بن علاء الدين المزحاجي الحنفي، عن أبيه الشيخ علاء الدين بن محمد الحنفي، عن الشيخ حسن بن علي العجيمي الحنفي، عن الشيخ خير الدين الرملي الحنفي، عن الشيخ محمد بن سراج الدين الخلوتي الحنفي، عن أحمد بن الشلبي الحنفي، عن الشيخ إبراهيم بن عبدالرحمن الكركي صاحب الفيض، عن الشيخ أمين الدين يحيى بن محمد الأقصرائي الحنفي، عن الشيخ محمد بن محمد البخاري الحنفي، عن الشيخ حافظ الدين محمد بن محمد بن علي البخاري الظاهري الحنفي، عن صدر الشريعة عبيد الله بن مسعود الحنفي، عن جده تاج الشريعة محمود الحنفي، عن والده صدر الشريعة أحمد الحنفي، عن والده جمال الدين عبيدالله بن إبراهيم المحبوبي الحنفي، عن محمد بن أبي بكر البخاري عرف بإمام زاده الحنفي، عن أبي الفضائل شمس الأئمة أبي بكر بن محمد الزنجري الحنفي، عن شمس الأئمة عبدالعزيز بن أحمد الحلواني الحنفي، عن أبي علي الخضر النسفي بن علي الحنفي، عن أبي بكر محمد بن الفضل البخاري الحنفي، عن الأستاذ أبي محمد عبدالله بن محمد بن يعقوب الحارثي، أنا القدوة أبو حفص الصغير محمد الحنفي، أنا والدي الإمام الشهير بأبي حفص الكبير أحمد بن حفص البخاري، أنا الإمام الحجة أبو عبد الله محمد بن الحسن الشيباني، عن الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان بن ثابت الكوفي رضي الله عنه، عن علقمة بن مرثد، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث جيشًا أو سرية أوصى إلى صاحبها بتقوى الله في نفسه خاصة، وأوصاه بمن معه من المسلمين خيرًا، ثم قال: اغز باسم الله، قاتلوا من كفر بالله، لا تغلوا، ولا تغدروا، ولا تمثلوا، ولاتقتلوا وليدًا، وإذا لقيتم عدوكم من المشركين فادعوهم إلى الإسلام، فإن أسلموا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم، وإلا فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين، يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المسلمين، وليس لهم في الفيء ولا في الغنيمة نصيب، فإن أبوا فادعوهم إلى إعطاء الجزية، فإن فعلوا فاقبلوا ذلك منهم وكفوا عنهم، وإذا حاصرتم أهل حصن أو مدينة فسألوكم أن تنزلوهم على حكم الله فلا تنزلوهم، فإنكم لاتدرون ما حكم الله فيهم، ولكنهم على حكمكم، ثم احكموا فيهم بما رأيتم، وإذا حاصرتم أهل حصن أو مدينة فأرادوكم على أن تعطوهم ذمة الله وذمة رسوله فلا تعطوهم ذمة الله ولا ذمة رسوله، ولكن أعطوهم ذممكم وذمم آبائكم فإنكم إن تخفروا ذممكم فهو أهون.
أخرجه الإمام محمد بن الحسن في مبسوطه وفي كتاب الآثار.
وصلى الله وسلم على سيدنا محمد وآله وصحبه أجمعين، والحمد لله رب العالمين .
شكيل منصور القاسمي خادم الحديث النبوي الشريف 
المتوطن سيّدفور، مديرية بيجوسرائے، بيهار، الهند
ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
( #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_27.html
---








Friday, 21 January 2022

لا حول ولا قوۃ الا باللہ لا منجا من اللہ الا الیہ کی فضیلت کیا ہے؟

لا حول ولا قوۃ الا باللہ لا منجا من اللہ الا الیہ کی فضیلت کیا ہے؟
حدثنا ابوكريب، حدثنا ابوخالد الاحمر، عن هشام بن الغاز، عن مكحول، عن ابي هريرة، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها كنز من كنوز الجنة قال مكحول: فمن قال: لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه كشف عنه سبعين بابا من الضر ادناهن الفقر". قال ابو عيسى: هذا حديث ليس إسناده بمتصل، مكحول لم يسمع من ابي هريرة.
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“۔ مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: 
«لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» 
تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کردیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14621) (صحیح) (سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة 105، 1528)»
---------
راوی: وعن مكحول عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "أكثر من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنزالجنة". قال مكحول: فمن قال: لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجى من الله إلا إليه كشف الله عنه سبعين بابا من الضر أدناها الفقر . رواه الترمذي. وقال: هذا حديث ليس إسناده بمتصل ومكحول لم يسمع عن أبي هريرة
حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "لاحول ولاقوۃ الا باللہ" 
کثرت سے پڑھا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے! حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ ولا منجأ من اللہ الا الیہ"
یعنی ضرر ونقصان کو (دفع کرنے کی) قوت اور نفع حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی قدرت کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات اسی (کی ورضا ورحمت کی توجہ) پر منحصر ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرر و نقصان کی ستر قسمیں دور کر دیتا جس میں ادنی قسم (فقر ومحتاجگی ہے) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سماعت ثابت نہیں ہے۔
تشریح: ارشاد گرامی "جنت کا خزانہ" کا مطلب یہ ہے کہ 
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"
جنت کا ایک ذخیرہ ہے جس سے کہ اس کو پڑھنے والا اس دن (یعنی قیامت کے دن) نفع وفائدہ حاصل کرے گا جس دن نہ دنیا کا کوئی خزانہ مال کا کام آئے گا اور نہ اولاد اور دوسرے عزیز واقا رب نفع پہنچائیں گے۔
فقر (محتاجگی) سے مراد دل کا فقر اور قلب کی تنگی ہے جس کے متعلق ایک حدیث یوں ہے فرمایا کہ 
"کاد الفقر ان یکون کفرا"
فقر کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے. لہٰذا جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے تو اس کی برکت سے دل کی محتاجگی دور ہوتی ہے کیونکہ جب وہ ان کلمات کو زبان سے ادا کرتا ہے اور پھر ان کلمات کے معنی ومفہوم کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین واعتماد پیدا ہوا جاتا ہے کہ ہر امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت کے زیر اثر ہے کسی کو نفع وفائدہ آرام و راحت دنیا میں بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کو تکلیف ومصیب اور ضرر ونقصان میں مبتلا کر دینا بھی اسی کی طرف سے ہے پس وہ شخص بلاء ومصیبت پر صبر کرتا ہے، نعمت و راحت پر شکر کرتا ہے اپنے تمام امور اللہ ہی کی طرف سونپ دیتا ہے اور اس طرح قضا وقدر الٰہی پر راضی ہوکر حق تعالیٰ کا محبوب بندہ اور دوست بن جاتا ہے۔
حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنی ایک سیاحت کے دوران جن صاحب کی رفاقت و صحبت مجھے حاصل رہی. انہوں نے مجھے نیکی وبھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوب اچھی طرح جان لو! اعمال نیک کے لئے اقوال وکلمات میں تو 
"لاحول ولاقوۃ الا باللہ"
کے برابر کوئی قول وکلمہ اور افعال میں اللہ کی طرف جھکنے اور اس کے فضل کی راہ کو اختیار کرنے کے برابر کوئی فعل ممد و معاون نہیں۔ آیت 
(ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم) 
جس شخص نے اللہ کی راہ دکھائی ہوئی کو اختیار کیا تو بلاشبہ اسے مضبوط راہ کی ہدایت بخشی ہوگی۔
امام ترمذی کے قول کے مطابق اگرچہ اس حدیث کی سند متصل نہیں اور اس طرح یہ حدیث منقطع ہے لیکن اس حدیث کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ روایت صحیح ثابت کرتی ہے جو صحاح ستہ میں بطریق مرفوع منقول ہے کہ:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانہا کنز من کنوز الجنۃ"
اسی طرح حدیث کی توثیق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت مرفوع سے بھی ہوتی ہے جسے نسائی اور بزاز نے نقل کیا ہے:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"
اور اس میں 
"لا منجا من اللہ الا الیہ کنز من کنوز الجنۃ"
بھی ہے لہٰذا حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث اگرچہ اسناد کے اعتبار سے منقطع ہے مگر مفہوم ومعنی کے اعتبار سے قابل اعتماد ہے. (تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان جلد دوم مشکوۃ شریف. جلد دوم ۔ تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان ۔ حدیث 850. لاحول ولاقوۃ کی فضیلت) (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_80.html

خودساز وعہد ساز شخصیت - مولانا محمد صابر نظامی القاسمی

خودساز وعہد ساز شخصیت - مولانا محمد صابر نظامی القاسمی 
---------------------------------
عظیم انسانوں سے بھری اس کائنات میں بعض نابغہ روزگار شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو در اصل ملی ضرورتوں کے لئے ہی پیدا کردہ ہوتی ہیں، جن کے ذریعہ قوم وملت کی اہم اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے، جن کی ساری کد و کاوش اور محنت وریاضت کا محور قوم وملت کا عمومی مفاد ہوتا ہے۔ 
جن کی فکر "آفاقی" اور پرواز "لولاکی" ہوتی ہے 
جو خوب سے "خوب تر" کی تلاش میں ایک کے بعد دوسرا پڑائو ڈالتے آخر  ایک  "جہانِ تازہ" آباد کر چھوڑتے ہیں۔ قومی وملی خدمات کی تاریخ اپنی تکمیل و تعمیر کے لئے ایسی عظیم ہستیوں کا سہارا لیتی اور اپنے آپ کو مکمل کرنے کے لئے ان کا حوالہ دیتی ہے ۔ہم ان کی خدمات کے اعتراف سے چاہے پہلو تہی کرلیں؛ پَر ان کے انفاس کی خوشبو بکھر کے ہی رہتی ہے، حقیقت کا روشن چہرہ سامنے آکے ہی رہتا ہے۔ قانون فطرت ہے، قربانیوں اور انتھک جد وجہد کی سچے داستانوں کو تادیر چھپایا نہیں جاسکتا. طلوع سحر کو پابند سلاسل کیا جاسکتا نہ اس پہ پہرہ بٹھایا جاسکتا ہے. آفتاب عالم تاب کو نکلنا ہے؛ سو وہ نکل کے ہی رہتا ہے.
میرے استاذ، مربّی، مصلح، محسن، کرم فرما، ہمدرد وغمگسار، استاذ الاساتذہ حضرت الحاج مولانا محمد صابر نظامی صاحب القاسمی مدظلہ ایک غریب ومحنت کش خانوادے میں آنکھیں کھولیں، محنت و مزدوری کرتے ہوئے اپنی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کی، تعلیم ظاہری سے فراغت کے بعد ملی کاموں میں تن ومن سے انہماک کو مقصد حیات بنالیا، ملک کی باوقار تنظیم جمعیت علماے ہند سے وابستہ ہوئے اور کہیے کہ اسی کا ہوکے رہ گئے، میدان عمل میں کود کر اپنا تاریخی کردار اور عصری فریضہ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے ادا کیا، میرے علم کے مطابق قریباً تین دہائیوں سے آپ اس سے اپنے جسم وجاں، قلب وقالب : یعنی کہ پورے وجود کے ساتھ ہمہ جہت مربوط و مصروف ہیں، جمعیت سے وابستگی کو نہ صرف پورے خلوص سے استوار رکھا، بلکہ ضلعی شاخ کو عروج وکمال بخشا، کم وبیش 30 سال سے آپ یہاں سرگرم وتازہ دم ہیں، ادارے کی توسیع وترقی کے لیے سائیکل پہ، پیادہ پا، کبھی جیب خاص سے کرائے کی گاڑیوں سے، چپہ چپہ، قریہ قریہ، گائوں گاؤں گشت کرنا، کبھی نزاعی قضیے چکانا آپ کا محبوب مشغلہ ہے.
اپنا تاریخی کردار اور عصری وملی فریضہ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے ادا کررہے ہیں، مفادات حاصلہ کے لئے  لگے ہوڑ اور شخصی تگ ودو کے آج کے مسابقتی زمانے میں علماے دیوبند کے اخلاص، للّٰہیت، استغناء وتوکل علی اللہ کی شاندار روایت کو بڑی پامردی اور حوصلہ مندی سے باقی رکھا، کبھی بھی خود کو "ضمیر" "عوام" اور "تاریخ" کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ اس بابت لوگ آپ کی مثالیں دیتے ہیں۔
بلندحوصلگی، کشادہ نظری اور حلم مزاجی کے ساتھ آپ نہ صرف "بلندیِ فکر" کے حامل ہیں؛ بلکہ اپنے بلندافکار کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی غیر معمولی خدا داد صلاحیت رکھتے ہیں۔ نری فکر اور خشک وسہانے خواب نتیجہ خیز نہیں ہوتے ؛ جب تک انہیں تشکیل، تعمیر وتعمیل کے لئے عملی تصویر دینے کی متجسم اخلاقی طاقت، جذبہ ایثار وقربانی، اور حکمت وبصیرت حاصل نہ ہو!  
جمعیت العلماء جیسی روشن تاریخ رکھنے والی عظیم ملکی تنظیم سے ذاتی، یا ادارتی پر خاش رکھنے والے، منفی تبصروں اور حاشیہ آرائی کرنے والے بعض نوجوان مقامی فضلاء کو پوری بصیرت ودور اندیشی کے ساتھ ضلعی جمعیت سے جوڑا، انہیں آگے کیا، ذمہ داریاں دیں، ان کی مثبت ومفید صلاحیتوں سے ملت کو استفادے کا موقع فراہم کیا۔ اور یوں آج  ایک پوری کار کرد وفعال ٹیم ان کے ہمراہ سرگرم سفر ہے بحمدللہ سرخیوں میں آنے اور ذاتی پبلسٹی سے طبعی نفور رکھنے والے اس مرد مجاہد کی زندگی کا قابل ذکر ممتاز وصف "قول وفعل اور عمل وکردار کی سچائی" ہے. 
آپ کے اسی کردار نے ملی میدان میں آپ کی عظمت کو نکھارا، آپ کو رفعتیں عطا کیں، اور آج صوبائی طور پہ ایک عظیم انسان، نمایاں وقابل اعتماد قائد کی حیثیت سے جگہ دیکر تاریخ میں امر کردیا. بلکہ سچ یہ ہے کہ ملی خدمات کو اپنے کردار سے معتبر و باوقار بنا کر "تاریخ ساز" کی حیثیت سے آج آپ نے شہرت و اہمیت حاصل کی۔ ملک کے اکابر نے آپ کی شفافیت اور ان مٹ بے لوث خدمات کے باعث صوبائی اکائی میں انتہائی اہم لیکن نازک وحساس ذمہ داری تفویض فرمائی. حضرت الاستاذ کو صوبائی جمعیت میں تنظیم مالیات کی نظامت سونپے جانے پر عاجز کو جو فرحت وشادمانی حاصل ہورہی ہے اس کی تعبیر کے لئے نوک قلم میں کوئی لفظ نہیں. یہ اعزاز آپ کی اپنی بیش بہا مالی و جانی قربانیوں، تکلیفوں، صعوبتوں اور انتھک و مسلسل جدوجہد کا حاصل بھی ہے اور آپ کے فکر و عمل سے ترتیب شدہ اور  خون پسینے سے لکھی ہوئی آب بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔ جو امتیاز بھی ملا آپ کی شخصیت کی عظمت اور مجاہدے کی برکت سے ملا، قربانیوں کا سفر جاری ہے، ملی خدمات کا کارواں ابھی محوسفر ہے. 
میرکارواں بھی "آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی" کا عملی نمونہ بنے ہوئے  ہیں، اگلا پڑائو ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کا ہے ان شآءاللہ:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 
دینی وملی کاموں میں اپنی قابل ذکر؛ بلکہ قابل رشک دردمندیوں وفکر مندیوں اور بے لوث عملی جدوجہد کے باعث آپ اس نوع کے اعزاز و انتخاب کے بہت پہلے سے اہل تھے 
خیر! دیر آید درست آید!
ہم آپ کو اس حسین انتخاب پہ ان توقعات کے ساتھ ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو درپیش مسائل و حادثات کے حل میں اپنی مزید خداداد صلاحیتوں وبصیرتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خوب سے خوب تر رہنمائی  کریں گے. ان شآءاللہ 
خدا آپ کو صحت وسلامتی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے، ہر مہمات میں غیبی نصرت و حمایت فرمائے، اور ہم ایسے کفش بردار تلامذہ واصاغر کو آپ سے استفادے کا خوب مواقع نصیب فرمائے، آمین۔
جنوری 21. بروز جمعہ 2022
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_75.html
مولانا محمد صابر نظامی القاسمی