Tuesday, 13 October 2026

مجاہدۂ نفس: حقیقت، اہمیت اور ثمرات

نکاتِ قرآنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
من جاھد فانما یجاھد لنفسه
مجاہدۂ نفس: حقیقت، اہمیت اور ثمرات
انسان کی حقیقی کامیابی کا راز صرف علم و آگہی، آرزو و تمنا اور بلند عزائم میں نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے، خواہشات کی بے لگام رو کو لگام دینے اور حق و صداقت کی راہ میں ثابت قدم رہنے میں پوشیدہ اور مضمر ہے۔ زندگی کے سفر میں انسان کو قدم قدم پر ایسے حالات، مشکلات و امتحانات اور آزمائشوں سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اسے مقصدِ حیات سے غافل، اصولوں سے منحرف اور راہِ حق سے دور کرسکتے ہیں۔ ایسے میں اپنے نفس کی مخالفت، خواہشات پر قابو، ایمان و یقین کی حفاظت اور خیر و صلاح کے راستے پر استقامت کا نام مجاہدۂ نفس ہے۔ یہ محض چند ظاہری اعمال یا وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل باطنی جدوجہد اور عمر بھر جاری رہنے والا عمل ہے، جس میں انسان اپنے نفس کی ناپسندیدہ خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکام کے تابع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
مجاہدۂ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی فطری خواہشات اور جائز ضروریات کو یکسر ختم کردے، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ خواہشات عقل و شریعت کے تابع رہیں، نفس انسان کا حاکم بننے کے بجائے اس کے اختیار میں رہے اور زندگی کی ترجیحات میں رضائے الٰہی کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہو۔ یہی وہ جدوجہد ہے، جو انسان کو نفس پرستی سے خدا پرستی، خود غرضی سے ایثار، ریا و نمود سے اخلاص اور شخصیت پرستی سے اصول پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ مجاہدۂ نفس کا تقاضا ہے کہ انسان حق کو حق سمجھے اور اسے قبول کرے، خواہ وہ اس کی طبیعت کے خلاف ہو؛ باطل کو باطل جانے اور اس سے اجتناب کرے، خواہ اس میں دنیاوی منفعت اور وقتی مصلحت ہی کیوں نہ دکھائی دیتی ہو۔ وہ حالات کی ناسازگاری، لوگوں کی مخالفت اور راستے کی دشواریوں سے مرعوب ہوئے بغیر اپنے ایمان، یقین اور اصولوں پر قائم رہے۔
قرآنِ کریم نے مجاہدے کی اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ (العنکبوت: 6)؛ یعنی جو شخص مجاہدہ کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے مجاہدہ کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اس ارشادِ ربانی میں مجاہدے کی ایک بنیادی حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ بندے کی جدوجہد کا فائدہ خود اسی کی طرف لوٹتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کو نہ ہماری عبادت کی حاجت ہے، نہ ہماری اطاعت کی اور نہ ہمارے مجاہدے کی۔ ہم جس قدر اپنے نفس کو قابو میں رکھیں گے، حق پر استقامت اختیار کریں گے اور خیر کے راستے میں مشقت برداشت کریں گے، اسی قدر ہماری اپنی زندگی سنورے گی، ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور ہماری آخرت بہتر ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ مجاہدۂ نفس کے بغیر نہ ایمان کی حفاظت آسان ہے، نہ اخلاق و کردار کی تعمیر اور نہ مقصدِ حیات پر استقامت ممکن۔ یہ مجاہدہ ہی ہے جو انسان کو وقتی مفادات کے مقابلے میں ابدی کامیابی، نفسانی خواہشات کے مقابلے میں رضائے الٰہی اور لوگوں کی خوشنودی کے مقابلے میں حق و صداقت کو ترجیح دینا سکھاتا ہے۔ اس لئے مجاہدۂ نفس کسی ایک طبقے، خاص وقت یا مخصوص عمل تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی کو ایمان، اخلاص، تقویٰ اور عملِ صالح سے آراستہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مومن بننا اکثر حالات میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے، خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے، دنیوی مفاد کے لئے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کے لئے جینے کا حوصلہ کرنا ہے ۔ 
اس طرح کی زندگی کے لئے سخت مجاہدہ درکار ہے ۔ اور سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں ۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے یوں ۔
سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ 'في ظلال القرآن' میں مجاہدہ کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
ومن جاھد ۔۔۔۔۔ عن العلمین 
جب اللہ مومنین کے لئے آزمائشیں مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ یہ مشتقیں برداشت کریں تاکہ ان کے نفوس کار گاہ حیات میں مشکلات برداشت کرنے کے اہل بن جائیں ، تو یہ احکام بھی خود اہل ایمان کی اصلاح کے لئے ہیں۔ یہ ان کو مکمل بناتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے لئے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ مجاہدہ کی وجہ سے خود ایک مومن کا نفس اور اس کا قلب پاک ہوتا ہے۔ ان کے تصورات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر دنیا کے آفاق وسیع ہوتے ہیں۔ یہ حب مال اور حب نفس سے بھی بلند ہوجاتا ہے ، اب اس کی شخصیت کے اعلیٰ جو ہر کھلتے ہیں اور اس کی صلاحیت سامنے آتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک سوسائٹی کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ اس سوسائٹی کی اصلاح ہوتی ہے، اسے فائدہ ملتا ہے۔ اس میں حق کے جھنڈے بلند ہوتے ہیں، بھلائی پھیلتی ہے اور غالب ہوتی ہے اور شر مغلوب ہوتا ہے۔ اصلاح کو ترقی ملتی ہے اور فساد سکڑتا ہے۔
ومن جاھد فانما ۔۔۔۔ لنفسہ جو شخص بھی جہاد و مجاہدہ کرے گا تو وہ اپنے بھلے کے لئے کرے گا۔
 کوئی شخص مجاہدہ شروع کرکے، آدھی راہ میں کھڑا نہ ہوجائے کہ لائیے جی معاوضہ اب تک کے مجاہدے کا۔ یا اللہ پر احسان جتلائے یا تحریک اسلامی پر احسان جتلائے یا یہ کہے کہ جی اس قدر جدوجہد سے ہمیں کیا ملا کیونکہ اس کے مجاہدے سے اللہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اللہ کو انسانوں کی طرف سے مجاہدے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کیا ہے اور اس کا مجاہدہ کیا ہے؟ اللہ تو دو جہانوں سے بےنیاز ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کو اس عظیم کام کے لئے منتخب کیا۔ اسے زمین کا خلیفہ بنایا اور وہ اس زمین میں کام تو اپنے لئے کرتا ہے پھر بھی اللہ اسے اجر وثواب دیتا ہے۔
 تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں مجاہدہ کی حقیقت کو یوں آشکار کیا گیا ہے: 
"مجاہدہ" کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلے میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشاندہی نہ کی جائے بلکہ مطلقاً مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی کش مکش ہے، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے، اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لئے زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے ان تمام انسانوں سے بھی لڑنا ہے ،جن کے نظریات، رجحانات، اصول اخلاق، رسم و رواج، طرز تمدن اور قوانین معیشت و معاشرت دین حق سے متصادم ہوں ۔ اور اس ریاست سے بھی لڑنا ہے جو خدا کی فرمانبرداری سے آزاد رہ کر اپنا فرمان چلائے اور نیکی کے بجائے بدی کو فروغ دینے میں اپنی قوتیں صرف کرے ، یہ مجاہدہ ایک دن دو دن کا نہیں عمر بھر کا ، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے ہر لمحے کا ہے ۔ اور کسی ایک میدان میں نہیں ، زندگی کے ہر پہلو میں ہر محاذ پر ہے ۔ اسی کے متعلق حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں : ان الرجل لیجاھد و ما ضرب یوما من الدھر بسیف’’ آدمی جہاد کرتا ہے خواہ کبھی ایک دفعہ بھی وہ تلوار نہ چلائے۔‘‘ (سورة العنکبوت حاشیہ نمبر: 9) یعنی اللہ تعالی اس مجاہدے کا مطالبہ تم سے اس لئے نہیں کر رہا ہے کہ اپنی خدائی قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے اسے تمہاری کسی مدد کی ضرورت ہے اور تمہاری اس لڑائی کے بغیر اس کی خدائی نہ چلے گی ۔ بلکہ وہ اس لئے تمہیں اس کش مکش میں پڑنے کی ہدایت کرتا ہے کہ یہی تمہاری ترقی کا راستہ ہے۔ اسی ذریعے سے تم بدی اور گمراہی کے چکر سے نکل کر نیکی اور صداقت کی راہ پر بڑھ سکتے ہو ۔ اسی سے تم میں یہ طاقت پیدا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں خیر و صلاح کے علمبردار اور آخرت میں خدا کی جنت کے حقدار بنو ۔ تم یہ لڑائی لڑ کر خدا پر کوئی احسان نہ کرو گے۔ اپنا ہی بھلا کروگے۔
تدبر قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: 
من جاھد فانما یجاھد لنفسه فان اللہ لغنی عن العلمین
یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس راہ میں مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستبقل سنوارتا اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبٹ پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستننیٰ ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں، اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لئے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے کہ دنیا کی طرح دین بھی خدا کے کام آنے والی کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ بندوں ہی کے کام آنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ انسان ہی کی سعادت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں مشقت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے، کسی دوسرے کے لئے نہیں کرتا اسی طرح انسان دین کی راہ میں چل کر اپنی ہی منزلیں طے کرتا ہے۔ خدا کی منزل نہیں طے کرتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مجاہدہ کی حقیقت اور واقعیت کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی اور اپنے نفس کو ڈھالنے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین! (محمد قمرالزماں ندوی،
مدرسہ نورالاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725) ( #ایس_اے_ساگر )