Friday, 18 September 2026

کتابوں کی آخری ہچکی

کتابوں کی آخری ہچکی
اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور اُنہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔
اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا، اسے کتاب کہتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کررہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کررہی ہیں۔ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔
یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کرسکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کرسکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی اور پھر آپ کو یہ "آلودہ علم" فروخت کریں گی۔
ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے۔ مگر اے آئی کمپنیوں کے لئے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کے لئے محض چارہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کررہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں۔ کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں۔
یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔ معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کے لئے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں۔ اُنہیں بس ایک کام کرنا تھا۔ یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو۔ ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی) کو اے آئی ڈاٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جاسکے۔
وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لئے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یوروپ اور امریکہ میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کے لئے "کتابی چارہ" خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کردیئے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اُٹھا رہے ہیں۔
جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں اُنہیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں۔ مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم، سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ۔
ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہوجاتا۔ اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی۔ بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں "ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی" نامی دلال کمپنی کے کارندے اُٹھا رہے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک "فور او فور میڈیا" کی تحقیق کے مطابق "آئی ایس بی این ڈی بی" نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔ وہ کتابیں جو جنگوں، بدامنی، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے۔
پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کے لیے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے۔ یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا۔ اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں۔
اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے۔ مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے۔ مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں۔ (بقلم: وسعت اللہ خان) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/09/blog-post_777.html



لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے

لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے
آپ نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ عیسائیوں نے اپنے تعلیمی اداروں کی کثرت پر زور دیا ہو۔ عیسائی شہروں میں محض ایک یا دو تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں، لیکن وہ انتہائی قابلِ اعتبار اور معیاری ہوتے ہیں، جن میں اپنے بچوں کو پڑھانا ہر شہری کا خواب ہوتا ہے۔ رسائی کے لحاظ سے بھی یہ ادارے شہر اور قریبی گاؤں، دیہات سے اس طرح مربوط ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اپنے بچوں کو ادارے کے بھروسے چھوڑ سکتا ہے۔
اس کے برخلاف مسلمانوں نے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کے بجائے ان کی کثرت پر زیادہ توجہ دی۔ خاص طور پر تعلیمِ نسواں کے نام پر پورے ملک میں ایک زبردست انقلاب آیا ہے۔
لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لئے نئے نئے ادارے قائم کئے گئے۔ لڑکوں کے لئے جزوی طور پر قائم کئے گئے نئے اداروں کو نظرانداز کردیا جائے تو آج بھی وہی پرانے ادارے موجود ہیں جو پچھلے 60، 70 برسوں سے چل رہے ہیں اور جن کا تعلیمی معیار کافی مخدوش ہوچکا ہے۔ دوسری طرف لڑکیوں کے لئے ہر گاؤں اور ہر گلی میں جامعات کی باڑھ آچکی ہے۔
سدھارتھ نگر، بستی، گورکھپور، بلرامپور، کانپور شہر، کانپور دیہات، لکھنؤ، بارہ بنکی، گونڈہ، بہرائچ، شراوستی اور سنت کبیر جیسے اضلاع، جہاں میرا خود کا تجربہ ہے، لڑکیوں کے لئے سینکڑوں ادارے کھل چکے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق لڑکیوں کو اسلامی زیورِ علم سے آراستہ کیا جاتا ہے اور انہیں بی بی فاطمہؓ اور امہات المؤمنینؓ کو بطور رول ماڈل اپنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ عورت کئی خاندانوں کے لئے رحمت کا سبب ہوتی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت حقیقی اعتبار سے اسلام کو اپنا منہجِ حیات تسلیم کرے۔ ورنہ محض حروف اور نقوش کی پہچان یا ان کی ادائیگی زندگی کو جنت کے بجائے جہنم میں جانے کا سبب بھی بنا سکتی ہے۔
مدارسِ اسلامیہ کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور جامعات کی بہتات نے ملت کی تعلیمی گتھیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ بالخصوص جامعات سے تعلیم یافتہ لڑکیاں خود ایک مسئلہ بنتی جارہی ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں انہوں نے ہر وہ کام کرنا شروع کردیا ہے جس کا ہم تصور بھی گناہِ عظیم سمجھتے ہیں۔
جامعات کے ذمہ داروں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ ان کے بناؤ سنگار پر توجہ دی ہے۔ ’’قال اللہ، قال الرسول‘‘ کی صداؤں کے بجائے فلمی گانوں اور تفریحی ڈراموں نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ باپردہ رہنے کی تعلیمات جامعات کی دہلیز پر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ فیشن ایبل برقعے کی نت نئی ایجادات نے معلمات اور طالباتِ علومِ نبویہ کو حجاب میں رہتے ہوئے بھی بے پردہ کردیا ہے۔ جشنِ ردائے قرأت و فضیلت کی باڑھ نے تکمیلِ نصاب کے سارے معیار بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔
چند سکوں کے لالچ نے جامعات کے ذمہ داروں کو اتنا مفاد پرست اور دنیادار بنا دیا ہے کہ کورس کی تکمیل کے بغیر ہی لڑکیوں کو عالمیت، فضیلت اور قرأت کی ڈگریاں فراہم کی جارہی ہیں۔
ذاتی طور پر میں کئی ایسی جامعات سے واقف ہوں جہاں رسمِ ردائے فضیلت کی تقریبات کو ایک ایونٹ کی طرح منعقد کیا جاتا ہے، جہاں لڑکیاں انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ردائے فضیلت کی تقریبات کی ویڈیوگرافی کرکے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتی ہیں۔ والدین اور گھر کے دوسرے افراد کو اس حرکت کی بھنک نہ لگے، اس کے لئے فرضی ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بات تلخ ہے، لیکن انتہائی افسوسناک بھی، کہ گھر کے ذمہ داروں کو بھلے ہی لڑکیوں کی ان حرکات کا علم نہ ہو، لیکن ان کے شناسا لوگوں کو ان کی سوشل میڈیا آئی ڈی کا بخوبی علم ہوتا ہے۔
آٹھ، دس برسوں تک جامعات میں گزارنے کے بعد دین کی بنیادی معلومات بھلے ہی نہ ہوں، لیکن سوشل میڈیا ایپ سے چیٹ ہسٹری کیسے مٹانی ہے، کیسے اور کس کو کب آن لائن رہنے کا سگنل دینا ہے، کب موبائل ان کے پاس اور کب موبائل پر اہلِ خانہ کی گرفت ہوتی ہے، اس کے لئے جدید ترین ٹرکس کا استعمال بہت اچھی طرح جان لیتی ہیں۔
کیسے بنا فون کال یا واٹس ایپ چیٹ کے بھی اسٹیٹس کے ذریعے کسی کو اپنی جانب مائل کرنا ہے، کب کس موبائل سے کونسا ایپ ہائیڈ یا اَن انسٹال کرنا ہے، یہ انہی کا خاصہ ہے۔
ردائے فضیلت کی تقریب کی آڑ میں طالبات کے ساتھ ساتھ معلمات بھی جم کر ٹانڈو مچاتی ہیں۔ شاندار اسٹیج کے ساتھ بہترین ایکو ساؤنڈ سسٹم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مختلف انداز میں سیلفیاں لے کر اپنے شناسا لوگوں کو بھیجی جاتی ہیں۔ نوخیز طالبات جس انداز سے فوٹوشوٹ اور ویڈیوگرافی کراتی ہیں، اسے دیکھ کر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی اداکارائیں بھی شرما جائیں۔ وکٹری نشان، لو کی علامت، فلائنگ کس انداز، ہاتھوں کی مہندی کے ڈیزائن اور پیروں کی الگ الگ اینگل سے نمائش، یہاں تک کہ آنکھوں سے سینے کے ابھارکی جانب توجہ دلانا تک شامل ہے۔
یقین جانئے ۔۔۔ جامعات میں لڑکیاں تعلیم کے نام پر جس بے حیائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس کا دس فیصد حصہ بھی آپ کے سامنے نہیں رکھ پارہا ہوں۔
ایک آخری بات، جو انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ جامعات کی فارغات بوائے فرینڈز (مرد دوست) بنانا معیوب نہیں سمجھتیں۔ کئی بار یہ تجاوز حلقۂ اسلام سے باہر غیرمسلموں تک پہنچ جاتا ہے۔ جنہیں ہم عالمہ فاضلہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں، وہ غیروں سے مراسم بناکر نہ صرف چادرِ عصمت تار تار کر رہی ہیں بلکہ مرتد بھی ہورہی ہیں۔
دراصل تعلیمِ نسواں کے نام پر ہم نے خیانت کی ہے۔ معیاری اداروں کے بجائے ہم نے اداروں کی کثرت پر توجہ دی۔ باصلاحیت لوگوں کی عدمِ پذیرائی کے باعث نااہلوں نے مدارس اور جامعات قائم کرنا شروع کردیئے، جہاں تعلیم کی آڑ میں ہر وہ کام انجام دیا جاتا ہے جس سے بچنے کے لئے ہم لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت تو ہو نہیں پاتی، البتہ مدرسہ جانے اور آنے کے نام پر ملنے والی آزادی اور اعتماد کا بھرپور غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر وہ شخص جس کے تعلقات سرمایہ داروں سے ہو جاتے ہیں، وہ لڑکیوں کے موجودہ ارتدادی طوفان پر قابو پانے کے نام پر جامعات قائم کرتا ہے۔ پہلے قوم سے سرمایہ وصول کرتا ہے، بعد میں قوم کی بیٹیوں کی عصمت تار تار کرتا ہے۔
میں خود کئی ایسے اداروں کو جانتا ہوں جہاں نوجوان لڑکیوں کو جامعات کے ذمہ داروں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ جیل گئے، مقدمات چل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود پرانی روش بدستور جاری ہے۔
پانی سر سے اتر چکا ہے۔ ہر ایرے غیرے کے تعلیمی ادارے میں بچیوں کو بھیجنے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیا جائے۔
جامعات کے نام پر بیوقوف نہ بنیں۔ جامعات کے پیچھے جہاں مالی منفعت کارفرما ہے، وہیں کچھ افراد ذہنی آوارگی کی تسکین کے لیے بھی جامعات قائم کرنے لگے ہیں۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
کثرتِ ادارہ کے بجائے معیاری اداروں کی فکر کیجئے، جہاں معقول تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی شرم و حیا بھی برقرار رہے۔ (بشکریہ: شفیق فیضی) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/09/blog-post_18.html








Monday, 7 September 2026

”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“


”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ 
 قَالَ عَبْدُاللهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ، قَالَ: «فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ» 
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کا اپنا مال وہ ہے جسے اس نے (راہِ خدا میں) آگے بھیج دیا، اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے اس نے (وفات کے وقت) پیچھے چھوڑ دیا۔“
(جو مال انسان اپنی زندگی میں طاعت و انفاق اور خیر کے کاموں میں اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وہی درحقیقت اس کا اپنا ابدی اور حقیقی مال ہے، جو آخرت کے ذخیرے کے طور پر اسے واپس ملے گا۔ جبکہ جو مال وہ جمع کر کے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کے وارثوں کا مال بن جاتا ہے جسے وہ خود کبھی استعمال نہیں کر پائے گا۔ یہ حدیث انسان کو حرص، بخالت اور غیر ضروری جمع اندوزی کے بجائے بروقت انفاق اور اپنے مال کو خود اپنے ہاتھ سے آخرت کے لئے سرمایہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بخل سے بچائے اور اپنے مال کو اپنے لئے صدقۂ جاریہ اور آخرت کا ذخیرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔) ( #ایس_اے_ساگر )

Narrated 'Abdullahؓ bin Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said, "Which of you loves the wealth of his heir more than his own wealth?" They said, "O Messenger of Allah, there is none among us but that his own wealth is more beloved to him." He (ﷺ) said, "Then his wealth is that which he has sent forward (in charity for the Hereafter), and the wealth of his heir is that which he leaves behind."
صحيح البخاري # ٦٤٤٢
Sahih Bukhari # 6442



​