Saturday, 31 October 2026

دارالعلوم دیوبند کے بانیان کا متبادل معاشی ماڈل

دارالعلوم دیوبند کے بانیان کا متبادل معاشی ماڈل (پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی): ایک گمشدہ تاریخی باب
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب "بوادر النوادر" کے جدید ایڈیشن پر محققِ عصر مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی دامت برکاتہم کا مقدمہ علم و تحقیق کا ایک شاندار شاہکار ہے۔ اس مقدمے کا یہ ایک صفحہ (صفحہ ۵۲) ہماری جماعتی و تعلیمی تاریخ کے ایک ایسے منفرد باب پر روشنی ڈالتا ہے جس سے آج کی اکثریت بالکل ناواقف ہے۔
مولانا کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ابتدائی دو تین سالوں بعد ہی اکابر نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مدارس سے فارغ ہونے والے فضلاء اور وہاں خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ایک باوقار اور بہتر معاشی زندگی کا انتظام ہونا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لئے اربابِ اہتمام نے باقاعدہ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی (Private Limited Company) قائم کی، جس کا ایک حصہ (Share) اس وقت سو روپے کا تھا۔
اس تجارتی کارخانے میں دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور کے اکثر اساتذہ اور علمائے کرام حصہ دار (Shareholders) تھے۔ جن میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ، حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ اور مولانا سید احمد دہلویؒ جیسے جلیل القدر اکابر شامل تھے۔
یہ کمپنی اس قدر کامیاب ہوئی کہ اس کا سرمایہ بڑھتے بڑھتے اس زمانے میں ۵۰ ہزار روپے تک پہنچ گیا (جو اس دور میں ایک خطیر رقم تھی)۔ لیکن پھر اچانک اس کارخانہ کو دیوالیہ دکھا کر بند کر دیا گیا۔
✍️مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب اس سے چند اہم باتیں اخذ کرتے ہیں:
1. ہمارے اکابر مروجہ خانقاہی دنیا بیزاری کے قائل نہیں تھے، بلکہ وہ دنیا کے ضروری اور جائز معاشی وسائل کی فراہمی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
2.اگر یہ تجارتی سلسلہ جاری رہتا تو مدارس اور دینی حلقوں سے وابستہ افراد معاشی طور پر خوش حال اور خود کفیل ہوتے، اور آج ہمیں معاشی مسائل کے حل کے لئے دوسروں کا مرہونِ منت نہ ہونا پڑتا۔
3. مولانا کاندھلوی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ تاریخ کے اس اتنے بڑے متبادل معاشی تجربے پر آج تک کسی نے تفصیلی تحقیق نہیں لکھی۔ وہ دورِ حاضر کے نوجوان اور مخلص فضلاء کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آگے آئیں، اس گمشدہ تجارتی تاریخ پر ریسرچ کریں اور اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لائیں۔
آج جب ہم مسلم امہ اور بالخصوص دینی طبقے کے معاشی مسائل اور متبادل بزنس ماڈلز کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے اکابر کی اس دور اندیشی اور عملی کوششوں کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔
 ✍️کتاب: بوادر النوادر (جدید ایڈیشن)
 فارورڈ کریں تاکہ مولویوں کا ذہن بدلے اور پڑھنے پڑھانےکے ساتھ ساتھ تجارت پر بھی دھیان دیں۔ ( #ایس_اے_ساگر )

No comments:

Post a Comment