Tuesday, 13 October 2026

مجاہدۂ نفس: حقیقت، اہمیت اور ثمرات

نکاتِ قرآنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
من جاھد فانما یجاھد لنفسه
مجاہدۂ نفس: حقیقت، اہمیت اور ثمرات
انسان کی حقیقی کامیابی کا راز صرف علم و آگہی، آرزو و تمنا اور بلند عزائم میں نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے، خواہشات کی بے لگام رو کو لگام دینے اور حق و صداقت کی راہ میں ثابت قدم رہنے میں پوشیدہ اور مضمر ہے۔ زندگی کے سفر میں انسان کو قدم قدم پر ایسے حالات، مشکلات و امتحانات اور آزمائشوں سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اسے مقصدِ حیات سے غافل، اصولوں سے منحرف اور راہِ حق سے دور کرسکتے ہیں۔ ایسے میں اپنے نفس کی مخالفت، خواہشات پر قابو، ایمان و یقین کی حفاظت اور خیر و صلاح کے راستے پر استقامت کا نام مجاہدۂ نفس ہے۔ یہ محض چند ظاہری اعمال یا وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل باطنی جدوجہد اور عمر بھر جاری رہنے والا عمل ہے، جس میں انسان اپنے نفس کی ناپسندیدہ خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکام کے تابع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
مجاہدۂ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی فطری خواہشات اور جائز ضروریات کو یکسر ختم کردے، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ خواہشات عقل و شریعت کے تابع رہیں، نفس انسان کا حاکم بننے کے بجائے اس کے اختیار میں رہے اور زندگی کی ترجیحات میں رضائے الٰہی کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہو۔ یہی وہ جدوجہد ہے، جو انسان کو نفس پرستی سے خدا پرستی، خود غرضی سے ایثار، ریا و نمود سے اخلاص اور شخصیت پرستی سے اصول پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ مجاہدۂ نفس کا تقاضا ہے کہ انسان حق کو حق سمجھے اور اسے قبول کرے، خواہ وہ اس کی طبیعت کے خلاف ہو؛ باطل کو باطل جانے اور اس سے اجتناب کرے، خواہ اس میں دنیاوی منفعت اور وقتی مصلحت ہی کیوں نہ دکھائی دیتی ہو۔ وہ حالات کی ناسازگاری، لوگوں کی مخالفت اور راستے کی دشواریوں سے مرعوب ہوئے بغیر اپنے ایمان، یقین اور اصولوں پر قائم رہے۔
قرآنِ کریم نے مجاہدے کی اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ (العنکبوت: 6)؛ یعنی جو شخص مجاہدہ کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے مجاہدہ کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اس ارشادِ ربانی میں مجاہدے کی ایک بنیادی حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ بندے کی جدوجہد کا فائدہ خود اسی کی طرف لوٹتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کو نہ ہماری عبادت کی حاجت ہے، نہ ہماری اطاعت کی اور نہ ہمارے مجاہدے کی۔ ہم جس قدر اپنے نفس کو قابو میں رکھیں گے، حق پر استقامت اختیار کریں گے اور خیر کے راستے میں مشقت برداشت کریں گے، اسی قدر ہماری اپنی زندگی سنورے گی، ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور ہماری آخرت بہتر ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ مجاہدۂ نفس کے بغیر نہ ایمان کی حفاظت آسان ہے، نہ اخلاق و کردار کی تعمیر اور نہ مقصدِ حیات پر استقامت ممکن۔ یہ مجاہدہ ہی ہے جو انسان کو وقتی مفادات کے مقابلے میں ابدی کامیابی، نفسانی خواہشات کے مقابلے میں رضائے الٰہی اور لوگوں کی خوشنودی کے مقابلے میں حق و صداقت کو ترجیح دینا سکھاتا ہے۔ اس لئے مجاہدۂ نفس کسی ایک طبقے، خاص وقت یا مخصوص عمل تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی کو ایمان، اخلاص، تقویٰ اور عملِ صالح سے آراستہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مومن بننا اکثر حالات میں زمانہ کے خلاف چلنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ اکابر پرستی کے ماحول میں خدا پرست بننا ہے، خواہش کو اونچا مقام دینے کے ماحول میں اصول کو اونچا مقام دینا ہے، دنیوی مفاد کے لئے جینے کے ماحول میں آخرت کے مفاد کے لئے جینے کا حوصلہ کرنا ہے ۔ 
اس طرح کی زندگی کے لئے سخت مجاہدہ درکار ہے ۔ اور سخت مجاہدہ پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوں ۔ جو خدا کی طرف سے ملنے والے انعام ہی کو اپنی امیدوں کا اصل مرکز بنائے ہوئے یوں ۔
سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ 'في ظلال القرآن' میں مجاہدہ کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
ومن جاھد ۔۔۔۔۔ عن العلمین 
جب اللہ مومنین کے لئے آزمائشیں مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ یہ مشتقیں برداشت کریں تاکہ ان کے نفوس کار گاہ حیات میں مشکلات برداشت کرنے کے اہل بن جائیں ، تو یہ احکام بھی خود اہل ایمان کی اصلاح کے لئے ہیں۔ یہ ان کو مکمل بناتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے لئے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ مجاہدہ کی وجہ سے خود ایک مومن کا نفس اور اس کا قلب پاک ہوتا ہے۔ ان کے تصورات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیش نظر دنیا کے آفاق وسیع ہوتے ہیں۔ یہ حب مال اور حب نفس سے بھی بلند ہوجاتا ہے ، اب اس کی شخصیت کے اعلیٰ جو ہر کھلتے ہیں اور اس کی صلاحیت سامنے آتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک سوسائٹی کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ اس سوسائٹی کی اصلاح ہوتی ہے، اسے فائدہ ملتا ہے۔ اس میں حق کے جھنڈے بلند ہوتے ہیں، بھلائی پھیلتی ہے اور غالب ہوتی ہے اور شر مغلوب ہوتا ہے۔ اصلاح کو ترقی ملتی ہے اور فساد سکڑتا ہے۔
ومن جاھد فانما ۔۔۔۔ لنفسہ جو شخص بھی جہاد و مجاہدہ کرے گا تو وہ اپنے بھلے کے لئے کرے گا۔
 کوئی شخص مجاہدہ شروع کرکے، آدھی راہ میں کھڑا نہ ہوجائے کہ لائیے جی معاوضہ اب تک کے مجاہدے کا۔ یا اللہ پر احسان جتلائے یا تحریک اسلامی پر احسان جتلائے یا یہ کہے کہ جی اس قدر جدوجہد سے ہمیں کیا ملا کیونکہ اس کے مجاہدے سے اللہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اللہ کو انسانوں کی طرف سے مجاہدے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کیا ہے اور اس کا مجاہدہ کیا ہے؟ اللہ تو دو جہانوں سے بےنیاز ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کو اس عظیم کام کے لئے منتخب کیا۔ اسے زمین کا خلیفہ بنایا اور وہ اس زمین میں کام تو اپنے لئے کرتا ہے پھر بھی اللہ اسے اجر وثواب دیتا ہے۔
 تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر میں مجاہدہ کی حقیقت کو یوں آشکار کیا گیا ہے: 
"مجاہدہ" کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلے میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشاندہی نہ کی جائے بلکہ مطلقاً مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی کش مکش ہے، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے، اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لئے زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے ان تمام انسانوں سے بھی لڑنا ہے ،جن کے نظریات، رجحانات، اصول اخلاق، رسم و رواج، طرز تمدن اور قوانین معیشت و معاشرت دین حق سے متصادم ہوں ۔ اور اس ریاست سے بھی لڑنا ہے جو خدا کی فرمانبرداری سے آزاد رہ کر اپنا فرمان چلائے اور نیکی کے بجائے بدی کو فروغ دینے میں اپنی قوتیں صرف کرے ، یہ مجاہدہ ایک دن دو دن کا نہیں عمر بھر کا ، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے ہر لمحے کا ہے ۔ اور کسی ایک میدان میں نہیں ، زندگی کے ہر پہلو میں ہر محاذ پر ہے ۔ اسی کے متعلق حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں : ان الرجل لیجاھد و ما ضرب یوما من الدھر بسیف’’ آدمی جہاد کرتا ہے خواہ کبھی ایک دفعہ بھی وہ تلوار نہ چلائے۔‘‘ (سورة العنکبوت حاشیہ نمبر: 9) یعنی اللہ تعالی اس مجاہدے کا مطالبہ تم سے اس لئے نہیں کر رہا ہے کہ اپنی خدائی قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے اسے تمہاری کسی مدد کی ضرورت ہے اور تمہاری اس لڑائی کے بغیر اس کی خدائی نہ چلے گی ۔ بلکہ وہ اس لئے تمہیں اس کش مکش میں پڑنے کی ہدایت کرتا ہے کہ یہی تمہاری ترقی کا راستہ ہے۔ اسی ذریعے سے تم بدی اور گمراہی کے چکر سے نکل کر نیکی اور صداقت کی راہ پر بڑھ سکتے ہو ۔ اسی سے تم میں یہ طاقت پیدا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں خیر و صلاح کے علمبردار اور آخرت میں خدا کی جنت کے حقدار بنو ۔ تم یہ لڑائی لڑ کر خدا پر کوئی احسان نہ کرو گے۔ اپنا ہی بھلا کروگے۔
تدبر قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: 
من جاھد فانما یجاھد لنفسه فان اللہ لغنی عن العلمین
یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس راہ میں مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستبقل سنوارتا اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبٹ پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستننیٰ ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں، اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لئے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے کہ دنیا کی طرح دین بھی خدا کے کام آنے والی کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ بندوں ہی کے کام آنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ انسان ہی کی سعادت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں مشقت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے، کسی دوسرے کے لئے نہیں کرتا اسی طرح انسان دین کی راہ میں چل کر اپنی ہی منزلیں طے کرتا ہے۔ خدا کی منزل نہیں طے کرتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مجاہدہ کی حقیقت اور واقعیت کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی اور اپنے نفس کو ڈھالنے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین! (محمد قمرالزماں ندوی،
مدرسہ نورالاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725) ( #ایس_اے_ساگر )

Friday, 18 September 2026

کتابوں کی آخری ہچکی

کتابوں کی آخری ہچکی
اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور اُنہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔
اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا، اسے کتاب کہتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کررہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کررہی ہیں۔ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔
یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کرسکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کرسکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی اور پھر آپ کو یہ "آلودہ علم" فروخت کریں گی۔
ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے۔ مگر اے آئی کمپنیوں کے لئے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کے لئے محض چارہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کررہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں۔ کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں۔
یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔ معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کے لئے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں۔ اُنہیں بس ایک کام کرنا تھا۔ یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو۔ ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی) کو اے آئی ڈاٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جاسکے۔
وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لئے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یوروپ اور امریکہ میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کے لئے "کتابی چارہ" خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کردیئے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اُٹھا رہے ہیں۔
جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں اُنہیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں۔ مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم، سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ۔
ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہوجاتا۔ اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی۔ بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں "ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی" نامی دلال کمپنی کے کارندے اُٹھا رہے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک "فور او فور میڈیا" کی تحقیق کے مطابق "آئی ایس بی این ڈی بی" نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔ وہ کتابیں جو جنگوں، بدامنی، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے۔
پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کے لیے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے۔ یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا۔ اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں۔
اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے۔ مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے۔ مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں۔ (بقلم: وسعت اللہ خان) ( #ایس_اے_ساگر )



لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے

لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے
آپ نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ عیسائیوں نے اپنے تعلیمی اداروں کی کثرت پر زور دیا ہو۔ عیسائی شہروں میں محض ایک یا دو تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں، لیکن وہ انتہائی قابلِ اعتبار اور معیاری ہوتے ہیں، جن میں اپنے بچوں کو پڑھانا ہر شہری کا خواب ہوتا ہے۔ رسائی کے لحاظ سے بھی یہ ادارے شہر اور قریبی گاؤں، دیہات سے اس طرح مربوط ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اپنے بچوں کو ادارے کے بھروسے چھوڑ سکتا ہے۔
اس کے برخلاف مسلمانوں نے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کے بجائے ان کی کثرت پر زیادہ توجہ دی۔ خاص طور پر تعلیمِ نسواں کے نام پر پورے ملک میں ایک زبردست انقلاب آیا ہے۔
لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لئے نئے نئے ادارے قائم کئے گئے۔ لڑکوں کے لئے جزوی طور پر قائم کئے گئے نئے اداروں کو نظرانداز کردیا جائے تو آج بھی وہی پرانے ادارے موجود ہیں جو پچھلے 60، 70 برسوں سے چل رہے ہیں اور جن کا تعلیمی معیار کافی مخدوش ہوچکا ہے۔ دوسری طرف لڑکیوں کے لئے ہر گاؤں اور ہر گلی میں جامعات کی باڑھ آچکی ہے۔
سدھارتھ نگر، بستی، گورکھپور، بلرامپور، کانپور شہر، کانپور دیہات، لکھنؤ، بارہ بنکی، گونڈہ، بہرائچ، شراوستی اور سنت کبیر جیسے اضلاع، جہاں میرا خود کا تجربہ ہے، لڑکیوں کے لئے سینکڑوں ادارے کھل چکے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق لڑکیوں کو اسلامی زیورِ علم سے آراستہ کیا جاتا ہے اور انہیں بی بی فاطمہؓ اور امہات المؤمنینؓ کو بطور رول ماڈل اپنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ عورت کئی خاندانوں کے لئے رحمت کا سبب ہوتی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت حقیقی اعتبار سے اسلام کو اپنا منہجِ حیات تسلیم کرے۔ ورنہ محض حروف اور نقوش کی پہچان یا ان کی ادائیگی زندگی کو جنت کے بجائے جہنم میں جانے کا سبب بھی بنا سکتی ہے۔
مدارسِ اسلامیہ کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور جامعات کی بہتات نے ملت کی تعلیمی گتھیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ بالخصوص جامعات سے تعلیم یافتہ لڑکیاں خود ایک مسئلہ بنتی جارہی ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں انہوں نے ہر وہ کام کرنا شروع کردیا ہے جس کا ہم تصور بھی گناہِ عظیم سمجھتے ہیں۔
جامعات کے ذمہ داروں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ ان کے بناؤ سنگار پر توجہ دی ہے۔ ’’قال اللہ، قال الرسول‘‘ کی صداؤں کے بجائے فلمی گانوں اور تفریحی ڈراموں نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ باپردہ رہنے کی تعلیمات جامعات کی دہلیز پر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ فیشن ایبل برقعے کی نت نئی ایجادات نے معلمات اور طالباتِ علومِ نبویہ کو حجاب میں رہتے ہوئے بھی بے پردہ کردیا ہے۔ جشنِ ردائے قرأت و فضیلت کی باڑھ نے تکمیلِ نصاب کے سارے معیار بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔
چند سکوں کے لالچ نے جامعات کے ذمہ داروں کو اتنا مفاد پرست اور دنیادار بنا دیا ہے کہ کورس کی تکمیل کے بغیر ہی لڑکیوں کو عالمیت، فضیلت اور قرأت کی ڈگریاں فراہم کی جارہی ہیں۔
ذاتی طور پر میں کئی ایسی جامعات سے واقف ہوں جہاں رسمِ ردائے فضیلت کی تقریبات کو ایک ایونٹ کی طرح منعقد کیا جاتا ہے، جہاں لڑکیاں انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ردائے فضیلت کی تقریبات کی ویڈیوگرافی کرکے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتی ہیں۔ والدین اور گھر کے دوسرے افراد کو اس حرکت کی بھنک نہ لگے، اس کے لئے فرضی ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بات تلخ ہے، لیکن انتہائی افسوسناک بھی، کہ گھر کے ذمہ داروں کو بھلے ہی لڑکیوں کی ان حرکات کا علم نہ ہو، لیکن ان کے شناسا لوگوں کو ان کی سوشل میڈیا آئی ڈی کا بخوبی علم ہوتا ہے۔
آٹھ، دس برسوں تک جامعات میں گزارنے کے بعد دین کی بنیادی معلومات بھلے ہی نہ ہوں، لیکن سوشل میڈیا ایپ سے چیٹ ہسٹری کیسے مٹانی ہے، کیسے اور کس کو کب آن لائن رہنے کا سگنل دینا ہے، کب موبائل ان کے پاس اور کب موبائل پر اہلِ خانہ کی گرفت ہوتی ہے، اس کے لئے جدید ترین ٹرکس کا استعمال بہت اچھی طرح جان لیتی ہیں۔
کیسے بنا فون کال یا واٹس ایپ چیٹ کے بھی اسٹیٹس کے ذریعے کسی کو اپنی جانب مائل کرنا ہے، کب کس موبائل سے کونسا ایپ ہائیڈ یا اَن انسٹال کرنا ہے، یہ انہی کا خاصہ ہے۔
ردائے فضیلت کی تقریب کی آڑ میں طالبات کے ساتھ ساتھ معلمات بھی جم کر ٹانڈو مچاتی ہیں۔ شاندار اسٹیج کے ساتھ بہترین ایکو ساؤنڈ سسٹم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مختلف انداز میں سیلفیاں لے کر اپنے شناسا لوگوں کو بھیجی جاتی ہیں۔ نوخیز طالبات جس انداز سے فوٹوشوٹ اور ویڈیوگرافی کراتی ہیں، اسے دیکھ کر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی اداکارائیں بھی شرما جائیں۔ وکٹری نشان، لو کی علامت، فلائنگ کس انداز، ہاتھوں کی مہندی کے ڈیزائن اور پیروں کی الگ الگ اینگل سے نمائش، یہاں تک کہ آنکھوں سے سینے کے ابھارکی جانب توجہ دلانا تک شامل ہے۔
یقین جانئے ۔۔۔ جامعات میں لڑکیاں تعلیم کے نام پر جس بے حیائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس کا دس فیصد حصہ بھی آپ کے سامنے نہیں رکھ پارہا ہوں۔
ایک آخری بات، جو انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ جامعات کی فارغات بوائے فرینڈز (مرد دوست) بنانا معیوب نہیں سمجھتیں۔ کئی بار یہ تجاوز حلقۂ اسلام سے باہر غیرمسلموں تک پہنچ جاتا ہے۔ جنہیں ہم عالمہ فاضلہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں، وہ غیروں سے مراسم بناکر نہ صرف چادرِ عصمت تار تار کر رہی ہیں بلکہ مرتد بھی ہورہی ہیں۔
دراصل تعلیمِ نسواں کے نام پر ہم نے خیانت کی ہے۔ معیاری اداروں کے بجائے ہم نے اداروں کی کثرت پر توجہ دی۔ باصلاحیت لوگوں کی عدمِ پذیرائی کے باعث نااہلوں نے مدارس اور جامعات قائم کرنا شروع کردیئے، جہاں تعلیم کی آڑ میں ہر وہ کام انجام دیا جاتا ہے جس سے بچنے کے لئے ہم لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت تو ہو نہیں پاتی، البتہ مدرسہ جانے اور آنے کے نام پر ملنے والی آزادی اور اعتماد کا بھرپور غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر وہ شخص جس کے تعلقات سرمایہ داروں سے ہو جاتے ہیں، وہ لڑکیوں کے موجودہ ارتدادی طوفان پر قابو پانے کے نام پر جامعات قائم کرتا ہے۔ پہلے قوم سے سرمایہ وصول کرتا ہے، بعد میں قوم کی بیٹیوں کی عصمت تار تار کرتا ہے۔
میں خود کئی ایسے اداروں کو جانتا ہوں جہاں نوجوان لڑکیوں کو جامعات کے ذمہ داروں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ جیل گئے، مقدمات چل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود پرانی روش بدستور جاری ہے۔
پانی سر سے اتر چکا ہے۔ ہر ایرے غیرے کے تعلیمی ادارے میں بچیوں کو بھیجنے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیا جائے۔
جامعات کے نام پر بیوقوف نہ بنیں۔ جامعات کے پیچھے جہاں مالی منفعت کارفرما ہے، وہیں کچھ افراد ذہنی آوارگی کی تسکین کے لیے بھی جامعات قائم کرنے لگے ہیں۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
کثرتِ ادارہ کے بجائے معیاری اداروں کی فکر کیجئے، جہاں معقول تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی شرم و حیا بھی برقرار رہے۔ (بشکریہ: شفیق فیضی) ( #ایس_اے_ساگر )






Monday, 7 September 2026

”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“


”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ 
 قَالَ عَبْدُاللهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ، قَالَ: «فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ» 
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کا اپنا مال وہ ہے جسے اس نے (راہِ خدا میں) آگے بھیج دیا، اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے اس نے (وفات کے وقت) پیچھے چھوڑ دیا۔“
(جو مال انسان اپنی زندگی میں طاعت و انفاق اور خیر کے کاموں میں اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وہی درحقیقت اس کا اپنا ابدی اور حقیقی مال ہے، جو آخرت کے ذخیرے کے طور پر اسے واپس ملے گا۔ جبکہ جو مال وہ جمع کر کے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کے وارثوں کا مال بن جاتا ہے جسے وہ خود کبھی استعمال نہیں کر پائے گا۔ یہ حدیث انسان کو حرص، بخالت اور غیر ضروری جمع اندوزی کے بجائے بروقت انفاق اور اپنے مال کو خود اپنے ہاتھ سے آخرت کے لئے سرمایہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بخل سے بچائے اور اپنے مال کو اپنے لئے صدقۂ جاریہ اور آخرت کا ذخیرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔) ( #ایس_اے_ساگر )

Narrated 'Abdullahؓ bin Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said, "Which of you loves the wealth of his heir more than his own wealth?" They said, "O Messenger of Allah, there is none among us but that his own wealth is more beloved to him." He (ﷺ) said, "Then his wealth is that which he has sent forward (in charity for the Hereafter), and the wealth of his heir is that which he leaves behind."
صحيح البخاري # ٦٤٤٢
Sahih Bukhari # 6442



​

Tuesday, 25 August 2026

تعلیمی اداروں کے لئے حکومت کی لازمی گائڈلائن

تمام اقامتی اور غیراقامتی مدارس، مکاتب، اسکول اور تعلیمی اداروں کے لئے حکومت کی لازمی گائڈلائن               
-(مدارس اسلامیہ کے تعلق سے پوکسو ایکٹ کے لازمی قوانین) 
-بھارت میں اسکولوں، مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے پوکسو ایکٹ (POCSO Act) اور سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے تحت بچوں کی حفاظت کے سخت قوانین مقرر کئے گئے ہیں، ادارہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور دیگر عملے پر درج ذیل قانونی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1۔ عملے کی پولیس ویریفکیشن: 
ادارہ میں کام کرنے والے تمام ملازمین (اساتذہ، پرنسپل، سیکیورٹی گارڈز، صفائی کرنے والا عملہ اور بس ڈرائیورز) کی پولیس ویریفکیشن (سابقہ ریکارڈ کی جانچ) کروانا لازمی ہے۔
2. کیمپس کی نگرانی (CCTV and Infrastructure): 
تعلیمی ادرے کے تمام اہم حصوں (جیسے کوریڈور، کھیل کے میدان، داخلے اور خارج ہونے کے راستے) میں سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے لگانا لازمی ہے۔
3۔ لازمی رپورٹنگ اور پرنسپل کی ذمہ داری (Mandatory Reporting): 
اگر کسی استاد یا عملے کو شک بھی ہو کہ کسی بچے کے ساتھ ادارے کے اندر یا باہر کوئی غلط حرکت ہوئی ہے، تو اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینا لازمی ہے۔ اگر ادارہ کا پرنسپل/مہتمم یا انتظامیہ معاملے کو دبانے یا ادارہ کی بدنامی کے ڈر سے پولیس کو نہیں بتاتی، تو قانون کے تحت انہیں 1 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔
4۔ اسکول ٹرانسپورٹ کے اصول (School Bus Safety)
سپریم کورٹ کی گائیڈلائنز کے مطابق ہر اسکول بس میں ایک خاتون اٹینڈنٹ (خاتون ملازم) کا ہونا لازمی ہے۔ بس ڈرائیور کا کم از کم 5 سال کا تجربہ ہونا چاہئے اور تیز رفتاری یا شراب پی کر گاڑی چلانے والے ڈرائیور کو نہیں رکھا جا سکتا۔ 
5۔ پوکسو کمیٹی اور آگاہی (POCSO Committee & Awareness) 
ہر اسکول/تعلیمی ادارے میں ایک چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی (پوکسو کمیٹی) بنانا لازمی ہے، جو بچوں کی شکایات سن سکے۔ بچوں کو اسکول میں "محفوظ اور غیر محفوظ لمس" (Good Touch and Bad Touch) کے بارے میں آسان زبان میں سکھلانا اسکول کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی دیواروں اور نوٹس بورڈز پر چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 واضح طور پر لکھا ہونا چاہئے۔
6۔ اکیلے میں ملنے پر پابندی (No Solitary Meetings) 
کسی بھی کم عمر طالبہ  کو کسی بھی مرد عملے  کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند نہیں چھوڑا جاسکتا۔ بچوں کو کسی بھی قسم کی سزا کے طور پر اندھیرے یا اکیلے کمرے میں بند کرنا قانونی جرم ہے۔ 
پوکسو ایکٹ  کے قوانین مدارس، مساجد، خانقاہوں اور تمام مذہبی تعلیمی اداروں پر بھی مکمل طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کا تحفظ ہر جگہ یکساں ہے اور اس معاملے میں کسی بھی ادارے کو کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔
پوکسو ایکٹ کے سیکشن 5(f) اور سیکشن 9(f) میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ "مذہبی اداروں" (Religious Institutions) کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ اگر مدرسے، آشرم یا کسی بھی مذہبی ادارے کی انتظامیہ یا عملے کا کوئی شخص (جیسے ناظم، استاد یا قاری) کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی یا حملہ کرے، تو اسے کم از کم 10 سے 20 سال قید یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
اگر مدرسے کے مہتمم، ناظم یا کسی دوسرے استاد کو معلوم ہو کہ ادارے میں کسی بچے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، تو ان پر پولیس کو فوراً مطلع کرنا قانونی طور پر فرض ہے۔ 
حفاظتی اقدامات کی پابندی:
قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (NCPCR) اور مختلف عدالتی احکامات کے مطابق، اقلیتی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے لیے بھی بچوں کے حوالے سے درج ذیل گائیڈلائنز پر عمل کرنا ضروری ہے:
مدارس میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ یا دیکھ بھال کرنے والے عملے کا بیک گراؤنڈ اور پولیس ویریفکیشن چیک ہونا چاہئے۔ 
بچوں کی آگاہی کے لئے چائلڈ ہیلپ لائن نمبر 1098 کو نمایاں جگہ پر لکھنا ضروری ہے۔ 
قانون کے تحت سبق یاد نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے بچوں پر شدید جسمانی تشدد یا مارپیٹ کرنا بھی سخت جرم ہے۔ 
ایسے مدارس جہاں بچے رات کو قیام کرتے ہیں (رہائشی مدارس)، وہاں بچوں کے سونے کے کمروں  کی حفاظت کا خاص انتظام ہونا چاہئے۔ بڑی عمر کے طلبہ اور چھوٹے بچوں کے رہنے اور سونے کے انتظامات الگ الگ ہونے چاہئیں تاکہ چھوٹے بچے محفوظ رہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں مدرسے کے مہتمم (Principal/Manager) کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
مدرسے میں ایک ایسی جگہ شکایت بکس لگانا لازمی ہے جہاں بچے یا ان کے والدین اپنی شکایت نام لکھے بغیر ڈال سکیں۔
مدرسے کے اساتذہ اور قاری صاحبان کو پوکسو ایکٹ کے قوانین کے بارے میں باقاعدہ تربیت دینا ضروری ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ بچوں کے حقوق کیا ہیں۔
کلاس رومز، برآمدوں اور مشترکہ حصوں میں کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنانا چاہیے، سوائے ان جگہوں کے جہاں پرائیویسی (جیسے واش رومز یا چینجنگ رومز) متاثر ہوتی ہو۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )




Monday, 17 August 2026

سورتوں کے نام اور آیات

قرآن کریم حفظ کرنے والے مدرسے میں ایک استاد نے کسی طالب علم سے سبق سنتے وقت پوچھا کہ وہ ان سورتوں کے نام بتلائے جن میں یہ آیت (أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ) آئی ہے۔ طالب علم نے کچھ سورتیں تو بتلادیں مگر متعدد سورتوں میں اٹک گیا۔

✒️ استاد نے کہا: یہ جملہ یاد کرلو:

"غَفَرَاللهُ لِلْحَجِّ مُحَمَّد یوسف"

پھر وضاحت کی:

غَفَرَاللهُ ...... سورۃ غافر

لِلْحَجِّ ........ سورۃ الحج

مُحَمَّد ....... سورۃ محمد

یوسف ...... سورۃ یوسف

یہ وہ چار سورتیں ہیں جن میں (أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ) کا ذکر آیا ہے۔

حفاظِ قرآن کے لئے ایک اہم نکتہ:

اکثر حفاظ کو تلاوت کے دوران الفاظ میں التباس (کنفیوژن) ہوجاتا ہے، مثلاً کوئی یوں پڑھ دیتا ہے:

"وَفَاكِهَةً مِمَّا يَشْتَهُونَ" کی جگہ

"وَفَوَاكِهُ مِمَّا يَشْتَهُونَ"

اور اسی طرح کے دیگر متشابہ الفاظ کی کثرت سے حافظ مایوس ہوجاتا ہے۔ اس دشواری کا حل ایک قاعدہ ہے جو پورے قرآن کی سورتوں پر نافذ ہوتا ہے:

▪️ 1. اگر سورت کا نام واحد (سنگولر) ہو، جیسے: یٰسٓ، صٓ، الزخرف، الطور، الرحمٰن، الواقعہ وغیرہ — تو لفظ "فاکہہ" (واحد) آئے گا۔

▪️ 2. اگر سورت کا نام جمع ہو، جیسے: المؤمنون، الصافات، المرسلات وغیرہ — تو لفظ "فواکہ" (جمع) آئے گا۔

ایک اور قرآنی معلومات:

سورت کے آغاز میں "یُسَبِّحُ" اور "سَبِّحْ" میں فرق کیسے کریں؟

اگر سورت کے نام کا پہلا حرف نقطے والا ہو تو ابتدا "یُسَبِّحُ" سے ہوگی۔

اور اگر سورت کے نام کا پہلا حرف بغیر نقطے کے ہو تو ابتدا "سَبِّحْ" سے ہوگی۔

مثال کے طور پر:

سورۃ الحدید "ح" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ نہیں — لہٰذا آغاز "سَبِّحْ" سے ہے۔

سورۃ التغابن "ت" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ ہے — لہٰذا آغاز "یُسَبِّحُ" سے ہے۔

سؤال: قرآن کریم کی سات "خماسیات" (پانچ پانچ کے مجموعے) کیا ہیں؟

جواب:

سورتوں کے آغاز کو آسانی سے یاد رکھنے کے لیے، اور یہ قرآن کریم کی دقتِ نظر کی ایک مثال بھی ہے کہ اس میں یہ "خماسیات"                         

(پانچ پانچ سورتوں کے گروپ) پائے جاتے ہیں:

5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5

جو درج ذیل سات زمروں پر مشتمل ہیں:

1️⃣ پہلا زمرہ:

حمد سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الفاتحہ

▪️ الانعام

▪️ الکہف

▪️ سبا

▪️ فاطر

یہ سب مکی ہیں

2️⃣ دوسرا زمرہ:

تسبیح سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الحدید

▪️ الحشر

▪️ الصف

▪️ الجمعہ

▪️ التغابن

یہ سب مدنی ہیں

3️⃣ تیسرا زمرہ:

"الٓر" (الف لام را) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ یونس

▪️ ہود

▪️ یوسف

▪️ ابراہیم

▪️ الحجر

یہ سب مکی ہیں

4️⃣ چوتھا زمرہ:

ندا (پکار) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ النساء

▪️ المائدہ

▪️ الحج

▪️ الحجرات

▪️ الممتحنہ

یہ سب مدنی ہیں

5️⃣ پانچواں زمرہ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے پکارنے سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الاحزاب

▪️ الطلاق

▪️ التحریم

▪️ المزمل

▪️ المدثر

یہ سب مدنی ہیں

6️⃣ چھٹا زمرہ:

استفہام (سوال) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الانسان

▪️ الغاشیہ

▪️ الشرح

▪️ الفیل

▪️ الماعون

یہ سب مکی ہیں

7️⃣ ساتواں زمرہ:

لفظ "قُلْ" (کہہ دو) کے حکم سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:

▪️ الجن

▪️ الکافرون

▪️ الاخلاص

▪️ الفلق

▪️ الناس

یہ سب مکی ہیں

دوسروں تک یہ معلومات پہنچائیں۔

اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے، شائع کرنے والے، پڑھنے والے اور آگے بھیجنے والے سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور ان کے والدین اور ہمارے و آپ کے والدین اور تمام مسلمانوں، زندہ و مردہ، کی مغفرت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب کو متقن انداز میں پڑھنے، تلاوت کرنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی اس کا عمل جاری رہے، اسے چاہئے کہ علم کو پھیلائے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )



Friday, 3 July 2026

صفاتِ لازمہ غیرِ متضادہ کا بیان

صفاتِ لازمہ غیرِ متضادہ کا بیان
صفاتِ لازمہ غیرِمُتَضادہ کی تعریف : صفاتِ لاز مہ غیرِ مُتَضادہ وہ صفات ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں ۔ صفاتِ لازمہ غیرِ مُتَضادہ سات۷ ہیں : (۱) صفیر (۲) قلقلہ(۳) لین (۴) انحراف (۵) تکریر (۶) تفشی (۷) استطالت ۔
(1)…صفیر :
            لغوی معنی’’ سیٹی ‘‘ ، اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’سیٹی کی طرح تیز آواز ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ صَفِیْرِیَہْ‘‘ کہتے ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ صفیریہ کو اداکرتے وقت سیٹی کی طرح تیز آواز نکلتی ہے جیسے اَلصَّلٰوۃُُ میں ’’ص‘‘، حُرُوفِ صفیریہ تین ہیں اور وہ یہ ہیں : ’’ ص، ز، س‘‘ ۔
(2)… قلقلہ :
            لغوی معنی : ’’ جنبش ‘‘اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ حرف کو ادا کرتے وقت مخرج میں جنبش کے ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ قَلْقَلَہْ‘‘کہتے ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ قلقلہ کو اداکرتے وقت ان کے مخرج میں جنبش ہوتی ہے جس کی وجہ سے آواز لوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ حُروفِ قلقلہ پانچ ہیں جن کا مجموعہ’’ قُطُبُ جَدٍّ‘‘ ہے ۔
 (3)…لین :
            لغوی معنی’’ نرمی ‘‘اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ حُرُوف کو نرمی سے اداکرنے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ لین‘‘کہتے ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ لین کو ان کے مخرج سے نرمی کے ساتھ جھٹکے کے بغیر، اس طرح ادا کرنا چاہیے کہ اگر دراز کرنا چاہیں تو کرسکیں ۔ جیسے ’’خَوْفٍ، قُرَیْشٍ‘‘ حُرُوفِ لین دو۲ ہیں اور وہ یہ ہیں : ’’ و‘‘اور ’’ ی‘‘ساکن ماقبل مفتوح ۔
(4)…انحراف :
            لغوی معنی’’پھرنا‘‘اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’حُرُوف کو ادا کرتے وقت آواز کے ایک مخرج سے دوسرے مخرج کی طرف پھرنے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’ حُرُوفِ مُنْحَرِفَہْ‘‘کہتے ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ منحرفہ کو اداکرتے وقت زبان ایک مخرج سے دوسرے مخرج کی طرف پھرتی ہے ۔ حُرُوفِ منحرفہ دو۲ ہیں اور وہ یہ ہیں : ’’ ل‘‘اور ’’ر‘‘
(5)…تکریر :
              لغوی معنی : ’’ کسی چیز کا بار بار ہونا ‘‘ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں  ’’حرف کو اداکرتے وقت زبان کے سرے پر کپکپاہٹ کے پیدا ہونے کو کہتے ہیں ۔ یہ صفت ’’را ‘‘ میں پائی جاتی ہے ۔
طریقۂ ادائیگی : را کو ادا کرتے وقت نوکِ زبان میں ہلکی سی کپکپاہٹ پیدا ہونی چاہیے مگر اس میں اصلِ تکرار سے بچنا چاہیے جیسے مُسْتَطَرْ ۔
(6)… تفشی :
            لغوی معنی : ’’پھیلنا ‘‘ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ مُنہ میں آواز کے پھیلنے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ یہ صفت شین میں پائی جاتی ہے ۔
طریقۂ ادائیگی :  شین کو اداکرتے وقت اس کے مخرج میں آواز پھیل جاتی ہے جیسے ’’غَوَاشْ‘‘
(7)…استطالت :
            لغوی معنی : ’’لمبائی چاہنا ‘ ‘ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ آواز کے مخرج میں دیر تک جاری رہنے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ یہ صفت ’’ حرفِ ضَاد ‘‘ میں پائی جاتی ہے ۔
طریقۂ ادائیگی : حرفِ ضَاد کو ادا کرتے وقت زبان کا بغلی کنارہ ناجذ سے ضاحک تک بتدریج آہستہ آہستہ لگتا ہے جس کی وجہ سے آواز میں طوالت پیدا ہوتی ہے جیسے وَلَا الضَّالِیْن ۔
 نقشہ صفاتِ حروف
نمبر شمار               حروف تہجی                        صفات
1  ...       ا                          جہر              رخاوت          استفال         انفتاح          اصمات           ۔
 

    2 ...    ب                        جہر              شدّت            استفال         انفتاح          اذلاق            قلقلہ

3  ...       ت                        ہمس            شدّت           استفال         انفتاح          اصمات          ۔

4.. ث ...                       ہمس            رخاوت         استفال         انفتاح          اصمات          ۔

5 ..  ج...                       جہر              شدّت           استفال         انفتاح          اصمات          قلقلہ

6       ح...                         ہمس            رخاوت          استفال         انفتاح          اصمات          ۔
7..         خ  ...                       ہمس            رخاوت         استعلاء        انفتاح          اصمات           ۔
8         د   ...                       جہر               شدّت            استفال         انفتاح          اصمات          قلقلہ
9  ..       ذ  ...                        جہر               رخاوت          استفال         انفتاح          اصمات           ۔
10      ر...                         جہر              توسط             استفال         انفتاح          اذلاق            تکریر ، انحراف
11      ز    ....                      جہر               رخاوت         استفال         انفتاح          اصمات          صفیر
12      س  ...                      ہمس            رخاوت          استفال         انفتاح          اصمات          صفیر
13      ش  ....                      ہمس            رخاوت          استفال         انفتاح          اصمات          تفشی
14      ص....                       ہمس            رخاوت          استعلاء         اطباق            اصمات          صفیر
15      ض ...                      جہر              رخاوت          استعلاء         اطباق            اصمات          استطالت 
16      ط   ....                      جہر               شدّت            استعلاء         اطباق            اصمات          قلقلہ
17      ظ  ...                       جہر               رخاوت          استعلاء         اطباق            اصمات           ۔
18      ع  ...                       جہر               توسط             استفال         انفتاح          اصمات           ۔
19      غ   ....                      جہر               رخاوت          استعلاء         انفتاح          اصمات           ۔
20      ف   ...                     ہمس            رخاوت          استفال         انفتاح          اذلا ق             ۔
21      ق ...                        جہر               شدّت            استعلاء         انفتاح          اصمات          قلقلہ
22      ک...    ہمس            شدّت            استفال         انفتاح          اصمات           ۔