Saturday, 17 October 2026

پانچ لوگوں سے کبھی بحث نہ کریں

ایسے پانچ لوگوں سے کبھی بحث نہ کریں — اپنا وقت اور سکون ضائع مت کریں:
1۔ ضدی شخص:
جو صرف اپنی رائے کو درست سمجھتا ہے، دوسروں کی بات کو بغیر سمجھے رد کر دیتا ہے۔ نہ دلیل سنتا ہے، نہ کسی مشورے کو اہمیت دیتا ہے۔
2۔ خود کو عقل کل سمجھنے والا:
جو ہر وقت یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے سب معلوم ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے علم کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے۔
3۔ غصے میں رہنے والا:
جو معمولی بات کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا کر جھگڑے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
4۔ نفرت کرنے والا:
جو آپ کی سچائی کو بھی جھوٹ اور آپ کی نیت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس کے دل میں بغض ہو، اس سے کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوسکتی۔
5۔ مغرور انسان:
جو نہ کسی کی بات سننے کو تیار ہوتا ہے، نہ سمجھنے کو۔ نہ مشورہ چاہیے ہوتا ہے نہ سچائی کی قدر۔
یاد رکھیں:
ایسے لوگوں کے ساتھ بحث محض وقت اور توانائی کا زیاں ہے۔
خاموشی اور طاقت کا استعمال ہی ان کا سب سے بہترین جواب ہے۔

بحث و تکرار مت کرو

بحث و تکرار مت کرو
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے بھائی کے ساتھ بحث و تکرار نہ کرو، نہ اس کے ساتھ ایسا مذاق کرو (جو اسے برا لگے) اور نہ اس سے ایسا وعدہ کرو جسے تم پورا نہ کرسکو۔") سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1995)
اس حدیث میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے باہمی تعلقات کے اہم آداب بیان فرمائے ہیں، یعنی مسلمان کو اہنے بھائی کے ساتھ بلاوجہ جھگڑنے اور بحث سے بچنا چاہئے، کیونکہ یہ دلوں میں کدورت پیدا کرتی ہے۔ دلوں میں ایسا مذاق نہیں کرنا چاہئے جو دوسرے کو تکلیف دے یا اس کی دل آزاری کا سبب بنے، اور نہ ہی ایسا وعدہ کرنا چاہئے جسے پورا کرنے کی طاقت یا ارادہ نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حسنِ اخلاق، سچائی اور تعلقات کی حفاظت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنی زبان اور رویے پر قابو رکھنا چاہیے اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے ساتھ اختلاف ہو تو نرمی اور حکمت سے گفتگو کی جائے اور اگر کوئی وعدہ کیا جائے تو اسے ہر حال میں پورا کیا جائے، یہ حدیث ہمیں یقین دلاتی ہے کہ مضبوط اور پاکیزہ معاشرہ اچھے اخلاق اور ذمہ دارانہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )

پانچ کے بدلے پانچ

"پانچ 
کے بدلے پانچ"
رسول اللہ صلی اللہ 
علیہ وسلم نےفرمایا کہ پانچ 
چیزیں پانچ چیزوں کے بدلے میں ہیں، 
عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ 
وسلم وہ پانچ چیزوں کے بدلے پانچ چیزیں کیا ہیں؟ 
فرمایا: (1) جو بھی قوم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتی ہے، اِس پر ان کے دشمن مسلط کردیئے جاتے ہیں۔
(2) جو لوگ (عوام و حکمران وغیرہ) اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کریں ، تو ان پر فقیری (دوسروں کی محتاجی، بھیک) مسلط کردی جاتی ہے۔
(3) جس قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے، ان پر موت بکثرت مسلط کردی جاتی ہے۔
(4) جن لوگوں نے زكاة کو روک لیا ، ان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں۔
(5) جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی، اس قوم کی پیداوار کم ہوجاتی ہے، وہ قحط سالی میں مبتلا کردیئے جاتے ہیں۔
(الترغيب والترهيب: 2/16، صحيح الترغيب: 765، صحيح الجامع: 3240، الزواجر: 1/170)​ ( #ایس_اے_ساگر )

احد پہاڑ جتنی بڑی ڈاڑھ

یہ ایک عبرتناک واقعہ ہے، جسے علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "البداية والنهاية" (جلد 6) میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ 
 ایک لرزہ دینے والی پیشگوئی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت  کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس نے دلوں کو دہلا کر رکھ دیا:
«إِنَّ فِيكُمْ لَرَجُلًا ضَرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ»
"تم میں ایک ایسا شخص موجود ہے جس کا ایک داڑھ (دانت) جہنم کی آگ میں احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی!"
ذرا خوف اور رعب کا تصور کریں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے رہے تھے کہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص کا انجام جہنم ہوگا، اور اس کے عذاب کی شدت اور جسامت کا یہ عالم ہوگا کہ صرف اس کی ایک داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی۔
وقت گزرتا گیا:
دن گزرتے گئے اور اس مجلس میں موجود تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باری باری ایمان، اسلام اور خیر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔ بالآخر اس مجلس کے صرف دو افراد زندہ بچے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
الرَّجّال بن عَنفَوَہ (بنو حنیفہ کا ایک شخص)
"الرَّجّال بن عَنفَوَہ" کون تھا؟
الرَّجّال بن عَنفَوَہ کوئی عام شخص نہیں تھا۔ وہ بنو حنیفہ کے اس وفد میں شامل تھا جو مدینہ منورہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام لایا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا، قرآن کریم حفظ کیا، احکامِ شرعیہ سے واقفیت حاصل کی اور عبادت میں حد درجے مجاہدہ کرنے والا بن گیا۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
"الرَّجّال کا خشوع و خضوع، تلاوتِ قرآن اور نیک کاموں میں لگے رہنا حیرت انگیز تھا!"
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "وہ ہمارے پاس آنے والے وفد کے افضل ترین لوگوں میں سے تھا، حافظِ قرآن تھا، اور کثرت سے روزے رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے والا تھا۔"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شدتِ خوف سے کانپتے تھے۔ جب بھی وہ الرَّجّال کا زہد، عبادت اور شب بیداری دیکھتے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی پیشگوئی یاد آجاتی اور وہ دل ہی دل میں ڈرتے ہوئے کہتے: "کہیں وہ بدبخت شخص میں ہی تو نہیں ہوں؟"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی خوف و ترصّد میں زندگی گزارتے رہے، یہاں تک کہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ نمودار ہوا۔
فتنے کی آگ اور گمراہی کا گڑھا:
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے الرَّجّال بن عَنفَوَہ کو اہل جبل اور یمامہ کے لوگوں کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلائے، دین پر ثابت قدم رکھے اور مسیلمہ کے فتنے سے بچائے۔ لیکن جب الرَّجّال یمامہ پہنچا تو مسیلمہ کذاب نے اس کا شاہانہ استقبال کیا، اس کی سخت عزت و تکریم کی، اور اسے مال و دولت اور سونے کے لالچ میں گھیر لیا۔ مسیلمہ نے اس سے پیشکش کی کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے جا کر یہ گواہی دے دے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسیلمہ کو بھی نبوت میں شریک کیا گیا ہے، تو وہ اپنی آدھی سلطنت و مال اس کے نام کردے گا۔ افسوس کہ الرَّجّال جو عرب کے غریبوں میں سے تھا   اس دنیاوی چمک دمک اور عیش و عشرت کو دیکھ کر پھسل گیا۔ وہ اپنا ایمان، اپنی نمازیں، روزے، زہد اور قرآن سب بھول گیا۔ اس نے باہر نکل کر ان لوگوں کے سامنے جو جانتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی اور قاری ہے   جھوٹی گواہی دی اور کہا: "أنا سمعت رسول الله ﷺ يقول: إنه أشرك معه مسيلمة بن حبيب في الأمر"
"میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ بن حبیب کو اپنے ساتھ نبوت کے معاملے میں شریک فرمایا ہے۔"
دردناک اور تباہ کن نتیجہ:
الرَّجّال کا یہ مرتد ہونا مسیلمہ کے اصل فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا! کیونکہ لوگ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا صحابی اور حافظِ قرآن سمجھتے تھے۔ اس کی جھوٹی گواہی کی وجہ سے بے شمار لوگ گمراہ ہوگئے اور مسیلمہ کے لشکریوں کی تعداد 40 ہزار تک جا پہنچی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فتنے کے قلع قمع کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک عظیم لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر میں حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے (وہی وحشی جنہوں نے حالتِ کفر میں سیدالشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا)۔
حضرت وحشی رضی اللہ عنہ اسلام لا چکے تھے، لیکن جب بھی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتے تو آپ صلی علیہ وسلم کو اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ یاد آجاتے اور دل غمزدہ ہو جاتا۔ اس لئے حضرت وحشی نے عزم کیا کہ وہ اسلام کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اپنے ماضی کے اس بڑے گناہ کا کفارہ ادا کریں گے۔
معرکہ یمامہ اور عبرتناک خاتمہ:
معرکہ یمامہ شروع ہوا، جو عرب کی تاریخ کی سخت ترین اور خونریز ترین جنگوں میں سے ایک تھا۔ ابتداء میں دشمن کی کثرت کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم کچھ اکھڑے، لیکن جلد ہی صحابہ کرام اور اہل قرآن نے ثبات قدمی دکھائی اور ایک جاں بازانہ حملہ کیا۔ 
حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے اسی نیزے کے ساتھ مسیلمہ کذاب تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور اسے جہنم واصل کرکے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کیا۔
دوسری طرف الرَّجّال بن عَنفَوَہ، مسیلمہ کے دیگر مرتدین کے ساتھ جنگ میں ذلت و رسوائی کی موت مارا گیا اور کفر و خسران کی حالت میں ہلاک ہوا۔
جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کے انجام کی خبر ملی تو انہوں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ نے انہیں اس فتنے اور بدسابقہ سے بچا لیا، اور وہ پیشگوئی الرَّجّال کے بارے میں تھی، ان کے بارے میں نہیں۔ ان دونوں شخصیات کے احوال پر غور کریں تو انسان کا کانپ اٹھنا فطری ہے:
الرَّجّال بن عَنفَوَہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی، قرآن کریم کا حافظ بنا، صائم النہار اور قائم اللیل رہا... لیکن بدسابقہ اور دنیاوی لالچ کی وجہ سے انجام کفر اور جہنم پر ہوا!
حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ: اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین چچا کا قاتل تھا... لیکن اللہ نے ہدایت دی، توبہ کی توفیق ملی اور حسنِ خاتمہ نصیب ہوا!
سبق: کبھی بھی اپنی عبادت، نماز، صدقات یا علم پر غرور مت کرو، اور نہ ہی اللہ پر احسان جتاؤ۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دین پر ثبات قدمی اور حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہو، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ لوحِ محفوظ میں اس کا انجام کیا لکھا ہے!
اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَاخْتِمْ لَنَا بِخَيْرٍ.
"اے دلوں کو پھیرنے والے پروردگار! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ، ہمیں قول و فعل میں اخلاص عطا فرما، اور ہمارا خاتمہ ایمان و خیر پر فرما۔امین ثم آمین. (بشکریہ: ثناءاللہ حسین) (منقول: #ایس_اے_ساگر ) 

Friday, 16 October 2026

پریشانی اور غم دور کرنے کا ایک نبوی نسخہ

پریشانی اور غم دور کرنے کا ایک نبوی نسخہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو دایاں ہاتھ سر پر رکھ کر فرماتے:
’’بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الَلّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّیْ الْھَمَّ وَالْحُزْنَ۔‘‘
ترجمہ: اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے، اے اللہ! تو ہر فکر اور غم کو مجھ سے دور فرما دے۔‘‘ 
ایک روایت میں یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھتے اور فرماتے:
’’اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ‘‘
ترجمہ: اے اللہ! تو فکر اور غم کو مجھ سے دور فرمادے۔
عن أنس قال کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا صلی وفرغ من صلاتہ مسح بیمینہ علی رأسہ وقال: "بسم اللہ الذي لا إلہ إلا ہو الرحمن الرحیم اللہم اذہب عني الہم والحزن" (معجم اوسط طبرانی: ۳/۲۸۹، حدیث: ۳۱۷۸) (حیاۃالصحابہ: جلد ۳، صفحہ ۳۸۴،۳۸۵) (بکھرے موتی جلد نمر1 صفحہ۱۵۷) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/10/blog-post_16.html

Thursday, 15 October 2026

نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتوں کی تسبیح

نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتوں کی تسبیح
یہ تسبیح نہایت ہی عظیم الشان اور پُر فضیلت ذکر ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تسبیح کی فضیلت بیان فرمائی، وہ یہ ہے:
سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سلطنت اور بادشاہی ہے، پاک ہے وہ ذات جو عزت اور قدرت والی ہے، پاک ہے وہ ذات جو زندہ ہے اور جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، وہ پاک ہے، پاکیزہ ہے، فرشتوں اور روح کا پروردگار ہے۔
فضیلت: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ نے نور کا ایک دریا پیدا فرمایا ہے، جس کے کنارے نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں نور کے دانے (تسبیح) ہیں، اور وہ یہی تسبیح پڑھتے ہیں۔ جو کوئی بھی اس تسبیح کو دن بھر میں ایک مرتبہ، یا ماہ، یا سال میں، یا عمر بھر میں صرف ایک بار بھی پڑھ لے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، چاہے وہ گناہ سمندر کی جھاگ، میدان کی ریت کے برابر ہوں، یا وہ جہاد سے بھاگنے والا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ (ماخذ: دیلمی، کنزالعمال) (ترتیب شریف 4)
خلاصہ: یہ تسبیح گناہوں کی مغفرت، نور، فرشتوں کی تسبیح میں شمولیت اور اللّٰہ کی قُربت کا ذریعہ ہے۔ کم از کم ایک بار ضرور پڑھی جائے، اور بہتر ہے کہ روزانہ کا معمول بنایا جائے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/10/blog-post_15.html

Friday, 18 September 2026

کتابوں کی آخری ہچکی

کتابوں کی آخری ہچکی
اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور اُنہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔
اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا، اسے کتاب کہتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کررہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کررہی ہیں۔ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔
یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کرسکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کرسکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی اور پھر آپ کو یہ "آلودہ علم" فروخت کریں گی۔
ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے۔ مگر اے آئی کمپنیوں کے لئے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کے لئے محض چارہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کررہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں۔ کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں۔
یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔ معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کے لئے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں۔ اُنہیں بس ایک کام کرنا تھا۔ یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو۔ ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی) کو اے آئی ڈاٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جاسکے۔
وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لئے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یوروپ اور امریکہ میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کے لئے "کتابی چارہ" خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کردیئے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اُٹھا رہے ہیں۔
جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں اُنہیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں۔ مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم، سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ۔
ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہوجاتا۔ اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی۔ بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں "ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی" نامی دلال کمپنی کے کارندے اُٹھا رہے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک "فور او فور میڈیا" کی تحقیق کے مطابق "آئی ایس بی این ڈی بی" نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔ وہ کتابیں جو جنگوں، بدامنی، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے۔
پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کے لیے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے۔ یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا۔ اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں۔
اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے۔ مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے۔ مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں۔ (بقلم: وسعت اللہ خان) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/09/blog-post_777.html