مالدار بیوی کا اپنے محتاج شوہر کو زکوٰۃ دینا
---------------------------------
---------------------------------
فقہائے اسلام کے مابین اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا عورت اپنی زکوٰۃ اپنے غریب ومحتاج شوہر کو دے سکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اہلِ علم کے دو مشہور اقوال ملتے ہیں:
پہلا قول جواز کا ہے. بعض ائمہ کے نزدیک عورت کے لیے اپنے محتاج شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ یہ موقف فقہائے احناف میں سے حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا ہے، اور مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی ایک روایت بھی اسی کے موافق ہے۔ (دیکھیں: بدائع الصنائع (٢/٤٠)، عمدة القاري (٩/٣٢)، البحر الرائق (٢/٢٦٢)، العناية شرح الهدايۃ (٣/٢٠٦)، مواهب الجليل (٢/٣٧٧)، حاشية العدوي (١/٦٤٥)، الشرح الكبير مع حاشية الدسوقي (١/٥٠٩)، منح الجليل (١/٥٠٩)، مغني المحتاج (٣/١٠٨)، المغني (٣/٤٢٥)، نيل الأوطار (٤/٢٤٦)، شرح ابن بطال (٣/٤٩٢)، الإفصاح (١/٣٧٤)، الإنصاف (٣/٢٦١)، فتح الباري (٣/٣٢٩)
ملک العلماء علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:
قال أبو يوسف ومحمد: تدفع الزوجة زكاتها إلى زوجها
(یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک عورت اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دے سکتی ہے) (بدائع الصنائع (٢/٤٠)
اسی طرح امام طحاویؒ فرماتے ہیں:
ذهب قوم إلى أن المرأة جائز لها أن تعطي زوجها من زكاة مالها … وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله
(یعنی بعض اہلِ علم کے نزدیک عورت کے لیے اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دینا جائز ہے، اور اس قول کے قائلین میں امام ابو یوسف اور امام محمد بھی شامل ہیں)(شرح معاني الآثار (٢/٢٢)
ان حضرات نے صحیحین کی درج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے:
عن زينب امرأة عبد الله قالت: قال رسول الله ﷺ: تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن، قالت: فرجعت إلى عبد الله فقلت: إنك رجل خفيف ذات اليد، وإن رسول الله ﷺ قد أمرنا بالصدقة، فَأْتِه فاسأله، فإن كان ذلك يجزئ عني وإلا صرفتها إلى غيركم. قالت: فقال لي عبد الله: بل ائتيه أنت. قالت: فانطلقت فإذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله ﷺ حاجتي حاجتها، قالت: وكان رسول الله ﷺ قد ألقيت عليه المهابة، قالت: فخرج علينا بلال فقلنا له: ائت رسول الله ﷺ فأخبره أن امرأتين بالباب تسألانك: أتجزئ الصدقة عنهما على أزواجهما، وعلى أيتام في حجورهما؟ ولا تخبره من نحن. قالت: فدخل بلال على رسول الله ﷺ فسأله، فقال له رسول الله ﷺ: من هما؟ فقال: امرأة من الأنصار وزينب. فقال رسول الله ﷺ: أيّ الزيانب؟ قال: امرأة عبد الله. فقال رسول الله ﷺ: لهما أجران: أجر القرابة وأجر الصدقة(رواه البخاري (١٣٩٧)، ومسلم (٩٩٨)
(حضرت زینب رضی اللہ عنہا (زوجۂ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتو! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو۔“
وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے شوہر عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آئی اور عرض کیا: آپ تنگدست آدمی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ جاکر دریافت کیجیے کہ اگر میں آپ پر خرچ کردوں تو کیا یہ میرے لیے کافی ہوگا یا نہیں، ورنہ میں اسے کسی اور کو دے دوں گی۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: تم خود جا کر پوچھ لو۔
وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر پہنچی تو ایک انصاری عورت بھی اسی مقصد سے آئی ہوئی تھی اور اس کی حاجت بھی میری ہی جیسی تھی۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے خود اندر جانے کی ہمت نہ ہوئی، چنانچہ حضرت بلالؓ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کریں کہ دروازے پر دو عورتیں مسئلہ پوچھنا چاہتی ہیں: کیا اپنے شوہروں اور اپنی کفالت میں موجود یتیموں پر خرچ کرنا ان کے لیے صدقہ شمار ہوگا؟ اور ہمارا نام نہ بتائیں۔
حضرت بلالؓ اندر گئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
”یہ کون ہیں؟“
انہوں نے کہا: ”ایک انصاری عورت اور دوسری زینب ہیں۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کونسی زینب؟“
انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دوہرا اجر ملے گا: ایک قرابت داری کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر۔“)
دوسرا قول عدمِ جواز کا ہے:
جبکہ بعض ائمہ کے نزدیک عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔یہ موقف حضرت امام ابوحنیفہؒ، سفیان ثوریؒ، حسن بصریؒ اور امام احمدؒ سے منقول ایک روایت کا ہے۔
(المغني (٣/٤٢٥)، الإنصاف (٣/٢٦١)، الفروع (٢/٤٧٨)
چنانچہ حضرت امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ “المبسوط” میں لکھتے ہیں:
ولا تعطي المرأة زوجها من زكاتها؛ لأنه يجبر على أن ينفق عليها، وهذا قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لا بأس بأن تعطى المرأة زوجها من زكاتها؛ لأنها لا تجبر على أن تنفق عليه (یعنی عورت اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو نہ دے؛ اس لیے کہ شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے۔ البتہ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، کیونکہ عورت شوہر پر خرچ کرنے کی پابند نہیں)
(المبسوط) (٢/١٤٩)
اسی طرح امام کاسانیؒ فرماتے ہیں:
ولأبي حنيفة: أن أحد الزوجين ينتفع بمال صاحبه كما ينتفع بمال نفسه عرفًا وعادة، فلا يتكامل معنى التمليك
(یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے مال سے عرفاً و عادتاً اسی طرح فائدہ اٹھاتا ہے جیسے اپنے مال سے، اس لیے تملیک کا معنی مکمل طور پر متحقق نہیں ہوتا)
(بدائع الصنائع (٢/٤٠)
اور علامہ عینیؒ لکھتے ہیں:
وقال الحسن البصري والثوري وأبو حنيفة وأحمد في رواية وأبو بكر من الحنابلة: لا يجوز للمرأة أن تعطي زوجها من زكاة مالها
(یعنی حسن بصری، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور امام احمد سے منقول ایک روایت کے مطابق عورت کے لیے اپنے مال کی زکوٰۃ شوہر کو دینا جائز نہیں) (عمدة القاري (٩/٣٢)
نیز علامہ ابن قدامہؒ حنبلی فرماتے ہیں:
وأما الزوجة ففيها روايتان إحداهما: لا يجوز دفعها إليه، وهو اختيار أبي بكر ومذهب أبي حنيفة
(یعنی بیوی کے شوہر کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں دو روایتیں ہیں، جن میں سے ایک کے مطابق یہ جائز نہیں، اور یہی ابو بکر کا اختیار اور امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے) (المغني (٣/٤٢٥)
اور علامہ ابن مفلحؒ کہتے ہیں:
وهل يجوز للمرأة دفع زكاتها إلى زوجها … فيه روايتان … إحداهما: لا يجوز، وهو الصحيح
(یعنی عورت کا اپنی زکوٰۃ شوہر کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں دو روایتیں ہیں، جن میں سے ایک کے مطابق یہ جائز نہیں اور اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے)(الفروع (٢/٤٧٨)
ان حضرات کے نزدیک اس موقف کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
پہلی یہ کہ بیوی کو شوہر پر قیاس کیا گیا ہے؛ جس طرح شوہر کے لیے اپنی بیوی کو زکوٰۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں، اسی طرح بیوی کے لیے بھی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ میاں بیوی کے درمیان باہمی منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک دوسرے کے حق میں گواہی معتبر نہیں ہوتی اور شوہر بیوی کے مال کی چوری پر حد بھی قائم نہیں ہوتی۔
دوسری وجہ یہ کہ بیوی کے شوہر کو زکوٰۃ دینے میں خود بیوی کو بھی فائدہ پہنچتا ہے؛ کیونکہ اگر شوہر محتاج ہو تو زکوٰۃ کے ذریعے اسے مالی سہارا ملے گا اور وہ بیوی کا نفقہ ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اور اگر وہ پہلے سے نفقہ دینے کے قابل ہو تب بھی مالی آسودگی کے باعث اس کا اثر بالواسطہ بیوی کو پہنچے گا۔ لہٰذا ایسی صورت میں زکوٰۃ دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ (المغني (٣/٤٢٥)
حدیثِ زینبؓ کی توجیہ:
بعض ائمہ حدیث نے حدیثِ زینبؓ کو زکوٰۃ کے بجائے نفلی صدقہ پر محمول کیا ہے
چنانچہ امام نوویؒ فرماتے ہیں:
المراد به كله صدقة تطوع وسياق الأحاديث يدل عليه
(یعنی اس حدیث میں مذکور صدقہ سے مراد نفلی صدقہ ہے اور احادیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے)
(شرح النووي على صحيح مسلم (٧/٨٨)
اور مجمع الأنهر میں ہے:
قلنا هو محمول على النافلة للاشتراك في المنافع
(یعنی اس حدیث کو نفلی صدقہ پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ میاں بیوی کے درمیان منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے)
(مجمع الأنهر) (١/٢٢٤)
فقہِ حنفی میں فتویٰ عموماً صاحبِ مذہب، حضرت امام ابو حنیفہؒ کے قول پر دیا جاتا ہے، اس بنا پر احناف کے نزدیک اس مسئلے میں عدمِ جواز ہی کو راجح اور مفتیٰ بہ قول قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا حنفی فقہ کے مطابق عورت کے لیے اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے:
قال: "ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل" لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتتحقق التمليك على الكمال "ولا إلى امرأته" للاشتراك في المنافع عادة "ولا تدفع المرأة إلى زوجها" عند أبي حنيفة لما ذكرنا. وقالا: تدفع إليه لقوله "لك أجران أجر الصدقة وأجر الصلة" قاله لامرأة عبد الله بن مسعود وقد سألته عن التصدق عليه قلنا هو محمول على النافلة.(الهداية في شرح بداية المبتدي ١١١/١)
(مزکّی (زکوٰۃ دینے والا) اپنی زکوٰۃ اپنے باپ کو نہیں دے سکتا … اور نہ اپنی بیوی کو؛ کیونکہ عرف و عادت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان منافع میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک، اسی علت کی بنا پر جس کا ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک عورت اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتی ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے دو اجر ہیں: ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلۂ رحمی کا اجر۔“
یہ ارشاد آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ سے فرمایا تھا، جب انہوں نے اپنے شوہر پر صدقہ کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ (ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث نفلی صدقہ پر محمول ہے)
ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
مركز البحوث الإسلامية العالمي (ہفتہ 17؍ رمضان المبارک 1447ھ7؍ مارچ 2026ء) ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2026/03/blog-post.html

