یہ ایک عبرتناک واقعہ ہے، جسے علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "البداية والنهاية" (جلد 6) میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
ایک لرزہ دینے والی پیشگوئی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس نے دلوں کو دہلا کر رکھ دیا:
«إِنَّ فِيكُمْ لَرَجُلًا ضَرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ»
"تم میں ایک ایسا شخص موجود ہے جس کا ایک داڑھ (دانت) جہنم کی آگ میں احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی!"
ذرا خوف اور رعب کا تصور کریں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے رہے تھے کہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص کا انجام جہنم ہوگا، اور اس کے عذاب کی شدت اور جسامت کا یہ عالم ہوگا کہ صرف اس کی ایک داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی۔
وقت گزرتا گیا:
دن گزرتے گئے اور اس مجلس میں موجود تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باری باری ایمان، اسلام اور خیر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔ بالآخر اس مجلس کے صرف دو افراد زندہ بچے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
الرَّجّال بن عَنفَوَہ (بنو حنیفہ کا ایک شخص)
"الرَّجّال بن عَنفَوَہ" کون تھا؟
الرَّجّال بن عَنفَوَہ کوئی عام شخص نہیں تھا۔ وہ بنو حنیفہ کے اس وفد میں شامل تھا جو مدینہ منورہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام لایا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا، قرآن کریم حفظ کیا، احکامِ شرعیہ سے واقفیت حاصل کی اور عبادت میں حد درجے مجاہدہ کرنے والا بن گیا۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
"الرَّجّال کا خشوع و خضوع، تلاوتِ قرآن اور نیک کاموں میں لگے رہنا حیرت انگیز تھا!"
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "وہ ہمارے پاس آنے والے وفد کے افضل ترین لوگوں میں سے تھا، حافظِ قرآن تھا، اور کثرت سے روزے رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے والا تھا۔"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شدتِ خوف سے کانپتے تھے۔ جب بھی وہ الرَّجّال کا زہد، عبادت اور شب بیداری دیکھتے تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی پیشگوئی یاد آجاتی اور وہ دل ہی دل میں ڈرتے ہوئے کہتے: "کہیں وہ بدبخت شخص میں ہی تو نہیں ہوں؟"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی خوف و ترصّد میں زندگی گزارتے رہے، یہاں تک کہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ نمودار ہوا۔
فتنے کی آگ اور گمراہی کا گڑھا:
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے الرَّجّال بن عَنفَوَہ کو اہل جبل اور یمامہ کے لوگوں کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلائے، دین پر ثابت قدم رکھے اور مسیلمہ کے فتنے سے بچائے۔ لیکن جب الرَّجّال یمامہ پہنچا تو مسیلمہ کذاب نے اس کا شاہانہ استقبال کیا، اس کی سخت عزت و تکریم کی، اور اسے مال و دولت اور سونے کے لالچ میں گھیر لیا۔ مسیلمہ نے اس سے پیشکش کی کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے جا کر یہ گواہی دے دے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسیلمہ کو بھی نبوت میں شریک کیا گیا ہے، تو وہ اپنی آدھی سلطنت و مال اس کے نام کردے گا۔ افسوس کہ الرَّجّال جو عرب کے غریبوں میں سے تھا اس دنیاوی چمک دمک اور عیش و عشرت کو دیکھ کر پھسل گیا۔ وہ اپنا ایمان، اپنی نمازیں، روزے، زہد اور قرآن سب بھول گیا۔ اس نے باہر نکل کر ان لوگوں کے سامنے جو جانتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی اور قاری ہے جھوٹی گواہی دی اور کہا: "أنا سمعت رسول الله ﷺ يقول: إنه أشرك معه مسيلمة بن حبيب في الأمر"
"میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ بن حبیب کو اپنے ساتھ نبوت کے معاملے میں شریک فرمایا ہے۔"
دردناک اور تباہ کن نتیجہ:
الرَّجّال کا یہ مرتد ہونا مسیلمہ کے اصل فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا! کیونکہ لوگ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا صحابی اور حافظِ قرآن سمجھتے تھے۔ اس کی جھوٹی گواہی کی وجہ سے بے شمار لوگ گمراہ ہوگئے اور مسیلمہ کے لشکریوں کی تعداد 40 ہزار تک جا پہنچی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فتنے کے قلع قمع کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک عظیم لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر میں حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے (وہی وحشی جنہوں نے حالتِ کفر میں سیدالشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا)۔
حضرت وحشی رضی اللہ عنہ اسلام لا چکے تھے، لیکن جب بھی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتے تو آپ صلی علیہ وسلم کو اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ یاد آجاتے اور دل غمزدہ ہو جاتا۔ اس لئے حضرت وحشی نے عزم کیا کہ وہ اسلام کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اپنے ماضی کے اس بڑے گناہ کا کفارہ ادا کریں گے۔
معرکہ یمامہ اور عبرتناک خاتمہ:
معرکہ یمامہ شروع ہوا، جو عرب کی تاریخ کی سخت ترین اور خونریز ترین جنگوں میں سے ایک تھا۔ ابتداء میں دشمن کی کثرت کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم کچھ اکھڑے، لیکن جلد ہی صحابہ کرام اور اہل قرآن نے ثبات قدمی دکھائی اور ایک جاں بازانہ حملہ کیا۔
حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے اسی نیزے کے ساتھ مسیلمہ کذاب تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور اسے جہنم واصل کرکے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کیا۔
دوسری طرف الرَّجّال بن عَنفَوَہ، مسیلمہ کے دیگر مرتدین کے ساتھ جنگ میں ذلت و رسوائی کی موت مارا گیا اور کفر و خسران کی حالت میں ہلاک ہوا۔
جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کے انجام کی خبر ملی تو انہوں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ نے انہیں اس فتنے اور بدسابقہ سے بچا لیا، اور وہ پیشگوئی الرَّجّال کے بارے میں تھی، ان کے بارے میں نہیں۔ ان دونوں شخصیات کے احوال پر غور کریں تو انسان کا کانپ اٹھنا فطری ہے:
الرَّجّال بن عَنفَوَہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی، قرآن کریم کا حافظ بنا، صائم النہار اور قائم اللیل رہا... لیکن بدسابقہ اور دنیاوی لالچ کی وجہ سے انجام کفر اور جہنم پر ہوا!
حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ: اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین چچا کا قاتل تھا... لیکن اللہ نے ہدایت دی، توبہ کی توفیق ملی اور حسنِ خاتمہ نصیب ہوا!
سبق: کبھی بھی اپنی عبادت، نماز، صدقات یا علم پر غرور مت کرو، اور نہ ہی اللہ پر احسان جتاؤ۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دین پر ثبات قدمی اور حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہو، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ لوحِ محفوظ میں اس کا انجام کیا لکھا ہے!
اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَاخْتِمْ لَنَا بِخَيْرٍ.
"اے دلوں کو پھیرنے والے پروردگار! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ، ہمیں قول و فعل میں اخلاص عطا فرما، اور ہمارا خاتمہ ایمان و خیر پر فرما۔امین ثم آمین. (بشکریہ: ثناءاللہ حسین) (منقول: #ایس_اے_ساگر )