Tuesday, 23 November 2021

قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی سے اپنی ضروریات کا سوال نہ کرنے متعلق حدیث شریف کی تشریح

عنوان: قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی سے اپنی ضروریات کا سوال نہ کرنے سے متعلق حدیث شریف کی تشریح 

سوال: السلام عليكم، مفتی صاحب! حدیث کی رو سے زیادہ قرآن شریف کی تلاوت کرنے والے کو عام دعا مانگنے والوں سے زیادہ ملتا ہے، تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے افطار کے وقت قرآن کی تلاوت کرنا بہتر ہے یا دعاء مانگی جائے؟

جواب: عن ابي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يقول الرب عز وجل: من شغله القرآن وذكري عن مسالتي اعطيته افضل ما اعطي السائلين، وفضل كلام الله على سائر الكلام كفضل الله على خلقه. (سنن ترمذی حدیث نمبر: 2926)

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے اور میری یاد نے، مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا، میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوق پر ہے“۔

تشریح: محدثین کرام نے اس حدیث شریف کی تشریح میں لکھا ہے کہ جو شخص قرآن کی تلاوت میں اس قدر مشغول ہوکہ اس کو دعاء مانگنے کی فرصت نہ ملتی ہو، تو اللہ تعالی اس شخص کو ان لوگوں سے بہتر اور زیادہ عطا کرتا ہے، جو اللہ تعالی سے اپنی ضروریات کو مانگتے ہیں، یعنی قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا یہ گمان نہ کرے کہ میں نے قرآن کریم کی مشغولیت کی وجہ سے اللہ تعالی سے اپنی ضروریات نہیں مانگی ہیں تو شاید وہ نہیں دے گا، بلکہ اللہ تعالی اس کو بہتر و کامل طور پر عطاء کرےگا، کیونکہ جو اللہ تعالی کا ہوجاتا ہے، اللہ تعالی اس کا ہوجاتا ہے۔

لیکن واضح رہے کہ جن اوقات میں کوئی خاص ذکر و دعا وارد ہے، جیسے اذان و اقامت کا جواب، نمازوں کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں، صبح وشام کی دعائیں اور جمعہ کے دن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف، ان مخصوص مواقع پر یہ اذکار و دعائیں قرآن کریم کی تلاوت سے زیادہ افضل ہیں، البتہ عام اوقات میں قرآن پاک کی تلاوت زیادہ افضل ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی. نمبر 104218 (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post_23.html





Monday, 15 November 2021

عرشِ الٰہی کے سائے میں کون ہوں گے؟

عرشِ الٰہی کے سائے میں کون ہوں گے؟

”عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ اورعن ابی سعید رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلي الله عليه وسلم قال: سبعة یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لاظل الا ظلہ: امام عادل‘ وشاب نش بعبادة اللہ‘ ورجل کان قلبہ معلقاً بالمسجد اذا خرج منہ حتی یعود الیہ‘ ورجلان تحاباّ فی اللہ فاجتمعا علی ذلک وتفرّقا‘ ورجل ذکر اللہ خالیاً ففاضت عیناہ‘ ورجل دعتہ امرة ذات حسب وجمال فقال: انی اخاف اللہ‘ ورجل تصدق بصدقة فاخفاہ حتی لاتعلم شمالہ ما تنفق یمینہ: ہذا حدیث حسن صحیح“۔ (ترمذی‘ ج: ۲‘ ص:۶۲)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اس میں راوی کو شک ہے‘ مگر دوسری روایت میں تعیین ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے (عرش کے) سائے میں {قیامت کے دن} جگہ دیں گے‘ جس دن کہ عرش ِ الٰہی کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (یعنی قیامت کے دن اور وہ سات آدمی یہ ہیں): 

1: حاکم عادل۔ 

2: وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پھلا پھولا۔ 

3: وہ شخص جو مسجد سے نکلے تو اس کا دل مسجد میں اٹکا رہے‘ یہاں تک کہ دوبارہ مسجد میں چلا جائے۔ 

4: وہ دو آدمی جنہوں نے محض اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں دوستی کی‘ اس کے لئے جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے۔ 

5: وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ 

6: وہ شخص جس کو کسی صاحبِ حسب ونسب اور صاحبِ حسن وجمال خاتون نے غلط دعوت [حرام کاری کرنے کی] دی‘ مگر اس نے یہ کہہ کر اس کی دعوت رد کردی کہ: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ 

7: اور وہ شخص جس نے صدقہ کیا تو اس کو ایسا چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا؟ 

تشریح: قیامت کے دن عرش الٰہی کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا اور تمام مخلوق سائے کی محتاج ہوگی‘ پس ان حضرات کی خوش بختی وخوش نصیبی کا کیا کہنا جنہیں اس دن عرشِ الٰہی کا یہ سایہ نصیب ہوجائے! یہ سات قسم کے حضرات جن کا اس حدیث میں تذکرہ ہے‘ ان کا عمل حق تعالیٰ شانہ سے کمالِ تعلق اور کمالِ اخلاق کا آئینہ دار ہے‘ اس لئے کریم آقا کی جانب سے ان کے ساتھ اعزاز واکرام کا معاملہ کیا جائے گا۔ ان سات حضرات کے علاوہ دیگر احادیث وروایات میں کچھ حضرات کے نام بھی آتے ہیں‘ حضرت مولانا سعید احمد دہلوی قدس سرہ نے اپنے رسالے ”جنت کی کنجی“ میں ان حضرات کی فہرست درج کی ہے‘ ذیل میں وہ فہرست نمبر 8 سے حضرت موصوف کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں‘ حق تعالیٰ تمام امتیانِ محمد کو یہ دولت نصیب فرمائے: 

8: جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے۔ 

9: جو مجاہد فی سبیل اللہ کی امداد واعانت کرتا ہے۔ 

10: جو شخص مکاتب کو آزاد کرنے میں مکاتب کا ہاتھ بٹاتا ہے (مکاتب وہ غلام ہے جس کی آزادی کو اس کا آقا کسی روپے کے ساتھ مشروط کردے)۔ 

11: جو شخص کسی نیک آدمی کو محض اللہ کے واسطے دوست رکھتا ہے۔ 

12: مجاہدین کے لشکر کی امداد واعانت میں جو شخص خود بھی شہید ہوجائے۔ 

13: تجارت میں سچ بولنے والا۔ 

14: وہ شخص جس کے اخلاق اچھے ہوں اور خلق جسن سے متصف ہو۔ 

15: جو شخص موسمی دقتوں اور دشواریوں کے باوجود وضو کی تکلیف برداشت کرتا ہے۔ 

16: رات کے اندھیرے میں مسجد کی طرف جانے والا۔ 

17: جس شخص نے کسی انسان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا۔ 

18: وہ شخص جو یتیم کی پرورش اور یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔ 

19: بیوہ عورت کی خدمت کرنے والا۔ 

20: وہ شخص جو دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے اور اپنا حق قبول کرتا ہے۔ 

21: سلطانِ عادل کی نیک نیتی سے خدمت کرنے والا۔ 

22: جو شخص دوسروں کے حق میں وہ فیصلہ کرتا ہے اور وہی حکم لگاتا ہے جو اپنے لئے پسند کرے۔ 

23: جو شخص خدا کے بندوں کی خیرخواہی کرتا رہتا ہے اور ہر وقت اسی خیال میں رہتا ہے۔ 

24: جو شخص اہل ایمان کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرتا ہے اور نرمی سے پیش آتا ہے۔ 

25: جس عورت کا بچہ مرجائے تو جو شخص ایسی غم زدہ کی تعزیت کرے گا وہ بھی عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوگا۔ 

26: جو شخص صلہ رحمی کرتا ہے اور قرابت داروں کے حق کو پہچانتا ہے۔ 

27: وہ بیوہ عورت جو چھوٹے بچوں کی پرورش کے خیال سے دوسرا نکاح نہ کرے۔ 

28: جو شخص عمدہ کھانا پکائے اور اچھی غذا تیار کرے‘ پھر اس کھانے میں یتیم کو بلا کر شریک کرے۔ 

29: وہ شخص جو ہر موقع پر اللہ رب العزت کی معیت کا یقین رکھتا ہو۔ 

30: غریبوں کا وہ شکستہ طبقہ جن کی غربت اور فقیری کے باعث کوئی شخص ان کی جانب متوجہ نہ ہو‘ اگر وہ کسی مجلس میں آجائیں تو ان کو کوئی پہچانے بھی نہیں‘ خاموش اور غیرمعروف زندگی بسر کرنے والے‘ فاقوں کی مصیبت سے مرگئے لیکن کسی کو خبر نہ ہوئی‘ دنیا میں مجہول لیکن آسمانوں میں مشہور‘ لوگ ان کو بیمار سمجھتے ہیں‘ لیکن ان کو سوائے خوفِ خدا کے دوسرا مرض نہیں ہے۔ 

۳۱: قرآن کی خدمت کرنے والے‘ عام اس سے کہ حافظ ہوں یا ناظرہ خواں‘ خود بھی قرآن پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی قرآن کا مطلب بتاتے ہیں۔ 

۳۲: وہ شخص جس نے بچپنے میں قرآن سیکھا اور جوان ہوکر بھی اس کو پڑھتا رہا۔ 

۳۳: وہ شخص جس کی آنکھ محارم اللہ سے باز رہی۔ 

۳۴: وہ شخص جس کی آنکھ نے خدا کی راہ میں جاگنے کی تکلیف برداشت کی ہو۔ 

۳۵: وہ شخص جس کی آنکھ خدا کے خوف سے روتی رہتی ہے۔ 

۳۶: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔ 

۳۷: جس شخص نے کبھی اپنا ہاتھ غیرحلال مال کی طرف نہیں بڑھایا۔ 

۳۸: جس شخص نے حرام کی طرف نگاہ پھیرکر بھی نہیں دیکھا۔ 

۳۹: جو لوگ سود نہیں لیتے اور بیاج سے پرہیز کرتے ہیں۔ 

۴۰: جو لوگ رشوت نہیں لیتے۔ 

۴۱: وہ شخص جو ذکرِالٰہی کی غرض سے وقت کا شمار کرتا رہتا ہے‘ مثلاً: کب وقت ہو اور میں نماز پڑھوں۔ 

۴۲: جس نے غمگین کا غم دور کردیا اور مصیبت زدہ کی مصیبت دور کردی۔ 

۴۳: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کیا۔ 

۴۴: کثرت سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درود بھیجنے والا۔ 

۴۵: مسلمانوں کے وہ بچے جو صغرسنی کی حالت میں مرگئے ہوں۔ 

۴۶: بیماروں کی عیادت کرنے والا۔ 

۴۷: جنازے کے ساتھ جانے والا۔ 

۴۸: نفل اور فرض روزہ رکھنے والا۔ 

۴۹: حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے صحیح دوستی رکھنے والے۔ 

۵۰: جو شخص صبح کی نماز کے بعد سورہ انعام کی پہلی تین آیتیں پڑھا کرتا ہے۔ (سورہ انعام ساتویں پارے میں ہے‘ اس کی ابتدائ سے تین آیتیں شمار کر لینی چاہئیں)۔ 

۵۱: دل اور زبان دونوں سے خدا کا ذکر کرنے والا۔ 

۵۲: جن لوگوں کے دل پاک صاف اور بدن ستھرے ہیں‘ خدا کے لئے محبت کرتے ہوں‘ خدا کے ذکر کے ساتھ ان کا بھی تذکرہ ہوتا ہو‘ جہاں ان کا چرچا ہوتا ہو توان کے ساتھ خدا کا بھی تذکرہ ہوتا ہو‘ سردی کے موسم وضو کی پابندی کرنے والے‘ ذکر خدا کی طرف مائل ہونے‘ خدا کے محارم کی توہین پر غضبناک ہونے والے‘ مسجدوں کو آباد اور ان کی تعمیر میں سعی کرنے والے اور صبح کے وقت کثرت سے استغفار میں مشغول رہنے والے۔ 

۵۳: نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے والے ‘ خدا کی اطاعت کے لئے اس کے بندوں کو بلانے والے۔ 

۵۴: وہ شخص جو خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر لوگوں سے حسد نہیں کرتا‘ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرتا ہے‘ چغل خوری سے اجتناب کا عادی ہے۔ 

۵۵: جس شخص نے اپنا مال‘ اپنی جان جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کردی اورشہادت کا مرتبہ حاصل کرلیا‘ اس کے لئے عرشِ الٰہی کے نیچے ایک خیمہ بھی نصب کیا جائے گا۔ 

۵۶: وہ لوگ جو قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔

۵۷: وہ امام جس سے اس کے مقتدی راضی ہوں۔ 

۵۸: وہ موذن جو اللہ کے لئے پانچوں وقت کی اذان دیتا ہے۔ 

۵۹: وہ غلام جس نے آقائے مجازی کے ساتھ مولائے حقیقی کا بھی حق ادا کیا ہو۔ 

۶۰: وہ شخص جو لوگوں کی حاجت برابری اور مشکل کشائی کرتا ہے۔ 

۶۱: اللہ کے لئے ہجرت کرنے والا۔ 

۶۲: وہ شخص جو لوگوں میں صلح کروانے کی غرض سے سعی کرتا ہے۔ 

۶۳: وہ انسان جس کے دل نے کبھی زنا کا ارادہ نہیں کیا۔ 

۶۴: اہلِ تقویٰ (یہ سب سے زیادہ عالی مرتبہ ہوں گے)۔ 

۶۵: وہ شخص جو بات بھی کرتا ہے تو علم ہی کی کرتاہے اور سکوت بھی کرتا ہے تو علم کی بات پر سکوت کرتا ہے۔ 

۶۶: بے کار اور بے ہنر اور صنعت نہ جاننے والے انسان کی اعانت کرنے والا۔ 

۶۷: وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا‘ خدا کی راہ میں اس نے جہاد کیا‘ سچ بولتا اور امانت کو صحیح طریقے پر ادا کرتا ہے‘ غلے کی گرانی کے لئے آرزو نہیں کرتا۔ 

۶۸: وہ شخص جو مغرب کے بعد دو رکعات پڑھتا ہے اور ہررکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ گیارہ گیارہ مرتبہ قل ہو اللہ پڑھتا ہے. (اس روایت کی سند منکر ہے)۔ 

۶۹: جو ماں باپ کی نافرمانی نہیں کرتا۔ 

۷۰: ”لا الٰہ الا اللہ“ کثرت سے کہنے والا۔ 

۷۱: شہداءکی ارواح سبز پرندوں کے حواصل میں رہتی ہیں اور یہ پرندے شام کو عرشِ الٰہی کے نیچے قنادیل میں رہتے ہیں۔ 

۷۲: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سایہ رحمن میں ہوں گے۔ 

۷۳: حضرت علی کرم اللہ وجہہ لوائے حمد لئے ہوئے‘ امام حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے ہمراہ عرش کے سائے میں ہوں گے‘ ان کی جگہ حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل ہوگی۔۔۔

(((محمد شاکر الندوی ))) (صححہ: #ایس_اے_ساگر) 

https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post_15.html



Saturday, 13 November 2021

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات (پہلی قسط)

مفتی شعیب عالم

بعض غذائی مصنوعات جو کسی غیرمسلم ملک سے درآمد کی جاتی ہیں یا مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں، ان میں کوئی بنیادی یا اضافی ایسا جزء یاعنصر بھی شامل ہوتا ہے جو شرعاً ممنوع ہوتا ہے، مگر وہ جزء اتنا معمولی اور مقدار میں اتنا کم ہوتا ہے کہ پورے پروڈکٹ کے مقابلے میں اس کی نسبت بہت کم بالکل نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، مثلاً: ہزار لیٹر محلول میں ایک لیٹر الکحل ہو تو اس کی نسبت ہزارواں حصہ بنتی ہے، گویا کہ ہزار قطروں میں ایک قطرہ اور ہزار دانوں میں ایک دانہ حرام کا ہے۔ مجموعے کے مقابلے میں اس قلیل تناسب کی وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی مصنوعات کا خوردنی استعمال جائز ہے یا ناجائز؟ یہی اس تحریر کا موضوع ہے۔ دو متضاد نقطہ ہائے نظر اگر مقدار کی اس کمی کو مدنظر رکھیں اور اس کے ساتھ کچھ اور عقلی و نقلی دلائل کا اضافہ کرلیں تو بنظر ظاہر ایسے پروڈکٹ کا خوردنی استعمال جائز ہونا چاہیے، مثلاً: 

۱:۔۔۔۔۔ شراب جب بدل کر سرکہ بن جائے تو بالاتفاق وہ حلال ہوجاتی ہے، حالانکہ ماہرین کے بقول اس میں پھر بھی دو فیصد شراب کے اجزاء باقی رہتے ہیں، مگر شریعت اس مقدار کو خاطر میں نہیں لاتی اور اس کو حلال تصور کرتی ہے، لہٰذا کوئی پروڈکٹ قلیل حرام پر مشتمل ہو تو اُسے حلال ہونا چاہیے، جیسا کہ سرکہ حلال ہے۔ 

۲:۔۔۔۔۔ اگر کسی پروڈکٹ میں کسی جائز یا ناجائز عنصر کی آمیزش بہت کم مقدار میں ہو تو علاوہ صانع کے کسی اور کے لیے اس کا علم بہت مشکل قریباً ناممکن ہے، اس لیے صارف اپنی لاعلمی کی وجہ سے معذور ہے اور بعض صورتوں میں مجبور بھی ہے۔ 

۳:۔۔۔۔۔ صانع کو اس قلیل عنصر کے اظہار پر مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اگر کسی پروڈکٹ میں کسی عنصر کی مقدار دو فیصد یا اس سے کم ہے تو لیبل پر اس کا اظہار ضروری نہیں۔ 

۴:۔۔۔۔۔ جس چیز کو صارف حرام سمجھتا ہو‘ ضروری نہیں کہ وہ شریعت میں بھی حرام ہو، مثلاً: الکحل اگر چار حرام شرابوں میں کسی ایک سے کشید نہیں کیا گیا ہے اور اتنی کم مقدار میں شامل کیا گیا ہے کہ نشہ کی حد تک نہیں پہنچتا تو شرعاً اس کے استعمال کی اجازت ہے۔ امریکہ میں بھی ایک حلال تصدیقی ادارے ’’افانکا‘‘ نے کسی پروڈکٹ میں صفر اعشاریہ ایک فیصد الکحل کی اجازت دی ہے۔ 

۵:۔۔۔۔۔ صارفین کا عمومی رویہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ وہ زیادہ کھوج کرید، چھان پھٹک اور گہرائی میں جانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے، خصوصاً تحریر کو تو بہت ہی کم ملاحظہ کرتے ہیں۔ بجلی اور گیس وغیرہ کے بلوں پر متعلقہ محکموں نے ضروری قوانین درج کیے ہوتے ہیں، جان بچانے والی ادویات کے ساتھ ضروری ہدایات پر مشتمل پرچہ ساتھ ہوتا ہے، مگر لاکھوں میں شاید گنتی کے چند ہی اس کو پڑھنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں اور اگر کوئی استثنائی مثال ایسی ہوکہ کوئی صارف احتیاط پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے تو بھی اس کے لیے حقیقت تک رسائی مشکل ہے، کیونکہ ہمارے ہاں ابھی صارفین کے حقوق کے لیے یہ قانون نافذ نہیں ہوا ہے کہ پروڈکٹ پر اجزاء کا اندراج لازم ہے، اس لیے متعلقہ قانون کی عدم موجودگی یا اس کی عدم تعمیل کا یہ اثر ہے کہ کمپنیاں مبہم اور مجمل قسم کے الفاظ پروڈکٹ پر درج کردیتی ہیں، مثلاً: فلیور یا مصنوعی رنگ بھی شامل ہے، مگر وہ فلیور اور رنگ کس چیز سے بنا ہے؟ کمپنی اس کو ابہام کے دبیز پردوں میں چھپالیتی ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ پر تمام اجزائے ترکیبی درست انداز میں درج ہوں تو خود صارف کے لیے اس کا سمجھنا مشکل ہے اور جب مینوفیکچرر کسی قلیل حرام جزء کے اظہار کا پابند ہی نہیں تو صارف کے لیے باوجود خواہش و جستجو کے اصل حقیقت کا جاننا متعذر ہوجاتا ہے۔  بالفرض اگر وہ تمام اجزاء ترکیبی معلوم کرلے تو ایک جزء کئی اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ اجزاء جس سے ایک جزء مرکب ہے، کیا ہیں؟ اس کی تحقیق ایک حلال تصدیقی ادارے کے لیے تو ممکن ہے، مگر صارف کے لیے نہیں اور حلال تصدیقی ادارے بھی ابھی اپنے سن طفولیت اور عہد ِآغاز میں ہیں، چنانچہ کسی پروڈکٹ کے حلال یا حرام ہونے کے متعلق معلومات ابھی اتنی آسان نہیں جتنی اور مسائل کے متعلق آسان ہیں۔ حلال تصدیقی ادارے بھی پروڈکٹ کے اضافی مشمولات کے متعلق یا تو اپنی سابقہ معلومات اور تجربات کی بنا پر یا پھر اصل صانعین سے براہِ راست رابطہ کرکے جواب دینے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اصل صانعین یورپی ممالک ہیں۔ اٹلی، جرمنی، فرانس، ہالینڈ وغیرہ ایسے ممالک ہیں جو بڑے پیمانے پر اجزائے ترکیبی اور اضافی غذائی مشمولات تیار کرتے اور برآمد کرتے ہیں اور وہی جانتے ہیں کہ کون سی شئے کن اشیاء سے مرکب ہے۔ ہمارے جوڑیا بازار کا تاجر ہزاروں غذائی اجزاء درآمد ضرور کرتا ہے، مگر پنساری کی طرح ہر ایک کے خواص اور حقیقت اسے بھی معلوم نہیں ہوتی۔ ۶:۔۔۔۔۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ کسی پروڈکٹ کے تمام اجزاء ترکیبی معلوم کرنا چاہے تو ایسا اس پروڈکٹ کے کیمیائی تجزیے کے بغیر ممکن نہیں اور کیمیائی تجزیہ وتحلیل صارف تو درکنار کسی حلال سرٹیفیکیشن باڈی کے لیے بھی ایک مستقل نظم کے طور پر ممکن نہیں، کیونکہ مصنوعات کی کثرت، وسائل کی قلت اور مطلوبہ آلات کی عدم دستیابی سمیت بے شمار وجوہات ایسی ہیں کہ کسی حلال اتھارٹی کے لیے بھی اس معیار پر پروڈکٹ کا جانچنا ممکن نہیں۔ اسلامی ممالک میں سے ملائیشیاکے متعلق شنید ہے کہ اس نے مشکوک پروڈکٹ کے ڈین اے ٹیسٹ کو لازم قرار دیا ہے۔ یہ اقدام شرعی لحاظ سے کیا حکم رکھتا ہے اور اس کے اثرات ومضمرات کیا ہوں گے؟ اگر ہم گفتگو کا رخ اس جانب موڑ دیں تو موضوع سے دور جانکلیں گے۔ سردست مقصد یہ ہے کہ اگر ہم اس رخ سے دیکھیں سرکہ میں قلیل الکحل ہوتا ہے، مگر اس کا استعمال جائز ہے، نیز جو چیز قلیل مقدار میں شامل کی گئی ہو تو اس کا ظاہر کرنا ضروری نہیں ۔مزید یہ کہ صارف کے لیے ازخود تحقیق بہت ہی مشکل ہے اور عام علماء اوراہل افتاء کو ابھی فقہ الحلال میں اتنی ممارست نہیں کہ پوچھتے ہی چھوٹتے جواب دے دیں۔ اس کے علاوہ شریعت میں قلیل ومغلوب معاف ہوتا ہے اور شریعت کا عمومی مزاج بھی یسر وسہولت کا ہے۔ ان پہلوؤں پر سوچنے سے ذہن یہ بنتا ہے کہ کسی چیز میں حرام جزء بہت کم بالکل نہ ہونے کے برابر استعمال کیا گیا ہو تو اس کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔ 

دوسرا نقطہ نظر: عدم جواز کا پہلو 

۱:۔۔۔۔۔ اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھیں تو ایسی مصنوعات کا استعمال جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ حرام حرام ہے، اگر چہ مقدار میں کم ہواور تھوڑا حرام بقیہ حلال کو بھی حرام بنادیتا ہے، جیساکہ سو قطرے گلاب کو ایک بوند پیشاب کا ناپاک کردیتا ہے یا درسی زبان میں یوں کہہ لیں کہ نتیجہ  اخص واَرذل کے تابع ہوتا ہے۔ 

۲:۔۔۔۔۔ ہم ایسی مصنوعات کے استعمال پر مجبور بھی نہیں ہیں۔ حرام کا شیوع ضرور ہے، مگر حلال بھی دنیا سے معدوم نہیں ہوا ہے اور اگر مجبور ہوئے تو شریعت کا قانونِ ضرورت موجود ہے۔ قانونِ ضرورت کے تحت مجبور حضرات کو تو گنجائش مل سکتی ہے، مگر عام لوگوں کو اجازت نہیں ہوسکتی۔ 

۳:۔۔۔۔۔ قلت و کثرت اور غالب و مغلوب کی دلیل بھی زیادہ معقول نہیں، کیونکہ مدار قلت اور کثرت پر نہیں بلکہ اہمیت اور ضرورت پر ہونا چاہیے۔ بسا اوقات کوئی چیز مقدار میں کم مگر کردار میں بہت اہم ہوتی ہے، جیسا کہ نمک کی مقدار کم ہوتی ہے، مگر ذائقے کا مدار اس پر ہوتا ہے اور کبھی کوئی جزء قلیل ہوتا ہے، مگر وہی اہم عنصر، پروڈکٹ کی جان اور استعمال سے مطلوب ہوتا ہے، تو کیا ایسی صورت میں بھی اس فلسفے پر عمل کیاجائے گا کہ جس جزء کا تناسب بہت کم ہو اس کے استعمال کی اجازت ہے؟ جواز کی حقیقی علت ان اختلافی دلائل اور متضاد پہلوؤں کے بعد ہم حل کی طرف بڑھتے ہیں۔ اگر ہم غالب اور مغلوب کے اصول کو لیں اور یوں کہیں کہ جب حلال کو غلبہ اور اکثریت حاصل ہو تو غالب اور اکثر کا اعتبار کرتے ہو ئے پروڈکٹ کو حلال ہونا چاہیے تو شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی، کیونکہ جب حلال اور حرام جمع ہوتے ہیں تو غلبہ حرام کو حاصل ہوتا ہے: 

’’إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام‘‘ 

مشہور قاعدہ ہے۔ لہٰذا غالب اور مغلوب کا قاعدہ اس بحث میں مفید نہیں ہوسکتا، البتہ ایک دوسرے پہلو سے ایسی مصنوعات کے استعمال کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ شریعت کا عمومی مزاج یسر اور سہولت کا ہے۔ جب تنگی اور مشقت عمومی نوعیت کی ہو اور اس میں ابتلاء عام اور بچنا مشکل ہو تو پھر شریعت بڑی وسعت اور سخاوت کے ساتھ اور بہت فیاضی اور کشادہ دلی سے گنجائش پر گنجائش دیتی ہے۔ اس کے ساتھ شریعت کایہ بھی قاعدہ ہے کہ: ’’القلیل مغتفر‘‘ یعنی ’’قلیل مقدار معاف ہے۔‘‘(۱) متذکرہ قاعدہ کے ہم معنی یہ قواعد بھی ہیں: ’’القلیل کالمعدوم‘‘ یعنی ’’تھوڑا گویا نہ ہونا ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ’’الیسیر تجری المسامحۃ فیہ‘‘ یعنی ’’تھوڑے سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور اِغماض برتا جاتا ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’الیسیر معفو عنہ‘‘ یعنی ’’تھوڑا نظر انداز کردیا جاتا ہے۔‘‘ ان ملتے جلتے قواعد کے علاوہ مختلف فقہی ابواب میں بھی شریعت قلیل مقدار کو نظر انداز کردیتی ہے، مثلاً: 

۱:- کپڑوں پر سوئے کے ناکے کے برابر پیشاب کی چھینٹیں لگی ہوں تو وہ معاف ہیں۔ 

۲:- نماز کے دوران قبلہ سے معمولی انحراف ہوجائے تو نماز ہوجاتی ہے۔ 

۳:- دورانِ نماز ستر معمولی طور پر کھل جائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ 

۴:- معمولی تاخیر سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔ 

۵:- عمل قلیل نماز میں معاف ہے۔ 

۶:- روزے میں اگر بہت معمولی چیز حلق میں چلی جائے تو روزہ ٹوٹتا نہیں۔ 

۷:- زکوٰۃ میں دو نصابوں کے درمیان کی مقدار معاف ہوتی ہے۔ 

۸:- بیع میں اگر ایجاب اور قبول میں معمولی وقفہ ہو تو شریعت پھر بھی ایجاب کا قبول کے ساتھ اتصال مانتی ہے۔ 

۹:- یمین سے استثنا کرتے وقت اگر کھانسی وغیرہ کے عذر سے معمولی تاخیر ہوجائے تو شریعت اس تاخیر کو تاخیر نہیں سمجھتی۔ 

۱۰:- مبیع ،ثمن اور مدت میں معمولی جہالت معاف ہے۔ 

۱۱:- اجارہ میں اگر مدتِ اجارہ کے اندر معمولی جہالت ہو اور عام طور پر گوارہ کرلی جاتی ہو تو اس سے عقد ِاجارہ فاسد نہیں ہوتا۔ 

۱۲:- مبیع میں اگر معمولی عیب ہو تو اس کا اعتبار نہیں۔ 

۱۳:- غبن یسیر اور غررِ یسیر بھی معاف ہے۔ 

۱۴:- قربانی کے جانور میں معمولی عیب معاف ہوتا ہے۔ 

۱۵:- مردوں کے لیے ریشم کی قلیل مقدار کا استعمال جائز ہے۔ ۱۶:- جانور ذبح کرتے وقت اگر تسمیہ اور ذبح میں معمولی فصل آجائے تو اس سے جانور مردار نہیں ہوتا۔ 

۱۷:- وقف جائیداد کو اجرتِ مثل پر دینا ضروری ہے، لیکن اجرتِ مثل سے معمولی کمی جائز ہے۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ قلیل مقدار معاف کردیتی ہے، اس لیے غذائی مصنوعات میں اگر بہت قلیل مقدار میں غیر شرعی عنصر شامل ہو تو اُسے معاف ہونا چاہیے۔ قلیل سے متعلق ضروری تنقیحات ۱:۔۔۔۔۔اگر اس نظریے کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ مصنوعات میں قلیل مقدار حرام کی شمولیت معاف ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوگا کہ قلیل سے مراد کیا ہے اور کس قدر قلیل معاف ہے؟ کیونکہ قلیل کا کوئی لگا بندھا اور طے شدہ معیار نہیں۔ معاملات میں قلیل کچھ ہے تو ماکولات و مشروبات میں کچھ اور۔ فعل اور عمل کے لیے قلیل کی جو کسوٹی ہے وہ قدر اور مقدار کے لیے نہیں۔ حقوق العباد میں قلیل کا معیار جتنا سخت اور کڑا ہے، حقوق اللہ میں اتنا ہی نرم اور لچک دار ہے۔ پھرایک ہی مقدار ایک معاملہ میں قلیل سمجھ کر نظرانداز کی جاتی ہے تو دوسرے معاملے میں اس سے چشم پوشی نہیں کی جاتی، مثلاً: لوہے اور مٹی وغیرہ کے لین دین کے وقت کلو اور من کو بھی کم سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے، لیکن سونے کی خرید و فروخت ہو تو رَتی رَتی کا حساب کیا جاتا ہے، خود شریعت نے کسی جگہ چوتھائی اور کبھی تہائی اور بعض اوقات نصف سے کم کو قلیل کہا ہے۔ جب قلیل کا کوئی ایسا متعین اور لگا بندھا معیار نہیں جو تما م ہی مسائل میں اصل اور بنیاد کا کام دے سکے تو سب سے پہلے ہمیں غذائی مواد کے سلسلے میں قلیل کا معیار طے کرنا چاہیے۔ 

۲:۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ شریعت کسی چیز کے داخلی اور خارجی استعمال میں فرق کرتی ہے۔ عین ممکن ہے بلکہ امر واقعہ ہے کہ ایک ہی شئے کا خوردنی اور داخلی استعمال تو ناجائز ہو، مگراس کا بیرونی اور خارجی استعمال جائز اور حلال ہو، جیسا کہ حشرات الارض سمیت ایسی اشیاء جو پاک ہوں مگر حلال نہ ہوں تو ان کا خوردنی استعمال ناجائز اور خارجی استعمال جائز ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں داخلی اور خارجی استعمال کافرق بھی روا رکھنا ہوگا۔ 

۳:۔۔۔۔۔ یہ سوال کہ حرام کے امتزاج اور آمیزش کے بعد کسی چیز کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ صرف اور صرف صارف کے نقطہ نظر سے ہے۔ صانع کے پہلو سے مسئلے کی مختلف صورتیں ہوں گی جن کے احکام علیحدہ ہوں گے، البتہ ایک عمومی اصول کے طور پر حرام کی قصداً آمیزش جائز نہیں۔ 

۴:۔۔۔۔۔  یہ تمام بحث اس بنیاد پر ہے کہ کسی چیز میں حرام موجود ہو، لیکن بہت کم مقدار میں ہو، لیکن اگر حرام‘حرام نہ رہے، بلکہ بدل کر حلال ہوجائے، جیسا کہ انقلابِ ماہیت کی صورت میں ہوتا ہے تو قلیل وکثیر کی ساری بحث ہی ختم ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کیمیائی عمل کے نتیجے میں غذائی مواد کے ماہرین اور اہل فتویٰ حضرات قرار دیں کہ قلب ماہیت کے باعث مصنوع میں شامل کوئی حرام جزء بدل گیا ہے تو وہ پورا پروڈکٹ حلال کہلائے گا۔ ۵:۔۔۔۔۔ آخری نکتہ جو آگے بڑھنے سے پہلے ملحوظ رکھنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ شریعت کے قانونِ ضرورت کے تحت اگر کسی مجبور یا بیمار شخص کو حرام استعمال کرنے کی اجازت مل جائے تو وہ صورت ہماری گفتگو سے خارج ہے، کیونکہ ضرورت کے اصول کچھ اور ہیں۔ حواشی ومراجع ۱:…’’القلیل مغتفر‘‘ کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: ’’التطبیقات الفقہیۃ لقاعدۃ الیسیر مغتفر فی البیوع‘‘ مؤلف ھاکی بن محمد کانوریتش۔ موضوع کے متعلق مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: مفتی سفیر الدین ثاقب صاحب کا مقالہ:’’وہ مصنوعات جن میں قلیل مقدار میں حرام شامل ہو‘‘ متذکرہ مقالہ راقم کے پیش نظر رہا ہے اور اس سے بھرپور استفادہ کیا ہے، جس پر احقر اس کے مؤلف کا شکرگزار ہے۔ (جاری ہے) شعبان المعظم 1436 ھ - جون 2015ء (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

--------------------------------------------------

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات (دوسری قسط)

مفتی شعیب عالم

قلیل کا معیار جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ شریعت جس قلیل سے چشم پوشی کرتی ہے، اس قلیل کا تعین ہونا چاہیے۔لیکن جس طرح فقہ کے تمام ابواب میں قلیل کی کوئی ایک مقدار متعین نہیں، اسی طرح خاص غذائی اجناس اور ماکولات ومشروبا ت کے بارے میں بھی قلیل کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اشیاء حرام ہیں وہ مختلف اسباب کی بنا پر حرام ہیں اور جب اسباب مختلف ہیں تولا محالہ مقدار بھی مختلف ہوگی۔ وہ اسباب جن کی بنا پر شریعت کسی چیز کو حرام قرار دیتی ہے،علماء شریعت نے استقراء کے بعد قرار دیا ہے کہ پانچ ہیں: 

۱:- ضرر، 

۲:- سکر، 

۳:- خبث، 

۴:- کرامت اور 

۵:- نجاست۔ 

ان اسباب میں سے ہر سبب کا دائرہ مختلف ہے، مثلاً: کوئی چیز مضر ہو تو ضروری نہیں کہ وہ نجس بھی ہو اور جو نجس ہو تو لازم نہیں کہ وہ مسکر بھی ہو اورجومکرم ومحترم ہو تو اس کا مضر ومسکر اورخبیث ونجس ہونا لازم نہیں۔ مزید یہ کہ اشیاء مختلف ہیں،کبھی کسی شئے کا ایک جزء پاک تو دوسرا ناپاک ہوتاہے، ایک  خاص مقدار میں خبث ہوتاہے تو اس سے کم مقدار خبث سے خالی ہوتی ہے،ایک ہی شئے ایک شخص کے لیے بوجہ ضررحرام تو دوسرے کے لیے بوجہ عدم ضررحلال ہوتی ہے۔ لہٰذا قلیل کی مقدار کو اسی وقت معلوم کیا جاسکتاہے جب یہ معلوم ہو کہ اس کی حرمت مذکورہ اسبابِ حرمت میں سے کس کی بنا پرہے؟ مضرت اگر حرمت کا سبب مضرت ہو تو اس کی اتنی مقدار کا استعمال جائز ہوگا جو مضرت کا باعث نہ ہو، کیونکہ حرمت کی علت مضرت ہے اور جب مضرت نہ ہو تو پھر حرمت بھی نہیں۔ جب علت کسی شئے کا ضرر رساں ہونا ہو تو اگر کوئی چیز مفرد حیثیت سے مضر نہ ہو، لیکن مجموعہ میں جاکر وہ مضر بن جاتی ہو تو ضرر کی علت کی وجہ سے اس کااستعمال ناجائز ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ایک چیز مفرد حیثیت سے نقصان دہ ہو، لیکن خلط و ترکیب اور امتزاج وآمیزش سے اس کا نقصان دور ہوجاتا ہو تو اس کا استعمال جائز ہوگا: 

’’أما المعادن فہی أجزاء الأرض وجمیع ما یخرج منہا فلا یحرم أکلہٗ إلا من حیث أنہ یضر بالآکل۔‘‘ (۱) 

’’اگر مضر چیز کا نقصان کسی طرح جاتا رہے یامنشی میں نشہ نہ رہے تو ممانعت بھی نہ رہے گی۔‘‘ (۲) اور اسی کتاب کے دوسرے مقام پر ہے: ’’جب مضر اورغیر مضر مل جائیں اور تو اگر ملانے سے نقصان جاتا رہے تو ممانعت بھی جاتی رہے گی۔‘‘ کرامت کرامت سے مراد یہ ہے کہ وہ شئے باعثِ تکریم وتعظیم ہو۔ کائنات میں حق تعالیٰ شانہ نے انسان کو کرامت اور عزت بخشی ہے، اس لیے انسان کا کوئی جزء براہ راست کھانا یا کسی چیز میں ملاناحرام ہے اور جس شئے میں انسانی اعضاء میں سے کسی کی آمیزش ہو تو قلیل وکثیر کی تفریق کیے بغیر اس کا استعمال حرام ہے، چاہے وہ انسانی جزء خود پاک ہو، جیسے: بال ،ناخن اور ہڈی یا خود ناپاک ہو، جیسے: خون اور فضلہ وغیرہ: 

’’لو وقع جزء من آدمی میت فی قدر ولو وزن دانق حرم الکل لا لنجاستہٖ فإن الصحیح أن الآدمی لا ینجس بالموت ولکن لان أکلہٗ محرم احترامًا لا استقذارًا۔‘‘  

(۳) سکر سکر سے مراد نشہ ہے اور نشہ سے مراد یہ ہے کہ عقل مغلوب اورہذیان غالب ہوجائے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ اگر نشہ آور شئے جامد ہے تو اس کی اتنی مقدار کا استعمال جائز ہے جس سے نشہ نہ ہو، خواہ یہ مقدار پورے پروڈکٹ میں دو تین فیصد ہو یا اس سے کم زیادہ ہو، کیونکہ علت نشہ ہے اور جب نشہ نہیں تو حرمت بھی نہیں۔ اگر نشہ آور جزء سیال ہے اور چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک نہیں تو اس کے قدر غیر مسکر کا استعمال بھی جامد نشہ آور اشیاء کی طرح جائز ہے، البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اشربہ اربعہ کے علاوہ دیگر مسکرات کاخارجی استعمال جائز ہے اور داخلی استعمال صرف اس حد تک جائز ہے کہ نشہ کی حد تک نہ ہو اور استعمال سے کوئی معتد بہ غرض ہو۔ اگر نشہ آور شئے چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک ہے تو اس کا مطلقاً استعمال ناجائز ہے، خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ اور اس سے نشہ ہوتا ہو یانہ ہوتا ہو۔ جس طرح صارف کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال حرام ہے جس میں اشربہ اربعہ میں سے کوئی ایک شراب شامل ہو، ایسے ہی صانع کے لیے بھی اس حرام شراب کا ملانا حرام ہے۔ 

’’وأما النبات فلا یحرم منہ إلا ما یزیل العقلَ أو یزیل الحیاۃَ أو الصحۃَ فمزیل العقل: البنج و الخمر وسائر المسکرات۔ ومزیل الحیاۃ: السموم۔ ومزیل الصحۃ: الأدویۃ فی غیر وقتہا۔ وکأن مجموع ہذا یرجع إلی الضرر إلا الخمر و المسکرات، فإن الذی لا یسکر منہا أیضًا حرام مع قلتہٖ لعینہٖ ولصفتہٖ وہی الشدۃ المطربۃ۔‘‘  

(۴) خبث خبث سے مراد یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان اس کو طبعی طور پر ناپسند کرے اور اس کا مزاج اس سے گھن کھائے اور طبیعت نفرت کرے۔ طبیعت کا کسی شئے سے گھن کھانا بعض اوقات مقدار کی کمی بیشی کے بغیر مطلق ہوتاہے، مثلاً: ایک صحیح فطرت انسان کو خبر ملے کہ بھرے مٹکے میں ایک قطرہ پیشاب کا مل گیا ہے تو اس کی طبیعت استعمال پر آمادہ نہ ہوگی ۔ کبھی مقدار کا کم یا زیادہ ہونا خبث کے ہونے یا نہ ہونے میں اثر رکھتا ہے، مثلاً: پورے دیگ میں ایک مکھی کے گرنے سے طبیعت گھن نہیں کھاتی، اس لیے علاوہ مکھی کے دیگ کا استعمال جائز ہوگا، لہٰذا جن اشیاء کی حرمت خبث کی بنا پر ہو اگر وہ شئے خود یا اس سے بنا ہوا کوئی جزء ِ ترکیبی کسی پروڈکٹ میں ملایا گیا ہو، مگر مقدار میں اتنا کم ہو کہ طبیعت کو اس سے گھن نہ آئے تو پروڈکٹ کا استعمال جائز ہوگا۔ مگر اس پر اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فقہاء نے اس سلسلے میں جو مثالیں دی ہیں وہ عام طور وہ ہیں جن سے بچنا مشکل ہے، مثلاً: دیگ میں مکھی گر جائے یا شوربے میں چیونٹی پک جائے یا کسی چیز میں خود ہی کیڑا نکل آئے، بالفاظِ دیگر مچھر یا چیونٹی خود گرکر مرجائے تو محلول یا مطعوم کا کھانا اور بات ہے اور خود کیڑے مار مار کر شامل کرنا دوسری بات ہے۔ آج کل یہی دوسری صورت اختیار کی جاتی ہے، کیونکہ کیڑوں مکوڑوں کی باقاعدہ صنعت قائم ہوگئی ہے، ان کی افزائش کی جاتی ہے اور پھر ان سے رنگ کشید کرکے میک اپ کے سامان، ادویہ اور غذائی مواد میں ڈالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کوچنیل کیڑے سے کارمائن اور لیک نامی کیڑے سے شیلاک نکالا جاتاہے اور پھر مختلف مصنوعات میں شامل کیا جاتا ہے تو کیا صرف اس بنا پر کیڑوں مکوڑوں کے استعمال کی اجازت ہوگی کہ مجموعے میں جاکر اس کا خبث معلوم نہیں ہوتا اور استقذار ختم ہوجاتا ہے؟ اگر اس پہلو سے غور کیا جائے تو صانع کے لیے مستخبث اشیاء کو مصنوعات میں ملانا جائز معلوم نہیں ہوتا۔ دوسری طرف اگر کوئی خبث رکھنے والی شئے مثلاً:مکھی وغیرہ دیگ میں گرجائے تو فقہاء اس بنا پر اس کا استعمال جائز قرار دیتے ہیں کہ اتنی مقدار میں استخباث نہیں ہوتا، اس طرح کی تعلیل سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی شئے استخباث کی حد سے نکل جائے تو اس کا استعمال جائز ہونا چاہیے، مگر حق بات یہ ہے کہ مکھی وغیرہ کے گرنے سے خود مکھی کا نہیں بلکہ سالن کے استعمال کاجائز ہونا مراد ہے، کیونکہ مکھی پاک ضرور ہے، مگر حلال نہیں،اس میں خبث کی علت بھی ہے اور خون بھی ہے اور مکھی کاخون اگر چہ سائل نہیں مگر کھانا اس کا بھی جائز نہیں: 

’’وما لم یذبح ذبحًا شرعیًا أو مات فہو حرام ولا یحل  إلا میتتان السمک والجراد وفی معناہما ما یستحیل من الأطعمۃ کدود التفاح والخل والجبن، فإن الاحترازَ منہما غیر ممکن فأما إذا أفردت وأکلت فحکمہا حکم الذباب والخنفساء والعقرب وکل ما لیس لہٗ نفس سائلۃ لا سبب فی تحریمہا إلا الاستقذار ولو لم یکن لکان لا یکرہ فإن وجد شخص لا یستقذرہٗ لم یلتفت إلٰی خصوص طبعہٖ فإنہٗ التحق بالخبائث لعموم الاستقذار فیکرہ أکلہٗ کما لو جمع المخاط وشربہ کرہ، ذٰلک ولیست الکراہۃ لنجاستہا فإن الصحیح أنہا لاتنجس بالموت إذ أمر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بأن یمقل الذباب فی الطعام إذا وقع فیہ، حدیث الأمر بأن یمقل الذباب فی الطعام إذا وقع فیہ، رواہ البخاری من حدیث أبی ہریرۃؓ ۔‘‘   

(۵) بہشتی زیور میں ہے: ’’اسی طرح سرکہ کو مع کیڑوں کے کھانا یا کسی معجون وغیرہ کو جس میں کیڑے پڑگئے ہوںمع کیڑوں کے یامٹھائی کومع چیونٹیوں کے کھانا درست نہیں اور کیڑے نکال کر درست ہے۔‘‘ فتاویٰ مظاہرعلوم میں ہے: ’’مکھی غیر ذی دم مسفوح ہے، لہٰذا جب سالن میں گر جاتی ہے تو اس کے مرنے سے سالن ناپاک نہیں ہوتا، لہٰذا اس سالن کا کھانا شرعاً جائز قرار پایا ،اور چونکہ مکھی منجملہ خبائث کے ہے اور تمام خبائث کا کھانا حرام ہے، لہٰذا مکھی کا کھانا اور کھلانا حرام ہوگا۔‘‘   (۶) نجاست:  پروڈکٹ میں کوئی نجس چیزملانا نہ تو صانع کے لیے جائز ہے اور نہ ہی صارف کے لیے اس کا استعمال جائز ہے، کیونکہ نجس چیز کے ملنے سے مجموعہ نجس ہوتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ حرام مقدار کم اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ نجس جزء پر مشتمل پروڈکٹ کا داخلی استعمال منع ہے، البتہ اس حکم سے استثنا ء صرف اس صورت میں مل سکتا ہے جب نجس چیز نہ چاہتے ہوئے بھی کسی شئے میں شامل ہوجائے اور اس سے بچنا بھی مشکل ہو اور خود نجس چیز مقدار میں بہت معمولی ہو، مثلاً: چوہے کی مینگنی گندم میں پس جائے یا دودھ دوہتے وقت ایک دو مینگنیاں دودھ میں گرجائیں اور ٹوٹنے سے پہلے نکال دی جائیں اور دودھ میں اس کا کوئی اثر بھی ظاہر نہ ہو۔  (۷) حاصل بحث حاصل یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی شئے مضرت یا خبث کی وجہ سے حرام ہو، مگر مجموعے میں جاکر اس کا خبث دور ہوجائے اور مضرت نہ رہے تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔ اگر کسی چیز میں چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک شامل ہو تو وہ پروڈکٹ نجس ہونے کی بنا پر حرام ہے، اگر چہ شراب کی مقدار نشہ کی حد تک نہ پہنچتی ہو اور اگرنشہ کی حد تک چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک شامل ہے تو سکر کی وجہ سے بھی اس کا استعمال حرام ہے۔ اگرچار شرابوں کے علاوہ کوئی شراب شامل ہو اور پروڈکٹ مسکر نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے۔ اگر پروڈکٹ میں انسان کاکوئی جزء یا اس سے ماخوذ کوئی جزء شامل ہے یا کوئی نجس شئے شامل ہے تو اس کا داخلی استعمال جائز نہیں۔  

--------------------------------

حواشی ومراجع نوٹ: اس موضوع پر مزید دیکھیں: ’’وہ مصنوعات جن میں قلیل مقدار میں حرام شامل ہو‘‘ از مفتی سفیرا لدین ثاقب ۱:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲، ص:۹۲        ۲:…بہشتی زیور، حصہ نہم، ص: ۹۸ ۳:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۳    ۴:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۲ ۵:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۲-۹۳    ۶:…کتاب الحظر والإباحۃ، باب الأکل والشرب،ج:۱، ص:۲۹۸،ط:مکتبۃ الشیخ ۷:…’’مبحث فی بول الفأرۃ وبعرہا وبول الہرۃ (قولہٗ: وکذا بول الفأرۃ إلخ) اعلم أنہ ذکر فی الخانیۃ أن بول الہرۃ والفأرۃ وخرأہا نجس فی أظہر الروایات یفسد الماء والثوب ولو طحن بعر الفأرۃ مع الحنطۃ ولم یظہر أثرہ یعفٰی عنہ للضرورۃ. وفی الخلاصۃ:  إذا بالت الہرۃ فی الإناء أو علٰی الثوب تنجس ، وکذا بول الفأرۃ ، وقال الفقیہ أبو جعفر: ینجس الإناء دون الثوب الخ۔ قال فی الفتح: وہو حسن لعادۃ تخمیر الأوانی، وبول الفأرۃ فی روایۃ لا بأس بہ، والمشایخ علی أنہ نجس لخفۃ الضرورۃ بخلاف خرئہا ، فإن فیہ ضرورۃ فی الحنطۃ الخ۔ والحاصل أن ظاہر الروایۃ نجاسۃ الکل . لکن الضرورۃ متحققۃ فی بول الہرۃ فی غیر المائعات کالثیاب ، وکذا فی خرء الفأرۃ فی نحو الحنطۃ دون الثیاب والمائعات۔ وأما بول الفأرۃ فالضرورۃ فیہ غیر متحققۃ إلا علٰی تلک الروایۃ المارۃ التی ذکر الشارح أن علیہا الفتوی ، لکن عبارۃ التتارخانیۃ : بول الفأرۃ وخرؤہا نجس، وقیل بولہا معفو عنہ وعلیہ الفتوی . وفی الحجۃ الصحیح أنہٗ نجس الخ۔ ولفظ الفتوی وإن کان آکد من لفظ الصحیح إلا أن القول الثانی ہنا تأید بکونہٖ ظاہر الروایۃ، فافہم ۔ لکن تقدم فی فصل البئر أن الأصح أنہٗ لا ینجسہ وقد یقال: إن الضرورۃ فی البئر متحققۃ ، بخلاف الأوانی؛ لأنہا تخمر کما مرّ فتدبر۔‘‘ (رد المحتار،ج:۲، ص: ۴۷۶) رمضان المبارک 1436ھ - جولائی 2015  (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

---------------------------------

گوشت کے علاوہ ماکولات ومشروبات کے احکام

مفتی شعیب عالم

زندگی آمد برائے بندگی

کھانا پینازندگی کے لیے ہے اورزندگی بندگی کے لیےہے۔ارشاد باری تعالی ہے کہ جن وانس کی پیدائش کا مقصدعبادت ہے۔

ضرورت  اورعبادت

کھانا پینا انسان کی ضرورت ہے لیکن  اگرانسان اپنی اس طبعی  ضرورت کو پوراکرنے میں حلال وحرام کاخیال رکھے تو یہی ضرورت اس کی عبادت  بن جاتی ہے۔

بندے کے حق  کی برتری

انسان کی غذائی ضرورت كا شريعت كو اس قدرلحاظ ہے كہ جب اسے مردار کے علاوہ كچھ ميسرنہ ہواوربھوک سےجان جانے كا خوف ہوتواسے بقدرضرورت مردار كھانالازم ہے یوں شریعت اپنے حق کے مقابلے میں بندے کی ضرورت کو فوقیت دے دیتی ہے۔

لطیف انسانی جذبات کی رعایت

غذا انسانی ضرورت ہے مگرانسانی طبیعت چاہتی ہے کہ غذا لذید اورمزیدار ہو،پانی  شیریں  اورخوش گوار ہو،شریعت نےانسان کے  ان لطیف جذبات اورباریک احساسات کا بھی بھرپورخیال رکھا ہے چنانچہ غذاؤں میں عمدہ اورمرغوب اشیاء کو حلال کیا ہے  جن کو طیبات کہاجاتا ہےتاکہ غذائی ضرورت کے ساتھ ساتھ انسا ن کی فطری  جذبات کی رعایت اورجمالیاتی ذوق کی تسکین ہو۔

فلسفہ شریعت سے آگاہی

جن اشیاء کو شریعت نے حلال یا حرام کیا ہے ان کے پس پشت فلسفے کو بھی شریعت نے بیان کردیا ہے جن کو مقاصد شریعت کہا جاتا ہے تاکہ انسان پوری بصیرت کے ساتھ حکم شریعت پر عمل پیراہوسکے۔

حلال وحرام حق شریعت

حلال کاوہ ہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے اورحرام وہ ہے جس سےشریعت نے منع کیاہے۔دونوں صورتوں میں اتھارٹی صرف شریعت کے پا س ہے،اس لیے کوئی انسان نہ اپنی عقل سے کسی چیز کو حلال قراردے سکتا ہے اورنہ اسے حرام  کرسکتا ہے،اگر وہ ایسا کرتا ہے تو شریعت کے منصب کو سنبھالتا ہے۔

اباحت اصل ہے

اگر کسی شے کے متعلق حلال یا حرام کی صراحت نہ ہوتوگوشت وغیرہ چند اشیاء کو چھوڑکر وہ حلال  سمجھی جائے گی ۔اس کو شریعت  کی زبان میں یوں بیان کہا جاتا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔

اباحت کے اصل ہونے کا مطلب

اباحت کے اصل ہونے کامطلب یہ ہے کہ اس کے لیے دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اصل دلیل کا محتاج نہیں ہوتا جب کہ حرمت عارض ہے اورعارض کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی  ہے۔

حلت کے طرح طہارت بھی اصل ہے

جس طرح اصل اباحت ہے اورحرمت کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اسی طرح اصل طہارت ہے اورنجاست کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔اس اصول کی رو سے جب تک کسی شے کی حرمت یا نجاست پر دلیل قائم نہ ہو اس وقت وہ حرام یا نجس نہیں سمجھی جائے گی ۔

حلت وطہارت کے رفع کے لیے دلیل ضرورت 

جب حلت اورطہارت اصل ہیں تو ان کے رفع کے لیے بھی اتنی ہی قوی اورٹھوس دلیل کی ضرورت ہوگی  چنانچہ محض شک اوروہم سے کسی چیز کو حرام یا نجس نہیں قراردیاجاسکےگا۔

بے جاکھود کرید کی ممانعت 

بعض لوگ اپنے گمان میں احتیاط اس میں سمجھتےہیں کہ کسی چیز کو حرام قراردے دیا جائے، جب کہ اصول یہ ہے کہ اگرکسی شے کے متعلق دلائل متعارض ہوں تو احتیاط پرعمل ہوگا مگراحتیاط یہ نہیں کہ کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ اصل پرعمل کیا جائے اور اصل اباحت  اورطہارت ہے۔اگرچہ بحیثیت مسلمان ہمیں  محتاط زندگی گزارنی ہےخصوصاغذائی مصنوعات میں بے احتیاطی ہمارےدین اورصحت دونوں کے لیے سخت  مضر ہے مگر اس کے باوجود جب تک کوئی دلیل یا ظاہر ی علامت کسی شے کی حرمت یا نجاست کے متعلق موجود نہ ہواس وقت ہمیں  زیادہ چھان پھٹک  اورگہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

حلال اشیاء

اوپر گزراکہ حلال وہ ہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو۔اس کی مختصروضاحت یہ ہے کہ  جمادات سب کے سب حلال اور پاک ہیں البتہ کسی جامد چیز کا اتنی مقدار میں استعمال جائز نہیں جو مسکر ہو یا مضر ہو۔ مضر میں ممانعت کی وجہ ضرر اور مسکر میں سکر ہے اس لیے اگر ضرر اور سکر دور کردیا جائے تو ممانعت بھی نہ  رہے گی ۔جو حکم جمادات کا ہے وہی نباتات کا بھی ہے۔

حیوانات میں سے انسان اپنی حرمت کی وجہ سے اور اس کا فضلہ نجاست کی وجہ سے اور خنزیر نجس العین ہونے کی وجہ سے اور کیڑے مکوڑے خبث کی وجہ سے حرام ہیں۔ بحری حیوانات میں سوائے مچھلی کے سب حرام ہیں۔جو مچھلی مرکر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگے جسے سمک طافی کہتے ہیں اس کاکھانا بھی حرام ہے۔

حرام اشیاء

1:۔مچھلی کے علاوہ پانی کے تمام حیوانات اور ان کے اجزاء ،۲:۔کیڑے مکوڑے، ۳:۔خشکی کے وہ تمام جانور جن میں دم سائل نہ ہو، ۴:۔وہ تمام جانور جن کو شرعی ذبح کیاجائے ان کے تمام اعضاء سوائے دم مسفوح کے سب پاک ہوجاتے ہیں، ۵:۔مردار کے بال، ناخن، سینگ، پر، وغیرہ، ۶:۔مردار کی کھال اور اعضاء جلدی، جیسے: مثانہ، اوجھ،پتہ،پوست،سنگدانہ وغیرہ دباغت سے پاک ہوجاتے ہیں، ۷:۔سانپ اور چھپکلی جب کہ بالشت بھر سے چھوٹے ہوں، ۸:۔وہ غیر مسفوح خون جو رگوں ،گوشت یا جلد میں رہ جائے، ۹:۔حلال پرندوں کے فضلات، ۱۰:۔ایسے حیوانات کا فضلہ جس سے احتراز بہت مشکل ہو اور اس میں عموم بلویٰ ہو جیسے: مکھی کی بیٹ اور ریشم کے کیڑے کا فضلہ، ۱۱:۔حلال پرندوں کا لعاب، پسینہ اور میل، ۱۲:۔ انسان کا لعاب، پسینہ، میل، آنسو اور قے قلیل، ۱۳:۔ کیڑوں کا لعاب جن سے گھن نہ آتی ہو، ۱۴:۔ جامد شئے بقدر نشہ، ۱۵:۔ نباتات بقدر نشہ، ۱۶:۔ غیر ماکول زندہ جانور سے الگ کیا ہوا ایسا عضو جس میں حس نہ ہو ، ۱۷:۔ الکحل جوانگور وکھجور کے علاوہ کسی اور شئے سے کشید کیا گیا ہو، ۱۸:۔ عورت کا دودھ علاوہ شیرخوار کے کسی اور کے لیے،اگر شوہر خود شیرخوارگی کی عمر میں ہو اور بیوی کا دودھ پی لے تو حرمت کے ساتھ نکاح کے فسخ کا باعث ہے، ۱۹:۔ ذبح کے بعد جو خون رگوں اور جلد میں رہ جاتا ہے اور دم کبد وطحال کے علاوہ جو خون غیر مسفوح ہو وہ بھی پاک ہے، مگر حلال نہیں۔

ناپاک اشیاء

۱:۔ جو جانور شکار کرکے کھاتے رہتے ہیں، ۲:۔جو جانور شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو، ۳:۔حرام شرابیں، ۴:۔زندہ جانور سے جدا کیا ہوا ایسا عضو جس میں حس ہو، ۵:۔مردار سوائے چنداعضاء کے، ۶:۔خنزیر، ۷:۔ ان جانوروں کا دودھ جن کا گوشت کھانا حرام ہے، ۸:۔مردار کا انڈا اگر چہ اُسے ذبح کیا گیا ہو، ۹:۔ حلال جانور کا گندا انڈا جب خون بن جائے ۔

اسباب حرمت 

شریعت جن وجوہات کی بناپرکسی چیز کو حرام قراردیتی ہے وہ درج ذیل ہیں :

1۔ کرامت 2۔ نجاست 3۔ اسکار4۔ استخباث 5۔ اضرار

کرامت 

کوئی انسانی عضو یا انسانی عضو سے ماخوذ کوئی جزء کسی مصنوع میں شامل ہو تو احترام آدمیت کی وجہ سے اس کا استعمال حرام ہے، خواہ وہ انسانی عضو بذات خود پاک ہو یا ناپاک ہو۔

نجاست 

جو چیز گندی اور پلید ہے اس کا کھانا جائز نہیں جیسے پیشاب، بہتا خون، پیپ، جو جانور شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو، حرام شرابیں، زندہ جانور سے جدا کیا ہوا ایسا عضو جس میں حس ہو، خنزیر، ان جانوروں کا دودھ جن کا گوشت کھانا حرام  ہے، مردار کا انڈا اگرچہ اسے ذبح کیا گیا ہو، حلال جانور کا گندا انڈا جب خون بن جائے۔ ہر جانور کی قے کا وہی حکم ہے جو اس کی بیٹ کا ہے، اگر بیٹ پاک ہے تو قے بھی پاک ہے اوراگر بیٹ نجاست غلیظہ ہے جیسے مرغی تو قے بھی نجاست غلیظہ ہے اور اگر بیٹ نجاست خفیفہ ہے جیسے کوا تو قے بھی نجاست خفیفہ ہے۔ جس چیز کے اندر کیڑا ریزہ ریزہ ہوگیا ہو وہ پاک ہے مگر اس کا خوردنی استعمال جائز نہیں البتہ اس اصول سے ٹڈی مستثنیٰ ہے۔ بڑی دیگ میں اگر مکھی گرجائے تو دیگ ناپاک نہیں ہوتی، مگر مکھی کا کھانا پھر بھی جائز نہیں رہتا۔ پھلوں کےاندراگر کیڑے پڑگئے ہوں مگر ان میں روح نہ پڑی ہو اور انہیں نکالنا مشکل ہو تو پھل کی تبعیت میں انہیں کھانا جائز ہے۔ جس پروڈکٹ میں کارمائن شامل ہواس کا خوردنی استعمال جائز نہ ہوگا کیونکہ کیڑے  سے حاصل کردہ رنگ ہے البتہ شیلک کا استعمال جائز ہے کیونکہ کیڑے کے ریزش ہے البتہ شرط ہے کہ قلیل مقدارمیں ہواوراس سے گھن نہ آتی ہے۔

اسکار 

اسکار سے مراد یہ ہےکہ کوئی چیز نشہ آور ہو۔ جواشیاء نشہ آور ہیں، وہ دوقسم پر ہیں:1:۔سیال2:۔غیرسیال ،جو سیال ہیں،ان کی پھر دو قسمیں ہیں:۱:۔چار حرام شرابیں۲:۔چار حرام شرابوں کے علاوہ اور شرابیں۔جو چار شرابیں حرام ہیں وہ نجس بھی ہیں اور حرام بھی ہیں اور اس کے علاوہ جو دیگر شرابیں ہیں،وہ پاک ہیں۔جو خشک اشیاء ہیں اور نشہ آورہیں، جیسے: افیون اور بھنگ وغیرہ وہ پاک ہیں اور نشہ سے کم مقدار ان کااستعمال جائز ہے۔الکحل اگر انگوریا کھجور سے کشید کردہ نہ ہوتو پاک ہے اوراتنی مقداراس کا استعمال جائز ہو جو نشے کی حدتک نہ ہو۔جو گیس الکحل سے کشید کی جاتی ہے وہ بھی پاک ہے کیونکہ ایک تو وہ چارحرام شرابوں میں سے کسی ایک سے کشید نہیں جاتی اوردوسرے یہ کہ  فقہاء نے نجاست کے دھویں پاک قراردیا ہے۔ مائع اشیاء  جیسے تیل،شہد اور شراب کی تہہ میں جو تلچھٹ رہ جاتی ہے جسے دردی کہتے ہیں،یہ عام شرابوں کی طرح حرام اورنجس  ہےاوراس سے فائدہ اٹھانا ناجائز  وحرام ہے اور جس پروڈکٹ میں دردی خمر شامل ہو اس کا استعمال جائز نہیں ۔

خبث

کبھی کوئی شے خبث کی وجہ سے حرام ہوتی ہے۔خبث  کا مطلب ہے جن سے ایک سلیم الطبع انسان کوگھن آتی ہو۔جملہ حشرات الارض اس علت کی بنا پر حرام ہیں کہ ان میں خبث ہوتا ہے۔ خبیث ہونے کے ساتھ کوئی شئ پاک بھی ہوسکتی ہے  جیسا کہ مچھلی کے علاوہ دیگر دریائی جانوروں میں  خبث ہے مگر وہ پاک بھی ہیں۔پاک ہونے کی وجہ سے ان کا خارجی استعمال جائز ہے اور حلال نہ ہونے کی وجہ سے ان کاکھانا جائز نہیں۔الغرض خبث اور حلت جمع نہیں ہوسکتے مگر خبث اور طہارت جمع ہوسکتےہیں۔جس چیز کے اندر کیڑاریزہ ریزہ ہوگیا ہووہ پاک ہے مگر اس کاخوردنی استعمال جائز نہیں البتہ اس اصول سے ٹڈی مستثنیٰ ہے۔ بڑی دیگ میں اگر مکھی گر جائے تو دیگ ناپاک نہیں ہوتی، مگر مکھی کا کھانا پھر بھی جائز نہیں رہتا۔پھلوں کےاندراگر کیڑے پڑگئے ہوں  مگر ان میں روح نہ پڑی ہواورانہیں نکالنامشکل ہوتو پھل کی تبعیت میں انہیں کھاناجائز ہے۔ جس پروڈکٹ میں کارمائن شامل ہواس کاخوردنی استعمال جائز نہ ہوگا کیونکہ کیڑے  سےحاصل کردہ رنگ ہے  البتہ شیلک کااستعمال جائز ہے کیونکہ کیڑے کے ریزش ہے البتہ شرط ہے کہ قلیل مقدارمیں ہواوراس سے گھن نہ آتی ہے۔

مضرت 

آخری اصول جس کی وجہ سے کوئی چیز حرام ہوتی ہے وہ مضرت ہے۔مضرت سے مراد ان کانقصان دہ اورضرررساں ہونا ہے۔ ضرر رساں اشیاء میں اصل حرمت ہے۔ضررسے مراد یہ یہ ہے کہ دین ،عقل ،مال  اور نسل کے لیے نقصان دہ ہو۔اگر مضر اشیاء کا ضرر دور کردیا جائے تو وہ حرام بھی نہیں رہتی ،مگرجن چیزوں کو شریعت نے صراحت کے ساتھ حرام کردیا ہے وہ حرام ہی رہیں گی خواہ اس کے استعمال سے ظاہری اور فوری نقصان ہو یا نہ ہو۔یہ بھی ضروری نہیں کوئی شی  بہرصورت مضر ہو  بلکہ عام طبائع کے لیے اس کا مضر ہونا کافی ہے اور ضرر کا بھی صرف غلبہ ظن ضروری ہے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شی ایک شخص کے لیے مضر ہونے کی بنا پر حرام ہو اور دوسرے کے لیے مضر نہ ہونے کی بنا پر حرام نہ ہواور جو اشیاء مفید اور مضر دونوں پہلو رکھتی ہوں ان میں غالب کا اعتبار ہوگا۔

اسباب حرمت کے مابین نسبت

جو چیز ناپاک ہے اس کا کھانا حرام ہے، مگر جو پاک ہے ضروری نہیں کہ اس کا کھانا حلال ہو جیسے: مچھلی کے علاوہ سمندری اشیاء اور زہر بقدرغیر مضر، مٹی اور کیڑے مکوڑے وغیرہ پاک ہیں، مگر حلال نہیں۔ ہرنجس حرام ہے مگر ہر حرام نجس نہیں، جیسے پیشاب نجس بھی ہے اور حرام بھی، مگردم غیر مسفوح حرام ہے مگر نجس نہیں۔

مرکبات کاحکم

نجس اور غیر نجس مل جائیں تو وہ نجس ہوتے ہیں ۔ اگر نجاست غالب  ہوتو اس کا حکم نجس العین کا ہےاور اگر نجاست مغلوب ہو تو وہ نجس تو ہے مگر خارجی استعمال اس کا جائز ہے۔اگر مضر اور غیر مضر مل جائیں اور ضرر جاتا رہے یا خبیث اورغیرخبیث مل جائیں اور خبث جاتا رہے تو ضرر اور خبث کی بنا پر پائی جانے والی حرمت بھی ختم ہوجاتی ہے۔اگرمضر کا ضرر،مسکر کا سکر اور خبیث کا خبث دور ہوجائے تو حرمت بھی دور ہوجاتی ہے۔نجس چیز اگر نجس العین ہے تو سوائے تبدیل ماہیت کے طہارت کا اور کوئی طریقہ نہیں اور اگر متنجس ہے توانقلاب ماہیت سے بھی پاک ہوسکتا ہے اور نجاست کے اجزاء الگ کرنے سے  بھی پاک ہوسکتا ہے۔

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات کاحکم

بعض ملکی یا غیرملکی   غذائی مصنوعات میں  قلیل مقدار میں کوئی ناجائز عنصر یا جزء بھی شامل ہوتاہے، مگر وہ جزء مقدار میں اتنا کم ہوتا ہے کہ پورے پروڈکٹ کے مقابلے اس کی نسبت  نہ ہونے کی برابر ہوتی ہے، ایسی مصنوعات کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شئ مضرت یا خبث  کی وجہ سے حرام ہو مگر مجموعے میں جاکر اس کا خبث دور ہوجائے اور مضرت نہ رہے تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔اگر کسی چیز میں چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک شامل ہو تو وہ پروڈکٹ نجس ہونے کی بنا پر حرام ہے، اگر چہ اس  میں نشہ نہ ہو۔اگر پروڈکٹ میں انسان کاکوئی جزء  یا اس سے ماخوذ کوئی جزءشامل ہے یا کوئی نجس شئ شامل ہے تو اس کا داخلی استعمال جائز نہیں۔اگر تبدیل ماہیت کی وجہ سے حرام تبدیل ہوگیاہو تو اس کااستعمال جائز ہے ،اگر چہ صانع کے لیے بالقصدکوئی حرام چیز کسی مصنوع میں شامل کرنا جائز نہیں۔( )

غیر شرعی نام یا شکل والے مصنوعات

ایسے حلال  پروڈکٹ کوحلال تصدیقی شہادت فراہم نہیں کی جانے چاہیے جس کانام غیر شرعی ہوجیسے ہاٹ ڈاگ  یا جو صلیب ،بت یا جان دار  کی شکل میں   ہو۔

داخلی اور خارجی استعمال

شریعت اشیاء کے داخلی اور خارجی استعمال میں فرق کرتی ہے۔۱:۔نجس کا داخلی اور خارجی استعمال ناجائز ہے۔۲:۔متنجس کا خارجاً استعمال جائز ہے، بشرطیکہ نجاست غالب نہ ہواور اگر نجاست کا غلبہ ہو تو وہ نجس العین کے حکم میں ہے۔۳:۔ جو چیز سیال نہ ہو اور نشہ آور ہو، جیسے افیون اور بھنگ وغیرہ ان کی اتنا مقدار کھالینا جو نشہ نہ کرے اور مقصد لہو ولعب نہ ہوجائز ہے اور اس دوا کا لگانا بھی جائز ہے جس میں یہ چیزیں شامل ہوں اور اتنا کھانا کہ نشہ ہوجائے حرام ہے۔۴:۔چارحرام شرابوں کے علاوہ اور شرابوں کا خارجی استعمال جائز ہے اور داخلی استعمال بھی کسی معتد بہ غرض کے لیے جائز ہے۔۵:۔جمادات اور نباتات کا خارجی استعمال جائز ہے۔۶:۔حشرات الارض کا خارجی استعمال جائز ہے۔۷:۔ غیر ماکول اللحم جانور بھی اگر ذبح کردیا جائے تو پاک ہوجانے کی وجہ سے اس کا خارجی استعمال جائز ہوجاتا ہے، البتہ خنزیر اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہے۔ ایک ضمنی اختلاف یہ بھی ہے کہ ذبح سے مراد ذبح شرعی ہے یا مطلق ذبح کافی ہے۔۸:۔ مردار کے بعض اعضاء جیسے بال، ہڈی، ناخن وغیرہ کا بھی بیرونی استعمال جائز ہے، اسی طرح مردار کی کھال اور آنتوں اور جھلیوں وغیرہ کا دباغت کے بعد خارجی استعمال جائز ہے۔۹:۔ حلال جانور اگر مرجائے تو اس کے تھنوں کا دودھ پاک اور حلال ہے۔۱۰:۔ حرام جانور جو دم سائل رکھتا ہو وہ اگر چہ ذبح سے پاک ہوجاتا ہے، مگر اس کا انڈا پھر بھی ناپاک رہتا ہے۔اسی طرح ذبح کے مقام پر جو خون لگا رہ جاتا ہے وہ بھی دم مسفوح ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

غیرمسلموں کی خشک خوردنی اشیاء اوربرتنوں کا حکم:

ذبیحہ تو صرف مسلمان اور کتابی کا حلال ہے، مگرذبیحہ کے علاوہ اور خشک خوردنی اشیاء مثلاً: پھل فروٹ،اجناس وغیرہ ہر کافر ومشرک کے ہاتھ کے جائز وحلال ہیں۔جن اشیاء میں صنعت کی ضرورت پڑتی ہے، ان میں چونکہ ان کے ہاتھ اور برتن کا استعمال ہوتا ہے، اس لیے بلاضرورت شدیدہ استعمال نہ کرے، البتہ اگر طہارت کا اورکسی حرام چیز کی عدم شمولیت کا یقین ہو تو پھر استعمال میں حرج نہیں۔

عموم بلوی ٰ

عموم بلویٰ جس طرح طہارت اور نجاست میں باعث تخفیف ہے، اسی طرح حلت وحرمت میں بھی باعث تخفیف ہے پھلوں کی بیع   اورمخابرہ  کے مسئلہ میں اسی عموم بلوی کی وجہ سے جواز کا فتوی دیاجاتا ہے۔

افواہوں  کاحکم

بے بنیاد خبروں، جھوٹی افواہوں،غیر مصدقہ اطلاعات اور محض عوامی شہرت کا کوئی اعتبار نہیں، جب کہ پس پشت کوئی سند اور دلیل نہ ہو۔ (لنک) (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post_13.html





Wednesday, 10 November 2021

عذرشرعی کیا ہے اور معذور شرعی کسے کہیں گے؟

عذرشرعی کیا ہے اور معذور شرعی کسے کہیں گے؟

⭕ سوال: عذرشرعی کیا ہے اور معذور شرعی کسے کہیں گے؟

🟢 ۱... بالکل ہی قیام یا سجدے پر قادر نہ ہو مثلا پیر ہی نہ ہو وغیرہ

۲... بالکل معذور تو نہیں لیکن تنہا کھڑے رہنے پر قادر نہیں ہے' اور نہ ہی کسی لکڑی' دیوار یا خادم کے ذریعے کھڑے رہنے پر قار ہے'

۳... قیام یا سجدے پر تنہا یا سہارے کے ذریعے قادر تو ہے لیکن جس مرض میں مبتلا ہے اس کے تعلق سے کسی مسلمان ماہر طبیب نے کہا ہے کہ اگر ذرا بھی قیام یا سجدہ کے ساتھ نماز ادا کی تو بیماری بڑھ جائیگی' یا کہا ہو کہ بیماری دیر سے اچھی ہوگی

۴... قیام یا سجدے کی صورت میں چکر آنے یا کسی اور وجہ گر جانے کا سخت اندیشہ ہو

۵... قیام یا سجدے کی صورت میں بدن کے کسی حصے میں ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہو

ایسا انسان قیام یا سجدے کو ترک کرے تو اس کی نماز ہوجائیگی 

⭕ سوال: معذور انسان نماز کس طرح ادا کرے؟

🟢 جواب: معذور انسان کے لئے اجازت ہے کہ وہ بیٹھ کر نمازیں ادا کرے جس طرح بھی ممکن ہو مثلا دو زانو یا چار زانو آلتی پالتی مار کے یا پیروں کو پھیلا کے یا کرسی یا چارپائی پر بیٹھ کر نماز ادا کرے اور رکوع اور سجدہ اشارے سے ادا کرے, خاص خیال رکھے کہ سجدے کا جھکاؤ رکوع کے مقابلے زیادہ ہو ورنہ نماز نہیں ہوگی 

📗 ”من تعذر علیہ القیام لمرض حقیقی وحدہ أن یلحقہ بالقیام ضرر وفی البحر أراد بالتعذر التعذر الحقیقي بحیث لو قام سقط أو حکمی، بأن خاف أي غلب علی ظنہ بتجربة سابقة أو إخبار طبیب مسلم حاذق زیادتہ أو بطء برء ہ بقیامہ أو دوران رأسہ أو وجد لقیامہ ألمًا شدیدًا صلی قاعدًا“ (در مع الرد زکریا: ۲/۵۶۵)

📗 ”من تعذر علیہ القیام لمرض ... أو خاف زیادتہ... أو وجد لقیامہ ألما شدیدا صلی قاعدا کیف شاء “ (در مختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۶)


⭕ Sawaal: Uzre sharee kiyaa hai aor maazoore sharee kise kehte hai ❓

🟢 1...Bilkul hi qiyaam yaa zameen par sajde par qaadir naho masalan per hi naho

2... Bilkul maazoor to nahi lekin akele yaa deewaar yaa lakdee yaa khaadim ke sahaare ke saath bhi khade rehne ke qaabil naho,

 3...Qiyaam yaa sajdaa par akele yaa sahaare ke zariye qaadir to hai lekin beemaari ki wajah se kisee musalmaan maahir doctor ne kahaa ho ke khade hone yaa sajdaa karne kee soorat me beemaari badh jaayegi, yaa Kahaa ho ke khade hone yaa sajdaa karne kee wajah se beemaari der se acchi hogee,

4...Qiyaam yaa sajde ki wajah se chakkar aane yaa gir jaane kaa sakht andeshaa ho

5...Qiyaam yaa sajde kee soorat me badan ke kisee hisse me naa qaabile bardaasht takleef hoti ho

To is tarah kee chizo ko uzre sharee aor aise insaan ko maazoore sharee kehte hai

⭕ Sawaal: Maazoor insan namaaz kis tarah padhe ❓

🟢 Jawaab: Maazoor insan ke liye ijazat hai ke beth kar namaaz adaa kare bethne me jis tarah bhi mumkin ho do zaanoo, yaa chaar zaanoo aaltee paaltee maarke, yaa per phelaa ke yaa kursee yaa chaarpaai par bhi namaaz adaa kar saktaa hai, rukoo aor sajdaa ishaare se kare lekin khayaal rahe sajde kaa jhukaao rukoo ke jhukaao se zyadaa honaa zaruri hai warna namaaz nahi hogee 

واللہ اعلم بالصواب 

طالب علم محمد سلیم میمن مظاہری نعمانی 

9768344994

(صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post_10.html




Tuesday, 9 November 2021

نعت خوانی پہ اجرت لینا؟

نعت خوانی پہ اجرت لینا؟  

---------------------------------

بقلم: مفتی شکیل منصور القاسمی

----------------------------------

سوال: اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

مفتی صاحب! 

نعت خواں نعت خوانی کے پیسے لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ٹاٸم کا اجارہ کرتے ہیں کیا یہ ٹاٸم کا اجارہ کہہ لاۓ گا نعت خوانوں نے اپنے ایسسٹنٹ رکھے ھوۓ ہیں وہ پیسے مانگتے ہیں. اس کا کیا حکم ھوگا  مفتی صاحب تفصیل سے اس کا جواب دے دیجٸے نوازش ہوگی بہت بہت آپ کی! 

محمد رضا، کراچی. پاکستان 

————-

الجواب وباللہ التوفیق:

فقہاء حنفیہ کا اصل مسلک یہ ہے کہ کسی بھی طاعت وعبادت (وہ عمل جس کے ذریعے اللہ کا قرب و ثواب حاصل کیا جاتا ہو) کو کسب معاش کا ذریعہ بنانا اور اس پہ اجرت وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ کتاب وسنت میں اس پہ سخت وعید آئی ہے؛ لیکن وسیع تر دینی اور شرعی مصالح کے پیش نظر بعد کے فقہاء حنفیہ (متاخرین احناف) نے دینی تعلیم، امامت، اذان اور افتاء وغیرہ کی خدمات پہ معاوضہ لینے کو بر بنائے مصالح واحوال زماں استثنائی طور پہ جائز قرار دیا ہے ۔۔ صرف تلاوت قرآن مجید کی اجرت؛ خواہ کسی بھی شکل میں (قرآن خوانی برائے ایصال ثواب کی شکل میں ہو یا تراویح کی شکل میں) ہو، کو اصل مسلک کے موافق ناجائز ہی رکھا گیا ہے.*(شامی۔ مطلب فی الاستئجار علی الطاعات 55/6۔ سعید)

امت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں ایک اہم حق آپ سے ایسی محبت کرنا بھی ہے جو مال و دولت، آل اولاد؛ بلکہ خود اپنی جان و جہاں سے بھی بڑھ کر ہو، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت کمال ایمان کی شرط لازم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و اخلاق اور عادات و شمائل کو حد شرع میں رہتے ہوئے بیان کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ افضل عبادت اور بے انتہاء ثواب کا موجب عمل ہے ہاں! غیرواقعی چیزوں پہ، یا تعریف میں مبالغہ آرائی اور ممدوح کی جانب ایسی چیزیں منسوب کرنے سے منع کیا گیا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود نہیں. جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب، حاضر وناظر یا اختیار کلی وغیرہ سے منسوب کردینا کہ یہ چیزیں صرف اللہ کی خصوصیات ہیں' حضور صلی اللہ علیہ وسلم باوجود جملہ خصوصیات کے لوگوں کے ان دعاوی محضہ  سے متصف نہیں. جیسے ابن مریم جملہ معجزات کے علی الرغم ابنیتِ خداوندی سے متصف نہیں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیجا مدح سرائی اور تعریف وتوصیف میں حدود سے تجاوز کرجانے سے منع فرمایا ہے: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُاللَّهِ وَرَسُولُهُ.

ترجمه: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لئے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں. (صحیح البخاری: ٣٤٤٥)

جو چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے احادیث ودلائل سے ثابت ہیں ان میں توصیف وتعریف کرنا ممنوع نہیں؛ بلکہ ممدوح و مستحسن عبادت ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِبیاں کو ہماری زبان میں نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں نعت کے لئے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشجیع وتحسین فرمائی، چنانچہ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ جو اسلام کے ابتدائی دور کے شاعر ہیں، انہیں ان کی مشہور نعت پہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورانعام چادر عطا فرمائی تھی۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تعریف وتوصیف و دفاع نبوی کے بدلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں دیں اور لکڑی کا ممبر عطاء فرمایا جس پر وہ اپنا کلام پیش فرماتے اور دفاعی کارروائی انجام دیتے: 

قال ابن أبي الزناد، عن أبيه، عن أبي هريرة عن عائشة: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وضع لحسان ابن ثابت منبرا في المسجد فكان ينافح عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهم أيد حسان بروح القدس كما نافح عن نبيك». ((صحيح. رواه البخاري تعليقا (1/ 123، 4/ 127، 8/ 45) وأبوداؤد في (الفضائل، باب «151، 152») والنسائي في (المساجد، باب «24») وأحمد (5/ 222) وإتحاف (6/ 507) والطبراني في «الصغير» (2/ 4) والمنثور (5/ 100) وابن سعد في «الطبقات» (3/ 1/ 194) )) 

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! حسان کی جبرائیل کے ذریعے مدد فرما کیونکہ انھوں نے آپ کے نبی کا دفاع کیا)

اصنافِ سخن اور اظہارِبیان کے ذرائع میں شروع سے ہی "شعر" سب سے مؤثر اور طاقتور ذریعۂِ اظہار رہا ہے۔ مختصر لفظوں میں شعر کے ذریعہ انسان اپنے مخاطب وسامع کو جتنا متاثر وگرویدہ کرسکتا ہے وہ نثر سے ممکن نہیں ہے؛ اسی لئے شروع سے ہی شعر کی اثرانگیزی، تفوق و برتری کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ طرززندگی، تمدن اور جغرافیائی آب وہوا کی وجہ سے عربوں کو شعر و شاعری کا ذوق فطری طور پر ملا تھا، عربوں کا رشتہ عربی شاعری سے "چولی دامن" کا رہا ہے۔ مذہب اسلام سے پہلے عربوں کا یہی "سرمایۂِ فکر ونظر" اور پیمانۂِ "فخر ومباہاۃ" تھا۔ عکاظ کے بازار میں جاہلی شعراء جمع ہوتے اور "نابغہ ذبیانی" کی زیر صدارت اپنا اپنا کلام پیش کرتے، یوں وہاں شعر و شاعری کی محفلیں آراستہ ہوتیں، صدر مجلس کے فیصلے کے بعد سب سے عمدہ اور اوّل آنے والے قصیدے کو پذیرائی واعتراف کے بطور سونے کے پانی سے لکھ کر خانہ کعبہ میں آویزاں "معلق" کرتے، ان لٹکائے گئے اشعار کو "مُعَلَّقَہ" کہا جاتا تھا۔ امرؤالقیس، النابغہ الذبیانی، زہیر بن ابی سلمیٰ، عنترہ بن شداد العبسی، الأعشیٰ قیس، طرفۂ بن العبد، عمرو بن کلثوم لبید بن ربیعہ جیسے نامور  جاہلی شعراء کے کلام  خانہ کعبہ میں لٹکائے گئے تھے۔ ان شعراء کو "اصحاب معلقات" کہتے ہیں۔ ان جاہلی اشعار میں قبائل کی خوبیوں، شجاعت و بہادری، اونٹ، گھوڑے، ہرن، جنگ  وجدال، محبوبہ، ماں، بیوی، باندی، شراب وکباب اور مورتیوں کی خوبیاں بیان کی جاتیں اور ہیجان انگیز عشقیہ اشعار کہے جاتے تھے۔ اسلام نے اپنے آنے کے بعد شعر وسخن میں مناسب حال تعدیل و تطہیر کی، شرک وبت پرستی، شراب وکباب اور فحاشی وعریانیت، شہوت انگیز بدگوئی اور فضولیات پہ مشتمل اشعار کو ناجائز وحرام قرار دیا گیا۔ اعتقادات و اخلاقیات کو خراب وفاسد کردینے والی حیاء باختہ و گمراہ کُن منفی شاعری پہ بندش لگائی گئی، اسے  وسیلۂِ تخریب قرار دیتے ہوئے شیطانی عمل سے تعبیر کیا، جبکہ اچھی، معیاری، مثبت، تعمیری، بامقصد  شاعری، اور علم، حکمت اور دانائی پہ مشتمل کلام کی پذیرائی کی گئی اور ہر مسلمان مرد و عورت، بوڑھے اور جوان کے لئے ایسی شاعری کو مباح قرار دیا گیا۔ (إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَةً۔۔۔۔ بے شک کچھ اشعار حکمت سے پُر ہوتے ہیں۔ بخاري، رقم: 5793)۔

 ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شاعری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

هُوَ کَلَامٌ فَحَسَنُهٗ حَسَنٌ وَقَبِیْحُهُ قَبِیْحٌ ۔۔۔۔ یہ کلام ہے چنانچہ اچھا شعر، اچھا کلام اور برا شعر، برا کلام ہے ۔۔۔ مسند أبویعلی: رقم: 4760، سنن دارقطني، 4: 155، رقم: 1، بیروت: دارالمعرفۃ)۔

نبیوں اور رسولوں (علہیم الصلوۃ والسلام) کی باتیں چونکہ وحی خداوندی والہامات ربانی پہ مبنی ہوتی ہیں؛ جبکہ شعراء کی باتیں شعور وآگہی، تخیل، پروازیِ فکر اور بسا اوقات حد درجہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہیں؛ اس لئے شعر وشاعری نبیوں اور رسولوں (علہیم الصلوۃ والسلام) کے مقام نبوت کی شایان شان قرار تو نہیں دی گئی، لیکن رسولوں سے مطلقاً اس کی نفی نہیں کی گئی، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگرچہ شعر کہنا تو ثابت نہیں ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی ترانے (رجز) خود بھی پڑھے ہیں، اپنی سریلی آواز کے ذریعہ اونٹ کو مست کردینے اور اسے تیز رفتار کردینے والے نوجوان صحابی "انجشہ" کی حدی خوانی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی ہے. (رُوَیْدَكَ یَا اَنْجَشَةْ ! سَوْقَكَ بِالْقَوَارِیْر!) اے انجشۃ! آہستہ پڑھ، ذرا ٹھہرٹھہر کے پڑھ، تم آبگینے لے کر سفر کررہے ہو۔ یعنی اونٹ زیادہ تیز دوڑے گا تو یہ شیشے جیسی عورتیں جو اونٹ پر سوار ہیں ٹوٹ جائیں گی۔ بخاری 6149)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اشعار پڑھے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم داد وتحسین سے نوازتے تھے۔ غزوہ احزاب کے بعد جب کفار ومشرکین ہر جنگی محاذ پہ  ہزیمت کے شکار ہوگئے اور انہیں مسلمانوں سے جنگی محاذ آرائی اور تلوار سے لڑائی کی طاقت نہ بچی تو انہوں نے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ زبانی جنگ کی ٹھانی، اور نبی اسلام کے خلاف ہجو و بدگوئی شروع کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  شعر و شاعری کی اس جنگ میں اپنے تین نامور انصاری شعراء اصحاب: حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم کو اس دفاعی مہم کے لئے منتخب فرمایا، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں مدحیہ اشعار کہتے، اور کفار ومشرکین کی ہجو بیان کرتے، حضرت عبداللہ بن رواحہ جنگی انداز کے اشعار (رجزیہ ورمزیہ) اشعار کہتے، جبکہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی خوبیوں اور محاسن اسلام پہ اشعار سناتے تھے. یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید، ودعاء واستحسان سے اچھے اور بامقصد تعمیری اشعار دفاعی ہتھیار کے طور پہ کام آئے۔ اسی سے تعمیری ومثبت اشعار کے حوالے سے اسلامی وشرعی موقف بھی جانا جاسکتا ہے۔

نعت گوئی؛ خواہ جس زبان میں بھی ہو، شاعری کا نگینہ کہلاتا ہے، اصناف سخن میں صنف نعت گوئی آسان بھی ہے اور مشکل تر بھی! بقول شاہ معین الدین ندوی رحمہ اللہ: ’’نعت کہنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ محض شاعری کی زبان میں ذات ِپاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عامیانہ توصیف کردینا بہت آسان ہے، لیکن اس کے پورے لوازم و شرائط سے عہدہ برآ ہونا بہت مشکل ہے۔ حُبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت کے اصلی کمالات اور کارناموں، اسلام کی صحیح روح، عہدرسالت کے واقعات اور آیات و احادیث سے واقفیت ضروری ہے، جو کم شعرا کو ہوتی ہے۔ اس کے بغیر صحیح نعت گوئی ممکن نہیں۔ نعت کا رشتہ بہت نازک ہے۔ اس میں ادنیٰ سی لغزش سے نیکی برباد، گناہ لازم آجاتا ہے۔ اس پل ِصراط کو عبور کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ بارگاہ اقدس ہے جہاں بڑے بڑے قدسیوں کے پاؤں لرز جاتے ہیں.‘‘ (ادبی نقوش صفحہ 284)

نعت گو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد درجنوں بلکہ سینکڑوں کو پہنچتی ہے (حافظ ابن البر اور حافظ ابن سیدالناس رحمہما اللہ نے اس بابت تفصیل سے چشم کشا وسیر حاصل بحث سپرد قلم کی ہے)

مدح رسول وثناخوانی مصطفی اعلی وارفع عبادت ہے، اسے جذبہ عقیدت واحترام سے آداب  و حدود کی از بس رعایت کے ساتھ عبادت سمجھتے ہوئے انجام دینا چاہئے، نعت خوانی جیسی مہتم بالشان عبادت کو حصول سیم وزر کا ذریعہ بنانا، نعت خوانی پہ اجرت طلب کرنا یا نعت خوانی میں صرف کردہ وقت کی اجرت میں پیسے مانگنا عبادت مقصودہ پہ اجرت لینا ہے جو باتفاق احناف جائز نہیں ہے۔

احادیث ودلائل سے ثابت توصیف وثناخوانی سنجیدہ اشعار کے ذریعے  ہو، ترنم، گانے اور عشقیہ اشعار کے مشابہ نہ ہو، پڑھنے والے کی صورت، ہیئت اور آواز موجبِ فتنہ نہ ہو تو ایسے نعت خواں کو کچھ طے کئے بغیر، طیب خاطر سے  تشجیعاً دیدیا جائے تو اس کی گنجائش ہے؛ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کے نعت پڑھنے پر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے چادر پیش فرمائی تھی:

وکان رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قد أعطاہ بردۃ له۔ (أسدالغابة، دارالفکر ١٧٧/٤)

لیکن اگر صرف نعت خوانی کے لئے ہی مدعو کیا جائے اور باقاعدہ اجرت نصاً، عرفاً یا اشارۃً طے کرلیا جائے تو یہ شرعاً جائز نہیں ہے، پیسہ بھی برباد جائے گا اور نعت خوانی پہ ثواب سے بھی محرومی رہے گی: 

﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ * أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [هود: 15- 16]

وعلی هذا الحداء وقراءۃ الشعر وغیرہ ولا أجر في ذلك، هذا کله عند أئمتنا الثلاثة۔ (ہندیۃ، کتاب الإجارۃ، الباب السادس عشر في مسائل الشیوع …

زکریا، جدید ٤/ ٤٨٦، البنایۃ، أشرفیہ ۱۰/ ۲۸۳، حاشیۃ چلپی، إمدادیہ ملتان ۵/ ۱۲۵)

وفي المحیط: إذا أخذ المال من غیر شرط یباح له؛ لأنه عن طوع من غیرعقد۔ (مجمع الأنہر، کتاب الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، دارالکتب العلمیة بیروت ۳/ ۵۳۳)

واللہ اعلم 

شکیل منصور القاسمی 

بیگوسرائے/ بہار. منگل 3 ربیع الثانی 1443ھ 9 نومبر 2021ء  (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post_9.html



Wednesday, 3 November 2021

غیرمسلموں کے تہوار پر مبارک باد پیش کرنا

شرعی ضوابط اور فقہ الاقلیات کی روشنی میں
غیرمسلموں کے تہوار پر مبارک باد پیش کرنا
بقلم: عمر عابدین قاسمی مدنی
انسان ایک سماجی حیوان ہے، وہ اپنے گرد و پیش سے بے تعلق نہیں ہوسکتا، اس کی ضرورتیں باہمی لین دین سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی تعامل سے خاندان، قبیلہ اور سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ 
قدیم زمانے میں لوگ محدود پیمانہ پر یہ رشتہ استوار کرتے تھے، اسلام نے قبائلی، علاقائی، جغرافیائی اور نظریاتی حدبندیوں سے بلند ہوکر عالم گیر انسانی سماج کی تشکیل دی، تمام انسانوں کو انسانی اخوت کے رشتہ سے باندھ دیا، پرامن بقائے باہم کے منظم و مستحکم ضابطے عطا کئے، نیز مختلف سماجی و مذہبی اکائیوں کے ساتھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور اخلاقی رابطوں کے اصول بھی واضح کردیئے گئے۔
غیرمسلم بھائیوں کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ایک اہم فقہی مسئلہ ان کی خوشی و غم اور عید و تہوار کی مناسبت سے اظہار غمگساری یا مبارکبادی پیش کرنا ہے، اس میں دو بنیادی گوشے ہیں:
۱۔ انسای مناسبتیں: جیسے موت و پیدائش، کامیابی و خسارہ، صحت و بیماری و دیگر، ایسے مواقع پر مبارکباد پیش کرنا، یا اظہار یگانگت کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ مطلوب ہے۔
۲۔ مذہبی مناسبتیں: خالص دینی تصورات و نظریات پر مبنی مناسبتوں پر خوشی کا اظہار کرنا، یا مبارکباد کا تبادلہ کرنا؛ فقہی ناحیہ سے قابل غور ہے، اس مسئلہ کی بنیاد اس نکتہ پر ہوگی کہ یہ عمل ان کے عقیدہ و نظریہ سے ہم آہنگی کا اظہار ہے، یا محض عید و تہوار کی خوشی پر خیرسگالی کا اظہار؟! 
اگر عقیدہ سے اظہار و ہم آہنگی کا خیال بھی ہو تو یہ عمل سخت گناہ اور بسا اوقات کفر کے مترادف ہوگا۔ علامہ ابن تیمیہ و دیگر فقہا نے غالبا اسی بنیاد پر شدت برتی ہے اور اسے ناجائز قرار دیا ہے۔
لیکن اگر عرف و رواج کے مطابق، محض خوشی کی مناسبت کی وجہ کر اظہار خوشی ہو؛ تو اس میں گنجائش نظر آتی ہے۔ 
تأصيل المسألة: 
واضح رہے کہ اس مسئلہ کی بنیاد اس نکتہ پر ہے کہ یہ مبارکبادی ان کے عقیدہ سے ہم آہنگی کا اظہار ہے یا نہیں؟! 
جن فقہا نے حرام قرار دیا وہ اسے غیرمسلموں کے عقیدہ کے اعتراف کے برابر تصور کرتے ہیں، اور جو فقہاء اس عمل کو جائز قرار دیتے ہیں وہ اسے عام انسانی عرف کے مطابق عقیدہ کے اقرار کے بجائے حسن تعامل کے درجہ میں رکھتے ہیں۔
یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ اسلامی عید و تہوار (عید و بقرعید) کی مناسبت سے غیرمسلم بھائی تہنیتی پیغام کا تبادلہ کرتے ہیں، اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ ان کے پس منظر میں جو بنیادی تصورات اور تاریخی واقعات ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں، گویا یہ ایک دینی و مذہبی عمل نہیں، بلکہ تہذیبی و ثقافتی عمل ہے اور حسن اخلاق کا اظہار ہے۔ 
اسی طرح ہم اگر انہیں عید و تہوار پر مبارک باد پیش کریں تو یہ ان کے تصورات و عقیدہ سے اتفاق نہیں بلکہ "حسن تعامل" کا اظہار ہوگا۔
مجموعی طور اس مسئلہ میں فقہا کی دونوں رائے موجود ہے، اور کسی بھی فریق کے پیش نظر کوئی "صریح و صحیح" دلیل موجود نہیں ہے، اس لئے یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ شمار ہوگا، جس میں یکساں طور پر دونوں رائے کی گنجائش ہوگی۔
یہاں اس بات کا ذکر بےجا نہیں ہوگا کہ فقہا نے مجتہد فیہ مسائل کے تئیں یہ ضابطہ طئے کیا ہے:
"لا إنكار في مسائل الخلاف"
(اختلافی مسائل میں کسی پر نکیر کی گنجائش نہیں ہے)
یعنی وہ مسائل جن میں دلیل صریح یا صحیح، یا اجماع نہ ہونے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو؛ تو ان میں ایک سے زائد رائے کہ گنجائش بھی ہوگی، نیز کسی رائے پر نکیر کا حق نہ ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بحث و تحقیق اور اختیار و ترجیح کے دروازے وا رہیں گے، ان پر بندش نہیں لگائی جاسکتی ہے۔
کاش علامہ ابن تیمیہ کا یہ چشم کشا اقتباس علما کا سرمہ چشم ہوتا:
إن مثل هذه المسائل الاجتهادية لا تنكر باليد، وليس لأحد أن يلزم الناس باتباعه فيها، ولكن يتكلم فيها بالحجج العلمية، فمن تبين له صحة أحد القولين: تبعه، ومن قلد أهل القول الآخر فلا إنكار عليه " انتهى من "مجموع الفتاوى" (30/80) .
بیشک ان جیسے اجتہادی مسائل میں طاقت و قوت سے نکیر نہیں کی جائے گی، اور نہ کسی کو یہ حق ہوگا کہ وہ لوگوں کو اپنی اس رائے کا پابند بنائے، ہاں ان مسائل میں علمی دلیلوں کی بنیاد پر گفتگو کی جائے گی، اور جس کسی کو ایک جہت پر انشراح ہوجائے تو اس پر عمل کرلے، اور جو لوگ دوسری رائے پر عمل پیرا ہوں ان پر نکیر کی گنجائش نہیں ہوگی۔ 
"یوروپی افتا کونسل" اجتماعی اجتہاد کا ایک مؤقر بین الاقوامی ادارہ ہے، امام یوسف القرضاوی (حفظه الله و رعاه) اس کے روح رواں اور میرکارواں ہیں، نیز جہان فقہ و اجتہاد کے آفتاب و ماہتاب اس سے وابستہ ہیں۔ اس ادارہ نے سنہ ۲۰۰۰ء میں اس مسئلہ کو بحث و تحقیق کا موضوع بنایا اور ایک مناسب فیصلہ کیا۔ علما و اصحاب افتا اس تحریر کا ضرور مطالعہ کریں، یہ عربی اور اردو میں دستیاب ہے۔ 
فقہ اسلامی کی امتیازی خوبی ذکر کرتے ہوئے باحثین نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ اس کی بنیاد جہاں کتاب و سنت میں پیوست ہے، وہیں اس میں زمانہ و حالات کی رعایت اور لچک و "مرونت" بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کے تناظر میں بھی یہ فقہی اجتہاد اہمیت کا حامل ہے، اب حالات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ یہاں "فقہ الاقلیات" کے اصول و ضابطوں کو پیش نظر رکھ اپنی اسلامی شناخت اور ثقافتی اقدار کی حفاظت کی جائے۔ 
غیرمسلم بھائیوں کے عید و تہوار پر مبارک باد دینے کے حوالے سے ان ضابطوں کا خیال رکھا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی:
1. مبارک بادی کے الفاظ و تعبیر میں کوئی ایسا لفظ نہ ہو جو اسلامی عقائد کے خلاف ہو۔
2. تہنیت اور خیرسگالی کے ایسے جملے استعمال کئے جائیں جو خوشی کی عام مناسبتوں کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
3. تعزیت کے موقع پر دعا رحم و مغفرت نہ کی جائے۔
4. ان کی جانب سے دی گئی ایسی شیرینی یا اشیا خورد و نوش جو چڑھاوے کی نوعیت کے ہوں؛ کو بالکل استعمال نہ کیا جائے۔ ہاں ان کی دل شکنی سے بچنے کے لئے بظاہر قبول کرلیا جاسکتا ہے مگر بذات خود استعمال کرنا حرام ہوگا۔
5. جائز چیزوں پر مشتمل تحفے، پھولوں کے گلدستوں کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔
عمر عابدین ١٠ اکتوبر ۲۰۱۹ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/11/blog-post.html

Saturday, 30 October 2021

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولاتِ زندگی کیا تھے؟

نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم
کے معمولاتِ زندگی کیا تھے؟

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ’شمائل ترمذی‘ میں سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روز مرہ کے معمولات اور شب و روز کی مصروفیات کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے اپنے سوال کو تین حصوں میں تقسیم کیا:
گھر کے اندر جناب رسول اللہؐ جو وقت گزارتے تھے اس کی ترتیب کیا تھی؟
گھر سے باہر کے معمولات اور انداز کیا تھا؟
مجلسی زندگی کے آداب اور انداز کیا تھا؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے اوقات اور معمولات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ وقت کا ایک حصہ اپنے ذاتی کاموں پر صرف کرتے تھے، دوسرا حصہ گھر والوں کے لئے مخصوص ہوتا تھا، اور تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہوتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی کاموں کے لئے مخصوص وقت میں ان خواص کے ساتھ ملاقات بھی کرتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھر میں حاضر ہوتے تھے اور آپؐ کی مخصوص مجلس میں شریک ہوتے تھے۔ یہ مجلس روزانہ ہوتی تھی، کوئی ضرورت مند ہوتا تو وہ اپنا سوال لے کر آتا اور حضورؐ حسب موقع اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے۔ آپؐ اس مجلس کے شرکاء کے ساتھ امت کے اجتماعی مسائل پر گفتگو فرماتے اور عام لوگوں کے معاملات میں ہدایات دیتے تھے۔ آپؐ نے مجلس میں خاص طور پر دو باتوں کی تلقین فرما رکھی تھی کہ مسلمانوں کے عمومی مفاد اور مصلحت کی کوئی بات ہو تو اسے دیگر لوگوں تک پہنچاؤ، اور یہ کہ کوئی شخص اپنی ضرورت اور حاجت کو حضورؐ تک براہ راست پہنچانے میں کوئی دقت یا حجاب محسوس کرتا ہو تو اس کا مسئلہ آپؐ تک پہنچایا جائے۔ اس سلسلہ میں نبی اکرمؐ یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی ضرورت اور مسئلہ متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موقع نہیں پاتا، اس کا مسئلہ متعلقہ حکام تک پہنچانے والے مسلمان کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ثابت قدمی عطا فرمائیں گے۔ مجلس میں آنے والے جو لوگ سوالی ہو کر آتے تھے حضورؐ کے گھر سے کوئی چیز چکھے بغیر واپس نہیں جاتے تھے۔ اس مجلس میں جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ شریک ہونے والے بہترین افراد ہوتے تھے جو مجلس سے باہر کے لوگوں کے لیے رہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ یہ مجلس اسی قسم کی باتوں پر مشتمل ہوتی تھی اور ان سے ہٹ کر کوئی بات کہنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔
گھر سے باہر کی عمومی مجالس کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ جناب نبی اکرمؐ مجلس کا آغاز بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ کرتے تھے اور مجلس کا اختتام بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہوتا تھا۔ حضورؐ جب کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو جہاں تک مجلس پہنچ چکی ہوتی وہیں بیٹھ جاتے اور اس بات کی تلقین بھی فرماتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضورؐ جس جگہ بیٹھ جاتے وہی جگہ مجلس کا صدر مقام بن جاتی تھی۔ ہر صاحب مجلس کو حضورؐ اس کا حصہ دیتے تھے اور کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ اسے دوسرے اصحاب مجلس سے کم توجہ مل رہی ہے۔ حضورؐ کے سامنے کوئی شخص اپنا مسئلہ پیش کرتا یا کسی مسئلے پر بات کرتا تو آپؐ اس کی پوری بات سنتے تھے اور جب تک وہ اپنی بات مکمل نہ کر لیتا اس سے رخ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص حضورؐ کے سامنے اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو آپ اس کی ضرورت پوری کرتے یا نرمی کے ساتھ تسلی کی کوئی بات فرما دیتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس علم کی مجلس ہوتی تھی، حیا کی مجلس ہوتی تھی، کسی پر الزام تراشی نہیں ہوتی تھی، کسی پر تہمت نہیں لگائی جاتی تھی، کسی کی غلطی کو اچھالا نہیں جاتا تھا، اور آپؐ اپنے ساتھیوں کے لیے باپ جیسے شفیق ہوتے تھے۔
مجلس سے ہٹ کر جناب نبی اکرمؐ کا عمومی انداز اور طرز عمل یہ ہوتا تھا کہ بے مقصد باتوں سے اپنی زبان کو بچاتے تھے اور وہی بات فرماتے تھے جس کی ضرورت ہوتی تھی۔ لوگوں کو قریب کرنے کی بات کرتے تھے، دور کرنے والی باتوں سے گریز کرتے تھے۔ کسی قوم کا بڑا آپ کے پاس آتا تو اس کا اکرام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اسی سطح کا معاملہ فرماتے تھے۔ لوگوں کو اللہ کا خوف دلاتے رہتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بے تکلف نہیں ہوتے تھے مگر کسی کو بے رخی کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے حالات معلوم کرتے تھے اور اگر کوئی غیر حاضر ہوتا تو اس کی تحسین فرماتے اور اسے تقویت دیتے۔ آپؐ اگر کوئی قبیح معاملہ دیکھتے تو اس کی قباحت کا ذکر کرتے اور حوصلہ شکنی کرتے تھے۔
حضورؐ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ لوگ خیر کے معاملات سے غافل نہ ہو جائیں اور اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ وہ اکتا نہ جائیں۔ ہر قسم کے معاملے کا آپ کے پاس حل تیار ہوتا تھا اور ہر صورتحال کے لیے مستعد ہوتے تھے۔ آپؐ حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے اور ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ لوگوں میں سے آپؐ سے زیادہ قریب وہی حضرات ہوتے تھے جو اچھے لوگ ہوتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام وہی شخص ہوتا تھا جو لوگوں کے ساتھ نصیحت اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو اور آپؐ کے ہاں اس شخص کو زیادہ قدر حاصل ہوتی تھی جو عام لوگوں کے ساتھ غم خواری اور مدد میں پیش پیش ہوتا تھا۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روز مرہ معمولات اور طرز عمل کے بارے میں یہ ارشادات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہیں۔ جبکہ بخاری شریف کی ایک راویت کے مطابق ایک بار چند نوجوان صحابہ کرامؓ نے باہمی مشورہ کر کے حضورؐ کے گھر کے اندر کے معمولات معلوم کرنا چاہے تاکہ وہ بھی ان معمولات کی پیروی کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے امہات المومنینؓ کی خدمت میں باری باری حاضری دی اور دریافت کیا کہ آنحضرتؐ جب گھر کے اندر تشریف لاتے ہیں تو آپؐ کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ ازواج مطہراتؓ میں سے ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ گھر کے اندر آپؐ کے معمولات کم و بیش وہی ہوتے ہیں جو ہر گھر کے سربراہ کے ہوتے ہیں۔ آپؐ آرام فرماتے ہیں، بیوی بچوں کو وقت دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، آنے جانے والوں کے حالات دریافت کرتے ہیں، گھر کا کوئی کام کاج ہو تو اس میں ازواج مطہراتؓ کا ہاتھ بٹاتے ہیں، حتیٰ کہ جوتا گانٹھ لیتے ہیں، چارپائی کی مرمت کرلیتے ہیں اور اس طرح کے ضرورت کے کام آپؐ خود کرلیا کرتے ہیں۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_47.html