Saturday, 31 October 2026

کرپٹو کرنسی مال نہیں

`شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے دستخط سے دارالعلوم کراچی کا کرپٹو کرنسی اور اسٹیبل کوائن پر تازہ فتوی`
صدر وفاق المدارس العربیہ و دارالعلوم کراچی حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکن اور اسٹیبل کوائن پر تازہ فتویٰ جاری ہوگیا ہے۔
▪︎ کرپٹو کرنسی مال نہیں ہے، چاہے وہ کرپٹو ٹوکن کی صورت میں ہو، چاہے وہ اسٹیبل کوائن USDT کی صورت میں ہو۔ اس کا خریدنا ناجائز ہے۔
نوٹ: کرپٹو کرنسی کے مختلف نام ہیں یعنی اسے ورچول اثاثہ، ورچول کرنسی، ٹوکن، اور اسٹیبل کوائن بھی کہا جاتا ہے۔ تمام صورتوں میں کرپٹو کرنسی ناجائز ہے اور مال نہیں ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے بانیان کا متبادل معاشی ماڈل

دارالعلوم دیوبند کے بانیان کا متبادل معاشی ماڈل (پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی): ایک گمشدہ تاریخی باب
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب "بوادر النوادر" کے جدید ایڈیشن پر محققِ عصر مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی دامت برکاتہم کا مقدمہ علم و تحقیق کا ایک شاندار شاہکار ہے۔ اس مقدمے کا یہ ایک صفحہ (صفحہ ۵۲) ہماری جماعتی و تعلیمی تاریخ کے ایک ایسے منفرد باب پر روشنی ڈالتا ہے جس سے آج کی اکثریت بالکل ناواقف ہے۔
مولانا کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ابتدائی دو تین سالوں بعد ہی اکابر نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مدارس سے فارغ ہونے والے فضلاء اور وہاں خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ایک باوقار اور بہتر معاشی زندگی کا انتظام ہونا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لئے اربابِ اہتمام نے باقاعدہ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی (Private Limited Company) قائم کی، جس کا ایک حصہ (Share) اس وقت سو روپے کا تھا۔
اس تجارتی کارخانے میں دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور کے اکثر اساتذہ اور علمائے کرام حصہ دار (Shareholders) تھے۔ جن میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ، حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ اور مولانا سید احمد دہلویؒ جیسے جلیل القدر اکابر شامل تھے۔
یہ کمپنی اس قدر کامیاب ہوئی کہ اس کا سرمایہ بڑھتے بڑھتے اس زمانے میں ۵۰ ہزار روپے تک پہنچ گیا (جو اس دور میں ایک خطیر رقم تھی)۔ لیکن پھر اچانک اس کارخانہ کو دیوالیہ دکھا کر بند کر دیا گیا۔
✍️مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب اس سے چند اہم باتیں اخذ کرتے ہیں:
1. ہمارے اکابر مروجہ خانقاہی دنیا بیزاری کے قائل نہیں تھے، بلکہ وہ دنیا کے ضروری اور جائز معاشی وسائل کی فراہمی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
2.اگر یہ تجارتی سلسلہ جاری رہتا تو مدارس اور دینی حلقوں سے وابستہ افراد معاشی طور پر خوش حال اور خود کفیل ہوتے، اور آج ہمیں معاشی مسائل کے حل کے لئے دوسروں کا مرہونِ منت نہ ہونا پڑتا۔
3. مولانا کاندھلوی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ تاریخ کے اس اتنے بڑے متبادل معاشی تجربے پر آج تک کسی نے تفصیلی تحقیق نہیں لکھی۔ وہ دورِ حاضر کے نوجوان اور مخلص فضلاء کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آگے آئیں، اس گمشدہ تجارتی تاریخ پر ریسرچ کریں اور اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لائیں۔
آج جب ہم مسلم امہ اور بالخصوص دینی طبقے کے معاشی مسائل اور متبادل بزنس ماڈلز کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے اکابر کی اس دور اندیشی اور عملی کوششوں کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔
 ✍️کتاب: بوادر النوادر (جدید ایڈیشن)
 فارورڈ کریں تاکہ مولویوں کا ذہن بدلے اور پڑھنے پڑھانےکے ساتھ ساتھ تجارت پر بھی دھیان دیں۔ ( #ایس_اے_ساگر )

جمعہ کی اہمیت اور اس کے بعض احکام

جمعہ کی اہمیت اور اس کے بعض احکام
مرتبہ۔۔حضرت محی السنہ مولانا شاہ ابرارالحق 
صاحب نوراللہ مرقدہ
              ♻️ جمعہ کے خاص اعمال♻️
    یعنی جمعہ کے وہ اعمال جن کی حدیث پاک میں خاص فضیلت آئی ہے۔   اور ان پر عمل کرنے سے ہر ہر قدم پر ایک سال نفل نماز اور ایک سال نفل روزوں کا ثواب ملتا ہے۔۔
(روایت کیا اس کو امام ترمذی /امام نسائی /امام ابن ماجہ رحمہم اللہ نے)
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں بعض ائمہ حدیث سے نقل کیا ہے کہ۔۔
احادیث صحیحہ میں اتنی زیادہ فضیلت کسی اور عمل کی نہیں آئی۔۔
        وہ چھ عمل یہ ہیں:
1️⃣   غسل کرنا۔
2️⃣   مسجد جلد جانا۔
3️⃣  پیدل جانا۔
4️⃣   امام کے قریب بیٹھنے کی کوشش کرنا۔
5️⃣  کوئی لغو کام نہ کرنا۔
6️⃣  خطبہ غور سے سننا۔
ان کے علاوہ اور بھی چند اعمال ہیں جس کا جمعہ کے روز خاص اہتمام کرنا چاہئے۔۔
1️⃣ سورہ کہف کی تلاوت۔
2️⃣ درود شریف کی کثرت۔۔کم از کم ٣٠٠/ بار
3️⃣ صلوٰۃ التسبیح پڑھنا۔
4️⃣ دونوں خطبوں کے درمیان جب امام منبر پر بیٹھے تو دل ہی دل میں دعا کرنا۔
5️⃣ غروب آفتاب سے قبل دعا کا اہتمام کرنا کہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
 أَكْثروا الصَّلاةَ عليَّ يومَ الجمُعةِ..... (البخاري) 
جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔
 ( #ایس_اے_ساگر )

Tuesday, 20 October 2026

اللہ کے راستے میں تھوڑی دیر کے نکلنے کی فضیلت

اللہ کے راستے میں تھوڑی دیر کا نکلنا گویا حجر اسود کے سامنے کھڑا ہو اور لیلتہ القدر کی رات ہو، اس سے بہتر ہے
کیا یہ مضمون صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

Monday, 19 October 2026

کرپٹو کرنسی مال نہیں

`شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے دستخط سے دارالعلوم کراچی کا کرپٹو کرنسی اور اسٹیبل کوائن پر تازہ فتوی`
صدر وفاق المدارس العربیہ و دارالعلوم کراچی حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اور دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکن اور اسٹیبل کوائن پر تازہ فتویٰ جاری ہوگیا ہے۔
▪︎ کرپٹو کرنسی مال نہیں ہے، چاہے وہ کرپٹو ٹوکن کی صورت میں ہو، چاہے وہ اسٹیبل کوائن USDT کی صورت میں ہو۔ اس کا خریدنا ناجائز ہے۔
نوٹ: کرپٹو کرنسی کے مختلف نام ہیں یعنی اسے ورچول اثاثہ، ورچول کرنسی، ٹوکن، اور اسٹیبل کوائن بھی کہا جاتا ہے۔ تمام صورتوں میں کرپٹو کرنسی ناجائز ہے اور مال نہیں ہے۔

Saturday, 17 October 2026

پانچ لوگوں سے کبھی بحث نہ کریں

ایسے پانچ لوگوں سے کبھی بحث نہ کریں — اپنا وقت اور سکون ضائع مت کریں:
1۔ ضدی شخص:
جو صرف اپنی رائے کو درست سمجھتا ہے، دوسروں کی بات کو بغیر سمجھے رد کر دیتا ہے۔ نہ دلیل سنتا ہے، نہ کسی مشورے کو اہمیت دیتا ہے۔
2۔ خود کو عقل کل سمجھنے والا:
جو ہر وقت یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے سب معلوم ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے علم کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے۔
3۔ غصے میں رہنے والا:
جو معمولی بات کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا کر جھگڑے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
4۔ نفرت کرنے والا:
جو آپ کی سچائی کو بھی جھوٹ اور آپ کی نیت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس کے دل میں بغض ہو، اس سے کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوسکتی۔
5۔ مغرور انسان:
جو نہ کسی کی بات سننے کو تیار ہوتا ہے، نہ سمجھنے کو۔ نہ مشورہ چاہیے ہوتا ہے نہ سچائی کی قدر۔
یاد رکھیں:
ایسے لوگوں کے ساتھ بحث محض وقت اور توانائی کا زیاں ہے۔
خاموشی اور طاقت کا استعمال ہی ان کا سب سے بہترین جواب ہے۔

بحث و تکرار مت کرو

بحث و تکرار مت کرو
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے بھائی کے ساتھ بحث و تکرار نہ کرو، نہ اس کے ساتھ ایسا مذاق کرو (جو اسے برا لگے) اور نہ اس سے ایسا وعدہ کرو جسے تم پورا نہ کرسکو۔") سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1995)
اس حدیث میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے باہمی تعلقات کے اہم آداب بیان فرمائے ہیں، یعنی مسلمان کو اہنے بھائی کے ساتھ بلاوجہ جھگڑنے اور بحث سے بچنا چاہئے، کیونکہ یہ دلوں میں کدورت پیدا کرتی ہے۔ دلوں میں ایسا مذاق نہیں کرنا چاہئے جو دوسرے کو تکلیف دے یا اس کی دل آزاری کا سبب بنے، اور نہ ہی ایسا وعدہ کرنا چاہئے جسے پورا کرنے کی طاقت یا ارادہ نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حسنِ اخلاق، سچائی اور تعلقات کی حفاظت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنی زبان اور رویے پر قابو رکھنا چاہیے اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے ساتھ اختلاف ہو تو نرمی اور حکمت سے گفتگو کی جائے اور اگر کوئی وعدہ کیا جائے تو اسے ہر حال میں پورا کیا جائے، یہ حدیث ہمیں یقین دلاتی ہے کہ مضبوط اور پاکیزہ معاشرہ اچھے اخلاق اور ذمہ دارانہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )