Friday, 21 January 2022

لا حول ولا قوۃ الا باللہ لا منجا من اللہ الا الیہ کی فضیلت کیا ہے؟

لا حول ولا قوۃ الا باللہ لا منجا من اللہ الا الیہ کی فضیلت کیا ہے؟
حدثنا ابوكريب، حدثنا ابوخالد الاحمر، عن هشام بن الغاز، عن مكحول، عن ابي هريرة، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها كنز من كنوز الجنة قال مكحول: فمن قال: لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه كشف عنه سبعين بابا من الضر ادناهن الفقر". قال ابو عيسى: هذا حديث ليس إسناده بمتصل، مكحول لم يسمع من ابي هريرة.
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“۔ مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: 
«لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» 
تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کردیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14621) (صحیح) (سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة 105، 1528)»
---------
راوی: وعن مكحول عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "أكثر من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنزالجنة". قال مكحول: فمن قال: لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجى من الله إلا إليه كشف الله عنه سبعين بابا من الضر أدناها الفقر . رواه الترمذي. وقال: هذا حديث ليس إسناده بمتصل ومكحول لم يسمع عن أبي هريرة
حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "لاحول ولاقوۃ الا باللہ" 
کثرت سے پڑھا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے! حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ ولا منجأ من اللہ الا الیہ"
یعنی ضرر ونقصان کو (دفع کرنے کی) قوت اور نفع حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی قدرت کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات اسی (کی ورضا ورحمت کی توجہ) پر منحصر ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرر و نقصان کی ستر قسمیں دور کر دیتا جس میں ادنی قسم (فقر ومحتاجگی ہے) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سماعت ثابت نہیں ہے۔
تشریح: ارشاد گرامی "جنت کا خزانہ" کا مطلب یہ ہے کہ 
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"
جنت کا ایک ذخیرہ ہے جس سے کہ اس کو پڑھنے والا اس دن (یعنی قیامت کے دن) نفع وفائدہ حاصل کرے گا جس دن نہ دنیا کا کوئی خزانہ مال کا کام آئے گا اور نہ اولاد اور دوسرے عزیز واقا رب نفع پہنچائیں گے۔
فقر (محتاجگی) سے مراد دل کا فقر اور قلب کی تنگی ہے جس کے متعلق ایک حدیث یوں ہے فرمایا کہ 
"کاد الفقر ان یکون کفرا"
فقر کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے. لہٰذا جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے تو اس کی برکت سے دل کی محتاجگی دور ہوتی ہے کیونکہ جب وہ ان کلمات کو زبان سے ادا کرتا ہے اور پھر ان کلمات کے معنی ومفہوم کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین واعتماد پیدا ہوا جاتا ہے کہ ہر امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت کے زیر اثر ہے کسی کو نفع وفائدہ آرام و راحت دنیا میں بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کو تکلیف ومصیب اور ضرر ونقصان میں مبتلا کر دینا بھی اسی کی طرف سے ہے پس وہ شخص بلاء ومصیبت پر صبر کرتا ہے، نعمت و راحت پر شکر کرتا ہے اپنے تمام امور اللہ ہی کی طرف سونپ دیتا ہے اور اس طرح قضا وقدر الٰہی پر راضی ہوکر حق تعالیٰ کا محبوب بندہ اور دوست بن جاتا ہے۔
حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنی ایک سیاحت کے دوران جن صاحب کی رفاقت و صحبت مجھے حاصل رہی. انہوں نے مجھے نیکی وبھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوب اچھی طرح جان لو! اعمال نیک کے لئے اقوال وکلمات میں تو 
"لاحول ولاقوۃ الا باللہ"
کے برابر کوئی قول وکلمہ اور افعال میں اللہ کی طرف جھکنے اور اس کے فضل کی راہ کو اختیار کرنے کے برابر کوئی فعل ممد و معاون نہیں۔ آیت 
(ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم) 
جس شخص نے اللہ کی راہ دکھائی ہوئی کو اختیار کیا تو بلاشبہ اسے مضبوط راہ کی ہدایت بخشی ہوگی۔
امام ترمذی کے قول کے مطابق اگرچہ اس حدیث کی سند متصل نہیں اور اس طرح یہ حدیث منقطع ہے لیکن اس حدیث کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ روایت صحیح ثابت کرتی ہے جو صحاح ستہ میں بطریق مرفوع منقول ہے کہ:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانہا کنز من کنوز الجنۃ"
اسی طرح حدیث کی توثیق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت مرفوع سے بھی ہوتی ہے جسے نسائی اور بزاز نے نقل کیا ہے:
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"
اور اس میں 
"لا منجا من اللہ الا الیہ کنز من کنوز الجنۃ"
بھی ہے لہٰذا حضرت مکحول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث اگرچہ اسناد کے اعتبار سے منقطع ہے مگر مفہوم ومعنی کے اعتبار سے قابل اعتماد ہے. (تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان جلد دوم مشکوۃ شریف. جلد دوم ۔ تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان ۔ حدیث 850. لاحول ولاقوۃ کی فضیلت) (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_80.html

خودساز وعہد ساز شخصیت - مولانا محمد صابر نظامی القاسمی

خودساز وعہد ساز شخصیت - مولانا محمد صابر نظامی القاسمی 
---------------------------------
عظیم انسانوں سے بھری اس کائنات میں بعض نابغہ روزگار شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو در اصل ملی ضرورتوں کے لئے ہی پیدا کردہ ہوتی ہیں، جن کے ذریعہ قوم وملت کی اہم اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے، جن کی ساری کد و کاوش اور محنت وریاضت کا محور قوم وملت کا عمومی مفاد ہوتا ہے۔ 
جن کی فکر "آفاقی" اور پرواز "لولاکی" ہوتی ہے 
جو خوب سے "خوب تر" کی تلاش میں ایک کے بعد دوسرا پڑائو ڈالتے آخر  ایک  "جہانِ تازہ" آباد کر چھوڑتے ہیں۔ قومی وملی خدمات کی تاریخ اپنی تکمیل و تعمیر کے لئے ایسی عظیم ہستیوں کا سہارا لیتی اور اپنے آپ کو مکمل کرنے کے لئے ان کا حوالہ دیتی ہے ۔ہم ان کی خدمات کے اعتراف سے چاہے پہلو تہی کرلیں؛ پَر ان کے انفاس کی خوشبو بکھر کے ہی رہتی ہے، حقیقت کا روشن چہرہ سامنے آکے ہی رہتا ہے۔ قانون فطرت ہے، قربانیوں اور انتھک جد وجہد کی سچے داستانوں کو تادیر چھپایا نہیں جاسکتا. طلوع سحر کو پابند سلاسل کیا جاسکتا نہ اس پہ پہرہ بٹھایا جاسکتا ہے. آفتاب عالم تاب کو نکلنا ہے؛ سو وہ نکل کے ہی رہتا ہے.
میرے استاذ، مربّی، مصلح، محسن، کرم فرما، ہمدرد وغمگسار، استاذ الاساتذہ حضرت الحاج مولانا محمد صابر نظامی صاحب القاسمی مدظلہ ایک غریب ومحنت کش خانوادے میں آنکھیں کھولیں، محنت و مزدوری کرتے ہوئے اپنی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کی، تعلیم ظاہری سے فراغت کے بعد ملی کاموں میں تن ومن سے انہماک کو مقصد حیات بنالیا، ملک کی باوقار تنظیم جمعیت علماے ہند سے وابستہ ہوئے اور کہیے کہ اسی کا ہوکے رہ گئے، میدان عمل میں کود کر اپنا تاریخی کردار اور عصری فریضہ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے ادا کیا، میرے علم کے مطابق قریباً تین دہائیوں سے آپ اس سے اپنے جسم وجاں، قلب وقالب : یعنی کہ پورے وجود کے ساتھ ہمہ جہت مربوط و مصروف ہیں، جمعیت سے وابستگی کو نہ صرف پورے خلوص سے استوار رکھا، بلکہ ضلعی شاخ کو عروج وکمال بخشا، کم وبیش 30 سال سے آپ یہاں سرگرم وتازہ دم ہیں، ادارے کی توسیع وترقی کے لیے سائیکل پہ، پیادہ پا، کبھی جیب خاص سے کرائے کی گاڑیوں سے، چپہ چپہ، قریہ قریہ، گائوں گاؤں گشت کرنا، کبھی نزاعی قضیے چکانا آپ کا محبوب مشغلہ ہے.
اپنا تاریخی کردار اور عصری وملی فریضہ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے ادا کررہے ہیں، مفادات حاصلہ کے لئے  لگے ہوڑ اور شخصی تگ ودو کے آج کے مسابقتی زمانے میں علماے دیوبند کے اخلاص، للّٰہیت، استغناء وتوکل علی اللہ کی شاندار روایت کو بڑی پامردی اور حوصلہ مندی سے باقی رکھا، کبھی بھی خود کو "ضمیر" "عوام" اور "تاریخ" کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ اس بابت لوگ آپ کی مثالیں دیتے ہیں۔
بلندحوصلگی، کشادہ نظری اور حلم مزاجی کے ساتھ آپ نہ صرف "بلندیِ فکر" کے حامل ہیں؛ بلکہ اپنے بلندافکار کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی غیر معمولی خدا داد صلاحیت رکھتے ہیں۔ نری فکر اور خشک وسہانے خواب نتیجہ خیز نہیں ہوتے ؛ جب تک انہیں تشکیل، تعمیر وتعمیل کے لئے عملی تصویر دینے کی متجسم اخلاقی طاقت، جذبہ ایثار وقربانی، اور حکمت وبصیرت حاصل نہ ہو!  
جمعیت العلماء جیسی روشن تاریخ رکھنے والی عظیم ملکی تنظیم سے ذاتی، یا ادارتی پر خاش رکھنے والے، منفی تبصروں اور حاشیہ آرائی کرنے والے بعض نوجوان مقامی فضلاء کو پوری بصیرت ودور اندیشی کے ساتھ ضلعی جمعیت سے جوڑا، انہیں آگے کیا، ذمہ داریاں دیں، ان کی مثبت ومفید صلاحیتوں سے ملت کو استفادے کا موقع فراہم کیا۔ اور یوں آج  ایک پوری کار کرد وفعال ٹیم ان کے ہمراہ سرگرم سفر ہے بحمدللہ سرخیوں میں آنے اور ذاتی پبلسٹی سے طبعی نفور رکھنے والے اس مرد مجاہد کی زندگی کا قابل ذکر ممتاز وصف "قول وفعل اور عمل وکردار کی سچائی" ہے. 
آپ کے اسی کردار نے ملی میدان میں آپ کی عظمت کو نکھارا، آپ کو رفعتیں عطا کیں، اور آج صوبائی طور پہ ایک عظیم انسان، نمایاں وقابل اعتماد قائد کی حیثیت سے جگہ دیکر تاریخ میں امر کردیا. بلکہ سچ یہ ہے کہ ملی خدمات کو اپنے کردار سے معتبر و باوقار بنا کر "تاریخ ساز" کی حیثیت سے آج آپ نے شہرت و اہمیت حاصل کی۔ ملک کے اکابر نے آپ کی شفافیت اور ان مٹ بے لوث خدمات کے باعث صوبائی اکائی میں انتہائی اہم لیکن نازک وحساس ذمہ داری تفویض فرمائی. حضرت الاستاذ کو صوبائی جمعیت میں تنظیم مالیات کی نظامت سونپے جانے پر عاجز کو جو فرحت وشادمانی حاصل ہورہی ہے اس کی تعبیر کے لئے نوک قلم میں کوئی لفظ نہیں. یہ اعزاز آپ کی اپنی بیش بہا مالی و جانی قربانیوں، تکلیفوں، صعوبتوں اور انتھک و مسلسل جدوجہد کا حاصل بھی ہے اور آپ کے فکر و عمل سے ترتیب شدہ اور  خون پسینے سے لکھی ہوئی آب بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔ جو امتیاز بھی ملا آپ کی شخصیت کی عظمت اور مجاہدے کی برکت سے ملا، قربانیوں کا سفر جاری ہے، ملی خدمات کا کارواں ابھی محوسفر ہے. 
میرکارواں بھی "آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی" کا عملی نمونہ بنے ہوئے  ہیں، اگلا پڑائو ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کا ہے ان شآءاللہ:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 
دینی وملی کاموں میں اپنی قابل ذکر؛ بلکہ قابل رشک دردمندیوں وفکر مندیوں اور بے لوث عملی جدوجہد کے باعث آپ اس نوع کے اعزاز و انتخاب کے بہت پہلے سے اہل تھے 
خیر! دیر آید درست آید!
ہم آپ کو اس حسین انتخاب پہ ان توقعات کے ساتھ ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو درپیش مسائل و حادثات کے حل میں اپنی مزید خداداد صلاحیتوں وبصیرتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خوب سے خوب تر رہنمائی  کریں گے. ان شآءاللہ 
خدا آپ کو صحت وسلامتی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے، ہر مہمات میں غیبی نصرت و حمایت فرمائے، اور ہم ایسے کفش بردار تلامذہ واصاغر کو آپ سے استفادے کا خوب مواقع نصیب فرمائے، آمین۔
جنوری 21. بروز جمعہ 2022
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_75.html
مولانا محمد صابر نظامی القاسمی


Sunday, 16 January 2022

صحابئ رسول کو عذابِ قبر اس کے متعلق تحقیق

تحقیقات سلسلہ وار، بقلم ابواحمد حسان بن شیخ یونس تاجپوری گجراتی

صحابئ رسول کو عذابِ قبر اس کے متعلق تحقیق

 (تحقیقات سلسلہ نمبر 34)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

(ایک صحابئ رسول کو عذابِ قبر کے متعلق تحقیق)

سوال:- ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نیک،صالح اورمتقی صحابی کے دفن سے فارغ ہوئے تو آپ علیہ السلام کو ان پر عذاب قبر کا احساس ہوا تو آپ نے ان کے گھر والوں سے صورت حال دریافت فرمائی تو آپ کو بتلایا گیا کہ یہ بندۂ خدا بکریاں چراتے تھے، اور ان کے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہ فرماتے تھے، تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:  إستنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه (پیشاب سے بچو،چونکہ عموما عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے) اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے؟

فقط والسلام۔

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب:- 

یہ واقعہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، حضرت مفتی سعید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے:

"لم أره و لو ثبت هذا لكان فصلا في الباب و حجة في مورد النزاع"  

میں نے یہ حدیث نہیں دیکھی اور اگر یہ واقعہ صحیح سند سے ثابت ہو جائے تو بول ما یؤکل لحمہ کی طہارت و عدم طہارت کا جھگڑا ختم ہوجائے." ( تحفۃ الالمعی جلد۔١ صفحہ۔۳۱۷ زمزم پبلشرز کراچی) علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے العرف الشذی  جلد ۱ صفحہ ۱۰۹ پر لکھا ہے:

"و أما ما ذكر في حاشية نورالأنوار عن مستدرك الحاكم قصة معاذ أنه كان يرعي الشياہ فسنده ضعيف فلا يصح حجة لنا"۔ 

ترجمہ۔ مصنف نورالانوار نے مستدرک حاکم کے حوالے سے حضرت معاذ جو بکریاں چراتے تھے کا جو  قصہ نقل کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ ہمارے خلاف وہ واقعہ حجت اور دلیل نہیں بن سکتا۔ علامہ ظفر احمد عثمانی تھانوی رحمہ اللہ  نے اعلاء السنن میں جلد ۱ صفحہ ۳۸۸ حدیث نمبر ٤۰٦ پر لکھا ہے:

روي أنه عليه السلام لما فرغ من دفن صحابي صالح أبتلي من عذاب القبر جاء إلي امرأته فسئلها عن أعماله فقالت كان يرعى الغنم و لا يتنزه من بوله فحينئيذ قال عليه السلام إستنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه 

كذا في نورالأنوار و عزاه في حاشيته إلي الحاكم

الحاكمة و قال في العرف الشذي.سنده ضعيف و لكنه يكفي تأييدا للعموم  و إبقائه علي حاله

ترجمہ: ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک نیک صحابی کی تدفین سے فارغ  ہوئے جنہیں عذاب قبر میں مبتلا کیا گیا تھا تو آپ علیہ السلام ان صحابی کی اہلیہ کے پاس آئے اور ان سے ان صحابی کے معمولات کے متعلق دریافت فرمایا تو ان کی اہلیہ نے بتلایا کہ وہ بکریاں چراتے تھے اور پیشاب سے احتراز نہیں فرماتے تھے تو آپ علیہ السلام نے اس وقت یہ حدیث ارشاد فرمائی استنزہو الخ۔ پیشاب سے بچا کرو اس لیے کہ عموما عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے. اسی طرح نورالانوار میں ہے اور صاحب نورالانوار نے اس کی نسبت مستدرک حاکم کی طرف کی ہے اور العرف الشذي میں لکھا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے لیکن عموم کی وجہ سے وہ مؤید بن سکتی ہے۔ حضرت مولانا یوسف صاحب بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے معارف السنن جلد ۱ صفحہ۔۲۷٦ پر اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ:

"قال شيخنا و ما ذكره الشيخ أحمد الجونفوري في 'نور الأنوار' من قصة هذا الحديث أنه عليه السلام لما فرغ من دفن صحابي صالح ابتلي بعذاب القبر جاء إلي امرأته فسئلها عن أعماله فقالت كان يرعى الغنم و لا يتنزه من بوله فحينئذ قال عليه السلام إستنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه؛ فلم أره و لو ثبت هذا لكان فصلا في الباب و حجة في مورد النزاع"

معارف السنن میں مذکورہ بالا عبارت کے تحت حاشیہ میں لکھا ہے:

تنبيه. وقع في العرف الشذي هنا و كذا في فيض الباري(١_٣١٤) تصحيف و تحريف و الصحيح ما ذكرت فليتنبه.

نورالانوار (مکتبۂ بشری) میں صفحہ نمبر ۲۸۵-۲۸٦  پر یہ حدیث مذکور ہے اس عبارت میں مذکور ہے:

و قصة هذا الحديث الناسخ ما روي أنه عليه السلام لما فرغ من دفن صحابي صالح ابتلي بعذاب القبر جاء إلي امرأته فسألها عن أعماله فقالت كان يرعى الغنم و لا يتنزه من بوله فحينئذ قال عليه السلام إستنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه 

اسی عبارت کے تحت لگے حاشیہ میں اشراق الابصار کے حوالہ سے لکھا ہے.

أما القصة فلم أجدها من هذا اللفظ..

ان ساری عبارات سے اس قصہ کی عدم صحت معلوم ہوتی ہے خلاصہ یہ کہ یہ قصہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے لہذا اس کے نشر میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔۔۔۔ البتہ یہ بات واضح رہے کہ إستنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه اور اس جیسے الفاظ  یہ مستقل الگ حدیث ہے اور وہ صحیح حدیث ہے۔ ملاحظہ ہو

[عن الحسن البصري:] استنزِهوا من البوْلِ، فإنَّ عامَّةَ عذابِ القبرِ من البوْلِ

ابن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢)، التلخيص الحبير ١‏/١٥٨  •  رواته ثقات مع إرساله  •  أخرجه سعيد بن منصور كما في «التلخيص الحبير» لابن حجر (١/٣١٢)، وابن سمعون الواعظ في «أماليه» (٢٩٦

- [عن أبي هريرة:] استنْزِهوا من البولِ 

فإن عامّةَ عذابِ القبرِ منه

الدارقطني (ت ٣٨٥)، سنن الدارقطني ١‏/٣١٤  •  الصواب مرسل  •  أخرجه الدارقطني

استنزِهوا من البولِ فإنَّ عامَّةَ عذابِ القبرِ منهُ

ابن الملقن (ت ٧٥٠)، البدرالمنير ٢‏/٣٢٣  •  صحيح

اس تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ بالا سوال میں مذکور واقعہ درست اور صحیح نہیں ہے، ہاں البتہ وہ دو صحابئ رسول جن میں سے ایک کو پیشاب سے اجتناب نہ کرنے اور دوسرے صحابی کو چغل خوری کرنے کی وجہ سے عذاب قبر کا ہونا صحیح روایات سے ثابت ہیں۔

مکمل تحقیق ملاحظہ فرمائیں 👇

213 حدثنا عثمان قال حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بحائط من حيطان المدينة أو مكة فسمع صوت إنسانين يعذبان في قبورهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم يعذبان وما يعذبان في كبير ثم قال بلى كان أحدهما لا يستتر من بوله وكان الآخر يمشي بالنميمة ثم دعا بجريدة فكسرها كسرتين فوضع على كل قبر منهما كسرة فقيل له يا رسول الله لم فعلت هذا قال لعله أن يخفف عنهما ما لم تيبسا أو إلى أن ييبسا [ص: 379]

(صحيح البخاري | كِتَابٌ: الْوُضُوءُ  | بَابٌ: مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ لَا يَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِهِ)

ترجمہ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ یا مکہ کے قبرستانوں میں سے کسی قبرستان سے گزرے پس آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا تھا اور انہیں کسی گناہ کبیرہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا تھا پھر آپ نے فرمایا کیوں نہیں نہیں ان دونوں میں کا ایک اپنے پیشاب سے احتراز نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا تھا پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے کھجور کے درخت کی ایک ٹہنی منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے ہیں اور ہر قبر پر ایک کپڑا رکھ دیا بس آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے دریافت کیا گیا اے اللہ کے رسول آپ نے یہ کیوں کیا آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا شاید ان دونوں سے ان ٹہنیوں کے  خشک ہونے تک ان سے تخفیف کردی جائے۔ اس حدیث سے متعلق چند باتیں قابل ذکر ہیں. ایک تو یہ کہ ان قبروں میں کون مدفون تھا چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 320 پر لکھا ہے کہ ان مدفونین کے نام حدیث میں مذکور نہیں، چنانچہ ان کی ٹوہ میں نہیں پڑنا چاہیے، البتہ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ ان مدفونین  میں سے ایک تو حضرت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ تھے یہ قول باطل ہے، اور اور اس کے بطلان پردلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی تدفین میں شریک تھے، جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے البتہ مذکورہ مدفونین کے بارے میں مسند احمد کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان مذکورہ حضرات کی تدفین میں شریک نہ تھے، چنانچہ مسند احمد میں 22292 نمبر پر یہ روایت ہے

22292 حَدَّثَنَا أَبُوالْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ، قَالَ : فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ دَفَنْتُمْ هَاهُنَا الْيَوْمَ ؟ ". قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ. قَالَ : "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ، وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ". وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : "لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَحَتَّى مَتَى هُمَا يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: "غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ ". قَالَ: "وَلَوْلَا تَمْرِيجُ قُلُوبِكُمْ، أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ".

حكم الحديث: إسناده ضعيف جدا. (مسند أحمد | مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ  | حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے ہے کہ اللہ کے رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کی تدفین کے وقت وہاں شریک نہ تھے اگر شریک ہوتے تو آپ یہ دریافت نہ فرماتے کہ ان قبروں میں کون مدفون ہے؟ اب وہ مدفونین کون تھے تو ابو موسی المدینی کا قول ہے کہ وہ  دونوں دو کافروں کی قبریں تھیں اور انہوں نے مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے:

 [عن جابر بن عبدالله:] مرَّ نبيُّ اللهِ ﷺ على قبرَينِ مِن بني النَّجّارِ هلكا في الجاهليةِ فسمِعَهُما يعذبانِ في البولِ والنَّمِيمَةِ

أبوموسى المديني (ت ٥٨٠)، عمدة القاري ٣‏/١٧٩  •  حسن وإن كان إسناده ليس بالقوي  •  أخرجه الطبراني في «المعجم الأوسط» (٤٦٢٨) باختلاف يسير 

کہ یہ روایت گرچہ قوی نہیں، لیکن اس کا معنی درست ہے۔ بایں طور کہ یہ دونوں کافر تھے اگر مسلمان ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت مؤمن کے حق میں صرف ٹہنی کے خشک ہونے تک نہ ہوتی بلکہ دائمی تخفیف ہو جاتی مگر آپ نے فرمایا کہ تخفیف ٹہنی کے خشک ہونے تک ہوگی اس سے ثابت ہوا کہ یہ دونوں مسلمان نہیں تھے یہ آپ علیہ السلام کی شفقت تھی ایک کافر کے ساتھ کہ آپ نے متعینہ مدت کے لیے عذاب میں تخفیف کی شفاعت کردی، حافظ اس کے بعد ابن عطار کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابن عطار کہتے ہیں کہ وہ  دونوں مسلمان تھے اور وہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا کوئی جواز ہی نہیں کہ انہیں کافر کہا جائے اس لئے کہ اگر وہ دونوں کافر ہوتے تو آپ علیہ السلام ان کے لئے نہ تخفیف عذاب کی دعا کرتے اور نہ ہی کوئی رحم کھاتے اور اگر یہ خصوصیات میں سے ہوتا تو جس طرح ابو طالب کی وضاحت کی اس طرح اس کی بھی وضاحت کر دیتے ابن حجر رحمت اللہ علیہ خود کی رائے پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ و ما قاله آخرا هو الجواب و ما طالب به من الجواب قد حصل و لا يلزم التنصيص على لفظ الخصوصية  کہ ابن عطار کے مطلوبہ جوابات مل چکے، رہی بات خصوصیت کی تو خصوصیت کے لفظ کے ساتھ نص کا وارد ہونا ضروری نہیں، لیکن جس روایت سے ابو موسی نے استدلال کیا وہ ضعیف ہے جیسا کہ انہوں نے خود اس کا اعتراف کیا لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے ایک روایت نقل کی ہے ہے اور اسے صحیح علی شرط مسلم قرار دیا ہے البتہ ان دونوں مدفونین کا کافر ہونے کا احتمال ظاہر ہے لیکن ان دونوں کا مسلمان ہونا درست معلوم ہوتا ہے مذکورہ بالا حدیث کے جمیع طرق کو دیکھتے ہوئے اس طور پر کہ ابن ماجہ (قدیمی کتب خانہ ۔مقابل آرام گاہ کرانچی کا نسخہ) میں صفحہ نمبر ۲۹ پر یہ روایت اس طرح مذکور ہے.

حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ" حكم الحديث: صحيح 

اس میں قبرین جدیدین کا لفظ ہے اس سے ان دونوں کا زمانۂ جاہلیت سے ہونا منتفی ہوگیا، نیز سابق میں مذکور مسند احمد کی ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بقیع الغرقد کا نام مذکور ہے اور بقیع مسلمانوں کا قبرستان ہے اس سے بھی ان دونوں کا مسلمان ہونا معلوم ہوتا ہے، نیز ان دونوں کے مسلمان ہونا مسند احمد کی ایک اور صحیح روایت سے معلوم ہوتا ہے وہ روایت یہ ہے:

20373 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي وَرَجُلٌ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، وَبَلَى، فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ "، فَاسْتَبَقْنَا فَسَبَقْتُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ، فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً. وَقَالَ: "إِنَّهُ يُهَوَّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْبَوْلِ وَالْغِيبَةِ ".

حكم الحديث: إسناده قوي.

اس میں الا فی البول و الغیبۃ کا حصر ہے اور یہ ان دونوں کے کافر ہونے کے منافی ہے بایں طور کہ کافر کو احکام اسلام کے ترک کا عذاب تو ہوتا ہے لیکن اس کے کفر کا عذاب تو مسلسل جاری رہتا ہے۔۔(دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ کافر ہوتے تو اولا اسلام لانے کے مکلف ہوتے پھر احکام اسلام پر عمل کے  مگر وہ مسلمان تھے اس لئے انہیں احکام اسلام پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا اور احکام اسلام کے ترک پر انہیں عذاب دیا جا رہا تھا) لہذا ان دونوں کا مسلمان ہونا زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ انتہی. اسی طرح سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی اس طرح کی احادیث پیش کی جاتی ہے۔ مکمل تحقیق ملاحظہ فرمائیں 👇 (منقول) 1     سعید مقبری رحمہ اللہ  کہتے ہیں:

لَمَّا دَفَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَعْدًا قَالَ: لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِّنْ ضَغْطَۃِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدٌ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّۃً اخْتَلَفَتْ مِنْہَا أَضْلَاعُہ، مِنْ أَثَرِ الْبَوْلِ.

”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ  کو دفن کردیا، تو فرمایا: اگر قبر کے دبوچنے سے کوئی بچ سکتا، تو وہ سعد تھا۔ اسے بھی قبر نے اس قدر دبایا کہ پسلیوں کا آپس میں اختلاط ہوگا، ایسا پیشاب کے چھینٹوں کی وجہ سے ہوا۔“ (الطبقات لابن سعد: ٣/٣٢٩)

تبصرہ: سند ”ضعیف“ اور ”منقطع“ ہے۔

1     سعید مقبری رحمہ اللہ  تابعی براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کر رہے ہیں، لہٰذا یہ ”مرسل ہونے کی وجہ سے ”ضعیف ہے۔

2     ابومعشر نجیح بن عبد الرحمن جمہور کے نزدیک ”ضعیف ہے۔

علامہ بوصیری رحمہ اللہ  کہتے ہیں:

وَقَدْ ضَعَّفَہُ الْجُمْہُورُ.

”اسے جمہور نے ضعیف کہا ہے۔“

(اتحاف المھرۃ: ٤/٥١١)

2     سعد رضی اللہ عنہ کے گھر والے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

کَانَ یُقَصِّرُ فِي بَعْضِ الطَّہُورِ مِنَ الْبَوْلِ .

”سعد بسا اوقات پیشاب کرتے وقت چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔“ (دلائل النّبوۃ : ٤/٣٠، إثبات عذاب القبر کلاھما للبیھقي: ٩٤)

تبصرہ: سند ”ضعیف ہے۔ بعض اہل سعد، کون ہے؟ کوئی پتہ نہیں! نیز ان کو خبر دینے والا بھی مبہم ہے۔

3     سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ  کے جنازہ کے موقع پر فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ لَقَدْ سَمِعْتُ أَنِینَہ، وَرَأَیْتُ اخْتِلافَ أَضْلاعِہٖ فِي قَبْرِہٖ .

”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میری جان ہے! میں نے سعد کے رونے کی آواز سنی ہے اور پسلیوں کا اختلاط دیکھا ہے۔“

(الموضوعات لابن الجوزي: ٣/٢٣٣)

تبصرہ: سند ”باطل“ ہے۔ قاسم بن عبدالرحمن انصاری ”ضعیف ہے۔ توثیق و عدالت ثابت نہیں۔ امام یحی بن معین رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

لَیْسَ بِشَيْءٍ .

”کسی کام کا نہیں۔“

امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ  نے فرمایا:

ضَعِیفُ الْحَدِیثِ، مُضْطَرَبُ الْحَدِیثِ.

”اس کی حدیث ”ضعیف و مضطرب ہوتی ہے۔

نیز امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ  نے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔“

(الجرح والتّعدیل لابن أبي حاتم: ٧/١١٣)

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ  اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

ھٰذَا حَدِیثٌ لَّا یَصِحُّ، وَآفَتُہ، مِنَ الْقَاسِمِ.

”یہ حدیث ثابت نہیں ہے، وجہ ضعف قاسم (بن عبدالرحمن) ہے۔“

4     مشہور تابعی حسن بصری رحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

إِنَّہ، ضُمَّ فِي الْقَبْرِ ضَمَّۃً حَتّٰی صَارَ مِثْلَ الشَّعْرَۃِ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یُّرَفِّہَ عَنْہُ، وَذَالِکَ أَنَّہ، کَانَ لَا یَسْتَبْرِءُ مِنَ الْبَوْلِ.

”سعد پر قبر اس قدر تنگ ہوئی کہ وہ بال کی طرح باریک ہو گئے، میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بارِ خاطر ہلکا کردے۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ سعد پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔

(الموضوعات لابن الجوزي: ٣/٢٣٤)

تبصرہ:

سند سخت ”ضعیف ہے۔

1     سند ”منقطع ہے۔ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ  کہتے ہیں:

ھٰذَا حَدِیثٌ مَّقْطُوعٌ، فَإِنَّ الْحَسَنَ لَمْ یُدْرِکْ سَعْدًا.

”یہ حدیث ”منقطع” ہے، کیوں حسن بصری نے سعد کا زمانہ نہیں پایا۔

2     ابوسفیان طریف بن شہاب صفدی جمہور کے نزدیک ”ضعیف و متروک ہے۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ سیدنا سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ  کو ضغطۃ القبر ”قبر کی پکڑ پیشاب کے چھینٹوں کی وجہ سے نہ تھا اور اس کے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں۔

فائدہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ  کے بارے میں فرمایا:

لَہٰذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّکَ لَہُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَہ، أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَشَہِدَہ، سَبْعُونَ أَلْفًا مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ لَمْ یَنْزِلُوا الْـأَرْضَ قَبْلَ ذَالِکَ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّۃً ثُمَّ أُفْرِجَ عَنْہُ .

”یہ تو ایسی نیک شخصیت ہیں، کہ جن کی موت سے عرشِ الٰہی میں بھی جنبش آ گئی، ساتوں آسمانوں کے دروازے کھول دیے گئے اور ستر ہزار فرشتے جنازہ میں حاضر ہوئے، جو اس سے پہلے زمین پر نہ اترے تھے۔ پہلے ان پر قبر تنگ ہوئی ، پھر کشادہ ہوگئی۔

(الطبقات لابن سعد: ٣/٤٣٠، سنن النسائي: ٢٠٥٥، وسندہ، صحیحٌ)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَۃً، لَوْ کَانَ أَحَدٌ نَّاجِیًا مِّنْہَا نَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ .

”قبر ایک بار ضرور دبوچتی ہے، اگر اس سے کوئی بچ سکتا ہوتا، تو سعد ہوتے۔

(مسند الإمام أحمد: ٦/٥٥ ،٩٨، وسندہ، صحیحٌ)

امام ابن حبان رحمہ اللہ  (٣١١٢) نے اسے ”صحیح کہا ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ  نے اس کی سند کو ”قوی کہا ہے۔

(سیرأعلام النّبلاء: ١/٢٩٠)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں:

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صلّٰی عَلٰی صَبِيٍّ أَوْ صَبِیَّۃٍ فَقَال: لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِّنْ ضَمَّۃِ الْقَبْرِ لَنَجَا ہٰذَا الصَّبِيُّ.

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی بچے یا بچی کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا: قبر کی تنگی سے کوئی بچ سکتا ہوتا، تو یہ بچہ بچتا۔

(الأوسط للطبراني : ٢٧٥٣، المَطالب العالیۃ لابن حجر: ٤٥٣٢، وسندہ، صحیحٌ)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  نے اس کی سند کو ”صحیح کہا ہے۔

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْـأَوْسَطِ، وَرِجَالُہ، مُوَثَّقُونَ.

ــ”یہ معجم الاوسط للطبرانی کی روایت ہے اور اس کے تمام راویوں کی توثیق کی گی ہے۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ٣/٤٧)

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں:

إِنَّ صَبِیًّا دُفِنَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَفْلَتَ أَحَدٌ مِّنْ ضَمَّۃِ الْقَبْرِ لََـأَفْلَتَ ہٰذَا الصَّبِيُّ.

”ایک بچے کی تدفین کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: قبر کے کھچاؤ سے کسی کی جاں خلاصی ہوسکتی ہوتی، تو اس بچے کی ہوتی۔

(المعجم الکبیر للطبراني: ٤/١٢١، ح: ٣٨٥٨، صحیحٌ)

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:

وَرِجَالُہ، رِجَالُ الصَّحِیحِ .

”اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: ٣/٤٧)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:

ہٰذِہِ الضَّمَّۃُ لَیْسَتْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي شَيْئٍ، بَلْ ہُوَ أَمْرٌ یَّجِدُہُ المُؤْمِنُ، کَمَا یَجِدُ أَلَمَ فَقْدِ وَلَدِہٖ وَحَمِیمِہٖ فِي الدُّنْیَا، وَکَمَا یَجِدُ مِنْ أَلَمِ مَرَضِہٖ، وَأَلَمِ خُرُوجِ نَفْسِہٖ، وَأَلَمِ سُؤَالِہٖ فِي قَبْرِہٖ وَامْتِحَانِہٖ، وَأَلَمِ تَأَثُّرِہٖ بِبُکَاءِ أَہْلِہٖ عَلَیْہِ، وَأَلَمِ قِیَامِہٖ مِنْ قَبْرِہٖ، وَأَلَمِ الْمَوْقِفِ وَہَوْلِہٖ، وَأَلَمِ الْوُرُودِ عَلَی النَّارِ، وَنَحْوِ ذَالِکَ، فَہٰذِہِ الْـأَرَاجِیفُ کُلُّہَا قَدْ تَنَالُ الْعَبْدَ، وَمَا ہِيَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَلَا مِنْ عَذَابِ جَہَنَّم قَطُّ، وَلٰکِنَّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ یَرْفُقُ اللّٰہُ بِہٖ فِي بَعْضِ ذَالِکَ أَوْ کُلِّہٖ، وَلَا رَاحَۃَ لِلْمُؤْمِنِ دُوْنَ لِقَاءِ رَبِّہٖ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: (وَأَنْذِرْہُم یَوْمَ الْحَسْرَۃِ)، وَقَالَ : (وَأَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْـآزِفَۃِ، إِذِ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ)، فَنَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالَی الْعَفْوَ وَاللُّطْفَ الْخَفِيَّ، وَمَعَ ہٰذِہِ الہَزَّاتِ، فَسَعْدٌ مِّمَّنْ نَّعْلَمُ أَنَّہ، مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَأَنَّہ، مِنْ أَرْفَعِ الشُّہَدَاءِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، کَأَنَّکَ یَا ہٰذَا تَظُنُّ أَنَّ الْفَائِزَ لَا یَنَالُہ، ہَوْلٌ فِي الدَّارَیْنِ، وَلاَرَوْعٌ، وَلاَ أَلَمٌ، وَلاَ خَوْفٌ، سَلْ رَبَّکَ الْعَافِیَۃَ، وَأَنْ یَّحْشُرَنَا فِي زُمْرَۃِ سَعْدٍ.

”یہ تنگی اور پکڑ عذاب قبر نہیں ہے، بل کہ یہ تو ایک حالت ہے، جس کا سامنا مومن کو بہرصورت کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ دنیا میں اپنے بیٹے یا محبوب کے گم ہو جانے پر پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسے بیماری، جان نکلنے، قبر کے سوالات، اس پر نوحہ کرنے کے اثرات، قبر سے اٹھنے، حشر اور اس کی ہولناکی اور آگ پر پیشی وغیرہ جیسے حالات کی تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے یا پڑے گی۔ ان دہشت ناک حالات سے انسان کا پالا پڑ سکتا ہے۔ یہ قبر کا عذاب ہے، نہ جہنم کا۔ لیکن اللہ تعالیٰ شفقت کرتے ہوئے اپنے متقی بندے کو بعض یا سب حالات سے بچا لیتے ہیں۔ مومن کو حقیقی و ابدی راحت اپنے رب کی ملاقات کے بعد ہی حاصل ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَأَنْذِرْہُم یَوْمَ الْحَسْرَۃِ) (مریم: ٣٩) ‘آپ لوگوں کو حسرت والے دن سے خبر دار کردیں۔’ نیز فرمایا: (وَأَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْـآزِفَۃِ، إِذِ القُلُوبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ) (المؤمن : ١٨) ‘آپ لوگوں کو تنگی اور بدحالی والے دن سے ڈرا دیں کہ جب کلیجے منہ کو آئیں گے۔’ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر ، لطف وکرم اور پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان جھٹکوں کے باوجود سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ  جنتی ہیں اور بلند مرتبہ شہدا میں سے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ کامیاب انسان کو دنیا و آخرت میں کسی قسم کی پریشانی، قلق، تکلیف، خوف اور گھبراہٹ کا سامنا نہیں ہو گا۔ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں عافیت عطا فرمائے اور ہمارا حشر (سیدالانصار) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ  کے ساتھ کردے۔”

(سیرأعلام النّبلاء : ١/٢٩٠، ٢٩١)

خلاصۂ کلام:- کسی صحابی رسول کے متعلق صحیح روایات سے ثابت نہیں ہے کہ ان کو پیشاب سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے عذابِ قبر ہوا ہو، سواء ایک حدیث کے "أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ" وہ صحیح روایات سے ثابت ہے، لکین اس میں کسی صحابی کی تعیین مثلاً سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ یہ بھی درست اور صحیح نہیں ہے۔ 

فقط والسلام۔۔۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رتبه: الطالب عبدالمتين من احمدآباد

جمعه: ابواحمد حسان بن شیخ یونس تاجپوری گجرات (الھند)

مدرس جامعہ تحفیظ القرآن اسلام پورہ گجرات

رابطہ نمبر:- 9428359610

7 ستمبر/2020ء بروز پیر

https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_16.html



Saturday, 15 January 2022

کیا برش و ٹوتھ پیسٹ مسواکِ مسنون کا بدل ہوسکتا ہے؟

کیا برش و ٹوتھ پیسٹ مسواکِ مسنون کا بدل ہوسکتا ہے؟

---------------------------------
----------------------------------

اسلام دین فطرت ہے، اس میں باطنی طہارت کے ساتھ جسمانی طہارت ونظافت کا اتنا لحاظ رکھا گیا ہے کہ پاکی وصفائی کو آدھا ایمان قرار دیا گیا. استنجاء، وضوء، غسل، کلی، ناک اور دانت ومنہ کی صفائی کا اولیں حکم دیا گیا ہے. اعضائے جسمانی میں بطورخاص منہ انسانی حسن و جمال کا مرکز ہے، اسی سے تبسم کی لہریں نکلتی ہیں، یہیں سے الفاظ کے پھول جھڑتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ ودانت کی صفائی کو تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت اور اسے دس امورفطرت میں شمار کیا، رضائے الہی کا ذریعہ اور منہ کی طہارت و پاکیزگی کا باعث بتایا. اسی پر بس نہیں؛ بلکہ اپنی تریسٹھ سالہ معیاری زندگی کے شب وروز میں پانچ نمازوں، نوافل کے وقت سونے سے پہلے اور سونے کے بعد، کھانے کے بعد اور لوگوں سے ملنے سے پہلے؛ حتی کہ مرض الوفات تک میں یہ عمل کرکے دکھلایا ہے۔ مسواک کے بارے میں اس قدر تاکیدی حکم دیا گیا کہ بعض صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو یہ گمان ہونے لگا تھا کہ کہیں اِس بارے میں مجھ پر قرآن کریم نہ نازل ہوجائے۔
مسواک کی لغوی حقیقت:
جس چیز سے بھی دانتوں کو رگڑا جائے اور مَل کر صاف کیا جائے. اسے عربی لغت کے اعتبار سے ”سِواك“ (سین کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ یہ لفظ، ساكَ  یسوكُ سوكًا سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ”سواک“ فعل سواک (معنی مصدری) (استاك، يستاك، استياكاً: مسواک کرنا) اور آلہ (مسواک، اسم آلہ) دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ البتہ لفظ سواک سے جب آلہ (مسواک) مراد ہوگا. اس وقت اس کی جمع سُوُكٌ آئے گی، جیسے کتاب کی جمع کُتُبٌ۔ علامہ زبیدی تاج العروس میں تحریر فرماتے ہیں:
"ساكَ الشَّيءَ يَسُوكُه سَوْكًا: دَلَكَه، ومِنْهُ أُخِذَ المِسواكُ" (تاج العروس" (27/215) 
[سوك]: ساك الشيء يسوكه سوكا: دلكه، ومنه أخذ المسواك، وهو مفعال منه، قاله ابن دريد (الجمهرة 3 / 48 ). وساك فمه بالعود يسوكه سوكا وسوكه تسويكا، واستاك استياكا، وتسوك قال عدي بن الرقاع:
وكأن طعم الزنجبيل ولذة * صهباء ساك بها المسحر فاها (التهذيب واللسان) ولا يذكر العود ولا الفم معهما أي مع الاستياك والتسوك. والعود: مسواك وسواك، بكسرهما وهو ما يدلك به الفم قال ابن دريد: وقد ذكر المسواك في الشعر الفصيح، وأنشد:
إذا أخذت مسواكها ميحت به رضابا كطعم الزنجبيل المعسل (الجمهرة 3 / 48 ونسبه لذي الرمة).
(الزبيدي /تاج العروس 13/588، الصحاح (4/ 1593)، النهاية في غريب الحديث (2/ 425)، تهذيب الأسماء واللغات (3/ 157)، المصباح المنير (2/350)، لسان العرب (10/ 446)، القاموس المحيط (3 / 318)، المعجم الوسيط (1/ 465) 
اگر فعل سواک یعنی معنی مصدری (بمعنی مسواک کرنا) مراد لیا جائے تو اس وقت مطلق رگڑنے کے معنی مراد لئے جاتے ہیں، یعنی لغوی تعریف میں عود (لکڑی) یا "منہ" رگڑنے کے ذکر کی حاجت نہ ہوگی:
ولا يذكر العود ولا الفم معهما أي مع الاستياك والتسوك. (الزبيدي /تاج العروس 13/588) جبکہ بعض اہل لغت سواک کی لغوی تعریف میں لکڑی کی قید بھی ملحوظ رکھتے ہیں:
لسان العرب میں ہے:
[سوك] 
سوك: السوك: فعلك بالسواك والمسواك، وساك الشيء سوكا: [ص: 307] دلكه، وساك فمه بالعود يسوكه سوكا
[سوك] 
(لسان العرب، حرف السين سوك ج 7)
علامہ ابن الاثیر نہایہ میں لکھتے ہیں:
السِّوَاكُ بِالْكَسْرِ، والْمِسْوَاكُ: مَا تُدْلَكُ بِهِ الأسْناَن مِنَ العِيدانِ. يُقَالُ سَاكَ فَاه يَسُوكُهُ إِذَا دَلَكه بالسِّواك. فَإِذَا لَمْ تَذْكُر الفمَ قُلْتَ اسْتَاكَ. (ص 425 - ج 2 كتاب النهاية في غريب الحديث والأثر- سوك)-
سواک کی فقہی واصطلاحی تعریف:
سواک کی فقہی واصطلاح تعریف میں مذاہب اربعہ کے مابین قدرے اختلاف ہے. حنفیہ کے یہاں وہ لکڑی جس سے دانتوں کو رگڑا جائے اسے اصطلاحا ًسواک کہتے ہیں:
"اسم لخشبة معينة للاستياك (العناية شرح الهداية مع شرح فتح القدير" (1/24، البحرالرائق 1/ 21، عمدة القاري 3/ 184)۔
مالکیہ کے یہاں لکڑی یا کسی بھی سخت وکھردری چیز سے دانتوں کی زردی اور منہ کی بدبو زائل کردی جائے تو اسے سواک کہہ سکتے ہیں:
"استعمال عود أو نحوه في الأسنان لإذهاب الصفرة والريح" (مواهب الجليل (1/264) وأوجزالمسالك (1/368)
جبکہ شوافع وحنابلہ کے ہاں بالکل عموم ہے، جس چیز کے ذریعہ بھی دانتوں کی صفائی عمل میں لائی جائے اسے سواک کہا جائے گا:
"استعمال عود أو نحوه في الأسنان لإذهاب التغير ونحوه" (المجموع (1/270) وشرح مسلم (3/177) ومغني المحتاج (1/55) والمبدع (1/68) وكشاف القناع (1/70)
سواک کے کون سے معنی مراد ہیں؟
مذاہب اربعہ کے  فقہاء کے ہاں سواک کے اصطلاحی معنی کی تعیین کے بابت تفصیل آچکی ہے. اب یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ سنن وضوء وصلوۃ کے ذیل میں جس سواک کا ذکر روایتوں میں آتا ہے. تو وہاں سواک کے کون سے معنی مراد ہوتے ہیں؟ چنانچہ صحیحین کی روایت ہے: 
"لَوْلَا أنْ أشُقَّ علَى أُمَّتي أوْ علَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بالسِّوَاكِ مع كُلِّ صَلَاةٍ. أخرجه البخاري (887)، ومسلم (252– 
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ارشاد نبی صلی الله علیہ وسلم منقول ہے کہ ”اگر میں مسلمانوں کے حق میں مشقت محسوس نہ کرتا اور مجھے مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کے لئے ہر نماز کے وقت مسواک کو ضروری قرار دیتا)۔ یہاں نماز کے وضوء یا قیام نماز (علی اختلاف التقدیر) سے پہلے جس سواک کے ضروری قرار دیئے جانے کا تذکرہ ہے تو احناف سمیت تمام فقہاء کا ماننا ہے کہ یہاں سواک سے مراد آلہ سواک نہیں؛ بلکہ فعل سواک یعنی معنی مصدری بمعنی مسواک کرنا یعنی دانت اچھی طرح رگڑکر صاف کرنا مراد ہے: مراقی الفلاح میں ہے: 
"والسواك" بكسر السين اسم للاستياك والعود أيضا والمراد الأول لقوله صلى الله عليه وسلم: "لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة" (طحطاوي على المراقي: 67)
اسی طرح جب لکڑی یا اس کے مشابہ کوئی چیز دست یاب نہ ہوسکے تو شوافع کے سوا ائمہ ثلاثہ کا اتفاق ہے کہ فعل سواک کی سنیت اور اجر و ثواب انگلی پھیر دینے سے بھی ادا ہوجائے گی: 
تُجْزِی الاَصَابِعُ مَجْزَی السِّوَاکَ. (بيهقی، السنن الکبری، 1: 41، رقم : 178– انگلیاں مسواک کے قائم مقام ہیں۔‘‘
ایک اور حدیث  میں ہے: 
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ رَغَّبْتَنَا فِى السِّوَاكِ، فَهَلْ دُونَ ذَلِكَ مِنْ شَىْءٍ؟ قَالَ: «إِصْبَعَاكَ سِوَاكٌ عِنْدَ وُضُوئِكَ تُمِرُّهُمَا عَلَى أَسْنَانِكَ، إِنَّهُ لاَ عَمَلَ لِمَنْ لاَ نِيَّةَ لَهُ وَلاَ أَجْرَ لِمَنْ لاَ حِسْبَةَ لَهُ» (ضعيف: أخرجه البيهقي في سننه 1/ 41 في كتاب الطهارة باب السواك بالأصابع، وفيه رجل غير مسمى—— 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے قبیلہ بنوعمرو بن عوف میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں مسواک کرنے کی ترغیب دی ہے، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے وضو کے وقت تمہاری دو انگلیاں مسواک ہیں جن کو تم اپنے دانتوں پر پھیرتے ہو۔ بغیر نیت کے کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اور ثواب کی نیت کے بغیر کوئی اجر نہیں ہوتا۔‘‘ (بيهقی، السنن الکبری، 1: 41، رقم: 179)
اس سے بھی پتہ چلتا ہے بوقت ضرورت ومجبوری مسواک کے مفہوم سے لکڑی کی قید ختم ہوجاتی ہے اور جس چیز سے بھی منہ کی صفائی و پاکیزگی حاصل ہوجائے مسواک کی سنت وفضیلت اس سے ادا ہوجائے گی. البحرالرائق میں ہے:
"وَتَقُومُ الْأُصْبُعُ أَوْ الْخِرْقَةُ الْخَشِنَةُ مَقَامَهُ عِنْدَ فَقْدِهِ أَوْ عَدَمِ أَسْنَانِهِ فِي تَحْصِيلِ الثَّوَابِ لَا عِنْدَ وُجُودِهِ وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَبْدَأَ بِالسَّبَّابَةِ الْيُسْرَى ثُمَّ بِالْيُمْنَى وَالْعِلْكُ يَقُومُ مَقَامَهُ لِلْمَرْأَةِ لِكَوْنِ الْمُوَاظَبَةِ عَلَيْهِ تُضْعِفُ أَسْنَانَهَا فَيُسْتَحَبُّ لَهَا فِعْلُهُ." ا.هـ وكذا في فتح القدير." وَعِنْدَ فَقْدِهِ يُعَالِجُ بِالْأُصْبُعِ ا.هـ
قال ابن عابدين في الحاشية: قوله (أو الأصبع) قال في الحلية ثم بأي أصبع استاك لا بأس به والأفضل أن يستاك بالسبابتين يبدأ بالسبابة اليسرى ثم باليمنى وإن شاء استاك بإبهامه اليمنى والسبابة اليمنى يبدأ بالإبهام من الجانب الأيمن فوق وتحت ثم بالسبابة من الأيسر كذلك ا.ه (البحرالرائق مع منحة الخالق 21/1)
اگر سواک کی تعریف اصطلاحی میں لکڑی کی قید لازمی ہوتی تو انگلی پھیرنا اس کا بدل کسی طور نہ ہوسکتا تھا۔ (شرح فتح القدير 1/ 22، حاشية ابن عابدين 1/ 115، التمهيد 7/ 202، مواهب الجليل 1/ 265، المغني 1/ 137، الإنصاف 1/ 118) وهو اختيار النووي (ينظر: المجموع 1/ 382) وابن قدامة (ينظر: المغني 1/ 137)
مسواک کی فضیلت کی بنیاد منہ کی صفائی ہے یا کوئی خاص لکڑی؟
پھر نسائی شریف کی اس حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سواک کی غیر معمولی فضیلت کی بنیاد دانت منہ کی طہارت وصفائی یعنی فعل استیاک ہے، محض چوب وخشب اس کی بنیاد نہیں:
السِّواكُ مَطهرةٌ للفمِ، مَرضاةٌ للرَّبِّ (النسأي 5— دانتوں کی صفائی یعنی مسواک کرنا منہ کی پاکیزگی اور رب کی خوشنودی کا ذریعہ ہے)
سواک کی شرعی حیثیت: 
مسواک کرنے کی سنیت پہ ائمہ اربعہ کا تو اتفاق ہے؛ لیکن اختلاف اس بارے میں ہے کہ وضو کی سنت ہے یا نماز کی؟۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک سنن وضو اور سنن صلوٰة دونوں میں سے ہے۔ احناف کے مشہور قول کے مطابق صرف وضو کی سنتوں میں سے ہے۔ نماز کی سنتوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن ایک قول ہمارے ہاں بھی سنن صلوۃ کا ہے، جیسا کہ علامہ ابن الہمام نے لکھا ہے کہ ہمارے یہاں مسواک کرنا پانچ اوقات میں مستحب ہے: 
ويستحب عندنا في خمسة مواضع:
1..عندإصفرار الأسنان (جب دانت پیلے ہو جائیں)
2..عند تغیر الرائحة (جب منھ میں بو پیدا ہو جائے)
3..عندالقیام من النوم (نیند سے بیدار ہوتے وقت)
4..عندالقیام إلى  الصلوٰة (نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت)
5..عندالوضوء (وضو کے وقت)
لہٰذا اس قول کی بنا پر احناف کے نزدیک مسواک کرنا وضو کے وقت سنت موکدہ ہے اور نماز کے وقت سنت غیرموکدہ، مستحب ہے. (فتح القدیر 25/1) .
مسواک کس چیز کی ہو؟
متعدد روایات میں مسواک کرنے کی تاکید آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی اسے عملاً کرکے بتایا؛ حتی کہ مرض وفات میں بھی اسے ترک نہیں فرمایا، آپ کے زمانے میں جس چیز کی مسواک  دست یاب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف مسواک استعمال فرمائے ہیں، ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کی روایت میں پیلو کی مسواک کا ذکر ہے:
عنِ ابنِ مسعودٍ رَضِيَ اللهُ عنه, أنَّه كان يَجْتني سواكًا مِنَ الأراكِ، وكان دَقيقَ الساقَيْنِ، فجعلَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ؛ فضحِكَ القومُ منه، فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وعلى آلِه وسلَّمَ: مِمَّ تَضحَكونَ؟ قالوا: يا نبيَّ اللهِ، مِن دِقَّةِ ساقَيْهِ، فقال: والذي نفْسي بيدِهِ، لَهما أثقَلُ في الميزانِ مِن أُحُدٍ.الصحيح المسند. (849.—حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کہ وہ پیلو (مسواک کے درخت) پر مسواک توڑنے چڑھے اور وہ پتلی پنڈلیوں والے تھے تو ہوا انہیں ادھر ادھر جھکانے لگی، اس پر قوم (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہنسنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم لوگ کس لئے ہنس رہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا: اے اللہ کے نبی! ان کی پنڈلیوں کی باریکی کی وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبصے میں میری جان ہے، یہ دونوں پنڈلیاں میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں)۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں کھجور کی تازہ ٹہنی کی مسواک کا ذکر ہے:
دَخَلَ عبدُالرَّحْمَنِ بنُ أبِي بَكْرٍ علَى النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ وأنا مُسْنِدَتُهُ إلى صَدْرِي، ومع عبدِ الرَّحْمَنِ سِواكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ به، فأبَدَّهُ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بَصَرَهُ، فأخَذْتُ السِّواكَ فَقَصَمْتُهُ، ونَفَضْتُهُ وطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إلى النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فاسْتَنَّ به، فَما رَأَيْتُ رَسولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ اسْتَنَّ اسْتِنانًا قَطُّ أحْسَنَ منه، فَما عَدا أنْ فَرَغَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ رَفَعَ يَدَهُ أوْ إصْبَعَهُ ثُمَّ قالَ في الرَّفِيقِ الأعْلَى. ثَلاثًا، ثُمَّ قَضَى، وكانَتْ تَقُولُ: ماتَ بيْنَ حاقِنَتي وذاقِنَتِي. صحيح البخاري. 4438.—-
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں کھجور کی تازہ ٹہنی کی مسواک لئے اسے کررہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل مسواک کی طرف دیکھا، تو میں نے مسواک لے کر اسے دانتوں سے چبایا اور اچھی طرح سے قابل استعمال بناکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک جتنی اچھی طرح سے کی، اس طرح سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ ”فی الرفیق الاعلیٰ“ (اے اللہ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین دفعہ کہا اور پھر وفات پاگئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے مابین تھا۔ ان روایات سے واضح ہے کہ موقع محل کے اختلاف سے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسواک مختلف ہوتی تھی. حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی حدیث میں مسواک کو کسی مخصوص آلے کے ساتھ لازمی محدود و مقید نہیں فرمایا. کسی مخصوص لکڑی کا انتخاب واستعمال اُس وقت کے  عرف وعادت یا بعض جزوی طبعی خصوصیت کی بنیاد پر تھا، اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ احادیث میں مذکور لکڑیوں کے علاوہ دیگر چیزوں کی مسواک ممنوع قرار پاجائے! اسی لئے مذاہب اربعہ کا اتفاق ہے کہ لکڑی کی مسواک بیشک افضل وبہتر ہے: "الموسوعة الفقهية" (4/140) میں ہے:
 "اتَّفَقَ فُقَهَاءُ الْمَذَاهِبِ الأْرْبَعَةِ عَلَى أَنَّ أَفْضَلَهُ جَمِيعًا: الأْرَاكُ، لِمَا فِيهِ مِنْ طِيبٍ، وَرِيحٍ، وَتَشْعِيرٍ يُخْرِجُ وَيُنَقِّي مَا بَيْنَ الأْسْنَانِ" انتهى.
فقہ حنفی کے لئے: (حاشية الطحطاوي) (ص 44)، (حاشية ابن عابدين) (1/115).
فقہ مالکی کے لئے (مواهب الجليل) للحطاب (1/382)، (التاج والإكليل) للمواق (1/263).
فقہ شافعی کے لئے (المجموع)  للنووي (1/282)، (الحاوي الكبير)) للماوردي (1/86).
اور فقہ حنبلی کے لئے (الإنصاف) (1/119)، (الفروع) لابن مفلح (1/146) دیکھیں!
لیکن عذر وحرج اور کلفت ومشقت کے وقت دانتوں کی صفائی اور منہ کی پاکیزگی جس چیز سے بھی حاصل ہوجائے اس سے مسواک کی سنیت  ادا ہوجائے گی، اصل تو یہی ہے کہ آلہ سواک میں بھی حتی الوسع اتباع نبی کی کوشش کرے، لیکن عذر وحرج کے وقت لکڑی طرز کی سخت اور کھردری چیز مثلا برش اور ٹوتھ پیسٹ وغیرہ سے اچھی طرح دانت ومنہ صاف کرلئے جائیں تو اگرچہ یہ آلہ مسنونہ کا مستقل بدل تو نہیں بن سکتا؛ لیکن مسواک مسنون کی فضیلت و ثواب نیت کرلینے کے بعد اس سے حاصل ہوسکتی ہے، سواک کی فضیلت فعل سواک یعنی طہارت وصفائی میں مبالغے کے باعث ہے، کسی درخت کی مخصوص لکڑی کے باعث ستر درجے کی فضیلت نہیں ہے۔ ہاں جراثیم کش ہونے میں بعض لکڑیوں کی طبعی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، یہ استحباب وافضلیت میں یقیناً مؤثر ہوگی جس سے کسی کو انکار نہیں! اس ذیل میں خوب اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ عذر کے حالات میں عارضی طور پہ مسواک مسنون کی نیت کے ساتھ برش و ٹوتھ پیسٹ سے دانت کی اچھی طرح صفائی کرنے سے مسواک مسنون کی فضیلت کا حصول صرف گنجائش کی حد تک ہی ہے. باقی لکڑی کے جن مسواک کو سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کے دس امور میں شامل فرمایا ہے اور انہیں سنن انبیاء کہا ہے. ان کی فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے، جملہ احکام، فوائد اور نمازوں کے ثواب میں اضافے میں پلاسٹک برش و ٹوتھ پیسٹ ان کا بدل نہیں بن سکتا۔ ہذا ما عندی والصواب عند اللہ۔
15  جنوری 2022
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_15.html

Friday, 14 January 2022

کیا اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہیں؟

کیا اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہیں؟ 

---------------------------------
----------------------------------
ذات باری تعالی جسم وجہات اور ازمنہ وامکنہ سے یکسر پاک اور غیرمحدود و لامتناہی ہے. اس کی ذات پوری دنیا اور دنیا کے ذرے ذرے کو تھامے ہوئے اور محیط ہے، وہ قیّوم السماوات والارض ہے. مخلوقات کے وجود کے لئے حیزوحلول ضروری ہے. جبکہ ذات باری تعالی کے ہر جگہ وجود کے لئے تحیز، حلول وتکیّف کی ضرورت نہیں؛ بلکہ وہ بحیثیت "قیوم" کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے. اس پہ ایک دو نہیں متعدد نصوص موجود ہیں:
"وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ"
میں "واسع" کا مفہوم یہی ہے کہ ذات باری تعالی کو شرق وغرب جیسی محدود جہات میں بند کردینا درست نہیں. اس کا وجود کائنات کے ذرے ذرے کو محیط ہے۔
اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورة البقرة (2)، الآية: 255)
 أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم (سورة المجادلة (58)، الآية: 7)
يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لاَ يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا (سورة النساء (4)، الآية: 108)
 هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاء وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورة الحديد (57، الآية: 4) 
آیات مبارکہ میں "وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ" سعت وجود باری تعالی کو صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے، استوی علی العرش کے ذیل میں ذات باری تعالی کو یک گونہ محدود کردینے والے احباب "وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ" جیسی آیات سے سے احاطہ علمی مراد لیتے ہیں اور سعت وجود کا انکار کرتے ہیں جو درست نہیں ہے؛ کیونکہ احاطہ علمی کو "أحاط بكل شيء علماً" جیسی آیت میں بطور خاص بیان کردیا گیا ہے، تو پھر ان آیتوں میں بھی وہی احاطہ علمی کے تکرار در تکرار کے کیا معنی؟
طول، عرض اور عمق (ابعاد ثلاثہ) سے مرکب موجود مادی وحسی کے وجود کے لئے تحیز وتکیف درکار ہوتا ہے. موجود غیرمادی کے وجود کے لئے تحیز وتکیف یا جہات کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی. بعض نصوص میں ذات باری تعالی کے لیے جہت فوق وسماء کی نسبت جہت علو کے  ذاتی تفوق کے لئے کی گئی ہے تحدید جہت مخصوصہ مراد نہیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں ہے کہ وجود باری غیر مادی ہے، لہذا ہر جگہ موجود ہونے کے لئے تحیز وتکیف کی ضرورت ہے نہ سمات نقص کا تحقق ہوگا. سعت وجود باری کو عام فہم انداز میں بتانے کے لیے "اللہ ہر جگہ موجود ہے" جیسی تعبیر اختیار کی گئی ہے. اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے. جمہور علماء وارباب افتاء اسے استعمال کرتے چلے آئے ہیں. ان سب کا ایک غلط و باطل عقیدے پہ مجتمع ہونا محال ہے. عقیدے کا مسئلہ ویسے ہی انتہائی حساس و نازک ہے، منطقی و کلامی موشگافیوں کے ذریعے اسے طول دینا اور لاطائل بحثوں کا لامتناہی سلسلہ دراز کرتے رہنا صالح ذہانتوں کو انتشار کا شکار کرنا ہے جو مفید نہیں. فقط 
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_67.html


سماج میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک اخلاقی ناسور

سماج میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک اخلاقی ناسور 
---------------------------------
----------------------------------
اہلیت، صلاحیت، قابلیت اور لیاقت سے آنکھیں موند کر، اپنوں، چہیتوں، رشتہ داروں اور اعزہ واقارب کے ساتھ ترجیحی سلوک اپناتے ہوئے انہیں نوازنا، معاشرتی، اجتماعی، دینی وسماجی عہدے ومناصب پہ براجمان کردینا آج کے دور کی بے قابو وباء ہے۔
اسے اقرباء پروری کہتے ہیں، اپنے اثر ورسوخ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اہل،  قابل اور  محنتی افراد کے ہوتے ہوئے نا اہلوں کو نوازنے؛ یعنی اقرباء پروری کی رسمِ بد، معاشرہ کے "ارتقائی سفر" کو ریورس گِیَر لگادیتی  ہے؛ کیونکہ زبانِ رسالتِ مآب میں اسے "علامت قیامت" (انتظار قیامت) کہا گیا ہے (إذا ضُيِّعَتِ الأمانَةُ فانْتَظِرِ السَّاعَةَ قالَ: كيفَ إضاعَتُها يا رَسولَ اللَّهِ؟ قالَ: إذا أُسْنِدَ الأمْرُ إلى غيرِ أهْلِهِ فانْتَظِرِ السَّاعَةَ. عن أبي هريرة.صحيح البخاري: 6496–حضرت بوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ’’جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کردیئے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الأمانۃ)۔
اکثر میدانوں میں شعوری یا لاشعوری طور پہ دبے پائوں یہ بیماری سرایت کرچکی ہے. اچھے اچھے صاحبان جبہ ودستار کو خودانتفاعی کی یہ وباء قابو کرچکی ہے۔ 
ترقی کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نتائج وعواقب سے بے پروا ہوکر، جفاکشی، جواں مردی، جرأت اور عزم وحزم کے ساتھ بر وقت اس ناسور پہ قابو پانے کی سخت ضرورت ہے۔
۱۱جنوری ۲۰۲۲
https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_14.html



Thursday, 13 January 2022

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال

اردو میں مستعمل فارسی ضرب الامثال
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اچھی شعری تخلیق پیش کرنے یا بہترین اردو ادب کو منصۂ شہود پر لانے کے لئے فارسی زبان کا علم ضروری ہے۔ عربی اور فارسی کے ہزاروں الفاظ، محاورے، فقرے، جملے، ضرب الامثال اردو روزمرہ کے جزو لاینفک بن چکے ہیں اور اب کیفیت یہ ہے کہ ان کو اردو زبان سے خارج ہی نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ کچھ فقرے اور محاورے تو اس طرح سے زبان زد خاص و عام ہوچکے ہیں کہ انھیں ان کی روزمرہ کی گفتگو سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(1) خطائے بزرگان گرفتن خطاست
(بزرگوں کی غلطیوں کی گرفت خود ایک خطا ہے)۔
ہماری تہذیب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہے کہ بڑوں کی غلطیوں پر انگلی اٹھائی جائے ۔ ان کی غلطیوں کو خاموشی سے نظر انداز کردینا بہتر تصور کیا جاتا ہے ۔
اس کا یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان سے غلطی سرزد نہیں ہوتی ہے یا ہر بات میں ان کی اندھی تقلید کی جانی چاہئے ، بلکہ ان کی بزرگی اور عمر رسیدگی کے باعث احتراماً ان کی غلطیوں کو نظر انداز کردینے کی روایت ہماری تہذیب کی ایک صحت مند علامت ہے۔ اس فقرے کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان کی خطاؤں کی نشاندہی اور گرفت کرکے انھیں شرمندہ کرنا بجائے خود غلط ہے اور اس سے اجتناب مستحسن قرار دیا جاتا ہے۔
(2) پدرم سلطان بود، تُراچہ؟
(میرا باپ بادشاہ تھا ۔ تیرا باپ کیا ہے؟)
یہ فقرہ کم علمی اور شیخی بگھارنے والا ہے ۔ یہ فقرہ وہ لوگ استعمال کرتے ہیں ، جو اپنی برتری ، بڑائی اور فضیلت بہ زبان خود بیان کرنا چاہتے ہیں ۔ گویا آبا واجداد کے کارناموں پر خود اپنی نام نہاد کامیابی کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔
سنجیدہ حلقوں میں ایسی شیخی کا اظہار مستحسن شمار نہیں کیا جاتا ہے ، کیونکہ انسان کی فضیلت و برتری کا شمار اس کی اپنی حصولیابیوں کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ آبا و اجداد کی عزت و عظمت کے حوالے سے۔
(3) گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل
(اگر بولوں تو مشکل اور نہ بولوں تو بھی مشکل ہے)
کبھی ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان کو خاموش رہنے اور بولنے دونوں صورتوں میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر اس مصرعے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مصرع مرزا غالب کے ایک قطعہ سے اخذ کردہ ہے ۔ اس مصرعے کا ایسے وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ اگر وہ اپنی صفائی میں کسی مسئلہ کی صراحت کے سلسلے میں کچھ بولتا ہے تو اس کی کوئی نہیں سنتا ہے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو بھی اسے مورد الزام قرار دیا جاتا ہے۔
(4) من تُرا حاجی بگویم تو مُرا ملا بگو
(میں تجھے حاجی کہتا ہوں اور تو مجھ کو ملا کہہ)
یہ محاورہ عام طور پر ’’من تیرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ کے طور پر مشہور ہے، لیکن’’حاجی بگو‘‘ کی بجائے ’’ملاّ بگو‘‘ درست ہے ۔ اکثر و بیشتر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ آپس میں گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی تعریف کرکے لوگوں پر اپنی نام نہاد برتری ثابت کرنے کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ آج کل ادب میں یہ طریقہ عام ہوگیا ہے ۔ ایک ادیب دوسرے ادیب کی تعریف کرتا ہے اور دوسرا ادیب اس کی شان میں قصیدے پڑھتا ہے جو اس کی تعریف کرتا ہے۔
(5) من آنم کہ من دانم
(میں جو کچھ ہوں وہ میں خود ہی اچھی طرح جانتا ہوں)
یہ مقولہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی شخص کی تعریف کی جائے لیکن وہ خود کو اس کا مستحق نہ سمجھتا ہو ۔ ایسے موقع پر وہ شخص (جس کی تعریف کی جاتی ہے) کہتا ہے کہ آپ کی تعریف بصد شوق قبول ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اس تعریف کا مستحق نہیں ہوں۔ میں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوں کہ میں کتنے پانی میں ہوں۔ وہ انسان جو حقیقت پسند ہوتا ہے وہی یہ مقولہ استعمال کرتا ہے ورنہ بیشتر لوگ تو اپنی جھوٹی تعریف بھی سن کر پھولے نہیں سماتے ہیں اور تعریف کرنے والے کو دل ہی دل میں دعا بھی دیتے ہیں۔ کیونکہ اپنی تعریف ہر شخص کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
(6) آوازِ سگاں کم نہ کنُد رزقِ گدارا
(کتوں کے بھونکنے سے فقیروں کا رزق کم نہیں ہوجاتا ہے)
جب کسی فقیر کو دیکھ کر کتیّ بھونکتے ہیں، تو کتوں کے بھونکنے سے ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اسے بھیک نہیں ملتی ہے۔ حالانکہ فقیر نے ان کتوں کا کچھ بھی بگاڑا نہیں ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنی خصلت سے مجبور ہوتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جب کسی شخص کی برائی کی جائے اور اس شخص کو خواہ مخواہ لوگوں میں بدنام کرنے اور اسے رسوا کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنی برائی کرنے والے شخص سے کہتا ہے کہ ایسی بے بنیاد باتوں سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں واقع ہوسکتا ہے۔ جس طرح کتوں کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہوتا اسی طرح تمہاری بیہودہ اور بے بنیاد باتوں سے میرے رتبہ و مقام پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔
(7) ہنوز دلی دور است
(ابھی دلی دور ہے)
یہ فقرہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی کام کو مکمل ہونے میں دیر ہو اور کوئی شخص اس بات پر بضد ہو کہ کام تو پورا ہوگیا، اب انتظار کس چیز کا ہے؟ المختصر یہ کہ جب کسی مقصد کے حصول میں تاخیر ہورہی ہو اور سامنے والا شخص اس کام کو مکمل کرنے کی ضد کرے یا اسے محسوس ہو کہ اب کام تو مکمل ہوگیا، لیکن کام کرنے والا اس کام کی نزاکتوں سے واقف ہوتا ہے۔ اسے اس کام کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے تو وہ اس شخص سے جو کام کی تکمیل کے احساس سے سرشار ہوتا ہے، کہتا ہے کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ۔
(8) خود کردہ را علاجے نیست
(اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں)
اردو میں اسی سے ملتا جلتا ایک محاورہ رائج ہے کہ ’’کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلی بات واپس نہیں آتے ہیں‘‘ ۔ اسے دوسرے لفظوں میں محاورۃً یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے پیر پر کلہاڑی خود مارنا ۔ ظاہر ہے ایسے شخص کا کیا علاج ہوسکتا ہے جو اپنا بھلا بُرا خود ہی نہیں سمجھتا ۔ جس شخص کو ایسی بات یا کام کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ہو جس میں سراسر اسی کا نقصان ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر ہی یہ محاورہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
(9) کنُد ہم جنس باہم جنس پرواز
(ایک ہم جنس پرندہ اپنے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے)
دراصل یہ ایک شعر کا پہلا مصرعہ ہے جو ضرب المثل کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ وہ شعر یوں ہے
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر ، باز با باز
یہ شعر انسان کی فطرف کی جانب اشارہ کرتا ہے ،کیونکہ معاشرے کا ہر شخص اپنے ہم مسلک ، ہم خیال ، ہم مزاج اور ہم زبان لوگوں کو تلاش کرتا ہے اور انہی لوگوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ ان کی ہم نشینی اسے پسند آتی ہے اور وہ دوسروں کی بہ نسبت ہم زبان و ہم خیال لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،گفتگو کرنا ، رسم و راہ رکھنا زیادہ بہتر تصور کرتا ہے ۔ شاعر نے پرندوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہوئے اپنے اس شعر میں انسانی فطرت کی جانب اشارہ کیا ہے۔
(10) عقل مند را اشارا کافیست
(عقل مند کو ایک اشارہ کافی ہوتا ہے)
(11) ہرچہ دانا کند، کند ناداں لیک بعد از خرابیٔ بسیار
(جو کام ایک عقلمند آدمی کرتا ہے وہی کام ایک نادان انسان بھی کرتا ہے، لیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد)
ان مقولوں کا مطلب ایک عام انسان بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے ، جو تھوڑی بہت بھی اردو جانتا ہو ۔ احمق انسان کو ایک ہی بات بار بار سمجھانی پڑتی ہے، جبکہ عقلمند شخص آنکھ کے اشارے سے ہی بہت سی باتیں سمجھ لیتا ہے۔
اس لئے یہ مثل بھی مشہور ہے کہ ’’نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا۔
(12) دروغ گورا حافظہ نباشد
(جھوٹ بولنے والے شخص کا حافظہ نہیں ہوا کرتا ہے)
ایک جھوٹے شخص کی فطرت ہوتی ہے کہ اسے یہ یاد نہیں رہتا ہے کہ اس نے کس سے کیا کہا تھا اور کب کہا تھا۔ کیونکہ وہ تو ہر وقت جھوٹ ہی بولتا رہتا ہے۔ اگر سچ بات بولے گا تبھی تو اسے وہ بات یاد رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص ایک آدمی سے کچھ کہتا ہے اور دوسرے سے کچھ اور ۔ عام طور پر یہ عمل غیردانستہ ہوتا ہے، کیونکہ اس کی یادداشت اس کا ساتھ نہیں دیتی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کا جھوٹ، سچ ثابت نہیں ہوپاتا ہے۔
(13) ہم خُرمہ وہم ثواب
(خُرمے الگ ہاتھ آئے اور ثواب الگ ملے)
عام طور پر مذہبی محفلوں میں تقریب کے اختتام پر تبرک تقسیم کئے جاتے ہیں ، جس کا مقصد حصول ثواب ہوتا ہے، اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ عمل بھی خوب ہے کہ ثواب بھی ملا اور کھانے کے لئے خُرمے بھی ہاتھ آئے۔ اردو میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ’’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘‘ اور یہ مقولہ مذکورہ فارسی مثل کی بہترین تشریح ہے ۔ اس لئے عقلمند افراد ایسے کاموں میں کبھی پیچھے نہیں رہتے ہیں، جس میں ثواب کے ساتھ ساتھ مادی منفعت بھی ہو۔
(14) آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
(جو بات ساری دنیا کے حسینوں میں ہے وہ تمہارے ذات واحد میں موجود ہے)۔
یہ مصرع مولانا جامی کے مشہور نعتیہ شعر کا ہے:
حسنِ یوسف، دمِ عیسٰی، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری
مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حُسنِ یوسف بھی ہے، عیسیٰ کا دم بھی ہے، موسیٰ کا یدِ بیضا بھی ہے یعنی جو کچھ سارے کے سارے نبی رکھتے تھے وہ تنہا آپ کے پاس ہے۔
یہ مقولہ کسی شخص کی تعریف و تحسین کے لئے مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا ایک طرف اور آپ ایک طرف ۔ یعنی ساری دنیا کے مقابلے میں آپ کی تنہا ذات پیش کی جاسکتی ہے ۔ آپ اپنی خصوصیات و اوصاف میں بے مثال ہیں ۔ آپ کا کسی اور سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
(15) سپردم بتومایۂ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
(میں نے اپنی زندگی کا پورا سرمایہ آپ کے حوالے کردیا ہے۔ اب آپ ہی کمی بیشی کا حساب جانتے ہیں کہ حق ادا ہوا کہ نہیں)
بعض دفعہ پورا شعرہی ضرب المثل کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کی مثال یہ شعر ہے۔ جب کوئی فنکار یا تخلیق کار اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرکے کوئی شاہکار پیش کرتا ہے اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنی فروتنی اور خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنی تخلیق آپ کے سامنے پیش کی ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ میں اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوپایا ہوں۔
(16) ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجُا
(دیکھو تو سہی کہ ہماری راہ کا فرق کہاں سے کہاں جاپہنچا ہے)
دراصل یہ حافظ شیرازی کے ایک مشہور شعر کا مشہور مصرع ہے ۔ شعر یوں ہے
صلاحِ کار کجا ومنِ خراب کجا
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجُا
یعنی میرا خیرخواہ کس فکر میں ہے اور میں خود کس خیال میں ہوں ۔ دیکھو تو سہی کہ ہماری راہ کا فرق کہاں سے کہاں جاپہنچا ہے۔ دراصل مصرع بالا جس کی وضاحت مقصود ہے، یہ مصرع اپنے اور کسی دوسرے شخص کے مؤقف یا نقطۂ نظر کے فرق کی وضاحت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا اتنے بڑے فرق کے ہوتے ہوئے بھلا سمجھوتے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اس مصرع کو ایک دوسرے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی شخص دو فنکاروں یا دو بڑی شخصیتوں کا تقابل کررہا ہو، جس میں دونوں کی صفات و خصائص ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ ہوں یا ایک دوسرے سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہوسکتا ہو تو ایسے موقع پر بھی کہا جاتا ہے۔
(17) چُناں نہ ماندو چنیں نیز ہم نہ خواہد ماند
(وہ باقی نہیں رہا، اور یہ بھی باقی نہیں رہے گا)
زمانہ کے تغیرات کو ہی دوام حاصل ہے۔ وقت کو ثبات حاصل نہیں ہے یہ ہمیشہ گردش کرتا رہتا ہے۔ یہاں ہر وقت انقلاب رونما ہوتا رہتا ہے کسی بھی انسان کا وقت یکساں نہیں رہتا ہے۔ کبھی ایک شخص دولت سے مالا مال رہتا ہے اور دیکھتے دیکھتے وہ دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے۔
(18) ملکِ خدا تنگ نیست ، پائے گدالنگ نیست
(خدا کا ملک تنگ نہیں اور فقیروں کا پاؤں لنگڑا نہیں)
کوشش کرنے والے انسان کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔ کوشش کرنے کا ہر جگہ موقع ہے۔ اگر ایک شخص کو اس کی کوشش کے باوجود کسی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوپاتی ہے تو اسے دوسری جگہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر کوشش کرنی چاہئے کیونکہ دنیا بہت بڑی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ہے۔ یہاں نہ سہی وہاں کام تو بن ہی جاتا ہے ۔ اس مقولہ میں ان لوگوں کے لئے ایک سبق بھی پوشیدہ ہے جو کسی کام میں کامیابی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ انھیں ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور کوشش جاری رکھنی چاہئے۔
(19) افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را
(غمگین دل پورے انجمن کو افسردہ و رنجیدہ بنادیتا ہے)
کوئی شخص جب کسی محفل میں جاتا ہے اور اس کے چہرے پر رنجیدگی کے آثار ہوتے ہیں یا وہ شخص محفل میں کچھ ایسی دردناک باتیں سناتا ہے جس سے اس کا دل افسردہ ہوتا ہے، تو اسے سن کر پوری محفل رنجیدہ و غمگین ہوجاتی ہے ۔ جبکہ کوئی تبسم آمیز گفتگو کرتا ہے تو دوسروں کے لبوں پر بھی مسکراہٹ رقصاں ہوجاتی ہے ۔ افسردگی و پژمردگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے لوگوں میں خوشیاں بانٹنی چاہئے۔
(20) شود ہم پیشہ باہم پیشہ دشمن
(ہم پیشہ آدمی دوسرے ہم پیشہ شخص کا دشمن ہوتا ہے)
یہ بات عام طور پر دیکھی جاتی ہے کہ ایک ہی پیشے سے وابستہ لوگ ایک دوسرے سے حسد ، جلن اور کینہ رکھتے ہیں ۔ ان میں کم صلاحیت والا انسان احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور ایک باصلاحیت ہم پیشہ شخص سے اس کی ترقی ، مقبولیت اور ہردلعزیزی کی وجہ سے اسے جلن ہوتی ہے ۔ اسے یہ لگنے لگتا ہے کہ مجھے کوئی بھی نہیں پوچھ رہا ہے اور ہمارے ہم پیشہ دوسرے شخص کی بہت پذیرائی ہورہی ہے۔
(21) بریں عقل و دانش بباید گریست
(ایسی عقل و دانش پر تو رونا چاہئے)
(22) جواب جاہلاں خاموشی باشد
(یعنی جاہلوں کے سوال کا جواب دینے سے بہتر خاموشی اختیار کرنا ہوتا ہے.)
ان محاورہ جات کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے، جب کوئی شخص بے سر پیر َکی باتیں کرے جس کا جواب دینا خود کو اس شخص کی سطح پر لے جانے کے مترادف ہو۔ ایسے شخص کی عقل و دانش پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
(23) آزمودہ را آزمودن خطاست
(آزمائے ہوئے شخص کو دوبارہ آزمانا غلطی ہے)
اگر کسی شخص سے معاملات کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہو اور اس نے اپنے معاملات میں سنجیدگی نہ دکھائی ہو اور جھوٹ بول کر اپنا کام نکالنے کی کوشش کی ہو تو دوبارہ صاحب معاملہ سے بھلے ہی معافی مانگے یا دوبارہ غلطی نہ دہرانے کی بات کہے ۔ اس کے باوجود اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ وہ دوبارہ ویسی ہی حرکت کرے گا جیسی حرکت پہلے کرچکا ہے ۔ کیونکہ فریب دہی اور دروغ گوئی اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی ہے۔
(24) داشتہ آید بکار ۔ گرچہ باشد سرِمار
(رکھی ہوئی چیز کبھی نہ کبھی کام آتی ہے چاہے وہ سانپ کا سر ہی کیوں نہ ہو)
وہ لوگ جو معمولی اور وقتی طور پر بے مصرف سمجھ کر کسی چیز کو پھینک دیتے ہیں ، لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انھیں احساس ہوتا ہے کہ جو چیز میں نے فلاں وقت اور فلاں جگہ پھینک دی تھی ، وہ اس وقت ہوتی تو میرے کام آتی ۔ اس لئے کسی بھی معمولی چیز کو بھی حفاظت سے رکھنی چاہئے ۔ نہ جانے کب اس کی ضرورت پڑجائے۔
(25) درکارِ خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست
(اچھا کام کرنے کے لئے استخارہ کی ضرورت نہیں)
جب کسی کام میں انسان پس و پیش محسوس کرے اسے ایسا لگے کہ اس کام کو کرنے میں نفع ہے یا نقصان تو ایسے وقت استخارہ کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ ایک اسلامی طریقہ ہے۔ اس میں ایک مخصوص دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر جس کام کے تئیں دل گواہی دیتا ہے کہ یہ کام کرنا چاہئے اسے کیا جاتا ہے۔ لیکن جس کام کو کرنے میں صرف خیر ہی خیر پوشیدہ ہو، اس کام کو کرنے میں استخارہ کی کیا ضرورت ہے۔ بس نیکی کر دریا میں ڈال والے محاورے پر عمل کرنا چاہئے اور نتیجہ یا صلہ کی پروا سے بے خبر ہوجانا چاہئے۔
(26) چاہ کنَ راچاہ درپیش
(کنواں کھودنے والا پہلے خود ہی کنویں میں جاتا ہے)
برائی کرنے والا خود ہی برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی برائی کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کی زبان ناپاک ہوتی ہے۔ یا وہ شخص جو کسی کی برائی چاہتا ہے، وہ خود بھی ایک نہ ایک دن اس برائی کی پاداش میں سخت آزمائش و امتحان میں گھر جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے تو پہلے اسے اس کنویں کی گہرائی تک جانا پڑتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ برائی کا بدلہ کبھی اچھائی نہیں ملتا ہے، برائی ہی ملتا ہے۔
(27) بزرگی بہ عقل است نہ بسال
(بزرگی عقل سے ہوتی ہے عمر سے نہیں)
یہ شیخ سعدی شیرازی کے ایک شعر کا مصرع ہے ۔ پورا شعرا اس طرح ہے۔
تونگری بہ دل است نہ بمال
بزرگی بہ عقل است نہ بسال
یعنی مالداری دل سے ہوتی ہے مال سے نہیں اور بزرگی عقل سے ہوتی ہے عمر رسیدگی کی وجہ سے نہیں۔ اکثر مالداروں کے پاس دل نہیں ہوتا ہے جبکہ اکثر دلدار لوگوں کے پاس دولت نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی چھوٹا یا کم عمر انسان عقل کی بات کہے تو اس کی عمر کی کمسنی کی وجہ سے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس میں اگر وزن ہو تو اسے قبول کرنا چاہئے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کی عمر زیادہ ہو وہ عقلمند بھی ہو کیونکہ عقل کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا ہے ۔ کوئی بھی شخص عقلمند ہوسکتا ہے اس کے لئے کمسنی یا عمر رسیدگی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔
(28) ہر کمالے راز والے
(انتہائی ترقی کے بعد زوال شروع ہوتا ہے)۔
اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس بلندی پر بیٹھا ہے، وہ وقتی ہے۔ اس کے بعد تنزلی اس کے مقدر میں آنے والی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے ۔ اپنے علاوہ دوسروں کو کمتر اور حقیر تصور کرتا ہے۔ کسی کی بات آسانی سے نہیں سنتا ہے جبکہ اسے اپنی ترقی کی ناپائیداری پر توجہ دینی چاہئے۔ ایسے ہی شخص کو اس کی اصل اوقات بتانے کے لئے کہا جاتا ہے۔
(29) ایں سعادت بزورِ بازو نیست
(یہ سعادت بازو کی قوت کی وجہ سے نہیں ہے)
یہ مصرع اس شعر کا پہلا مصرع ہے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
یعنی جب تک عطا کرنے والا خدا کسی کو کوئی مرتبہ، صلاحیت اور عزت نہ عطا کرے کسی شخص کے بازو کی طاقت سے وہ رتبہ یا وہ صلاحیت و عزت حاصل نہیں ہوتی ہے۔
اکثر و بیشتر لوگ اس شعر کا استعمال خدا کی بزرگی اور اپنی خاکساری کا اظہار کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی پیش کیا ہے اس میں اللہ کی مدد اور اس کی ودیعت کردہ صلاحیت کا ہی عمل دخل ہے۔ اس میں میرا کچھ بھی حصہ نہیں ہے۔
(30) گرُبہ کشتن روز اول
(بلی کو پہلے ہی دن مارنا بہتر ہوتا ہے)
یعنی رعب پہلے ہی دن بیٹھتا ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ انسان کسی پر رعب ڈالنا چاہے تو پہلے ہی دن اس کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ورنہ وہ شخص اگلے انسان کی نفسیات سے آگاہ ہوجائے گا اور بعد میں وہ لاکھ اس پر دھونس جمانا چاہے ، اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ عام طور پر لوگ نوجوانوں کو یہی مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں جب اس کی شادی ہو تو روز اول ہی اگر آپ نے اپنی بیوی پر رعب نہیں جمایا تو بعد میں آپ اپنی بیوی پر رعب نہیں بٹھاسکتے کیونکہ پہلا تاثر ہی آخر دم تک اپنا اثر قائم رکھتا ہے۔
(31) جائے استاد خالیست
(استاد کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے)
شاگرد چاہے جتنی بھی ترقی کرجائے۔ آگے بڑھ جائے ۔ علم و فضل کا مالک بن جائے، لیکن اس کے باوجود استاد اس موقف میں رہتا ہے کہ اسے کچھ نہ کچھ سکھائے۔ یعنی شاگرد کتنا بھی آگے بڑھ جائے وہ استادکا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور اسے کرنا بھی نہیں چاہئے۔ کیونکہ استاد کی وجہ سے ہی اسے وہ عزت و منزلت اور رتبہ حاصل ہوتا ہے جس کی اسے توقع تک نہیں ہوتی ہے۔
(32)۔ صدر ہر جا کہ نشیند صدراست
(صدر جہاں بھی بیٹھ جائے وہ صدر ہی ہوتا ہے) ۔
یعنی بزرگ، حاکم یا کوئی بڑا آدمی، جہاں بھی بیٹھ جائے وہی جگہ معزز سمجھی جاتی ہے ۔ صدر کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اسٹیج پر ہی بیٹھے تو اسے صدر کہا جائے گا بلکہ وہ عام سامعین میں بھی بیٹھے تو وہ صدر ہی کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بزرگ شخصیت کا حامل کوئی بھی انسان چاہے، جہاں بھی رہے اس کا مقام کسی اچھی یا بری جگہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا ہے وہ ہر جگہ معزز ہی تصور کیا جاتا ہے۔
(33) شنیدہ کیَ بود مانند دیدہ
(سنا ہوا کب دیکھے ہوئے کے برابر ہوسکتا ہے)
یعنی سنی ہوئی بات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے جب تک اس بات کی حقیقت کے متعلق خود مشاہدہ نہ کیا جائے ۔ کسی واقعے کے بارے میں کوئی شخص اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر کچھ بھی بول سکتا ہے، لیکن جب آپ اس واقعے کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں تو آپ کو حقیقت کا علم ہوجاتا ہے اور پوری سچائی سامنے آجاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ سنی ہوئی باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے جب تک اس کی پوری تحقیق نہ ہوجائے۔
(34) تامرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد
(جب تک کوئی شخص کچھ کہنے کے لئے اپنی زبان نہیں کھولتا ، اس کے عیب و ہنر اس وقت تک پوشیدہ رہتے ہیں)
عام طور پر کسی خاموش مزاج انسان کے تئیں غلط رائے قائم کرلی جاتی ہے ، لیکن جب وہ بولتا ہے تو اس کی صلاحیت ، اس کا نظریہ، اس کی فکر اور اس کی علمی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کسی بھی شخص کے بارے میں اس وقت تک کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے جب تک وہ خاموش رہے کیونکہ آپ اس کی خوبیوں اور خامیوں سے اس وقت تک واقف نہیں ہوتے جب تک وہ اپنی زبان نہیں کھولتا ہے۔
کبھی کبھی لوگ اپنی کم علمی چھپانے کے لئے بھی خاموش رہتے ہیں، اور کبھی مصلحتاً بھی بعض افراد خاموشی اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیونکہ محفل میں ہر شخص بولنے کی ہمت نہیں کرتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب کسی کے بارے میں جاننا چاہو تو اس کے بارے میں دوسروں سے مت پوچھو بلکہ اس سے خود گفتگو کرو، پھر اس کے عیب و ہنر، اس کی علمیت اور اس کی فکری بصیرت سامنے آجائے گی۔
(35) فکرِ ہرکس بقدرِ ہمتِ اوست
یہ بھی حافظ شیرازی کا شہرہ آفاق مصرع ہے جس سی مراد ہے کہ انسان اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔
فارسی کے مذکورہ مقولے، محاورے، اقوال، اشعار، مصرعے اور ضرب الامثال ایسی معنویت لئے ہوئے ہیں جن کے نعم البدل اردو میں موجود نہیں ہیں اس لئے تحریر و تقریر میں ان مقولوں کی معنویت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(S_A_Sagar#)  https://saagartimes.blogspot.com/2022/01/blog-post_21.html