Monday, 2 February 2026

دو بیویاں ہوں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل

دو بیویاں سے نباہ کا طریقہ اور ضروری دستورالعمل
جس شخص کے دو بیویاں ہوں ان کے نباہ کا طریقہ 
اور ضروری دستورالعمل
(از: اسلامی شامی)
شوہر کے لئے دستورالعمل:
 (۱) ایک بیوی کا راز دوسری سے نہ کہے۔ 
(۲) دونوں کا کھانا اور دونوں کا رہنا الگ الگ رکھے ان کا اجتماع آگ اور بارود کے اجتماع سے کم نہیں۔ 
(۳) ایک بیوی سے دوسری بیوی کی شکایت ہرگز نہ سنے۔
 (۴) ایک کی تعریف دوسری سے نہ کرے۔
 (۵) غرض ایک کا تذکرہ نہ دوسری سے کرے اور نہ دوسری سے سنے، اگر ایک شروع بھی کرے تو فورا روک دے اور کچھ بات کرو۔ 
(٦) اگر ایک دوسرے کی کوئی بات پوچھے تو ہرگز نہ بتلائے لیکن سختی نہ کرے نرمی سے منع کردے۔
 (۷) لینے دینے میں یہ شبہ نہ ہونے دے کہ ایک کو زیادہ دے دیا ہو بلکہ اس کو صاف صاف ظاہر کر دے۔ 
(۸) باہر آنے والی عورتوں کو سختی سے روکے کہ وہ دوسری جگہ کی حکایت یا شکایت بیان نہ کریں ۔ 
(۹) خوشامد میں بھی ایک کیساتھ کم محبتی کا دعوی دوسری کے سامنے نہ رکھے۔ 
(۱۰) اگر موقع ہو تو ایک سے ایسی روایت کردے کہ دوسری تمہاری تعریف کرتی تھی۔
 (۱۱) لطف (نرمی) سے اس کی تدبیر ہوسکے تو مفید ہے کہ ایک دوسرے کے پاس ہدیہ وغیرہ بھی بھیجا کریں۔

پہلی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) جدیدہ (نئی بیوی) پر حسد نہ کرے۔ 
(۲) اس پر طعن و تشنیع نہ کرے۔
(۳) بہ تکلف نئی بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا برتاؤ کرے تاکہ اس کے دل میں محبت نہ ہو تو عداوت بھی نہ ہو۔ 
(۴) شوہر سے کوئی ایسی بے تکلف گفتگو نہ کرے کہ شوہر کو اس جدیدہ (نئی) کے سامنے اس کا ہونا اس لئے ناگوار ہو کہ اس کو یہ احتمال ہو کہ یہ جدیدہ بھی ایسی بے تمیزی (ںے ادبی) نہ سیکھ لے۔ 
(۵) شوہر سے نئی کا کوئی عیب بیان نہ کرے کوئی شخص اپنے محبوب کی عیب گوئی خصوصا رقیب کی زبان سے پسند نہیں کرتا (اس میں خود پہلی بیوی ہی کا نقصان ہے)۔ 
(۶) جدیدہ (نئی بیوی) سے ایسا برتاؤ رکھے کہ اس کی زبان قدیمہ (پہلی) کے سامنے ہمیشہ بند ر ہے۔ 
(۷) شوہر کی اطاعت و خدمت و ادب میں پہلے سے زیادتی کردے تاکہ اس کے دل سے نہ اترجائے۔
(۸) اگر شوہر سے ادائے حقوق میں کچھ کمی رہ جائے تو جو کمی حد تکلیف تک نہ پہنچے اس کو زبان پر نہ لائے اور اگر تکلیف ہو تو جس وقت مزاج خوش دیکھے ادب سے عرض کر دے۔ 
(۹) جدیدہ کے رشتہ داروں سے خوش اخلاقی و مدارات اور حسن سلوک کا برتاؤ رکھے کہ جدیدہ کے دل میں جگہ میں ہو۔
 (۱۰) کبھی کبھار اپنا دن (شوہر کے پاس رہنے کی باری) جدیدہ کو دے دیا کرے تا کہ شوہر کے دل میں قدر بڑھے۔
نئی بیوی کے لئے ضروری دستورالعمل:
(۱) قدیمہ ( پہلی بیوی) کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے جیسے اپنے بڑوں کے ساتھ کیا کرتے یہیں۔ 
(۲) شوہر پر زیادہ ناز نہ کرے اس گمان سے کہ میں زیادہ محبوب ہوں (بلکہ) خوب سمجھ لے کہ قدیمہ (پہلی) سے جو تعلقات رفاقت ہیں جو کہ دل میں جاگزیں ہو چکے ہیں یہ نفسانی جوش اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
 (۳) شوہر سے خود الگ رہنے سہنے کی درخواست نہ کرے۔
 (۴) اگر شوہر الگ رکھنے لگے تب بھی کبھی کبھی قدیمہ (پہلی) سے ملنے جایا کرے اور قدیمہ کو دعوت وغیرہ کے لئے کبھی کبھی بلایا کرے۔
 (۵) شوہر کو سمجھاتی رہے کہ قدیمہ سے بے پروائی نہ کرے۔ 
(۶) اگر قدیمہ کچھ سختی یا طعن وغیرہ کرے تو اس کو ایک درجہ میں معذور سمجھ کر معاف کر دے اور شوہر سے ہرگز شکایت نہ کرے۔
 (۷) قدیمہ کے رشتہ داروں کی خوب خدمت کرے۔
 (۸) قدیمہ کی اولاد سے بالخصوص ایسا معاملہ رکھے کہ قدیمہ کے دل میں اس کی محبت و قدر ہوجائے۔ 
(۹) ضروری امور میں قدیمہ سے مشورہ کرتی رہے کہ اس کے دل میں قدر بھی ہو اور اس کو تجربہ بھی زیادہ ہے۔
(۱۰) اور اپنے میکہ جائے تو قدیمہ سے خط و کتابت بھی رکھے۔ (اصلاح و انقلاب)
(بقلم: محمد یحیی بن عبدالحفیظ قاسمی) ( #ایس_اے_ساگر )



عورتوں کے لئے تعلیم کی حد کیا ہے

"عورتوں 
کے لئے تعلیم 
کی حد کیا ہے؟؟؟"
ایسے حق گو اور بے لاگ حضرات اب نایاب ہوچکے ہیں، جو شریعت کے مقابلے میں کسی کی ذرّہ برابر رعایت بھی گوارا نہ کریں۔ براہ کرم جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳، حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جواہر الرشید جلد ثالث صفحہ ۸۳ ملاحظہ فرمائیں۔ 
فتاوی کے فوائد:
فتاوی در اصل مسلم سماج و معاشرہ کے اقتصادی، معاشی، سیاسی ، اعتقادی اور سماجی مسائل کا آئینہ اور عکاس ہوتے ہیں، ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص زمانے میں، مخصوص معاشرہ و سماج کے لوگوں کے کیا مسائل تھے، وہ کن حالات کے شکار تھے، ان کے زمانے میں سماجی تبدل اور معاشرتی تغیرات نیز افکار و نظریاتی اختلاف کس نوعیت کے تھے، اس معاشرے کے مسائل کا حل اصحاب افتاء نے کس طرح پیش کیا،اور اس کا حل پیش کرنے میں کیا اصول وضوابط ملحوظ رکھے اور کس انداز میں غور و فکر کیا اور ان کی خدمات کا معاشرے پر کیا اثر مرتب ہوا۔ گویا ہر دور کے فتاوی میں اس عہد و زمانہ کا رنگ نظر آئے گا
ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس دور کے فقہاء نے  مسائل کے حل کے لیے مختلف مراجع و مصادر سے استفادہ کیا، تو اس میں بہت سے مراجع و مصادر وہ ہوں گے، جن سے ہمیں واقفیت نہ ہوگی ، ان فتاوی کے مطالعہ سے ایسے مصادر و مراجع بھی ہمارے علم میں آئیں گے۔ (ماخوذ از تقریظ و تائید مفتی اقبال صاحب ٹنکاروی دامت برکاتہم  بر فتاوی فلاحیہ  ج 5 ص 29) ( #ایس_اے_ساگر )

Sunday, 18 January 2026

بونے کو ہے قدآوری کا جنون

 بونے کو ہے قدآوری کا جنون 

بقلم: شکیل منصور القاسمی 

زبان کوئی جامد شے نہیں کہ ایک ہی سانچے میں منجمد ہوکر صدیوں کا بوجھ اٹھاتی پھرے، زبان ایک زندہ، متحرک اور ارتقائی حقیقت ہے جو ہر دور کے تقاضوں، ماحول اور اظہار ذوق کے ساتھ اپنے الفاظ، تراکیب، نحو اور اسالیب میں تبدیلیاں قبول کرتی چلی آئی ہے۔ عربی زبان کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہر دور نے اس زبان کو ایک نیا قالب عطا کیا ہے؛ نہ صرف الفاظ کے اعتبار سے بلکہ نحو، ترکیب اور اسلوب کے میدان میں بھی یہ تنوع قبول کیا گیا ہے۔

ادب عربی کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اہل علم کے علم میں یقیناً یہ بات ہوگی کہ قریش کے دور کی زبان، عصرِ جاہلیت کی زبان، صدرِاسلام، اور عباسی ادوار میں عربی کے بیانیہ ،اسلوب اور لسانی قالب میں وہ یکسانیت نہیں تھی جو بعض لوگ آج بھی فرض کرتے ہیں، عصرِ جاہلیت کی زبان اپنی شان میں منفرد تھی، صدرِ اسلام میں اس نے ایک نیا تہذیبی وقار اختیار کیا، اور پھر عباسی ادوار میں اس کے بیان و اظہار میں ایسے تغیرات آئے جو اس سے پہلے معروف نہ تھے؛ یہی وجہ ہے کہ بعد کے اہل علم وادب نے بعض طبقوں کے کلام سے استدلال کو قابلِ قبول نہیں سمجھا اور لسانی لغزشوں کے اندراج کے لئے باقاعدہ کتابیں تصنیف کیں۔ یہ سب اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ زبان کے معیار، اس کی ساخت اور اس کے ذوق میں تبدیلی ایک ناگزیر حقیقت رہی ہے اور یہ ہوتی چلی آئی ہے ۔

زبان کی تاریخ دراصل اس کے مفردات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ترکیبی نظام، اسالیبِ بیان اور فکری سانچوں کا مطالعہ بھی اسی قدر ضروری ہے، یہی حقیقت ہے جس کی طرف اہلِ علم نے ہمیشہ اشارہ کیا اور اسی لئے زبان عربی کے ارتقاء و تغیر کا مطالعہ ایک سنجیدہ علمی موضوع بنا۔  

یہی وجہ تھی کہ قدیم و جدید محققین نے لغت عامیہ، لحنِ عمومی، لحن خصوصی جیسے ناموں سے نحوی وترکیبی غلطیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا ضروری سمجھا اور اس علمی روایت کے تحت متعدد کتابیں تدوین پائیں،جن میں شاکر شقیر لبنانی (متوفی 1314ہجری) کی کتاب "لسان غصن لبنان في انتقاد العربية العصرية"اور شیخ ابراہیم یازجی (متوفی 1324ہجری)کی کتاب " لغة الجرائد" ہے ، جن میں  اخباری زبان اور لسانی لغزشوں اور تغیرات کو تفصیل کے ساتھ شامل کتاب کیا گیا ہے ۔

پھر شیخ عبد القادر مغربی ( متوفی 1375ہجری) ( نائب رئيس المجمع العلمي العربي دمشق) نے “الكلمات غير القاموسية" نامی اپنے مبسوط مقالے میں متبدل ومنقول کلمات عربیہ کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے ، اور مختلف بلاد عربیہ کے ۱۹ علماء وادباء کا تفصیلی فتویٰ بھی شامل کیا ہے جنہوں نے مشروط طور پہ عربی میں در آمد کلمات جدیدہ کے استعمال کی اجازت دی ہے ،نیز انہوں نے  "تعريب الأساليب"نامی اپنے مضمون میں بھی عجمی تراکیب کے استعمال کی اجازت  دی ہے ۔

شیخ محمد تقي الدين هلالی (متوفی1407هـ ) کی كتاب "تقويم اللسانين" اور ڈاکٹر ابراهيم سامرائی(1342هـ) کی تحریر "تعابير أوربية في العربية الحديثة” وغیرہ جیسی دیگر کتابوں میں عجمی زبانوں سے عربی میں در آمد اسالیب وتعبیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

1443ہجری میں مشہور ماہر لسانیات وترجمہ نگاری شیخ احمد غامدی کی کتاب “ العرنجية" منظر عام پر آئی، سچی بات یہ ہے کہ کتاب کے نام کے ساتھ مشمولات کتاب بھی عجائب وغرائب کا مجموعہ ہیں ، کتاب عوامی حلقے میں مقبول ہوئی ، اس میں انہوں نے تیرہویں صدی ہجری اور انیسویں صدی عیسوی کی سات دہائیوں میں فرانسیسی وانگریزی زبانوں کا رنگ وآہنگ عربی میں غالب آنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ عوام تو عوام ؛ بڑی شدت وجرأتِ بے جا کے ساتھ انہوں نے مشہور وتسلیم شدہ ادباءِ عرب کی تحریروں کو بھی ان نقائص کا مجموعہ قرار دیا ہے ، ان کی تحریروں کے اقتباسات پیش کرکے یہ بتانے کی سعی لاحاصل کی ہے کہ ان کی عربی تحریرات عجمیت اور فرنگیت کا مظہر تھیں ؛حالانکہ غور کی نظر مطلع صاف کردیتی ہے کہ تعبیرات واسالیب کا تنوع  خطاءِ عربیت نہیں، بلکہ کل وقتی لسانی تبدّلات کی علامت ہیں،  جو عربی زبان کی جڑیں و مراحلِ نمو کی نشاندہی کرتے ہیں، زبان کا طویل سفر صرف الفاظ کی تبدیلی کا داستان نہیں ہوتا، بلکہ نحو، تراکیب، اظہار کے اسالیب کا تنوع وتسلسل ہوتا ہے جس میں لفظ و بیان کے ارتقا کے نشانات پہلو بہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں ، ہر زمانہ کے جمہور ادباء نے مشروط طور پہ ان لسانیاتی وتعبیراتی ارتقاءات کو قبول کیا ہے ، جمہور سے ہٹ کر جدت طرازی کی اپنی پگڈنڈی قائم کرنا محفوظ طریق نہیں ہے ۔


ابھی میرے سامنے ایک نو فاضل کی نئی کتاب ( عربی حروف میں فرنگی زبان ، مؤلفہ محمد ہدایت اللہ قاسمی آسامی )کے چند صفحات  ہیں ، جو احمد غامدی کی مذکورہ بالا کتاب “ العرنجیۃ” ، اور  "تقويم اللسانين"، "تعابير أوربية في العربية الحديثة” اور عالم عرب کی اس جیسی دیگر معاصر تحریرات کا اردو قالب ہے ، احمد غامدی نے احمد شوقی جیسے ادباء کی تحریروں میں ضعف عربیت کی نشاندہی کی ہے اور ہدایت اللہ قاسمی صاحب نے یہی کام حضرت الاستاذ مولانا نور عالم صاحب خلیل امینی ، حضرت کیرانوی ، حضرت الامام علی میاں ندوی رحمہم اللہ کی تحریروں کے ساتھ کیا ہے 

یعنی پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا ہے اور اختلاف رائے کے لبادے میں بڑی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا  ہے 

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب کسی ردّ کا محتاج ہی نہیں ہے، کیونکہ جہاں فہم کا چراغ ہی گل ہو، وہاں فصاحت کے آفتاب پر گفتگو اندھوں کی سرگوشی بن کر رہ جاتی ہے۔

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہم اللہ کی تحریروں پر ضعف یا مسخ عربیت کا بھدا  الزام ایسا ہی ہے جیسے کوئی “کور ذوق” آئینے پر غبار کا مقدمہ قائم کرے، یہ نہ اختلاف رائے ہے، نہ تحقیق؛ بلکہ تاریخ ادب عربی ، لسانی ارتقاءات وتطورات سے ناواقفیت کی عکاسی ، فکری مفلس پن کی آواز ہے جو بلند معیار کو اپنی پست قامت کے پیمانے سے ناپنے کی جسارت کرتا ہے۔

جن اکابر کی عربی تحریریں اہل عرب کے اذہان میں چراغ بنی ہوں، جن کی نثر پر فصاحت سر جھکاتی اور بلاغت مسکراتی ہو، ان پر عربیت کے ضعف ومسخ کا حکم لگانا علمی بے ادبی ہی نہیں، ادبی خودکشی بھی ہے۔ یہ وہی روش ہے جس میں “بونے قد “ میناروں کو قامت ناپنے کا چیلنج دیتے ہیں اور پھر اپنی پستی کو اختلاف رائےکا نام دے دیتے ہیں۔

حضرت الاستاذ شیخ امینی قدس سرہ کی عربیت وہ شمشیر ہے جس کی دھار قواعد سے نہیں، ذوق سے تیز ہوتی ہے؛ اور حضرت مولانا علی میاں ندوی کی نثر وہ سحر ہے جو قاری کے شعور کو مسحور ومسخر کر لے، ان ائمہ ادبِ عربی کے ان اسالیب کو خلاف عربیت کہنا دراصل اس ذوق کی میّت پر نوحہ ہے جو نہ جزالت کی پہچان رکھتا ہے، نہ سلاست کا شعور، اور نہ تاریخ وروایت عربیت کی حرمت سے واقف ہے۔

حیرت ہے حیثیت عرفی رکھنے والے ان قد آور اکابر علماء پر جو ایسی فاسد شراب کو اپنے تقریظاتی کلمات سے “ رحیق مختوم “ بناکر پیش کرنے کی چوک کربیٹھتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ صاحب کتاب کی فکر ونظر کو اپنی ہدایت (ہدایت اللہ) سے مالا مال فرمائے ؛آمین ! 

شکیل منصور القاسمی 

مركز البحوث الإسلامية العالمي 

(اتوار 28؍ رجب المرجب 1447ھ18؍جنوری2025ء)

( #ایس_اے_ساگر )


Monday, 15 December 2025

علامہ شبیر احمد عثمانی کی ذات نبوت اور روضہ اطہر کی حفاظت

علامہ شبیر احمد عثمانی کی ذات نبوت اور روضہ اطہر کی حفاظت
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمت الله عليه کی پیدائش 11 اکتوبر 1887ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے بجنور شہر میں ہوئی۔
علامہ عثمانی مولنا محمود الحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے۔ 1325ھ بمطابق 1908ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث کے تمام طلبہ میں اول آئے۔
فراغت کے بعد دارالعلوم دیوبند میں فی سبیل اللہ پڑھاتے رہے۔ متوسط کتابوں سے لے کر مسلم شریف اور بخاری شریف کی تعلیم دی۔ مدرسہ فتح پور دلی تشریف لے گئے اور وہاں صدر مدرس مقرر ہوئے۔
1348ھ بمطابق 1930ء میں آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔
1354ھ بمطابق 1936ء میں دار العلوم دیوبند میں صدر مہتمم کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔‘‘
علامہ شبیر احمد عثمانی کی سنہری خدمات میں سے صرف دوخدمتیں ایک تحفظ ذات رسول یعنی تحفظ ختم نبوت اور تحفظ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی حوالےسے خدمات کا تذکرہ کروں گا،
۱۳۴۳ھ میں سعودی فرماں روا عبدالعزیز بن سعود کی حکومت نے مذہبی حوالے سے جو متنازع اقدامات کئے، ان میں سے جنت المعلّٰی اور جنت البقیع کے مزاراتِ مقدسہ پر بنے ہوئے قُبّوں کی مسماری کا معاملہ بھی تھا۔ اہلِ سعود کا یہ اقدام یہیں تک محدود نہیں تھا، بلکہ اگلے مرحلے میں گبندِ خضراء کی مسماری بھی ان کا ہدف تھا، اس دوران اُمتِ مسلمہ میں سعودی حکومت کے بارے میں بڑے ناپسندیدہ جذبات پیدا ہوگئے اور دنیا بھر کے علماء اور مذہبی پیشواؤں نے ان کی فہمائش کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں شاہ عبدالعزیز بن سعود نے اسی سال حج کے موقع پر اسی موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں علماء ہند میں سے حضرت مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اور چند دیگر علماء کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں سلطان عبدالعزیز بن سعود نے اپنے موقف کو توحید پرستی پر مبنی قراردیتے ہوئے کسی کی پرواہ نہ کرنے کا عزم ظاہر فرمایا، تو جوابی تقریر کے طور پر حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے شاہ ابنِ سعود کے نقطۂ نظر کی جو علمی تنقیح ، تردید اور تصحیح فرمائی، اس سے نہ صرف یہ کہ سعودی فرماں روا لاجواب ہوگئے، بلکہ مزید اقدامات جن میں گنبدِ خضراء کی توہین آمیز مسماری بھی شامل تھی، اس سے باز آگئے، اس طرح گنبدِ خضراء کا مہبطِ انوار منظر‘ علماء دیوبند کے سرخیل، بانیِ پاکستان علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم کارنامہ ہے,
خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے متوسلین میں سے حضرت مولنا قاضی شمس الدین درویش رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ غلغلہ برزلزلہ المعروف بہ جوہر تحقیق میں لکھتے ہیں کہ
کہ۱۳۴۳ھجری
 میں سلطان ابن سعود نے حجازِ مقدس کی سرزمین پر قبضہ کرلیا اور حرمین شریفین کے جنتِ معلی اور جنتِ بقیع کے مزاروں کے قُبّے گرادیئے، جس کی وجہ سے عام طور پر عالمِ اسلام کے مسلمانوں میں سخت ناراضگی پیدا ہوگئی تو سلطان نے ۱۳۴۳ ہجری کے موقع حج پر ایک مؤتمر منعقد کی، جس میں ہندستان کے علماء کی طرف سے حضرت مفتی کفایت اللہ ؒ (صدر جمعیت علماء ہند دہلی)، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی (رحمہم اللہ) اور کچھ دیگر علماء بھی شامل ہوئے۔
سلطان ابنِ سعود کی تقریر
اس موقع پر سلطان ابنِ سعود نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
(الف) ’’چار اماموں کے فروعی اختلافات میں ہم تشدُّد نہیں کرتے، لیکن اصل توحید اور قرآن وحدیث کی اتباع سے کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کرسکتی، خواہ دُنیا راضی ہو یا ناراض۔‘‘
(ب) ’’یہود ونصاریٰ کو ہم کیوں کافر کہتے ہیں؟ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ غیراللہ کی پرستش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إِلَی اللہِ زُلْفٰی‘‘ (یعنی ہم ان کی پوجا وعبادت اللہ تعالیٰ کے تقرُّب ورضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں) تو جو لوگ بزرگانِ دین کی قبروں کی پرستش اور ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں، وہ بت پرستوں ہی کی طرح کافر ومشرک ہیں۔
(ج) ’’جب حضرت عمرؓ کو پتہ چلا کہ کچھ لوگ وادیِ حدیبیہ میں شجرۃ الرضوان کے پاس جاکر نمازیں پڑھتے ہیں تو حضرت عمرؓ نے اس درخت کو ہی کٹوادیا تھا کہ آئندہ خدانخواستہ لوگ اس درخت کی پوجا نہ شروع کردیں۔‘‘سلطان کا مطلب یہ تھا کہ قُبّے گرانا بھی درختِ رضوان کو کٹوانے کی طرح ہی ہے۔
ہندوستان کے تمام علماء نے یہ طے کیا کہ ہماری طرف سے شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندیؒ سلطان ابن سعود کی تقریر کا جواب دیںگے۔
مولانا عثمانیؒ کی ایمان افروز تقریر
مولانا عثمانیؒ نے پہلے تو اپنی شاندار پذیرائی اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا، اس کے بعد فرمایا:
(الف):- ’’ہندوستان کے اہلِ سنت علماء پوری بصیرت کے ساتھ تصریح کرکے کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع پر پورا زور صرف کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل اتباع میں ہی ہر کامیابی ہے، لیکن کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مواقعِ استعمال کو سمجھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے صائب رائے اور صحیح اجتہاد کی اشد ضرورت ہے:
۱:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ سے نکاح فرمایا اور اس بات کا بالکل خیال نہ رکھاکہ دنیا کیا کہے گی؟ دوسری طرف خانہ کعبہ کو گرا کر بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرنے سے نئے نئے مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، تاکہ دنیا والے یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خانہ کعبہ ڈھادیا۔ دونوں موقعوں کا فرق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہادِ مبارک پر موقوف ہے۔
۲:- اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ’’جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ‘‘ (یعنی کفار ومنافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو) ایک طرف تو اس حکمِ خداوندی کا تقاضا ہے کہ کفار ومنافقین کے ساتھ سختی کی جائے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر صحابہؓ نے عرض کیا کہ: منافقین کو قتل کردیا جائے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات منظور نہ فرمائی ’’خشیۃَ أن یقول الناسُ إن محمدًا یقتل أصحابَہ‘‘ (یعنی اس اندیشہ کے پیشِ نظر کہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوںکو قتل کرتے ہیں) حالانکہ یہ دونوں باتیں ’’وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ‘‘ سے بظاہر مطابقت نہیں رکھتیں تو اس فرق کو سمجھنے کے لیے بھی مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہما وشما کے بس کی بات نہیں اور ایسے مواقع پر فیصلہ کرنے کے لیے بڑے تفقُّہ اور مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کہ نص کے تقاضے پر کہاں عمل کیا جائے گا اور کس طرح عمل کیا جائے گا؟ یہ تفقُّہ اور اجتہاد کی بات ہے۔
(ب):- سجدۂ عبادت اور سجدۂ تعظیم کا فرق بیان کرتے ہوئے مولانا عثمانی ؒ نے فرمایا:
’’اگر کوئی شخص کسی قبر کو یا غیر اللہ کو سجدۂ عبادت کرے تو وہ قطعی طور پر کافر ہوجاتاہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر سجدہ سجدۂ عبادت ہی ہو-جو شرکِ حقیقی اور شرکِ جلی ہے- بلکہ وہ سجدۂ تحیت بھی ہوسکتا ہے، جس کا مقصد دوسرے کی تعظیم کرنا ہوتا ہے اور یہ سجدۂ تعظیمی شرکِ جلی کے حکم میں نہیں ہے۔ ہاں! ہماری شریعت میں قطعاً ناجائز ہے اور اس کے مرتکب کو سزا دی جاسکتی ہے، لیکن اس شخص کو مشرک قطعی کہنا اور اس کے قتل اور مال ضبط کرنے کو جائز قرار نہیں دیاجاسکتا۔ خود قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں اور والدین کے سجدہ کرنے کا ذکر موجود ہے اور مفسرین کی عظیم اکثریت نے اس سجدہ سے معروف سجدہ (زمین پر ماتھا رکھنا) ہی مراد لیاہے اور پھر اس کو سجدہ ٔ تعظیمی ہی قرار دیا ہے۔ بہرحال اگر کوئی شخص کسی غیر اللہ کو سجدۂ تعظیمی کرے تو وہ ہماری شریعت کے مطابق گنہگار تو ہوگا، لیکن اسے مشرک، کافر اور مباح الدم والمال قرار نہیں دیاجاسکتا اور اس بیان سے میرا مقصد سجدۂ تعظیمی کو جائز سمجھنے والوں کی وکالت کرنا نہیں، بلکہ سجدۂ عبادت اور سجدۂ تعظیمی کے فرق کو بیان کرنا ہے۔ رہا مسئلہ قُبّوں کے گرانے کا، اگر ان کا بنانا صحیح نہ بھی ہو تو ہم قُبّوں کو گرادینا بھی صحیح نہیں سمجھتے۔ امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک عبشمی (اُموی) نے حاکمِ مدینہ حضرت عمر بن عبد العزیز عبشمی کو حکم بھیجا کہ امہات المؤمنین کے حجراتِ مبارکہ کو گرا کر مسجدِ نبوی کی توسیع کی جائے اور حضرت عمر بن عبد العزیز عبشمی نے دوسرے حجرات کو گراتے ہوئے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ بھی گرادیا، جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی قبریں ظاہر ہوگئیں تو اس وقت حضرت عمر بن العزیزؒ اتنے روئے کہ ایسے روتے کبھی نہ دیکھے گئے تھے، حالانکہ حجرات کو گرانے کا حکم بھی خودہی دیا تھا۔ پھر سیدہ عائشہؓ کے حجرے کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور وہ حجرۂ مبارکہ دوبارہ تعمیر ہوا۔
اس بیان سے میرا مقصد قبروں پر گنبد بنانے کی ترغیب دینا نہیں، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ قبورِ اعاظم کے معاملے کو قلوب الناس میں تاثیر اور دخل ہے جو اُس وقت حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے بے تحاشا رونے اور اس وقت عالمِ اسلام کی آپ سے ناراضگی سے ظاہر ہے۔
(ج) :- حضرت عمرؓ نے درخت کو اس خطرہ سے کٹوادیا تھا کہ جاہل لوگ آئندہ چل کر اس درخت کی پوجا نہ شروع کردیں۔ بیعتِ رضوان ۶ ہجری میں ہوئی تھی اور حضور علیہ السلام کا وصال پُر ملال ۱۱ ؍ہجری میں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفۂ اول کے عہدِ خلافت کے اڑھائی سال بھی گزرے، لیکن اس درخت کو کٹوانے کا نہ حضور علیہ السلام کو خیال آیا، نہ صدیق اکبرؓ کو۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ کی خلافت راشدہ قائم ہوئی، لیکن یہ بھی متعین نہیں ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی دس سالہ خلافت کے کون سے سال میں اس درخت کے کٹوانے کا ارادہ کیا۔ گو حضرت عمرؓ کی صوابدید بالکل صحیح تھی، لیکن یہ گنبد تو صدیوں سے بنے چلے آرہے تھے اور اس چودھویں صدی میں بھی کوئی آدمی ان کی پرستش کرتاہوا نہیں دیکھا گیا۔
(ہ):- رہا وہاں نماز پڑھنا، تو حدیثِ معراج میں آتاہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور علیہ السلام کو چار جگہ براق سے اُترکر نماز پڑھوائی، پہلے مدینہ میں اور بتایا کہ یہ جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی ہے ، دوسرے جبل طور پر کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، پھر مسکنِ حضرت شعیب ؑپر، چوتھے بیت اللحم پر جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ (نسائی شریف، کتاب الصلوٰۃ، ص:۸۰، مطبع نظامی، کانپور، ۱۲۹۶ھ)
۱:- پس اگر جبلِ طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھوائی گئی کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیاتھا، تو جبلِ نور پر ہم کو نماز سے کیوں روکا جائے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی پہلی وحی حضور علیہ السلام پر آئی تھی؟
۲:-مسکنِ شعیبؑ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھوائی گئی تو کیا غضب ہوجائے گا جو ہم مسکنِ خدیجۃ الکبریٰؓ پر دو نفل پڑھ لیں؟ جہاں حضور علیہ السلام نے اپنی مبارک زندگی کے اٹھائیس نورانی سال گزارے تھے۔
۳:- جب بیت اللحم مولدِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضور علیہ السلام سے دو رکعت پڑھوائی جائیں تو اُمتِ محمدیہ کیوں مولدِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو رکعت پڑھنے سے روکی جائے؟ جبکہ طبرانی نے مقام مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’أنفس البُقاع بعد المسجد الحرام في مکۃ‘‘ مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے بعد مقام مولدِ نبی کریم علیہ التسلیم کو کائناتِ ارضی کا نفیس ترین ٹکڑا قرار دیا ہے۔
۴:- مسکنِ شعیبؑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پناہ لی تھی، تو اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو نفل پڑھوائے گئے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی جو ہم لوگ غارِ ثور -جہاں حضور علیہ السلام نے تین دن پناہ لی تھی- دو نفل پڑھ لیں؟
سلطان ابنِ سعود کا جواب
مولانا عثمانی ؒ کے اس مفصل جواب سے شاہی دربار پر سناٹا چھا گیا۔ آخر سلطان ابنِ سعود نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ:
’’میں آپ کا بہت ممنون ہوں اور آپ کے بیان اور خیالات میں بہت رِفعت اورعلمی بلندی ہے، لہٰذا میں ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ ان تفاصیل کا بہتر جواب ہمارے علماء ہی دے سکیں گے، ان سے ہی یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔‘
مولناامیرالزماں کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کےرسالہ،، فتنہ مرزائیت،،کی تقریظ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں   
علمائے دیوبند اور فتنہ قادیانیت
 حضرات علمائے دیوبند ایک ٹھوس تعلیمی کام میں مشغول ہنگاموں اور پلیٹ فارموں سے دور رہنے کے عادی تھے۔ لیکن اس وقت فتنہ قادیانیت کا شیوع مسلمانوں کو ہزار طرح کے حیلوں سے مرتد بنانے کی اسکیم ناقابل تحمل ہوگئی تو دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور دوسرے اکابر علماء اس پر مجبور ہوئے کہ اس فتنہ کو مسلمانوں میں آگے نہ بڑھنے دیں۔ اس وقت ان اکابر کی ایک جماعت نے دیوبند سے صوبہ سرحد تک ایک تبلیغی دورہ کر کے جابجا اپنی تقریروں سے ان کے مکائد کی قلعی کھولی اور مسلمانوں کو ان کے شر سے آگاہ کیا۔
 قادیانیوں نے اپنے مکرو دجل اور مرزاقادیانی کے ذاتی حالات پر پردہ ڈالنے کے لئے چند علمی مسائل حیات عیسیٰ علیہ السلام، مسئلہ ختم نبوت وغیرہ میں مسلمانوں کو الجھا دیا تھا۔ جن سے درحقیقت مرزاقادیانی کی نبوت اور قادیانی مذہب کا کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر طویل الذیل علمی مسائل میں ہر شخص کو کچھ نہ کچھ بولنے کا موقع مل جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ بحثیں مسلمانوں میں چل پڑھیں۔ حضرات علمائے دیوبند نے تحریری طور پر بھی بیسیوں رسائل ان کے ہر مسئلہ اور ہر موضوع پر تصنیف فرمائے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے قادیانیوں کی تکفیر پر رسالہ اکفار الملحدین، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں عقیدۃ الاسلام عربی زبان میں اور مسئلہ ختم نبوت (پر خاتم النبیین) فارسی زبان میں تصنیف فرمائے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اسی زمانے میں رسالہ ’’الشہاب‘‘ لکھا۔ حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چان پوریؒ ناظم تعلیم دارالعلوم نے ایک درجن سے زائد رسالے ہر موضوع پر لکھے۔(
بحوالہ احتساب قادیانیت جلد نمبر 34ص118)
اسی طرح شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے خطاب میں فرماتے ہیں کہ
کہ اللہ تبارک و تعالٰی مرتدوں کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرے گا:
ارشاد باری تعالی ہے :
يا ايها الذين امنو من يرتد منكم عن دينه فسوف حياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المومنين اعزة على الكافرين يجاهدون فى سبيل الله و لا يخافون لومة لائم ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله واسع عليم
(سوره مائده : آیت نمبر ۵۴) ترجمہ : اے ایمان والو! تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا ( مرتد ہو جائے گا، پس جلدی اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرے گا جسے اللہ محبوب رکھے گا اور وہ اللہ کو محبوب رکھیں گے مومنوں کے حضور پست ہو کر رہیں گے (سرنگوں رہیں گے) کافروں کے مقابلے میں عزت والے ہوں گے (دبدبے والے ہوں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں: یہ
اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے"۔ چنانچه قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے مطابق واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد عرب کے قبائل مرتد ہو گئے اور کچھ نے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کی نبوت کو تسلیم کر لیا ۔ یہ پیشین گوئی کا پہلا حصہ تھا کہ تم میں سے کچھ لوگ مرتد ہوں گے۔ دوسرے حصے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرتدوں کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرنے کا
اعلان فرمایا اور اس کی چھ صفات بھی بیان فرمائیں۔ ذکورہ چھ صفات سے متصف ایک جماعت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق کی قیادت میں کھڑی ہوئی اور ان مرتدین کا قلع قمع کیا۔ بلاشبہ مندرجہ بالا چھ صفات پر حضرت ابو بکر صدیق
اور ان کی جماعت ہی پورا اتر سکتی تھی کہ یہ بڑے نصیب کی بات ہے: لاہور موچی دروازہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا جلسہ تھا اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی تقریر تھی۔ آپ نے کہیں آیات تلاوت فرمائیں اور کہا آج کے دور میں ان آیات کا مصداق سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کی جماعت ہے۔" (خطاب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی "، "ختم نبوت کانفرنس ۷ / مئی ۱۹۹۲ء، ایبٹ آباد) (محمد ساجد منکیرہ
مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میانوالی خوشاب) (وفات: 13 دسمبر 1949ء) ( #ایس_اے_ساگر )

قرطاس وقلم کا سفر

قرطاس وقلم کا سفر
(مختصر علمی سرگزشت)
از: شکیل منصور القاسمی 
https://muftishakeelqasmi.com/
مادرعلمی دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے معاً بعد، سنہ ۲۰۰۰ء / ۱۴۲۰ھ میں ناچیز تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگیا تھا، میرا پہلا تدریسی مرکز دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد تھا۔ بانی وناظم کی طلب اور حضرت الاستاذ مولانا و مفتی محمد ظفیرالدین صاحب مفتاحی قدس سرہ (مرتب فتاویٰ دارالعلوم دیوبند) کے امرِ عالی پر یہاں حاضری نصیب ہوئی تھی۔ اسی ادارے میں مشہور ادیب، درجنوں علمی و ادبی کتب کے مؤلف، نامور نستعلیقی عالمِ دین حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رحمہ اللہ (بانی و ناظم) کی خاص علمی وتربیتی قربت ومعیت ورہنمائی حاصل ہوئی، جس نے میرے اندر مطالعہ و تحریر کے ذوق کو نئی جِلا عطا کی، یہ سلسلہ بحمدللہ تقریباً چار سال تک مسلسل چلتا رہا۔
مادرِ وطن کے مدارس میں تدریس کے وہ ایّام، جو عسرت و مشقت سے بھرپور تھے، وہاں بھی قلم سے رشتہ منقطع نہ ہوسکا تھا، بلکہ طالبِ علمی کے زمانے ہی سے کچھ نہ کچھ لکھتے رہنے کا  ایک مستقل روگ مجھے لاحق تھا، جس سے میرے رفقائے کار بخوبی واقف ہیں۔
بعد ازاں بیرونی دنیا میں آمد کے بعد جب قدرے فراغِ بالی میسر آئی تو اپنی حقیر سی تدریسی و علمی مصروفیات کیساتھ ساتھ "تحریر" کی رفتار دوچند ہوگئی، اسی دوران سوشل میڈیا کا عہد شباب بھی آگیا، جس کے نتیجے میں اس طالب علم کی سطحی تحریریں بتدریج حلقۂ علماء تک پہنچنے لگیں اور ایک وسیع تر علمی حلقے سے ربط قائم ہوا۔
کئی برس ایسے گزرے کہ شبانہ روز کی مصروفیات میں نیند محض چند گھنٹوں تک محدود رہی، اہلِ خانہ کی عدم موجودگی، اگرچہ اس کے بے شمار نقصانات تھے، کا ایک مفید پہلو یہ بھی رہا کہ راحت و آرام کا زیادہ تر وقت مطالعہ و تحریر کی نذر ہوگیا، ابتدا میں فقہی سوالات کے جوابات تحریر کرنے پر توجہ مرکوز رہی، پھر دل کے داعیے اور فکری تقاضوں کے تحت بیشتر توجہ تشنۂِ تحقیق موضوعات ومضامین لکھنے کی طرف منتقل ہوگئی، یوں اس عرصے میں بحمد اللہ مضامین و مقالات کا ایک طویل سلسلہ وجود میں آگیا، اور سوال و جواب نوعیت کی تحریریں کم ہوگئیں، اور ان دونوں درمیانی عرصے میں سینکڑوں تحریریں قلمبند ہوئیں۔
حالیہ چند برسوں سے اپنی بے ہنگم  علمی سرگرمیوں کے ساتھ، اکابر ورفقاء کی ہدایت پر باضابطہ "تالیف و تصنیف" کو ترجیحی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا ہے۔خارجیات و سیاسیات کے میدان میں حالاتِ حاضرہ؛ بالخصوص عالمِ اسلام کی زبوں حالی پر آگاہی اور طالب علمانہ خامہ فرسائی میرا پسندیدہ موضوع رہا ہے، زمانے کے حالات وتقاضوں کے مطابق بعض اوقات تیکھے اور چبھتے سیاسی موضوعات پر بھی طبع آزمائی ناگزیر ہوجاتی ہے، اور اسی آہنگ کی بعض تحریریں بھی سامنے آگئی ہیں۔ 
اسی دوران بعض مخلص رفقاء اور اکابر کے نجی علمی و تحقیقی سوالات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کی جانب حسبِ ضرورت التفات ناگزیر رہا ہے۔
یوں قریب ڈھائی دہائیوں سے لکھنا پڑھنا (برائے نام ہی سہی) مگر ایک مستقل مشغلہ بنا رہا۔ افسوس کہ اپنی کوتاہی اور غفلت کے باعث اس طویل عرصے میں تحریروں کو محفوظ کرنے کا کوئی منظم اہتمام نہ کرسکا، جس کے نتیجے میں بہت سا قیمتی علمی سرمایہ ضائع ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ مشہور صحافی اور صاحبِ قلم، کرم فرمائے من جناب ایس اے ساگر صاحب مدظلہ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اپنے بلاگ پر ازخود اس ناچیز کی تحریروں کو نہ صرف شائع کیا بلکہ نہایت حسن واہتمام اور عمدہ ترتیب وتزئین کے ساتھ محفوظ بھی کیا، جس کے باعث بہت سی تحریریں ضائع ہونے سے بچ گئیں، ورنہ اندیشہ تھا کہ وہ سب وقت کی نذر ہوجاتیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی شایان اجر جزیل سے نوازے، آمین۔
چند برسوں سے بعض مخلص احباب مسلسل اس امر پر اصرار کرتے رہے کہ تحریروں کی موضوعاتی ترتیب و تدوین کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔ میں یہ سوچ کر ٹالتا رہا کہ بے وقعت اور منتشر وبے ہنگم تحریروں کو یکجا کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ لیکن بالآخر برسوں کی پیہم کاوش اور خلوص بھرے اصرار کے بعد میرے محب و مخلص، مفتی توصیف قاسمی صاحب زید مجدہ نے مجھے اس پر آمادہ ہی نہیں بلکہ عملاً مجبور کردیا۔
انہی کی مسلسل محنت، شبانہ روز جدوجہد اور  للہ فی اللہ مخلصانہ قدرد دانیِ  علم کے نتیجے میں آج بحمدللہ ایک مستقل ویب سائٹ قائم ہوچکی ہے، جس پر دہائیوں میں لکھی گئی منتشر تحریروں کو موضوعاتی اور کتابی ترتیب کے ساتھ جمع کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اس ویب سائٹ کا مقصد محض ویوز کی کثرت یا اشتہارات کے ذریعے مالی منفعت حاصل کرنا ہرگز نہیں؛ کہ یہ میرا مزاج نہیں ہے۔
الحمدللہ یہ ایک خالص علمی و تحقیقی پلیٹ فارم ہے، جہاں ہر تحریر کو اس کے موضوع اور باب کے تحت مرتب کیا جارہا ہے۔ یہ نہایت محنت طلب کام ہے، جسے مفتی توصیف صاحب قاسمی اپنی علمی دیانت، تحقیقی بصیرت اور بے لوث جذبے کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ (جزاه الله عنا أحسن الجزاء وأدام بيننا الحب والوفاء).
خالص اشاعت دین وتبلیغی و دعوتی نقطۂ نظر سے اس ویب سائٹ کا قیام میرے لئے باعثِ مسرت و شادمانی ہے، اسی لئے اپنی علمی کنبے (مرکز البحوث) کے روبرو اس کا تذکرہ مناسب سمجھا۔ آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں۔ فی الحال چند ہی تحریریں شائع ہوئی ہیں؛ کیونکہ سائٹ کی ولادت گزشتہ روز ہی ہوئی ہے۔ کام مسلسل جاری ہے، ترتیب و تزئین کے مراحل بھی حسبِ فرصت طے کئے جارہے ہیں، اور ان شآءاللہ ہر آنے والے دن کیساتھ اس میں بہتری کی کوشش جاری رہے گی۔
ویب سائٹ کا لنک اوپر درج ہے۔
اس میدان سے واقف احباب کرام اگر اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں تو یہ ویب سائٹ مزید مؤثر، دور رس اور نافع ثابت ہوسکتی ہے۔ ویب سائٹ کے ایڈمن مفتی توصیف صاحب قاسمی ہیں؛ نشر و اشاعت، ترتیب و تزئین اور تکنیکی نگہداشت کا تمام کام وہی پوری جانفشانی سے انجام دے رہے ہیں، بہتر مشورے آپ براہِ راست انہیں بھی عنایت فرماسکتے ہیں۔
مزید تحریریں اپ لوڈ ہونے کے بعد ارادہ ہے کہ ایک آن لائن پروگرام منعقد کیا جائے، جس میں اکابر اور معاصر اہلِ علم کی نصیحت آموز گفتگو سے استفادہ کا عمومی موقع فراہم کیا جائے، ان شآءاللہ۔
آخر میں آپ سب حضرات سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔
یہ چند سطور ایک ناکارہ فرد کی مختصر علمی سرگزشت ہیں؛ اس سے بظاہر آپ کا کوئی فائدہ وابستہ نہیں؛ تاہم امید ہے کہ اہلِ ذوق کے لئے ان میں فکری اشارے، تجرباتی نقوش اور آئندہ نسلوں کے لئے کچھ نہ کچھ رہنمائی موجود ہوگی۔ علمی روایت میں یہی تسلسل ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے جوڑتا ہے، اور اسی سے فکری تاریخ کی تشکیل ہوتی ہے۔ والسلام
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی 
(پیر 23 جمادی الثانی 1447ھ 15؍ دسمبر 2025ء)

Friday, 12 December 2025

علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے متنوع علمی جہات اور حجۃ الاسلام اکیڈمی کی لائق تحسین خدمت

 علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے متنوع علمی جہات اور حجۃ الاسلام اکیڈمی کی لائق تحسین خدمت

-------------------------------
-------------------------------

امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا نام آسمانِ علم و فضل پر اس درخشندہ کہکشاں کی مانند ہے جس کے ستارے ہر سمت روشنی بانٹتے ہیں، ان کی علمی عظمت کتب و دفاتر کے اوراق تک ہی محدود نہ تھی؛ ان کی متنوّع الجہات شخصیت علوم و معارف کا ایسا زندہ و تابندہ انسائیکلوپیڈیا تھی جس کے سینے میں حدیثِ نبوی کے اسرار بھی محفوظ تھے، تفسیر کے لطائف بھی، فقہ کے دقائق بھی اور کلام و منطق کے نکتہ آفرین مباحث بھی، غیر معمولی قوتِ حافظہ، حدّتِ ذہن، فقاہتِ نظر، حدیث فہمی میں اصابت رائے، اسرارِ شریعت پر گہری نگاہ اور علومِ متعدّدہ پر قابلِ رشک دسترس ، نے حضرت العلامہ کو معاصرین ہی نہیں؛ متقدمین کے قافلے میں بھی نمایاں اور ممتاز بنا دیا تھا۔

آپ کی علمی گہرائی کا یہ عالم تھا کہ مسائلِ فقہیہ میں آپ کی رائے معیار سمجھی جاتی، مباحثِ حدیثیہ میں آپ کی توضیحات حجت مانی جاتیں، اور معارفِ قرآنیہ میں آپ کے  اشاراتِ محضہ بھی تشریح و تأویل کے نئے دروازے کھول دیتے تھے، ایسی ہمہ گیر اور آفاقی شخصیت، اور ان کی حیات و خدمات کے مختلف گوشوں کو اُجاگر کرنا تحقیق  کے ساتھ علمی امانت کی ادائیگی اور تراثِ ملت کو زندہ رکھنے کی سعی محمود بھی ہے۔

اسی پس منظر میں حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کا امام العصر علامہ کشمیریؒ کے علوم و خدمات پر سیمینار منعقد کرنا ’’کار‘‘ نہیں؛ ایک عظیم ’’کارنامہ‘‘ اور خدمتِ تراث کا درخشندہ مینار ہے۔ اکیڈمی نے جس حسن ترتیب، نفاست فکر، وقار علمی اور تحقیق جدید کے دلکش معیار کے ساتھ اس علمی وفکری ذخیرے کو پیش کرنے کا  انتظام؛ بلکہ اہتمام کیا ہے ، وہ اس کے بلند پایہ علمی شعور، پاکیزہ مقصد اور اپنے اکابر کے ساتھ قلبی و روحانی نسبت کی روشن علامت ہے۔

اکیڈمی نے حضرت العلامہ کی شخصیت کے تقریباً ہر پہلو: حدیث و فقہ، تفسیر و کلام، اصول و تاریخ، شعرو ادب، منطق و علمِ کلام، سوانحی نقوش، درسگاہی خدمات اور دیگر جملہ علمی اثرات، کو تحقیقی دائرے میں سمو کر نئی نسل کے سامنے نہایت واضح، مربوط اور دقیق انداز میں پیش کرنے کا جو اہتمام کیا ہے، وہ دراصل ماضی کی علمی عظمت سے تجدیدِ رابطہ، روحانی نسبتوں کی تجدیدِ وفا، اور فکرِ دیوبند کی اصل روح سے ازسرِنو آشنائی کی کامیاب کوشش ہے۔

یہ اقدام، فضلاء جدید کے لئے فکری سمت، فنی پختگی اور تحقیقی روش کا سنگِ میل بھی مہیا کرتا ہے، بالخصوص نو فاضلین ترجیحی بنیادوں پر اس سیمینار کی علمی فضاؤں سے بھرپور استفادہ کریں، اس میں پیش کردہ مباحث و مضامین کو غور و تدبر سے پڑھیں، اور علامہ کشمیریؒ کی فکری عظمت و تحقیقی منهج سے اپنی علمی زندگی کو وابستہ کریں!

اللہ تعالیٰ حجۃ الاسلام اکیڈمی کی اس سعی مشکور کو دوام بخشے، اس کے چراغِ علم و تحقیق کو تازگی اور تابندگی عطا فرمائے، اور ہمیں علامہ کشمیریؒ کی علمی و روحانی میراث سے ہمیشہ وابستہ رکھے۔ آمین۔

ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
https://saagartimes.blogspot.com/2025/12/blog-post_18.html



صحت نکاح کے لئے گواہوں کی موجودگی ضروری ہے؛ ولی کی نہیں

صحت نکاح کے لئے گواہوں کی موجودگی ضروری ہے؛ ولی کی نہیں

-------------------------------
-------------------------------
سوال یہ ہے کہ باپ کے ہوتے ہوئے نکاح میں گواہ کا ہونا ضروری ہے؟ ہاں یا نہیں

اگر نہیں تو لا نكاح الا بولي و شاهدين أم كما قال کا معنی و مطلب کیا ہوگا؟ امید ہے مفتیان کرام توجہ فرمائیں گے. ان شاء اللہ تعالیٰ

الجواب وباللہ التوفیق: 

صحتِ نکاح کے لئے گواہ شرعی کا ہونا ضروری ہے. حنفیہ کے یہاں عاقلہ بالغہ اپنا نکاح خود بھی کر سکتی ہے، ولی کی موجودگی ضروری نہیں؛ بہتر ہے۔

حدیث ولا نكاح إلا بولي، وشاهدي عدل 

کو محدثین (یحيیٰ بن معین، احمد بن حنبل، اسحاق وغیرھم) نے ضعیف کہا ہے، لہٰذا حنفی مذہب کے نزدیک اس سے استدلال مضبوط نہیں ہے۔ عورت اپنی ذات کے حقوق کی مالک ہے؛ جس طرح اپنے مال میں تصرف کرسکتی ہے، اسی طرح نکاح میں بھی خود تصرف کرسکتی ہے، بشرطیکہ کفو (ہمسری) اور مہرِمثل کا لحاظ رکھا گیا ہو؛ البتہ کفو کا حق اولیاء کا ہے، اس لئے وہ اس حق کو ختم نہیں کرسکتی. اس بابت تفصیلی واقفیت کے لئے ناچیز کے مضمون "ولی کے بغیر عاقلہ بالغہ کا نکاح" 1756) کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب 

ای میل: Email: muftishakeelahmad@gmail.com
https://saagartimes.blogspot.com/2025/12/blog-post_12.html