Thursday, 28 July 2022

ہر کسے را بہر کارے ساختند

ہر کسے را بہر کارے ساختند 
(جس کا کام اُسی کو ساجھے)
محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ 
’’عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ مَجْلِسٍ یُّحَدِّثُ الْقَوْمَ جَائَ ہٗ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: مَتَی السَّاعَۃُ ؟ فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُ، قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ قَالَ: ھَا أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: إِذَا ضُیِّعَتِ الْأَمَانَۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ، فَقَالَ: کَیْفَ إِضَاعَتُھَا؟ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلٰی غَیْرِ أَھْلِہٖ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔‘‘          
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب فضل العلم، ج:۱، ص:۱۴، ط: قدیمی)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، حدیث بیان فرمارہے تھے، ایک اعرابی (دیہاتی) آیا، پوچھا کہ قیامت کب ہوگی؟ آپ حدیث بیان کرنے میں مشغول تھے، جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ: قیامت کا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ سائل نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: جب امانت (الٰہی) ضائع ہوجائے، قیامت کا انتظار کرو۔ سائل نے دریافت کیا کہ امانت کیونکر ضائع ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب معاملات نا اہلوں کے سپرد ہوں، قیامت کا انتظار کرو۔‘‘
دیکھئے! کیسا عجیب سوال وجواب ہے اور کتنا واضح وصاف بیان ہے اور کیسی روشن علامت بیان فرمائی ہے، دنیا کا نظام اسی طرح چلتا ہے کہ جوشخص جس کام کے لئے موزوں ہو، اس کے لئے اسی کا انتخاب کیا جائے، صدرِمملکت سے لے کر چپڑاسی وچوکیدار تک غور کرلیجئے، یہی قانونِ فطرت کارفرما ہے، یہی معقول وموزوں زندگی کا نظام ہے، دنیا کا صحیح نظم اسی وقت تک قائم رہے گا، جب تک اس فطری و طبعی اور عقلی قانون پر عمل کیا جاتا رہے گا، جب اس قانون کے خلاف کیا جائے گا، نظم و نسق میں خلل واقع ہوگا، حکیم و طبیب کا کام انجینئر کے کسی نے سپرد نہیں کیا، کسی منطقی و فلسفی یا ریاضی کے استاذ کو فقہ و حدیث کا درس کسی نے حوالہ نہیں کیا، کسی ادیب یا شاعر کو ہیئت و ہندسہ کا درس حوالہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح میدانِ جنگ میں قیادتِ افواج کا کام کسی فلسفی مفکر کے کسی نے حوالہ نہیں کیا: 
’’ہر کسے را بہر کارے ساختند‘‘ 
مثل مشہور ہے۔ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی یہ صلاحیتوں کا تنوع واختلاف واضح تھا، جو کام حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا تھا، ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نہیں لیا گیا۔ یہ جامعیتِ کبریٰ تو صرف حضرت خاتم الانبیاء سیدالمر سلین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات میں ہی پیدا فرماکر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کا کر شمہ دکھلایا تھا اور سارے کمالاتِ علمیہ وعملیہ آپ کی ذاتِ گرامی میں جمع کردیئے تھے:   
’’آنچہ   خوباں   ہمہ   دارند   تو   تنہا   داری‘‘
قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ جو دینِ اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں، ان کے حقائق اور فقہی مسائل کے استنباط کے لئے تو کبار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی چند خاص خاص شخصیتیں متعین تھیں، عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دسترس سے بھی یہ حقائق بالاتر تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت قرآن کریم میں اپنی رائے سے کوئی بات بیان کرنے سے گھبرایا کرتے تھے اور فرماتے تھے:
’’أَيُّ سَمَائٍ تُظِلُّنِيْ وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِیْ إِذَا قُلْتُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ بِرَأْیِيْ۔‘‘                       
(کنزالعمال، فصل فی حقوق القرآن، ج:۲، ص: ۴۴۵، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
’’کس آسمان کے زیرسایہ اور کس روئے زمین پر میں رہ سکوں گا جب اللہ کی کتاب میں اپنی رائے کو دخل دینے لگوں گا۔‘‘
۱:- تیرہ سوسال سے اُمت کا اس پر اتفاق و اجماع ہے کہ اسلام اتنا کا مل و اکمل اور ایسا واضح و روشن مذہب ہے کہ وہ کسی کی تعبیر وتشریح کا محتاج نہیں، اسلام کی تعبیر وتشریح کا نام اور اس کام کو کسی کے سپر د کرنے کا سوال صرف انہی لوگوں کی زبان پر آتا ہے جو اسلام کو اپنی اغراض وخو اہشات کے ڈھانچہ میں ڈھا لنا چاہتے ہیں، ورنہ اُمتِ مسلمہ تو تیرہ سوسال سے بغیر کسی کی تعبیر و تشریح کے علی وجہ البصیرت اسلام کو جانتی، پہچانتی اور اس کے احکام پر عمل کررہی ہے۔
۲:- ایسے جزوی حوادث ومسائل جو زمانے کے ساتھ بدلتے اور نو بنو وجود میں آتے رہتے ہیں، ان کے متعلق اسلام کا قطعی اور اساسی اُصول شارع رحمہم اللہ نے حسب ذیل بیان فرمایا ہے:
’’عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنْ نَّزَلَ بِنَا أَمْرٌ لَیْسَ فِیْہِ أَمْرٌ وَلَا نَھْيٌ فَمَا تَأْمُرُنِيْ؟ قَالَ: ’’شَاوِرُوْا فِیْہِ الْفُقَہَائَ وَالْعَابِدِیْنَ وَلاَ تَمْضُوْا فِیْہِ رَأْيَ خَاصَّۃٍ۔‘‘ (رواہ الطبرانی فی الاوسط، ورجالہ مو ثقون من اہل الصحیح۔ المعجم الاوسط للطبرانی، ج:۲، ص:۱۷۲، ط:دارالحرمین، القاہرۃ)
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جس میں کوئی واضح بیان (نصِ کتاب وسنت) موجود نہ ہو، نہ امر (حکم) ہو، نہ نہی (ممانعت) ہو، ایسے مسئلہ کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ (ہم کیا کریں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے مسائل میں تم فقہاء اور عبادت گزاروں سے مشورہ کیا کرو اور کسی بھی شخصی رائے سے ان کو طے نہ کیا کرو۔‘‘ (S_A_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/07/blog-post_28.html

Monday, 4 July 2022

قرآن وحدیث کے بعد فقہ کی ضرورت

قرآن وحدیث کے بعد فقہ کی ضرورت 
اختلاف ائمہ کی حیثیت۔ ترک وتاویل نصوص کے وجوہ واسباب۔ اشاعرہ وماتریدیئین کا اجمالی تعارف 
---------------------------------
----------------------------------
سوال: فقہ حنفی کن کے اقوال وفتاوی کو کہتے ہیں؟
سنا ہے فقہ حنفی میں اکثر فتاوی صاحبین کے قول پہ ہیں۔ تو ہم حنفی کیوں کہلاتے ہیں؟ صاحبین نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے اختلاف کیوں کیا؟
جواب: فقہ حنفی ہی نہیں، بلکہ تمام دبستان فقہ، جو کسی امام کی طرف منسوب ہیں دراصل ایک شخص کی ذاتی رائے پر مبنی نہیں، بلکہ وہ اس شہر کے علماء وفقہاء کی آراء کا ترجمان ہے۔ فقہ حنفی کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یعنی فقہ حنفی  بھی صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول وفتوی کا نام نہیں۔
آنجناب کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ فقہ حنفی میں اکثر فتاوی صاحبین کے قول پر ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ  نے تدوین فقہ کے لئے علماء وفضلاء کی ایک کمیٹی قائم فرمائی تھی۔ آپ اس کمیٹی کے صدر تھے۔ ان تمام علماء وفضلاء کی موجودگی میں استنباط واستخراج کا یہ مہتم بالشان کام انجام پایا جسے ہم "فقہ حنفی" کہتے ہیں۔
ان علماء وفضلاء کی تعداد سینکڑوں سے لے کر ہزاروں تک تھی۔ لیکن ان میں چالیس علماء خصوصی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اور مختلف علوم وفنون میں امامت کا درجہ رکھتے تھے۔
امام شعرانی نے "المیزان" میں اس کمیٹی کے طرزاستدلال کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔علامہ شامی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
جب کوئی مسئلہ پیش آتا تو امام ابوحنیفہ اپنے تمام اصحاب علم وفن سے مشورہ، بحث ومباحثہ اور تبادلہ خیالات فرماتے۔ پہلے ان سے کہتے کہ جو کچھ ان کے پاس حدیث اور اقوال صحابہ کا ذخیرہ ہے وہ پیش کریں۔ پھراس کے بعد امام صاحب اپنا ذخیرہ حدیث سامنے رکھتے۔ تاآنکہ بات طے پاتی۔ اور امام ابو یوسف اسےقلمبند کرتے۔ اسی شورائی طریقے پر سارے اصول منضبط ہوئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ امام صاحب نے تنہا کوئی بات کہی ہو۔ایک ایک مسئلہ پہ مہینوں بحث جاری رہتی۔ہر پہلو پہ اعتراضات واشکالات پیدا کئے جاتے۔ ہر کوئی اپنے فہم سے جواب دیتا۔ جب ہر جانب اور گوشہ سے اطمنان ہوجاتا تب جنچے تلے الفاظ میں درج رجسٹر کر لیا جاتا۔ اگر فقہ حنفی کسی فرد واحد کی بات ہوتی تو اس میں غلطی کا احتمال تھا۔ جہاں چالیس، چالیس، جید ماہرین فن علماء ہوں اور پوری سنجیدگی اور دیانتداری سے مہینوں تک ایک ایک اصل پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ کی روشنی میں بحث وتمحیص ہو تو غلطی کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے؟
پھر بھی بتقاضائے بشریت استنباط میں لغزشوں کا صدور ممکن تھا۔ اس لئے اس کامل حزم واحتیاط کے باوجود  صدر مجلس امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اعلان فرمادیتے تھے کہ اگر کسی مسئلہ کا کتاب وسنت کے خلاف ہونا ثابت ہوجائے تو ہر مسلمان کو کامل اختیار ہے بلکہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ اسے ترک کردے اور صراحت کے ساتھ حدیث سے جو مسئلہ ثابت ہوتا ہو اس پر عمل کرے۔ عقود رسم المفتي 17.
اسی پر بس نہیں، انہوں نے اپنے تلامذہ کو حکم دے رکھا تھا کہ تم خواہ مخواہ کسی ایک بات پر جم نہ جانا، بلکہ کسی ایک مسئلہ میں کوئی وزن اور قابل اعتماد دلیل شرعی مل جائے تو پھر اس کو اختیار کرنا اور اس کا دوسروں کو حکم دینا۔ 
اذاصح الحديث فهو مذهبي.
اس لئے کہ مقصد کتاب وسنت اور اقوال صحابہ پر عمل ہے۔ اپنی بات پر ضد اور اپنے فہم کی اشاعت پیش نظر نہیں۔
(ميزان شعراني 50/1)
چنانچہ آپ کے تلامذہ نے اس قول کی اہمیت محسوس کی، اور جہاں کہیں کسی مسئلہ میں دلائل وبراہین کی روشنی میں شبہ پیدا ہوا اسے ترک کردیا اور کتاب وسنت کے دائرہ میں جو دوسری صحیح صورت حال نظر آئی اس پر عمل کیا۔ چنانچہ آپ کے شاگردوں نے بیسیوں مسائل میں دلائل اور اپنے فہم کی بنیاد پر اپنے استاذ سے اختلاف کیا۔۔۔
پھر حضرات صاحبین کا اپنے استاذ وامام  سے اختلاف، اصول میں نہیں تھا! اصول وضوابط میں تو وہ بھی امام صاحب کے مقلد ہیں۔ صرف فروعات میں دلائل وفہم کی بنیاد انہوں نے اختلاف کیا ہے۔ اور یہ فطری بات ہے کہ صاحب مذہب کے زمانہ میں مسائل و حالات دوسرے تھے ۔مرور زمانہ کے ساتھ تقاضے اور چیلنج بھی بدل گئے۔لہذا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے وضع کردہ اصول کی روشنی میں  حالات وزمانے کے لحاظ سے جزئیات وفروعات کا استنباط خود وقت کا تقاضہ تھا۔ اور بعد کے زمانے میں بھی قیامت تک یہ راہ کھلی رہے گی۔
امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ نے اس عظیم الشان کام کو بحسن وخوبی انجام دیا۔
اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ فقہ حنفی کی موجودہ صورت کی تخم ریزی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی نے کوفہ میں ڈالی تھی۔ جس کی نسل بہ نسل علقمہ، ابراہیم اور حماد نے آبیاری کی۔ اور اپنے اجتہادات کے ذریعہ اس میں اضافہ کرتے رہے۔ پھراس سرمایہ کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے پورے تفحص و تنقیح کے بعد مرتب کروایا ۔۔۔۔ امام ابویوسف نے پورے علاقہ مشرق میں اس کو رواج دیا اور امام محمد نے ان دفینوں کو سینوں میں محفوظ فرمایا۔ اسی کو لوگوں نے استعارہ کی زبان میں اس طرح کہا ہے:
"ابن مسعود نے فقہ کی کاشت کی، علقمہ نے سیراب کیا، ابراہیم نے کاٹا، حماد نے دانے الگ کئے۔ ابوحنیفہ نے پیسا، ابویوسف نے گوندھا، محمد بن الحسن نے روٹی پکائی اور تمام لوگ اس روٹی سے کھارہے ہیں۔
سوال: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آپ کے صحابہ کے آثار امت کی دینی ضروریات واحکام کی رہبری سے قاصر وناکافی ہیں ؟ کہ فقہ اور اس کی طویل ترین کتابیں وفتاوی کے ہم محتاج ہوں؟؟ 
یعنی اب تو احادیث و آثار مدون ہوکے کتابی شکل میں ہر جگہ دستیاب بھی ہیں تو پہر ان کے ہوتے ہوئے فقہ کی حیثیت اور ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟؟؟
جواب: قرآن وحدیث میں قیامت تک پیش آنے والے جزئیات وفروعات  ہر دور کے جدید پیش آمدہ مسائل و تقاضے   تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کئے گئے ورنہ اتنی طویل ہدایات کا تحمل انسان کے لئے مشکل ترین امر ہوجاتا!  
اس لئے انسانی ہدایت کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ قرآن وحدیث میں بنیادی طور پہ اصول ذکر فرمادیئے گئے ہیں اور امت میں اجتہاد کی صلاحیتوں سے مالا مال افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تخریج واستنباط کرکے نئے پیش آمدہ مسائل کے احکام متعین کریں اور اجتہاد کی صلاحیت سے محروم عوام الناس کو یہ حکم کیا گیا کہ وہ واقف کاروں سے مسائل معلوم کرکے عمل کیا کریں۔
مجتہدین امت نے جب استخراج واستنباط کی محنت شروع فرمائی تو اس کے لئے تین مصادر: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع امت کو بنیاد بنایا اور نئے پیش آمدہ تقاضے کے مطابق ان تینوں مصادر سے مستفاد "قیاس" (فقہ) کو چوتھا ماخذ قرار دیا۔
انہی چار بنیادوں پہ پورے احکام شریعت کا مدار ہے۔ اور اس پہ تمام امت کا اجماع ہے۔
نیزتدوین فقہ کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی گئی کہ اسلامی فتوحات کے پورے دنیا میں پھیل جانے اور عرب وعجم کے اختلاط نے نت نئے مسائل کھڑے کئے ۔مزاجوں میں تیزی سے ا نقلاب آیا۔ ایران وروم اور دیگر عجمی ممالک کی سہل پسندی عام ہوگئی۔ لوگ اپنے اپنے کاروبار، زراعت وکھیتی اور دیگر شعبہائے زندگی میں منہمک ہوگئے-
اسلام کی خاطر جد وجہد اور قربانی کا جذبہ کم ہوتا جارہا تھا۔ سب کے پاس نہ وقت بچا اور نہ ہی ممکن رہا کہ ہر شخص اپنے اپنے کاموں میں انہماک کے ساتھ ساتھ احادیث واثار سے احکام  ڈھونڈ نکالے۔
اس لئے حالات کا تقاضہ ہوا کہ کتاب وسنت کی تعلیمات واحکام ایک نئے انداز سے مرتب ہوں۔ صحابہ کے اقوال تلاش کیے جائیں اور دین کا سارا ذخیرہ سامنے رکھ کر "نظام حیات" کی ترتیب ایسے جاذب نظر اور دلکش انداز میں ہو کہ جسے عالم وجاہل، ذہین وغبی، عربی وعجمی، اور شہری  ودیہاتی ہر ایک بآسانی سمجھ لے۔ اور جو مسائل قرآن وحدیث واقوال صحابہ میں صراحتہ مذکور نہیں وہ ائمہ مجتہدین کے باہمی غور وتدبر اور بحث وتمحیص سے مستنبط ہوں تاکہ عجلت پسند اور سہل طبعیت لوگ بھی تلاش وتجسس کی مشقت سے بچ کے کتاب وسنت پہ عمل پیرا ہوسکیں۔ اسی ضرورت کے لئے فقہ کی تدوین عمل میں آئی۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ضرورت کا ادراک فرماکر فقہ کو مدون کیا اور اسے اس طرح باب اور فصل وار مرتب کیا جس طرح آج اس کی مرتب شکل پائی جاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پہلے لوگوں کے اجتہاد واستنباط کا مدار حافظہ پہ تھا۔ کتابی شکل میں کسی کا اجتہاد واستنباط مرتب نہیں تھا۔امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "موطا مالک" امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس طریقہ کی پیروی کی ہے۔ (خیرات الحسان صفحہ 31)
فقہ کی حیثیت صرف مظہر احکام کی ہے مثبت کی نہیں، یعنی جس طرح زمین کی تہ میں موجود پانی کو پمپ کے ذریعہ ظاہر اور حاصل کیا جاتا ہے۔ پانی نکالنے والا پانی کا خالق نہیں۔ اسی طرح قرآن وحدیث کے احکام خفیہ مستنبطہ (فقہ) کو مجتہدین امت نے صرف ظاہر کئے ہیں۔ مجتہدین ان احکام کے خالق نہیں وہ صرف مظہر ہیں۔فقہ ان کی خانہ ساز کوئی چیز نہیں ہے۔
سوال: قرآن وحدیث سے مستنبط مسائل کی تدوین فقہ کی شکل میں اگر ضروری ہی تھی تو پھر چاروں فقہ کی پیروی ہی ضروری کیوں ہے؟ 
جواب: منجانب اللہ ان چاروں کو مقبولیت عطا ہوئی اور یہ چاروں فقہ مکمل، مرتب اور مدون شکل میں موجود ہے۔ دوسرے فقہ مرتب ومدون شکل میں محفوظ نہیں رہے۔ ورنہ ان کی پیروی بھی کی جاتی! 
سوال: چاروں ائمہ متبوعین کے مابین اختلاف کیوں ہوا؟ کیا یہ فرقہ بندی نہیں؟ 
جواب: ہر آدمی کا ذہن اور فہم یکساں نہیں، فہم  وفراست میں تفاوت ہونا فطری امر ہے۔ جیسے قانون دانوں میں قانون کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ہوتا ہے حالانکہ ہر ملک کے آئین ودستور کی کتاب ایک ہی ہوتی ہے۔ لیکن کوئی وکلاء اور ججز کے اختلاف فہم کو برا نہیں کہتا.
اسی طرح قرآن وحدیث کی مراد سمجھنے میں حضرات صحابہ کے مابین بھی اختلاف ہوا تھا۔ بخاری جلد دوم صفحہ 591  میں "باب مرجع النبي من الأحزاب"  کے تحت حدیث مذکور ہے جس میں بنو قریضہ میں عصر پڑھنے اور نہ پڑھنے کی بابت مراد رسول سمجھنے میں صحابہ کا اختلاف ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک فریق پر بھی نکیر نہ فرمائی۔ بلکہ دونوں کی تحسین فرمائی ۔جس سے پتہ چلا کہ خواہشات نفس کی وجہ سے دین میں اختلاف کرنا فرقہ بندی ہے۔۔ منشاء خدا اور مراد رسول سمجھنے میں رائے کا اختلاف فرقہ بندی نہیں بلکہ عین رحمت ہے۔
سوال: چاروں ائمہ مجتہدین کے مذاہب الگ الگ ہیں۔ ان میں سے کس کو اختیار کیا جائے؟ بیک وقت چاروں کی پیروی ممنوع کیوں ہے؟ 
جواب: چاروں فقہی مسالک برحق ہیں ان میں کسی بھی ایک طریقہ کو عمل کے لئے منتخب کرلے۔ بیک وقت چاروں کی پیروی کرنے سے نفس بے قید ہوجائے گا۔ اور جس مسلک کا جو مسئلہ خواہش نفس کے موافق ہوگا اس کو اختیار کرلے گا۔ اور ظاہر ہے یہ اتباع شریعت نہیں بلکہ اتباع ہوی ہے۔لہذا عامی کے لئے کسی بھی ایک کی پیروی لازم ہے تاکہ شریعت پر عمل بھی ہو۔ سہولت بھی۔ یکسوئی بھی اور نفس کی بے قیدی سے امن بھی۔
سوال: مفتی بہ اقوال کسے کہتے ہیں؟
جواب: امام ابوحنیفہ اور امام ابویسف رحمہما اللہ باضابطہ تالیف وتصنیف میں مشغول نہ ہوسکے۔ البتہ ان کے شاگرد امام محمد نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنے دونوں اساتذہ کے علوم کو اپنی تالیفات میں جمع فرمایا۔ اور پورے فقہ حنفی کے مسائل کو کتاب وار اور فصل وار مدون فرمایا۔ چنانچہ فقہ حنفی کی بنیاد زیادہ تر امام محمد کی تالیفات میں جمع فرمودہ روایات ومسائل پر ہے۔
مسائل حنفیہ کے تین طبقات ہیں:
1۔۔۔۔ظاہر الروایہ؛ یہ امام محمد کی کتب ستہ: مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیرصغیر، اور سیر کبیر  کی روایتوں کو کہا جاتا ہے۔۔ مسائل حنفیہ کا یہ درجہ سب سے اعلی واقوی ہے اور اس کی سند مذہب حنفی میں مشہور ومعروف ہے۔ انہی کتابوں کے مسائل کو "مفتی بہ اقوال" کہا جاتا ہے۔
استفادہ کی سہولت کی خاطر امام ابوالفضل محمد بن محمد الشہیر بالحاکم الشہید المروزی البلخی المتوفی سنہ 334 ھجری نے "الکافی" کے نام سے امام محمد کی مذکورہ چھ کتابوں کا خلاصہ تیار کردیا۔ جو فقہ حنفی میں کافی معتمد سمجھی جاتی ہے۔
پھر "الکافی" کی مختلف شروحات لکھی گئیں ۔سب سے مشہور اور قابل قدر شرح شمس الائمہ سرخسی کی مبسوط ہے جو طبقہ فقہاء میں "مبسوط سرخسی" کے نام سے معروف یے۔
2۔۔۔۔غیر ظاہر الروایہ /روایةالنوادر۔۔۔۔اس میں امام محمد کی دیگر تصنیفات، مثلا:
کیسانیات، ہارونیات، جرجانیات، رقیات۔ امام ابو یوسف کی امالی، یا حسن بن زیاد کی روایت ہے۔
3۔۔۔۔۔الفتاوی والواقعات۔
سوال: ماتریدی کون ہیں؟ احناف فقہ میں حنفی ہیں۔ لیکن عقائد میں حنفی کی بجائے ماتریدی کیوں؟؟؟ 
جواب: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ قرآن وحدیث سے استنباط واستخراج مسائل میں ہمہ تن انہماک واشتغال کی وجہ سے فن حدیث، اسی طرح فن کلام کی طرف خاطر خواہ توجہ مبذول نہیں کرسکے ۔لیکن پہر بھی ان دونوں علوم میں آپ کی بیش بہا نقوش موجود ہیں۔
الفقہ الاکبر اور مسند ابی حنیفہ اس سلسلہ کی کڑی ہے۔
آپ کے بعد آپ کے تلامذہ واصحاب؛ مثلا ابویوسف، محمد  اور امام زفر وغیرہ نے بھی عقائد وعلم کلام کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں ۔۔ ان کے علاوہ جو علم کلام پہ وسیع ترین پیمانے پہ کام ہوا ہے اس کے لئے امام ابوحنیفہ کے ہی دو شاگرد: امام ابوالحسن اشعری اور امام ابومنصور ماتریدی زیادہ مشہور ہوئے۔
امام ابوالحسن اشعری متوفی سنہ 324ھ  صاحب "الجوھر المضیئہ" کی صراحت کے بموجب حنفی المذہب تھے۔ فروعی مسائل میں متشدد نہ تھے۔ فقہ المذاہب پہ آپ کی وسیع نظر تھی۔ اس لئے تمام مجتہدین کی  تصویب کرتے تھے ۔آپ نے تمام مجتہدین کے اصول وعقائد کی معرفت و تحقیق کرکے اہل سنت والجماعت  کے متفقہ عقائد کی بنیاد ڈالی۔ اور اس کے لئے بکثرت کتابیں لکھیں۔ سنہ 324ھ میں انتقال فرمایا۔ اور بغداد کے محلہ مشرع الزوایا میں مدفون ہوئے۔
اسی زمانے میں ماوراء النہر کے علاقہ میں ایک دوسرے عالم اور متکلم امام ابومنصور ماتریدی علم کلام اور عقائد اسلام کی طرف توجہ کی ۔۔۔۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے تین واسطوں سے شاگرد تھے۔ شیخ ماتریدی پکے حنفی المذہب اور بڑے متوازن دماغ کے آدمی تھے ۔۔۔ معتزلہ سے برسرپیکار رہنے کی وجہ سے امام ابوالحسن اشعری کے علم کلام میں بعض ا نتہاء  پسندانہ باتیں  آگئی تھیں اور بعد کے اشاعرہ نے معاملہ کو اور آگے بڑھادیا۔
امام ابومنصور ماتریدی نے اسے حشو وزوائد سے پاک کردیا۔ اور اہل سنت والجماعت کے علم کلام کی مزید تنقیح وتہذیب کی۔ اور اس کو زیادہ معتدل اور جامع بنا دیا۔ ابومنصور اور ان کے متبعین کا یہ اختلاف جزئی اور محدود تھا ۔۔۔ ماتریدئیین نے اشاعرہ سے جن مسائل میں اختلاف کیا ان کی تعداد 12 یا بقول بعضے 30 یا 40 سے زیادہ نہیں تھی۔ اور ان میں بھی بیشتر اختلاف لفظی تھا۔
شیخ ماتریدی بہت بڑے مصنف تھے۔ معتزلہ اور روافض کی رد میں آپ کی بڑی فاضلانہ تصانیف ہیں۔ آپ کی کتاب "تاویلات القرآن" اپنے موضوع پر بڑی فاضلانہ اور جلیل القدر تصنیف ہے۔ جس سے آپ کی قابلیت اور اعلی درجہ کی ذکاوت کا اندازہ ہوتا ہے۔
علم کلام کے دونوں بانی حنفی المذہب تھے۔ لیکن ان کے ظہور وشیوع کے بعد ائمہ ثلاثہ: امام مالک، شافعی اور احمد بن حنبل اور ان کے تلامذہ واصحاب اشعری  مشہور ہوئے۔ اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب وتلامذہ  ماتریدی سے۔
سوال: مذہب غیر پر عمل کرنے کی گنجائش کس حد تک ہے؟؟؟ 
جواب: عام حالتوں میں اپنے معین مذہب سے خروج کرنا اور دیگر فقہی مذاہب میں پائی جانے والی سہولتوں کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔البتہ اظطراری اور ناقابل برداشت داعیہ کے وقت مذاہب اربعہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے اہل بصیرت ارباب افتاء کے اجماعی فیصلہ کی بنیاد پر مذہب غیر پر عمل کیا جاسکتا ہے۔بشرطیکہ اس سے خرق اجماع لازم نہ آتا ہو۔۔۔۔
ان شرائط کے بعد رخصت پہ عمل کرلینے کی وجہ سے تقلید شخصی کا ترک لازم نہیں آتا۔
سوال: فقہ حنفی کا کون سا قول قرآن وحدیث کے خلاف ہے؟؟؟ احناف احادیث ترک کیوں کرتے ہیں؟ یا خواہ مخواہ کی تاویل کیوں کرتے ہیں؟
جواب: فقہ حنفی کا ایک قول بھی قرآن وحدیث کے خلاف نہیں ۔ہم تو فقہ حنفی کو چاروں فقہی مذاہب کی بہ نسبت سب سے زیادہ قرآن وسنت کے قریب سمجھتے ہیں۔
صرف احناف کی ہی بات نہیں ہے!
چاروں ائمہ متبوعین کو بہت سے مسائل میں بعض نصوص کو ترک کرنا پڑا ہے۔لیکن یہ ترک' نعوذ باللہ ۔۔ نصوص کو نظرانداز کرنے کی بنیاد پر نہیں ہے۔ بلکہ کسی تاویل کے پیش نظر انہوں نے بعض نصوص کو لیا اور بعض کو چھوڑا۔
مثلا امام مالک رحمہ اللہ تعارض آثار کے وقت تعامل اہل مدینہ کو فیصل بتاکر مخالف نصوص کی تاویل کرتے ہیں ۔۔۔
امام شافعی رحمہ اللہ قیام حجاز کے دوران تعامل اہل حجاز کو ترجیح دے کر مخالف نصوص کی تاویل کرتے تھے۔ پھر جب مصر وعراق کا سفر ہوا، وہاں ثقہ رواة کے واسطوں سے روایات سامنے آئیں تو اب تعامل اہل حجاز کے مقابلہ میں ان روایتوں کو ترجیح دی۔ اس لئے فقہ شافعی میں قول جدید اور قول قدیم منقول ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ عام طور پر حدیث کو اپنے ظاہر پر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور متعارض روایات میں ہر روایت کو اپنے مورد تک خاص کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے متبعین کا طریقہ تعارض ادلہ و احادیث کی صورت میں یہ ہے کہ یا تو ان متعارض ادلہ وآثار کو منسوخ مانتے ہیں یا مرجوح ۔یا اس انداز سے تاویل کرتے ہیں کہ دونوں میں تطبیق ہوجائے اور اور دونوں پر عمل ہوجائے۔
یعنی حضرات احناف سب نصوص کو دو حصوں میں منقسم کرتے ہیں۔ اولا قاعدہ کلیہ۔ ثانیا جزئی واقعات۔
پھر اگر حدیث میں ذکر کردہ کوئی جزئی واقعہ کسی قاعدہ کلیہ سے متعارض ہوتا ہے تو ایسی صورت میں احناف قاعدہ کلیہ کی رعایت زیادہ کرتے ہیں۔
اور جزئی واقعہ کو ایسے معنی پر منطبق کرتے ہیں جو قاعدہ کلیہ کے خلاف نہ ہو۔
ان بنیادوں پر ہم یہ کہتے ہیں کہ فقہ حنفی کا کوئی قول اصل میں کتاب وسنت سے معارض نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
سیدپور۔ بیگوسرائے۔ بہار 
١٨\٩\٢٠١٧هجري (S_A_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/07/blog-post.html


Thursday, 23 June 2022

لباس التقویٰ: اسلام میں لباس کے احکام

لباس التقویٰ 
اسلام میں لباس کے احکام
سوال: "لباس کے سلسلہ میں اصل حکم 
یہ ہے کہ مرد کا لباس عورتوں کے لباس کے مشابہ 
نہ ہو اور نہ عورتوں کا لباس مرد کے لباس کے مشابہ ہو۔ 
نیز ایسا لباس نہ ہو جو غیرمسلموں کا شعار شمار ہوتا ہو۔ اسی طرح لباس کا ساتر ہونا (ستر چھپانے والا ہونا) اور چست نہ ہونا شرعاً ضروری ہے، پس صورتِ مسئولہ میں ایسے کڑھائی یا ڈیزائن والے کپڑے جو عورتوں کے مشابہ نہ ہوں مردوں کے لئے پہننا شرعاً جائز ہے۔"
مذکورہ فتوی کا حوالہ مطلوب ہے؟
جواب: لباس کے سلسلے میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوالِ مبارکہ ہیں ان کو محدثینِ کرام نے  جمع کیا ہے اور  فقہاءِ کرام نے ان ہی احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مرد اور عورت  کے  لباس اور مسلم  و غیرمسلم کے لباس کے احکام بتلائے ہیں۔ ان احادیثِ مبارکہ میں غور کرنے سے چند اَحکام  معلوم ہوتے ہیں:
1- لباس کا  سب سے اولین مقصد ستر کو چھپانا ہے، اسی لیے اگر لباس ایسا ہو کہ وہ سترپوشی کا کام نہیں دیتا، خواہ ناقص لباس ہو یا  لباس  تو پورا ہو  لیکن اتنا تنگ اور چست لباس ہو جس سے اعضاء مستورہ کی حکایت اور ان کی تصویر  سامنے آتی ہو تو ایسا لباس خواہ مرد کا ہو یا عورت کا، سب کے لئے ناجائز ہے۔
اسی وجہ سے الله تعالیٰ نے انسانوں كو مخاطب كركے فرمايا هے:
{يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ} [الأعراف: 26]
ترجمه: اے اولاد آدم كي هم نے اتاري تم پر پوشاك جو  ڈھانكے تمہاری شرمگاہیں اور اتارے آرائش کے کپڑے اور لباس پرہیزگاری کا وہ سب سے بہتر  ہے، یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی؛ تاکہ وہ لوگ غور کریں۔
اس آیت کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے:
"یمتنّ تبارك و تعالى على عباده بما جعل لهم من اللباس و الريش، فاللباس المذكور هاهنا لستر العورات -و هي السوءات- و الرياش و الريش: هو ما يتجمل به ظاهرًا، فالأول من الضروريات، و الريش من التكملات و الزيادات."
ترجمہ: اللہ تبارک وتعالی (اس آیتِ مبارکہ میں) اپنے بندوں پر  اپنا احسان بیان کر رہے ہیں،بوجہ  لباس اور آرائش کے کپڑوں کے جو  اُن کو عطا فرمائے ہیں، اور لباس جس کا یہاں پر بیان ہے، اس کے دو مقصد ہیں: قابلِ شرم اعضاء  (یعنی شرم گاہوں) کو چھپانا  اور "ریاش" یعنی ظاہری زینت و جمال، پہلا مقصد (ستر چھپانا) ضروریات میں سے ہے اور دوسرا اضافی زینت کے لئے۔"
2- اسی طرح مرد اور عورت یا کافر اور مسلمان کے درمیان ظاہری فرق لباس سے حاصل ہوتا ہے اور اگر ایک دوسرے کا لباس پہنا جائے تو  مشابہت کی وجہ سے امتیاز ختم ہونے کا اندیشہ ہے؛ اس لئے ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حدیثِ مبارک  میں ہے:
"لعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ الْمُتَخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجّلاَتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَ قَالَ: أخْرِجُوْهمْ مِنْ بُیُوْتِکُمْ." (صحيح البخاری، رقم الحدیث: 5547)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ: تم ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔
3- جب ممانعت کی بنیادی علت مشابہت ہے اور اور جہاں یہ علت نہیں ہوگی وہاں ممانعت بھی نہیں ہوگی؛ اس لیے ایسی کڑھائی یا ڈیزائن والے کپڑے جو عورتوں کے کپڑوں کے مشابہ نہ ہوں (اور ان میں کفار کی مشابہت بھی نہ ہو)،  ایسے کپڑوں کا مردوں کے  لیے پہننا جائز ہوگا۔
صحیح بخاری کی حدیث ہے:
"عنْ عائِشَةَ أنَّ النبيَّ صلَّى فِي خمِيصةٍ لَها أعْلاَمٌ فَنَظَرَ إِلَى أعْلاَمِها نَظْرَةً  فَلَمَّا انْصَرَف، قالَ: اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أبي جَهْمٍ، وأتُونِي بأنْبِجانِيَّةِ أبي جَهْمٍ، فإِنَّهَا ألْهَتْنِي آنِفاً عنْ صَلاَتي."
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے دھاری دار چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش ونگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان نقش و نگار کو دیکھا، پھر جب آپ نماز سے فارغ  ہوئےتو فرمایا: اسے لے جا کر ابوجہم کوواپس کردو اور ان سے (بجائے اس کے) سادی چادرلاؤ، اس نے مجھے میری نماز سے ابھی غافل کردیا ۔
اس کی شرح میں علامہ عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں:
"ذكر مَا يستنبط مِنْهُ من الْأَحْكَام فِيهِ: جَوَاز لبس الثَّوْب الْمعلم وَ جَوَاز الصَّلَاة فِيهِ. وَ فِيه: أَن اشْتِغَال الْفِكر الْيَسِير فِي الصَّلَاة غير قَادِح فِيهَا، وَهُوَ مجمع عَلَيْهِ ..."
اس حدیث سے جو احکام مستنبط ہوئے ہیں: ان (میں  ایک یہ کہ) نقش ونگار والے کپڑوں کا پہننا ہے اور ان میں نماز کا درست ہونا ہے اور  یہ کہ نماز سے ہٹ کر  معمولی سے مشغولیت  نماز میں مضر نہیں اور اسی پر اتفاق ہے۔
اس کے علاوہ دیگر احادیث سے لباس کے بارے میں مزید درج ذیل احکام بھی ثابت ہیں:
4- مرد شلوار، پائجامہ یا تہبند وغیرہ اتنا نیچے نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جائے اور نہ ہی خواتین شلوار وغیرہ اتنی اونچی پہنیں کہ ان کے ٹخنے ظاہر ہوجائیں۔
5-  لباس میں سادگی ہو، تصنع، بناوٹ یا نمائش مقصود نہ ہو۔
6-  مال دار شخص نہ تو فاخرانہ لباس پہنے اور نہ ہی ایسا لباس پہنے کہ اس سے مفلسی جھلکتی ہو۔
7-  اپنی مالی استطاعت کے مطابق ہی لباس کا اہتمام ہونا چاہئے۔
8-  مرد کے لیے خالص ریشم (یا جس کپڑے کا بانا ریشم کا ہو) پہننا حرام ہے۔
9-  مرد کے لیے خالص سرخ یا زعفرانی رنگ مکروہ ہے، البتہ سرخ کے ساتھ کسی اور رنگ کی بھی آمیزش ہو تو جائز ہے۔
10لباس صاف ستھرا ہو، نیز مردوں کے لئے سفید رنگ پسندیدہ ہے۔
شرح ابن بطال لصحیح البخاری (9/140):
"قال الطبرى: فيه من الفقه أنه لايجوز للرجال التشبه بالنساء في اللباس و الزينة التي هي للنساء خاصة، و لايجوز للنساء التشبه بالرجال فيما كان ذلك للرجال خاصة. فمما يحرم على الرجال لبسه مما هو من لباس النساء: البراقع و القالائد و المخانق و الأسورة و الخلاخل، و مما لايحل له التشبه بهنّ من الأفعال التي هنّ بها مخصوصات فانخناث في الأجسام، و التأنيث في الكلام. و مما يحرم على المرأة لبسه مما هو من لباس الرجال: النعال و الرقاق التي هي نعال الحد و المشي بها في محافل الرجال، و الأردية و الطيالسة على نحو لبس الرجال لها في محافل الرجال و شبه ذلك من لباس الرجال، و لايحلّ لها التشبه بالرجال من الأفعال في إعطائها نفسها مما أمرت بلبسه من القلائد و القرط و الخلاخل و السورة، و نحو ذلك مما ليس للرجل لبسه، و ترك تغيير اليدي و الأرجل من الخضاب الذي أمرن بتغييرها به."
 مرقاۃ المفاتیح (7/2782):
"وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»" رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُودَاوُدَ.
(4347- وَعَنْهُ) : أَيْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:  (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ): أَيْ مَنْ شَبَّهَ نَفْسَهُ بِالْكُفَّارِ مَثَلًا فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ، أَوْ بِالْفُسَّاقِ أَوِ الْفُجَّارِ أَوْ بِأَهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الْأَبْرَارِ. (فَهُوَ مِنْهُمْ): أَيْ فِي الْإِثْمِ وَالْخَيْرِ. قَالَ الطِّيبِيُّ: هَذَا عَامٌّ فِي الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ وَالشِّعَارِ، وَلِمَا كَانَ الشِّعَارُ أَظْهَرُ فِي التَّشَبُّهِ ذُكِرَ فِي هَذَا الْبَابِ."
فقط واللہ اعلم 
فتوی نمبر : 144203200495
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (S_A_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/06/blog-post_23.html

Wednesday, 22 June 2022

سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصہ پر ایک استنباطی نظر اور تین کا عدد

سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصہ پر ایک استنباطی نظر اور تین کا عدد
بقلم: مولانا فخرالاسلام المدنی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَلَقَدْ أٰتَیْْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَوَرِثَ سُلَیْْمَانُ دَاوٗدَ وَقَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْْرِ وَأُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ إِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ حَتّٰی إِذَا أَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَۃٌ یَّا أَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ۔‘‘ (النمل: ۱۵-۱۸) 
إلٰی قولہٖ تعالٰی: ’’قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘ (النمل: ۴۴)
مذکورہ آیات دو رکوع پر مشتمل ہیں، ان میں غوروفکر کرنے کے بعد حیرت انگیز طور پر ثلاثیات کی شکل میں فوائد کا ایک بڑا ذخیرہ سامنے آگیا، جو نذرِقارئین ہے۔ 
ہم سب اس بات کو جانتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں طاق عدد کو ایک بڑی اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر تین کے عدد کو، مثلاً: نماز میں تسبیحات یا طہارت کے مسائل میں، اسی طرح وتر کی بھی تین رکعتیں ہیں، نیز نماز کے بعد تین قسم کی تسبیحات، وغیرہ۔
 البتہ جس طرح بلاغت کے فنِ بدیع میں محسناتِ معنویہ اور محسناتِ لفظیہ ہوتے ہیں، اسی طرح ان فوائد میں کچھ کا تعلق لفظ سے ہے، اور کچھ کا تعلق معنی سے ہے، تاہم ہمارے لیے قرآن کے الفاظ بھی اتنا اہم ہیں جتنا معنی ہے۔ 
مذکورہ آیاتِ کریمہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ تین قسم کی مخلوقات کے ساتھ متعلق ہے:
۱:- چیونٹی        
۲:- پرندہ (ھد ھد)        
۳:- انسان (بلقیس)
آیت کریمہ میں تین طرح کے لشکر کا تذکرہ ہے:
۱:- جن        
۲:- انس       
 ۳:- طیر 
’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوزَعُوْنَ ۔‘‘
نیز ’’جُنُوْد‘‘ کا لفظ بھی تین مرتبہ استعمال ہوا ہے:
۱:-’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوزَعُوْنَ۔‘‘
۲:- ’’لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ۔‘‘
۳:- ’’اِرْجِعْ إِلَیْْہِمْ فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا.‘‘
’’جُنْد‘‘ کا معنی فوج اور لشکر، جس سے بری، بحری اور فضائی تین قسم کی فوج کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے: ’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوزَعُوْنَ ۔‘‘
۱:- ’’الطَّیْْرِ‘‘ فضائی قوت کی طرف اشارہ ہے: ’’ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ‘‘ جو ایک ڈرون کی طرح جاسوسی کا تصور ہے۔
۲:- ’’الْإِنْسِ‘‘ سے مراد بری فوج ہے۔ 
۳:- اور ’’الْجِنِّ‘‘ سے بحری قوت مراد ہے، اس لیے کہ ’’وَالشَّیَاطِیْنَ کُلَّ بَنَّائٍ وَّغَوَّاصٌ‘‘ فرمایا، نیز ’’وَالشَّیَاطِیْنَ یَغُوْصُوْنَ لَہٗ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِکَ۔‘‘ عربی میں غواص آج کل آبدوز کو کہتے ہیں، جو بحری قوت کا اہم حصہ شمار ہوتا ہے۔ 
 مذکورہ تینوں مخلوقات میں سے ہر ایک کی عملی مثال و نمونہ بھی پیش کیا گیا:
۱:- ’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ‘‘ (عفریت کا تذکرہ)
۲:- ’’وَالْإِنْسِ‘‘ (آصف بن برخیا کا قصہ)
۳ :- ’’وَالطَّیْْرِ‘‘ (ھدھد کا واقعہ)
حضرت سلیمان علیہ السلام کا تذکرہ تین مرتبہ تبعاً اور تین مرتبہ قصہ کے ضمن میں اصالۃً (یعنی بنیادی طور پر) ہوا ہے، کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام قصہ کا محور ومرکز ہیں، تو ان کا تذکرہ نسبۃً دوگنا ہوا ہے:
۱:- ابتدائے قصہ میں: ’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ‘‘
۲:- درمیان میں: ’’فَلَمَّا جَائَ سُلَیْْمَانَ‘‘
۳:- آخر میں: ’’وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ‘‘
علم (مصدر) کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے:
۱:- ’’وَلَقَدْ أٰتَیْْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْْمَانَ عِلْمًا‘‘
۲:- ’’قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ‘‘
۳:- ’’وَأُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ‘‘
کتاب کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے:
۱:-’’اِذْہَبْ بِّکِتَابِیْ ہٰذَا‘‘
۲:- ’’قَالَتْ یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ إِنِّیْ أُلْقِیَ إِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ‘‘
۳:- ’’قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ‘‘
 ان آیاتِ کریمہ میں تین مرتبہ فضل کا لفظ آیا ہے:
۱:- ’’وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘
۲:- ’’وَأُوتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ إِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ‘‘
۳:- ’’ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ لِیَبْلُوَنِیْ أَ أَشْکُرُ أَمْ أَکْفُرُ وَمَنْ شَکَرَ فَإِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ کَرِیْمٌ۔‘‘
واضح رہے کہ مذکورہ آخری آیت میں شکر کا کلمہ بھی تین مرتبہ مذکور ہے، جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ فضل کا تذکرہ تین مرتبہ آیا ہے، شا ید اسی کی مناسبت سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین انعامات کی بناپر تین مرتبہ شکر کے کلمات ادا کیے:
۱:- ابتدا میں: ’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْْرِ وَأُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ ۔‘‘
۲:- درمیان میں: ’’فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰی وَالِدَيَّ ۔‘‘
۳:- آخر میں: ’’فَلَمَّا رأَٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ۔‘‘
واضح رہے کہ ’’الطَّیْْرِ‘‘ کا لفظ بھی ان آیات کریمہ میں تین مرتبہ استعمال ہوا ہے:
۱:- ’’وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔‘‘
۲:- ’’ یَا أَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْْرِ وَأُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ ۔‘‘
۳:- ’’وَتَفَقَّدَ الطَّیْْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَی الْہُدْہُدَ‘‘
آیت میں نمل کا لفظ تین مرتبہ استعمال ہوا ہے:
۱:- ’’حَتّٰی إِذَا أَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ‘‘
۲ ،۳:- ’’قَالَتْ نَمْلَۃٌ یَّا أَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاکِنَکُمْ ‘‘ (وادی نملہ، ملکہ نملہ، رعیت)
چیونٹی کے قصے سے تین چیزوں کی ضرورت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
۱:- راڈار سسٹم کا تصور (تین کلومیٹر کے فاصلہ سے لشکر کی آمد کا چیونٹی کو پتہ لگ گیا) ۔
۲ :- ٹیلی گراف (برقی لہروں کا تصور) تین کلومیٹر کے فاصلہ سے آواز کا حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچنا۔
۳:- ٹرانسلیشن کی اہمیت (حضرت سلیمان علیہ السلام کا چیونٹی کی بات کو سمجھنا): ’’عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْْر‘‘
چیونٹی نے تین کام کیے جو کسی بھی قیادت کے حوالہ سے اہم ہیں:
۱:- بروقت خطرہ کی اطلاع (خطرہ کا الارم): ’’یَّا أَیُّہَا النَّمْلُ‘‘
۲:- خطرات کی نشاندہی: ’’لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ‘‘
۳ :- حفاظتی تدابیر: ’’ادْخُلُوْا مَسَاکِنَکُمْ‘‘
اس موقع پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو شکر کے کلمات ادا کیے ہیں، وہ تین دعاؤں پر مشتمل ہیں:
۱:- شکر کی توفیق: ’’رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰی وَالِدَيَّ‘‘
۲:- عمل صالح کی توفیق: ’’وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ‘‘
۳:- حسنِ خاتمہ: ’’وَأَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ‘‘
واضح رہے کہ حسن خاتمہ سے متعلق قرآن مجید میں تین انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ آیا ہے:
۱:- حضرت ابراہیم علیہ السلام: ’’رَبِّ ہَبْ لِیْ حُکْمًا وَّ أَلْحِقْنِیْ بِا الصَّالِحِیْنَ‘‘
۲:- یوسف علیہ السلام: ’’تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّأَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ‘‘
۳:- حضرت سلیمان علیہ السلام: ’’وَأَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد پرندے سے متعلق تین ہدایات دیں:
۱:- ’’لَأُعَذِّبَنَّہٗ ‘‘    
۲:- ’’أَوْ لَأَذْبَحَنَّہٗ ‘‘     
۳:- ’’أَوْ لَیَأْتِیَنِّیْ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ‘‘
 ملازمین کے لیے حاضری کے نظام سے متعلق تین اُمور معلوم ہوتے ہیں:
۱:- ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً حاضری: ’’وَتَفَقَّدَ الطَّیْْرَ‘‘
۲:- غیر حاضری پر سزا: ’’لَأُعَذِّبَنَّہٗ عَذَاباً شَدِیْداً‘‘
۳:- مناسب عذر پر سزا معطل: ’’أَوْ لَیَأْتِیَنِّیْ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ‘‘
 ہد ہد نے واپسی پر علاقہ کا سیاسی، فوجی اور اقتصادی نقشہ تین باتوں میں پیش کیا:
۱:- ’’إِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَأَۃً تَمْلِکُہُمْ‘‘    
۲:- ’’وَأُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ‘‘
۳:- ’’وَلَہَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ‘‘
پھر مذہبی نقشہ بھی تین باتوں میں پیش کیا:
۱:- ’’یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ (فسادِ عقیدہ)
۲:-’’وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ أَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ‘‘ (سبب فساد)
۳:- ’’فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ‘‘ (امکان ہدایت)
حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہدہد کے واقعہ سے بھی سلطنت کی تین اہم چیزوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے:
۱:- ڈاک کا نظام: ’’اِذْہَبْ بِّکِتَابِیْ ہٰذَا‘‘
۲:- خفیہ جاسوسی نظام: ’’ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ‘‘
۳:- بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات (سفارتی نظام)
انہی آیات میں سنی سنائی باتوں سے متعلق تین احکام:
۱:- سنی سنائی بات نہیں کرنی چاہیے: ’’وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ یَّقِیْنٍ‘‘
۲:- سنی سنائی بات پر یقین بھی نہیں کرنا چاہیے: ’’سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ کُنْتَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ‘‘
۳:- سنی سنائی بات کو بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: ’’اِذْہَبْ بِّکِتَابِیْ ہٰذَا‘‘
خط کے مندرجات تین ہیں:
۱:- مرسل منہ:’’إِنَّہٗ مِنْ سُلَیْْمَانَ‘‘
۲:- ابتداء خط: ’’وَإِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘
۳:- مضمون: ’’أَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ‘‘
 بلقیس کے قصہ سے تین باتیں واضح ہوتی ہیں:
۱:- قومی اسمبلی یعنی شورائی نظام: ’’مَا کُنْتُ قَاطِعَۃً أَمْرًا حَتّٰی تَشْہَدُوْنِ‘‘
۲ :- سیاست بلقیس: ’’وَإِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ إِلَیْْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنَاظِرَۃٌ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ‘‘
۳:- مغربی امداد کی حقیقت: ’’أَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ‘‘
بلقیس کا خطاب قرآن کریم میں تین جگہ ’’قَالَتْ‘‘ کے صیغہ کے ساتھ مذکور ہے:
۱:- ’’قَالَتْ یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ إِنِّيْ أُلْقِيَ إِلَيَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ‘‘
۲:- ’’قَالَتْ یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ أَفْتُوْنِيْ فِیْ أَمْرِيْ مَا کُنْتُ قَاطِعَۃً أَمْرًا حَتّٰی تَشْہَدُوْنِ‘‘
۳:- ’’قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوْکَ إِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً أَفْسَدُوْہَا‘‘
بلقیس ایک عقلمند خاتون تھی، جس کے تین نتائج نکلے:
۱:- عقلمندی قیادت کا سبب ہے: ’’إِنِّیْ وَجَدتُّ امْرَأَۃً تَمْلِکُہُمْ‘‘
۲:- عقلمندی سیاست کا سبب ہے: ’’وَإِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ إِلَیْْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنَاظِرَۃٌ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ‘‘
۳:-عقلمندی ہدایت کا سبب ہے: ’’قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین جملوں میں اپنا رد عمل پیش کیا:
۱:- ’’أَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ‘‘
۲:- ’’فَمَا أٰتَانِيَ اللّٰہُ خَیْْرٌ مِّمَّا أٰتَاکُمْ‘‘
۳:- ’’بَلْ أَنْتُمْ بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُوْنَ‘‘
مغربی سیاست سے متعلق تین باتیں:
۱:- مغربی امداد کی حقیقت :ہمارا امتحان: ’’وَإِنِّيْ مُرْسِلَۃٌ إِلَیْْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنَاظِرَۃٌ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ‘‘
۲:- مغربی امدا د کا حق: فوری مسترد اور اپنے وسائل پر انحصار: ’’أَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ‘فَمَا أٰتَانِيَ اللّٰہُ خَیْْرٌ مِّمَّا أٰتَاکُمْ‘‘
۳:- مغربی امداد کا متبادل: (روحانی قوت کی قدر وحفاظت جس کی بنیاد پر حضرت سلیمان علیہ السلام کو بلقیس پر ترجیح حاصل تھی، اور روحانیت کی حفاظت میں مدارس بنیادی طور پر سر فہرست ہیں) ’’قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا أٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ أَنْ یَّرْتَدَّ إِلَیْْکَ طَرْفُکَ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے قوم سبا کے متعلق دھمکی میں تین چیزوں کا ذکر کیا:
۱:- ’’ارْجِعْ إِلَیْْہِمْ‘‘ (ہدیہ کی واپسی)
۲:- ’’فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا‘‘ (فوجی کارروائی کی دھمکی)
۳:- ’’وَلَنُخْرِجَنَّہُم مِّنْہَا أَذِلَّۃً وَہُمْ صَاغِرُوْنَ‘‘ (کارروائی کا مقصد یا نتیجہ)
 ایک ملازم یا مزدور میں تین خصوصیات ہونی چاہئیں:
۱:- کام میں تاخیر نہ کرے: ’’آتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ أَنْ تَقُوْمَ‘‘
۲:- قوی ہو: ’’وَإِنِّيْ عَلَیْْہِ لَقَوِیٌّ أَمِیْنٌ‘‘
۳:- امانت دار ہو: ’’وَإِنِّيْ عَلَیْْہِ لَقَوِيٌّ أَمِیْنٌ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرشِ بلقیس کا تذکرہ تین مرتبہ کیا ہے:
۱:- ’’أَیُّکُمْ یَأْتِیْنِيْ بِعَرْشِہَا‘‘
۲:- ’’قَالَ نَکِّرُوا لَہَا عَرْشَہَا‘‘
۳:-’’أَہٰکَذَا عَرْشُکَ‘‘
اس واقعہ میں مذکورہ تین قوتوں کے استعمال کی نوبت نہیں آئی :
۱:- ’’قَالُوْا نَحْنُ أُوْلُوْا قُوَّۃٍ وَأُولُوْا بَأْسٍ شَدِیْدٍ‘‘
۲:- ’’قَالَ عِفْریْتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا أٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ أَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ‘‘
۳:- ’’ارْجِعْ إِلَیْْہِمْ فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا‘‘
سب سے پہلے بیرونِ ممالک کا تبلیغی سفر ھدھد نے کیا، جس کے کل تین مراحل ہیں:
۱:- تقاضائے دعوت و تبلیغ: ’’وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘
۲:- دعوت و تبلیغ: ’’إِنَّہٗ مِنْ سُلَیْْمَانَ وَإِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘
۳:- نتیجۂ دعوت: ’’قَالَتْ رَبِّ إِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ یوں اللہ تعالیٰ نے ایک پرندہ کو ایک پوری قوم کی ہدایت کا سبب بنادیا۔
عام طور پر معاشرہ میں تین چیزوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے، اس واقعہ میں اُن کا تذکرہ کرکے ان کی اہمیت کو بتایا گیا:
۱:- چیونٹی (نملۃ)        
۲:- پرندہ (ھدھد)        
۳:- عورت (ملکہ سبا)
یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ  کا جملہ بھی تین مرتبہ استعمال ہوا ہے، دو مرتبہ بلقیس اور ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے استعمال کیا:
۱:- ’’یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ إِنِّیْ أُلْقِيَ إِلَيَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ‘‘
۲:- ’’یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ أَفْتُوْنِیْ فِیْ أَمْرِیْ‘‘
۳:- ’’یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ أَیُّکُمْ یَأْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا‘‘ 
’’مُسْلِمِیْنَ‘‘ کا کلمہ تین مرتبہ آیا ہے :
۱:- ’’أَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَأْتُوْنِيْ مُسْلِمِیْنَ‘‘
۲:- ’’قَبْلَ أَنْ یَأْتُونِیْ مُسْلِمِیْنَ‘‘
۳:-’’وَأُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ‘‘
پورے قصہ کاخلاصہ تین باتوں میں نکلتا ہے:
۱:- خلافتِ سلیمان 
۲:- قیادتِ نملہ    
۳:- سیاستِ بلقیس
مجموعی طور پر آیاتِ کریمہ میں دیگر فوائد ملاحظہ فرمائیں:
بلقیس کے عرش کے مقابلہ میں ھدھد نے اللہ کے عرش کا ذکر کیا: ’’اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں ’’وَأُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ ‘‘ آیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بلقیس کے لیے ’’وَأُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْْئٍ‘‘ کا ذکر ہے۔ اور دونوں میں تقابل کیا گیا تو نتیجہ : ’’فَمَا أٰتَانِيَ اللّٰہُ خَیْْرٌ مِّمَّا أٰتَاکُمْ‘‘
اسباب کا بھرپور استعمال توکل کے منافی نہیں: ’’اِذْہَبْ بِّکِتَابِیْ ہٰذَا، أَیُّکُمْ یَأْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا‘‘
خلقِ خدا میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھیں (چیونٹی اور پرندہ کا کردار) 
کثرتِ شکر‘ کثرتِ نعمت کا سبب ہے: ’’ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ‘‘
روحانی قوت مادی قوت پر حاوی ہے: ’’قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ‘‘
الہدایا قد تکون وراء ہا خبایا (ہدیہ قبول کرنے میں احتیاط): ’’وَإِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ إِلَیْْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ‘‘
حاملینِ علومِ نبوت کو احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے: ’’فَمَا أٰتَانِيَ اللّٰہُ خَیْْرٌ مِّمَّا أٰتَاکُمْ‘‘
جب بڑا کردار ادا کرنے کا موقع مل جائے تو عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے: ’’ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ‘‘
عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے: ’’مَالِيَ لَا أَرَی الْہُدْہُد‘‘، ’’أَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہ‘‘
عقیدۂ توحید کی اہمیت: ’’إِنَّہٗ مِنْ سُلَیْْمَانَ وَإِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘
بعض معاملات میں جلدی کرنا بہتر ہے: ’’أَیُّکُمْ یَأْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَّأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ‘‘
مخالف کو کمزور نہ سمجھیں: ’’قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوْکَ إِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً أَفْسَدُوْہَا‘‘
خط کے مضمون میں اختصار سے کام لینا چاہیے: ’’أَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ‘‘
بڑوں کو عزت کی فکر ہوتی ہے: ’’وَجَعَلُوْا أَعِزَّۃَ أَہْلِہَا أَذِلَّۃً‘‘
ہر عورت کم عقل نہیں ہوتی، جیسا کہ بلقیس کے اس واقعے سے اس کی سمجھداری کا پتہ چلتا ہے۔
وقتاً فوقتاً دشمن کے خلاف زبانی دھمکی کارگر ہوتی ہے: ’’فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَا أَذِلَّۃً وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ‘‘
دین کو عقل پر مقدم رکھنا چاہیے، جیسا کہ چیونٹی کا قصہ اور ہدہد پرندے کا جو بظاہر ہماری سمجھ میں نہیں آتا، مگر ہمارا ایمان ہے کہ یہ سچ ہے۔
علم‘ فضیلت کا سبب ہے: ’’وَلَقَدْ أٰتَیْْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘
’’إِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ‘‘ (جو ذات چیونٹی سے غافل نہیں، وہ ہم سے کیوں غافل ہوگی)
ملکۂ سبا اور ملکۂ نملہ میں ایک مناسبت: دونوں نے اپنی اپنی قوم کو خطرات سے بچانے کی کوشش کی۔
ہم چیونٹیوں کے بارے میں ’’لَا یَشْعُرُوْنَ‘‘ کی رائے رکھتے ہیں، جب کہ وہ ہمارے بارے میں کہتی ہیں: ’’وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ‘‘
نعمتوں کا برملا اظہار کرنا چاہیے: ’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْْرِ‘‘
شکر توفیق کے بغیر نہیں ہوتا: ’’رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ‘‘
ترتیب زمانی: پہلے حضرت داؤد علیہ السلام کا تذکرہ ہوا جو کہ باپ ہیں اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کا تذکرہ ہوا جو اُن کے بیٹے ہیں، اسی طرح پہلے جن اور پھر انسان کا تذکرہ ہوا۔
واضح رہے کہ پورے قرآن کریم میں جہاں کہیں جن و انس کا تذکرہ ایک ساتھ ہوا، غالباً وہاں جن کو ان کی پیدائش کی وجہ سے مقد م کیا گیا ہے۔
توبہ سے پہلے گناہ کا اعتراف ہونا چاہیے: ’’رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘
حکمرانوں کو دعوتی اور اصلاحی خط لکھنا ایک سنت عمل ہے: ’’اِذْہَبْ بِّکِتَابِیْ ہٰذَا‘‘
پہلی آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قول مذکورہے: ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا‘‘ اور آخری آیت میں بلقیس کا قول: ’’وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ گویاکہ ہمارے مضمون کی ابتدا ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ اور انتہا ’’رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ پر ہے۔ اس فائدے کو آخر میں رکھنے کا مقصد بھی یہی ہے: وأٰخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین (S_A_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/06/blog-post_22.html


 

Tuesday, 21 June 2022

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے کسی مرحوم کی طرف سے قربانی کرنا؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے کسی مرحوم کی طرف سے قربانی کرنا؟
---------------------------------
----------------------------------
جس صاحب استطاعت بندہ کے پاس گنجائش ہو وہ اپنے مرحوم بزرگوں کی طرف سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرے، یہ عمل بہت ہی مبارک اور موجب اجر و ثواب ہے، ان سب کو اس کا ثواب اِن شآءاللہ پہنچے گا ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دو بھیڑ ذبح فرمائے ہیں، ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی ان تمام امتیوں کی طرف سے جہنوں نے توحید کا اقرار کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دین پہنچا دینے کی گواہی دی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ (مسند أحمد: 25315) و(سنن ابن ماجہ: 3122) 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی اتنی پسند تھی کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے کی باضابطہ وصیت: یعنی  یعنی تاکیدی حکم فرمایا؛ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بلا ناغہ دو بھیڑ ذبح فرماتے تھے، ایک اپنی طرف سے اور ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے کبھی ناغہ نہ کیا۔
عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ (سنن ابي داؤد: 2790، بَاب الْأُضْحِيَّةِ عَنْ الْمَيِّت)۔
 عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ أَمَرَنِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُضَحَّى عَنْ الْمَيِّتِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُضَحَّى عَنْهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُتَصَدَّقَ عَنْهُ وَلَا يُضَحَّى عَنْهُ وَإِنْ ضَحَّى فَلَا يَأْكُلُ [ص: 72] مِنْهَا شَيْئًا وَيَتَصَدَّقُ بِهَا كُلِّهَا قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ قُلْتُ لَهُ أَبُو الْحَسْنَاءِ مَا اسْمُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ قَالَ مُسْلِمٌ اسْمُهُ الْحَسَنُ (سنن الترمذي: 1495، بَاب مَا جَاءَ فِي الْأُضْحِيَّةِ عَنْ الْمَيِّتِ ، مسند احمد 152/2)
یہ تمام احادیث اس باب میں صریح ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے کسی مرحوم شخص کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور ان کے نام سے قربانی کرنے سے انہیں ثواب پہنچے گا. امام ابوداؤد و ترمذی وغیرہما نے باضابطہ میت کی طرف سے قربانی کئے جانے کا باب قائم فرمایا یے اور اس کے تحت انہی احادیث سے استدلال فرمایا ہے. ائمہ متبوعین میں حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے۔ شافعیہ کے یہاں کراہت کے ساتھ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کے راوی شریک اور ابوالحسناء کے بارے میں بعض ائمہ جرح وتعدیل نے جو کلام کیا ہے اس سے کچھ لوگ، سادہ لوحوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا ضعیف روایت سے ثابت ہے؛ لہذا وہ ناقابل اعتبار ہے. اس سلسلہ میں یہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ علامہ ابن حجر نے ابوالحسناء کو مجہول، اور ذہبی نے  غیرمعروف کہا ہے؛ لہذا یہ حدیث ضعیف ہوگئی ۔الخ ..... تو اس کی حقیقیت یہ ہے کہ علامہ دولابی "الکنی" 151/1 میں فرماتے ہیں:
حدثنا العباس بن محمد عن یحی بن معین قال: ابوالحسناء: روی عنه شریك و الحسن بن صالح، كوفي.
فن اسماء الرجال سے اشتغال وآگاہی رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یحییٰ بن معین اس فن کے امام ہی نہیں؛ بلکہ امام الائمہ سمجھے جاتے ہیں، ان کے عہد میں اس فن کے متعدد ائمہ تھے، مثلاً امام احمد بن حنبل، ابن مدینی، سعید القطان، ابن مہدی وغیرہم؛ مگر ابن معین کو ان سب بزرگوں میں ایک خاص امتیاز حاصل تھا۔ راوی کی عقل وفہم، خداترسی، قوت فہم، حافظہ، مبلغ علم، قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کی جو تفصیلی خداداد صلاحیت ابن معین کو حاصل تھی وہ انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی تھی۔ فن اسماء الرجال کے اتنے بڑے امام یحی ابن معین نے ابوالحسناء پہ کوئی جرح نہیں فرمائی. اتنے بڑے امام الجرح والتعدیل کا سکوت فرمانا اورجرح نہ کرنا بجائے خود دلیل ہے کہ ابو الحسناء معروف اور ثقہ راوی ہیں. ابن معین کی تعدیل کے بعد اب ذھبی کا اس راوی کے بارے میں "لایُعرَف" کہنا غیرمقبول ہے۔ بھلا جس راوی سے دو دو ثقہ راوی (شریک اور حسن بن صالح) روایت  کریں کیا وہ مجہول رہ سکتا ہے؟ لہذا ابن حجر کا  انہیں مجہول کہنا بھی ناقابل احتجاج ہے۔ ابن معین کی اس تعدیل کے بعد علامہ ہیتمی کا  مجمع الزوائد میں "فیه ابو الحسناء ولا یعرف، روی عنه غیر شریک" ۔(23/4) کہنے کی  اصلیت بھی واضح ہوگئی. مجمع الزوائد میں ہے:
أمَرَني رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أنْ أُضَحِّيَ عنه بِكَبْشَيْنِ فَأَنَا أُحِبُّ أنْ أَفْعَلَهُ ، وقال المحَارِبِيُّ في حديثِهِ ضَحَّى عنه بكبشينِ واحدٍ عنِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم والآخرِ عنه فقيل له فقال إنه أمَرَني فلَا أدَعُهُ أَبَدًا (مجمع الزوائد: 26-4 فيه أبو الحسنا ولا يعرف روي عنه غير شريك)۔
لیکن اوپر کی سطروں میں ابن معین کے حوالے سے ثابت کردیا گیا کہ ابوالحسناء سے شریک کے علاوہ حسن بن صالح نے بھی روایت کی ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں.
امام ابوداؤد نے اس روایت پہ سکوت فرمایا ہے. حدیث کے علل مخفیہ کے اتنے بڑے امام جس روایت پہ سکوت فرمائیں وہ قابل حجت ہوتی ہے:
رأيت عليا يضحي بكبشين فقلت له ما هذا فقال إن رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه، عن علي بن أبي طالب، سنن أبي داؤد: 2790، سكت عنه [وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح]
حافظ عسقلانی نے بھی تخریج مشکوة میں اسے حسن کہا ہے:
إنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أوصاني أن أضحِّيَ عنهُ فأنا أضحِّي عنهُ، عن علي بن أبي طالب، تخريج مشكاة المصابيح: 2/129 [حسن كما قال في المقدمة]
مسند احمد میں یہی روایت صحیح سند کے ساتھ آئی ہے:
أمرَني رَسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أَن أُضحِّيَ عنهُ، فأَنا أضحِّي عنهُ أبدًا. (عن علي بن أبي طالب، أحمد شاكر - مسند أحمد: 2/152، إسناده صحيح)
امام حاکم نے بھی صحیح سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت نقل فرمائی ہے. حاکم کی تصحیح کے بعد بھی اب کچھ باقی رہ جاتا ہے کیا؟ سیدہ عائشہ، حضرت ابوہریرہ، جابر اور ابو رافع رضی اللہ عنہم اجمعین کی روایت سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کی تائید ہوتی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ (مسند أحمد: 25315)
پھر سوچنے کی بات ہے کہ جب میت کی طرف سے حج، صدقہ اور خیرات جیسی عبادات انجام دی جاسکتی ہیں تو قربانی کیوں نہیں؟ حدیث کے لفظ  "امرنی" غور طلب ہی  نہیں، بلکہ اس بابت بمنزلہ نص صریح کے ہے کہ "میت کی طرف سے قربانی جائز ہے۔" عدم جواز کی سوائے تاویلات کے کوئی صریح دلیل نہیں۔ علامہ شمس الحق عظیم آبادی شرح میں لکھتے ہیں: 
قال في غنية الألمعي: قول بعض أهل العلم الذي رخص في الأضحية عن الأموات مطابق للأدلة، وقول من منعها ليس فيه حجة فلا يقبل كلامه إلا بدليل أقوى منه ولا دليل عليه.
والثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يضحي عن أمته ممن شهد له بالتوحيد وشهد له بالبلاغ وعن نفسه وأهل بيته، ولا يخفى أن أمته صلى الله عليه وسلم ممن شهد له بالتوحيد وشهد له بالبلاغ كان كثير منهم موجودا زمن النبي صلى الله عليه وسلم ، وكثير منهم توفوا في عهده صلى الله عليه وسلم فالأموات والأحياء كلهم من أمته صلى الله عليه وسلم دخلوا في أضحية النبي صلى الله عليه وسلم. 
والكبش الواحد كما كان للأحياء من أمته كذلك للأموات من أمته صلى الله عليه وسلم بلا تفرقة . 
وهذا الحديث أخرجه الأئمة من حديث جماعات من الصحابة عائشة وجابر وأبي طلحة وأنس وأبي هريرة وأبي رافع وحذيفة عند مسلم والدارمي وأبي داود وابن ماجه وأحمد والحاكم وغيرهم. 
ولم ينقل عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الأضحية التي ضحى بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نفسه وأهل بيته وعن أمته الأحياء والأموات تصدق بجميعها أو تصدق بجزء معين بقدر حصة الأموات بل قال أبو رافع " إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان إذا ضحى اشترى كبشين سمينين أقرنين أملحين ، فإذا صلى وخطب الناس ، أتى بأحدهما وهو قائم في مصلاه فذبحه بنفسه بالمدية ثم يقول : اللهم هذا عن أمتي جميعا من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ ، ثم يؤتى بالآخر فيذبحه بنفسه ويقول هذا عن محمد وآل محمد فيطعمهما جميعا المساكين ويأكل هو وأهله منهما ، فمكثنا سنين ليس الرجل من بني هاشم يضحي قد كفاه الله المؤنة برسول الله صلى الله عليه وسلم والغرم رواه أحمد وكان دأبه صلى الله عليه وسلم دائما الأكل بنفسه وبأهله من لحوم الأضحية وتصدقها للمساكين وأمر أمته بذلك ولم يحفظ عنه خلافه). 
خلاصہ کلام یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  اپنی تمام امتی کی طرف سے قربانی کرنا جس میں آپ کی وفات یافتہ متعدد ازواج مطہرات کے علاوہ متعدد صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) بھی تھے۔ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس عمل کی  وصیت کرنا بتاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امتی کی طرف سے قربانی کرنا کتنا محبوب عمل ہے؟ ۔۔۔۔ اتنی کھلے اور بین ثبوتوں کے بعد اب کسی کا یہ کہنا کہ: "کیا حضور نے کبھی اپنی وفات یافتہ ازواج کی طرف سے قربانی فرمائی ہے؟؟؟" دریدہ دہنی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟؟؟؟ سند حدیث کے تعلق سے جو شبہات کے گرد اڑائے گئے تھے وہ کافور ہوگئے ۔۔۔۔اب ثابت یہ ہوا کہ صاحب استطاعت احباب ہرسال اپنی طرف سے بھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی، اہل بیت رسول  کی طرف سے بھی مستقل جانور یا کم ازکم ساتویں حصے میں شریک ہوکے ضرور قربانی کریں. یہ بہت بڑے اجر وثواب کا باعث ہے۔ یہاں مسئلہ بھی ضرور ملحوظ رہے کہ اگر میت نے اپنی طرف سے قربانی کی وصیت کررکھی ہو اور اس کے لئے ثلث مال چھوڑ گیا ہو تو میت کے ثلث مال سے کی جانے والی قربانی کا مکمل گوشت واجب التصدق ہے۔ اگر وصیت تو کی ہو لیکن مال نہ چھوڑا ہو یا رشتہ دار اپنے نام سے قربانی کرکے صرف ثواب میت کو پہنچانا چاہے تو آخر کی ان دونوں صورتوں میں گوشت خود بھی کھاسکتا ہے. عام گوشتوں کی طرح اس کا حکم ہوگا۔ اس ضمن میں یاد رکھے جانے کے قابل یہ بات بھی ہے کہ اپنے نام سے  قربانی کرکے متعدد اموات کو صرف ثواب  میں شریک کیا جاسکتا یے لیکن میت کی طرف سے ان کے نام سے مستقلاً قربانی کرنا چاہیں تو ایک میت کی طرف  سےایک چھوٹا جانور یا بڑے جانور میں ساتواں حصہ ضروری ہے. چھوٹے جانور یا ساتویں حصے میں قربانی کی نیت سے ایک سے زائد ناموں کی گنجائش نہیں ہے. خواہ ایک فیملی کے متعدد لوگ ہوں یا الگ الگ فیملی کے۔ ادائیِ سنت کے لئے ایک سے زیادہ کی شرکت جائز نہیں ہے. ہاں ثواب میں شرکت کے لئے تعدد کی گنجائش ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف سے کی جانے والی قربانی اسی قبیل سے تھی۔
عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (سنن إبن ماجة 3122) 
قوله: (موجوءين) تثنية موجوء اسم مفعول من وجأ مهموز اللام وروي بالإثبات للهمزة وقلبها ياء ، ثم قلب الواو ياء وإدغامها فيها كرمي، أي: منزوعتين قد نزع عرق الأنثيين منهما وذلك أسمن لهما (عن محمد وآل محمد) استدل به من يقول الشاة الواحدة تكفي لأهل البيت في أداء السنة ومن لا يقول به يحمل الحديث على الاشتراك في الثواب كيف وقد ضحى عن تمام الأمة بالشاة الواحدة وهي لا تكفي عن أهل البيوت المتعددة بالاتفاق، وفي الزوائد: في إسناده عبدالله بن محمد مختلف فيه. (حاشية السندي على إبن ماجة)
حضرات مالکیہ کا رجحان یہ ہے کہ ایک چھوٹے جانور میں ایک خانوادہ کے متعدد لوگوں کی شرکت ہوسکتی ہے جبکہ مختلف گھرانے کے لوگ ان کے یہاں بھی ایک چھوٹے جانور میں شریک نہیں ہوسکتے۔ ائمہ ثلاثہ کے یہاں کسی طرح سے بھی تعدد جائز نہیں ۔جواز کے قائلین یہ حدیث پیش تو فرمادیتے ہیں! لیکن انہیں اس پہ غور کرنے کی یا تو فرصت نہیں ملتی یا شاید غور وتدبر کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں! کہ حضور نے اپنی تمام کلمہ گو امتی کی طرف سے ایک دنبہ ذبح فرمایا. آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ساری امت ایک خاندان سے ہیں یا مختلف خاندان سے؟؟؟ مختلف خانوادے کے کے متعدد لوگوں کے لئے ایک بھیڑ تو آپ کے یہاں یہاں بھی جائز نہیں؛ تو پھر یہاں ایسا کیوں ہوا؟؟؟ اصل بات یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ قربانی ایصال ثواب کے لئے تھی نہ کہ ادائی سنت کے لئے! اور ایصال ثواب کے لئے ایک جانور میں متعدد لوگوں کی شرکت ہمارے یہاں بھی جائز ہے جیساکہ اوپر مذکور ہوا. 
واللہ اعلم بالصواب 
مركز البحوث الإسلامية العالمي
پیر 20 ذی قعدہ 1443 ہجری، 20 جون 2022 عیسوی
https://saagartimes.blogspot.com/2022/06/blog-post_21.html (S_A_Sagar#)