Tuesday 20 February 2024

ہم اپنے دماغ کو صحت مند اور تیز کیسے بناسکتے ہیں؟

ہم اپنے دماغ کو صحت مند اور تیز کیسے بناسکتے ہیں؟

مرکزی دارالحکومت دہلی سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بدلتی دنیا، مسلسل ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اس کے باعث ہماری روزمرہ کی زندگی میں تبدیلیاں۔ ہمارا دماغ ان تمام چیزوں کیلئے نہیں بنایا گیا تھا جو آج ہم کرتے ہیں۔ پھر بھی، ہم اس جدید دنیا کیساتھ اچھی طرح ڈھل چکے ہیں اور تبدیلیوں کے مطابق خود کو مسلسل بدل رہے ہیں۔یہ سب ہمارے دماغ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ دماغ ہمارے جسم کا ایسا عضو جو خود کو ڈھالنے، سکھانے اور تیار کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اس حیرت انگیز عضو کو صحت مند کیسے رکھ سکتے ہیں؟ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم دماغ کی صلاحی ت کو بڑھا سکتے ہیں اور اسے تیز کر سکتے ہیں؟ بی بی سی کی ملیسا ہوگن بام نے ایک نئی تحقیق کا مطالعہ کیا اور ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کیلئے کچھ ماہرین سے بات کی۔

انگلینڈ کی یونیورسٹی آف سرے میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسر تھورسٹین بارن ہوفر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم اپنے دماغ کی صلاحیتوں کو کئی طریقوں سے بڑھا سکتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ’کچھ ایسے عمل ہیں جو تناو کو کم کرتے ہیں اور صرف چند ہفتوں میں ’نیوروپلاسٹیسٹی‘ کو فروغ دیتے ہیں۔ نیوروپلاسٹیسٹی کو بڑھا کر، ڈیمنشیا جیسی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے اور یہاں تک کہ نفسیاتی صدمے کی وجہ سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔‘



مگر یہ نیوروپلاسٹیسیٹی کیا ہے؟

نیوروپلاسٹیسیٹی موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ہمارے دماغ کی خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے یا سادہ الفاظ میں ہمارے اعصابی نظام کی لچک۔لکھنو¿ میں ماہر نفسیات راجیش پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ نیورو پلاسٹیسیٹی دراصل ہمارے دماغ میں موجود نیورونز، جنھیں عصبی خلیے بھی کہا جاتا ہے، میں بننے اور تبدیل ہونے والے رابطے ہیں۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا دماغ ایک وائرنگ سسٹم جیسا ہے۔ دماغ میں اربوں نیوران ہوتے ہیں۔ ہمارے حسی اعضا جیسا کہ آنکھ، کان، ناک، منہ اور جلد بیرونی معلومات کو دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ ’یہ معلومات نیوران کے درمیان روابط بنا کر دماغ میں محفوظ کی جاتی ہیں۔‘

راجیش کہتے ہیں کہ ’جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو یہ نیوران بہت کم رابطوں میں ہوتے ہیں۔ اضطراری رابطے پہلے سے موجود ہیں، جیسا کہ بچے کا ہاتھ کسی گرم چیز کیساتھ لگنے سے اس کا اپنے ہاتھ کو فوراً سے اپنی جانب واپس کھینچنا وغیرہ۔ لیکن وہ زمین سے پکڑ کر کیڑا یا کوئی مضر رینگنے والا جانور اٹھا کر منہ میں ڈال سکتا ہے کیونکہ اس کے دماغ میں ایسے کنکشن نہیں ہوتے جو اسے یہ بتا سکیں کہ ایسا کرنا خطرناک ہے۔ مگر وقت کیساتھ بچہ سیکھتا رہتا ہے اور اس کے دماغ میں اعصابی رابطے بنتے رہتے ہیں۔‘راجیش پانڈے بتاتے ہیں کہ ’نئے تجربات کیساتھ یہ رابطے بھی بدل جاتے ہیں۔ اس پورے عمل کو نیوروپلاسٹیسٹی کہتے ہیں۔ یہ سیکھنے، تجربات تخلیق کرنے اور یادوں کو ذخیرہ کرنے کا پس پردہ عمل ہے۔‘

نیوروپلاسٹیسٹی کو کیسے بڑھایا جاسکتا ہے؟

پروفیسر تھورسٹن بارن ہوفر کا کہنا ہے کہ ’دماغ کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے دماغ میں تناؤ بڑھتا ہے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ بار بار ایک ہی چیز کی فکر کرنا نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے دماغ میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔یہ ہارمون دماغ کیلئے نقصان دہ ہے اور نیوروپلاسٹیسٹی کیلئے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ ذہن سازی ہے۔ذہن سازی کا سیدھا مطلب ہے اپنے ارد گرد کے ماحول، اپنے خیالات اور اپنے حسی اعضا (آنکھیں، کان، ناک، منہ، جلد) سے آگاہ ہونا۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ سوچے بغیر اس پر توجہ دیں کہ آپ اس وقت کیا محسوس کر رہے ہیں۔ماہر نفسیات راجیش پانڈے بتاتے ہیں کہ ’اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے، تو ذہن سازی کا مطلب یہ جاننا ہے کہ دماغ میں باہر سے ہمارے حسی اعضا کے ذریعے کیا معلومات آرہی ہیں اور دماغ کے اندر پہلے سے موجود معلومات کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔‘مراقبے کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’سادہ زبان میں، یہ آپ کے حسی اعضا پر توجہ مرکوز کرنے کا عمل ہے۔ آپ کی سانس لینے پر توجہ دینا یا محسوس کرنا کہ موسم گرم ہے یا ٹھنڈا۔اس سے اعصابی رابطے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اگر کوئی شخص دن میں صرف 15 منٹ تک ان حسی اعضا پر توجہ دے تو اس کا چلنا، بولنا، ہنسنا، مسکرانا، سب کچھ بدل جائے گا۔‘

حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیوروپلاسٹیسٹی کے عمل کے دوران دماغ کی ساخت بھی بدل جاتی ہے۔اس کو جانچنے کیلئے، بی بی سی کی میلیسا ہوگن بوم نے ایک بار اپنے دماغ کا سکین کروایا، چھ ہفتوں تک مراقبہ کیا اور پھر دوبارہ سکین کروایا۔پچھلے اور نئے سکین کا موازنہ کرنے کے بعد، پروفیسر بارن ہوفر نے کہا کہ چھ ہفتوں میں میلیسا کے دماغ میں نیوروپلاسٹیسٹی میں اضافہ ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’دماغ کے دائیں حصے کا سائز کم ہو گیا ہے۔ یہ تناو میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں بڑھتا ہے جن کو پریشانی اور تناو ہوتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ ذہن سازی کی تربیت نے اس کا سائز کم کیا۔ دماغ کے پچھلے حصے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ’اس کا مطلب ہے کہ ذہن میں خلفشار میں کمی آئی ہے۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دماغ میں نیوروپلاسٹیسٹی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اٹلی کے ’سینٹرو نیورولیسی‘ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینجلو کواٹرون کے مطابق اگر روزانہ 30 منٹ اور ہفتے میں چار سے پانچ دن ورزش کی جائے تو اس کے دماغ پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یونیورسٹی آف سیکسکس میں تقابلی ادراک کے پروفیسر گیلین فورسٹر نے کہا کہ دماغ میں ہونے والی سرگرمیاں اور تبدیلیاں جسمانی حرکات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ اگر کسی کو بولنے میں دقت ہوتی ہے تو بولتے وقت ہاتھ کے اشارے سے مدد لے سکتا ہے۔ دراصل ہمارے دماغ کا وہ حصہ جو بولنے میں مدد کرتا ہے اس حصے سے جڑا ہوا ہے، جیسا کہ ہاتھ، ٹانگوں یا بازووں کی مدد سے کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ شاید یہ اس لیے ہوا کیونکہ زبان کی ابتدا اشاروں سے ہوتی ہے۔‘

یونیورسٹی آف لندن کے اسکول آف سائیکالوجی میں ڈاکٹر اوری اوسمی کا کہنا ہے کہ مراقبہ کے علاوہ جسمانی ورزش بھی تناؤ کو کم کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا دماغ ہر وقت خود کو بدلتا رہتا ہے۔ لیکن یہ عمل بچوں میں تیزی سے ہوتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بچے اپنے بازووں اور ٹانگوں کو نارمل سطح پر حرکت دیتے ہیں وہ بعد میں اچھی طرح بول سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ایسا نہیں کرتے، ان میں سے کچھ کو بعد میں بولنے یا سماجی رویوں میں دشواری ہوسکتی ہے۔‘ ماہر نفسیات راجیش پانڈے بتلاتے ہیں کہ صرف ورزش ہی نہیں بلکہ کوئی بھی نیا کام کرنا جیسے موسیقی یا زبان سیکھنا نیورو پلاسٹیسٹی کو بڑھا سکتا ہے کیونکہ جب ہم کچھ نیا دیکھتے، سیکھتے یا سوچتے ہیں تو دماغ میں نئے اعصابی رابطے بنتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’انسانی دماغ زندگی بھر کے اعصابی رابطے بنا سکتا ہے۔ آپ 80 سال کی عمر میں بھی نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ کسی نئی جگہ جانے، روٹین کو توڑ کر کچھ نیا کرنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ ہمیں بس اسے نئے تجربات دیتے رہنا ہے۔‘

دماغی نقصان کا علاج:

اٹلی کے ’سینٹرو نیورولیسی‘ انسٹیٹیوٹ میں اعصابی مسائل میں مبتلا مریضوں کا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے علاج کیا جاتا ہے۔اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر اینجل کواٹرون کا کہنا ہے کہ جو لوگ چل نہیں سکتے، ان کیلئے خصوصی گیمز بنائی گئی ہیں۔ یہ ان کے دماغ کو سگنل بھیجتی رہتی ہیں اور اس سے پلاسٹیسیٹی بڑھ جاتی ہے اور دماغ ان رابطوں کو دوبارہ بنانے کے قابل ہوتا ہے جو کسی حادثے یا فالج کی وجہ سے ٹوٹ گئے ہیں۔ اسے ’ری وائرنگ‘ کہتے ہیں۔

مستقبل میں سیکھنے کا عمل آسان ہوجائے گا:

اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ بچوں میں نیوروپلاسٹیسٹی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اب پوری دنیا میں اس کا استعمال دماغ کو فعال رکھنے اور اس سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کیلئے بالغوں میں کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج میں تجرباتی نفسیات کے پروفیسر زوئے کورٹیزی کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے دماغ میں سیکھنے کی اپنی تال بھی ہوتی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کی سائنس صحافی میلیسا ہوگن بوم کو بتلایا کہ ’ہر انسان کا دماغ اپنی تال میں کام کرتا ہے۔ اگر اس شخص کو اس کے دماغ کی تال کے مطابق معلومات دی جائیں تو وہ تیزی سے سیکھ سکتا ہے۔‘کیمبرج یونیورسٹی میں کیے گئے ایک تجربے میں لوگوں کو حل کرنے کیلئے کچھ سوالات دیے گئے۔ پھر اس کے دماغ کی برقی سرگرمی کی پیمائش کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اس کا دماغ کس تال میں کام کررہا ہے۔ پھر جب اس تال کے مطابق سوالات دیے گئے تو وہ انھیں بہتر طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں لوگوں کو ان کے دماغ کی تال کے مطابق بہتر طریقے سے سکھایا جاسکتا ہے، ان کی نیوروپلاسٹیٹی کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ ( #ایس_اے_ساگر )

https://saagartimes.blogspot.com/2024/02/blog-post_20.html




Sunday 18 February 2024

بچوں کے پیٹ میں درد کا سبب بننے والے کیڑوں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

 بچوں کے پیٹ میں درد کا سبب بننے والے کیڑوں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

بچوں کی آنتوں یا پیٹ میں کیڑوں کی تشخیص ہونا کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کے بارے میں س±ن کر کوئی حیران ہو کر کہے کہ کیا کہا پیٹ میں کیڑے؟د±نیا کے بہت سے م±مالک میں بچوں میں اور کبھی کبھار بڑوں کے بھی پیٹ میں کیڑوں کی تشخیص ہو جاتی ہے اور برصغیر ہند،پاک، بنگلہ دیش اور افغانستان میں تو یہ معاملہ بہت ہی عام سے بات ہے۔تاہم یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کیڑے یا انفیکشن ہمارے کھانے، پانی یا دیگر ذرائع سے ہو سکتے ہیں۔ اس کی اہم علامات پاخانہ میں لمبے لمبے کیڑوں کی موجودگی یا پیٹ میں درد اور مقعد کے قریب خارش ہوتی ہیں۔ ان علامات کے سامنے آنے کے بعد مزید تشخیص کی جاتی ہے۔پیٹ میں پائے جانے والے ایسے کیڑے معدے کے کیڑے بھی کہلاتے ہیں۔ اس کی کئی قسمیں ہیں جیسے گول کیڑے، فلیٹ یا چپٹے کیڑے، یا انگریزی میں انھیں ٹیپ ورم بھی کہا جاتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کیڑے کی مختلف خصوصیات ہیں۔ ان کا لائف سائیکل اور ہماری صحت پر اثرات بھی مختلف ہیں۔گول، چابک، ہک، اینسائیلوسٹوما نامی کیڑوں کی اقسام وہ ہیں کہ جو مٹی کیساتھ کھیلنے یا کام کاج کے دوران ہونے والے رابطے کی وجہ سے ہمارے پیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔

آپ کا یا بچوں کا ان سے آمنا سامنا کیسے ہوتا ہے؟

کیڑوں کی پیٹ میں موجودگی یا یہ انفیکشن اکثر اس صورت میں ہوسکتا ہے جب کوئی فرد یا بچہ کسی ایسی چیز کو ہاتھ لگا لے کہ جس پر کیڑے کے انڈے ہوں، اور اگر آپ اس کے بعد اپنے ہاتھ نہیں دھوتے تو بس جناب وہی ہوتا ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں یعنی ہاتھ نا دھونے کی وجہ سے وہ انڈے آپ کے پیٹ میں داخل ہو جاتے ہیں۔انفیکشن یا کیڑوں کے انڈوں پر مشتمل مٹی کیساتھ رابطے کی وجہ سے ہوسکتا ہے، یا کیڑوں کے انڈوں پر مشتمل کھانا کھانے یا پینے کا پانی پینے سے ہوسکتا ہے۔انفیکشن ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں سیوریج کا نظام مناسب نہیں ہے اور اگر بیت الخلا صاف نہیں ہیں تو بھی۔ کچا گوشت کھانے کیساتھ ساتھ کیڑوں کے انفیکشن والی مچھلی کھانے سے تکلیف ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات پالتو جانور بھی اس انفیکشن یا پیٹ میں کیڑوں کا سبب بن سکتے ہیں۔بہت سے بچے دھاگے کی طرح کے نظر آنے والے کیڑوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان لمبی رسی نما کیڑوں کے انڈے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ ان کیڑوں کے انڈے پیٹ کے نیچلے حصے میں ر±ک جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے خارش ہوتی ہے۔یہ انڈے کپڑوں، کھلونوں، ٹوتھ برش، باورچی خانے یا باتھ روم کے فرش، بستر، کھانے، کسی بھی چیز میں پھیل سکتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ وہاں سے انسانی جسم میں بھی داخل ہوتے ہیں۔جو لوگ ان اشیاءیا سطحوں کو چھوتے ہیں اور پھر اسی ہاتھ کو منہ پر لگاتے ہیں وہ جراثیم سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ دھاگے نما کیڑوں کے انڈے دو ہفتے تک اکثر مقامات پر زندہ رہتے ہیں۔

جب انڈے معدے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ آپ کے معدے میں لاروا خارج کرتے ہیں اور ایک یا دو ماہ میں بڑے کیڑے بن جاتے ہیں۔ایک بار علاج ہونے کے بعد، بچے اس طرح کے انڈوں کے سامنے آنے کے بعد دوبارہ انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں، لہذا بچوں کو باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی عادت ڈالنی چاہئے۔

ان دھاگے کے طرح کے کیڑوں کو ہونے سے روکنے کیلئے ہر کسی کو اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا چاہئے، اپنے ناخن کاٹنے چاہئیں۔

کھانے سے پہلے، بیت الخلا جانے کے بعد، اور بچے کے نیپی یا پیمپر کو تبدیل کرنے کے بعد ہاتھ دھونا ضروری ہے۔

بچوں کو باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ آپ کو ہر روز صاف پانی سے غسل کرنا چاہئے۔

دانتوں کو برش کرنے سے پہلے اور بعد میں برش کو اچھی طرح دھونا چاہئے۔

بستر کی چادریں، تولئے گرم پانی میں دھونے چاہئیں اور سٹف کھلونوں کو صاف رکھنا چاہئے۔

باورچی خانہ اور باتھ روم کو صاف رکھیں۔

اب آئیے ایک مرتبہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کیڑوں سے خود کو کیسے بچایا جائے۔

برطانیہ کی ہیلتھ کیئر این ایچ ایس اس بارے میں کچھ تجاویز پیش کرتی ہے۔

اس کے مطابق آپ کو کسی بھی کھانے کی چیز کو کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہئے۔ ہاتھوں کو مٹی کو چھونے کے بعد اور ٹائلٹ کے استعمال کے بعد اچھے سے دھونا چاہئے۔ جب آپ کسی ایسے علاقے میں جائیں جہاں آپ کو شک ہو کہ پانی گدلہ یا گندہ ہو سکتا ہے تو بند پانی کی بوتل سے پانی کا استعمال کریں۔

تمام سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو لیں، اپنے گھر میں اپنے پالتو جانوروں کو جراثیم ک±ش ادویات وقت پر دیں، اور جتنی جلدی ممکن ہو ان کا فضلہ گھر سے نکال دیں۔

بچوں کو کتے اور بلی کے فضلے کے قریب جانے اور ان جگہوں پر کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، اور ایسی جگہ کے پھلوں اور سبزیوں سے گریز کرنا چاہئے جہاں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو۔

ان علاقوں میں ننگے پاوں نہ چلیں جہاں انفیکشن کے امکانات زیادہ ہوں۔

آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کے پیٹ میں کیڑا ہے؟

جب پیٹ میں کیڑے پیدا ہوتے ہیں تو کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

بچوں یا بالغوں میں، پیٹ میں درد، متلی، یا بے آرامی محسوس کرنا، قے محسوس کرنا۔

بہت سے لوگوں کو اسہال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم ک±چھ کو قبض بھی ہو جاتی ہے۔

مریض کو بھوک کیساتھ ساتھ وزن میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کیڑوں سے متاثرہ مریض کمزور ہونے کیساتھ ساتھ تھکاوٹ بھی محسوس کرتے ہیں۔

مقعد میں خارش، نیند کی کمی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ بالغوں میں پیٹ میں یو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہوا سے بھرا ہوا ہے اور بعض مریضوں میں خون کی کمی بھی ہوتی ہے۔



کیڑوں کا خاتمہ کیوں ضروری ہے اور یہ کیسے کیا جائے؟

آپ کے جسم میں مختلف قسم کے کیڑے صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس سے مختلف قسم کے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

اس سے خون کی کمی ہوسکتی ہے اور چھوٹے بچوں کی نشوونما متاثر ہوسکتی ہے۔ غذائی قلت کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور آپ کے اعضاءکو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس کیلئے عالمی ادارہ صحت نے باقاعدہ جراثیم کے خاتمے کا حل تجویز کیا ہے۔

مدھوسودن ملٹی سپیشلسٹ ہاسپٹل، ڈومبیولی کے ڈائریکٹر آف ہیلتھ ڈاکٹر روہت کاکو پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں، ایک سے چار سال کی عمر کے بچوں اور پانچ سے 12سال کی عمر کے بچوں کو سال میں ایک بار یا سال میں دو بار حفاظتی دوا دی جاتی ہے تاکہ مٹی سے پیدا ہونے والے کیڑوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ دوا کی خوراک عمر اور ضرورت کے مطابق کم کردی جاتی ہے۔‘

کیڑوں کو کیسے ختم کیا جائے؟

ڈاکٹر روہت کاکو کا کہنا ہے کہ ’کیڑوں کی وجہ سے ہونے والی کئی بیماریاں بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو بھی متاثر کرتی ہیں، اس لئے یہ دوائیں سال میں دو بار یعنی ہر چھ ماہ میں ڈاکٹر کے مشورے سے لینی چاہییں۔ یہ عمل دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کیساتھ شروع کیا جا سکتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اس عمل کے کرنے سے پیٹ میں پیدا ہونے والے کیڑے باہر نکل جاتے ہیں۔ جن علاقوں میں کیڑے مٹی سے گزر کر بڑی تعداد میں بچوں کے جسم میں داخل ہوتے ہیں وہاں عالمی ادارہ صحت نے ایک مخصوص مدت کے بعد جراثیم کے خاتمے کیلئے ایک پروگرام تجویز کیا ہے۔‘ ( #ایس_اے_ساگر )



Wednesday 14 February 2024

دیوارِ چین کے بارے میں وہ 5 مفروضے جو بالکل غلط ہیں

 دیوارِچین کے بارے میں وہ 5 مفروضے جو بالکل غلط ہیں

ہندستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں دیوارِ چین کا وجود تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ قدیم چین میں تعمیر جانے والی ان دیواروں اور قلعوں میں سے ایک ہے جسے تقریباً 500 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔اس کی لمبائی کے اندازے تقریباً 2400 کلومیٹر سے 8000 کلومیٹر کے درمیان لگائے جاتے رہے ہیں مگر سنہ 2012 میں چین کی وزارت برائے ثقافتی ورثہ نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا کہ دیوارِ چین کی کل لمبائی تقریباً 21 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ دیوار دنیا بھر میں اتنی مقبول ہے کہ ہر کوئی اس کے متعلق جانتا ہے مگر اس کے بارے میں بہت سے مفروضے اور غلط معلومات بھی موجود ہیں۔ ذیل میں ’دی گریٹ وال آف چائنا‘ کے مصنف جان مین کی مدد سے اس شاندار فن تعمیر کے متعلق پانچ مفروضوں کے متعلق وضاحت پیش کی گئی ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

1۔ یہ چاند سے دیکھی جاسکتی ہے:

امریکی خاکہ نویس رابرٹ رپلے نے سب سے پہلے اس مفروضے کو عام کیا تھا کہ دیوارِ چین چاند سے بھی نظر آتی ہے۔ اپنی ایک فلم ’بیلیو اٹ اور ناٹ!‘ میں انھوں نے دیوار چین کو ’انسان کا سب سے طاقتور کام‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اسے چاند سے بھی انسانی آنکھ کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔یقیناً یہ دعویٰ ٹھوس شواہد پر مبنی نہیں تھا کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے چاند پر جانے سے 30 برس قبل کیا گیا تھا۔یہاں تک کہ تاریخ و ثقافت پر نامور چینی ماہر اور ’سائنس اینڈ سولائزیشن اِن چائنا‘ کے مصنف جوزف نیدھم نے کہا کہ ’دیوار چین انسان کی وہ واحد تعمیر ہے جسے مریخ کے ماہرین فلکیات بھی دریافت کرسکتے ہیں۔‘ البتہ ان کے اس دعوے کو خلا بازوں نے مسترد کر دیا تھا مگر پھر بھی چاند سے دیوار چین نظر آنے والی بات کو ایک حقیقت ہی مانا گیا۔ مگرسال 2003 کے دوران چین کی پہلی خلائی پرواز کے دوران خلا باز یانگ لیوائی نے اس مفروضےکو ہمیشہ کیلئے دفن کرتے ہوئے کہا کہ انھیں خلا سے زمین پر کچھ دکھائی نہیں دیا تھا۔

2۔ یہ ایک ہی دیوار ہے:

ایک مفروضہ یہ ہے کہ یہ ایک ہی طویل دیوار ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے بہت سے حصے ہیں۔ اور ان میں سے بہت کم اس شاندار تخلیق سے مشابہت رکھتے ہیں جس کا سیاح دورہ کرتے ہیں۔اس کے وہ حصے جن کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی گئی ہے ان حصوں سے جا ملتے ہیں جو جنگلوں اور بیابانوں سے گزرتا ہے اور جہاں پیدل چلنے والوں کو جانے کی ممانعت ہے۔ یہاں جھاڑیاں بھی ہیں اور کھنڈرات بھی، اور یہ حصے آبی ذخائر سے جا ملتے ہیں۔ بہت سے حصوں پر یہ دیوار دہری، تہری حتیٰ کہ چار تہوں میں بنی ہوئی ہے اور یہ حصے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔دیوار چین کا جو حصہ آپ بیجنگ کے اِرد گرد دیکھتے ہیں وہاں آثار قدیمہ کی نشانیاں ہیں جن میں سے کچھ اسی دیوار کے بالکل نیچے موجود ہیں۔اور یہ منقسم حصے دیگر مٹی سے بنی دیواروں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں، جو مغربی چین کی طرف متوازی اور بکھرے ہوئے حصوں میں بنی ہیں۔

3۔ یہ منگولوں کو چین سے دور رکھنے کیلئے تعمیر کی گئی:

دیوار چین کی تعمیر کا سب سے پہلے حکم چین کے اس بادشاہ نے دیا تھا جن کی وفات تقریباً 210 قبل از مسیح میں ہوئی تھی: یعنی منگولوں کے منظرعام پر آنے سے قبل، کیونکہ منگول قریباً 800 عیسوی کے قریب آئے تھے۔پھر چین کو خطرہ ڑینگووں سے ہو گا جو ممکنہ طور پر ہنووں کے آباواجداد تھے۔منگولوں کے ساتھ جنگ 14ویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی تھی جب بادشاہ مِنگ نے منگولوں کو چین سے نکال دیا تھا۔

4۔ دیوار چین میں مزدوروں کی لاشیں دفن ہیں:

دیوارچین کے متعلق کئی ایسی افواہیں گردش کرتی ہیں کہ دیوار چین میں اسے تعمیر کرنے والے مزدوروں کی لاشیں دفن ہیں۔ان کہانیوں نے غالباً ہان بادشاہت کے دور کے ایک اہم مورخ سیما کیان سے جنم لیا ہے جنھوں نے اپنے ہی شہنشاہ کو اپنے پیشرو سلطنت قن کی توہین کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔تاہم اس دیوار سے کبھی کوئی انسانی ڈھانچے یا ہڈیاں برآمد نہیں ہوئیں اور نہ ہی اس کے کوئی شواہد ملے ہیں۔ اور نo ہی ان افواہوں کا آثار قدیمہ یا پرانی یادداشتوں میں کوئی ذکر ملتا ہے۔

5۔ مارکوپولو نے اسے دیکھا تھا:

یہ سچ ہے کہ مارکو پولو نے کبھی دیوار چین کا ذکر نہیں کیا، اور دیوار چین کا تذکرہ صرف ایک دلیل کے طور پر استعمال کیا کہ وہ کبھی چین نہیں گیا تھا۔اس وقت (13 ویں صدی کے آخر میں) تمام چین پر منگولوں کی حکومت تھی، اس لیے دیوار بے کار ہو چکی ہو گی کیونکہ حملہ آوروں نے 50 سال پہلے چنگیز خان کے دور میں شمالی چین کو تباہ کر دیا تھا۔منگول جنھوں نے جنگ کے دوران دیوار چین کو نظر انداز کیا تھا، انھیں امن کے دور میں اس کا ذکر کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔مارکوپولو نے یقیناً اسے بیجنگ سے شانگڈو میں قبلائی خان کے محل جانے کے دوران متعدد مرتبہ عبور کیا ہو گا لیکن ان کے پاس اس کی جانب توجہ مرکوز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔
https://saagartimes.blogspot.com/2024/02/5.html


Tuesday 13 February 2024

اتراکھنڈ والے یوسی سی پر ایک سرسری نظر

اتراکھنڈ والے یوسی سی پر ایک سرسری نظر
(بقلم: محمود احمد خاں دریابادی)
اتراکھنڈ میں اینٹی مسلم کوڈ بل جس کو یونیفارم سول کوڈ (یوسی سی) بل کہتے ہیں پاس ہوگیا، کہنے کو تو اسے یکساں کہا جارہا ہے، مگر کچھ لوگ خاص کر قبائلیوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ( بھاجپا کے عقلمندوں کی یکسانیت ایسی ہی ہوتی ہے). حالانکہ ایک ملک ایک قانون کی دہائی ہمیشہ دی جاتی رہی ہے، اس کے باوجود شادی میں الگ الگ طبقات کے رسوم و رواج (پرسنل لا) کا لحاظ رکھا گیا ہے، مثلا شمالی ہند میں ماما بھانجی کی شادی نہیں ہوسکتی، مگر جنوب میں ایسی شادیوں کو بہت مبارک سمجھا جاتا ہے، اسی طرح کہیں سات پھیرے، کہیں ورمالا وغیرہ کے ذریعے شادی کا بندھن قائم ہوتا ہے.  اتراکھنڈ والے یکساں سول کوڈ میں ایسے رسوم رواج کو یکساں نہیں کیا گیا، یعنی جہاں جس طرح شادیاں ہوتی ہیں اُسی طرح ہوتی رہیں گیاـ (پھر بھی اس بل کو یکساں سول کوڈ ہی کہا جارہا ہے، ہے نا تعجب کی بات؟) وہ تو خیر ہوئی کہ ہندوؤں میں الگ الگ علاقوں کی یہ الگ الگ رسمیں ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو شاید طلاق کی طرح مسلم نکاح کی رسم کو بھی ختًم کردیا جاتا، اس قانون کی ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ ہندو ہو یا مسلمان سب کے لئے شادی کا رجسٹریشن ضروری ہے ورنہ بھاری جرمانہ لگے گا، زبانی طلاق سسٹم ختم کردیا گیا ہے، ایک طلاق ہو یا تین عدالت کے ذریعئے ہی نافذ ہوگی ـ یاد کیجئے جن دنوں تین طلاق ختم کرنے کا قانون زیربحث تھا اس وقت کچھ لوگ فقہی مباحث کا سہارا لے کر تین طلاق ختم کرنے پر خوشی کا اظہار کررہے تھے، تب بھی ہم نے کہا تھا کہ زیادہ خوشی کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں حکومت کا ارادہ صرف تین طلاق ختم کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہم سے طلاق کا حق ہی چھیننا چاہتی ہے چنانچہ اتراکھنڈ میں یہ حق چھین لیا گیا، جلد ہی دوسری ریاستوں میں بھی چھیننے کی تیاری کی جارہی ہے ـ جب کہ یہ اور اس بل میں درج دیگر دفعات بھی قران وحدیث کے صریح خلاف ہیں ـ قران حدیث ہمارے مذہب کی بنیاد ہیں، دستور ہند کی دفعہ ۲۵ ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی گارنٹی دیتی ہے ـ (مگر بھاجپا حکومت میں دستور وستور کی کوئی حیثیت نہیں رہی مودی جی جو فرمادیں بس وہی دستور ہے)
اس قانون کے نفاذ کے بعد شاید شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 جس کے تحت مسلمانوں کو اپنے پرسنل لا پر عمل کی اجازت ملی ہے کالعدم ہوجائے، مگر کیا ہندو کوڈ بل اور ہندو غیرمنقسم خاندان کو ملنی والی رعایتیں بھی ختم ہوں گی؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا یکسانیت اسی کا نام ہے کہ ایک طبقے کے غیر منقسم خاندان کورعایتیں دی جائیں اور دوسرا طبقہ (مسلم) اس سے محروم رہے؟
اس قانون میں حلالہ اور عدت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، اب بھاجپا کے مسلم دشمنی میں اندھے عقلمندوں کو کون سمجھائے کہ جب آپ نے تین طلاق پر پابندی عائد کردی تو اب کاہے کا حلالہ؟ ایک طرف تو اس قانون میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر (مسلم غیرمسلم) عورت کو طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی اجازت ہوگی ـ اب پتہ نہیں بھاجپائیوں کے پاس کون سا پیمانہ ہوگا جس سے یہ پتہ چلے گا کہ طلاق کے بعد عورت نے شادی کی ہے یا حلالہ! (ہمیں لگتا ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا ایک حربہ ہوسکتا ہے کہ ہر مطلقہ کے دوسرے نکاح کے بعد پولیس اُس کے گھر پہونچ جائے کہ بتاو تم نے نکاح کیا ہے یا حلالہ؟ تھانے لے جاکر لاک اپ میں بند کرکے میاں بیوی دونوں کی "پولیسیا" تواضع کی جائےـ) اب رہا عدت کا معاملہ! ہماری سمجھ شریف میں یہ نہیں آتا کہ عدت ختم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا حکومت ہر مطلقہ عورت کو اس بات کا پابند کرے گی کہ طلاق کے دوسرے دن ہی نکاح ثانی کرلے تاکہ عدت کے نام پر ایک دن کاوقفہ بھی نہ ہوپائے ـ ان عقل مندوں کا شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ عدت دو قسم کی ہوتی ہے، عدتِ طلاق اور عدتِ وفات!  چونکہ یہ قانون مسلم غیرمسلم دونوں کے لئے بنا ہے تو کیا حکومت کسی ہندو ودھوا کو اس پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسرے ہی ہفتے میں کسی دوسرے شخص کے گلے میں ورمالا ڈال کراس کی بیوی بن جائے؟ 
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وراثت کی تقسیم میں لڑکی اور لڑکے کا حق برابر ہوگا، اس پر تو ہندو بھائیوں کو بھی اعتراض ہوسکتا ہے اُن کے یہاں آبائی جائیداد خاص طور پر کاشت کی زمین میں لڑکیوں کا حق نہیں ہوتا، سب جانتے ہیں کہ اسلام میں لڑکیوں کا حق لڑکے کے مقابلے میں نصف ہوتا ہے، (اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)  مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں لڑکی کو  یا کسی دوسرے وارث کو وصیت وغیرہ کے ذریعئے وراثت سے محروم نہیں کیا جاسکتا، مگر اس قانون میں مورث کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو وصیت کے ذریعئے کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی وراثت سے جزوی یا کلی طور محروم کردے، بلکہ مرنے والا اگر چاہے تو اپنی ساری اولادوں کو اپنی وراثت سے محروم کرکے کسی غیر آدمی کو بھی دے سکتا ہے ـ ایسے میں کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ لڑکے اپنے بوڑھے باپ پر  دباو بناکر لڑکیوں کو باپ کی وراثت سے محروم کرادیں، یا کوئی ایک دبنگ لڑکا یا لڑکی باپ پر پریشر بناکر ساری جائداد اپنے نام کرلے ـ (واضح رہے کہ مجوزہ قانون کی اس کمزوری کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں ہوں گے بلکہ ہندو ودیگر لوگ بھی ہوسکتے ہیں)
اس قانون کی ایک دفعہ ایسی بھی ہے جس میں عورت مرد کا بغیر شادی کے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا یعنی لیوان ریلیشن شپ والوں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ تیس دن کے اندر رجسٹرار کے یہاں اپنا رجسٹریشن کروائیں ـ  مطلب یہ کہ ایک عورت مرد انتیس دن تک بلا کسی روک ٹوک کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،اس دوران اگر پولیس وغیرہ پوچھے تو بتاسکتے ہیں کہ ابھی ہمارے تیس دن پورے نہیں ہوئے ـ تیس دن پورے ہونے سے پہلے اگر لڑکا لڑکی چاہیں تو تعلق ختم کرکے کسی دوسرے کے ساتھ جوڑی بناسکتے ہیں ـ گویا ایک دو دن، ہفتے دو ہفتے سے لے کر انتیس دن تک جتنی چاہے جوڑیاں بدلئے قانون اس کی اجازت دیتا ہے ـ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح حکومت شادیوں کو مشکل بناکر بغیر شادی کے جنسی تعلقات قائم رکھنے کی ترغیب نہیں دے رہی ہے؟  کیا اس سے فحاشی اور جسم فروشی کی لعنت میں اضافہ نہیں ہوگا ـ (یہ مسئلہ بھی صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندستانی کلچر جس میں ستی ساوتری کی بڑی اہمیت ہے پر یقین رکھنے والوں کو بھی غور کرنا چاہئےـ ) 
اسی قانون میں لیوان ریلیشن شپ میں پیدا ہونے والی اولاد کو بھی حقیقی اولاد کی طرح کے حقوق دئے گئے ہیں، یعنی اس کو بھی وراثت میں برابر کا حق دیا گیا ہے ـ (ہندؤں کو اس پر بھی سرکار سے احتجاج کرنا چاہئے، اُن کے یہاں بھی ناجائز اولاد کو کچھ نہیں ملتا)
ہمارے قانون دانوں کو بنظر غائراس بل کا مکمل جائزہ لینا چاہئے، ہم قانون کے جانکار نہیں ہیں تاہم اس بل کا سرسری مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس بل کا اصل مقصد تو مسلمانوں اور مسلم پرسنل لا کو نشانہ بنانا تھا مگر شاید جلدبازی میں یہ دو دھاری تلوار ہندؤں اور دیگر طبقات پر بھی چل گئی ہے ـ
محمود احمد خاں دریابادی 
11 فروری 2024 شب ایک بجے ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2024/02/blog-post_24.html

چہرہ دیکھ کر مرض کا پتہ لگا لینے والے حکیم اجمل خان

  چہرہ دیکھ کر مرض کا پتہ لگا لینے والے حکیم اجمل خان

آج جب کوئی شخص ہندستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے قلب ’کناٹ پلیس‘ سے پنچکویاں روڈ کی طرف بڑھتا ہے تو ’آر کے آشرم میٹرو‘ سے تھوڑے فاصلے پر ایک خستہ حال سفید دروازہ ہے جس کے باہر ہمہ وقت بہت گہما گہمی نظر آتی ہے۔آپ پھاٹک عبور کر کے بستی حسن رسول میں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گھروں کیساتھ بہت سی قبریں نظر آتی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ قبرستان ہے یا بستی۔ لوگ قبروں کے گرد خوش گپیاں کرتے پائے جاتے ہیں۔ گاہے گاہے گھروں سے ڈھول باجے اور موسیقی کی مشق کرنے والے کچھ لوگوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔اسی عالم میں آپ ایک معمر شخص سے حکیم اجمل خان کی قبر کے بارے میں پوچھ لیتے ہیں تو رمضان نامی وہ شریف آدمی آپ کو اشارے سے وہاں جانے کی راہ بتا دیتا ہے۔اب آپ اس قد آور شخصیت کی انتہائی معمولی نظر آنے والی قبر کے پاس کھڑے ہیں جو کبھی ہندوستان کی اہم سیاسی جماعتوں کانگریس، مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کے صدر ہوا کرتے تھے۔وہ یونانی حکمت کے ایک اعلیٰ طبیب تھے جو روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے اور اسی نسبت سے کچھ لوگوں نے انھیں ’مسیح الہند‘ بھی کہا ہے۔حکیم اجمل خان کی قبر کے سامنے ایک ادھیڑ عمر کی عورت بیٹھی ہیں جن کا نام فوزیہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ حکیم صاحب کی قبر کی دیکھ بھال کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں ہم قرآن خوانی کرتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔‘حکیم صاحب کی قبر پر چند سوکھے گلابوں کیا پتیاں اور پھول بکھرے پڑے ہیں۔فوزیہ کہتی ہیں کہ ’کوئی مشہور شخص یا حکیم صاحب کے خاندان کا کوئی فرد فاتحہ کیلئے قبر پر نہیں آتا۔‘تاہم اس الزام کو حکیم صاحب کے پڑپوتے اور سپریم کورٹ کے وکیل منیب احمد خان نے مسترد کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں: ’میں حکیم صاحب کے یوم پیدائش (11 فروری) پر اپنے بھائی اور خاندان کے افراد کیساتھ قبر پر ضرور آتا ہوں۔ یہ کمپاو¿نڈ ہمارے خاندان کا تھا۔ ہمارے بزرگ یہاں دفن ہیں لیکن اب اس پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‘ان کا اشارہ اس عورت کی طرف تھا جو حکیم صاحب کی قبر کی حفاظت کا دعویٰ کر رہی تھی۔

جب گاندھی جی حکیم صاحب سے ملے:

منیب احمد خان دہلی کے مشہور لال کوان میں شریف منزل نام کی اسی حویلی میں رہتے ہیں جو حکیم صاحب کا گھر ہوا کرتا تھا۔ گاندھی جی اور کستوربا گاندھی 13 اپریل 1915 کو ا±ن کی اسی رہائش گاہ پر حکیم صاحب سے ملنے آئے تھے۔ گاندھی جی پہلی بار 12 اپریل 1915 کو دہلی آئے اور کشمیری گیٹ پر واقع سینٹ ا سٹیفن کالج میں ٹھہرے۔حکیم صاحب 14 اپریل کو گاندھی جی اور کستوربا گاندھی کو لال قلعہ اور قطب مینار کی سیر کیلئے دہلی لے گئے تھے۔ وہ سب اس وقت گھوڑا گاڑی پر سوار ہو کر ان تاریخی مقامات کو دیکھنے گئے ہوں گے۔ حکیم صاحب نے یہاں گاندھی جی کیلئے ویشنو (ہندو عقیدے کا خالص سبزی والا کھانا) کھانے کا انتظام کیا تھا۔دہلی کے مو¿رخ آر وی اسمتھ نے لکھا ہے کہ ’دین بندھو اور سی ایف اینڈریوز نے دہلی میں گاندھی جی کی حکیم اجمل خان سے ملاقات کروائی۔ حکم صاحب گاندھی جی سے عمر میں چھ سال بڑے تھے۔ ان کے کہنے پر گاندھی جی سینٹ سٹیفن کالج میں رہے۔ سی ایف اینڈریوز سینٹ ا سٹیفن کالج میں پڑھاتے تھے اور دہلی برادر ہڈ سوسائٹی سے وابستہ تھے۔‘

چہرے سے مرض کی تشخیص کر لیتے تھے:

حکیم عبدالحمید نے ہند پاک کا معروف ’ہمدرد دواخانہ‘ اور جامعہ ہمدرد یونیورسٹی قائم کی۔ انھوں نے راقم الحروف کو سنہ 1995 میں اپنے کوٹلیہ مارگ والے گھر میں بتایا کہ حکیم اجمل خان صاحب کے پاس عورتوں کے حیض اور مرگی وغیرہ کیلئے بے مثال دوائیں تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکیم اجمل کی دوائیں کھا کر نواب رام پور کی بیگم بسترِ مرگ سے اٹھ گئیں جس کے بعد وہ نو سال تک نواب آف رام پور کے حکیم رہے۔‘حکیم صاحب کی موت بھی رام پور میں ہوئی۔ دہلی کے بہت سے بوڑھے لوگ دعویٰ کرتے تھے کہ انھیں طب کی دنیا میں ملکہ اور خاصہ حاصل تھا اور وہ اپنے کام میں اتنے ماہر تھے کہ مریض کی کسی بھی بیماری کو اس کا چہرے دیکھ کر ہی معلوم کر لیتے تھے۔

طبیہ کالج کس کی خواہش پر کھولا گیا؟

پہلی ملاقات کے بعد گاندھی جی اور حکیم اجمل خان کے درمیان گہرا تعلق پیدا ہو گیا۔ گاندھی جی نے خود حکیم اجمل خان کو مشورہ دیا کہ وہ دہلی میں ایک بڑا ہسپتال قائم کریں تاکہ یہاں کی آبادی کو فائدہ ہو۔ اس وقت تک حکیم صاحب صرف لال کنواں سے پریکٹس کرتے تھے۔انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ لال کنواں چھوڑ کر باہر مریضوں کو دیکھیں گے۔ انھیں گاندھی جی کا مشورہ پسند آیا۔ اس کے بعد قرول باغ میں ایک نئے ہسپتال اور کالج کیلئے زمین دیکھی گئی۔ جب زمین مل گئی تو حکیم صاحب نے گاندھی جی کو 13 فروری 1921 کو طبیہ کالج اور ہسپتال کا افتتاح کرنے کیلئے مدعو کیا۔

شریف منزل کتنی پرانی ہے؟

حکیم صاحب کی آبائی حویلی شریف منزل سنہ 2020 میں اپنا 300 سال کا سفر مکمل کر چکی ہے۔ اس کی تعمیر سنہ 1720 میں ہوئی تھی۔ شریف منزل کو دہلی کے قدیم ترین آباد مکانات میں سے ایک سمجھا جا سکتا ہے۔ اب حکیم اجمل خان کے پڑپوتے حکیم مسرور احمد خان اپنے خاندان کیساتھ وہاں رہتے ہیں۔حکیم اجمل خاں نے ہندوستان کی آزادی کی لڑائی اور عدم تعاون کی تحریک میں گاندھی کا ساتھ دیا تھا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر بھی منتخب ہوئے اور 1921 میں احمد آباد میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس کی صدارت کی۔ حکیم صاحب کانگریس کے صدر بننے والے پانچویں مسلمان تھے۔ اس سے پہلے وہ 1919 میں مسلم لیگ کے صدر بھی رہے تھے۔ انھوں نے 1906 میں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والی مسلم لیگ کی پہلی کانفرنس میں بھی شرکت کی تھی۔وہ سنہ 1920 میں آل ہندستان خلافت کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ واضح رہے کہ خلافت کمیٹی ترکی میں خلافت کی بحالی کیلئے قائم کی گئی تھی۔ دہلی حکومت کی ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ ہندو مہاسبھا کے صدر بھی تھے۔ ( #ایس_اے_ساگر )

https://saagartimes.blogspot.com/2024/02/blog-post_13.html



Saturday 10 February 2024

جلد سونے میں معاون آسان اور ثابت شدہ اصول

 جلد سونے میں معاون آسان اور ثابت شدہ اصول

آرام سے رہیں، دن بھر کی پریشانیوں کو ایک طرف رکھیں اور کوئی؟ اگر آپ کو نیند آنے میں دشواری ہورہی ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم میں سے ایک تہائی لوگوں کو سوجانا یا سوتے رہنا مشکل لگتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف دہلی جیسے مصروف شہر کے باشندوں کا ہی نہیں ہے بلکہ مائیکل موسلی بھی برسرپیکار ہیں جبکہ موصوفہ نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں بلکہ صحافی بھی ہیں۔ انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سادہ اور سائنسی طور پر ثابت شدہ تکنیک کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہم سب بغیر کسی مشکل کے آرام سے سو سکیں۔ اپ نے شاید پہلے بھی نیند آنے سے متعلق بہت سے مشورے سنے ہوں گے، لیکن آپ کو مندرجہ ذیل پانچوں نکات میں سے ڈاکٹر موسلی سے کچھ ایسا مل سکتا ہے جس کو آپ نے کبھی آزمایا نہ ہوگا۔

آہستہ اور گہرائی سے سانس لینا:

ہم آرام کرنے کے ایک سادہ لیکن ناقابل یقین حد تک طاقتور طریقے سے شروعات کرتے ہیں: آہستہ اور گہرائی سے سانس لینا۔ یہ دماغ کی گہرائی میں خلیات کے ایک چھوٹے سے گروپ سے فائدہ اٹھاکر کام کرتا ہے، جسے اجتماعی طور پر لوکس کوریلیئس کہتے ہیں۔ اس کے چھوٹے سائز کے باوجود، لوکس کوریلیئس ہمارے پورے دماغ کے کام پر ایک قابل ذکر اثر ہے۔

اگر نیند نہیں آتی ہے اور آپ کا دماغ چل رہا ہے، تو یہ لوکس کوریلیئس ہے جو فعال ہے، آپ کے دماغ میں نوریپائنفرین (بیدار ہونے والا کیمیکل) نامی ہارمون حرکت کر رہا ہوتا ہے۔ٹرنٹی کالج ڈبلن کے پروفیسر ایان رابرٹسن اور ان کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ اس نظام تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور آپ کی سانس کی رفتار کو کم کر کے اسے ایکٹیویشن سے کم کیا جا سکتا ہے۔4-2-4 کے علاوہ (چار کی گنتی کیلئے سانس لیں، دو کیلئے پکڑو، اور چار کی گنتی کیلئے سانس چھوڑیں) میرا مشورہ ہے کہ آپ پیٹ میں سانس لینے کی کوشش کریں۔ایک ہاتھ اپنے سینے پر اور دوسرا پسلی کے نیچے رکھیں۔ جیسے ہی آپ سانس لیتے ہیں، آپ کو اپنے پیٹ پر ہاتھ اٹھتا ہوا محسوس کرنا چاہئے جبکہ آپ کے سینے پر ہاتھ نسبتاً ساکن رہتا ہے۔ اگر آپ کو نیند آنے میں مشکل ہورہی ہو یا آدھی رات کو اپنے دماغ کی دوڑ کے ساتھ جاگ رہے ہوں تو یہ پرسکون ہونے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

صبح کی روشنی سے فائدہ اٹھائیں:

جب میں دائمی بے خوابی سے لڑ رہا تھا تو میرے پاس بہترین تجاویز میں سے ایک یہ تھی کہ ہر روز ایک ہی وقت پر اٹھنا اور صبح کی روشنی میں باہر جانا تھا۔محققین نے دریافت کیا ہے کہ جس وقت آپ صبح اٹھتے ہیں اس کا ہماری حیاتیاتی گھڑی پر آپ کے سونے کے وقت سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ دن کی روشنی کے اثرات کی وجہ سے مستحکم رہتا ہے۔ جب روشنی آنکھ سے ٹکراتی ہے، تو یہ آنکھ کے پچھلے حصے میں ایسے رسیپٹرز کو جگاتی ہے جو روشنی کا پتا لگاتے ہیں اور دماغ کے اس حصے کو سگنل بھیجتے ہیں، جسے ’سپراچیاسمیٹک نیوکلئس‘ کہتے ہیں، جو آپ کی ’ماسٹر باڈی کلاک‘ ہے۔صبح کی روشنی جیسے ہی پھیلتی ہے تو یہ نیند کے ہارمون میلاٹونن کی پیداوار کو روکتی ہے، جس سے جسم کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ دن شروع ہو گیا ہے۔صبح کا اشارہ یہ ہے کہ اب سے لے کر تقریباً بارہ گھنٹے بعد پھر جسم میں میلاٹونن بڑھنا شروع ہوجائیں گے، جو آپ کے جسم کو گہرے آرام کیلئے تیار کرتے ہیں۔

اپنے بستر کا لطف اٹھائیں:

اگر آپ سو نہیں سکتے تو سب سے بہتر کام اٹھنا ہے۔ یہ خوابوں کی تھراپی میں سب سے مؤثر اور استعمال شدہ طریقوں میں سے ایک ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کو کچھ برعکس محسوس ہو، لیکن یہ آپ کے بستر کو ایک بار پھر پرسکون مقام بنانے کے بارے میں ہے، آپ کے دماغ کے بارے میں ہے کہ آپ اپنے بستر کو نیند سے جوڑیں نہ کہ اس سوچ سے کہ سونا ناممکن ہے۔

اچھی نیند بہتر ازواجی زندگی کیلئے ضروری کیوں ہے؟

ہم نیند میں خراٹے کیوں لیتے ہیں اور کیا یہ آواز بند کرنا ممکن ہے؟ تھکاوٹ کا ہماری نیند سے کتنا تعلق ہے اور کیا انسان بغیر نیند کے بھی تر و تازہ رہ سکتا ہے؟ یہ ایک تھیراپی کا حصہ ہے جسے محرک کنٹرول کہا جاتا ہے۔ متعدد مطالعات نے مسلسل ثابت کیا ہے کہ یہ بے خوابی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ کینیڈا کی ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں سلیپ اینڈ ڈپریشن لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کولین کارنی کے مطابق یہ تھراپی اتنی مؤثر ہے کہ چند ہفتوں میں نتائج سامنے آتے ہیں۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ اگر آپ کا جسم اور دماغ تیار نہیں ہیں تو آپ کو سونے کیلئے جدوجہد نہیں کرنی چاہئے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو ایسے میں آپ کا بستر میدان جنگ جیسی صورتحال پیش کررہا ہوتا ہے۔ اگر آپ اس وقت اٹھتے ہیں جب آپ کو نیند نہیں آرہی ہوتی ہے اور صرف اس وقت بستر پر جاتے ہیں جب آپ واقعی میں غنودگی محسوس کرتے ہوں (جب آپ کی آنکھیں جھک رہی ہوں اور آپ سر ہلا رہے ہوں) تو منفی تعلق ٹوٹ سکتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو کچھ بار بستر سے باہر نکلنا پڑے گا اور کچھ غیرمحرک کرنے کیلئے گرم اور پرسکون جگہ جانا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تھیراپی کام نہیں کررہی ہے، لیکن یہ کہ آپ ایک گہری عادت کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں... تو اس کیلئے ضروری امر ہے کہ آپ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں۔ اس کے علاوہ 

جھپکیوں سے بچنے کی کوشش کریں: 

خیال یہ ہے کہ 'نیند کے دباؤ' کو بڑھایا جائے تاکہ رات کو یہ ناگزیر ہو۔ اور بستر کو صرف سونے کیلئے استعمال کریں، اور کاموں کیلئے ٹھیک ہے مگر اسے ٹی وی یا کمپیوٹر، فون دیکھنے کیلئے نہ استعمال کریں۔ ( #ایس_اے_ساگر )



Monday 5 February 2024

جھپکیوں کا صحت پر کیا پڑتا ہے اثر؟

 جھپکیوں کا صحت پر کیا پڑتا ہے اثر؟

مرکزی داراحکومت سمیت دنیا بھر میں آج ایسے اداروں کی کمی نہیں جو چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا عملہ عام طور پر نیند کی کمی کا شکار رہتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید ستم اسمارٹ فونوں نے ڈھایا ہے۔ رات کے اوقات میں سستے ڈاٹا پلان کے سحر میں گرفتار ہوکر بلاضرورت آن لائن رہنے والوں کا ایک مستقل طبقہ وجود میں آگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ دن کے اوقات میں عام طور سکون مفقود ہونے کے سبب محنت کش لوگ سونے کیلئے ترستے ہیں۔ انھیں کیا معلوم کہ ایک جھپکی، نیپ یا کم دورانیے کی نیند سے بھی کم بس کچھ ہی سیکنڈز کیلئے آنے والی نیند کا جھونکا۔ جس کے بارے میں اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ یہ گہری اور اچھی نیند میں کمی کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے۔ ہم یہاں آج اس نیند کے بارے میں بات نہیں کرنے جارہے کہ جو آپ کو چند منٹ کیلئے ٹی وی پر کوئی اچھی فلم یا ڈرامہ دیکھنے کے دوران آتی ہے۔ ہم تو بات کرنے جارہے ہیں اس ’مائیکرو سلیپینگ‘ کے بارے میں جس کا دورانیہ بس چند ہی سیکنڈ ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے اس ’مائیکرو سلیپنگ‘ کیلئے کوئی مستند یا اس کی وضاحت کردینے والی تعریف تو سامنے نہیں آئی ہے، تاہم ایک سیکنڈ سے 15 سیکنڈ تک لگنے والے اس نیند کے جھٹکے یا ’شٹ آئی‘ کے بارے میں اب یہ ضرور کہا جانے لگا ہے کہ اس کے انسانی صحت پر گہرے اور دور رس نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس بات کی وضاحت یوں کی جارہی ہے کہ نیند کی ان جھپکیوں سے ہمیں اپنے روز مرّہ کے معمولات کو سر انجام دینے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جیسے کہ دورانِ ڈرائیونگ آنے والی یہ نیند کی جھپکی ہماری جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب اس آئی شٹ یا نیند کی جھپکی کے محرکات کا پتہ لگانے کے بہت قریب ہیں۔

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی نیند کی جھپکیوں کے اصل ماہرین چنسٹریپ پینگوئن ہیں۔ ان پینگوئنز کے ساتھی جب خوراک کی تلاش میں سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں، تو انھیں برف کی سطح پر بنے اپنے گھونسلوں کی رکھوالی کیلئے چھوڑ جاتے ہیں تاکہ ان میں موجود انڈوں کو براون اسکوا جیسے شکاریوں کے ساتھ ساتھ دوسرے پینگوئن کے غصے سے بھا بچاسکیں۔

فرانس کے شہر لیون کے نیورو سائنس ریسرچ سینٹر میں نیند کے ایکوفزیولوجسٹ پال انٹونی لیبورل نے انٹارکٹیکا کے کنگ جارج جزیرے پر 14 پینگوئنز کے دماغ کی سرگرمی اور نیند کے نمونوں کی پیمائش کی۔ 10 دن کے دوران، پینگوئن کبھی بھی ایک وقت میں 34 سیکنڈ سے زیادہ نہیں سوتے تھے۔ اس کے بجائے ان کے پاس 10,000 سے زیادہ مائکرو سلیپ تھے جو چار سیکنڈ سے بھی کم عرصے تک چلتے تھے یعنی دس ہزار نیند کی جھپکیاں۔

چار سیکنڈ کی یہ جھپکی ان پینگوئنز کیلئے یوں تو کم لگ رہی تھی کہ جس میں ان کی تھکان اتر جائے مگر ہر پینگوئن کو ہر 24 گھنٹے میں 11 گھنٹے کی متاثر کن نیند نصیب ہورہی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جھپکیاں ان کیلئے تو کام کرتی ہیں، لیکن اس جدید دور کے انسان کیلئے، مائکرو سلیپ کو اتنا اچھا نہیں مانا جارہا۔ زندگی یا موت کی صورتحال میں جہاں ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ انسانوں کیلئے سڑک پر تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے محتاط رہنا پڑتا ہے، تو ایسے میں انسانوں کیلئے یہ کام مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

یہ صرف اس قسم کی صورتحال ہے لیکن خطرات کے بغیر جسے تجربہ کاروں نے مائیکرو سلیپ کی نوعیت کی تحقیقات کیلئے لیبارٹری میں نقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سنہ 2014 میں دماغی سکینرز، لوگوں کی آنکھوں کی ویڈیو ریکارڈنگ اور دماغی لہروں کی پیمائش کیلئے الیکٹرو اینسفیلوگرام (ای ای جی) آلات کا بیک وقت استعمال کرتے ہوئے مائیکرو سلیپس کی کھوج لگانے والی پہلی تحقیق شائع ہوئی تھی۔ ٹیم نے اپنے شرکا کیلئے ایک بہت ہی مضحکہ خیز ٹاسک تیار کیا۔ اسکینر میں لیٹے ہوئے ان کے سامنے ایک اسکرین تھی اور ایک ہاتھ میں جوائے اسٹک تھمادی گئی۔ ان کا کام جوائے اسٹک کا استعمال کرنا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسکرین پر موجود ڈسک مسلسل چلتے ہوئے ہدف کے ساتھ برقرار رہے۔

یہ اتنا بورنگ تھا کہ لوگوں کو جاگنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑی. 50 منٹ کے سیشن کے دوران 70 فیصد کے پاس کم از کم 36 مائیکرو سلیپ تھے۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کو توقع تھی کہ وہ تھوڑا سی نیند لیں گے، لیکن اتنا زیادہ نہیں۔ جی ہاں، لوگوں نے ابھی دوپہر کا کھانا کھایا تھا اور لیٹے ہوئے تھے، لیکن پھر بھی، وہ نیند سے محروم نہیں تھے اور جو کوئی بھی میگنیٹک ریزوننس امیجنگ (ایم آر آئی) اسکینر کے اندر تھا اسے معلوم ہوگا کہ کیا ہورہا تھا۔ تعجب کی بات نہیں ہے، نارکولیپسی والے لوگوں میں مائکرو سلیپس اور بھی زیادہ عام ہیں، لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر ان کے قریب ہیں۔

کرائسٹ چرچ کی کینٹربری یونیورسٹی کے دیگر محققین نے لوگوں کو ایک فرضی اسٹیئرنگ وہیل اور ٹریک دے کر انھیں بوریت سے غنودگی کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا اور یہ ظاہر کیا کہ گرم کمرے میں لیکچر کے دوران جاگنے کی کوشش کرنے سے آپ کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کی پلکیں ایک لمحے کیلئے بند ہوجاتی ہیں۔ آپ کا سر تھوڑا سا ہلاتا ہے اور پھر جب آپ دوبارہ اٹھتے ہیں تو اچانک جھٹکے لگتے ہیں۔ ہم جتنے زیادہ تھکے ہوئے ہیں، اتنا ہی زیادہ خدشہ ہے کہ ہم مائیکرو سلیپ کریں۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لافبورو میں نیند کے محقق یوون ہیریسن نے دریافت کیا کہ یہ جھپکیاں دوپہر اور شام کے وقت زیادہ عام ہوتی ہیں اور اکثر نیند کی طویل مدت سے پہلے ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں نفسیات کے پروفیسر ڈیوڈ ڈنگز لوگوں کو رات بھر جگائے رکھتے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ وہ اگلے دن کتنی بار کام کرتے ہیں۔ پوری رات گزرنے کے بعد، جیسا کہ آپ توقع کرسکتے ہیں، ان کی توجہ میں کوتاہیاں (بہت سے سائنسدان مائکرو سلیپ سمجھے جاتے ہیں) زیادہ کثرت سے ہوتی ہیں۔ لیکن روڈ سیفٹی کے حوالے سے خطرناک حد تک. انھوں نے پایا کہ جب لوگوں کو لگاتار 14 دن رات میں چھ گھنٹے کی نیند آتی ہے تو ان کے پاس اتنی ہی مائیکرو سلیپ ہوتی ہے جتنی کہ پوری رات کی نیند سے محروم رہنے والے لوگ۔