Saturday, 23 October 2021

مسجد: اُمت ِ مسلمہ کے نشاط اور روحانی وفکری رہنمائی کا مرکز

مسجد: اُمت ِ مسلمہ کے نشاط اور روحانی وفکری رہنمائی کا مرکز

 محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ نے یہ وقیع مقالہ رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے منعقدکی گئی کانفرنس ’’مؤتمر رسالۃ المسجد‘‘ کے لئے عربی زبان میں تحریر فرمایا تھا، یہ کانفرنس رمضان المبارک ۱۳۹۵ھ مطابق ستمبر ۱۹۷۵ء میں پانچ روز جاری رہی۔ موضوع کی مناسبت سے حضرت بنوری رحمہ اللہ نے اس مقالہ میں مسجد کی اہمیت وفضیلت کے ساتھ ساتھ امام وخطیب کی ذمہ داری کو بھی اُجاگر فرمایا۔ عنوان کی اہمیت کے پیش نظر اس مقالہ کا اُردو ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ 

الحمد للّٰہ الذی جعل المساجدَ لإعلاء کلمۃِ اللّٰہ وإقامۃِ التوحید، والصلاۃُ والسلامُ علٰی سیدنا محمدٍ خَاتَمِ النبیین الذی بنٰی المساجدَ أساساً لفلاحٍ وخیرٍ و إرشادِ العبید، وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ الذین شَیَّدُوْا معالمَ التوحید، ورفعوا رأیاتِ مجدِ الإسلام؛ فخاب کلُّ جبار عنید، أمّا بعد:

شریعتِ اسلامیہ کا یہ حسن ہے کہ اس کا پیش کردہ ہر نظام جس مرتب انداز پر اُستوار ہے، وہ خوبی و کمال کی اتنی نوعیتیں اپنے اندر سمویا ہوا ہے کہ انسانی عقل اس کے پیش کردہ نظام سے بہتر اور مکمل نظام کا تصور بھی نہیںکر سکتی، پس پنجگانہ نمازیں جو اُمت پر روزانہ فرض ہیں، بلاشبہ ایسی عبادت ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لئے ہے۔ ان نمازوں کے مکمل ثمرات اور عمدہ برکات عظیم اجروثواب کی صورت میں تو جنت میں ہی ملیں گی، جہاں کی نعمتیں بے مثل وبے نظیر ہیں۔ ہر نماز کے لئے اذان جیسے عظیم الشان مسنون عمل کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنے کاحسین طریقہ مقرر کیا گیا، پھر ان نمازوں کے لئے خاص جگہیں ہیں، جن کا نام مساجد رکھا گیا۔ یومیہ پانچ مرتبہ لوگوں کے اس طرح جمع ہونے سے جہاں امت ِ مسلمہ کے روحانی اجتماع کا باعث بنا، وہیں اس کے ذریعے باہمی تعارف، الفت و محبت، اور افرادِامت کو ایک دوسرے سے قریب ہونے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔ پھر محلہ کی مسجد میں ہونے والے اس پنج وقتہ اجتماع کے دائرے کو جامع مسجد کے ذریعے مزید وسعت دی گئی۔ شکرانے اور خوشی کے دو تہواروں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کے لئے کھلے میدان میں باجماعت نماز کا اجتماع مقرر کرکے اس دائرے کو مزید کشادہ کیا گیا، اور پھر ان تمام اجتماعات سے بڑھ کر حج بیت اللہ کا اجتماع مقرر کیا گیا۔ اگر امت ِ مسلمہ کی جانب سے کماحقہ قدر دانی ہو تو شریعت کا عطا کردہ ہر نظام مسلمانوں میں دینی، اجتماعی اور ثقافتی روح بیدار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اہل اسلام کو قدردانی پر آمادہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔ یہ مقصد ترغیب و ترہیب، وعظ و نصیحت اور قدردانی کرنے والوں کے اجر عظیم کا بار بار تذکرہ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اس طرح شوق دلاکر اگر لوگوں کو عمل پر آمادہ کیا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ جو شخص ان حقائق کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہو اور بلند کردار کا طالب ہو، وہ اُسے جاننے کے بعد بھی احکام اسلام کی پاسداری نہ کرے۔ جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لیے ان بابرکت مساجد کا نظام وہ نظام ہے کہ انسانی عقل اس سے ارفع اور بہتر نظام کو سوچ ہی نہیں سکتی۔ اس نظام کی مندرجہ ذیل بنیادی خصوصیات ملاحظہ کیجیے:

توحید، رسالت، آخرت اور نماز کی طرف دعوت: ایک شخص ایک سے زائد مرتبہ اللہ کی عظمت و جلالت اور اللہ کی توحید بیان کرتا ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعلان کرتا ہے، پھر لوگوں کو نماز کی دعوت دیتا ہے جو ہر قسم کی ہدایت اور بھلائی کا منبع ہے، پھر اسی طرح اخروی کامیابی کی دعوت بھی دیتا ہے، اور بقول علامہ راغب اصفہانی کے ’’جس کامیابی کی بقاء کو فنا کا، جہاں کی مالداری کو فقر کا، اور جہاں ملنے والی عزت کو ذلت کا کوئی اندیشہ نہیں، وہاں کا علم ہر جہل سے مبرا ہے۔‘‘ (المفردات فی غریب القرآن، مادہ: فلح، ص: ۳۸۵، المطبعۃ المیمنیۃ، مصر) اس پر مزید اضافہ کیجئے کہ وہاں کی راحت میں تکان کا گزر نہیں۔ اس جامع اور انوکھی دعوت کو دیکھئے، پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس آواز کو مسلمانوں کے گوش گزار کرنے کے لئے منار اور منبر جیسے وسائل کا انتخاب کیا گیا، جن میں آج کی سائنسی پیش رفت کے بعد لاؤڈاسپیکر اور مائیک کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ اس اہمیت کے ساتھ مسجد میں آنے کی دعوت خود ایک عجیب شان رکھتی ہے۔ 

مسجد کی اہمیت قرآن کریم کی روشنی میں: قرآن کریم کی وہ آیات جن کا مسجد اور اس کے بنیادی اہداف و مقاصد کے بیان سے تعلق ہے، وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مساجد توحید خداوندی اور اسلام کی دعوت کے مراکز ہیں، اور دین میں اخلاص پیدا کرنے کا سرچشمہ ہیں، نیز ان کی آباد ی اللہ کے ذکر، نماز اور عبادت سے ہوتی ہے، باری جل شانہٗ کا ارشاد ہے:

’’وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أَحَداً۔‘‘ (الجن: ۱۸)

’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں، سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو‘‘۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

یہ آیت مسجد میں توحید کا پرچار کرنے اور مساجد کو ہر نوع کے شرک سے دور رکھنے کی ہدایت کرتی ہے۔باری جل شانہٗ کا ایک اور فرمان ہے:

’’وَأَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ۔‘‘(الاعراف: ۲۹)

’’اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اس کو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ)

یہ ارشاد مساجد میں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے اور اخلاص کے منافی ہر عمل سے بچنے کی ہدایت دیتا ہے۔ باری جل شانہٗ کا ایک اور فرمان ہے: 

’’فِیْ بُیُوْتٍ أَذِنَ اللّٰہُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ۔‘‘ (النور: ۳۶)

’’ان گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا ان کو بلند کرنے کا۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ)

جمہور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ آیت مساجد کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

مسجد کے فضائل واہمیت احادیث رسول کی روشنی میں: مزید براں فضائل پرنظر ڈالیں: مساجد کی طرف پیش قدمی کے لیے اُٹھنے والے ہر قدم کے بدلے ایک درجے کی بلندی اور ایک خطا کی معافی کا وعدہ کیا گیا، ہر صبح و شام مسجد کی طرف جانے کے بدلے جنت میں صبح و شام کی خاص مہمان نوازی کا اعلان کیا گیا، جیسا کہ صحیح حدیث میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص مسجد کی طرف صبح کے وقت، یا شام کے وقت جاتا ہے، اللہ جل شانہٗ اس کے لئے جنت میں ہر صبح اور ہر شام مہمان نوازی فرمائیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من خرج الی المسجد و من راح، ۱/۹۱، ط: قدیمی) 

اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تو جب تک وہ اپنے مصلے پر با وضو رہے فرشتے اس کے لیے یوں دعا کرتے رہتے ہیں: ’’اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما‘‘۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوٰۃ و فضل المساجد، ۱/۹۰، ط: قدیمی)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو خوب چرو، سوال کیا گیا کہ: جنت کے باغ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مساجد۔‘‘ (سنن الترمذی، ابواب الدعوات، باب، ۲/۱۹۱، ط: قدیمی)

 اسی طرح مساجد کی تقدیس و تعظیم، اسلام میں مساجد کی بلند شان اورمسجد میں داخل ہونے والے شخص کے لئے ثواب اور اجرِعظیم کی بشارتوں کے سلسلے میں کئی روایات منقول ہیں۔

 مسجد، کتاب وسنت کی تعلیم وتربیت کا مرکز: اسلام کی عظیم الشان تاریخ ہمیں مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حین حیات قائم ہونے والے دینی تعلیم کے حلقوں کا پتہ دیتی ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ فقراء اصحابِ صفہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام مقدس کو سننے اور یاد کرنے کے لئے جمع ہونے والا پہلا قافلۂ علم تھا۔ یہ حضرات مسجد نبوی اور صفہ ہی میں رہتے، تاکہ قرآن کی کوئی آیت جو بصورتِ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کوئی فرمان گرامی سننے سے رہ نہ جائے۔ ان میں وہ قراء کرام بھی تھے جنہیں بئر معونہ پر رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل کے افراد نے دھوکہ سے شہید کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کے خلاف ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوتِ نازلہ کے ذریعے بددعا فرمائی۔ انہی اصحاب صفہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں وہ لوگ بھی تھے جن کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے اصحاب صفہؓ میں سے ستر افراد ایسے دیکھے ہیں کہ ان میں سے کسی کے پاس تن ڈھانکنے کے لئے مکمل کپڑا نہ ہوتا تھا، یا ازار ہوتی یا بڑی چادر ہوتی جس کو گردن پر باندھ لیتے، کسی کی یہ چادر نصف پنڈلی تک پہنچتی، کسی کی ٹخنوں تک پہنچتی، تو وہ اس چادر کو سمیٹ سمیٹ کر بیٹھ جاتے، مبادا ستر ظاہر ہوجائے۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب نوم الرجال فی المسجد، ج:۱، ص:۶۳، ط: قدیمی)

انہی اصحاب صفہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تھے، ایک انتہائی باکمال اور باصلاحیت عبقری شخصیت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تھی، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار حفاظِ حدیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا تھا۔ عہدِنبوت کے صرف تین سالوں میں آپ رضی اللہ عنہ نے علوم حدیث کے وہ عظیم خزانے حاصل کئے جن کی کثرت نے ایک عالَم کو انگشت بدنداں کر دیا، آپ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ احادیث جو ہم تک پہنچی ہیں، ان کی تعداد پانچ ہزار تین سو چوہتر (۵۳۷۴) ہے، یہ ایک بڑی تعداد ہے اور ’’صحیح بخاری‘‘ کی مکررات کو حذف کرکے بقیہ روایات سے زیادہ ہے۔ 

صرف مسجد نبوی اور مسجد حرام ہی کیا، دنیا میں جہاں کہیں بصرہ، کوفہ، بغداد، شام، وغیرہ ممالک فتح ہوئے تو وہاں مساجد کی تعمیر عمل میں آئی۔ یہ مساجد بھی درس و تدریس کے مراکز تھے، یہ مراکز بڑی بڑی جامع مساجد میں قائم تھے، گویا علم کے چشمے تھے جو اُبل پڑے تھے اور فراونی سے بہہ رہے تھے۔ عراق کی فتح کے بعد جامع مسجد کوفہ سب سے پہلی مسجد تھی، جس کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی ۔ یہ مسجد احادیث نبویہ کی تعلیم کا مرکز تھی، جہاں براء بن عازب رضی اللہ عنہ پہلے صحابی تھے جنہوں نے احادیث نبویہ کی تعلیم شروع فرمائی۔ اسی طرح بعد کے ادوار میں بھی مساجد دین کی درسگاہیں ہی ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت قاہرہ کی جامع ازہر، تیونس کی جامع زیتونہ اور اندلس کی جامع قرطبہ کو حاصل ہوئی۔ ان کے علاوہ بھی کئی ایسی جامع مساجد تھیں جو کہ علوم اسلامیہ کی باقاعدہ یونیورسٹیاں تھیں، جن سے علم کے چشمے جاری تھے، جن سے نکلنے والی نہریں کرہ ٔارض کے مختلف گوشوں میں پھیل چکی تھیں، اور ان نہروں سے چھوٹے بڑے سبہی اہل علم مستفید ہورہے تھے۔ ان تاریخی روایات کو مد نظر رکھ کر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی سلطنت و سطوت کے زمانے میں عرب و عجم کے جس شہر میں بھی کوئی مسجد قائم ہوئی، وہ کتاب و سنت کی تعلیم کا مرکز بھی رہی ہے۔ ان مبارک تاریخی نقوش کی روشنی میں اب ہم قارئین و حاضرین، ائمہ وخطبا کی خدمت میں مساجد کے لیے چند اصول و ضوابط پیش کرتے ہیں، تاکہ پنج وقتہ نماز کے لیے مسجد میں آنے والا ہر شخص شریعت کے نظامِ مساجد سے فائدہ اُٹھاسکے۔

امام مسجد کے اوصاف: ۱- ہر مسجد کے لئے ایک سمجھ دار، بیدار مغز، فاضل عالم دین بطورامام مقرر کیا جائے۔

۲- جو نمازیوں کی اچھی طرح تربیت اور انہیں دینی تعلیم سے روشناس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

۳- نیز یہ امام قرآن کریم کو درست تجوید کے ساتھ پڑھنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔

۴- اور اچھے اخلاق سے بھی آراستہ ہو۔

اِمام درسِ قرآن کی تیاری کس طرح کرے؟

۱- ہر امام کو چاہیے کہ وہ نمازِ فجر کے بعد درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کرے ۔

۲- جس میں نمازیوں کو قرآن کریم کے مطالب اس اسلوب سے ذہن نشین کروائے جو اُن کے فہم اور مستویٰ کے مطابق ہو۔

۳- ایسی باتیں جو ان کے لئے کارآمد نہ ہوں، مثلاً: لغت، اعراب وترکیب کی باریکیاں، یا بے فائدہ توجیہات و تاویلات، وغیرہ میں ہرگز نہ پڑے۔

۴- بلکہ قرآن کریم کے اہم پہلوؤں پر اکتفا کرتے ہوئے قرآن کریم کے مطالب و مقاصد کو عمدہ اور نفع مند اسلوب کے ساتھ واضح کرے، کیونکہ امت کے آخری لوگوں کی اصلاح کا بھی وہی طریقہ ہے جو طریقہ اول امت کی اصلاح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا تھا۔

۵- امام کو چاہئے کہ درس کے دوران آیات کے ترجمہ و تفسیر کی مناسبت سے نمازیوں کے عقائد کی درستگی، اور ان کے معاملات کی اصلاح کی طرف بھی بھر پور توجہ کرے۔

۶- درس کے لئے مختصر وقت مقرر کیا جائے، یہ وقت کم سے کم پندرہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ ہو، تاکہ عوام کو اُکتاہٹ نہ ہو، اور درس میں شرکت کی پابندی ہوسکے، اس لئے کہ بہترین عمل وہی ہے جو ہمیشگی اور مستقل مزاجی سے کیا جائے، اگرچہ تھوڑ اہی کیوں نہ ہو۔

درسِ حدیث کا اہتمام اور ا س کی تیاری:

۱- مناسب ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد درسِ حدیث کا اہتمام کیا جائے۔

۲- درسِ حدیث کے لیے عمدہ اور مفید کتب مثلاً: امام نووی رحمہ اللہ کی ’’ریاض الصالحین ‘‘ یا امام منذری رحمہ اللہ کی ’’الترغیب والترہیب ‘‘کا انتخاب ہو۔ 

 ۳- اس درس میں ان اختلافی مسائل کا تذکرہ جس سے نمازیوں کو فکری تشویش لاحق ہو، نہ کیا جائے۔

۴- درسِ حدیث کا بنیادی ہدف نمازیوں کی روحانی اصلاح اور ان کے دل و دماغ کی پاکیزگی کی کوشش ہو۔

۵- اس درس کا وقت کم از کم آدھا گھنٹہ مقرر کیا جائے، اور فجر کے بعد کا وقت اس کے لئے مناسب ہے، اس لئے کہ یہ فراغت و فرصت کا وقت ہوتا ہے۔

۶- اس طرز پر تعلیمی سلسلے جاری رکھنے کی صورت میں ہر مسجد ایک دینی مدرسے کی صورت اختیار کرلے گی۔ 

عام فہم اسلامی فقہی احکام سے متعلق نصاب: 

۱- ایک خاص نصاب مقرر کیا جائے، جس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج،وغیرہ بنیادی عبادات کے فقہی احکام کا انتخاب ہو۔

۲- فجر کے علاوہ چاروں نمازوں میں سے کسی ایک نماز میں کم از کم پانچ منٹ اس نصاب کی تعلیم کے لئے متعین کیے جائیں، تاکہ نمازیوں کو ان عبادات کے احکام سے بھی ایک گونہ واقفیت ہو جائے۔

خطبۂ جمعہ اور تقریر کی تیاری: 

۱- جامع مسجد جہاں جمعہ و عیدین کی نمازیں بھی ادا کی جاتی ہوں، وہاں کے خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خطبے میں عالمی اسلامی مسائل کو لے کر اُمتِ مسلمہ کی حالیہ ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرے۔

۲- اسی طرح خطیب کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس خطبے کو اچھی طرح تیار کرے، ایسے الفاظ کا چناؤ کرے جو اصلاحِ قلب کے لئے مؤثر اور مفید ہوں۔

۳- نیز خطبہ معتدل انداز کا ہو، نہ اس قدر اختصار ہو کہ مقصود حاصل نہ ہوسکے، نہ موضوع سے ہٹ کر غیرضروری باتوں کی تطویل ہو کہ سننے والے اُکتا ہی جائیں۔

۴- یہ بھی خیال رہے کہ خطبے میں ایسے اختلافی مسائل کو نہ چھیڑا جائے جو اُمت میں عرصہ دراز سے اختلافی ہی چلے آرہے ہیں۔

۵- خطیب کو چاہیے کہ وہ اہمیت کے حامل فقہی احکام اور دین کے بنیادی مسائل کے بیان ہی پر اکتفا کرے۔

۶- خطیب کی دعوت ایسی حکیمانہ ہو کہ سننے والوں کے دلوں کو چھو جائے۔

۷- ساتھ ساتھ کتاب و سنت کے دلائل سے مؤید بھی ہو، تاکہ سامعین مطمئن رہیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ دین اسلام ہی وہ آسمانی مذہب ہے جو انسان کی نیک بختی اور سعادت کا ضامن ہے، یہی وہ دین فطرت ہے جس سے انسان کا بنایا ہوا کوئی نظام مستغنی نہیں ہوسکتا، اور امریکی و یوروپی تہذیب کی کجی اور بگاڑ کی اصلاح صرف اورصرف صحیح اسلام اور شریعتِ محمدیہ پر عمل کرنے ہی میں ہے۔ دین اسلام ہی سب سے بہتر دینی و اقتصادی نظام ہے ،جو فرد و جماعت، مادی و روحانی تمام شعبہ جات کو حاوی ہے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خطیب ان موضوعات کا انتخاب کرے جو معاصر ضرورتوں میں سے اہمیت کے حامل ہوں۔

جمعہ کا خطبۂ مسنونہ غیرعربی زبان میں بدعت اور فتنہ ہے: اگر سامعین عربی زبان جاننے والے نہ ہوں تو ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ خطبۂ جمعہ بلکہ اذان سے پہلے خطبے کے موضوع کو سامعین کی زبان میں بطور خلاصہ پیش کر دیا جائے۔ جمعے کا خطبہ صرف عربی زبان ہی میں دیا جائے، اس لیے کہ عہد نبوی ہی سے امت کا یہ معمول رہا ہے کہ جمعہ و عیدین کے خطبے عربی زبان ہی میں دیے جاتے رہے ہیں، اس لیے کہ عربی زبان قرآن اور اسلام کی زبان ہے، غیرعربی زبان میں خطبہ کسی صورت مناسب نہیں، اس لیے کہ عہد صحابہؓ میں فار س و روم کے علاقے جب فتح ہوئے تھے، اس وقت بھی خطبۂ جمعہ کی زبان عربی ہی رہی۔ اسی طرح تمام خطبات کی اصل روح باری عز اسمہٗ کا ذکر ہے، جہاں تک خطبے کے ذریعے وعظ ونصیحت کی بات ہے تو وہ ثانوی چیز ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی پوشیدگی کے باعث بہت سے لوگوں کو یہ بات اچھنبی معلوم ہوتی ہے کہ سامعین کی زبان کے علاوہ کسی زبان میں خطبہ دیا جائے، حالانکہ خطبہ ایک عبادت ہے، اس کی نوعیت ان عام خطبوں کی مانند نہیں جو عام محافل و مجالس میں سامعین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔بلکہ اگر لوگوں کے اس تعجب کے دائرے کو وسیع کیا جائے تو یہ معاملہ صرف خطبے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ نماز تک وسیع ہو جائے گا، اس لیے کہ غیر عربی دان کے لیے وہ بھی ایک مختلف زبان میں مناجات ہوگی، اس طرح یہ فتنہ بڑھتا ہی رہے گا۔ امریکہ و یوروپ کے کئی ممالک میں یہ فتنہ پھیل گیا ہے، چنانچہ وہاں ائمہ سامعین ہی کی زبان میں خطبہ دیتے ہیں، یہ ایک بدعت ہے جس کی پیروی کسی صورت نہیں کی جانی چاہیے، اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے۔ بلکہ ہمارے علاقوں میں تو نماز کو اردو زبان میں ادا کرنے کا فتنہ پیدا ہوچکا ہے، اور اہل علم اس فتنے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ملازمت وتجارت پیشہ حضرات کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ: خلاصہ یہ ہے کہ اگر مساجد میں ان اصولوں کی رعایت رکھی جانے لگے، تو ان بالغ نمازیوں کے لئے جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے باقاعدہ مدارس میں پڑھ نہیں سکتے، اسی طرح ان کاروبار پیشہ افراد کے لیے بھی جو بازاروں میں کاروبار میں مصروف رہتے ہیں، نیز اس ملازمت پیشہ طبقے کے لیے جو حکومتی اداروں میں ملازمت کے باعث فرصت نہیں پاتے، یہی مساجد دینی درسگاہیں ثابت ہوں گی۔ نوجوانانِ امت جن کا دین دار طبقے اور دینی تعلیمی اداروں سے تعلق ٹوٹ چکا ہے، ان کو دین اسلام کی روح سکھانے اور سمجھانے کے لئے یہ ایک بہترین طریقہ کار ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم عام گلی کوچوں اور بازاروں کے لئے لاؤڈاسپیکر وغیرہ جدید وسائل بھی استعمال کریں تو یہ نظام ان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی جو گھروں ہی میں رہتے ہیں (مسجدوں کی طرف رخ نہیں کرتے) بیک وقت اصلاح کے لیے مفید ہو سکتا ہے، تاکہ وہ بھی چند لمحوں پر محیط اس درس کی طرف راغب ہوں اور تربیت کا دائرہ بڑھتا ہوا ان عورتوں اور بچوں کوبھی شامل ہوجائے جو گھروں میں رہتے ہیں۔ خطیب کو چاہئے کہ اس کے لیے بھی خالص ایسے تربیتی موضوعات اختیار کرے جیسے موضوعات ٹیلیوژن اور ریڈیو وغیرہ پر دیے جانے والے دروس کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ اس طرح مساجد کا یہ نظام جدید وسائل و آلاتِ نشر واشاعت کی مدد سے ایک عمدہ ترین، انتہائی نفع بخش اور تربیت کے تمام گوشوں کو بیک وقت احاطہ کئے ہوئے نظام کی صورت میں نمایاں ہوگا، لیکن بہر حال توفیق و انعام دینے والی ذات تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کی ہے۔ الغرض نمازوں کے اجتماعات کے ساتھ ساتھ یہ مساجد دراصل توحید کی طرف دعوت کا عنوان ہیں، تبلیغ دین کا عنوان ہیں، احکام شریعت کی تعلیم کا عنوان ہیں اور فکری تربیت، قلبی اور روحانی اصلاح کا عنوان ہیں، جیسا کہ پچھلے وقتوں میں یہی مساجد قضائ، افتاء اور عدالتی فیصلوں کا بھی عنوان ہوا کرتی تھیں۔ اخیر میں، میں رابطہ عالم اسلامی کے صدر اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ائمہ مساجد کی بیداری اور ان کے منصب کی رفعت پر تنبیہ کے لیے ہدایات پیش کرنے کی غرض سے اس مجلس کا انعقاد کیا، بلا شبہ اگر اسلامی ممالک میں مساجد کا یہ نظام واقعی متحرک اور فعال ہوجائے تو یہ ایک بہترین کاوش ثابت ہوگی۔ اللہ جل شانہٗ سے دعا ہے کہ وہ رابطہ عالم اسلامی کے ارباب حل و عقد، خصوصاً محترم صدر رابطہ عالم اسلامی کو اسلام، ملت اسلامیہ، علم اور اہل علم کی اس سے بڑھ کر خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے، اور مجلس رابطہ عالم اسلامی کو اسلام و اہل اسلام کے لئے خیر وبھلائی کی نوید بنائے۔ اللہ ہی دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے والا ہے۔  محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/book.html



Thursday, 21 October 2021

گیارہ اعتراضات کا مدلل جواب

گیارہ اعتراضات کا مدلل جواب
گیارہ اعتراضات کا مدلل جواب "گیارہ باتیں جن کا جواب کسی مفتی کے پاس نہیں!" کا جواب مطلوب ہے 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لیجئے ہر ایک بات (سوال، اعتراض) کا جواب حاضر ہے!
✍ حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود
حامداً و مصلّیاً و مسلّماً:
محترم قارئین! کسی نامعلوم شخص نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جشن کا دن ثابت کرنے کے لئے ایک تصویری پوسٹ شیئر کی ہے، جس کا عنوان ہے ”گیارہ باتیں جن کا جواب کسی مفتی کے پاس نہیں!“ اس نے اپنی اس تصویری پوسٹ میں گیارہ باتیں (اعتراضات، سوالات) پیش کئے ہیں جن کا جواب مسلک اہل السنّۃ والجماعۃ احناف دیوبند کا ایک ادنیٰ خادم (جوکہ مفتی اور مولانا نہیں ہے) حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود بفضلہٖ تعالیٰ بالترتیب دے رہا ہے ملاحظہ کریں۔
نوٹ: قارئینِ کرام! جواب سے قبل ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ پہلے بدعت کی تعریف نقل کردیں تاکہ بات پوری طرح واضح رہے۔ بدعت کی تعریف میں علامہ شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«البدعة: طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية، يقصد بالسلوك عليها ما يقصد بالطريقة الشرعية» (الاعتصام للشاطبي: ص 43)
”بدعت: دین میں ایک نو ایجاد طریقہ ہے جو شریعت کے مشابہ ہو، اور جو شرعی طریقہ پر چلنے کا مقصد ہوتا ہے وہی مقصد اس کا ہو۔“
فائدہ: قارئینِ محترم! علامہ شاطبی رحمہ اللہ کی اس تعریف سے واضح ہوگیا کہ شریعت میں بدعت کا اطلاق ان نو ایجاد امور پر کیا جاتا ہے جسکو شریعت کا حصہ یا دین سمجھ کر اختیار کیا جائے اس سے ثابت ہوا کہ جن محدثات کو دین یا شریعت نہ سمجھ کر اختیار کیا جائے اس پر شرعی بدعت کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ بدعت کی تعریف میں شامل ہیں۔
اب آئیے اس نامعلوم شخص کے پوسٹر میں درج باتوں (سوالات، اعتراضات) کی طرف جن کو یہ بزعمِ خویش سمجھتے ہیں کہ انکا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔
پوسٹ میکر صاحب کی باتیں اور ان کا جواب:
بات (سوال، اعتراض) نمبر1: ”ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: پوسٹ میکر صاحب! سعودی عرب کا، یا کسی ملک کا، یا اپنے ملک کے بننے کا، یا ملک سے متعلق کسی اور معاملے کا جشن منانا بدعت کی تعریف میں داخل نہیں ہے کیونکہ یہ امور دین میں سے نہیں بلکہ دُنیاوی معاملات میں سے ہے۔‌ فرقۂ بریلویت کے بانی و مجدداعظم احمد رضا خان صاحب تمباکو کو حلال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”رہا اس کا بدعت ہونا یہ کچھ باعث ضرر نہیں کہ یہ بدعت کھانے پینے میں ہے نہ کہ امور دین میں، تو اس کی حرمت ثابت کرنا ایک دشوار کام ہے۔“ (احکام شریعت: حصہ سوم، مسئلہ نمبر 37)
اسی طرح جشنِ سعودی عرب امور دنیا سے ہے نہ کہ امور دین سے۔ اور نہ ہی کوئی اس کو فرض، واجب سنت کا درجہ دیتا ہے۔ جب یہ امور دین سے نہیں تو شرعی بدعت کا اطلاق اس پر ہوتا نہیں، اس لئے اِسے بدعت نہیں کہا جاتا ہے‌۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 2: ”ہر سال غسلِ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: غسلِ کعبہ کی اصل قرآن کریم میں مذکور حضرات إِبراہیم و إِسماعیل علیہما السلام کو دیا گیا یہ حکم مبارک ہے کہ: «وَ عَهِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰهٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ  السُّجُوۡدِ» (سُورۃ البقرہ: آیت 125)
”اور ہم نے إِبراہیم اور إِسماعیل کو پابند کیا کہ تم دونوں میرے گھر (کعبہ) کو پاکیزہ کرو، طواف کرنے والوں کے لئے اور قیام کرنے والوں کے لئے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے۔“
اور صِرف حضرت إِبراہیم علیہ السلام کے ذِکر کے ساتھ یہ فرمایا کہ:
«وَّطَهِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ» (سُورۃ الحج: آیت 26)
”اور میرے گھر (کعبہ) کو پاکیزہ کرو، طواف کرنے والوں کے لئے، اور قیام کرنے والوں کے لئے، اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے۔“
فائدہ: ان آیات سے کعبہ شریفہ کو حسی، اور معنوی ہر قسم کی ناپاکی، گندگی وغیرہ سے صاف کرنا، پانی کے ساتھ دھونا ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ پاکیزہ کرنے میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔
اور حدیث میں ہے:
«عن أسامة بن زيد قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الكعبة فرأى صُورًا فدَعَا بدَلوٍ مِن ماءٍ فأتيته به فضَربَ بهِ الصُّورِ ويقول قاتل الله قوماً يُصوِرون ما لا يَخلقُون» (سلسلة الاحادیث الصحیحة: رقم الحدیث 996)
”حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: میں (فتح مکہ کے موقع پر) کعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں دیکھیں تو پانی کا برتن (بالٹی، ڈول وغیرہ) لانے کا حکم فرمایا، میں لے کر حاضر ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو اُن تصاویر پر ڈال کر اُنہیں مٹایا، اور فرمایا: اللہ اُن لوگوں کو ہلاک کرے جو اُن چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جو چیزیں ان لوگوں نے تخلیق (ہی) نہیں کِیں۔“
مختصر طور پر یہ واقعہ ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج 5، ص234] / ذكر الْأُمُور الَّتِي صنعها رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَة“ میں بھی مروی ہے۔
فائدہ: اس حدیث پاک سے واضح ہوا کہ کعبہ شریفہ کو حسی، اور معنوی ہر قسم کی ناپاکی، گندگی وغیرہ سے صاف کرنا، پانی کے ساتھ دھونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
مزید گواہی کے طور پر یہ بھی ملاحظہ فرمایئے:
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
«ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً ، فَرَقَيَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ، فَأَذَّنَ بِالصَّلاَةِ، وَقَامَ الْمُسْلِمُونَ فَتَجَرَّدُوا فِي الأُزُرِ، وَأَخَذُوا الدِّلاَءَ، وَارْتَجَزُوا عَلَى زَمْزَمَ يَغْسِلُونَ الْكَعْبَةَ، ظَهْرَهَا وَبَطْنَهَا، فَلَمْ يَدَعُوا أَثَرًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلاَّ مَحَوْهُ، أَوْ غَسَلُوهُ» (المصنف لإبن أبي شیبة: کتاب المغازی، باب 34، رقم الحدیث 38074/ بتحقیق علامہ محمد عوامة)
”پھر (فتح مکہ کے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دِیا (کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر  نماز کے لئے اذان کہیں) تو حضرت بلال کعبہ کی چھت پر) چڑھے اور نماز کے لئے اذان دی، تو مُسلمانوں نے اپنے تہہ بند میں ملبوس رہ کر، پانی کے برتن لے کر زمزم پر ٹوٹ پڑے اور (زمزم لا لا کر) کعبہ کو باہر اور اندر سے دھویا، اور مشرکین کے اثرات میں کوئی ایسا اثر نہیں چھوڑا جسے مِٹا نہ دِیا، دھو نہ دِیا ہو۔“
یہ روایت مختصر سے فرق کے ساتھ ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج5، ص221] / ذِكْرُ أذان بلال بن رباح على الكعبة، ورقية فوقها يوم الفتح للأذان“ میں بھی مذکور ہے۔
پوسٹ میکر صاحب! آپ کو یہ بات تو معلوم ہوگی ہی کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا ہو، اور اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا ہو تو وہ کام سو فیصد جائز اور دُرُست ہوتا ہے، سُنّت شریفہ میں قُبولیت یافتہ ہوتا ہے۔ لگے ہاتھوں‌کعبہ شریفہ کو خُوشبُو  لگانے کا ثبوت بھی پیش کردیتے ہیں:
«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‌‌‌‌‌‏قال:‌‌‌‏ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ مَا أَحْسَنَ هَذَا» (سنن النسائي، كتاب المساجد، باب تخليق المساجد، رقم الحديث 728)
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ (مبارک) سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کردیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا۔“
«عَنْ عَائِشَةَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَتْ:‌‌‌‏ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ» (سنن الترمذي : أبواب السفر، باب ما ذكر في تطييب المساجد، رقم الحديث 594. سنن أبي داود: كتاب الصلاة ، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث 455)
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔“
«عَنْ عَائِشَةَ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ أَمَرَ بِالْمَسَاجِدِ أَنْ تُبْنَى فِي الدُّورِ، ‌‌‌‌‌‏وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ» (سنن ابن ماجه : كتاب المساجد والجماعات، باب تطهير المساجد وتطييبها، رقم الحديث 758)
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک صاف رکھا جائے، اور خوشبو لگائی جائے۔“
«عَنْ عَائِشَةَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَتْ:‌‌‌‏ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ فِي الدُّورِ، ‌‌‌‌‌‏وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ» (سنن ابن ماجه : كتاب المساجد والجماعات، باب تطهير المساجد وتطييبها، رقم الحديث 759)
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک صاف رکھا جائے، اور خوشبو لگائی جائے۔“
فائدہ: ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ مساجد کی صفائی اور اِن میں خوشبو کا اہتمام کیا جانا چاہئے کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو خوشبو سے معطر کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک انصاری خاتون نے اس پر عمل بھی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر اس عمل کی تحسین کی، نکیر نہیں فرمائی۔ اور چونکہ مساجد میں مسجد حرام یعنی بیت اللہ شریف یعنی کعبہ شریفہ بھی شامل ہے اس لئے اس کو خوشبو لگانا بھی ثابت ہوتا ہے۔ الحمدللہ!
اور إمام محمد بن عبداللہ الازرقی رحمہُ اللہ (متوفی 250 ہجری) نے اپنی کتاب ”اخبار مکة: باب ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَأَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ“ میں کعبہ شریفہ کو خوشبودار کرنے کی کئی روایتیں نقل کی ہیں جوکہ وہ سب سنداً سخت ضعیف ہیں پر اس میں ایک روایت ایسی بھی ہے جو سخت ضعیف نہیں ہے۔ وہ روایت أمیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے جسے ہم بطور تائید نقل کررہے ہیں۔
«كَانَ مُعَاوِيَةُ أَوَّلَ مَنْ طَيِّبَ الْكَعْبَةَ بِالْخَلُوقِ وَالْمُجْمَرِ، وَأَجْرَى الزَّيْتَ لِقَنَادِيلِ الْمَسْجِدِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ» (اخبار مکة لعبدالله الأزرقی: [ص358] / ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَأَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ. إسناده ضعيف)
”أمیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے خَلوق (زعفران اور دیگر خُوشبُودار چیزوں کے مجموعے) اور (دیگر) سلگائی جانے والی خُوشبُو کے ذریعے کعبہ کو خُوشُبودار کیا، اور مسجد (الحرام) کی قندیلوں کے لئے بیت المال میں سے تیل جاری کیا۔“
فائدہ: اس سے بھی معلوم ہواکہ کعبہ شریفہ کو خُوشبُو لگانا بھی درست ہے۔ یہ لیجئے‼ الحمد للہ، کعبہ شریفہ کو غُسل دینا، قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی ثابت ہے۔ اور کعبہ شریفہ کو غسل دینے کے علاوہ خوشبو لگانا بھی  ثابت ہے۔ اور اِس میں سال میں ایک، دو، یا دس بار کی کوئیا قید نہیں، جسے اللہ تعالیٰ یہ شرف جتنا چاہے عطاء فرمائے۔ پس جو کوئی کعبہ شریفہ کو غسل دینے کو قرآن و حدیث میں ثبوت کے بغیر کہتا ہے وہ یا تو جاھل ہے، یا پھر ایسا دروغ گو متعصب جو اپنے مذھب و مسلک کی تائید میں غلط بیانی کرتا ہے۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 3: ”ہر سال غلافِ کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: اس بات (سوال، اعتراض) کا معاملہ بھی اس سے پہلی والی بات (سوال، اعتراض) کی طرح ہی ہے، یعنی یہ بات (سوال، اعتراض) یا تو جہالت پر مبنی ہے یا جانتے بوجھتے ہوئے گمراہی پھیلانے اور اپنی بنائی اور پھیلائی ہوئی بدعت کو تحفظ دینے کی مذموم کوشش ہے؛ اس لئے کہ کعبہ شریفہ پر غلاف چڑھانا، کعبہ شریفہ کو کپڑوں سے ڈھانپنا، قبل از اسلام سے چلتا آرہا تھا، اور بعد از اِسلام، فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس روایت کو برقرار رکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلفاءِ راشدینؓ، اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے  بھی اِس پر عمل جاری رکھا۔
کعبہ شریفہ پر غِلاف چڑھانے کی چند روایات ملاحظہ ہوں۔
(1) فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
«وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ» (صحیح البخاری: کتاب المغازی، باب أَيْنَ رَكَزَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، رقم الحديث 4280)
”یہ وہ دِن ہے جِس میں اللہ کعبہ کی  عظمت کو بڑھاتا ہے اور وہ دِن ہے جس میں کعبہ کو لباس (غلاف) پہنایا جاتا ہے۔“
(2) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
«كَسَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي حَجَّتِهِ الْحُبُرَاتِ» (مسند الحارث: کتاب الحج، باب کسوۃ الکعبة، رقم الحدیث 391)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں (اللہ کے) گھر (کعبہ شریفہ)  کو حُبرات کا لباس پہنایا۔“
(3) حضرت لیث بن ابی سلیم رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ:
«كَانَ كِسْوَةَ الْكَعْبَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْأَقْطَاعُ وَالْمُسُوحُ» (المصنف لإبن أبي شیبة: کتاب الحج، باب فِي الْبَيْتِ مَا كَانَتْ كِسْوَتُهُ، رقم 16067/ بتحقيق محمد عوامة)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور میں کعبہ کا غِلاف أقطاع اور مسوح کا ہوا کرتا تھا۔“
فائدہ: أقطاع، اور مسوح دو مختلف کپڑوں کے نام ہیں۔
(4) حضرت نافع رحمہُ اللہ مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
«كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْسُو بُدْنَهُ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ - الْقَبَاطِيَّ وَالْحِبَرَة الجيدة، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ أَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَزَعَهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فَنَاطَهَا عَلَى الْكَعْبَةِ» (اخبار مکة للأزرقی: [ص356]/ ذِكْرُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَطِيبِهَا وَخَدَمِهَا وَ أَوَّلِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ. ”اخبار مکة في قديم الدهر وحديثه للفاکھی: [ج5، ص232] / ذِكْرُ ما يجوز ان تكسى به الكعبة من الثياب“)
”جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (حج کے) احرام کا اِرداہ کرتے تو اپنے قربانی کے جانور پر قباطی اور حِبرہ (نامی کپڑے) لگادیتے، اور  عرفات والے دِن وہ کپڑے اُسے پہنا دیتے، اور قربانی والے دِن وہ کپڑے اتار دیتے اور پھر شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ (جو کہ کعبہ شریفہ کے منتظمین تھے) کو وہ کپڑے بھیج دیتے تو شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ وہ کپڑے کعبہ پر لٹکادیتے۔“
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ» (سنن الترمذی: ابواب صفة القیامة، رقم الحدیث 2476۔ بتحقیق امام ترمذی حسن غریب) ”تم اپنے گھروں کو ایسے ڈھانکو گے جیسے کعبہ ڈھانکا جاتا ہے۔“
فائدہ: اس روایت سے معلوم ہوا کہ کسی عمارت کو یا تو زیب و زینت کی خاطر ڈھانکا جاتا ہے۔ (جیسے گھروں میں پردے لٹکانا) یا ادب و احترام کی خاطر (جیسے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا جاتا ہے)
جب گھروں کو زیب و زینت کے خیال سے ڈھانکنا بھی شرعاً پسند نہیں کیا گیا تو پھر دیگر عمارت کو کسی ادب و احترام کی خاطر ڈھانکنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ اس سے کعبۃ اللہ کے امتیاز و تشخص کا مجروح ہونا اور اس کی خصوصیات میں دوسری عمارتوں کا شریک ہونا لازم آتا ہے۔
بفضلہ تعالیٰ یہ جواب بھی پورا ہوا، اور واضح ہوا کہ کعبہ شریفہ کو لباس پہنانا، غِلاف چڑھانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّت شریفہ میں موجود ہے، پس جو کوئی اِس کام کو سُنّت کے مُطابق نہیں جانتا، نہیں سمجھتا، تو جیسا کہ پہلے کہا، وہ شخص یا تو جاھل ہے یا پھر اپنے مذھب و مسلک کی تائید میں حق پوشی کررہا ہے۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 4: ”غلافِ کعبہ پر آیات لکھی جاتی ہیں جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: اِس کام کے بارے میں عُلماء کا اختلاف ہے جِس میں سے صحیح یہ ہے کہ کعبہ شریفہ کے غِلاف پر آیاتِ مُبارکہ لکھنا جائز ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
«وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَی  الۡقُلُوۡبِ» (سُورۃ الحج: آیت 32)
”اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو ایسا کرنا یقیناً دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔“
فائده: کعبہ شریفہ، شعائراللہ میں سے ایک ہے، پس اُس کی تعظیم کرتے ہوئے اُس کے غِلاف پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہی کلام، یعنی قرآن کریم کی آیاتِ شریفہ لکھی جانا دُرست ہے، بشرطیکہ اُنہیں لکھنے میں کوئی اسراف، یعنی فضول خرچی نہ کی جائے، لہٰذا اسے لکھے جانے میں کوئی حرج نہیں۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 5: ”مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: یہاں غالباً فجر کی پہلی اذان کو تہجد کی اذان کہا گیا ہے، اور یہی اذان مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے کئی دیگر شہروں میں دی جاتی ہے، اور فجر کی اِس پہلی اذان کا ثبوت احادیث میں موجود ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ  عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ - أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ - أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِى بِلَيْلٍ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ» (صحیح البخاری: کتاب الأذان، باب الأَذَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، رقم الحديث621)
”تم میں سے کوئی بلال کی اذان پر اپنی سحری کو نہ روکے، کیوں کہ وہ (فجر کے وقت سے پہلے) رات میں اذان دیتے ہیں، (یا فرمایا) پکار لگاتے ہیں۔ تاکہ تم لوگوں میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں (سحری) کی طرف لوٹ جائیں۔ اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہوجائیں۔“
اور امی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» (صحیح البخاری: کتاب الأذان، باب الأَذَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، رقم الحدیث 623)
”بلال (فجر کے وقت سے پہلے) رات میں اذان دیتے ہیں، تو تم لوگ (سحری) کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ (عبداللہ) ابن أُم مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دیں۔“
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: 
«قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، أَوْ قَالَ: أَذَانُهُ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي، أَوْ قَالَ: يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب الطلاق، باب الإشارة في الطلاق والأمور، رقم الحدیث 4993)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی پکار، یا آپ نے فرمایا کہ "ان کی اذان" تم میں سے کسی کو اپنی سحری کرنے سے نہ روکے، کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ تم لوگوں میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں وہ (سحری کے لئے) لوٹ جائیں۔“
ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: 
«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب أخبار الآحاد، باب ما جاء في إجازة خبر الواحد، رقم الحدیث 6820)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کسی کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ تم میں جو قیام (اللیل) کرنے والے ہیں وہ (سحری کے لئے) لوٹ جائیں۔ اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔۔۔“
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہے: 
«اِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ ۔ قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً اَعْمٰی لاَ یُنَادِیْ حَتّٰی یُقَالَ لَه: اَصْبَحْتَ اَصْبَحْتَ» (صحيح البخاري: كتاب الأذان، باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره، رقم الحديث 592)
’’بلاشبہ رات کو بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ہیں کہ پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اتنی دیر تک اذان نہ کہتے تھے جب تک کہ یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ تو نے صبح کی ہے تو نے صبح کی ہے۔‘‘
فائدہ: ان روایتوں سے پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک اذان فجر سے پہلے ہوتی تھی جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ دیتے تھے اور دوسری اذان طلوع فجر کے ساتھ ہوتی تھی جو حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔ دونوں اذانیں بامقصد تھیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے اور نمازِ تہجد کے وقت کے لئے ایک اعلان کی حیثیت رکھتی تھی جبکہ حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا مقصد طلوعِ فجر کی اطلاع دینا تھا۔
لیجئے الحمد للہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مُبارک میں، اور یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے فجر کی دو اذانوں کا ثبوت مہیا ہے، اب اگر کوئی شخص اِن احادیث کا عِلم ہی نہیں رکھتا اور بلا عِلم سوال و اعتراض کرتا ہے تو اِس کا وبال اُسی پر ہے، اور اگر اُسے اِس کا  علم ہے، اور جانتے بوجھتے ہوئے فجر کی پہلی اذان کو تہجد کی اذان کا نام دے کربات کو بدلنے کی، حق چھپانے کی کوشش میں ہے، تو یہ لاعِلمی میں کی گئی کوشش سے بُرا اور بڑا وبال ہے۔
تنبیہ: احناف کے نزدیک یہ پہلی اذان فجر ابتداءِ اسلام میں تھی جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ (دیکھیں: الجامعۃ البنوریۃ العالمیۃ کا فتویٰ ’’فقہ حنفی میں تہجد کی اذان کی کیا حیثیت ہے۔۔۔؟‘‘) اگر سعودی عرب والے کرتے ہیں تو اسے منسوخ نہیں سمجھتے اور وہاں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے فتویٰ پر عمل ہوتا ہے؛ اس لئے یہ بات (سوال یا اعتراض) فضول ہے۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 6: ”مدارس میں ختم بخاری شریف ہوتا ہے جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: پہلی بات، جناب والا کو ایسی بات (سوال یا اعتراض) کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ صحیح بخاری قرآن کریم کے نزول، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کتنے سال بعد لکھی گئی تھی؟؟؟
تو اِس کتاب کی تعلیم سے متعلق کسی معاملے، یا کسی محفل کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث میں سے کہاں ملے گا؟
اور یہ بھی کہ اِس بات (سوال یا اعتراض) میں صحیح بخاری کا ذِکر ہی کیوں، مدرسوں اور اُن کے نظام اور ان کے تعلیمی نصاب سب ہی کچھ اِس کی زد میں آتے ہیں، بہرحال اِس مذکور بالا بات (سوال یا اعتراض) میں بات (یا سوال یا اعتراض) کرنے والے کی ختم بخاری شریف سے کیا مُراد ہے؟ اِس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے؟؟؟
اگر اِس سے مُراد مدارس میں تدریسی نصاب میں سے صحیح بخاری کی تعلیم مکمل ہونے پر اُس تعلیم سے متعلق کوئی محفل منعقد کرنا ہے تو اُس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ اسی دینی تعلیم سے متعلق ہے۔
ایک اور بات مدارس میں بخاری شریف کے اختتام پر اجتماع، اس کے علاوہ مدارس میں جو ختم بخاری شریف ہوتا ہے تو وہ علماء کے ہاں نہ تو واجب ہے اور نہ ہی فرض بلکہ لزوم کے اعتقاد کے بغیر بخاری شریف کی آخری حدیث کے موقع پر اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں علماء و طلباء کے علاوہ عوام شرکت کرتے ہیں مشائخ کے بیانات کے بعد آخر میں دعا سے اجتماع ختم ہوجاتا ہے اور اس اجتماع کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ تجربہ شاہد ہے کہ ختم بخاری پر دعائیں قبول ہوتی ہیں لہٰذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب سعید میں شامل ہوجائے۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 7: ”سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتماعات کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بیان کرنا ہے جس کے لئے کسی دن کی کوئی قید نہیں اور اس میں تو کسی مسلمان کو اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہاں اگر کوئی بدعتی اپنی بدعت کے جواز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اعتراض کرتا ہو تو اس سے بڑا گستاخ کوئی نہیں۔ فرقۂ بریلویت کے شیخ الحدیث عبدالرزاق بھترالوی صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’آجکل مختلف عنوانات سے ربیع الاول میں جلسے ہورہے ہیں، کسی کا نام پیغمبر انقلاب کانفرنس، کسی کا نام ذکر ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اور کسی کا نام سیرت النبیﷺ، کسی کا نام حسن قرأت و حمد و نعت کانفرنس۔۔۔ راقم نے کبھی کسی عنوان پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خیال یہ ہوتا ہے کہ میرے پیارے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا رہے خواہ کسی نام سے بھی ہوتا رہے۔“ (میلاد‌ مصطفیﷺ: ص4، مکتبہ امام احمد رضا) معلوم ہوا کہ ہمارے جلسوں پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں اور آپ بھی اسے درست سمجھتے ہیں تو جب ہمارے جلسے متفق علیہ ہیں اور آپ کے نزدیک بھی جائز‌ تو اس جائز کام پر کسی بدعت کو کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد بدعت ہے۔
دیوبندی عالم ساجد خان صاحب نقشبندی اس طرح کے اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: دوسری بات یہ کہ مطلق وعظ و نصیحت تعلیم و تعلم سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیلئے جلسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتا اور متواتر چلا آرہا ہے جس کا انکار بدیہات کا انکار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں کھڑے ہوکر وعظ و تذکیر کیا کرتے، دینی امور کی تعلیم دیتے، آداب و اخلاق سکھائے جاتے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینکڑوں صحابہ کرام سے سینکڑوں احادیث کا منقول ہونا اسی جلسوں کی غمازی کرتا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بیان کیا اور آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر جو ضخیم کتابیں ہیں، یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہر دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مجمعوں میں بیان ہوتے، حدیث کی کتابوں میں آپ کو یہ الفاظ مل جائیں گے: 
«سمعت عمر علی منبر النبیﷺ ۔۔۔» «سمعت عثمان بن عفان خطیبا علی منبر رسول اللّٰهِ ﷺ۔۔۔»
«قام موسی النبی خطیبا فی بن اسرائیل»
خود عبدالرزاق بھترالوی صاحب کہتے ہیں کہ: ’’اس وقت جلسے دو قسم کے ہوتے تھے ایک وہ جس میں نبی کریمﷺ کے اوصاف بیان ہوتے تھے وہ جلسہ اللہ نے منعقد فرمایا انبیاء کرام نے آپ کے اوصاف بیان کئے صحابۂ کرام نے آپ کے اوصاف کا تذکرہ کیا۔“ (میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم: ص 6) 
لہٰذا اتنا تو ثابت ہے کہ مطلق جلسہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت ہے اب رہا ان کیلئے کوئی دن یا وقت طے کردینا تو دیکھیں ایک ہوتا ہے تعین شرعی اور ایک ہوتا ہے تعین عرفی شریعت سے دونوں ثابت ہیں مثلاً تعین شرعی جیسے نماز کیلئے وقت، حج کیلئے جگہ، زکوۃ کا نصاب وغیرہا۔ اور تعین عرفی بھی جائز ہے جسے کسی کام کیلئے کوئی وقت انسان کی سہولت کیلئے مقرر کردیا کہ جی فلاں کا نکاح فلاں دن وقت میں ہوگا اور خود نبی کریمﷺ کی سیرت سے بھی ثابت ہے کہ جب ایک عورت آپ کے پاس آئیں اور گزارش کی کہ کچھ احادیث ہم سے بھی بیان ہوجائیں تو آپ نے ان کو کہا کہ فلاں وقت میں فلاں جگہ جمع ہوجانا۔۔
«جاءت امراۃ الی رسول الله ﷺ فقالت یا رسول الله ذھب الرجال بحدیثک فاجعل لنا من نفسک یوما ناتیک فیه تعلمنا مما علمك الله تعالی فقال اجتمعن فی یوم کذا و کذا و فی مکان کذا و کذا فاجتمعن» (بخاری ج 2، ص1087)
ظاہر ہے کہ یہ مکان و جگہ کی تعین عرفی ہی تھی کہ تاکہ وہاں جمع ہونے میں آسانی ہو مسئلہ تب بنتا ہے کہ جب ان دونوں تعینات کو ان کے مقام سے ہٹا دیا جائے یعنی تعین عرفی کو شرعی قرار دے دیا جائے کہ اگر فلاں وقت میں فلاں کام نہ ہوا تو تم وہابی گستاخ ہوجاؤ گے یا تعین شرعی کو معاذاللہ عرفی قرار دے دیا جائے۔ ہمارا ان جلسوں کیلئے وقت یا جگہ مقرر کردینا تعین عرفی کے طور پر ہے کہ لوگ اس تاریخ سے پہلے جلسے میں شرکت کیلئے تیار رہیں اور جگہ تک پہنچنے میں آسانی ہو  ہم سے کسی نے آج تک ان تعینات کو شرعی درجہ قرار نہیں دیا اور اس میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے اسی طرح ہم نے ان جلسوں کو کبھی ان کے مقام سے نہیں ہٹایا ان کا مقام ابھی بھی وہی تصور کیا جاتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یا بعد کے زمانوں میں ہوتا تھا مگر دوسری طرف جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا ایک مستقل حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے اس کیلئے 12 ربیع الاول کے علاوہ کسی اور دن کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کسی وجہ سے کسی وقت ان جلسوں جلوسوں کو بند کرنے کا کہہ دیا جائے تو قتل و قتال تک کی دھمکیاں دے دی جاتی ہیں خود رضاخانیوں نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ ہمارے ہاں جمعہ کی نماز کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی اس جشن کو پھر یہ جشن جن خرافات کا آج مجموعہ بن چکا ہے وہ اس پر متضاد تو کس طرح اس کا جائز قرار دے دیا جائے؟ فی الحال ہماری طرف سے اتنی تفصیل کافی ہے اگر چہ ہم کچھ اور بھی کہنے کا ارادہ کرتے ہیں اگر مخالفین کی طرف سے کوئی جواب آیا تو ان شآءاللہ مزید وضاحت پیش کی جائے گی۔“ (بریلویوں کی کرسمس (میلاد) پر دلائل کے جوابات۔ از مولانا ساجد خان نقشبندی)
بات (سوال، اعتراض) نمبر 8: ”ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے اور چلے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وعظ ونصحیت کے لئے دن کا مقرر کیا جانا ثابت ہے؛ لہٰذا اس ثابت شدہ امر کو ایسے امور سے خلط کرنا کہ جو ثابت نہیں، لایعنی ہے۔ ایک حدیث میں ہے: 
«عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا» (صحیح البخاری: كِتَابُ العِلْمِ، باب مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَىْ لاَ يَنْفِرُوا، رقم الحدیث 68)
”حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت کرنے کےلیے کچھ دن مقرر فرما رکھے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔“ ایک دوسری حدیث میں ہے:
«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا، إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَتَيْنِ؟ فَقَالَ: وَاثْنَتَيْنِ» (صحيح البخاري:‌ كِتَابُ العِلْمِ، بَابٌ هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي العِلْمِ؟ رقم الحدیث 101)
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لیے (بھی) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور ( شریعت کے) احکام بتائے۔“
ایک اور حدیث میں ہے:
«عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ۔۔۔» (صحیح البخاری: كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب تعليم النبي صلى الله عليه وسلم أمته من الرجال والنساء مما علمه الله ليس برأي ولا تمثيل، رقم الحدیث 7310)
”ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی حدیث مرد لے گئے، ہمارے لیے آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کردیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے انکو سکھایا تھا۔“
اور صحابئ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق روایت میں ہے:
«عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا» (صحیح البخاری: كِتَابُ العِلْمِ، باب مَنْ جَعَلَ لأَهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً، رقم الحدیث 70)
”حضرت ابو وائل سے روایت ہے، فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو ہر جمعرات میں نصیحت کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ نصیحت کیا کریں۔ اُنھوں نے فرمایا: میں یہ اِس لیے نہیں کرتا کہ کہیں تم لوگوں کے لیے یہ بھاری نہ ہو جائے۔ میں بھی اُسی طرح ناغہ کر کے تمہیں نصیحت کرتا ہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ناغہ کر کے نصیحت کیا کرتے تھے تا کہ ہم بے زار نہ ہو جائیں۔“
لہٰذا معلوم ہوا کہ وعظ ونصیحت، تعلیم وتبلیغ کے لئے انتظامی امور کی خاطر عورتوں کے لئے بھی خاص دن مقرر کیا جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح چلہ کی شرعی حیثیت:
«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى، ‌‌‌‌‌‏كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ، ‌‌‌‌‌‏بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، ‌‌‌‌‌‏وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ (سنن الترمذي: كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل التكبيرة الأولى، رقم
الحدیث 241 / بتحقیق علامہ البانی حسن)
”حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ اللہ کے لئے باجماعت نماز پڑھی اس کے لئے دو نجات لکھ دی جاتی ہے۔ جہنم سے نجات اور نفاق سے نجات۔“
اس سے معلوم ہوا کہ چلہ کو حالات کے بدلنے میں خاص اجر ہے۔
اسی طرح سالانہ اجتماع ہے اور اس کے لئے ہر سال کسی دن کی کوئی قید بھی نہیں اور اس میں بھی نصیحت ہوتی ہے دین پر عمل کرنے کی ترغیب اور یہ آپ کی بدعات کی طرح نہیں ہوتیں۔ لہٰذا آپ کی بات (سوال یا اعتراض) فضول ہے۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 9: ”صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: جناب والا! ہم صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ایام کو بھی خاص نہیں کرتے کہ یہی دن فرض و واجب ہے باقی دن نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے رافضی لوگ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف تبرا کرتے ہیں تو ان کے مقابلے میں اگر صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ایام اس طرح منایا جائے کہ ان کی دینی خدمات اور سیرت کو بیان کیا جائے تاکہ ان کے حالات اور معمولات لوگوں کے سامنے آئیں جس سے لوگوں میں دین کی رغبت اور شوق پیدا ہو تو یہ عمل جائز و مستحسن ہے تاکہ رافضیت اپنے مقصد میں ناکام ہوجائے۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں ہم صرف اس دن کا التزام و اہتمام نہیں کرتے بلکہ صحابۂ کرام کا تذکرہ بھی کسی دن کے ساتھ خاص نہیں سمجھتے بلکہ ان کا تذکرہ بھی ہر وقت کرنے کو پسند کرتے ہیں۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 10: ”جشن دیو بند و اہلحدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔“
جواب: جشنِ دیوبند بدعت کی تعریف میں داخل نہیں کیونکہ یہ امور دین میں سے نہیں۔ فرقۂ بریلویت کے بانی و مجدد اعظم احمد رضا خان صاحب تمباکو کو حلال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”رہا اس کا بدعت ہونا یہ کچھ باعث ضرر نہیں کہ یہ بدعت کھانے پینے میں ہے نہ کہ امور دین میں، تو اس کی حرمت ثابت کرنا ایک دشوار کام ہے۔“ (احکام شریعت: حصہ سوم، مسئلہ 37)
اسی طرح جشنِ دیوبند اموردنیا سے ہے نہ کہ امور دین سے۔ اور نہ ہی کوئی اس کو فرض، واجب سنت کا درجہ دیتا ہے۔ جب یہ امور دین سے نہیں تو شرعی بدعت کا اطلاق اس پر ہوتا نہیں۔
بات (سوال، اعتراض) نمبر 11: ”ذکر میلاد مصطفےﷺ منانے کا کسی صحابی، ائمہ یا محدث نے منع کیا ہو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ لیکن‼ جیسے ہی میلاد النبیﷺ منانے کی بات آ جائے تو سارے نام نہاد دِین کے ٹھیکیدار مفتے کھڑے ہوجاتے ہیں اور شرک و بدعت کا شور آلاپنا شروع کردیتے ہیں۔ آخر کیوں؟“
جواب: کیا ہی بھونڈی، بے تکی بات ہے، ارے صاحب منع تو تب کرتے جب اُن کے زمانے میں یہ مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد ہوتی، یہ بات، یا سوال، یا اعتراض تو اُلٹا جشنِ میلاد منانے والوں پر حُجَّت ہے۔
اِس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین، أئمہ محدثین و فقہا کرام رحمہم اللّٰہ جمعیاً کے زمانوں میں بھی یہ مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد نہیں ہوتی تھی، پس ہمارے نزدیک مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد بدعت ہے۔ ہم سیرتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے منکر نہیں جو ہم سے اس کے منع کی دلیل صحابیؓ، ائمہؒ یا محدثؒ  سے مانگی جارہی ہے۔ دلیل تو اس مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد منانے کے قائلین کے ذمے ہے کہ وہ اپنے اس مُرَوَّجَہْ جشنِ میلاد کے اثبات کی دلیل کسی صحابیؓ، ائمہؒ یا محدثؒ سے پیش کریں۔
تنبیہ: گیارہویں بات (سوال یا اعتراض) کے آخر میں بھی بات (سوال یا اعتراض) کرنے والے نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرنے والے مُفتے نہیں ہیں بلکہ مُفتے تو وہ ہیں جو میلاد کے نام پر لوگوں کے پیسے بٹورتے ہیں اور اپنے پیٹ، جیبیں اور گھر بھرتے ہیں، اور اپنے نام  و القابات کی نمود کے لیے لوگوں کا مال استعمال کرتے ہیں، اور  اپنے ساتھ ساتھ لوگوں کی آخرت تباہ کرتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍ خاک پائے اکابرِ اہل السنّۃ والجماعۃ علمائے دیوبند:
حافظ محمود احمد عرف عبدالباری محمود (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_5.html


مومن کی مثال کونپل جیسی ہےمومن

مومن کی مثال کونپل جیسی ہے
مومن
کی مثال پودے 
کی سب سے پہلی نکلی 
ہوئی ہری شاخ (کونپل) جیسی ہے کہ 
ہوا اسے کبھی جھکادیتی ہے اور کبھی برابر کردیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے سعد نے، ان سے عبداللہ بن کعب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکادیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا، ان سے ابن کعب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا۔ (صحيح البخاري. كتاب المرضى. کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں)
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ:
1. باب: بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا: ”جو کوئی برا کرے گا اس کو بدلہ ملے گا“۔
حدیث نمبر: 5643: حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن سعد، عن عبدالله بن كعب، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:"مثل المؤمن كالخامة من الزرع تفيئها الريح مرة وتعدلها مرة، ومثل المنافق كالارزة لا تزال حتى يكون انجعافها مرة واحدة"، وقال زكرياء، حدثني سعد، حدثنا ابن كعب، عن ابيه كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم. (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_21.html

Thursday, 14 October 2021

حضرت ‏لقمان ‏علیہ ‏السلام ‏کون ‏تھے؟

حضرت لقمان علیہ السلام کون تھے؟
قرآن مجید نے حضرت لقمان علیہ السلام کے پیغمبر ہونے پر بحث کو ضروری نہیں سمجھا لیکن بعض حضرات انہیں پیغمبر تسلیم کرتے ہوئے حضرت الیاس علیہ السلام کا نام دیتے ہیں لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے نزدیک  اتفاق رائے موجود نہیں. اکثر کا قول ہے کہ وہ حبشی تھے اور داؤد علیہ السلام کے دور میں تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے مقنول  ہے: ”کہ لقمان علیہ السلام حبشی تھے تجارت ان کا پیشہ تھا.“ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: ”حضرت لقمان پست قد، موٹے ہونٹ والے نوبیا قبیلے سے تھے.“ سعد بن مسیب فرماتے ہیں: ”آپ علیہ السلام مصر کے رہنے والے حبشی تھے.“
تعارف: اکثر علماء کرام کی رائے ہے کہ: حضرت لقمان علیہ السلام نبی نہیں تھے اور نہ ہی کسی نبی کے پیروکار تھے۔ 1100 ق م میں وہ نوبیا میں تشریف لائے۔ یہ حبشی النسل تھے اور بڑھئی تھے. مگر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ذہانت عطا فرمادے، وہ ایک پاکباز متقی انسان تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجے کی عقل وفہم، حکمت، دانائی  عطاء فرمائی۔ انہوں نے عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے احکام وہدایت کے موافق تھیں۔ رب العزت نے ایک حصہ قرآن میں نقل فرماکر ان کا مرتبہ اور زیادہ بڑھادیا ہے۔ اور بتایا کہ دیکھو یہ حکیم لقمان جو اپنی سلامتی طبع  وفکر کے ذریعے یہاں تک پہنچا وہ وہی اصول ہیں جن کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دعوت دے رہے ہیں.
قرآن کریم اور حکمت لقمان علیہ السلام:
قرآن میں اللہ تعالیٰ حضرت لقمان علیہ السلام کو حکمت ودانائی عطاء کرنے کا ذکر یوں فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّـهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ﴿١٢﴾"
حضرت لقمان علیہ السلام کی حکمت ودانائی:َ
حضرت لقمان علیہ السلام کی بنیادی شہرت ان کی دانائی اور خاص اپنے بیٹے کو وہ دانشمندانہ نصیحت ہے جس کو اپناتے ہوئے انسان ایک خوشحال اور پاکیزہ زندگی کے راستے پر چل سکتا ہے۔ لقمان علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام ستاروں، جانوروں اور اپنے اردگرد پائی جانے والی دیگر چیزوں کو دیکھتے ہوئے ان پر غور وفکر فرمایا کرتے.
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب روایت منقول ہے: ”ایک دن جب آپ علیہ السلام درخت کے نیچے سورہے تھے تو ایک فرشتہ آیا اور کہا: اللہ رب العزت آپ کو حکمت ونبوت میں سے ایک چیز عطاء کرنا چاہتے ہیں. انتخاب آپ کو کرنا  ہے، آپ علیہ السلام نے حکمت ودانائی کو چن لیا۔ راتوں رات ان پر حکمت برسائی گئی۔ آپ علیہ السلام خود کو فطرت سےز یادہ قریب پانے لگے۔ صبح کو ان  کی سب باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ علیہ السلام سے سوال ہوا۔ آپ علیہ السلام نے نبوت کے مقابلے میں حکمت  کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا: اگر  اللہ مجھے نبی بنادیتا۔ ممکن ہے کہ میں منصب نبوت کو نبھا جاتا۔ جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہیں ایسا نہ ہو میں نبوت کا بوجھ نہ اٹھاسکوں. اس لئے میں نے حکمت کو پسند کیا۔“ (اخذ: تفسیر ابن کثیر)
حضرت خالد ربعی کا قول ہے: ”حضرت لقمان علیہ السلام جو حبشی غلام بڑھئی بھی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا: بکری ذبح کرو اور اس کے جسم کا بہترین حصہ میرے پاس لاؤ۔ آپ دل وزبان  لے کر آگئے. اب کچھ دنوں بعد مالک نے پھر کہا: بکری  ذبح کرو اور اس کے جسم کا بدترین حصہ میرے پاس لاؤ۔ آپ علیہ السلام پھر دل وزبان مالک کے پاس لے آئے. وہ حیران ہوا اور پوچھا ایک ہی وقت میں یہ دونوں چیزیں  بدترین اور بہترین  کیسے ہوسکتی ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی حصہ نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر  سب سے بدتر بھی یہی  ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
آپ علیہ السلام کا غلام ہونا:
بعض روایتوں میں آپ علیہ السلام کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو اس بات کا  ثبوت ہے کہ  آپ علیہ السلام نبی نہ تھے۔ کیونکہ غلامی نبوت  کے منافی ہے۔ انبیاء کرام عالی نسب اور عالی خاندان ہوا کرتے ہیں. حضرت لقمان علیہ السلام  کسی بڑے گھرانے وکنبے سے نہ تھے، ان میں بہت سی بھلی عادتیں  تھیں، وہ خوش اخلاق، خاموش، غوروفکر  کرنے والے، دن کو نہ سوتے، غسل کرتے، لغو باتوں سے دور رہتے، ہنستے نہ تھے جو کلام کرتے حکمت سے خالی نہ ہوتا، اپنی اولاد کی وفات پر بالکل نہ روئے، و ہ بادشاہوں، امیروں کے پاس اس لئے جاتے کہ غور وفکر، عبرت ونصیحت  حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔ اور دانائی کا تقاضہ ہے کہ جو اصل  ہے اس کو پہچان  لیا جائے لہذا للہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس پر تو میری شکر گزاری کر، شکر گزار مجھ پر کچھ احسان  نہیں کرتا وہ اپنا  ہی بھلا کرتا ہے،
حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت:۔
یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے "ثاران" ہے، انہوں نے جو  بہترین نصیحت اپنے بیٹے کو کیں دوسرے لوگ بھی ان سے مستفید ہوئے اور اچھائی کی راہ اختیار  کی۔  
اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی۔ انسان  اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ لہذآ  مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنے انتقال سے قبل وصیت کے طور پر اپنے بیٹے کو بہترین نصیحت کیں وہ یہ ہیں:
پہلی نصیحت: (شرک نہ کرنا)
سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو  شریک نہ ٹھہرانا. یاد رکھو اس سے بڑے بے حیائی اور زیادہ برا کام  کوئی نہیں۔
"وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴿١٣﴾" (سورۃ لقمان)
حضرت لقمان علیہ السلام نے شرک کو "ظلم عظیم" فرمایا ہے۔ ایک روایت ہے کہ کہ جب سورہ الانعام کی یہ آیت نازل ہوئی:
"الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٨٢﴾"
تو صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت شاق  گزری۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا تو کوئی  شخص نہ ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام  کے خلاف کچھ ظلم نہ کیا ہو”،
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا. مطلب یہ کہ ظلم سے مراد شرک ہے.“
دوسری نصیحت:    
"يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ﴿١٦﴾" (سورۃ لقمان)
اے میرے بیٹے اگر اچھائی یا برائی رائی کے دانے کے برابر   بھی ہو یا فرض کرو پتھر کی کسی سخت چٹان کے اندر یا آسمانوں کی بلندیوں میں اللہ  تعالیٰ سے کوئی بات چھپی  نہیں ہوتی، اس ذات پاک کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ نیکی  وبدی کو ظاہر کردے گا۔
تیسری نصیحت: "يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ" (سورۃ القمان 17)
اے میرے بیٹے  نماز پڑھو. اللہ کے لئے اور نیکی کا حکم کرو  یعنی خود اللہ کی توحید  پر قائم  ہوکر دوسروں کو بھی نصیحت کرو کہ اچھی بات سیکھیں اور برائی سے بچے رہیں.
چوتھی نصیحت: "وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ" 
اے میرے بیٹے! دنیا میں جو سختیاں پیش آئیں انہیں تحمل سے برداشت کرو، سختیوں سے  گھبراکر ہمت ہار دینا حوصلہ مند بہادروں کا کام نہیں،
پانچویں  نصیحت: "وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ"
اے میرے بیٹے! غرور سے مت دیکھنا لوگوں کو اور حقیر نہ سمجھنا۔ متکبروں کی طرح بات  نہ کرنا بلکہ خندہ پیشانی سے ملنا۔
چھٹی نصیحت: "إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ" (18) سورہ لقمان 
اے میرے  بیٹے! اترانے اور شیخیاں مارنے والے کی کچھ عزت نہیں ہوتی بلکہ وہ ذلیل وحقیر ہوتا ہے۔ سامنے نہیں تو پیچھے لوگ اسے برا کہتے ہیں۔
ساتویں نصیحت: "وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ﴿١٩﴾"
اے  میرے بیٹے! تواضع ومتانت  اور میانہ روی اختیار کرنا، بلاضرورت مت بولنا، کلام کرتے وقت چلاکر بات نہ کرنا، اگر اونچی آواز سے بولنا کمال ہوتا تو گدھے کی آواز پر خیال کرو، زور سے بولنے  سے آدمی کی آواز بے سری ہوجاتی ہے.
حضرت  لقمان علیہ السلام نے اپنے  بیٹے کو جو نصیحتیں کیں ہیں ان میں حسن خلقی  اور تواضع کی ترغیب، شرک، شیخی  اور بداخلاقی کی مذمت کی گئی ہے، حضرت لقمان علیہ السلام نےان باتوں کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے انتخاب فرمایا کہ کائنات میں جس قدر بھلائی وبرائی پیش آتی ہے۔ ان سب کی بنیادی جڑ یہی امور ہیں. چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلاشبہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ حسن اخلاق کو  درجہ  کمال تک پہنچاؤں."
حضرت حکیم لقمان علیہ السلام کے حکیمانہ قول:َ
عرب میں حکمت لقمان کا کافی چرچ تھا. اکثر مجالس میں ان کے حکیمانہ اقوال کو نقل کیا جاتا۔ چنانچہ تابعین، صحابہ رضوان اللہ اجمعین  بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس سلسلے میں  بعض  اقوال منقول ہیں۔
1۔ حکمت ودانائی  مفلس کو بادشاہ بنادیتی ہے.
2۔  اللہ تعالیٰ جب کسی کو امانت دار بنائے تو امین کا فرض ہے کہ اس امانت کی حفاظت  کرے۔
3۔  اے بیٹے خدا تعالیٰ سے ڈر اور ریاکاری سے خدا کے ڈر کا مظاہرہ نہ کر لوگ اس وجہ سے تیری عزت کریں اور تیرا دل حقیقتاً گنہگار ہو۔
4۔ اے بیٹے خاموشی میں کبھی ندامت اٹھانی نہیں پڑتی. اگر کلام چاندی ہے سکوت سونا ہے۔
5۔ جو بوؤگے وہی کاٹوگے ۔
6۔  نرم گوئی دانائی کی جڑ ہے.
کسی نے لقمان علیہ السلام سے دریافت کیا سب سے زیادہ صابر کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: جس کے صبر کے پیچھے ایذاء نہ ہو۔ دسترخوان پر ہمیشہ نیک لوگوں کا اجتماع رہے تو بہتر ہے اور مشورہ صرف علماء حق ہی سے  لینا چاہئے۔ حضرت لقمان علیہ السلام سے پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دانائی کا راز کیا ہے؟ تو فرمایا: "سچ بولنا، وعدے کو پورا کرنا اور ان چیزوں سے گریز کرنا جن کا براہ راست مجھ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق: "جس کو دانائی عطاء کی گئی اسے بہت  بڑی خیر سے نوازا گیا." اور یہ دانائی کی تاریخی کتب وقرآن  مجید کی روشنی میں حضرت لقمان علیہ السلام کی وراثت  ہے۔ مولانا حاؔلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
حکمت  کو ایک گمشدہ لال سمجھو
جہاں پاؤ اپنا اسے مال سمجھو
حضرت لقمان علیہ السلام کی حکیمانہ صلاحیتوں اور طب  کی ادویات سے لوگ آج تک  فائدہ حاصل کررہے ہیں اور رہتی دنیا تک کرتے رہیں گے. بقلم: بنت احمد (الصفہ اسلامک ریسرچ  سینٹر) (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_12.html



طائف کا مظلوم مبلغ (صلی اللہ علیہ وسلم)

طائف 

کا مظلوم مبلغ 

(صلی اللہ علیہ وسلم)

بقلم: مولانا محمد غیاث الدین حسامی

دعوتِ دین اور اشاعتِ اسلام ایک اہم فریضہ ہے، اُمتِ محمدیہ کی فلاح و کامیابی اسی میں مضمر اور پوشیدہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک اُمتِ مرحومہ نے اس فریضہ کو بحسن و خوبی ادا کیا، کامیابی و کامرانی ان کی حلیف رہی، عروج و اقبال مندی ان کے ہم آغوش رہی، اور جب بھی اُمتِ مرحومہ نے اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی اور سہل انگاری کا مظاہرہ کیا، ذلت و ناکامی کی عمیق کھائیوں میں جاگری، شکستہ مائی اور زبوں طالعی اس کا مقدر ہوئی۔

دین کی دعوت اور اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے مسلسل جدو جہد اور پیہم قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے، جب تک اس مہتم بالشان عمل کے لئے قربانی نہیں دی جائے گی، یہ عمل مطلوبہ حد تک نتیجہ خیز اور بارآور ثابت نہیں ہوسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم پہلو بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بنیادی مقصد دین کی دعوت اور پیامِ حق کو پوری انسانیت تک پہنچانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں؟ اور اس راہ میں کتنی مشقتیں اور مصیبتیں جھیلی ہیں، اس کے لئے طائف کا دعوتی سفر ہمارے لئے انمول اور قابلِ تقلید ہے۔

نبوت کا دسواں سال جس کو 'عام الحزن' یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے، اسی سال ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشفق چچا ابوطالب اور وفا شعار رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا، چچا ابوطالب کے انتقال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ مغموم ہوئے، کیونکہ ابوطالب کفارِمکہ کے مقابلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کررہے تھے، ایک تو ظاہری اسباب کے دائرہ میں چچا ابوطالب کی حمایت و مدد اُن کے انتقال کے وجہ سے ختم ہوچکی تھی ، دوسرے چچا ابوطالب کا انتقال کفر پر ہوا، اس کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت قلق تھا، پھر تھوڑے ہی دنوں بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا جو نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، بلکہ حق کی آواز، سب سے پہلے لبیک کہنے والی اور گلشنِ اسلام کی پہلی کلی تھیں، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار و مشرکین کی ایذا رسانی سے ملولِ خاطر ہوتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غمگسار ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتیں۔ ان دونوں شخصیات کی وفات کے ساتھ ہی کفارمکہ کے ظلم و ستم کا بادل آپصلی اللہ علیہ وسلم پر پیہم برسنے لگا، طاغوتی طاقتوں نے مکرو فریب کے ترکش خالی کرنا شروع کردیئے، قریش کا یہ غیرانسانی اور بہیمانہ سلوک نہ صرف پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے تھے، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل، حکم ابن ابی العاص، عقبہ ابن ابی معیط اور اس کے ساتھیوں نے دوسروں کے مقابلے بہت زیادہ ایذاء و تکلیف پہنچائی۔

ابولہب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا، مگر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ ہر لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو تکلیف دینے کے در پے رہتا، موسم حج ہویا مکہ کا بازار جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو دین کی تبلیغ کرتے ہوئے پاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے آواز لگاتا اور کہتا کہ: لوگو! یہ شخص بددین اور جھوٹا ہے، اس کی باتوں میں مت آؤ، اور دوسروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتا، چنانچہ قریش آوارہ لڑکوں اور اپنے اوباش غلاموں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر بٹھادیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس راستے سے گزرتے تو سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعنے کستے، انہی حالات کی وجہ سے مکہ کی سرزمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ نبوت کا بادل پیہم برس رہا ہے، لیکن مکہ کی سرزمین بنجر اور غیر صالح ثابت ہورہی ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا رخ کیا جو آبادی اور خوشحالی کے اعتبار سے مکہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا، جیسے مکہ ہبل کی عبادت کا مرکز تھا تو طائف میں لات کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔

خاندانِ بنوہاشم کی طائف میں رشتہ داریاں تھیں، چند قبیلوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں کا خاندان کہا جاتا ہے، مکہ کے اہلِ ثروت تجارت اور گرمیاں گزارنے طائف آیا کرتے تھے۔ زرخیز زمین، خوبصورت موسم اور باغات کی کثرت کی وجہ سے یہاں کے باشندے کافی خوش حال تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر نہ وہاں کے باشندوں کی خوش حالی اور زرخیزی سے متاثر ہوکر کیا تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے ملنے اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے آئے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفرپیدل چلتے ہوئے خالص توحید کے پیام کو عام کرنے اور انسانیت کو کفروشرک کے ظلمات سے نکال کر ایمان و یقین کے روشنی سے منور کرنے کے لیے کیا تھا اور اس اُمید سے آئے تھے کہ یہاں کے لوگ پیامِ توحید قبول کرلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ ٹھکانہ دے دیں، مگر طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی اہلِ مکہ کو بھی جرأت نہیں ہوئی تھی۔

طائف کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سخت ترین دن تھا، چنانچہ صحیحین میں ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہرضی اللہ عنہا نے سوال کیا: "یا رسول اللہ! آپ کی زندگی میں اُحد سے بھی زیادہ سخت ترین دن کوئی گزرا ہے؟ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عائشہ! طائف کا دن بڑا سخت ترین دن تھا جب میں نے اپنے آپ کو وہاں کے سرداروں کے سامنے پیش کیا تھا۔

طائف مکہ مکرمہ سے ۱۲۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرقی جانب اور سطح سمندر سے تقریباً ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھا۔ اسلام کی تبلیغ کے لیے جب وہاں کے سرداروں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی رشتہ دار بھی تھے، ان دنوں طائف میں عمرو بن عمیر بن عوف کے تین لڑکے عبدیالیل، مسعود اور حبیب بنو ثقیف کے سردار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے مذکورہ بالا تینوں سرداروں سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور اپنی مدد کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دس دن وہاں قیام کرکے ان کو سمجھانے کی پوری کوشش کی، کفر و شرک چھوڑ کر ایمان کی طرف آنے کی دعوت دی، لیکن ان تینوں نے نہایت گستاخانہ جواب دیا۔

ایک نے کہا: تمہارے سوا اللہ کو اور کوئی نہ ملا جسے نبی بناتا؟ دوسرے نے کہا: کعبۃ اللہ کی اس سے بڑی اور کیا توہین ہوگی کہ تم سا شخص پیغمبر ہو؟ تیسرا بولا: میں تم سے ہر گز بات نہ کروں گا، اگر تم سچے ہو تو تم سے گفتگو خلافِ ادب ہے اور اگر جھوٹے ہو تو گفتگو کے قابل نہیں۔ مذکورہ سرداروں نے نہ صرف ہدایت کو قبول نہیں کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو یہ حکم بھی دیا کہ بہت جلد آپ یہ بستی چھوڑدیں۔ ان بدبختوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، طائف کے بدمعاشوں اور اوباشوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگادیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑائیں، چنانچہ انہوں نے راستہ سے گزرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارنے شروع کردیئے۔

حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ ان پتھروں کے لیے سپر بن جاتے، یہاں تک  انکا سر پھٹ گیا، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم لہو لہان ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تیاں خون سے بھر گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور ہوکر بیٹھ جاتے تو بازو تھام کر کھڑا کردیتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلنے لگتے تو پتھر برساتے، ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے، پتھروں کے برسانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکوبہت چوٹیں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمزخموں سے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو اپنی پیٹھ پر اُٹھاکر آبادی سے باہر عتبہ اور شیبہ کے باغ میں لے آئے، عتبہ اور شیبہ باوجود کفر پر قائم ہونے کے شریف الطبع اور نیک نفس تھے، اس باغ میں بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے دعا فرمائی جو دعائے مستضعفین کے نام سے مشہور ہے، اس دعا کا ایک ایک فقرہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدیت اور تواضع و انکساری کے سانچے میں ڈھلا ہوا اور سوزو گداز اور درد و کرب کے عطر میں بسا ہوا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طائف کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بدسلوکی کی اور بدتمیزی کی اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر مغموم اور رنجیدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اللّٰہم إلیک أشکو ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وہوانی علی الناس یا أرحم الراحمین أنت رب المستضعفین وأنت ربی ٗ إلی من تکلنی؟ إلی بعید یتجہمني ؟ أم إلی عدو ملکتہ أمری۔ إن لم یکن بک علی غضب فلا أبالی ٗ ولکن عافیتک ہی أوسع لی ٗ أعوذبنور وجہک الذی أشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ أمر الدنیا والآخرۃ من ان تنزل بی غضبک أو یحل علی سخطک ٗ لک العتبی حتی ترضی ٗ ولا حول ولا قوۃ إلا بک ۔))

"بارالٰہا! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتاہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے، تو مجھے کس کے حوالہ کررہا ہے؟ کیا کسی بے گانہ کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملہ کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ کشادہ ہے، میں تیرے چہرہ کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری رضا مطلوب ہے، یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔"

عتبہ اور شیبہ کے اسی باغ میں عداس نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ انگور لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیئے، آپصلی اللہ علیہ وسلم 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کہہ کر انگور کھانے لگے تو عداس حیرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی صور ت دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کہاں کے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟ اس نے کہا کہ: وہ عیسائی ہے اور نینویٰ کا رہنے والا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس صالح انسان کی بستی کے ہوجن کا نام یونس بن متی علیہ السلام تھا؟ عداس نے پوچھا کہ آپ کس طرح انہیں جانتے ہیں؟ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ: وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں، عداس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’محمد‘‘ تب عداس نے کہا کہ: میں نے توریت میں آپ کا اسمِ مبارک دیکھا ہے اور آپ کے اوصاف بھی پڑھے ہیں، اس کے بعد اس نے کہا کہ: میں ایک عرصہ سے یہاں آپ کے انتظار میں ہوں، مجھے اسلام کی تعلیم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام پیش فرمانے پر وہ فوری مسلمان ہوگیا اور جھک کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر، ہاتھ اور پاؤں چومنے لگا۔

طائف کے اس سفر میں بہت سی باتیں قابلِ توجہ اورلائق تقلید ہیں، پہلی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کے لئے بہت فکر مند اور بے چین رہا کرتے تھے، مکہ کے مشرکین نے جب دینِ اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے لوگوں کو سمجھانے کے لئے وہاں کا سفر کیا، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے ہر فردِ بشر کو اسلام کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی درد اور جذبہ کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا: ’’شاید اے محمد! آپ تو اہل مکہ کے ایمان نہ لانے کے غم میں اپنی جان کھودیں گے۔‘‘ (الشعراء: ۳)

سفرِطائف سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ دشمنوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ بہت بہتر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بہت اعلیٰ تھے، اور اسی اعلیٰ اخلاق کے ساتھ آپصلی اللہ علیہ وسلم طائف کے سرداروں اور لوگوں سے ملے اور ان کے نازیبا سلوک کے باوجود اپنے عالی اخلاق کو پیش کیا، اور اُمت کو بھی یہ تعلیم دی کہ دعوت و تبلیغ کے لئے داعی کے اندر عمدہ اخلاق اور صبر و تحمل کا ہونا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی اخلاق کو قرآن مجید میں اخلاقِ عظیمہ کہا گیا اور اسی کی تکمیل کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

اس سفر میں ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہے، خوشی ہو یا غم، راحت ہو یا مصیبت، ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنا کامیاب انسان کی دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے سفر میں یہی کام کیا، جب طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ترین تکلیفیں دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا جسم لہولہان ہوگیا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ ہی سے مدد کے طلب گار ہوئے۔

واقعۂ طائف میں ایک بات جو سب سے زیادہ اہم اور قابلِ توجہ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو و درگزر ہے، بے انتہا تکلیف دینے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کردیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کا فرشتہ بھی بھیج دیا تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کی ضرورت تھی؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ: اے جبرئیل! ان کو عذاب میں مبتلا مت کرو، ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوجائیں جو میرے دین کو ماننے والے ہوں گے، اسی عفو و درگزر اور صبر و تحمل کا نتیجہ تھا کہ چند ہی سالوں میں طائف کے لوگ ایمان سے مشرف ہوئے۔

اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام تر مصائب و تکالیف کے باوجود تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دیتے رہے، جس بستی سے گزر تے، وہاں کے باشندوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عتبہ اور شیبہ کے باغ میں کام کرنے والے شخص عداس نے ایمان قبول کیا۔ علماء نے لکھا کہ عداس رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا اس سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_14.html




Sunday, 10 October 2021

پروپیگنڈوں کی تلوار سے سچائی کا قتل

پروپیگنڈوں 
کی تلوار سے سچائی کا قتل
بقلم: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو سماج میں ایک عرصہ سے مذہب کی تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے، ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیالوجی کا نام دیا جاسکے، جو لوگ ’’رام‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں، وہ بھی ہندو ہیں، اور جوگ ’’راون‘‘ کو خدا قرار دیتے ہیں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہیں، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں، اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہیں، وہ بھی ہندو ہیں، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اوراسی لئے ہندستان میں ہزاروں سال سے دبے کچلے ہوئے لوگوں کا احساس ہے کہ ہندو مذہب دراصل مذہبی قالب میں ’’برہمن واد‘‘ کی حفاظت سے عبارت ہے، اس نظام نے صدیوں سے دلت اور پست طبقات کو اپنے طاقتور پنجہ میں دبا رکھا ہے، جب بھی انھوں نے انگڑائی لینے کی کوشش کی، نہایت ذہانت کے ساتھ ان پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی گئی۔ 
حالانکہ ہمارا موجودہ جمہوری ڈھانچہ ذات پات کے تصور کی نفی کرتا ہے؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی برہمنوں کی تعداد تو چار، پانچ فیصد سے زیادہ نہیں؛ مگر حکومت کے کلیدی عہدوں پر ان کی تعداد ۶۴ فیصد ہے، سیاسی تبدیلیوں سے چہرے بدلتے ہیں؛ لیکن اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، آج تک پست اقوام میں کوئی شنکر اچاریہ اور مٹھ کا سربراہ نہیں بن سکا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قوم میں یہ مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں، ان حالات نے دبے کچلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ ہندو ازم کے اس قید خانے سے اپنے آپ کو باہر نکالیں اور باعزت انسان کی طرح سماج میں زندہ رہیں، اس کے لئے مشہور رہنما امبیڈکر نے بودھ ازم کو قبول کیا؛ لیکن جلد ہی سمجھ دار اور باشعور لوگوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ شراب کو آب سمجھنے کے مترادف ہے، بدھسٹ سماج کو ہندو سماج نے اس طرح اپنے اندر جذب کرلیا ہے کہ گویا یہ قید خانہ کی ایک کوٹھری سے نکل کر دوسری کوٹھری میں داخل ہونا ہے، وہی سماج، وہی تہذیب، وہی رسوم و رواج، بس خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ یا کچھ دیوتاؤں کی تبدیلی، یہاں تک کہ دستورِ ہند کے مطابق بھی اس تبدیلی ٔمذہب کے باوجود وہ ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے، لوگ یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ جن مذاہب کی پیدائش اور نشوو نما ہندوستان کی سر زمین میں ہوئی ہے، برہمنوں نے اپنی ذہانت سے ان کا ایسا ’’ہندو کرن‘‘ کردیا ہے، کہ اب کسی کے لئے ان مذاہب میں سے کسی کو اختیار کرنے کے باوجود ہندو سماج کے مظالم سے نجات پانا اور انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس لئے بے چین اور بے قرار ذہن و فکر رکھنے والوں کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ہیں: عیسائیت یا اسلام، اس سے کسی حقیقت پسند غیرمسلم کو بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے عقائد واُصول جتنے صاف و شفاف، عقل و فطرت سے ہم آہنگ، متوازن اور انسانی ضروریات کے لئے موزوں اور مناسب ہیں، کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی، جس کا خلاصہ ہے: اللہ کی وحدت اورانسانوں کی وحدت، یہ اسلام کا انقلابی تصور ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اگر خدا ایک ہے، اس کا کوئی خاندان و کنبہ نہیں، اور کسی انسانی طبقہ سے اس کی قرابت مندی اور رشتہ داری نہیں تو اس سے خود بخود انسانی وحدت اور مساوات کا تصور اُبھرتا ہے، پھر اسلام میں کوئی عقیدہ ’’پہیلی‘‘ کی طرح نہیں ہے کہ اس کا سمجھنا مشکل اور سمجھانا مشکل تر ہو، جیساکہ ہمارے عیسائی بھائیوں کے یہاں ایک میں تین اور تین میں ایک کا تصور (Concept of the Trinity) ہے، یا ’’عقیدۂ کفارہ‘‘ (The Atanement) ہے کہ غلطی کوئی کرے اور سزا حضرت مسیح علیہ السلام کو جھیلنی پڑے، اسی لئے مسلمان حالانکہ اس ملک میں بہت تھوڑی تعداد میں آئے؛ لیکن اس ملک کے باشندوں نے جو طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ظلم وجور سے دو چار تھے اور برہمنوں کو نذرانہ دیتے دیتے عاجز آچکے تھے، انھوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا، افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش اور برما تک جو مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے وہ اسلام کی اسی کشش کا نتیجہ ہے! 
بعض لوگ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک میں جبرا تبدیلی ٔ مذہب کروایا ہے؛ لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود عقل عام اس کو جھٹلا تی ہے، ہندوستان کے جنوبی اورساحلی علاقوں میں تو اسلام حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے عہد میں آچکا تھا اور نہ صرف پَرْجَا بلکہ بعض راجاؤں نے بھی اسلام قبول کیا تھا، اس وقت یقینا درۂ خیبر سے کوئی فوجی قافلہ ہندوستان نہیں پہنچا تھا، اس وقت جبر و دباؤ کی کیا گنجائش ہوسکتی تھی؟ پھر غور کیجئے کہ مسلمانوں نے اس ملک کے مختلف حصوں پر کم و بیش آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے، آج جب حکومت کے بغیر ہندو سماج میں تبدیلی ٔ مذہب کا طوفان اُٹھا ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں آبادی کا توازن بدل چکا ہے، تو اگر اتنا طویل عرصہ جبر و دباؤ سے کام لیا جاتا تو کیا یہ ملک مسلم اکثریت نہیں بن گیا ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ جبرو دباؤ تو الگ چیز ہے، مسلمان حکمرانوں نے تو عام طور پر اسلام کی تبلیغ ودعوت کی طرف بھی توجہ نہیں کی اور انتہائی تغافل برتا، ورنہ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی بھی کوشش کی جاتی تو اسلام کی کشش ہی لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے کافی ہوتی.
اسلام کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے زیادہ قابل توجہ مذہب عیسائیت ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ پچھلے سو سال میں ہندؤوں کی بہت بڑی تعداد نے عیسائیت کو قبول کیا ہے، کئی ریاستوں میں تو عیسائیت اکثریتی مذہب بن گیا ہے، میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دو ہے: ایک تو مادی وسائل کا استعمال، اسپتال، درسگاہیں اور معاشی فلاح کے مراکز کے قیام و انتظام نے عیسائیت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ مقامی آبادی میں اثر ونفوذ حاصل کرے اور ان میں داخل ہوسکے، دوسرے اگرچہ عیسائیت کو ایک عالمی مذہب اور ترقی یافتہ قوم کا مذہب ہونے کی وجہ سے ہندو ازم کے ساتھ مکمل طور پر جذب نہیں کیا جاسکتا ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص، نہیں ہے، شادی، بیاہ، سماجی رسم و رواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں، ان کے پاس حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی مکمل نظامِ حیات نہیں ہے، جو ان پر قیود و حدود عائد کرتا ہو اور اپنے پہلے معمولات سے روکتا ہو، اکثر اوقات تو نام بھی تبدیل نہیں کئے جاتے، بس کچھ تہواروں کا فرق ہوتا ہے، شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے، مورتی کی پرستش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے، اس لئے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گذرنا پڑتا ہے، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں ہے، اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیرمعمولی تبدیلی سے گذرنا نہیں پڑتا ۔
اسلام مذہب کے معاملہ میں ایسی دو رنگی اور دو عملی کوروا نہیں رکھتا، اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں؛ بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے، اس کی عبادتیں الگ ہیں، اس کے تہوار الگ ہیں، وہ غیر مسلم خاندانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتا، وہ ایمان لانے کے بعد اپنے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتا، اس کو کھانے، پینے، خریدنے، بیچنے، کمانے غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حدیں قائم کرنی پڑتی ہیں اور حرام سے بچنا پڑتا ہے، دین یقینا آسان ہے؛ لیکن جو نفس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کا عادی بن چکا ہو، اس کے لئے حق پر گامزن ہونا لوہے کا چنے چبانے کے مترادف ہے، گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے، اس لئے یہ پھولوں کی سیج نہیں؛ بلکہ کانٹوں کا فرش ہے، اسی بناء پر جو لوگ خدا سے ڈرکر سچائی اورحقیقت کی تلاش کے جذبے سے معمور ہوکر اور عزم و ارادہ کی قوت سے مسلح ہوکر قدم اُٹھانا چاہیں، وہی اس راہ پر آسکتے ہیں ، کسی بھی شخص کو حقیر، معمولی اور مادی مقاصد کے تحت اس راہ میں آبلہ پائی کا حوصلہ نہیں ہوسکتا؛ چنانچہ ایک تو ان مشکلات اور دوسری طرف دعوتِ اسلام کے کاموں سے غفلت کی بناء پر آزاد ہندوستان میں عیسائیت کی طرف ہندو سماج کا رجوع زیادہ ہوا ہے۔ 
ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، جو ہر شخص کو اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے؛ چنانچہ دستورِ ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ: ۲۵ میں تمام شہریوں کے لئے آزادیٔ ضمیر، آزادی سے مذہب پر عمل کرنے کا اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق شامل ہے، اس لئے سنگھ پریوار کا ’’دھرم پری ورتن‘‘ پر چیں بہ جبیں ہونا یقینا ہندوستان کے دستور سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے، اپنی بیماری کو دور کرنے کی بجائے ان لوگوں کو بُرا کہنا جو بیماری کو بیماری سمجھتے ہیں، بے وقوفی ہی کہی جاسکتی ہے۔ 
اسلام نے بھی ضمیر و اعتقاد کی آزادی کو تسلیم کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا کہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ واضح ہوچکی ہے ؛ لہٰذا دین کے معاملہ میں کوئی جبر و دباؤ نہیں ہے: 
لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرۃ: ۲۵۶) 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے، آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں: 
اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ (الغاشیہ: ۲۱-۲۲) 
ایک موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ہی مومن ہوجاتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کردیں گے؟: فَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (یونس: ۹۹) 
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، آپ پر تو محض یہ ہے کہ پیغامِ ہدایت کو صاف صاف اور کھلے طور پر پہنچا دیں اور بس: 
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (النحل: ۸۲) 
آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ کفر پر بہ ضد ہیں، ان سے کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین: 
لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنْ (الکافرون: ۶) 
ایک اور موقع پر آپ کی زبان سے کہلا گیا  کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال: 
لَنَا اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ (الشوریٰ: ۱۵)، 
غرض عقیدہ و ضمیر کی آزادی کا قائل اسلام بھی ہے، وہ کسی شخص کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس وقت دعوت اسلام کا کام کرنے والی بعض شخصیتوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، دعوت کے کام کو جبر ودباؤ یا مالی تحریص کے ذریعہ دھرم پریورتن کا نام دینا سفید جھوٹ اور کھلی ہوئی زیادتی ہے، ہندوستان اور بالخصوص ریاست اترپردیش میں کیا اس بات کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ کوئی مسلمان یا عیسائی زور زبردستی سے کسی ہندو کا مذہب تبدیل کرا دے اور مسلمان جو بنیادی ضروریات کے لئے محتاج ہیں، کیا وہ پیسوں کے بَل پر برادران وطن کا مذہب تبدیل کرواسکتے ہیں؟ یہ صرف ایک پروپیگنڈہ اور سچائی کا قتل ہے، جو میڈیا اور سرکاری ادارے کررہے ہیں، اور اس کا مقصد نفرت پھیلانا اور ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ سے لڑانا ہے، جو سازشیں سنگھ پریوار کے لوگ اقلیتوں کے خلاف کررہے ہیں، اگر وہ اس کی بجائے ہندو سماج کی اصلاح کی طرف دیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مفید ہوتا۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://saagartimes.blogspot.com/2021/10/blog-post_10.html