Thursday, 15 October 2026

نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتوں کی تسبیح

"نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتوں کی تسبیح"
یہ تسبیح نہایت ہی عظیم الشان اور پُر فضیلت ذکر ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تسبیح کی فضیلت بیان فرمائی، وہ یہ ہے:
سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سلطنت اور بادشاہی ہے، پاک ہے وہ ذات جو عزت اور قدرت والی ہے، پاک ہے وہ ذات جو زندہ ہے اور جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، وہ پاک ہے، پاکیزہ ہے، فرشتوں اور روح کا پروردگار ہے۔
فضیلت: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ نے نور کا ایک دریا پیدا فرمایا ہے، جس کے کنارے نور کے پہاڑوں پر نورانی فرشتے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں نور کے دانے (تسبیح) ہیں، اور وہ یہی تسبیح پڑھتے ہیں۔ جو کوئی بھی اس تسبیح کو دن بھر میں ایک مرتبہ، یا ماہ، یا سال میں، یا عمر بھر میں صرف ایک بار بھی پڑھ لے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، چاہے وہ گناہ سمندر کی جھاگ، میدان کی ریت کے برابر ہوں، یا وہ جہاد سے بھاگنے والا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ (ماخذ: دیلمی، کنزالعمال) (ترتیب شریف 4)
خلاصہ: یہ تسبیح گناہوں کی مغفرت، نور، فرشتوں کی تسبیح میں شمولیت اور اللّٰہ کی قُربت کا ذریعہ ہے۔ کم از کم ایک بار ضرور پڑھی جائے، اور بہتر ہے کہ روزانہ کا معمول بنایا جائے۔ (منقول) ( #ایس_اے_ساگر )

No comments:

Post a Comment