Wednesday, 1 August 2018

انتخابات میں مذھبی جماعتوں سے عوام کیوں مایوس ہوتے ہیں؟

انتخابات میں مذھبی جماعتوں سے عوام کیوں مایوس ہوتے ہیں؟
ہم نے نفاذ اسلام کی جو تصویر پیش کی ہے وہ نہایت محدود ہے. ریاست کے بنیادی مسائل. جیسے مالیاتی پالیسی، آمدن میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، سسٹمس اور فریم ورکس کو مضبوط کرنا، good governance قائم کرنا، کرپشن کا خاتمہ، مناصب پر  اہل لوگوں کا آنا. دیانت داری، چستی اور مطلوبہ علم و مہارت کو سیکھ کر  اپنے فرائض منصبی انجام دینا. گردو پیش اور ماحولیات کی صفائی ستھرائی پر کام کرنا. سڑکوں اور عوامی مقامات پر نظم و ضبط قائم کرنا، ملک کا انفراسٹرکچر کھڑا کرنا، عدل قائم کرنا، دنیا کے نظاموں میں ترقی یافتہ ممالک سے سیکھنا، ہر قسم کی مفید تعلیم کو فروغ دینا، صحت و علاج کا جدید نظام بنانا، بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات قائم کرنا، حرب وصالح اور ڈپلومیسی کو سمجھنا وغیرہ
صحیح بات یہ ہے کہ حکمران کے بنیادی کام یہ ہیں. حکمران مجلس ذکر منعقد کرنے، مدارس میں پڑھانے یا فتوی دینے کے لئے نہیں چنا جاتا (کرلے تو یقینا اچھی بات ہے)
ھم جب عمر اول رضی اللہ عنہ  اور عمر ثانی رحمہ اللہ اور عباسیہ وغیرہ کے دور حکومت کی بات کرتے ہیں، تو بحیثیت حاکم یہی صفات ذکر کرتے ہیں.
لیکن اب عموما دینی قیادت اور منبر و محراب نے حکمرانی کے فرائض کو، چند عبادات، موسیقی کی حرمت، ظاہری دینداری وغیرہ میں محدود کردیا  ہے.
حکمران کی گرفت اور مخالفت تو شدید اور کثیر ہوتی ہے، لیکن اس کے کسی اچھے عمل کی حوصلہ افزائی خفیف بلکہ نادر اور قلیل ہوتی ہے.
ضرورت یہ ہے کہ  پورے دین کا پیکج بیان کیا جائے تاکہ، لوگوں میں یہ اعتماد پیدا ہو کہ دینی قیادت ہمارے جملہ مسائل اور ان کے حل کا ادراک رکھتی ہے.
اس پیکج میں اول الذکر اور آخر الذکر دونوں باتوں کو اپنے اپنے مقام پر بیان کیا جائے.
سیاست اور ملکی حالات پر وہی بات کریں اور وہی انتخابات کا حصہ بنیں جو سیاست اور نظاموں سے متعلق علوم حاضرہ کو پڑھے ہوئے ہوں.
ورنہ gdp, per capita income, balance of payments جیسی بنیادی اصطلاحات بھی نہ سمجھنے پر میڈیا انہیں مذاق کا نشانہ بناتا رہے گا.
اور  دینی قیادت الیکشن میں عوام کا رہا سہا اعتماد بھی کھو دے گی. لوگ بیان ان کا سنیں گے، فتوی بھی لیں گے، نکاح اور تعویذ بھی ہم سے کروائیں گے لیکن ووٹ اسے دیں گے جو ان کے مسائل حل کرے.
ذرا سوچئے!
احمد افنان

برادرانِ وطن کو دین کی دعوتوقت کی اہم ضرورت

برادرانِ وطن کو دین کی دعوت
وقت کی اہم ضرورت

ان دنوں وطنِ عزیز کی صورت حال قطعی طور پر مسلم مخالف ہے ، ایک طرف تو ہجومی تشدد کے واقعات نے ملک بھر میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کردیا ہے اور سپریم کورٹ کی سخت ہدایات کے باوجود ان واقعات کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا ہے ، دوسری طرف حکومت کے بعض وزراء ، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کُھلے بندوں ایسے بیانات دیتے پھر رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ یہ ملک صرف ہندؤں کا ہے اور انہی کو یہاں رہنے کا حق حاصل ہے، مسلمانوں کے تئیں صوبائی اور مرکزی حکومتوں کا رویّہ بھی مایوس کن ہے ، موب لنچنگ کے کسی بھی ایک واقعے میں پولیس کا رول غیر جانب دارانہ اور منصفانہ نظر نہیں آتا ، اس مجموعی صورت حال نے اکثریتی طبقے کے ذہن و فکر کو متأثر کرنا شروع کردیا ہے ، اس طبقے سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ کُھل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ، حال ہی میں اترپردیش کے نجیب آباد سے تعلق رکھنے والی ایک ہندو خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے ، اس ویڈیو میں یہ خاتون کسی ایسی محفل میں جہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سادھو سنت بھی موجود ہیں بڑے جوشیلے انداز میں تقریر کرتی ہوئی نظر آرہی ہے، نو دس منٹ کی اس تقریر میں خاتون نے اسلام کے کلمۂ توحید ، اللہ کی وحدانیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے لے کر نماز، روزہ ، حج، قرآن، عربی زبان، مدارس اور مساجد تک سب کو اپنے زہریلے خیالات کا نشانہ بنایا ہے، اس خاتون کی زہر آلود تقریر پر سامعین گوش برآواز نظر آرہے ہیں، وقفے وقفے سے تالیاں بجاکر خاتون مقرر کا حوصلہ بھی بڑھایا جارہا ہے، سادھو سنتوں کے چہرے خوشی سے کِھلے پڑ رہے ہیں ، تقریر کے اختتام پر ایک سادھوی اسے گلے لگاتی ہے ، اور سادھوؤں کی دی ہوئی ایک مالا بھی اس کے گلے میں ڈالتی ہے جس پر مقرر خاتون جھک کر اور ہاتھ جوڑ کر شکریہ بھی ادا کرتی ہے، صاف نظر آرہا ہے کہ تقریر کرنے والی تقریر کرکے انتہائی خوش ہے اور یہ سمجھ رہی ہے کہ اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کیا ہے، سننے والے بھی اس بدبختانہ تقریر کو سن کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے کوئی پنہ کا کام کیا ہے، پوری تقریر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے والی اور ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے والی ہے، اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہو اور انصاف کا بول بالا ہو تو اس طرح کی تقریریں کرنے والوں اور ان تقریروں پر سر دُھننے والوں کو سلاخوں کے پیچھے جگہ ملے، یہ ویڈیو اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں، ابھی تک بھی کسی سرکاری ایجنسی نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے اور نہ کہیں کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، اگراشتعال انگیزی کا یہ واقعہ مسلمانوں کی کسی محفل میں پیش آتا اور یہ تقریر کسی مسلمان نے کی ہوتی تو اب تک وہ آزاد نہ گھوم رہا ہوتا، قانون اور انصاف کے یہ دو پیمانے ملک کی سمتِ سفر واضح کرنے کے لئے کافی ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے ساتھ ہی اس کے جواب کا سلسلہ بھی شروع ہوا، جو ابھی تک جاری ہے، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بعض غیر مسلم بھائیوں نے بھی اس بہن کی خبر لی ہے، یہ جوابی ویڈیوز یوٹیوب پر آچکی ہیں اور لاکھوں لوگ ان کو دیکھ چکے ہیں، اطمینان کی بات یہ ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی یہ ویڈیو دیکھی اور اس کا جواب بھی دیا ، اس کے ساتھ ہی مقرر خاتون کو اسلام کی دعوت بھی دی، اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جاری سرگرمیوں سے ہمارے بڑے علماء اچھی طرح واقف ہیں اور ان کا نوٹس بھی لے رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی جوابی ویڈیوز سے ہم ملک کے ماحول کو بدل سکتے ہیں؟ یہ ایک وقتی چیز تو ہوسکتی ہے ، ہمیں اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں، مگر ضرورت ہے کہ اس کا کوئی پائیدار حل سوچا جائے، ہم تو یہ سمجھتے ہیں ہماری خاموشی بلکہ احتیاط پسندی اور دوسروں کی پیش قدمی نے بہت سے برادران وطن کے دل دماغ میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے منفی خیالات پیدا کردئے ہیں، ضرورت ہے کہ ان خیالات کے ازالے کی مستقل تدبیر کی جائے، اور یہ تدبیر اس کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہوسکتی کہ غیر مسلموں میں دین کی دعوت کا وہ سلسلہ شروع کیا جائے جو ہماری ضرورت بھی ہے اور جس کے ہم شرعی طور پر مکلف بھی ہیں اور جسے ہم بدقسمتی سے بھلا کر بیٹھ گئے ہیں ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی پسندیدہ دین ہے، اس کے علاوہ کوئی دین اس کے یہاں مقبول نہیں ہے اور نہ قیامت تک کوئی دین قابل قبول ہوسکتا ہے، انسانیت کی فلاح اور نجات اسی دین کی اتباع میں مضمر ہے، تمام انبیاء و رُسل اسی دین کی تبلیغ کے لئے تشریف لائے، خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی دین کے ساتھ مبعوث کیا گیا ، آپ سے فرمایا گیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں (یوسف : ۱۰۸) قرآن کریم کی متعدد آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دین کا حکم دیا گیا ہے، اور صراحۃً دیا گیا ہے، ان آیات میں اگرچہ خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر درحقیقت اس کے مخاطب تمام اہل ایمان ہیں ، بعثت سے وفات تک کے حالات زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ان سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اہل ایمان کی زندگی میں دین کو رچانے بسانے کی کوشش کی ہے وہیں یہ کوشش بھی کی ہے کہ جو لوگ ابھی تک حلقہ بہ گوش اسلام نہیں ہوسکے ہیں ان تک بھی دین کی دعوت پہنچائی جائے اور ان کو بھی دین کی طرف لایا جائے، صحابۂ کرامؓ نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا ، اگر دعوت دین کا سفر جاری نہ رہتا تو اسلام جزیرۂ نمائے عرب کی حدود میں سمٹ کر رہ جاتا ، آج تمام بر اعظموں کے ہر ملک میں اسلام کے ماننے والے موجود ہیں اس کی وجہ دعوت کی محنت ہے، اس ملک میں بھی جب تک دعوت کا سلسلہ باقی رہا صورت حال مسلمانوں کے حق میں رہی، موجودہ تشویش ناک صورت حال پر ہم اسی محنت کے ذریعے قابو پاسکتے ہیں۔
اس وقت ملک میں لاکھوں مدارس اور مکاتب کام کررہے ہیں ، تبلیغی جماعت کا نیٹ ورک بھی انتہائی وسیع ہے اور ملک کی زیادہ تر مسجدیں اس کے دست تصرف میں ہیں ، مگر یہ تمام محنت صرف مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے لئے ہورہی ہے ، بلکہ مدرسوں میں تو ایک محنت اور بھی چل رہی ہے اور وہ ہے مختلف مسلکوں میں منقسم مسلمانوں کو اپنے اپنے مسلک پر ثابت قدم رکھنے کی محنت اور دوسرے مسلکوں کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنے کی محنت ، اس کے لئے مدارس میں مناظروں کے شعبے بھی قائم ہیں ، جن میں دوسروں کے مسلکوں پر حملہ آور ہونے کی تعلیم دی جاتی ہے ، ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھنے کا جو سلسلہ دوسو سال پہلے شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے اور دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ ان مناظرانہ کتابوں یا تقریروں سے کسی مسلک کے لوگوں کو ان کے مسلک سے منحرف کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، اس کے برعکس اگر ہم اتنی محنت دین کی دعوت کو عام کرنے کے لئے کرتے اور غیر مسلم بھائیوں کو دامن اسلام میں لانے کے لئے کرتے تو آج ملک کی صورت حال میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوتی ، اب بھی وقت ہے کہ ہمارے علماء ، ذمہ داران مدارس، اور ہماری جماعتیں اس ضرورت کا احساس و ادراک کریں کہ اگر اس ملک میں آبرو مندانہ طریقے پر رہنا ہے تو داعی بن کر رہنا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے مدرسوں میں غیر مسلموں میں دین کی دعوت کے شعبے قائم کئے جائیں، اور ان شعبوں میں ایسے افراد تیار کئے جائیں جن کا کام ہی غیر مسلموں میں دین کی تبلیغ اور اشاعت کرنا ہو ، جہاں تک میرا خیال ہے دعوت دین ہر مسلمان کا فرض اوّلین ہے بلکہ اس کے عقیدے کا پہلا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو بھی اس عقیدے کے دائرے میں لانے کی کوشش کرے جس پر وہ کار بند ہے ، جب عام مسلمان سے اسلام یہ چاہتا ہے تو ان لوگوں سے اس کا مطالبہ کتنا سخت ہوگا جو رات دن قرآن و حدیث کی تعلیم و تشریح میں لگے رہتے ہیں اور جن کی نظروں سے ہر وقت آیات دعوت ، احادیث دعوت اور واقعات دعوت گزرتے رہتے ہیں ، کیا یہ تمام آیات، احادیث اور واقعات صرف نظریاتی ہیں ، کیا صرف پڑھنے اور بار بار پڑھنے اور پڑھ کر بھلادینے کے لئے ہیں، کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ان پر عمل بھی کیا جائے، ہماری مجرمانہ غفلت اور صدیوں پر محیط خاموشی سے برادرانِ وطن ہم سے بہت دور چلے گئے ہیں، اس ملک میں بلاشبہ کچھ کوششیں ہورہی ہیں مگر وہ انفرادی نوعیت کی ہیں اور ان کا دائرہ عمل بھی محدود ہے اس لئے ان کوششوں کے اثرات بھی بہت زیادہ محدود ہیں، ضرورت ہے کہ ہمارے مدرسوں سے نکلنے والا ہر طالب علم عالم ہونے کے ساتھ ساتھ داعی بھی ہو، کتاب وسنت میں دعوت کا پورا طریقۂ کار موجود ہے بس اس کو عملی طور پر زندہ کرنے کی اور اسے اپنے نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم دعوت دین کی اہمیت کے منکر نہیں ہیں ، آج بھی اگر کسی عالم دین سے سوال کیا جائے کہ دین کی دعوت دینا کیسا عمل ہے وہ برجستہ جواب دے گا کہ یہ ایک انتہائی مبارک عمل ہے ، دینی فریضہ ہے ، نبی کی سنت ہے وغیرہ وغیرہ لیکن جب اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے خود اس دینی فریضہ کو کس حد تک ادا کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بدلے ہوئے ہندوستان میں اس فریضے کی ضرورت کا احساس ہی نہیں کیا ، کئی سو سال سے طاری اس جمود کو توڑنے کے لئے ہمارے علماء دین کو کیا کرنا ہے یہ سوال ایک وسیع مشاورت کا متقاضی ہے، جو ظاہر ہے بڑے اور ذمہ دار مدارس اور جماعتوں ہی کے کرنے کا کام ہے، ایک زمانے سے ہمارے بعض مدارس میں بعض فرقوں کے خلاف کام کی تربیت دینے کے لئے کیمپ لگائے جاتے ہیں، ان فرقوں کے خلاف محاضرات کا اہتمام بھی ہوتا ہے ، ہم نے کبھی نہیں سنا کہ غیر مسلموں میں دعوتِ دین کی عملی تربیت کے لئے بھی کوئی کیمپ لگایا گیا ہو، یا دعوت دین کے منہج اور طریقے کار پر بھی کبھی کوئی محاضرہ پیش کیا گیا ہو، دعو ت دین سے اس غفلت یا چشم پوشی کو کیا نام دیا جائے؟
از قلم: مولانا ندیم الواجدی دیوبند

غلاف کعبہ کا نِچلا حصّہ زمین سے 3 میٹر بلند کیوں کردیا؟

غلاف کعبہ کا نِچلا حصّہ زمین سے 3 میٹر بلند کیوں کردیا؟
حرمین شریفین کے امور کی انتظامیہ کی جانب سے اتوار کے روز غلافِ کعبہ کے نچلے حصّے کو زمین سے تین میٹر بلند کردیا گیا۔ ساتھ ہی بلند کئے جانے والے حصّے کو چاروں طرف سے سفید سوتی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا جس کا عرض دو میٹر کے قریب ہے۔
غلاف کعبہ یعنی "کِسوہ" سے متعلق کنگ عبدالعزیز کمپلیکس کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن محمد المنصوری کے مطابق رواں برس 1439 ہجری میں بھی حج سیزن کے لئے انتظامیہ حسب معمول اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
کِسوہ کو زمین سے بلند کرنے کے اقدام کا مقصد غلاف کعبہ کی نظافت برقرار رکھنا اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس لئے کہ حج سیزن میں حجاج کرام کی ایک بڑی تعداد غلاف کعبہ کو چُھونے اور اس سے لپٹنے کی خواہش مند ہوتی ہے جس کے نتیجے میں غلاف کو کچھ نقصان بھی پہنچتا ہے۔
المنصوری نے باور کروایا کہ بعض حجاج کرام غلاف کعبہ کا کچھ حصّہ کاٹنے اور غلاف کعبہ سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کا یہ قدم غلط نظریات کا حامل ہے۔ اسی واسطے غلاف کو تین میٹر بلند کردیا جاتا ہے اور حج سیزن کے بعد اسے اپنی پرانی حالت پر کردیا جاتا ہے۔
المنصوری کا مزید کہنا تھا کہ کنگ عبدالعزیز کمپلیکس پورے سال غلاف کعبہ کی خصوصی دیکھ بھال کی ذمّے داری انجام دیتا ہے جس کی ہدایت خادم حرمین شریفین کی جانب سے دی گئی ہے۔




ابن صفی کے عقائد کیا تھے؟

ابن صفی کے عقائد کیا تھے؟
اسرار احمد عرف ابن صفی صاحب نارہ کے رہنے والے تھے اور کائستھ نژاد مسلم تھے اور بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ تم لوگ اتفاقی مسلمان ہو۔ ہم لوگ اختیاری مسلمان ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے سوچ سمجھ کر اسلام قبول کیا۔ ان کی والدہ دیوبندی عقائد رکھتی تھیں اور والد بریلوی مسلک کے ماننے والے تھے اور ان کے حلقۂ احباب میں زیادہ تر اثنائے عشری۔
لیکن وہ بذات خود صرف مسلمان تھے۔
اور ان کی یہ خصوصیت ایسی تھی جس کی بناء پر ہر شخص بلالحاظ عقیدہ ان کی عزت کرنے پر مجبور تھا۔ محلے میں ان کی حیثیت ’’امین‘‘ کی تھی۔ لوگ اپنی امانتیں رکھواتے تھے اور پھر لے جاتے تھے۔
ایک بار ایک صاحب نے ایک چھوٹا سا صندوقچہ رکھا۔ میرے سامنے ہی واپس لینے آئے۔ اس پر گرد جمی ہوئی تھی۔ اسی عالم میں ان کا صندوقچہ انہیں واپس ملا۔
میں نے کہا:
’’گرد تو صاف کردی ہوتی.‘‘
بولے: ’’غور ہی نہیں کیا۔ اور پھر ایک ذرہ بھی اگر کم ہو تو وہ امانت میں خیانت ہے‘‘۔
الہ آباد میں وہ مجیدیہ اسلامیہ کالج اور یادگار حسینی ہائر سکنڈری اسکول (جو اب کالج ہے) میں مدرس تھے اور بہت کامیاب۔ ان کے شاگردوں میں اجمل اجملی بہت مشہور ہوئے۔

انک لا تخلف المیعاد کی سند

انک لا تخلف المیعاد کی سند
اذان کے بعد کی جو دعا  ہے جس میں  
انک لا تخلف المیعاد۔
والے الفاظ ہیں، اس کا حوالہ بھیجنے کی درخواست ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:
اذان کے بعد دعائے مسنون یہ ہے ۔ 
اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلوٰۃ القائمۃ آت محمد ان الوسیلۃ والفضیلۃ وبعثہ مقاما محمودا ن الذی وعدتہ (کذافی البخاری ص ۸۶) (۲) 
اور 
الدرجۃ الرفیعۃ اور وارزقنا شفاعتہ یوم القیامۃ 
کا ثبوت نہیں ۔ ہاں آخر میں انک لا تخلف المیعاد بیہقی کی ایک روایت میں آیا ہے (کذافی الشامی) (۳) پس غیر ثابت الفاظ کو نہ پڑھنا ہی بہتر ہے لیکن اگر کوئی شخص اس اعتقاد کے ساتھ کہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں پڑھ لے تو مضائقہ بھی نہیں.(کفایت المفتی۶۱/۳)
-------------------------------------------------------
(۲) (بخاری‘ باب الدعاء عند النداء‘ ۱/۸۶ ط قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی)
(۳) وروی البخاری وغیرہ : ’’ من قال حین یسمع النداء اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ‘‘ الخ وقال ابن حجر فی شرح المنہاج: ’’ و زیادۃ والدرجۃ الرفیعۃ و ختم بیا أرحم الراحمین لا أصل لھما ‘‘ ( رد المحتار : باب الأذان‘ ۱/۳۹۸ ط سعید کمپنی) 

بیٹے کو زندگی دو مگر بائیک نہیں بیٹی کو شکشا دو مگر موبائل نہیں

بیٹے کو زندگی دو مگر بائیک نہیں
بیٹی کو شکشا دو مگر موبائل نہیں

میواتیوں کی شان

میواتیوں کی شان
میوات بھارت سے منسوب ہیں۔ یہ لوگ بھی پہلے ہندو تھے- ان کو حضرت معین الدین چشتی رحمہ اللہ نے مسلمان کیا ان کا مشہور اور معروف شہر الور ہے- ان کے کئی گوت ہیں جن میں کچھ مشہور گوت "دیھنگل، چھرکلوت، پاھت، گھٹلیا (یعنی گھاٹی گاؤں سے ہے)، باگھوڑیا رائبیا، راجپوت، منناکا (منییا)، مونڈپریا، موسم پریا، کل تاج پریا، دوھلی کا، پتھروڑیا، بھوتکا اور ڈاڈھیکا وغیرہ ہے-‎ یہ لوگ اپنے نام سنگھ رام وغیرہ سے رکھتے تھے لیکن اب یہ لوگ اپنے نام اسلام سے منسوب رکھتے ہیں - پہلے میواتی لوگ اپنے ماں باپ کے کہے پر شادی کرتے تھے- ان میں سے کچھ لوگ تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان ہجرت کرگئے کچھ رہ گئے- جو پاکستان کے سرحدی اضلاع میں جابسے۔ ان اضلاع میں سیالکوٹ۔ نارووال قصور اور اکاڑہ شامل هیں جو لوگ ہجرت کرگئے وہ واپس جانے کے خواب دیکھتے تھے، ‎وہ خواب دیکھتے رہ گئے۔
میواتیوں کی شان