Friday, 27 July 2018

چاند گہن؛ افراط و تفریط سے بچیں

چاند گرہن؛ افراط و تفریط سے بچیں
.....
چاند گہن آج رات 10:44 سے شروع ہوگا اور 4:58 تک رہیگا۔
........
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا فرمایا ہے وہ افراط وتفریط سے پاک معتدل دین ہے۔ ماہرین فلکیات کی اطلاعات کے مطابق  27 جولائی 2018ء شام کو چاند گرہن ہوگا۔ اس موقع پر ہمارے سادہ لوح مسلمان دو طرح کے طبقات میں خود کو تقسیم کرلیتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی اس جیسی نشانیوں کو محض سائنس کی کرشمہ سازی سمجھتا ہے جبکہ دوسرا جاہلانہ اوہام و خیالات کا شکار ہو ضعف اعتقادی (حاملہ عورت چھری، چاقو یا تیز دھار آلہ استعمال نہ کرے ورنہ پیٹ میں موجود بچہ یا بچی کے ہونٹ کٹ جائیں گے وغیرہ) میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
دین اسلام مذکورہ بالا دونوں طبقات کے افراط وتفریط پر مبنی نظریات کو بڑی شدومد سے مسترد کرتا ہے اور ایسی معتدل تعلیم دیتا ہے جو انسان کے عقل وشعور، فکر ونظر اور قلبی کیفیات کو حقیقت کی طرف لے جاتی ہے چنانچہ
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ ….فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏”‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا
صحیح بخاری، باب صدقہ فی الکسوف، حدیث نمبر 1044
ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز(خسوف )پڑھائی……آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ جس میں اللہ کی حمدوثناء بیان فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا: سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں وہ کسی کی موت یا زندگی سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرواور تکبیر کہو اور نماز پڑھو اور خیرات کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے امت محمد! دیکھو اللہ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اس کو بڑی غیرت آتی ہے اگر اس کا بندہ یا بندی زنا کرے۔ اے امت محمد! اگرتم وہ بات جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم  کم ہنسے  اور زیادہ روتے۔
حدیث مبارک میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فکروشعور اور اعتقادات کو صحیح رخ کی طرف موڑتے ہوئے سمجھایا کہ سورج اور چاند گرہن کومحض سائنس کی کرشمہ سازی نہ سمجھو اور نہ ہی اسے تغیرات زمانہ کی طرف منسوب کرو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یعنی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے انہیں رونما فرماتا ہے۔ فکری تربیت اور اعتقادات کا ضعف دور کرنے کے بعد پھر تین اہم کاموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: 
1. نماز، 
2. دعا اور 
3. صدقہ۔
نماز میں اللہ سے مناجات ہوتی ہے مشکل وقت میں نماز کے ذریعے نصرت خداوندی کو طلب کیا جاتا ہے، اہم العبادات ہے قربت الہیٰ کا سب سے اہم اورعام ذریعہ ہے جبکہ دعا عبادت کا مغز اور نچوڑ ہے اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتی ہے۔ اسی طرح صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، حادثاتی مصائب کو دور کرتا ہے۔ حدیث کے آخر میں زنا جیسے کبیرہ گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اس موقع پر زنا کو ذکر کرنے کی مناسبت یہ نظر آتی ہے کہ لوگوں کو نماز، دعا اور صدقہ جیسے نیک اعمال کرنے کا حکم دیا تو ساتھ میں زنا جیسے کبیرہ گناہ سے رکنے کو بھی کہا کیونکہ زنا ایک کبیرہ گناہ ہے جو مصائب کے نزول کا سبب ہے۔
باقی معاشرتی طور پر بھی زنا ہر قوم میں قبیح اور برا سمجھا جاتا ہے یہ محض انفرادی نوعیت کا گناہ نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کا سنگین جرم ہے جس سے غیرت کا جنازہ نکلتا ہے اور کبھی اسی کی وجہ سے غیرت کے نام پر جنازے اٹھتے ہیں نسب اور میراث کے احکام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے انسانی نظام تباہ ہوتا ہے اور فطرت خداوندی کے اصول پاش پاش ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس موقع پر ایسے گناہ کا ذکر کرنا اس وجہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے حادثات دیکھ کر انسانوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اس خوف کو صحیح سمت کی ضرورت ہوتی ہے اور خوف کی صحیح سمت یہ ہے کہ انسان میں خوف خدا پیدا ہوجائے اور ایسے گناہ جو اس کے عذاب کا ذریعہ بنتے ہیں ان سے توبہ کی جائے۔
اس لیے اعتقادی اور فکری طور پر افراط و تفریط سے بچ کر معتدل نظریہ اپنائیں۔ اس موقع پر احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے نماز ، دعا اور صدقہ کا اہتمام کریں اور تمام گناہوں سے اللہ کے حضور سچی توبہ کریں۔
والسلام
محمد الیاس گھمن
مسقط سلطنت عمان
جمعرات، 27 جولائی، 2018ء
(وعظ و نصیحت قسط 79)
..............
چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں یہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے ..مکمل چاند گرہن کے وقت ہماری زمین سورج اور چاند کے درمیان میں آجاتی ہے اور خلا میں زمین کے پیچھے اس کا سایہ بنتا ہے مکمل گہن کے وقت چاند زمین کے سائے میں داخل ہوجاتا ہے اس طرح سورج کی روشنی چاند پر نہ پہنچنے کی وجہ سے چاند تاریک اور پھر سرخ ہوجاتا اس کو چاند گرہن کہتے ہیں۔ زمین کے سائے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک جزوی سایہ جس کو Penumbra اور دوسرا مکمل گہرا سایہ جس کو Umbra کہا جاتا ہے ۔۔۔ چونکہ زمین کا سایہ کافی چوڑا ہوتا ہے لہذا چاند زمین کے مکمل سائے کے ایک چھوٹے سے حصے سے گزرتا ہے کبھی چاند مکمل سائے کے شمالی جانب سے گزرتا ہے تو کبھی جنوبی جانب سے اور کبھی چاند بالکل سائے کے درمیان سے گزرتا ہے جب چاند سائے کے کناروں سے گزرتا ہے تو اس کو مکمل سائے سے گزرنے میں کم وقت لگتا ہے اور درمیان سے گزرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ آج کے مکمل چاند گرہن میں چاند زمین کے مکمل سائے کے درمیان سے گزرے گا اسی وجہ سے چاند کو زمین کا سایہ عبور کرنے میں زیادہ وقت لگ جائے گا ۔۔۔ آج 27 جولائی کو عین مکمل گہن کا (یعنی چاند کے زمین کے مکمل سائے سے گزرنے کا) دورانیہ 1 گھنٹہ 43 منٹ ہوگا ۔۔ 31 جنوری 2018 کو بھی مکمل گہن ہوا تھا لیکن اس گہن میں چاند زمین کے مکمل سائے کے جنوبی جانب سے گزرا تھا یہ فاصلہ اس وقت 1 گھنٹہ 16 منٹ میں طے ہوا تھا ۔۔۔ زیادہ سے زیادہ مکمل گرہن کا طویل ترین دورانیہ 1 گھنٹہ 47 منٹ ہے اور 16 جولائی 2000 کو مکمل گرہن ہوا تھا اس وقت مکمل گرہن کا دورانیہ 1 گھنٹہ 46.7 منٹ تھا جو کہ زیادہ سے زیادہ ممکنہ دورانیے کے قریب ترین تھا لہذا 16 جولائی 2000 کا مکمل چاند گرہن بیسویں کا سب سے طویل ترین چاند گرہن تھا ۔۔ آپ نے غور کیا بیسویں اور اکیسویں صدی دونوں میں طویل ترین چاند گرہن جولائی میں ہوئے اس کی وجہ یہ ہے کہ جولائی میں زمین سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے سورج سے بعید ترین مقام پر پہنچ جاتی ہے اس کو فلکیاتی اصطلاح میں phelion کہا جاتا ہے اس سورج سے دوری کی وجہ سے زمین کا سایہ خلا میں کافی چوڑا ہوجاتا ہے جس سے گزرنے میں چاند کو زیادہ وقت لگتا ہے لہذا گرہن کا وقت طویل ہوجاتا ہے ۔۔ اور جولائی میں چاند زمین سے بعید ترین مقام Apogee ’حضیض قمر‘ پر بھی 27 جولائی کو... اس وقت چاند زمین سے کافی دور ہوتا ہے اور چھوٹا دکھائی دیتا ہے اس  چھوٹے بدر کامل کو Mini Moon یا Micro Moon  کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا نظر آنے والا چاند جب زمین کے سائے سے گزرے گا تو مکمل گرہن کا دورانیہ اور طویل ہوجائے گا۔۔  آج 27 جولائی کو اکیسویں صدی کا طویل ترین چاند گرہن ہوگا جس کی وجہ یہ ہے کہ زمین سے بعید ترین مقام پر واقع سال کا چھوٹا ترین چاند Micro Moon جب زمین کے اس سائے سے گزرے گا جو جولائی میں زمین کی سورج سے دوری کی وجہ سے کافی چوڑا ہوگیا ہے تو چاند کے مکمل گرہن کے وقت کا دورانیہ طویل ترین ہوجائے گا ۔۔







کیا کسی کتاب میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے؟

کیا کسی کتاب میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے؟
سوال: کیا کسی کتاب میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے...؟؟؟؟
"اللهم كما حسنت خلقي فحسن خلقي"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
ابن السنی نے  عمل الیوم واللیلہ میں  (163) کے نمبر سے "حُسَيْن بْن أَبِي السَّرِيِّ "کی سند سے روایت کی ہے:
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَظَرَ وَجْهَهُ فِي الْمِرْآةِ قَالَ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي)"
"تهذيب التهذيب" (2 /315) .
اور "الميزان  548)" (2/ کی تصریحات کے بموجب
"عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ" متروک ہے
ائمہ حدیث مثلا امام احمد بن حنبل وغیرہ نے ان کی روایت نہیں لی ہے، جبکہ ابن ابی السری کذاب تھا۔
اس لئے  آئینہ دیکھنے کی یہ دعا حد درجہ ضعیف ومتروک ہے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آئینہ دیکھنے کی ذیل کی دعا مروی ہے جو صحیح الاسناد ہے:
عَنِ عائشة قالت: "كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: (اللهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي، فَأَحْسِنْ خُلُقِي).
رواہ أحمد (24392) ، وأبو يعلى (5075) ، والطيالسي (372)، والبيهقي في "الشعب" (8183)

واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

مغليه دور، نظام تعليم، شرح تعليم، مسلم حکمران اور پروپیگنڈا

مغليه دور، نظام تعليم، شرح تعليم، مسلم حکمران اور پروپیگنڈا
چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جارہے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش ہے کہ جب یوروپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنارہے تھے. میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے، اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں. تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کروں. ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نا تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں. دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں. معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر - عالگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا. در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں. سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں. فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے. تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں. مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں. پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے. اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کرائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا. عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion ) سے بھرپور ہے. یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے. یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے. پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں.اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں. انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا. جب کے تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا. آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے. 'ٹائل موزیک' فن ہے ، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے. یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے. ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے. یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے . تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں. ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں. مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی. کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے. شیخ احمد سرہندی رح ہوں یا جھانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی.
مزید بھی میں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا، اسلئے کہ میرے ان "عظیم" صاحبان علم کو کسی مسلمان یا لوکل مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے. ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کس مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے: "ہر گاوں میں ایک سکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے. ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا. ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. " اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں. میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے "بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے". اورنگزیب عالمگیر رح کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا' جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے. میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا. جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا " تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے." مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے. انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیر رح کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا. عالمگیر رح نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں. سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے. اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں. سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ"، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا" اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری" لکھی. یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے. یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں. اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا. عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے.
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں. ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں. آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے. ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا. پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا. اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی. ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی. یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں. لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا.
مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئیے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے. لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں. لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے.
تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا.
"آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا بہاکے لے گیا.

Bird's-eye picture of the Shahjahanabad (today's Old Delhi area), anonymous. 
The front right is Salimgarh, at the rear of which is the Red Fort.
The upward broad street from the Fort is Chandni Chowk. 
Upward left of the fort is the Jami Masjid drawn colossally in exaggeration.

Thursday, 26 July 2018

عنوان: تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ماردو حدیث کی تحقیق

عنوان: 
تعریف کرنے والے کے 
منہ پر مٹی ماردو حدیث کی تحقیق
سوال: مفتی صاحب! میں نے ایک حدیث سنی ہے، جس میں یہ تھا کہ تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ماردو تو کیا تعریف کرنا منع ہے؟ براہ کرم اس حدیث کی وضاحت فرمادیں یہ حدیث سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
جواب: واضح رہے کہ حدیث بالا میں تعریف کرنے کی ممانعت ان لوگوں کے لئے ہے، جو لوگوں کی تعریف کسی دنیاوی غرض یا خوشامد کے لئےکرتے ہیں، جبکہ وہ اس تعریف کے حقدار نہیں ہوتے ہیں، لہذا ایسے لوگوں کی غرض مکمل نہ کی جائے، اسی کو منہ پر مٹی مارنے سے تعبیر فرمایا ہے.
نوٹ: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے اچهے کام پر بغیر کسی دنیاوی غرض سے اس کی تعریف یا اس کی ہمت افزائی کرے، تو ایسا شخص وعید میں داخل نہیں ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 3002، ط: دارالاحياء التراث)
حدثنا أبوبكر بن أبي شيبة، ومحمد بن المثنى، جميعا عن ابن مهدي - واللفظ لابن المثنى - قالا: حدثنا عبدالرحمن، عن سفيان، عن حبيب، عن مجاهد، عن أبي معمر، قال: قام رجل يثني على أمير من الأمراء، فجعل المقداد يحثي عليه التراب، وقال: «أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن نحثي في وجوه المداحين التراب»۔
مرقاة المفاتیح: (3032/7، ط: دارالفکر)
(وعن أبي بكرة) أي: الثقفي (قال: أثنى رجل على رجل عند النبي - صلى الله عليه وسلم -) أي: بالغ في مدحه (فقال: ويلك): الويل بمعنى الهلاك أي: هلكت هلاكا وأهلكت إهلاكا، وفي نسخة. ويحك وهو للشفقة والمرحمة بخلاف الأول، فإنه للزجر في الموعظة (قطعت عنق أخيك): بضم عين ونون في جميع النسخ المصححة والأصول المعتمدة، وفي القاموس: العنق بالضم وبضمتين، وكأمير وصرد: الجيد ويؤنث، وإنما كره ذلك. لئلا يغتر المقول له فيستشعر الكبر والعجب، وذلك جناية عليه فيصير كأنه قطع عنقه فأهلكه. قال النووي: هذه استعارة من قطع العنق الذي هو القتل لاشتراكهما في الهلاك، لكن هذا الهلاك في الدين، وقد يكون من جهة الدنيا
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی (فتوی نمبر 100156) (صححہ: #S_A_Sagar )
http://saagartimes.blogspot.com/2018/07/blog-post_804.html?m=1


کیا نماز کا فدیہ دیا جاسکتا ھے؟

کیا نماز کا فدیہ دیا جاسکتا ھے؟
سوال: السلام عليكم ورحمت الله وبركاته
كيا فرماتے ھیں علماء اکرام 
کسی شخص کی نماز بیماری کی وجہ سے قضا ہوگئی اور اب وہ اسکا فدیہ دینا چاھتا ھے تو کیا نماز کا فدیہ دیا جاسکتا ھے؟؟؟
الجواب و باللہ التوفیق: 
زندگی میں فدیہ فقط روزے کا ہے وہ بھی فقط شیخ فانی یا جو اس کے حکم ہے انہیں کے، رہا نماز کا مسئلہ یا تو ادا یا قضا ورنہ سقوط ہے،
 نماز کا جو فدیہ ہے وہ بعد الموت ہے
...............................
سوال # 146837
قضاء نماز کس وقت ادا کرنی چاہئے اور کیا سنتیں موٴکدہ کی جگہ قضا نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ کیا اذان فجر سے لے کر فرض نماز کی جماعت کے دوران بھی قضا نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ اور عصر کی نماز کے بعد بھی قضا نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ میں قضا نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ میں قضا نمازیں بھی ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری قضا نمازوں کا فدیہ کوئی ادا کرے گا نہیں۔

Published on: Jan 5, 2017
جواب # 146837
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 234-206/N=4/1438
(۱): طلوع، زوال اور غروب آفتاب کے علاوہ جس وقت چاہیں قضا نماز ادا کرسکتے ہیں۔ وجمیع أوقات العمر وقت القضاء إلا الثلاثة المنھیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲:۵۲۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، قولہ:”إلا الثلاثة المنھیة“:وھي الطلوع والاستواء والغروب، ح (رد المحتار) ، والنظر الدر والرد (کتاب الصلاة، ۲: ۳۰-۳۲، ۳۴، ۳۷) أیضاً۔
(۲): سنن موٴکدہ بھی پڑھی جائیں اور قضا نمازیں بھی، قضا نمازوں کی وجہ سے سنن موٴکدہ ترک نہ کی جائیں۔ والاشتغال بقضاء الفوائت أولی وأھم من النوافل إلا السنة المعروفة الخ کذا فی المضمرات عن الظھیریة وفتاوی الحجة، ومرادہ بالسنة المعوروفة الموٴکدة (حاشیة الطحطاوی علی المراقي، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص، ۴۴۷ط: دار الکتب العلمیة بیروت) ، وانظر رد المحتار (۲: ۵۳۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند) والفتاوی الھندیة (۱:۱۲۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) وغیرھما أیضاً۔
(۳، ۴): جی ہاں! فجر کے وقت اور عصر میں عصر کی نماز کے بعد بھی قضا نماز پڑھ سکتے ہیں؛ البتہ مسجد میں یا کسی ایسی جگہ نہ پڑھیں جہاں دوسروں کو قضا پڑھنے کا علم ہوجائے؛ کیوں کہ یہ اظہار معصیت ہے، جو ممنوع ہے۔ وینبغي أن لا یطلع غیرہ علی قضائہ؛ لأن التأخیر معصیة فلا یظھرھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲: ۵۳۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، قولہ: ”وینبغي الخ “:تقدم في باب الأذان أنہ یکرہ قضاء الفائتة فی المسجد وعللہ الشارح بما ھنا من أن التأخیر معصیة فلا یظھرھا و ظاھرہ أن الممنوع ھو القضاء مع الاطلاع علیہ سواء کان فی المسجد أو غیرہ، قلت: والظاھر أن ینبغي ھنا الوجوب وأن الکراھة تحریمیة الخ (رد المحتار) ، وانظر الدر والرد (۲: ۵۸، ۵۹) والفتاوی الرحیمیة في واقعات السادة الحنفیة (ص ۸، الف، ب، مخطوطة) ۔
(۵): زندگی میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنا معتبر نہیں؛ اس لیے آپ صرف قضا نمازیں ادا کریں، ان کا فدیہ دینے کی ضرورت نہیں؛ البتہ آپ وارثین کو یہ وصیت کردیں کہ اگر وفات تک میں ساری نمازیں قضا نہیں پڑھ سکا تو میرے ترکہ سے ما بقیہ نمازوں کا فدیہ ادا کردیا جائے۔ اور جتنی نمازیں آپ کے ذمہ ہیں، وہ سب کسی ڈائری میں لکھ لیں اور جو نماز ادا کرلیں، اس کو ڈائری سے ختم کردیں تاکہ آپ کی وفات پر وارثین کے لیے ما بقیہ نمازوں کی صحیح تعداد جاننا اور ان کا فدیہ ادا کرنا آسان رہے۔ ولو فدی عن صلاتہ في مرضہ لا یصح الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲:۵۳۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، وقولہ:”ولو فدی عن صلاتہ في مرضہ لا یصح “فی التاترخانیة عن التتمة:سئل الحسن بن علي فی الفدیةعن الصلاة في مرض الموت ھل تجوز؟ فقال: لا، وسئل أبو یوسف عن الشیخ الفاني ھل تجب علیہ الفدیة عن الصلوات کما تجب علیہ عن الصوم وھو حي؟ فقال: لا اھ وفی القنیة:ولا فدیة فی الصلاة حالة الحیاة بخلاف الصوم اھ۔الخ (رد المحتار) ، قولہ:” لا یصح“:فیجب علیہ الوصیة (حاشیة الطحطاوی علی الدر، ۱: ۳۰۸، ط: مکتبة الاتحاد دیوبند) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
......................
سوال # 53628
میرا سوال نماز کے فدیہ کے بارے میں ہے۔ میری امی کا انتقال ہوچکاہے، الحمد للہ، میری امی نمازی تھیں، لیکن آخری دنوں میں بیماری کی غفلت میں ان کی کچھ نمازیں چھوٹ گئیں ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ ان کی چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ کتنے روپے کا دینا ہوگا؟ یعنی ایک چھوٹی ہوئی نماز کا فدیہ کتنا ہوتا ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
Published on: Jul 6, 2014 
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 972-746/D=9/1435-U
ایک وقت کی نماز کا فدیہ ایک کلو چھ سو چھتیس گرام (1.636 kg) گیہوں ہوتا ہے اگر قیمت دینی ہے تو بازار سے اس مقدار گیہوں کی قیمت معلوم کرلیں یہ ایک نماز کا فدیہ ہوا، ہردن میں چھ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا ہوگا، وتر کی نماز بھی شامل کی جائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
.....................

چھوٹ جانے والی نمازوں کا فدیہ

http://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/21287

کیا نماز و روزے کا فدیہ برابر ہے ؟

http://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/19806

زندگی میں نماز کا فدیہ ادا کیا جاسکتا ہے ؟

http://www.onlinefatawa.com/fatawa/view_scn/19782

Wednesday, 25 July 2018

چاند گہن کے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

چاند گہن کے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ 
 نقص وکمی کو عربی زبان میں 'خسف' کہتے ہیں (الصحاح للجوہری ج 4 ص 1350)
سورج اور چاند کی روشنی میں بشکل گہن جو کمی ہوجاتی ہے اسے 'خسوف' اور 'کسوف' کہتے ہیں۔
بخاری شریف کی روایت (عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا" صحيح البخاري. رقم 3202  
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسوف و خسوف اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں، اس سے مقصود بندوں کو خوف دلانا ہے، پس جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو) میں خسوف کا اطلاق سورج اور چاند دونوں کے گہن پر ہوا ہے، لیکن ائمہ لغت نے عموماً سورج گہن کے لئے 'کسوف' اور چاند گہن کے لئے'خسوف' کے استعمال کو ترجیح دی ہے، (الصحاح للجوہری ج 4 ص 1350)
قرآن کریم کی ایک آیت میں چاند گہن کے لئے خسوف کا استعمال ہوا ہے 
ارشاد باری ہے: 
فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ  كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (سورة القيامة 7-13.)
 کسوف و خسوف کی حکمت:
علامہ سیوطی کے بقول دنیا میں بہت سے لوگ کواکب و نجوم کی پرستش کرتے ہیں ، اس لئے حق تعالی شانہ نے سورج و چاند جیسے دو بڑے نورانی اجسام پہ کسوف و خسوف طاری کرنے کا فیصلہ فرمایا تاکہ اپنی قدرت کاملہ دکھلا کر ان کی پوجا کرنے والی اقوام کی غلطی ظاہر کرے (اوجز المسالک 274/2۔ انعام الباری شرح بخاری) 
نیز تاکہ اللہ تعالی صاحب ایمان بندوں کو اپنی بے پناہ قدرت و طاقت دکھائیں اور مخلوقات کے عجز ودرماندگی کو عالم آشکار کریں تاکہ مومنین  قیامت کے اس ہولناک مناظر کو یاد کرکے قادر مطلق کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں جن کی منظر کشی قرآن نے کچھ یوں کی ہے:
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْO
جب سورج لپیٹ کر بے نور کر 
دیا جائے گا۔
التکوير، 81: 1
سنُريهم آيَاتِنَا في الافاق وفِي أنفسهم حتى
يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ.
ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے۔
حٰم السَّجْدَة، 41: 53
آیت کریمہ میں جن نشانیوں کے دکھلانے کی بات کی گئی ہے ان ہی میں  سورج گرہن اور چاند گرہن بھی ہے۔
توہم پرستی سے حقیقت پسندی کی طرف: 
عربوں میں مشہور تھا کہ سوچ گرہن اور چاند گرہن تب لگتا ہے جب زمین پر کوئی بہت بڑا ظلم ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہَا فَصَلُّوا.
سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
بخاري، 1: 353، رقم: 995، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
مسلم، 2: 630، رقم: 914، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اﷲِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا.
سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب ایسا دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
بخاري، 1: 359، رقم: 1008
سورج وچاند گہن کی عقلی  وجہ اور اس موقع سے شرعی تعلیمات: 
ماہرین فلکیات کے مطابق اگر سورج وچاند  دونوں کے درمیان میں  زمین آجائے تو چاند گرہن ہوتا ہے اور اگر سورج اور زمین کے درمیان میں چاند آ جائے تو سورج گرہن ہوتا ہے، جو کہ انسان کیلیے  قیامت کے دن کا معمولی سا منظر پیش کرتا ہے کہ کس طرح سورج کی بے پناہ روشنی کو اللہ تعالی یک لخت میں ہی گل فرما سکتا ہے۔
مذہب اسلام میں ایسے موقع سے توہمات وخرافات کے شکار ہونے یا تماشہ بینی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے بلکہ اس عظیم نشانی کو غفلت سے آنکھیں کھولنے اور بارگاہ رب العالمین میں عجز ونیاز اور توبہ واستغفار کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے  
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں ایک بار سورج گرہن ہوا تو اتفاق سے اسی دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لخت جگر سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی  جس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آج ابراہیم کی موت پر سورج گرہن ہوا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
{إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا}
ترجمہ: سورج اور چاند کسی کے فوت ہونے پر گرہن نہیں ہوتے۔ یہ تو اللہ تعالی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جب انہیں گرہن ہوتے دیکھو تو نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ صحیح  بخاری: 1041
حَدَّثَنَا مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ خُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا خُسِفَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ خُسُوفُ أَيِّهِمَا خُسِفَ 
مسند أحمد برقم : 14348
ترجمہ: ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سورج گرہن کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند اور سورج گرہن کو گہن لگ جاتا ہے جب تم ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہوجائے۔
مسند احمد :14348 
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرہن کے وقت خود بھی نماز ادا فرمائی اور کائنات میں اس تبدیلی کے وقت امت کو یہ تعلیم بھی دی:
عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم فَزِعًا یَخْشَی أَنْ تَکُونَ السَّاعَةُ فَأَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی بِأَطْوَلِ قِیَامٍ وَرُکُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَیْتُهُ قَطُّ یَفْعَلُہُ وَقَالَ هَذِہِ الْآیَاتُ الَّتِي یُرْسِلُ اﷲُ لَا تَکُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِهِ وَلَکِنْ {یُخَوِّفُ اﷲُ بِهِ عِبَادَهُ} فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إِلَی ذِکْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ.
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورج کو گہن لگا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے قیامت آگئی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور نماز پڑھی، بہت ہی لمبے قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ۔ میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ جب تم ایسی کوئی بات دیکھو تو اللہ کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف دوڑا کرو۔
بخاري، الصحیح، 1: 360، رقم: 1010مسلم، الصحیح، 2: 628، رقم: 912
سورج اور چاند گہن کی نماز کی شرعی حیثیت:
سورج گہن کی نماز تقریبا تمام ہی ائمہ مجتہدین کے نزدیک سنت موکدہ ہے (بعض مشائخ حنفیہ کے مرجوح قول کے مطابق واجب ہے)
 چاند گہن کے بارے میں احناف وموالک استحباب کے قائل ہیں ۔ان کے ہاں کسوف کی طرح یہ نماز مسنون نہیں! جبکہ شوافع  وحنابلہ اسے بھی مسنون کہتے ہیں۔(الموسوعہ الفقھیہ 252/27 )
خسوف میں طریقہ نماز و تعداد رکعات: 
حنفیہ کے نزدیک سورج گرہن کی نماز دو رکعت باجماعت بغیر خطبہ کے ہے۔ 
البتہ  چاند گرہن کی نماز میں دو رکعت ہے مگر اس میں جماعت نہیں ہے بلکہ ہر آدمی الگ الگ یہ نماز پڑھے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک دونوں میں جماعت اور خطبہ ہے۔
احناف کے نزدیک کم از کم دو رکعت ہے  اور چار پڑھنا بھی درست ہے،  چاند گہن کی نماز عام نماز کے طریقہ کار  کے مطابق ایک رکعت میں ایک ہی رکوع کے ساتھ اداء کی جائے گی لیکن اِنفرادی طور پر گھروں میں پڑھیں گے، جماعت سے پڑھنا ہمارے یہاں  مشروع نہیں،
(بدائع 1/282)
البتہ اِمام ابوحنیفہ سراً تلاوت کے ساتھ پڑھنے کے قائل ہیں، جبکہ صاحبین جہراً قراءت کو مسنون قرار دیتے ہیں۔
اِمام مالک کے نزدیک نماز خسوف کی دو رکعتیں مسنون ہیں، اور یہ عام نمازوں کی طرح پڑھی جائے گی ،یعنی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع اور دو سجدے کیے جائیں گے، اور اس میں جہرا قراءت کی جائے گی۔
جبکہ شوافع کے نزدیک ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے کئے جائیں گے  ۔
خسوف کی دو گانہ جو عام نوافل کی طرح بغیر جماعت کے ایک رکوع اور ہر رکعت میں دو سجدے کے ساتھ جو پڑھی جائے گی تو اس کی دلیل ذیل کی احادیث ہیں: 
عن أبي بكرة أنه قال: كسفت الشمس على عهد رسول الله - صلي الله علية وسلم -، فخرج رسول الله - صلي الله علية وسلم - يجر ردائه حتى دخل المسجد ، فدخلنا فصلى بنا ركعتين حتى انجلت الشمس ، وذلك حين مات ولده إبراهيم ثم قال: "إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله – تعالى – وإنهما لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتموها فصلوا وادعوا حتى يكشف ما بكم" (الحديث عن أبي بكرة – رضي الله عنه – في البخاري 2/42، 43 (كتاب الصلاة باب الصلاة في كسوف القمر النبي - r - يخوف الله عباده بالكسوف) وانظر: سنن النسائي 1/214 (كتاب الكسوف ، باب الأمر بالصلاة عند الكسوف حتى تنجلي)   
اس حدیث میں نماز کسوف کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں بتایا گیا بلکہ عام طریقہ کے مطابق ہی یہ نماز ادا کی گئی تھی جو دلیل ہے کہ اس کا کوئی مخصوص طریقہ متعین ولازم نہیں ۔بعض مخصوص پس منظر میں حضور نے دو رکوع کئے تھے ۔اس میں تعمیم نہیں ہے۔
اس کیفیت نماز کو ایک دوسری روایت میں "نحو صلوة أحدكم" اور "كهيئة صلاتنا"  کے ذریعہ  مزید واضح کردیا گیا:
وفي رواية  عن أبي بكر، أن رسول الله - صلي الله علية وسلم - صلى ركعتين نحو صلاة أحدكم.
وروى الجصاص عن علي والنعمان بن بشير وعبد الله بن عمرو وسمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة رضي الله عنهم، أن النبي - صلي الله علية وسلم - صلى في الكسوف ركعتين كهيئة صلاتنا [سنن النسائي، حديث رقم 1489، 3/145، وحديث رقم 1492، 3/146 ، وذكره الجصاص في مختصر اختلاف الفقهاء 1/381 .)
 تیز آندھی آئے یا دن میں اند ھیرا چھا جائے یا رات میں خوفناک روشنی ہو یا لگاتار بہت زیادہ بارش ہو یا آسمان لال ہو جائے یا بجلیاں گریں یا کثرت سے تارے ٹوٹیں یا کوئی وبا وغیرہ پھیل جائے یا زلزلہ آئے یا دشمن کا خوف ہو یا اور کوئی  دہشت ناک بات پائی جائے تو اِن سب صورتوں میں دو رکعت نماز پڑ ھنا بھی  مستحب ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: 
الصَّلَاةُ فِي خُسُوفِ الْقَمَرِ]
(وَمِمَّا يَتَّصِلُ بِذَلِكَ الصَّلَاةُ فِي خُسُوفِ الْقَمَرِ) يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ فِي خُسُوفِ الْقَمَرِ وُحْدَانًا، هَكَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ، وَكَذَلِكَ إذَا اشْتَدَّتْ الْأَهْوَالُ وَالْأَفْزَاعُ كَالرِّيحِ إذَا اشْتَدَّتْ وَالسَّمَاءُ إذَا دَامَتْ مَطَرًا أَوْ ثَلْجًا أَوْ احْمَرَّتْ وَالنَّهَارُ إذَا أَظْلَمَ وَكَذَا إذَا عَمَّ الْمَرَضُ، كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ.
وَكَذَا فِي الزَّلَازِلِ وَالصَّوَاعِقِ وَانْتِثَارِ (1) الْكَوَاكِبِ وَالضَّوْءِ الْهَائِلِ بِاللَّيْلِ وَالْخَوْفِ الْغَالِبِ مِنْ الْعَدُوِّ وَنَحْوِ ذَلِكَ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ، وَذَكَرَ فِي الْبَدَائِعِ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ فِي مَنَازِلِهِمْ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.
(ج1 ص 153)
گہن کی نماز میں اذان واقامت نہیں ہے ۔البتہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے مناسب حال  آواز لگائی جاسکتی ہے۔ 
گہن کی نماز اُسی وقت پڑ ھے جب گہن لگا ہوا ہو۔ اور اگر ایسے وقت گہن لگا جس وقت میں نماز پڑ ھنا مکروہ ہے تو نماز نہیں پڑھے بلکہ ذکر اور دعا میں مشغول رہے۔
جولائی کی27 اور28 تاریخ کوایک گھنٹہ 43 منٹ طویل مکمل چاند گہن ہوگا۔ ایک گھنٹہ 43 منٹ تک قائم رہنے والا یہ مکمل چاند گرہن موجودہ صدی (2001 سے لے کر 2100) کا سب سے طویل مکمل چاند گرہن ہوگا۔ ہندوستان کے تمام علاقوں سے اس مکمل چاند گہن کا نظارہ کیاجاسکے گا۔
اوہام وخرافات:
جیساکہ اوپر کی سطروں میں واضح کردیا گیا کہ چاند گہن خدا کی نشانی ہے ۔مومنوں کو اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرنا چاہئے ۔اس کے لئے باضابطہ نماز مشروع و مستحب ہوئی ہے. 
خدا ئے مالک وخالق کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہئے 
ایسے موقع سے حاملہ خواتین کو گھروں میں بند کردینا یا چاقو وچھری وغیرہ کے استعمال سے انہیں نقصان پہنچنے کا عقیدہ رکھنا شرکیہ وباطل عقیدہ ہے۔ چاند گہن کو کسی کے حمل میں تاثیر ڈالنے یا نقصان پہنچا نے کی کوئی قدرت نہیں ۔ 
واللہ اعلم 
شکیل منصور القاسمی 
26 جولائی 2018

اختر رضا خان ازہری کے ایک خلیفہ کا اندازِ ماتم

اختر رضا خان ازہری کے ایک خلیفہ کا اندازِ ماتم
آہ! حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ
دل غموں سے بوجھل ہے، آنکھیں پر آب ہیں، سینہ چھلنی ہے اور دنیائے ہوش و حواس میں رنج و کرب کا طوفان برپا ہے۔ آج حضور تاج الشریعہ کو پردہ فرمائے ہوئے چار روز ہوگئے اور بدن میں اب تک کپکپی طاری ہے، قلم سنبھلنے کا نام نہیں لیتا، حروف لفظ بننے تک بگڑ جاتے ہیں اور الفاظ یکجا ہوکر ماتم کرنے لگتے ہیں۔
چمن اداس ہے، گلشن ماتم کناں ہے، باغ و بہار کو نظر لگ گئی ہے، حضور جب تک تھے تو موسم خزاں بھی بہار کا مزہ دیتا تھا، اب تو بہار بھی اپنا منھ چھپالے گی۔
دو روز تک تو یقین ہی نہ ہوا کہ حضور پردہ فرماگئے، مریدین نے بہت یقین دلایا، لیکن دل کہہ رہا تھا کہ حضور نہیں گئے، حضور کا جسد خاکی جنت کی سیر کو گیا ہے۔
قبر شریف میں رکھے جانے کا منظر کبھی نہیں بھلا سکتا، دل تو چاہ رہا تھا کہ حضور کے ساتھ میں بھی مدفون ہوجاؤں، لیکن حضور کی نصیحت تھی کہ ان کے بعد ان کے مریدین کو کون سنبھالے گا، اتنی بڑی ذمہ داری کی طاقت تو میرے پاس نہیں ہے، تاہم جو بھی حضور کا جانشیں بنے گا میری اجازت سے ہی بنے گا۔
یہ غم میرے لیے قابل تحمل نہ ہوتا اگر غمِ حسین میری زندگی کا اثاثہ نہ ہوتا۔
میں نے کئی برس تاج الشریعۃ کی خدمت کی ہے، کبھی آپ نے مجھے ڈانٹا تک نہیں، ابھی دو سال قبل ہی آپ نے خلافت عطا کی تھی، ابھی تو مجھے بیعت کرنے کا سلیقہ تک نہیں آیا تھا کہ آپ نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ آپ کی نگاہ شفقت نے لاکھوں دلوں پر حکومت کی ہے، آپ کے رہتے ہوئے مجھے کسی کی سرکار کسی کی حکومت کی خبر ہی نہ رہتی تھی، کہ میں مکمل حضور کی سرکار کے ماتحت تھا، میرے نزدیک تاج الشریعہ کا ہر حکم قانون کا درجہ رکھتا تھا، آپ کے ہر  فرمان پر شوق و سعادت سے عمل پیرا ہوتا۔ آپ نے شریعت اور مسلک اعلی حضرت کو اس طرح شیر و شکر کرکے عوام کو دین سمجھایا ہے کہ اعلیٰحضرت بھی خوش ہوکر بارہا خواب میں آئے اور اپنی خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا۔
اب زیادہ لکھنے کی ہمت نہیں ہوپارہی ہے، ہر لفظ پر حضور تاج الشریعہ کا نورانی چہرا نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مری چشمِ پرنم سے چھپ جانے والے
از: مفتی مدبر ننگا خاکی خلیل الرضوی بریلوی خلیفہ حضور تاج الشریعہ ازہری میاں
صدر ٹی ٹی ایس کمیٹی بریلی شریف