Friday, 6 February 2015

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام

سم اللہ الرحمن الرحیم
مولانا سید سلمان الحسيني ندوی کا تعزیتی وتہنیتی پیغام شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام
خادمین حرمین شریفین : (خدا کرے کہ حرف بحرف آپ اس عظیم لقب کے مصداق ہوں) مملکت سعودیہ کے شاہ مکرم ومحترم، علماء و صلحاء کے قدرشناس ، حافظ قرآن، غرباء وفقراء کی پناہ گاہ، فرمانروائے سلطنت مملکت سعودیہ عربیہ ، سلمان بن عبد العزیز .
اللہ رب العزت داخلی وخارجی فتنوں سے ،مکر وفریب وسازش و دجل وفریب سے آپ کی حفاظت فرمائے ، اور آپ کو ان سات خوش نصیبوں میں بنائے جواس دن عرش الہی کے سایہ میں ہو ں گے ، جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا .
عالیجناب خادم حرمین شریفین ۔ ہم آپ کو بڑے بھائی کے وفات پر تعزیت پیش کرتے ہیں ، جو حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت اور عزت وشرافت میں اپنے والد اور برادران کے نقش قدم پر تھے، لیکن بد قسمتی سے آخری دور میں بعض فتنہ پرور بد طینت اور شر پسند عناصر ان پر حاوی ہو گئے تھے،جنہوں نے مکرو فریب کے سازشی جال چاروں طرف پھیلا دئے تھے ،اور ان سازشیوں نے خود آپ کو راستہ سے ہٹانے کا منصوبہ بنا رکہا تہا، اور ایک مستحکم نظام کو تہ وبالا کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا، اسی مقصد کے لئے انہوں نے ولی عہد کے ولی عہد کا ایک نیا عہدہ گڑھ لیا تھا ، یہ منصوبہ تھا کہ آپ کو ہٹاکر سلطنت پر ایک نااہل کو بٹھائیں ،اور پہر زمام کار انکے بیٹے کو سونپ دیں۔ لیکن’’ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ اللہ کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے ، اللہ نے ان کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ، اور پورے ملک کو ایک خطرناک دلدل میں پھنسنے سے بچا لیا، خدا کے فیصلہ کے مطابق زمام قیادت بر وقت آپ کے ہاتھ میں آگئی اور آپ نے اس فتنہ پرور کی سر کوبی فرما دی، جو اس سازش کا سرغنہ تھا اور ملک کو خطر ناک صورت حال سے بچا لیا، آپ نے اصلاح حال کا آہنی عزم ظاہر فرمایا ہے، جس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں.
مجھے یاد ہے جب میں جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض میں ۱۹۸۰ ؁ء میں زیر تعلیم تھا ،تو آپ منطقۂ ریاض کے امیر تھے، آپ کی تعریف ہر عام وخاص کی زبان پر تھی، آپ کے فقراء وضعفاء کے لئے جذبۂ تعاون و ہمدردی کے اچہے تذکرے ہوتے تہے ، تو آپ کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ آپ حافظ قرآن ہیں، جبکہ متعدد دیگر امراء ناظرہ قرآن بہی نہیں پڑہ سکتے.
گزشتہ سالوں میں ہم نے مملکت سعودیہ عربیہ میں خطرناک رجحانات، بڑے سیاسی انحرافات، کھلا ظلم وناانصافی ،اور قابل عزت واحترام شخصیات وجماعتوں پر بے جا الزام تراشی دیکھی ، اور مسلسل ظالمانہ اقدامات سامنے آئے، تو ہماری امیدیں مملکت سعودیہ سے ختم ہو گئیں تھیں ، ہم حالات سے مایوس ہوگئے تھے ،بے دینی، بے ضمیری اور صلیبی وصہیونی قوتوں کی دخل اندازی دیکھ دیکھ کر مملکت سعودیہ کے قائدانہ ومطلوب کردار سے یاس وناامیدی چھا گئی تھی ، کہ آچانک آپ کی شخصیت تخت سلطنت پر جلو ہ گر ہوئی ، آپ نے اصلاح کا بیڑا اٹھایا، فتنہ وفساد کے عناصر کے خلاف کارروائی کی، تو ایک بار پھر امیدیں جاگیں ،اور تن مردہ میں جان آگئی ، آپ نے دور اندیشی ، بیدار مغزی،اور ہمت وجوانمردی کا ثبوت دیا ،ہم امید کرتے ہیں کہ آپ نے جس اصلاح کا بیڑاہ اٹھایا ہے اس کو پایۂ تکمیل تک پہونچائیں گے ، شر وفساد کی سر کوبی و استیصال فرمائیں گے ، امن و امان اور خوش حالی ورفاہیت کا صحیح معنی میں نظم فرمائیں گے ، اور کتاب وسنت کی روشنی میں ہر اقدام کریں گے .
آپ نے فتنہ وفساد اور شروطغیان کے سرغنہ تویجری کو معزول فرمایا ،ہم آپ کے اس اقدام سے بے حد مسرت و خوشی محسوس کر تے ہیں ، اور آپ کے اس کارنامہ کو سراہتے ہیں ، در حقیقت ایسے شرپسندوں اور فتنہ پروروں نے مملکت سعودیہ کے وقار کو مجروح کر دیا تھا ، اس کی عزت وشہرت پر بٹہ لگا دیا تھا اورپوری مملکت کے خلاف مسلمانوں میں نفرت کے جذبات بہڑکا دئے تہے .
میں اگر قسم کھاکر یہ کہوں کہ بر صغیر کے مسلمان، اور امریکہ کناڈا ، یو رپ ، افریقہ میں بسے ہوئے ہندوستانی مسلمان 99% فیصد مملکت سعودیہ سے بد ظن تھے ، اس کی اس قیادت سے ناخوش تھے، تو میں حانث نہیں ہونگا، آپ سے یہ امر بہی مخفی نہیں کہ خود مملکت سعودیہ میں درجنوں علماء وداعی اور عوام، مصر میں ہزاروں بے گناہوں کے قتل اور دسیوں ہزار کی قید بند، اور خود سعودیہ کے جیلوں میں محبوس ہزاروں بے گناہوں کے حالات پر کڑہ رہے ہیں، اور ان کے جگر کباب ہو رہے .
یہ انتہائی المناک و خطر ناک صورتحال تھی ، جس کی خطر ناکی سے کلیجے منھ کو آرہے تھے ، اور لوگ قادر مطلق احکم الحاکمین کے دربار میں ہاتھ اٹھائے فریاد کر رہے تھے ، اے اللہ حالات تبدیل فرما، مصائب دور فرما، ظالموں کی سخت پکڑ فرما.
کیا ہم آپ جیسے ، ایک حافظ قرآن، دور اندیش بیدر مغز اور شریف انسان سے وہی توقع نہ رکھیں، جس کی مثال مأمون ومعتصم عباسی خلفاء کے بعد خلیفہ متوکل نے پیش کی تہی ، تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اہلسنت و الجماعت حضرت امام احمد بن حنبل کو مامون ومعتصم کے دور میں قید وبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا تھا ،تعذیب وآلام کی چکی میں پیسا گیا تھا، ان کی پیٹھ پر ایسے کوڑے مارے جاتے تھے کہ اگر ہاتھی کو مارے جاتے تو وہ بھی چیخ اٹھتا ،لیکن متوکل کا عہد آیا تو انصاف وعدل پروری اور اتباع سنت کا دور دورہ ہوا، امام محترم کو آزادی ورہائی نصیب ہوئی ، مشقتوں سے راحت ملی ،اور انہیں آزادی سے اور کہل کر اپنی بات کہنے کا موقعہ دیا گیا.
میں آپ کی خدمت میں تہنیت و مبارک باد پیش کرتے ہوئے یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میرے نانا مرحوم حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی شاہان مملکت سعودیہ ، شاہ سعود ، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، اور شاہ عبد اللہ سے باربار ملاقاتیں ہوئیں، اور پوری صفائی کے ساتھ ان کے سامنے اصلاحی مطالبات رکہے، شاہان مملکت کے نام خطوط شائع ہوچکے ہیں، اور انکی کتاب " کیف ینظر المسلمون الی الحجاز وجزيرة العرب" سے ان کا واضح موقف معلوم ہوسکتا ہے، شاید آپ سے بھی انکی ملاقات ریاض میں متعدد بار ہوئی ہوگی کسی سفر میں ہوئی ہو.
خادم حرمین شریفین !اللہ آپ کی تائید ومدد فرمائے ، قدم اٹھائیے ، جراتمندانہ فیصلے لیجئے، عدل وانصاف پروری سے کام لیجئے ، بے گناہوں اور معصوموں کی رہائی کا حکم صادر فرمائیے، ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلوں کو منسوخ کیجئے، اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دئے جانے کا فیصلہ ایک ظالمانہ فیصلہ تھا ، اس کو ختم فرمائیے ،مصر میں مجرم وغاصب حکمراں سیسی سے تعلق منقطع فرمائیے ، یمن درد سے کراہ رہا ہے اسکا علاج کیجئے، عراق وشام میں جو اہل سنت ظلم وستم سے دو چار ہیں ان کی مدد وتعاون میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھئے.
ہمیں جب یہ معلوم کہ آپ نے تعزیت میں آنے والوں میں مجرم سیسی سے ملاقات نہیں کی، تو ہمیں اور تمام مسلمانوں کو مسرت ہوئی، یہ آپ کی غیرت وحمیت کی واضح دلیل ہے ، ہم نے یہ بہی دیکہا کہ آپ نے اوباما صدر امریکہ سے ملاقات کی ، پہر آپ نماز عصر کے لیے چلے گئے، آپ نے عالمی پروٹوکول کا خیال نہیں کیا، یہ یقیناًآپ کی قوت ایمانی ، تدین وصلاح اور خدا ئے رب العالمین کے ساتھ محکم تعلق کی بین دلیل ہے ، اور اس کی دلیل ہے کہ آپ نے صدر امریکہ کے مقابلہ ندائے ربانی پر لبیک کہنے کو ترجیح دی.
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے سعود الفیصل کو اور دیگر متعدد ناکاروں کو معزول کر دیا ہے، ہم آپ کے ان حکیمانہ ودانشمندانہ فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، نیز امید کرتے ہیں کہ آپ انشاء اللہ مستقبل میں اسی طرح جرأت مند اقدمات فرماتے رہیں گے ، خاص طور پر آپ سے امید ہے کہ آپ اپنے سفارتخانوں کی اصلاح فرمائیں، اس لئے کہ وہ سرزمین حرمین کے نمائندے ہیں ، انہیں حرمین کے معیار کے مقام کا لحاظ رکھنا چاہیے ، اور پوری امت کا نمائندہ بننا چاہئے .
ہم آپ کی خدمت میں بر صغیر کے مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد وتہنیت پیش کرتے ہیں، ہماری نیک تمنائیں ، خلوص ومبارک باد قبول فرمائیں .
اللہ آپ کا حامی و مددگار ہو اور توفیق نیک کی ارزانی فرمائے.
والسلام عليكم ورحمة الله
خیر اندیش
سلمان حسینی ندوی

دل كی تکلیف؟

دل کے آپریشن سے بچنے کا مجرب نسخہ

تیار کرنے میں آسان، استعمال میں سہل اور تاثیر میں تیر بہدف

’’ دوا کی تیاری
عمدہ اور تازہ گلاب اور سونف کا عرق کشید کر کے اسے دو آتشہ کرنا ھے  عرق نکالنے کے آلے (قرع انبیق…بھبکہ) سے عرق کشید کیاجائے  پھر دوبارہ بھپکارا یعنی جوش دیناھے ‘ یوں دوآتشہ عرق تیار ہوگیا۔
یہ عرق صبح ناشتے کے بعد نصف پیالی مقدار میں دینا ھے ۔ پھر عصر کے بعد اتنی ہی مقدار میں لیکن دو چاول جواہر مہرہ کے ساتھ اور رات سوتے وقت چوتھائی پیالی عرق پیناھے.
’’دو ہفتے بعد طبی معائنہ کروائیں کچھ کمی ھو اور کچھ روز دوا استعمال کریں ان شاءاللہ  وال کھل چکے ھونگے  ۔ تاہم احتیاطاً   نسخہ ایک ماہ تک استعمال کروائیں.
ان شاءاللہ دل کے بند وال پوری طرح کھل چکے ھونگے
کچھ کسر ھو تو اور کچھ عرصہ استعمال کریں
ان شاءاللہ پوری طرح صحت ھوگی.
دعاؤں میں شامل رکھیں
متین خان

جب پوچھا تو...

⚪ = سوال ... 💎 = جواب
⚪اے الله تيری مدد كيسے ملے گی؟
💎 وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ
اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو (البقره: 45)
⚪بهت گنهگار هوں
💎لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے (الزمر: 53)
⚪دل سكون ميں نهیں
💎أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے (الرعد: 28)
⚪ميں بهت اكيلا هوں
💎وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں (ق: 16)
⚪مجهے كوئی ياد نهيں كرتا
💎 فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ
تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا (البقره: 152)
⚪بهت پريشانياں هیں
💎وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے (الطلاق: 2)
⚪بهت سی خواهشات هيں
💎اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم
مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا (الغافر: 60)
📝 قال الله تعالی:
💎وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی (الذاريات: 55)
الدين النصيحة

جب صدیق کی صداقت پہ آنے لگا حرف

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم فنحاس اس اجتماع میں آیا تھا۔
صدیق اکبر رضی الله نے فنحاس سے کہا اے فنحاس! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے اللہ کی قسم تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو اس پر فنحاس کہنے لگا۔
وہ اللہ جو فقیر ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں۔ غرض فحناس نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا۔
من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا (سورہ البقرہ ٢٤٥)
صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے مولا کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا:
”اس مولا کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا-“
فنحاص دربار رسالت میں آگیا۔ اپنا کیس حکمران مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ کہنے لگا:
”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھئے! آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے۔“
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا:
”آپ نے کس وجہ سے اس کے تھپڑمارا۔“
تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس اللہ کے دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا۔ اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں۔ اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آگیا۔ چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا۔“
یہ سنتے ہی فنحاص نے انکار کردیا اور کہا :” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔“
اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا۔
یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے۔
یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا۔ مگراللہ نے اپنے نبی کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی۔
لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو ااِنَّ اللَّہ َ فَقِیر وَنَحنُ اَغنِیَائُ(آل عمران : ۱۸۱)
”اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں-“
قارئین کرام ! ….صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مولا کی گستاخی پر رب کے دشمن کے طمانچہ مارا اور جب صدیق کی صداقت پہ حرف آنے لگا تو رب تعالیٰ نے صدیق کی صداقت کا اعلان عرش سے کر دیا۔
(تفسیر قرطبی،4۔129، زاد المیسر1۔514، ابن کثیر1۔434)

کالکی اوتار اوراسلام

بھارت میں شائع ھونے والی کتاب
"Muhammad.. In The Hindu Scriptures"
(جس کا اردو ترجمہ "کالکی اوتار" کے نام سے شائع کیا گیا) نے دنیا بھر ھلچل مچا دی ھے.. اس کتاب میں يہ بتایا گیا ھے کہ ھندووں کی مذھبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" یعنی آخری اوتار کا تذکرہ ھے وہ آخری رسول محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) بن عبدﷲ ھیں
📌اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ھوتا تو شايد وہ اب تک جیل میں ھوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ھوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برھمن ھندو ھیں اور الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ھیں.. وہ سنسکرت کے معروف محقق اور اسکالر ھیں.. انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور معروف محققین پنڈتوں کے سامنے پیش کیا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ھیں.. ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ھے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حواله جات مستند اور درست ھیں.. انہوں نے اپنی تحقیق کا نام "کالکی اوتار" یعنی تمام کائنات کا رھنما رکھا ھے..
📌ھندووں کی اھم مذہبی کتب میں ايک عظیم رھنما کا ذکر ھے جسے "کالکی اوتار" کا نام دیا گیا ھے.. اس سے مراد محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) ھیں جو مکہ میں پیدا ھوئے.. چنانچہ تمام ھندو جہاں کہیں بھی ھوں ان کو کسی کالکی اوتار کا مزید انتظار نہیں کرنا، بلکہ محض "اسلام قبول کرنا ھے" اور آخری رسول (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے نقش قدم پر چلنا ھے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ھیں..
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ھندووں کی مقدس مذھبی کتاب "وید" سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کيئے ھیں
💠1: "وید" کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" بھگوان کا آخری اوتار ھوگا جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا.. ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش يہ کہتے ھیں کہ يہ صرف محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے معاملے میں درست ھو سکتا ھے
💠2: "وید" کی پیش گوئی کے مطابق "کالکی اوتار" ايک جزیرے میں پیدا ھوں گے اور يہ عرب علاقہ ھے جیسے جزیرة العرب کہا جاتا ھے
💠3: مقدس کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" کے والد کا نام "وشنو بھگت" اور والدہ کا نام "سومانب" ھوگا.. سنسکرت زبان میں "وشنو" ﷲ کے معنوں میں استعمال ھوتا ھے اور "بھگت" کے معنی غلام اور بندے کے ھیں چنانچہ عربی زبان میں "وشنو بھگت" کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی "عبدﷲ" ھے.. اور "سومانب" کا مطلب امن ھے جو کہ عربی زبان میں "آمنہ" ھوگا اور محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبدﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ھے
💠4: وید کتاب میں لکھا ھے کہ "کالکی اوتار" زیتون اور کھجور استعمال کرے گا.. يہ دونوں پھل نبی صلی الله عليه وسلم کو مرغوب تھے
💠5: وہ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ھو گا.. مکہ میں محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے
💠6: "وید" کے مطابق "کالکی اوتار" اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ھو گا اور يہ بھی محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے بارے میں سچ ثابت ھوتا ھے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے جس کی مکہ میں بےحد عزت تھی
💠7: ھماری کتاب کہتی ھے کہ بھگوان "کالکی اوتار" کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا.. اس معاملے میں يہ بھی درست ھے کہ محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے جنہیں ﷲ تعالی نے غارِ حرا میں اپنے خاص فرشتے جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی
💠8: ھمارے بنیادی عقیدے کے مطابق بھگوان "کالکی اوتار" کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا جس پر سوار ھو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا.. محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کا "براق پر معراج کا سفر" کیا يہ ثابت نہیں کرتا؟
💠9: ھمیں یقین ھے کہ بھگوان "کالکی اوتار" کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا.. ھم جانتے ھیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کی فرشتوں سے مدد فرمائی
💠10: ھماری ساری مذھبی کتابوں کے مطابق "کالکی اوتار" گھڑ سواری، تیر اندازی اور تلوار زنی میں ماھر ھوگا.. پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ھے وہ اھم اور قابل غور ھے
📌وہ لکھتے ھیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ھے.. اب ٹینک، توپ اور مزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ھیں لہذا يہ عقل مندی نہیں ھے کہ ھم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح "کالکی اوتار" کا انتظار کرتے رھیں
💎حقیقت يہ ھے کہ مقدس کتابوں میں "کالکی اوتار" کے واضح اشارے محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) کے بارے میں ھیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل تهے
💎💎الدين النصيحة💎💎

دل پہ لگی سیدھی ....

تحریر تو پتہ نہیں کس کی ہے لیکن....جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔
اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔
امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔‘
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔
پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔
پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔
بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!
ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔
کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔
تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔

ज्यादा दिन नहीं चलता झूठ

(1)विदेशों में जमा 500 लाख करोड़ काला धन लाने के लिए मोदी को किसने रोका।
(2) 15 लाख हर हिन्दुस्तानी खाते में जमा करने के लिए किसने मोदी को रोका।
(3) कश्मीर से धारा 370 हटाने के लिए मोदी को कौन रोक रहा है।
(4) पाकिस्तानियों के एक के बदले दस सिर लाने के लिए मोदी को कौन रोक रहा है।(5)
(5)गौ हत्या पर प्रतिबन्ध लगाने के लिए मोदी को कौन रोक रहा है।
(6) कश्मीरी पंडितों की वापसी के लिए मोदी को किसने रोका।
(7) मांस के व्यापार पर प्रतिबन्ध लगाने के लिए मोदी को किसने रोका।
(8) देश को हिन्दू राष्ट्र। घोषित करने के लिए मोदी को किसने रोका।
(9) जशोदा बेन को पी एम् हाउस में रहने के लिए किसने रोका।
(10) तथाकथित सोनिया गांधी का स्विस बैंक से खरबों रूपया लाने के लिए मोदी को किसने रोका है।
(11) राम मंदिर बनाने के लिए मोदी को किसने रोका।
(12) 100 नई स्मार्ट सिटी का काम अभी तक शुरू नहीं हुआ।
(13) लोकपाल की नियुक्ति अभी तक नहीं हुई।
(14) बुलेट ट्रेन पर कोई काम शुरू नहीं किया।
(15)देश की रक्षा की बड़ी बड़ी बातें करते थे, मोदी ने रक्षा बजट में 6000 करोड़ रूपए की कटौती की।
(16) देश के नागरिकों के स्वास्थ्य के साथ खिलवाड़, स्वास्थ्य बजट में 7000 करोड़ रूपए की कटौती की।
(17) 09 महीने से महंगी विदेश यात्राओं पर अरबों रुपया बर्बाद किया जा रहा है।
(18) ओबामा की चमचागिरी में 500 करोड़ रुपये बर्बाद कर दिए।
(19) 09 लाख 27 हज़ार का सूट पहनने के लिए पैसा है, वैसे कांग्रेस ने खाजाना खाली कर दिया।
(20) भूटान नेपाल को हज़ारों करोड़ रूपए देने के लिए पैसा है वैसे कांग्रेस ने खाजाना खाली कर दिया।
(21) चीन 30 किलोमीटर अंदर आ गया, पाकिस्तान ने 120 हमारे सैन्य अधिकारी मार दिए, कहाँ गयी वो गीदड़ भभकी कि लाहोर तक कब्जा करेंगे, और एक के बदले दस सिर लाएंगे।
(22) इनका समर्थक वेद प्रकाश वैदेही  मुम्बई 26/11 ताज हमले का दोषी पाकिस्तानी आतंकवादी अफज़ल से मिलकर आता है उस पर कोई कार्यवाही नहीं।
(23) निहाल चंद बलात्कार का आरोपी मोदी सरकार में कैबिनेट मंत्री है।
(24) भ्रष्टाचारी पूर्व मुख्यमंत्री येदुरप्पा भाजपा का राष्ट्रीय उपाध्यक्ष है।
(25) 12 वी पास और एक भी चुनाव नहीं जीती मोदी सरकार में शिक्षा मंत्री है।
(26) एक भी चुनाव नहीं जीते जेटली मोदी सरकार में वित्त मंत्री है।
(27) थूक कर चाटा।
पहले आपने ऍफ़  डी आई का विरोध किया जंतर मंतर पर धरना दिया अब मोदी ने आते ही ऍफ़ डी आई 99% तक की।
स्वदेशी की बात करते थे अब हर काम के लिए विदेशियों के पैर पकड़ रहे है।
(28) 09 महीने में गंगा की सफाई 01% भी नहीं हुई।
(29) 26 जनवरी ओबामा को बुलाकर 60 साल के सशक्त और समृद्ध विकाश की जानकारी दी, उसके बाद देशवासियों को बहकाते है कि कांग्रेस ने कुछ नहीं किया।
(30) अकबर उद्दीन ओबैशी जिसने भड़काऊ भाषण दिया था उस पर कोइ कार्यवाही नहीं की बल्कि महाराष्ट्र में सरकार बनाने के लिए उसकी पार्टी का समर्थन लिया।
(31) कश्मीर में मोदी जिसे बाप बेटी की सरकार और बाप बेटे की सरकार कहकर कोसते थे और जिनके ऊपर बीजेपी के संस्थापक अध्यक्ष श्यामा प्रसाद मुखर्जी को मरवाने का आरोप था आप उन्ही
लोगों के सामने बीजेपी गठबंधन की सरकार बनवाने के लिए गिड़गिड़ा रहे हो।
(32) जिस किरण बेदी ने बीजेपी को भ्रष्ट पार्टी कहा और मोदी को गोधरा काण्ड के लिए न्यायालय से बरी होने पर सवाल उठाये उसी किरण वेदी को सी एम् उम्मीदवार बनाया।
(33) एक तरफ कहते है कांग्रेस ने कुछ नहीं किया दूसरी तरफ कांग्रेस द्वारा पूर्ण की गयी परियोजनाओं
( जम्मू कटरा रेलवे लाइन, अग्नि 5, पी एस ऐल वी प्रक्षेपात्र, सबसे बड़ा समुद्र पोत इत्यादि) का फीता काटने बेशर्मी से पहुँच जाते हो।
(34) गुजरात में एक लड़की के पीछे आपने जासूस लगाये थे अब तक नहीं बताया वो जासूसी क्यूं करायी गयी थी।
(35) गुजरात न्यायालय ने शाह को तड़ीपार घोषित किया था आपने उसी को पॉर्टी का राष्ट्रीय अध्यक्ष बना दिया।
(36) साधारण खाता खोलने की योजना को आपने जन धन योजना नाम दे दिया, जो की फ्लॉप हो गयी लाखों लोग खाता खोलने के बाद उसका संचालन नहीं कर रहे।
(37) योजना आयोग का नाम आपने नीति आयोग कर दिया काम वही रहेगा जो पहले होता था।
(38)कैग रिपोर्ट को अब आप सही नहीं मानते।
(39) सी बी आई अब भी सरकार का तोता है।
(40) कोई भी एक ठोस काम जो मोदी जनता को बता सके उन्होंने पिछले 09 महीने में किया हो, सिवाय दिन में चार बार मंहगी ड्रेस बदलने के, और लच्छेदार झूठे वादों के भाषण देने के।