Friday, 1 December 2023

اپنے کنبے والوں کو کاروبار میں شامل کرکے ٹیکس بچانے کا حکم

اپنے کنبے والوں کو کاروبار میں شامل کرکے ٹیکس بچانے کا حکم 
-------------------------------
--------------------------------
ہمارے اکاؤنٹینٹ نے ہمیں کہا کہ أپ اپنی بیوی اور بچوں جن کی عمر ۱۸ سال سے زیادہ ہے کمپنی میں ڈائریکٹر شو کریں اور انکو تنخواہ بھی دیں. اس سے ٹیکس کم ہوگا میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی اجرت لے سکتے ہیں یعنی میں اور میرے بچے جو ۱۸ سال سے اوپر ہیں جبکہ میں تھوڑا بہت کام ان کا دیکھتی ہوں مگر بچے تو کچھ نہیں اور ان کو تنخواہ بھی ادا ہوتی ہے یہاں تمام فیملیز کے ارکان جو بزنس کرتے ہیں چاہے گردوری شاپ ہو یا پیزا وہ تمام فیملی ممبرز بزنس سے تنخواہ لیتے ہیں. چاہے کام کریں یا نہیں. پوچھنا یہ تھا کہ کیا ہمارا ٹیکس بچانے کی غرض سے تنخواہ لینا اور ڈائریکٹر بننا جائز ہے؟ تنخواہ انہی پیسیوں سے ملتی ہے جو میرے میاں کماتے ہیں. اگر وہ خود سارا اپنا دکھلائیں تو بھاری ٹیکسز دینا پڑتے ہیڻ جبکہ جو تنخواہ مجھے ملتی ہے میں بھی ٹیکس دیتی ہوں رہنمائی فرمائیں.
الجواب و باللہ التوفیق:
انکم ٹیکس ظلم پر مبنی ناروا ٹیکس ہے ، دفع ظلم کے لئے حیلے بہانے، حتی کہ بعض حالت میں کذب بیانی کی بھی گنجائش رہتی ہے. صورت مسئولہ میں اپنی گاڑھی کمائی بچانے کے لئے اپنی کمپنی سے تنخواہ شو کرنے کی گنجائش ہے. بہتر یہ ہے کہ حسب موقع وفرصت کام میں معمولی اور برائے نام ہاتھ بھی بٹالیا جائے، فتاوی شامی میں ہے: 
وأکثر النوائب في زماننا بطریق الظلم فمن تمکن من دفعہ عن نفسہ فھو خیر لہ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۶۰۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، الکذب مباح لإحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ الخ (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۶۱۲)
وإن أمکن التوصل إلیہ بالکذب وحدہ فمباح إن أبیح تحصیل ذلک المقصود، وواجب إن وجب تحصیلہ الخ (رد المحتار، ۹: ۶۱۲، عن تبیین المحارم)
واللہ اعلم بالصواب.
مرکز البحوث الإسلامية العالمي ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2023/12/blog-post.html

Tuesday, 28 November 2023

بے راہ رو مسلم حکمرانوں کو نصیحت کرنا فریضہ دینی ہے

بے راہ رو مسلم حکمرانوں کو نصیحت کرنا فریضہ دینی ہے 
-------------------------------
--------------------------------
سوال: ایک غیر مقلد نے منسلکہ پوسٹ ارسال کی ہے. 
اس کا کیا جواب دیا جائے ؟ رہبری فرمائیں. اس شخص کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب حکمراں کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا اور فلسطین کے تعلق سے ان کا سکوت یہ قابل مواخذہ نہیں ہے.
الجواب و باللہ التوفیق:
مرسلہ پوسٹ ذیل کی حدیث کا ناقص ترجمہ ہے 
پوری حدیث یوں ہے: 
خِيارُ أئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ ويُحِبُّونَكُمْ، وتُصَلُّونَ عليهم ويُصَلُّونَ علَيْكُم، وشِرارُ أئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ ويُبْغِضُونَكُمْ، وتَلْعَنُونَهُمْ ويَلْعَنُونَكُمْ، قالوا: قُلْنا: يا رَسولَ اللهِ، أفَلا نُنابِذُهُمْ عِنْدَ ذلكَ؟ قالَ: لا، ما أقامُوا فِيكُمُ الصَّلاةَ، لا، ما أقامُوا فِيكُمُ الصَّلاةَ (صحيح مسلم: 1855) 
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کريں، تم ان کے حق ميں دعائے خير کرو اور وہ تمہارے حق ميں دعائے خير کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کريں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں-“ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم ان کی بيعت توڑ کر ان کے خلاف بغاوت نہ کريں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں‘ جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے ہیں.“
اس حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں میں سے کچھ تو نیک ہوں گے اور کچھ فاسق اور بے دین ہوں گے۔ اس کے باوجود جب تک وہ شعائرِاسلام کی حفاظت کرتے رہيں جس میں نمازسب سے اہم ہے، ان کے خلاف خروج وبغاوت جائز نہیں ہے۔ 
یعنی مسلمانوں کی شیرازہ بندی اور آپسی اتحاد واتفاق کے مقصد سے ان کے خلاف بغاوت کرنے اور مسلح ونگ کے ذریعے حملہ آور ہونے سے منع کیا گیا ہے، اسے خارجیت قرار دیا گیا ہے، 
یہ مطلب نہیں ہے کہ حکمرانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیا جائے کہ جو کچھ بھی کرتے رہیں اس کی تحسین وتائید کی جاتی رہے. صحیحین کی حدیث: 
"الدين النصيحة» قلنا: لمن؟ قال: «لله، ولكتابه، ولرسوله، ولأئمة المسلمين وعامتهم" 
کے بموجب ہر مومن کا دینی فریضہ ہے؛ بلکہ دین اس بات پر منحصر ہے  کہ بندہ مومن حالات وواقعات کے تقاضوں کے مطابق معتدل ومتوازن انداز اور شائستہ ومؤثر لب ولہجے میں، ان کے ادب واحترام اور حیثیت عرفی کی رعایت کے ساتھ، ملکی آئین ودستور کی حدود میں رہتے ہوئے  حکمرانوں کو حق بات کی نصیحت کرتا رہے، انہیں تقریر وتحریر، مضمون، کالم نویسی، تصنیف وتالیف اور پر امن احتجاج اور بوقت ضرورت بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے ایسی چیز کی طرف ان کی رہنمائی کرتا رہے جس سے وہ ناآشنا ہیں اور جس چیز کو وہ بھول چکے ہیں یا جس سے وہ غافل ہیں اس کی یاد دہانی کراتا رہے، علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں 
مجھے ہے حکم اذاں لاالٰہ الاّ اللہ
یعنی مسلمانوں کے ذہن ودماغ میں مفادات ، مرغوبات ، ترجیحات اور عقائد وخیالات کی صورت میں مختلف غیر حسی بت پوشیدہ ہیں، جو مومنین کو تقاضۂِ ایمانی سے برگشتہ کرتے رہتے ہیں، ایسے میں ہر مومن  کی ذمہ داری ہے کہ بالعموم دنیا اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے "برہانِ اسلام" کا اعادہ کرتا رہے، یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود وحاکمِ وقت قابل اتّباع وپیروی نہیں!  
مرکز البحوث الإسلامية العالمي ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2023/11/blog-post_28.html

Monday, 27 November 2023

تشہد میں انگشتِ شہادت اٹھانے کا مسنون طریقہ اور اس کی وجہ وحکمت؟

تشہد میں انگشتِ شہادت اٹھانے کا مسنون طریقہ اور اس کی وجہ وحکمت؟
-------------------------------
--------------------------------
سوال: (1) قعدہ میں التحيات پڑھتے ہوئے کلمہ (لا) پر شہادت کی انگلی اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
سنت ہے یا واجب؟
(2) شہادت کی انگلی اٹھاتے وقت بلا اختیار خنصر انگلی بھی ساتھ ساتھ اٹھ جاتی ہے تو کیا اس ڈر سے کہ خنصر انگلی بھی اٹھ جاتی ہے شہادت کی انگلی ہی نہ اٹھانے کے جواز کا کوئی قول فقہائے کرام میں سے کسی کا ہے؟
(3) اگر دونوں انگلیاں (شہادت اور خنصر) ساتھ ساتھ بالاختیار اٹھادے تو اس سے کیا خرابی لازم آئے گی؟
محمد مناظر احسن قاسمی 
حال مقیم قطر 
الجواب وباللہ التوفیق:
لاالٰہ پڑھتے وقت دو کام کرنا ہے. ایک چھنگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی بند کرنا، اور ابہام کو وسطی کے ساتھ حلقہ بنانا ہے. 
دوسرا اس کے ساتھ ہی مسبحہ کو اوپر کرنا ہے،  "الا اللہ" پڑھتے ہوئے اسے چھوڑ دینا ہے۔ لیکن انگلیوں کے حلقہ بنانے اور چھوٹی انگلیوں کو بند رکھنے کی کیفیت کو آخر تشہد تک باقی رکھنا ہے۔
یہ عمل مسنون ہے:
عن عبدالله بن الزبير قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قعد في الصلاة جعل قدمه اليسرى بين فخذه وساقه وفرش قدمه اليمنى ووضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى وأشار بإصبعه" . رواه مسلم (579) .
وفي النسائي (1270) وأبي داود (989) "كان يشير بأصبعه إذا دعا ولا يحركها."
اب رہا آپ کا یہ خلجان کہ رفع سبابہ سے ماسوی اللہ کی نفی کیسے ہوگی؟
تو وہ اس طرح ہوگی کہ انگلیاں یا ہاتھ "اوپر اٹھانا" کسی چیز کو پس پشت ڈالنے اور انکار کرنے کو مشیر ہوتا ہے. اسی لئے تکبیرتحریمہ کے وقت رفع یدین کے من جملہ حکمتوں میں "طرح الدنیا" کو بھی بتایا جاتا ہے. جب "ہاتھ اٹھانا" طرح وانکار ونفی“ ہوسکتا ہے تو اب تشہد میں کوئی ہاتھ کیسے اٹھائے گا ؟ اب کلمہ توحید پڑھتے ہوئے اس کے لئے یہی کچھ ممکن ہے کہ  "جزو ید" مسبحہ اٹھاکر ماسوی اللہ کا طرح وانکار مراد لیا جائے۔ چنانچہ جب رفع سبابہ سے عملاً اور "لاالٰہ" پڑھ کر قولاً ہر دو طریقوں سے ما سوی اللہ کی مکمل نفی ہوگئی تو اب مقصد حاصل ہوگیا اور "الا اللہ" کہتے ہوئے یعنی اثبات توحید لذات اللہ کے وقت انگلی نیچے رکھ دے.
کمرے کی بجلی اور لائٹ آف کرنے "نفی نور" کے لئے بھی سوئچ کو اوپر "رفع" کیا جاتا ہے، اور اثبات نور "لائٹ آن" کرنے کے لئے سوئچ کو نیچے "وضع" کیا جاتا ہے۔ 
رفع سے نفی اور وضع سے اثبات کا فلسفہ آپ اس سے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں 
هذا ما فتح الله عليَّ علٰى هذا الفقير، والله سبحانه و تعالى أعلم بالصواب 
شكيل منصور القاسمی 
سوال 
——-
جزاکم اللہ خیرا 
بڑی خوبی سے اور بالخصوص بذریعہ عام فہم تمثیل سے مفتی صاحب آپ نے (رفع برائے نفی) اور (وضع برائے اثبات) سمجھا دیا ۔۔ بس اب یہ بات بھی آپ اپنے خوبصورت انداز میں سمجھادیجئے کہ (سبابہ اور خنصر) کا ایک ساتھ رفع ہو یا سبابہ کے ساتھ اور کسی بھی انگلی کا ایک ساتھ رفع ہو دو یا تین وغیرہ انگلیوں کا ایک ساتھ رفع ہو تو کیا حکم ہے؟
بالاخیار اور بدون خطا کے ۔۔ کیا حکم ہے؟
اور بلا اختیار لیکن مع التکرار اور لاابالی پن میں ۔۔ تو کیا حکم ہے۔۔
کسی نمازی نے سوال کیا ہے۔
شکریہ
الجواب وباللہ التوفیق:
اس جزئیہ کا جواب بھی اسی میں موجود ہے. رفع سبابہ کے ساتھ ابہام کو وسطی سے ملائیں گے اور بقیہ انگلیوں کو حلقے سے مربوط اور موڑ کے یعنی کہ بند رکھیں گے، سبابہ کے ساتھ کسی بھی دوسری انگلی کو اٹھانا خلافِ سنت ہے. بندہ اختیار کی حد تک ہی مکلف ہے، بقیہ انگلیوں کو حلقے سے جوڑ کے اور موڑ کے رکھنے کی پوری کوشش کرے، اس کی باضابطہ عادت ڈالے، اگر بامر مجبوری ممکن نہ ہو تو غیراختیاری طور پہ عارضی حالت میں اس عمل سے نماز میں کراہت نہ آئے گی 
البتہ اگر کوئی عمداً ایسا کرتا ہے تو یہ عمل مکروہ ہوگا. کیونکہ ہمارے یہاں رفع سبابہ کے ساتھ اسے مزید یمیناً وشمالاً آخر تشہد تک حرکت دیتے رہنا جب مکروہ ہے:
فی اعلاء السنن (۱۱۲/۳): قال الطحطاوی في حاشیته علی مراقي الفلاح: قوله،وتسن الاشارۃ،أی من غیرتحریك فإنه مکروہ عندنا۔
حالانکہ بعض احادیث سے اس کے ثبوت کے اشارے بھی ملتے ہیں تو رفع خنصر — جس کا کہیں سے کوئی ثبوت نہیں ہے— تو بدرجہ اولیٰ ناپسندیدہ عمل ہوگا۔ 
اس ناپسندیدہ، وقار نماز کے منافی اور غیر ثابت عمل کی اصلاح کی جانب پوری توجہ مبذول کی جائے۔
شامی میں ہے:
وشیخ الاسلام الجد وغیرھم أنه یشیر لفعله علیه الصلاۃ والسلام ونسبوہ لمحمد والامام بل فی متن دررالبحار وشرحه غرر الاذکار المفتی به عندنا انه یشیر باسطا أصابعه کلھا ، وفی الشرنبلالیۃ عن البرھان الصحیح أنه یشیر بمسبحته وحدھا یرفعھا عند النفی ویضعھا عند الاثبات واحترز بالصحیح عما قیل لایشیرلأنه خلاف الدرایۃ والروایۃ وبقولنا بالمسبحۃ عما قیل یقعد عند الاشارۃ وفی العینی عن التحفۃ الاصح انھا مستحبۃ۔
وفی القھستانی: وعن اصحابنا جمیعاً انہ سنۃ فیحلق ابھام الیمنی ووسطھا ملصقا رأسہا برأسھا ویشیر بالسبابۃ فھذہ النقول کلھا صریحۃ بان الاشارۃ المسنونۃ انما ھی علی کیفیۃ خاصۃ الخ الدر المختار مع رد المحتار: (508/1، ط: دارالفکر)۔
وفي حاشیة ابن عابدین: والصحیح المختار عند جمھور أصحابنا أنه یضع كفيه علی فخذیه ثم عند وصوله إلی کلمۃ التوحید یعقد الخنصر والبنصر ویحلق الوسطی والإبھام ویشیر بالمسبحة رافعا لھا عند النفی وواضعا لھا عند الاثبات ثم یستمر علی ذلک...
(ج :1/134)
والله أعلم بالصواب 
مرکز البحوث الإسلامية العالمي ( #ایس_اے_ساگر )
https://saagartimes.blogspot.com/2023/11/blog-post_27.html



کوئی گھڑی 100 فیصد درست نہیں

 کوئی گھڑی 100 فیصد درست نہیں

انسانی زندگی میں وقت اور گھڑی کی اہمیت 11 چونکا دینے والے حقائق 

وقت سے متعلق آپ کیا سوچتے ہیں؟ گھڑیوں کی آپ کی نظر میں اہمیت کیا ہے؟ کیا گھڑی کے بنا زندگی کا تصور ممکن ہے؟ان سوالوں کا کوئی مختصر جواب دینا مشکل ہو سکتا ہے۔اس لیے ہم نے آپ کیلئے وقت کی انسانی زندگی میں اہمیت سے جڑے 11 حقائق تحریر کیے ہیں:

1۔ زبان کا وقت سے کیا تعلق ہے؟

وقت کو اکثر ایک سیدھی لکیر کے طور پر تصور کیا جاتا ہے مگر یہ لائن جو سیدھی لکیر تصور کی جاتی ہے یہ جاتی کہاں ہے؟ اس کی سمت کیا ہے؟لیکن یہ جو بات ہم تصور کر رہے ہیں کہ وہ ہو ہی نہ تو یعنی کوئی لائن ہو ہی نہ۔

اب کہا یہ جاتا ہے کہ ان تمام سوالات کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کون سی زبان بولتے ہیں۔وقت کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے یا تفہیم اس زبان سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے جو ہم استعمال کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، انگریزی بولنے والے وقت کو آگے یا پیچھے سمجھتے ہیں۔انگریزی بولنے والے مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے ہاتھ سے آگے کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور جب وہ ماضی کا ذکر کرتے ہیں تو ا±ن کے ہاتھ کا اشارہ پیچھے کی جانب ہوتا ہے۔وقت کو افق پر دائیں سے بائیں تک پھیلی سیدھی لکیر کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے۔چین میں رہنے والے اور چائنیز زبان بولنے والے وقت کو ایک اوپر سے نیچے جانے والی لائن کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ تصور یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس اوپر سے نیچے آنے والی لائن کی تہہ میں مستقبل ہے۔یونانیوں نے وقت کو لمبائی میں نہیں بلکہ سہہ جہتی سمجھا۔اسی طرح آسٹریلیا کا ایک قبیلہ وقت کو مشرق اور مغرب سمجھتا ہے۔اس کے علاوہ، ہماری زبان وقت گزرنے کے بارے میں ہماری تفہیم کا تعین کرتی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ کوئی اپنے حال کے بارے میں کیا کہتا ہے اس سے بہتر کہ وہ اپنے ماضی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

2۔ جو آپ اب سمجھتے ہیں وہ اب نہیں:

جب آپ ان الفاظ کو پڑھ رہے ہوں گے تو اب اسے سمجھنا بہت آسان ہو گا لیکن ایسا نہیں۔مثال کے طور پر اس شخص کے بارے میں سوچیں جو آپ کے سامنے میز کے دوسری طرف بیٹھا ہے اور بول رہا ہے۔

ان کے اشارے ان کے الفاظ سے پہلے آپ تک پہنچ جاتے ہیں کیونکہ روشنی آواز سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے۔ہمارا دماغ ان دونوں کو جوڑتا ہے۔اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ جب کسی شخص کے ہونٹ ہلتے نظر آتے ہیں تو وہ تبھی بول رہا ہوتا ہے۔جب ہونٹ ہل رہے ہوتے ہیں تو ہم سب سے پہلے دیکھتے ہیں لیکن یہ وقت کے بارے میں سب سے عجیب بات نہیں۔

3۔ وقت کے بغیر کوئی شعوری تجربہ نہیں ہوسکتا:

ہم اپنے ہاتھوں کی مدد سے گھڑی کی ٹک ٹک کی گنتی کرتے ہیں۔ اب زرا یہ گمان کریں کے یہ ٹک ٹک ہے کیا تو جناب یہ ٹک ٹک آپ کے دل کی دھڑکن ہے۔وقت اور ہمارے وجود کی بات کرتے ہیں تو یہ گھڑی کی ٹک ٹک اور ہمارے دل کی دھک دھک ایک ساتھ چلتے ہیں۔ایک اندھیری غار میں لیٹا ہوا شخص بھی دنیا اور گھڑیوں سے چاہے جتنا ہی دور کیوں نہ ہو مگر وہ اپنی اس جسمانی گھڑی کے زیر اثر ہوتا ہے۔ہولی اینڈرسن سائمن فریزر یونیورسٹی، برٹش کولمبیا میں سائنس، فلسفے اور میٹا فیزکس کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم وقت کا ٹریک کھو دیں گے تو اس سے ہمارے اپنے بارے میں تصور متاثر ہوگا۔‘ان کا ماننا ہے کہ ’اگر وقت کی سمجھ نہ ہو اور ہم وقت گزرنے کو محسوس نہ کریں تو ہم کچھ بھی محسوس نہیں کریں گے۔‘سوچیں کہ وقت گزرنے کی وجہ سے آج آپ کیا ہیں۔ آپ کی شخصیت وقت کے ساتھ تشکیل پاتی ہے۔آپ کی شخصیت یادوں کے مجموعے کے سوا کچھ نہیں۔

4۔ کوئی گھڑی 100 فیصد درست نہیں:

سائنسدان وقت کی پیمائش کرنے کیلئے بہت محنت کرتے ہیں۔ وہ گزرنے والے لمحات، منٹوں، گھنٹوں پر نظر رکھنے کیلئے جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔اگرچہ ان کی ایٹمی گھڑیاں بہت درست ہیں لیکن پھر بھی وہ وقت کی مکمل پیمائش کرنے کے قابل نہیں۔زمین پر کوئی بھی گھڑی صحیح طریقے سے وقت کی پیمائش نہیں کر سکتی۔ اب یہ طے کرنے کا عمل کہ یہ کون سا وقت ہے بہت سی گھڑیوں پر مشتمل ہے۔اسی طرح دنیا کے وقت کا حساب لگایا جاتا ہے۔قومی لیبارٹریاں پیرس (فرانس) میں بین الاقوامی ادارہ برائے وزن اور پیمائش کو اپنی ریڈنگ بھیجتی ہیں۔ وہاں ان ریڈنگز کی اوسط کا حساب لگایا جاتا ہے۔بس یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وقت ایک انسانی ایجاد ہے۔

5۔ وقت کا تجربہ صرف ہمارے ذہن میں ہے:

وقت کے بارے میں ہماری سوچ سمجھ یا تفہیم بہت سے عوامل سے تشکیل پاتی ہے، جیسے ہمارا شعور، ارتکاز، معنی، اور سمجھ کہ ہم موجود ہیں۔وقت کے بارے میں ہمارا ادراک ہمیں اپنی ذہنی حقیقت سے منسلک رکھتا ہے۔ہماری زندگی نہ صرف وقت کے ساتھ شروع ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ جاری بھی رہتی ہے۔ ہم صرف وقت کے ذریعے زندگی کو محسوس کرتے ہیں اور لطف اندوز کرتے ہیں۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری زندگی پر ہمارا کچھ کنٹرول ہے۔مثال کے طور پر، اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی زندگی جلد بازی میں گزر جائے تو، ایک حل ہے اور وہ یہ کہ اپنی زندگی میں جدت کو جگہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اسی طرح، بعض اوقات معمول کی زندگی بہت تیزی سے گزرتی نظر آتی ہے۔اس کے مقابلے میں اگر آپ زندگی میں جدت کو برقرار رکھیں گے تو زندگی لمحہ بہ لمحہ پرسکون طریقے سے گزرنا شروع ہو جائے گی۔وقت گزرتا دکھائی نہیں دے گا۔

6۔ 22 ویں صدی کے شہری ہم میں موجود ہیں:

ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ آنے والی صدی اکثر ایک طویل دور لگ سکتی ہے۔اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو شاید 2099 کا نیا سال دیکھیں گے۔ 2023 میں پیدا ہونے والا بچہ اس وقت 70 سال کی عمر میں ہو گا۔ہم ماضی اور مستقبل سے اس سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ان کے رشتوں کی وجہ سے، ان کی آنے والی نسلوں کی وجہ سے۔

7۔ ہم سب وقت کے جمود کو محسوس کرسکتے ہیں:

وقت کی رفتار ہر ایک کیلئے ایک جیسی نہیں۔ جیسے ہی گاڑی سڑک پر رینگتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے یہ صدیوں سے رینگ رہی ہے۔اگر ریت کو ہوا میں پھینکا جائے تو یہ ہوا میں کیسے رکتی ہے؟بعض اوقات ہمارا ماحول وقت کے بارے میں ہمارے تصور کو بھی متاثر کرتا ہے۔جب تناو¿ ہوتا ہے تو وقت تیزی سے گزرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے ہمیں زندگی اور موت کے فیصلے جلدی کرنے میں مدد ملتی ہے۔اسی طرح دماغی بیماریاں جیسے مرگی اور دورے بھی وقت کے بارے میں ہمارے تصور کو متاثر کرتے ہیں۔

8۔ گھڑی دن کی روشنی کے مطابق چلنا کیوں شروع ہوتی ہے؟

بہت سے ممالک میں، گرمیوں اور سردیوں میں گھڑیوں کو آگے پیچھے منتقل کیا جاتا ہے تاکہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔سب سے پہلے اگرچہ یہ پوری دنیا میں نہیں کیا جاتا ہے۔ایک برطانوی بلڈر ولیم ولیٹ نے امریکہ سمیت دنیا کے ایک چوتھائی حصے کو اس بارے میں بتایا۔ پہلی عالمی جگ دوران، برطانیہ نے دن کیلئے اپنی گھڑیاں قائم کیں۔اس وقت ایسا کوئلے کی قلت کی وجہ سے کیا گیا تھا۔سورج طلوع ہونے کے ساتھ گھڑیوں کو ہم آہنگ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ رات کو روشن کرنے کیلئے کم بجلی کی ضرورت تھی۔یہ خیال اتنا مو¿ثر ثابت ہوا کہ برطانیہ نے اسے دوسری عالمی جنگ کے دوران اپنایا۔ برطانیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی گھڑیاں عالمی اوسط وقت سے دو گھنٹے پہلے طے کیں۔اس سے صنعت میں بہت زیادہ توانائی بچائی جا سکتی ہے۔

9۔ کائنات کے خاتمے کے بعد کوئی ماضی، حال اور مستقبل باقی نہیں رہے گا؟

علامتی طور پر وقت کو تیر سمجھا جاتا ہے۔ وقت کا یہ تیر اس مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بگ بینگ سے باقی رہ گیا تھا۔کائنات کے آغاز میں کائنات میں بہت کم اینٹروپی تھی، اینٹروپی بے ترتیبی کی پیمائش ہے۔ تب سے یہ تجسس لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ وقت کے تیر کو سمت دیتا ہے۔چونکہ تیر صرف ایک سمت (آگے) میں جاتا ہے اس لیے ایک انڈے کو توڑا جا سکتا ہے لیکن اسی انڈے کو اس انڈے کا پانی، زردی اور خول ملا کر نہیں بنایا جا سکتا۔کوئی نہیں جانتا کہ کائنات کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا۔خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا (کائنات) کا خاتمہ شدید گرمی میں ہو گا۔

10۔ چاند کی کشش کی وجہ سے ہمارے دن لمبے ہوتے جارہے ہیں:

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہمارا چاند ہم سے انچ در انچ دور ہوتا جا رہا ہے۔ہر سال چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ تقریباً 1.5 انچ (3.8 سینٹی میٹر) بڑھ رہا ہے۔ اس عمل میں ہمارے دن لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔چاند زمین کے پانی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ چاند زمین کے پانی کو کھینچتا اور دھکیلتا ہے۔یہ کشش زمین اور پانی کے درمیان رگڑ پیدا کرتی ہے۔زمین پانی کے نیچے تیزی سے حرکت کرتی ہے۔ اس رگڑ کی وجہ سے زمین کی اپنے محور کے گرد رفتار کم ہو جاتی ہے جبکہ چاند رفتار پکڑ کر دور جا رہا ہوتا ہے۔چاند کی اس طاقت کی وجہ سے ہمارے دن 1.09 ملی سیکنڈ فی صدی لمبے ہو جاتے ہیں۔ کچھ دیگر تخمینوں کے مطابق یہ اضافہ 1.78 ملی سیکنڈ فی صدی سے کچھ زیادہ ہے۔لہٰذا اگرچہ یہ بہت بڑا نہیں لگتا لیکن اگر ہم زمین کی ساڑھے چار ارب سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح ہمارے دن لمبے ہو جاتے ہیں۔

11۔ بہت سے لوگ روایتی وقت میں نہیں رہتے، ان کیلئے یہ 2023 نہیں:

یہ دراصل نیپال کے بکرمی کیلنڈر کیلئے سال 2080 ہے۔ نیپال کا کیلنڈر باقی دنیا کے ٹائم زون سے 15 منٹ پیچھے چلتا ہے۔دنیا میں کم از کم چار کیلنڈر استعمال ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سی جگہوں پر لوگ ایک سال میں ایک سے زیادہ سال گزارنے پر خوش ہیں۔برما میں یہ 1384 سال سے چل رہا ہے۔اسی طرح تھائی لینڈ میں یہ تعداد 2566 اور ایتھوپیا میں 2016 ہے جہاں سال 13 ماہ کا ہوتا ہے۔اسلامی کیلنڈر کے مطابق جولائی میں 1445 ہجری میں اضافہ ہوا۔ (بشکریہ: بی بی سی اردو) ( #ایس_اے_ساگر )




Monday, 20 November 2023

روز قیامت کے گواہان

روز قیامت کے گواہان
 قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے 
                      پہلا گواہ
جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا وہ جگہ وہ زمین کا ٹکڑا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا
                 ( سورۃ الزلزال آیت نمبر 5،6 )
                        دوسرا گواہ
وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا
              ( سورۃالبروج آیت نمبر 3 )
                 تیسرا گواہ
قیامت کے دن بندے کی زبان گواہی دے گی
( سورۃ النور آیت نمبر 24 )
                  چوتھا گواہ
انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے
               (سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)
                 پانچواں گواہ
دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں جو معزز ہیں لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں
( سورۃ الانفطار آیت نمبر12 )
                   چھٹا گواہ
وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دکھائے جائیں گے
              ( سورۃ الکہف :آیت نمبر 49 )
                    ساتواں گواہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گواہ ہوں گے اللّه رب العزت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی گواہی مانگیں گے
( سورۃ النساء آیت نمبر 41 )
                  آٹھواں گواہ
اللّه رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں جو تم گناہ کرتے ہو ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے
              ( سورۃ یونس آیت نمبر 61 )
ہمارے گناہوں پر اللّه خود گواہ ہوگا
اللّه  ... اللّه  ... کیا عالم ہوگا 
یا اللّه ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما
ایسی توبہ نصیب فرما جس کے بعد کوئی گناہ نہ ہو!

On the Day of Resurrection, there will be eight witnesses for our sins


Monday, 13 November 2023

روز قیامت نبیوں کا نفسی نفسی کہنا؟

روز قیامت نبیوں کا نفسی نفسی کہنا؟
-------------------------------
--------------------------------
قیامت کا دن اس قدر دہشت ووحشت کا ہوگا کہ بچے بوڑھے ہوجائیں: 
يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا (المزمل 17)
تمثیلی پیرائے میں کہا جائے تو اگر کوئی حاملہ ہو تو شدت گھبراہٹ سے حمل ساقط کردے اور اگر کوئی دودھ پلانے والی ہو تو شدت ہول وخوف سے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے:
وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا (الحج 2)
لوگوں کے دل کانپ رہے ہونگے:
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ (النازعات 8)
آنکھیں خوف زدہ ہونگی: 
(أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ[ النازعات: 9)
لوگ گھٹنوں کے بل گرے ہونگے:
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً (الجاثية 28)
لوگوں کو لب ہلانے کی بھی اجازت نہ ہوگی :
هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ (المرسلات - 35)
انتہائی مشکل ترین دن ہوگا: 
فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ (9 المدثر)
کوئی جاے پناہ نہ ہوگی:
مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍ (الشورى 47)
پریشانی شدید تر ہو جائےگی، لوگ پسینے سے بہہ جائیں گے۔ ایسی عمومی پریشانی ، گھبراہٹ اور دہشت ووحشت کے لمحات میں انسان حساب کتاب اور غضب وجلال خداوندی میں آسانی اور ازالہ گھبراہٹ کے لئے اولو العزم انبیاء ورسل سے شفاعت کی گہار لگاتے پھریں گے. اس روز ہر انسان اپنی ذات کے بارے جھگڑتا ہوا آئے گا، ہر ایک “نفسی نفسی”  کہتا ہوگا اور سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی: 
يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
(النحل - 111)
جھگڑے سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک اپنے دنیوی عملوں کے بارے میں  عذر بیان کرے گا. حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں  میں  جھگڑا یہاں  تک بڑھے گا کہ روح اور جسم میں بھی جھگڑا ہوگا، روح کہے گی: یارب! (جسم میں داخل ہونے سے پہلے) نہ میرے ہاتھ تھے کہ میں ان سے کسی کو پکڑتی، نہ پاؤں  تھے کہ ان کے ذریعے چلتی، نہ آنکھ تھی کہ اس سے دیکھتی (گویا میں قصور وار نہیں؛ بلکہ جسم ہی قصور وار ہے) جسم کہے گا: یارب! تو نے مجھے لکڑی کی طرح پیدا کیا، نہ میرا ہاتھ پکڑسکتا تھا ، نہ پاؤں  چل سکتا تھا،نہ آنکھ دیکھ سکتی تھی، جب یہ روح نوری شعاع کی طرح آئی تو اس سے میری زبان بولنے لگی، آنکھ بینا ہوگئی اور پاؤں  چلنے لگے، (جو کچھ کیا اُس نے کیا ہے) ۔ اللّٰہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرمائے گا کہ ایک اندھا اور ایک لنگڑا دونوں  ایک باغ میں  گئے، اندھے کو توپھل نظر نہیں  آتے تھے اور لنگڑے کا ہاتھ ان تک نہیں  پہنچتا تھا تواندھے نے لنگڑے کو اپنے اوپر سوار کرلیا اس طرح انہوں  نے پھل توڑے تو سزا کے وہ دونوں مستحق ہوئے (اس لئے روح اور جسم دونوں  ملز م ہیں )اور تم دونوں کو عذاب ہوگا۔ تفسیر قرطبی میں ہے:
قوله تعالى يوم تأتي كل نفس تجادل عن نفسها وتوفى كل نفس ما عملت وهم لا يظلمون قوله تعالى : يوم تأتي كل نفس تجادل عن نفسها أي تخاصم وتحاج عن نفسها ; جاء في الخبر أن كل أحد يقول يوم القيامة : نفسي نفسي ! من شدة هول يوم القيامة سوى محمد - صلى الله عليه وسلم - فإنه يسأل في أمته . وفي حديث عمر أنه قال لكعب الأحبار : يا كعب ، خوفنا هيجنا حدثنا نبهنا . فقال له كعب : يا أمير المؤمنين ، والذي نفسي بيده لو وافيت يوم القيامة بمثل عمل سبعين نبيا لأتت عليك تارات لا يهمك إلا نفسك ، وإن لجهنم زفرة لا يبقى ملك مقرب ولا نبي منتخب إلا وقع جاثيا على ركبتيه ، حتى إن إبراهيم الخليل ليدلي بالخلة فيقول : يا رب ، أنا خليلك إبراهيم ، لا أسألك اليوم إلا نفسي ! قال : يا كعب ، أين تجد ذلك في كتاب الله ؟ قال : قوله - تعالى - : يوم تأتي كل نفس تجادل عن نفسها وتوفى كل نفس ما عملت وهم لا يظلمون . وقال ابن عباس في هذه الآية : ما تزال الخصومة بالناس يوم القيامة حتى تخاصم الروح الجسد ; فتقول الروح : رب ، الروح منك أنت خلقته، لم تكن لي يد أبطش بها ، ولا رجل أمشي بها ، ولا عين أبصر بها ، ولا أذن أسمع بها ولا عقل أعقل به ، حتى جئت فدخلت في هذا الجسد ، فضعف عليه أنواع العذاب ونجني; فيقول الجسد : رب ، أنت خلقتني بيدك فكنت كالخشبة ، ليس لي يد أبطش بها ، ولا قدم أسعى به، ولا بصر أبصر به، ولا سمع أسمع به، فجاء هذا كشعاع النور ، فبه نطق لساني ، وبه أبصرت عيني ، وبه مشت رجلي ، وبه سمعت أذني، فضعف عليه أنواع العذاب ونجني منه . قال: فيضرب الله لهما مثلا أعمى ومقعدا دخلا بستانا فيه ثمار، فالأعمى لا يبصر الثمرة والمقعد لا ينالها ، فنادى المقعد الأعمى ايتني فاحملني آكل وأطعمك ، فدنا منه فحمله ، فأصابوا من الثمرة ; فعلى من يكون العذاب ؟ قال : عليكما جميعا العذاب ; ذكره الثعلبي. (التفسیر القرطبی النحل - 111) 
میدان محشر میں حساب کتاب شروع ہونے سے قبل زبان حال یا مقال سے ہرفردِ بشر بجز محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اپنی فکر میں “ نفسی نفسی “ کہتا پھرے گا 
کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا. نفسی نفسی زبان حال یا مقال سے سیدالانبیاء کے علاوہ ہر فرد بشر(بہ شمول انبیاء) کا دہرایا جانے والا عام مقولہ ہوگا 
یہ مقولہ بصراحت صحیحین  چند اولوالعزم انبیاء کی زبانی موجود ہے (البخاري (4712)، ومسلم (194) 
آیت مبارکہ (كل نفس تجادل عن نفسها) کا عموم بتاتا ہے کہ اپنے نفس کے اعمال کی جوابدہی اور دفاع کی فکر ہر کسی کو دامن گیر ہوگی، جن انبیاء کے پاس لوگ شفاعت کی غرض سے جائیں گے وہ بھی اپنے بعض اعمال کے ظاہری شکل وصورت کے لحاظ سے جوابدہی کی فکر میں ہونگے اور اس باعث شفاعت سے معذوری ظاہر فرمائیں گے. اور سید الانبیاء کی طرف  محول فرمادیں گے۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ جیسے جلیل القدر نبی، جن کی حنیفیت،  امامت اور صالحیت کے  بارے قرآن کریم ناطق ہے: 
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (120)
{وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنِ الصَّالِحِينَ} [العنكبوت: ٢٧]
جب وہ  "نفسی نفسی" فرمارہے ہیں جیساکہ صحیحین کی روایت میں موجود ہے  تو باقی انبیاء کا کیا پوچھنا؟ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ-فِي أَمْرِ الشَّفَاعَةِ-: أَنَّهُ إِذَا طُلِبَ إِلَى كُلٍّ مِنْ أُولِي الْعَزْمِ أَنْ يَشْفَعَ عِنْدَ اللَّهِ فِي الْخَلَائِقِ، يَقُولُ: نَفْسِي نَفْسِي، لَا أَسْأَلُهُ اليومَ إِلَّا نَفْسِي، حَتَّى إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَقُولُ: لَا أَسْأَلُهُ الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، لَا أَسْأَلُهُ مَرْيَمَ الَّتِي وَلَدَتْنِي. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ * وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ * وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ)
(تفسير ابن كثير تحت آية (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ * وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ * وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ)
پھر اس ذیل میں خوب واضح انبیاء کرام کا نفسی نفسی کا کہنا عام امتیوں کی طرح ان کی گھبراہٹ کو مستلزم نہیں ہے ؛ بلکہ بموجب آیات کریمہ: 
وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً  يُبَصَّرُونَهُمْ} [المعارج: ١٠، ١١] “ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ (عبس37)
“يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا” ( النحل ۱۱۱)
ہر کسی کو اپنے اعمالِ نفس کی جوابدہی کی فکر ہوگی. سوائے محمد عربی کے کوئی نبی اپنی ذاتی شرافت یا علو مقام کے باوجود اپنے گرد وپیش نظر آنے والے یا بہرِ شفاعت پہنچے کسی عزیز، رشتہ دار یا امتی کو اس روز کی دہشت وخطر ناکی سے بچانے کی پوزیشن میں نہیں ہونگے. اس خصوصی شفاعت کبری کے تاجدار اس روز صرف ہمارے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے. 
(يغبطه فيه الأولون والآخرون) 
روز قیامت کی ہولناکیوں کے مد نظر اعمال نفس کے دفاع وجوابدہی کی فکر کوئی معیوب شئی نہیں ہے۔ آیات واحادیث شفاعت سے اس کا عموم ثابت ہوتا ہے ۔اسی فکرِ جوابدہی کا تکرار، زبان مقال یا زبان حال سے روز محشر “ نفسی نفسی “ کے پیرائے میں عام ہوگا۔ عام امتی کی گھبراہٹ کی نوعیت الگ ہوگی، انبیاء کرام کے مقولے کا مفہوم مختلف ہوگا۔ مفہوم کے فرق کے ساتھ یہ مقولہ عام ہے، احادیث میں جن انبیاء کا ذکر آیا ہے انہی کے ساتھ خاص نہیں ہے. عموم آیات کریمہ سے اس مقولے کی تعمیم کی گنجائش ہے۔ جب یہ صحیح احادیث ومتعدد آیات کریمہ سے اشارۃً ثابت ہے تو پھر یہ شان انبیاء کے منافی بھی نہیں ہوسکتا اور اوپر بیان کردہ معنی ومفہوم کے پس منظر میں تنقیص آمیز بھی نہیں ہے. احادیث سے ماثور ومنقول صیغوں میں اپنی طرف سے حذف وزیادتی کرنا اور پھر اسے کلام رسول کی حیثت سے بیان کرنا  غلط ہے، یہاں بھی غلط ہوگا۔ حدیث کا نام وعنوان دیئے بغیر تشریح وتوضیح کی حیثیت سے اگر کوئی عربی زبان میں ہر نبی کی طرف اس مقولے کی نسبت اگر کررہا ہے تو اس میں (بندہ کے خیال ناقص میں) شرعی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس ذیل میں یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اپنے اعمال کی جوابدہی کی یہ فکر عمومی حساب کتاب شروع ہونے سے قبل کی ہے. حساب کتاب ہوجانے اور جنت وجہنم کے فیصلے ہوجانے کے بعد جنتی کو اب ہول وخوف نہیں ہوگا، فرشتے باب جنت پہ استقبال  کے لئے  فرش راہ ہونگے:
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ[ سورة الأنبياء: 103]
علامہ بغوی معالم التنزیل میں لکھتے ہیں:
 (لا يحزنهم الفزع الأكبر) قال ابن عباس: الفزع الأكبر النفخة الأخيرة بدليل قوله عز وجل (ويوم ينفخ في الصور ففزع من في السماوات ومن في الأرض) (النمل 87)، قال الحسن: حين يؤمر بالعبد إلى النار قال ابن جريج: حين يذبح الموت وينادى يا أهل الجنة خلود فلا موت ويا أهل النار خلود فلا موت وقال سعيد بن جبير والضحاك : هو أن تطبق عليهم جهنم وذلك بعد أن يخرج الله منها من يريد أن يخرجه. 
تفسیر جلالین میں بھی اس کا محل یہی بتایا گیا ہے:
(لا يحزنهم الفزع الأكبر) وهو أن يؤمر بالعبد إلى النار
جنت کی نعمتوں کو دیکھ کر جنتیوں کے چہرے ہنستے کھلتے اور ہشاش بشاش ودرخشندہ ہونگے جبکہ جہنمیوں کے چہرے غبار آلود اور کالک میلے ہوئے ہونگے، اس نوع کی دیگر کیفیات کا بیان جنت وجہنم کے فیصلے ہوچکنے کے بعد کا ہے ؛ جبکہ عمومی ہول ودہشت آغاز حساب کتاب سے پہلے کا ہے. فلامنافاة!   
علماء کرام کو زبانی کلامی درسی بیانات پہ انحصار کی بجائے اصول فقہ میں بیان کردہ استنباط واستخراجِ احکام کے مصادر ومراجع  سے استفادے کی کوشش پہ زیادہ توجہ مرکوز رکھنی  چاہیے ۔ تضییق وتحجیر اور تمییع وتوسعِ بے جا کے درمیان اعتدال وتوازن کے ساتھ غور وتدبر اور اخذ واستنباط کی ضرورت ہے. 
فقط واللہ اعلم
مرکز البحوث الإسلامية العالمي
(پیر 28؍ ربیع الثانی 1445 ھ13؍نومبر 2023ء)

Friday, 10 November 2023

اذان کے کلمات میں کتنا مد کیا جائے؟

اذان کے کلمات میں کتنا مد کیا جائے؟
سوال:مکرم ومحترم حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب زیدمجدہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج فجرکی اذان کی آواز پر تحقیق کرنے پر ظاہر ہوا کہ دارالعلوم کی مسجد کی اذان ہے، اور اس طرح ہوئی ہے متعدد کلمات میں مد زیادہ مسموع ہوا، نیز بعض کلمات میں تمطیط بھی ظاہر ہوئی، اس سلسلہ میں اپنی معلومات کی بناء پر ایسی اغلاط کی اصلاح کی سعی کرتا رہتا ہے۔ براہ کرم آپ بھی اپنی تحقیق سے مطلع فرماکر ممنون فرماویں۔
ومن ثم تاکد علی الموذنین ان یحترز وامن اغلاط یقعون فیہا فان بعضہا کفر وبعضہا لحن خفی کترک ادغام دال محمد فی راء رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم- ومدّ الف اﷲ والصلوٰۃ والفلاح الخ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ،ج:۱، باب اذان(ای المدّالطبعی) مقدار الف وصلاً ووقفاً ونقصہ عن الف حرام شرعاً فیعاقب علی فعلہ ویثاب علی ترکہ۔ فما یفعلہ بعض ائمۃ المساجد واکثر الموذنین من الزیادۃ فی المدالطبعی علی حدّہ العرفی ای عرف القرّاء۔ فمن اقبح البدع واشد الکراہۃ۔ وقد یقتدی بہم بعض الجہلۃ من القرّاء۔ بنات القول المفید فی علم التجوید
۔المستفتی: ابرارالحق
(حضرت مولانا ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم خلیفہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
-------
جواب: محترمی المحترم دامت برکاتہم وعمت وتمت بالخیر والعافیۃ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جناب والا تو احقر کے نزدیک مستند ہیں اور آپ کی سب باتیں سند کے درجہ میں سمجھتا ہوں، پس جتنی باتیں آنجناب نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ سے نقل فرمائی ہیں وہ سب بھی صحیح ہیں، جناب کا اتنا فرمادینا بھی کافی تھا کہ مؤذنین کی غلطیوں کی اصلاح کرو اوراس طرح کرو اور بس مگر جناب نے فرمادیا کہ اپنی تحقیق سے مطلع کرو، اس کی تفصیلات تتمیماللفائدۃ چند روایات جو اذان سے متعلق ہیں پہلے نقل کردی جاتی ہیں، مثلاً۔
(۱) ابوداؤد شریف باب کیف الاذان یرفع، کہ صاحب رؤیا عبداللہ بن زید کو خود اذان دینے کا حکم دینے کے بجائے حضرت عبداللہ بن زید کو حکم فرمایا کہ قم مع بلال فالق علیہ ما رأیت فلیؤذن بہ فانّہ اندیٰ صوتامنک فقمت ُ مع بلال الخ۔ اسی حدیث پاک کے اندر اشارہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پر شارح مشکوٰۃ صاحبؒ اشعۃ اللمعات باب کیف الاذان میں اندیٰ صوتامنک کا ترجمہ اس طر ح فرماتے ہیں زیر اکہ بدرستی تیز تروبلند تروشیریں تر است۔
(۲) عن ابی ہریرۃ ص قال قال رسول اﷲ ﷺ المؤذن یغفرلہ مدی صوتہ ویشہدلہ کل رطب ویابس وشاہد الصلوٰۃ، مشکوۃ شریف ۔ قال فی التعلیق ،ج:۱۔ مدی الصوت غایۃ الصوت۔ المعنی انہ یتکمل مغفرۃ اﷲ تعالیٰ اذا استوفی وسعۃ فی رفع الصوت۔
(۳) اسی کی تشریح البحرالرائق ج:۱،ص:۲۷۹ میں اس باب میں ہے وان کان فی الصحراء اویرفع (الصوت) للترغیب الوارد فی الحدیث فی رفع صوت المؤذن لا یسمع مدی صوت المؤذن انس ولاجن ولاملک الا شہدلہ یوم القیمۃ۔
۴) زیر تشریح اسی حدیث پاک: عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اذا نودی للصلوۃ ادبر الشیطان لہ ضراط حتی لا یسمع التاذین الخ۔ عن الشیخین۔ (مشکوٰۃ شریف ،ص: ۶۴)
(۵) عن قـتـــادۃ قال سئل انس کیف کانت قراء ۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم، فقال کانت مدًا مدًا ثم قرأ بسم اﷲ الرحمن الرحیم بمد بسم اﷲ وبمد الرحمن و بمد الرحیم، رواہ البخاری۔ (مشکوٰۃ شریف: ص: ۱۹۰)
وتحت قول بمد بسم اﷲ کانت مداً ای ذات مد والمراد منہ تطویل النفس فی حروف المدواللین عند الفصول والغایات وفی غیر ذلک مما یحسن المدلفظہٗ (التعلیق الصبیح، ج: ۳، ص: ۲۹)
اس روایت سے ایک خاص بات یہ معلوم ہوئی کہ تلاوت کرنا سراً بھی بلاکراہت جائز ہے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قرأت فرماتے تو بکثرت مد فرماتے حتی کہ بسم اللہ کو بھی مد کے ساتھ قرأت فرماتے اور الرحمن کو بھی مد کے ساتھ قرأت فرماتے اور رحیم کو بھی مد کے ساتھ قرأت فرماتے، اور شراح مدت رحیم کے مد کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای (کانت) ذات مدوالمراد منہ تطویل النفس فی حروف المد واللین عند الفصول والغایات وغیرذلک ممایحسن المدلفظہ (التعلیق الصبیح ، ج: ۳، ص: ۲۹)
یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تلاوت ہمیشہ جہراً ہونا لازم نہ ہونے کے باوجود جب جہراً تلاوت کا موقع آیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مداً مداً تلاوت فرماتے تھے۔ کما مرّ فی روایۃ البخاری ومسلم اور اسی طرح بسم اللہ میں بھی مد فرماتے رحمن میں بھی مدد فرماتے رحیم میں بھی مد فرماتے،نیز موقع بموقعہ ہر جگہ مد فرماتے اور یہ مد کرنا اگر چہ فن تجوید کے اعتبار سے مد اصطلاحی نہیں ہوتا تھا بلکہ تحسین صوت کے لئے تطویل نفس اس طرح ہوتا تھا کہ سننے والے اس کو مد سمجھتے تھے، پس تلاوت جس میں جہر ہر حال میں لازم نہیں مگر جب جہر فرماتے تو تحسین صوت کے لئے بشکل تطویل نفس مد فرماتے خواہ لغوی ہی ہو تو اذان صلوٰۃ میں مدیٰ صوتہ وغیرہ روایات کے مطابق مؤذن کا اپنی پوری طاقت وقوت کے ساتھ جہر کرنا شرعاً مطلوب ہے، اس لئے اس جہر میں تحسین صوت کے لئے حدود شرع میں رہتے ہوئے مد کرنا شرعاً مطلوب ہوگا، انہی وجوہ سے فقہ ائمہ اربعہ ج، ۱، ص: ۳۲۱ میں بیان مندوبات الاذان وسننہ میں حنفیہ کا قول بایں الفاظ منقول ہے۔ قالت الحنفیۃ التغنی فی الاذان حسن الاذادیٰ الی تغیر الکلمات بزیادۃ حرکۃ اوحرف فانہ یحرم مافعلہ لا یحل سماعہ اور یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرقاۃ شرح مشکوۃ باب الاذان وغیرہ سے جو عبارتیں نقل کی گئی ہیں وہ سب واجب اللحاظ والعمل ہیں اور ان سب روایات وعبارت ودلائل کا حاصل یہ نکلا کہ اذان کے کسی کلمہ میں کسی حرکت یا حرف کی زیادتی وکمی کے بغیر اور آواز بگاڑنے کے بغیر مدی صوتہ وغیرہ دلائل کے پیش نظر اپنی بلند سے بلندآواز سے اسی طرح اذان دیجائے کہ اس میں گانے کی آواز بن جانے کا کوئی شائبہ نہ آوے ہاں اگر تحسین صوت کے لیے تطویل نفس (سانس کھینچنا) کرنے سے مدلغوی کی صورت پیدا ہوجائے تو اس میںمضائقہ نہ ہوگا جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے بشرطیکہ اہل تجوید اور مجودین کے اصول کے خلاف اور ان کا اصطلاحی مد نہ ہوجائے۔
اس تمہید کے بعد اب احقر اپنے عامیانہ اور سادے الفا ظ میں بعض ان خرابیوں کی نشاندہی کرتاہے جو بعض موذنین میں پائی جاتی ہیں مثلاً لفظاًاشہد کو اشدوا پڑھ رہے ہیں ان میں لحن جلی ہوجاتا ہے جو ناجائز اور حرام ہے، اسی طرح لاالٰہ میں لا کو اتنا کھینچ دیتے ہیں جو الٰہ سے کٹ کر الگ ہوجاتاہے یہ فعل تقطیع کہلاتا ہے جو حرام و ناجائز ہے۔ ماناکہ لاالٰہ میں لام کے اندر مدطویل اصلی ہے مگر اس کو اہل تجوید کے مد اصلی سے زائد نہ ہونا چاہئے ورنہ تقطیع مذکور ہوکر ممنوع وحرام ہوجائے گا۔
اسی طرح لفظ اللہ کے الف کو صلاۃ وفلاح کے الف کو اس طرح اتار و چڑھاؤ سے ادا کرتے ہیں کہ تطریب اور ارتعاش پیدا ہوکر بسا اوقات تقطیع بھی پیدا ہوکر ہمزہ کی زیادتی بھی معلوم ہوجاتی ہے اور آواز الف میں اَئَ اَئَ کی آواز پیدا ہوکر لحن جلی بھی پیدا ہوکر ممنوع وحرام وناجائز ہوجاتا ہے۔اسی طرح کی اور جو بعض خرابیاں بعض مؤذنین میں پیدا ہوجاتی ہیں جیسا کہ مرقاۃ شریف مشکوۃ شریف کی شرح میں مذکور ہے ان سب سے بھی احتراز واجب ہے،چوں کہ استفتاء میں بعض ائمہ مساجد کی تلاوت فی الصلوٰۃ کی کوتاہیوں اور ان کی اصلاح کی جانب بھی اشارہ ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی موٹی موٹی بعض کوتاہیوں کو بتلاکر اصلاح کی جانب ان کی توجہ مبذول کروادی جائے، بعض اچھے خاصے قاری مگر نماز میںاس طرح قرأت فرماتے ہیں کہ ان کی قرأت منھ کے اندر ہی رہ جاتی ہے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کیا پڑھ رہے ہیں، پس اگر بھاری آواز ہے تو بسا اوقات غل بل غل بل پر کر اونٹ کی آواز کے مثل آواز ہوجاتی ہے،اور اگر باریک آواز ہے تو کبوتر وقمری کی آواز کی طرح ہوجاتی ہے۔ حالاں کہ یہ آیت کریمہ ورتل القرآن کا مفہوم یہ ہے کہ ہر لفظ اپنے صحیح مخرج سے اس طرح نکلے کہ ہرکلمہ متبین ومتمیّز ہوکر الگ الگ موتی کی طرح بکھرے ہوئے اور صاف مسموع ہوں کہ سننے والے کا ذہن ان کے مفاہیم کی جانب متوجہ ہوسکے جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا ہے اسی طرح بعض حضرات صاف تو پڑھتے ہیں مگر طریقہ پڑھنے کاغلط ہوتا ہے مثلاً الحمد ایک الگ کلمہ ہے اس کو الگ متبین ومتمیّز ہونا چاہیے اور ﷲ الگ کلمہ ہے، اس کو الگ متبین ومتمیّز ہونا چاہیے اور رب العالمین الگ کلمہ ہے اس کو الگ متبین ومتمیّز ہونا چاہیے، مگر پڑھنے میں الحم کی میم پر اس طرح زور دیتے ہیں کہ اس کی د،کٹ کر الگ اور للہ کے ساتھ مل کر دُللّٰہ کی آوازبن جاتی ہے،اسی طرح للہ ایک الگ کلمہ ہے مگر للہ میں لام کو اتنا زور دیتے ہیں کہ وہ کٹ کر رب العالمین کے ب کے ساتھ مل جاتی ہے اور متصل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اتنا زور دیتے ہیں کہ وہ کٹ کر رب العالمین اک الگ کلمہ ہے اس کوصرفی ونحوی قواعد کے ساتھ رعایت کے ساتھ ہونا چاہیے، مگر تلفظ بگڑ کر ترتیل الحم الگ اور للہ الگ اور ھِ رب العالمین رب الگ ہوکر غتربود ہوجاتا ہے۔ العالمین معرف باللام ہے یہ اس لئے صرفی ونحوی ضابطہ کے مطابق ب العالمین سے مل گئی اور لغوی وصرفی ضابطہ معانی کے مطابق پڑھنے کی وجہ سے غلطی شمار نہ ہوگا، پھر ایاک کا ف فتحہ کے ساتھ ایک الگ اور مستقل لفظ ہے محض ایا کوئی لفظ نہیں ہے مگر اس کے پڑھنے میںایّاکو اتنا زوردیتے ہیں کہ کاف کا فتحہ رواں نہیں رہا بلکہ ک نستعین کے ساتھ ملحق ہوکر معنی میں بگاڑ پیدا ہوجائے،اسی طرح مغضوب علیہم میں ضؔ ہے ض ؔکو د ؔ سے بدل کر صاف مغدوب علیہم پڑھ دیتے ہیں اس غلطی سے یہ کلمہ سہل ہوجاتا ہے اور قرآنی لفظ نہیں رہتا ہے، اسی طرح ولاالضالین ضؔ سے ہے مگر ضؔ کو دؔ سے بدل کر صاف ولاالدالین پڑھ دیتے ہیں جس سے معنی کفری پیدا ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ولاالضالین کے معنی ہیں ہم کو گمراہوں کا راستہ نہ دکھا اور ولا الدالین کے معنی ہیں راہبروں اور راہنمائوں کا راستہ نہ دیکھائے۔
پھر اس سوال کاجواب پھر نماز کے فاسد ہوجانے کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا، یہ جواب کتب فقہ میں دیکھئے، یہ بحث خارج ازموضوع ہے، یہاں تو صرف دکھانا مقصود ہے کہ فن تجوید سے کیا کیا غلطیاں اور کس درجہ کی سرزد ہوتی ہیں۔
چنانچہ عربی زبان میں ضؔ، ظؔ، ذؔ، زؔ، ہر ایک الفاظ میں اور ان سب کے صفات لازمہ الگ الگ ہیں اور صفات لازمہ ہی سے آواز پیدا اور متمیّز ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ض کے اندر پانچ صفات لازمہ ہیں،ان میں سے تین صفات لازمہ وہی ہیں جو ظ کے صفات لازمہ ہیں،لہٰذا ،ض،ذ،ظ، کی آواز میں توکچھ مشابہت ہوسکتی ہے نہ کہ ذزد کی آواز کے ساتھ اس لئے ان کے صفات لازمہ میں سے بعض حروف میں کوئی مشابہت نہیں ہے جو انہیں میں اس کے مشارکۃ فی الذات کا اور بعض میں دیگر مشارکۃ ہے تو حروف دوایک وصف میں سے ہے کہ یہ مشارکۃ صفات لازمہ کی د، کے ساتھ نہ ہونے کے باوجود ،ض، کو د، کے آوازکیوں اور کہاں سے پڑھا جائے گا۔ اگر کہا جائے کہ عرب کے لوگ آج کل اسی طرح پڑھتے ہیں تو یہ کوئی شرعی وجہ نہیں، اس لئے کہ بہت سے عرب آج کل ق، کو گ، پڑھتے ہیں اور بہت حائِ حطی خاء ثخذ پڑھتے ہیں وغیرہ، بلکہ احقر کے تجربہ ومشاہدہ میں تو یہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں جہاں لفظ ،ض، ہے اگر اس کو لفظ د ،سے پڑھا جائے تو پھر یا تو معنی کفری پیدا ہوجائیں گے جیسے ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ میں فتردی پڑھنے میں کفری معنی پیدا ہوجاتے ہیں، اور ایسا ہی حال اور بھی بہت سی آیات میں ہوتاہے اوربعض آیات میں معنی فاسد ہوجاتے ہیں۔ جیسے اقرضوا ﷲ قرضاً حسنا الآیۃ میں ض کو بدل کر د پڑھ دیں گے تو اقردواللہ قرداً حسنا ہوجائیں گے اور معنی یہاں متغیر ہوجائیں گے پس قیاس کن زگلستان من بہار مرا۔
حدر پڑھانے والے قاری حضرات کو اس طرف خاص توجہ رکھنا اور توجہ دلانا لازم ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
مفتی u، ۱۲؍۱۲؍۱۴۱۳ھ
--------
حضرت محی السنہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس تحریک پر علماء نے بڑا ظلم کیا ہے۔
حضرت مد تعظیمی کے اصرار کے درجہ میں خلاف تھے ،اور علماء اس میں گنجائش کا حوالہ دیتے ہیں۔
مگر اور جگہوں پر کوئی گنجائش نہ ہوکر بھی ان پر توجہ نہیں۔
بعض اغلاط تو جہلاء کی ہیں،  تصحیف ، تحریف  وغیرہ
مگر علماء و پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنے حلقے کی خامیوں اور بڑی خامیوں پر توجہ نہیں کرتا ، جیسے اسی فتوی میں مذکور تطریب، تقطیع، وغیرہ ۔
 نہایت جامع و مدلل فتوی ہے۔