Friday, 4 March 2022

قرآن لعنت کرتا رہتا ہے کی تحقیق

روایت 'رب تال للقران والقرآن یلعنہ' ترجمہ: کتنے قران پڑھنے والے ایسے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا رہتا ہے کی تحقیق 

یہ جملہ دو طرح  منقول ہے "رب تال" اور "رب قاری" مگر دونوں ہی موضوع ہے۔ محدث کبیر علامہ جونپوری رحمۃ اللہ علیہ "الیواقیت الغالیہ ۲/٦٦" میں لکھتے ہیں: یہ کلام قرائے متأخرین کی زبانوں پر مشہور ہے۔ میں نے اس کی تلاش میں بھرپور محنت کی مگر اس کی سند کا پتہ نہ چلا اور نہ یہ معلوم ہوا کہ اسکی تخریج کس محدث نے کی ہے۔ شیخ زکریا الانصاری رحمۃ اللہ علیہ  نے مقدمہ جزریہ کی شرح میں "الدقائق المحکمہ" میں اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ "المنح الفکریۃ شرح مقدمۃ الجزریۃ" میں حدیث کے انداز میں ذکر فرمایا ہے، مگر اس کے مخرج کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ "فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ۳/۲۱۳" میں ہے "لیس بحدیث عن النبی صلي الله عليه وسلم" اس کے قریب قریب مضمون پر مشتمل میمون بن مہران تابعی (۱۱۷ھ) کا قل منقول ہے؛ "ان الرجل لیصلی ویلعن نفسہ فی قرائتہ فی الحال: الا لعنۃ اللہ علی الظالمین وانہ لظالم (تفسیر ابن ابی حاتم ٦/۲۰۱۷)
"السنن والمبتدعات" میں ثقیری ذکر فرماتے ہیں: "ھذا لیس ایضا من کلام النبی صلي الله عليه وسلم" (السنن والمبتدعات)
تجوید کی اہمیت کے ذیل میں اس روایت کو  ذکر کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تجوید کی اہمیت قران و سنت کی محکم نصوص سے ثابت ہے اس کے لئے ایسی بے سند باتوں کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ 
حکم...........موضوع اور من گھڑت ہے.
عمدۃ الاقاویل فی تحقیق الاباطیل ۱۰۸
منجانب: مجلس شوری لمدنی دارالافتاء
(سرپرست اعلی مفتی  اسجد صاحب قاسمی مد ظلہ العالی) (ناظم اعلی مولانا شیخ سعود عالم صاحب قاسمی)
نوٹ .......  اگر آپ اس "مدنی دارالافتاء" گروپ میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو نیچے دئیے گئے نمبروں میں سے کسی بھی ایک نمبر پر اپنا تعارف ..... مکمل نام ...... پتہ .... فراغت .... حالیہ مشغلہ لکھ کر بھیجدیں .......
رابطہ کیلئے نمبر:
مفتی اسجد صاحب قاسمی 8306630995- شیخ سعود عالم صاحب قاسمی 8000969350- قاضی شاہد علی صاحب قاسمی 7013635353-  علامہ طارق صاحب قاسمی 9760349315
مرتبین: معاونین تقویم مدنی دارالافتاء (Sa_Sagar#)
--------------------------------
عنوان: "رب قاریٔ للقرآن والقرآن يلعنه" (بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن ان پر لعنت کررہا ہوتا ہے۔) روایت کی تحقیق
سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا "رب قارئ یقرء القرآن والقرآن یلعنہ" صحیح حدیث ہے یا نہیں؟
جواب: سوال میں ذکرکردہ الفاظ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں، البتہ یہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اثر اور میمون بن مہران (تابعی) کا قول ہے، جس کو ذیل میں تحقیق کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
(1) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اثر کو امام غزالی نے اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں بغیر سند کے درج ذیل الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
"قال أنس بن مالك رب تال للقرآن والقرآن يلعنه"
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے (ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں) حالانکہ قرآن ان پر لعنت کررہا ہوتا ہے۔
(2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اثر کو بغیر سند کے "ابن الحاج مالکی" نے "المدخل" میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
"وقد قالت عائشة رضي الله عنها: كم من قارئ يقرأ القرآن والقرآن يلعنه يقرأ ألا لعنة الله على الظالمين، وهو ظالم."
(ج:٢،ص:٢٩٥، ط: دارالتراث)
ترجمہ: کتنے ہی قرآن کریم پڑھنے والے ایسے ہیں، جو قرآن کریم پڑھتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم ان پر لعنت کرتا ہے، وہ پڑھتا ہے: "الا لعنةالله على الظالمين" (خبردارظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود ظالم ہوتا ہے۔
(3) مہران بن میمون (جو کہ تابعی ہیں) کا قول امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔
"حدثنا أبي، ثنا صالح بن عبيدالله الهاشمي، ثنا أبو المليح، عن ميمون بن مهران قال: إن الرجل ليصلي ويلعن نفسه في قراءته فيقول: ألا لعنة الله على الظالمين وإنه لظالم." (تفسيرالقرآن العظيم لابن أبي حاتم، حدیث نمبر:۸۴۸۴، ج: ۵، ص:۱۴۸۲، ط: مكتبة نزار مصطفى الباز)
ترجمہ: میمون بن مہران رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً آدمی نماز پڑھتا ہے اور قرأت میں اپنے آپ پر لعنت کرتا ہے، کیونکہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے: "الا لعنة الله على الظالمين" (خبردارظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود ظالم ہوتا ہے۔
تشریح: سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والے پر تو رحمتیں نازل ہوتی ہیں، تو پھر اس اثر کا کیا مطلب ہے کہ قرآن کریم اپنے بہت سے پڑھنے والوں پر لعنت کرتا ہے؟
جواب: احیاء علوم الدین کی شرح "اتحاف السادۃ المتقین" میں اس قول کی تشریح سے اس اثر کا مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ بعض اسلاف نے فرمایا کہ ایک بندہ جب قرآن کریم کی کوئی سورۃ شروع کرتا ہے، تو قرآن کریم اس کے لیے رحمت کی دعا کرتا ہے، یہاں تک وہ بندہ اس کی قرأت سے فارغ ہوجاتا ہے، اور ایک بندہ جب قرآن کریم کی کوئی سورۃ شروع کرتا ہے، تو قرآن کریم اس پر لعنت کرتا ہے، یہاں تک وہ بندہ اس کی قرأت سے فارغ ہوجاتا ہے، تو کہا گیا کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ تو جواب میں فرمایا: جب قرآن کریم کی حلال کردہ چیزوں کو حلال جانے اور حرام کردہ چیزوں کو حرام جانے، یعنی جب اس کے اوامر و احکام کو پورا کرے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اپنے آپ کو روکے، تو قرآن کریم اس کے لیے رحمت کی دعا کرتا ہے، ورنہ لعنت کرتا ہے۔ بعض علمائے کرام نے فرمایا: بندہ (بسا اوقات) تلاوت کرتا ہے، تو اپنے اوپر لعنت کرتا ہے، حالانکہ اس کو اس کا پتہ نہیں ہوتا ہے، (کیونکہ) وہ آیت پڑھتا ہے: "الا لعنةالله على الظالمين" (خبردار ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم کرتا ہے، وہ آیت پڑھتا ہے: "الا لعنةالله على الكاذبين" (خبردار جھوٹوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود جھوٹوں میں سے ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام: مذکورہ بالا الفاظ حدیث کے نہیں ہیں، بلکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اثر ہے، لہذا س کی نسبت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
احیاء علوم الدین: (274/1، ط: دار المعرفۃ)
قال أنس بن مالك رب تال للقرآن والقرآن يلعنه۔
اتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين: (469/4، ط: مؤسسۃ التاریخ الاسلامی)
(وقال بعض السلف ان العبد ليفتح سورة) من القرآن (فتصلى عليه حتى يفرغ منها) أى من قراءتها (وان العبد ليفتح سورة) من القرآن (فتلعنه حتى يفرغ منها) قراءة (فقيل له كيف ذلك قال اذا أحل حلالها وحرم حرامها) أى اذا ائتم بامرها وانتهى عن زجرها (صلت عليه والالعنته) نقله صاحب القوت هكذا (وقال بعض العلماء ان العبد لیتلوا والقرآن فیلعن نفسه وهو لا يعلم) بذلك (يقرأ ألا لعنة الله على الظالمين وهو ظالم نفسه) أو غيره (ألا لعنة الله على الكاذبين وهو منهم) أى من المتصفين بالكذب نقله صاحب القوت هكذا وفى هذين القولين تفسير لقول أنس السابق رب تال للقرآن والقرآن يلعنه
تقریب التھذیب: (ص: 585، ط: دارالیسر)
7049 - ميمون بن مهران الجزري أبو أيوب أصله كوفي نزل الرقة ثقة فقيه ولي الجزيرة لعمر بن عبد العزيز وكان يرسل من الرابعة مات سنة سبع عشرة بخ م 4
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب. دارالافتاء الاخلاص، کراچی (108285-No) (Sa_Sagar#)
-----------------------
عنوان: ’’بہت سے تلاوت كرنے والوں پر قرآن كا لعنت كرنا‘‘ حدیث کی تحقق
سوال: کیا مندرجہ ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ براہ کرم تصدیق فرما دیں۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: رُبَّ قَارِیٍٴ لِّلْقُرْاٰنِ وَالْقُرْاٰنُ یَلْعَنُہْ، بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ (غلط پڑھنے کی وجہ سے) قرآن اُن پر لعنت کرتاہے۔ (احیاء علوم الدین ، کتاب آداب تلاوة القرآن، الباب الاول، فی ذم تلاوة الغافلین، ۳۶۴/۱) سمیر انصاری ممبئی
جواب نمبر: 602818
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 470-844/M=01/1443
 اس حدیث کو امام غزالی رحمہ اللہ نے إحیاء علوم الدین، کتاب آداب تلاوة القرآن، الباب الأول في فضل القرآن وأہلہ، وذم المقصّرین فی تلاوتہ: 1/274، ط: دارالمعرفة، بیروت) میں موقوفاً (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر) ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: رُبَّ تال للقرآن والقرآن یلعنہ۔ لیکن صحاح وغیرہا میں یہ روایت نہیں ملی اور نہ مرفوعاً اس کی سند کسی کتاب میں مل سکی۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند (Sa_Sagar#) 
https://saagartimes.blogspot.com/2022/03/blog-post_94.html



سرکاری کاغذات کے مطابق بچوں کے نام رکھنے كے متعلق ضروری ہدایات

سرکاری کاغذات کے مطابق بچوں کے نام رکھنے كے متعلق ضروری ہدایات
محمد ظفر ندوی
Muslims names mistakes 
ہندوستان میں کسی بھی آفیشیل ویب سائٹ پر یا آفیشیل فارم کو پُر کرنے کے لیے نام درج کرنے کے آپشن میں 'پہلا نام'، 'دوسرا نام' اور 'تیسرا نام' کا آپشن ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہی شخص کے نام کے تین جزئوں کو تین الگ الگ خانے میں لکھنا پڑتا ہے۔ پہلے جزء کو پہلے نام اور دوسرے کو دوسرے نام اور تیسرے جزء کو تیسرے نام کے خانے میں لکھنا پڑتا ہے۔ لیکن ان تینوں خانوں میں سے ہر شخص کے لیے یہ لازم ہوتاہے کہ کم از کم دو خانوں کو ضرور پُر کرے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کا نام دو جزئوں پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔ مثلاً 'اقبال اختر' یہ نام دو جزئوں پر مشتمل ہے، لہذا اس نام کو دو الگ الگ خانوں میں لکھا جائے گا، 'اقبال' کو پہلے خانے میں اور 'اختر' کو دوسرے خانے میں۔ اور اگر کسی شخص کے نام کے تین حصے ہوں مثلاً 'محمد اقبال اختر' تو ایسے میں آپشن میں موجود تینوں خانوں کو پر کیا جاتا ہے۔ اور یہ نام رکھنے کا صحیح طریقہ ہے کہ دو یا تین جزئوں پر مشتمل ہو۔ جس کسی نے ازبخود کوئی بھی فارم مثلاً پین کارڈ، آدھارکارڈ، راشن کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ پُر کیا ہوگا تو اسے بخوبی ان باتوں کا اندازہ ہوگا۔ بہرحال جو بات بتانے کے لیے میں نے اوپر کی تفصیل لکھی وہ یہ کہ ہمارے ہندوستانی معاشرے میں ایک بڑی دشواری یہ ہے کہ عموماً لوگ جب بچوں کا نام رکھتے ہیں یا رکھواتے ہیں تو اس وقت لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے، اور عموماً ایک نام ہی رکھا جاتا ہے مثلاً حامد، طارق، اصغر، اور عموماً اس نام کے پیچھے 'محمد' لگادیتے ہیں مثلاً (محمد حامد، محمد طارق، محمد اصغر وغيره۔ مگردشواری اس وقت ہوتی ہے جب اسکول وغیرہ میں ایڈمیشن کروانا ہوتا ہے، لہذا جب نام پوچھا جاتا ہے تو حامد، طارق بتا دیا جاتا ہے اور چونکہ نام لکھنے والے کو دو خانے پُر کرنا لازمی ہوتا ہے لہذا وہ ازبخود عالم، انصاری یا شیخ وغیرہ لکھ دیتا ہے۔ اور اگر کسی نام کے دو حصے ہوتے بھی ہیں تو وہ لفظ “محمد” ہوتا ہے مثلاً محمد حامد، محمد طارق اور محمد اصغر۔ تو نام لکھنے والا کبھی صرف ایم ڈی حامد یا ایم او ایچ ڈی حامد اور کہیں پورا محمد لکھ دیتا ہے۔ اور اگر ایک جگہ مثلاً اسکول یا مدرسے میں MD ہے تو پین کارڈ میں MOHD اور آدھار کارڈ میں پورا MUHAMMAD لکھا ہوتا ہے، اس طریقے سے ایک ہی شخص کے نام تین جگہوں پر تین طریقوں سے لکھا چلا جاتا ہے۔ اور یہی مسئلہ لڑکیوں کے نام کے ساتھ بھی ہے کہ ان کا بھی ایک ہی نام رکھا جاتا ہے جیسے فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور ان کے نام کے آگے یا پیچھے بی بی یا بیگم لگایا جاتا ہے اور کہیں BIBI ہوجاتا ہے، کہیں BEBE کسی دستاویز میں BEGUM اور کسی میں BEGAM اور کسی میں BEGEM۔ اور آگے چل کر یہ ایک بہت بڑی دشواری کا سبب بن جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی ڈرائیونگ لائسنس کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہے یا بنک اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا ہے یا چاہتی ہے اور بنک اکاؤنٹ میں اسے بالکل صحیح نام اندراج کرانا ہے تو اسے یہ دشواری پیش آتی ہے کہ بنک اکاؤنٹ اوپن کرانے کے لیے اسے پہلے آدھار کارڈ صحیح کروانا ہوگا اور آدھار کارڈ پہلی بار آپ جیسے فارم پُر کریں گے ویسے بن جاتا ہے، لیکن تصحیح کرانے کے لیے آپ کو دسویں کی سرٹیفیکیٹ چاہیے اور دشواری یہ ہے کہ اسکول میں بھی نام درست نہیں لکھوایا گیا تھا لہذا خود دسویں کی سرٹیفیکیٹ محتاج تصحیح ہے۔ اور یہی نہیں جہاں جائیں جس محکمے میں جائیں آپ پریشان رہیں گے۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی زد میں بھی آجائیں گے کیوں کہ آسام میں جو این آرسی ہوئی ہے میں بذات خود ایک آسامی عالم دين سے ملا ہوں انھوں نے بتایا کہ 95 فیصد وہ مسلمان جن کا این آرسی میں نام نہیں آیا وہ ایسے ہیں جن کے نام کی اسپیلنگ ہر دستاویز میں الگ الگ تھی، مثلاً کسی کا نام جنید ہے تو ایک ڈاکیومنٹ میں محمد جنید دوسرے میں جنید عالم اور کسی میں ایم ڈی جنید تو کسی میں ایم او ایچ ڈی جنید پھر جنید کی بھی انگلش اسپیلنگ کہیں juned, کہیں junaid اور کہیں juneid ہے اور صرف اسی اسپیلنگ کی غلطیوں کی وجہ سے 95 فیصد لوگ این آرسی کی لسٹ سے باہر ہوگئے۔ اور یہ غلطی خود ان کی نہیں ہوتی ہے بلکہ والدین جب بچپن میں نام رکھتے ہیں تو اس وقت توجہ نہیں دیتے اور اسکول وغیرہ میں نام اور تاریخ پیدائش لکھواتے وقت احتیاط سے کام نہیں لیتے۔ تاریخ پیدائش اور والدین کے نام کا بھی یہی حال ہے کہ ہر ڈاکیومنٹ میں الگ الگ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس شخص کو بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا انہیں دشواریوں سے محفوظ رکھنے اور آگاہ کرنے کے لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس طرف ذمہ داران اورخصوصاً والدین حضرات کی توجہ مبذول کروائی جائے۔ اس ضمن میں چند ہدایات حسب ذیل ہیں:
(1) نام‌ کے شروع میں محمد نا لگائیں
میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ بچوں کے نام رکھتے وقت محمد شروع میں نا لگائیں کیوں کہ محمد لگانا کوئی ضروری اورواجب نہیں ہے۔ ہندوستانی معاشرے میں لاکھوں کروڑوں نام ایسے ہیں جن کے شروع میں محمد ہے۔ اس كى وجہ سے بہت سی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مثلاً جب انگلش میں محمد لکھتے ہیں تو اسپیلنگ طویل ہونے کی وجہ سے اسے MD یا MOHD لکھ کر مختصر کردیتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ مدارس کے علاوہ کہیں بھی اردو میں نام لکھنے کا آپشن نہیں ہوتا ہے اور ہر جگہ آپ کو انگلش ہی میں نام لکھنا ہوتا ہے اسی ضرر سے بچنے کے لیے میں یہ کہ رہا ہوں کہ نام کے شروع میں محمد نا لگائیں۔ مگر کوئی لگانا چاہتا ہو تو اس سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایم ڈی یا ایم او ایچ ڈی کے بجائے ہرجگہ ہر دستاویز میں مکمل MUHAMMAD لکھیں کیوں کہ نئے ضابطے کے اعتبار سے اگر ایم ڈی یا ایم او ایچ ڈی لکھا ہے تو پاسپورٹ بنانے میں اور دیگر دستاویزات میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا یا تو نام سے پہلے محمد نا لگائیں اور اگر لگانا ہی ہے تو ہمیشہ ہر جگہ ہر ڈاکیومنٹ میں مکمل محمد لکھیں۔
(2) نام دو جزئوں پر مشتمل ہو
نام دو جزئوں پر مشتمل ہو مثلاً حامد اختر، طارق انور اور اصغر امام وغيره۔ اور اسی طرح لڑکیوں کے نام بھی دو جزئوں پر مشتمل ہونا چاہیے مثلاً فلک ناز، فاطمہ زہرہ، طیبہ آفرین وغیرہ۔
(3) نام، تاریخ پیدائش اور والدین کے نام
نام کے ساتھ والدین کے نام اور تاریخ پیدائش ہمیشہ ہر ڈاکیومنٹ میں یکساں لکھیں اس میں ایک حرف کا بھی فرق نا ہو۔
(4) تصحیح کی فکر
جو بچے اور بچیاں ابھی اسکول یا مدرسے میں زیرِ تعلیم ہیں ان کے والدین اور وہ بچے اگر تصحیح کی ضرورت ہے اپنے، اپنے والدین اور تاریخ پیدائش کى تصحیح کرانے کی فکر شروع کردیں، کیوں کہ آنے والے ایام میں ان چیزوں کو لیکر لوگ کافی پریشان ہوسکتے ہیں اور اس وقت مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ (اسکول میں دسویں کے امتحان سے پہلے پہلے اور مدارس یا دیگر اداروں میں فراغت سے پہلے پہلے نام، تاریخ پیدائش اور والدین کے نام میں تصحیح کی گنجائش ہوتی ہے۔ (اس کے بعد بھی گنجائش باقی رہتی ہے لیکن دشواری ہوتی ہے)
(5) مدارس کے ذمہ داران سے ايک گزارش
مدارس کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ وہ ان طلباء کی ایسی درخواستوں کو نظرانداز نا کریں جو نام یا تاریخ پیدائش کی تصحیح کے لیے دے رہے ہوں بشرطیکہ آدھار کارڈ پین کارڈ ڈرائیونگ لائسنس جیسے آفیشیل ڈاکیومنٹ کی بنیاد پر وہ نام، تاریخ پیدائش یا والد کے نام کو تصحیح کرانا چاہتے ہوں۔ کیوں کہ عموماً مدارس میں جدید داخلے کے وقت نام کسی آفیشیل ڈاکیومنٹ کی بنیاد پر نہیں لکھا جاتا ہے، اور اس وقت طلباء میں بھی اتنی سنجیدگی نہیں ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ناموں کا اندراج کروائىں۔
(6) قوم کو بیدار رکھیں
مدارس کے اساتذہ و ذمہ داران اپنے طلباء، مکاتب کے معلمین اپنے بچوں اور علماء و دانشور طبقہ اپنی قوم کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے رہیں تاکہ ہماری قوم ایک بڑی دشواری سے حتی المقدور محفوظ رہ سکے۔ کیوں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے دائرۂ حیات کو تنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور خدانخواستہ بعید نہیں کہ CAA اور NRC جیسے قوانین آج ہمیں یا نہیں تو ہماری اگلی نسل کو متاثر کرسکتی ہے۔ لہذا ہمیں اپنے، اپنے بچوں اور جہاں تک ہماری رسائی ہو اپنی قوم کو اس سلسلے میں بیدار کرنے اور عملی طور پر متحرک ہونے اور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بھی تمام دستاویزات میں نام تاریخ پیدائش وغیرہ کا صحیح ہونا ہر لمحے باعث اطمینان ہوتا ہے۔ نوٹ: اس پیغام کو اپنا فرض سمجھ کر جہاں تک ممکن ہو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اللہ آپ کو اسکا بہترین بدلہ عطا کریگا. ان شآءاللہ (Sa_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/03/blog-post_40.html



دعا کی قبولیت

دعا کی قبولیت
قدرت اللہ شہاب "شہاب نامہ" میں بتاتے ہیں کہ "ایک بار میں کسی دوردراز علاقے میں گیا ہوا تھا. وہاں پر ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک بوسیدہ سی مسجد تھی۔ میں جمعہ کی نماز پڑھنے اس مسجد میں گیا وہاں ایک نیم خواندہ سے مولوی صاحب اردو میں بے حد طویل خطبہ دے رہے تھے۔ ان کا خطبہ گزرے ہوئے زمانوں کی عجیب وغریب داستانوں سے اٹاٹ بھرا ہوا تھا۔ کسی کہانی پر ہنسنے کو جی چاہتا تھا، کسی پر حیرت ہوتی تھی، لیکن ایک داستان کچھ ایسے انداز سے سنائی کہ تھوڑی سے رقت طاری کرکے وہ سیدھی میرے دل میں اترگئی۔ یہ قصہ ایک باپ اور بیٹی کی باہمی محبت واحترام کا تھا۔ باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور بیٹی حضرت بی بی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ مولوی صاحب بتارہے تھے کہ حضور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کوئی درخواست یا فرمائش منظور نہ فرماتے تھے تو بڑے بڑے برگزیدہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاظر ہوکر ان کی منّت کرتے تھے کہ وہ ان کی درخواست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جائیں اور اسے منظور کروا لائیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دِل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ اکثر اوقات جب بی بی فاطمہ س ایسی کوئی درخواست یا فرمائش لے کر حاضر خدمت ہوتی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش دلی سے منظور فرما لیتے تھے۔ اس کہانی کو قبول کرنے کے لیے میرا دل بے اختیار آمادہ ہوگیا۔
‎جمعہ کی نماز کے بعد میں اسی بوسیدہ سی مسجد میں بیٹھ کر نوافل پڑھتا رہا۔ کچھ نفل میں نے حضرت بی بی فاطمہ س   کی روح مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیّت سے پڑھے۔ پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کر یہ دعا مانگی، ”یا اللہ میں نہیں جانتا کہ یہ داستان صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتاہے کہ تیرے آخری رسول کے دل میں اپنی بیٹی خاتون جنت کے لیے اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کاجذبہ موجزن ہو گا۔ اس لیے میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت بی بی فاطمہ س کی روح کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں پیش کرکے منظور کروالیں۔
‎درخواست یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ کا متلاشی ہوں، مجھے روحانیت کے راستے پہ چلنے کی توفیق عطا کر۔۔۔۔
‎اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چھ سات ہفتے گزرگئے اور میں اس واقعہ کو بھول بھال گیا، پھر اچانک سات سمندر پار کی میری ایک جرمن بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا۔ جو  مشرف بہ اسلام ہوچکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی پابندِ صوم و صلوٰة خاتون تھیں۔ انہوں نے لکھا تھا:
‎رات میں نے خوش قسمتی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا انہوں نے میرے ساتھ نہایت تواضع اور شفقت سے باتیں کیں اور فرمایا کہ اپنے دیور قدرت اللہ شہاب کو بتادو کہ میں نے اس کی درخواست اپنے برگزیدہ والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردی تھی۔ انہوں نے ازراہ نوازش منظور فرمالیا ہے“۔
‎یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش وحواس پر خوشی اورحیرت کی دیوانگی سی طاری ہوگئی، مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میر ا ذکر ہوا۔ میرے روئیں روئیں پر ایک تیز وتند نشے کی طرح چھا جاتا تھا، کیسا عظیم باپ صلی اللہ علیہ وسلم! اور کیسی عظیم بیٹی! دو تین دن میں اپنے کمرے میں بند ہوکر دیوانوں کی طرح اس مصرع کی مجسّم صورت بنا بیٹھا رہا۔
‎ع۔ مجھ سے بہتر ذکر میرا ہے کہ اس محفل میں ہے!
‎اس کے بعد کچھ عرصہ تک مجھے خواب میں طرح طرح کی بزرگ صورت ہستیاں نظر آتی رہیں جن کو نہ تو میں جانتا تھا نہ ان کی باتیں سمجھ میں آتی تھیں اور نہ ان کے ساتھ میرا دل بھیگتا تھا پھر ایک خواب میں مجھے ایک نہایت دلنواز اور صاحب جمال بزرگ نظر آئے جو احرام پہنے ایک عجیب سرور اور مستی کے عالم میں خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے، میرا دل بے اختیار ان کے قدموں میں بچھ گیا، وہ بھی مسکراتے ہوئے میری جانب آئے اور مطاف سے باہر حطیم کی جانب ایک جگہ مجھے اپنے پاس بٹھالیا اور بولے: ”میرا نام قطب الدّین بختیار کاکی ہے تم اس راہ کے آدمی تو نہیں ہو لیکن جس دربار سے تمہیں منظوری حاصل ہوئی ہے اس کے سامنے ہم سب کا سر تسلیم خم ہے۔“
(یہ میرا بھی آزمودہ نسخہ ہے کہ خاتون جنت رضی اللہ عنہا کی وساطت سے مانگی گئی دعائیں رد نہیں ہوتیں، خدا ہم سب کو خاتون جنت سیدہ کونین کے صدقے ہر قسم کی پریشانیوں، بلاوں سے محفوظ رکھیں آمین) (منقول: شہاب نامہ) (صححہ: #S_A_Sagar) https://saagartimes.blogspot.com/2022/03/blog-post_4.html


Wednesday, 2 March 2022

بن دیکھے ایمان لانے کی فضیلت

حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کو
بن دیکھے ایمان لانے کی فضیلت کیا ہے؟
 
‏‏‏‏وعن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى المقبرة فقال: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون وددت انا قد راينا إخواننا قالوا اولسنا إخوانك يا رسول الله قال انتم اصحابي وإخواننا الذين لم ياتوا بعد فقالوا كيف تعرف من لم يات بعد من امتك يا رسول الله فقال ارايت لو ان رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم الا يعرف خيله قالوا بلى يا رسول الله قال فإنهم ياتون غرا محجلين من الوضوء وانا فرطهم على الحوض». رواه مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبرستان تشریف لائے تو فرمایا: ”ان گھروں کے رہنے والے مومنوں تم پر سلامتی ہو، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی یقیناً تمہارے پاس پہنچنے والے ہیں، میری خواہش تھی کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے۔ “ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔“ صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے اور وہ بعد میں آئیں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر کسی شخص کا سفید ٹانگوں اور سفید پیشانی والا گھوڑا، سیاہ گھوڑوں میں ہو تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچانے گا؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! ضرور پہچان لے گا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پس وہ آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہوگی جبکہ میں حوض کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشكوة المصابيح) (كِتَاب الطَّهَارَةِ) (طہارت کا بیان) (1.12. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیوں کو اپنا بھائی قرار دینا) (حدیث نمبر: 298) (تخریج الحدیث: «رواه مسلم») (قال الشيخ زبير على زئي: صحيح) (Sa_Sagar#)
https://saagartimes.blogspot.com/2022/03/blog-post.html

Sunday, 13 February 2022

جہنم کی آگ حرام کردینے والے اعمال کون سے ہیں؟

 جہنم کی آگ حرام کردینے والے اعمال کون سے ہیں؟ 

بعض اعمال کی بنا پر اللہ تعالی اپنے بندوں پر جہنم کی آگ حرام کردیتا ہے۔ یہ اعمال کون سے ہیں؟ ملاحظہ فرمائیں اور عمل کرکے ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جن پر جہنم کی آگ حرام کردی گئی ہے:

1. سچی دل سے لا اله الا الله کی گواہی دینا:

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ : میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی،  عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے ؟

وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَالْمَوْتِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ.

(وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ پر لازم کیا تھا) یہ وہی کلمہ تقوی ہے جو نبی ﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا، یعنی لا اله الا الله کی گواہی۔ (مسند احمد: 447)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

فَإِنَّ اللہ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللہ .

بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے جو  اللہ کی رضا کے لیے لاالہ الا اللہ کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: 425)

2. جہنم کی آگ حرام کر دینے والی تین چیزیں:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَرُمَ عَلَى النَّارِ وَحَرُمَتِ النَّارُ عَلَيْهِ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَحُبُّ اللَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ.

تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔ (مسند احمد: 11679)

3 پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنا:

سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :

مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، عَلَى وُضُوئِهَا وَمَوَاقِيتِهَا، وَرُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا، يَرَاهَا حَقًّا لِلہ عَلَيْهِ، حُرِّمَ عَلَى النَّارِ .

پانچوں نمازوں میں رکوع و سجود، وضو اور اوقات نماز کا خیال رکھتے ہوئے ان پر مداومت اختیار کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے برحق ہیں اس پر جہنم کی آگ حرام کردی جائے گی۔ (مسند احمد: 18346)

4. نماز فجر اور عصر ادا کرنا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

مَن صلّى قبلَ طلوعِ الشَّمسِ وقبلَ غروبِها حرَّمَهُ اللہ على النّارِ.

جس شخص نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی ایسے شخص کو اللہ نے جہنم کی آگ پر حرام کر دیا ہے۔ (صحيح ابن خزيمة : 318)

5. ظہر سے پہلے اور بعد میں چار رکعتیں پڑھنا:

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ   .

جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کردے گا۔ (سنن ترمذی: 427)

6. بارہ رکعت سنتیں پڑھنا:

سیدہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من صلى في اليوم اثنتي عشرة ركعة حرم الله لحمه على النار.

جو شخص دن میں بارہ رکعت (سنتیں) پڑھتا ہے ایسے شخص کا گوشت اللہ تعالی جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ (الاحادیث المختارة: 2135) 

7. اللہ کی راہ میں پہرہ دینا:

سيدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :

حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللہ.

جہنم اس آنکھ پر حرام ہو جاتی ہے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے۔ (سنن دارمی: 251) ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا أُنَبِّئُكُم بِلَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ القَدْرِ؟ حَارِسٌ حَرَسَ في أَرْضِ خَوْفٍ، لَعَلَّه أَن لَّا يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِه.

کیا میں تمہیں لیلۃ القدر سے افضل رات نہ بتاؤں؟ خوف کے علاقے میں پہرہ دینے والا ( جسے یہ خدشہ ہو کہ ) شاید وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ کر نہ جاسکے۔ (الصحیحة: 3811)

8. نرمى اپنانا:

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

حُرِّمَ عَلَى النَّارِكُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ، سَهْلٍ قَرِيبٍ مِنَ النَّاسِ.

جہنم کی آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرار دے دیا گیا ہے جو باوقار ہو، نرم خو ہو، سہولت پسند طبیعت کا ہو (جھگڑالو نہ ہو) اور لوگوں کے قریب ہو۔(مسند احمد : 3938)

9. اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا:

سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ الله حَرَّمَهُ الله عَلَى النَّارِ.

جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔ (صحیح بخاری: 907)

10. اللہ کے خوف سے رونا:

سيدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے تھے. ایک رات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:

حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللہ، وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمِعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللہ.

جہنم اس آنکھ پر حرام ہوجاتی ہے جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے اور جہنم اس آنکھ پر حرام ہوجاتی ہے جو اللہ کے خوف سے روتی ہے۔ (سنن دارامی: 251) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بھی اللہ کے خوف سے رویا کرتے تھے، عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي:‏‏‏‏ يَبْكِي .

میں نبی ﷺ  کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے۔ (سنن نسائی : 1215) (محمد سلیمان جمالی) (Sa_Sagar#) 

https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post_55.html



اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے محبوب کیسے بنیں؟

اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے محبوب کیسے بنیں؟

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کو میں انجام دوں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہوجاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے‘‘۔  

عن سهل بن سعد الساعدي -رضي الله عنه- قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وآله وسلم- فقال: يا رسول الله، دُلَّنِي على عمل إذا عملته أحبني الله وأحبني الناس؟ «فقال ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس».

شرح الحديث: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی محبت حاصل ہوسکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک ایسے جامع عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جو اس کے لئے اللہ اور لوگوں کی محبت کا باعث بنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی رکھو۔ یعنی صرف اسی قدر دنیا کو حاصل کرو جتنی ضرورت ہو اور زائد از ضرورت اور اس چیز کو چھوڑ دو جو آخرت کے اعتبار سے فائدہ مند نہ ہو اور ایسی اشیاء سے پرہیز کرو جس میں تمہارے دین کا کوئی نقصان ہو۔ اور اس دنیا سے بھی بے پروائی کرو جس میں لوگوں کے مابین لین دین ہوتا ہے اور جب تمہارے اور کسی دوسرے کے درمیان کوئی حق ہو یا کوئی معاہدہ طے پائے تو ایسا رویہ اختیار کرو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: "اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو جب بیچتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب خریدتا ہے تو کشادگی سے معاملہ کرتا ہے اور جب ادائیگی کرتا ہے تو کشادگی سے کرتا ہے اور جب ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے تو تب بھی کشادگی اپناتا ہے۔" اس رویے کو اپنانے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ تم لوگوں کے ہاں ہردلعزیز ہوسکو اور اللہ کے ہاں تم پر رحم ہو۔  

عَنْ أَبي العَباس سَھلِ بنِ سَعدٍ السَّاعِدي رضي الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النبي صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟ فَقَالَ: (ازهَد في الدُّنيَا يُحِبُّكَ اللهُ، وازهَد فيمَا عِندَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ) أخرجه ابن ماجۃ – كتاب: الزهد، باب: الزهد في الدنيا، (4102)

ترجمہ: حضرت ابوالعباس سھل بن سعدالساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد اختیار کرلو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور لوگوں کے ہاتھوں میں جومال ومتاع ہے اس سے بھی زہد اختیار کرلو تو لوگ بھی تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اس حدیث کے راوی معروف صحابی سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ ہیں، ان کا تعلق انصارِمدینہ سے تھا، حضرت ابوالعباس کنیت کے ساتھ معروف تھے، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی، سن ۹۱ ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے، اس وقت ان کی عمر ۱۰۰ سال تھی، مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے یہ آخری صحابی تھے۔ (الاصابۃ: 2/87)

اس حدیث میں ایک سائل کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا ذکر ہے، اس سائل کا نام معلوم نہیں، اگرکسی شخص کا نام معلوم نہ ہو، تو نام تلاش کرنے کے تکلف کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی؛ کیونکہ نام کے تعین یا ابہام کا مضمونِ حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کے مرتبہ پر فائز ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے، کیونکہ سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوانتہائی عظیم حاجتوں کی بابت سوال کیاتھا، ان دونوں حاجتوں میں بظاہر تناقض سا پایا جاتا ہے، کیونکہ اللہ رب العزت کی محبت کے تقاضے کچھ اور ہیں اور انسانوں کی محبت کے تقاضے کچھ اور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں محبتوں کے حصول کو ایک ہی جملہ میں جمع فرمادیا اور اس کے لئے ایک ہی عمل کی نشاندہی فرمادی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (اعطیت جوامع الکلم) کی صداقت اور حقانیت کی انتہائی واضح دلیل ہے۔ یہ عظیم نکتہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کی زبردست دلیل بھی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم جاری فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ صلاحیت عطا فرمادی کہ بعض اوقات ایک ہی جملے میں جنت کا پورا پروگرام واضح فرماسکتے تھے، لہذا جس شخص کا بھی صدقِ دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کے ساتھ تعلق جڑگیا وہ یقیناً ایسی احادیث تک رسائی حاصل کرسکے گا جن میں انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ حصولِ جنت کا پروگرام موجود ہو۔

(ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء)

اس حدیث سے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طلبِ خیر کی حرص ثابت ہوتی ہے، یہ نفوسِ قدسیہ کس قدر ہر خیر کے حریص ہوا کرتے تھے، اور کس قدر امورِ خیر کی طرف سبقت لے جانے کا سوچا کرتے تھے، چنانچہ یہ صحابی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سائل کی حیثیت سے آیا اور اپنے تمام تر فقر اور تنگیٔ معیشت کے باوجود نہ تو دنیا کی حرص ظاہر کی نہ طلبِ دنیا کا سوال کیا، اسے نہ کسی عہدے کی حرص تھی نہ ہی دنیوی فخر اور ریاء کی تمنا تھی۔ اس کی طلب تھی تو یہ تھی کہ دنیا میں، میں کیسے لوگوں کا محبوب بن جاؤں اور جب قیامت قائم ہو تو اللہ رب العزت کا محبوب بن چکا ہوں۔ اللہ رب العزت کی محبت ہی سب سے اعلیٰ مقصد اور سب سے عمدہ غایت ہے، یہی نکتہ اس عظیم صحابی کی سوچ کا محور تھا، کتنے عرصہ سے یہ فکر اس کے دامن گیر رہی ہوگی، کتنے دن رات ان سوچوں میں گم رہا ہوگا، بالآخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوگئی اور اپنی یہ قیمتی خواہش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، ’’يَا رَسُول الله: دُلَّني عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمَلتُهُ أَحَبَّني اللهُ، وَأَحبَّني النَاسُ؟‘‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے عمل کی رہنمائی فرمادیجئے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے اور لوگ بھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب عنایت فرمایا وہ واقعۃً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کی خوبی سے متصف ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے ارشاد فرمایا:

ازهَد في الدُّنيَا يُحِبَّكَ اللهُ.

یعنی: دنیا میں زہد اختیار کرلو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ زہد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: والزهد في الدنيا الرغبة عنها، وأن لا يتناول الإنسان منها إلا ما ينفعه في الآخرة، وهو أعلى من الورع، لأن الورع: ترك ما يضر من أمور الدنيا، والزهد: ترك مالا ينفع في الآخرة. یعنی: دنیا میں زہد اختیار کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے مکمل بے رغبتی اختیار کرلے،اور دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے صرف وہ چیزیں لے لےجو آخرت میں نفع دیں۔ (زہد) کا مقام (ورع) سے بہت اونچا ہے؛کیونکہ ورع سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ چیز چھوڑدینا جو نقصان دہ ہو، جبکہ زہد کا معنی یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ شیٔ ترک کردینا جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ نفع سے خالی چیز کو چھوڑ دینے کا درجہ، نقصان دینے والی چیز کو چھوڑ دینے سے زیادہ ارفع واعلیٰ ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی ذکرکردہ اس تعریف کی تائید شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام سے بھی ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں: الزہد المشروع ھو ترک الرغبۃ فیما لاینفع فی الدار الآخرۃ. یعنی: زہدِ مشروع کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزآخرت میں نفع بخش نہ ہو اس کی رغبت و خواہش ہی دل سے نکل جائے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10/21)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزہد سفر القلب من وطن الدنیا وأخذہ فی منازل الآخرۃ. یعنی: زہد یہ ہے کہ دل دنیا کے وطن سے نکلنے کا سفر اختیار کرکے، منازلِ آخرت میں پہنچ جائے۔ (مختصر منہاج القاصدین: 324)

حافظ ابن رجب البغدادی رحمہ اللہ نے زہد کے تعلق سے معروف عالم اور زاہد ابوسلیمان الدارانی  رحمہ اللہ کا بڑا نفیس کلام نقل فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: عراق میں لوگوں نے حقیقتِ زہد کے بارے میں مختلف آراء پیش کیں، کچھ نے کہا: زہد یہ ہے کہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دو، کچھ نے کہ زہد ترکِ شہوات کا نام ہے، کچھ نےکہا: زہد پیٹ بھر کے کھانا نہ کھانے کا نام ہے، یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ حقیقتِ زہد یہ ہے کہ ہر وہ چیز چھوڑدو جو آپ کو اللہ تعالیٰ سے غافل کردے۔ (جامع العلوم والحکم 2/186)

امام اہل السنۃ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے دنیا کے ساتھ کم سے کم امیدیں وابستہ کرنے کو زہد کہا ہے، ان کے اس قول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زہد اس چیز کا نام نہیں کہ دنیا کو اوراس کی تمام تر لذات کو یکسر خیرباد کہہ دیا جائے اور مکمل بے رغبتی اختیارکرلی جائے، بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے ساتھ ایک واجبی تعلق قائم رکھنا اور تمام تر ربط آخرت کے ساتھ استوار کرلینا، حقیقتِ زہد کے منافی نہیں ہے، لیکن دنیا کے ساتھ ایسا اشتغال اور انہماک جو دین سے دوری اور آخرت سے غفلت کا باعث بنے، زہد کے منافی بھی ہے اور انتہائی مذموم عمل بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر تدبر کرنے سے یہ نکتہ عیاں ہوتا ہے کہ فقیرانہ زندگی یا تنگیٔ معیشت ایک انتہائی پسندیدہ پہلوہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبرِجمیل کی توفیق ودیعت ہوجائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فرامین پر غور کرلیتے ہیں:

(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے (تاکہ پوری توجہ سے آپ کی یہ بات سن لیں)فرمایا: (کن فی الدنیا کأنک غریب أو عابر سبیل) یعنی: دنیا میں اس طرح رہو گویا تم مسافر ہو یا کوئی راستہ عبور کرنے والے ہو) (بخاری: 6416)

اس حدیث کے پیش نظر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور صبح کرلو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت میں سے اپنے مرض کے لئے کچھ حاصل کرلو، اور اپنی حیات میں سے اپنی موت کے لئے کچھ لے لو۔

(۲) جنگِ احزاب کے موقع پر جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پیٹوں پر پتھر باندھے خندق کھودنے میں مصروف تھے ،ان کی زبانوں پر یہ شعر جاری تھا:

نحن الذین بایعوا محمدا

علی الجھاد مابقینا ابدا

یعنی: ہم نے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جب تک زندہ ہیں جہاد کرتےرہنے کی بیعت کرلی ہے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:

اللھم لاعیش الا عیش الآخرۃ

فاغفر للأنصار والمھاجرۃ

یعنی: اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، پس تو انصار ومہاجرین کو معاف فرمادے۔ (بخاری: 2834، صحیح مسلم: 1805)

(۳) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عوالیٔ مدینہ کے ایک بازار سے گزر رہے تھے، اور آپ کے دونوں جانب صحابہ کرام بھی چل رہے تھے، ایک چھوٹے قد کی مردہ بکری کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑکر فرمایا: کون ہے جو یہ بکری ایک درہم میں خرید لے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم تو اسے مفت میں لینے کے لئے بھی تیار نہیں، اور آخر ہم اس کا کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہوکہ یہ بکری تمہاری ہوجائے؟ عرض کیا: اگر یہ زندہ ہوتی تو پھر بھی عیب دارہوتی؛ کیونکہ یہ چھوٹے قد کی کن کٹی بکری ہے، یہ تو مردہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (فواللہ للدنیا أھون علی اللہ من ہذا علیکم) یعنی:اللہ کی قسم! پوری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے۔ (صحیح مسلم: 2957)

(۴) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اطلعت فی الجنۃ فرأیت أکثر أھلھا الفقراء واطلعت فی النار فرأیت أکثر أھلھاالنساء) (صحیح بخاری: 6449 صحیح مسلم: 2737) 

یعنی: میں نے جنت میں جھانکاتودیکھاکہ جنت میں فقراء زیادہ ہیں، اور جہنم میں جھانکاتودیکھاکہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں۔

(۵)حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں بھیج کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیا کرتے ہو، پس دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، بنی اسرائیل کا (پہلا) فتنہ عورتوں کے تعلق سے ہی تھا۔ (صحیح مسلم: 2742)

(۶) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین افراد آئے اور کہا: اے ابومحمد! ہمارے پاس نہ تو نان نفقہ ہے، نہ ہی سواری اور نہ دیگر سامان، فرمایا: تم جس طرح چاہو کرلو، یا تو ہمارے پاس دوبارہ آؤ تو ہم تمہیں جو آسانی سے دے سکے دے دیں، ہا پھر تمہارا معاملہ امیرالمؤمنین سے ذکر کردیں اور یا پھر تم صبر سے کام لے لو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے: فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں کی بنسبت چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر ان لوگوں نے کہا: ہم کچھ نہیں مانگتے اور صبر کرلیتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 2979)

(۷) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درہم ودینار اور کپڑے لٹے کے پجاری کو تبارہ وبرباد ہونے کی بددعا دی ہے، جس کا کردار یہ ہوتا ہے کہ دنیا کا مال دیا جائے تو خوش رہتا ہے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری:6435)

(۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر) یعنی: دنیا مؤمن کا قیدخانہ اور کافر کی جنت ہے۔ (صحیح مسلم: 2956)

(۹) حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (لوکان الدنیا تعدل عنداللہ جناح بعوضۃ ماسقی کافرا منھا شربۃ ماء) یعنی: اگر یہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔ (ترمذی: 2320)

(۱۰) ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی حقیقت واضح کرتے ہوئے قیامت کا ایک قصہ بیان فرمایا: قیامت کے دن دنیا کے سب سے بڑے نعمتوں سے پروردہ شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم کا ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے؟ کیا تیرے قریب سے کوئی نعمت گزری ہے؟ کہے گا: اللہ کی قسم! نہیں۔ پھر ایک دنیا کے سب سے بڑے تکلیف زدہ شخص کو لایا جائے گا، اسے جنت کا ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف چکھی ہے؟ کیا تیرے پاس سے کسی تکلیف کا گزر ہوا ہے؟ کہے گا: اللہ کی قسم! نہیں، نہ تو میں نے کوئی مصیبت جھیلی ہے نہ ہی میرے قریب سے کسی تکلیف کا گزرہوا ہے۔ (صحیح مسلم: 2807)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں زہد کی جھلکیاں

(۱) حضرت نعمان بن بشیر فرمایاکرتے تھے: آج تمہیں ہر کھانا اور پینا میسر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتو پیٹ بھر کر ردی کھجوریں بھی نصیب نہیں ہوتی تھیں۔ (صحیح مسلم: 2977)

(۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو بھنی ہوئی بکری کا گوشت کھارہے تھے،انہوں نے ابوھریرہ کو کھانے کی دعوت دی، حضرت ابوہریرہ نے انکار کردیا اورفرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے گزر گئے اور کبھی جوکی روٹی سے پیٹ بھرکے کھانانصیب نہیں ہوا۔ (صحیح بخاری: 5414)

(۳) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتےتھے: (اللھم اجعل رزق آل محمد قوتا) (صحیح بخاری: 2460 صحیح مسلم: 1055)

یعنی: اے اللہ! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت بھر روزی عطافرما۔ (یعنی: زیادہ اور اسراف والی روزی سے بچا کر رکھنا)

(۴) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے، پورا پورا مہینہ ایسا گزر جاتا کہ ہمارے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا، کھجوروں اور پانی سے گزر بسرہوتی تھی۔ (صحیح بخاری: 6458 صحیح مسلم: 2972)

ایک حدیث میں متواتر تین تین چاند اسی حالت میں گزر جانے کا ذکر ہے۔ (صحیح بخاری: 2567)

(۵) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاہی سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری: 6456 صحیح مسلم: 2082)

(۶) ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: اگر میرے پاس احدپہاڑ کے برابر سونا ہوتو مجھے کوئی خوشی نہ ہو، اگر ایسا ہوجائے تو میں تین دن کے اندر سب کچھ تقسیم کردوں الا یہ کہ اگر میرے کسی صحابی پر ایک دینار قرض ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے میں ایک دینار روک کے رکھ لوں۔ (صحیح بخاری: 6444) (جاری ہے) (صححہ: #ایس_اے_ساگر) https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post_13.html



مذاہب اربعہ کا خلاصہ کیا ہے؟

مذاہب اربعہ کا خلاصہ کیا ہے؟
میں نے اپنے استاذ محترم محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمہ اللہ سے (علامہ بنوری ٹاون جامعہ میں) ایک مجلس میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے مذاہب اربعہ کا جو مطالعہ و موازنہ کیا ہے. میں نے ان فقہی مذاہب میں سے ہر ایک فقھی مذہب کا دو لفظی خلاصہ نکالا ہے جسے آپ ان ائمہ اربعہ کا فقہی ذوق بھی کہہ سکتے ہیں۔ فرمایا کہ:
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے فقھی مذھب کا خلاصہ (فقہ السنّة) ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کے فقھی مذھب کا خلاصہ (تعظیم السنّة) ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے فقہی مذہب کا خلاصہ (الذبُّ عن السنّة) ہے ۔
(الذبُّ) کا معنی ہے دفاع کرنا
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی مذہب کا خلاصہ (اتباع السنّة) ہے۔ پھر حضرت رحمہ اللہ نے ہر امام کے  فقہی ذوق کی مفصل تشریح بھی فرمائی. غالبا (میری یادداشت کے مطابق) اسی مجلس میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ اور ان کے فرزند شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظه الله بھی تشریف فرما تھے چناچہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ باتیں آپ لکھ لیں یہ آپکو کتابوں میں نہیں ملیں گی۔
------------------
خلاصة المذاهب الأربعة في نظر فضيلة الشيخ محمد يوسف البنوري رحمه الله (كما سمعت ذلك منه)
الإمام أبوحنيفة = فقه السنّة
الإمام مالك = تعظيم السنّة
الإمام الشافعي = الذبُّ عن السنّة
الإمام أحمد بن حنبل = اتباع السنّة
رحمهم الله جميعا.
محمد شفاعت رباني
مقیم مدینہ منورہ
https://saagartimes.blogspot.com/2022/02/blog-post.html