Friday, 18 September 2026

لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے

لڑکیوں کے زوال پذیر مسلم تعلیمی ادارے
آپ نے کبھی نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ عیسائیوں نے اپنے تعلیمی اداروں کی کثرت پر زور دیا ہو۔ عیسائی شہروں میں محض ایک یا دو تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں، لیکن وہ انتہائی قابلِ اعتبار اور معیاری ہوتے ہیں، جن میں اپنے بچوں کو پڑھانا ہر شہری کا خواب ہوتا ہے۔ رسائی کے لحاظ سے بھی یہ ادارے شہر اور قریبی گاؤں، دیہات سے اس طرح مربوط ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اپنے بچوں کو ادارے کے بھروسے چھوڑ سکتا ہے۔
اس کے برخلاف مسلمانوں نے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کے بجائے ان کی کثرت پر زیادہ توجہ دی۔ خاص طور پر تعلیمِ نسواں کے نام پر پورے ملک میں ایک زبردست انقلاب آیا ہے۔
لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لئے نئے نئے ادارے قائم کئے گئے۔ لڑکوں کے لئے جزوی طور پر قائم کئے گئے نئے اداروں کو نظرانداز کردیا جائے تو آج بھی وہی پرانے ادارے موجود ہیں جو پچھلے 60، 70 برسوں سے چل رہے ہیں اور جن کا تعلیمی معیار کافی مخدوش ہوچکا ہے۔ دوسری طرف لڑکیوں کے لئے ہر گاؤں اور ہر گلی میں جامعات کی باڑھ آچکی ہے۔
سدھارتھ نگر، بستی، گورکھپور، بلرامپور، کانپور شہر، کانپور دیہات، لکھنؤ، بارہ بنکی، گونڈہ، بہرائچ، شراوستی اور سنت کبیر جیسے اضلاع، جہاں میرا خود کا تجربہ ہے، لڑکیوں کے لئے سینکڑوں ادارے کھل چکے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق لڑکیوں کو اسلامی زیورِ علم سے آراستہ کیا جاتا ہے اور انہیں بی بی فاطمہؓ اور امہات المؤمنینؓ کو بطور رول ماڈل اپنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ عورت کئی خاندانوں کے لئے رحمت کا سبب ہوتی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت حقیقی اعتبار سے اسلام کو اپنا منہجِ حیات تسلیم کرے۔ ورنہ محض حروف اور نقوش کی پہچان یا ان کی ادائیگی زندگی کو جنت کے بجائے جہنم میں جانے کا سبب بھی بنا سکتی ہے۔
مدارسِ اسلامیہ کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور جامعات کی بہتات نے ملت کی تعلیمی گتھیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ بالخصوص جامعات سے تعلیم یافتہ لڑکیاں خود ایک مسئلہ بنتی جارہی ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں انہوں نے ہر وہ کام کرنا شروع کردیا ہے جس کا ہم تصور بھی گناہِ عظیم سمجھتے ہیں۔
جامعات کے ذمہ داروں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ ان کے بناؤ سنگار پر توجہ دی ہے۔ ’’قال اللہ، قال الرسول‘‘ کی صداؤں کے بجائے فلمی گانوں اور تفریحی ڈراموں نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ باپردہ رہنے کی تعلیمات جامعات کی دہلیز پر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ فیشن ایبل برقعے کی نت نئی ایجادات نے معلمات اور طالباتِ علومِ نبویہ کو حجاب میں رہتے ہوئے بھی بے پردہ کردیا ہے۔ جشنِ ردائے قرأت و فضیلت کی باڑھ نے تکمیلِ نصاب کے سارے معیار بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔
چند سکوں کے لالچ نے جامعات کے ذمہ داروں کو اتنا مفاد پرست اور دنیادار بنا دیا ہے کہ کورس کی تکمیل کے بغیر ہی لڑکیوں کو عالمیت، فضیلت اور قرأت کی ڈگریاں فراہم کی جارہی ہیں۔
ذاتی طور پر میں کئی ایسی جامعات سے واقف ہوں جہاں رسمِ ردائے فضیلت کی تقریبات کو ایک ایونٹ کی طرح منعقد کیا جاتا ہے، جہاں لڑکیاں انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ردائے فضیلت کی تقریبات کی ویڈیوگرافی کرکے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتی ہیں۔ والدین اور گھر کے دوسرے افراد کو اس حرکت کی بھنک نہ لگے، اس کے لئے فرضی ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بات تلخ ہے، لیکن انتہائی افسوسناک بھی، کہ گھر کے ذمہ داروں کو بھلے ہی لڑکیوں کی ان حرکات کا علم نہ ہو، لیکن ان کے شناسا لوگوں کو ان کی سوشل میڈیا آئی ڈی کا بخوبی علم ہوتا ہے۔
آٹھ، دس برسوں تک جامعات میں گزارنے کے بعد دین کی بنیادی معلومات بھلے ہی نہ ہوں، لیکن سوشل میڈیا ایپ سے چیٹ ہسٹری کیسے مٹانی ہے، کیسے اور کس کو کب آن لائن رہنے کا سگنل دینا ہے، کب موبائل ان کے پاس اور کب موبائل پر اہلِ خانہ کی گرفت ہوتی ہے، اس کے لئے جدید ترین ٹرکس کا استعمال بہت اچھی طرح جان لیتی ہیں۔
کیسے بنا فون کال یا واٹس ایپ چیٹ کے بھی اسٹیٹس کے ذریعے کسی کو اپنی جانب مائل کرنا ہے، کب کس موبائل سے کونسا ایپ ہائیڈ یا اَن انسٹال کرنا ہے، یہ انہی کا خاصہ ہے۔
ردائے فضیلت کی تقریب کی آڑ میں طالبات کے ساتھ ساتھ معلمات بھی جم کر ٹانڈو مچاتی ہیں۔ شاندار اسٹیج کے ساتھ بہترین ایکو ساؤنڈ سسٹم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مختلف انداز میں سیلفیاں لے کر اپنے شناسا لوگوں کو بھیجی جاتی ہیں۔ نوخیز طالبات جس انداز سے فوٹوشوٹ اور ویڈیوگرافی کراتی ہیں، اسے دیکھ کر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی اداکارائیں بھی شرما جائیں۔ وکٹری نشان، لو کی علامت، فلائنگ کس انداز، ہاتھوں کی مہندی کے ڈیزائن اور پیروں کی الگ الگ اینگل سے نمائش، یہاں تک کہ آنکھوں سے سینے کے ابھارکی جانب توجہ دلانا تک شامل ہے۔
یقین جانئے ۔۔۔ جامعات میں لڑکیاں تعلیم کے نام پر جس بے حیائی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس کا دس فیصد حصہ بھی آپ کے سامنے نہیں رکھ پارہا ہوں۔
ایک آخری بات، جو انتہائی شرمناک اور قابلِ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ جامعات کی فارغات بوائے فرینڈز (مرد دوست) بنانا معیوب نہیں سمجھتیں۔ کئی بار یہ تجاوز حلقۂ اسلام سے باہر غیرمسلموں تک پہنچ جاتا ہے۔ جنہیں ہم عالمہ فاضلہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں، وہ غیروں سے مراسم بناکر نہ صرف چادرِ عصمت تار تار کر رہی ہیں بلکہ مرتد بھی ہورہی ہیں۔
دراصل تعلیمِ نسواں کے نام پر ہم نے خیانت کی ہے۔ معیاری اداروں کے بجائے ہم نے اداروں کی کثرت پر توجہ دی۔ باصلاحیت لوگوں کی عدمِ پذیرائی کے باعث نااہلوں نے مدارس اور جامعات قائم کرنا شروع کردیئے، جہاں تعلیم کی آڑ میں ہر وہ کام انجام دیا جاتا ہے جس سے بچنے کے لئے ہم لڑکیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت تو ہو نہیں پاتی، البتہ مدرسہ جانے اور آنے کے نام پر ملنے والی آزادی اور اعتماد کا بھرپور غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر وہ شخص جس کے تعلقات سرمایہ داروں سے ہو جاتے ہیں، وہ لڑکیوں کے موجودہ ارتدادی طوفان پر قابو پانے کے نام پر جامعات قائم کرتا ہے۔ پہلے قوم سے سرمایہ وصول کرتا ہے، بعد میں قوم کی بیٹیوں کی عصمت تار تار کرتا ہے۔
میں خود کئی ایسے اداروں کو جانتا ہوں جہاں نوجوان لڑکیوں کو جامعات کے ذمہ داروں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ جیل گئے، مقدمات چل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود پرانی روش بدستور جاری ہے۔
پانی سر سے اتر چکا ہے۔ ہر ایرے غیرے کے تعلیمی ادارے میں بچیوں کو بھیجنے سے بہتر ہے کہ گھر پر ہی ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیا جائے۔
جامعات کے نام پر بیوقوف نہ بنیں۔ جامعات کے پیچھے جہاں مالی منفعت کارفرما ہے، وہیں کچھ افراد ذہنی آوارگی کی تسکین کے لیے بھی جامعات قائم کرنے لگے ہیں۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
کثرتِ ادارہ کے بجائے معیاری اداروں کی فکر کیجئے، جہاں معقول تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی شرم و حیا بھی برقرار رہے۔ (بشکریہ: شفیق فیضی) ( #ایس_اے_ساگر )






No comments:

Post a Comment