کتابوں کی آخری ہچکی
اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور اُنہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔
اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا، اسے کتاب کہتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کررہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کررہی ہیں۔ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔
یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کرسکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کرسکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی اور پھر آپ کو یہ "آلودہ علم" فروخت کریں گی۔
ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے۔ مگر اے آئی کمپنیوں کے لئے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کے لئے محض چارہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کررہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں۔ کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں۔
یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔ معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کے لئے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں۔ اُنہیں بس ایک کام کرنا تھا۔ یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو۔ ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی) کو اے آئی ڈاٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جاسکے۔
وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لئے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یوروپ اور امریکہ میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کے لئے "کتابی چارہ" خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کردیئے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اُٹھا رہے ہیں۔
جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں اُنہیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں۔ مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم، سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ۔
ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہوجاتا۔ اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی۔ بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں "ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی" نامی دلال کمپنی کے کارندے اُٹھا رہے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک "فور او فور میڈیا" کی تحقیق کے مطابق "آئی ایس بی این ڈی بی" نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔ وہ کتابیں جو جنگوں، بدامنی، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے۔
پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کے لیے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے۔ یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا۔ اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں۔
اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے۔ مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے۔ مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں۔ (بقلم: وسعت اللہ خان) ( #ایس_اے_ساگر )
No comments:
Post a Comment