Monday, 7 September 2026

”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“


”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ 
 قَالَ عَبْدُاللهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ، قَالَ: «فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ» 
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کا اپنا مال وہ ہے جسے اس نے (راہِ خدا میں) آگے بھیج دیا، اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے اس نے (وفات کے وقت) پیچھے چھوڑ دیا۔“
(جو مال انسان اپنی زندگی میں طاعت و انفاق اور خیر کے کاموں میں اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وہی درحقیقت اس کا اپنا ابدی اور حقیقی مال ہے، جو آخرت کے ذخیرے کے طور پر اسے واپس ملے گا۔ جبکہ جو مال وہ جمع کر کے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کے وارثوں کا مال بن جاتا ہے جسے وہ خود کبھی استعمال نہیں کر پائے گا۔ یہ حدیث انسان کو حرص، بخالت اور غیر ضروری جمع اندوزی کے بجائے بروقت انفاق اور اپنے مال کو خود اپنے ہاتھ سے آخرت کے لئے سرمایہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بخل سے بچائے اور اپنے مال کو اپنے لئے صدقۂ جاریہ اور آخرت کا ذخیرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔) ( #ایس_اے_ساگر )

Narrated 'Abdullahؓ bin Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said, "Which of you loves the wealth of his heir more than his own wealth?" They said, "O Messenger of Allah, there is none among us but that his own wealth is more beloved to him." He (ﷺ) said, "Then his wealth is that which he has sent forward (in charity for the Hereafter), and the wealth of his heir is that which he leaves behind."
صحيح البخاري # ٦٤٤٢
Sahih Bukhari # 6442

No comments:

Post a Comment