Tuesday, 6 August 2019

کیا بے قصور قرض چکائے گا؟

کیا بے قصور قرض چکائے گا؟

جب اسکول میں تھی تو ایک لڑکے نے کہا کہ میری گرل فرینڈ بن جاؤ،
کالج گئی تو کہا آئٹم بن جاؤ،
یونیورسٹی گئی تو کہا پارٹ ٹائم پارٹنر بن جاؤ.
کسی نے یہ نہیں کہا کے میں تیرا مجازی خدا تم میری دلہن بن جاؤ، دھوپ میں چھاؤ بن جاؤ، میرے ایمان کی تکمیل بن جاؤ، اپنے پیروں میں میرے بچوں کی جنت بن جاؤ، پہلا مدرسہ بن جاؤ.
جس نے بھی بنانا چاہا کھلونا بنانا چاہا،
کھیلنے کیلئے
دل بھلانے کیلئے
کپڑے اتارنے کیلئے
ھوس کو سوارنے کیلئے
گرم بخار سدھارنے کیلئے
دل لبھانے کیلئے
میں سوچتی رہ گئی کہ اس کی بھی تو بہن ہوگی. ہر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے. تو کیا بھائی کا بدلہ بہن دیگی؟
میری ہم جنس دیگی؟
بھائی عزتوں کو اچھالتا رہیگا بہن بدلہ چکاتی رہیگی!
لیکن پھر خیال آیا نہیں نہیں اسکی آنے والے وقتوں میں بیٹی ہوگی جس سے یہ بے انتہاء پیار اور محبت کرتا ہوگا تو کیا وہ معصوم جان یہ قرض چکائے گی؟
کیا یہ سچ ہے جو امام شافعی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: “پاک دامن رہو، تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی، بیشک زنا قرض ہے، اگر تو نے اسے لیا تو ادا تیرے گھر والوں سے ہوگی، اے شخص تو عقلمند ہے تو اس کو جان لے بس!۔

الجواب وباللہ التوفیق:
امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ مقولہ اس طرح ہے:
عفوا تعف نساوٴکم في المحرم وتجنبوا ما لا یلیق بمسلم
إن الزنا دین فإن أقرضتہ کان الوفا من أھل بیتک فاعلم
جو 'دیوان امام شافعی' میں موجود ہے، اس کا مضمون صحیح ہے، حدیث شریف سے بھی اس مضمون کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ معجم کبیر طبرانی: ۱۱/۱۷۳ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت ہے جس میں نبی کریم علیہ السلاة والسلام نے فرمایا:
”عفوا تعف نساوٴکم“
ترجمہ: پاک دامن رہو تمھاری عورتیں پاک دامن رہیں گی۔ یہی حدیث مستدرک حاکم: ۱۷/۹۸ میں بھی ہے۔ اسی مضمون کو شعر میں بیان کیا ہے:
إن الزنا دین فإن أقرضتہ کان الوفا من أھل بیتک فاعلم ”بیشک زنا قرض ہے، پس اگر تو نے اسے لیا تو اس کی ادائیگی تمھارے گھروالوں سے ہوگی، پس تو جان لے“۔
واللہ تعالیٰ اعلم

Sunday, 4 August 2019

کیا تعویز اور رقیہ ناجائز ہے؟

کیا تعویز اور رقیہ ناجائز ہے؟

رقیہ اور تعویذ تین شرطوں گے ساتھ جائز ہے:
(۱) یہ کہ وہ آیاتِ قرآنیہ اسمائے حسنیٰ وغیرہ پر مشتمل ہو۔
(۲) عربی یا اس کے علاوہ ایسی زبان میں ہو جو معلوم المراد ہو۔ 
(۳) یہ عقیدہ ہو کہ یہ تعویذ موٴثر بالذات نہیں ہے (اس کی حیثیت صرف دوا کی ہے) موٴثر بالذات صرف اللہ رب العزت ہیں۔ وقال ابن حجر: وقد أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثة شروط أن یکون بکلام اللہ تعالی أو بأسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی أو بما یعرف معناہ من غیرہ وأن یعتقد أن الرقیة لا تؤثر بذاتہا بل بذات اللہ تعالی (فتح الباري: الطب والرقی بالقرآن والمعوذات: ۵۷۳۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً ایسے رقیے اور تعویذ کی اجازت دی ہے جس میں شرک نہ ہو: عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ: کُنَّا نَرْقِی فِی الْجَاہِلِیَّةِ، فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ، کَیْفَ تَرَی فِی ذَلِکَ؟ فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَیَّ رُقَاکُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَی مَا لَمْ یَکُنْ فِیہِ شرکٌ، رواہ مسلم (مشکاة: ۲/۳۸۸) نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو تعویذ کے کلمات لکھ کر دیے تھے جس کی وجہ سے ان کو پریشان کرنے والا شیطان ہلاک ہوگیا۔ 
وأخرج البیہقي عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فَقَالَ لِعَلِیِّ رضي اللہ عنہ اکْتُبْ: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ. ہَذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِینَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِلَی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَالزُّوَّارِ وَالصَّالِحِینَ، إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ․ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَةً، فَإِنْ تَکُ عَاشِقًا مُولَعًا، أَوْ فَاجِرًا مُقْتَحِمًا أَوْ رَاغِبًا حَقًّا أَوْ مُبْطِلًا، ہَذَا کِتَابُ اللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ، إِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُونَ مَا تَمْکُرُونَ، اتْرُکُوا صَاحِبَ کِتَابِی ہَذَا، وَانْطَلِقُوا إِلَی عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ، وَإِلَی مَنْ یَزْعُمُ أَنَّ مَعَ اللہِ إِلَہًا آخَرَ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ کُلُّ شَیْء ٍ ہَالِکٌ إِلَّا وَجْہَہُ لَہُ الْحُکْمُ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ یُغْلَبُونَ، حم لَا یُنْصَرُونَ، حم عسق تُفَرِّقَ أَعْدَاء َ اللہِ، وَبَلَغَتْ حُجَّةُ اللہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ فَسَیَکْفِیکَہُمُ اللہُ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ․ (دلائل النبوة ما یذکر من حرز أبی دجانة: ۷/۱۱۸)
ایک اورحدیث میں ہے: 
عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِیہِ، قَال: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ․․․وَأَتَتْہُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِی ہَذَا بِہِ لَمَمٌ مُنْذُ سَبْعِ سِنِینَ یَأْخُذُہُ کُلَّ یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَدْنِیہِ فَأَدْنَتْہُ مِنْہُ فَتَفَلَ فِی فِیہِ وَقَالَ: اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّہِ أَنَا رَسُولُ اللَّہِ․ (رواہ الحاکم في المستدرک)
اس کے علاوہ صحابہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وغیرہ اور ان کے علاوہ تابعین میں حضرت عطا وغیرہ اس کے جواز کے قائل تھے، اور آج بھی اس پر لوگوں کا عمل ہے: عن عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلمہم من الفزع کلمات: أعوذ بکلمات اللہ التامة، من غضبہ وشر عبادہ، ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون․ وکان عبد اللہ بن عمر یعلمہن من عقل من بنیہ، ومن لم یعقل کتبہ فأعلقہ علیہ․ (أبوداوٴد: ۳۸۹۳، والترمذي: ۳۵۲۸ وقال: حسن غریب، اور علامہ شامی لکھتے ہیں: اخْتُلِفَ فِی الِاسْتِشْفَاء ِ بِالْقُرْآنِ بِأَنْ یُقْرَأَ عَلَی الْمَرِیضِ أَوْ الْمَلْدُوغِ الْفَاتِحَةُ، أَوْ یُکْتَبَ فِی وَرَقٍ وَیُعَلَّقَ عَلَیْہِ أَوْ فِی طَسْتٍ وَیُغَسَّلَ وَیُسْقَی. وَعَنْ النَّبِیِّ -صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ- أَنَّہُ کَانَ یُعَوِّذُ نَفْسَہُ قَالَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ -: وَعَلَی الْجَوَازِ عَمَلُ النَّاسِ الْیَوْمَ، وَبِہِ وَرَدَتْ الْآثَارُ․ (شامي: ۹/۵۲۳)
واضح رہے کہ تعویذ میں جس طرح پڑھ کر دم کرنا جائز ہے اسی طرح قرآنی آیات وغیرہ کو کسی کاغذ پر لکھ کر اس کو باندھنا بھی جائز ہے، علامہ سیوطی تحریر فرماتے ہیں: وأما قول ابن العربي: السُّنة في الأسماء والقرآن الذکر دون التعلیق فممنوع (فیض القدیر: ۶/۱۰۷) جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن میں تمیمہ کو لٹکانے پر شرک کا حکم مذکور ہے، جیسا کہ امام اسیوطی کی جامع صغیر میں ہے: من تعلق شیئا وکل إلیہ (فیض القدیر: ۶/۱۰۷) اسی طرح دوسری حدیث میں ہے: من علق ودعة فلا ودع اللہ ومن علق تمیمة فلا تمم اللہ لہ (فیض القدیر: ۶/۱۸۱) تو یہ اس صورت پر محمول ہیں جب کہ اسی تعویذ کو نافع وضار سمجھا جائے، جیسا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے، یا ان سے مراد ایسے تعاویذ ہیں جن میں الفاظ شرکیہ یا ایسے الفاظ ہوں جن کے معانی معلوم نہ ہوں، ان حدیثوں کی شرح کرتے ہوئے علامہ سیوطی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: أو المراد من علق تمیمة من تمائم الجاہلیة یظن أنہا تدفع أو تنفع فإن ذلک حرام والحرام لا دواء فیہ وکذا لو جہل معناہا وإن تجرد عن الاعتقاد المذکور فإن من علق شیئا من أسماء اللہ الصریحة فہو جائز بل مطلوب محبوب فإن من وکل إلی أسماء اللہ أخذ اللہ بیدہ․ (فیض القدیر: ۶/۱۰۷)

واللہ تعالیٰ اعلم

Saturday, 3 August 2019

عسکریت پسند عالمی علمبردارانِ جمہوریت --- کاسہ لیس اور کٹھ پتھلی مسلم حکمراں

عسکریت پسند عالمی علمبردارانِ جمہوریت --- کاسہ لیس اور کٹھ پتھلی مسلم حکمراں

سنہ 2010 میں مشرق وسطی میں حکمراں اشرافیہ کی سیاسی بدعنوانیوں ، حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں ، افراطِ زر ، فرقہ واریت اور بیروز گاری کے خلاف عام لوگوں میں ایک بیداری نمودار ہوئی اور عوام الناس کی جانب سے ایک پر امن ، انقلابی اور نتیجہ خیز سیاسی جد وجہد کا آغاز ہوا ۔
تیونس حکمراں کے جبر و ظلم اور چیرہ دستیوں سے تنگ آگر سڑک کنارے رکشہ پہ سبزیاں بیچنے والے “محمد بوعزیزی“  نامی ایک غریب نوجوان نے 18دسمبر 2010 میں خود سوزی کرلی۔
حکمراں اشرافیہ کی چیرہ دستیوں کے خلاف انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز یہی واقعہ بنا ، یہیں سے عوامی جد وجہد اور جمہوریت کے مطالبے کا آغاز ہوا، جس میں جمہوریت ، آزادانہ انتخابات، اقتصادی آزادی ،حقوق انسانی کا تحفظ ،روزگار کی فراہمی اور سیاسی بدعنوانیوں کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑا  ،پر امن اور خاموش احتجاج کے ساتھ عوام سڑکوں پہ نکل آئی ،  اس تحریک کو “عرب بَہار “ ۔۔arab spring ۔۔ (موروثی بادشاہتوں سے نجات و آزادی حاصل کر جمہوریت کی بَہار سے لطف اندوز ہونا) کا نام دیا گیا ۔
اٹھارہ دسمبر 2010 میں شروع ہونے والی اس عوامی جد وجہد میں ایسی قوت تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے مشرق وسطی کے کئی ممالک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ، بلا شرکت غیرے دہائیوں سے تخت نشیں عرب حکمرانوں کی شہنشاہیتیں زمیں بوس ہو گئیں ۔
تیونس کے صدر زین العابدین بن علی ، لیبیا میں معمر القذافی ، مصر میں حسنی مبارک ،یمن میں صدر علی عبد اللہ صالح معزول ہوئے اور ان تمام کی آمریتیں اس خونی انقلاب کی زد میں آکر ختم ہوئیں ، البتہ شام کا بشار الاسد خاک وخون کی ہولیاں کھیلنے اور ایٹمی اسلحہ کے استعمال کے ذریعہ لاکھوں عوام کی جانوں کا نذرانہ وصولنے کے بعد بھی اپنے آقا اسرائیل و امریکہ کی آشر واد سے حکومت پہ براجمان رہا ۔
اس عظیم الشان تحریک کے اثرات کویت بحرین اور سعودی عرب تک بھی پہونچے ، سعودی ولی عہد نے کمال ہوشیاری سے مرد وزن کی مخلوط تفریحی مقامات کی ایجاد ، مغربی اور امریکی سنیما ہالوں کے دروازے کھولنے اور عورتوں کے لئے ڈرائیونگ لائسنس جاری کرکے اس انقلاب کے سامنے بند باندھنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا اور یوں سعودیہ کی موروثی سلطنت عرب بہار کی تحریکی جھونکوں کی زد میں آنے سے بچ گئی ۔سعودیہ نے اپنی فوجی امداد کے ذریعہ بحرین میں عرب بہار کی لہروں کو اٹھنے سے روک دیا ۔
ایشیا اور افریقہ کے سنگم پر واقع نیل کی رعنائیوں سے بہر پور  خوبصورت ملک “مصر “ میں قریب چھ دہائیوں سے معرکہ حق و باطل جاری رہا ہے ، یہاں آمریت کے جبر واستبداد کے خلاف سالوں سے جد وجہد جاری تھی ۔
اسلام کے اجتماعی نظام عدل کے قیام اور ملک کے فلاحی نظام کی اصلاحات کی کو ششوں میں امام حسن البناء شہید اور سید قطب شہید جیسی قیادتوں نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کیا ہے۔

عرب ملکوں کی تاریخ کا یہ سیاہ باب ہے کہ مصر ہی وہ پہلا عرب ملک ہے جس نے غاصب اسرائیل کے ناپاک و ناجائز وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ “امن معاہدہ “کیا ، اس بدنام زمانہ معاہدہ پہ دستخط کرنے والا ننگ ملت بدقسمت ، مصر کا تیسرا صدر انور السادات تھا ، جس کا دور حکومت 1960 تا 1981 عیسوی ہے ۔ اس گھنائونے اور شرمناک معاہدے سے بھی مصر کے اسلام پسند عوام بے چین تھے ۔
مصر میں عرب بہار کے جھونکوں کے نتیجے میں 18 سالوں سے  اقتدار پر قابض حسنی مبارک کا تختہ حکومت لاکھوں پرجوش لوگوں کے “تحریر اسکوائر “پہ سترہ دنوں کی زبردست احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے زیر وزبر ہوگیا ۔
سنہ 2012  میں مصری پارلیمان کے آزانہ جمہوری انتخابات ہوئے ۔
1951ء میں مصر میں پیدا ہونے والے اور  1977ء میں ’’الاخوان المسلمون‘‘ سے باقاعدہ منسلک ہونے والے اعلی تعلیم یافتہ،حافظ وڈاکٹر محمد مرسی 1992ء میں تنظیم کی سیاسی جماعت سے مربوط ہوئے اور 2000ء سے لے کر 2005ء تک مصری پارلیمنٹ میں اخوان المسلمون کی سیاسی پارٹی کے ممبر بھی رہے۔
2012ء میں آپ کی قیادت میں ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کا قیام ہوا جس کے آپ صدر بنے ، اس کے بعد 2012ء میں جمہوری انتخاب دو مرحلے میں ہوا جس میں آپ شریک ہوئے اور آپ کی پارٹی نے58/ فیصد ووٹ حاصل کرکے مصر کی سب سے بڑی پارٹی بننے کا اعزاز حاصل کی اور آپ مصر کے سب سے اولیں منتخب صدر بنے ۔
مصر میں عرب بہار کی اس تحریک کی حوصلہ افزائی امریکہ ،اسرائیل اور مغربی ملکوں نے بھی کی تھی ؛ لیکن مصر کے نو منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کا یہ اعلان کرنا تھا :
اسلام ہمارا مقصد ،  قرآن ہمارا دستور اور لیڈر ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں  “
کہ تل ابیب ، واشنگٹن ، اور ریاض میں ہل چل مچ گئی ، ان کے اوسان خطا ہوگئے۔
عالمی اسٹبلشمنٹ کی نگرانی ،امریکہ کی ڈیڑھ ارب ڈالر اور سعودیہ کی بارہ ارب ڈالر کی خطیر امداد و پشت پناہی کے نتیجہ میں مصر کی پہلی جمہوری حقیقی منتخب حکومت کے خلاف الزامات ،اوچھے ہتھکنڈوں ، ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے جال بنے جانے لگے ،مصری فوج کا وہ یہودی زادہ نمک حرام سربراہ “عبد الرحمن السیسی “ جسے صدر مرسی نے ہی وزیر دفاع بنایا تھا
وہ امریکہ ،اسرائیل ، آل سعود اور آل نہیان کے اربوں ڈالر کے سامنے ڈھیر ہوگیا ، ستم ظریفی دیکھئے کہ وہی صدر مرسی کے خلاف سازش کا مہرہ وآلہ کار بنا ، مرسی کے خلاف ڈالر کے بل بوتے سب سے پہلے ذرائع ابلاغ میں مصنوعی مہم شروع ہوئی ،انہیں ناکام ثابت کیا جانے لگا ، الزامات واتہامات کی بوچھار کی جانے لگی ، کرائے کے ٹٹوئوں کو لاکر 28  جون 2013 کو  میدان اسکوائر پہ  مرسی کے خلاف احتجاج کروایا جانے لگا ،یہودی زادہ جنرل السیسی کے حق میں نعرے لگائے جانے لگے ،اس افرا تفری اور صدر کے خلاف بنائو ٹی احتجاج اور اضطرابات کو بہانہ بناکر عالمی عسکریت پسندوں کی کٹھ پتلی جنرل السیسی نے صدر مرسی کو مسائل کے حل کرنے کے لئے اولاً اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی ، پہر ملکی سیاست سے  دست برادر ہوکے بیرون ملک چلے جانے کی محفوظ راہ کی پیش کش کی ،صدر مرسی کی جانب سے دونوں پیش کش مسترد کردیئے جانے کے بعد 3جولائی 2013 کو صدر مرسی کے خلاف فوج نے بغاوت کردی اور جنرل السیسی کی سربراہی میں مرسی حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کرلیا گیا ۔
مرسی کے ہزاروں ساتھیوں اور ہمنواؤں پہ گولیوں کی بوچھار کی گئی ، ان پہ ٹینک چڑھا دیا گیا  ، ہزاروں مردو عورت کو زندہ کچل دیا گیا ، مرسی سمیت ہزاروں رہنمائوں کو عقوبت خانے میں ڈال کر اذیت ناک سزائیں دی گئیں۔
تشدد کا ہر طریقہ ان پہ روا رکھا گیا ، قید تنہائی میں ڈال کر سخت ٹارچر کیا گیا ،بنیادی انسانی حقوق کی بری طرح پامالی کی گئی ، طبی امداد ، اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات سے  انہیں دور رکھا گیا ، ملکی راز حماس کو افشاء کرنے کے جھوٹے الزام کے تحت ان پہ غداری ، چوری ، قتل ،اقدام قتل جیل توڑنے جیسے مقدمات دائر کر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ۔
شیشے کے بلٹ پروف پنجرے میں ڈال کے انہیں سماعتوں پہ عدالتوں میں پیش کیا جاتا
17 جون 2019 کو شیشے کے پنجرے میں انہیں عدالت پیش کیا گیا ، بلڈ پریشر اور شوگر کا یہ مریض قید تنہائی اور اعصاب شکن ٹارچر کی تاب نہ لاکر کمرہ عدالت میں بیہوش ہوکر گر پڑا ،ہسپتال پہنچنے پہ پتہ چلا کہ یہ اب زندہ نہ رہا ۔
مرنے کے بعد بھی اس منتخب صدر اور حقیقی رہنما کے جاہ و جلال اور رعب و دبدبہ کا عالم یہ تھا کہ ننگ زمانہ ضمیر فروش بزدل غاصب آمر السیسی نے ان کا جسد  خاکی اہل خانہ کے حوالے نہ کیا اور رات کے اندھیرے میں محض چند لوگوں کی موجودگی میں حافظ محمد مرسی شہید کو قبر میں اتار کر ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنا نام ملعونوں کی فہرست میں درج کرالیا ۔
محمد مرسی کی منتخب حکومت پہ قبضہ اور ان کی ظالمانہ شہادت پہ خاموشی بلکہ خفیہ اس کی پشت پناہی اور ان کی شہادت سے  جمہوریت کا راگ الاپنے والے اور حقوق انسانی کا چمپئین کہلانے مغربی عسکریت پسندوں کے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں ، کہ انہیں کسی جمہوریت سے قطعی کوئی سروے کار نہیں ، مغرب اور امریکہ اسلام کے نظام عدل کی بات کرنے والے ، فلسطین دوست ،اسرائیل دشمن ہر  اسلام پسند مسلم حکمراں کی اینٹ سے اینٹ بجادی نے کے درپے ہے
وہ تو طیب ایردوان اپنی ذہانت اور بروقت عملی اقدام سے بچ پایا ؛ورنہ استنبول میں گولنیوں کے ذریعہ بغاوت کرواکر  ترکی کی منتخب حکومت کا بھی تیا پانچہ اپنے تئیں کروا دیا تھا  !
چاہے مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی  بغاوت ہو یا ان کی حالیہ مظلومانہ شہادت !
دونوں ہی موقعوں پہ سب سے شرمناک رویہ اسرائیل دوست اور مغرب نواز مسلم حکمرانوں کا ہے ، فوجی بغاوت کے موقع سے سعودیہ ، فلسطین اور کویت نے سیسی کے اقدام کی تحسین وتائید کی تھی ۔آج مرسی کی شہادت اور سیسی کی فرعونیت پہ کسی کے منہ سے مذمت کے چند بول بھی نہ نکل سکے .
ہاں !  ترکی کے صدر جناب طیب اردگان  نے مرسی کی موت کو شہادت قرار دیا جبکہ ملائشیا اور قطر کے حکمراں نے اس واقعہ پہ گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے ، خلیج کے عیاش حکمرانوں نے اس سفاکانہ قتل پہ درپردہ بغلیں بجائی ہیں ۔
امریکہ کے چٹے بٹے عرب حکمراں  خوش فہمی میں نہ رہیں
طاغوتی طاقتوں اور وقت کے فرعونوں کے ہمنواؤں کا انجام بھی اچھا نہیں ہوتا
آپ نے ہوائوں سے دوستی کی ہے
آپ کے چراغ بھی بجھیں گے
ہوا (امریکہ ) کسی کی نہیں
مرسی شخص واحد کا نام نہیں تھا
عزم واستقامت کا وہ استعارہ تھا، جبر کے مقابلے میں استقامت اور جد وجہد کی وہ اعلی مثال تھا
خدا ان کی روح کو سدا خوش رکھے ،
ہاں وہ اک لمحہ کہ حق گوئی پہ گردن کٹ جائے
یعنی تاعمر عبادت کے سوا بھی کچھ ہے ؟
آہ شیخ مرسی ! تیری جرات ، جواں مردی ، بہادری ، ہیبت ، رعب ،جاہ و جلال اور عظمت وسطوت کیسی مثالی تھی ؟ کہ فرعونی سپاہیوں کو تیرے تنِ مردہ اور بے جان لاشے سے بھی  قریب ہونے
کی جرات نہیں ہوسکی !

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے

Friday, 2 August 2019

سب سے پہلی خاتون

سب سے پہلی خاتون

سب سے پہلے جو سب سے زیادہ بڑے ظالم و جابر خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون کے مقابل شجاعانہ انداز میں کهڑا ہوا ... وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
....(حضرت آسیہ)

سب سے پہلے جس نے مکہ اور کعبہ کو آباد کیا ....وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی....(حضرت ہاجرہ خاتون)

سب سے پہلے جس نے روئے زمین کا مبارک ترین زمزم نوش فرمایا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
...(حضرت ہاجرہ خاتون)

سب سے پہلے جو ہمارے نبی حضرت محمد المصطفیﷺ پر ایمان لائی وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
... (حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا)

سب سے پہلے جس کا خون اسلام کی راہ میں بہایا گیا اور شہید ہوا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
...(حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا)

سب سے پہلے جس نے اپنا مال اسلام کی راہ میں دیا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
....(حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا)

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ سب سے پہلے جس کی بات اللہ نے سات اسمانوں سے اوپر سنی وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھی..
(حضرت خولۃ رضی اللہ عنھا)
سوره مجادله آیه 1)

سب سے پہلے جس نے صفا و مروه کی سعی انجام دی, وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ ایک عورت تهی
....(حضرت ہاجرہ خاتون)

سب سے پہلے جو سب کی مخالفت کے باوجود بیت المقدس میں داخل ہوا وہ کوئی مرد نہیں تھا عورت تھی؛ (حضرت مریم)

اب لاکهوں حاجیوں پر لازم ہے کہ ایک عورت کے انجام دئیے گئے فعل کو بجالائیں ورنہ ان کا حج قبول نہیں ہوگا.....

جس نے قصر یزیدی کو لرزا دیا وہ کوئی مرد نہیں تها بلکہ وہ عورت تھیں
(حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہ)

آزادی نسواں کے نام پر فحاشی کی متلاشی خواتین تمھیں اسلام سے پہلے زندہ درگور کردیا جاتا تھا آج تم خود مختار زندگی گزار رہی ہو؛
جس نکاح کی مخالفت میں تم بازار میں نکلی ہو وہی نکاح تمہارا تحفظ بھی ہے اور شان بھی؛
اپنے عورت ہونے پہ فخر کیجئے ؛؛
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو

آمین

Thursday, 1 August 2019

کیا عشرہ ذی الحجہ میں بال وناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا حکم قربانی نہ کرنے والوں کے لئے بھی ہے؟

کیا عشرہ ذی الحجہ میں بال وناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا استحبابی حکم قربانی نہ کرنے والوں کے لئے بھی ہے؟ 
-------------------------------
جو شخص واجب یا نفل قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لئے حنفیہ کے نزدیک مستحب وبہتر یہ ہے کہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے قربانی کرلینے تک اپنے ناخن، سر، بغل، ناف کے نیچے والا یا بدن کے کسی بھی حصہ کا بال نہ کاٹیں، قربانی کرلینے کے بعد کاٹیں بشرطیکہ انہیں کاٹے ہوئے چالیس دن نہ گزرے ہوں، ورنہ کاٹنا واجب و ضروری ہوگا.  
(قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: … فھذا محمول علی الندب دون الوجوب بالاجماع … و نہایتہ ما دون الأربعین فلا یباح فوقھا (الشامیة ٢ / ١٨١ )
من أراد أن يضحي أو يضحى عنه فلا يأخذ من شعره ولا من ظفره ولا من بشرته شيئاً حتى يضحي أو يضحى عنه - أخرجه مسلم في كتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو مريد التضحية أن يأخذ من شعره أو أظفاره شيئاً، برقم 3656.
ایک اور حدیث میں ہے:
إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ۔ (صحیح مسلم:1977)
جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اُسے (قربانی کرنے تک) اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے احترازکرنا چاہئے۔
ایک اور روایت میں ہے:
مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ۔ (صحیح مسلم: 1977)
 جس کو جانور ذبح کرنا ہو تو وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کےبعد اپنے بال اور ناخ کو قربانی ہونے تک نہ کاٹے۔
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلا يَمَسَّنَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا». (مسندالشافعي 503) (سنن الدارمي 1865 سنن النسأي 4377)
ان تمام حادیث میں صراحت ہے کہ بال ناخن نہ کاٹنے کا استحباب صرف قربانی کرنے والے کے لئے ہے اور یہ حکم بھی صرف استحباب کے درجہ کا ہے 
ناخن وبال کاٹنا حنفیہ کے نزدیک ذی الحجہ میں بھی جائز ہے۔ لیکن خلاف اولی وافضل ہے۔ امام احمد بن حنبل کے نزدیک مضحی کے لئے بال وناخن کاٹنا حرام ہے۔
امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک مضحی کے لئے قربانی کرنے سے پہلے بال وناخن کاٹنا  مکروہ تنزیہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک  نہ کاٹنا مستحب ہے۔ (مرقاۃ: 3/1081)
علامہ شامی لکھتے ہیں کہ فقہائے احناف کا مسلک اس بارے میں استحباب کا ہے، اِباحت کا نہیں، لہٰذا بعض شرّاحِ حدیث نے احناف کا جو مسلک ”مباح ہونا“ ذکر کیا ہے وہ درست نہیں۔ (ردالمحتار: 2/181) (تکملہ فتح الملہم: 3/585)
علامہ ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
أقول: نہی النبی ﷺ من أراد التضحیۃ عن قلم الأظفار و قص الشعر فی العشر الأول، والنہی محمول عندنا علی خلاف الأولیٰ۔ (إعلاء السنن، باب ما یندب للمضحی فی عشر ذی الحجۃ، کراچی ۱۷/۲۶۸، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۷/۲۹۱، تحت رقم الحدیث ۵۶۰۱) وقال الشامی: بعد نقل ہذا الحدیث: ہذا محمول علی الندب دون الوجوب بالإجماع۔ (شامی، باب العیدین، مطلب: فی إزالۃ الشعر والظفر فی ذی الحجہ)
قربانی کرنے والوں کے لئے بال وناخن وغیرہ کٹوانے سے اجتناب کا حکم تشبہ بالحجاج کی وجہ سے ہے. کیونکہ حجاج بھی بحالتِ احرام یہ کام نہیں کرتے ۔اسی لئے گھر بیٹھے قربانی کرنے والے حضرات کے لئے بھی یہ استحبابی حکم دیا گیا کہ وہ بھی حجاج کی مشابہت میں بال وناخن وغیرہ نہ کاٹیں۔ کیونکہ قربانی کرنا اصل میں قربانی  کرنے والے کی جان کا فدیہ ہوتا ہے ، پس ناخن وغیرہ کاٹنے سے روکا گیا تاکہ تمام اجزاء کے ساتھ فدیہ ہو۔ اور قربانی کرلینے کے بعد (چاہے پہلے دن کریں یا دوسرے یا تیسرے دن) بال وناخن وغیرہ کٹوائیں۔ (مرقاۃ المفاتیح: 3/1081)(تکملہ فتح الملہم: 3/586)
جو حضرات قربانی نہ کریں یعنی جن پہ قربانی واجب نہ ہو ان کے لئے بال وناخن سے متعلق یہ استحبابی ممانعت نہیں ہے. یعنی ان کے لئے ان چیزوں کے کاٹنے سے اجتناب مستحب نہیں ہوگا ؛ کیونکہ علت استحباب  مفقود ہے (جانور کی قربانی کا جسم سمیت بال وناخن کی طرف سے بھی فدیہ ہونا) ہاں اگر وہ بھی بال ناخن کاٹنے سے پرہیز کریں اور قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کریں. تو مشابہت کی وجہ سے ممکن ہے انہیں کچھ ثواب مل جائے. تاہم اصلا ان کے لئے کوئی استحبابی فضیلت ثابت نہیں: (احسن الفتاوی: 7/497) 
بعض حضرات قربانی نہ کرنے والوں کے لئے بھی بال وناخن وغیرہ سے اجتناب کو اسی طرح مستحب کہتے ہیں جیسے قربانی کرنے والوں کے لئے مستحب ہے 
اور استدلال میں: سنن النسأئی: 4365 - سنن ابي دائود: 2789 - مسنداحمد: 6539 
کی یہ روایت پیش کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرِينَ: عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ» سنن النسائی 4365 
(حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت هے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مجهے یوم الاضحی کو عید کا حکم دیا گیا هے اسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مقرر فرمایا هے ایک آدمی نے عرض کیا آپ مجهے بتلایئں کہ اگر میں قربانی کے لیے مونث دوده دینے والی بکری کے سوا نہ پاوں تو کیا اس کی قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن تم اپنے بال اور ناخن تراش لینا اور اپنی مونچهیں کاٹنا اللہ تعالیٰ کے هاں تیری یہ مکمل قربانی هوجاے گی)
اس حدیث سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں کہ قربانی نہ کرنے والے بھی قربانی کے بعد ہی بال وناخن وغیرہ کٹوائیں' حالانکہ حدیث مذکور کا یہ معنی نکالنا بالکل ہی غلط وناقص ہے. اس حدیث کا مفاد ومفہوم صرف اس قدر ہے کہ جس شخص کو قربانی نہیں کرنی ہے اس پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ ان دس دنوں میں ناخن وغیرہ نہ کاٹیں خواہ اس نے مثلا پانچ ذوالحجہ کو ہی ناخن کاٹے ہوں‘ لیکن دس کو دوبارہ کاٹ لے تو اسے قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ دس سے پہلے رکے رہیں اور قربانی کے بعد کٹوائیں! اور جس شخص کو قربانی کرنی ہے اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ قربانی کے بعد بال وغیرہ کٹوائے‘ اگر چاہتا ہے تو کاٹ لے وگرنہ اس پر پابندی نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی نہ کرنے والے شخص کو بال وناخن وغیرہ کٹوانے سے اجتناب کی ممانعت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ یہ ممانعت استحبابی صرف قربانی کرنے والوں کے لئے ہے۔ ہاں اگر غریب شخص قربانی کا اجر وثواب حاصل کرنے کا خواہاں ہو تو اسے چاہیے کہ بقرعید کے روز اپنے بال وناخن وغیرہ تشبہ بالمضحین میں کاٹ چھانٹ لے، چاہے وہ یکم ذی الحجہ تا دس ذی الحجہ اپنا بال وغیرہ کاٹ چکا ہو! ممکن ہے اس تشبہ بالمضحین کی کی وجہ سے اللہ انہیں بھی 《فَلا يَمَسَّنَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا》پر عمل کے ثواب میں شریک کرلیں، جیسے مضحی کو محرم بالحج سے تشبہ کی وجہ سے شریک ثواب کردیئے ہیں، لیکن غیرمضحی کے لئے بال وناخن وغیرہ سے اجتناب کا یہ حکم استحبابی نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب 

یکم اگست ۲۰۱۹

       رابطہ نمبر :
+5978836887

http://saagartimes.blogspot.com/2019/08/blog-post.html?m=1