Monday, 8 July 2019

عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو اکثر مردوں کو یاد ہوتی ہیں

عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو اکثر مردوں کو یاد ہوتی ہیں

1- "إن كيدهمن عظيم" عورتوں کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے
2- "مثنی و ثلاث ورباع" دو، تین، چار عورتوں سے نکاح کرو.
3- "النساء ناقصات عقل و دين" عورتیں عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں
4- "الرجال قوامون على النساء" مرد عورتوں پر سربراہ ہیں.
5- "للذكر مثل حظ الأنثييين" (وراثت میں)  مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے.

عورتوں کے بارے میں وہ  پانچ باتیں جو اکثر مردوں کو یاد نہیں رہتیں

1- "وعاشروهن بالمعروف" عورتوں کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارو.
2- "استوصوا بالنساء خيرا" عورتوں کے بارے میں میری  وصیت کا خیال رکھنا.
3- "رفقا بالقوارير" (عورتیں شیشے کی طرح ہیں) ان شیشوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ
4- "خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي" تم میں بہترین وہ شخص ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہو اور میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں.
5- "ما أكرمهن إلا كريم وما أهانهن إلا لئيم" عورتوں کی عزت وہی کرے گا جو خود عزت دار ہوگا اور ان کی اہانت اور بے عزتی وہی کرے گا جو خود بے عزت ہوگا.


دشمن سے حفاظت کا مسنون عمل

دشمن سے حفاظت کا مسنون عمل
دعا کی برکت اور کفار کی بے بسی (عجیب ایمان افروز واقعہ)
حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ نے ’’آپ بیتی‘‘ میں تقسیمِ ہند کے وقت کی سازشوں اور فتنوں اور قتل وغارت گریوں کے تذکرے میں اپنے ایک متعلق الحاج بابو ایاز صاحب رحمہ اللہ کا ایک حیرت انگیز واقعہ لکھا ہے۔ وہ یہ کہ اس دور میں ان فتنوں کی وجہ سے دہلی سے نظام الدین کو آنا جانا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا،  بازار جاکر راشن بھی لانا سخت خطرناک و مصیبتِ عظمیٰ تھا، سارے راستے مخدوش و مسدود تھے، راشن سبزی منڈی میں ملتا تھا، جہاں سکھ ہی سکھ تھے، کسی کی ہمت وہاں جانے کی نہیں ہو تی تھی؛ مگر الحاج بابو ایاز صاحب رحمہ اللہ اسی حال میں وہاں سے راشن لایا کرتے تھے، ان کے اس طرح جانے سے لوگ حیرت کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ سبزی منڈی سے راشن لے کر نظام الدین آرہے تھے، وہاں سے ایک تانگہ لیا، اس میں ایک بابو جی اور تین سکھ سوار تھے، دلی سے باہر نکل کر ان سکھوں نے یہ کہا کہ تو ہمارے بیچ میں کیسے بیٹھ گیا اور اگر ہم تجھ کو ختم کردیں، تو پھر کیا ہو؟ انھوں نے نہایت جوش اور جرأت و بے باکی سے کہا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں مارسکتے اور ہمت ہو، تو مارکر دکھلاؤ۔ وہ بھی سوچ میں پڑگئے، آپس میں کچھ اشارے کنائے بھی ہوئے اور آستینیں سونت کر کہنے لگے کہ ہم کیوں نہیں مارسکتے؟ انھوں نے اس سے زیادہ جوش سے کہا کہ میرے پاس ایک چیز ہے، تم میرے مارنے پر قادر ہی نہیں ہوسکتے، وہ اللہ کے فضل سے کچھ ایسے مرعوب ہوئے کہ نظام الدین تک سوچتے ہی رہے اور اشارے بھی کرتے رہے۔ ان سے اُترتے وقت پوچھا کہ تم وہ چیز بتلادو کیا ہے؟ بابو جی نے کہا کہ وہ چیز بتلانے کی نہیں ہے اور باقی تم دیکھ چکے ہو کہ تم لوگ باوجود ارادے کے مجھے مار نہ سکے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی؟ انھوں نے فرمایا کہ آپ ہی نے مجھے ایک دعا بتلائی ہے:
«اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَجْعَلُکَ فِيْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ۔» 
(ابو داؤد، کتاب فضائل القرآن، باب ما یقول الرجل إذا خاف قوما، الرقم:۱۵۳۷)​
ترجمہ:”اے اللہ! بے شک ہم تجھے ان(دشمنوں) کے مقابلے میں لاتے ہیں اور ان (دشمنوں) کے شرور سے تیری پناہ مانگے ہیں۔“
میں یہ پڑھتا تھا۔
(آپ بیتی ؍ شیخ الحدیث مولانا زکریا: ۱ ؍ ۵۴۰)
مدینۃ الاولیاء احمدآباد میں ایک مردِ مجاہد تھا۔ نام اُس کا موسیٰ پٹیل، قوم کا بڑا خادِم، شہر میں جب کبھی فسادات ہوتے، بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریاں عمل میں آتیں، اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے تب ایسے حالات میں گرفتار شدہ مسلم نو جوانوں کے اپنے گھر والے بھی ان کی خیر خبر لینے سے گھبراتے تھے۔ اور وہ مردِ مجاہد موسیٰ صاحب پٹیل یکا و تنہا اپنے اسکوٹر پر غیر مسلموں کے فسادزدہ علاقوں سے بھی بے خوف و خطر گزرجاتا اور گرفتار شدہ مسلم نو جوانوں کی خبر لیتا، انہیں کھانا پہنچاتا، کپڑے پہنچاتا، دوائیاں پہنچاتا، ان کی ضمانت کا انتظام کرواتا۔ لوگوں نے بارہا اس سے دریافت بھی کیا آپ کو فسادیوں کا ڈر نہیں لگتا۔ وہ اکثر ہنس کر بات ٹال جاتا۔ ایک بار کسی سبب سے پولیس نے خود اسے گرفتار کرلیا، بس کیا تھا اس کی گرفتاری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی اور باوجود کرفیو کے سارے شہر کی عورتیں پولیس اسٹیشن پر اس کی رہائی کے لیے دھرنا دینے پہنچ گئی۔ پولیس کو ناچار چند گھنٹوں میں بلا کسی کارروائی کے اسےرہا کرنا پڑا۔ اس کے انتقال کے بعد تحقیق کرنے پر کسی قریبی نے یہ عقدہ حل کیا اور بتایا کہ وہ
«اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَجْعَلُکَ فِيْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ۔» 
کا عامل تھا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔


اسلام اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، صبرو استقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کرو، کبھی فساد کی ابتداء مت کرو، اگر فسادی خود تم پر چڑھ آئیں تو ان کو سمجھاؤ، لیکن اگر وہ نہ مانیں اور کسی طرح باز نہ آئیں تو پھر تم معذور ہو، بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو اور اس طرح مقابلہ کرو کہ فسادیوں کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے، تمہاری تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو، مگر قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اور اپنی غیرت و حرمت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دو، یہ عزت اور شہادت کی موت ہوگی ـ
اس ملک کو تم نے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی اپنے خون سے سینچنے کا عزم رکھو، یہی ملک سے حقیقی وفاداری ہے، اس ملک پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے باشندے کا.
وفاداری کے اظہار کا جو ڈھنگ تم نے اختیار کر رکھا ہے وہ نہ مفید ہے اور نہ ضروری، آج ملک کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ فرقہ پرستی کے جراثیم کا خاتمہ کردو، وفاداری کے پرانے طور و طریقے اب بدل چکے ہیں، اب افسرانِ حکومت یا حکومت کے ساتھ وفاداری کے کوئی معنی نہیں، جب تک اس ملک میں جمہوریت کا نام و نشان باقی ہے حکومت ہم خود ہیں ـ
مآثرِ شیخ الاسلام
-----------------------
دشمن سے نجات کا عمل کیا ہے؟
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
سورہٴ قریش، نیز یہ دعا کثرت سے پڑھیں، ان شاء اللہ دشمن سے حفاظت رہے گی ”اللَّہُمَّ إِنَّا نَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ“ (دیکھیں، ص: ۳۲۷، ۲۶۱، ط: خزینہٴ علم وادب، لاہور)
------------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post_8.html


Saturday, 6 July 2019

اخبار یا پرنٹڈ کاغذ پر کھانا کھانا

اخبار یا پرنٹڈ کاغذ پر رکھ کر پکوڑے، سموسے یا پراٹھے کھانا انتہائی نقصان دہ ہے، یہ معمولی غفلت آپ کو کینسر جیسے موذی مرض سے دوچار کرسکتی ہے۔
اخبار میں چٹ پٹے پکوڑے یا پھر گھی میں تلے پراٹھے ملنا شہر بھر میں عام سی بات ہے لیکن اخبار کے صفحات میں لپٹی آپ کی من پسند کھانے کی چیزیں اب آپ کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، ان سے صرف پیٹ ہی نہیں بھرے گا، اس سیاہی میں استعمال ہونے والا کیمکل جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ان اخبارات کے انک کے اندر بیٹا نیپتھائل ہوتی ہے ائیرومیٹک کاربن ہوتے ہیں اور اس کھانے میں مکس ہوجاتے ہیں یہ جا کر آپ کو سیلولر انجری کرتے ہیں اور پوٹینشلی کینسر کاز کر سکتے ہیں۔
 گرم گرم چائے پینے والے ہوشیار باش
ہوٹلوں اور دکانوں پر اس خطرے سے بے خبر شہری اخبارات اور دیگر پرنٹڈ پیپرز پر رکھا کھانا دھڑا دھڑ کھارہے ہیں۔
بھوک لگنے پر قریبی ہوٹل یا پکوڑوں سموسوں کی دکان سے کچھ لے کر کھانا اور پیٹ کی آگ بجھانا تو مجبوری سہی لیکن اس چھپے ہوئے کاغذ کا استعمال کوئی مجبوری نہیں۔
اخبارات اور پرنٹڈ کاغذوں پر رکھے کھانے میں غذائیت سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں، اس حوالے سے دوکانداروں کے ساتھ ساتھ خریداروں کو بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

Friday, 5 July 2019

حج کے پانچ دن ایک نظر میں

حج کے پانچ دن ایک نظر میں

حج اسلام کا ایک اہم اور بنیادی رکن ہے. جس کے بے شمار فضائل احادیث میں وارد ہیں. ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ سے بارہویں تاریخ تک یعنی پانچ دن میں اعمال حج ادا کئے جاتے ہیں ذیل میں اس کو مختصر طور پر لکھا جارہا ہے.
1.  آٹھویں ذی الحجہ یہ حج کا پہلا دن ہے. اس دن حاجی کو مکہ مکرمہ سے فجر کی نماز کے بعد منی کے لیے جانا ہے اور منی میں ظہر،عصر، مغرب، عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر کی نماز ادا کرنی ہے.
نوٹ. آج کل معلم حاجیوں کو ساتویں تاریخ اور آٹھویں تاریخ کی درمیانی رات ہی میں ہی منی لے جاتے ہیں. انہیں کے ساتھ چلے جانا چاہیے. اسی میں سہولت ہے.
2. حج کا دوسرا دن نویں ذی الحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے. اس دن کے کام.... فجر کی نماز کے بعد جب سورج طلوع ہوجائے تو منی سے عرفات کے لیے روانہ ہونا اور وہاں جاکر معمولات ادا کرنا.... عرفات میں ظہر و عصر دونوں نمازوں کو ظہر کے وقت میں مسجد میں ایک ساتھ ادا کرنا. اگر کسی وجہ سے مسجد میں نہ پڑھے تو دونوں نمازوں کو اپنے وقت پر ادا کرنا.... عرفات کے مناسک سے فارغ ہوکر سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہونا اور مغرب و عشاء دونوں نمازیں مزدلفہ میں جاکر عشاء کے وقت میں ایک ساتھ جمع کرکے ادا کرنا. اور رات مزدلفہ میں گزارنا.
3. حج کا تیسرا دن دسویں ذی الحجہ ہے. اس دن مناسک حج میں سے چار واجبات اور ایک فرض کل پانچ امور ادا کرنے ہیں.
1.مزدلفہ میں فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے وقوف کرنا. اور سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے منی کے لئے روانہ ہونا.
2. منی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرنا. رمی کا أفضل کا وقت سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک.. زوال کے بعد سے سورج غروب ہونے تک بلا کراہت رمی کرنا جائز ہے اور غروب کے بعد مکروہ ہے البتہ بھیڑ کی وجہ سے تاخیر ہو تو بلا کراہت جائز ہے گویا دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے لیے تقریباً 24 گھنٹہ کا وقت ہے.
3. اگر حاجی متمتع یا قارن ہے تو رمی کے بعد قربانی کرنا ہے
4. اگر حاجی متمتع یا قارن ہے تو قربانی کے بعد اور اگر  حاجی متمتع یا قارن نہیں ہے تو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد سر کے بال اتارنا ہے.
5. حج کا اہم ترین رکن طواف زیارت ادا کرنا.. أفضل وقت طواف زیارت کا دسویں ذی الحجہ کا دن ہے اور بارہویں ذی الحجہ کے غروب ہونے سے پہلے پہلے تک مؤخر کرنے کی گنجائش ہے.
4.  حج کا چوتھا دن گیارہویں ذی الحجہ ہے. اس دن کی ذمہ داری صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے تینوں جمرات کی رمی کرنا. رمی کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے زوال سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے. أفضل وقت زوال کے بعد سے سورج غروب ہونے تک ہے. غروب کے بعد مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے البتہ اگر بھیڑ ہو تو سورج غروب ہونے کے بعد صبح صادق سے پہلے پہلے تک رمی کرنا بلاکراہت جائز ہے. اس دن یعنی گیارہویں کی رمی کا وقت زوال سے لے کر بارہویں صبح صادق تک تقریباً سولہ گھنٹے ہیں.
5.  حج کا پانچواں دن یعنی بارہویں ذی الحجہ ہے. اس دن کی ذمہ داری بھی تینوں جمرات کی رمی کرنا ہے رمی کا وقت زوال کے بعد سے سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے اور اگر بھیڑ ہو تو بلا کراہت تیرہویں کی صبح صادق تک رمی کرنے کی گنجائش ہے. گویا اس دن کی رمی کا وقت بھی تقریباً سولہ سترہ گھنٹہ ہیں.
نوٹ. اگر بارہویں کو مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہو تو افضل اور بہتر یہی ہے کہ کہ سورج غروب ہونے سے پہلے رمی کرکے منی سے نکل جائے لیکن اگر بھیڑ کی وجہ سے رمی نہ کرسکے تو رات میں بھی رمی کرکے منی سے مکہ مکرمہ جانا بلا کراہت جائز ہے. اور اگر تیرہویں کی صبح صادق ہوجانے تک منی میں قیام رہے تو پھر تیرہویں کی رمی بھی لازم ہوجائے گی.
ملخص از انوار مناسک تالیف مفتی شبیر احمد دامت برکاتہم العالیہ
------------------------------------
حج کے مسائل یعنی فرائض، واجبات، سنن مستحبات وغیرہ!
فرائض حج: 
1    احرام باندهنا (یہ شرط ہے )
2    9 ذی الحجہ کوآفتاب کے وقت سے 10ذی الحجہ کی صبح صادق تک عرفات میں کسی وقت ٹھہرنا چاہے ایک ہی منٹ کیوں نہ ہو (رکن ہے )
طواف زیارت کرنا (یہ بهی رکن ہے)
اگر ان میں سے  کوئی چهوٹ جا ئےتو حج نہ ہو گا
ان تینوں میں ترتیب بهی فرض کا درجہ رکهتی ہے 
پہلے احرام پهر وقوف پهرطواف زیارت
نوٹ:  اگر ان میں سے کوئی چیز چهوٹ جائے تو حج درست نہیں ہو گا
واجبات حج:
1   وقوف مزدلفہ (جس کا وقت 10 ذی الحج کی صبح صادق سے طلوعِ آفتاب کے درمیان ہے)
2  صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا 
3  رمی جمار کرنا
4  قارن ومتمتع کو دم دینا
5  حلق یا قصر کرانا (لیکن حلق أفضل ہے )
6  آفاقی کو طواف وداع کرنا
نوٹ: اگر ان میں سے کوئی چیز چهوٹ جائے تو دم واجب ہوگا اور حج درست ہو جائے گا
📚حج کی سنتیں
1  احرام باندهنے کے لئے غسل کر نا
2  حج کے مہینے میں احرام باندھنا
3  تلبیہ پڑهنا
4 طواف قدوم کر نا
5  طواف قدوم میں رمل کرنا اگر اس میں نہ کرسکے تو طواف زیارت یاطواف وداع میں رمل کرنا
6  طواف کرتے وقت بدن اور کپڑے کانجاست حقیقہ سے پاک وصاف ہونا
7  صفا و مروہ کی سعی کے دوران میلین اخضرین کے درمیان دوڑنا (مردوں کے لئے)
8  حجر اسود سے طواف شروع کرنا
9  امام کا تین مقام پر خطبہ دینا (ساتویں ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں، نویں کو عرفہ میں اور گیارہویں کو منی میں)
10   نویں زی الحجہ کی رات کو منی میں قیام کرنا
11  نویں ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد منی سے عرفات جانا
12 عرفات سے امام کے چلے جانے کے بعد نکلنا
13  عرفات میں غسل کرنا
14  ایام منی میں رات کو منی ہی میں رہنا
15  تیوں خمرات کی رمی میں ترتیب باقی رکهنا
 نوٹ: ان سنتوں میں سے کسی کو جان بوجھ کر چهوڑ نا براہے لیکن چهوٹ جانے سے جزا لازم نہیں ہوگی
احرام کے واجبات:
1  میقات سے احرام باندهنا
2  ممنوعات احرام سے بچنا
3  (مردوں)کے لئےسلے ہوئے کپڑے اتار دینا
احرام کی چند سنتیں:
1  حج کے مہینے میں احرام باندھنا
2  اپنے شہرکےمخصوص راستہ اور میقات سے احرام باندهنا
3  احرام سے پہلےغسل یا وضو کرنا
4 ایک چادر اور ایک لنگی پہننا (مردوں)
5  دورکعت نماز ادا کرنا (لیکن مکروه وقت میں نہیں)
6  احرام کے بعد تلبیہ کا برابر ورد رکهنا
7  ( مردوں کے لیے)تلبیہ بلند آواز سے پڑهنا
احرام کے بعض مستحبات
1  دو نئے یا دهلے ہوئے کپڑے پہننا
2  چپل پہننا
3  نماز کے فورا بعد بیٹھنے کی حالت ہی میں نیت کرنا اور تلبیہ پڑهنا
4  اگر ممنوعات احرام سے بچنے کی پوری امید ہو تو احرام میقات سے پہلے باندهنا
5  مونچھ کترنا
6  ناخن تراشنا
7  بغل صاف کرنا
8  موئے زیرناف صاف کرنا
9  اگر بیوی  پاس ہو اور کوئی مانع نہ ہو تو اس سے صحبت کرنا (تاکہ احرام کے دوران دل دماغ فارغ رہے
طواف کے بنیادی ارکان
1   طواف کے اکثر چکروں کو ادا کرنا
2  طواف بیت اللہ شریف کے باہراور مسجد حرام کےاندر کرنا
3  خود طواف کرنا چاہے کسی چیز پر سوار ہو کر البتہ اگر مریض یا مجنون وغیرہ   تو اس کی طرف سے نیابت درست ہوسکتی ہے
واجبات طواف
واجبات طواف سات ہیں جن کے ترک سےجزالازم آتی ہے
1  حدث أصغر واکبردونو ں سے پاک ہونا
2  ستر کا چهپانا
3   حجر اسود سے طواف شروع کرنا
4  دائیں طرف سے طواف کرنا
5   پیدل طواف کرنا
6 طواف میں حطیم کو شامل کر نا
7  طواف کے ساتوں چکر پورے کرنا
طواف کی سنتیں
1  اضطباع کرنا (یعنی مردوں کےلئے چادربغل سے ڈال کر داہنا کندها کهولنا) مسنون ہے صرف اس طواف میں جس کے بعد سعی ہے
2  شروع کے تین چکروں میں رمل کرنا (جس طواف کے بعد سعی ہے)
3   آخری چکروں میں رمل نہ کرنا
4  طواف کے شروع میں حجر اسود کا استقبال کرنا
5  حجرے اسود کے استقبال کے وقت تکبیر کہنا
6  حجر اسود کے سامنے تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرنا
7  حجر اس کا استلام کرنا (طواف کی ابتدا اور انتہا میں استلام هجر اسود مسنون ہے اور درمیان میں ہر چکر میں استلام مستحب ہے
8   رمل کے علاوہ طواف کے چکروں کو با وقار انداز میں چلنا
9  تمام چکر پے درپے کرنا
10  بدن اور کپڑوں کا ظاہری نجاستوں سے پاک ہونا
طواف کے مستحبات
1حجر اسود کا تین بار بوسہ دینا
2  حجر اسود پر تین بار سجدہ کرنا
3  طواف کے دوران رکن یمانی کا استلام کرنا
4  طواف کے دوران ذکر یا دعا میں مشغول رہنا
5  مردوں کے لیے بیت اللہ کے قریب طواف کرنا بشرط مہ کسی کو تکلیف نہ ہو
6 عورتوں کو رات میں طواف کرنا بہتر ہے
7 طواف کے دوران بات چیت سے پرہیز کرنا
8  دوران طواف ہر اس عمل سے پرہیز کرنا جو خشوع وخضوع کے منافی ہو
9  دل کو مشغول کرنے والی چیزوں نگاہ کی حفاظت کرنا
10  اگر کسی لو خلل
مباحات طواف
1  کسی کو سلام کرنا اگر ذکر وغیرہ میں مشغول نہ ہو ورنہ مکروہ ہے
2  چهینکنے والے کو کا الحمدللہ کہنا
3 چهیکنے اور سلام کرنے والے کا جواب دینا
4  ضرورت کے وقت بقدرے ضرورت کلام کرنا
5  پانی وغیرہ پینا
 6  ضروری مسائل دریافت کرنا اور اس کا جواب دینا
7  پاک خف یا نعل پہن کر طواف کرنا
8  کسی عذر کی وجہ سے سواری وغیرہ پر طواف کرنا
مکروہات طواف:
 1  فضول بات چیت کرنا 
2  خریدوفروخت اور اس کی بات چیت کرنا
3  کهانا
4   ایسے اشعار پڑهنا جس میں حمدو ثنا نہ ہو
5  بلند آواز سے ذکرودعا وغیرہ کر اگر اس سے طواف کرنے، نماز پڑهنے والوں کو خلل ہو
6  ناپاک کپڑوں میں طواف کرنا 
7  حجر اسود کے استقبال سے پہلے ہی دونوں ہاتھوں کو اٹهالینا
8   پیسابپاخانہ کی حاجت کے وقت طواف کرنا
9  بهوک پیاس اور غصہ کی حالت میں طواف کرنا
10  دعا کےلئے ہاتھ اٹهانا یا نماز کی طرح دونوں ہاتهوں کو باندهنا
11  دوران طواف ٹهہر کر دعا وغیرہ کرنا
12  طواف کرتے ہوئےبلا کسی ضرورت کے باہر نکلنا
محرمات طواف:
1  حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں طواف کرنا
 2  بےوضو طواف کرنا
3  ستر کهلے ہوئے ہونے کی حالت میں طواف کرنا
4  بلا کسی عذرکے  سوار ہو کر طواف کرنا
5  طواف میں حطیم کو شامل نہ کرنا
ازقلم: محمد عظیم فیض آبادی استاذ دار العلوم النصرہ دیوبند
9358163428
--------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post_5.html

Tuesday, 2 July 2019

شادی میں لڑکی والوں کی طرف سے دعوت طعام؟؟

شادی میں لڑکی والوں کی طرف سے دعوت طعام؟؟

درج ذیل تحریر میں درج مسئلۂِ فقہیہ اور تاریخی روایت کی صحت یا ضعف دریافت کرنا ھے، حضرت مفتی شکیل منصور القاسمی صاحب سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔
سائل: محمد خالد ندوی، لکھنوء، ممبر مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی)
طعام مجلسِ عقد کی حیثیت 
——————————
تصدیق وتصویب  تو گروپ کے محققین فرمائیں گے البتہ ایک تاریخی روایت  کے تناظر میں جواب یہ ہے کہ مجلس عقد نکاح کا کھانا بھی جائز اور مباح ہے بشرطیکہ لڑکی والے بخوشی ورغبت کھلارہے ہوں بلکہ اس کھانے کو سنت انبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے جیساکہ حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کا جب شاہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نکاح کردیا تو لوگ مجلس نکاح سے اٹھ کر جانے لگے. اس وقت شاہ نجاشی نے تمام حاضرین کو یہی کہہ کرکھانے کے لیے روکا تھا کہ اس موقع سے کھانا کھانا سنت انبیاء ہے چنانچہ البدایہ والنھایہ کے الفاظ ملاحظہ کیجئے
ثُمَّ أَرَادُوا أَنْ يَقُومُوا فَقَالَ: اجْلِسُوا فَإِنَّ مِنْ سُنَّةِ الْأَنْبِيَاءِ إِذَا تَزَوَّجُوا أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامٌ عَلَى التَّزْوِيجِ. فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا ثُمَّ تَفَرَّقُوا.
(البدایہ والنھایہ ج 4 ص 144)
       لہٰذا لڑکی والے کے یہاں مجلس نکاح میں دعوت کھانا بھی جائز ہے بلکہ سنت انبیاء ہے بس شرط یہی ہے کہ وہ دعوت کسی ریاکاری کے طور پر نہ ہو اور نہ ہی بالجبر ہو بلکہ لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلا رہے ہوں.
فقط واللہ اعلم بالصواب
رضوان احمد قاسمی منورواشریف سمستی پور بہار
26 جون 2019
—————————-
الجواب وباللہ التوفیق 
از: شکیل منصور القاسمی 

شرعی حدود میں رہتے ہوئے طیب خاطر کے ساتھ رسم ورواج کے بغیر بلا کسی دباؤ کے اگر لڑکی والوں کی طرف سے اعزہ، اقرباء مہمانوں اور باراتیوں کے لئے دعوت کا انتظام ہو تو یہ جائز ہے۔ سنت اور مستحب نہیں۔
جواز سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے نکاح کے وقت ایک بکرا ذبح کرکے مہاجرین و انصار کو دعوت دی تھی۔
مصنف عبد الرزاق میں یہ روایت تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
فنی حیثیت سے اسناد میں ضعف ضرور ہے۔ جس کی وجہ سے سنیت کا ثبوت نہیں ہوسکتا لیکن جواز کے اثبات کے لئے اس قدر ہی کافی یے۔ صرف ایک یا دو واقعہ اس قسم کی دعوت کا ملتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی میں اس کا عمومی رواج نہیں ملتا ۔۔۔۔ اس لئے اس کی ترویج بہتر نہیں۔ تاہم جواز سے انکار قطعی درست نہیں۔ ایسی دعوتوں شریک ہونا اور کھانا تناول کرنا جائز ہے۔۔۔
ثم دعا بلالا، فقال: یا بلال! إني زوجت ابنتي ابن عمي، وأنا أحب أن یکون من سنۃ أمتي، إطعام الطعام عند النکاح، فأت الغنم، فخذ شاۃ وأربعۃ أمداد، أو خمسۃ، فاجعل لي قصعۃ لعلي أجمع علیہا المہاجرین، والأنصار۔ الحدیث (مصنف عبدالرزاق، النکاح، تزویج فاطمۃ رضي اﷲ عنہا، المجلس العلمي ۵/ ۴۸۷، رقم: ۹۷۸۲، المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۲۲/ ۴۱۰، رقم: ۱۰۲۲، ۲۴/ ۱۳۲، رقم: ۳۶۲)
وفي حدیث أنس رضي اللّٰہ عنہ خطبہا علی بعد أن خطبہا أبو بکر - إلی قولہ - فقال: أدع لي أبا بکر وعمر وعثمان وعبد الرحمن بن عوف وعدۃ من الأنصار فلما اجتمعوا وأخذوا مجالسہم۔ (شرح الزرقاني مع المواہب اللدنیۃ ۲؍۲-۳ بیروت، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۱۷؍۳۸۹ میرٹھ)
رشیدیہ ص: ۲۹۷، کتاب الفتاوی ۴/ ۴۱۶،)
تحقیق طلب افراد کے لئے  ذیل میں متعلقہ حدیث مکمل درج کی جاتی ہے:
كانت فاطِمةُ تُذْكَرُ لرسولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فلا يَذْكُرُهَا أَحَدٌ إلَّا صَدَّ عنه، حتَّى يَئِسوا منها، فلقِيَ سَعْدُ بنُ معاذٍ عَلِيًّا، فقال: إنِّي واللَّهِ ما أرى رسولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْبِسُهَا إلَّا عليك. فقال له عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلِمَ ترى ذلك؟ [فواللَّهِ] ما أنا بأحَدِ الرَّجُلَيْنِ: ما أنا بصاحِبِ دُنْيَا يَلْتَمِسُ ما عندي، وقد عَلِمَ ما لي صفراءُ ولا بيضاءُ، وما أنا بالكافرِ الذي يُترَفَّقُ بها عن دينِه! - يعني يَتألَّفُه بها - إنِّي لأوَّلُ مَن أسلَم! فقال سعدٌ: إنِّي أعزِمُ عليك لتُفَرِّجَنَّها عنِّي ; فإنَّ لي في ذلك فَرَجًا. قال: أقولُ ماذا؟ قال: تقولُ: جِئْتُ خاطبًا إلى اللهِ وإلى رسولِه فاطمةَ بنتَ محمَّدٍ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم. [قال: فانطلَق وهو ثَقيلٌ حَصِرٌ، فقال له النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: " كأنَّ لك حاجةً يا علِيُّ " فقال: أجَلْ جِئْتُك خاطبًا إلى اللهِ وإلى رسولِ اللهِ فاطمةَ بنتَ محمَّدٍ] فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: " مَرْحَبًا ". كَلِمةٌ ضعيفةٌ. ثم رجَع إلى سعدٍ، فقال له: قد فعَلْتُ الذي أمَرْتني به، فلم يزِدْ عليَّ أن رحَّب بي كَلِمةً ضعيفةً. فقال سعدٌ: أَنْكَحَك والذي بعثَه بالحقِّ، إنَّه لا خُلْفَ ولا كَذِبَ عندَه، أعزِمُ عليك لتأتيَنَّه غَدًا، فَلَتَقولَنَّ: يا نبيَّ اللهِ، متى تَبْنيني؟ فقال عليٌّ: هذه أشَدُّ عليَّ مِنَ الأُولى، أوَلا أقولُ يا رسولَ اللهِ حاجتي؟ قال: قُلْ كما أمَرْتُك، فانطلَق عليٌّ، فقال: يا رسولَ اللهِ، متى تَبْنيني؟ قال: " اللَّيلةَ إنْ شاء اللهُ ". ثُمَّ دعا بِلالًا، فقال: " يا بلالُ، إنِّي قد زوَّجْتُ ابنَتي ابنَ عمِّي، وأنا أُحِبُّ أن يكونَ مِن سُنَّةِ أمَّتي الطَّعامُ عندَ النِّكاحِ، فَأْتِ الغَنَمَ، فخُذْ شاةً وأربعةَ أمْدادٍ، واجْعَلْ لي قَصْعةً أجمَعُ عليها المُهاجرين والأنصارَ، فإذا فرَغْتَ فآذِنِّي ". فانطلَق ففعَل ما أمَره به، ثم أتاه بقَصْعةٍ فوضَعها بينَ يدَيه، فطعَن رسولُ اللِه صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في رأسِها، وقال: " أدخِلِ النَّاسَ عليَّ زُفَّةً زُفَّةً، ولا تُغادِرَنَّ زُفَّةٌ إلى غيرِها ". - يعني إذا فرَغَتْ زُفَّةٌ فلا يعودون ثانيةً -. فجعَل النَّاسُ يرِدُونَ، كلَّما فرَغَتْ زُفَّةٌ وَرَدَتْ أخرى، حتَّى فرَغ النَّاسُ. ثمَّ عمَد النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إلى ما فضَل منها، فتفَل فيه وبارَك، وقال: " يا بِلالُ، احمِلْها إلى أُمَّهاتِك، وقُلْ لهُنَّ: كُلْنَ وأطْعِمْنَ مَن غَشِيَكُنَّ ". ثم قام النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم حتَّى دخَل على النِّساءِ، فقال: " إنِّي زوَّجْتُ بِنتي ابنَ عمِّي، وقد علِمْتُنَّ مَنزِلتَها منِّي، وأنا دافِعُها إليه فدونَكُنَّ ". فقُمْنَ النِّساءُ فَغَلَّفْنَها مِن طيبِهِنَّ، وألبَسْنَها مِن ثيابِهنَّ، وحَلَّيْنَها مِنْ حُلِيِّهِنَّ، ثُمَّ إنَّ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم دخَل، فلمَّا رأَيْنَه النِّساءُ ذَهَبْنَ، وبينَ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم سِتْرٌ، وتخلَّفَتْ أسماءُ بنتُ عُمَيسٍ رضِيَ اللهُ عنها فقال لها النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: " على رِسْلِكِ، مَن أنت؟ ". قالت: أنا التي أحرُسُ ابنتَك، إنَّ الفتاةَ ليلةَ بِنائِها لابُدَّ لها مِنِ امرأةٍ [تكونُ] قريبةً منها، إنْ عرَضَتْ لها حاجةٌ أو أرادَتْ أمْرًا أفْضَتْ بذلك إليها. قال: " فإنِّي أسالُ إلهي أن يحرُسَكِ مِن بينِ يدَيكِ ومِنْ خَلْفِكِ، وعن يمينِكِ وعن شِمالِكِ، مِنَ الشَّيطانِ الرَّجيمِ ". ثُمَّ صرَخ بفاطمةَ فأقبَلَتْ، فلمَّا رأَتْ عَليًّا جالِسًا إلى النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم[حَصِرَتْ] بَكَتْ، فخَشِيَ النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أن يكونَ بُكاؤها أنَّ عليًّا لا مالَ له، فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: " ما يُبكيكِ؟ ما أَلَوْتُكِ في نفسي، وقد أصَبْتُ لكِ خيرَ أهلي، والَّذي نفسي بيدِه لقد زوَّجْتُكِ سعيدًا في الدُّنيا، وإنَّه في الآخِرةِ لَمِنَ الصَّالحينَ ". فَلانَ منها. فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: " يا أسماءُ، ائتيني بالمِخْضَبِ [فامْلَئيه ماءً] ". فأتَتْ أسماءُ بالمِخْضَبِ، فمَجَّ النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فيه، ومسَح في وجهِه وقَدَمَيه، ثُمَّ دعا فاطمةَ، فأخَذ كَفًّا مِن ماءٍ فضرَب به على رأسِها، وكَفًّا بينَ ثَدْيَيْها، ثُمَّ رشَّ جِلْدَه وجِلْدَها، ثم التَزَمها، فقال: " اللهمَّ إنَّها مِنِّي وإنِّي منها، اللهمَّ كما أذهَبْتَ عنِّي الرِّجْسَ وطَهَّرْتَني فطَهِّرْها ". ثُمَّ دعا بمِخْضَبٍ آخَرَ، ثُمَّ دعا عَليًّا، فصنَع به كما صنَع بها، ثُمَّ دعا له كما دعا لها، ثُمَّ قال لهما: " قُومَا إلى بيتِكما، جمَع اللهُ بينَكما [وبارَك] في سِرِّكُما، وأصلَح بالَكما ". ثُمَّ قام وأغْلَق عليهما بابَهما بيدِه. قال ابنُ عبَّاسٍ رضِيَ اللهُ عنهما: فأخْبَرَتْني أسماءُ بنتُ عُمَيسٍ رضِيَ اللهُ عنها أنَّها رَمَقَتْ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم لم يزَلْ يدعو لهما خاصَّةً، لا يَشْرَكُهما في دُعائِه أحَدًا حتَّى توارى في حُجْرَتِه صلَّى اللهُ عليه وسلَّم».
الراوي : عبدالله بن عباس | المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد
الصفحة أو الرقم: 9/210 | خلاصة حكم المحدث : فيه يحيى بن يعلى وهو متروك
جہاں تک اس میں درج روایت کی صحت وغیرہ کا معاملہ ہے تو یہ روایت طبقات بن سعد ج 10/97صفحہ میں یوں درج ہے:
أخبرنا محمد بن عمر. حدثنا عبد الله بن جعفر عن عثمان بن محمد الأخنسي أن أم حبيبة بنت أبي سفيان ولدت حبيبة ابنتها من عبيد الله بن جحش بمكة قبل أن تهاجر إلى أرض الحبشة. قال عبد الله بن جعفر: وسمعت إسماعيل بن محمد بن سعد يقول:
ولدتها بأرض الحبشة.
قال محمد بن عمر: فأخبرني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد عن أبيه قال: خرجت من مكة وهي حامل بها فولدتها بأرض الحبشة.
أخبرنا محمد بن عمر. حدثنا عبد الله بن عمرو بن زهير عن إسماعيل بن عمرو بن سعيد بن العاص قال: قالت أم حبيبة: رأيت في النوم عبيد الله بن جحش زوجي بأسوأ صورة وأشوهه ففزعت. فقلت: تغيرت والله حاله. فإذا هو يقول حيث أصبح: يا أم حبيبة إني نظرت في الدين فلم أر دينا خيرا من النصرانية وكنت قد دنت بها. ثم دخلت في دين محمد ثم قد رجعت إلى النصرانية. فقلت: والله ما خير ۔۔۔۔۔۔۔۔ فقال: اجلسوا فإن سنة الأنبياء إذا تزوجوا أن يؤكل طعام على التزويج. فدعا بطعام فأكلوا ثم تفرقوا.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
دلائل النبوہ للبیہقی 462/3 ابن عبد البر کی الاستیعاب 204/6.زرقانی کی شرح المواہب اللدنیہ 406/4. بیہقی کے استاذ وشیخ امام حاکم کی مستدرک 21/4.
 حافظ کی الإصابة ج 651/7
اعلاء السنن کتاب النکاح 19/6)
طبقات بن سعد  کی روایت میں (پہر اسی طریق سے حاکم اور حافظ وغیرہ نے بھی روایت کی ہے )بطریق ابن لہیعہ محمد بن عمر واقدی  راوی ہے 
اور واقدی کی روایت میں ائمہ جرح وتعدیل کا بہت سخت کلام ہے جو ہم نیچے پیش کررہے ہیں ۔
لہذا یہ سند بالکل بیکار ہے اس سے سنیت جیسے کسی مسئلے کا ثبوت مشکل ہے ۔
محمد بن عمر واقدی
——————
امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ الکبیر جلد 1 ص: 178 میں فرمایا: معمر اور مالک سے روایت نقل کرنے والے، بغداد کے قاضی محمد بن عمر واقدی کے تئیں محدثین نے سکوت اختیار کیا ہے، احمد اور ابن نمیر نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ ان کا انتقال 207 یا اس کے تھوڑے عرصہ بعد ہوا۔ (ملاحظہ ہو الضعفاء الصغير ص: 109)
ابن ابی حاتم (متوفی 327) نے کتاب الجرح والتعدیل جلد :8 ص: 20 میں فرمایا: ابو عبداللہ محمد بن عمر محمد واقدی اسلمی قاضی، بنو سہم کے مولی ہیں، بغداد میں عہدہ قضا پر متمکن رہے اور وہیں وفات ہوئی۔ معمر، ابن ابی ذئب، مالک، اوزاعی اور ثوری سے روایت کی۔ اور محمد بن عمر واقدی سے ابوبکر بن شیبہ اور یحیی بن ابی الخصیب نے روایت کی ہے۔ میں نے اپنے والد کو ایسا کہتے ہوئے سنا۔
ابو محمد کہتے ہیں: واقدی سے حامد بن یحیی بلخی، عبدالرحمن، میرے والد ، معاویہ بن صالح بن ابی عبیداللہ الاشعری دمشقی نے کہا: میں نے سنید بن داؤد کو کہتے ہوئے سنا: ہم لوگ ہشیم کی خدمت میں حاضر تھے کہ واقدی کا مجلس میں آنا ہوا، ہشیم نے واقدی سے اس کی محفوظات اور یاد کردہ حدیثوں کے متعلق پوچھا، اس دوران واقدی نے اس سے کہا: ابومعاویہ آپ کی محفوظات کی تعداد کیا ہے؟ تو اس نے باب کی پانچ یا چھ مرویات کا تذکرہ کیا۔ پھر انھوں نے واقدی سے پوچھا، آخر آپ کی مرویات کتنی ہیں؟ تو واقدی نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،  صحابہ اور تابعین کی تیس احادیث کا ذکر کیا، سنید بن داود کہتے ہیں: میں نے مالک اور ابن ابی ذئب سے پوچھا تو ہشیم کا چہرہ نقل حدیث کے باب میں دروغ گوئی کی وجہ سے ناگواری سے افسردہ پایا۔ پھر واقدی مجلس سے اٹھ کر چلے گئے، ہشیم نے فرمایا: اگر یہ جھوٹا ہے تو دنیا میں اس کے جیسا کوئی جھوٹا نہیں ہے اور اگر سچا ہے تو پوری دنیا میں اس کا کوئی ہم پلہ نہیں۔
یونس بن عبدالاعلی کہتے ہیں: مجھے امام شافعی نے بتایا: واقدی کی کتابیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ( الجرح والتعديل:8/ 92) 
احمد بن حنبل کہتے ہیں: واقدی حدیثوں کو بیان کرتے ہوئے قلب کیا کرتے تھے۔ اسحاق بن راھویہ کہتے ہیں: واقدی میرے نزدیک خود ساختہ حدیث بیان کرنے والوں کے زمرے میں ہے۔ یحیی بن معین کہتے ہیں: واقدی سے حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی؛ کیوں کہ وہ معدوم کے درجے میں ہیں۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے محمد بن عمر واقدی کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: وہ حدیث کے باب میں  متروک ہے۔
یحیی بن معین کہتے ہیں: ہمیں واقدی کی روایت کردہ حدیثوں میں غور و فکر سے معلوم ہوا کہ اس کی حدیث بسند مدنیین نا معلوم شیوخ سے منکر ہیں۔ ہم نے کہا: ممکن ہے وہ منکر احادیث واقدی کی جانب سے ہوں اور اس کا بھی امکان ہے کہ وہ احادیث  مجھول شیوخ کی ہوں۔ پھر ہم نے واقدی کی ابن ابی ذئب اور معمر سے روایت کے متعلق تحقیق کی تو پتا چلا کہ ان کی حدیثیں ٹھیک ہیں، پھر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں شیوخ سے منکر روایتیں بیان کی ہوئی ہیں بعد میں معلوم ہوا کہ منکر احادیث اسی کی ہیں اس لیے ہم نے واقدی کی روایت کردہ حدیثیں چھوڑ دی ہیں۔
عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے ابو زرعہ سے محمد بن عمر واقدی کے متعلق پوچھا، تو انھوں نے فرمایا: وہ ضعیف ہے۔ میں نے پوچھا اس سے حدیثیں لکھی جاسکتی ہیں؟ فرمایا: مجھے اس پر اعتبار پسند نہیں ہے،  لوگوں نے اس سے احادیث کی روایت ترک کی ہوئی ہیں۔ 
محمد بن عمر واقدی کے متعلق امام نسائی (متوفی: 303) نے اپنی کتاب الضعفاء والمتروكين ص: 233 میں فرمایا: محمد بن عمر واقدی متروک الحدیث ہے۔
ابو العرب نے امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں سات لوگ ایسے تھے جو خود ساختہ سند تیار کرتے تھے ان میں ایک نام واقدی کا ہے۔
   امام نسائی نے الضعفاء والمتروكين میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹی احادیث نقل کرنے والے مشہور چار لوگ ہیں: مدینہ منورہ میں واقدی، خراسان میں مقاتل، شام میں محمد بن سعید مصلوب اور چوتھے بھی ذکر کیا۔ 
ابن عدی کہتے ہیں: واقدی کی احادیث نا محفوظ ہیں، یہ آفت اسی کی پیدا کردہ ہے۔
ابن مدینی کہتے ہیں: واقدی کے پاس بیس ہزار بے اصل حدیثیں ہیں۔ ایک دیگر مقام پر ابن مدینی نے کہا: واقدی نقل روایت کا اہل نہیں ہے، ابراہیم بن ابی یحیی بھی دروغ گو ہے مگر میرے نزدیک واقدی سے بہتر ہے۔
 امام ابو داؤد کہتے ہیں: میں واقدی کی احادیث لکھتا ہوں اور نہ اس سے احادیث روایت کرتا ہوں، بلاشبہ وہ حدیث وضع کرنے والوں میں ہے، کتاب میں غور و فکر سے واقدی کا حال ظاہر ہے۔ واقدی نے یمن کی فتح مندی اور اسود عنسی کے متعلق امام زھری سے غلط روایتیں نقل کیں۔ بندار کہتے ہیں: میری نظر میں واقدی سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں۔ 
ابو بشر دولابی اور عقیلی نے نے واقدی کو متروک الحدیث بتایا۔
علامہ نووی نے شرح المھذب کی کتاب الغسل میں واقدی کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق نقل کیا ہے۔ (366- 368/9) 
علامہ ذہبی نے بھی المیزان میں واقدی کے کمزور ہونے پر اجماع ذکر کیا ہے۔ ہمارے بعض مشائخ نے واقدی کی ناپختہ باتوں پر گرفت کی ہے۔
دار قطنی کہتے ہیں: واقدی کا کمزور ہونا اس کی حدیثوں سے ظاہر ہے۔ (السنن: 164/2، 192، 212).
الضعفاء والمتروكين میں واقدی کو مختلف فیہ راوی بتایا گیا ہے، نیز اس کی احادیث سے ضعیف ہونا آشکارا ہے۔ (الترجمة: 477) 
جوزجانی کہتے ہیں: واقدی حدیثوں کے متعلق اطمینان بخش انسان نہیں تھا۔ (أحوال الترجمة، الترجمة 228) 
ابو زرعہ نے واقدی کا تذکرہ اپنی کتاب أسامي الضعفاء میں کیا ہے۔ (أبو زرعة الرازي:  656)
ابن حبان نے المجروحين  میں ذکر کیا ہے کہ واقدی، ثقہ راویوں سے مقلوب اور معضل احادیث نقل کرتا تھا، بسا اوقات بالقصد جان بوجھ کر احادیث میں قلب کرتا تھا؛ اسی لیے امام احمد بن حنبل اس کو کذاب قرار دیتے تھے۔ (290/2)
ابن عدی نے الکامل میں متعدد احادیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا: میری املا کردہ یہ حدیثیں واقدی کی ہیں، جن کا میں نے تذکرہ نہیں کیا ہے۔ یہ ساری حدیثیں محفوظ نہیں ہیں۔ جن ثقہ اور معتبر راویوں سے واقدی یہ احادیث نقل کررہے ہیں ان سے یہ احادیث واقدی کے علاوہ کسی دوسرے راوی سے محفوظ نہیں ہیں، یہ فتنہ واقدی کا جنم دیا ہوا ہے، واقدی کے احادیث کی متون محفوظ نہیں ہیں۔ وہ مکمل ضعیف راوی ہے۔ (الکامل/ الورقة: 85)
بزار کہتے ہیں: واقدی کے متعلق لوگوں نے کلام کیا ہے، اس کی احادیث منکر ہیں۔ (کشف الأستار: 356، 1026) 
 خطیب نے اپنی تاریخ میں عباس بن عبدالعظیم عنبری کے حوالے سے لکھا ہے: واقدی میرے نزدیک عبدالرزاق سے اچھا ہے۔ (11/3)
آجری سے منقول ہے: ابو داؤد سلیمان بن الاشعث سے  کسی نے واقدی کی بابت پوچھا: فرمایا: میں اس کی احادیث نہیں لکھتا ہوں (15/3)
امام ذہبی نے فرمایا: واقدی بالاتفاق متروک الحدیث ہے۔ (المغني :2/ الترجمة 5861) 
ابن الجوزی نے ابو حاتم کے حوالے سے واقدی کو وضاع بتایا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
-------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post_19.html


Monday, 1 July 2019

کیا بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک جاتی ہے؟

کیا بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک جاتی ہے؟

نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک جاتی ہے: چالیس گھر دائیں جانب، چالیس گھر بائیں جانب، چالیس گھر آگے کی جانب اور چالیس گھر پیچھے کی جانب. کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب 
بسم الله الرحمن الرحيم
روایت: ’’نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بے نمازی کی نحويت چالیس گھروں تک  جاتی ہے: چالیس گھر دائیں جانب، چالیس گھر بائیں جانب، چالیس گھر آگے کی جانب اور چالیس گھر پیچھے کی جانب‘‘۔
روایت کا حکم
تلاش بسیار کے باوجود مذکورہ روایت سند ًا تا حال ہمیں کہیں نہیں مل سکی، اور جبتک اسکی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ صلى الله عليہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم کی جانب صرف ایسا کلام وواقعہ ہی
منسوب کیا جاسکتا ہے جو معتبرسند سے ثابت هو،
واللہ اعلم۔
-----------------------------------------
ائمہ حضرات بکثرت اپنے بیانات میں یہ فرماتے ہیں کہ "حدیث میں آیا ہے کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گاؤں پر پڑتی ہے، کیا یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع؟ اس کی تحقیق و تخریج مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

”بے نمازی کی نحوست چالیس گاوٴں پر پڑتی ہے“ ایسی کوئی ورایت ہمیں نہیں ملی، جو حضرات اسکو بیان کرتے ہیں ان سے اس کا حوالہ دریافت کریں، اگرحوالہ معلوم ہوجائے تو اس کی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ روایت کس درجہ کی ہے۔



توحید کو ثابت کرنے کے لیے احد اور واحد میں فرق واضح کریں

توحید کو ثابت کرنے کے لیے احد اور واحد میں فرق واضح کریں

امتحان میں ایک سوال آیا ہے توحید کو ثابت کرنے کے لیے احد اور واحد میں فرق واضح کریں.اس کا جواب مطلوب ہے.

الجواب وباللہ التوفیق:
واحد جو تقسیم ہوجاۓ اور احد کے معنی یکتا ہے.
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
ترجمہ مکہ ترجمہ تیسیر القرآن ترجمہ تیسیر الرحمان ترجمہ ترجمان القرآن ترجمہ سراج البیان ترجمہ فہم القرآن ترجمہ عبد السلام بھٹوی
آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے
تفسیر مکہتفسیر تیسیر القرآنتفسیر تیسیر الرحمٰنتفسیر ترجمان القرآنتفسیر فہم القرآنتفسیر سراج البیانتفسیر ابن کثیرتفسیر سعدیتفسیر ثنائیتفسیر اشرف الحواشی
فہم القرآن ربط سورت: الاخلاص سے پہلے سورت اللّہب ہے جس میں توحید کے مخالفین میں سے ایک بڑے مخالف کی ہلاکت و بربادی کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ بالآخر دعوت توحید کے مخالف مٹ جائیں گے اور توحید خالص کا پرچار اور غلغلہ ہوگا۔ مفسرین نے اس سورت کے اور بھی نام تحریر فرمائے ہیں لیکن اس کا سب سے مشہور اور معتبر نام ”الاخلاص“ ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد اور قرآن کی مرکزی دعوت توحید ہے اسی لیے قرآن مجید کا آغاز فاتحہ سے ہوا جس کی ابتداء توحید سے کی گئی ہے اور قرآن مجید کا اختتام بھی توحید کی سورتوں سے کیا گیا ہے۔ اس سورت کے نزول کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قریش کے کچھ افراد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر استفسار کیا (عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَالُوا للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا مُحَمَّدُ انْسُبْ لَنَا رَبَّکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ، اللَّہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ) (رواہ احمد: مسند ابی بن کعب) ”ابو العالیہ، ابی بن کعب سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کا ایک وفد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھتا ہے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ جس رب پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں، اس کا نسب نامہ کیا ہے تاکہ ہمیں اس کی پہچان ہوجائے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے معبود پتھر، لوہے، تانبے اور مٹی وغیرہ کے بنے ہوتے ہیں، آپ کا معبود کس چیز سے بنا ہوا ہے اور اس کی شکل وصورت اور حسب نسب کیا ہے؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔“ یاد رہے کہ ہر دور کے مشرک اپنے اپنے انداز اور نظریات کے مطابق ”اللہ“ کی توحید کو ماننے اور اس کی عبادت کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن شرک میں ملوث لوگ توحید خالص کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، حالانکہ قرآن مجید اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت توحید خالص ہے جسے اس سورت میں جامع الفاظ اور کھلے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو شخص ذاتی اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر توحید خالص کو سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ اس سے واضح، مختصر اور موثر انداز کہیں نہیں پائے گا۔ اس سورت میں توحید خالص بیان کرنے کے ساتھ ہرقسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے، اس لیے اس سورت کا نام سورت الاخلا ص رکھا گیا۔ توحید کی عظمت کے پیش نظر سورۃ الاخلاص اس قدر عظیم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تلاوت کو دس پاروں کی تلاوت کے برابر قرار دیا ہے: (عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَےَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَأَ فِیْ لَےْلَۃٍ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ قَالُوْا وَکَےْفَ ےَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ قَالَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ یَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ) (رواہ مسلم: باب فضل قراء ۃ سورۃ الاخلاص) ” حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں ایک تہائی قرآن تلاوت کرسکتا ہے؟ صحابہ (رض) نے عرض کی کہ ایک رات میں قرآن کا تیسرا حصہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ“ کی تلاوت کرنا ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔“ یاد رہے کہ صحابہ کرام (رض) کی اکثریت قرآن مجیدکی تلاوت صرف ثواب کے طور پر نہیں بلکہ غورفکر کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے اس لیے انہوں نے عرض کی کہ ایک رات میں دس پارے پڑھنے مشکل ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سورت اخلاص کے ساتھ محبت۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ مَا أُحْصِی مَا سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلاَۃِ الفَجْرِ بِ (قُلْ یَا أَیُّہَا الکَافِرُونَ) وَ (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ).(رواہ الترمذی، بَابُ مَا جَاءَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَالقِرَاءَ ۃِ فیہِمَا) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں شمار نہیں کرسکتا میں نے کتنی مربتہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب اور فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ اس سورت میں توحید کی تمام اقسام بیان کی گئی ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانا۔ باقی مسائل اور احکام انہی عنوانات کا تقاضا اور تفصیل ہیں۔ فہم القرآن میں لفظِ ”قُلْ“ کی تفسیر میں یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید اہم مسائل اور احکام بیان کرتے ہوئے لفظِ ”قُلْ“ سے آغاز کرتا ہے تاکہ سننے والے کو مسئلے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا احساس ہوجائے۔ لفظِ قل میں یہ مفہوم واضح ہے کہ توحید کا پرچار کسی خوف کے بغیر کرنا چاہیے، بصورت دیگر اس کے ابلاغ کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ارشاد ہوا کہ آپ اعلان کریں کہ وہ ”اللہ“ ایک ہے عربی زبان میں ”ھُوَ“ کی ضمیر (Pronoun) دور کے لیے استعمال ہوتی ہے یہاں اس کے استعمال کے تین بڑے مفہوم سمجھ آتے ہیں۔ 
١۔ اہل مکہ اور ہر دور کے مشرک مشکل ترین وقت میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے اور اسے ہی پکارتے تھے، اس لیے ”ھُوَ“ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے کہ وہ ”اللہ“ جسے تم بھی مشکل کے وقت ایک مانتے اور پکارتے ہو وہ اپنی ذات، صفات اور الوہیت کے اعتبار سے ایک ہے۔ 
٢۔ جس ”اللہ“ کا تعارف چاہتے ہو وہ اپنی ذات، صفات اور الوہیت میں اکیلا ہے۔ 
٣۔ ”ھُوَ“ لاکر ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ موجود نہیں بلکہ وہ اپنی شان کے مطابق عرش معلی پر جلوہ افروز ہے۔ (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (طٰہٰ: ٥) ” وہ رحمٰن عرش پر مستویٰ ہے۔“ اسم اللہ کی جلالت ”اللہ“ کا نام صرف اور صرف ذات کبریا کے لیے زیبا اور اس کے لیے مختص ہے۔ یہ ذات کبریا کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ ہے کہ کائنات میں انتہادرجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں، جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ”اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰٰی“ کہلوانے والا بھی ہوا ہے، مگر اس نام کی ہیبت و جلالت کی وجہ سے کوئی بھی اپنے آپ کو ”اللہ“ کہلوانے کی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکے کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن وہ ان کو ” اللہ“ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ ”اللہ“ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے یہ اسم مبارک اپنے آپ میں ربوبیّت، الوہیّت، مالکیت، جلالت وصمدیت، رحمن ورحیم کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں ”اللہ“ کا نام 2697 مرتبہ آیا ہے اور ہر مرتبہ الگ انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور عبادت کی ترجمانی کرتا ہے۔ ”اللّٰہُ اَحَدٌ“ اللہ ایک ہے اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ایک ہے۔ اس کی ذات، اسماء وصفات اور عبادت میں کوئی شریک نہیں گویا کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ایک ہونے کے ساتھ اپنے حق عبادت میں بھی ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ”اَللّٰہُ اَحَدٌ“ میں ہر قسم کی توحید پائی جاتی ہے اور اس سے ہر قسم کے شرک کی نفی ہوتی ہے۔ کچھ مفسرین نے احد اور واحد کے استعمال میں فرق بیان کیا ہے۔ ایک مفسر کا خیال ہے کہ ”اللہ“ کی ذات کے لیے احد کی صفت لائی گئی ہے اور اس کی صفات کے لیے واحد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مفسرکا خیال ہے کہ احد کا معنٰی لاثانی، بے مثال اور یکتا ہے۔ اس لحاظ سے اس لفظ کا استعمال صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کا فرمان ہے کہ گنتی میں ایک، دو، تین، چار اور پانچ کے لیے واحد، اثنین، ثلاثہ، اربعہ اور خمسہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ گنتی میں احد کی بجائے واحد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ واحد استعمال کرنے کی بجائے احد (اکیلا) استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اور اکیلے کے الفاظ میں لطیف سا فرق پایا جاتا ہے لیکن اردو اور عربی ادب سے آشنا لوگ جانتے ہیں کہ اردو زبان میں احد اور اکیلا ایک دوسرے کے ہم معنٰی ہیں اور عربی زبان میں معمولی سے فرق کے سوا احد اور واحد ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں البتہ جب کسی شخص کو دوسرے سے الگ بیان کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے اکیلے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر احد اور واحد میں کوئی فرق نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ذات کے بارے میں احد اور واحد دونوں الفاظ استعمال فرمائے ہیں: (قُلْ اِِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌ وَّمَا مِنْ اِِلٰہٍ اِِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ) (ص : ٦٥) ” اے نبی ان سے فرمادیں کہ میں تو بس خبردار کردینے والاہوں ” اللہ“ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ (وَ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ) (البقرۃ: ١٦٣) ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔“ ذات باری تعالیٰ کے بارے میں ایرانیوں کا نظریہ : نزول اسلام کے وقت ایرانی ایک کی بجائے دو خدا مانتے اور پکارتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خیر و برکت نازل کرنے اور عزت دینے والا خدا یزداں ہے، شر اور نقصان دینے والا اہرمن ہے۔ قرآن مجید اس نظریے کی تردید کرتا ہے : (وَ قَال اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰہَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاِیَّایَ فَارْہَبُوْنِ) (النحل : ٥١) ”اور اللہ نے فرمایا دو معبود نہ بناؤ وہ صرف ایک ہی معبود ہے، پس صرف مجھ ہی سے ڈرو۔“ اہل مکہ کئی الہٰوں کے قائل تھے: (اَجَعَلَ الْآلِہَۃَ اِِلٰہًا وَاحِدًا اِِنَّ ہٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلاُ مِنْہُمْ اَنْ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰی آلِہَتِکُمْ اِِنَّ ہٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْآخِرَۃِ اِِنْ ہٰذَا اِِلَّا اخْتِلَاقٌ) (ص : ٧ تا ٥) ”کیا اس نے تمام معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنالیا ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ قوم کے سرداریہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے کہ لوگوں کو سمجھاؤ کہ اپنے معبودوں پر قائم رہو یہ بات تو کسی اور ہی مقصد کے لیے کہی جا رہی ہے۔ یہ بات ہم نے پہلے زمانہ میں کسی سے نہیں سنی یہ تو ایک بناوٹی بات ہے۔“
https://saagartimes.blogspot.com/2019/07/blog-post.html