Monday, 4 January 2016

'ہم بے حیا قوم ہیں'

ایس اے ساگر

بے حیائی عورت سے اسکی عزت و عظمت اور مرد سے غیرت چھین لیتی ہے ، اور جب کسی قوم میں غیرت نہیں رہتی تو وہ قوم تباہ برباد ہو جاتی ہے ۔ ان دنوں سماجی روابط کی سائٹس پر ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے:
الجزیرہ عربی کے پروگرام 'اتجاہ معاکس' کے اینکر پرسن ڈاکٹر فیصل قاسم نے کہا ہے کہ :
عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے 'ہم بے حیا قوم ہیں' مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے:
شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟
حسین (رضی اللہ عنہ )کو عراق بھلا کر کربلا میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کیخلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کیخلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کو گالیاں دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین (رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو (رحمہ اللہ )کیخلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین کہہ رہا ہے !

مظلوم کی بددعا Curse of Oppressed

ایس اے ساگر

اتق دعوة المظلوم فإنها ليس بينها وبين الله حجاب
Be afraid from the curse of the oppressed as there is no screen between his invocation and Allah.
مظلوم کی بد دعا سے بچو، اس لئے کہ اس کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
[Sahih Al-Bukhari, the Book of Al-Mazalim, Hadith: 2448]

Surat Al-'Ankabut
(The Spider) 29
In the
Name of Allah, the Most gracious the Most Merciful.
1. Alif-Lam-Mim. [These are one of the miracles of the Qur`an and none but Allah (alone) knows their meanings.]
2. Do people think that they will be left alone because they say: " We believe," and will not be tested.
3. And We indeed tested those who were before them. And Allah will certainly make (it) known (the truth of) those who are true, and will certainly make (it) known (the falsehood of) those who are liars, (although Allah knows all that before putting them to test).
4. Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us (i.e. escape Our punishment)? Evil is that which they judge!
5. Whoever hopes for the Meeting with Allah, then Allah's Term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.
6. And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the `Alamin (mankind, jinn, and all that exists).
7. Those who believe [in the Oneness of Allah (Monotheism) and in Messenger Muhammad *Peace Be Upon Him*), and do not give up their Faith because of the harm they receive from the polytheists], and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and shall reward them according to the best of that which they used to do.
8. And We have enjoined on man to be good and dutiful to his parents; but if they strive to make you join with Me (in worship) anything (as a partner) of which you have no knowledge, then obey them not. Unto Me is your return and I shall tell you what you used to do.
9. And for those who believe (in the Oneness of Allah and the other articles of Faith) and do righteous good deeds, surely, We shall make them enter with (in the entrance of) the righteous (in paradise).
10. Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for the sake of Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment; and if victory comes from your Lord, (the hypocrites) will say: "Verily, we were with you (helping you)." Is not Allah Best Aware of what is in the breast of the 'Alamin (mankind and jinn)?
11. Verily, Allah knows those who believe, and verily, He knows the hypocrites (i.e. Allah will test the people with good and hard days to discriminate the good from the wicked, although Allah knows all that before putting them to test).
12. And those who disbelieve say to those who believe: "Follow our way and we will, verily, bear your sins." Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.
13. And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.

S. A. Sagar

Sunday, 3 January 2016

منی پور اور بہار میں زلزلہ

(ساگر ٹائمز )میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب شمالی ہند کی ریاست منی پور میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ تھی۔ زلزلے کا مرکز منی پور کے علاقے امفال میں سے 29 کلومیٹر دور تھا۔ مقامی وقت کے مطابق زلزلہ صبح چار بجکر 35 منٹ پر پیش آیا۔
زلزلے کے نتیجہ میں ایک شخص کے ہلاک ہونے جبکہ 50 افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے تاہم مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار سلمان سعید کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے نتیجے میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔                                                   
دریں اثناء شاھنوازبدر کےمطابق چاربجکرچالیس منٹ پر بہارکےمختلف اضلاع میں زلزلہ  کےزوردارجھٹکے محسوس کئے گے تاہم اب تک کوئی جانی ومالی نقصانات کی خبرنہیں ہے. سہرسہ اورکشن گنج سے اس خبرکی تصدیق ہوچکی ہے. زلزلہ کی خبرسے لوگوں میں ایک مرتبہ پھر دہشت کاماحول پیداہوگیاہے-

BBC Urdu | بھارتی ریاست منی پور میں زلزلہ - http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160103_india_earth_quake_hk?ocid=wsurdu.chat-apps.in-app-msg.whatsapp.trial.link1_.auin

ترقی کا دھوکہ

ایس اے ساگر

اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو پگڑی پہنا کے ابھی ہفتہ بھر بھی نہیں گذرا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے طوفانی دورہ پر خجالت کا سامنا ہے. شاید اسی کو دور کرنے کیلئے انھوں نے  پٹھان کوٹ میں حملہ کے پس پشت ان 'طاقتوں' پر ٹھیکرا پھوڑا ہے جنھیں ہندوستان کی 'ترقی' سے 'پریشانی' ہورہی ہے.

ناکامی چھپانے کی کوشش ؟

مودی نے وزیرِ اعظم بننے کے بعد محض ڈیڑھ برس کی مدت میں جتنے ممالک کے دورے کئے ہیں، شاید ہی ملک کے کسی اور وزیر اعظم نے کبھی کئے ہوں ۔ مبصرین کے نذدیک جتنے کم وقفے میں وہ غیر ممالک کے دورے کرتے ہیں اس سے ان کی توانائی اور ذہنی چستی کا بھی پتہ جلتا ہے۔ گذشتہ برس میں موصوف نے بیرونی ممالک سے تعلقات میں یقیناً بڑی پیش رفت کی ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ملک کے اندر مودی کی مجموعی کارکردگی ان کے مخالفین کیلئے ہی نہیں ان کے حامیوں کیلئے بھی مایوس کن رہی ہے۔ مودی نے بڑے بڑے وعدوں کیساتھ عوام کی پہلے سے ہی بے چین تمناؤں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔

مایوس کن کارکردگی :

گزرے ہوئے ایک برس میں مودی حکومت کسی بھی محاذ پر ایک بھی ایسا کام نہیں کر سکی جسے وہ عام آدمی کے سامنے اپنی کارکردگی کےطور پر پیش کر سکے۔ معیشت سست روی کا شکار ہے۔ حکومت اور نجی کمپنیاں ملازمتوں کے مواقع فراہم میں ناکام رہی ہیں۔ کھانے پینے اور ضروی اشیا کی قیمتوں میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے بیشتر شعبے کساد بازاری اور مایوسی کا شکار ہیں۔ صنعت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کو مودی حکومت کے آنے سے جو بڑی امیدیں بندھی تھیں وہ اب ٹوٹنے لگی ہیں۔

دلی کے بعد بہار میں فضیحت :

سیاسی سطح پر مودی کو دلی کے بعد بہار میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مودی کی ذاتی شکست تھی .دنیا جانتی ہے کہ انھوں نے نتیش کمار کو وقار کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ رواں برس کئی ریاستوں میں انتخابات ہونےوالےہیں ۔ بی جے پی بہار کے انتخابات سے قبل جتنے خم ٹھونکے گئے ،پر اعتمادی اور جوش کا مظاہرہ کیا گیا، وہ تیور اب کہیں نظر نہیں آتے۔ گزرا ہوا برس ملک میں ہر طرح کی عدم رواداری کیلئے بھی یاد کیا جائے گا۔ 2015 اس لئے بھی یاد کیا جائے گا کہ مودی حکومت، اس کے حامیوں اور میڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود ملک کے اعتدال پسندوں نے عدم رواداری کی طاقتوں کو جھکنے کیلئے مجبور کیا۔

نفرت کی سیاست :

منافرت اور عدم رواداری کی طاقتیں بری طرح پسپا ہوئی ہیں لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنا سر اٹھاتی رہتی ہیں۔ نیا برس مودی حکومت کی امبیج کو بہتر کرنے کیلئے آخری موقع ہو گا۔ ڈیڑھ برس میں مودی نے صرف کچھ نعرے جاری  کئے ہیں اور تقاریر کا انبار ، لیکن اس کا کیا کیجئے کہ زمین پر کچھ بدلتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔ کئی معنوں میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوئے ہیں۔لوگ اب نعروں اور تقاریر سے بیزار ہونے لگے ہیں۔

بے نقاب ہوئی بدعنوانی :

فروری میں ملک کا نیا بجٹ پیش ہونے والا ہے۔ اس بجٹ سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ حکومت کس طرف جا رہی ہے ؟ مودی کے مستقبل کی سیاست کیلئے یہ بجٹ انتہائی اہم ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی جو اس وقت اپنا بیشتر وقت بجٹ کی تیاریوں پر صرف کرتے ہیں، وہ دلی کے وزیرِ اعلی کیجریوال کی جانب سے عائد کردہ بد عنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ دلی کے متمول طبقے کی سیاست کرنے والے جیٹلی کی شبیہ بد عنوانی کے الزامات سے بری طرح مجروح ہوئی ہے۔

نکل گئی ہوا!

گزرا ہوا برس مودی کیلئے کافی پریشان اور مایوس کن رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا وہ تیکھا تیور بھی کمزور پڑ چکا ہے جو ان کےلب و لہجے کا خاصا ہوا کرتا تھا۔ حکومت کے بعض حالیہ اقدامات سے پتہ چلتا ہےکہ وزیر اعظم خود بھی اپنی حکومت کی کارکردگی سےمطمئن نہیں ہیں۔ اگر وہ نئے برس میں بھی خود کو ایک بہتر حکومت کے طور پر نہ پیش کر سکے تو پارٹی کے اندر ان کے مخالفین اور ہندوتوا کی وہ طاقتیں غالب ہونا شروع کردیں گی جو ابھی تک مودی کے ترقی کے ایجنڈے کے نیچے خاموش بھیٹھی ہوئی ہیں۔ رواں سال مودی کیلئے بہت چیلنجز بھرا ہوا سال ہو گا۔

تین نصیحتیں

آج بتاریخ ۱۷ ریبع الاول ۱۴۳۷ مطابق ۲۹ دسمبر ۲۰۱۵ کو جامعہ کھیروا کی مسجد صفیہ میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا صاحب، نوراللہ مرقدہ کے خلیفہ اجل و حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی مفتی اعظم ،رفع اللہ درجاتہ کے خادم خاص حضرت اقدس مولانا محمد ابراہیم صاحب افریقی دامت برکاتھم العالیہ کی بیش قیمت نصائح سننے کا موقع ملا. مختصرا یہ کہ حضرت والا نے حمدو ثناکے بعد اپنا کلام ایک واقعہ سے شروع فرمایاکہ
ایک جگہ میاں بیوی رہا کرتے تھے تنگ دستی کا عالم تھا غربت کی بناء پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا حالات سے دوچار ہوکر شوہر نے بیوی کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ میں چند سالوں کے لئے کسب حلال کے لئے کہیں باہر چلاجاتاہوں جب دو پیسے ہاتھ آجائیگے تو واپسی کا رخ کرلونگا پھر اس جمع پونجی سے اپنا مکان بناکر آرام سے زندگی بسر کریں گے،مگر شرط یہ کہ آپ میری غیر موجودگی میں کوئ خیانت نہیں کرینگی اور میں بھی کوئ خیانت نہیں کرونگا؛
بیوی نے کہا تجویز تو بڑی عمدہ ہے اور میں اپنے وعدہ پر ان شاء اللہ قائم رہونگی چلو اللہ کا نام لیکر جو ارادہ کیا ہے کر گزریے
خیر؛  وہ میاں صاحب سفر پر روانہ ہو گئے دوران سفر ایک جگہ دیکھا کہ کچھ کسان کام کر رہے ہیں ان کے مالک سے ملاقات کی اور کہا کہ مجھے کام کی تلاش ہے میں آپ کے یہاں کام کرلونگا اور آپ مجھے مزدوری اس وقت دے دینا جب گھر جاؤں،
مالک نے کہا،جیسی آپکی مرضی:
وہ شخص اپنا کام کرتا رہا یہاں تک کہ بیس برس کا عرصہ گزر گیا، ایک دن اس شخص نے مالک سے کہا کہ میں اب گھر جانا چاہتا ہوں اب آپ مجھے بیس سال کی محنت کے روپے دے دیجئے؛  مالک نے کہا کہ دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کر لو
(۱)بیس سال کی مزدوری کےروپے لیلو
(۲) نصیحت سن لو
وہ شخص ہوشیار اور عقلمند تھا اس نے سوچا کہ روپے تو راستہ میں کہیں چوری بھی ہو سکتے ہیں مگر نصیحت ایسی چیز ہے جو کبھی چوری نہیں ہو سکتی اور ہمیشہ کام آتی ہے، اس نے کہا کہ جناب نصیحت کر دیجئے،
اس مالک نے اس کو ۳ نصیحتیں کی
۱ ہمیشہ معروف راستہ ہی اختیار کرنا کبھی بھی مختصر اور شورٹ کٹ راستہ اختیار مت کرنا
۲ کبھی بھی دوسرے کے کام میں دخل مت دینا کسی کا جھگڑا اپنے سر مت لینا
۳ غصے میں کبھی کوئ فیصلہ مت کرنا
خیر؛  وہ شخص شرط کے مطابق پیسے نہ لیکر صرف نصیحت پر اکتفاء کر کے چلنے لگا تو مالک نے اس کو تین روٹیاں دی اور کہا کہ پہلی روٹی فلا جگہ جاکر کھا لینا دوسری فلاں جگہ اور تیسری گھر  بیوی کے ساتھ بیٹھ کر
وہ آدمی گھر کیلئے روانہ ہوا راستہ میں کچھ لوگ ملے ،پوچھا،
صاحب کہاں کا ارادہ ہے؟
کہا، کہ فلاں جگہ اپنے گھر جا رہا ہوں
اُن لوگوں نے کہا کہ اس راستہ سے ہمارے ساتھ چلے آئیں یہ مختصر ہے جلدی پہنچ جائیگے
وہ صاحب ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے پھراچانک پہلی نصیحت یاد آئی کہ معروف راستہ کو چھوڑکر مختصر اور شارٹ کٹ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے وہ الٹے پاؤں واپس معروف راستہ پر آ گئے بعد میں پتہ چلا کہ وہ چور اور ڈاکو تھے اور وہ راستہ جنگل میں جاتا تھا جہاں وہ سامان چوری کر کے انسان کو مار ڈالتے ہیں اس نے اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ نے اس کی حفاظت فرمائی،
پھر روانہ ہوا اور چلتے چلتے اس نے رات کو ایک ہوٹل میں قیام کیا اندھیری رات میں باہر شور و شغب سا سنائی دیا سوچا کہ اٹھ کر دیکھتے کہ باہر کیا ماجرا ہے مگر پھر اس کو دوسری نصیحت یاد آئی کہ دوسرے کا جھگڑا اپنے سر مول نہیں لینا چاہئے، صبح کو ہوٹل کے مالک نے دریافت کیا رات کو کوئی شور سنائی نہیں دیا؟ 
اس نے کہا، دیا تو تھا مگرمیں نے سوچا دوسروں کے جھگڑے میں میں کیوں پڑوں،
ہوٹل کے مالک نے کہا،
بہت اچھا کیا جو تم وہاں نہیں گئے، وہ میرا پڑوسی ہے بڑا ہی کمینہ انسان ہے رات کو اس طرح شور مچاتا ہے اور جو وہاں جاتا ہے اس کو قتل کر کے اس کا سامان روپے پیسے سب لوٹ لیتا ہے.
اس آدمی نے پھر اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ نے پھر اس کی جان بچائی،
پھراپنی منزل مقصود کی اور روانہ ہوا دیر رات گھر پہونچا تو اچانک اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی ایک نو جوان کے سر میں بڑے پیار سے  ہاتھ  پھیر رہی ہے وہ غصہ سے پاگل ہو گیا اور ارادہ کیا کہ اس نوجوان اور اپنی بیوی دونوں کی گردن مار دے مگر پھر اس کو تیسری نصیحت یاد آئی کہ غصہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے.
رات کوکہیں باہر ہی سو گیا، صبح کو دروازہ کھٹکھٹایا بیوی نے دروازہ کھولا بڑی خوش ہوئی مارے خوشی کے بوسہ دینا چاہا اور گلے لگانا چاہا مگر میاں ہیں کہ منہ بنائے بیوی کو اپنے سے دور کئے جا رہے ہیں. بیوی نے کہا کہ آپ اتنے عرصہ بعد آئے ہیں اور ایسی بے رخی برت رہیں ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس نے کہا کہ میں نے جاتے وقت ایک شرط لگائی تھی میری غیر موجودگی میں تم کوئی خیانت نہیں کروگی مگر میں نے رات میں تمہیں ایک نو جوان کیساتھ دیکھا وہ کیا معاملہ ہے؟
بیوی نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا آپ پہلے بیٹھئے ناشتہ کیجئے پھر آپ کو پوری بات بتلاتی ہوں. دسترخوان لگا ناشتہ کرنے  لگے پھر بیوی نے  بتلایا کہ جس وقت آپ یہاں سے گئے اس وقت میں حمل سے تھی یہ وہی بچہ ہے جو آج بیس سال کا جوان ہو گیا ہے.
اس شخص نے پھر اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ نے اس کو اپنے بیوی بچے کے قتل سے روک کر گناہ گار ہونے سے بچا لیا. ناشتہ کرتے کرتے اس کو یاد آیا کہ اس کے مالک نے کہا تھا کہ تیسری روٹی گھر بیوی کیساتھ کھانا اس نے وہ روٹی اپنے توشہ دان سے نکالی جب اس کو کھولا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ اسمیں تو اشرفیاں ہیں.
اس کے بعد اس نے اپنا سارا معاملہ سنایا کہ میری بیس سال کی ساری پونچی تو اصل تین نصیحتیں تھیں جن پر عمل کرنے کی وجہ سے آج میں زندہ ہوں اور یہ اشرفیاں بھی آپ کے قدموں میں ...
ایک واقعہ حضرت نے اور سنایا تھا مگر طوالت کی بناء پر اس کو معرض تحریر میں لانے سے قاصر ہوں
خلاصہ یہ  ہیکہ ہمیشہ بڑوں کی نصیحتوں پر عمل کرنا چاہئے اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے
راقم محمد مرسلین گردیزی

اسیر اللہ فی الارض

ایس اے ساگر

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا رہتا ہے اور عمر گذرنے کیساتھ انسان بوڑھا ہوتا چلا جاتا ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ صحیح حدیث ہے جو مسلم میں روایت ہوئی ہے کہ دنیا مومن کیلئے قید خانہ ہے اور نافرمانوں کیلئے جنت ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ دنیا واقعتاً کوئی قید خانہ ہے جس میں کسی جرم کی سزا دینے کیلئے مسلمان کو ڈال دیا گیا ہے بلکہ محض ایک تشبیہ بیان ہوئی ہے کہ ایمان والے کے ذمہ ہے کہ وہ اللہ کو اپنا خالق اور مالک تسلیم کرتے پوئے اس کے احکامات بجالائے. دنیا کو قید خانہ سے تشبیہ اس اعتبار سے بھی دی گئی ہے کہ جیسے قید خانہ کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو، اس میں قیدی کا دل نہیں لگتا بلکہ اس کا دل اسی جانب لگا رہتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا میں جائے، بالکل اسی طرح ایک صاحب ایمان کا دل اصل میں آخرت کی جانب لگا رہتا ہے اور وہ دنیا کے قیام کو بس عارضی ہی سمجھتا ہے۔ اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں اپنی ضروریات پوری کرے یا اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو ۔

نافرمان کیساتھ معاملہ :

اس کے برعکس ایسا شخص جو اللہ تعالی یا آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اس کیلئے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے جس کے ایک ایک لمحے سے وہ اپنے لئے مزہ کشید کرنا چاہتا ہے۔ اہل ایمان اس وقت کو آخرت کی تیاری پر لگاتے ہیں جسے وہ اپنی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ ہے جس کی جانب حدیث میں توجہ دلائی گئی ہے اور دنیا کو قید خانہ سے تشبیہ دی گئی ہے. کنز العمال حدیث 255-8 کے مطابق اللہ جل شانہ اپنی عظمت اور اپنے جلال کے باوجود تین قسم کے لوگوں کی عزت و تکریم کو پسند کرتا ہے،1. بوڑھا مسلمان 2. عادل حکمران 3. حامل قرآن جو نہ تو غلوسے کام لے او ر نہ ہی اس سے جفاکرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے، تین آدمیوں کو خفیف سمجھنے والا منافق ہو سکتا ہے نہ کہ مسلمان،
1. بوڑھا مسلمان،
2. عالم،
3. منصف حاکم،

عذاب الیم کی وعید :

مسلم اور نسائی شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایاکہ :
قیامت کے روز اللہ تعا لیٰ تین آدمیوں سے کلام فرمائے گا نہ انہیں پاک کرے گا نہ ان پر نظر رحمت فرمائے گا اور ان کیلئے عذاب الیم ہے۔
1. بوڑھا زانی۔
2. جھوٹا حاکم
3. تکبر کرنے والا ملازم

معقول 'پنشن یافتہ ' شخص :

لیکن اگر یہی بوڑھا اللہ کے حکموں پر چلا ہو تو اس کا زبردست اکرام ہے. بعینہ کسی سرکاری ملازم کی طرح معقول 'پنشن ' پاتا ہے. معارف القرآن، جلد اول، صفحہ نمبر 230 پر تفسیر ابن کثیر، جلد سوم، صفحہ 409، 410 کے حوالہ سے
مسند احمد کے مطابق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا اس کے نیک عمل اس کے والد یا والدین کے حساب میں لکھے جاتے ہیں. اور جو کوئی برا عمل کرے تو نہ وہ اس کے حساب میں نہ والدین کے.
پھر جب وہ بالغ ہو جاتا ہے تو قلم حساب اس کیلئے جاری ہو جاتا ہے. اور دو فرشتے جو اس کیساتھ رہنے والے ہیں ان کو حکم دے دیا جاتا ہے کہ اس کی حفاظت کریں. جب حالتِ اسلام میں چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کو تین قسم کی بیماریوں سے محفوظ فرما دیتے ہیں،
1. جنون،
2. جذام اور
3. برص
جب پچاس سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کا حساب ہلکا کر دیتے ہیں. جب ساٹھ سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دیتے ہیں.
جب ستر سال کو پہنچتا ہے تو سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں. اور جب اسی کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالٰی اسکی حسنات کو لکھتے ہیں اور سیئات کو معاف فرما دیتے ہیں،
پھر جب نوے سال عمر ہوتی ہے تو اللہ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ فرما دیتے ہیں اور اسکو اپنے گھر والوں کے حق میں شفاعت کا حق دیتے ہیں اور اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں. اور اس کا لقب
'امین اللہ'
اور
"اسیر اللہ فی الارض' یعنی اللہ کا معتمد اور زمین میں اللہ کا قیدی، ہو جاتا ہے،
کیونکہ اس عمر میں عموما ً انسان کی قوت ختم ہو جاتی ہے، کسی چیز میں لذت نہیں رہتی، قیدی کی طرح عمر گزارتا ہے. اور جب ارزل ِ عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں وہ نیک عمل برابر لکھے جاتے ہیں جو وہ اپنی صحت و قوت کے زمانے میں کیا کرتا تھا. اور اگر اس سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو وہ لکھا نہیں جاتا.

غریب فقیر کیساتھ برتاؤ :

ایک دفعہ قبیلہ بنوسُلَیم کا ایک بوڑھا ضعیف آدمی مسلمان ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کے ضروری احکام ومسائل بتائے اور پھر اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ؟
اس نے کہا: ”خدا کی قسم بنی سُلَیم کے تین ہزار آدمیوں میں سب سے زیادہ غریب اورفقیر میں ہی ہوں۔ “
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم میں سے کون اس مسکین کی مدد کرے گا؟“
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)، میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو میں اس کو دیتا ہوں“۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو اب اس کا سر ڈھانک دے ؟“
حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنا عمامہ اتارکر اس اعرابی کے سر پر رکھ دیا۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اس کی خوراک کا بندوبست کرے؟“
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو ساتھ لیا اور اس کی خوراک کا انتظام کرنے نکلے۔ چند گھروں سے دریافت کیا لیکن وہاں سے کچھ نہ ملا۔ پھر حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
پوچھا ، کون ہے؟
انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا اور التجا کی کہ ”اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اس مسکین کی خوراک کا بندوبست کیجئے “۔
آپ رضی اللہ عنہا نے آبدیدہ ہوکر فرمایا:
” اے سلمان رضی اللہ عنہ خدا کی قسم، آج ہم سب کو تیسرا فاقہ ہے۔ دونوں بچے بھوکے سوئے ہیں لیکن سائل کوخالی ہاتھ جانے نہ دوں گی۔ جاﺅ یہ میری چادر شمعون یہودی کے پاس لے جاﺅ اور کہو فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یہ چادر رکھ لو اوراس غریب انسان کو تھوڑی سی جنس دے دو۔“ سلمان رضی اللہ عنہ اعرابی کو ساتھ لے کر یہودی کے پاس پہنچے۔ اس سے تمام کیفیت بیان کی وہ حیران رہ گیا اور پھر پکار اٹھا
”اے سلمان، خد اکی قسم یہ وہی لوگ ہیں جن کی خبر توریت میں دی گئی ہے ۔ گواہ رہنا کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لایا“۔
اس کے بعد کچھ غلّہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دیا اورچادر بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دی، وہ لے کر ان کے پاس پہنچے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ہاتھ سے اناج پیسا اورجلدی سے اعرابی کیلئے روٹی پکا کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دی۔
انہوں نے کہا: ”اس میں سے کچھ بچوں کیلئے رکھ لیجئے ۔“
جواب دیا: ”سلمان جو چیز خداکی راہ میں دے چکی وہ میرے بچوں کیلئے جائز نہیں۔“
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روٹی لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ روٹی اعرابی کو دی اورفاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ۔ان کے سر پر اپنا دستِ شفقت پھیرا‘ آسمان کی طرف دیکھا اور دعاکی:
”بارِ الٰہا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تیری کنیز ہے ،اس سے راضی رہنا.

دعوت کی ذمہ داری :

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حقائق کو پوری دنیا کے سامنے کون پیش کرے، جبکہ تاریخ کے ماہرین ابن خلدون، ایڈورڈ گبن اور مارک ٹوئن کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق قوموں کا عروج و زوال بنیادی طور پر دو باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
1. علم اور
2. اخلاق
جو قوم دوسری قوموں کی نسبت علم اور اخلاق میں بہتر مقام پر کھڑی ہوتی ہے، اسے عروج مل جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ آئیڈیل اخلاق کی مالک ہو، بس اتنا ضروری ہے کہ وہ دوسری قوموں سے بہتر اخلاق رکھتی ہو۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بنیادی دعوت ہی علم اور اخلاق کی دعوت ہے۔ اللہ تعالی کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے کردار کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ اس پر جب امت عمل کرے گی تو اسے عروج حاصل ہو جائے گا۔

نہ بھولیں مقصد حیات :

کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور کی غیر قومیں اسی قانون کے تحت عروج پر ہیں۔ اگرچہ وہ قرآن و سنت کو نہیں مانتے مگر علم اور اخلاق کے معاملے میں ان کی تعلیمات پر کسی حد تک عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی مسلمانوں سے ہی سیکھی ہے ۔ اخلاقی اعتبار سے دوسری قوموں کیلئے تو وہ بہت اچھے نہیں ہیں مگر اپنی قوم کیلئے کم از کم امت مسلمہ سے زیادہ اچھے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان دوسری قوموں سے علم و اخلاق میں بہتر تھے تو دنیا میں ان کا عروج تھا اور دنیا بھر کے مسلم و غیر مسلم افراد کا ٹیلنٹ سمٹ سمٹ کر غرناطہ، بغداد، دہلی اور قاہرہ کا رخ کرتا تھا۔ اگر امت آج بھی اس صورتحال کو بہتر بنا لے تو اس کا عروج شروع ہو جائے گا۔ یہی قرآن و سنت کی دعوت ہے جس کو اختیار کرنا چاہئے۔

Saturday, 2 January 2016

4 اجزا کا مرکب ہے انسان

ایس اے ساگر

امام غزالی رحمہ اللہ نے 'کیمیائے سعادت' میں فرماتے ہیں کہ ...

انسانی فطرت چار اجزا کا مرکب ہے جس میں
1. خنزیر ،
2. کتے،
3. شطان اور
4. فرشتوں کی صفات شامل ہیں، جس کی صفات انسان پر غالب آجائیں گی وہ اس کی مثل ہوجائےگا شیطان صفت یا فرشتہ صفت ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ان کی سی عادات و صفات اپنالی جائیں ۔ خنزیر حرص و شہوت اور کتا غیظ و غضب کی علامت ہے لہذا حرص و شہوت کے خنزیر اور غیظ و غضب کے کتے کو تابع رکھو کہ یہ اس کے حکم کے بغیر نہ اٹھ سکیں اور نہ بیٹھ سکیں اگر تم ایسا کرو گے تو تمھیں نیک اخلاق حاصل ہوں گے اور تم فلاح پاسکو گے لیکن جو اس کے برخلاف ان کی غلامی کرے گا تو وہ بری عادات میں مبتلا ہوگا اور اگر اسے اس کی اصل حالت دکھائی جائے تو وہ اس شخصی مانند ہوگا جو کسی کتے یا خنزیر یا شطان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہو۔