Saturday, 3 October 2015

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہاشمی خاندان کے حسین وجمیل نوجوان تھے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شکل وصورت اور عادات واطوار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
” کہ تم شکل وصورت اور عادت و اطوار کے اعتبار سے میرے مشابہہ ہو“۔
8 ہجری ماہِ جمادی الاوّل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتیب دیا جو صرف تین ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا، آپ نے لشکر کی قیادت حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،
اگر اسے شہید کردیا جائے تو امیر لشکر جعفربن ابی طالب ہوگا۔
اگر اسے بھی شہید کردیا گیا تو امیر لشکر کے فرائض عبداللہ بن ابی رواحہ سرانجام دیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاﺅں کے ساتھ اس لشکر کو الوداع کیا۔ مجاہدین جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہوکر منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئے۔ لشکر اسلام نے سرزمین شام کے سرحدی علاقے بلقاءکے قریب موتہ بستی میں پڑاﺅ کیا، یہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ شاہ روم قیصر دو لاکھ افراد پر مشتمل مسلح فوج لے کر مقابلے کےلئے پیش قدمی کرتے ہوئے بلقاءکی مشارف نامی بستی میں خیمہ زن ہوچکا ہے۔ مجاہدین یہ صورتحال دیکھ کر حیران ہوئے، باہمی مشاورت کے بعد کہنے لگے ہم صرف تین ہزار ہیں، جبکہ دشمن فوج دولاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک مجاہد کو تقریباً ستر افراد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بعض نے مشورہ دیا کہ ہمیں لڑائی شروع کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نازک ترین صورت حال سے آگاہ کردینا چاہئے۔ پھر آپ کی طرف سے جو حکم ملے اس پر عمل کیا جائے۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ جذبہ ایمان سے سرشار ہوکر فرمانے لگے،
میرے مجاہد بھائیو گھبرانے کی کیا بات ہے؟ ہمارے لئے ہر صورت میں کامیابی ہے۔ فتح پالی تو غازی بن کر لوٹیں گے۔ اگر شہید ہوگئے تو سیدھے جنت میں جائیں گے۔ ہمیں بے دریغ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس لئے تو ہمیں یہاں بھیجا گیا ہے۔
مجاہدو! اب لڑے بغیر واپسی کا خیال دل سے نکال دو، تمہیں اس سے کیا غرض کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے یا کم، اللہ ہمارا حامی وناصر ہوگا، فتح ونصرت اس کے قبضہ قدرت میں ہے، یہ باتیں سن کر مجاہدین کے حوصلے بلند ہوئے۔
لشکر اسلام کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ دائیں جانب قطبہ بن قتادہ کو سونپی گئی۔ بائیں جانب عبادہ بن مالک انصاری کو سپرد کی گئی۔ مقدمة الحبیش کا کمانڈر زیدبن حارثہ کو بنایا گیا۔ اس کے پیچھے متصل جعفربن ابی طالب کو کھڑا کیا گیا، اور اس کے ساتھ عبداللہ بن رواحہ کو متعین کیا گیا۔ دونوں لشکر آپس میں ٹکراگئے، گھمسان کا رن پڑا۔ تیروں، تلواروں اور نیزوں کی جھنکار، گھوڑوں کی ہنہناہٹ زخمیوں کی چیخ وپکار اور مجاہدین کے نعرہ تکبیر سے میدان جنگ گونج رہا تھا۔ امیر لشکر زیدبن حارثہ رضی الللہ عنہ پر یکبارگی تیروں کی بوچھاڑ ہوئی تو جسم سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے۔ آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تو جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لشکر اسلام کا جھنڈا تھام لیا۔ اپنی تیز رفتار گھوڑی کی ٹانگیں کاٹ دیں کہ کہیں یہ دشمن کے کام نہ آسکے۔ برق رفتاری سے لڑائی لڑنے لگے۔ جوش وجذبے کی علامت بنے ہوئے بار بار یہ کہہ رہے تھے۔
واہ واہ جنت اور اس کا قرب، صاف ستھرا اور ٹھنڈا مشروب، رومیوں کےلئے عذاب آچکا، مجھ پر فرض ہے کہ جب ان سے ملوں تو ان کی گردنیں اڑاتا چلا جاﺅں۔
یہ کہتے ہوئے بڑے جوش وجذبے کے ساتھ رومیوں کی گردنیں اڑا رہے تھے کہ موقع پاکر ایک رومی فوجی نے بڑے زور سے ان کے دائیں بازو پر تلوار کا وار کیا۔ جس سے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر جھنڈا اپنے بائیں ہاتھ میں تھام لیا۔ تھوڑی دیر بعد اس پر وار ہوا تو وہ بھی کٹ گیا۔ تو جھنڈا بازوﺅں میں تھام لیا۔ اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک دشمن نے آپ کی کمر پر تلوار کا زور دار وار کیا۔ جس سے ان کا جسم کٹ کر دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ اس طرح امیر لشکر حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ جام شہادت نوش کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جامقیم ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ موتہ میں، میں بھی شریک تھا۔ ہم نے جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کا جسدخاکی خون میں لت پت شہداءکی لاشوں میں پڑا ہوا پایا۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے جسم پر تیروں، نیزوں اور تلواروں کے تقریباً نوے گہرے زخم لگے ہوئے تھے، اور یہ سب کے سب زخم سینے کی جانب تھے۔ پیٹھ پر کوئی زخم نہیں تھا۔
(بحوالہ بخاری شریف)
پھر شاہِ امم سلطانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی یہ بھی داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، اس کے بعد قیادت کے فرائض حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئے۔ انہوں نے قیادت سنبھالتے ہی لشکر کی ترتیب فوری طور پر بدلنے کا حکم دیا۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے مجاہدین برق رفتاری سے اپنی جگہیں بدلنے لگے تو یہ ہلچل دیکھ کر دشمن کے اوسان خطا ہوگئے۔ ان کے دلوں میں خوف وہراس پیدا ہونے لگا۔ وہ سوچنے لگے کہ یکدم تبدیلی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید کوئی نئی کمک پہنچ گئی ہے۔ ان کے قدم ڈگمگانے لگے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کا یہ پہلا معرکہ تھا۔ جس میں انہوں نے دشمن پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے نو تلواریں توڑیں اور یہ جنگی تاریخ کا ایک منفرد اور انوکھا کارنامہ ہے۔ اس معرکے میں انہیں لسانِ رسالت سے سیف اللہ کا لقب ملا۔
وہ اس طرح کہ جب جنگ موتہ پورے شباب پر تھی تو اللہ رب العزت نے جنگ کا منظر اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کردیا۔ آپ نے اہل مدینہ کو مسجدنبوی میں جمع ہونے کا حکم دیا۔ اطلاع ملتے ہی سب لوگ فوری طور پر مسجد میں جمع ہوگئے۔ آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ حمدوثناءکے بعد آپ نے ایسے انوکھے اسلوب میں خطاب کا آغاز کیا، جیسے کہ آپ جنگ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگو! وہ دیکھو گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، مقابلہ بہت سخت ہے، لشکر اسلام کے مجاہدین اپنی جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھو امیر لشکر زیدبن حارثہ جام شہادت نوش کر گئے۔ اللہ اسے جنت نصیب کرے۔ میں اس کےلئے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔
اب لشکر اسلام کا جھنڈا ہاشمی خاندان کے چشم وچراغ جعفربن ابی طالب نے تھام لیا۔ اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا، اب بایاں ہاتھ کٹ گیا، اب جسم دو ٹکڑے ہوا اور زمین پر گرگئے۔ شہادت کا جام پی لیا۔ جنت میں اپنا مقام بنالیا۔ میں اس کےلئے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔ اب لشکر اسلام کی قیادت عبداللہ بن رواحہ نے سنبھال لی۔ اس کے بعد آپ خاموشی کے ساتھ دیکھنے لگے۔ حاضرین کو یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے آپ بڑے غور سے کوئی منظر دیکھ رہے ہیں۔ پھر اچانک لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: لو وہ بھی شہید ہوگئے۔ اب مجھے یوں دکھائی دے رہا ہے کہ فرشتے ان تینوں شہداءکو سونے کی چارپائیوں پر رکھ کر جنت کی طرف لے جارہے ہیں۔ سُبحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمدِہ سُبحَانَ اللّٰہِ الَظِیمِ۔
اب لشکر اسلام کی قیادت اللہ کی تلوار خالدبن ولید کے ہاتھ میں ہے۔ وہ لشکر اسلام کو دشمن کے نرغے سے بسلامت نکال کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ آپ نے جنگ کی منظر کشی اس انداز میں کی جیسے آپ بچشم خود لڑائی کو دیکھ رہے ہیں۔
شاہِ امم سلطانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جنگ کا کشف ہوگیا۔ لہٰذا آپ سینکڑوں میل دور لڑی جانے والی جنگ کی لمحہ بہ لمحہ روئیداد مدینہ منورہ میں موجود لوگوں کو سنا رہے تھے۔ خطاب سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔
آپ نے دیکھا کہ اس کی بیوی اسماءبنت عمیس اپنے بچوں کو نہلادھلا کر انہیں اجلے اور صاف شفاف کپڑے پہنا رہی ہے۔
حضرت اسماءبنت عمیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں قدم رنجا فرماتے ہوئے دیکھا تو میری خوشی کی کوئی انتہاءنہ رہی۔ آپ اندر تشریف لے آئے۔ بچوں کو اپنے پاس بلایا۔ انہیں اپنی گود میں بٹھایا، سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگے میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ افسردہ ہے۔ آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں، میں گھبرا گئی، دل تھام کر پوچھا... یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر تو ہے کیا ہوا؟ آپ نے آنسو بہاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
اسماءگھبراﺅ نہیں، میں نے جعفربن ابی طالب کو دیکھا ہے کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ محوپرواز ہے۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آلِ جعفر کےلئے کھانا تیار کرو۔ کیونکہ وہ آج غم میں مبتلا ہیں۔

इसी का नाम मियाँ भाई!

ना पढ़ाई ना लिखाई 
ईसी का नाम मियाँ भाई,
दसवी में हो गए दस बार फेल,
खेलते रहते है ये किकेट का खेल,
इसका सिर फोडा
उस से की लङाई,
इसी का नाम मियाँ भाई!
फैशन इनसे सारे करवा लो,
तरह तरह के बाल बनवा लो, इनके दोस्त है टेलर और नाई , इसी का नाम मियाँ भाइ !
फालतू ये फिरते रहेते है ,
हर किसी से भिड़ंते रहते है
, जहाँ देखा फटा पजामा
उसमें अपनी टागँ अङाई,
ईसी का नाम मियाँ भाई !
दिन काटा फालतू बैठकर,
रात यारो के साथ बिताई,
खुद से कया दुश्मनी भाई,
अब तो सो जाआ॓ मियाँ भाई !
कमाते है जितने नोट ,
आधे की कर लेते है गोट ,
घर में भूखे बच्चे और लुगाई,
ईसी का नाम मियाँ भाई !
घर का कचरा सड़क पर फैके आते जाते को नही देखें ,
जिन पर गिरता है कचरा
नीचे से दता है दुहाई,
अरे अधां है कया मियाँ भाई !
घुमने चलेगें सारे दोस्त ,
खुब उडाएगें मिलके मौज,
गाडी तो है मेरे पास ,
पेट्रौल के लिए कर लो उगाही ,दस दस रु निकालो मेरे भाई !
ईने कह दो अब तो सुधर जाएँ ,थोड़ी सी खुद में ईनसानीयत लाएँ,
कब तक सहोगे जग हसाँई ,
अब तो सुधर जाऔ मियाँ भाई

सम्मोहन ही नहीं आतंकी ट्रेनिंग भी देती है सनातन संस्था

ABP का खुलासा: 

Wednesday, 30 September 2015 06:15 PM

गोवा/मुंबई: प्रगतिशील विचारक गोविन्द पानसरे की हत्या को लेकर गोवा से चलने वाला संगठन सनातन संस्था फिर एक बार सुर्ख़ियों में हैं. सनातन संस्था भारत को एक कट्टर हिन्दूराष्ट्र में तब्दील करना चाहती है और इसके लिए वो मिलिट्री ट्रेनिंग से लेकर के सम्मोहन तक का इस्तेमाल करती है. कहने के तो ये संस्था अध्यात्म के लिए काम कर रही है लेकिन इसका असली मकसद क्या है ये बहुत ही परेशान करने वाला है.


एबीपी न्यूज़ के संवाददाता जीतेन्द्र दीक्षित ने जाना कि आखिर सनातन संस्था का असली मकसद क्या है.

गोवा की राजधानी पंजिम से करीब 80 किलोमीटर दूर ये है वाल्पई इलाके का जंगल. ये वही जंगल है जिसका जिक्र इन दिनों विवादों में चल रही सनातन संस्था के ट्रस्टी वीरेंद्र मराठे ने एक अंग्रेजी अखबार को दिये इंटरव्यू में किया है. मराठे के मुताबिक इसी जंगल में सनातन संस्था की ओर से कैंप लगाये गये थे, जिनमें संस्था के 15 सदस्यों को मिलिट्री ट्रेनिंग दी गई. 2 साल चली इस ट्रेनिंग में हथियार चलाना, रस्सी पर चलना , दुश्मन के हमले से बचना और जंगल में छुपना सिखाया गया था. मराठे के मुताबिक संस्था के पास लाईसेंसी हथियार नहीं थे, इसलिये स्थानीय लोग जिनके पास लाईसेंस थे उनके हथियार किराये पर लिये गये.

भारत में कोई संगठन अपने सदस्यों को मिलिट्री ट्रेनिंग दे रहा है, ये बात अपने आप में चौकाने वाली लगती है. मिलिट्री ट्रेनिंग आखिर किस फौज से लडने के लिये दी जा रही थी, दूसरा सवाल ये है कि जब किसी के पास लाईसेंसी हथियार नहीं है तो क्या वो कानून दूसरे का हथियार किराये पर ले सकता है. एक सवाल ये भी है कि जब इस जंगल में 2 साल तक ट्रेनिंग चल रही थी तो फिर वनविभाग या पुलिस की नजर इनपर क्यों नहीं पडी.

इस बारे में जब हमने सनातन संस्था से सवाल पूछा तो उनकी ओर से ये तो माना गया कि संस्था की ओर से आत्मरक्षा के लिये ट्रेनिंग दी जाती है, लेकिन मिलिट्री ट्रेनिंग देने की बात से उन्होंने इंकार कर दिया.

जंगल में मिलिट्री ट्रेनिंग की खबर छपने पर उठे विवाद के बाद भले ही अब सनातन संस्था इसका खंडन कर रही हो, लेकिन सनातन संस्था ऐसे विवादों में पहले भी फंस चुकी है, जिसमें उसपर हिंसा करने और हिंसा का समर्थन करने के आरोप लगे हैं. सनातन संस्था का नाम ऐसे विवादों से क्यों जुडता है ये जानने से पहले जान लेते हैं कि आखिर सनातन संस्था है क्या और वो हासिल क्या करना चाहती है.

गोवा में सनातन संसथा का मुख्यालय है जहां संस्था से जुडे लोग साधना करते हैं और यहीं से संस्था के विचारों का प्रचार प्रसार होता है. संस्था का मकसद भारत को हिंदू राष्ट्र बनाना है. हिंदू धर्म का पालन कैसे होना चाहिये इसके लिये संस्था की अपनी सोच है और अपने नियम है. जो संस्था की सोच के खिलाफ सोचता है वो संस्था के निशाने पर होता है.

मिसाल के तौर पर गोवा में हर साल दीपावली के मौके पर मनाये जाने वाले नरकासुर उत्सव को ही लीजिये जिसका सनातन संस्था पुरजोर विरोध करती है. पौराणिक कथाओं के मुताबिक भगवान कृष्ण ने नरकासुर नाम के राक्षस को मारा था और उसी मौके की याद में नरकासुर के पुतलों का जुलुस निकाला जाता है. गोवा के लोग इस पारंपरिक आयोजन में बढचढ कर हिस्सा लेते हैं.

भले ही गोवा के हिंदुओं के बीच ये त्यौहार लोकप्रिय हो, लेकिन सनातन संस्था को इसपर ऐतराज है. 2009 में मडगांव में जो बम धमाका हुआ था बताया जाता है कि उस धमाके का असली ठिकाना नरकासुर जुलूस मार्ग था. धमाके के मामले में सनातन संस्था से जुडे 6 लोग गिरफ्तार हुए थे, जिन्हें बाद में अदालत ने बरी कर दिया.

मुंबई के एक मराठी अखबार में काम करने वाले पत्रकार श्यामसुंदर सोन्नार से भी सनातन संस्था खफा है. सोन्नार का कसूर ये है कि वो हिंदू धर्म के कर्मकांडों के खिलाफ मुहीम चलाते हैं. सोन्नार अपने लेक्चरों में बताते है कि लोग अपनाकाम करते हुए भी भगवान की आराधना कर सकते हैं. इसके लिये कर्मकांड करने और तीर्थयात्रा पर जाने की जरूरत नहीं.

महाराष्ट्र के वरिष्ठ पत्रकार निखिल वागले भी सनातन संस्था के दुश्मनों में से एक हैं. महाराष्ट्र सरकार ने वागले को सुरक्षा की पेशकश की, लेकिन इन्होंने सुरक्षा लेने से इंकार कर दिया.

पंजिम के एक चौराहे पर प्रतिमा लगी है अबेद फारिया की. फरिया गोवा के मशहूर हिप्नॉटिस्ट थे और कहा जाता है कि भारत में सम्मोहनशास्त्र उन्होंने ही लाया. गोवा में फारिया का नाम सम्मान से इसलिये लिया जाता है क्योंकि वे सम्मोहनशास्त्र का इस्तेमाल अच्छे कामों के लिये करना चाहते थे, लेकिन उसी गोवा से चलने वाली एक संस्था पर आज सम्मोहनशास्त्र के दुरूपयोगा का आरोप लग रहा है.

सनातन संस्था पर आरोप ये है कि वो अपने सदस्यों को अपनी विचारधारा से जोडने के लिये या कहें उनका ब्रेन वॉश करने के लिये हिप्नॉटिजम या सम्मोहन का इस्तेमाल करती है. सम्मोहित शख्स संस्था के कहने पर कुछ भी करने को तैयार हो जाता है. बॉम्बे हाई कोर्ट में एक जनहित याचिका भी दायर की गई है जिसमें ये कहते हुए सनातन संस्था पर पाबंदी लगाने की मांग हुई है कि वो अपने सदस्यों पर पर पाबंदी लगाने की मांग हुई है कि वो अपने सदस्यों पर Ericksonian Hypnosis का इस्तेमाल करती है.

खुद सनातक संस्था के संस्थापक डॉक्टर जयंत आठवले एक हिप्नॉथेरपिस्ट हैं. सनातन संस्था मानती है कि उसकी ओर से सम्मोहन का इस्तेमाल होता है, लेकिन इस बात से इंकार करती है कि सम्मोहन के जरिये हिंसा करवाई जाती है.

संस्था के मुताबिक उनके यहां सम्मोहन का इस्तेमाल आत्मशुद्धी के लिये किया जाता है.

भले ही सनातन संस्था ये कहे कि वो हिंसा में यकीन नहीं रखती, लेकिन बीते चंद सालों में कई ऐसी वारदातें हुईं हैं, जिनमें पकडे गये लोग सनातन संस्था से जुडे पाये गये. साल 2008 में सनातन संस्था से जुडे 6 सदस्य नवी मुंबई और ठाणे में हुए बमधमाकों के आरोप में पकडे गये जिनमें 2 को अदालत ने दोषी ठहराया. इसके बाद साल 2009 में भी गोवा के मडगांव में हुए बम धमाकों के सिलसिले में सनातन संस्था से जुडे 6 लोगों की गिरफ्तारी हुई पर मुकदमें के बाद अदालत ने उन्हें बरी कर दिया. बरी होने वाले अपने सदस्यों का सनातन संस्था ने सार्वजनिक सम्मान भी किया.

प्रगतिवादी विचारक गोविंद पानसरे की हत्या के मामले में अब फिर एक सनातन संस्था के सदस्य समीर गायकवाड को गिरफ्तार किया गया है और इसी सिलसिले में पुलिस ने संस्था के कुछ और सदस्यों को भी फरार बताया है. जब महाराष्ट्र में कांग्रेस-एनसीपी की सरकार थी तब एक सनातन संस्था पर बैन की सिफारिश की गई थी, लेकिन केंद्र सरकार ने उसपर कोई फैसला नहीं लिया. अब फिर एक बार सनातन संस्था के खिलाफ मुहीम चला रहे गोवा के बीजेपी विधायक विष्णू वाघ ने बैन लगाये जाने की मांग की है, हालांकि गोवा के मुख्यमंत्री उनसे सहमत नहीं हैं.

सनातन संस्था के सदस्य बार बार हिंसक वारदातों में पकडे जाते हैं और संस्था हर बार उनसे अपना पल्ला झाड लेती है, लेकिन वो उनका बचाव भी करती है. ऐसे में संस्था के भीतर क्या कुछ चल रहा है इसकी पडताल जरूरी नजर आती है.
Courtesy: ABP News 


Friday, 2 October 2015

منی حادثہ ; اپنو ں کی تلاش !

کپورونج احمد آباد کے عبدالمجید رسول بھائی اور زرینہ بین کی تلاش ناکام
(ساگر ٹائمز)منی حادثے کو تقدیر کا فےصلہ مان کر جہا ں لوگ اپنے رشتہ دارو ں کی موت کی خبر پاکر صبر کرنے لگے ہیںجبکہ بہت سے ایسے ہیں جن کو اپنے ماں باپ یا خاص رشتہ داروں کا اب تک پتہ نہیں چل چکا ہے ۔ احمد آبادسے2اکتوبرکو موصولہ خصوصی رپورٹ کے مطابق جدہ میں واقع ہندوستانی قونصل کے رویہ کی بھی لوگ شکایت کررہے ہیں،جمعیة علماءگجرات جنرل سکریٹری پروفیسر نثار احمد انصاری نے ممبئی میں واقع سعودی قونصل کو خط لکھا تو یہ جواب ملا یا ہندستانی قونصل سے رابطہ کریں ،تو جدہ میں واقع ہندستانی قونصل لوگوں کو صرف انتظارکرنے کی بات کہہ کر ٹا ل رہا ہے ،یعنی اس مصیبت کے وقت میں کم ازکم صبر کے بجائے لوگ اپنی ذمہ داری ، دوسرے پر ڈالنے کی راہ اختیار کررہے ہیں، جس سے غائب ہونے والوں کے اہل خانہ سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔کھیڑا ضلع میں واقع کپورونج کے عبدالمجید رسول بھائی او زرینہ بین کے بچوں نے ان کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی ہے ، انھوں نے سبھی مسلم تنظیموں اور قونصل کا در کھٹکھٹایا ہے ، مگر وہ اب تک ناکام رہے ہیں، ان کے بڑے لڑکے وارث عبدالمجید شیخ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ان کے ماں پاب کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا ،کپور ونج کے رہنے والے اور جمعیة علماءکے ممبر فاروق بھائی کہتے ہیں یہ دونوں افراد مدینہ ٹور س سروس سے گئے تھے، مگر ان کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا ہے ، حالاں کہ اسی محلے کے دےگر شہداءکی اطلاع ہوگئی ہے اور ہم ہر ممکن کوشش کرررہے ہیں اور خاص طور حج کمیٹی آف ا نڈیا سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ہندوستانی غائب حجاج کی فہرست تیار کرکے ان کی تلاشی کی را ہ ہموار کریں ۔فاروق بھائی کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو تلاش کرنے اور ان کی شناخت کیلئے فوری ویزا سے منع کردیا گیا جب کہ ایسے وقت میں ان کو جانے کی خاص اجازت ملنی چاہےے ۔گجرات جہاں کے سب سے زیادہ حجاج شہید ہوئے ہیں اور غائب ہونے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ، یہاں کے دو اضلاع احمد آباد اور کھیڑا سے تعلق رکھنے والے حجاج کا زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ احمد آباد میںصرف شاہ پور محلہ سے چار حجاج شہید ہوئے ہیں۔ایشیا کے سب سے بڑے مسلم محلہ جوہا پورا آج تک غم میں ڈوباہے ، گزشتہ جمعہ عین عید الاضحی کے موقع پر نوربران سوسائٹی جوہاپورا میں سخت سناٹا چھایا ہوا تھا ،اس خاندان کے آٹھ افراد منی حادثہ کے بعد سے ہی لاپتہ ہیں۔اسی طرح سے ناگوری خاندان کے دد افراد کے شہید ہونے کے علاوہ بقیہ پانچ افراد کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا ہے ۔12ستمبر کو توکل ٹور آپریٹر سے گئے دو درجن سے زائد افراد کا بھی پتہ نہیں چل سکا ہے ۔احمد آباد کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان کھیڑا ضلع کے متاثرین کا ہوا ہے ۔
دوسر ی طرف گجرات حج کمیٹی سے جب جمعیة علماءگجرات کے رکن عاملہ مولانا عظیم ا للہ قاسمی نے بات کی تو جواب یہ ملا کہ جو حجا ج آزاد ٹور آپریٹر سے گئے تھے ، ا ن کے پاس کوئی لسٹ نہیں ہے اور نہ وہ ان کیلئے اس وقت کچھ کرسکتے ہیں ، ایسی صورت میں زیادہ تر متعلق و رشتہ دار کافی مشکل ایام کا سامنا کررہے ہیں۔احمد آباد میں واقع مدرسہ کاشف العلوم کے مدرس قاری راغب جمال کو سخت تشویش لاحق ہے ، کہتے ہیں سب سے مشکل بات یہ ہے کہ کہیں سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا ہے ۔ہرجگہ سے یہی کہا جاتا ہے کہ انتظارکریں، سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر کب تک انتظار کریں؟ انھوں نے کہا کہ سرکار ڈی این اے ٹسٹ اور فنگر پرنٹ سے معلومات حاصل کرے گی مگر وہ لوگ جن کے رشتہ دار یہاں ہیں ان کا ٹسٹ کیسے ہو گا؟ بہر صورت حج کمیٹی آف انڈیا اور اس کی ریاستی کمیٹےوں کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں رشتہ داروں کی مختلف شہروں میں میٹنگ بلا کر لوگوں کو اطمینان دلائیں ۔
عظیم اللہ صدیقی صدیقی،جرنلسٹ

لاپتہ حاجی کہاں گئے؟

حج پر جانے والے لاہور کے گرین ٹاؤن کے حاجی محمد عارف کی رحلت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے لیکن ان کے گھر میں ان کی مغفرت اور ایصالِ ثواب کے لیے دعا ہو رہی ہے جبکہ کراچی کورنگی ٹاؤن کے میر زمان کے بیٹے وزٹ ویزے پر سعودی عرب جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں تاکہ وہاں جا کر اپنے خاندان کے افراد کی تلاش کر سکیں اور پتہ لگا سکیں کہ کیا وہ زخمی ہیں یا منیٰ حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں؟
حکومتِ پاکستان کی جانب سے منیٰ حادثے کے متاثرین سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ہیلپ لائن کے مطابق منیٰ حادثے میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی کل تعداد 57 ہو گئی ہے۔
وزارتِ حج کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق سعودی حکام نے اب تک فقط 26 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 31 پاکستانیوں کی ہلاکت کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ یا عینی شاہدین نے بتایا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 110 پاکستانی لاپتہ ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 292 لاپتہ حاجیوں کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔
دورانِ حج منیٰ کا واقعہ پیش آنے کی وجوہات کیا تھیں اس بارے میں سعودی حکومت کی تحقیقات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
مگر آٹھ دن گذرنے کے بعد اب سوال حادثے کی نوعیت کی بجائے لاشوں کی شناخت میں ورثا کو پیش آنے والی مشکلات کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور سعودی تعاون پر اٹھائے جا رہے ہیں۔
اب تک حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سعودی عرب کے سرد خانوں میں کتنے افراد موجود ہیں اور ہسپتالوں میں کتنے زیرِ علاج ہیں۔
لاپتہ محمد عارف کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ باوجود کوشش کے انھیں اپنے شوہر کی لاش کی شناخت کے لیے سرد خانے نہیں لے جایا گیا اور پھر سعودی حکومت کا خصوصی اجازت نامہ لے کر وہ بِنا محرم کے وطن لوٹنے پر مجبور ہوئیں۔
’وہ حاجی صاحب کو سٹریچر پر ڈال کر لے گئے، کسی لسٹ میں ان کا نام نہیں ہے، بے ہوشی کے بعد جب میں اٹھی تو وہاں بہت سی لاشیں تھیں، حاجی صاحب کے نمبر پر تین دن تک فون کرتی رہی لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔‘
حکومتِ پاکستان کی وزارتِ حج اپنے کمرشلائزڈ حج پیکج کی وجہ سے تنقید کی زد میں تو ہے لیکن متاثرین اس معاملے میں حکومتِ پاکستان کی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
جمعرات کو پاکستان پہنچنے والے ایک حج آپریٹر نے جن کے گروپ میں سے ایک خاتون کی لاش کی شناخت ہو گئی تاہم دوسری لاپتہ خاتون کی تلاش کے لیے ان کے داماد کی کوئی کاوش کامیاب نہیں ہوسکی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی حکومت نے اتنا تعاون نہیں کیا جتنا ضروری تھا مگر بظاہر یہ دکھایا جا رہا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔
’مجھے سرد خانوں میں جانے کا اتفاق بھی ہوا، مرکزی سرد خانے کا نام میسن سواری ہے، سر خانے میں فریزرز اور سبیل کے لیے خصوصی کنٹینرز میں لاشیں رکھی گئی ہیں، سعودی حکومت نے پہلے 500 تصاویر لگائی تھیں اور اس کے بعد مزید 500 تصاویر لگائی گئیں۔‘
مکی حج و عمرہ کے نام سے موجود پرائیویٹ حج ٹور آپریٹیر محمد رفیق کو بھی اسی قسم کی شکایات ہیں۔
جب اس حادثے میں محفوظ رہ جانے والے ححاج سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ 11 ستمبر کو کرین کے حادثے اور اس کے بعد منیٰ حادثے کی خبریں آنے پر سعودی میڈیا پر بلیک آؤٹ رہا اور انھیں یا تو وہاں چلنے والے پاکستانی ٹی وی چینلز سے یہ خبر موصول ہوئی یا فون پر رشتہ داروں سے۔
محمد رفیع اور ان کی اہلیہ نے شکایت کی کہ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ٹرینوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد کو ٹھونسا جاتا ہے۔ اگر کوئی بیمار ہو یا فوت ہو جائے تو اس کے ساتھ موجود کسی شخص کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں۔‘
کراچی سے مکہ جانے والے پانچ افراد کے قافلے میں شامل دو افراد تلمیز احمد اور افتخار احمد کو مکہ کے المعصم نامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا تاہم ان کے اہلِ خانہ دیگر تین افراد کی تلاش میں ہسپتالوں اور مردہ خانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں کیونکہ اب تک جاری ہونے والی 1100 افراد کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں۔

کیا ھے فرقۂ واریت ؟

فرقۂ واریت  کے معنی و مفہوم کی تحدید ھوئے بغیر اس کی تعریف یا مذمت کرنا کسی فکری واردات کا باعث بن جاتا ھے.فرقہ واریت ایک ایسی اصطلاح ھے جس کا ڈھنڈورا بہت پیٹا جاتا ہے پر کسی کو اس کا اصل مفہوم و معنی تک پتا نھیں..
علماۓ سلف کے ھاں تفرقہ سے اصول دین کے اندر مسلمانوں کی جماعت سے الگ راستہ اختیار کرنا ہے.
کوئی اللہ تعالی کی دات و صفات علم و قدرت و حاکمیت میں کسی نبی ولی بادشاہ وزیر پارلیمنٹ جمہوریت وغیرہ کو شراک دار بناتا ھے..کوئی حضور ص کی نبوت کا انکار اور آپ کی شریعت کو معطل کر کے کفر کا قانون چلاتا ھے کوئی صحابہ و اھل بیت رض کی گستاخی کرتا اور ان کی راہ اور کے اجماع کا انکار کرتا ھے...کوئی سنت کو مٹا کہ بدعت کو رائج کرتا ھے سود زنا شراب کی حرمت اور جہاد کی فرضیت اور خلافت کی ضرورت کا انکار کرتا ھے کفار و مرتدین و طواغیت سے دوستی رکھتا ھے..تو ایسا شخص اور گروہ ھی تفرقہ اور فتنہ ھے جو اس نے مسلمانوں کے متفقہ فرائض و واجبات کو ترک کر کے نئی راہ بدعت نکالتا ہے...ایسے لوگوں کے باطل پر خاموشی اختیار کرنا اور ان سے اتحاد کی دعوت دینا اس سے بڑھ کہ تفرقۂ اور جہالت ھے.

ایک چیز کے معنی ومفہوم کی تحدید ہوئے بغیر اس کی تعریف یا مذمت کی گردان ہونے لگ جائے تو عموماً یہ کسی فکری واردات کا سبب بن جاتی ہے۔ ’فرقہ واریت‘ ایسی ہی ایک اصطلاح ہے جس کی مذمت کا ڈھنڈورا بہت پیٹا جاتا ہے مگر اس کا مطلب بہت کم لوگ بتا سکتے ہیں۔ یا یوں کہیے جس کی مذمت کرنے پر سب کو لگا دیا گیا ہے مگر اس کے مفہوم کا تعین چند لوگوں کا کام ہے!
’فرقہ واریت‘ کو آج تک کوئی شخص اچھا کہتے نہیں سنا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا معنی کون متعین کرے؟
تفرقہ کی مذمت قرآن میں کی گئی ہے۔ احادیث میں اس کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ مگر قرآن اور احادیث کے اندر کیا یہ اسی معنی میں مذموم ہے جس معنی میں اس کی مذمت ہمارا میڈیا کرتا ہے اور جس معنی میں اس کی مذمت ہمارے عوام اور خواص کے یہاں ہوتی ہے یا پھر تفرقہ سے قرآن اور احادیث کی مراد اس سے مختلف ہے جو تفرقہ کے لفظ سے یہاں ہمارا معاشرہ مراد لیتا ہے؟
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ”تفرقہ“ سے متعلق ہم کچھ ایسے علمی مصادر سے رجوع کر لیں جو اُمت کے ہاں تاریخی طور پر معتبر جانے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہوکہ مفسرین امت ’تفرقہ‘ کی کیا تفسیر کرتے ہیں اور آپ کا میڈیا اس کی تفسیر کیا کرتا ہے“۔
”تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو خیر کی طرف بلائیں، امر بالمعروف کریں اور نہی عن المنکر۔ یہی لوگ فلاح پائیں گے۔
”کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلے کھلے دلائل آجانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔ یہی لوگ ہیں جن کیلئے ایک بڑا عذاب ہے جس دن کچھ چہرے روشن وشاداب ہوں گے اور کچھ کا منہ کالا ہوگا۔ جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا) کیا نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ روش اختیار کی؟ اب اس کفر کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو۔”رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوںگے تو وہ اﷲ کے سایہء رحمت میں ہوں گے اور (پھر) ہمیشہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے“۔[(آل عمران: ١٠٤۔١٠٧)]
آئیے دیکھتے ہیں ان آیات کی تفسیر میں امت کے مشہور ترین مفسر امام ابن کثیر کیا کہتے ہیں:
”اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں ضرور ایک ایسا گروہ ہونا چاہیے جو دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے معاملے کو لے کر کھڑا ہونے پر متعین ہو جائے ]واولئک ھم المفلحون ”یہی لوگ فلاح پائیں گے[ ضحاک کہتے ہیں: ”یہ صحابہ اور رواہ حدیث میں سے خواص ہیں جو جہاد اور علم کا حق ادا کرتے رہے“۔ ابوجعفر باقر کہتے ہیں: رسول اﷲ نے آیت ]ولتکن منکم امت یدعون الی الخیر ”تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو خیر کی طرف بلائیں“[ پڑھی پھر فرمایا: (یہاں) خیر (سے مراد) ہے قرآن اور میری سنت کی اتباع۔ اس کو ابن مردویہ نے روایت کیا۔
”اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اس اُمت کا ایک گروہ اس (دعوت الی الخیر وامر بالمعروف ونہی عن المنکر کی) ذمہ داری کو اٹھائے رہے اگرچہ یہ بات اُمت کے ہر فرد پر ہی حسب استطاعت فرض ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے اسے چاہیے کہ اُسے ہاتھ سے روکے۔ اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے۔ اس کی استطاعت نہ ہو تو دل سے بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے جبکہ ایک روایت کے الفاظ ہیں: اس کے بعد رائی برابر بھی ایمان نہیں۔
”امام احمد حضرت حذیفہ بن الیمان سے روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرو گے یا پھر ضرور اﷲ تعالیٰ تم پر اپنے ہاں سے ایک سزا بھیجے گا پھر تم اس کو پکارو گے مگر تمہاری سنی نہ جائے گی“ بروایت مسند احمد، ترمذی وابن ماجہ۔
]ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاءھم البینات ”کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلے کھلے دلائل آجانے کے بعد پھر اختلاف میں مبتلا ہوئے“[ یہاں اﷲ تعالیٰ اس امت کو ممانعت فرما رہا ہے کہ یہ بھی پچھلی امتوں کی طرح ہو جائے جو کہ افتراق اور اختلاف کا شکار ہوئیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھیں۔ جبکہ ان پر حجت قائم ہو چکی تھی۔ امام احمد عبداﷲ بن یحیی سے روایت کرتے ہیں، کہا: ہم نے معاویہ بن ابی سفیان کے ساتھ حج کیا۔ جب مکہ آئے تو (معاویہ) نماز ظہر ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اﷲ نے فرمایا: دونوں اہل کتاب اپنے دین کے اندر بہتر بہتر فرقوں میں بٹے۔ یہ اُمت تہتر راستوں ___ یعنی اھوائ___ میں بٹ جائے گی۔ سب کے سب دوزخ میں جائیں گے۔ سوائے ایک کے جو کہ (اصل) جماعت ہوگی۔ اور میری اُمت میں بہت سے ایسے گروہ ہوں گے جن میں (مبنی بر بدعت) اھواءوخواہشات یوں سرایت کر جائیں گی جیسے باؤلے کتے کے کاٹے میں اس کا زہر سرایت کر جاتا ہے۔ اس کی کوئی رگ کوئی جوڑ اس کے اثر سے سلامت نہیں رہتا۔ اے عرب کے لوگو! اﷲ کی قسم اگر تم اس وقت اپنے نبی کے لائے ہوئے (دین) کو لے کر کھڑے نہ ہوئے تو دوسرے لوگ بالاُولیٰ یہ کام کرنے والے نہ ہوں گے“ ]یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ فاما الذین اسودت وجوھہم اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون ”جس دن کچھ چہرے روشن وشاداب ہوں گے اور کچھ کا منہ کالا ہوگا۔ جن کا منہ کالا ہوگا (ان سے کہا جائے گا) کیا نعمت ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ روش اختیار کی؟ اب اس کفر کے صلہ میں عذاب چکھو“[ یعنی روز قیامت اہل سنت وجماعت کے چہرے روشن ہوں گے اور اہل بدعت وتفرقہ کے چہرے سیاہ ہونگے۔ یہ تفسیر حضرت عبداﷲ بن عباس نے کی ہے“۔
تفسیر ابن کثیر کی عبارت ختم ہوئی۔ [دیکھیے مختصر تفسیر ابن کثیر۔ اختصار الشیخ محمد کریم راجح۔ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت۔ لبنان، جزو اول ص ١٥٠، ١٥١]
آیت ؛ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاءھم البینات واولئک لہم عذاب عظیم ”کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلے کھلے دلائل آجانے کے بعد پھر اختلاف میں مبتلا ہوئے۔ یہی لوگ ہیں جن کیلئے ایک بڑا عذاب ہے“[ کے تحت تفسیر قرطبی میں آیا ہے:
”یعنی یہود ونصاری کی طرح مت ہو۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ ان میں سے بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد اس اُمت میں سے اہل بدعت ہیں“۔ [دیکھیے تفسیر قرطبی جلد چہارم صفحہ ١٧٤ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ]
سورہ بقرہ کی آیت ٢١٣ کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
”اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں فرمایا ہے ]وانزل معہم الکتاب لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جاءھم العلم بغیا بینہم ”اﷲ نے ان (انبیاء) کے ساتھ کتاب نازل کی کہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ فرما دے۔ اس میں اختلاف دراصل انہی لوگوں نے، باہم سرکشی کرتے ہوئے، کیا جن کو یہ کتاب ملی تھی جبکہ علم ان کے پاس آچکا تھا“[ .... یعنی ان پر حجتیں قائم ہو چکنے کے بعد، جس کا سبب ان کی باہم زیادتی وسرکشی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ]فھدی اﷲ الذین آمنوا لما اختلف فیہ من الحق باذنہ ”چنانچہ اﷲ عزوجل نے اپنے حکم سے ایمان والوں کو اختلافات میں سے ہدایت نصیب فرما دی“[ یعنی بوقت اختلاف وہ لوگ اسی مذہب پر قائم رہے جو اختلاف پیدا ہونے سے پہلے (انکے) انبیاءلے کر آئے تھے، ایک اﷲ کیلئے دین کو خالص کئے رہے، بلاشرکت غیرے اس کی عبادت پر کاربند رہے، نمازوں کو قائم اور زکوٰت ادا کرتے رہے اور اس طریقے سے اس پہلے والے منہج پر ہی قائم رہے جو اختلاف وتفرقہ ہونے سے قبل موجود تھا اور اختلاف سے دور اور کنارہ کش رہے اور قیامت کے روز لوگوں پر گواہ ٹھہرے“۔
تفسیر ابن کثیر کی عبارت ختم ہوئی۔ {دیکھیے تفسیر ابن کثیر بسلسلہ آیت ٢١٣ سورہ البقرہ}
سورہ الانعام کی آیت {ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعاً لست منھم فی شیءانما امرھم الی اﷲ ثم ینبئھم بما کانوا یفعلون ”جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور ٹولوں میں منقسم ہو گئے تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اﷲ ہی کے سپرد ہے پھر وہی ان کو بتائے گا کہ یہ کیا کرتے رہے ہیں“} کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
”{وکانوا شیعاً ”اور ٹولے فرقے بن گئے“} یہ لوگ خوارج ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے یہ اہل بدعت ہیں۔ جبکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت ان سبھی لوگوں کو شامل ہے جو دین کو چھوڑتے اور اس میں اختلاف کرتے ہیں“۔[دیکھیے تفسیر ابن کثیر بسلسلہ آیت ١٥٩ سورہ الانعام]
چنانچہ تفرقہ سے مراد، متقدمین اہل علم کے نزدیک، اس راستے کو ترک کرنا ہے جس پر رسول اﷲ اور صحابہ کرام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل تفرقہ سے مراد مفسرین ومحدثین کے نزدیک اہل بدعت ہیں اور اہل اھوائ۔ کیونکہ دین میں ایک نیا راستہ ایجاد کرکے آدمی رسول اﷲ اور صحابہ کے راستہ سے خودبخود علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ تفرقہ بنیادی طور پر حق سے علیحدگی ہے۔
مگر واضح رہے کہ اہل بدعت سے مراد یہاں ہر وہ شخص نہیں جو کسی عملی بدعت کا شکار ہے۔ گو عملی بدعات بھی بُری ہیں مگر اہل تفرقہ سے مراد وہ اہل بدعت ہیں جو ایک ایسی اعتقادی بدعت کو اختیار کرتے ہیں جس کا صحابہ وسلف کے راستے سے متصادم ہونا اہل حق کے نزدیک واضح اور معلوم ہو۔ جیسے خوارج، روافض، مرجئہ، جہمیہ، معتزلہ، شرکیہ تصوف [تصوف کی وہ صورتیں یہاں مقصود نہیں جن کے حامل شرک سے اجتناب کرتے ہیں اور شریعت کا التزام۔] وغیرہ۔ یہ تو ہوئے پرانے دور کے گمراہ بدعتی فرقے۔ موجودہ دور کے فتنوں میں اُمت کے بہت سے معتبر علماءمثلاً مصر کے مشہور محدث علامہ احمد شاکر، مفتی حجاز شیخ محمد بن ابراہیم، علامہ حمود العقلا، شیخ سفرالحوالی، شیخ علی الخضیری اور محمد قطب وغیرہ ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں مگر سماجی علوم اور نظامہائے مملکت کے معاملے میں سیکولر نظریات کے پیروکار ہیں، بدعتی ٹولوں میں شمار کرتے ہیں۔ ’مسلم سوشلسٹوں‘ کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ مزید برآں موجودہ دور کے بدعتی ٹولوںمیں نیچریت، عقل پرستی، قوم پرستی، ادب پرستی اور انسان پرستی ایسے نظریات قبول کرنے والوں کو بھی شمار کیا گیا ہے اور اُمت کے اہل علم میں سے ایک معتدبہ تعداد اس اعتبار کو درست سمجھتی ہے۔
یہ سب ٹولے اہل تفرقہ ہیں کیونکہ حق سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔ ان سب کو جس حال میں وہ ہیں اکٹھا ہو جانے کیلئے کہنا اور اپنے ’اختلافات‘ پر مٹی ڈالنے کی تلقین کرنا وحدت اُمت نہیں۔ ہاں البتہ ان کو حق پر لے آنے کی کوشش کرنا، ان کو احسن انداز میں دین کی حقیقت سکھانا اور پھر حق کی بنیاد پر ان کو مجتمع کرنا اور اس معنی میں اُمت کی شیرازہ بندی کرنا ضرور دین میں مطلوب ہے۔ خاص طور پر اس لئے کہ حق سے جہالت اس وقت معاشرے میں عام ہے اورکوئی شخص اگر کسی گمراہی پر ہے تو اس کو سب سے پہلے علم کے حقائق سے روشناس کرانا ضروری ہے نہ کہ اس پر بدعتی ہونے کا فتوی لگانا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے راستے کو بہرحال گمراہی سمجھا جائے گا گو اس شخص سے، اس کی لاعلمی یا ان شبہات کے پیش نظر جن کا وہ شکار ہے، نرمی برتی جائے گی۔
رسول اﷲ کی اُمت کا بے شمار بدعتی فرقوں میں بٹ جانا اور ہلاکت کا شکار ہونا احادیث کی ایک کثیر تعداد میں وارد ہوا ہے۔ ان احادیث کو یونہی نظر انداز کر دینا یا ان روایات کے ذکر کو تفرقہ بازی کا سبب جاننا نہ تو علم کا تقاضا ہے اور نہ ہی دانش کا۔ (تہتر) فرقوں والی حدیث کی بابت امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح مشہور ہے اور سنن و مسانید کی کتابوں ابوداؤد، نسائی اور ترمذی میں روایت ہوئی ہے (فتاوی ابن تیمیہ ج ٣ ص ٣٤٥) مزید برآں ان احادیث کے صحیح ہونے کی تصریح امام حاکم، امام ذھبی، امام ابن حجر، امام شاطبی، مناوی، ابن ابی عاصم، سیوطی اور البانی رحمہم اللہ ایسے ائمہ حدیث نے کی ہے۔
ان سب احادیث میں رسول اﷲ نے بذات خود یہ صراحت فرمائی ہے کہ یہ سب فرقے دوزخ کی راہ پر ہوں گے۔ یعنی ان کی راہ پر چلنا مستوجب عذاب ہوگا قطع نظر اس امکان سے کہ یہ عذاب وقتی ہو نہ کہ ہمیشگی کا، اور قطع نظر اس احتمال سے کہ کوئی شخص اپنی لاعلمی یا اپنے شبہات وتاویلات کے باعث اس راستے پر ہونے کے باوجود معذور بھی ہو سکتا ہے .... البتہ ان کی راہ وہ راہ ہوگی جو آدمی کو جہنم میں پہنچا دے۔
پھر ان احادیث میں رسول اﷲ نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ نجات کا مستحق گروہ صرف ایک ہوگا۔ سوال کیا جانے پر آپ نے اس کا کوئی نام بتانے کی بجائے ایک وصف بیان فرما دیا: من انا علیہ واصحابی یعنی ”وہ جو میرے راستہ پر ہوں اورمیرے صحابہ کے راستے پر“۔
تفرقہ یہ ہوگا کہ آدمی اس فرقہء ناجیہ کے راستے سے مختلف راستہ اختیار کرلے۔
’تفرقہ‘ اور ’تنازع‘ کی بابت آپ متقدمین علماءومحدثین اور فقہاءومفسرین اُمت کی نصوص کا تتبع فرمائیں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تفرقہ، جو کہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے، دو صورتوں میں پایا جا سکتا ہے: ایک یہ کہ جہاں شریعت ہرگز اختلاف کی کوئی گنجائش نہ رکھے وہاں لوگوں کو اختلاف کرنے دیا جائے اور دوسری صورت یہ کہ جہاں شریعت اختلاف کی گنجائش رکھے وہاں اختلاف کی اجازت نہ دی جائے اور وہاں ہر آدمی دوسرے کو اپنی یا اپنے امام کی راہ پر لے آنے پر ہی ضد کرے۔ تفرقہ کی یہ دونوں صورتیں مہلک ہیں۔ بلکہ یہ دو انتہائیں ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد تفرقہ کی پہلی صورت میں ملوث ہے اور ایک خاصی بڑی تعداد اس کے بالمقابل تفرقہ کی دوسری صورت کا شکار ہے۔ یہاں ہم ان دونوں صورتوں کی کچھ وضاحت کریں گے۔
تفرقہ کی پہلی صورت:
یعنی جہاں اختلاف شرعاً حرام ہو وہاں اختلاف کی گنجائش رکھنا۔ وہاں اختلاف ہو جانے کو برداشت کرنا یا قدرت رکھتے ہوئے اس پر سکوت اختیار کرلینا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقوں میں سے دین پسند لوگ ’رواداری‘ کے اس باطل مفہوم کا شکار ہیں۔ ان حضرات کا عمومی مسلک یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو ’غلط‘ نہ کہا جائے۔ اپنے کام سے کام رکھا جائے اور کسی گروہ کے عقیدے پر بھی ’تنقید‘ نہ کی جائے اور یہ کہ کوئی جیسا بھی اعتقاد رکھتا ہو اپنی اپنی جگہ سب ’صحیح‘ ہیں۔ کوئی شرک کرے، کوئی صحابہ سے بغض رکھے، کوئی معاذ اﷲ خدا کی صفات کا تیاپانچہ کرے .... یہ اپنے اپنے اعتقاد کی بات ہے کسی کو اس کے اعتقاد کے معاملے میں نہ چھیڑا جائے!
یہ مسلک اگر ان معاملات میں اختیار کیا جائے جن میں شریعت کی جانب سے اختلاف کی گنجائش ہے تو بلاشبہ درست ہے۔ مگر دین کے کچھ امور ایسے ہیں جو طے شدہ ہیں اور ان میں لوگوں کو اختلاف کی اجازت دینا تفرقہ کی بدترین صورت ہے اور اسلام کے حق میں صریح ترین جرم۔
وہ کونسے مسائل ہیں جن میں شریعت اختلاف کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتی؟ یہ اصولِ دین ہیں۔ شریعت کے مسلمات ہیں۔ اسلام کے بنیادی حقائق ہیں۔ صحابہ کا اجماع ہے۔ وہ امور ہیں جو قرون اولی (ثلاثہ) میں متفق علیہ جانے گئے۔ مثلاً شرک کی حرمت و شناعت، توحید کا وجوب، رسالت خصوصا ختم نبوت پر یقین، بقیہ ارکان ایمان، ارکان اسلام (شہادتین، نماز، زکوٰت، روزہ، حج) اور دین کے معلوم فرائض مثل امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد وغیرہ) انبیاءکی تعظیم، صحابہ واہل بیت کی حرمت، دین کے معلوم محرمات مثلاً سود، شراب، بدکاری، بے حیائی، فحاشی وغیرہ کو حرام اور لازمِ اجتناب جاننا وغیرہ وغیرہ۔
کوئی شخص اگر ان معاملات میں ’اختلاف‘ کرتا ہے یا ان معاملات میں سے کسی معاملے کو ’اختلافی مسئلہ‘ سمجھتا ہے تو وہ ظلم عظیم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اصول دین میں اختلاف کی گنجائش کہاں؟ یہی تو تفرقہ ہے۔
اُمت میں اگرکہیں شرک کے بعض افعال ہونے لگتے ہیں مثلاً اولیاءوصالحین کو حاجت روائی کیلئے پکارا جانے لگتا ہے، قبروں میں پڑے مردوں سے دُعائیں ہوتی ہیں، ’وحدت الوجود‘ کی صورت میں خالق کو مخلوق سے ملا دیا جاتا ہے اور مخلوق کو خالق کے ساتھ یکجا کردیا جاتا ہے، اﷲ کی شریعت کے بجائے غیر اﷲ کا قانون چلایا اور تسلیم کیا جاتا ہے .... تو شرک کے ان مظاہر سے صرف نظر کر لینا اور ان معاملات میں لوگوں کو اپنے اپنے اعتقاد پر چھوڑ دینے کو ضروری سمجھنا دراصل تفرقہ کی اجازت دینا ہے۔ ایسے مسائل میں کسی کو اختلاف کا حق دینا عین تفرقہ پروری ہے بلکہ یہ فرقہ واریت کی بدترین صورت ہے۔
کوئی اﷲ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرتا ہے، کوئی جنس عمل کو ایمان سے مطلقاً خارج قرار دیتا ہے، کوئی رسول اﷲ کی سنت کو حجت ماننے سے انکاری ہے، کوئی دین کے معلوم حقائق کو اپنی عقل کی کسوٹی پر چڑھاتا ہے، کوئی نیچریت کے فلسفیوں سے متاثر ہو کر دین کے مسلمہ عقائد کو نظر ثانی کے قابل سمجھتا ہے، کوئی فرائڈ یا ڈارکائم یا کارل مارکس ایسوں کی ضلالت کیلئے اسلام میں جگہ ڈھونڈتا ہے، کوئی سیکولرزم کو داخل اسلام کرنے کے درپے ہے، روافض یا خوارج کے مذہب پر چل کر کوئی صحابہ یا اہل بیت کی حرمت پر حرف آنا گوارا کرتا ہے یا ایسی کتب کو اپنے لئے مستند مرجع مانتا ہے جو صحابہ کی توہین سے بھری ہوئی ہیں .... تو اس کو ایسا کرنے دینا دین کو مسخ کرنے کی اجازت دینا ہے۔ یہ رسول اﷲ اور صحابہ کے راستے سے علیحدگی کو جواز دینا ہے۔ ان گمراہ راستوں پر چلنے والوں کا ’اتحاد‘ اسلام کو ہرگز مطلوب نہیں۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ’وحدت اُمت‘ نہیں۔ باطل پر چلنا بجائے خود تفرقہ ہے جیسا کہ (تہتر) فرقوں والی احادیث سے ثابت ہے۔ اس پر اگر آپ لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں تو یہ لوگوں کو تفرقہ پر اکٹھا کرنا ہے۔
چانچہ آج بہت سے لوگ جس بات کو ’رواداری‘ اور ’اتحاد بین المسلمین‘ سمجھتے ہیں اور کسی کے صریح باطل راستے کو باطل کہہ دینا اجتماع کے منافی جانتے ہیں ان کا یہ طرز فکر عین تفرقہ پروری ہے بے شک وہ اس کو اتحاد اور یک جہتی کا نام دیں۔
تفرقہ کی دوسری صورت:
یعنی جہاں اختلاف کی شرعاً گنجائش ہو وہاں لوگوں کو اختلاف کا حق نہ دینا۔ وہاں بھی لوگوں کو ایک خاص رائے پر چلنے کا پابند کرنا اور اگر وہ اس پر نہ چلیں تو ان سے اس طرح پیش آنا جس طرح کہ گمراہ فرقوں کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے۔ یہ ایک دوسری انتہاءہے اور بہت سے متشدد لوگ تفرقہ کی اس صورت کا شکار ہیں۔
علماءو فقہائے اُمت کی غالب ترین اکثریت بشمول حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری اور اہل الحدیث وغیرہ وغیرہ ایسے فقہی مسالک کو فرقہء ناجیہ میں شمار کرتی آئی ہے۔ یہ کئی فرقے نہیں دراصل ایک ہی فرقہ ہے اور ان سب کا ایک سے علمی اور شرعی مصادر پر اتفاق ہے۔ علما وفقہائے اُمت کے ہاں صدیوں تک یہ اعتبار قائم رہا ہے۔ عقیدہ کی کوئی بڑی خرابی نہ ہو تو یہ فقہی مذاہب اُمت کے معتبر مذاہب ہیں اور فقہی اختلاف کے باوجود یہ ایک جماعت ہیں اور سب کے سب اہل سنت وجماعت کی ذیل میں آتے ہیں۔ ان کا اختلاف وہ اختلاف ہے جس کی عمومی معنی میں علمائے اُمت کے ہاں گنجائش جانی گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہ نصوص کے فہم اور ترجیح اور استقصاءمیں ہونے والا اختلاف ہے۔ اجتہادی مسائل میں ہونے والا اختلاف ہے۔ یہ ’اختلافِ مذموم‘ نہیں بلکہ اصطلاحی طور پر یہ ’اختلافِ سائغ‘ ہے۔
نصوص کے فہم وجمع کے اندر صحابہ تک میں اختلاف ہوا۔ علماءصحابہ کے فتاوی ایک دوسرے سے مختلف ہوئے۔ کسی نے دوسرے سے اپنی رائے منوانے پر اصرار نہیں کیا۔ یہی طرز عمل تابعین اور اتباع تابعین میں چلتا رہا۔ کسی نے ایک دوسرے کو اپنے سے مختلف رائے رکھنے پر، بُرا بھلا نہ کہا۔ کسی نے اس بنیاد پر گروہ بندی نہ کی۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں یہی صحابہ و تابعین واتباع تابعین ہیں جو گمراہ فرقوں کے خلاف یک آواز ہو جاتے رہے۔ ان کے خلاف شدید ترین رویہ اختیار کرتے رہے۔ اہل بدعت کو اپنی مجلس تک سے اٹھا دیتے رہے۔ حجت قائم کر دینے کے بعد ان کا منہ دیکھنا تک گوارا نہ کرتے تھے۔ روافض، خوارج، قدریہ، جہمیہ اور معتزلہ کے خلاف ان کے باقاعدہ فتاوی موجود ہیں۔ گمراہ فرقوں کے خلاف امام ابوحنیفہ کے مناظرے، امام مالک، امام شافعی، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور حسن بصری کے سخت ترین مواقف اور امام احمد بن حنبل کا جہاد آخر کس سے پوشیدہ ہے۔ جبکہ خود ان ائمہ کا آپس میں بھی کثیر مسائل پر اختلاف ہوا مگر کیا انہوں نے فقہی اختلافات ہو جانے پر آپس میں ایک دوسرے پر بھی کبھی فتوے لگائے اور جس طرح بدعتی ٹولوں کو جہنم کی وعیدیں تک سنا دیا کرتے تھے کیا آپس میں بھی یہ رویہ رکھا؟ بات یہ ہے کہ وہ عقائدی اختلاف اور فقہی اختلاف میں فرق کو سمجھتے تھے۔ آج یہ فرق ہی ہم میں سے اکثریت کی نظر سے روپوش ہو گیا ہے۔
اسلام کے قرون اولی یعنی صحابہ، تابعین اور اتباع تابعین .... ان قرون ثلاثہ کو سلف کہا جاتا ہے۔ ایک طرف گمراہ ٹولوں کے ساتھ سلف نے کیا طرز عمل اختیار کیا اور دوسری طرف اپنے فقہی اختلافات کے معاملے میں کیا عمومی روش اختیار کی، یہ ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ہو سکتا ہے اور ایک متوازن منہج اپنانے کی بہترین بنیاد بھی۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ فروعات میں اختلاف ہو جانے کے باوجود سلف کے مابین باہمی محبت وہمدردی اور آپس کے تعلقات کی گرمجوشی میں کبھی کوئی کمی نہ آئی۔ اجتہاد مختلف ہو جانے کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اُمت کی شیرازہ بندی کرتے رہے۔ اہلسنت کے دائرے کے اندر جتنے فقہی مذہب ہیں وہ اپنی اپنی رائے پر رہتے ہوئے بھی باہم یکجا ہو سکتے ہیں۔ ان کا اتحاد دین میں مطلوب ہے۔
فروعات کے فہم واستنباط اور مسائل احکام سے متعلق نصوص کے جمع وتحقیق میں ائمہء دین کا جو اختلاف ہوا، اور اس سے پہلے کسی حد تک یہ صحابہ میں ہوا، وہ ایک معروف تاریخی واقعہ ہے۔ ان مسائل میں محاذ آرائی کی راہ اپنانا اور اپنے مذہب کیلئے تعصب رکھنا زیادتی ہے اور تفرقہ کی ایک صورت۔ حنفی شافعی وغیرہ مذاہب کا اختلاف اُمت کے بڑے بڑے محدثین اور مفسرین اور فقہاءکی نظر سے گزرا ہے۔ کسی نے نہ تو ان امور میں تعصب کی اجازت دی اور نہ یہ مطالبہ کیا کہ ان فقہی مذاہب کو یکسر ختم ہونا چاہیے اور نہ اس بات کو فرض کیا کہ فقہی مسائل میں پوری اُمت کو ایک ہی رائے اور ایک ہی فہم اور ایک ہی مذہب پر جمع ہونا چاہیے۔ ائمہ دین نے ان مسائل میں اختلاف ہو جانے کی گنجائش رکھی البتہ تعصب سے ممانعت کی۔
البتہ آج معاملہ اس سے خاصا برعکس ہے۔ دین کے فرعی مسائل میں بہت سے لوگ آج لوگوں سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ سب کے سب انہی کے مذہب یا انہی کی رائے یا انہی کے فہم پر آئیں بصورت دیگر وہ ان کو انما ھم فی شقاق کے مصداق صاف گمراہی پر جانیں گے۔ اس طرز فکر کے باعث ایک فقہی مذہب کا شخص دوسرے مذہب والے کے پیچھے نماز ادا کرنے تک کا روادار نہیں۔ سیاسی مجبوری ہو تو الگ مسئلہ ہے دل سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے کیلئے تیار نہیں گویا کہ وہ خود حق پر ہے اور دوسرا باطل پر! یہ یقیناً تفرقہ ہے اور تنازع بھی۔
ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم (الانفال: ٤٦)
”آپس میں تنازع مت کرو۔ ورنہ تمہارا زور جاتا رہے گا اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی“۔
صحابہ سے بہتر کوئی دور اس اُمت پر نہیں آسکتا۔نصوص کے فہم میں اختلاف صحابہ میں بھی ہوا حتی کہ خود رسول اﷲ کے دور میں ہوا اور آپ نے بعد والی نسلوں کو سمجھانے کیلئے کہ دین میں اس کی گنجائش ہے، اس پر سکوت فرمایا۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ رسول اﷲ کا کسی بات سے سکوت فرمانا باقاعدہ شریعت ہے۔
عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ قال: نادی فینا رسول اﷲ یوم انصرہ عن الاحزاب ان لا یصلین احد الظہر الا فی بنی قریظہ، فتخوف ناس فوت الوقت فصلوا دون بنی قریظہ، وقال اخرون لا نصلی الا حیث امرنا رسول اﷲ وان فاتنا الوقت فما عنف واحداً من الفریقین (صحیح مسلم۔ الجہاد والسیر) [عبداﷲ بن عمر سے یہی روایت صحیح بخاری میں بھی دو جگہ آئی ہے۔ البتہ بخاری کی روایت میں ظہر کی بجائے عصر کا ذکر آتا ہے۔ امام نووی کہتے ہیں ممکن ہے بعض لوگوں کو ظہر پڑھنی ہو اور بعض کو عصر۔]
”عبداﷲ بن عمر سے روایت ہے، کہا: رسول اﷲ نے غزوہ احزاب کے اختتام پر منادی فرمائی کہ کوئی شخص ظہر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ کے ہاں (پہنچ کر)۔ تب (راستے میں) کچھ لوگوں کو اندیشہ ہوا کہ نماز کا وقت گزر جانے والا ہے۔ انہوں نے بنی قریظہ کے (ہاں پہنچنے سے) پہلے ہی نماز پڑھ لی۔ جبکہ دوسرے لوگ بولے ہم تو نماز وہیں پڑھیں گے جہاں ہم کو رسول اﷲ نے حکم دیا بے شک نماز کا وقت فوت کیوں نہ ہو جائے۔ تب آپ نے فریقین میں سے کسی ایک کو بھی سرزنش نہ کی“۔
حافظ ابن حجر فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قال السھیلی: فی ھذا الحدیث من الفقہ انہ لا یعاب علی من اخذ بظاہر حدیث او آیت، ولا علی من استنبط من النص معنیً یخصصہ ....
وقد استدل بہ الجمھور علی عدم تاثیم من اجتھد لانہ لم یعنف احدا من الطائفتین، فلو کان اثم لعنف من اثم
”سُھیلی کہتے ہیں کہ: اس حدیث سے یہ فقہی نکتہ واضح ہوا کہ نہ تو اس شخص کی مذمت ہوگی جو کسی حدیث یا آیت کے ظاہری معنی سے استدلال کرے اور نہ ہی اس آدمی کی عیب جوئی ہوگی جو نص کے کسی ایسے معنی سے استنباط کرے جو اس کی کوئی خاص مراد متعین کردے....
”جمہور علماءنے مذکورہ حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ جو آدمی اجتہاد کرے اس کو گناہ گار نہ ٹھہرایا جائے گا۔ کیونکہ رسول اﷲ نے فریقین میں سے کسی ایک کو بھی بُرا یا غلط نہ کہا۔ چنانچہ اگر یہ گناہ ہوتا تو آپ اس فریق کو ضرور تنبیہ کرتے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہوتا“۔
جہاں تک روایات کے قبول کرنے میں اختلاف ہو جانے کا معاملہ ہے تو اس کی نوبت صحابہ کی زندگی میں ظاہر ہے کم ہی آسکتی تھی۔ سب کے سب صحابہ عدول تھے۔ راویوں کی جرح وتعدیل سے اﷲ تعالیٰ نے ان کو بے نیاز کر رکھا تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ کوئی روایت کسی صحابی تک نہ پہنچے اور اس بات کے متعدد واقعات مذکور ہوئے ہیں جہاں کسی صحابی نے نص معلوم نہ ہونے کے باعث اجتہاد کیا۔ روایات کی چھان پھٹک بعد کی نسلوں کی ایک ضرورت تھی صحابہ کی زندگی میں اس کی نوبت ہی نہ آئی تھی۔ اس کے باوجودچند ایک واقعات پھر بھی ایسے ملتے ہیں جن میں بعض صحابہ بعض روایات کی بابت توقف یا حتی کہ بعض اوقات اختلاف کرتے ہوئے بھی پائے گئے۔ موضوع کی طوالت کے پیش نظر اس پر گفتگو کا یہ محل نہیں۔
البتہ صحابہ کے بعد کے ادوار میں قبول روایات کے اندر اختلاف کا بڑھ جانا ایک طبعی واقعہ تھا۔ خصوصاً جب عالم اسلام میں ایک بڑی توسیع ہوئی اور جہاد و تعلیم و امارت کی ضرورت کے پیش نظر ذخیرہ احادیث اور رواہ احادیث مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اس معاملے میں بھی سلف کے مابین شدت نہ اپنائی گئی۔ روایات کی تصحیح وتضعیف اور ترجیح کا معاملہ اہل علم میں ہمیشہ سے چلتا ہی آیا ہے۔ بعض روایات ایسی ہیں کہ ایک ایک حدیث پر بحث کیلئے ضخیم کتب تک لکھی گئیں۔ ان معاملات میں کوئی کتنی تحقیق کر سکتا ہے یہ ہر شخص کی ہمت پر ہے۔ اس بنیاد پر محاذ آرائی کی بہرحال گنجائش نہیں۔
پھر اہل علم میں تعارضِ ادلہ ایک بڑے اختلاف کا سبب بن جاتا رہا ہے اور مختلف لوگ اس تعارض کے ازالہ کے معاملے میں مختلف طریقے اپناتے رہے ہیں۔
ان سب معاملات میں علمی اختلاف کی پوری گنجائش ہے۔ بحث ونظر اور تحقیق ومطالعہ کی ضرورت مسلم ہے۔ تبادل آراءاور مناقشہ وتصحیح ان معاملات میں ایک برحق موقف ہے۔مگر تفرقہ ونزاع اور گروہ بندی کی اجازت نہیں۔ فقہی اختلافات کا ہو جانا ہرگز نقصان دہ نہیں البتہ اس کی بنیاد پر دھڑے بندی ہونے لگنا نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنا فتنہ بھی ہوگا اور بدعت بھی۔
آئیے اس معاملے میں بعض اہل علم کی کچھ نصوص دیکھتے ہیں:
امام شاطبی کی الاعتصام سنت کے ساتھ تمسک اور بدعت وانحراف کے رد کے موضوع پر ایک منفرد ترین تالیف ہے۔ اس میں امام شاطبی فرماتے ہیں:
فان الخلاف من زمان الصحابہ الی الان واقع فی المسائل الاجتھادیہ و اول ما وقع الخلاف فی زمان الخلفاءالراشدین المھدیین ثم فی سائر الصحابہ ثم فی التابعین ولم یعب احد ذلک منھم وبالصحابہ اقتدی من بعدھم فی توسیع الخلاف۔ (الاعتصام: ٨٠٩)
”اجتہادی مسائل میں اختلاف صحابہ کے دور سے لے کر آج تک واقع ہوتا آیا ہے۔ سب سے پہلے جو اختلاف ہوا وہ خلفائے راشدین مہدیین کے زمانے میں ہوا پھر صحابہ کے سب ادوار میں رہا۔ پھر تابعین میں ہوا۔ ان میں سے کسی نے بھی اس پر کسی کو معیوب نہ جانا۔ صحابہ کے بعد والوں میں بھی اسی طرز پر اختلاف ہوا اور اس میں توسیع بھی ہوئی“۔
امام مناوی یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ کہاں اختلاف ناقابل برداشت ہے اور کہاں اس کی اجازت ہے، فرماتے ہیں:
فاصل الدیانات کلھا: التوحید وصفات الباری جل وعز والایمان بالغیب کالجنت والبعث والجزاءوالصراط والحوض والشفاعہ وعذاب القبر۔ وکذلک فروع الدیانات التی یعلم وجوبھا بدلیل مقطوع بہ مثل: الصلاہ والزکات والحج والصوم، وکذلک المناھی الثابتہ بدلیل مقطوع بہ فلا یجوز الاختلاف فی شیءمن ذلک۔ ولا مسوِّغ للاختلاف فیہ اُصلاً۔ ومن خالف فی شیءمن ذلک فھو اما کافر اوضال اعاذنا اﷲ من ذلک ....
واما الذی یسوغ فیہ الاختلاف فھی فروع الدیانات اذا استخرجت احکامھا بامارات الاجتھاد ومعانی الاستنباط .... فھذہ یسوغ فیھا اختلاف العلماءولکل واحد منھم ان یعمل بما یؤدی الیہ اجتھادہ (فوائد الفوائد فی اختلاف القولین لمجتھد واحد۔ الامام المناوی ص ٧١۔ ط۔ دارالصحابہ) [بحوالہ کتاب: الفقہ الغائب مولفہ یاسر محمد العدل۔ مطابع الوفاء۔ المنصورہ۔ مصر]
”آسمانی شریعتوں کا اصل محور توحید ہے اور صفات باری تعالیٰ اور ایمان بالغیب مثل جنت، حیات بعد الموت، جزا وسزا، پل صراط، حوض، شفاعت اور عذاب قبر۔ اسی طرح شرعی احکام کی وہ فروعات بھی جن کا وجوب دلیل قطعی سے ثابت ہے مثلاً نماز، زکات، حج اور روزہ۔ اسی طرح وہ محرمات بھی جن کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہے .... ان میں سے کسی چیز میں بھی اختلاف جائز نہیں۔ ان میں اختلاف کا کوئی جواز سرے سے ہے نہیں۔ جو ان معاملات میں اختلاف کرے وہ یا تو کافر ہے اور یا پھر گمراہ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے ....
”ہاں جس چیز میں اختلاف کی گنجائش ہے وہ ہیں شریعت کی وہ فروعات جن کا استخراج اجتہاد اور استنباط ایسے طریقوں سے کیا جاتا ہے .... چنانچہ اس میں علماءکے اختلاف کرنے کی گنجائش ہے اور ہر ایک کو اس کا اجتہاد جس نتیجہ تک پہنچائے وہ اسی پر عمل کرنے کا مجاز ہے“۔
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
واما الاختلاف فی الاحکام فاکثر من ان ینضبط ولو کان کلما اختلف مسلمان فی شیءتھاجرا لم یبق بین المسلمین عصمہ ولا اخوہ۔ (فتاوی ابن تیمیہ ٢٤:١٧٣)
”مسائل احکام میں تو اس قدر اختلاف ہوا ہے کہ اس کا ضبط میں آنا ممکن نہیں۔ اگر کہیں ایسا ہوتا کہ جب بھی کبھی دو مسلمانوں میں کسی مسئلے کی بابت اختلاف ہو تو ایک دوسرے سے قطع تعلقی اختیار کر لی جاتی تو مسلمانوں میں کسی عصمت یا اخوت کا نام تک باقی نہ رہتا“۔
حافظ ابن عبدالبر، جو کہ موطا مالک کی مشہور ترین شرح: التمہید لما فی المؤطامن المعانی والاسانید کے مولف ہیں اور منہج سلف کے ایک بہترین ترجمان مانے جاتے ہیں اپنی کتاب: جامع بیان العلم وفضلہ میں بعض روایات ذکر کرتے ہیں جو کہ ہمارے اس موضوع سے متعلق ہیں۔ اپنی کتاب کے باب (٥٤) بیان مایلزم الناظر فی اختلاف العلماءمیں فرماتے ہیں:
وعن القاسم، قال: ”لقد اعجبنی قول عمر بن عبدالعزیز۔ رضی اﷲ عنہ۔: ”ما احب ان اصحاب رسول اﷲ لم یختلفوا، لانہ لو کان قولا واحداً کان الناس فی ضیق، وانھم ائمہ یقتدیٰ بھم، ولو اخذ رجل بقول احدھم کان فی سعہ“ قال ابوعمر: ھذا فیما کان طریقہ الاجتھاد (کتاب کا صفحہ ٢٦٦) [صحیح جامع بیان العلم وفضلہ۔ تالیف ابی عمر یوسف بن عبدالبر۔ اختصار وتہذیب ابوالاشبال]
”قاسم بن محمد سے روایت ہے، کہا: مجھے عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول بہت پسند آیا: مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ صحابہ نے (بعض مسائل میں) آپس کے اندر اختلاف نہ کیا ہوتا۔ کیونکہ ان سے اگر ایک ہی قول مروی ہوا ہوتا تو لوگ تنگی میں رہ جاتے، جبکہ صحابہ امام ہیں جن کی اقتدا ہونی چاہیے۔ چنانچہ کوئی شخص کسی ایک صحابی کا قول اختیار کرلے تو اس کیلئے اس کی گنجائش ہے“۔
ابن عبدالبر کہتے ہیں: یہ ان مسائل میں ہوگا جو اجتہاد سے متعلق ہوں۔
وعن اسامہ بن زید قال: ”سالت القاسم بن محمد عن القراءت خلف الامام فیما لم یجھر فیہ فقال: ان قرات فلک فی رجال من اصحاب رسول اﷲ اسوہ حسنہ، وان لم تقرافلک فی رجال من اصحاب رسول اﷲ اسوہ حسنہ
وعن یحیی بن سعید قال: ”ما برح اولو الفتوی یفتون، فیحل ھذا، ویحرم ھذا، فلا یری المحرِّم ان المحلل ھلک لتحلیلہ، ولا یری المحلل ان المحرم ھلک لتحریمہ“ (ص ٣٦٧)
”اسامہ بن زید لیثی سے روایت ہے، کہا: میں نے امام قاسم بن محمد سے سری نماز کے اندر قرات خلف الامام کی بابت دریافت کیا۔ فرمایا: اگر قرات کر لو تو بھی صحابہ رسول میں سے کچھ لوگوں کی مثال موجود ہے اور اگر نہ کرو تب بھی صحابہ میں سے کچھ لوگوں کی مثال موجود ہے۔
”یحی بن سعید سے روایت ہے، کہا: آج تک ایسا ہوا ہے کہ فتوی دینے والے اہل علم فتوی دیتے ہیں۔ ایک شخص (کسی معاملے میں) حرام ہونے کا فتوی دیتا ہے دوسرا حلال ہونے کا فتوی دیتا ہے۔ نہ تو حرام کہنے والا عالم حلال کہنے والے کو ہلاکت پر جانتا ہے اور نہ ہی حلال کہنے والا حرام قرار دینے والے کوہلاکت میں پڑا ہوا جانتا ہے“۔
وقد اختلف اصحاب رسول اﷲ فخطابعضھم بعضا، ونظر بعضھم فی اقاویل بعض وتعقبھا، ولو کان قولھم کلہ صوابا عندھم لما فعلوا ذلک (ص ٣٧٢) [صحیح جامع بیان العلم وفضلہ۔ تالیف ابی عمر یوسف بن عبدالبر۔ اختصار وتہذیب ابوالاشبال]
”اصحاب رسول نے بلاشبہ آپس میں (بعض مسائل پر) اختلاف کیا۔ وہ ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔ ایک دوسرے کے اقوال وآراءپر نقد و تبصرہ بھی کرتے رہے۔ ان میں سے سب کے اقوال اگر (بیک وقت) درست ہوتے تو وہ ایسا نہ کرتے“۔

’تفرقہ‘ کے فتنہ سے کیسے نمٹا جائے؟
کسی مسئلے کے حل کا یہی طریقہ ہو سکتا ہے کہ اس کی بابت ایک شرعی موقف اپنایا جائے، اسی کی تبلیغ کی جائے اور اسی پر محنت سے کامیابی کی اُمید لگائی جائے۔ اس دنیا میں کسی بھی مسئلے کا حل کسی ’جادوئی چھڑی‘ سے کر دینا ممکن نہیں۔
اس مسئلہ میں فقہِ سلف اور منہج اہلسنت پر کام نہ ہونے کے باعث یہاں صورت حال کچھ یوں ہو چکی ہے کہ لوگ تفرقہ کی ایک صورت سے نکلتے ہیں تو دوسری میں جا پڑتے ہیں اور دوسری سے نکلتے ہیں تو پہلی میں واپس آجاتے ہیں۔ فہم دین کے معاملے میں توازن اور جامعیت کا حاصل ہوجانا، کسی قوم کے حق میں خدا کی سب سے بڑی نعمت ہو سکتی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت ١٤ ] ومن الذین قالوا انا نصاریٰ اخذنا میثاقہم فنسوا حظا مما ذکروا بہ فاغرینا بینہم العداوہ والبغضاءالی یوم القیامہ۔ ”وہ لوگ جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں، ہم نے تو ان سے بھی پختہ عہد لیا تھا، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کر دیا، تب ہم نے ان کے آپس میں قیامت تک کیلئے بغض اور عداوت ڈال دی....[ کے ذیل میں امام ابن تیمیہ کہتے ہیں:
”پس جب بھی لوگ اس مشن کے ایک حصے کو چھوڑ دیں جس کا ان کو خدا نے مامو رکیا ہوتا ہے تو ان میں آپس کا بغض اور عداوت آجایا کرتی ہے۔ پھر جب ان میں تفرقہ پڑتا ہے تو وہ فساد اور ہلاکت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جب وہ مجتمع ہوں تو صلاح وفلاح اور جہانبانی سے سرفراز ہوتے ہیں کیونکہ ’جماعت‘ رحمت ہے اور ’تفرقہ‘ عذاب“۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ٣ ص ٤٢١)
دین کے اصول اور فروع کا فہم نہ ہونے کے باعث معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ جس چیز کو وحدتِ اُمت کا نسخہ جان لیا جاتا ہے احادیث کی رو سے وہ عین تفرقہ ہوتا ہے۔ رسول اﷲ جس طرز عمل سے خبردار کریں اور جن فرقوں سے اُمت کو متنبہ کریں بلکہ جن فرقوںکو عذاب کی وعید سنائیں ان کے اختلافات پر مٹی ڈال دینا ’تفرقہ‘ کا حل جان لیا جائے نہ کہ ان کی گمراہی کو رد کیا جانا! یا پھر دوسری طرف فرقہء ناجیہ کو ایک فقہی مذہب پر مجتمع کرتے ہوئے، جو کہ ہرگز شریعت کا مقصد نہیں، لڑائی بھڑائی، محاذ آرائی اور گروہ بندی کی راہ اختیار کر لی جائے!
تفرقہ کی دونوں صورتیں واضح ہو جانے کے بعد ان سے نبرد آزما ہونے کا منہج خودبخود واضح ہو جاتا ہے۔ جہاں تک فرقہ واریت کو ختم کرنے کا تعلق ہے تو آپ اس بات کے مکلف نہیں کہ آپ اس کو ہرحال میں ختم ہی کرکے رہیں۔ اُمت کے بے شمار (بہتر) فرقوں میں بٹ جانے کی پیشین گوئی خود رسول اﷲ نے فرمائی ہے۔ جس طرح کہ اس کے علاوہ اور بھی فتنہ وشر کے کئی واقعات کی آپ نے پیشین گوئی فرمائی ہے۔ ان واقعات کو رونما ہونے سے تو ہم نہیں روک دینے کے البتہ فتنوں کی صورتحال میں اپنا کردار متعین کرنے کے ہم ضرور مکلف ہیں۔ ’تفرقہ‘ سے نبرد آزما ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ اس میں ہم اپنا وہ کردار ادا کریںجو ہم سے شرعاً مطلوب ہے بغیر اس بات پر انحصار کئے کہ ہم اس فتنہ کو وجود سے ختم کر پائیں گے یا نہیں۔
کسی بھی فتنہ کی بابت شرعی موقف اختیار کرنا اور اس کے عملی تقاضے ادا کرنے میں لگ جانا اس فتنہ کا پھیلاؤ کم کر دینے کا سبب ضرور ہو سکتا ہے۔ البتہ ایک فتنہ کی بابت ایک ایسا موقف اختیار کرنا جو شریعت سے متعارض ہو بذات خود ایک فتنہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ایسا کرنے سے بہرحال اجتناب ضروری ہے۔
چنانچہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ فرقہ واریت کے فتنہ کی بابت ایک مسلمان کا کیا فرض بنتا ہے؟ باقی ہر سوال کا جواب اس کے اندر خود بخود آجائے گا۔
جہاں تک تفرقہ کی پہلی صورت کا تعلق ہے اس کی بابت ہر باسمجھ آدمی پر فرض ہے کہ اُمت کے اندر واقع ہونے والے انحرافات اور گمراہی پر مبنی رحجانات کے آڑے آنے کی حتی الوسع اور باحسن انداز کوشش کرے۔ بدعتی فرقوں کو غلط جانے۔ دین کے مسلمات مانند توحید، خدا کی صفات، آخرت، تقدیر، رسالت، سنت، صحابہ واہل بیت کی حرمت.... کسی چیز پر آنچ آنا برداشت نہ کرے۔ ان مسائل میں اختلاف کو ہلاکت جانے اور ان معاملات میں فرقہء ناجیہ کی راہ سے تمسک رکھے۔ ان معاملات کو ہرگز ہرگز ’اختلافی مسائل‘ نہ جانے۔ کوئی شخص اگر جہالت یا غلط فہمی کے باعث دین کے مسلمات میں سے کسی امر کی بابت انحراف کی راہ پر چل پڑا ہے تو اس کے ساتھ دوستانہ اور ہمدردانہ انداز میں بحث و گفتگو کرنے میں کوئی بھی حرج نہیں۔ اس کو کوئی اچھی چیز پڑھانا یا سنانا یقیناً مطلوب ہے۔ اس کی سننا اور اس کے شبہات دور کرنا نیکی کا بہترین عمل ہے۔ مگر اس معاملے کو حل کئے بغیر چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں۔ ایک انحراف کو ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے گمراہی کا حتی الامکان سدباب ہونا چاہیے۔ طریقہ بہترین سے بہترین اپنایا جائے مگر اس کام کو ہرگز غیر اہم نہ سمجھا جائے۔
معاشرے میں سمجھداروں کی ایک معقول تعداد اگر اس مشن کو انجام دینے پر تیار ہو جاتی ہے .... اصول دین کی بابت حق کی ہر حال میں اتباع کروانے پر مصر اور باطل کی سرکوبی اور گمراہ فرقوں اور گمراہ نظریوں کا راستہ معاشرے میں مسدود کر دینے پر کمربستہ ہو جاتی ہے تو اس رحجان کے نتیجے میں تفرقہ کی اس پہلی صورت کا سدباب ہونے لگے گا۔ مختصر یہ کہ اسلام کے مسلمات اور بنیادی عقائد کی بابت کسی کے ساتھ کوئی مفاہمت Compromisation نہیں۔ کوئی خوش ہو یا ناراض، کسی فرقے کی اکثریت ہے یا اقلیت .... ایک گمراہی کا صاف صاف رد ہونا چاہیے خواہ کوئی اس پر کتنا ہی سٹپٹائے اور گمراہی کا رد کرنے والے کو کیسے ہی بُرے القاب دے۔ اُمت کے اندر اگر ایسے لوگ نہ ہوتے جو اپنے دور کی گمراہیوں کو اسلام سے چھانٹ کر رکھ دیں تو آج اِس اُمت کا بھی معاذ اﷲ وہ حشر ہو چکا ہوتا جو پہلی اُمتوں کا ہوا۔ گمراہیوں کو اسلام کی سند کبھی اور کسی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔ گمراہیوں کو اپنے حال پر ہرگز نہیں چھوڑا جا سکتا اس بات کو یقینی بنانا اس اُمت کی بہترین خدمت ہے۔ یہ اِس اُمت کا اعزاز بھی ہے اور امتیاز بھی کہ اس کا دین خالص اور ہر آلائش سے پاک ہے۔ دین کو ’خالص اور آلائشوں سے پاک‘ رکھنے کی بہرحال کوئی قیمت ہے اور اس کو ادا کر دینا ہر مصلح پر فرض۔
یقیناً آج کے دور میں اس پر بہت سی محنت ہونے کی ضرورت ہے۔ اساسیات دین میں کئے جانے والے انحرافات و اختلافات پر مٹی ڈال دینا آسان ہے مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ یہ ایک بُرائی کو ایک اور بُرائی کے ساتھ رد کرنا ہے۔
جہاں تک تفرقہ کی دوسری صورت کا تعلق ہے تو اس کا سدباب اسی صورت ممکن ہے کہ لوگوں میں دین کے اصول اور فروع کی بابت آگہی پیدا کی جائے۔ اہلسنت کے ہاں جو فقہ الاختلاف رائج رہی ہے اس کی سمجھ عام کی جائے۔ صحابہ کے دور سے لے کر بعد کے ادوار تک فقہی اختلاف کو جس تحمل اور بردباری اور وسیع القلبی کے ساتھ برداشت کیا جاتا رہا اور ان امور میں تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح آراءکے مابین تبادلہ ہوتا اور قربت پیدا کی جاتی رہی اس منہج کی تعلیم عام کی جائے اور اس رحجان کو دین کے طالب علموں اور تحریکی نوجوانوں اور دین پسند عوام میں زیادہ سے زیادہ پروان چڑھایا جائے۔
اس پر بھی اگر سمجھدار ذہنوں کی ایک معقول تعداد آجاتی ہے اور لوگوں کو علمی وفقہی مسائل میں اختلاف کے آداب سکھانے کا بیڑا اٹھا لیتی ہے تو دیندار طبقوں کو ایک بہترین جہت دی جا سکتی ہے۔
تفرقہ کی ان دونوں صورتوں سے نبردآزما ہونے کیلئے علم وفہم کا ایک خاص معیار اور سوچ میں ایک خاص درجے کا توازن درکار ہے۔ اس توازن کے نہ ہونے کے باعث صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ جب آپ فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہیں اور فقہی مذاہب کے مابین رواداری کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تو اس سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اُمت میں پھیلے ہوئے شرک اور کفریہ بدعات اور کچھ کھلی کھلی گمراہیوں کے معاملہ میں بھی شاید آپ ’غیر جانبدار‘ اور ’لاتعلق‘ ہیں! یعنی آپ روشن خیال ہیں! اور اگر آپ شرک اور کفریہ بدعات اور کھلی کھلی گمراہیوں کا رد کرتے پائے جائیں تو ’فرقہ واریت‘ کے مرتکب ٹھہریں! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دین کے اصول اور فروع کی بابت متوازن منہج کا علم قریب قریب مفقود ہے۔ یہ توازن منہج سلف اور اہلسنت کے تحریکی ورثے کا عمیق فہم حاصل کرنے اور اس کو عام کرنے سے ہی آسکتا ہے۔ اس منہج سے آگاہی عام ہونے لگے تو اُمت کے نوجوانوں کو علمی اور تحریکی طور پر ایک متوازن جہت دی جا سکتی ہے۔ ہاں اس پر اگر محنت نہیں ہوتی تو ہر سو غلط فہمیوں کے انبار دکھائی دینا باعث حیرت نہ ہونا چاہیے۔ پھر بے شک آپ جتنی بھی معقول بات کریں اس صورتحال کی کم از کم قیمت آپ کو یہ دینا پڑے گی کہ آپ کہیں کچھ اور سمجھا بالکل کچھ اور جائے۔ بات کے مانے یا نہ مانے جانے کی نوبت تو بعد میں آیا کرتی ہے ابھی تو بات سمجھا لینا بھی شاید دشوار ہو۔ ’تاثرات‘ کی گرد کو صاف کرنا حد درجہ ناگزیر ہے۔
عوام میں اترنے سے پہلے توحید کے داعیوں کو خاصا ابتدائی کام Homework کرنا ہوگا جس میں منہج اہلسنت پر محنت سرفہرست ہے۔
(حامد کمال الدین)
http://www.eeqaz.com/main/articles/2547.htm#

Thursday, 1 October 2015

نگاہ مرد مومن


نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیریں

شعرکا پس منظر...

کہتے ھیں کہ علاّمہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک دھریہ آیا اور خدا تعالیٰ کی ذات کے انکار میں تین دن تک بحث کرتا رھا (نعوز باللہ)
آخر ....علاّمہ نے فرمایا کہ چلو...آج میں تمہیں کسی مردِ قلندر کے پاس لے جاتا ھوں...شاید وہ تمہاری تقدیر بدل دے...
چنانچہ وہ اس دھریئے کو میاں شیر محمّد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں لے گئے....
جونہی وہ دھرّیہ حضرت میاں صاحب رح کے دربار میں پہنچا تو میاں صاحب نے اس کی کمر پر ھاتھ مارا اور کہا " کیوں بھئی بیلیا...رب ھے کہ نہیں! " یہ سنتے ھی اس دھریئے نے بغیر کسی کلام کے تسلیم کر لیا اور کہا کہ "جی واقعی ایک خدا موجود ھے"..
(الحمدُ للہ)

یہ شعر علاّمہ نے اسی موقع کی مناسبت سے کہا تھا

کوئی اندازہ کر سکتا ھے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے...بدل جاتی ھیں تقدیریں

تقدیروں کے بدلنے کا طریقہ بھی یہی ھے کہ اپنی کشتیء حیات کو کسی ماھر کشتی بان کے سپرد کر دیا جائے...

اولیا را ہست قدرت از اللہ
تیر جستہ باز آرندش براہ
اولیاء کو اللہ نے یہ طاقت عطا کی ہے کہ وہ ایک چلے ہوئے تیر کو بھی راستے سے واپس لا سکتے ہیں (کسی غافل کو راہ حق پر ایک ہی نگاہ میں لا سکتے ہیں)۔
مولانا جلال الدّین رومیؓ - مثنوی معنوی
بابا بلھے شاہ نے لکھا،
گُورو جو چاہے سو کردا ہے
گُورو خالی کاسے بھردا ہے
گُورو بھریاں نوں خالی کردا ہے