Wednesday, 4 February 2015

قران کریم اور علم طب

سوال* کیاقرآن میں هر بیماری کاعلاج موجود هے؟
یه سوال ایک غیر مسلم نےکیاهے:

اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی کے ہر معاملہ میں دین کامل دے کر مبعوث فرمایا ہے جیسا کہ ابوذر رضي اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول صلی اللہ علییہ وسلم نے چھوڑا تو آسمان میں اگر کوئ پرندہ بھی اپنا پر ہلاتا ہے تو اس کا بھی علم ہمیں دے کر گۓ ۔ مسند احمد ( 20399 ) دیکھیں مجمع الزوائد ( 8 / 263 ) ھیثمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں کہ اسے طبرانی نے روایت کیا اورمحمدبن عبداللہ بن یزيد المقری جو کہ ثقہ ہے کے علاوہ اس کے رجال صحیح ہيں ۔

جو اسلام اس لۓ آیا کہ لوگوں کی زندگی کی تمام حاجات وضروریات کو پورا کرے ۔

2- :

احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جو کچھ آیا ہے وہ قرآن کے بیان کی تکمیل ہے ، اورمسلمانوں کے ہاں یہی دو مصدر اساسی ہیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے کوئ ایسی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علا ج اور دوائ بھی اتاری ہے ۔

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اللہ تعالی نے جو بھی بیماری اتاری ہے اس کی شفااور علاج بھی اتارا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5678 )

3– :

سائل نے جو یہ ذکر کیاہے کہ کچھ مسلمانوں نے بہت سے علاج قرآن کریم سے ایجاد کیے ہیں ، تو اس کے متعلق ہم یہ کہیں گے کہ اس میں کچھ مبالغہ آرائ سے کام لیا گیا ہے ۔

تو قرآن کریم کوئ علم طب اور نہ ہی جغرافیا اور بیالوجی کی کتاب نہیں ہے جیسا کہ بعض مسلمان یورپیوں کے سامنے کہتے پھرتے ہیں بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو کہ لوگوں کے لۓ رشد وھدایت کا منبہ ہے اوراس کا سب سے بڑا معجزہ اس کی بلاغت اور قوت معانی ہے جو کہ اس کا اصلی اعجاز ہے ، تو اللہ تعالی نے یہ کتاب اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے دور میں نازل فرمائ جس میں فصاحت و بلاغت بہت اونچے درجے پر تھی تو اس وقت یہ کتاب انہیں عاجز کرنے کے لۓ نازل کی گئ کہ یہ کسی انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے آئ ہے ۔

تو اس میں کوئ تعجب نہیں اور نہ ہی اس دین میں کوئ نئ چیز ہے ، تودیکھ لیں موسي علیہ السلام کے نشانیاں اور معجزات – لاٹھی اور ھاتھ کا چمکنا – اسی جنس میں سے تھیں جو کہ اس وقت جادو کی شکل میں پھیلا ہوا تھا ، اور اسی طرح موسی علیہ السلام کی دوسری نشانیاں – مردوں کو زند کرنا ، اور برص زدہ اور کوڑھ کے مریض کو صحیح کرنا – یہ بھی اسی جنس میں سے تھیں جس میں ان کی قوم ماہر تھی اور ان میں پھیل چکی تھی جسے طب کا نام دیا جاتا ہے ۔

تو اس لۓ ہم یہ کہیں گے کہ قرآن مجید میں جو سب سے بڑی اور عظیم چیز ہے وہ اس کی فصاحت وبلاغت ہے ، تو آج تک اس پر غور فکر اور تدبر کرنے والے والے علماء کے لۓ یہ واضح ہورہی ہے ۔

اور اس کا معنی یہ نہیں کہ اس میں فصاحت وبلاغت کے علاوہ کچھ اور نہیں بلکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں انسانی جسم کی ترکیب اور اس کے اعضاء اور اس کے پیدائشی مراحل اور بعض طبعی مظاہر اوراس کے علاوہ اوراشیاء کا بھی ذکر فرمایا ہے ۔

اور سائل نے جو علاج کے متعلق بات کی ہے ، تو اس کے بارہ میں ہم یہ کہیں گے کہ قرآن کریم تو مومنوں کے دلوں اور بدنوں کی بیماریوں کے لۓ شفا ہی شفاہے ، اور اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ( شھد ) کا ذکر کیااور یہ بیان کیا ہے کہ یہ لوگوں کے لۓ شفا ہے ،اور اسی طرح اصل چیز صحت اور امراض سے بچاؤ کا بھی ذکر فرمایاہے ۔

تو جو اس لحاظ سے یہ کہے کہ قرآن کریم میں بہت ساری ادویات کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اورکچھ صحیح نہیں بلکہ اس میں بعض مسلمانوں نے مبالغہ ارائ سے کام لیا ہے ، اور قرآن کریم کوئ طب کی کتاب نہيں ، اورپھر اس وقت ایسے ایسے امراض پیدا ہو چکے ہیں جو کہ پہلے موجود نہیں تھے تو ان کاعلاج امراض کے وجود سے قبل ہی کیسے آۓ گا – سائل کے قول کے اعتبارسے - ؟ ۔

4 - :

ا – قرآن کریم کے شفا ہونے پر ذیل میں چند ایک آیات پیش کی جاتی ہیں :

اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

{ یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لۓ سرا سر شفا اوررحمت ہے } الاسراء ( 82 ) ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ :

اللہ تعالی کا یہ فرمان : { یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لۓ سرا سر شفا اوررحمت ہے } اور صحیح یہ ہے کہ یہاں پر ( من ) جنس کے بیان کے لۓ ہے نہ کہ تبعیضیہ اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ :

{ اے لوگوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصحیت اور جو کچھ سینوں میں روگ ہے اس کی شفاآئ ہے }

تو قرآن کریم تمام قلبی اور بدنی بیماریوں کا علاج اور شفاہے اور اسی دنیا وآخرت کی بھی دوا ہے ، تو ہر ایک اس شفا کا اہل بھی نہیں اور نہ ہی اسے توفیق ملتی ہے ، لیکن جب بیمار آدمی علاج کرنے میں صحیح توجہ سے اس علاج پر عمل کرے اور اسے صدق دل اور ایمان ویقین اور اسے قبول اور پختہ اعتقاد اور اس علاج کی شروط پوری کرتے ہوۓ اپنی بیماری پر رکھے تو پھر اس کے آگے بیماری کبھی ٹھر ہی نہیں سکتی ۔

پھر یہ بیماری اس کلام اللہ کے آگے کیسے ٹھر سکتی ہے جو اگر پہاڑوں تر اتارا جاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتے ، یا زمین پر اتارا جاتا تو اسے وہ ٹکڑے کردیتا ، تودلوں اور بدنوں کا کوئ ایسا مرض نہیں جس کے متعلق قرآن کر یم راہنمائ نہ کرے اور اس کے سبب اور اس سے بچاؤ کا طریقہ نہ بتاۓ لیکن یہ سب اس کے لۓ ہے جسے اللہ تعالی کتاب اللہ کی سمجھ عطافرماۓ ۔زاد المعاد ( 4 / 352 )

ب : اور قرآن کریم میں روحوں اور دلوں کا علاج ہے تو جواس پر صحیح طور پر عمل کرے تو اس کے لۓ قرآن کریم امراض اور آفات سے بچاؤ اور انہیں اس کے بدن سے دوکردے گا ، تو اس لحاظ سے بہت ساری امراض کا علاج اور ان کے لۓ شفا ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ :

ہم نے ذاتی طور پر اور ہمارے علاوہ دوسروں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے کہ یہ ایسا کام کرتا ہے جو کہ ادویہ حسیہ سے نہیں ہوۓ بلکہ اطباء کے ہاں تو ادویہ حسیہ اس کے سامنے ھیچ ہیں ، اور یہ حکمت الہیہ کے قانون سے خارج نہیں بلکہ اس میں داخل ہے ، لیکن اسباب کئ ایک قسم کے ہیں تو جب دلی طور پر اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ اور لگاؤ ہو گا جوکہ بیماری اور دوائ دونوں کا خالق اور طبیعتوں کا مدبر اور اس میں جس طرح چاہے تصرف کرنے والا ہے تواس دل کے لۓ کچھ ایسی دوائیاں اور علاج بھی ہیں جو جو اللہ تعالی سے اعراض کرنے والے کے دل سے دور ہیں ۔

یہ تو سب کے علم میں ہے کہ جب روح قوی اور طاقتور ہوتو نفس اور طبیعت بھی قوی ہو کر بیماری اور سختی کو دورکرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں ، تو اس کا انکار اس شخص سے کیسے کیا جاسکتا ہے جس کی طبیعت اور نفس اللہ تعالی کی محبت وانس اور اس کے ذکر سے قوی ہو اور مکمل طور پر سارے اعضاء کو اللہ تعالی کے مطیع کیۓ رکھے اور اللہ تعالی پر توکل کرے تو اس کے لۓ یہ سب سے اعلی اور بڑی دوائ اور علاج ثابت ہوگا اور اسے وہ قوت اور طاقت پہنچے گي جو سب کی سب بیماریوں اور تکلیفوں کو ختم کرکے رکھ دے گي ، اور اس کا انکار تو صرف وہی شخص کرے گا جو کہ اجھل الناس اوراللہ تعالی سے بہت ہی زیادہ دور رہنے والا اور حقیقت انسانی سے بھی دور ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کثیف النفس بھی ہو ۔زاد المعاد ( 4/12 )۔

ج : اور قرآن کریم میں سورۃ فاتحۃ بھی ہے جو کہ امراض کا علاج ہے ۔

ابو سعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ سفر پر گۓ اور ایک عرب قوم کے ایک قبیلہ کے مہمان بنے تو انہوں مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا ، ( اللہ کا کرنا ایسا ہوا ) کہ قبیلہ کے سردارکو کسی چیز نے ڈس لیا تو انہوں نے ہر قسم کا علاج کردیکھا لکین کوئ فائدہ نہ ہوا ، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ اگرتم اس قافلے والوں کے پاس جاؤ تو ہو سکتا ہے ان کےپاس کچھ ہو ، تو وہ لوگ ان کے پاس آۓ اور کہنے لگے اے قافلہ والو ہمارے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے اور ہم ہر قسم کا علاج کرچکے ہیں لیکن اسے کوئ افاقہ نہیں ہوا تو کیا تمہارے پاس کوئ علا ج ہے ؟ تو صحابہ میں سے ایک نے کہا جی ہاں اللہ تعالی کی قسم میں دم کرتا ہوں ، لیکن ایک بات ہے اللہ تعالی کی قسم ہم نے تم سے مہمان نوازي کا تقاضا کیا تو تم نے انکار کیا تو اب میں بھی اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم اس کا معاوضہ نہیں دیتے ، تووہ بکریوں کا ایک ریوڑ دینے پر رضامندہوگۓ ، تو وہ صحابی رضي اللہ تعالی عنہ ان کے ساتھ گۓ اور اس پر ( الحمد لله رب العالمين ) پڑھ کر دم کیا تو وہ صحیح اور ہشاش بشاش ہوگيا گویا کہ اسے کسی چیز نے جگڑ رکھا ہو وہ اب وہ اس سے آزاد ہوا ہو اور بغیرکس تکلیف کے چلنے پھرنے لگا ۔

ابوسعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : انہوں نے اپنے اس وعدہ کو پورا کرتے ہوۓ بکریاں دے دیں ، صحابہ میں سے ایک نے کہا کہ اسے تقسیم کرو ، تو جس نے دم کی تھا وہ کہنے لگا یہ کام اس وقت نہ کرو جب تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر اس کا بتا نہ لیں اور پھر جو وہ حکم دیں اس پر عمل کریں ۔

صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے کہ تجھے کیسے پتہ چلا کہ یہ دم ہے ؟ پھر فرمایا تم نے صحیح کام کیا ہے اسے تقسیم کرو اور اس میں اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2156 ) صحیح مسلم ( 2201 ) ۔

قلبۃ : یہ ایک بیماری یا ایسی درد ہے جس سے انسان لوٹ پوٹ ہونے لگتا ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی سورۃ فاتحۃ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ :

اور جسے توفیق ملے اور اور وہ نور بصیرت کی بصارت سے اس سورۃ کو دیکھے تو اسے اس سورۃ کے رازوں اور اس میں جو اللہ تعالی کی تو حید اور اللہ تعالی کی ذات اور اسماء وصفات کی معرفت بیان کی گئ ہے وہ ملے گی اور اسی طرح شریعت اور تقدیر اور روزقیامت کا ثبوت مہیا ہوگا اور اسی طرح اسے توحید ربوبیت اور الوھیت کا بھی علم اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ اللہ تعالی پر ہی مکمل توکل اور سب معاملات بھی اسی کے سپرد کۓ جائيں اور سب قسم کی حمدوثنا اور سارے کا سارا امرو حکم اسی کی ہے اسی کے ھاتھ میں ہر قسم کی بھلائ اور اسی کی طرف سب معاملے پلٹتے ہیں ۔

اور وہ ھدایت جس میں دارین کی سعادت پنہاں ہے وہ بھی اسی سے طلب کی جاۓ ، اور دارین میں مصلحتوں کا حصول اور فساد سے بچنے کا علم ہوگا اور مکمل اور مطلق انجام اور مکمل نعمتیں اس کے ساتھ معلق ہیں اس کی تحقیق پر موقوف ہیں ۔

بہت سی دوائیوں اور علاج اور دم سے اس نے غنی کردیا ہے ان کی ضرورت نہیں رہی ، اور اس کے ساتھ بھلائ اورخیر کے دروازے کھلتے اور شرکے دروازے بند ہوتےہیں ۔ زاد المعاد ( 4 / 347 ) ۔

د :

اور اسی طرح قرآن کریم میں حفظان صحت کے اصول بھی ذکر کۓ گۓ ہیں :

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں :

طب کے تین اصول ہیں : حمیۃ یعنی بچاؤ ، حفظان صحت ، ضرر اور نقصان دہ مادہ کو باہر نکالنا ۔

اوراللہ تعالی نے ان تینوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کے لۓ اپنی کتاب میں تین جگہ پر جمع کیا ہے :

اللہ تعالی نے مریض کو ضرر اور نقصان ہونے کی صورت میں پانی استعمال کرنے سے بچنے کا کہتے ہوۓ فرمایا :

{ اوراگر تم بیمار ہو یا سفرمیں ہو یا تم میں سے کوئ قضاۓ حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اورتمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو } النساء ( 43 ) اور سورۃ المائدۃ ( 6 ) ۔

تو مریض کے بچاؤ کے لۓ اسی طرح تیمم مباح قرار دیا جس طرح کہ پانی نہ ملنے والے کے لۓ مباح ہے ۔

اور حفظان صحت کے متعلق فرمایا :

{ لکین جو تم میں سے مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کرے } البقرۃ ( 183 ) ۔

تو مسافرکی حفظان صحت کے لۓ رمضان میں روزہ نہ رکھنا مباح قرار دیا تا اس پر روزہ سفر میں مشقت نہ بن جاۓ جس کی وجہ سے سفرميں اس کی قوت اورصحت میں کمزوری واقع ہو ۔

اور محرم کے لۓ سرمنڈا کر ضرر والی چیز کو دور کرنے اور استفراغ کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا :

{ اور تم میں سے جو بیمار ہو ، یا اس کے سر میں کوئ تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے دے یا پھر قربانی کرے } البقرۃ ( 196 ) ۔

تو اللہ تعالی نے مريض اوروہ محرم جس کے سر میں کوئ تکلیف ہواسے سرمنڈا کر اس مادہ فاسدہ اورردئ قسم کے بخارات جس کی بنا پر جؤئيں پیداہوتی ہیں سے استفراغ کا حکم دیاہے ، جیسا کہ کعب بن عجرۃ رضي اللہ تعالی عنہ کےساتھ ہوا ، یا پھر اس سے کوئ اور بیماری پیدا ہوتی ہو ۔

تو طب کے یہ ہی تین اصول اور قاعدے ہیں ، تو اللہ تعالی نے ہرجنس سے اس کی صورت ذکرفرماتے ہوۓ اپنے بندوں پرجو نعمتیں کی ہیں اس پر تنبیہ فرمائ ہے اور اس سے بچاؤ اوران کی حفظان صحت اورفاسدہ مواد کے استفراغ کا کہا ہے جو کہ اس کی اپنے بندوں پر رحمت و مہربانی اور شفقت ہے اور اللہ تعالی مہربان اور رحمت کرنے والا ہے ۔ زاد المعاد ( 1/ 164 - 165 ) ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

ایک مرتبہ میں نے مصرمیں اطباء کے ایک رئیس سے گفتگو کی تووہ کہنے لگا : اللہ تعالی کی قسم اس فائد کوجاننے کے لۓ اگر میں یورپ کا سفر بھی کرتا تو وہ بھی کم تھا ، یا اس نے جس طرح کہا ۔ اغاثۃ اللہفان ( 1 / 25 ) ۔

ھـ : قرآن کریم میں شھد اور اس کے شفاہونے کا ذکر ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ ان کےپیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لۓ شفا ہے } النحل ( 69 ) ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پینے میں بھی ایسا اکمل اور کامیاب طریقہ تھا جس میں حفظان صحت کے اصول کو مد نظر رکھا گیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم شھد میں ٹھنڈا پانی ملا کر پیتے تھے ، تو اس میں جو صحت کی حفاظت ہے اسے ماہر طبیب ہی جانتے ہیں ۔

اور اسی طرح نہار منہ شھد کا استعمال بلغم کو خارج کرتا اور معدہ کے رؤں کی صفائ اور معدہ کی چپک میں زیادتی کرتا اوراس سے فضلات کو دور کرتا ، اور اس میں اعتدال پیدا کرتا اور سدوں کو کھولتا ہے ۔

اور اسی طرح مثانہ اور گردوں میں بھی یہی عمل دھراتا ہے ، اور معدہ میں داخل ہونے والی جتنی بھی میٹھی اشیاء ہیں ان میں سب سے زیادہ نفع مند شھد ہی ہے ۔

اور صفراوی طبیعت کے مالک کو بخار کی حالت میں نقصان دے سکتا ہے بخاراور صفراء کی حدت میں اضافہ کرتا اور ہو سکتا ہے اسے ھیجان انگیز بنا دے ، تو ایسی طبیعت کے مالک افراد کے لۓ‌ اس وقت فا ئدہ مند ہو گا جب شھد میں سرکہ ملا لیا جاۓ تو ان کے لۓ بہت ہی زیادہ نفع مند ثابت ہوگا ،اور چینی وغیرہ کے شربت پینے سے شھد پینا بہت زیادہ مفید ہوگا اور خاص کر ان لوگوں کے لۓ جوکہ اس قسم شربت پینے کے عادی نہ ہوں ، اورنہ ہی ان کی طبیعت ان سے مانوس ہو تو اگر وہ یہ مشروبات پی بھی لیں تو انہیں شھد کے شربت کی طرح تھوڑا سا بھی فائد نہیں ہوگا جس طرح کہ شھد سے ہوتاہے ،اور اس میں اصل چیز عادت ہے جو کہ اصول کو بناتی اور گراتی ہے ۔

اور شھد میں جب دو صفتیں جمع ہوجائيں یعنی شھد کی مٹھاس اور بارد پن تو بدن کے لۓ اس سے زیادہ بہتر اور مفید کوئ چیز نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئ اور صحت کا محافظ نہیں ہے ، اور روح ، قوی اور دل اس کو بہت پسند کرتا اور جب پھر اس میں یہ دو خصلتیں ہوں تو پھر غذائيت سے بھر پوراور اسے اعضاء تک بہت احسن طریقے سے پہنچاتاہے ۔ زادالمعاد ( 4 / 224- 225 )

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اور شھد میں بہت عظیم فائدے ہیں :

انتڑیوں اور رگوں وغیرہ کی صفائ کرتا ہے ، کھانے اور لیپ کرنے سے رطوبات کی تحلیل ہوتی ہے ، بوڑھوں اور بلغم والوں اورجن کا مزاج ٹھنڈااور تر ہوان کے لۓ نافع ہے ، یہ طبیعت کے لۓ ملین اور عضلات کو طاقت بخشتا ہے ، اورناپسندیدہ ادویات کی کراہت کو ختم کرتا ، سینے اور جگر کی صفائ کرتا ہے ، مدربول اوربلغمی کھانسی کے لۓ مفید ہے ۔

اور جب شھد عرق گلاب میں گرم کرکے پیا جاۓ تو افیون پینے اور جانوروں کی چیڑ پھاڑ سے نفع دیتا ہے ، اور اگر پانی میں شھد ملا کر پیا جاۓ تو باؤلے کتے کے کاٹے ہوۓ کو اورہلاک کردینے والی جڑی بوٹی کے کھاۓ ہوۓ کو فائدہ دیتا ہے ۔

اور اگر شھد میں تازہ گوشت ڈال دیا جاۓ تو وہ تین مہنے تک تازہ رہتا ہے ، اور اسی طرح اگر اس میں کھیرے اور ککڑی ، کدو اور بینگن اور سبزی وغیرہ ڈال دیا جاۓ تو اس کو چھ ماہ تک تازہ رکھتا ہے ، اور اسی طرح میت کے بدن کی بھی حفاظت کرتااور اسے حافظ اور امین کا نام دیا جاتا ہے ۔

اوراگر شھد کو جؤوں والے بدن اور بالوں پر ملا جاۓ تو انہیں مارڈالتا اوران کے انڈوں کا خاتمہ کردیتا ہے اور بالوں کو لمبا اور نرم اور حسین بناتا ہے ، اور اگر اسے آنکھوں میں ڈالا جاۓ تو بینائ کو صاف کرتا ہے ، اور اگر دانتوں پر ملا جاۓ تو انہیں صفید اور صاف کرتا اور دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کرتا ہے ، اور رگوں کا منہ کھولتا اورمدر حیض ہے ۔

اس کا نہار منہ چاٹنا بلغم کو خارج کرتا اور معدہ کے رؤں کی صفائ اور اس سے فضلات کو دور کرتا ، اور اس میں اعتدال پیدا کرتا اور سدوں کو کھولتا ہے ،اور اسی طرح مثانہ اور گردوں میں بھی یہی عمل دھراتا جگراور تلی کے سدوں کو ہر میٹھی اشیاء سے کم نقصان دہ ہے ۔

اور یہ شھد ان سب کچھ کے ساتھ ساتھ خراب ہونے سے مامون اور قلیل الضرر ہے ، صفراوی طبیعت کے لوگوں کے لۓ بخار کی حالت میں ان کے لۓ نقصان دہ ہے لیکن یہ نقصان اسے سرکہ میں ملا کر استعمال کیا جاۓ تو دور ہو جاتا ہے ، تو اس طرح اس حالت میں بھی بہت ہی مفید ہوگا ۔

تو یہ شھد غذا کےساتھ غذا اور دواؤں کے ساتھ ایک دوائ اور شربت میں سے ایک شربت اور مٹھائ میں ایک مٹھائ اور طلاء میں سے ایک طلاء کی حیثیت رکھتااور مفرحا ت کے ساتھ ایک مفرح ہے ، تو اس معنی میں کوئ اور چیز ایسی نہیں جو کہ ہمارے لۓ اس سے افضل پیدا کی گئ ہو اور نہ ہی اس کی مثل اور نہ ہی اس قریب کی ۔

قدماء تو اس پر ہی بھروسہ کرتے تھے بلکہ قدماء کی کتب میں تو چینی اور شوگر کا نام تک نہیں ملتا اور نہ ہی اسےوہ جانتے تھے کیونکہ یہ تو ابھی ایک نئ ایجاد ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پانی کےساتھ نہار منہ استعمال کیا کرتے تھے ، جس میں ایک ایسا راز اور سر ہے جو کہ ایک ذہین و فطین ہی سمجھ سکتا ہے ۔ زاد المعاد ( 4 / 33-34 ) ۔

واللہ تعالی اعلم .

Tuesday, 3 February 2015

Kill The Swine Flu

Kapur (Camphor) and Elaichi (Cardomon) to be mixed and powdered.  Kept in a hand kerchief and smell once in 2 to 3 hrs.

This will actually kill the SWINE FLU bacteria.

Monday, 2 February 2015

Oil & LPG Subsidy Game

सब्सिडी का खेल देखो एक सिलेंडर की कीमत 783 रुपये
इंडियन आयल से बैंक में वापस जमा 361 रूपये.783-361=4
22,.......इसके पहले हमें सिलेंडर मिलता था 418 रूपये में
मतलब कुल 4 रूपये का नुकसान।अब पता ये लगाना है
की मेरे द्वारा जमा पैसा ही मुझे वापस मिला ।
तो फिर सब्सिडी का पैसा कहा गया,बल्कि पहले से
ज्यादा पैसे मुझे देने पड़े।आदरणीय पी एम् साहब आपका ये
कौन सा गणित है।पूरा देश सोच रहा है की उसे
सब्सिडी का पैसा मिल रहा है,पर जनाब ये
तो हमारा पैसा ही हमें मिल रहा है
देश में पेट्रोल की कीमत कैसे तय होती है
उसकी पूरी प्रोसेस :
क्रूड की करंट वेल्यु = $50/barrel and $1=Rs.63/-
1 Barrel =(159 litres) क्रूड ओइल @ $50 =Rs.3150/-
1 लिटर क्रूड आयल भारत खरीदता है (3150/159) =19.80
रुपयों में ,
1 लिटर पेट्रोल के लिए चाहिए नेट क्रूड आयल 0.96 लिटर
@19.80 = 19.00 RS./-
अब क्रूड आयल में से एक लिटर पेट्रोल कन्वर्ट करने
की फिक्स्ड कोस्ट होती है 6 रूपये (ट्रांसपोर्टेशन कोस्ट
मिलाकर)..
यानी वेरिएबल कोस्ट रूपये 19.00 रूपये + फिक्स्ड कोस्ट 6
रूपये = 25.00 रूपये में एक लिटर पेट्रोल बनता है..
अब उसमे केंद्र सरकार के excise, custom जैसे टेक्स लगते है
25 % जितने यानी 6 रूपये यानी कुल मिलाकर हुए 31
रूपये और उपर से फिर राज्य सरकार के टेक्स जैसे VAT...
जिसे हम एवरेज 15 % गिने तो होते है 5 रूपये यानी कुल
मिलाकर होते है 36 रूपये ..
और आखिर में पेट्रोल पंप डीलरो को पर लिटर 90 पैसे
कमिशन दिया जाता है तो होते है कुल 37 रूपये
लेकिन फिर भी आज भी हमे तो पेट्रोल मिल रहा है 68
रूपये में ....(और सरकारी आयल कंपनी भी अपने
को तो लोस में ही बता रही है) बिच का कमिशन
ही तो उडाये जाते है लेकिन फिर भी बोलते है हमने दाम
कम किये..
कृपया कड़ी मेहनत से प्राप्त हुई ये जानकारी देश के
हरएक नागरिक तक पहुँचाने की कोशिश करे ।

Sunday, 1 February 2015

Real & Full Names Of Bollywood Personalities

AAMIR KHAN .............................Aamir Hussain Khan

AJAY DEVGAN  ..........................Vishal Devgan

AJIT  ...................................... Hamid Ali Khan

AKSHAY KUMAR ........................Rajiv Hari Om Bhatia

AMITABH BACHAN..........................  Amit Srivastav

ASHOK KUMAR  ...................................  Kumudlal Kunjilal Ganguly

BOBBY DEOL  .........................................  Vijay Singh Deol

CHIRANJEEVI ........................................... Koindela Siva Shankara vara Prasad

CHUNKY PANDEY ................................... Suyush Sharat Chandrakant Deshpandey

DANNY DENZONGPA ............................. Tshering Phintso Denzongpa

DEV ANANAD  ........................................  Devdutt Pishorimal Anand

DHARMENDRA  ......................................  Dharam Singh Deol

DILIP KUMAR  .........................................   Yusuf Khan

GOVINDA  .............................................. .. Govinda Arun Ahuja

GURU DUTT .............................................. Vasanth Kumar Shiv Shankar Padukune

JACKIE SHROFF  ................................... Jaikishan Kakubhai

JAGDEEP  ...............................................  Syed Jawahar Ali Jaffry

JAYA PRADA ..........................................  Lalita Rani

JEETENDRA ...........................................  Ravi Kapoor

JOHN ABRAHAM ......................................Farhan Abraham

JOHNNY WALKER ..................................  Badruddin Jamaluddin Qazi

JOHNNY LEVER  ....................................  Janardhan Rao

KAMAAL HAASAN  ................................  Alwarpettai Aandavar

KATRINA KAIF ........................................  Katrina Turqouis

KUMAR GAVRAV  ..................................  Manoj Tulli

LUCKY ALI  ............................................ .. Maqsood Mehmood Ali 

MADHUBALA  .........................................  Mumtaz Jehan Begum Dehelvi

MAHIMA CHOUDHRY  ............................  Ritu Chaudhry

MALA SINHA  ...........................................  Alda Sinha

MALLIKA  SHERAWAT  .........................  Reema Lamba

MEENA KUMARI .....................................  Mahjabeen Ali Bux

MANOJ KUMAR  .................................... . HarIkrishan Goswami

NANAPATEKAR  ....................................  Vishwanath Patekar

NADIRA ....................................................  Florence Ezekel

NARGIS ....................................................  Fatima Rashid

PREITY ZINTA  ......................................  .. Preetam Singh Zinta

RAJ KAPOOR  -........................................ Ranbir Raj Kapoor

RAJ KUMAAR  ....................................... . Kulbushan Pandit

RAJENDRA KUMAR  .............................  Rajendra Kumar Tunlli 

RAJESH KHANNA  ................................  Jatin Khanna

RAJNIKANT  ............................................  Sivaji Rao Gaekwad

REENA ROY  ...........................................  Saira Khan

REKHA  ................................................ .... Bhanurekha Ganesan 

SALMAN KHAN  .....................................  Abdul Rashid Salim Salman Khan

SANJAY KHAN .......................................  Abbas Khan

SANJEEV KUMAR  ................................  Haribhai Jarivala

SHILPA SHETTY ...................................   Ashwini Shetty

SHAMMI KAPOOR  ...............................   Shamsher Raj Kapoor

SHASHI KAPOOR  ................................   Balbirraj Kapoor

SUNIL DUTT  ..........................................   Balraj Dutt

SUNNY DEOL  .......................................   Ajay Singh Deol

TABU  .....................................................   Tabassum Hashmi Khan

TUN TUN  ............................................... . Uma Devi Khatri

A.R.Rahman---Dileep kumar

10 Class Student's Achievement

जि‍स मेट्रो का मॉडल बड़े-बड़े इंजीनि‍यर बनाते हैं, यदि दसवीं का एक छात्र इसे बनाएं तो सुनने में थोड़ा अटपटा लगता है, लेकि‍न यह सच है। यूपी के शामली जिले में रहने वाले दसवीं के छात्र अब्‍दुल समद ने यह कर दिखाया है। उसने मेट्रो ट्रेन का एक ऐसा डेमो तैयार किया है, जो बाकायदा डीसी करंट से चलती है। इसे देखकर अच्‍छे-अच्‍छे टेक्‍निकल स्‍टूडेंट भी दांतों तले उंगली दबा रहे हैं।

यूपी के शामली जिले के गांव कैंडी बाबरी में सईद के 14 वर्षीय बेटे अब्दुल समद ने निम्न स्तर के संसाधनों से यह नायाब कारनामा कर दिखाया है। उसने मेट्रो ट्रेन और उसका ट्रैक बनाकर एक अनोखी मिसाल पेश की है। वह एक गरीब परिवार से है और उसके पिता दिल्ली में प्राइवेट नौकरी करते हैं।

10वीं में पढ़ता है अब्‍दुल समद

समद गांव के इंटर कॉलेज में कक्षा दसवीं का छात्र है। बचपन से ही उसे कुछ नया करने का शौक रहता था, लेकिन आर्थिक तंगी के चलते वो अपने सपनों को पर नहीं लगा पा रहा था। यही वजह है कि‍ गांव के निम्न स्तर के संसाधनों से तैयार किए गए इस डेमो में रेल की पटरी लकड़ी की बनाई गई है। उसके नीचे लकड़ी के पोल लगाए गए हैं और ऊपर तांबे के दो तार लगाए गए हैं, जिसमें डीसी करंट दौड़ता है। इस ट्रेन के इंजन इस दोनों तारों से टच होकर उसी तरह से चलते हैं जैसे हूबहू मेट्रो ट्रेन ट्रैक पर सरपट दौड़ रही हो।

पूर्व राष्‍ट्रपति अब्‍दुल कलाम हैं प्रेरणा स्रोत

यह छात्र पूर्व राष्ट्रपति अब्दुल कलाम को अपना प्रेरणा स्‍त्रोत मानता है। इसके घर की आर्थिक स्‍थिति अच्‍छी नहीं है। इस वजह से यह छात्र अपनी पढ़ाई गांव के ही स्कूल में पूरी कर रहा है। उसकी चाहत है कि‍ यदि उसे सरकार की ओर से मदद मिले और उसकी शिक्षा उच्च स्तर पर हो तो ये देश के लिए और बड़े अविष्कार कर सकता है।

11 ween Shareef Aur Islam

Giyarwee alfaz ek urdu alfaz hai jiska matlab gyara hota hai. Aur isse murad Qamri gyara tarikh hai. Giyarwee Shareef ek khas eesale sawab hai Sheikh Abdul Qaadir Jilani (alaihir rahmah) ke liye. Aur ahle biddatio ka kahna ye bhi hai ki ham is din Sayyiduna Sheikh Abdul Qaadir Jilani (alaihir rahmah) ko yaad karte hai. Aiye dekhte hai iski kya sharai haisiyat hai Quran wa sunnah me aur Sheikh Abdul Qaadir Jilani (alaihir rahmah) ki amalan zindagi me.

��۞ Quran
Agar ap Quran padhenge to apko  pata chalega ki Quran ki koi ayat nahi jo kahti hai ki ek Muslim ko ghyarwi shareef manana chaiye.

��۞ Sunnah
Agar ap Hadiths padhenge to apko malum padega ki koi bhi aisi riwayat nahi hai chahe wo zaif ya maudu hi kyu na ho jisme likha hai ki ek Muslim ko ghyarwi shareef manani chaiye.

��۞ Char Imam (4 Imams)
Agar ap 4 Imam ki zindagi ka tazkiya karenge to apko ya malum hoga ki 4 imam maise koi bhi Imam nahi the jinhone Giyarwee Shareef manaya ya manane ka Hukm diya ho.

��۞ Sheikh Abdul Qaadir Jilani (raheemullah)
Agar ap Sheikh Abdul Qaadir Jilani (raheemullah) ki zindagi ka mutalla karenge to apko pate chalega ki Sheikh ne kabhi bhi Giyaewee Shareef nahi manaya na hi unhone hukm diya ho ki mere wafat ke baad manana.

Balki Sheikh ne deen me nayi chiz paida karne ko mana kiya tha jo ki aksar Sheikh ke mureed bhul chuke hai:

��Sheikh farmate hai  “Tumhare upar Ittibaa lazim hai aur nayi chiz ijaad karna nahi aur tumpar salaf as saaleh ke mazhab (tarike) par amal karna lazim hai aur wahi sidha rasta hai jo tumhe apnana chaiye.”
Al-Fath ur-Rabbaanee (p.35).

Aur jo ahle aql ho unko yaad diladu ki Islam me sirf do hi tewhaar(Festival) hai:

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ ‏ “‏ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ‏”‏

��Anas bin Malik riwayat karte hai ki:

“Jahilliyah ke logo har saal do din khelte the. Jab RasoolAllah s.a.w Al-Madinah aye to unhone kaha: Tumlogo ke pass do din tha jisme tum khelte the, lekin Allah swt ne Muslims ko isse behtar kuch diya hai: Al-Fitr aur Al-Adha ke din.”
Sunan an-Nasa’i- 1556.

Kuch log kahte hai ki Isme burai hi kya hai. Ham auliya Allah ko yaad hi karte hai aur unko eesal e sawab karte hai. Ye sab neki ke kaam hai.

�� Un ke jawab ke liye Allah ke Rasool ki ek hadith hi kafi hai:

Mohammad sallalaahu alaihi wa sallam ne farmaya: ”Maine tumhare paas kuch nahin chhora jo tumhe Allah ke aur kareeb le aye siwaaye jo maine tumhe hukm kiya hai.”
[Reported by at-Tabaraani, authentic, refer to Asl Sifatis-Salaati n-Nabee, vol. 3, p. 942][Musnad Ahmad, Silsilah Sahiha 1803, Sahih by Albani]

Is hadith se hame ya pata chala ki jo Amal hume ALLAH ke nazdik lejasake wo Allah ke Rasool s.a.w.  ne hama bata diya hai. Agar ham koi amal karte hai jiski Dalail Quran wa sunnah me na ho to wo amal hame Allah ke nazdik nahi kar sakti wo kyu na Kitna bhi nek amal ho. Isiliye Rasool ke sahabi

��Abdullah Ibn UMar(RA) farmate hai:

“ TAMAAM Biddatein GUMRAAHI hain, agarche “Ba-Zaahir woh, logon ko ACHCHI lagein”.
SUNAN KUBRA BAIHAQI (HADITH138).

��Gyarvi Sharif Ki Niyaz Karnewalo ko samajhna chaiye ki Kya Woh Apne Peer Ke Tariqe Par Hai??? Agar Sheikh Abdul Qadir ne is tarike se eesal e sawab nahi kiya na hi aisa koi din ko khas kiya to ham aisa kar ke kya sabit karna chahte hai??? Kya ham Sheikh se zyada Islam jante hai??? Aur Sheikh ko ek hi din kyu yaad karna?? Hame to har din unke Islam ki Taalimaat ko aam karna chaiye. Sachhi Mohabbat ek din ki nahi hoti...

��Allah hamsabko ko Islam ko sahi se samjhne ki tofiq de��
Ameen apka bhai ��

محمدی قبرستان

سمرقند و بخارا یہ وہ خطہ ہے کہ اگر یوں کہا جائے عربوں کے بعد قوم رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس خطے کے اکابر کے احسانات کا وزن سب سےزیادہ ہے تو مبالغہ نہ ہوگا .... یہ وہ خطہ ہے جہاں امام بخاری کا " بخارا " ہے... جہاں امام ترمذی کا شہر ’’ ترمذ ‘‘ واقع ہے .... جہاں فقیہ ابو اللیث سمرقندی کا شہر ’’ سمرقند ‘‘ ہے ... جہاں تفسیر بیضاوی کے مصنف کا شہر’’بیضاء‘‘ ہے .... جہاں ہدایہ کے مصنف کا ’’ مرغینان ‘‘ ہے ... اسی خطے میں ایک ایساعجیب ، پرنور ، اور مبارک قبرستان ہے جس کا نام ہے " تربت المحمدین " محمدی قبرستان ‘‘ اِ س قبرستان میں اپنے وقت کے چار سو نامور و مشہور محدثین و مفسرین آسودہ خاک ہیں اور مزے کی بات یہ ہے اُن چار سو محدثین و مفسرین ، صاحب تصنیف و افتاء ، اہل علم میں سے ہر ایک کا نام ’’ محمد ‘‘ تھا ۔اور یہ قبرستان بنا ہی ’’محمد‘‘ نام والوں کیلئے ہے ، صرف انہی اموات کو دفن کیا جاتا ہے جن کا نام محمد ہو ۔چنانچہ 593ھ میں صاحب ہدایہ شیخ برھان الدین.  رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو انہیں اس قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی کیونکہ ان کے نام میں ’’ محمد‘‘ کا کلمہ نہ تھا ، اُنہیں قبرستان کے باہر دفن کیا گیا ۔کرنیں :
442 :ترمیم کے ساتھ

یہ بات حضرت مولانا قاضی محمد ذاھد الحسینی نوّر اللہ مرقدہ نے اپنی کتاب " با محمد با وقار" میں بھی لکھی ھے....

کاش ھمارے نام کے ساتھ لفظ محمد ھوتا
کچھ نہ سھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ ضرور مشابھت لازم آتی !