Monday, 24 June 2019

جب بیوی خرابی سے تائب ہوجائے تو شوہر کیا کرے؟

جب بیوی خرابی سے تائب ہوجائے تو شوہر کیا کرے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب کہ جس کی بیوی اچانک ایک رات گھر سے بھاگ گئی جس کے دو بچے بھی ہیں، بچوں کو چھوڑکر بھاگ گئی تین دن بعد خبر ملی کہ کسی اجنبی فیملی کے گھر میں موجود ہے. بعد ازاں اس کا شوہر اسے اپنے گھر لایا. شوہر نے پیار سے پوچھا کہ زنا میں مبتلا تو نہیں ہوئی؟ اور ڈرا دھمکاکر بھی پوچھا. بیوی کا جواب ہے کہ نہیں. بس صرف لمس اور چمی دے سکی. اب صورت مسئولہ میں موصوفہ بیوی پر از روئے شریعت کیا حکم ہے؟
اور اس کے شوہر کے امامتی پر کیا حکم ہے؟
کچھ عوام زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور امامتی پر اشکال اٹھا تے ہیں. براہ کرم صورت مسئولہ میں بیوی اور شوہر اور تہمت لگانے والے کے کیا حکم ہوگا تشفی بخش جواب سے ہمیں احسان فرمائیے
والسلام        
احقر: ابو سعید
الجواب وباللہ التوفیق:
زنا کاری اور اس کے مبادی (بوس وکنار) سخت اور گھناؤنا گناہ ہے. اسلام نے اجنبی کے ساتھ اس کے قریب تک جانے سے منع کیا ہے. تاہم یہ  قاطع نکاح نہیں ہے. 
اگر بیوی دوسرے مرد سے بوس وکنار یا زنا کاری کا اعتراف کرلے تو شوہر کو دو اختیار ہیں:
1. اسے توبہ کروائے
سمجھابجھاکے اپنے ساتھ رکھنا چاہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے تو وہ یہ بھی کرسکتا ہے.
2. یا پھر طلاق دے کر اس سے جدائی اختیار کرسکتا ہے
زنا یا مبادی زناء کے صدور سے نکاح نہیں ٹوٹتا، اگرچہ یہ بہت گھناؤنا گناہ ضرور ہے.
جب بیوی سچے دل سے توبہ کرلے تو اس کے شوہر کی امامت درست ہے
تاہم اگر اس وجہ سے لوگ اس کی امامت کو ناپسند کرتے ہوں تو امام کو از خود رضاکارانہ طور پر اس عظیم منصب سے کنارہ کش ہوجانا چاہئے
جب تک زناء اقرار یا مشروط ومعتبر گواہوں سے ثابت نہ ہوجائے کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ کسی مرد یا عورت کو اس کی تہمت لگائے. بے بنیاد الزامات لگانے والوں پر شریعت میں سخت ترین وعید وارد ہوئی ہے.
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

زنا کی وجہ سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے مسئلے میں مذہب شافعیہ پہ فتوی دینا؟

زنا کی وجہ سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے مسئلے میں مذہب شافعیہ پہ فتوی دینا؟
——————————
سوال
زید نے اپنے ہونے والی بیوی ھندہ کی ماں فہمیدہ یعنی ہونے والی ساس سے زنا کرلیا تو یہ بات واضح ہے کہ شرعاً ھندہ سے نکاح نہیں ہوسکتا مگر ھندہ اور زید بے انتہا محبت کرتے ہیں کچھ دن بعد زانیہ فہمیدہ نے ھندہ کی شادی زید سے کروادی کیونکہ ھندی خودکشی کررہی تھی۔ پھر علماء کی فہمائش پر بھی ساتھ رہ رہے ہیں
1. یہ شادی ہوئی یا نہیں نہیں ہوئی تو شرعاً کیا حکم ہے کیونکہ یہ لڑکی پھر سے اقدام خودکشی کرے گی۔ کیا شوافع مسلک پر فتویٰ دیا جاسکتا ہے۔
2. زانیہ فہمیدہ کا نکاح برقرار ہے یا نہیں۔
مفتی شاہجہاں قاسمی، مدن پلی

---------
الجواب وباللہ التوفیق: 
احناف، حنابلہ اور مالکیہ کے ایک قول کے مطابق جس عورت سے زنا کا ارتکاب ہوا ہو اس کی مائیں اور بیٹیاں زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں، یعنی اس ناجائز اور غیر شرعی عمل کی وجہ سے (حنفیہ کے یہاں چند مخصوص شرطوں کے ساتھ دواعی زنا کی وجہ سے بھی) سسرالی رشتے جیسی حرمتِ نکاح ثابت ہو جائیگی، شافعیہ کے یہاں وطیِ حرام سے حرمت ِنکاح ثابت نہیں ہوتی
مختلف احادیث و آثار سے زنا سے نکاح کی حرمت موبدہ ثابت ہوتی ہے، جن میں چند یہ ہیں:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کرچکا ہوں، کیا میں اب اس کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہوں؟ آپ 
صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: میں اس کو جائز نہیں سمجھتا اور یہ بھی جائز نہیں  ہے کہ تو ایسی عورت سے نکاح کرے  جس کی بیٹی کے جسم کے ان حصوں کو تو دیکھ چکا ہے جو حصے تو بیوی کے دیکھے گا۔
"عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن أم الحكم، أنه قال: قال رجل: يا رسول الله، إني زنيت بامرأة في الجاهلية وابنتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا أرى ذلك، ولايصلح ذلك: أن تنكح امرأة تطلع من ابنتها على ما اطلعت عليه منها".
(مصنف عبد الرزاق الصنعانی (7/ 201)  کتاب الطلاق، باب الرجل یزنی بأخت امرأتہ، برقم:12784، ط:المجلس العلمی، ہند)
ایک شخص نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کے بارے میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ  اس کی بیوی اس پر حرام  ہوگئی ہے۔
"عن قتادة، عن عمران بن حصين في «الذي يزني بأم امرأته، قد حرمتا عليه جميعاً". (مصنف عبد الرزاق الصنعانی (7/ 200)  کتاب الطلاق، باب الرجل يزني بأم امرأته، وابنتها، وأختها، برقم:12776، ط:المجلس العلمي، هند)
اسی وجہ سے حنفیہ وحنابلہ  کا مسلک یہ ہے:
من زنیٰ بامرأۃ حرمت علیہ بنتہا وأمہا۔ (ہدایۃ، اشرفی بکڈپو دیوبند۲/۳۰۹)
فمن زنیٰ بامرأۃ حرمت علیہ أمہا وإن علت، وابنتہا وإن سلفت۔ (ہندیۃ قدیم، زکریا ۱/۲۷۴، ہندیۃ، جدید اتحاد ۱/۳۳۹)

والزنا یوجب حرمۃ المصاہرۃ حتی لو زنیٰ بامرأۃ حرمت علیہ
أصولہا وفروعہا۔ (مجمع الأنہر، دارالکتب العلمیۃ بیروت۱/۴۸۱)
احناف وحنابلہ کا یہ مسلک خاندان و اولاد کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے
مزنیہ کی بیٹی سے زانی کا نکاح اصلاً باطل ہے، یعنی نکاح ہوا ہی نہیں، اگر دونوں میں نکاح کر
وادیا گیا ہو تو ازدواجی  تعلقات کا قیام حرام ہے، دونوں میں تفریق ضروری ہے۔ ایک حنفی مسلک کے پیرو کار کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس مسئلے میں مسلک شافعیہ پہ عمل کرکے رخصت کی راہ ڈھونڈے۔
نہ یہاں یہ جائز ہے کہ مذہب حنفی سے عدول کرکے مذہب شافعیہ پہ فتوی دیا جائے
اس طرح کی کوشش زنا کی کھلی چھوٹ دینے اور بے حیائی وبے راہ روی کی راہ ہموار کرنے کے مرادف ہوگی
مذہب غیر پر فتوی دینے کی گنجائش اجتماعی ضرورت اور عموم بلوی کی صورت میں ماہر مفتیان کی تجویز سے نکلتی ہے
الحمد للّٰہ ابھی مسلم معاشرہ اس طرح کی مغربی آفتوں اور تہذیبوں سے اجتماعی طور پہ پاک ہے
اکا دکا واقعہ انفرادی واقعہ ہے
جس سے مذہب غیر پر فتوی دینے کی گنجائش قطعی نہیں نکلتی
مسلک احناف وحنابلہ پہ عمل کرنے کی صورت میں لوگ ان غیر شرعی قبیح حرکتوں سے خواہی نخواہی باز رہیں گے
رخصت نکالنے سے لوگ ان گھنائونے عمل پہ جری ہوجائیں گے
خود کشی حرام اور باعث عذاب ِدائمی ہے
اس کی موہوم دھمکی کی وجہ سے ایک حرمت موبدہ رشتہ حلال نہیں ہوسکتا
پھر اگر ہر کوئی یہی حربہ اختیار کرنے بیٹھ جائے  تو شریعت شریعت بچی یا چوں چوں کا مرباّ؟
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_90.html


منجیات کے نام سے مشہور عمل کی حقیقت

منجیات کے نام سے مشہور عمل کی حقیقت 

علامہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے تجربہ کے ساتھ مصیبت و غم دور کرنے والی یہ سات ہیں جو منجیات کے نام سے مشہور ہیں انکی فضیلت میں کعب بن احبار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں ان آیات کو پڑھ لیتا ہوں تو کچھ پروا نہیں کرتا اگرچہ آسمان زمین پر گر پڑے تب بھی میں اللہ کے حکم سے نجات پا جاؤں گا، ایک روایت میں آیا ہے کہ جو کوئی ان آیات کو ہمیشہ پڑھے گا اگر اس پہ احد کے پہاڑ کے برابر عذاب کا پہاڑ بھی آپڑے تو بھی اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اسے اٹھا دے گا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا جس نے صبح شام ان آیات کو اپنا وظیفہ بنایا وہ دنیا کی تمام آفتوں سے امن میں رہا دشمنوں کے مکر سے خدا کی امان میں پہنچا، ان آیات کے ترجمے پہ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا بندش نامی بلا کے پرخچے اڑادے گی، عباسیات، اجازت کی ضرورت نہیں،
🌠قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ توبہ51﴾
🌠وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿یونس 107﴾
🌠وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ھود 6﴾
🌠اِنِّیۡ تَوَکَّلۡتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ ؕ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ھود 56﴾
🌠وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿﴾
مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ، فاطر 2
🌠وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿الزمر 38﴾

الجواب وباللہ التوفیق: 
ساتوں آیتیں قرآن کریم کی ہیں. قرآن کریم سراپا نسخہ شفا ہے. اس کی ہر آیت میں اللہ نے شفا رکھی ہے. مذکورہ بالا سات آیتوں کی مذکورہ فضیلت کسی بھی روایت سے ثابت نہیں. شیعیوں کے یہاں یہ مروج ہے. حفاظت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تینوں قل پڑھ کر دونوں ہتھیلیوں پر دم کرکے پورے بدن پر پھیر لیتے تھے. حفاظت کا یہ عمل تو صحیح حدیث سے ثابت ہے. اس پر عمل کیا جائے. مذکورہ سات آیتوں کی تخصیص کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی

https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/blog-post_49.html


Sunday, 23 June 2019

’رمضان میں کئے جانے والے 5 غیر ثابت شدہ اعمال‘ کی تحقیق

’رمضان میں کئے جانے والے 5 غیر ثابت شدہ اعمال‘ کی تحقیق

ایک غیر مقلد نے مجھ سے ’رمضان میں کئے جانے والے 5 غیر ثابت شدہ اعمال‘ سوالات کئے ہیں مجھے ان کے جوابات مطلوب ہیں۔

رمضان أوله رحمة ...، مشہور حدیث کی تحقیق
 بسم الله الرحمن الرحیم
حدیث: ‏(رَمَضَان: اَوَّلُہُ رَحْمَة وَاَوْسَطُہُ مَغْفِرَة وَآخِرَہُ عِتْقٌ مِّنَ النَّار‏) کے متعلق  بعض حضرات کافی سخت الفاظ استعمال کرکے اس روایت کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں، اورچونکہ یہ حدیث برصغیر کے بعض علماء نے اپنی کتابوں میں تحریر کررکھی ہے، اس وجہ سے بعض حضرات ان کو تنقید کا نشانہ بناکر شدید نکیر کرتے ہیں۔
تو معلوم کرنا تھا یہ حدیث کس درجہ کی ہے، اور بیان کے قابل ہے یا نہیں؟
الجواب باسم ملہم الصواب:
یہ حدیث حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے متعدد اسانید سے وارد ہے، چند اسانید ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ عن علي بن حُجر السَّعدي المروزي، حدثنا يوسف بن زياد ، حدثنا همام بن يحيى، عن علي بن زيد بن جدعان، عن سعيد بن المسيب، عن سلمان به.
تخریجہ:
أخرجه بهذا الإسناد ابن خزيمة في "صحيحه" (1887) وابن أبي الدنيا في "فضائل رمضان" (41) وابن شاهين في "فضائل شهر رمضان" (16) والبيهقي في "فضائل الأوقات" (37 و38) وفي "الشعب" (3336) وغيرهم ۔
اسناد کا حال:
إسناده واه ، فيه يوسف بن زياد، هو أبو عبد الله البصري. قال البخاري وأبو حاتم والساجي: منكر الحديث، وقال النسائي: ليس بثقة، وقال ابن حجر: يوسف ضعيف جدا، كما في "كنز العمال" (8/ 477) . وذكره العقيلي وابن حبان في "الضعفاء".وفيه علي بن زيد، وسيأتي الكلام عليه.
۲۔ عبد الله بن بكرالسَّهمي، عن  إياس بن أبي إياس، عن علي بن زَيد، عن سعيد بن المسيب، عن سلمان.
تخریجہ:
أخرجه الحارث في "مسنده" كما في "زوائده"ص112والعقيلي في "الضعفاء" 1/ 35 وابن أبي حاتم في "علل الحديث" 1/249 ۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5/ 223) برقم 3336 فسماه (إياس بن عبد الغفار).
اسناد کا حال:
قال العقيلي في ترجمة إياس: "مجهول وحديثه غير محفوظ". اهـ.
وقال الذهبي في "الميزان" (1/282): إِيَاس بن أبي إِيَاس عَن سعيد بن الْمسيب لَا يعرف، وَالْخَبَر مُنكر.
وقال أبو حاتم في "العلل" 1/249- وقد سأله ابنه عن هذا الحديث - : هذا حديث منكر غلط فيه عبد الله بن بكر، إنما هو (أبان بن أبي عياش) فجعل عبد الله بن بكر: "أبان": "إياس".
3- يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّار، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَلْم، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ .
تخریجہ:
أخرجه ابن شاهين في "فضائل شهر رمضان" (15) ۔
اسناد کا حال:
إسناده واه أيضاً، يحيى بن سعيد العطار قال فيه ابن معين: ليس بشيء، وقال العقيلي والجوزجاني :منكر الحديث، وضعفه ابن حبان .
4- سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُدْعَانِيُّ القُرشي أبو وهب ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ...
تخریجہ:
أخرجه المحاملي في "الأمالي" (ص: 286) وابن عدي في "الكامل" (6/512) وابن الشجري كما في "ترتيب الأمالي الخميسية" (2/ 16) ، وقال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ...إلخ فزاد متابعة قتادة لعلي بن زيد.
اسناد کا حال:
عبد العزيز القرشي تكلم فيه ابن عدي. وقال: هو القرشي البصري، ثم ساق له هذا الحديث ، وقال: عامة ما يرويه لا يتابعه عليه الثقات. (الكامل 6/512، ميزان الاعتدال 2/630).
خلاصہ حال اسانید:
جیساکہ واضح ہوگیا کہ اس حدیث کی کوئی بھی سند ضعیف راویوں سے خالی نہیں ہے، مزید بر آں کہ مذکورہ تمام اسانید کا دار ومدار (علی بن زید بن جدعان) پر ہے، جس کے بارے میں نقاد حدیث کا موقف مختلف ہے ، بعضوں نے اس پر جرح کی ہے، اور یہاں پر اس کا تفرد بھی پایا جارہا ہے، مگر بعض محدثین نے اس کی توثیق بھی کی ہے، اور اس کی بعض روایتوں کی تصحیح یا کم از کم تحسین کی ہے:
امام ترمذی ایک جگہ فرماتے ہیں: حدیث حسن صحیح۔ ذھبی "تلخیص المستدرک" (8543) میں لکھتے ہیں: ابن جدعان "صالح الحديث"، اور (8699) میں لکھتے ہیں: "اسناده قوى"۔
علامہ ابن الملقن لکھتے ہیں: "وہو حسن الحديث". (تحفۃ المحتاج)۔
خلاصۂ حال حدیث:
محدثین کی ایک جماعت نے حدیث کی سند میں کمزوری کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، بلکہ بعض علماء نے ضعیف راوی کے تفردکی بناء پر منکر تک کہا ہے، چند احکام ملاحظہ فرمائیں:
ابو حاتم رازی نے "العلل" میں کہا: (هذا حديث منكر).
عقيلی نے "الضعفاء الكبير" میں فرمایا: (قد رُوي من غير وجهٍ، ليس له طريقٌ ثبتٌ بيّن).
ابن خزيمہ نے"صحيح" میں تخریج کرتے ہوئے لکھا ہے: (إن صحّ الخبر).
ابن عدی نے روایت پیش کرنے کے بعدراوی کے بارے میں کہا: عامة ما يرويه لا يتابعه عليه الثقات۔
ابن حجر "اتحاف المهرة" میں تحریر فرماتے ہیں: (مَدارُه على علي بن زيد، وهو ضعيفٌ).
مگر روایت چونکہ فضائل سے متعلق ہے، اس لئےمحدثین کی ایک جماعت جنہوں نے فضائل پرمشتمل احادیث کی کتابیں مرتب کی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں اس روایت کو جگہ دی ہے۔ ان حضرات کی متابعت میں حضرت شیخ الحدیث صاحب نے بھی رسالہ "فضائل رمضان" میں تحریر کر رکھی ہے۔
چنانچہ امام ابوبکر بغدادی (جو ابن ابی الدنیا کے نام سے معروف ہیں ‏) ‏(۲۸۱ﮪـ‏) نے اپنی مشہور کتاب ‏(فضائل رمضان) میں، ابن شاہین بغدادی (۳۸۵ﮪـ‏) نے اپنی کتاب ‏(فضائل شہررمضان‏) میں، مشہورمحدث امام بیہقی (۴۵۸ﮪ‏ـ) نےان کی مشہور کتاب (شعب الایمان ۳۳۳۶ اورفضائل اوقات۳۷) میں، امام ابوالقاسم اصبہانی (۴۵۷ﮪـ) نے اپنی مشہور کتاب (الترغیب والترہیب ۱۷۵۳‏) میں، اسی طرح امام منذری (۶۵۶ﮪـ) نے (الترغيب والترهيب 2/ 57) میں اس حدیث کو (عن سلمان رضی الله عنہ) کہہ کر نقل کیا ہے. یہ ان کے نزدیک حدیث کےصحیح یا کم از کم حسن ہونے کی دلیل ہے. لہذا اس روایت کو بالکل ساقط الاعتبار قرار دینا درست نہیں ہے۔
جہاں تک رمضان کے مبارک مہینہ میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتوں کے نازل ہونے، بندوں کے گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا تعلق ہے، تو یہ تینوں فضیلتیں احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں، جس پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے، لیکن رمضان کے تین عشروں میں سے ہر عشرہ کی خصوصی اہمیت وفضیلت بھی ہے ، تو اس سلسلہ میں مذکورہ بالا حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے، اگرچہ ماہ رمضان کا ایک ایک لمحہ ان تینوں فضیلتوں کو شامل ہے۔
جی ہاں ہر عشرہ کی خصوصی فضیلت جس کا اس حدیث میں ذکر ہوا ہے، اس سے کوئی شخص اختلاف تو کرسکتا ہے لیکن اس روایت کے ذکر کرنے والے پر سخت الفاظ استعمال کرکے فتوی لگانا جائز نہیں ہے، کیونکہ بہرحال بڑے بڑے محدثین نے فضائل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مذکورہ حدیث کو تسلیم کیا ہے۔
بیان کرسکتے ہیں؟
اگر کوئی شخص اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتا ہے تو وہ اپنے بیانات اور کتابوں میں ذکر نہ کرے، لیکن اپنی رائے اور فیصلہ کو آخری فیصلہ سمجھ کر دوسروں پر تھوپنا صحیح نہیں ہے۔ اور دوسری جانب جو حضرات البانی کی تضعیف کو مردود قرار دیتے ہیں، ان کا موقف بھی غیر منصفانہ ہے، چونکہ البانی اپنی رائے میں متفرد نہیں ہیں، جیساکہ اوپر تفصیلا گذرچکا ہے۔
-------------------------------------------------------
رمضان کے ہر عشرہ کی الگ دعا کا حکم
سوال: رمضان کے مہینے میں جو ہر عشرے کی دعا ہوتی ہے جیسے پہلے عشرہ رحمت کا تو اس کی دعا، دوسرا عشرہ مغفرت کا اس کی دعا اور تیسرا عشرہ جہنم سے خلاصی کا اس کی دعا، تو ان عشروں کی مستند دعائیں جو حدیث سے ثابت ہیں وہ بتادیں اور براہ کرم اعراب بھی لگادیں. جزاک اللہ!
جواب: رمضان المبار ک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے خاص مواقع میں سے ہے اس لیئے اس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہونا چاہیئے البتہ کسی مخصوص عشرہ سے متعلق کسی مخصوص دعا کا کسی حدٰیث سے ثبوت نہیں ہے، حدیث میں اتنا ضرور ہے کہ چار چیزوں کی اس مہینہ میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضاء کے واسطے اور دو ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ ، اس کے لئے لاالہ الا اللہ استغفراللہ اسئلک الجنۃ واعوذبک من النار کے الفاظ منقول ہیں (بیھقی، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ) اس لئے اس دعا کے اہتمام کے ساتھ اللہ سے اس کی رحمت، مغفرت، سلامتی ایمان وبدن ،فلاح دارین نیز ہر طرح کی خیر کا سوال بکثرت کرنا چاہئے۔ بعض بزرگوں سے پہلے عشرہ میں  رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین، دوسرے میں استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ، اور تیسرے میں اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنا  کا اہتمام منقول ہے، یہ آ خری دعا احادیث میں بھی طاق راتوں میں مانگنے کی ترغیب وارد ہے۔ واللہ اعلم  
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
-----------------------------
افطار کے وقت کی مسنون دعا
سوال: افطار کی مستند اور صحیح دعا کون سی ہے؟ اور یہ دعا کھجور کھانے سے پہلے پڑھنا سنّت ہے یا بعد میں پڑھنا سنّت ہے؟ اگر بعد میں ہے تو پھر پہلے کون سی دعا پڑھیں؟ (براہ کرم دعا پر اعراب لگادیجئے).
جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افطار کے وقت کی دعائیں احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں۔
(ا) اَللَّھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ)[مشکوۃ۔ص: 175، کتاب الصوم۔ ط: قدیمی کراچی]
ترجمہ: اے اللہ! میں نے تیرے ہی واسطے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔
(۲) ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ] [سنن ابی داؤد۔2/278، بیروت]
ترجمہ: پیاس چلی گئی اوررگیں ترہوگئیں اوراللہ نے چاہاتواجروثواب قائم ہوگیا۔
ان احادیث کے ذیل میں بعض شارحین نے یہی لکھاہے کہ افطار کے بعد یہ دعائیں پڑھی جائیں۔ [ملاحظہ ہو عون العبود، مرقاۃ المفاتیح]
البتہ مولاناعاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ نے ’تحفۃ المسلمین‘ میں لکھا ہے کہ ان میں سے پہلی دعا افطاری کے وقت یعنی افطارسے قبل اور دوسری دعا افطاری کے بعد پڑھنی چاہئے۔ (جیساکہ الفاظ احادیث بھی اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ افطاری کے بعد ہی پڑھی جائے۔)
نیزمشہورسعودی عالم شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریرفرماتے ہیں کہ:
''دعا غروب شمس کے وقت افطاری سے قبل ہونی چاہئے کیونکہ اس وقت اس میں عاجزی وانکساری اور تذلل جمع ہوتی ہے اور پھر وہ روزے سے بھی ہے اور یہ سب کے سب دعا کے قبول ہونے کے اسباب ہیں اور افطاری کے بعد تو انسان کا نفس راحت اور فرحت وخوشی میں ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑجائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع کے لئے ایک دعا ثابت ہے اگر تو یہ صحیح ہو تو پھر یہ افطاری کے بعد ہونی چاہئےاور وہ یہ ہے'':
(ذھب الظماء وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ )
اس لیے زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان دعاؤں میں سے پہلی دعا افطاری سے قبل پڑھی جائے جب کہ لوگ افطاری سے قبل دیگردعاؤں میں بھی مصروف ہوتے ہیں۔
اوردوسری دعا افطاری کے بعدپڑھی جائے جیساکہ اس کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
-------------------
سوال: تراویح میں چار رکعت کے بعد دعا (سبحان ذی الملک ․․․․․․․․ ) پڑھنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور اس کے علاوہ کیا اور کوئی دعا بھی پڑھ سکتے ہیں؟ اگر ہاں! تو وہ بتادیجئے۔
جواب: بسم الله الرحمن الرحيم
(۱، ۲): تراویح کی نماز میں ہر چار رکعت پر جو ترویحہ ہوتا ہے، اس میں شریعت کی طرف سے کوئی خاص عمل، تسبیح یا دعا وغیرہ متعین نہیں ہے، ہر شخص کو اختیار ہے، خواہ وہ کوئی تسبیح پڑھے، (آہستہ آواز میں) قرآن پاک کی تلاوت کرے، انفرادی طور پر نفل نماز پڑھے، دعا کرے یا خاموش رہے۔ اور اگر کوئی شخص تسبیح پڑھنا چاہے تو جو تسبیح چاہے پڑھ سکتا ہے، مثلاً تیسرا کلمہ ، یا صرف سبحان اللہ وغیرہ۔ اور اگر کوئی شخص مشہور تسبیح، یعنی: سبحان ذی الملک الخ پڑھے تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں، یہ تسبیح بھی پڑھی جاسکتی ہے، یہ تسبیح قہستانی نے منھج العباد کے حوالے سے نقل فرمائی ہے جیسا کہ شامی میں ہے؛ البتہ یہ تسبیح سنت یا ضروری سمجھ کر نہ پڑھی جائے، نیز اجتماعی طور پر یا بآواز بلند بھی نہ پڑھی جائے۔
یجلس ندباً بین کل أربعة بقدرھا وکذا بین الخامسة والوتر وکذا بین الخامسة والوتر ویخیرون بین تسبیح وقراء ة وصلاة فرادی (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲:۴۹۶، ۴۹۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”بین تسبیح“:قال القھستاني: فیقال ثلاث مرات: ”سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزة والعظمة والقدرة والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح قدوس ربنا ورب الملائکة والروح، لا إلہ إلا اللہ، نستغفر اللہ، نسألک الجنة ونعوذبک من النار“ کما في منھج العباد (رد المحتار) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
----------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر
-----------------------------------
https://saagartimes.blogspot.com/2019/06/5.html


Wednesday, 19 June 2019

سلام کی مروجہ شکلوں کا شرعی حکم

سلام کی مروجہ شکلوں کا شرعی حکم

تلنگانہ میں ایک باشرع شخص کو اسمبلی اسپیکر بنایا گیا ہے. ریاستی اسمبلی میں اسپیکر موصوف نے ہاتھ جوڑکر 'سلام' کا جواب بھی دیا. زید کا قول ہے کہ "مسلمانوں کے پاس جواب دینے کا سب سے بہترین انداز ہے ۔۔۔۔ وہ دائیں ہاتھ کو سلامی کے انداز میں پیشانی تک لے جاکر جواب دے سکتا ہے ۔۔۔۔ وہ اسی طرح اپنے دائیں ہاتھ کو دل تک لے جاکر جواب دے سکتا ہے ۔۔۔۔ بحث کیوں نہیں کی جانی چاہئے؟  ۔۔۔۔ کیا عقائد کو اتنا آسان سمجھ لیا گیا ہے؟ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کفریہ اور شرکیہ شاعری تک کو بعض نوجوان علماء وفضلاء بسروچشم قبول کرنے لگے ہیں ۔۔۔۔ برہما کماری کے پچاس ہزار افراد کے ایک اجلاس میں' ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد میں نے اپنی تقریر سلام سے شروع کی اور اس کی تشریح پر دو منٹ صرف کئے۔۔۔۔ تقریر کے بعد سامعین کے ساتھ ساتھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے 31 بڑے زعماء ہاتھ جوڑکر کھڑے ہوئے مگر میں نے سلامی کے انداز میں دایاں ہاتھ اٹھاکر پیشانی تک لے جاکر ان کے احترام کو قبول کیا اور کسی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی ۔۔۔۔ ہاتھ صرف خدائے وحدہ لاشریک کے آگے جوڑے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔ علماء ومفتیان سے پوچھئے۔۔۔۔ یہ دراصل تربیت کا مسئلہ ہے۔۔۔۔ آج ہر عمل کو آسان سمجھ لیا گیا ہے اور کلچر کے نام پر عقائد کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔۔۔۔" براہ کرم سلام کی مروجہ شکلوں کا شرعی حکم واضح فرمائیں.

الجواب وباللہ التوفیق:
حدیث میں ہے: تَسْلِیْمُ الْیَہُوْدِ، الاشَارَةُ بِالأصَابِعِ، وَتَسْلِیْمُ النَّصَاریٰ الاشَارَةُ بِالأَکُفِّ، یعنی یہودیوں کا سلام کرنا، انگلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنے اور عیسائیوں کا ہتھیلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ (ترمذی: ۲۶۹۵، کراھیة إشارة الید)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
لَاتُسَلِّمُوا تَسْلِیْمَ الْیَہُوْدِ، فانَّ تَسْلِیْمَہُمْ بِالرُّوٴُوْسِ وَالأَکُفِّ وَالْاشَارَةِ: یہودیوں کی طرح سلام نہ کرو، اُن کا سلام سر، ہاتھ اور اشارے سے ہوتا ہے۔ (عمل الیوم واللیلة للنسائی، رقم: ۳۴۰)
ایک دوسری روایت میں ہے:
تَسْلِیْمُ الرَّجُلِ بِأُصْبُعِ وَاحِدَةٍ یُشِیْرُ بِہَا، فعلُ الیہودِ:کہ آدمی کا اشارہ کر کے ایک انگلی سے سلام کرنا، یہودی فعل ہے۔ (الترہیب: ۳/۴۳۵)
شارحینِ حدیث نے اِن جیسی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سر، ہاتھ یا جسم کے دوسرے اعضاء سے ا شارہ کرکے، الفاظ بولے بغیر سلام کرنا یا جواب دینا جائز نہیں؛ بلکہ یہودیوں اور مُتکبِّر لوگوں کا کام ہے۔
”مظاہرِ حق جدید“ میں ہے:
چناں چہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کو، گویا مُکَاشْفَہ ہوا کہ میری امت کے کچھ لوگ بے راہ روی کاشکار ہوکر، سلام کرنے کا وہ طریقہ اختیار کریں گے، جو یہودیوں، عیسائیوں اور دوسری غیر اقوام کا ہے، جیسے انگلیوں یا ہتھیلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنا، ہاتھ جوڑلینا، کمر یا سر کو جھکانا اور صرف سلام کرنے پر اکتفا کرلینا وغیرہ وغیرہ؛ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوری امت کو مخاطب کرتے ہوئے، اِس بارے میں تنبیہ بیان فرمائی اور یہ وعید بیان کی کہ جو شخص سلام کے اِن رسم ورواج کو اپنائے گا جو اسلامی شریعت اور ہماری سنت کے خلاف ہیں، تو اُس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا شمار، ہماری امت کے لوگوں میں نہیں ہوگا۔ (مظاہر حق:۵/۳۴۷)
حدیث کا ضُعف اور اس کا جواب:
اوپر سنن ترمذی کی جو روایت ذکر کی گئی ہے، اُس کے بارے میں امام ترمذی رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے: إسنادُہ ضعیف کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، یعنی قابلِ استدلال نہیں؛ لہٰذا محض اشارے سے سلام کے عدمِ جواز پر استدلال درست نہیں، ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے اِس کا جواب دیا ہے کہ محض کسی حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ سے حکم بھی بدل جائے، یہ ضروری نہیں ہے؛ نیز یہ حدیث دوسری صحیح سند سے مروی ہے مثلا: عمل الیوم واللیلة والی روایت، حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے: وسندُہ جیّد․ (فتح الباری:۱۱/۱۹)
علاوہ ازیں صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سلام باللفظ مسنون ہے اور اِسی طرح اُس کا جواب بھی زبان سے دینا واجب ہے؛ لہٰذا محض اِس حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اشارے سے سلام کے عدمِ جواز کا حکم نہیں بدلے گا۔ (مرقاة: ۹/۵۷)
تعارُض اور اُس کا حل:
محض اشاروں سے سلام کے جواز کے سلسلے میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کی ایک روایت پیش کی جاسکتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ایک روز مسجد سے گذرے اور وہاں عورتوں کی ایک جماعت (دینی تعلیم کے حصول کے لیے) موجود تھی، تو آں جناب نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے سلام کیا اور امام ترمذی رحمة اللہ علیہ نے اِس حدیث کے بارے میں ”ہذا حدیثٌ حسنٌ“ کہا ہے۔
علامہ نووی رحمة اللہ علیہ نے اِس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے لفظ، اشارہ دونوں کو جمع کیا تھا، صرف اشارے سے سلام نہیں کیا تھا، اور اِس کی تائید اِس سے ہوتی ہے کہ ابوداوٴد نے بھی اِس روایت کو نقل کیا ہے اور اُس میں فَأَہْویٰ بِیَدِہ (اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا) کے بعد فَسَلّم علینا کے الفاظ زائد ہیں، اگر صرف ہاتھ سے اشارہ کیا تھا تو فَسَلَّم علینا کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ (فتح ا لباری: ۱۱/۱۸، مرقاة: ۹/۵۷)
ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے زبان سے نہیں؛ بلکہ محض اشارے سے سلام کیا تھا، تب بھی مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا؛ کیوں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے؛ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے، نہ کرنے اور اشارہ سے سلام کرنے نہ کرنے؛ ہرطرح کا اختیار ہے، ثانیاً کبھی اشارہ سے بغیر سلام کے قصد کے، محض تواضُع کو مراد لیا جاتا ہے، ثالثاً اشارہ سے سلام کرنا، عورتوں کے حوالے سے، بیانِ جواز پر محمول ہے، مَردوں کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ (مرقاة المفاتیح:۹/۵۷)
فائدہ: ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث کی جو تاویلات پیش کی ہیں، اُن سے اُن ساری روایتوں کا جواب بن جاتا ہے، جس میں کچھ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اشارے سے سلام کرنا مروی ہے، ایسی روایات کے لیے دیکھیے امام بخاری رحمة اللہ علیہ کی الأدب المفرد (باب من سلم إشارة) لیکن امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے ایسی روایتوں کو ذکر کرنے کے بعد آخری روایت عطا بن ابی رباح رحمة اللہ علیہ کی نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ التسلیمَ بالید، وقال: کان یَکْرَہ التسلیمَ بالید (الأدب المفرد: رقم: ۹۴۰)
 یعنی اکثر صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنے کو نا پسند کرتے تھے، اور خود حضرت عطا بھی اِسے ناپسند کرتے تھے۔
راقم عرض گزار ہے کہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس آخری روایت سے اِس جانب اشارہ کیا ہے کہ محض ہاتھوں کے اشارہ سے سلام، کچھ صحابہٴ کرامسے ثابت ہے؛ لیکن اکثر صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زبان سے سلام کرتے تھے اور یہی معمول بہا ہے۔
چند مسائل:
مسئلہ: سلام کے ساتھ ہاتھ اٹھانے کی بھی گنجائش ہے؛ اگر چہ ضرورت نہیں۔ (محمودیہ: ۹/۷۳)
مسئلہ: لفظ اور اشارہ کا جمع کرلینا، جیسا کہ ہمارے بلاد میں معمول ہے، اگر چہ اولیٰ نہ ہو؛ مگر جائز ہے؛ خصوصاً جب کہ یہ اشارہ علامتِ تعظیم وتوقیر، عرفاً قرار پاچکا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱۰/۱۳۱)
مسئلہ: قرآن مجید میں ہے کہ جب تم کو کوئی سلام کرے تو اُس سے اچھا جواب دو، یا ویسا ہی لوٹادو، اِس سے معلوم ہوا کہ سلا م کے جواب میں سرہلا دینا یا ہاتھ اٹھادینا کافی نہیں۔ (فروع الایمان مع اصلاحی نصاب: ۴۲۱)
معلوم ہوا کہ سلام کے موقع پر صرف ہاتھ اٹھا دینا کافی نہیں ہے، شہر حیدرآباد میں، دیکھا جاتا ہے کہ سلام کرنے والا، سلام کرتے وقت، اپنا ہاتھ مخصوص اندازمیں اپنے چہرے یا سینہ تک لے جاتا ہے اور بعض لوگ ہاتھ کو حرکت بھی دیتے ہیں، یہ طریقہ، اسلامی نہیں ہے، اور جواب دینے والا بھی بعض دفعہ ایسے ہی کرتا ہے، یہ بھی زائد چیز ہے۔
مسئلہ: جب بُعد (دوری) یا کسی اور وجہ سے آوازِ سلام سمجھ میں نہ آسکے تو ہاتھ سے اِعلام واِعلان مباح ہے۔ (فتاوی رحیمیہ:۱۰/۱۳۱)
یعنی عام حالات میں صرف ہاتھ سے یاسر سے سلام کرنا جائز نہیں؛ بلکہ مجبوری کی حالت میں ہاتھ سے اشارہ کرسکتا ہے؛ لیکن لفظِ سلام اور جواب سلام کے الفاظ اور اشارہ دونوں کو جمع کرے، اور گونگا کا مسئلہ الگ ہے، وہ ہاتھ کے اشارے سے ہی سلام یا سلام کا جواب دے گا، اُس کے حق میں اِشارہ تلفظ کے درجہ میں ہے۔
سلام کے جواب میں صرف سر ہلانا، بد مذاقی ہے:
حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے مواعظ میں ہے:
”بعض لوگ جو سلام کے جواب میں، سر ہلاتے ہیں اور زبان سے”وعلیکم السلام“ نہیں کہتے ہیں وہ بد مذاق ہیں کہ ٹکاسی زبان نہیں ہلاتے اور دھڑا سا سر ہلادیتے ہیں، ممکن ہے کوئی معقولی اِس کی توجیہ کرے کہ فعلِ بسیط، فعل مرکب سے آسان ہوتا ہے اور سر کا ہلانا اضافہ او رفعلِ بسیط ہے، اور زبان کا چَلانا فعلِ مرکب ہے؛ کیوں کہ الفاظ کو مخارج سے خاص ہیئت وترکیب کے ساتھ ادا کرنا پڑتا ہے۔
سو جواب اِس کا یہ ہے کہ اس لحاظ سے؛ اگر چہ سر ہلانا سہل ہے؛ مگر جس غرض سے سلام کرتے ہیں اُس غرض وغایت کے لحاظ سے زبان ہی کا فعل آسان ہے؛ کیوں کہ سر ہلانے سے وہ غرض حاصل نہیں ہوتی، سلام سے مقصود دعا ہے اور وہ بدونِ کلام وتکلم کے حاصل نہیں ہوتی تو جو لوگ سلام وجوابِ سلام میں سر ہلاتے ہیں، ان کو غایات ومقاصد سے دلچسپی نہیں اور یہی بد مذاقی کی علامت ہے“۔ (خطبات حکیم الامت:۲۸/۱۲۳، اصلاح ظاہر)
سلام اور جوابِ سلام میں جہر اور سنانا ضروری ہے:
سلام چاہے ابتدائاً ہو یا جواباً ہو: بہرحال ایک دوسرے کو سنانا ضروری ہے، بغیر سنائے نہ تو سلام، سلام ہوگا اور نہ ہی جواب، جواب ہوگا، سلام ایک مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے، جہر کے بغیر اِس کا مقصد حاصل نہیں ہوگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہی معمول تھا کہ سلام اور جوابِ سلام میں جہر کرتے تھے؛ لیکن یہ بلند آواز معتدل ہو، آواز اِتنی تیز نہ ہو کہ سننے والے کو دِقّت اور تنگی محسوس ہو اور نہ ہی آواز اتنی پست ہو کہ سلام کرنے والے یا سننے والے سن ہی نہ سکیں۔
دلائل: حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشاد أَفْشُوا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ (اپنے درمیان سلام کو رواج دو) کی شرح میں لکھا ہے:
۱-  الإفشاءُ، الإظہارُ والمرادُ نَشْرُ السَّلامِ بینَ ا لناسِ؛ لیُحْیُوا سُنتَہ․
افشاء، اظہار کو کہتے ہیں: اور مقصد اِس سے لوگوں کے درمیان سلام کو پھیلانا ہے؛ تاکہ لوگ آپ کی سنت کو زندہ کریں۔ (فتح الباری: ۱۱/۲۰)
۲- علامہ نووی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے علامہ عینی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے:
وأقلُّ السَّلامِ ابتداء ً ورداًّ أن یُسمِعَ صاحِبَہ، وَلاَ یُجْزِئْہُ دونَ ذلک․
سلام اور جوابِ سلام میں کم از کم درجہ یہ ہے کہ مُتَعَلِّقہ شخص کو سنایا جائے، اور اس سے کم سلام کافی نہیں۔ (عمدة القاری: ۱۵/۳۴۶)
علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:
۳- فکذلک إذا أجاب بجوابٍ لم یُسمَعْ منہ، فَلَیْسَ بِجَوابٍ․ اگر کوئی جواب دے اور سنائے نہ ،تو وہ جوابِ سلام نہیں ہے۔ (الجامع لأحکام القرآن:۵/۳۰۳)
ایک شبہ اور اس کا جواب:
سوال (۳۵۷) سلام کا جواب اگر آہستہ دیا کہ مسلَّم (جس کو سلام کیاجارہا ہے) نے نہ سنا، تو جواب ادا ہوگا یا اِسماع بھی ضروری ہے، بعض صحابہ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے سلام کا جواب نہایت آہستہ سے دیا کہ بوجہ عدم سماع، تکرارِ سلام کی نوبت آئی، آخر حضور واپس ہوئے تھے؛ گو علت یہاں استماعِ کلام وتحصیل برکت ہے، مگر بہ ظاہر شبہ جواز کا معلوم ہوتا ہے۔
الجواب: اِعلام ضروری ہے، اگر قریب ہو تو اِسماع سے اور اگر بعید یا اَصَمّ (بہرہ) ہو تو اشارہ سے مع تلفُّظ بہ لسان کے اور صحابی کا یہ فعل عارض سے تھا فَلَا یُقَاسُ عَلَیْہِ غَیْرُہ․(امداد الفتاوی: ۴/۲۷۶)
ایک مبنی بر حکمت رائے:
مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہ لکھتے ہیں: میں نے حضرت تھانوی کی کسی کتاب میں دیکھا تھا کہ سلام کا جواب دینا واجب تو ہے؛ لیکن جواب کوسنانا مستحب ہے؛ کیوں کہ ایسی صورت اُس شخص کے لیے ہے جو جواب سنا نے سے عاجز ہو یا جواب سنانا مشکل ہو تو اُسے ترک ِواجب کا گناہ نہ ہو، اُس کے لیے آسانی رہے گی؛ لیکن یہ بات فقہاء کی کتابوں میں مجھے نہیں ملی۔ (تکملہ ۴/۲۴۵)
سلام کرنے کا لب ولہجہ اور انداز:
حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے افادات بنام ”اسلامی تہذیب“ میں ہے:
۱- شریعت نے صیغہٴ سلام یعنی ”السلام علیکم“ کے لفظ میں چھوٹے بڑے میں کچھ تفریق وتفصیل نہیں رکھی ، ہاں لہجہ میں فرق ہونا چاہیے؛ کیوں کہ یہ عظمت وادب میں داخل ہے، جس کی شریعت میں تعلیم ہے۔
۲- چھوٹے بڑوں کو نیازمندی کے لہجہ میں سلام کریں اور بڑے اُن کو حقیر نہ سمجھیں۔
۳- باپ کو بیٹا ایسے لہجہ میں سلام کرے کہ سلام کے لہجہ سے معلوم ہوجائے کہ سلام کرنے والا بیٹا ہے، اِس میں کون سا حرج اور کون سی تحقیر کی بات ہے۔
۴- بعض لوگ کچھ ایسی ادا سے اور ایسے لب ولہجہ سے سلام کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا محبت ٹپکی پڑتی ہے، بعض اوقات کسی کے فقط سلام کرنے سے عمر بھر کے لیے محبت ہوگئی۔ (اسلامی تہذیب: ۵۸)
گونگے کا سلام اور جوابِ سلام:
(۱) اگر کسی نے گونگے کو سلام کیا تو و ہ اشارے سے جواب دے دے، فرض ساقط ہوجائے گا۔ (عمدة القاری:۱۵/۳۴۶)
(۲) اگر گونگے نے اشارے سے کسی کو سلام کیا تو اُسے جواب دینا چاہیے؛ کیوں کہ اشارہ گونگے کے حق میں بہت سے احکام میں تلفظ کے قائم مقام ہے۔ (ایضا)
بہرے کو سلام کرنا:
اگر کوئی ایسے شخص کو سلام کرے جو بہرہ ہے تو سلام کرنے والے کو چاہیے کہ تلفظ کے ساتھ ساتھ اشارہ بھی کرے؛ تا کہ وہ سمجھ جائے کہ مجھے سلام کیا جارہا ہے، ورنہ مستحقِ جواب نہیں ہوگا اور اگر بہرے نے کسی کو سلام کیا تو جواب میں تلفظ کے ساتھ ساتھ اشارہ بھی ضروری ہے۔ (ایضا)
اللہ تعالیٰ ہم سب کوسنت کے مطابق افشاء سلام کی توفیق عطا فرمائے۔
استاذ دارالعلوم حیدرآباد
--------------------------------------
اسلام اور سلام
          دنیا کی تمام متمدن ومہذب قوموں میں ملاقات کے وقت پیار ومحبت، جذبہٴ اکرام وخیراندیشی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج ہے، ہمارے ملک میں ہمارے برادران وطن ملاقات کے وقت ”نمستے“ کہتے ہیں، اس نام نہاد ترقی یافتہ زمانہ میں ’گڈ نائٹ‘ و ’گڈ مارننگ‘ اور بعض روشن خیال حضرات ”صبح بخیر“ ”شب بخیر“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبل از اسلام عرب کی عادت تھی، کہ جب وہ آپس میں ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو ”حَیَّاکَ اللّٰہُ“ (اللہ تم کو زندہ رکھے) ”أنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا“ (اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈا کرے) ”أَنْعِمْ صَبَاحًا“ (تمہاری صبح خوش گوار ہو) وغیرہ الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئے تو ہمیں اس کی ممانعت کردی گئی، یعنی اس کی بجائے ”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ“ کی تعلیم دی گئی، جس کے معنی ہیں ”تم ہر تکلیف اور رنج ومصیبت سے سلامت رہو“ ابن العربی رحمة اللہ علیہ نے احکام القرآن میں فرمایا: لفظ ”سلام“ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے اور ”السلام علیکم“ کے معنی ہیں ”اللہ رقیب علیکم“ اللہ تمہارا محافظ ہے (مستفاد ازمعارف القرآن ۲/۵۰۱)
سلام کی جامعیت ومعنویت:
          سلام نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے کہ یہ کلمہ پیار ومحبت اوراکرام کے اظہار کے لیے بہترین لفظ ہے اوراس کی کئی معنوی خصوصیات ہیں:
(۱)      سلام اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے ہے۔ (بخاری ۲/۹۲۰ کتاب الاستیذان)
(۲)      اس کلمہ میں صرف اظہارِ محبت ہی نہیں؛ بلکہ ادائے حق محبت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ تمام آفات اور آلام سے محفوظ رکھیں۔
(۳)     عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی دعا نہیں؛ بلکہ حیاتِ طیبہ کی دعاء ہے۔
(۴)     سلام کرنے والا اپنی زبانِ حال سے اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ تم میرے ہاتھ اور زبان سے مامون ہو، تمہاری جان، مال اور آبرو کا میں محافظ ہوں۔
(۵)      تذکیرہے، یعنی اس لفظ کے ذریعہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں، ایک دوسرے کو اس کے ارادہ ومشیت کے بغیر نفع، ونقصان پہنچا نہیں سکتے۔
(۶)      یہ کلمہ اپنے سے چھوٹوں کے لیے شفقت، مرحمت اور پیار ومحبت کا کلمہ بھی ہے اور بڑوں کے لیے اکرام وتعظیم کا لفظ بھی۔
(۷)     قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیاء ورسل علیہم السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال ہوا ہے اوراس میں عنایت اور محبت کا رس بھرا ہوا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے، سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِي الْعَالَمِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ، سَلاَمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ، سَلاَمٌ عََٰی الْمُرْسَلِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی عِبَادہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی․
(۸)     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی اسی طرح سلام عرض کیا جاتاہے۔
(۹)      تمام ایمان والوں کو نماز میں بھی اس لفظ سے نبی علیہ الصلوٰة والسلام پر دُرود بھیجنے کی تلقین کی گئی ہے۔
(۱۰)     آخرت میں موٴمنین کے جنت میں داخلہ کے وقت کہا جائے گا ”أُدخلُوہا بسلامٍ، سلامٌ عَلَیکُمْ بما صَبَرْتُم، فَنِعْمَ عُقبی الدارِ“ (مستفاد از معارف القرآن ۲/۵۰۱، معارف الحدیث۶/۱۴۹)
سلام کی اہمیت وفضیلت:
          سلام، اسلام کا شعار، سلام جنتیوں کا سلام، اللہ سے قریب کرنے والا، محبتوں کو پیداکرنے والا، نفرتوں، کدورتوں اور عداوتوں کو مٹانے والا ہے، باہمی تعلق واعتماد کا وسیلہ اور فریقین کے لیے موجبِ طمانیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو باہم سلام کارواج دینے اور عام کرنے کی بڑی تاکید فرمائی کہ اسلامی دنیا کی فضاء اس کی لہروں سے معمور رہے اور اس کو افضل الاعمال قرار دیا اوراس کے فضائل وبرکات اور اجر وثواب کو بیان فرمایا ہے۔
          اسلامی سلام کی سنت حضرت آدم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے؛ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ارشاد فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کرو، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام گئے اور فرشتوں کی ایک جماعت سے السلام علیکم فرمایا، فرشتوں نے جواب میں عرض کیا وعلیکم السلام ورحمة اللہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم یہ سلام تمہاری اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے۔ (بخاری کتاب الاستیذان ۲/۲۱۹)
          صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
          تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے؛ جب تک کہ مومن نہ بن جاؤ اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا؛ جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہارے آپس میں محبت قائم ہوجائے گی، وہ یہ کہ آپس میں سلام کو عام کرو، یعنی ہر مسلمان کے لیے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو سلام کرو۔(مسلم کتاب الایمان۱/۵۴)
          حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
          لوگو! خداوند رحمن کی عبادت کرو اور بندگانِ خدا کو کھانا کھلاؤ (محتاج اور مسکین بندوں کو بطور صدقہ کے اور دوستوں عزیزوں اور اللہ کے نیک بندوں کو بطور ہدیہ، اخلاص اورمحبت کے کھانا کھلایا جائے، جو لوگوں کو جوڑنے اور باہم محبت والفت پیدا کرنے کا بہترین وسیلہ ہے) اور سلام کو پھیلاؤ تو تم پوری سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچ جاؤگے (ترمذی، باب الاستیذان ۲/۹۸، ابوداؤد، ابواب السلام ۲/۷۰۶)
          ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
          اے بیٹے جب تم اپنے گھروالوں کے پاس جاؤ تو سلام کیاکرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہوگا۔ (ترمذی ۲/۹۹)
          حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
          کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو کھانا کھلانا اور جانا پہچانا اورانجان ہر ایک کو سلام کرنا، سب سے افضل عمل ہے (بخاری۲/۹۲۱)۔
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو مسلم معاشرہ میں عام کرنے کی انتہائی تاکید فرمائی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے، پھر کچھ دیر بعد دیوار، درخت یا پتھر درمیان میں حائل ہوجائے تو پھر دوبارہ سلام کرے، یعنی جتنی بار ملاقات ہواتنی بار سلام کرتا رہے۔ (ابوداؤد۲/۷۰۷)
          حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرتا ہے۔ (مشکوٰة:۴۰۰)
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر غیرمعمولی اثر ہوا اور ان حضرات نے سلام کو اپنی عملی زندگی کا ایک جزء لا ینفک بنالیا، اس کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل واقعہ سے لگاسکتے ہیں، حضرت طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مجھے لے کر اکثر بازار جایا کرتے تھے، بازار میں تاجر، خریدار، مسکین، گری پڑی چیز اٹھانے والا، غرض ہر کسی کو جس سے ملاقات ہوتی سلام کرتے، ایک دن میں نے عرض کیا، حضرت بازار میں آپ نہ خریدو فروخت کرتے ہیں، نہ بازار میں آپ کسی مجلس میں شریک ہوتے ہیں، لہٰذا بازار جانے کے بجائے، آپ یہاں تشریف رکھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کریں ہم سنیں گے، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بطین (پیٹ والے) ہم بازار صرف مسلمانوں کو سلام کرنے کے لیے جاتے ہیں (کہ بازار میں لوگ ضروریات کی وجہ سے زیادہ رہتے ہیں اور ہم زیادہ مسلمانوں سے ملاقات کریں گے، انھیں سلام کریں گے اور زیادہ ثواب حاصل کریں گے۔ (مشکوٰة:۴۰۰)
سلام کا اجر وثواب:
          سلام کرنا سنت ہے اورجواب دینا واجب ہے، واجب کا ثواب سنت سے زیادہ ہوتاہے، لیکن سلام کرنے کی سنت کا ثواب جواب دینے کے واجب سے زیادہ ہے۔ (مرقاة المفاتیح ۸/۴۲۱ باب السلام)
          جب کسی مسلمان کو سلام کیا جائے تو اس کے ذمہ جواب دینا تو واجب ہے، اگربغیر کسی عذر شرعی کے جواب نہ دے تو گنہگار ہوگا؛ البتہ جواب دینے میں دو باتوں کا اختیار ہے، ایک یہ کہ جن الفاظ میں سلام کیا گیا ہے ان سے بہتر الفاظ میں جواب دیا جائے، دوسرے یہ کہ بعینہ انھیں الفاظ سے جواب دے دیا جائے۔ (معارف القرآن ۲/۵۰۴)
          حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے اور السلام علیکم کہا، آپ علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا، اور وہ شخص بیٹھ گئے، آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: دس نیکیاں، کچھ دیر بعد ایک دوسرے آدمی حاضر حدمت ہوئے اور السلام علیکم ورحمة اللہ کہا، آپ علیہ السلام نے جواب دیا اور وہ آدمی بیٹھ گئے اور آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بیس نیکیاں، کچھ دیر بعد ایک تیسرے شخص حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، آپ علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشاد فرمایا: تیس نیکیاں۔ (ترمذی ۲/۹۸، ابوداؤد۲/۷۰۶)
          اس روایت سے معلوم ہوا کہ مکمل سلام کرنے کے بعد تیس اور ہر ایک کلمہ پر دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔
سلام کے آداب:
          (۱)      سلام کرنے میں پہل کرے؛ اس لیے کہ سلام میں پہل کرنے سے عاجزی وتواضع پیداہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کو بندوں سے تواضع نہایت محبوب ہے۔
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ مستحق وہ بندہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرنے والا ہو۔ (ترمذی ۲/۹۹، ابوداؤد۲/۷۰۶)
          ایک دوسری روایت میں ہے کہ سلام میں پہل کرنے والا کبرونخوت سے بری ہوتا ہے۔ (مشکوٰة:۴۰۰)
          (۲)      سلام کرنے والا اور سلام کا جواب دینے والا ”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ“ صیغہٴ جمع استعمال کریں، اگرچہ مخاطب اکیلا ہی کیوں نہ ہو۔ (الاذکار النوویة:۱۹۴)
          (۳)     سلام اتنی بلند آواز سے کرے کہ سلام کیے جانے والے کو بآسانی آواز پہنچ جائے ورنہ جواب کا مستحق نہ ہوگا، نیز جواب دینے والا بھی اسی طرح بلند آواز سے جواب دے ورنہ جواب ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔ (الاذکار النوویة:۱۹۵)
          (۴)     جب کوئی سلام کرے تو بہتر طریقہ پر جواب دینا، کم از کم ویسے ہی الفاظ سے جواب دینا۔
          اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جب تمہیں سلام کیاجائے تو تم سلام سے بہتر الفاظ سے جواب دو، یا اسی کے مثل جواب دو۔ (النساء:۸۶)
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اس آیت کی تشریح اس طرح فرمائی کہ ایک مرتبہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا ”السلام علیک یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ایک کلمہ بڑھا کر فرمایا کہ ”وعلیکم السلام ورحمة اللہ“ پھر ایک صاحب آئے انھوں نے سلام میں یہ الفاظ کہے ”السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورحمة  اللہ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ایک اور کلمہ بڑھاکر فرمایا وعلیکم السلام ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ“ پھر ایک اور صاحب آئے انھوں نے اپنے سلام ہی میں تینوں کلمے بڑھاکر کہا ”السلام علیک یا رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورحمة اللہ  وبرکاتہ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف ایک کلمہ ”وعلیک“ ارشاد فرمایا: ان کے دل میں شکایت پیدا ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان، پہلے جو حضرات آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جواب میں دعاء کے کئی کلمات ارشاد فرمائے اور میں نے ان سب الفاظ سے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”وعلیک“ پر اکتفاء فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ہمارے لیے کوئی کلمہ چھوڑا ہی نہیں کہ ہم جواب میں اضافہ کرتے، تم نے سارے کلمات اپنے سلام ہی میں جمع کردیے، اس لیے ہم نے تمہارے سلام کا جواب قرآنی تعلیم کے مطابق جواب بالمثل دینے پر اکتفاء کرلیا، اس روایت کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (معارف القرآن۲/۵۰۳)
          (۵)      عزیز، دوست، چھوٹے، بڑے، جانے پہچانے اور انجانے سب کو سلام کرے۔ (بخاری۲/۹۲۱)
          (۶)      چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔ (بخاری۲/۹۲۱)
          (۷)     سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے۔(بخاری۲/۹۲۱)
          (۸)     پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے۔ (بخاری۲/۹۲۱)
          (۹)      چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ (بخاری۲/۹۲۱)
          (۱۰)     اپنے محارم کو سلام کرے۔ (ترمذی۲/۹۹)
          (۱۱)     جب گھر یا مسجد میں داخل ہو، وہاں اس کے علاوہ کوئی نہ ہوتو ان الفاظ سے سلام کرے، السلامُ علینا وعلی عبادِ اللّٰہ الصالحین(ہندیہ۵/۳۲۶)
          (۱۲)     اگر کوئی غائب شخص سلام پہنچائے تو اس طرح جواب دے، وعلیک وعلیہ السلام ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ (ترمذی۲/۹۹)
          (۱۳)    اگر ایک شخص ایک جماعت کو سلام کرے تو جماعت میں سے ایک شخص کا جواب دینا کافی ہے، تمام حاضرین کا جواب دینا افضل ہے۔ (ابوداؤد ۲/۷۰۸)
          (۱۴)    اگر سلام کرنے والی ایک جماعت ہوتو صرف ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے؛ البتہ تمام کا سلام کرنا افضل ہے۔ (الاذکار النوویة:۱۹۶)
          (۱۵)     اگر مسلم اور غیرمسلم کا مخلوط مجمع ہوتو مسلمان کی نیت سے سلام کرے۔ (بخاری۲/۹۲۴)
          (۱۶)     جب کسی کی ملاقات سے فارغ ہوکر رخصت ہونے لگے تو سلام وداع کرے، یہ بھی سنت ہے۔ (ترمذی۲/۱۰۰)
          (۱۷)    جب کسی کے پاس کوئی تحریر لکھے تو السلام علیکم سے کلام کا آغاز کرے۔ (بخاری۲/۹۲۶)
          (۱۸)    اگر مسلمان دو ہو یا بہرا ہوتو ہاتھ سے اشارہ بھی کرے اور زبان سے لفظ سلام بھی کہے، صرف اشارہ پر اکتفاء نہ کرے۔ (الاذکارالنوویة:۱۹۶)
          (۱۹)     سلام یا جوابِ سلام میں السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ پر مزید کلمات کا اضافہ کرنا خلافِ سنت ہے۔ (معارف القرآن۲/۵۰۴)
          (۲۰)    اگر کسی غیرمسلم کے پاس خط لکھے تو ”السلام علی من اتبع الہدی“ تحریر کرے۔ (بخاری۲/۹۲۴)
کن لوگوں کو سلام کرنا مکروہ ہے؟
          (۱) بے ایمان کو سلام کرنا مکروہ تحریمی ے، اگر وہ ابتداءً سلام کرے تو ”علیک“ پر اکتفاء کرے۔ (مرقات۸/۴۲۰)
          (۲) زندیق کو سلام کرنا (شامی۲/۳۷۷، مفسدات الصلوٰة)
          (۳) جو شخص برسرعام گناہ اور فسق میں مبتلا ہو اس شخص کو سلام کرنا مکروہ ہے۔ (بخاری۲/۹۲۵)
          (۴) جوان اجنبی عورتوں اور اجنبی مردوں کو سلام کرنا مکروہ ہے،اگر اجنبی نہایت بوڑھا یا بوڑھی ہوتو سلام کرنا جائز ہے۔ (ہندیہ۵/۳۲۶)
          (۵) بدعتی کو سلام کرنا۔ (مرقات ۸/۴۲۰)
          نوٹ: بے ایمان کو کسی ضرورت کی وجہ سے سلام کرنا یعنی معاشرتی الفاظ استعمال کرنا مثلاًصبح بخیر، آداب وغیرہ جائزہے، مذہبی الفاظ ”نمستے“ کہنا جائز نہیں۔ (الاذکار النوویة:۲۰۲، فتاویٰ رحیمیہ ۶/۲۵۶)
          مندرجہ ذیل مواقع میں سلام نہ کرے:
          (۱)      نمازپڑھنے والے (۲) تلاوت کرنے والے (۳) دینی باتوں (حدیث، فقہ وغیرہ) کے بیان کرنے والے (۴) ذکر کرنے والے (۵) اذان دینے والے (۶) اقامت کہنے والے (۷) جمعہ اور عیدین وغیرہ خطبات دینے والوں کو دینی امور میں مصروف ہونے کی وجہ سے سلام کرنا مکروہ ہے۔
          (۸)     اذان، اقامت اور خطبات کے دوران سلام کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی ان مواقع میں سلام کرے تو جواب کا مستحق نہیں۔ (شامی ۲/۳۷۵)
          (۹)      کھانے والے کو سلام کرنا۔
          (۱۰)     قضاء حاجت میں مشغول آدمی کو سلام کرنا۔
          (۱۱)     جماع میں مشغول آدمی کو سلام کرنا۔
          (۱۲)     جس آدمی کا ستر کھلا ہوا ہو اس کو سلام کرنا بھی مکروہ ہے؛ اس لیے کہ موجودہ صورت حال میں جواب دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔ (شامی ۲/۳۷۵)

          مندرجہ بالا صورتوں میں سلام کا جواب دینا واجب نہیں؛ البتہ بعض صورتوں میں عمل موقوف کرکے جواب دے سکتا ہے، بعض صورتوں میں جواب کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔
مولانا عبداللطیف قاسمی‏، استاذ جامعہ غیث الہدیٰ بنگلور
----------------------------------
جمع و ترتیب: ایس اے ساگر
-----------------------------------



غائبانہ نمازِ جنازہ کی عدم مشروعیت پر ایک تحقیقی جواب

غائبانہ نمازِ جنازہ کی عدم مشروعیت پر ایک تحقیقی جواب

سوال: مفتی صاحب آپ کا غائبانہ نماز جنازہ پر ایک جواب نظر نواز ہوا۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ نجاشی اور حضرت معاویہ مزنی رضی اللہ عنہما کا جنازہ بطور معجزہ آپ کے سامنے کردیا گیا تھا۔ برائے مہربانی اس کی دلیل عنایت فرمادیں اور احناف کے موقف کے مزید دلائل مطلوب ہیں۔ 
(المستفتی: عباداللہ، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق: 

مسئلہ ھذا میں ہمارے پاس دلیل نہیں بلکہ دلائل نقلیہ و عقلیہ کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ دلائل مرغوب الفتاوی میں مذکور ایک محقق و مدلل مضمون سے نقل کیے جارہے ہیں، جنہیں فاضل مرتب نے حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری کے ایک فتوی اور مناظر اسلام حضرت مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی رحمہما اللہ کے ایک مضمون کی مدد سے تیار کیا ہے، اور اسے خود بھی مزید تحقیق وحوالہ جات سے مزین کیا ہے۔ تمام دلائل عنوان کے تحت درج کیے گئے ہیں، نیز یہاں تمام دلائل کے حوالہ جات اور عربی عبارات نقل نہیں کیے جاسکے، مکمل حوالہ جات مرغوب الفتاوی جلد سوم میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
نجاشی کی نماز جنازہ:
آنحضرت ﷺنے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھی ہے، اس سے استدلال صحیح نہیں۔ اس لئے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجاشی کا جنازہ آپ ﷺ کے سامنے کردیا گیا تھا۔ اور صحابہ ؓ کا بیان ہے کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جنازہ آپ ﷺ کے سامنے ہے۔ جیسا کہ آگے مذکور روایات سے معلوم ہوگا۔
نجاشی کا اعزاز:
نیز اس میں نجاشی کا اعزاز بھی مقصود تھا۔نجاشی کی خدمات بہت ہیں۔ مکہ مکرمہ میں جب مشرکین مکہ نے صحابہ ؓ پر بہت ہی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کیا کہ کسی طرح اسلام سے بر گشتہ ہوجائیں تو آنحضور ﷺ کے حکم سے صحابہ ؓ نے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔وہاں نجاشی نے صحابہ ؓ کا بہت ہی اعزاز و اکرام کیا اور ہر طرح ان کو راحت پہنچائی اور خود بھی حلقہ بگوش اسلام ہوکر مسلمان بن گئے۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ۹۹/۱)
ایسے وقت میں جب صحابہ ؓ کا کوئی معاون ومددگار نہ تھا نجاشی نے ان کو پناہ دی اور ہر طرح مدد کی تو جب آنحضو ر ﷺ کو ان کی وفات کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سمیت ان کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھائی۔ اس میں نجاشی کا اعزاز بھی مقصود ہے، لہٰذا یہ حکم عام نہ ہوگا اور اس سے استدلال صحیح نہ ہوگا۔
آنحضرت ﷺ کا کسی صحابی و شہید پر ؓ غائبانہ نماز نہ پڑھنا:
خود آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ میں بے شمار صحابہ ؓ مدینہ منورہ کے باہر شہید ہوئے اور ان کے شہید ہونے کی خبر خود آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ کو دی، مگر ان کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی، حالانکہ خود حضور ﷺ کی ہدایت تھی کہ جب کسی کا انتقال ہوجائے تو مجھے اس کی اطلاع دو، اس لئے کہ میرا نماز پڑھانا مردے کے لئے باعث رحمت ہے۔
اور فرمان خدا وندی ہے : {اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ}
بے شک آپ کی دعا ان کے لئے باعث تسکین ہے۔
بیر معونہ کا واقعہ اور کسی شہید پر نماز جنازہ نہ پڑھنا:
بیر معونہ کا مشہور حادثہ پیش آیا جس میں ستر قراء صحابہ ؓ کو دشمنان اسلام نے دھوکہ سے اپنے ساتھ لے جاکر بڑی بے دردی سے شہید کردیا۔حضور ﷺ کو اس سے بہت ہی صدمہ ہوا۔ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی، مگر ان کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
غزوۂ موتہ کے شہداء پر نماز جنازہ نہ پڑھنا:
غزوۂ موتہ میں خود حضور ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ ، حضرت جعفر بن ابی طالب، ؓ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر دی، ان کے لئے دعائے مغفرت کی مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اگر غائبانہ نماز جنازہ کا عام رواج ہوتا تو آپ ﷺ ہر ایک کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھتے اور آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ ؓ پڑھتے، مگر اس کا صحیح طور پر ثبوت نہیں۔ لہٰذا اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھے، اگر پڑھے گا تو یہ خلاف سنت ہوگا۔
نجاشی کی نمازِ جنازہ کے جوابات:
غائبانہ نماز جنازہ کے قائلین کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ آپ ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے کئی جوابات دئے گئے ہیں۔ اول یہ کہ اس روایت کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ راوی ٔ حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اپنی زندگی میں کتنی مرتبہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھی؟
نجاشی کا انتقال رجب ۹ ہجری جمعرات کے دن ہوا۔ (حاشیہ موطا)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا انتقال ۵۷ ہجری میں ہوا۔
معلوم ہوا نجاشی کے واقعہ کے بعد حضرت ابو ہریرہ ؓ ۴۸ یا ۴۹ سال زندہ رہے۔ کیا اس کا ثبوت ہے کہ اس طویل عرصہ میں راویٔ حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کسی ایک میت پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہو؟
حضرت جابر ؓ سے بھی یہ روایت مروی ہے۔
اب دیکھئے حضرت جابر ؓ کا انتقال۷۴ ہجری میں ہوا۔  اس طویل عرصہ تقریبا ۶۴ سال میں حضرت جابر ؓ کا ایک مرتبہ بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا ثبوت ہے؟
اسی طرح حضرت عمران بن حصین ؓ اس واقعہ کے راوی ہیں۔ان کی وفات ۵۲ ہجری میں ہوئی۔
۴۳ سال میں انہوں نے کسی ایک کی بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ہے؟
حضرت عمران بن حصین ؓ نے تو بات واضح فرمادی کہ:
’’وما نحسب الجنازۃ الا موضوعۃ بین یدیہ‘‘
یعنی ہم خیال نہیں کرتے، مگر یہ کہ جنازہ آپ ﷺ کے سامنے رکھا ہوا ہے۔
اور ابن حبان کے الفاظ ہیں: ’’وھم لایظنون الا ان الجنازۃ بین یدیہ‘‘۔
یعنی صحابۂ کرام خیال نہیں کرتے تھے مگر یہی کہ جنازہ حضرت ﷺ کے سامنے ہے۔ مسند ابو عوانہ میں یہ ا لفاظ ہیں: ’’نحن لا نری الا ان الجنازۃ قد امنا‘‘۔
یعنی ہم نہیں دیکھتے تھے، مگر جنازہ ہمارے آگے ہے۔
معلوم ہوا صحابۂ کرام ؓنے یہ سمجھ کر نجاشی کا جنازہ پڑھا ہی نہیں کہ جنازہ غائب ہے، بلکہ اس خیال سے پڑھا کہ جنازہ حضور ﷺ کے سامنے ہے۔
نجاشی پر نمازِ جنازہ کی خصوصیت کی وجہ:
رہا سوال کہ نجاشی کے جنازہ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ کیوں پیش آیا؟ تو امام محمد ؒ فرماتے ہیں:
’’الایری انہ صلی علی النجاشی بالمدینۃ وقد مات بالحبشۃ فصلوۃ رسول اللہ ﷺ برکۃ و طہور ولیست کغیرھا من الصلوات وھو قول ابی حنیفۃ ؒ‘‘
کیا نہیں دیکھتا کہ آنحضرت ﷺنے مدینہ منورہ میں نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، حالانکہ وہ حبشہ میں انتقال کرگئے تھے۔ آپ ﷺ کی نماز برکت والی اور پاک کرنے والی تھی اور دوسروں کی نمازوں جیسی نہیں تھی، یہی فرمان امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے۔
دوسری و جہ یہ تھی کہ نجاشی کی وفات اپنے ملک میں ہوئی تھی اور ان پر کسی نے نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔
امام ابو داؤد ؒ نے اس حدیث پر ان الفاظ سے باب قائم کیا ہے ’’باب فی الصلوۃ علی المسلم یموت فی بلاد الشرک‘‘ یعنی یہ باب اس مسلمان پر نماز جنازہ پڑھنے کے بیان میں ہے جو بلاد شرک میں فوت ہوجائے۔
اس بات کی شرح میں علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں:
نجاشی ایک مسلمان آدمی تھے۔ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی، مگر وہ اپنا ایمان چھپاتے تھے اور جب کوئی مسلمان فوت ہوجائے تو مسلمانوں پر اس کی نماز جنازہ ادا کرنا واجب ہے۔ نجاشی چونکہ اہل کفر میں مقیم تھے اور وہاں کوئی نہ تھا جو ان کی نماز جنازہ پڑھتا، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے لئے ان کی نماز جنازہ پڑھنا ضروری تھا، کیونکہ آپ ﷺ ان کے نبی تھے اور لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ حق دار تھے، پس اسی سبب سے آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنے کی دعوت دی۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ:
حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک نماز جنازہ مشروع ہی نہیں۔ جہاں تک نجاشی کے واقعہ کا تعلق ہے سو یہ ان کی خصوصیت ہے۔ نیز وہ مسلمان بادشاہ تھے اور مسلمانوں کی انہوں نے بطور خاص مدد کی اور ان پر کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی، اس لئے آپ ﷺ نے ان پر مدینہ منورہ میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:
’’نبی کریم ﷺ نے نجاشی کا جنازہ پڑھا، کیونکہ وہ کفار کے درمیان فوت ہوئے تھے اور ان کا جنازہ نہیں پڑھا گیا تھا۔
’’کما صلی النبی ﷺ علی النجاشی لانہ مات بین الکفار ولم یصل علیہ۔
تیسری وجہ خصوصیت کی یہ ہے کہ: جب نجاشی اسلام لاچکے تھے تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ ایک آدھ دفعہ تو خدمت اقدس میں حاضر ہوتے بالخصوص جب کہ کوئی مانع بھی نہیں تھا، پس ان کے اسلام کی اشاعت کے لئے آپ ﷺ نے ان کی نماز پڑھ کر اس کو ظاہر فرمادیا۔
چوتھی وجہ خصوصیت کی یہ ہے کہ: دوسرے بادشاہوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لئے اور جو دوسرے بادشاہ آپ ﷺ کے زمانہ میں مسلمان ہوئے تھے ان کے استیلاف قلوب کے لئے نجاشی پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔
قائلین غائبانہ نماز جنازہ کی دوسری دلیل اور اس کا جواب:
غائبانہ نماز جنازہ پر ایک استدلال حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی ؓ کے واقعہ سے بھی کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تبوک میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی تھی، حالانکہ ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔
اس واقعہ کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں:
پہلا یہ کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ اس کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔
اور علامہ ابن عبد البر ؒ فرماتے ہیں:
ان احادیث کی سندیں قوی نہیں ہیں، اگر یہ احکام سے متعلق ہوتیں تو ان میں سے کوئی بھی قابل حجت نہ ہوتیں۔ (الاستیعاب، ۳۷۵/۳)
اور ظاہر ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ  کا جواز احکام ہی سے متعلق ہے تو یہ سندیں کیسے حجت ہوسکتی ہیں؟
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس واقعہ کے راوی حضرت انس ؓ ہیں۔ ان کا انتقال اس واقعہ کے ۸۴ سال کے بعد ۹۳ ہجری میں ہوا۔ ان ۸۴ سال میں سینکڑوں صحابہ ؓ کا وصال ہوا، مگر حضرت انس ؓ نے کسی ایک کی بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا نہ کی۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ نجاشی کی طرح اس واقعہ میں بھی کہ یہ ان کی خصوصیت تھی۔ اور وجہ اس خصوصیت کی خود روایت میں موجود ہے :
’’عن انس بن مالک ؓ قَالَ نَزَلَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام علی النبی ﷺ فقال یَا مُحَمَّد! مَاتَ مُعَاوِیَۃَ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْمَزَنِیؓ اَفَتُحِبُّ اَنْ تُصَلِّیَ عَلَیْہِ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَضَرَبَ بِجَنَاحَیْہِ فَلاَ شَجَرَۃٌ وَلاَ اَکَمَۃٌ اِلاَّ تَضَعْضَعَتْ وَ رُفِعَ سَرِیْرُہٗ حَتّٰی نَظَرَ اِلَیْہِ وَصَلّٰی عَلَیْہِ وَخَلْفَہُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ کُلُّ صَفٍّ سَبْعُوْنَ اَلْفاً وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ بِمَ نَالَ ھٰذِہِ الْمَنْزِلَۃَ قَالَ بِحُبِّہِ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ وَقِرَائَ تِہٖ اِیَّاھَا ذَاھِباً وَجَائِیاً وَقَائِماً وَقَاعِداً وَعَلٰی کُلِّ حَالٍ‘‘۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا محمد!معاویہ بن معاویہ مزنی ؓ فوت ہوگئے ہیں آپ ان پر نماز جنازہ پڑھنا پسند کریں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں! حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنے دونوں پر مارے تو تمام درخت اور تمام ٹیلے نظروں کے سامنے سے ہٹ گئے اور جنازہ کی چار پائی سامنے لائی گئی حتی کہ آپ ﷺ نے اسے دیکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ ﷺ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں، ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا معاویہ ؓ نے یہ مقام کیسے پایا؟انہوں نے جواب دیا {قل ھو اللہ احد} سے محبت کی وجہ سے اور آتے جاتے، اٹھتے بیٹھتے اور ہر حال میں اس کے پڑھنے کی و جہ سے۔
اس روایت پر ایک نظر:
حضرت معاویہ ؓ کے واقعہ کی روایت میں ایک راوی محبوب بن ہلال ہیں۔ جن کے بارے میں ابو حاتم ؒ کہتے ہیں: ’’لیس بالمشہور‘‘، البتہ ابن حبان ؒ نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔
ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’فوضع جبرئیل علیہ السلام جناحہ الایمن علی الجبال فتواضعت حتی نظرنا الی المدینۃ‘‘
ایک اور روایت میں ہے ’’قال جبرئیل علیہ السلام : فھل لک ان تصلی علیہ فافیض لک الارض قال نعم فصلی علیہ‘‘۔
اب ذرا اس روایت پر نظر ڈالیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ معاویہ ؓ کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنا دایاں پر پہاڑوں پر رکھا اور وہ دب گئے یہاں تک کہ مدینہ منورہ ہمیں نظر آنے لگا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر نماز جنازہ مشروع ہوتی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو سوال کرنے کی پھر پر رکھ کر مدینہ منورہ دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور جب نظر آگیا تو غائب کہاں رہا، اسی لئے حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے نماز جنازہ پر دلیل پکڑنا جائز نہیں، کیونکہ پردے اٹھادیئے گئے تو جنازہ حاضر ہوگیا (غائب نہ رہا)۔
پورے ذخیرۂ حدیث میں غائبانہ نماز جنازہ کے صرف یہی دو واقعے ملتے ہیں۔ جن کی توجیہات گذر چکی۔
خلفاء اربعہ ؓ کا عمل:
خلاصہ یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ان دو حضرات کے علاوہ نہ کسی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور نہ صحابہ ؓ کو پڑھنے کا حکم فرمایا، پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور مبارک میں کتنے قاری صحابہ ؓ مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدین سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، اسی طرح حضرت عمر فاروق ؓ، حضرت عثمان غنی ؓ، حضرت علی مرتضی ؓ کے دور میں کتنے جلیل القدر صحابہ ٔ کرام ؓ نے مدینۃ الرسول ﷺ سے باہر جا م شہادت نوش فرمایا، یا بغیر شہادت کے وصال فرمایا، مگر کوئی ایک ثبوت نہیں ملتا کہ ان حضرات خلفاء ؓ نے کسی پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہو اور اس کا بھی ثبوت مشکل ہے کہ ان حضرات خلفاء ؓ پر دوسرے صحابہ ؓ نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہو۔
اور حضرت عثمان ؓ کی شہادت کیسی مظلومیت سے ہوئی۔ جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔ اتوار کی رات کو کل سترہ افراد نے کابل سے مراکش تک کے فرماں روا کی نماز جنازہ حضرت زبیر ؓ یا حضرت جبیر بن مطعم ؓ کی امامت میں پڑھی۔ معلوم ہوا اس دور میں نماز جنازہ غائبانہ کا نام و نشان نہیں تھا۔
*آپ کا میت پر نماز پڑھنے کی حرص کے باوجود غائبانہ نماز نہ پڑھنا*
نبی پاک ﷺ کی شفقت امت پر اس قدر تھی کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی کا وصال ہوجاتا اور آپ ﷺ کو اطلاع نہ ہوتی یا نہ کی جاتی تو آپ ﷺ اس میت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھتے اور بعض مرتبہ تنبیہ فرمائی کہ ’’افلا کنتم اٰذنتمونی‘‘ تم نے مجھ کو کیوں خبر نہ کی؟
کبھی فرمایا:
’’لا یموت فیکم میت ما دمت بین اظھرکم الا یعنی اٰذنتمونی بہ فان صلوتی لہ رحمۃ‘‘
یعنی جب تک میں تم میں موجود ہوں اس وقت تک اگر کوئی شخص وفات پاجائے تو مجھے بتادیا کرو، کیونکہ میرا اس پر نماز جنازہ پڑھنا اس کے لئے رحمت ہے۔
حضرت ام سعد بن عبادہ ؓ آنحضرت ﷺ کی غیر موجودگی میں فوت ہوگئیں جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو ان کی (قبر پر) نماز جنازہ پڑھی، جب کہ ان کی وفات کو ایک ماہ ہوچکا تھا۔
’’ان ام سعد ؓ ماتت والنبی ﷺ غائب فلما قدم صلی علیہا وقد مضی لذالک شھر‘‘
اس شفقت و حرص کے باوجود آپ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں اکابر صحابہ ؓ پر بھی سوائے ان دو مرتبہ کے کسی کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ مشروع ہی نہیں۔
مستفاد: مرغوب الفتاوی، جلد سوم، صفحہ 156 تا 164، مکتبہ جبریل)

فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
15 شوال المکرم 1440




ذکر اللّٰہ کی سات صورتیں

ذکر اللّٰہ کی سات صورتیں

بعض عارفین کا قول ہے کہ "ذکر سات طرح کا ہوتا ہے"
1: آنکھوں کا ذکر
2: کانوں کا ذکر
3: زبان کا ذکر
4: ہاتھوں کا ذکر
5: بدن کا ذکر
6: دل کا ذکر
7: روح کا ذکر

پہلی صورت
آنکھوں کا ذکر رونے کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب آنکھ اللّٰہ کی یاد میں اور گناہوں کی وجہ سے شرمندہ ہوکر روتی ہے تو آنکھ کا ذکر ہی ہے۔ اللّٰہ اکبر ۔۔ یہ بھی عجیب نعمت ہے۔ واقعی! جب محبت ہوتی ہے تو انسان اس حد تک چاہنے لگتا ہے کہ اس کا دل رونے کو چاہتا ہے

دوسری صورت
کانوں کا ذکر اللّٰہ کی بات کو توجہ کے ساتھ سننا ہے۔ یہ بھی محبت کی دلیل ہوتی ہے کی جب محبوب کی بات ہو تو انسان کان لگا کے سنے کہ کیا بات کر رہے ہیں

تیسری صورت
زبان کا ذکر اللّٰہ کی تعریف کرنا ہے۔ آپ غور کریں کہ آج ماں اپنے بیٹے، بیوی اپنے خاوند، اور دوست اپنے دوست کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا۔ اسے طرح جس مومن کو اپنے اللّٰہ سے سچی محبت ہوتی ہے وہ اللّٰہ کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا

چوتھی صورت
ہاتھوں کا ذکر یہ ہے کہ اللّٰہ کے راستے میں خوب خرچ کرے۔ وہ انسان انتہائی خوش نصیب ہے جسے اللّٰہ رب العزت کھلی روزی دے اور وہ دونوں ہاتھوں سے اللّٰہ کے راستے میں لگائے

پانچویں صورت
بدن کا ذکر یہ ہے کہ انسان اللّٰہ سے وفا کرے۔ اصول یہی ہے کہ جس کا کھائے اسی کے گیت گائے۔ ہم اللّٰہ کا دیا کھاتے ہیں تو اللّٰہ ہی کے گیت گائیں۔ بندے کی بھی یہی کیفیت ہونی چاہیے۔ رب کا دیا کھاتا ہے تو اسی کو یاد کرے

چھٹی صورت
دل کا ذکر یہ ہے کہ انسان کے دل میں کبھی اللّٰہ کی امید ہو اور کبھی اللّٰہ کا خوف ہو۔ یہ کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں، جیسے آسمان کی حالت ہے، کبھی بادل ہوتے ہیں اور کبھی مطلع بالکل صاف ہوتا ہے۔ اسی طرح مومن کے دل میں کبھی اللّٰہ سے امید لگی ہوتی ہے اور کبھی اس پر اللّٰہ کا خوف غالب ہوتا ہے

ساتویں صورت
اور روح کا ذکر یہ ہے کہ انسان اللّٰہ کے ہر فیصلے پر راضی ہوجائے۔ 

اللّٰہ ان تمام صورتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے